Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حسد اور انسانی رویے .تحریر  :  ریحانہ  بی بی

    حسد اور انسانی رویے .تحریر : ریحانہ بی بی

    رویے کا تعلق نفسیات سے ہے اور علم نفسیات کے مطابق رویے سے مُراد انسان کی شخصیت کاایسا گہرا عنصر ہے جو خاص طور پر سوچنے, محسوس کرنے اور اس پر عمل کرنے پر آ مادہ ہوتا ہے تو یہ اسکا رویہ کہلاتا ہے.

    حسد :
    دوسرے کی اچھی قسمت کی وجہ سے تکلیف ہو یا اسکے اچھے کاموں سے جلن ہو, اسے حسد کہہ سکتے…
    حسد کے معنی ہے کسی دوسرے شخص کی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا یا اسکے نقصان کے درپے ہونا.
    کسی کی ترقی سے دل میں گھٹن محسوس ہونا اور ناخوش ہونا وغیرہ یا اسکا زوال چاہنا…
    حسد کا بنیادی سبب تو یہی ہے کہ حاسد اس نعمت سے محروم ہے جو دوسرے کو مل گئی ہے.

    اب آ تے ہیں حسد اور انسانی رویوں پر
    موجودہ دور میں لوگوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر کے رویے منفی ہیں اور اکثر لوگ منفی سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور اسی منفی سوچ اور رویے کی وجہ سے ایسے لوگوں سے دوسروں کی کامیابی برداشت نہیں ہوتی اور برداشت نہ ہونے کی صورت میں نوبت حسد تک پہنچ جاتی ہے.

    مزے کی بات ہے کہ بظاہر ایسے لوگوں کا رویہ دوستانہ اور ہمدردانہ ہوتا ہے. جب ان سے کوئی اپنی کامیابی کا ذکر کرتا ہے تو ظاہری طور پر اسکا دل رکھنے کے لئے بہت خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن باطنی طور پر جلن محسوس کرتے ہیں.
    یاد رکھیں دوسروں کی خوشی میں خوش رہنا سیکھنا ہوگا ورنہ حسد دشمنی اور دشمنی فساد کی طرف لے جاسکتی ہے. جس سے نہ صرف گھر بلکہ معاشرے میں بھی بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے. اور حسد آ خرت میں اللہ کی ناراضگی کا موجب ہے.
    اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے پیش نظر کسی ایک کو نعمت عطا کرتا ہے تو دوسرے کو وہ نعمت عطا نہیں کرتا. ایسی صورت میں اللہ قرآن پاک کی سورۃ النساء میں فرماتا ہے.. اور اس فضیلت کی تمنا نہ کرو جو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر دی ہے.

    سورۃ الفلق میں ہے کہ, میں اپنے پروردگار سے پناہ مانگتا ہوں خاص کر حاسد کے شر اور بُرائی سے جب وہ حسد کرنے لگے.
    رسول پاک ص نے حسد سے بچنے کیلئے یوں تلقین فرمائی
    حسد کرنے سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آ گ لکڑی کو کھا جاتی ہے.
    اگر ہم قرآن و سیرت نبوی اور صوفیاء کے حالات زندگی پڑھیں تو یقیناً یہ مرض ختم ہوجائے گا.
    اس بات پ پختہ یقین کرلیں کہ نعمتیں عطا کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے جو اپنے بندوں کو نعمتوں سے نوازتی ہے. بندہ مومن ہونے کے ناطے ہمیں اللہ کے فیصلے اور تقسیم پر راضی ہونا چاہیے.
    کسی کی کامیابی پر یا اسکی اس نعمت پر ( جو اللہ نے عطا کی) دل سے اسی طرح خوشی کا اظہار کریں جیسے بظاہر آ پ ان سے دوستانہ رویے سے کرتے ہیں.
    رویے میں منافقت تو نہ کریں, بظاہر اچھا رویہ اور اندر سے اسکی نعمت کے زوال کی خواہش….
    یہ منافقت آ پ اپنے ساتھ کرکے کسی اور کا نقصان کریں نہ کریں مگر اپنا ضرور کردیں گے کیونکہ حاسد سکون اور قناعت کی دولت سے محروم رہتا ہے. اپنے حسد کی بھڑکتی آ گ میں جلتا رہتا ہے اور مایوسی اسکا مقدر بن جاتی ہے.
    اس لئے اپنی سوچ مثبت رکھئیے. جب آ پکی سوچ مثبت ہوگی آ پکے رویے اچھے ہونگے ( ظاہری اور باطنی دونوں)
    یاد رکھیں رویے انسانوں کی پہچان ہوتے ہیں اور مثبت رویوں سے ہی مثبت تبدیلی آتی ہے.

