Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یاجوج ماجوج. ‏تحریر : ماریہ بلوچ

    یاجوج ماجوج. ‏تحریر : ماریہ بلوچ

    یاجوج ماجوج کوئی الگ نسل نہیں ہے بلکہ یہ قوم حضرت نوح ع کی اولاد میں سے ہے۔حضرت نوح ع کے تین بیٹے تھے۔ان میں اک یافث تھا۔یافث کے بارہ بیٹے تھے۔ان بارہ بیٹوں میں سے دو کا نام یاجوج ماجوج تھا۔ انہی دو بیٹوں کے طفیل سے اک وحشی قوم کی نسل چلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں یاجوج ماجوج کا تذکرہ آتا ہے وہاں ذوالقرنین بادشاہ بھی ذکر لازمی آتا ہے کیونکہ یاجوج ماجوج کو پہاڑوں میں ہمیشہ کے لیے بند کرنے والہ یہی بادشاہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کہا جاتا ہے کہ ذوالقرنین بادشاہ ہمیشہ حالت سفر میں ہوتے تھے ۔اک دفعہ یہ بادشاہ ایک سلطنت میں پہنچے جہاں ترک آباد تھے۔یہ سلطنت آرمینا اور آذربائیجان کے قریب واقع ہے۔وہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک قوم آباد تھی جو ترک قوم کا قتل اور بربریت کے پہاڑ توڑتی تھی۔اور اپنی شر پسندی اور فتنہ انگیزی میں بہت مشہور تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ترک قوم اس وحشی قوم سے محفوظ ہونے کے لیے ۔اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنی ساری تکلیف سے ذوالقرنین بادشاہ کو آگاہ کیا۔ بادشاہ نے تب ترک قوم اور اپنے حواریوں سے مل کر ان دو پہاڑوں کے درمیانی راستے کو بند کرنے کا قدم اٹھایا۔ذوالقرنین نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے اس راستے پر رکھ دیے پھر ان کو نظر آتش کر کے ان کے اوپر پگھلا ہوا تانبا ڈالہ پھر اک ناقابل تسخیر دیوار سامنے آئ جو اب تک اپنی طاقت و توانائ سے قائم دائم ہے۔۔

    اس دیوار کی بلندی یاجوج ماجوج کی پہنچ سے بہت دور ہے اور اسے توڑنا اور اس میں سوراخ کرنا بھی اک ناممکن کام ہے۔اب یہ قوم ہماری دنیا سے ہمیشہ کے لیے کٹ گئ ہے۔کسی کو نہیں معلوم کہ اب ان کا طرز زندگی کیا ہے۔لیکن یہ بات کنفرم ہے کہ وہ دیوار توڑنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔وہ روزانہ دیوار سے سوراخ کرتے ہیں اور جب سوراخ ہونے کو ہوتا ہے ہے تو ان کا سردار انہیں واپسی کا حکم دیتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ باقی کام کل کریں گے۔۔۔۔

    یہ بھی زبان ذد عام ہے کہ جب اس قوم کے خروج کا وقت آئے گا تو ان کی زبان سے لفظ۔۔انشاءاللہ ۔جاری ہو گا جو کہ تا حال اللہ کریم نے ان سے انشاءاللہ کی توفیق چھین رکھی ہے۔جب یہ قوم انشاءاللہ کہ کر دیوار توڑنا شروع کرے گی تو دیوار ٹوٹ جائے گی۔۔

    یاجوج ماجوج قہر بن کر نکلیں گے۔ہر طرف تباہی پھیلا دیں گے۔کسی کی جرآت نہیں ہوگی کے اس قوم کا سامنا کر سکے۔اس قوم کا جو پہلا گروہ نکلے گا اس کے سامنے پانی کی جھیل آئے گی وہ جھیل کا سارا پانی پی جائے گا ۔دوسرا گرو آ کر کہے گا کہ کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا۔یہ قوم ہر طرف خون ریزی کر دے گی ہر سمت عذاب ہی عذاب ہو گا۔ہر طرف ف کرب وبلا کا منظر ہو گا۔اک وقت آئے گا جب ساری زمین پر یاجوج ماجوج کا قبضہ ہوگا۔پھر یہ قوم یروشلم کے پہاڑ پر پہنچے گی اور کہے گی۔اب ساری زمین پر ہمارا قبضہ ہے۔پھر آسمان کی طرف تیر برسا ئے گی تیر خون آلود ہو کر واپس آئیں۔گی اس وقت حضرت عیس ع کا نزول بھی ہو چکا ہو گا۔ اور دجال قتل ہو چکا ہو گا۔

    ۔عیسی ع کو خبر دی جائے گی ۔کہ یاجوج ماجوج نکل چکے ہیں۔جس کے مقابلہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔اس طرح عیسی ع اس وحشی قوم کی یلغار میں آئیں گے۔اور ان کو شکست دینے میں ناکام ہونگے۔ہزار میں سے نو سو آدمی اس قوم کے ساتھ جڑتے جائیں گے۔ آخر کار عیسی ع ساتھیوں سمیت کوہ طور پر چلے جائیں اور یاجوج ماجوج سے چھٹکارے اور ان کے شر سے پناہ کی اللہ کریم سے دعا کریں گے۔ عیسی ع کی دعا قبول ہو گی۔

    اللہ کریم یاجوج ماجوج کی گردن پر مخصوص قسم کا کیڑا پیدا کریں۔وہ کیڑا یاجوج ماجوج کی ہلاکت کا سبب بنے گا ۔ہر طرف اس وحشی قوم کی لاشیں ہی لاشیں ہوں گی۔جو بدبو پھیلا رہی ہوں گی ۔پھر خاص قسم کے پرندے آئیں جو ان لاشوں کو وہان لے جائیں گے جہاں حکم خدا وندی ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔ . ۔۔۔۔۔۔۔۔

    یاجوج ماجوج کا قصہ تمام ہونے کے بعد۔پھر تیز بارش ہو گی۔زمین صاف شفاف ہوگی۔برکتوں کا زمانہ لوٹے گا۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوگی۔پھل اس قدر ہوں گے کہ اک انار بہت سے لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔مویشیوں کا دودھ پوری بستی کے لیے کافی ہو گا۔اس کے سات سال تک سکون رہے گا۔پھر وہ دن آن پہنچے گا۔جس کا ہمارے رب نے وعدہ کر رکھا ہے۔پھر توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا

    نوٹ : اگر تحریر میں کوئی غلطی ہوئی تو اس کے لئے پیشگی معزرت

  • مڈل کلاس پاکستانی کی زندگی، تحریر: عنقودہ

    مڈل کلاس پاکستانی کی زندگی، تحریر: عنقودہ

    ‏آپ گاڑی کسی مکینک کی ورکشاپ پر کھڑی کرجاتے ہیں لیکن باقی وقت اسی غم میں گذرجاتا ہے کہ پتہ نہیں وہ انجن کی اوورہالنگ کے 40000 میں سے کتنے پیسے لگائے گا اور کتنے اپنی جیب میں ڈالے گا، کمپوننٹ اوریجنل ڈالے گا یا نقلی کوالٹی کے ڈالے گا، سامان پرانا ڈال دے گا، یا ڈالے گا ہی نہیں۔۔
    آپ گاڑی کسی رشتہ دار کے گھر کے ساتھ گلی میں کھڑی کرجاتے ہیں لیکن ساری رات اسی ٹینشن میں گذرجاتی ہے کہ پتہ نہیں کوئ اڑا ہی نہ لے جائے، کوئ ٹائر ہی نہ کھول لے جائے۔۔
    کسی الیکٹرانک شاپ سے کوئ چیز خریدتے وقت اچھی اور بری کوالٹی کا سیاپا ہی رہتا ہے…
    شوز کی کسی شاپ سے بھی اچھے اور برے مال پر تول مول چلتا رہتا ہے…
    کپڑے لیتے وقت دکان دار سے صرف اس غرض سے دوستی بڑھائ جاتی ہے کہ کہیں وہ خراب کوالٹی کا کپڑا اچھی کوالٹی کا بول کے نہ دے دے۔۔ اس سے خوامخواہ میں ڈاک خانہ ملایا جاتا ہے، یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ہم پہلے بھی آپکی شاپ سے اتنا کپڑے لے کر گئے ہیں ، اگلی بار اور گاہک بھی لائیں گے لیکن پلیز ہمیں کپڑ ا اچھی کوالٹی کا دینا اور پیسے بھی کم لگانا۔۔۔۔
    رشتہ لیتے وقت بھی یہی ٹینشن رہتی ہے کہ پتہ نہی دوسرا فریق کتنی غلط بیانیاں کررہا ہوگا۔ لڑکی کیسی ہوگا، لڑکا کیسا ہوگا، نشہ تو نہیں کرتا۔۔ کاروبار کیا ہے؟ پہلے سے شادی شدہ تو نہیں؟ وغیرہ وغیرہ

    کہیں پلاٹ لے لیا تو اسکی ہزار دفعہ چھان بین کریں گے۔۔ سب یہی مشورہ دیں گے کہ جلدی سے پلاٹ کی نشانیاں لگا لو, چاردیواری پھیر لو ایسا نہ ہو کہ کوئ قبضہ ہی کرلے.
    مکان کرائے پر دیتے وقت کرائے دار سے بھی یہی مطالبہ ریتا ہے کہ بھائ وقت پر خالی کردینا اور قبضہ نہ کرلینا..
    مکان بنواتے وقت ہر وقت ٹھیکے دار کے سر پر کھڑا رہنا پڑتا ہے ورنہ یہی پریشانی رہتی ہے کہ پتہ نہیں وہ میٹریل کس کوالٹی کا استعمال کرتا ہوگا. شارٹ کٹ تو نہیں لے رہا..
    کوئ قریبی جاننے والا پیسے مانگ لے تو آپ پیسے ہوتے ہوئے بھی اس سے جان چھڑالیتے ہیں کیونکہ آپ کو یہی خدشہ ہوتا ہے کہ یہ میرا پچاس ہزار اگلے پانچ سالوں میں بھی نہیں لوٹائے گا، اسکے پیچھے ذلیل ہونا پڑے گا۔۔ 50 ہزار کے وہ پچاس ٹکڑے کرکے واپس کرے گا، چونیاں اٹھنیاں آپکے کام کے کسی کام نہ آئیں گی ۔۔
    ریڑھی والے کے سر پر بھی کھڑے ہوجاؤ کہ ٹماٹر اچھے ڈالنا لیکن وہ پھر بھی ڈنڈی مارجائے گا..
    قصائ سے گوشت لیتے وقت بار بار زبان ہونٹوں پر پھیری جاتی ہے کہ پتہ نہیں یہ گوشت بکرے کا ہے یا گدھے گا….
    بازار میں جاؤ تو ایک ہاتھ جیب پرہی رہتا ہے کہ کہیں کوئ پاکٹ نہ مارلے۔۔۔

    ٹرین میں سفر کررہے ہیں تو سامان پر نظر رکھنے کے لیے ایک بندے کو جاگ کر رہنا پڑتا ہے. ۔۔
    تھانے، کچہری کا چکر خدا کسی کو نہ لگوائے اور کوئ تھانے کچہری کے چکر میں پڑہی گیا تو بے گناہ ، مظلوم اور مدعی ہونے کے باوجود عزت بھی جاتی ہے، پیسہ بھی جاتا ہے اور وقت بھی۔۔
    آپ جس جس شعبہ زندگی پر نظر ڈالتے جائیں یہی کہانیاں ملیں گی.. میں یہ نہیں کہتی کہ سب لوگ ایک جسے ہیں لیکن یہ تناسب 80 اور 20 کا رہتا ہی ہے
    ایک مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس پاکستانی اس چکی میں ہمشہ پستا ہی رہتا ہے
    ہمارا مجموعی معاشرہ بھی اسی منافقت. مفاد پرستی. لالچ ,جھوٹ اور بے حسی پر مشتمل ہے جبکہ ہر دوسرا آدمی ان باتوں کا گلہ بھی کرتا ہے اور خود ہی ا ن خرابیوں میں حصہ دار بھی ہوتا ہے۔“

  • وادی کھلانہ کا منظرنامہ! تحریر: زوہیب زاہد خان

    وادی کھلانہ کا منظرنامہ! تحریر: زوہیب زاہد خان

    آزادکشمیر میں میں الیکشن 2021 کو چند روز باقی رہے گئے ہیں. تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواران الیکشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ آزادکشمیر کے تمام انتخابی حلقے سیاسی گہما گہمی جاری ہے۔

    لیکن ان تمام حلقوں میں اہم ترین حلقہ LA – 32 حلقہ نمبر 6 ہے۔ اسکی اہمیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کا آبائی حلقہ ہے۔ یہ حلقہ مظفرآباد ڈویژن میں ہے اور ضلع جہلم ویلی (ہٹیاں بالا) میں ہے۔

    اس حلقے کی اہم ترین یونین وادی کھلانہ ہے۔ وادی کھلانہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پاکستان کے پہلے نشان حیدر پانے والے فوجی کیپٹن سرور شہید وادی کھلانہ کی بلند پہاڑی ” تلپترا ” کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔ اس اعتبار سے وادی کھلانا آزادکشمیر کی تاریخ میں اہمیت کی حامل ہے۔
    اسکے ساتھ وادی کھلانہ آزادکشمیر کے دو بڑے ڈویژن یعنی کہ پونچھ ڈویژن اور مظفرآباد ڈویژن کا سنگم بھی ہے۔ وادی کھلانہ لائن آف کنٹرول پر واقع پاکستان کی خوبصورت ترین وادی ہے.

