Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تمام کٹیگریزکو یکساں میچ فیس دی جائے گی، وسیم خان

    تمام کٹیگریزکو یکساں میچ فیس دی جائے گی، وسیم خان

    گورننگ بورڈ سے آئندہ مالی سال 22-2021 کی منظوری کے ساتھ ہی پی سی بی نے مینز سینٹرل کنٹریکٹ برائے 22-2021 کا اعلان کردیا ہے۔ 20 ایلیٹ کرکٹرز کے لیے اعلان کردہ اس فہرست میں کنٹریکٹ کی تین مختلف کٹیگریز سمیت تین ایمرجنگ کرکٹرزکوبھی شامل کیا گیا ہے.
    اس فہرست کو حتمی شکل دینے والےتین رکنی پینل میں ڈائریکٹرانٹرنیشنل ذاکر خان، چیف سلیکٹر محمد وسیم اورڈائریکٹرہائی پرفارمنس ندیم خان شامل تھے، اس دوران پینل نے قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اورکپتان بابراعظم سے بھی مشاورت کی ہے، جس کے بعد کنٹریکٹ کی یہ فہرست پہلے چیف ایگزیکٹو وسیم خان اورپھرحتمی منظوری کے لیے چیئرمین پی سی بی کے پاس بھجوائی گئی ہے، 12 ماہ پر مشتمل یہ کنٹریکٹ یکم جولائی 2021 سے 30 جون 2022 تک جاری رہے گا۔
    مینز سینٹرل کنٹریکٹ لسٹ میں شامل کھلاڑیوں کی فہرست میں
    کٹیگری اے میں بابراعظم، حسن علی، محمد رضوان اورشاہین شاہ آفریدی شامل ہیں.
    کٹیگری بی میں اظہرعلی، فہیم اشرف، فخرزمان، فواد عالم، شاداب خان اوریاسرشاہ شامل ہیں.
    کٹیگری سی میں عابد علی، امام الحق، حارث رؤف، محمد حسنین، محمد نواز، نعمان علی اورسرفراز احمد شامل ہیں.
    ایمرجنگ کٹیگری میں عمران بٹ، شاہنوازدہانی اورعثمان قادر شامل ہیں.
    کنٹریکٹ میں نظر ثانی کی گئی ہے،
    کٹیگری اے کے ماہوار وظیفے میں 25 فیصد اضافہ کیا ہے، کسی بھی فارمیٹ کی میچ فیس میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے.
    کٹیگری بی کے ماہواروظیفے میں 25 فیصد اضافہ کیا ہے، ٹیسٹ کی میچ فیس میں 15 فیصد اضافہ کیا ہے، ون ڈے انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 20 فیصد اورٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 25 فیصد اضافہکیا ہے.
    کٹیگری سی کے ماہواروظیفے میں 25 فیصد اضافہ کیا ہے، ٹیسٹ کی میچ فیس میں 34 فیصداضافہ کیا ہے، ون ڈے انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 50 فیصد اورٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 67 فیصد اضافہ کیا ہے.
    ایمرجنگ کٹیگری کے ماہوار وظیفے میں 15 فیصد اضافہ۔ٹیسٹ کی میچ فیس میں 34 فیصد اضافہ کیا ہے، ون ڈے انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 50 فیصد اور ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 67 فیصد اضافہ کیا ہے.
    اس کنٹریکٹ کے تحت حسن علی اور محمد رضوان کو کٹیگری اے میں شامل کرلیا گیا ہے، حسن علی گزشتہ سال انجری کی وجہ سے کنٹریکٹ حاصل نہیں کرپائے تھے، تاہم سیزن 21-2020 میں شاندار کارکردگی کی بدولت انہوں نے سیزن 22-2021 کے لیے کنٹریکٹ کی اے کٹیگری حاصل کرلی ہے، محمد رضوان کو مستقل کارکردگی کی بدولت کٹیگری اے میں ترقی دی گئی ہے، فہیم اشرف، فواد عالم، محمد نوازاورنعمان علی کو بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں متاثرکن کارکردگی کی بدولت سینٹرل کنٹریکٹ برائے 22-2021 کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے.
    گزشتہ سال ایمرجنگ کٹیگری میں شامل فاسٹ باؤلرزحارث رؤف اورمحمد حسنین کو کٹیگری سی میں ترقی دی گئیئ ہے، شاہنواز دہانی، عثمان قادراورعمران بٹ کو ایمرجنگ کٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے۔
    اسد شفیق، حیدرعلی، حارث سہیل افتخاراحمد، عماد وسیم، محمدعباس، نسیم شاہ، شان مسعود اورعثمان شنواری کو سیزن 22-2021 کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ پیش نہیں کیا گیا ہے، تاہم یہ تمام کھلاڑی سلیکٹرز کے پلانز کا حصہ ہیں اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرکے آئندہ سال کے لیے کنٹریکٹ حاصل کرسکتے ہیں۔
    چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ معیاری کھلاڑیوں کے بڑے پول میں سے 20 کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، وہ اس موقع پر احسن انداز سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے پر پینل کا شکریہ ادا کرتے ہیں، گزشتہ سال کے مقابلے میں اس فہرست میں 8 نئے کھلاڑیوں کوکنٹریکٹ دیا گیا اور9 سے واپس لیا گیا ہے، تاہم ان 9 کھلاڑیوں کے لیے دروازے کھلے ہیں اور یہ سلیکٹرز کے پلانز کا حصہ ہیں، ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے اس سال ایمرجنگ کٹیگری میں شاہنواز دھانی، عمران بٹ اورعثمان قادر کو شامل کیا گیا ہے، ملک کی نمائندگی کرنے والے تمام کھلاڑیوں کو اب یکساں میچ فیس ملے گی، چاہے وہ کسی بھی طرز کی کرکٹ کھیل رہا ہو یا اس کے پاس سینٹرل کنٹریکٹ ہے یا نہیں، ہم نے معاشی طور پرایک چیلنجنگ سال کے باوجود سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کی آمدن میں اضافہ کیا ہے.

