Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏اسوۂ رسول اور ہم.تحریر:۔محمد عادل حسین

    ‏اسوۂ رسول اور ہم.تحریر:۔محمد عادل حسین

    ہم مسلمان ہیں اورمسلمان کا مطلب فرمانبردار ہے
    اصطلاح میں اس سے مراد وہ شخص ہےجو اللہ کےاحکامات اور اس کے رسولؐ کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرے
    فرمان الہی ہے

    "لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡہِمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ”

    یقیناً تمہارے لئے رسولُ اللّٰهﷺ اچھا نمونہ ہیں ( اور عمدہ پیروی ہے خاص کر ) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو

    سورة الممتحنة – Ayat No 6

    یہ سیدھا سااصول بیان کردیا کہ ہم اپنے ہر قول وفعل ولادت سے وفات تک ہرکام میں رسولُ اللّٰهﷺ کی پیروی کریں
    اپنی عبادت اور نیکی کے بارے میں کہ اگر اس کا طریقۂ و ہئیت آپ طریقے کے مطابق نہ تو وہ قبول نہیں۔

    اسی طرح تجارت،سیاست،عدالت خلوت،جلوت،رشتہ داری،دوستی ،بیوی ،بچوں، والدین،اولاد کے حقوق الغرض زندگی کاکوئی معاملہ بھی ایسا نہیں کہ جس کی راہنمائی رسولُ اللّٰهﷺ نے نا کی ہو

    اصحابؐ محمدﷺ کاانداز کیاان کو مقام ومرتبہ کس وجہ سے ملا کہ اسؤہ رسول پہ اپنی زندگی بسرکرتے تھے جوبھی حکم ملتا ان کا کام "سمعناواطعنا” (سننااور فورا عمل کرنا) تھا شراب کی حرمت کامعاملہ دیکھ لیں حکم جاری ہوتے ہی ذخیرہ شدہ کو فورا بہادیا
    ایک دن آپؐ خطبہ ارشاد فرما رہے آپ نے کہا "اجلسوا”!
    بیٹھ جاؤ ایک صحابی کہ جو دروازے کی دہلیز پہ تھے وہی بیٹھ گۓایک قدم اٹھانا بھی گوارہ ناکیا
    اللہ تعالی نے پھر مقام کیا دیا
    انکو رضی اللہ عنہ کاسرٹیفیکٹ زندگی میں ہی عطاء کردیا

    ہم بھی نیک اعمال کس وجہ سے کرتے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجاۓ

    آج ہماری حالت کاایک سبب یہ کہ ہم نے اسؤہ رسولؐ سے روگردانی کی اور جن کی مخالفت کا حکم ملا تھا(یہود ونصری)ان کو اپنا آئیڈیل بنا لیا۔

    شاعر نے بھی کیاخوب عکاسی کی
    تمہاری تہذیب اپنےہی خنجر سے خود کشی کرے گی
    شاخ نازک یہ جو آشیانہ بنے گا ناپائدار ہوگا

    اللہ ہمیں اسؤہ رسول پہ زندگی بسر کرنے کی توفیق دے،آمین

  • ہائے غربت.تحریر:مبین خان

    ہائے غربت.تحریر:مبین خان

    کثر و بیشتر لوگ کہا کرتے ہیں کہ غریبوں سے ہمدردی کرنا چاہیے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ غریبی بہت اچھی چیز ہے، اسلام غریبی میں پھلا پھولا ہے، کبھی کسی غریب کو دیکھا تو کہا ہائے ہائے، کبھی غریب کو دیکھا تو بات بھی نہیں کی، کبھی ساتھ بیٹھنے بھی نہیں دیا، بعض لوگ ساتھ لیکر کہیں جانے کے لئے تیار نہیں، بعض لوگ بات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔

    انسان جب کسی دوسرے کو اپنے سے بھی زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہے تو کچھ تسلی ہوتی ہے،اسے کچھ جینے کا حوصلہ ملتا ہے
    انسان جب کسی دوسرے کو اپنے سے بھی زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہے تو کچھ تسلی ہوتی ہے،اسے کچھ جینے کا حوصلہ ملتا ہے کہنے کو تو ہر امیر ہر دولتمند یہ بات کہتا ہے کہ پیسہ ہاتھ کی میل ہے آج میرے ہاتھ کل کسی اور کے ہاتھ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دولتمند ہوتے ہی مزاج کیوں بدل جاتا ہے۔معلوم یہ ہوا کہ یہ بات وہ ایک محاورے کے طور پر کہہ رہا ہے، دکھاوے کے لئے کہہ رہا ہے حقیقت میں اسے اس بات کا یقین ہے کہ آج میرے پاس پیسہ ہے تو سب کچھ ہے میں جو چاہوں کرسکتا ہوں حکومت بھی غریبی کے خاتمے کا نعرہ بلند کرتی ہے بلکہ پوری دنیا غریبی کے خاتمے کی بات کرتی ہے لیکن جب سے دنیا قائم ہوئی ہے تب سے امیری و غریبی دونوں ہیں، اس لیے کہ یہ نظام الٰہی ہے اور ویسے بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا میں ہر شخص ایک برابر ہوتا تو دنیا میں کیسے امن و امان قائم رہتا۔جب دنیاوی سطح پر یہ نظام قائم ہے کہ ہر آدمی ایک برابر نہیں ہے تو پھر قدرت کے قانون کو کیسے چیلنج کیا جاسکتا ہے اگر قدرت نے سب کو ایک برابر کیا ہوتا تو سب ووٹ مانگتے پھر ووٹ دیتا کون۔
    پوری دنیا کے انسانوں کا چہرہ الگ الگ ہے، آنکھوں کا لینز الگ ہے، ہاتھوں کا فینگر الگ الگ ہے یہ تینوں چیزیں اس بات کا اعلان کررہی ہیں کہ قدرت کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے اے انسانو! اگر قدرت تمہیں چھپر پھاڑ کر دے سکتی ہے تو چمڑی ادھیڑ کر لے بھی سکتی ہے اس لئے غریبوں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو، غریبوں کا دل نہ دکھاؤ فرعون لاؤ لشکر سمیت دریائے نیل میں غرق کردیا گیا، قارون خزانہ سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا، نمرود کو ایک مچھر کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا، شداد کو خود اس کی بنوائی ہوئی جنت کی چوکھٹ پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیاپھر آج کا انسان کس کھیت کی مولی ہے جو یہ سوچ رہا ہے کہ ہم مالدار ہیں تو ہمارا بال بیکا نہیں ہوسکتا ایک دولتمند کے گھر میت ہوتی ہے پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح خبر پھیل جاتی ہے اس کے آخری رسومات میں لوگوں کا اژدہام ہے