    وادی کھلانہ کی مجموعی آبادی تیس ہزار سے زائد ہے۔ یہ حلقہ 6 یعنی LA – 32 کی سب سے بڑی یونین کونسل ہے۔

    وادی کھلانہ میں بظاہر BHU یعنی بیسک ہیلتھ یونٹ موجود ہے لیکن وہاں ناکافی سہولیات ہیں۔ وادی کھلانہ میں ہمہ وقت میڈیکل اسٹاف کی ضرورت ہے۔ اسکے ساتھ آپریشن آلات اور تمام میڈیکل سہولیات کی ضرورت ہے۔ صحت کے ناقص انتظامات کی وجہ سے مریضوں کو شہر لے جانا پڑتا ہے۔ آج تمام امیدواروں کو ووٹ کی ضرورت ہے لیکن ان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ عوام کو بھی صحت کی بنیادی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔

    وادی کھلانہ میں بظاہر گورنمنٹ میڈیکل سائنس کالج موجود ہے لیکن ابھی تک کالج کی عمارت کا سرے سے ہی کوئی وجود نہیں ہے۔ کالج کا عارضی انتظام مڈل اسکول کی انتظامیہ کے تعاون سے مڈل اسکول کی عمارت میں چلایا جارہا ہے۔ بیچارے طلباء تعلیم کیلئے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کو سوچنے کی ضرورت ہے آپ کے بچے تو VIP اسکولوں اور اعلی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرلیتے ہیں لیکن وادی کھلانہ کی غریب عوام کے بچے کہاں تعلیم حاصل کریں گے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی حکومتیں گزشتہ دس سالوں سے آزادکشمیر میں برسرِ اقتدار تھیں۔ ان حکومتوں کے جھوٹے دعوئوں کے باوجود آج تک سائنس کالج کی عمارت نہیں بن سکی ہے۔ تعلیم عوام کی بنیادی ضروریات میں ایک اہم ترین ضرورت ہے۔

    وادی کھلانہ میں آمد و رفت کیلئے اگرچہ پختہ سڑک بن چکی ہے لیکن ناقص میٹریل کی وجہ سے روڈ کی حالت بھی دن بدن ناقص ہوتی جارہی ہے۔ یونین کونسل کی مرکزی شاہراہ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ وادی کھلانہ کی عوام کا بنیادی مطالبہ ہے کہ موجودہ سڑک کی توسیع کی جائے تاکہ بسیں اور ٹرک کی رسائی کھلانہ کی عوام تک ہو۔ تاکہ ٹیکسی مالکان کے من مانے کرائے سے عوام کی جان چھوٹے۔

    وادی کھلانہ میں محکمہ زراعت کا دفتر تو موجود ہے لیکن کئی سالوں سے بند ہے۔ کوئی اسٹاف موجود نہیں ہے۔ خالی اور ویران عمارت محکمہ زراعت آزادکشمیر کی توجہ کی منتظر ہے۔

    وادیِ کھلانہ میں محکمہ برقیات کا دفتر موجود ہے۔ محکمہ برقیات کا دفتر قبرستان کے درمیان میں واقع ہے مگر کئی سالوں سے بند اور ویران پڑا ہے۔ محکمہ برقیات آزادکشمیر کی بے حسی اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    وادی کھلانہ چونکہ پہاڑی علاقہ ہے۔ برساتی نالوں کی بہتات ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں نے آج تک کوئی بڑا پل یونین کونسل کو نہیں دیا۔ کچھ دن قبل ایک برساتی نالے میں طغیانی کی وجہ سے تین بچے اور ایک خاتون بہہ گئیں جنکی ڈوبنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ یہ سب موجودہ اور گزشتہ حکومتوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔

    جناب عزب ماب وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر صاحب! آپ کا سب سے بڑا ووٹ بنک وادی کھلانہ ہے۔ آپ پانچ سال سے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہیں۔ آپ نے وادی کھلانہ کو آج تک ایک پل بھی نہیں دیا۔ افسوس کی بات ہے۔

    وادی کھلانہ میں مواصلات کی اشد ضرورت ہے۔ بظاہر ایس سی اور ٹیلی فون لینڈ لائن سروس گزشتہ پندرہ سالوں سے بخوبی کام کررہی ہے۔ لیکن دور حاضر کے تقاضوں کو مدنظررکھتے ہوئے صرف ٹیلی فون سروس پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج وادی کھلانہ کی عوام کو موبائل سروس کی ضرورت ہے۔
    وادی کھلانہ کی عوام کا اپنے امیدواروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ یونین کونسل کھلانہ میں SCOM کی موبائل سروس اور انٹرنیٹ سروس فراہم کی جائے۔ حکومت وقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے موبائل سروس اور انٹرنیٹ سروس ہماری اہم ترین ضرورت ہے۔

    وادی کھلانہ کی عوام پاکستان تحریک انصاف کی ممکنہ حکومت سے مطالبہ کرتی ہے ہمیں تمام بنیادی سہولیات کی فراہم کی جائیں اور وادی کھلانہ کے ساتھ کی جانے والی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔ (جزاک الله)

    Zohaib Zahid Khan
    Media Coordinator
    ‎IYW Pakistan for (AJK)

  • حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ.تحریر: مزمل مسعود دیو

    حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ.تحریر: مزمل مسعود دیو

    بلال تجھ پر نثار جاؤں کہ خود نبی نے تجھے خریدا
    نصیب ھو تونصیب ایسا غلام ھو تو غلا م ایسا

    آپ کا پیدائشی نام بلال، کنیت ابوعبداللہ تھی۔ والد کا نام رباح اوروالدہ کانام حمامہ تھا، آپ حبشی نژاد غلام تھے اور آپ کی پیدائش مکہ ہی میں پیدا ہوئے، بنی جمح کے غلام تھے۔ آپ کا قد نہایت طویل، جسم چست، رنگ نہایت گندم گوں بلکہ سیاہی مائل، سر کے بال نہایت گھنے خمدار اور اکثر سفید تھے۔

    حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب صرف سات آدمیوں کو اس کے اعلان کی توفیق ہوئی تھی جس کی وجہ سے طرح طرح کے مظالم سے ان کے استقلال واستقامت کی آزمائش ہوئی، کبھی تپتی ہوئی ریت پر ننگے بدن لٹایا گیا تو کبھی جلتے ہوئے سنگریزوں اوردہکتے ہوئے انگاروں پر لٹائے گئے۔ ابوجہل ان کو منہ کے بل سنگریزوں پر لٹا کر اوپر سے پتھر کی چکی رکھ دیتا اورجب آفتاب کی تمازت بیقرار کردیتی تو کہتا، بلال اب بھی محمد ﷺ کے خدا سے بازآجا لیکن اس وقت بھی دہن مبارک سے یہی کلمہ احد احد نکلتا۔

    ایک دن بلال کو ایسی ہی اذیتیں دی جا رہی تھیں کہ ادھر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گذر ہوااور حضرت بلال کی قسمت کا ستارہ چمک گیا۔ آپ سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ پر یہ ظلم برداشت نہ کرسکے۔ لہذا سیدنا ابوبکر سے کہا کہ وہ بلال کو اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر نے امیہ بن خلف کو بلال کی منہ مانگی قیمت ادا کرکے خریدا، پھر آزاد کر دیا۔ ایک روایت کے مطابق یہ قیمت ایک کلو سے زائد چاندی تھی۔اس آزادی کے بعد پھر حضرت بلال نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در کی غلامی کرلی اور اتنا اعلی مقام پایا کہ اللہ کے حبیب نے کہا کہ جب میں معراج پر گیا تو میں نے بلال کے قدموں کی آہٹ جنت میں سنی۔جب ہجرت ہوئی تو مکہ سے نبی پاک کے ساتھ مدینہ چلے گئے۔

    حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ تمام مشہور غزوات میں شریک تھے، غزوۂ بدر میں انہوں نے امیہ کو تہِہ تیغ کیا جو اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اورخود ان کی ایذارسانی میں بھی اس کا ہاتھ سب سے پیش پیش تھا۔

    اسلام کے پہلے مُؤذن کا اعزاز بھی حضرت بلال کے پاس ہے۔حضرت بلال سب سے پہلے شخص ہیں جو اذان دینے پر مامور ہوئے۔سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھانے پینے کا انتظام بلال کے سپرد ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ایک بار حضرت عمر کے اصرار پر جب بیت المقدس فتح کیا تو اذان کہی۔ اس روز اذان میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام آیا تو غش کھا کر گر پڑے۔ حضرت بلال کی آواز نہایت بلند وبالا ودلکش تھی، ان کی ایک صدا توحید کے متوالوں تک پہنچتی، مرد اپنا کاروبار، اوربچے کھیل کود چھوڑ کرمسجد میں جمع ہوجاتے تو نہایت ادب کے ساتھ آستانہ نبوت پر کھڑے ہوکر کہتے یارسول اللہ نماز تیار ہے، غرض آپ تشریف لاتے اوربلال اقامت کہتے اہل ایمان سربسجود ہونے کے لیے صف بصف کھڑے ہو جاتے۔
    فتح مکہ کے دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال سے کہا کہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہوکر اذان پڑھو۔ حضرت بلال نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منہ کس طرف کروں تو
    نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جدھر جدھر میں جاؤں تم بھی اسی طرف گھوم جانا اس طرح اذان مکمل کی۔

    نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پردہ پوشی کے بعد شام کے شہر حلب چلے گئے، کہتے تھے اب مدینہ میں دل نہیں لگتا۔ ایک رات خواب میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ نے فرمایا بلال ایسی بھی کیا بے رخی ہمیں ملنے کیوں نہیں آتے۔ صبح ہوتے ہی شہر نبی کی جانب روانہ ہو گئے جونہی حضرت بلال کی اونٹنی مدینہ شریف داخل ہوئی شہر بھر میں شور مچ گیا مؤذن رسول آگئے۔ آپ سیدھے قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گئے لپٹ کر زارو قطار روئے اور کہنے لگے یارسول اللہ میں آگیا۔
    نماز کاوقت ہوا تو صحابہ نے اصرار کیا کہ اذان دیں تو آپ نے منع کردیا آخرکار حسنین کریمین کے اصرار پر راضی ہوئے اور اذان شروع کی۔ حضرت بلال نے اللہ اکبر کہا تو مدینہ شریف میں کہرام مچ گیا لوگ گلیوں میں روتے ہوئے مسجد نبوی کی جانب چلنے لگے۔ جب اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو منبر رسول کی جانب نگاہ کی ۔ منبر رسول خالی دیکھا تو غش کھا کر گر گئے۔ یہ حضرت بلال کی زندگی کی آخری اذان تھی۔

    کہتے ہیں کہ جب آپکے وصال کا وقت قریب آیا تو نئے کپڑے سلوائے اور سرمہ لگایا۔ لوگوں نے پوچھا آج کیا بات ہے تو کہنے لگے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کا وقت جو آگیا ہے۔ 20 محرم سن 20 ہجری کو یہ ماہتاب عشق نبوی غروب ہوگیا۔دمشق کے محلہ باب الصغیر میں آپ ؓ نے وفات پائی، اس وقت عمر تقریبا تریسٹھ برس تھی۔ آپ کا مزار دمشق میں ہے۔

  • سینکڑوں سال قبل مسلمانوں کے بنائے ہزاروں مقبروں میں کہکشانی جھرمٹوں جیسی پراسرار ترتیب کا انکشاف

    سینکڑوں سال قبل مسلمانوں کے بنائے ہزاروں مقبروں میں کہکشانی جھرمٹوں جیسی پراسرار ترتیب کا انکشاف

    مشرقی سوڈان کے علاقے ’کسنا‘ میں 4100 مربع کلومیٹر پر سینکڑوں سال قبل مسلمانوں کے بنائے ہوئے ہزاروں مقبروں میں کہکشانی جھرمٹوں جیسی پراسرار ترتیب کا انکشاف ہوا ہے-

    باغی تی وی :لائیو سائنس کی رپورٹ کے مطابق 10 ہزار سے زیادہ کی تعداد میں یہ چھوٹے بڑے مقبرے کم از کم پانچ سو سال پرانے ہیں جو ’کسنا‘ میں ایک بہت وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیںان مقبروں میں دو طرح کی ساخت زیادہ نمایاں ہے ٹیومیولس اور قبہ ۔

    ٹیومیولس ایک عام کچی قبر جیسی ساخت ہوتی ہے جو ارد گرد کی سطح زمین سے کچھ بلند ہوتی ہے جبکہ ’قبہ‘ میں مقبرے کی چاردیواری اور چھت بھی ہوتی ہے جس پر گنبد موجود ہوتا ہے۔

    اتنے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ان ہزاروں مقبروں میں بظاہر کوئی ترتیب نہیں لیکن اٹلی کی نیپولی یونیورسٹی میں افریقہ اور بحیرہ روم کے آثارِ قدیمہ کے ایک ماہر اسٹیفانو کونسٹانزو کو چند سال پہلے شبہ ہوا کہ شاید اس بے ترتیبی میں بھی کوئی ترتیب ہے۔

    زمین پر نظر رکھنے والے مصنوعی سیارچوں سے لی گئی تفصیلی تصویروں کی مدد سے انہوں نے اس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے مقبروں کا مجموعی نقشہ مرتب کیا جس میں ہر نقطہ ایک مقبرے کو ظاہر کرتا تھا۔ یہیں سے ان مقبروں میں ترتیب کی جھلکیاں نمایاں ہونے لگیں۔

    اپنے برطانوی اور سوڈانی تحقیق کار ساتھیوں کی مدد سے انہوں نے ایک خاص تکنیک استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جسے ’’نیمین اسکاٹ کلسٹر پروسیس‘‘ کہا جاتا ہے۔

    ’’نیمین اسکاٹ کلسٹر پروسیس‘‘ استعمال کرنے پر ہونے والا انکشاف خود ان ماہرین کےلیے بھی حیرت انگیز تھا: تمام مقبروں کی ترتیب کہکشانی جھرمٹوں جیسی تھی یعنی درمیان والے مقبروں کا ایک جھرمٹ اور اس کے گرد پھیلے ہوئے مقبروں کے مزید جھرمٹ جنہیں بعد کے زمانوں میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    اس ترتیب کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ درمیان والے مقبرے غالباً زیادہ اہم اور ’’مقدس‘‘ ہستیوں کے ہیں جبکہ ان کے ارد گرد پھیلے ہوئے چھوٹے مقبرے، ان ہستیوں سے عقیدت رکھنے والوں کے ہیں۔

    اس طرح یہ ترتیب بالکل ویسی ہوگئی ہے جیسی کسی کہکشاں میں ستاروں کے جھرمٹوں کی، یا پھر کہکشاؤں کے جھرمٹوں میں ہوتی ہے –