  • بچپن کی شرارت قسط 2۔۔۔تحریر: طلعت کاشف سلام

    بچپن کی شرارت قسط 2۔۔۔تحریر: طلعت کاشف سلام

    آج وعدے کے مطابق دوسری قسط لکھنے جا رہی ہوں، اور ان شاءاللہ ابھی یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔

    اچھا ایک بات سچ سچ بتائیں کیا آپ نے بچپن میں کسی کے گھر کی گھنٹی بجا کے بھاگے ہیں😅
    یہ شرارت میری ہر روز کی چلتے پھرتے معمول کا حصہ تھی۔ اسکول جاتے ہوئے، باہر کھیلتے ہوئے کبھی کوئی موقع جانے نہیں دیتی تھی۔
    پاکستان میں جب تھی تو بیل بجا کے معصوم بن کے چلنا شروع کردیتی تھی۔

    اور جب ابوظہبی میں تھی، تو شروع میں بڑی ٹینشن ہوئی کے اب یہ شرارت کیسے کروں، پر جی طلعت بیگم شرارت نہ کریں یہ تو ممکن ہی نہیں تھا اب سوچیں میرے شیطانی دماغ نے کیا طریقہ ڈھونڈا ھو گا۔

    سوچیں سوچیں ہاہاہاہاہاہاہا
    جی جناب ھم ابوظہبی میں اپارٹمنٹس میں رہتے تھے، اور وہاں بلڈنگ کے اندر داخل ہونے کے بعد انٹرکام ھوتے تھے جیسے یہاں ہوتے ہیں۔ اور اس زمانے میں کیمرے بھی نہیں ہوتے تھے۔ سوچیں میرے شرارتی یا شیطانی دماغ نے کیا سوچا، جی بلکل میں جب نیچے جاتی یا اوپر آتی، آتے جاتے 3 سے 4 لوگوں کو انٹرکام کردیتی۔ وہ فون اٹھا کے ہیلو ہیلو چیختے رہتے اور ھم(میں اور میری بہنیں) سایڈ میں چھپ کے انکے فون بند کرنے کا انتظار کرتے جیسے ہی بند ھوتا واپس جا کے اسے دوبارہ فون مار دیتے، اور پھر باہر جا کے کھیلنا شروع کردیتے، ایک بار تو ایک بندے نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی، وہ بیچارہ نیچے تک آگیا اور ھم وہاں معصوم بنے کھیلتے رہے۔ میری بڑی بہن مجھے اس حرکت سے بہت روکا کرتی تھی، پھر جب مزا آتا تو خود بھی ساتھ شامل ھو جاتی تھی۔

    یہ تو تھی ایک شرارت اب شرارت کا دوسرا لیول بھی سنیں، ویسے اب سوچتی ہو تو اپنی حرکتوں پر ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کے بیچارے عربیوں، گوروں کے ساتھ ملباریوں کو بھی خوب تنگ کیا، ھمارے سامنے والے اپارٹمنٹ میں ایک امریکن فیملی رہتی تھی، میرے ابو اور پڑوسی دونوں اتصالات میں جوب کرتے تھے۔ ایک دن  انکا نمبر ابو کی ڈائری سے چوری کیا اور اسکے بعد نیچے گروسری شاپ میں فون کرکے پیپسی لانے کا کہا اور اپنے بجائے اسکا فون نمبر اور اپارٹمنٹ نمبر دے دیا، اور جب بیچارہ ملباری پیپسی دینے ایا تو میجک آئی سے انکھ لگا کے باہر دیکھتی رہی ہاہاہاہاہاہاہا وہ بیچارہ سامنے والا بھی اتنا اچھا تھا کے اس نے خاموشی سے پیپسی لے کے اسے پیسے دے دئے، اور جب میں نے یہ دیکھا تو ہر روز یہ کچھ نہ کچھ آرڈر کرنے لگی۔ اور وہ معصوم بس یہی کہتا کے میں نے تو آرڈر نہیں کیا تھا پر چلو تم آگئے ہو تو دے دو۔

    آپ بھی سوچتے ہونگے کے اتنی سوبر دیکھنے والی طلعت بچپن میں شیطان کی پڑیا تھی۔ ویسے میرا بس چلے تو بیل بجانے والی حرکت ابھی بھی کروں، یقین کریں جب میں کبھی کوئی شرارت کرنے کا سوچ بھی رہی ہوتی تو میری بیٹی میرا چہرا دیکھ کے ہی سمجھ جاتی کے مما کے دماغ میں کچھ چل رہا ہے اور وہ پہلے ہی کہنا شروع کر دیتی، نو مما پلیز نو ہاہاہاہاہاہاہا
    چلیں آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے، پھر لیں گے ایک اور دوسری شرارت کے ساتھ۔۔۔

  • ناخوشگوار ازدواجی زندگی مردوں میں فالج اور قبل ازوقت موت کا باعث بن سکتی ہے     تحقیق

    ناخوشگوار ازدواجی زندگی مردوں میں فالج اور قبل ازوقت موت کا باعث بن سکتی ہے تحقیق

    تل ابیب یونیورسٹی نے دریافت کیا ہے کہ ناخوشگوار شادی شدہ زندگی سے مردوں کےلیے فالج اور کسی بھی دوسری وجہ سے قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق 32 سال کے دوران 10 ہزار سے زائد شادی شدہ اسرائیلی مردوں سے حاصل شدہ معلومات کا تجزیہ کرنے پر ماہرین کو معلوم ہوا کہ ناخوشگوار ازدواجی زندگی سے موت کا خطرہ، تمباکو نوشی سے ناگہانی موت کے خطرے سے مماثلت رکھتا ہے۔