    تاحد نگاہ جم غفیر ہے بڑے بڑے امراء، رؤسا، حکمراں سب کے سب آئے ہوئے ہیں، ایک غریب گھرانے میں موت ہوتی ہے کسی کو پتہ بھی چلتا ہے تو اسے کوئی حیرت نہیں ہوتی وقت مقررہ پر اس کے قریبی ساتھی رشتہ دار کاندھے پر اٹھاتے ہیں آخری رسومات ادا کرتے ہیں اور اسی مٹی میں اسے بھی دفن کیا جاتا ہے۔دنیا میں رہنے کا طریقہ الگ الگ، سوسائٹی الگ الگ نہ دولتمند کے ساتھ ایک دو لوگ دوچار دن قبر میں سونے کے خواہشمند ہوئے نہ غریب کے ساتھ تو پھر یہی احساس وقت رہتے کیوں نہیں ہوتا، جب آخری وقت ہوتا ہے تو غلطی کی معافی تلافی کی جاتی ہے آخر یہی کام صحتمند رہتے ہوئے کیوں نہیں کیا جاتا،، کتنی رشتہ داریاں بگڑجاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، کتنی دوستیاں ختم ہو جاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، نکاح اور شادی بیاہ کو مشکل بنادیا گیا ۔امیری اور غریبی کے نام پر، جہیز کا بازار بھی لگایا جاتا ہے اور جہیز کی آڑ میں موت کے گھاٹ بھی اتارا جاتا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے۔
    ایک طرف کوئی مخمل کے بستر پر سوتا ہے دوسری طرف کوئی اخبار بچھا کر فٹ پاتھ پر سوتا ہے زندگی کا گذر بسر تو دونوں کا ہورہا ہے لیکن ایک کا آرام سے دوسرے کا تکلیف سے لیکن آج کے حالات پر نظر دوڑا نے سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ انسانوں کی بھیڑ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر انسانیت میں کمی آتی جارہی ہے غریبی کے خاتمے کا خواب دکھا کر سیاست تو خوب کی جاتی ہے مگر غریبوں کو راحت پہنچانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاتا اب تو دینی، سیاسی، سماجی غرضی کہ ہر شعبے ہر میدان میں امیری اور غریبی کی کھائی بڑھتی جا رہی ہیزکوٰۃ کی رقم دے کر بھی بہت سے لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں ملتا جب تک کہ چار آدمی سے ذکر نہ کر دیں حالانکہ اسلامی تاریخ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے ایک غریب آدمی کے پاس امدادی رقم بھیجی تو یہ کہدیا تھا کہ ان سے یہ نہ بتانا کہ یہ رقم کس نے دی ہے،

    ان سے تم بھلے سلام کرنا لیکن میرا سلام نہ کہنا، ہوسکے تو ان کے ہاتھ میں رقم نہ دیکر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے ان کے قریب رکھ دینا وہ صاحب جب رقم دیکر واپس آئے تو حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ آپ نے اپنا سلام کہنے سے کیوں منع کیا اور دوسری بات یہ کہ پیسہ ہاتھ میں دینے سے کیوں منع کیا تو حضرت عائشہ ؓنے کہا کہ تم میرا سلام کہتے تو ہوسکتا ہے کہ وہ پھر کبھی ایسی حالت میں ہوتے کہ انہیں پھر امداد کی ضرورت پڑتی اور مجھ تک پیغام یہ سوچ کر نہیں پہچا تے کہ ان کے پاس سے ایک بار امدادی رقم آچکی ہے۔
    اس لیے میں نے یہ سوچا کہ انہیں معلوم ہی نہ ہو کہ یہ رقم عائشہؓ نے بھیجی ہے اور ہاتھ میں نہ دینے کے لیے اس وجہ سے کہا کہ تم ہاتھ میں دیتے تو ہوسکتا تھا کہ ان کا ہاتھ نیچا ہوتا اور تمہارا ہاتھ اوپر ہوتا تو کہیں تمہارے دل میں یہ خیال نہ پیدا ہوجاتا کے لینے والے کا ہاتھ نیچے اور دینے والے کا ہاتھ اوپر ہے تو کہیں تم تکبر نہ کر بیٹھتے بہت سے علماء کرام نے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓنے اپنے بھانجے عروہ کویہ رقم بھیجی تھی۔
    بہر حال اس واقعے سے امدادی سامان و رقم کا پرچار پرسار کرنے والوں کو عبرت حاصل کرنا چاہیئے بلکہ اس واقعے سے ہر خاص و عام کو سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جو مالدار تھے وہ اپنی دولت سے جنت کا سامان خریدا کرتے تھے اور آج کا مسلمان بھی مدارس سے لیکر خانقاہوں تک صرف مرغ و ماہی کا انتظام کرنے والوں اور مٹھیوں کو موٹی موٹی رقم سے گرم کرنے والوں کو اہمیت دیتا ہے اور غریب مریدین تک کو قریب تک بیٹھنے کی جگہ نہیں دیتا کوئی بڑے حوصلے سے دعوت دیتا ہے تو اس کے وہاں جانے سے کتراتے ہیں اور کسی کے ہاں اس انداز سے جاتے ہیں کہ کھانے کے بعد دسترخوان پر ہاتھ اٹھاکر اجتماعی دعا تک کرتے ہیں۔
    کیا اس سے غریبوں کو ٹھیس نہیں لگتی، کوئی آپ کو نذرانہ دے تو اس سے مصافحہ کریں اور گلے بھی لگائیں اور کوئی ہاتھ بڑھائے تو اسے اشاروں اشاروں میں کہیں ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے تو کیا اس غریب مرید کو ٹھیس نہیں پہنچے گی پھر بھی اسٹیج سے خطابت کے انداز میں کہیں کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے تو دنیا چاہے کچھ بھی کہے میں تو یہی کہوں گا کہ ایسا کرنے والا رہنما نہیں بلکہ روٹی توڑ فقیر ہے، یہ واعظ نہیں بلکہ یہ ایک شعبدہ باز ہے اس کا انداز خطابت ایک فن ہے ،فن سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
    ہر انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو تو آتے ہی ہیں اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کوئی بھی انسان اچھے برے حالات سے بھاگ نہیں سکتا ہے انسان کے لیے لازمی ہے کہ وہ اچھے اور موافق حالات میں اللہ رب العزت کا شکر ادا کرے اور غرور و تکبر سے بچنے کی کوشش کرے اور برے حالات کا مقابلہ بھی اعتماد اور خوش اسلوبی سے کرے اور کبھی بھی اپنی زندگی سے بیزار اور ناامید نہ ہو جائے کیوں کہ نہ ہی اچھے حالات ہمیشہ کے لیے رہتے ہیں اور نہ ہی برے حالات، لیکن برے حالات میں کام آئے لوگ ہمیشہ یاد رہتے ہیں ان ہی برے حالات اور مصائب میں ایک پریشانی اور مسئلہ غریبی ہے یہ ایسی بیماری ہے کہ جس کو بھی لگ جاتی ہے اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی غریب انسان کسی کا نہیں رہتا اور نہ ہی اسے کوئی اپناتا ہیں یہاں تک کہ سگے بھائی بہن بھی ایسے شخص سے رشتہ ناطہ رکھنا گوارا نہیں کرتے۔
    انساں سے غریب انسان اپنا بسر اوقات کیسے مہیا کرتا ہے یہ صرف ایک غریب ہی جانتا ہے۔ ہمیں غریب کا مذاق اڑا کر ان کا دل نہیں دکھانا چاہیئے کیونکہ غریب ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ غریب انسان دن رات ایک کر کے اپنے اہل و اعیال کے لیے دو وقت کا کھانا ممکن بنا تا ہے بہت سے غریب لوگ غربت سے تنگ آ کر مختلف جرائم میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا خدا نخواستہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر کے سنگین جرم کے مرتکب ہوتے ہیں حالانکہ مجرم بننے کے لیے، یا خودکشی جیسا سنگین قدم اٹھانے کے لیے غریب ہونے کی دلیل دینا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے لیکن غربت کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ضرور ہوتا ہے اور بہت سے لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے آئے دن سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ویڈیوز اور پوسٹس نظر آتے ہیں جن میں مختلف سماجی کارکن کسی غریب کی حالت زار سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے مفلوک الحال لوگوں کے لیے مدد کی درخواست بھی کی جاتی ہے ساتھ ہی ضرورت مند لوگوں کا اکائونٹ نمبر بھی دے دیا جاتا ہے جس سے پیسہ براہ راست ضرورت مند کے کھاتے میں جاتا ہے اور گڑبڑ کی زیادہ گنجائش نہیں رہتی یہ ایک اچھا کام ہے بلکہ اس عمل کو سراہا جانا چاہئے کیوں اس طرح بہت سے غریب لوگوں کی مدد ہو جاتی ہے بہت سے بیمار لوگوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے ایسی درجنوں مثالیں دی جا سکتی ہیں