    اتنا سب کچھ معلوم ہوجانے کے باوجود، ماہرین یہ نہیں جان پائے ہیں کہ آخر یہ مقبرے اس پراسرار کائناتی ترتیب ہی میں کیوں تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کےلیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے جو شاید ایک طویل عرصے میں مکمل ہوسکے۔

  • سنہرا پیکج.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    سنہرا پیکج.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    اللہ رب العزت اپنے بندے سے بہت محبت کرتا ہے. اللہ اپنے بندے کو اپنے قریب کرنے کے مواقع فراہم کرتا رہتا ہے. دوماہ قبل رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہمیں عطاء کیا. کمال کا لازوال پیکج تھا. ہم نے رب کو منایا, مناجات کیں, نیک و صالح اعمال کئے لیکن اللہ کہتا ہے میرے بندے بس تو اتنے میں ہی راضی ہوگیا .نہیں بلکہ دس دن کا تجھے مزید پیکج دے رہا ہوں . تو جی ہاں ذی الحجہ کا بابرکت مہینہ آن پہنچا ہے. کل ذی الحجہ کا پہلا دن ہوگا. لیکن سنئے تو سہی انعامات کون سے ہیں.. پیکج میں کیا کیا اللہ نے ہمیں دیا ہے. سب سے پہلے تو اللہ رب العزت ان ایام کی قسمیں کھاتا ہے. اللہ رب العزت سورۃ فجر میں قسم کی دس راتوں کی قسم کھاتے ہیں. تفسیر طبری میں لکھا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن دس راتوں کی قسم کھائی ہے ,یہ ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں. پھر ان ایام میں نیک اعمال کرنے والے کے لیے بڑے بڑے انعامات ہیں. ان ایام میں ہر عمل کا دہرا اجر ہے. صحیح بخاری کی حدیث ہے, حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں کیے گئے اعمالِ صالحہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام ایام میں کیے گئے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہیں۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اگر ان دس دنوں کے علاوہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے تب بھی؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں! تب بھی اِن ہی اَیام کا عمل زیادہ محبوب ہے، البتہ اگر کوئی شخص اپنی جان و مال دونوں چیزیں لے کر جہاد میں نکلا اور ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی واپس نہ ہوا (یعنی شہید ہوگیاتو یہ افضل ہے)۔اسی طرح اس بابرکت مہینے میں عرفات کا دن بھی اہمیت کا حامل ہے. عرفہ کے دن کی بھی اللہ نے قسم اٹھائی .عرفہ کے دن کے روزے کی بھی بہت اہمیت ہے. حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:”مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ وہ یوم عرفہ کے روزے رکھنے کی صورت میں گزشتہ سال اور اگلے سال کے گناہ بخش دے گا۔اسی مہینے میں سب سے بڑا عمل حج ہے. لیکن کورونا کی عالمی وباء کی وجہ سے کروڑوں مسلمان اس عمل سے محروم ہیں, اللہ رب العزت حالات کو صحیح کرے تاکہ ایک بار پھر حرم کی رونقیں بحال ہوں.

    اسی ماہ مقدس میں سب اہم فریضہ اسوہ ابراہیمی پر عمل پیرا ہونا ہے. قربانی کا وہ عظیم دن ہے جس دن سب جانوروں کی گردنوں پر چھری پھیر کر اپنی انا کو قربان کرتے ہیں. اسماعیل علیہ السلام کی یادگار اطاعت و فرمانبرداری کی سنت کو دہراتے ہیں.
    باقی اس ماہ مقدس میں زیادہ سے زیادہ ذکر و اذکار کو ترجیح دیں.تکبیرات پڑھیں .ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما عشرہ ذوالحجہ میں بازار جا کر تکبیرات کہتے، تو لوگ بھی انکی تکبیروں کے ساتھ تکبیرات کہتے۔ عمر بن خطاب، آپکے صاحبزادے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منی کے دنوں میں مسجد، اور خیمہ ہر جگہ بلند آواز سے تکبیرات کہتے، حتی کہ پورا منی تکبیروں سے گونج اٹھتا۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ ساتھ متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن [9 ذوالحجہ]کی نماز فجر سے لیکر 13 ذوالحجہ کی عصر تک پانچوں نمازوں کے بعد تکبیرات کہتے تھے، یہ عمل ان لوگوں کیلئے ہے جو حج نہیں کر رہے.

    قارئین! ایک ڈائری یا نوٹ بک لے لیجئے اور ایک ترتیب سے لکھ لیجئے کہ ہم نے اپنے ان دس ایام کو کس طرح سے بہتر بنانا ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے دے کہ ہم اپنے ان ایام کو بابرکت بناسکیں اور ہمارا یہ پیکج بھی رمضان کے پیکج کی طرح مقبول پیکج ثابت ہو.

  • افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان. تحریر: نوید شیخ

    افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان. تحریر: نوید شیخ

    کہا جاتا ہے کہ افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان ہے۔ جہاں برطانیہ اور روس نے شکست کھائی اور اب امریکہ کو ذلت آمیز شکست ہوئی ۔

    ۔ روس افغانستان سے ناراض ہے کہ ان کی وجہ سے سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ برطانیہ انہیں معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ افغانوں نے انہیں عبرتناک شکست دی تھی اور جب انگریز تاریخ کی کتابوں میں اس عظیم برطانوی سلطنت کا تذکرہ پڑھتے ہیں جس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا تو وہ یہ پڑھ کر شرمندہ ہوتے ہیں کہ افغانوں نے انہیں ذلت آمیز شکست دی تھی۔ وہ بھی افغانوں کو نفسیاتی طور پر معاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اب امریکہ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد افغانستان سے رخصت ہو رہا ہے تو اسے خوب علم ہے کہ تاریخ اسے کن الفاظ میں یاد کرے گی۔ ۔ مگر امریکیوں کی ایک عادت ہے they are good manuplitators
    اب یہ توصاف پتہ چل گیا ہے کہ افغان حکومت کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ نہ ہی وہ کسی قابل ہیں کہ طالبان کا مقابلہ کر سکیں ۔ ان کی تو اپنی حالات یہ ہے کہ جتنی بھی ان کی 2 سے 3 لاکھ سیکورٹی فورس ہے ۔ اسکی تنخواہ اور دیگر اخراجات بھی امریکہ بہادر اٹھاتا رہا ہے ۔ اور اگر آج امریکہ یہ پیسہ دینا بند کردے تو ۔ شاید اشرف غنی اور افغان حکومت صرف دو سے تین ماہ ہی اپنی نکمی فوج کو تنخواہ دے سکیں ۔

    ۔ اب اس تمام صورتحال میں آپ دیکھ بھی رہے ہوں گے اور سن بھی رہے ہوں گے کہ امریکہ کی جانب سے رپورٹس بھی منظر عام پر آرہی ہیں ۔ امریکہ صدر جوبائیڈن بھی کہہ رہے ہیں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بھی بتا رہا ہے کہ افغان حکومت سمتبر کے بعد شاید بمشکل چھ ماہ بھی نہ چل سکے ۔ ۔ اب ایسا نظر آنا شروع ہوچکا ہے کہ امریکی افغانستان کو جان بوجھ کر ”لڑو اورمرو“ والی صورتحال میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ افغانستان تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ افغان طالبان کو یقین ہے کہ ان کا جوش و جذبہ انہیں فتح سے ہمکنار کرے گا۔۔ جبکہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو صورتحال کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ اپنی حکومت کو قانونی اور آئینی قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ طالبان کو ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور شرکت اقتدار کی کوئی ایسی صورت نکالنی چاہیے جس میں ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