    مطالعے کی ابتداء میں اپنی ناخوشگوار شادی شدہ زندگی کی شکایت کرنے والے 94 فیصد مردوں کو اگلے تیس سال میں فالج کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 21 فیصد مرد ناگہانی موت کا نوالہ بن گئےاس کے مقابلے میں تمباکو نوشی کرنے والے مردوں کےلیے موت کا خطرہ 37 فیصد تک، جبکہ کاہلی کی زندگی گزارنے والے مردوں کےلیے یہی خطرہ 21 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    ناخوشگوار ازدواجی زندگی اور مردوں کی قبل از وقت ناگہانی موت میں کیا تعلق ہے؟ اس بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ ازدواجی زندگی کے مسائل مردوں کو مستقل اعصابی تناؤ، ڈپریشن اور بے سکونی میں مبتلا کرسکتے ہیں جن کا عمومی نتیجہ فالج، دل کے دورے اور مختلف اعصابی و جسمانی بیماریوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

    یہ تحقیق 30 سال سے زیادہ کی تحقیق سے متعلق صحت کے وسیع اعداد و شمار پر مبنی تھی جس میں 10 ہزار اسرائیلی مردوں کی ہلاکت کا پتہ لگایا گیا تھا۔ بہت سے مرد اپنے خانگی اور ازدواجی مسائل کا مقابلہ کرنے کےلیے تمباکو نوشی، شراب نوشی، منشیات اور الا بلا کھانے جیسی عادتیں بھی اختیار کرلیتے ہیں جو آگے چل کر ان کی صحت کو تباہ کردیتی ہیں؛ اور بالآخر موت کی وجہ بھی بن جاتی ہیں۔

    ’’جرنل آف کلینیکل میڈیسن‘‘ کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین نے زور دیا ہے کہ ازدواجی زندگی سے متعلق تعلیم کو بھی عوامی صحت کے منصوبوں کا لازمی حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔

    مطالعے کے حصے کے طور پر ، محققین نے ایک ڈیٹا بیس کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جس نے 1960 کی دہائی میں ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کیا اور 32 سال تک ، اسرائیل کے تمام سرکاری ملازمین کی 10 ہزار مردوں کی صحت اور سلوک کا سراغ لگایا ، جس میں فالج سے موت پر خصوصی توجہ دی گئی اور عام طور پر قبل از وقت موت۔ مطالعہ کے آغاز میں ، زیادہ تر شرکاء 40 کی دہائی میں تھے۔ تب سے ، 64 فیصد متعدد بیماریوں سے ہلاک ہوئے۔

    اگرچہ یہ تحقیق صرف مردوں پر کی گئی ہے لیکن اس سے ماضی میں کی گئی تحقیقات کی تائید ہوتی ہے جن سے معلوم ہوا تھا کہ ناخوشگوار ازدواجی زندگی میاں اور بیوی، دونوں کی صحت اور زندگی کےلیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

  • بلوچستان اور فاٹا  اللہ تعالیٰ کا  انمول تحفہ  اور پاک فوج  کی انتھک محنت کا ثمر.تحریر: امان الرحمٰن

    بلوچستان اور فاٹا اللہ تعالیٰ کا انمول تحفہ اور پاک فوج کی انتھک محنت کا ثمر.تحریر: امان الرحمٰن

    رقبے کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ قدرتی خوبصورتی بلند پہاڑوں ، چشموں اور معدنیات سے مالا مال فطرت کا تحفہ ہے۔ اس سے متصل خیبر پختونخوا میں فاٹا کا علاقہ ہے۔ بلوچستان میں وزیرستان اور فاٹا دونوں افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدیں مشترک ہیں۔ سوویت یونین اور پھر امریکہ کے ذریعہ افغانستان پر حملے کے نتیجے میں ، افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پاکستان منتقل ہوگئی۔ آج بھی ، پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 300،000 سے زیادہ ہے جو گذشتہ 30 سالوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ ان مہاجرین میں سے زیادہ تر وزیرستان اور فاٹا سے آئے تھے۔ وہ بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے پاکستان آتے جاتے تھے

    منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ
    جب پاکستانی عوام اور حکومت افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے تھے ، کچھ مجرم ذہنیت پسند لوگوں نے آزادانہ تحریک کا فائدہ اٹھایا اور تینوں ممالک کے مابین بڑے پیمانے پر اسمگلنگ شروع کردی۔ جنگ سے تباہ حال بے روزگار افغانوں نے بھی منشیات بنانا شروع کردیا ، کچھ مقامی افراد بھی اس میں شامل ہوگئے۔ ان مجرموں کا لالچ بڑھتا گیا اور آہستہ آہستہ وہ دہشت گردوں کے حامی بن گئے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اسے نقصان پہنچانے کا موقع کبھی نہیں کھوتا ہے۔ بھارت نے وزیرستان کے اسمگلروں کی مدد سے بلوچستان میں دہشت گردوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا اور پورے پاکستان میں بم دھماکے کیے ، جس سے ہزاروں بے گناہ شہری ہلاک ہوئے۔ بلوچستان سے ہندوستانی بحریہ کے کمانڈر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور انکشافات نے ہندوستان کا بدصورت چہرہ پوری دنیا کو ظاہر کردیا۔ کلبھوشن نیٹ ورک کو ختم کرنے کے بعد ، پاکستانی فوج نے وزیرستان سے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کے خاتمے کے لئے فوجی آپریشن شروع کیا۔

    آپریشن ضرب عضب
    آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 180 بچے شہید ہوگئے۔ تب پوری قوم نے پاک فوج سے مطالبہ کیا کہ ان درندوں کو اس ظلم کی سزا دی جائے۔ اس دن کی حکومت کے حکم پر پاک فوج نے وزیرستان اور فاٹا میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا۔ پہلے مرحلے میں ، مقامی افراد کو نکال لیا گیا اور انہیں پناہ گاہوں میں محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ اس کے بعد دنیا کا سب سے انوکھا اور مشکل فوجی آپریشن شروع کیا۔ ایک طویل جنگ کے بعد ، دہشت گردوں کو شکست ہوئی۔ اس کارروائی میں ہزاروں دہشتگرد ہلاک اور سیکڑوں پاکستانی فوجی شہید ہوگئے۔
    اس آپریشن کا تیسرا مرحلہ۔ مہاجرین کی ان کے گھروں کو واپسی بھی مکمل ہوچکی ہے ، لیکن پاک فوج ابھی بھی علاقے میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے کام کر رہی ہے۔

