Baaghi TV

Category: بلاگ

  • زہریلا دودھ . خاموش قاتل، بے حس ادارے

    زہریلا دودھ . خاموش قاتل، بے حس ادارے

    زہریلا دودھ. خاموش قاتل، بے حس ادارے
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    بحیثیت قوم اگر ہم دنیا کی دیگر اقوام سے اپنا موازنہ کریں تو حالیہ دنوں پاکپتن، سوات اور کراچی لیاری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ ان سانحات کو دیکھ کر ہمیں شدت سے احساس ہوتا ہے کہ گزشتہ 78 برسوں سے ہماری ترقی، ترجیحات اور ریاستی نظام کس قدر بگاڑ کا شکار رہا ہے۔ ہم ترقی کے بجائے مسلسل تنزلی کی طرف گامزن ہیں اور اس زوال کی سب سے بڑی وجہ وہ ریاستی ادارے ہیں جنہوں نے فیلڈ ورک ترک کر کے مافیا کو طاقت بخشی، جیسا کہ پاکپتن کی حالیہ مثال سے ظاہر ہوتا ہے۔

    ان ہی تلخ حقائق کی روشنی میں آج ہمیں جس خطرناک اور نظر انداز کیے گئے مسئلے پر بات کرنی ہے وہ ہے دودھ مافیا۔ ایسا مافیا جو خاموشی سے نہ صرف ہماری بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی صحت کو تباہ کر رہا ہے۔ اس گھناؤنے کھیل میں شریک وہ سرکاری اہلکار بھی برابر کے مجرم ہیں جو عوامی تحفظ کے بجائے مفادات کے اسیر بن چکے ہیں۔ جب پنجاب فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا تو عوام کو امید ہوئی کہ اب ملاوٹ، آلودگی اور مضر صحت اشیاء کے خلاف سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے، مگر جلد ہی یہ امید دم توڑ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ فوڈ اتھارٹی بیشتر مقامات پر صرف فوٹو اتھارٹی بن چکی ہے۔ چند مخصوص فوٹو سیشن، سوشل میڈیا پوسٹس، اور پریس ریلیز اس کی کارکردگی سمجھی جاتی ہے جبکہ زمینی سطح پر صورتحال جوں کی توں ہے۔ نہ چیکنگ ہو رہی ہے، نہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات میں اس کا کوئی عملی اثر دیکھنے میں آتا ہے۔

    مارکیٹ میں بکنے والا زیادہ تر کھلا دودھ اب مکمل غذا کے بجائے ایک زہریلا مشروب بن چکا ہے۔ اس میں فارملین، سرف، یوریا، شیمپو، بال سافٹنر اور نہری پانی جیسے مہلک اجزاء شامل کیے جاتے ہیں۔ وہ دودھ جسے بچوں کی نشوونما، نوجوانوں کی توانائی، عورتوں کی صحت اور بزرگوں کی ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے، بدقسمتی سے آج سفید زہر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ پنجاب بھر میں بالخصوص دیہی اور نیم شہری علاقوں میں دودھ فروش مافیا بے خوف ہو کر کیمیکل ملا دودھ بیچ رہا ہے۔ ان کے خلاف کارروائیاں یا تو صرف کیمروں کی حد تک محدود ہوتی ہیں یا پھر کسی رسمی کارروائی کے بعد ختم ہو جاتی ہیں۔ فوڈ اتھارٹی، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ صرف اپنی فائلیں اور تصاویر سنوارنے میں مصروف ہیں جبکہ اصل مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔

    اس زہریلے دودھ کے نتیجے میں بچوں، عورتوں اور بزرگوں میں متعدد خطرناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جن میں گیس، السر، بدہضمی، ہیپاٹائٹس اے، بی اور جگر کی سوزش، گردے کے امراض، پتھری، جلدی الرجی، خارش، چہرے پر دانے، ہڈیوں کی کمزوری، بچوں میں نشوونما کی رکاوٹ، خواتین میں ہارمونی تبدیلیاں، نظر کی کمزوری اور اعصابی مسائل شامل ہیں۔ یہ تو صرف چند بیماریاں ہیں، حقیقتاً اسپتالوں کی او پی ڈیز میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد خود اس زہریلے کاروبار کا زندہ ثبوت ہے۔

    اس پورے نظام میں شامل کالی بھیڑیں سرکاری دفاتر میں بیٹھی رشوت کے عوض آنکھیں بند کیے بیٹھی ہیں۔ دودھ فروش مافیا کو ان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، جبکہ فوڈ اتھارٹی، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت کوئی راز نہیں رہی۔ دیہی علاقوں میں نہ لیبارٹری کی سہولت ہے نہ چیکنگ کا کوئی مؤثر نظام۔ گاؤں دیہات کے کروڑوں افراد روزانہ زہر پینے پر مجبور ہیں اور ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

    یہ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ اب اس میں وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کو ذاتی دلچسپی لینا ہوگی۔ آپ ایک بااختیار، باشعور اور عوام دوست رہنما ہیں جنہوں نے کئی شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے قابلِ تحسین مثالیں قائم کی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کو بھی براہ راست آپ کی نگرانی میں لایا جائے تاکہ اس خاموش قاتل کا راستہ روکا جا سکے، اور عوام کو سفید زہر سے نجات ملے۔ اگر فوری، سنجیدہ اور غیر سیاسی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں ایک سنگین قومی المیہ بن جائے گا۔

  • مجروح قافلے  کی  مرے  داستاں  یہ  ہے ،رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ  ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مجروح قافلے کی مرے داستاں یہ ہے ،رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہور جمہور کرنے والی پارٹیاں پہلے اپنے اندر جمہوریت لائیں
    ماتمی سیاست چھوڑ کر ملک وقوم کےمستقبل کیلئے سوچنا ہوگا،کوئی تو پہل کرے
    نواز شریف کو تین بار گھر بھیجنے والوں نے کیا کمایا،ملک کو کہاں پہنچایا ،قوم کا سوال تو بنتا ہے؟
    بھٹو کوبار بار مٹانے والے آج کہاں ہیں ؟بلاول بھٹو نے پارٹی میں نئی روح پھونک دی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بلاول بھٹو نے 5 جولائی کے پیغام میں کہا ہے کہ عوامی حکومت پر شب خون مارا گیا پاکستان کو اندھیروں میں دھکیل کر نفرت کے بیج بوئے گئے،انہوں نے کہا کہ آئیں مل کر آمریت کے پھیلائے ہوئے اُن اندھیروں کا خاتمہ کریں، جمہوری پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں، پیپلزپارٹی اس دن کویوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے، بلاشبہ بھٹو شہید کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ناقابل برداشت ہی نہیں قابل نفرت ہے، جمہوریت اور آمریت کے درمیان پاکستان اورعوام جھولتے رہے ، افسوس سیاسی جماعتوں نے تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا، نواز شریف کو تین بار عوام نے منتخب کیا اور تین بار اُن سے اقتدار چھین لیا گیا، نام نہاد پانامہ کو لے کر عدالت کے ذریعے اُن کو اقتدار سے الگ کردیا گیا، ملک کی سیاسی جماعتیں ان تین جمہوری حکومتوں کے خاتمے کو کون سا نام دیں گی ؟ کیا یہ عوامی رائے اور جمہوریت کا قتل نہیں تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی حکومتوں کی تاریخ بڑی درد ناک ہے ،سیاسی جماعتیں جمہوریت اور آئین کی صدائیں تو بلند کرتی ہیں مگر جمہوریت کے قتل میں سیاسی جماعتوں کا کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے
    بقول شاعر،
    مجروح قافلے کی مرے داستاں یہ ہے ،
    رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ،