    ۔ مگر سچ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو فورسز کی قوت کے بل پر ہی قبضے کے بعد افغانستان میں حامد کرزئی اور اشرف غنی وغیرہ کی حکومتیں بنیں۔ یعنی ان کو جبری طور پر قابض طاقتوں کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا۔ یہ حکومتیں کسی جمہوری طریقے سے اقتدار میں نہیں آئی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ۔ اس وقت بھی ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کی کیا حیثیت ہے؟ ۔ ان کے انتخابات میں ووٹوں کا کتنا ٹرن آؤٹ تھا؟۔ اس وجہ سے یہ کہنا کہ جو حکومت طاقت کے ذریعے آئے گی، اس کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتا ۔

    ۔ دوسری طرف اب یہ دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ امریکہ کا خیال ہے کہ جس نے بھی حکمران بننا ہے بن جائے جو بھی فیصلہ ہونا ہو جائے ۔ اور اگر طالبان حکومت قائم بھی کرتے ہیں تو وہ ڈالروں کے ذریعے اسے کنٹرول کر لے گا۔ کیونکہ امریکہ کا ماننا ہے کہ موجودہ افغان حکومت کی طرح طالبان حکومت کو بھی امریکی امداد کی ضرورت ہو گی۔ یعنی اگر طالبان انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرتے خاص طور پر عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں تو انہیں امداد دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ گویا امریکی جو مقاصد اسلحہ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکے تھے وہ اب ڈالروں کے ذریعے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    ۔ یقیناً پورا افغانستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ایک فیصلہ کن مرحلہ اب آنے والا ہے۔ یہ مرحلہ ایک سال میں آتا ہے یادو سال میں، یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ افغانستان میں بالآخر طالبان حاوی ہو جائیں گے۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے قدم بڑھا رہے ہیں۔ انہیں کابل پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے، ابھی بتانا ممکن نہیں ہے۔

    ۔ ویسے افغان طالبان نے تو ملک کے 85 فیصد حصے پر کنٹرول کا دعویٰ کردیا ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے حالیہ تبصرے کے جواب میں کہا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو دو ہفتوں میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ ۔ اس لیے اب افغانستان میں امن، مذاکرات کے ذریعے نہیں آئے گا، بلکہ جنگ کے ذریعے ہی آئے گا۔ آج جب آپ زمینی حالات کو دیکھتے ہیں تو یہ بات ٹھیک ہی معلوم ہوتی ہے۔۔ اچھی چیز یہ ہے کہ طالبان کو اس بات کا ادراک ہے کہ وہ اکیلے ملک پر حکومت نہیں کر سکتے۔ لہٰذا حکومت میں تاجک، ازبک اور ہزارہ شراکت ضرورت ہے اور سب سے امید افزا بات اس مرتبہ یہ ہے کہ پاکستان، ایران، چین اور روس کی افغانستان کے بارے میں سوچ میں مطابقت ہے۔ 1996ء میں یہ صورت حال نہیں تھی۔۔ اسی لیے امریکہ کے ساتھ ساتھ روس، چین، ایران اور ترکی نے بھی طالبان سے روابط بڑھائے ہیں۔

    ۔ اس تناظر میں دیکھیں تو طالبان رہنماؤں نے اپیل کی ہے کہ افغانستان میں موجود بین الاقوامی امدادی تنظیمیں کام جاری رکھیں، بین الاقوامی انسانی حقوق گروپس مشن بند نہ کریں۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ طالبان چین کو افغانستان کا دوست سمجھتے ہیں ، امید ہے کہ ملک کی تعمیر نو کیلئے جلد بیجنگ کیساتھ بات ہو گی ۔ اگر چینی سرمایہ کار اور ورکرز واپس آتے ہیں تو انہیں سکیورٹی کی ضمانت دیں گے ،چینیوں کی سکیورٹی ہمارے لئے بہت اہم ہے ۔ چین کیساتھ بات چیت ضروری ہے ، ہم نے کئی بار چین کا دورہ کیا، چین کیساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ اور افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی کیلئے دوست چین کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔

    ۔ ایغور جنگجوؤں کے ذکر پر انہوں نے کہا کہ طالبان انہیں افغانستان میں پناہ نہیں دیں گے ،طالبان دوحہ معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے القاعدہ سمیت کسی دہشت گرد گروپ کو افغانستان میں قیام اور افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے زیر کنٹرول اضلاع کے سکول کھلے ہیں اور وہاں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنیکی اجازت ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے مالی معاونت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زیر کنٹرول علاقوں کے ملازمین کو کابل حکومت نے تنخواہیں ادا کرنا بند کر دی ہیں۔ ۔ آپ دیکھیں ماسکو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی طالبان کے وفد نے یہ بات کہ ہے کہ ہمارا مقصد افغانستان کو غیرملکی تسلط سے آزاد کرانا تھا،افغانستان میں کئی دارالحکومتوں کا محاصرہ جاری ہے،افغان فورسز کی بڑی تعداد ہمارے ساتھ مل رہی ہے۔

    ۔ اسی کانفرنس میں طالبان رہنماؤں شہاب الدین دلاور اور سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان کے تمام سرحدی علاقے اس وقت طالبان کے زیر اثر ہیں۔ ملک میں نیا نظام لانے کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے ، جس کے لئے افغانستان کی کئی شخصیات کے ساتھ بات چیت جاری ہے ، ایسا نظام تیار کرنا چاہتے ہیں جو اسلامی تعلیمات اور افغان روایات کے اتحاد پر مبنی ہو، دنیا کیلئے قابل قبول معاہدہ لائیں گے ، طالبان اپنے وعدے پر قائم ہیں کہ افغان سر زمین پڑوسی ممالک سمیت کسی بھی ملک کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ روس کو طالبان سے کوئی تشویش نہیں ہے ، ہمارا روس کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے ۔داعش کی افغان سرزمین پر موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ داعش کو اپنے زیراثر شمالی علاقوں سے باہر نکال دیا ہے ، اب داعش کی لیڈر شپ کابل میں بیٹھی ہے ، جہاں2600 داعش ارکان نے کابل انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈالے ، انہوں نے الزام عائد کیا کہ داعش والے غیر ملکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو سب کیلئے خطرہ ہیں۔ ۔ دوسری جانب طالبان کی جانب سے افغان فضائیہ کے پائلٹس کی ٹارگٹ کلنگ شروع کردی گئی ہے ۔ چند ہفتوں کے دوران سات پائلٹس ہلاک کردیئے گئے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ افغان پائلٹس اپنے لوگوں پر بم گراتے ہیں اس لئے ماررہے ہیں۔ ۔ تو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بگرام ایئر بیس کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے حکم دیا کہ ایئر بیس میں موجود جیل کی حفاظت کیلئے پروفیشنل سٹاف تعینات کیا جائے۔اس جیل میں طالبان جنگجوؤں کو قید رکھا گیا ہے۔