    جہاں لوگوں کی اس طریقے سے بہت مدد کی گئی یہ سوشل میڈیا کا بہترین استعمال ہے لیکن حیرت تب ہوتی ہے جب بہت سے صاحب ثروت لوگوں کو میڈیا کے ذریعے ہی پتا چلتا ہے کہ ان کا ہمسایہ اتنا غریب ہے کہ وہ اپنی داستان لے کر سوشل میڈیا پر آ گیا ہے آخر ہمارے آس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی غربت ہمیں نظر کیوں نہیں آتی؟ ہمیں بھی پتہ کیوں نہیں چلتا کہ ہمارے ارد گرد کتنی بیوائیں ہیں جن کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے؟ کتنے یتیم بچے ہیں جو محض غربت کی وجہ سے تعلیم چھوڑ کر مزدوری کرتے ہیں؟ کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جن کی عمر ڈھلتی جا رہی ہے لیکن محض غربت کی وجہ سے ان کی شادی نہیں ہو پاتی ہے؟ کتنے ایسے بیمار ہونگے جن کے پاس ادویات کے لئے پیسے نہیں ہونگے؟ اور کتنے ایسے گھر ہونگے جہاں کئی کئی دنوں تک چولھا نہیں جلتا ہو گا؟

    آخر ہم سوشل میڈیا کا انتظار کیوں کرتے ہیں شاید محض اس وجہ سے کہ وہ ہمارے آس پڑوس میں رہتے ہیں ہمیں ان کی غربت نظر نہیں آتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے لوگوں کو سوشل میڈیا پر پوری دنیا کو اپنے حالات بتانے پڑتے ہیں لیکن بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو غربت میں گھٹ گھٹ کر جینا پسند کرتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر نہیں آتے ہیں ایسے لوگوں تک پہنچنے کے لئے بہترین راستہ یہی تھا کہ صاحب ثروت لوگ اپنی آنکھوں سے پردہ ہٹا کر اپنے آس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی خفیہ طور پر مدد کر کے اللہ کے دربار میں خوشنودی حاصل کریں۔غریبی غریب انسان کے لئے تو امتحان ہے ہی ساتھ ہی یہ صاحب ثروت لوگوں کے لیے بھی آزمائش کی گھڑی ہوتی ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب کورونا کی وبانے غریب افراد کا جینا محال کردیا ہے۔
    تحریر:مبین خان
    سٹی خان پور ضلع رحیم یار خان.

  • ‏نعت گوئی. تحریر: عترت آبیار

    ‏نعت گوئی. تحریر: عترت آبیار

    نعت گوئی ایسی صنف ادب ہے جس میں طبع آزمائی کرتے ہوے شعرا حضرات بہت احتیاط کرتے ہیں.عربی میں ”مدح“ کا لفظ استمال ہوتا ہے جبکہ اردومیں نعت ایسے اشعار کو کہتے ہیں جو صرف آپﷺ کی شان ممدوحہ میں کہے گیۓ ہوں اس کا اطلاق نظم و نثر دونوں پر ہوتا ہے.انبیا ،اولیا، یا عام انسان ‏ہر ایک کی تعریف وستاٸش اس ضمن میں شامل ہوتی ہیں اگر کسی زندہ انسان کی خوبیاں بیان کی جاٸیں تو مدح کہلاتی ہے جبکہ مرنے کے بعد خوبیاں بیان ہوں تو مرثیہ کہلاتا ہے،مگر آپ ﷺ کی ذات گرامی اس قاعدے سے مستثنٰی ہے .آپﷺانسانِ کامل ہیں اور بشری صفات کا اعلٰی و ارفع نمونہ ہیں،قرآن مجید میں ‏خود آپ ﷺ کی سیرت و مکارم اخلاق کا آٸینہ دار ہے اسی وجہ سے نعت کے فن میں مبالغہ اور غلو کی کوٸ گنجاٸش نہیں ہے،اسی لیۓمولانا جامی فرماتے ہیں
    ہزار بار بشویم دہین بہ مشک وگلاب
    ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است

    حضرت ابو طالب نے سب سے پہلے نعت گوئی کی ابتدا کی،سیرت النبی میں ابن ہشام ‏نے ایک قصیدہ کے سات ایسے اشعار نقل کیۓ ہیں جو حضرت ابو طالب نے آپﷺکی مدح اور اپنے خاندان کی خصوصیات میں کہے .بعد میں اصحاب رسولﷺ کے ہاں بھی نعت گوئی کا سلسلہ چلتا رہا جس کی توثیق آپ ﷺ نے خود فرمائی حضرت حسان بن ثابت نے نذرانہ عقیدت پیش کر کے بارگاہ رسالتﷺسے ”شاعر رسول“ کا خطاب ‏پایاایک اور جلیل القدر صحابی حضرت کعب بن زہیر بن ابی سلمیٰ کے طویل قصیدے”قصیدہ بردہ“کے صرف ایک شعر پر ہزاروں شعری مجموعہ و بیاضیں قربان کہ اس پر آپﷺ نے اپنا پیراہین مبارک عطا فرما کر شاعر اور شعر دونوں کو حیات جاوداں عطا کی. یہ قصیدہ”قصیدہ بردہ بانت سعاد “ کے نام سے بھی جانا ‏جاتا ہے اس کو چادر والا قصیدہ بھی کہتے ہیں . قصیدہ بردہ کے نام سے امام بوصیری کا بھی ہے جنیہں آپﷺنے عالم رویا میں چادر سے نوازایہ برس ہابرس سے زبان زد خاص وعام چلا آرہا ہے،
    مولای صل وسلم داٸماً ابدًا
    علی حبیبک خیر الخلق کلھمہ

    اردو نعت کا باقاعدہ آغاز سلطان محمد قلی قطب شاہ سے ‏ہواجو سولہویں اور سترہویں صدی کے صاحب دیوان شاعر تھے جدید نعت گوئی کا آغاز مولانا الطاف حسین حالی سے ہوا
    وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
    مردیں غریبوں کی بر لانے والا
    مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
    وہ اپنے پراۓ کا غم کھانے والا