  • مکمل طور پر سیاہ مرغی”کڑک ناتھ ” کا پورا گوشت بھی کالا

    مکمل طور پر سیاہ مرغی”کڑک ناتھ ” کا پورا گوشت بھی کالا

    بھارت کے بعض علاقوں میں عام پائی اور کھائی جانے والی مرغی مکمل طور پر گہرے سیاہ رنگ کی ہوتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا گوشت بھی بہت حد تک کالا ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : مرغ کا نام کڑک ناتھ اور بھارت میں اسے ’کالی ماسی‘ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ یہ مرغ بھارت کے کئی علاقوں میں مشہور ہے اور رغبت سے کھایا جاتا ہے۔ اگرچہ گوشت کی سیاہ رنگت عجیب لگتی ہے لیکن پکنے کے بعد اس میں کچھ تبدیلی ضرور آتی ہے۔

    اس مرغ کے پیر، سر، جلد ، چونچ اور پر تک بالکل کالے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس برائلر مرغیوں کے مقابلے میں کڑک ناتھ کا گوشت ذیادہ غذائیت رکھتا ہے۔ کالی ماسی پہلے پہل مدھیا پردیش کے ضلع جھابوا میں مقبول تھی اور دھیرے دھیرے اس کے کئی فارم ہندوستان کے کئی علاقوں میں قائم ہوئے۔ اب چھتیس گڑھ، تامل ناڈو، آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں یہ عام پائی جاتی ہیں۔

    غذائی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس میں دیگر مرغیوں کے مقابلے میں چکنائی اور کولیسٹرول کی شرح بہت کم ہوتی ہے اور اس میں پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہے۔اور چربی کی مقدار بہت کم ہےاس بہت زیادہ غذائیت کی قیمت کی وجہ سے ، یہ دل کے مریضوں اور ذیابیطس کے مریضوں کے لئے فائدہ مند ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا گوشت بہت مہنگا فروخت ہوتا ہے۔

    کئی بھارتی علاقوں میں زندہ مرغی کی قیمت 850 روپے اور گوشت کی قیمت 1000 سے 1200 روپے فی کلوگرام تک ہے۔ اس طرح عام مرغیوں کے مقابلے میں اس کی قیمت تین گنا زائد ہے۔

    کالی ماسی اس لیے مہنگی ہے کہ اسے پالنے اور پروان چڑھانے میں بہت وقت لگتا ہے۔ عام برائلر مرغی 45 دن میں تیار ہوجاتی ہے جبکہ کڑک ناتھ کو پروان چڑھنے میں 8 مہینہ لگتا ہے بعض تصاویر میں دکھایا جاتا ہے کہ کالی ماسی کے انڈے اور خون بھی سیاہ ہے جو ایک غلط بات ہے۔

    اس مرغی کا مطالبہ ملک بھر میں بہتزیادہ ہے۔ اس چکن کی تین اقسام ہیں جن میں جیڈ بلیک ، پینسیلڈ اور گولڈن کڈکاتھ ہیں۔ جیڈ بلیک کے پنکھ مکمل طور پر سیاہ ہیں اور پینسیلڈ کی شکل پنسل سے ملتی ہے۔ اور سنہری کڑک ناتھ میں ، اس کے پروں گولڈن چھلکیاں ہیں۔

    ایک اور حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ، ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ، ویرات کوہلی کو بھی اس چکن کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

    اگرچہ بھارت سے باہر اس طرح کی سیاہ گوشت اور رنگت والی مرغیاں عام نہیں ملتیں لیکن چین میں ’سلکیز‘ نامی مرغیاں عام ہیں جن کی رنگت گہری سرمئی اور گوشت بھی سرمئی ہوتا ہے۔

  • ارجنٹائن کوپا امریکہ کپ کا نیا چمپئین

    ارجنٹائن کوپا امریکہ کپ کا نیا چمپئین

    ارجنٹائن نے ہفتے کے روز 28 سالوں میں اپنا پہلا بڑا اعزاز حاصل کیا اور کوپا امریکہ کپ کا نیا چمپئین بن گیا-

    باغی ٹی وی :رائٹرز کے مطابق اجنٹائن نے برازیل کوفائنل میں ایک صفر سے شکست دے دی ،ارجنٹائن 1993 کے بعد کوپا امریکا کپ جیتنے میں کامیاب ہوا، ارجنٹائن نے مسلسل 27 میچوں میں ناقابل شکست برازیل کو فائنل میں شکست دی-

    میچ جیتنے کی خوشی میں ارجنٹائن کے کھلاڑیوں نے کپتان میسی کو ہوا میں اچھال کر جشن منایا ، لیونل میسی جیت کےجشن میں نیمار کو نا بھولے، دیر تک گلے لگائے رکھا-


    اپنے کھیل کے اوپری حصے میں ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے میں ، میسی ، نے اپنی ہسپانوی کلب ٹیم ، بارسلونا کے ساتھ تقریبا ہر فٹ بال کا اعزاز جیتا تھا: ہر ایوارڈ ، ہر تعریف ، ہر کپ ، چیمپیئن شپ اور ٹرافی۔