    ۔ غزنی میں افغان فورسز اور طالبان کے مابین لڑائی جاری ہے جبکہ طالبان افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار میں داخل ہو گئے ہیں۔ شہر کے اندر کئی مقامات پر طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے ۔ قندھار جیل کے اطراف میں زیادہ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔۔ دوسر ی جانب افغان حکومت نے کہا ہے کہ قندھار کے لوگ پریشان نہ ہوں، صورتحال کنٹرول میں ہے ۔ قندھار کے گورنر، ڈپٹی گورنر، پولیس چیف، سکیورٹی چیف، قبائلی لیڈر اور سپیشل فورسز سب فرنٹ لائن پر مقابلے کے لئے موجود ہیں، شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

    ۔ جبکہ ہرات کے گوریلا سردار اسماعیل خان نے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کر دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہرات کے محاذ پر جائیں گے اور صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیں گے ۔انہوں نے افغانستان کی بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار کابل حکومت کو قرار دیتے ہوئے افغان فوج پر زور دیا کہ وہ ہمت کا مظاہرہ کرے ۔ اسماعیل خان شمالی اتحاد کے ان اہم ارکان میں شامل تھے جنہوں نے طالبان حکومت کا تختہ الٹنے میں امریکا کی مدد کی تھی۔

    ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ افغانستان میں اگر امن آئے گا تو سول وار کے بعد ہی آئے گا۔۔ کچھ لو اور کچھ دوطالبان کا مزاج نہیں ہے۔ وہ ایک تحریک ہیں، جو افغانستان کو امارت اسلامیہ افغانستان بنانا چاہتے ہیں۔

  • مستقبل قریب میں واٹس ایپ صارفین ایچ ڈی کوالٹی میں تصاویر بھیج سکیں گے

    مستقبل قریب میں واٹس ایپ صارفین ایچ ڈی کوالٹی میں تصاویر بھیج سکیں گے

    فیس بُک کی ایپ وٹس ایپ نے اپنے صارفین کی ہائی ریزولیشن تصویر اور ویڈیو بھیجنے کا دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے تاہم مستقبل قریب میں واٹس ایپ صارفین ہائی ریزولیشن کوالٹی میں تصاویر بھیجنے کے اہل ہوجائیں گے-

    باغی ٹی وی : چاہے اسمارٹ فون کا کیمرہ 64 میگا پکسل ہو یا 108 میگا پکسل، واٹس ایپ صارفین ہمیشہ یہی شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ کسی دوسرے کو اپنی ہائی ریزولیشن تصاویر اور ویڈیوز نہیں بھیج سکتے۔

    واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی’’بیٹا انفو‘‘ ویب سائٹ کے مطابق واٹس ایپ اپنے صارفین کی بڑی پریشانی کو حل کرنے کے لیے کام کر رہا ہےمستقبل قریب میں صارفین ایک دوسرے کو ہائی ریزولیشن کوالٹی میں تصاویر اور ویڈیوز بھیجنے کے اہل ہو جائیں گے۔


    ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ واٹس ایپ کے نئے ورژن میں جب کوئی صارف کسی دوسرے کو تصویر بھیجے گا تو اسے تین آپشنز دیے جائیں گے جو درج ذیل ہیں:

    پہلا آپشن آٹو (Auto) ہے جس کا انتخاب کرنے پر تصویر درمیانی ریزولیشن میں بھیجی جا سکے گی۔ یہ آپشن واٹس ایپ کی جانب سے تجویز کردہ ہوگا۔
    دوسرا آپشن بیسٹ کوالٹی (Best Quality) کا ہوگا جس میں صارف تصویر کو اس کی حقیقی ریزولیشن میں بھیج سکے گا تیسرے آپشن ڈیٹا سیور (Data Saver) میں واٹس ایپ تصویر کی ریزولیشن کو خودبخود کم کرے گا۔

    واٹس ایپ کا ہائی ریزولیشن تصویر والا فیچر اس وقت بیٹا ورژن استعمال کرنے والوں کے لیے دستیاب ہے تاہم اس پر مزید کام کیا جا رہا ہے اور جلد ہی تمام استعمال کنندگان اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

  • اسکول  بند ہونے سے دوسرے ممالک کی طرح سہولیات فراہم کرنے کی طاقت ہے؟۔تحریر : حمیداللہ شاہین

    اسکول بند ہونے سے دوسرے ممالک کی طرح سہولیات فراہم کرنے کی طاقت ہے؟۔تحریر : حمیداللہ شاہین

    بدقسمتی سے پاکستان میں کرونا مرحلے کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد تعلیمی اداروں کو بھی تباہی کی طرف گامزن کردیا۔ 26 فروری 2020 کو کراچی میں جب پہلا معاملہ سامنے آیا، تھوڑے ہی عرصے میں یہ پورے ملک میں پھیل گیا جس نے معمولات زندگی کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبوں کو بھی لاک ڈاؤن میں گھسیٹنا شروع کردیا۔
    کیا طلباء اسکول واپس جائیں گے؟؟؟۔۔
    ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت ہے، کیوں کہ اداروں کی طویل اور پیچھے سے بندش کے بعد طلبہ کا مطالعہ بہت متاثر ہوا۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس بہت تیزی سے پھیل چکا ہے، اس لئے حکومت نے بچوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں پر بھی لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔ تعلیمی ادارے بند ہونے سے اور بچوں کے اسکول نہ جانے سے شرع خواندگی میں کمی آنا شروع ہوگئی۔ 2019 میں ہماری خواندگی کی شرح 60٪ تھی لیکن 2020 میں اس نے 2٪ کم کرکے 58٪ تک پہنچا دیا۔ اگر مزید ہم نے اسی طرح کا کام جاری رکھا تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ ان طویل وقفوں سے بہت سارے طلبا کی دلچسپی ختم ہوگئی۔ پہلے وقفے میں کئی بچوں نے اپنی تعلیم چھوڑ دی، تیسری لہر میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے۔