    مولانا حالی کا نعتیہ کلام کم مگر اعلیٰ معیار کا ہے.‏اردو کےتقریباً تمام شعرا نے نعت گوٸ میں حصہ ڈالنے کی سعی کی ہے اس صنف میں کبیر داس بھی شامل ہیں جن کے دوہے کا ایک مصرعہ مشہور ہے
    کہت کبیر سنو بھٸ سادھو نام محمدﷺآۓ
    علامہ اقبال کہتے ہیں
    لوح بھی تو قلم بھی تو ترا وجود الکتاب
    گنبد آبگینہ رنگ ترے محیط میں حباب ‏عالم آب و خاک میں ترے ظہور سے
    فروغ ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب
    امیر مینائی کچھ اس انداز میں لکھتے ہیں
    مدینے جاٶں پھر آٶں مدینے پھرجاٶں
    تمام عمر اسی میں تمام ہوجائے
    حفیظ تاٸب لکھتے ہیں
    میرے غم خانے کو ہے ان کی توجہ درکار
    جن کو آتا ہے تبسم سے اجالا کرنا
    فراق کہتے ہیں ‏مدینے میں اگر پیدا ہوا ہوتا تو کیا ہوتا
    محمد کی گلی بھیتر فنا ہوتا تو کیا ہوتا

    محسن کاکوری،جگر مرادآبادی،ماہرالقادری،جلیل مانک پوری ،تسنیم فاروقی،امیر مینائی،ابرار کرنپوری،ماجد دیو بندی اوربہت سے دوسرے حضرات نے اس صنف میں قابل قدر اضافہ کیاموجودہ نعتیہ شاعری عہد نبوی سے شروع ہونے ‏والی روایات کا جان دار اور شان دار تسلسل ہےاور حالی و اقبال کے وسیلے سے عصر حاضر کے شعرا تک پہنچی پھر ریڈیو ،ٹی وی،پرنٹ میڈیا،فلم،نعتیہ مشاعروں ،مجالس،میلاد اور دینی محافل کے ذریعے فروغ پا کر آج ہمارے سامنے بے بہا خزانہ بن کر ابھری ہے
    ماخذات
    تاریخ گوئی نور کی ندیاں
    ڈاکڑ عزیز احمد

  • ڈپریشن بیماری ہے.تحریر: ماشا نور

    ڈپریشن بیماری ہے.تحریر: ماشا نور

    جہاں ایک طرف باہر ممالک میں ڈپریشن کو باقاعدہ بیماری تسلیم کرکے اس کا علاج کیا جارہا وہی پاکستان میں اس بیماری پر بہت کم لوگ بات کرتے یا اس کو مانتے ہیں اکثر لوگ کہتے ہیں ڈپریشن کوئی بیماری نہیں یہ کردار کی کمزوری ہے یا پھر انسان کے کسی گناہ کا احساس جو اسکو پریشان کرتا ہے اس کے علاوہ اگر آپ کے مالی حالات اور اردگرد کا ماحول ناساز ہے تو یہ بھی ذہنی تناؤ اور دباؤ کا باعث بنتا ہے ڈپریشن کی مختلف وجوہات ہیں سب سے پہلے مالی پریشانی پاکستان میں 25 فیصد لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے گھریلوں مسائل ہوں یا شادی کا نا ہونا ایسے میں خواتین میں غصہ پایا جاتا ہے کہا جاتا ہے غصہ نارمل انسان کو آتا ہے جو کافی حد تک ٹھیک ہے مگر بات بات پر غصہ، ناراضگی، بیزاری، یہ ڈپریشن کی علامات ہیں ڈپریشن کے نتیجے میں کچھ افراد کو ذہنی بے چینی، تشویش، ناکارہ ہونے یا منفی خیالات کا سامنا ہوتا ہے
    سونے میں مشکل ڈپریشن کے شکار افراد کو اکثر تھکاوٹ اور جسمانی توانائی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے مگر ان کے لیے رات کو سونا بھی آسان نہیں ہوتا
    آدھے سر کا درد بھی ڈپریشن سے جڑا ہوا ہوسکتا ہے، ڈپریشن نہ صرف سردرد کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے مریضوں میں آدھے سر کے درد کی شکایت عام ہوتی ہیں،بہت سارے ایسے کیسز بھی ہمیں پاکستان میں دیکھنے کو ملے جہاں طلبہ نے امتحان میں ناکامی کے بعد خودکشی کی جب والدین اپنے بچوں پر پریشر ڈالتے ہیں کے تم نے نمایاں کامیابی حاصل کرنی ہے تب وہ اسٹوڈنٹ ذہنی اذیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ناکام ہونے پر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں ڈپریشن کے مریض یا تو بہت زیادہ بولتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں ایسے میں انکی مدد کرنے کا طریقہ یہی ہے جو خاموش ہیں ان سے بات کی جائے ہوسکتا ہے وہ پہلے کسی سے بات نا کرنا چائیں بہت سے کیسز میں ڈپریشن کے شکار لوگوں نے کسی کو کچھ نا بتایا بلکہ خودکشی کو ترجیح دی ایسے لوگوں کو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ان سے پوچھا جائے کے آخر پریشانی کیا ہے ڈپریشن ایک میڈیکل کنڈیشن ہے جس کی ذمہ داری مریض پر نہیں ہے اور اس کا موثر علاج موجود ہے کونسلنگ یا سائیکالوجیکل سیشن سے علاج جبکہ سائیکیٹرسٹ کچھ مخصوص ٹیسٹوں کے بعد آپ کے لیے دوائی تشخیص کرتے ہیں۔ عام طور پر ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں علاج ساتھ ساتھ چلتے ہیں اگرچہ ڈپریشن کو کم کرنے یا ختم کرنے کی ادویات اور کونسلنگ سے خودکشی کرنے کی سوچ میں کمی ہو سکتی ہے لیکن یہ ہر مریض کے لیے بہترین علاج نہیں ہے ایسے مریضوں کو ایک خاص وقت لگتا ہے اس بیماری سے باہر آنے میں جس میں گھر والے، دوست اہم کردار ادا کرسکتے ہیں
    ایک برطانوی باکسر نے اپنے انٹرویو میں بتایا کے وہ ڈپریشن کا شکار ہیں جس سے جان چھڑانے کے لیے انہونے نشہ لینا شروع کردیا وہ کہتے کے انکو محسوس ہوتا جیسے وہ خود کو کچھ وقت میں مار لینگے، بہت سے لوگ شراب، ڈرگس، کا استعمال شروع کردیتے ہیں لوگوں سے میل جول ترک کرکے وہ خود کو تنہا نشے کا عادی بنالیتے جسکا انجام ایک دن خودکشی ہوتا ہے جب کوئی نارمل انسان اچانک خاموش ہوجاے یا بہت زیادہ بات کرنے لگے غصہ کرنے لگے تو ہم اسکو دھتکار دیتے ہیں نفساتی کہہ کر اگنور کرتے جو غلط ہے ایسے مریضوں کو اکیلا نا چھوڑیں ان پر نظر رکھیں ان کی حرکات پر نظر رکھیں احساس کمتری جلن حسد یہ سب انسان کو ڈیریشن کا شکار بنا دیتا ہے
    ڈپریشن سے کیسے باہر نکلا جاے
    اگر ڈپریشن کی نوعیت زیادہ نہیں تو آپ اچھی خوراک لیں وقت پر مکمل نیند پوری کریں موبائل کا استعمال ضرورت سے بہت زیادہ نا کریں باقاعدہ واک کریں فیملی دوستوں میں وقت گزاریں اور اپنے آپ کو خوش رکھیں لیکن اگر ڈپریشن کی علامات بہت زیادہ ہے جس کے باعث آپ کے روزمرہ کے معمولات متاثر ہو رہے ہیں یا گھر والے، دوست یا آس پاسں کے افراد کہہ رہے ہیں کہ آپ میں کوئی واضح تبدیلی آرہی ہے تو اسکی صحیح تشخیص کے لیے آپ کو پروفیشنل کی مدد لینی ہوگی اور اس میں دیر نا کریں کوئی آپکا پیارا اس بیماری کا شکار ہے تو لازمی اسکی مدد کریں