    آپریشن ضرب عضب نے علاقے سے 90٪ دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ایک طویل عرصے بعد زندگی معمول پر آرہی ہے۔ اسکول اور کالج بنائے جارہے ہیں۔ میران شاہ میں پاکستان مارکیٹ نامی ایک بڑا تجارتی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ پاک فوج نے تباہ حال علاقے کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ علاقہ مکین ان سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ دوسری جانب دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردوں کی یلغار روکنے کے لئے پاک فوج سے پاک افغان بارڈر پر جرمانے کے خلاف بھی بھرپور مزاحمت کر رہے ہیں۔

  • افغان طالبان کا دباؤ،پاکستان اور اسرائیل.. تحریر:رانا عزیر

    افغان طالبان کا دباؤ،پاکستان اور اسرائیل.. تحریر:رانا عزیر

    عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا
    فرش کے سارے خداؤں سےالجھ بیٹھا ہوں
    عمران خان جہاں ایک طرف دنیا کے سامنے ہیرو بن کر ابھر ہیں اور دنیا میں واحد مرد مجاہد ہے جس نے امریکہ کو آنکھیں دکھائیں اور سپرپاور کو نو مور کہا۔ کل جیسے ہاؤس میں کھڑے ہوکر عمران خان نے اپنی 74 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی پالیسی بیان کی جس نے عالمی طاقتوں کی نیندیں حرام کردیں. اس کے بعد امریکہ کا پہلا خطرناک وار اسرائیل کی شکل میں لانچ ہوچکا ہے اور ایک ایسا عمران خان کے خلاف افغان طالبان سے منسوب کرکے سکینڈل لانچ کیا اور اس سکینڈل کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ اسرائیل کے جریدے ہیرٹز نے یہ انکشاف کیا ہے اب طالبان یہ فیصلہ کریں گے پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہا ہے۔ اس کے پیچھے کہانی بہت پیچیدہ ہے, کیا پاکستان نے طالبان کے دباؤ میں آکر فوجی اڈوں کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے؟ پوری قوم یہ جاننا چاہتی ہے، تو اسکا آج مکمل جواب آپکو ملے گا۔ ہمارے ہمسائے ملک میں اس وقت خانہ جنگی کا راونڈ ون شروع ہوچکا ہے جو کہ پاکستان کیلئے بہت خطرناک ہے لیکن پاکستان نے جیسے ہی بروقت فیصلے کیے امریکہ کے خواب چکنا چور کردیے، امریکہ اس جنگ میں پاکستان کو تنہا کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ ناکام ہوا تو اس نے نیا محاذ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ اسرائیل ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر پوری پاکستانی قوم ایک ہوجاتی ہے اور ہم اس دہشتگرد ناجائز ملک سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے فلسطین پر ناجائز قبضہ کیا۔ اور یہی وجہ ہے آج پاکستانی قوم عربوں سے اس وجہ نفرت کرنا شروع ہوگئ ہے کہ انھوں نے چند ٹکوں کی خاطر اسرائیل کو تسلیم کیا اور امت مسلمہ کا سودا کیا۔

    یہ اسرائیل کو پتا ہے کہ جب ہمارا گندہ نام عمران خان کے ساتھ جڑے گا تو عمران خان کی مقبولیت پاکستان میں کم ہوگی، کیونکہ پاکستان میں چند اشرافیے کے لوگ عمران خان کو یہودی ایجنٹ بھی کہتے ہیں تو یوں عمران خان کے خلاف پوری قوم کھڑی ہوجائے گی۔ 2001 میں جب امریکہ پر حملہ ہوا تو پوری دنیا امریکہ کو گود میں بیٹھ گئی، یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ نے امریکہ کو حکم دیا کو وہ افغانستان پر چڑھائی کردے، پاکستان نے اس وقت افغان طالبان کو کہا اگر اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردو تو یہ خطرہ ٹل سکتا ہے لیکن افغان طالبان نہ مانے۔ امریکہ ہماری کمزوریوں سے واقف ہے۔ یہی 2001 والی صورتحال دوبارہ پیدا ہوچکی ہے، اب امریکہ حافظ سعید اور طالبان لیڈرز کو پاکستان سے مانگ رہا ہے لیکن پاکستان اب ڈٹ گیا ہے، کچھ ہی دن پہلے اقوام متحدہ نے امریکہ کے زیر اثر ایک رپورٹ شائع کی کہ پاکستان داعش کو پاک افغان بارڈر پر پناہ دے رہا ہے اور پاکستان انھیں افغانستان میں استعمال کررہا ہے، امریکہ کا پلان یہ ہے کہ وہ پہلے پاکستان کو بدنام کرے پھر اقوام متحدہ اسے حکم دے گا کہ تم افغانستان پر بھی چڑھ دوڑو اور پاکستان پر بھی یہ ساری گیم امریکہ رچانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے بدلے یہ پاکستان کو کہا جارہا ہے کہ اگر اسرائیل کو پاکستان تسلیم کرتا ہے تو یہ خطرہ ٹل سکتا ہے کہ افغان طالبان اور حافظ سعید کوہمارے حوالے کردو اور ہم پھر بغیر بتائے آپریشن نہیں کریں گے۔ لیکن پاکستان اب کسی جنگ میں شرکت کرنے کیلئے تیار نہیں، اور امریکہ اپنے پینترے چلنے کی پوزیشن میں ہے وہ ہے اسرائیل ماڈل۔ لیکن پاکستان نے کمال کے پتے کھیلے کہ اگر افغان طالبا ن بھی طاقت کے زور پر آئیں گے ہم اپنا بارڈر سیل کردیں گے جو بڑا مثبت اشارہ تھا پوری دنیا کو، تو امریکہ کو لگ کہاں سے رہی ہے وہ اسے سمجھ نہیں آرہی ہے