    سیاسی جماعتیں اپنے کردار پر توجہ دیں پھر جمہوریت اور آئین کی بات کریں مکانوں کا حُسن سنگ وخشت سے نہیں اُن میں مقیم انسانوں کے کردار سے ہوتا ہے، ماتمی سیاست کو چھوڑیں ملک وقوم کے اچھے مستقبل کے بارے سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہو گا، جمہوریت ایک ذمہ داری کا نام ہے عام لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کرنا سب سے معتبر چیز ہے، ذرا سوچئے ہم کن راہوں پر چل نکلے ،بلوچستان میں پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت مکروہ کھیل میں شریک ہے، افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی پاک فوج کے جوان ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں،گزشتہ کئی سالوں سے آخر ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں کیوں ہے؟ ملکی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کبھی یہ سوچا آخر ہمارے ملک میں دہشت گردی کی آگ کیوں بھڑک اُٹھتی ہے ؟ مشرق وسطیٰ کے حالات ہمارے سامنے ہیں ایک دوسرے کے تنازعات نے ان کو معیشت مستحکم ہونے کے باوجود کمزور بنا رکھا ہے، مشرق وسطٰی کے ممالک اپنا دفاع نہیں کر سکتے اس کی وجہ ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات،ملکی سیاسی جماعتیں پہلے جمہوری انداز اپنائیں پھر جمہوریت کی بات کریں

  • کیا کوئی سن رہا ہے؟

    کیا کوئی سن رہا ہے؟

    کیا کوئی سن رہا ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ے جہاں ہر عام شہری نہ صرف زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہا ہے بلکہ خود سے یہ سوال بھی پوچھ رہا ہے کہ "کیا میری آواز کسی تک پہنچ رہی ہے؟” مہنگائی کی چکی میں پسنے والا مزدور، روزگار کی تلاش میں سرگرداں نوجوان، بچوں کی فیس اور دوا کے بیچ جھولتا باپ اور بے یقینی میں ڈوبا ہر دل آج سراپا سوال ہے۔ سوشل میڈیا پر صدائیں بلند ہو رہی ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں یہ صدائیں یا تو دبی جا رہی ہیں یا نظرانداز کی جا رہی ہیں۔
    یہ صرف ایک فرد کی نہیں، پوری قوم کی کیفیت ہے ایک ایسا اجتماعی اضطراب جو ہر گلی کے خاموش کونوں میں، ہر ماں کی دعاؤں میں اور ہر نوجوان کی آنکھوں کے بجھتے خوابوں میں چھپا ہوا ہے۔

    ہر صبح جب ایک عام پاکستانی اپنا بٹوہ کھولتا ہے تو مہنگائی کا ایک نیا جھٹکا اسے سکتے میں ڈال دیتا ہے۔ آٹا، چینی، دودھ، سبزی، بجلی کے ناجائز بل اور ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 44 فیصد پاکستانی روزانہ 1100 روپے سے کم کماتے ہیں۔ جب ایک کلو آٹاخریدنے کیلئےپیسے نہ ہوں تو ایک غریب آدمی اپنے بچوں کے لیے روٹی کیسے لے کر آئے؟ سوشل میڈیا پر عوام پوچھ رہے ہیں کہ جب تنخواہ وہی پرانی ہے تو یہ نئے ٹیکس اور بڑھتی قیمتیں کیسے برداشت کریں؟ بینک ٹرانزیکشنز پر نئے ٹیکس کو "معاشی قتل عام” قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھاکہ "ہماری کمائی پہلے ہی ٹیکسوں کی نذر ہو رہی ہے، اب بینک سے پیسے نکلوانے پر بھی ٹیکس؟ یہ کون سی انصاف کی حکومت ہے؟” عوام کا مطالبہ ہے کہ مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکس وصول کیا جائے، دکانداروں اور بڑے کاروباریوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور عام آدمی پر بوجھ کم کیا جائے۔

    اس معاشی بحران کے ساتھ بے روزگاری نے بھی پاکستانی نوجوانوں کے خوابوں کو چکناچور کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں نوجوان اپنی کہانیاں سنا رہے ہیں کہ پڑھائی مکمل کی، ڈگری لی، لیکن نوکری کہیں نہیں۔ سرکاری ملازمتوں پر پابندی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور معاشی بدحالی نے روزگار کے مواقع ختم کر دیے ہیں۔ ایک صارف نے لکھاکہ "ہمارے والدین نے ہمیں پڑھایا کہ ڈگری ہماری زندگی بدل دے گی، لیکن اب ہم ڈگری لے کر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔” نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، لیکن جب وہ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب رہے ہیں تو ملک کا مستقبل کون سنوارے گا؟ عوام کا مطالبہ ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، نجکاری کے بجائے سرکاری اداروں کو مضبوط کیا جائے اور ہنر سکھانے کے مؤثرپروگرام شروع کیے جائیں۔

    سیاسی افراتفری نے پاکستانی عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ 2024 کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات اور سیاسی جماعتوں کے درمیان عدم اتفاق نے عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام پوچھ رہے ہیں کہ جب لیڈر ہی ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں تو ہمارے مسائل کون حل کرے گا؟ ایک صارف نے ایکس (ٹویٹر)پرلکھاکہ "ہر سیاسی جماعت دعوے کرتی ہے کہ وہ عوام کی آواز ہے، لیکن اقتدار ملنے پر سب اپنے مفادات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔” سیاسی عدم استحکام نے معاشی اور سماجی اصلاحات کو روک دیا ہے اور عوام کا مطالبہ ہے کہ سیاسی استحکام لایا جائے، اداروں کے درمیان تناؤ ختم کیا جائے اور شفاف انتخابات کے ذریعے عوام کی آواز کو سنا جائے۔

    پانی کی کمی ایک خاموش قاتل بن کر پاکستان کے وجود کو چیلنج کر رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2035 تک پاکستان شدید پانی کے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسان پانی کے بغیر فصلیں اگاتے ہیں جبکہ شہری علاقوں میں صاف پانی کی عدم دستیابی بیماریوں کو جنم دے رہی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ "ہماری فصلیں سوکھ رہی ہیں، لیکن واٹر مینجمنٹ کے نام پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔” عوام کا مطالبہ ہے کہ واٹر مینجمنٹ کے موثر نظام بنائے جائیں، سندھ طاس معاہدے سے متعلق مسائل حل کیے جائیں اور پانی کی تقسیم صوبوں کے درمیان منصفانہ ہو۔

    دہشت گردی اور سیکیورٹی مسائل نے پاکستانی عوام کو خوف کے سائے میں جینے پر مجبور کر دیا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، سرحد پار سے سمگلنگ اور عدالتی نظام کی ناکامی نے عوام کے تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ "ہم اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں، لیکن دل میں خوف رہتا ہے کہ وہ واپس آئیں گے بھی یا نہیں۔” عوام کا مطالبہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو مضبوط کیا جائے، عدالتی نظام کو شفاف بنایا جائے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