    ارجنٹائن کے ڈی ماریا نے22ویں منٹ میں واحد گول کیا، ارجنٹائن کے گول کیپر ایمی مارٹنیز گولڈن گلوز کے حق دار قرار پائے،ایمی مارٹنیز گولڈن گلوز جیتنے والے ارجنٹائن کے پہلے گول کیپر بن گئے ہیں-

    واضح رہے کہ کوپا امریکا کپ فائنل برازیل اور ارجنٹائن کے مابین میچ کھیلا گیا میچ سے قبل اسٹیڈیم کے باہرآتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا تھا،کوپا امریکہ کپ میچز میں برازیل نے27 میچوں میں 22 جیتے جبکہ 5 برابر رہے-

  • تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ؟تحریر: محمد اکرم

    تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ؟تحریر: محمد اکرم

    وہ شخصیات تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ہوتی ہیں جن کے بارے میں کوئی غلط بات منسوب کر کے اس کی اتنی تشہیر کی جائے کہ وہ قبولِ عام کا درجہ حاصل کر لے۔
    اگرچہ مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی عمومی وجہ شہرت یہی ہے کہ وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمشیرہ محترمہ ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران قائداعظمؒ کا دل و جان سے بھرپور ساتھ دیا مگر انہوں تاریخ برصغیر اور پھر پاکستان میں اپنے عظیم بھائی کے شانہ بشانہ خود بھی ایک بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی بھابھی محترمہ رتی بائی (مریم جناح) کی ناگہانی وفات کی وجہ سے اپنے عظیم بھائی کو پہنچنے والے شدید صدمے کے دوران انہیں سنبھالا دیا جس کے بغیر شاید وہ تاریخ کا دھارا نہ موڑ سکتے۔ دنیا کے نقشے پر وہ اسلامی مملکت منصہ شہود پر نہ ابھرتی جس کا 14 اگست 1947ء سے پہلے وجود بھی نہ تھا۔

    انگریز سامراج، کانگرس اور نیشلسٹ مسلمانوں کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان کے قیام کا معجزہ رونما ہوا۔ بدقسمتی سے قائداعظمؒ جلد ہی جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ شہید ملت خان لیاقت علی خان کو ایک افغان نے لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کر دیا۔

    ایک نوزائیدہ مملکت کے لیے یہ جھٹکے قابل برداشت نہ تھے۔ قوم پے در پے دو عظیم صدمات سے دوچار ہوئی۔ سیاسی استحکام کی جگہ نظام سیاست میں جوڑ توڑ اور محلاتی سازشیں پروان چڑھنے لگیں۔ قصہ مختصر ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا۔ بنیادی جمہوریتوں کا نظام نافذ ہوا۔ صدارتی انتخابات ہوئے تو حزب اختلاف میں شامل قیام پاکستان کے بدترین مخالفین خان عبدالغفار خان و دیگر نے کمال ہوشیاری سے مادر ملت فاطمہ جناحؒ کو جنرل ایوب خان کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کی الیکشن مہم کے انچارج بنائے گئے جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران مادر ملت کی شخصیت پر انتہائی نازیبا ریمارکس دیے جن کا تذکرہ بھی مادر ملتؒ کی توہین ہے۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں غلام دستگیر خان نے مادرملتؒ کے خلاف جو توہین آمیز حرکت کی، اس کا تصور کر کے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ دھاندلی کے الزامات لگے، صدارتی انتخابات متنازع قرار پائے مگر جنرل ایوب خان صدر منتخب ہو گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ بےمثال اقتصادی ترقی ہوئی۔ بڑے ڈیم تعمیر ہوئے۔ جشن ترقی بھی منایا گیا مگر مشرقی پاکستان میں سیاسی محرومیوں کا لاوہ سلگتا رہا جس میں مادر ملتؒ کی شکست کے صدمے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ پھر حزبِ اختلاف متحرک ہوئی۔ عوام کے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جس کے پیش نظر صدر ایوب خان مستعفی ہو گئے۔ زمامِ اقتدار جنرل یحیٰ خان نے سنبھال لی۔ ون یونٹ سسٹم ختم ہوا۔ عام انتخابات ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے کلین سویپ کیا۔ مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی سرخرو ہوئی۔ جمہوری اصولوں کے مطابق اقتدار اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کا حق بنتا تھا جسے تسلیم نہ کیا گیا۔ اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگایا گیا۔ ملک دو لخت ہو گیا۔ قوم خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو گئی۔

    پھر ایک اور سانحہ رونما ہوا۔ کہا گیا کہ جنرل ایوب خان نے مادر ملت فاطمہ جناحؒ کو غدار قرار دیا تھا۔ سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے عوام میں فوج کے خلاف غم و غصہ عروج پر تھا۔ کسی نے بھی تحقیق کی کوشش نہ کی کہ اس الزام کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ کن اخبارات میں یہ بات رپورٹ ہوئی۔ تاریخ نویسی کے اصولوں پر پوری اترنی والی تاریخی شہادتیں کیا ہیں؟ اس کسوٹی پر کسی نے بھی الزام کو پرکھنے کی کوشش ہی نہ کی۔ بس بات منہ سے نکلی پرائی ہوئی کا قصہ ہوا۔ بات کو غلط العام کا درجہ حاصل ہو گیا۔ فوج سے نفرت کرنے والے عناصر نے اس الزام کو دہرانا ایک فیشن بنا لیا۔