  • افغان طالبان کی فتوحات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    افغان طالبان کی فتوحات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    اٹھارہ سالوں سے جاری جنگ بلآخر پچھلے سال اختتام پذیر ہوئی اور اسی کے ساتھ امریکا اور طالبان میں کامیاب مذاکرات ہوئے۔۔۔
    کل تک پوری دنیا یہ سمجھتی تھی امریکی فوج افغانستان پر قابض ہوکر طالبان کا خاتمہ کر دے گئی لیکن اللّه کی مدد جس کے ساتھ ہو پھر پوری دنیا بھی ایک ہو جائے کچھ نہیں کر سکتی یہی مدد طالبان کے ساتھ اللّه کی طرف سے ملی اور طالبان پوری دنیا میں سرخرو ہوئے۔۔۔
    وہ دور بھی ایک دور تھا جب حضرت ملا محمد عمر رح کی قیادت میں طالبان نے اپنی فتوحات کی ابتدا کی آج پوری دنیا نے یہ دیکھا کے طالبان کبھی دنیاوی خداؤں کے آگے نہیں جھکی امریکا جو اپنے آپکو سپر نیوکلیئر پاور کہتی نہ تھکتی تھی آج وہ افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہے۔۔
    طالبان نے حضرت ملا محمّد عمر رح کی قیادت میں جب افغانستان میں اپنی حکومت قائم کی تو ایسا لگتا تھا حضرت سیدنا عمرؓ کی خلافت کا وہ سنہرا دور دوبارہ شروع ہوا
    اللّه پاک ملا عمر رح کے درجات بلند فرمائے

    اب ایک بار پھر طالبان اپنی بہترین حکمت عملی کے تحت افغانستان میں فتوحات حاصل کر رہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں عنقریب طالبان دوبارہ افغانستان میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اس وقت پوری دنیا کی نظر افغانستان اور طالبان پر جمی ہے اور میری نیک خواہشات طالبان کے ساتھ ہیں۔
    اللہ تعالی ان کا حامی و ناصر ہو۔
    آمین

  • کینیڈا میں سابق سکول سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت

    کینیڈا میں سابق سکول سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت

    برٹش کولمبیا: کینیڈا میں ایک اور سابقہ بورڈنگ اسکول کے باہر سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق بچوں کی عمر 7 سے 15 سال کے درمیان ہے جنہیں 1890 سے لیکر 1970 کے درمیان کیتھولک چرچ کے زیر انتظام چلنے والے اسکول میں زبردستی کینیڈین معاشرے میں ہم آہنگی کے لیے تعلیم دی جاتی تھی۔

    19 ویں صدی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے قریب بچوں کو زبردستی مسیحی بورڈنگ اسکولوں میں تعلیم دی جاتی تھی تاہم اس دوران ہزاروں بچے بیماری اور دیگر وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوگئے تھے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کینیڈا کی ریاست سسکیچوان میں سابق بورڈنگ اسکول سے 751 اجتماعی قبریں دریافت کی گئی تھیں جب کہ مئی کے آخر میں بھی ایک اسکول کے احاطہ سے 215 بچوں کی اجتماعی قبریں برآمد ہوئی تھیں برٹش کولمبیا میں قائم سکول1978 میں بند کردیا گیا تھا اس حوالے سے کینڈین وزیراعظم نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ بچوں کی باقیات ایک پرانے بورڈنگ سکول سے برآمد ہوئیں بچوں کی اموات کب ہوئیں ،تحقیقات کی جائیں گی-

    کینیڈا کے ایک سکول کے احاطہ سے 215 بچوں کی باقیات برآمد

  • پاکستان کے خلاف امریکی سازشیں. تحریر: نوید شیخ

    پاکستان کے خلاف امریکی سازشیں. تحریر: نوید شیخ

    کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم ابھی نندن کو پکڑ لیتے ہیں ۔ کلبھوشن یادو کو بھی رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے ہیں مگر دنیا میں ہماری اس طرح سنوائی نہیں ہوتی جیسے ہونی چاہیے ۔ دوسری جانب بھارت کوئی جھوٹا موٹا ڈرامہ بھی کرے تو سب پاکستان کی جانب انگلی اٹھانا شروع ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ اس سلوک کی وجہ امریکہ ہے ۔ آگے چل کر بڑی تفصیل سے امریکہ کی کارستانیوں بارے بتاتا ہوں ۔ ۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا پاکستان کو کتنا نقصان ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں جو گزشتہ کئی دنوں سے ڈرامہ بازی جاری ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ کس کو نہیں پتہ کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اپنے سیاسی مفادات کی حفاظت کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ۔ اس وقت جو ملک کو مسائل درپیش ہیں یہ حقیقی طور پر امتحان کا وقت ہے ۔