    قدرتی آفات نے بھی پاکستانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ 2022 کے سیلاب نے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تباہی مچائی، جس سے فصلوں، مویشیوں اور انفراسٹرکچر کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ جب ہر سال سیلاب آتے ہیں تو ہمارے ڈیم اور واٹر مینجمنٹ سسٹم کہاں ہیں؟ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آتا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیےمؤثر پالیسیاں بنائی جائیں، ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دی جائے اور متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    پاکستان کے عوام مشکلات میں گھرے ہیں، وہ معاشی انصاف، روزگار، سیاسی استحکام، پانی، سیکیورٹی اور قدرتی آفات سے تحفظ مانگ رہے ہیں۔ یہ سوالات صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہیں۔ کیا ہمارے لیڈر اس آواز کو سننے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم ایک ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جہاں عام آدمی سکون سے سانس لے سکے؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ان مسائل کا حل تلاش کریں۔ اگر ہم آج خاموش رہے تو کل ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک ہوگا۔ آئیے، اس چیخ کو ایک تحریک میں بدلیں اور ایک بہتر پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

    پاکستان کے ہر گوشے سے اُٹھنے والی یہ صدائیں محض سوشل میڈیا کی پوسٹس نہیں بلکہ یہ مسائل کے زخموں سے چور قوم کی پکار ہیں۔ یہ آوازیں نہ سیاسی نعروں کا حصہ ہیں، نہ ہی کسی ایجنڈے کی گونج بلکہ یہ ان ماں باپ کی آہیں ہیں جن کے بچے بے روزگار ہیں، وہ کسان کی فریاد ہے جو پانی کو ترس رہا ہے، وہ طالبعلم کی مایوسی ہے جو ڈگری لے کر در در کی ٹھوکریں کھا رہاہے اور اس مزدور کی چیخ ہے جو بجلی کے بل کے نیچے دب چکا ہے۔ کیا ایوانوں کی بلند دیواروں سے باہر یہ آواز پہنچ رہی ہے؟ کیا وزیروں، مشیروں اور اشرافیہ کے قہقہوں کے بیچ میں ان آہوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ایک دن ایسا آئے گا جب صرف عوام نہیں بلکہ خود اقتدار کے ایوان بھی ان خاموش چیخوں کی لپیٹ میں آئیں گے۔ وقت گزرنے سے صرف تاریخ بنتی ہے، قومیں نہیں۔ قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ان کے رہنما عوام کی تکلیف کو اپنا درد سمجھیں، ان کی چیخ کو اپنا فرض اور ان کی امید کو اپنی ذمہ داری۔

    اب وقت آ چکا ہے کہ "کیا کوئی سن رہا ہے؟” کو ایک فریاد سے نکال کر، ایک نعرہ، ایک تحریک، ایک انقلاب میں بدلا جائے۔ ہر پاکستانی کو چاہیے کہ وہ اس آواز کا حصہ بنے کیونکہ اگر ہم خاموش رہے تو صرف ہمارا حال نہیں، ہمارا مستقبل بھی سوالیہ نشان بن جائے گا۔ آئیے! سوال کرنے سے نہ ڈریں۔ آئیے! اپنی آواز کو ایک سمت دیں۔ آئیے! اپنے پاکستان کو بچا لیں… اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ "کیا کوئی سن رہا ہے؟” … ہاں، اب سننا پڑے گا!

  • یومِ عاشور: وہ دن جب کربلا کی ریت لہو سے سیراب ہوئی

    یومِ عاشور: وہ دن جب کربلا کی ریت لہو سے سیراب ہوئی

    یومِ عاشور: وہ دن جب کربلا کی ریت لہو سے سیراب ہوئی
    تحریر: سیدریاض حسین جاذب
    کربلا کی وہ زمین، جہاں کبھی قافلوں نے پڑاؤ ڈالے ہوں گے، جہاں کبھی ہوائیں مہربان ہوں گی، دسویں محرم کی صبح ایک الم ناک سناٹے کے ساتھ طلوع ہوئی۔ سورج نے اپنی کرنیں نہیں بکھیریں بلکہ ایک مغموم اداسی کے ساتھ آسمان پر چمکا، جیسے جانتا ہو کہ آج انسانیت پر ایسا زخم لگنے والا ہے جو قیامت تک ہرا رہے گا۔ خیموں میں بےچینی، سکوت اور دعاؤں کا شور تھا۔ امام حسینؑ رات بھر سجدے میں گڑگڑاتے رہے، آنکھیں اشکبار، دل پر بار عظیم اور زبان پر بس ایک جملہ "یا رب ہمیں صبر دے۔”

    علی اکبرؑ، قاسمؑ، عباسؑ، سب جان چکے تھے کہ آج جسم کٹے گا، سر جدا ہوں گے مگر حق کا پرچم جھکنے نہ پائے گا۔ بچوں کی سسکیاں، بیبیوں کی آہیں، اور بی بی زینبؑ کا بےتاب چہرہ فضا میں ایسا نوحہ بکھیر رہا تھا جو دلوں کے تار چیر دیتا تھا۔ مگر ان سب میں سب سے دل دہلا دینے والا منظر وہ تھا، جب امام حسینؑ نے اپنے معصوم، چھ ماہ کے لخت جگر علی اصغرؑ کو گود میں لیا۔ اس بچے کی آنکھیں خشک تھیں، ہونٹوں پر زخم، چہرے پر مٹی اور بدن پر کپکپاہٹ۔ امام نے دشمن کے لشکر کے سامنے آ کر نہ شمشیر اٹھائی، نہ کوئی خطبہ دیا، بس ہاتھ اٹھا کر علی اصغرؑ کو پیش کیا اور کہاکہ "اگر مجھے پیاسا رکھنا چاہتے ہو تو رکھو، مگر اس معصوم پر تو رحم کرو، اسے پانی دے دو۔”

    مگر نہ دل پگھلے، نہ آنکھیں نم ہوئیں۔ حرملہ، یزیدی فوج کا ایک تیر انداز، تین شاخوں والا ایسا تیر چھوڑتا ہے جو سیدھا علی اصغرؑ کے نازک گلے کو چیر دیتا ہے۔ ایک لمحہ میں امام کے بازو میں تھرتھراتا بچہ خاموش ہو گیا۔ اس تیر نے صرف ایک گردن نہیں کاٹی بلکہ انسانیت، رحم، شفقت اور وفا کو بھی لہولہان کر دیا۔ امام حسینؑ کا دل چور چور ہو گیا، مگر زبان سے شکوہ نہ نکلا۔ انہوں نے ننھے شہید کا خون اپنے ہاتھوں میں لیا اور آسمان کی طرف اچھال دیا۔ روایات کہتی ہیں کہ زمین نے وہ خون قبول نہ کیا، آسمان نے تھام لیا کیونکہ یہ خون ایک معصوم کا نہیں، شہادت کا تاج پہنے ہوئے ایک عظیم پیغام کا تھا۔

    پھر جب میدان خالی ہوا اور ایک ایک چراغ بجھ گیا، امام حسینؑ تنہا رہ گئے۔ جسم زخموں سے چور، پیاس سے نڈھال، دل زخمی، مگر نظریں بلند۔ انہوں نے خیموں کی طرف دیکھا، جہاں زینبؑ کا لرزتا وجود تھا، سکینہؑ کے آنسو، سجادؑ کی بےبسی اور ام کلثومؑ کی سسکیاں۔ امام نے وداعی کلمات ادا کیے، بچوں کو آخری بار گلے لگایا، بہن کو صبر کی تلقین کی اور میدانِ کربلا کی طرف روانہ ہو گئے۔ ان کے قدموں کے نیچے وہی ریت تھی جس پر ان کے یاروں کے لاشے پڑے تھے۔ دشمنوں نے چاروں طرف سے حملہ کیا، تلواریں، نیزے، تیر برسائے گئے، مگر امام حسینؑ کا سر نہ جھکا، ان کی زبان پر کلمہ جاری رہا۔ آخر کار جب سجدے میں گئے اور خدا کے حضور سر رکھا، شمر جیسے بدبخت نے ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔

    وہ سر، جسے رسول اللہؐ نے چوما تھا، آج نیزے پر بلند ہو چکا تھا۔ وہ سینہ، جس پر نبیؐ سوتے تھے، آج خاک پر روند دیا گیا۔ زمین خون سے بھر گئی، آسمان سیاہ ہو گیا اور مظلومیت نے اپنا پرچم کربلا کے میدان میں گاڑ دیا۔ مگر ظلم یہیں پر نہیں رکا۔ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد خیموں پر حملہ ہوا۔ آگ کے شعلے بی بیوں کے پردوں سے ٹکرا گئے۔ سکینہؑ، رقیہؑ، ام کلثومؑ، سب جلتے خیموں سے نکل نکل کر دوڑنے لگیں۔ زینبؑ نے اپنے ہاتھوں سے بچوں کو سمیٹا، چادر کو سنبھالا اور خاک میں لپٹی عزت کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئیں۔

    وہ شام، جسے تاریخ نے "شامِ غریباں” کہا، وہ صرف اندھیرے کی نہیں تھی، وہ ایک قیامت کی رات تھی۔ بی بیوں کے سروں سے چادر چھین لی گئی، بچوں کو کوڑے مارے گئے، امام سجادؑ کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔ سکینہؑ بار بار پوچھتی کہ "میرا بابا کہاں ہے؟” مگر جواب میں صرف سسکیاں ملتیں۔ رقیہؑ جب قیدخانے میں بابا کے سر کو دیکھتی ہے تو اس سے لپٹ کر کہتی ہے، "بابا! مجھے کیوں چھوڑ گئے؟ میں آپ کے بغیر کیسے زندہ رہوں؟”

    یہ منظر، یہ نوحہ، یہ قیامت آج بھی ہر دل کو لرزا دیتا ہے۔ عاشورہ ختم ہو چکا، مگر کربلا زندہ ہے۔ علی اصغرؑ کا خون آج بھی امت سے سوال کرتا ہے: "کیا تم نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی؟” امام حسینؑ کی تنہائی، ان کا سجدہ، آج بھی ہر غیرت مند دل کو بیدار کرتا ہے۔ بی بی زینبؑ کی قیادت، ان کا صبر، ان کا خطبہ آج بھی بتاتا ہے کہ پردہ نشین عورت جب میدان میں اترتی ہے تو یزید جیسے تخت لرز جاتے ہیں۔

    یہ کربلا کا پیغام ہے۔ یہ درد کا قصہ نہیں، یہ عشق کا دستور ہے۔ یہ وہ قربانی ہے جس نے دینِ محمدی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا۔ حسینؑ کا سر نیزے پر گیا، مگر جُھکا نہیں۔ اگر چاہو تو زندہ رہنے کا سلیقہ حسینؑ سے سیکھو اور مر مٹنے کا مفہوم علی اصغرؑ کے گلے سے سیکھو۔

  • جب زمین بھی روئی اور آسمان خاموش ہو گیا

    جب زمین بھی روئی اور آسمان خاموش ہو گیا

    جب زمین بھی روئی اور آسمان خاموش ہو گیا (9محرم)
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    کربلا میں نو محرم کا سورج صرف روشنی نہیں، ایک اعلان تھا، یہ آخری دن ہے۔ یہ سورج افق پر نہیں، دلوں پر طلوع ہوا۔ اپنے ساتھ وہ سائے لے کر آیا جن کا نام فراق، پیاس اور وداع تھا۔ کربلا کی ریت تپ رہی تھی لیکن اس دن جو سورج طلوع ہوا، وہ صرف گرمی نہ لایا… وہ فیصلے کا سورج تھا، وہ آزمائش کی تپش تھا، وہ تاریخ کے عظیم ترین امتحان کا آغاز تھا۔

    جب خیموں پر سائے چھوٹے ہونے لگے اور خطرہ بڑا ہوتا چلا گیا۔ جب بچوں کے لب خشک، ماؤں کی آنکھیں نم اور جوانوں کی پیشانیاں وضو کے پانی سے نہیں بلکہ آنسوؤں سے تر تھیں۔ یہ سورج عباسؑ کی بصیرت پر پڑا، جو خیموں کے گرد پہرہ دے رہے تھے۔ یہ سورج زینبؑ کے آنچل پر پڑا، جو جانتی تھیں کہ اب حجاب کی آخری ساعتیں ہیں۔ یہ سورج سکینہؑ کے چہرے پر پڑا، جس کے ہونٹوں پر پیاس سے زیادہ ایک ہی سوال تھا: "بابا! کل ہم کہاں ہوں گے؟”

    نو محرم کی صبح عمر بن سعد نے لشکر کو تیار رہنے کا حکم دیا۔ خیموں کے گرد گھیرا مزید تنگ ہو گیا۔ اب لشکر کی تلواریں خیموں کی دیواروں کے سائے میں چمکنے لگیں۔ جیسے ظلم، خامشی کے پردے میں چلنے لگا ہو۔ حضرت عباسؑ گھوڑے پر سوار ہوئے، دشمن کے قریب پہنچے اور للکار کر پوچھا: "کس نیت سے آئے ہو؟” جواب آیا: "ہم جنگ کا آغاز کرنے آئے ہیں!” عباسؑ واپس امام حسینؑ کے پاس آئے اور امامؑ نے فقط ایک بات کہی: "بھیا، اُن سے کہو… ہمیں ایک رات کی مہلت دے دو!” یہ رات، عبادت کی رات تھی، رخصتی کی رات تھی، زندگی کا آخری چراغ تھی۔ ایک ایسی رات جس میں سجدوں کی نمی، رخصتی کے آنسو اور تقدیر کے فیصلے جمع تھے۔

    شام ڈھلنے لگی۔ قافلۂ حسینؑ کے چراغ روشن ہوئے اور خیموں میں تلاوتِ قرآن، دعائیں، اذانیں اور نالے بلند ہونے لگے۔ ہر سانس کے ساتھ لگتا تھا جیسے موت قریب آ رہی ہو، مگر خیموں میں کوئی خوف نہیں تھا۔ امامؑ نے سب اصحاب کو جمع کیا، اور کہا "کل میرے ساتھ رہنے والوں کی گردنیں کٹیں گی۔ تم سب چلے جاؤ۔ میں تمہیں رخصت کرتا ہوں!” مگر ہر زبان سے ایک ہی جواب آیا: "اے فرزندِ رسولؐ! ہم آپ کے بعد کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟” یہ جملہ صرف وفاداری نہیں، عشق کی زبان تھا۔ حضرت عباسؑ خاموشی سے خیموں کے گرد چکر لگاتے رہے… ہر خیمے کا در کھٹکھٹاتے، زینبؑ کے خیمے کے سامنے رک جاتے… اور صرف دل ہی دل میں کہتے: "کل اگر میں نہ رہوں، تو یہ خیمے کیسے محفوظ رہیں گے؟” اُن کے چہرے پر کوئی خوف نہ تھا، صرف فرض، غیرت اور اہلِ حرم کا تحفظ تھا۔