  • حلیمہ سعدیہ ؓ کی گود میں. تحریر: فاطمہ بلوچ

    حلیمہ سعدیہ ؓ کی گود میں. تحریر: فاطمہ بلوچ

    اس زمانے میں عرب کا دستور یہ تھاکہ جب ان کے ہاں کوئی بچہ ہوتا تو وہ دیہات سے آنیوالی دائیوں کے حوالے کردیتے تھے تاکہ دیہات میں بچے کی نشوونمابہتر ہواوروہ خالص عربی زبان سیکھ سکے-
    دائیوں کا قافلہ مکہ میں داخل ہوا_انہوں نے ان گھروں کی تلاش شروع کی جن میں بچے پیدا ہوئے تھے-اس طرح بہت سی دائیاں جناب عبد المطلب کے گھر بھی آئیں-نبی کریمﷺکو دیکھالیکن جب انہیں معلوم ہواکہ یہ بچہ تو یتیم پیدا ہواہے تو اس خیال سے چھوڑکر آگے بڑھ گئیں کہ یتیم بچے کے گھرانے سے انہیں کیاملے گا-اس طرح دائیاں آتی رہیں، جاتی رہیں…کسی نے آپ کو دودھ پلانامنظور نہ کیااور کرتیں بھی کیسے؟ یہ سعادت تو حضرت حلیمہؓ کے حصے میں آناتھی-
    جب حلیمہ ؓ مکہ پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا، سب عورتوں کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیاہے اور اب صرف وہ بغیر بچے کے رہ گئیں ہیں اور اب کوئی بچہ باقی نہیں بچا، ہاں ایک یتیم بچہ ضرور باقی ہے جسے دوسری عورتیں چھوڑ گئیں ہیں-
    حلیمہ سعدیہؓ نے اپنے شوہر عبد اللہ ابن حارث سے کہا:
    خدا کی قسم! مجھے یہ بات بہت ناگوار گزر رہی ہے کہ میں بچے کے بغیر جاؤں دوسری سب عورتیں بچے لے کر جائیں، یہ مجھے طعنے دیں گے، اس لیے کیوں نہ ہم اسی یتیم بچے کو لے لیں۔”
    عبداللہ بن حارث بولے:
    "کوئی حرج نہیں! ہوسکتا ہے، اللہ اسی بچے کے ذریعے ہمیں خیروبرکت عطا فرمادیں۔”
    چنانچہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا عبدالمطلب کے گھر گئیں۔جناب عبدالمطلب اور حضرت آمنہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔پھر آمنہ انہیں بچے کے پاس لے آئیں۔آپ اس وقت ایک اونی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔وہ چادر سفید رنگ کی تھی۔آپ کے نیچے ایک سبز رنگ کا ریشمی کپڑا تھا۔آپ سیدھے لیٹے ہوئے تھے، آپ کے سانس کی آواز کے ساتھ مشک کی سی خوشبو نکل کر پھیل رہی تھی۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں۔آپ اس وقت سوئے ہوئے تھے، انہوں نے جگانا مناسب نہ سمجھا۔لیکن جونہی انہوں نے پیار سے اپنا ہاتھ آپ کے سینے پر رکھا، آپ مسکرادیے اور آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "میں نے دیکھا، آپ کی آنکھوں سے ایک نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا، میں نے آپ کو گود میں اٹھا کر آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیانی جگہ پر پیار کیا۔پھر میں نے آپ کی والدہ اور عبدالمطلب سے اجازت چاہی، بچے کے لیے قافلے میں آئی۔میں نے آپ کو دودھ پلانے کے لیے گود میں لٹایا تو آپ دائیں طرف سے دودھ پینے لگے، پہلے میں نے بائیں طرف سے دودھ پلانا چاہا، لیکن آپ نے اس طرف سے دودھ نہ پیا، دائیں طرف سے آپ فوراً دودھ پینے لگے۔بعد میں بھی آپ کی یہی عادت رہی، آپ صرف دائیں طرف سے دودھ پیتے رہے، بائیں طرف سے میرا بچہ دودھ پیتا رہا۔

    پھر قافلہ روانہ ہوا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "میں اپنے خچر پر سوار ہوئی۔آپ کو ساتھ لے لیا۔اب جو ہمارا خچر چلا تو اس قدر تیز چلا کہ اس نے پورے قافلے کی سواریوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔پہلے وہ مریل ہونے کی بنا پر سب سے پیچھے رہتا تھا۔میری خواتین ساتھی حیرانگی سے مخاطب ہوئیں:
    "اے حلیمہ! یہ آج کیا ہورہا ہے، تمہارا خچر اس قدر تیز کیسے چل رہا ہے، کیا یہ وہی خچر ہے، جس پر تم آئیں تھیں اور جس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل تھا؟ ”
    جواب میں میں ان سے کہا:
    "بےشک! یہ وہی خچر ہے، اللہ کی قسم! اس کا معاملہ عجیب ہے۔”

    پھر یہ لوگ بنو سعد کی بستی پہنچ گئے، ان دنوں یہ علاقہ خشک اور قحط زدہ تھا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "اس شام جب ہماری بکریاں چر کر واپس آئیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے تھے جب کہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا، ان میں سے دودھ بہت کم اور بہت مشکل سے نکلتا تھا۔ہم نے اس دن اپنی بکریوں کا دودھ دوہا تو ہمارے سارے برتن بھرگئے اور ہم نے جان لیا کہ یہ ساری برکت اس بچے کی وجہ سے ہے۔آس پاس کی عورتوں میں بھی یہ بات پھیل گئی، ان کی بکریوں بدستور بہت کم دودھ دے رہی تھیں۔
    غرض ہمارے گھر میں ہر طرف، ہر چیز میں برکت نظر آنے لگی۔دوسرے لوگ تعجب میں رہے۔اس طرح دو ماہ گزر گئے۔دو ماہ ہی میں آپ چلنے پھرنے لگے۔آپ آٹھ ماہ کے ہوئے تو باتیں کرنے لگے اور آپ کی باتیں سمجھ میں آتیں تھیں۔نو ماہ کی عمر میں تو آپ بہت صاف گفتگو کرنے لگے۔