    ۔ آپ دیکھیں بھارتی فضائیہ کی عمارت پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد پاکستان پر الزام عائد کرنے کی بڑی تگڑی کوششیں ہو رہی ہیں مگر کتنے سیاستدان ہیں جنہوں نے اس کا جواب دیا ہے۔ آج بھی اسمبلی میں بڑی تقریریں ہوئی ہیں ۔ شور شرابہ ہوا ہے ۔ مگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ مودی اور بھارت کی شرانگیزیوں کا جواب دے دیتے ۔۔ کسی کو خیال نہیں آیا کہ یہ سوال یہ اٹھا دیتے کہ جو ڈرون بھارت دیکھا رہا ہے ۔ یہ چھوٹے والے ڈرون ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ بھی اس کی بیٹری لائف ہوئی تو 40 منٹ سے زیادہ ہوا میں نہیں رہ سکتا ۔ اور یہ والا ڈرون کہیں آگیا ہے تو کہیں سے تو آپریٹ ہو رہا ہوگا ۔ کہیں جا کر یہ گرے گا بھی ۔ اس کو تو ڈھونڈو ۔ مگر کسی کا اپنی سیاست سے ہٹ کر توجہ ہو تو سوال کرے ۔ مودی کو جواب دے ۔ بھارت کے پراپیگنڈہ کا توڑ کرے ۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی کو نہیں پتہ چلا ۔ کہ لاہور میں جو دھماکہ ہوا اس کے پیچھے بھارت اور RAW کا ہاتھ تھا ۔ قومی اسمبلی میں آج بڑی جذباتی تقریریں ہوئیں ۔ پر اس اہم موقع پر جس کو دنیا میں بھارت پلوامہ ٹو بنا کر پیش کر رہا ہے ۔ ہماری پارلیمنٹ چپ ہے ۔ آخر کیوں ؟۔ لاہور تو لاہور ۔ کراچی سے بھی RAW کا ایک خطرناک نیٹ ورک پکڑ لیا گیا ہے۔ پر کیا قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو یہ توفیق ہوئی کہ حکومت دنیا کو کیوں نہ بتا سکی کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے ۔ ۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمارے سکیورٹی اداروں کو پاکستان میں کسی دہشت گردی کے واقعے میں بھارتی خفیہ ادارے RAW کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ پاکستان ایسے بہت سے ثبوت اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کرچکا ہے جن کی بنیاد پر بھارت کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے تھی لیکن افسوس کی بات ہے کہ عالمی برادری اس سلسلے میں کھوکھلے بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ بھی نہیں کرتی۔ بھارت کی پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں یا دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی بحریہ کا افسر کلبھوشن یادیو ہے جسے پاکستانی سکیورٹی اداروں نے بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔

    ۔ کیا یہ سیاسی قیادت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اردگرد ہونے والے واقعات پر نگاہ رکھے اور ملکی مفاد میں سیاسی اختلافات کو بھلا کر پاکستان کی سلامتی اور بقاء کو اہمیت دیتے ہوئے مثبت طرز عمل اختیار کرے۔ ۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ بھارت مزید ایسی کوئی کارروائیاں کرے تاکہ وہ لاہور دھماکے میں اپنی ایجنسی کے ملوث ہونے کے معاملہ سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے ۔ لیکن ہمارے دفتر خارجہ کو اس سلسلے میں پوری توجہ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور بھارت کے خلاف ملنے والے ثبوت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر کے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنا چاہیے۔۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیری قیادت سے ملاقات کا ایک اور ڈھونگ ناکام ہوگیا ہے۔ ۔ نریندر مودی اس وقت عالمی سطح پر شدید دباؤ میں ہیں۔ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو یا لداخ میں تیار بیٹھی چینی افواج، اگر پاکستان پھنسا ہوا ہے تو مسائل بھارت کے لیے بھی کم نہیں ہیں ۔

    ۔ کیونکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ معاملات کو بہتر بنا کر خطے کا چوہدری بنے اور چین کا مقابلہ کرنے کےلیے تیار ہو۔ لیکن بیچ میں کشمیر آجاتا ہے اس لیے یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا کیونکہ پاکستان کا واحد مطالبہ ہے کہ کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے، تبھی مذاکرات کی میز سجائی جاسکتی ہے۔ پر ابھی تک بھارت کو چوہدری بنانے کی امریکہ کی خواہش بہت مہنگی پڑ رہی ہے ۔ ۔ حالت یہ ہے کہ quad اتحاد بنانے کے باجود ایشیا میں امریکی غلبہ زوال پذیر ہے حالات اِس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ افغانستان سے انخلا کے بعد خطے پرنظر رکھنے کے لیے کوئی ملک اڈے دینے کو تیا رنہیں۔ دراصل ایسے حالات بنانے میں امریکی حماقتوں کا بڑا ہاتھ ہے افغانستان میں بھارتی کردار کی ضد نے چین کو قبل ازوقت مقابلے پر آنے کی راہ دکھائی اور پاکستان کو بھی خفا کر دیا کیونکہ پاکستان نے اپنا مستقبل چین سے وابستہ کر لیا ہے اِس لیے اب یہ توقع کم ہی ہے کہ پاکستان اور امریکہ ماضی کی طرح ایک دوسرے سے شیر وشکر ہوں۔

    ۔ اس حوالے سے عمران خان نے اپنے حالیہ چینی ٹی وی کو انٹرویومیں واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف علاقائی اتحاد قائم کیا ہے۔ امریکی اتحاد میں بھارت اور دیگر ممالک شامل ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ نا مناسب رویہ رکھا گیا مغربی ممالک کا پاکستان پر دباؤ ڈالنا نا مناسب ہے۔ پاکستان پر جتنا بھی دباؤ ڈال لیں، پاک چائنہ تعلقات قائم رہیں گے۔ پاک چائنہ تعلقات ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ہیں۔ ۔ اس لیے اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان میں دوری بڑھتی جا رہی ہے اور آگے یہ مزید بڑھنے کی جانب گامزن ہے ۔ وجہ بھارت ہے ۔ آپ دیکھیں جب افغان سرزمین پر بھارت کی موجودگی چین اور پاکستان دونوں کو قبول نہیں توپھر امریکی کیوں ضد کرتے ہیں سمجھ نہیں آتی ویسے بھی بڑے رقبے، بڑی آبادی اور بڑی فوج کے علاوہ بھارت میں کوئی خوبی نہیں ۔ بھارت وہ میمنا ہے جسے دودھ پینے کے سوا کچھ نہیں آتا پہلے روس اور اب امریکہ کی طرف ہونے میں یہی خصلت کارفرما ہے بھارت کی بے جا حمایت امریکی غلبے کو زیادہ تیزی سے زوال کی گہرائیوں میں پھینک سکتی ہے۔