    رات گہری ہوئی… سکینہؑ امام حسینؑ کے سینے پر سوئی ہوئی تھی، مگر نیند بے چین تھی۔ اس معصوم بچی کے چہرے پر وہ پیاس لکھی تھی جو نہ صرف جسمانی تھی بلکہ دل کی بےچینی کا اظہار بھی۔ زینبؑ نے بھائی سے پوچھا: "کیا کل علی اکبرؑ بھی جائیں گے؟” امام خاموش ہو گئے۔ صرف آنکھ سے ایک آنسو گرا اور زمینِ کربلا نے اُسے اپنے سینے میں چھپا لیا۔ کوئی جواب نہ آیا، مگر خاموشی میں وہ صدمہ چھپا تھا جسے صرف بہنیں سمجھ سکتی ہیں۔

    کربلا میں نو محرم کا سورج صرف دن نہ تھا، وہ چراغوں کا الوداع تھا، وہ عباسؑ کی پہرہ داری کا آخری دن، وہ سکینہؑ کی گود کا آخری سایہ، وہ زینبؑ کی چادر کی آخری بے فکری اور حسینؑ کے لبوں پر "رضاً بقضائک” کی آخری مہک تھا۔ وہ دن جب حسینؑ نے خالق سے کہا: "اے پروردگار! اگر یہی تیرا فیصلہ ہے تو ہمیں قبول ہے!”، یہ وہ عزم تھا جسے میدانِ کربلا میں کسی تلوار نے نہیں توڑا، کسی نیزے نے جھکایا نہیں۔

    یہ سورج وہ سوال لے کر آیا جو آج بھی زندہ ہے، جب سچ تنہا رہ جائے، جب ظلم چاروں طرف ہو، جب وقت کا حسینؑ پکارے… تو کیا تم اُس کے ساتھ کھڑے ہو گے؟ کیا تم سکینہؑ کے سوال کا جواب دے سکو گے؟ کیا تم زینبؑ کی چادر بچانے کی ہمت رکھتے ہو؟

    اسی شبِ عاشور، امام حسینؑ نے اپنے خیمے کے باہر تمام اصحاب اور اہلِ بیت کو جمع کیا۔ خیموں کے چراغ مدھم ہو رہے تھے، مگر حسینؑ کا لہجہ مثلِ آفتاب روشن تھا۔ انہوں نے فرمایا: "میں تمہیں رخصت کرتا ہوں۔ یہ اندھیری رات ہے، جسے جانا ہے، چلا جائے۔ میں اپنی بیعت تم سے اٹھاتا ہوں۔ کل میرے ساتھ ہر وہ شخص مارا جائے گا جو میرے ساتھ رہے گا۔” مگر جواب میں ہر طرف سے ایک صدا آئی: "ہم آپ کے ساتھ جینے نہیں، صرف مرنے کے لیے آئے ہیں۔” یہ وہ رات تھی جب وفا نے تاریخ کی سب سے روشن قسم کھائی کہ کل سورج کربلا سے ڈوبے گا، مگر حسینؑ کا کارواں حق کی روشنی بن کر رہ جائے گا۔

  • 5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے

    5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے

    5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    5 جولائی 1977 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا دن ہے جو جمہوری نظام کے لیے بدترین مثال بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھا جب پاکستان کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی آمریت کا اندھیرا ہر طرف چھا گیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کر کے نہ صرف ایک سیاسی نظام کو معطل کیا بلکہ ایک پوری نسل کے خواب، امیدیں اور سیاسی تربیت کو مسخ کر دیا۔ یہ واقعہ پاکستان کے جمہوری سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوا، جس کے اثرات آج کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود سیاست، معاشرت، عدلیہ، معیشت اور صحافت میں موجود ہیں۔

    مارشل لا سے پہلے کا سیاسی منظرنامہ بھی کشیدہ تھا۔ مارچ 1977 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، مگر حزبِ اختلاف نے نتائج کو تسلیم نہ کیا اور دھاندلی کے الزامات کے تحت ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا۔ ملک میں احتجاجی مظاہرے، ہنگامے اور سیاسی کشمکش اس نہج پر پہنچ گئی کہ جنرل ضیاء الحق نے ‘ملک میں بڑھتی ہوئی انارکی’ کو جواز بنا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یہ جواز کتنا مصنوعی اور سیاسی تھا، اس کا اندازہ وقت نے خود کروا دیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ان پر ایک سیاسی قتل کا مقدمہ بنایا گیا، جس کی نوعیت نہ صرف مشکوک تھی بلکہ عدالتی کارروائی بھی ضیاء کے زیراثر تھی۔ چیف جسٹس انوارالحق کی سربراہی میں وہ عدالتی نظام جو بھٹو کو انصاف فراہم کرنے کا پابند تھا، درحقیقت آمریت کے ہاتھوں یرغمال بن چکا تھا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ کا بعد ازاں یہ اعتراف تاریخ کے سیاہ اوراق میں محفوظ ہے کہ عدالتی دباؤ کے باعث بھٹو کو سزائے موت دی گئی۔ اس فیصلے نے نہ صرف عدالت کی غیر جانبداری کو مشکوک بنا دیا بلکہ جمہوری عمل کے خلاف بھی ایک عدالتی ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے کا آغاز کیا۔

    ضیاء الحق کی آمریت نے مذہب کو ریاستی ایجنڈے میں شامل کیا، اور اسے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا۔ حدود آرڈیننس، زنا قوانین، کوڑوں کی سزائیں، سرِعام پھانسیاں اور میڈیا پر سنسرشپ ضیاء کی پالیسیوں کا حصہ بن گئیں۔ خواتین، اقلیتیں اور ترقی پسند عناصر ریاستی جبر کا نشانہ بنے۔ تعلیمی نصاب میں نظریاتی زہر بھر دیا گیا۔ آزادی اظہار رائے جرم قرار پائی اور صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ شاعر حبیب جالب کی نظم "ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا” اس دور کی آئینہ دار ہے۔

    5 جولائی کو ضیاء نے اعلان کیا کہ نوّے دن کے اندر انتخابات ہوں گے لیکن یہ وعدہ 11 سال پر محیط آمریت میں تبدیل ہوا۔ انتخابات بار بار ملتوی کیے جاتے رہے۔ 1985 میں بالآخر غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے گئے، جس میں منتخب نمائندے ضیاء کے تابع رہے۔ سیاستدانوں کی نئی نسل فوجی نرسریوں سے تیار کی گئی، جن میں آج کے کئی سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔ آمریت کے اسی دور میں جہادی کلچر کو فروغ ملا، جس کا نقطہ آغاز افغان جہاد اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک اتحاد تھا۔ اس کا نتیجہ شدت پسندی، کلاشنکوف کلچر، فرقہ واریت اور انتہاپسندی کی صورت میں نکلا، جو آج بھی پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

    ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد ملک میں نظریاتی تقسیم نے جنم لیا۔ بائیں بازو کی سیاست کو ریاستی بیانیے سے باہر نکال دیا گیا۔ طلبا یونینز پر پابندی عائد کی گئی، جو آج تک بحال نہ ہو سکی۔ اس مارشل لا نے نہ صرف سیاسی اداروں کو کمزور کیا بلکہ فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا مستقل حق بھی دے دیا۔ یہ روایت آج بھی بدستور قائم ہے۔ آج بھی جب کبھی جمہوریت کمزور ہوتی ہے تو 5 جولائی کی پرچھائیاں محسوس ہوتی ہیں۔