    اس دوران آپ کی بہت سی برکات دیکھنے میں آئیں۔حلیمہ سعدیہ فرماتی ہیں:
    "جب میں آپ کو اپنے گھر لے آئی تو بنو سعد کا کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا۔جس سے مشک کی خوشبو نہ آتی ہو، اس طرح سب لوگ آپ سے محبت کرنے لگے ۔جب ہم نے آپ کا دودھ چھڑایا تو آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے:
    اللہ اکبرکبیراوالحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا
    یعنی اللہ تعالٰی بہت بڑاہے، اللہ تعالی کے لئے بے حد تعريف ہے، اور اس کےلئے صبح وشام پاکی ہے،، ۔
    پھر جب آپ ﷺدو سال کے ہو گئے تو ہم آپ کو لےکر آپ کی والدہ کے پاس آئے، اس عمر کو پہنچنے کے بعد بچوں کو ماں باپ کے حوالہ کردیا جاتاتھا ۔ادھر ہم آپکی برکات. دیکھ چکےتھے اور ہماری آرزو تھی کہ ابھی آپ کچھ اور مدت ہمارے پاس رہیں، چنانچہ ہم نے اس بارے میں آپ کی والدہ سے بات کی، ان سے یوں کہا ;
    ،، آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم بچےکو ایک سال اوراپنے پاس رکھیں، میں ڈرتی ہوں، کہیں اس پر مکہ کی بيماريوں اور آب و ہوا کااثر نہ ہوجائے،، ۔
    جب ہم نے ان سے باربار کہا تو حضرت آمنہ مان گئیں اورہم آپ کو پھر اپنے گھر لے آئے۔جب آپ کچھ بڑے ہو گئے تو باہر نکل کر بچو ں کو دیکھتے تھے ۔وہ آپ کو کھیلتے نظر آتے، آپ ان کے نزدیک نہ جاتے، ایک روز آپ نے مجھ سے پو چھا;
    ،، امی جان ” کیا بات ہے دن میں میرے بھائ بہن نظر نہیں آتے? آپ اپنے دودھ شریک بھائ عبداللہ اور بہنوں انیسہ اور شیما کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں; میں نے آپ کو بتایا، وہ صبح سویرے بکریاں چرانے جاتےہیں، شام کے بعد گھر آتے ہیں: یہ جان کر آپ نے فرمایا:
    "تب مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا کریں”
    اسکے بعد آپ اپنے بھائ بہنوں کے ساتھ جانے لگے ۔آپ خوش خوش جاتے اور واپس آتے، ایسے میں ایک دن میرے بچے خوف زدہ انداز میں دوڑتے ہوئے آئے اور گھبرا کر بولے:
    "امی جان! جلدی چلئے… ورنہ بھائ محمدﷺ ختم ہو جائیں گے۔”
    یہ سن کر ہمارے تو ہوش اڑ گئے، دوڑ کر وہاں پہنچے، ہم نے آپ کو دیکھا، آپ کھڑے ہوئے تھے، رنگ اڑا ہوا تھا، چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی – اور یہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ کو سینہ چاک کئے جانے سے کوئی تکلیف ہوئی تھی بلکہ ان فرشتوں کو دیکھ کر آپ کی حالت ہوئی تھی -”
    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، ہم نے آپ سے پوچھا:
    "کیا ہوا تھا؟”
    آپ نے بتایا:
    "میرے پاس دو آدمی آئے تھے – وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے – (وہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تھے) ان دونوں میں سے ایک نے کہا:
    ” کیا یہ وہی ہیں؟”
    دوسرے نے جواب دیا:
    "ہاں یہ وہی ہیں -”
    پھر وہ دونوں میرے قریب آئے، مجھے پکڑا اور لٹادیا – اس کے بعد انہوں نے میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے کوئی چیز تلاش کرنے لگے – آخر انہیں وہ چیز مل گئی اور انہوں نے اسے باہر نکال کر پھینک دیا، میں نہیں جانتا، وہ کیا چیز تھی -”
    اس چیز کے بارے میں دوسری روایات میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ایک دانہ سا تھا – یہ انسان کے جسم میں شیطان کا گھر ہوتا ہے اور شیطان انسان کے بدن میں یہیں سے اثرات ڈالتا ہے –
    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، پھر ہم آپ کو گھر لے آئے – اس وقت وہ میرے شوہر عبد اللہ بن حارث نے مجھے سے کہا:
    "حلیمہ! مجھے ڈر ہے، کہیں اس بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، اس لیے اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو

  • پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ کیسے ٹھنڈی ہو گی؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ کیسے ٹھنڈی ہو گی؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے جس کے حصول کا مقصد دین اسلام کا نفاذ تھا، لیکن آج تک سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم اس مقصد کی تکمیل حاصل نہیں کر سکے جس کے لئے ملک حاصل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان میں فرقہ واریت نے اپنے مقصد تک پہنچنے ہی نہیں دیا،پاکستان میں بظاہر تو مسلمان ،لیکن گروہوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں جس کا فائدہ ہمارا دشمن مسلسل اٹھا رہا ہے،کون اکثریت میں ہے کس کی تعداد زیادہ ہے؟ دیکھا جائے تو پاکستان میں اکثریت سنیوں کی ہے اسکے باوجود فرقہ واریت کی لپیٹ میں ہے اسکی بنیادی وجہ جو مجھے دیکھنے کو ملی وہ ہے ایران میں خمینی انقلاب وہاں جب خمینی نے تحریک چلائی اسکے منفی اثرات پاکستان میں پھیلے ،اس تحریک سے پہلے دیکھیں تو پاکستان میں کسی بھی طرح کا فساد فرقہ وارانہ دہشت گردی دیکھنے کو نہیں ملی۔۔۔

    پاکستان میں اہل سنت کے مقدس شخصیات بلکے اسلام کی مقدس شخصیات حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی شان میں گستاخانہ اشعر اور جو تبرا کیا گیا اسکے بعد امت مسلمہ میں جو غم و غصہ پایا گیا اسکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایران سے نفرت انگیز لٹریچر پاکستان لایا جاتا رہا اور عوام کو آپس میں فرقہ واریت کے نام پر لڑوانے کی بھرپور کوشش کی گئی،جب یہ سب ہوا تو پھر پاکستان میں مذہبی جماعتیں وجود میں آئی جن کا مقصد دفاع صحابہؓ اور حضرات صحابہؓ کی ناموس کا دفاع کرنا تھا ،اور ایسے یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا ۔۔۔

    حضرات صحابہ کرامؓ پوری امت مسلمہ کی مقدس شخصیات ہیں جن کے ذریعے ہم تک اسلام پہنچا یہ وہ شخصیات ہیں جن کی تربیت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ،حضرات صحابہؓ کے بارے میں اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں ،”رضی اللہ تعالی عنہ و رضو عنہ”
    جب امت مسلمہ کی عظیم شخصیات کی شان اقدس میں گستاخی کی جائے گئی تو مسلمان کب خاموش رہ سکتے ہیں۔۔

    اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام دشمن عناصر نے پاکستان کو فرقہ واریت میں دھکیل دیا آج ہم سنی،شیعہ دیوبندی،بریلوی اہل دیث،وہابی تو ہیں لیکن کیا ہم مسلمان بھی ہیں؟؟
    یہ سوال ہمیں اپنے دل سے کرنا ہے
    چاہے ہم سنی ہوں یا شیعہ سب سے پہلے انسان ہیں اور اگر ہم اپنے آپ کو کلمہ گو مسلمان سمجھتے ہیں  تو اسلام کی مقدس شخصیات پر تبرا کرنا چھوڑنا ہوگا تبھی جاکر یہ فرقہ واریت کی آگ ٹھنڈی ہوگی۔