    ۔ دراصل دہشت گردوں کی سرکوبی کا علمبردار امریکہ اڈے لیکر اہم ممالک پر نظر رکھناچاہتاہے لیکن پاکستان ایسا کچھ کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں۔ دوسرایہ کہ پاکستان اب طالبان کے حمایتی یا مخالف گروہوں کولڑنے کے لیے میدان فراہم نہیں کرنا چاہتا اور وہ اقتدار کا فیصلہ کرنے کا حق افغانوں کو دینے کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ افغان اپنے لسانی یا نسلی مسائل کا حل بھی خود تلاش کریں لیکن امریکی خواہش ایسی نہیں وہ کسی نہ کسی صورت میں علاقے میں موجود رہنا چاہتا ہے۔

    ۔ امریکہ کوشاید معلوم نہیں کہ حالات بدل چکے ہیں چین پر ہمسایہ ممالک تکیہ کرنے لگے ہیں جو امریکی اتحاد کی طرف قدم بڑھائے اُسے چین روکنے بھی لگا ہے بنگلہ دیش پر چین اسی نوعیت کا دباؤ ڈال چکا ہے جبکہ کم وبیش تین دہائیوں سے خاموش روس نے بھی عالمی کردار بڑھانا شروع کر دیا ہے اور عالمی امور میں امریکہ مخالف روش پرگامزن ہے۔ ۔ روسی صدر پیوٹن جلد پاکستان کا دورہ بھی کرنے والے ہیں ۔ ۔ ایران پہلے ہی خطے میں امریکہ مخالف بلاک کا پُرجوش حصہ ہے۔ جس سے نتیجہ واضح ہے کہ امریکی غلبے کا زوال شروع ہوگیا ہے اور جلد ہی عالمی منظر نامے پر واحد زمینی سُپر طاقت کے مدمقابل ایک سے زائد نئی طاقتیں آنے کا امکان ہے۔

  • ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

    فلائنگ کار کی پہلی شہر سے پہلی پرواز مکمل ہونے کے بعد ڈویلپرز نقل و حمل کے ایک "نئے دور” کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : لوواکیا میں مقیم کمپنی کلین ویژن کی اُڑنے والی گاڑی یا فلائنگ کار کے ایک آزمائشی ماڈل نے پیر کی صبح 6 بجے سلواکیا کے شہروں نیترا اور براٹیسلاوا کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے درمیان ایک گھنٹہ 35 منٹ کی پرواز کامیابی سے مکمل کی ہے۔

    اس کے موجد پروفیسر سٹیفن کلین کا دعویٰ ہے کہ یہ کار ایک ہزار کلومیٹر اور 8200 فٹ کی بلندی پر اُڑ سکتی ہے اور اس نے ہوا میں اب تک 40 گھنٹے گزارے ہیں اسے کار کی خصوصیات سے ہوائی جہاز کی خصوصیات حاصل کرنے میں صرف دو منٹ 15 سیکنڈ لگتے ہیں۔

    یہ ایک باقاعدہ پیٹرول اسٹیشن سے ایندھن پر چلتا ہے اور 160bhp بی ایم ڈبلیو انجن کے ساتھ لگایا گیا ہے ، اور یہ 118mph کی بحری رفتار کے ساتھ 8،200 فٹ پر اڑ سکتی ۔اس کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ فلائنگ کار کا نیا ، پری پروڈکشن ماڈل 186mph کی رفتار سے سفر کرنے اور صرف 600 میل سے زیادہ کی دوری کی پرواز کے قابل ہوگا۔

    فلائنگ کار کے موجد پروفیسر اسٹیفن کلین نے کہا: "یہ پرواز دوہری نقل و حمل کی گاڑیوں کے ایک نئے دور کا آغاز کرتی ہے۔ اس سے نقل و حمل کا ایک نیا زمرہ کھل جاتا ہے ۔

    کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

    ایئر کار کے پر اس کے دروازوں کے پاس فولڈ ہوتے ہیں اور اس صورت میں یہ کسی عام گاڑی کی طرح ہوتی ہے پروفیسر کلین نے خود یہ کار رن وے پر چلائی اور پھر اسے اڑا کر لے گئے۔

    پیر کی صبح انھوں نے اس تجربے کو ’نارمل‘ اور ’بہت خوبصورت‘ قرار دیا۔ ہوا میں اس گاڑی نے 170 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر لی تھی اس میں دو لوگ بیٹھ سکتے ہیں اور کل وزن کی حد 200 کلو گرام ہے۔

    مگر ڈرون ٹیکسی کے آزمائشی ماڈل کے برعکس، یہ ایئر کار سیدھا اوپر کی طرف اڑان نہیں بھر سکتی کیونکہ اسے اڑان بھرنے کے لیے رن وے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    سنہ 2019 میں کنسلٹنٹ کمپنی مورگن سٹینلی نے پیشگوئی کی تھی کہ سنہ 2040 تک اڑنے والی گاڑیوں کے شعبے کی مالیت 15 کھرب ڈالر تک جا سکتی ہے۔

    کلین وژن کے شریک بانی ، انتون زازاک نے مزید کہا: "ایئر کار اب صرف تصور کا ثبوت نہیں ہے… اس نے سائنس فکشن کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔”

    "ونڈ کیچر” ونڈ ٹربائن سے سالانہ 5 گنا زیادہ بجلی بنانے والا گرڈ سسٹم

    منگل کو ایک تقریب کے دوران ہنڈائی موٹرز یورپ کے چیف ایگزیکٹیو مائیکل کول نے کہا تھا کہ یہ خیال ’ہمارے مستقبل کا حصہ ہو گا، دہائی کے آخر تک اڑن کاروں کو شہروں میں تعینات کردیا جائے گا۔

    سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اور تاجروں کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کول نے کہا:اڑنے والی گاڑیوں کو اس لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کہ ان کی مدد سے موجودہ ٹریفک انفراسٹرکچر پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے "اگر آپ نے مجھ سے کچھ سال پہلے پوچھا ہوتا کہ کاریں اڑ رہی تھیں تو میں اپنی زندگی میں دیکھوں گا ، مجھے یقین نہیں آتا لیکن یہ جدید ، سمارٹ موبلٹی حل پیش کرنے کے ہمارے مستقبل کے حل کا حصہ ہے-