    اخبارات کے صفحات، ادیبوں کی تحریریں اور عوام کی زبانیں ضیاء کے دور میں بند کر دی گئیں۔ نصاب کو اس حد تک مسخ کیا گیا کہ آنے والی نسلوں کے اذہان میں آمریت اور اسلام کا ایک غیر فطری ملاپ پیوست ہو گیا۔ جمہوریت کو مغربی سازش قرار دے کر عوام کو آمریت سے محبت سکھائی گئی۔ اس پر فخر کیا گیا کہ جنرل ضیاء نے ملک کو "اسلامی ریاست” میں تبدیل کر دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دور نے پاکستانی ریاست کی روح، فکر اور سچائی کو مسخ کیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر آمریت کو دوام دینے کی کوشش کی گئی، مگر تاریخ نے اسے کبھی معاف نہیں کیا۔ بھٹو کو ختم کر کے جو خلا پیدا کیا گیا، وہ آج بھی پر نہیں ہو سکا۔ ان کا قتل ایک سیاسی قتل سے زیادہ قومی ضمیر کا قتل تھا۔ بھٹو نے کہا تھاکہ "تاریخ مجھے بری کردے گی” اور آج وہ تاریخ واقعی ضیاء کو آمریت کی علامت اور بھٹو کو جمہوریت کا استعارہ قرار دیتی ہے۔

    جب جب پاکستان میں جمہوریت کی بات ہوتی ہے تو 5 جولائی یاد آتا ہے۔ جب جب کوئی آئین کی بالادستی کی بات کرتا ہے تووہ ذوالفقار علی بھٹو کے انجام سے عبرت سیکھتا ہے۔ آج بھی ضیاء الحق کے نظریاتی وارث مختلف شکلوں میں موجود ہیں جو کبھی مذہب کے نام پر، کبھی حب الوطنی کے پردے میں تو کبھی احتساب کے نعرے میں جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔

    یہ دن ایک یاددہانی ہے کہ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور جب تک عوام اپنے ووٹ، اپنی آواز اور اپنے اداروں کا دفاع نہیں کریں گے، مارشل لا جیسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ ہمیں تاریخ سے سیکھنا ہو گا کہ جو قومیں آمریت کو قبول کرتی ہیں، ان کے مستقبل اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔ 5 جولائی کا مارشل لا صرف ایک رات کا حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا زلزلہ تھا جس کی آفٹر شاکس آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟

    کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟

    کراچی: گرتی عمارتیں، ہر اینٹ کے نیچے سے اٹھتی چیخ، مجرم کون؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    کراچی جو پاکستان کا معاشی ہب، صنعتی مرکز اور ملک کی سب سے بڑی آبادی والا شہر ہے، یہ شہر اب صرف کاروبار، روشنیوں اور شور کا استعارہ نہیں رہا بلکہ یہاں ہر گرتی عمارت ایک چیخ ہے جو ملبے سے نکل کر آسمان سے سوال کرتی ہے کہ آخر مجرم کون ہے؟

    گزشتہ پانچ سالوں میں اس شہر میں کئی عمارتیں زمین بوس ہوئیں۔ کہیں پانچ منزلہ عمارت گری تو کہیں رہائشی اپارٹمنٹس یا فیکٹری کی چھت دھماکے سے نیچے آ گری۔ ان سانحات میں درجنوں زندگیاں چلی گئیں، سیکڑوں خواب دفن ہوئے اور ہر بار کچھ دن شور اٹھا، کچھ افسر معطل ہوئے، لیکن کوئی مستقل حل سامنے نہ آیا۔

    4 جولائی 2025 کو لیاری کے بغدادی محلے میں گرنے والی عمارت محض ایک عمارت نہیں تھی بلکہ وہ کراچی کی بلڈنگ پالیسی، حکومتی نااہلی، بلڈرز کی حرص اور عوام کی بے بسی کا علامتی مجسمہ تھی۔ وہ عمارت جو 50 سال پرانی تھی اور خطرناک قرار دی جا چکی تھی، آخر کیوں خالی نہ کرائی گئی؟ کیوں ان سات جانوں کو موت کے منہ میں دھکیلا گیا؟

    یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ مارچ 2020 میں گلبہار میں 27 افراد ایک غیر قانونی عمارت کے نیچے دب کر مر گئے۔ اپریل 2023 میں نیو کراچی کی ایک فیکٹری میں چار فائر فائٹرز جان سے گئے۔ 2021، 2022، 2023 اور 2025 کے مختلف مہینوں میں شاہ فیصل کالونی، مچھر کالونی، بھینس کالونی اور کھارادر میں بھی یہی ملبہ گرا . کبھی مزدور، کبھی بچے اور کبھی ماں باپ اس ملبے میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے 578 سے زائد خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی مگر ان میں سے بیشتر آج بھی لوگوں سے آباد ہیں۔ SBCA کو نہ وسائل دستیاب ہیں، نہ سیاسی آزادی، نہ تکنیکی استعداد۔ اکثر عمارتوں کو نوٹس تو جاری ہو جاتا ہے مگر نہ انخلاء ہوتا ہے، نہ انہدام اور آخرکار ایک دن موت کا بلاوا آ جاتا ہے۔

    ذمہ دار صرف ادارے نہیں بلکہ وہ بلڈرز بھی ہیں جو چند ٹکوں کی خاطر تعمیراتی اصولوں کو روندتے ہیں، وہ مالکان بھی جو خستہ حال عمارتوں میں کرایہ داری جاری رکھتے ہیں اور وہ رہائشی بھی جو غربت یا بے خبری میں خطرہ مول لیتے ہیں۔ سب اس جرم میں شریک ہیں، کچھ خاموشی سے، کچھ بے بسی سے اور کچھ جانتے بوجھتے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کڑوے سچ کا سامنا کریں۔ ہمیں خود سے یہ سوالات پوچھنے کی ہمت کرنا ہوگی کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نوٹس جاری کرنے کے بعد خاموش کیوں ہو جاتی ہے؟ بلڈرز کو قانون کے شکنجے میں کیوں نہیں کسا جاتا؟ ہر سانحے کے بعد چند افسران کی علامتی معطلی سے آگے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟ غیر قانونی عمارتیں تعمیر ہونے سے پہلے کیوں نہیں روکی جاتیں؟ سیاسی سرپرستی ہر بار مجرموں کی ڈھال کیسے بن جاتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بلدیاتی ادارے، صوبائی حکومت اور خود شہری اپنی جان کے تحفظ کے لیے کب جاگیں گے؟ اگر آج ہم نے ان چیخوں کو نہ سنا تو آنے والا کل ہم سے بھی بدلہ لے سکتا ہے۔

    کراچی کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اب ایک عظیم امتحان بن چکی ہے، جس سے نظریں چرانا صرف آنے والی تباہی کو دعوت دینا ہے۔ یہ وقت عمل کا ہے، ورنہ ہر اینٹ ہماری خاموشی کی گواہ بن کر ہماری بے حسی کا ماتم کرتی رہے گی۔

  • امام کا آخری خطاب: حسینؑ نے پکارا، مگر ضمیر سوئے رہے

    امام کا آخری خطاب: حسینؑ نے پکارا، مگر ضمیر سوئے رہے

    آٹھ محرم۔ امام کا آخری خطاب: حسینؑ نے پکارا، مگر ضمیر سوئے رہے
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب

    آٹھ محرم کی شام… کربلا کی پیاسی سرزمین پر سناٹا گہرے سائے کی مانند چھایا ہوا تھا۔ خیموں میں سسکیاں تھیں، خشک مشکیزے تھے، اور ہر چہرے پر اضطراب کی پرچھائیاں۔ چھوٹے بچے پانی کے ایک قطرے کو ترس رہے تھے، ماؤں کی گودیں اپنی تڑپتی اولاد کو خاموشی سے سینے سے لگا رہی تھیں، اور وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ آسمان پر سورج بھی جیسے شرمندگی سے جھک گیا ہو، اور زمین خاموشی سے اس اندوہناک منظر کی گواہی دے رہی تھی۔