    راقم الحروف نے جب تحقیق شروع کی تو دنگ رہ گیا کہ ناقدین کے پاس اس الزام کا کوئی تاریخی حوالہ اور ثبوت موجود نہیں جس میں جنرل ایوب خان نے مادرملت کو غدار قرار دیا ہو۔ صرف ٹائم میگزین میں یہ بات ملی کہ ایوب خان نے مادرملت کو پرو امریکن اور پرو انڈین قرار دیا مگر اس میں بھی یہ بات نہ ملی کہ ایوب خان نے مادرملت فاطمہ جناحؒ کو غدار (ٹریٹر) قرار دیا ہو۔ میں نے ایک معروف صحافی اور اس الزام کی تکرار کرنے والے دیگر مصنفین کو بار بار چیلنج کیا کہ کوئی تاریخی حوالہ پیش کریں بصورت دیگر قوم کی ماں پر بلاثبوت تہمت مت لگائیں کہ کوئی اولاد اپنی ہی ماں پر کبھی تہمت نہیں لگاتی۔ ایوب خان میں سینکڑوں خامیاں ہوں گی۔ ان سے اظہار نفرت کے لیے ان خامیوں پر تنقید کے ہزاروں زہریلے تیروں کی بارش کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں میدان کھلا ہے مگر جنرل ایوب خان کے بغض میں مادرملت فاطمہ جناحؒ پر تہمت طرازی کسی کو زیب نہیں دیتی۔ یہ تاریخ کے ساتھ بددیانتی ہے۔ یہ امر تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ اگر یہ بات تاریخ نویسی کے اصولوں کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی کہ جنرل ایوب خان نے مادر ملتؒ کو غدار قرار دیا تھا تو اگر اس بات کا دہرانا مادر ملتؒ پر تہمت قرار پائے گا تو یہ جنرل ایوب پر بھی بہتان ہو گا۔ یہ تاریخ پر کیسا ظلم ہے کہ ایوب خان پر بہتان لگا کر مادر ملت پر تہمت لگاؤ۔ ایک ہی تیر سے دو شخصیات کو گھائل کرو۔ کیسا کمال ہنر ہے کہ اس بات کی اتنی تکرار کرو کہ اگر ردعمل میں عوام کسی کے اقوال و افعال کو غداری کے زمرے میں شمار کریں تو وہ فخر سے کہے کہ ایوب خان نے مادر ملت کو بھی غدار قرار دیا تھا، لہذا اگر اسے بھی غدار قرار دیا جا رہا ہے تو یہ اس کے لیے فخر کی بات ہے۔ پس اب زمانے کا چلن یہ ہو گیا ہے کہ اس غیرمصدقہ الزام کی آڑ میں اب جو دل میں آئے کسی ثبوت کے بغیر بولیں۔ کسی تاریخی حوالے کے بغیر لکھیں۔ اگر ناقدین تاریخی حوالہ جات نہ دینے پر غدار کہیں تو خود کو مادرملت فاطمہ جناحؒ کا پیروکار قرار دے دیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اس توہین آمیز صورتحال میں مادر ملتؒ اور قائداعظمؒ کی ارواح جس کرب سے انگاروں پر لوٹتی ہوں گی، اس کا تصور بھی محال ہے۔

  • اولاد کی تربیت . تحریر:فروا منیر

    اولاد کی تربیت . تحریر:فروا منیر

    کسی بھی پختہ عمارت کے لئے اس کی بنیاد کا پختہ ہونا ضروری ہے اگر بنیاد پختہ نہیں ہوگی تو عمارت قائم نہیں رہ سکے گی۔
    کسی بھی معاشرے کی نوجوان اس معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں
    معاشرے کی مضبوط بنیاد کے لیے اس معاشرے کے نوجوانوں کی تربیت کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔
    ہمارے معاشرے میں جب کسی نوجوان کو دیکھا جاتا ہے تو اس کی حرکات اور اس کے انداز کا بخوبی جائزہ لیا  جاتا ہے اگر اچھے کردار کا مالک ہو تو یقینا اس کی تربیت اور اسکے والدین کی تعریف کی جاتی ہے کہا جاتا ہے کے اسکےوالدین  نے اس کی تربیت اچھے انداز سےکی۔اور اگر کسی  برائی میں ملوث پایا جائے تو اس کا الزام بھی   والدین کی تربیت پر آتا ہے
    ہے۔