    ایئر کار کو بنانے والی کمپنی کلین ویژن نے کہا ہے کہ اس آزمائشی ماڈل کو بنانے میں دو سال لگے اور اس پر ’20 لاکھ یورو سے کم’ خرچ آیا ہے۔

    کلین ویژن کے معاون اور سرمایہ کار اینٹن ریجک کہتے ہیں کہ اگر یہ کمپنی عالمی فضائی سفر کا تھوڑا سا بھی حصہ لے لیتی ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی صرف امریکہ میں ایئر کرافٹ کے قریب 40 ہزار آرڈرز ہیں اگر ہم ان میں پانچ فیصد بھی مکمل کر لیں اور ایئر کرافٹ کو فلائنگ کار میں بدل دیں تو ہمارے ہاتھ بڑی مارکیٹ لگ جائے گی۔

    یونیورسٹی آف دی ویسٹ آف انگلینڈ میں ایوی ایشن کے ماہر ڈاکٹر سٹیفن رائٹ کہتے ہیں کہ ایئر کار ’بوگاٹی ویرن اور سیزنا 172 سے مل کر بنی ہے وہ کہتے ہیں کہ انھیں نہیں لگتا کہ ہوائی جہاز کے مقابلے ایسی کار سے ایندھن پر زیادہ خرچ آئے گا۔

    اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے بارے میں خفیہ امریکی رپورٹ کے کچھ حصے منظر عام پر…

    ڈاکٹر رائٹ کہتے ہیں کہ ‘مجھے ماننا پڑے گا کہ یہ بہت پُرکشش ہے۔ لیکن اجازت ناموں کے حوالے سے میرے سینکڑوں سوالات ہیں کوئی بھی ہوائی جہاز بنا سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسے ہوائی جہاز کی ضرورت ہے جو مسافروں کے ساتھ لاکھوں گھنٹوں تک اڑتا رہے اور جس میں حادثہ ہونے کے امکانات بہت کم ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے اس کاغذ کے ٹکڑے کا انتظار ہے جس پر لکھا ہو کہ اسے اڑانا اور بیچنا محفوظ ہے۔

  • خود احتسابی .تحریر: مزمل مسعود دیو

    خود احتسابی .تحریر: مزمل مسعود دیو

    بزرگ فرماتے ہیں کہ جب آپ کسی دوسرے کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں تو ذرا غور سے دیکھا کرو کیونکہ اسی ہاتھ کی تین انگلیاں تمہاری طرف اشارہ کررہی ہوتی ہیں اس لیے کسی کو وہ بات کہنے سےُپہلے تین بار سوچو کہ کہیں وہ بات جس پر تم انگلی اٹھا رہے ہو تمہارے اپنے اندر تو نہیں پائی جاتی پھر اگلے کو تلقین کرو ایسا نہ ہو کہ پھر بعد میں شرمندگی اٹھانی پڑے۔
    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے

    (لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ﴿٢﴾ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 61۔ الصف:2-3) کیوں تم وہ کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔

    ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس میں اکثریت کا کام دوسروں پر تنقید کرنا ہے لیکن وہی لوگ جب اس تنقید میں زد میں آتے ہیں تو بلبلا اُٹھتے ہیں کیونکہ انکے مطابق وہ معاشرے کے سب سے بہترین لوگ ہیں۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو جو انسان کسی دوسرے کی برائیاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے اس میں پہلے سے وہ برائی موجود ہوتی ہے کیونکہ کہیں نہ کہیں اس کے ذہن میں اس برائی کے خواص موجود ہوتے ہیں۔

    خود احتسابی مطلب اپنے آپ کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اور خود ہی ملزم، خود ہی وکیل اور خود ہی جج بن کر گنہگار اور بے گناہ کا فیصلہ کرنا۔ گنہگار ثابت ہونے پر اپنے آپ کو سدھارنا اور ان غلطیوں کو چھوڑنے کا ارادہ بنانا۔
    اکثر اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ گھر کے اندر باپ خود سگریٹ پیتا ہے۔ کئی لوگ نشہ کرتے ہیں، جوا، زنا جیسی غلط کاریوں میں ملوث ہوتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو ان سب سے منع کر رہے ہوتے ہیں۔ گھر کا بڑا ہونے کے ناطے تو درست ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ خود ان برائیوں میں ملوث ہوں اور دوسروں کو اس سے بچنے کا درس دیں۔ پہلے اپنے آپ کو ان برائیوں سے دور کریں اپنے بچوں اور معاشرے کے سامنے ایک نمونہ بنیں پھر آپکی بات کا دوسروں پر بہت گہرا اثر ہوگا۔
    سکول وکالجز میں زیادہ تو اساتذہ اپنے کلاس ٹائم میں بچوں کو نہیں پڑھاتے اور کل کے لیے ہوم ورک دے دیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ نوبت آجاتی ہے کہ وہ ہوم ورک بھی چیک نہیں کرتے اسطرح بچوں کے اندر اس استاد کا خوف ختم ہوجاتا ہے اور بچوں کے نزدیک ٹائم پاس کی حیثیت رہ جاتی ہے لیکن اگر آپ انکو دوبارہ کام پڑھنے کے لیے بولو تو اس بات کو ٹال مٹول کردیتے ہیں اس میں قصوروار بچے نہیں وہ استاد ہے جس نے اپنے آپ کو اس مقام تک پہنچایا۔ اگر وہی استاد اپنا محاسبہ کریں تو انہیں پتا چلے گا کہ انہیں جس کام کی تنخواہ ملتی تھی وہ کام انہوں نے سرانجام نہیں دیا اسلیے یہ نوبت آئی۔

    بہت سی ایسی مثالیں ہیں جو معاشرے کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں لیکن اگر ہر فرد، ادارہ اپنا اپنا محاسبہ کرے تو کوئی شک نہیں کہ بہت ساری برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