    انہی گھڑیوں میں امام حسینؑ خیمے سے باہر تشریف لائے۔ یزیدی لشکر نے ہر طرف سے نرغہ تنگ کر رکھا تھا، مگر حسینؑ کے قدموں میں لرزش نہ تھی۔ ان کی نگاہوں میں جلال، لہجے میں وقار اور دل میں وہ درد تھا جو صرف نواسۂ رسولؐ کے سینے میں انگاروں کی طرح دہک سکتا ہے۔

    امامؑ نے دشمنوں سے مخاطب ہوکر وہ کلمات کہے جو رہتی دنیا تک مظلومیت کی بلند ترین صدا بن کر گونجتے رہیں گے:

    "کیا تم نہیں جانتے کہ میں محمدؐ کا نواسہ ہوں؟ کیا تم بھول گئے کہ میری ماں فاطمہؑ وہی ہیں جنہیں تم خاتونِ جنت کہتے ہو؟ کیا تم ان احادیث کو جھٹلا سکتے ہو جو رسولؐ خدا نے میرے اور میرے بھائی حسنؑ کے بارے میں فرمائی تھیں؟ اگر تمہیں شک ہے تو جابر بن عبداللہ، زید بن ارقم اور انس بن مالک جیسے جلیل القدر صحابہ سے پوچھ لو، جنہوں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا۔”

    یہ خطاب صرف ایک تاریخی بیان نہ تھا، یہ وہ احتجاج تھا جو ایک مظلوم امامؑ اپنی امت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کر رہا تھا… مگر ہر طرف سنگ دلی کے اندھیرے چھا چکے تھے۔

    اسی دن پانی کا محاصرہ مزید سخت کر دیا گیا۔ نہر فرات بہہ رہی تھی، مگر اہلِ بیتؑ کے لیے اس کے پانی کا ایک قطرہ بھی حرام کر دیا گیا۔ حضرت عباسؑ کی غیرت سلگ رہی تھی، سکینہؑ کے لب خشک تھے، اور امامؑ کی پلکوں پر امت کی بےحسی کا درد جھلک رہا تھا۔

    امام حسینؑ نے عمر بن سعد سے مذاکرات کیے۔ تین تجاویز پیش کیں:

    1. مجھے واپس مدینہ جانے دیا جائے
    2. کسی سرحدی مقام پر چلے جانے کی اجازت دی جائے
    3. یا پھر مجھے یزید کے سامنے پیش ہونے دیا جائے
    مگر یزیدی لشکر نے ہر دروازہ بند کر دیا۔

    رات ڈھلنے لگی۔ خیموں میں موت کی چاپ سنائی دینے لگی۔ اصحابِ حسینؑ اپنی تلواریں درست کرنے لگے، اور امامؑ اپنے رب کے حضور سر بسجود ہو گئے:

    "اے میرے رب! تُو جانتا ہے کہ ہم نے تیرے دین کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا… بچوں کی پیاس، بہنوں کے آنسو، اصحاب کی جانیں… سب تیری رضا کے لیے نچھاور کر دیے۔”

    آٹھ محرم وہ دن ہے جب دنیا نے ایک سچ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا … جب سارا عالم خاموش ہو جائے، تو ایک حسینؑ کھڑا ہو کر تاریخ کو جگاتا ہے۔

    یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ صبر صرف خاموشی کا نام نہیں، بلکہ وہ عزم ہے جو پانی کی پیاس میں بھی سر نہیں جھکاتا۔ امام حسینؑ کا خطاب فقط احتجاج نہیں تھا، بلکہ وہ درد بھری آواز تھی جو ایک بیٹے کو اپنے باپ کی لاش اٹھاتے وقت محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ جلال تھا جو صرف حق پر قائم ولی کو نصیب ہوتا ہے۔

    کربلا کی پیاسی شام میں امام حسینؑ نے صرف حجت تمام نہیں کی، بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کو یہ سبق دیا کہ:

    > ظلم کے سائے چاہے جتنے گہرے ہوں، ایک نواسۂ رسولؐ کا سچ ان سب کو چیر کر روشنی بن جاتا ہے۔

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی پریشانیاں

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی پریشانیاں

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی پریشانیاں
    تحریر:ملک ظفراقبال
    آج ہر خاص و عام کی زبان پر ایک ہی جملہ ہے کہ "مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے”، جسے قابو کرنا اب ناممکن نظر آتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ وہ مافیاز ہیں جو ہر دور میں حکومتی اقدامات کو چیلنج کرتے آئے ہیں، اور نتیجتاً عوام کو لوٹنے کا یہ عمل تسلسل سے جاری ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان عناصر کو اکثر حکومتی سرپرستی بھی حاصل رہی ہے۔

    مثال کے طور پر، ایک قصاب 800 روپے کی بجائے 1100 روپے میں گوشت فروخت کرتا ہے، جو سرکاری نرخ سے 300 روپے زیادہ ہے۔ سرکاری ادارے صرف 500 روپے کا چالان کرکے خانہ پری کر لیتے ہیں، اور قصاب محفوظ ہاتھوں سے اپنی مرضی سے کاروبار کرتا رہتا ہے۔ گویا جرمانہ ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گیا ہے، جو ملی بھگت کا ایک خوبصورت مظہر ہے۔ عوام کو گویا اس بدعنوان نظام کو برداشت کرنے کا عادی بنایا جا رہا ہے۔

    مہنگائی محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایسا ناسور ہے جو غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ رہا ہے۔ بجلی، گیس، پانی کے بل ہوں یا روزمرہ اشیاء کی قیمتیں، سب کچھ آسمان کو چھو رہا ہے۔ رہی سہی کسر ناجائز ٹیکسوں نے پوری کر دی ہے، جس سے عوام شدید اضطراب کا شکار ہیں۔

    بلوں کا بوجھ اور ٹیکسوں کی بھرمار سے ہر پاکستانی شہری سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہے۔ 200 سے 201 یونٹ بجلی استعمال کرنے پر اسپیشل اضافی چارجز، گرمیوں میں طویل لوڈشیڈنگ اور اوپر سے بجلی پر الگ سے ٹیکس، عوام کے لیے سوہان روح بن چکا ہے۔ گیس کے نرخوں میں ہوشربا اضافے نے سردیوں میں گزارا ناممکن کر دیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے لگائے گئے مختلف قسم کے ٹیکس، جن میں سے کئی غیر ضروری اور ناجائز محسوس ہوتے ہیں، عوام پر اضافی بوجھ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ ہو یا چھوٹے تاجر، ہر کوئی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ان بلوں اور ٹیکسوں کی ادائیگی میں جھونکنے پر مجبور ہے۔ اس پر فائلر اور نان فائلر کا مضحکہ خیز تماشا عوام کے ساتھ مزید ناانصافی ہے۔

    مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ قوت خرید اس حد تک کم ہو چکی ہے کہ دال، سبزی، آٹا، چینی، گھی جیسی بنیادی اشیاء بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ بچوں کی تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ والدین نہ بچوں کو اچھے اسکول میں پڑھا سکتے ہیں، نہ بیماری کی صورت میں مہنگا علاج کرا سکتے ہیں۔

    روزگار کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں، اور مہنگائی نے زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔ لوگ قرض لے کر گھر کا چولہا جلا رہے ہیں، اور مالی مشکلات دگنی ہو گئی ہیں۔ اس ساری صورتِ حال کے برعکس، سرکاری سطح پر پروٹوکول اور عیاشیاں ویسے ہی جاری و ساری ہیں، جو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