    جب بھی ان سے وجہ پوچھی گئی کہ انہوں نے تعلیم کیوں چھوڑ دی؟، جواب ملتا کہ ہر دو تین ماہ بعد ہمیں طویل وقفے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو ہم اس فعل سے بیمار ہوگئے۔
    اسی طرح بہت سارے دوسرے طلباء بھی اسی مصائب کا شکار ہیں۔ اس سے ہمارے ڈراپ آؤٹ تناسب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    اس سے انکار نہیں کیا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے تعلیم کو بے حد قبولیت حاصل ہے۔ اسکول تقریبا سارا سال بند رہتے تھے اور اب گرمیوں کی تعطیلات کے بہانے بہت سارے دوسرے اسکولوں کی چھٹی جاری رہتی ہے۔
    کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بندش کے دوران طلباء کو آن لائن کلاسوں کی طرف بڑھا دیا گیا جو کسی بھی موقع سے قابل قبول نہیں تھے۔ سب سے پہلے انٹرنیٹ بہت بڑا پہلا مسئلہ تھا کیونکہ ملک کے متعدد حصوں میں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کی رسائی تو دور کی بات موبائل کے سگنلز بھی نہیں آتے، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے علاوہ آن لائن لرننگ سسٹم میں دیگر بہت ساری خرابیاں ہیں۔
    طلباء اساتذہ سے روبرو بات چیت سے محروم ہوجاتے ہیں اور اس مواد پر توجہ مرکوز نہیں کرسکتے ہیں جو اساتذہ فراہم کرتا ہے۔
    دوم زیادہ تر طلبا ڈیجیٹائزڈ نہیں ہیں اور ان کے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فونز نہیں ہیں۔ حکومت نے تو وائرس سے کھل کر مقابلہ کیا لیکن تعلیم کے شعبے میں بھی کچھ دیکھنے کو ملا، یونیورسٹی سطح کے طلباء پر خاصی توجہ دی گئی اور ان کے لئے آن لائن کلاسز جاری کیں لیکن تقریبا 40٪ طلبا پرائمری سیکشن میں ہیں، وہ ان سہولیات سے محروم ہوگئے؟۔ اور پھر بڑے شہروں کے یونیورسٹیاں تو آن لائن کلاسز دے سکتی ہیں لیکن چھوٹے شہروں اور قصبوں میں یہ ممکن نہیں۔
    ان وقفوں کے مہلک نتائج تعلیم، طالب علم اور اساتذہ پہ اثر اندا ہوئے ہیں۔ دوسرے ممالک نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے مختلف طریقوں کی تجاویز پیش کی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
    تاہم اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بند تو کردئے گئے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی بات چیت کو محدود کرے۔ لیکن اس کے باوجود عوام نے ایس او پیز کا خیال نہ رکھتے ہوئے باہر نکلتے رہے اور مواصلات، اجتماعات سیر و تفریح ویسے ہی تھے جیسے پہلے تھے۔

    احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور اپنی صحت کو بچانا واقعی بہت اچھا ہے لیکن ہمیں اپنی تعلیم کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔
    حکومت کو ان طویل وقفوں کو ختم کرنا چاہئے اور ان کو جاری رکھنے کے لئے تعلیمی اداروں میں ایک نئی بڑی اور بہتر تبدیلی لانا چاہئے۔
    پاکستان کے کئی علاقوں میں سہولیات کے فقدان کی مثالیں موجود ہیں، میرا تعلق چونکہ بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے، اس لئے پہلے اگر یہاں کی بات کی جائے تو اس میں کوئی شق نہیں کہ پرائیویٹ اسکول نے دھڑادھڑ پیسے کمائے، والدین پر اسکول بند ہونے کے باوجود فیس بھرنے کی زور دی گئی، یہاں پر شہر میں لڑکوں کے دو ہائی اسکول، گرلز کی ایک ہائی اسکول اور ایک گرلز ڈگری کالج جبکہ ایک بوائز ڈگری کالج اور ایک بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ کی سب کیمپس ہے، لیکن پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کی بھرمار ہے، 80 فیصد بچے مختلف دیہی علاقوں سے آکر شہر میں پڑھتے ہیں اور یہاں پہ 30 فیصد سے کم لوگوں کو انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کی سہولت میسر ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں تو موبائل کے سگنلز تک نہیں آرہے اور پھر دیہی علاقوں میں 18 جبکہ شہر میں 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہونے کے بعد صرف ایک پرائیویٹ اسکول نے آن لائن کلاسیں دینا شروع کیں جوکہ دیہی علاقوں انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور بجلی کی سہولیات نہ ہونے کے باعث بند کردی گئی۔
    حکومت پاکستان بالخصوص حکومت بلوچستان کو صوبہ بھر میں تعلیم کے شعبے پر زور دینی چاہئے، اور تعلیم کی اہمیت سمجھنے کے لیے دیہی علاقوں یا ضلعوں میں ماہانہ ورکشاپ قائم کرنے چاہئے، تاکہ لوگوں کو اگاہی ملے اور ہر سہولت فراہم کرنے میں مدد فرمائے، اساتذہ کو بھی جدید ٹیکنالوجی اور معیار تعلیم سکھانے پر توجہ دی جائے۔

  • ‏عالمی مفادات اور پاکستان .تحریر:محمد عثمان

    ‏عالمی مفادات اور پاکستان .تحریر:محمد عثمان

    295 سی پاکستان کے آئین کا حصہ ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کو اس کے آئین میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی
    یہ مکمل طور پر پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اس پر کسی دوسرے کو قرار داد لانے کی ضرورت نہیں ہے
    کیا کبھی پاکستان نے بھی دوسرے ممالک کے قوانین میں دخل اندازی کی ہے؟
    یہ حق صرف دوسرے ممالک کو ہے کہ صرف اور صرف پاکستان کو نشانے پر رکھنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے
    پاکستان ایک خود مختار اور آزاد ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ نیوکلیئر پاور اسلامی ملک ہے جہاں کا نظام حکومت پارلیمانی جمہوری نظام ہے
    جہاں اقلیتی نمائندگی اور اقلیتی آزادی اپنے پورے جوبن سے چکا چوند ہے، اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی اور تحفظ ہے کسی قسم کا کسی بھی اقلیت پر کوئی دباو نہیں
    ان سب عوامل کے باوجود پاکستان سے ایسا برتاو کیوں

    چند وجوہات:
    موجودہ حالات میں پاکستانی معیشت کے اعشاریے مثبت
    ٹیکس نیٹ ورک سے اکانومی بہتری کی طرف گامزن ہے
    پاکستان کی برآمدات میں بڑھتی ہوئی مانگ
    پاکستانی قیادت کا سالہا سال کی بیرونی غلامی سے نجات کا عزم
    اسلامو فوبیا پر پاکستان کا سٹینڈ
    فیٹف FATF کی شرائط و ضوابط کے مطابق پاکستان کی سمت درستی کی جانب مخصوص انداز
    مسلم ممالک کے اتحاد و اتفاق کی علمبرداری
    مغرب سمیت تمام اندرونی اور بیرونی دشمنان کو یہ سب ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا ایسے میں چند شر پسندوں کو تخریب کاری کا موقع ملا اور مغرب کو پاکستان پر چڑھ دوڑنے کا موقع ہاتھ لگ گیا
    مغرب سمیت تمام اقوام عالم صرف پاکستان کے پیچھے ہی کیوں پڑی ہیں
    اگر پاکستان مضبوط اور مستحکم ریاست بن گیا تو نیوکلیئر پاور کا حامل اسلامی ملک پوری دنیا میں اسلام کی سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا اور ہماری اجارہ داری ختم ہو جائے گی
    امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور فرانس جیسے ممالک پاکستان کو مقروض رکھ کر اپنے زیرنگیں رکھنا چاہتے ہیں
    تاکہ مفادات کی جنگ میں جب چاہیں پاکستان کو استعمال کرتے رہیں
    بحثیت پاکستانی ہمیں پاکستان کے وسیع تر مفادات کی خاطر اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات اور سیاسی و مذہبی وابستگیوں کو ترک کر کے وطن کی سلامتی کے لیے سوچنا ہو گا
    وطن ہو گا تو ہم سیاست کر سکیں گے، وطن ہو گا تو ہم خود کو منوا سکیں گے
    اللہ کریم اس ملک کی حفاظت فرمائے آمین ثمہ آمین
    از
    محمد عثمان