    اگر دیکھا جائے تو تو پرانے زمانے میں جب کوئی بچہ روتا تھا تو اس کے والدین یا  قریبی عزیز اس کو اٹھا کر خاموش کرواتے اور اس بچے کو وقت دیتے تھے مگر آج کل جیسے ہی  بچے کی رونے کی آواز آتی ہے ماں بچے کے ہاتھوں موبائل تھما دیتی ہے ٹیلی ویژن کے سامنے بٹھا دیتی ہے اور خود بے خبری کی وادی میں کھو جاتی ہے
    وہ بچہ جب اس کو والدین کے وقت کی ضرورت تھی ان کی قربت کی ضرورت ہے کہ وہ جب موبائل کو پاتا ہے تو موبائل کو ان سب چیزوں سے بہتر پاتا ہے۔
    اور پھر آج کل کے والدین کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ تو بس موبائل میں کھو گیا ہے ہر وقت موبائل کے ساتھ لگا رہتا ہے تو سوچا جائے تو اس چیز کی بنیاد کس نے ڈالی تھی۔
    ہونا یہ چاہئے تھا کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ان کو اچھے برے کی تمیز کا فرق سکھاتے کیونکہ بچہ کچی عمر  میں جو سیکھتا ہے وہ اپنی زندگی اس کے مطابق کی گزارتا ہے
    جب ماں سے کہا جاتا ہے کہ بچے کے ہاتھ میں موبائل کیوں دیا تو یہی جواب آتا ہے کہ ہمیں گھر کے اور کام بھی ہوتے ہیں موبائل سے بچہ مصروف ہو جاتاہے تو ماں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے ۔

    بات کرتے ہیں شہزادی حضرت فاطمہ علیہ السلام کی جنہوں نے اولاد کی تربیت اس انداز سے کی کہ آج بھی زمانہ رشک کرتا ہے فاطمہ ع چکی  پستیں ،گھر کے  کام بھی کرتیں مگر اپنی اولاد کی تربیت اس انداز سے کی کہ    امام حسن ع اور حسین ع دونوں  جنت کے نوجوانوں کے سردار کہلوائے۔
    خدارا بچوں کی تربیت میں کوتاہی نہ کریں۔
    یہ آپ کی تربیت ہی ہے جو آپ کی اولاد کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد کا معاشر ے کے قابل افراد میں شمار ہو تو انکی تربیت اچھے انداز سے کریں ان کی بنیاد کو مضبوط بنائیے۔ایک مضبوط بنیاد پر ہی ایک مضبوط عمارت کھڑی ہو سکتی ہے

  • ڈرامہ انڈسٹری بمقابلہ پاکستانی کلچر.تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ڈرامہ انڈسٹری بمقابلہ پاکستانی کلچر.تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    کسی دور میں پاکستان فلم انڈسٹری بھارت سے مقابلہ کرتی تھی وحید مراد سنتوش کمار محمد علی ندیم جیسے اداکار ناصر پاکستان بلکہ برصغیر میں شہرت رکھتے تھے فلم انڈسٹری کے زوال کے بعد ناظرین کیلئے تفریح کا ذریعہ صرف ٹیلی ویژن رہ گیا ۔ ناظرین کی بڑی تعداد 8 بجے آنے والے ڈرامے شوق سے دیکھتی اور اکثر ڈرامہ سیریل مقبولیت کے ریکارڈ بھی قائم کرتے الفا براوو چارلی، بندھن، عینک والا جن، گیسٹ ہائوس اور آغوش غرض ھر عمر کے ڈرامے عوام میں پسند کئے جاتے سڑکیں ویران ھوجاتی۔ عمدہ اداکاری بہترین پروڈکشن اور بہت سبق آموز کہانیاں اداکار اتنے ڈوب کر اداکاری کرتے تھے کہ ان کا اصل نام ہی بھول جاتا تھا اور صرف کردار ذہنوں پر نقش ہو جاتے ۔ تاہم 2010ء کے بعد تو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری بدل کر رہ گئی۔

    معیاری کہانیوں کی جگہ ساس بہو کے جھگڑے طلاقوں گھریلو جھگڑوں نے لے لی اگرچہ کئی اچھے ڈرامے بھی پیش کے گئے تاہم زیادہ تر اوسط درجے کے ڈرامہ سیریل چھوٹی سکرین کا حصہ بنے۔ یہ زیادہ تر ڈرامہ سیریل نجی چینلز پر نشر ہوئے اور کچھ سرکاری ٹی وی کا بھی حصہ بنے۔ ماسوائے چند ڈرامے جیسے ڈرامہ ‘داستان‘ جوکہ 1947ء کی ہجرت کے تناظر میں عکسبند کیا گیا اور رضیہ بٹ کے ناول ‘بانو‘ سے ماخوذ تھا اس کے بعد ‘میری ذات ذرۂ بے نشان‘ نے شہرت کے ریکارڈ قائم کیے ‘درِ شہوار‘ بھی ایک بہترین ڈرامہ تھا اور اسکے علاوہ ‘ھم سفر ‘ ‘زندگی گلزار ہے‘ جیسے انگلی پر گنے جانے والے ڈرامے جن میں کوئی سبق ہویا وہ معاشرے کی حقیقت کے قریب ہوں وہ پیش ھوئے اور انھوں نے ریکارڈ مقبولیت حاصل کی۔ ایسے ڈرامے بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے کوئی سبق مل سکے۔ ”سرخ چاندی‘‘ تیزاب گردی پر بنایا گیا ڈرامہ تھا جس نے ناظرین کو ہلا کر رکھ دیا۔