    مہنگائی کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ جب عوام کی قوتِ خرید ختم ہوتی ہے تو مارکیٹ میں کاروبار ٹھپ ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے کاروباری دیوالیہ ہو رہے ہیں، اور بڑے سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ بے روزگاری میں اضافہ ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کئی بڑی صنعتیں پاکستان سے بنگلہ دیش منتقل ہو رہی ہیں۔

    یہ وقت کی پکار ہے کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ بیانات سے کام نہیں چلے گا، اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ناجائز ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے، بجلی و گیس کے بلوں میں ریلیف دیا جائے، اور ذخیرہ اندوزوں و منافع خوروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی کی جائے۔

    حکومت کو ایسی پالیسیاں وضع کرنی ہوں گی جن سے عام آدمی کی قوت خرید بحال ہو، اور وہ مہنگائی کے اس بوجھ سے نجات پا سکے۔ زراعت اور صنعت کو فروغ دے کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ یہی عوامی ریلیف ملکی معیشت کے استحکام اور سماجی ہم آہنگی کی ضمانت ہو سکتی ہے۔

    عوام مہنگائی کے عفریت سے نجات چاہتے ہیں۔ یہ حکومتِ وقت کی آئینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی چیخ و پکار سنے، اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ بصورت دیگر یہ سنگین مسئلہ سیاسی و سماجی انتشار کو جنم دے سکتا ہے، جس کے نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔

  • تشنگی کی راتیں: کربلا کی ساتویں اور آٹھویں شب

    تشنگی کی راتیں: کربلا کی ساتویں اور آٹھویں شب

    تشنگی کی راتیں: کربلا کی ساتویں اور آٹھویں شب
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    سلام ہو حسینؑ پر…
    سلام ہو ان پر جو پیاسے رہے مگر سچائی کو تر رکھا،
    سلام ہو عباسؑ پر… جو دریا کے کنارے تک پہنچے مگر وفا کے پیکر بن کر واپس لوٹ آئے۔

    محرم کی ساتویں شب وہ لمحہ ہے جب کربلا کے آسمان پر تپتی دھوپ کا سایہ گہرا ہونے لگا، جب خیموں میں معصوم بچے پانی کو ترسنے لگے، اور جب صحرائے کربلا کے ذرے ذرے نے پیاس کے مارے لبوں کی صدائیں اپنے سینے میں دفن کر لیں۔ چھٹے محرم کے بعد ذخیرہ شدہ پانی ختم ہو چکا تھا۔ سات محرم کا سورج آگ برسا رہا تھا۔ ماؤں کی گود میں بلکتے بچے، پانی کی تلاش میں دوڑتی بچیاں، اور خالی مشکیزوں کو دیکھتے مردوں کی آنکھیں… یہ سب کچھ کربلا کے ماتمی منظر کو اور ہولناک بنا رہا تھا۔

    امام حسینؑ جانتے تھے کہ پانی کا ایک ایک قطرہ اب امانت ہے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے حضرت سکینہؑ پیاس سے نڈھال تھی، مگر ان کے لہجے میں شکایت نہیں تھی، فقط ایک سوال تھا: "بابا! کل پانی ملے گا نا؟”

    شیعہ روایات اس بات پر متفق ہیں کہ امام حسینؑ کے قافلے کو ساتویں محرم سے دسویں محرم کی شب تک پانی میسر نہ تھا۔ تشنگی کی یہ حالت صرف جسمانی نہیں، بلکہ روحانی آزمائش بھی تھی۔ خیموں میں بڑوں کے ہونٹ خشک ہو چکے تھے، بچوں کی چیخیں دل چیر رہی تھیں، اور صبر کا وہ پہاڑ تھا جو صرف حسینؑ کے کارواں کو نصیب تھا۔

    امامؑ کے ایک وفادار ساتھی، یزید بن حسین الحمدانی، نے بچوں کی بلکتی آوازیں سن کر امامؑ سے عمر بن سعد کے پاس جانے کی اجازت طلب کی۔ وہ دربار یزید کے اس نمائندے کے سامنے گئے اور کہا: "تم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، کیا تم مسلمان نہیں ہو؟” ابن سعد نے جواب دیا، "کیوں نہیں، میں مسلمان ہوں!”
    الحمدانی بولے: "تو پھر رسول اللہؐ کے نواسے اور ان کے ننھے بچوں کو پانی سے محروم رکھنا کون سا اسلام ہے؟ کیا تم قیامت کے دن رسولؐ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟”

    ابن سعد نے بڑی سفاکی سے کہا، "قیامت کی فکر بعد میں کروں گا، ابھی مجھے رے کی حکومت چاہیے!”

    اس پر امام حسینؑ نے حضرت عباسؑ کو حکم دیا کہ بیس سواروں کے ساتھ دریا کی طرف جائیں اور پانی لانے کی کوشش کریں۔ جیسے ہی عباسؑ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرات کے کنارے پہنچے، یزیدی سپاہی حجاج نے انہیں روکا۔ دونوں جانب سے تلواریں چلیں، تیروں کی بوچھاڑ ہوئی۔ عباسؑ اور ان کے وفادار ساتھی چند مشکیزے بھرنے میں کامیاب ہوئے، لیکن واپسی پر ہجوم اور تیزی میں کچھ برتن الٹ گئے، پانی زمین پر بہہ گیا۔ جو پانی خیموں میں پہنچا، وہ پیاس بجھانے کے لیے ناکافی تھا، مگر سکینہؑ کے لب تر ہوئے تو ماں کی آنکھ بھیگ گئی۔

    انھی لمحوں میں ایک اور واقعہ کربلا کی تپتی ریت پر رقم ہوا۔ یزیدی لشکر کا ایک سپاہی، عبداللہ بن حسین العزدی، فرات کے کنارے کھڑا ہو کر طنز کرتا ہے: "حسین! یہ دیکھو، یہ شفاف پانی! خدا کی قسم، ایک قطرہ بھی تمہیں نصیب نہ ہوگا!”
    امامؑ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی: "اے پروردگار! اسے زندگی میں ایسی پیاس دے جو کسی نے نہ چکھی ہو!”
    راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ سپاہی دریا سے پانی پیتا رہا، قے کرتا رہا، بار بار پیتا، یہاں تک کہ اس کا پیٹ پھٹ گیا اور وہ فرات کے پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔

    یہ وہ لمحہ تھا جب ابن سعد کو غصہ آیا کہ حسینؑ کے سوار دریا سے پانی لا سکے۔ اس نے دریا کا پہرہ مزید سخت کر دیا، اب پانی کا ایک قطرہ بھی امامؑ کے کیمپ تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔

    آٹھویں شب کو امام حسینؑ خود چند ساتھیوں کے ساتھ ابن سعد سے گفتگو کے لیے نکلے۔ انہیں امید تھی شاید ضمیر کی کوئی چنگاری ابھی باقی ہو۔ امامؑ نے کہا: "کیا تو خدا سے نہیں ڈرتا؟ کیا تو نہیں جانتا میں رسولؐ کا نواسہ ہوں؟ کیا بنو امیہ کی خوشنودی کے لیے مجھے قتل کرو گے؟”

    اسی رات، سکینہؑ پھر اپنی ماں سے لپٹ کر کہہ رہی تھی: "امّی! کل پانی ملے گا نا؟”
    اور ماں… بس آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی، جیسے دعائیں بھی پیاسی ہو گئی ہوں۔