  • امریکہ کا پلان بی. تحریر:رانا عزیر

    امریکہ کا پلان بی. تحریر:رانا عزیر

    افغانستان کے حالات فائنل راؤنڈ میں داخل ہوچکے ہیں، اور یہ ایک فیصلہ کن جنگ ہے جس کا اثر اب کابل سے بھارت اور امریکہ تک بھی جائے گا۔ اصل تو اس خانہ جنگی کا مقصد پاکستان کے امن کو تباہ کر کے ہمارےملک پاکستان کو ترقی سے روکنا۔ اب امریکہ نے باقاعدہ اعلان کردیا ہے ان کے ٹاپ کے جرنیل کا یہ کہنا ہے کہ حالات بے قابو ہوچکے ہیں، افغان مجاہدین 100 سے زائد اضلاع کے ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کرچکے ہیں،اور وہ کابل سے 60 میل دور ہیں، جنرل آسٹن ملر کا یہ کہنا تھا، اب وہاں خانہ جنگی ہونے جارہی ہے
    خانہ جنگی امریکہ نے اسی صورت میں کرنی تھی کہ افغان طالبان کابل پر چڑھائی کریں اور ہم حملہ آور ہوجائیں. جیسے پہلے لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے اور پاکستان کے ہر گلی کوچے میں دہشتگردی پھیل گئی تھی، دشمن کے سلیپر سیل ایکٹو ہوگئے تھے تو اب بھی امریکہ اس جنگ میں پاکستان کو اکیلا کرنا چاہتا ہے، عمران خان نے کہا تھا اگر خانہ جنگی ہوئی پاکستان اپنا بارڈر سیل کردے گا اور یہ امریکہ کا پلان چوپٹ ہوگیا۔ امریکہ نے پھر پاکستان میں آزادی کی تحریک چکو جنم دینے کیلے بلوچ کارڈ استعمال کیا اور بلوچستان کو آزاد کرو کی تحریک شروع کرنے کاپلاں کیا، ہمارے گمنام ہیروز نے امریکی خواب چکنا چور کردی۔

    اب امریکہ کا پلان خطرناک ہے۔ وہ پوری دنیا کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنے جارہا ہے اور عمران خان کو اب مزید سکینڈلز کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے. اب امریکہ اس کارڈ کو کھیلنے جارہا ہے کہ پاکستان پر یہ الزام لگائے گا کہ میں نے پاکستان کے وزیراعظم سے دہشتگردوں کے خلاف افغانستان کے لیے فوجی اڈے مانگے تھے تو پاکستان نے دہشتگردوں کو پناہ دی اور ہمیں فوجی اڈے نہیں دیے اور پاکستان نے ان دہشتگردوں کو ہمارے خلاف افغانستان میں استعمال کیا، ایسی رپورٹ امریکہ اقوام متحدہ کے ذریعے شائع بھی کرواچکا ہے حال ہی میں۔

    تو اب امریکہ پاکستان کو بدنام کرکے اور پھر بغیر بتائے اوباما آپریشن یعنی کہ جیسے اسامہ بن لادن کے خلاف ایک جعلی آپریشن کیا اور پاکستان پر داغ لگایا اب وہی صورت حال امریکہ پیدا کرنے جارہا ہے، وہ پاکستان میں بغیر بتائے گھسے گا، ہماری خفیہ ایجنسی اس تاک میں بیٹھی ہوئی ہیں کہ اب ہم انھیں بھرپور جواب دیں گے اور پلٹ کر جواب دیں گے۔

    بھارت بھی اپنے شہریوں کو کہہ چکا ہے، افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہونے جارہی ہے اب اپنی حفاظت کریں اور بھارت یہ الزام بھی لگا رہا ہے کہ دہشتگردی گروپ ان کو اغواء اور نشانہ بنا رہے ہیں، صرف یہ دکھانے کیلئے کہ پاکستان ان دہشتگردوں کی معاونت کررہا ہے، اور اس وقت بھارت میں بالکل پلوامہ والے حالات ہیں، مودھی اب ایک اور الیکشن جیتنے کیلئے اپنے ہی فوجیوں اور لوگوں کو مروائے گا اور الزام پاکستان پر لگائے گا۔ اس سارے پلان کے ساتھ اب دشمن میداں میں اتر رہا ہے۔ عمران خان واضح کر کے ہیں ہم جواب دینے کیلئے تیار ہیں اور دوسری جانب چین اور روس پاکستان کے لیے ہر طرح کھڑے ہونے کیلے تیار ہیں اور وہ پاکستان کی اس جنگ میں بھرپور مدد کریں گے جس کی تشویش امریکہ کو بھی ہے۔

  • بھارتی حملہ. تحریر :ارم رائے

    بھارتی حملہ. تحریر :ارم رائے

    یہ پاکستان ہے۔ اور اس دھرتی پہ صبح کے 3:00AM .ہورہے ہیں لوگ معمول کے مطابق اپنی اپنی خواب گاہوں سوئے ہوِئے ہیں اور کچھ تہجد گزار مسجدوں میں ہیں ، جو اللہ کے حضور سجدہ ریز ہیں اور دعاوں اور سسکیوں میں امت مسلم کی کامیابی و کامرانی کے لیے دعاوں میں مشغول ہیں۔ پرندے کچھ دیر تک چہچہانے میں لگ جائیں گے۔ دو دوست رات گئے کی محفل برخاست کر کے اپنے گھر کی طرف آ رہے ہیں، کہ اچانک ٹینکوں کے گولوں اور جنگی جہازوں کی دل ہلا دینے والی آوازیں سماعتوں سے ٹکرانا شروع ہو جاتی ہیں،لوگ مارے خوف سے ششدر میں ہیں کہ کیا ہو گیا ہے۔دل کی دھڑکنوں کی بے ترتیبی زور پکڑتی ہے ۔ ہیبت ناک اور کلیجے کو پھٹا دینے والی آوازویں بہت قریب ہوتی جارہی ہیں۔ساتھ ساتھ تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ اتنے میں مسجد کے لاوڈ سپیکر سے جان لیوا الفاظ کچھ یوں سنائی دیتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔بزدل بھارت نے لاہور کی جانب سے پھر حملہ کر دیا ہے اور عوام سے اپیل ہے کہ فوجی بھائیوں کے کندھے سے کندھا ملائے۔ اعلان ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اک ماں سب سے پہلے اپنے جوان بیٹے کو کہتی ہے میرے بیٹے آج اسلام اور کفر کی جنگ چھڑ گئ ہے ۔میں اس وقت تک آپ راضی نہیں ہوں گی جب تک تیرا لہو کفر کے شعلے کو ٹھنڈا نہیں کر دیتا۔ یہ سننا تھا کہ بیٹا خالی ہاتھ بارڈر کی طرف دوڑ لگا دیتا ہے۔جب نوجوان بارڈر پر پہنچتا ہے تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر فوجی بھائیوں کی امداد کے لیے نقل و حرکت میں ہے ۔ہر سو عوام ہی عوام ہے ۔عوام کے ہاتھوں میں کوئی نہ کوئی ضروری سامان ہے۔ کسی کے ہاتھ میں پھولوں کے گل دستے ہیں۔بچوں کے پاس پاس پانی کی بو تلیں ہیں۔ تو کسی کے ہاتھ میں میں گھریلو بندوقیں ہیں۔کسی کے ہاتھ میں فروٹ ہیں جو گھر میں رکھے فریزروں سے لئے گئے ہیں۔ ایک کے پاس تو کپڑے میں بندھی ہوئی دال روٹی اور گھر کے دروازے کو توڑ کر لی گئ اک مضبوط چوکھاٹ بھی ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ چوکھاٹ کس لیے لائے ہو تو جواب ملا، جب اسلحہ ختم ہو جائے گا تو جا ئے گا تو یہ چوکھاٹ بندوق بن جائے گی۔۔۔۔اس کے اس جواب نے عوام اور افواج میں مزید انرجی پیدا کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔ فوجی ٹینکوں کو عوام نے اپنے حصار میں گھیر رکھا ہے ۔ہر سو ملی نغموں کی بہار ہے۔ لوگ بارڈر پر سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں ۔آس پاس جنگی جہازوں کی گھن گرج اور ٹینکوں کی ہیبت ناک اوازوں نے دشمن پر دھاک بٹھا رکھی ہے۔ دونوں جانب فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے تھنڈر جہاز اور ایف سولہ جہازوں نے فضا کو دھواں دھواں اور گردو غبار سے آلودہ کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ جنگ ایک میلہ بن گئ ہے جیسے بازار ہو ۔جیسے لوگ خرید و فروخت کے لیے آئے ہوں ۔کسی پر کوئی خوف کے آثار نہیں ہیں ۔مشکل وقت میں اتفاق مشکلات کو بے معنی کر دیتا ہے۔ فوجی بھائیوں سے عوام کی محبت نے جنگ کا پانسہ یک طرفہ کردیا ۔فوجی کو گولی لگتے لگتے ایک عام سے ادمی کے سینے سے گزر جاتی ہے ۔ فوجی زخمی ہوتے ہوتے عام ادمی زخمی ہو جاتا ہے۔ دور سے فوجیوں کو بچانے کے مزید کھدائیاں جاری ہیں۔ یہ جذبہ ایمانی دیکھ کر اور فوج سے محبت نے افواج کے لہو گرما دئے ۔ فوجی دستوں نے نعرہ تکبیر کے فلک شگاف نعرے ایسے لگائےکہ ٹینکوں سے نکلنے والے گولوں کی رفتار دوگنی ہو گئی۔ جہاں اک منٹ میں ایک گولہ جانا تھا وہاں ایک منٹ تین تین گولے دشمن کی طرف نکلے۔ جہاں فضائیہ نے منٹوں میں ہدف تباہ کرنا تھا وہاں سیکنڈوں میں ہدف مکمل ہونے لگا۔ جنگ تیز ہو گئ نتائج فوری آنے لگ گئے۔ ہر پانچ منٹ دشمن کا اہم ترین مقام تباہ ہونے لگا نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعروں نے ایسی توانائی بخشی کہ پاک آرمی کے کے دستے دشمن کی سر زمین میں ٹینکوں کو آگے بڑھاتے گئے۔ٹینک کے گولوں سے دشمن کو نیست و نابود کرتے گئے اور اوپر سے ایف سولہ اور تھنڈر جیسے پاور فل جنگی جہازوں نے دشمن کے علاقے کو تباہ برباد کر کے رکھ دیا۔۔