    ان چند سالوں میں پڑوسی ملک کے کلچر کو یہاں یوں فروغ دیا گیا جیسے ثواب کا کام ھو مگر افسسس لوطن کی محبت اور قومی ہیروز پر ڈرامے نا ھونے کے برابر بنائے گئے ڈرامہ نا صرف کردار سازی ذہن سازی میں کردار ادا کرتا بلکہ ملک کا کلچر بھی دنیا کو دکھانے کا ذریعہ بنتا یہ بات غور طلب ہے کہ سنہرے دن اور الفا براوو چارلی کے دو دہائیوں بعد عہدِ وفا بنایا گیا یہ بھی امر قابلِ غور ہے کہ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ پر حالیہ سالوں میں کوئی ڈرامہ سیریل نہیں بنا۔ ۔ ہمارے نجی چینلز ساس بہو کے جھگڑوں سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ زیادہ تر ڈراموں میں دو شادیوں‘ متعدد افیئرز اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

    دوسری طرف بھارت ہمارے مسلمان ہیروز کے کرداروں کو مسخ کر رہا ‘ ایک فلم پدماوت میں علائو الدین خلجی کے کردار کو یکسر متضاد پیش کیا گیا ہے جبکہ ‘پانی پت‘ فلم میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کیا گیا۔ اس کے ساتھ آن لائن ویب سٹریم پر بھی بھارت کی اجاہ داری ہے‘ ہر دوسرا سیزن پاکستان کے خلاف بن رہا ہے جبکہ پاکستانی ہدایتکار کشمیر، بلوچستان، ایل او سی، سیاچن، سرحدی امور، ملکی حالات، فوجی اور سویلینز شہدا کی قربانیوں سے نظر چرا کر ٹی وی پر معاشقے کروانے میں مصروف ہیں، عورتیں پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں، نندیں بھابھیوں کے گھر تباہ کر رہی ہیں اور گھروں میں ایک

    خدارا پاکستانیوں پر رحم کریں‘ تحریک پاکستان، 1965، 1971، کارگل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضربِ عضب، رد الفساد جیسے آپریشنز ان پر ڈرامے بنایئں وہ ہیں ہمارے اصل ہیرو‘ ان پر ڈرامے اور فلمز بنانی چاہئیں۔ اس کے علاوہ غازیوں، پولیس کے ہیروز اور سویلینز کی قربانیوں کو اجاگر کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ آج کی نسل کو پتا ہو کہ ان کے اصل ہیرو کون ہیں ورنہ تیاری پکڑیں کچھ عرصے بعد ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ویسا ہی حال ہو گا‘ جو فلم انڈسٹری کا ہو چکا۔

  • مملکت خداد پاکستان . تحریر:فیصل خان

    مملکت خداد پاکستان . تحریر:فیصل خان

    دنیا میں اس وقت دو سو سے زائد ممالک ہیں۔ جن میں سے کچھ ترقی پذیر اور کچھ ترقی یافتہ ہیں۔ ان میں سے ایک ملک ایسا بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے روس سے کم از کم دس گنا چھوٹا ہے، آبادی کے لحاظ سے چائنہ، انڈیا سے چھ گنا چھوٹا لیکن جس کا نہری نظام روس کے نہری نظام سے تین گنا بڑا ہے۔
    یہ ملک دنیا میں مٹر کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے، خوبانی، کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سےچوتھے،
    پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے،
    دنیا کی سب سے مہنگا ترین خشک میوہ چلغوزے کی پیداوار میں دوسرے نمبر پر،
    (چترال اور وزیرستان)
    آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں،
    چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں،
    گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں
    اور مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ہے۔
    یہ ملک مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں نمبر پر ہے۔ اسکی صرف گندم کی پیداوار پورے براعظم افریقہ کی پیداوار سے زائد اور برِ اعظم جنوبی امریکہ کی پیداوار کے برابر ہے۔ یہ ملک دنیا میں صنعتی پیداوار کے لحاظ سے پچپنویں نمبر پر ہے۔ کوئلے کے زخائر کے اعتبار سے چوتھے اور تانبے کے زخائر کے اعتبار سے ساتویں نمبر پر ہے۔ سی این جی کے استعمال میں اول نمبر پر ہے۔ اسکے گیس کے زخائر ایشیا میں چھٹے نمبر پر ہیں اور یہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے۔

    لیکن۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔لیکن

    سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ملک کرپٹ، چور اور لٹیرے سیاستدانوں کی پیداوار میں ایک نمبر پر ہے
    وہ اسلئے کہ ملک پچھلے 30 سالوں سے چوروں کے شکنجے میں رہا
    ملک کو تباہ کرکے اپنے کاروباروں کو وسعت دی
    ملک گروی رکھ کر بیرون ملک جائیداد بنائی
    ملک میں روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر اپنے بچوں کو انگلینڈ شفٹ کروائے
    اپنے خاندان والو کو اعلی اعلی منسبوں پر فائز کروائے
    ملک کو غیروں کا مرکز بنایا
    خق و سچ بات کرنے والو کا گلہ دبایا
    اور جس نے ملک کی فلاح چاہا اسے غدار اور ایجنٹ کہا۔

    اور آج اس ملک کا حال یو چھوڑ کر گئے ہے کہ ملک کا حزانہ خالی ہے
    ملک آئی ایم ایف کو گروی دیا ہے
    قرضوں میں جکڑا ہوا ہے
    معیشت ڈوب گئی ہے
    لوگ غربت سے مر رہے ہے
    عدالتوں سے غریب کیلئے قانون اور امیر کیلئے ریلیف مل رہے ہے

    اور یہ ہے
    مملکتِ خداداد” پــــــاکـــــــــــستان ”

  • کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    ساوتھ افریقہ کے 79 سالہ سابق صدر جیکب زوما جنہوں نے ٢٠٠٩ سے ٢٠١٨ تک حکمرانی کی ان پر کرپشن کے الزامات تھے جن پر انہوں اکڑ دکھاتے ہوئے آئینی عدالت میں پیش نہ ہونے کو ترجیح دی اور عدالتی کاروائی میں شامل نہ ہوۓ جس پر عدالت نے انھیں چار جولائی تک کی مہلت دی کے یا تو گرفتاری دیں یا پھر پولیس سابق صدر کو گرفتار کرے سابق صدر جیکب زوما نے مہلت ختم ہونے سے چند لمحے پہلے خود کو حکام کے حوالے کردیا اور اب قانون کے مطابق وہ پندرہ ماہ کی جیل کی سزا کاٹیں گے

    عدل و انصاف کا نظام اسلامی ریاست کی اساس رہا ہے لیکن دیکھا جاۓ توعدل وانصاف کے اس نظام کا مملکت خدا داد پاکستان میں فقدان ہے ہمارے سامنے ایسی کئی مثالیں ہیں لیکن اسکے برعکس ہمارے سزا یافتہ حکمران بلندوبانگ دعووں کیساتھ عیش و آرام سے رہتے ہیں اور آزادی سے بیرون ملک سفر کرتےاور پھر عدالتی بلاوے کو روندڈالتے ہیں_

    ساوتھ افریقہ کے صدر کے حق میں کسی نے نعرہ نہیں لگایا اسکو چھوڑ دو اور ووٹ کو عزت دو . بلکہ وہاں پر عوامی تجسس یہ تھا کہ آیا سابق صدر اور پولیس آئینی عدالت کے حکم کا پاس کریں گے یا نہیں کیوں کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور قانون کے احترام میں معاشرے کی بقا ہے ہمارے سیاستدان عدالتی فیصلوں اور تصدیق شدہ جرائم کے باوجود ضمانتیں لیکر انتخابی تحریکیں چلاتے اور اپنا نظریہ عوام میں پھیلاتے ہیں اور یہ سوال پوچھتے ہیں ‘کیا آپ ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں کا وزیراعظم عدالتوں میں پیش ہو ؟_

    ہمارے ہاں قانون اور عدالتی بالادستی کیساتھ عوامی شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے کے قانون سے کوئی افضل نہیں اگر خلیفہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہہ اپنی زائد چادر کا حساب دینے کے پابند تھے تو آج کےاور سابقہ حکمران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوۓ جوابدہی میں اپنی ہتک نہیں سمجھ سکتے اس لیے کے قانون سب کیلئے برابر ہونا چائیے

  • کشمیری مہاجروں کوذاتی مفاد کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا، عثمان علیم

    کشمیری مہاجروں کوذاتی مفاد کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا، عثمان علیم

    نارووال میں مہاجرین جموں وکشمیرکی نشست حلقہ ایل اے37 ناروال 4 سے نامزد امیدواربرائے ممبرقانون سازاسمبلی عثمان علیم عرف مسلم بھائی کی انتخابی مہم زورشورسے جاری ہے، حلقہ میں انتخابی گہما گہمی عروج پر ہے، اسی سلسلے میں جموں کشمیر یونائٹیڈ موومنٹ نے گزشتہ روزقلعہ احمد آباد میں پاورشو کا مظاہرہ کیا ہے، جلسہ عام میں مہاجرین جموں کشمیر نے بھرپورشرکت کی ہے، جلسہ گاہ میں پارٹی نغموں پرکارکنوں کا جذبہ دیدنی تھا، جبکہ جلسہ گاہ پہنچنے پرعثمان علیم عرف مسلم بھائی کا پھولوں کی پتیاں نچھاورکرکے استقبال کیا گیا ہے، کارکنوں کی جانب سے تیرا بھائی میرابھائی مسلم بھائی اورسچے کشمیریوں کی پہچان کُرسی کا نشان نعرے لگائے جاتے رہے ہیں.

    جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نامزدامیدواربرائے ممبرقانون سازاسمبلی عثمان علیم کا کہنا تھا کہ مہاجرین نے جمود توڑدیا ہے اب کشمیری مہاجرین کو کوئی ذاتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کرسکتا ہے، کشمیر کے حقیقی پشتیبان بیس کیمپ کی اسمبلی میں پہنچ کرمقدمہ کشمیردنیا کے ہرفورم پرپوری قوت سے لڑیں گے، کشمیرکوآزادی دلوائیں گے، فصلی بیٹروں نے نہ توکشمیرکا مقدمہ لڑا اورنہ ہی ریاست آزاد جموں وکشمیرکی خوشحالی کیلئے اقدامات کئے، ذاتی مفادات کی سیاست کرنے والوں نے پوری ریاست کو محرومیوں میں دھکیل دیا ہے، جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ جدوجہد آزادی کشمیرسے خوشحالی کشمیرتک کے سلوگن پرالیکشن لڑرہی ہے، آپ لوگوں کے ووٹ کی طاقت سے اللہ نے موقع دیا تومہاجرین کشمیر کی خوشحالی اورآزادی کشمیر کیلئے حقیقی معنوں میں جدوجہد کریں گے، نارووال کے مہاجرین کے لیے الگ سے یونیورسٹی اورکالجز کا قیام میرا انتخابی ایجنڈا ہے، عوام پچیس جولائی کو گھروں سے نکلیں اورکرسی کے نشان پرمہرلگا کرفصلی بٹیروں کو مسترد کردیں۔

  • سپیشل بچوں کا سپیشل خیال ،‏تحریر: شاہدہ بانو

    سپیشل بچوں کا سپیشل خیال ،‏تحریر: شاہدہ بانو

    انسان کو اللہ پاک نے بڑی پیاری اور اعلی جسامت سے نوازا ہے
    انسان کا جسم ہڈیوں، گوشت، خون وغیرہ سے مل کر ایک جسم کی شکل میں سامنے ہوتا ہے
    سامنے دیکھنے میں تو انسان تقریبا سب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگوں میں اللہ پاک کی طرف سے کوئی نا کوئی کمی رکھ دی جاتی ہے یا پھر زندگی میں آگے بڑھتے ہوئے انسان کی زندگی میں کوئی ایسا حادثہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے جس سے انسان اپنے جسم کا ظاہری یا اندرونی حصوں میں سے کوئی ایک کھو دیتا ہے جس سے وہ معذور ہو جاتا ہے
    کچھ بچے پیدائش کے وقت ہی کسی نا کسی جسمانی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں
    ایسے بچے نارمل بچوں سے زیادہ توجہ مانگتے ہیں جب ان کو خصوصی توجہ دی جائے تو وہ بچے احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتے اور وہ بھی زندگی کی دوڑ مین شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں سپیشل بچوں کے لیے الگ سے سکولز ہیں وہاں بچوں کے لیے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں کوشش کریں وہاں بھی بچوں کو بھیجا جائے اور خصوصی توجہ دلائی جائے اور گھر مین بھی بچوں کو ایسا ماحول دیا جائے جس سے وہ اپنی کمزوری کو سوچنے کے بجائے وہ اپنی زندگی کا سوچیں

    وہ کھڑے نہیں ہو سکتے تو لیٹا کر ہی ان کو ورزش کرائی جائے ان کے ساتھ باتیں کی جائیں ان کو زیادہ سے زیادہ ٹائم دیا جائے
    اگر وہ بول نہیں سکتے تو ان کے اندر پڑھنے لکھنے کی اتنی صلاحیت پیدا کی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں دنیا کو بتا سکیں
    وہ اپنے کام کروا سکیں
    آگے جا کر وہ اپنے لیے خود کما کر کھا سکیں

    بہت جگہوں پےچل دیکھا گیا ہے اسپیشل بچوں کو الگ کر کے رکھ دیا جاتا یے ان کو کوئی توجہ نہیں دی جاتی ان کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا جس سے وہ بچے پہلے تو بیمار ہوتے ہی ہیں بعد میں وہ سوچ سوچ کر احساس کمتری جیسی لعنت کا بھی شکار ہو جاتے ہیں
    آئیں مل کر معاشرے کو اسپیشل بچوں کا اسپیشل خیال رکھنے کی طرف لے کر آئیں
    خود بھی کوشش کریں ہمارے معاشرے میں ہمارے ارد گرد ہمارے خاندان میں کوئی ایسا بچہ ہے تو ہم خود اس کا زیادہ سے زیادہ خیال بھی رکھیں گے