    ادھر لمبی اور کالی زلفوں والے بڑی اور مضبوط قدو قامت کے مالک اللہ کے شیر کہیں سے آ نکلتے ہیں جیسے یہ غاروں میں سے نکل کے آئے ہوں جیسے یہ خاص وقت کے انتظار میں تھے جیسے یہ آئے نہیں بھیجے گئے ہوں۔جیسے یہ غزوہ ہند کے حصے دار ہوں۔۔ان کی آمد نے جنگ میں ہلچل مچا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے دشمن کی بھاری نفری لاشوں کی شکل اختیار گئ ۔لاشیں لاشیں اتنی پڑی ہیں کہ گدھ سالہا سال مزے ا ڑا سکتے ہیں

    یِہ خواب میں ابھی دیکھ رہی تھی کہ کسی نے مجھے کہا کہ ہندوستان فتح ہو گیا ہے اور دہلی کی بڑی مسجد پر سبز ہلالی جھنڈا لگا دیا گیا ہے۔ آئیے اس لہراتے سبز ہلالی جھنڈے کو دیکھتے ہیں۔اس خوشی میں میری آنکھ کھل گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ آرٹیکل عوام اور افواج کی یکجہتی کے فوائد پر لکھا گیا ہے اسے عوام میں آگہی کے لئے ضرور شیر کیجئے

  • مودی کی نئی سازش . تحریر: نوید شیخ

    مودی کی نئی سازش . تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے بھارت میں کرونا شور زراکم ہورہا ہے تو مودی نے پھر دوبارہ وہ ہی پرانا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے ۔ وہ ہی حربے ، وہی پرانے طریقہ واردات اور وہ ہی اپنی اوقات دیکھانا شروع کر دی ہے ۔ مودی ایک بار پھر پاکستان مخالف ، چین مخالف اور کشمیر مخالف جذبات کو ابھارنے کا گھناونا کھیل شروع کردیا ہے تاکہ بھارتی عوام کو پھر اس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جائے کہ ان کی نظر مودی کی کرونا پر نااہلی ، لداخ اور کشمیر ، جو اس نے بھارت کا معاشی بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ اس پر نہ جائے ۔

    ۔ یوں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فضائیہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کا الزام بھارتی تجزیہ کاروں نے پاکستان پر عائد کر دیا ہے ۔ اور ایک بار پھر بھارت کی جانب سے war mongering
    جاری ہے ۔ حالانکہ جو حقائق ہیں وہ واضح اشارہ ہیں کہ یہ کام کسی اندر کے بندے جیسے RAWکا ایک نیا رچایا ہوا ڈرامہ ہے بلکل پلوامہ جیسا جس کا ملبہ پاکستان پر ڈالا گیا تھا ۔ اور اس کا بھی ملبہ بھی پاکستان پر ڈالنے کی کوشش جاری ہے ۔ ساتھ ہی اس واقعہ کی آڑ میں مودی اور بھارت بڑی بڑی ڈیلیں کرنے کے درپے پر بھی ہے ۔ ۔ حالانکہ جو سوال بنتا تھا کہ مودی جی جنہوں نے بھارتی فضائیہ کو رافیل سے لے کر پتہ نہیں کون کون سے سسٹم اور ریڈار ۔۔۔ غریب بھارتیوں کے پیسے خرچ کر لا کر دیے ہیں ان کی کارکردگی کیا ہے ۔ آخری کیسے بھارتی فضائیہ کے اڈے پر ڈرون حملے ہو گئے ۔ کیا سب بھنگ پی کر سوئے ہوئے تھے ۔ اور RAW کیا کر رہی تھی ۔ دراصل یہ وہ ہی معاملہ ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ ماضی کی طرح ان حملوں کا الزام پاکستان پر اس لیے عائد کیا جا رہا ہے کہ ایک جانب چین ، لداخ اور کشمیر کے معاملات مودی سے بالکل کنڑول نہیں ہو پارہے ہیں تو دوسری جانب کرونا پر خراب کارکردگی اور معیشت کا مودی نے جنازہ نکال دیا ہے ۔

    ۔ دراصل مقبوضہ کشمیر کے جموں ائیر بیس پر پانچ منٹ کے وقفے سے ہونے والے دو زور دار دھماکے اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ کشمیری عوام بھارت کے ہتھکنڈوں کے آگے جھکنے والے نہیں۔۔ ایک دھماکے سے بھارتی فضائیہ کے اڈے کی عمارت کی چھت اڑ گئی جبکہ دوسرا دھماکہ کھلی جگہ پر ہوا۔ دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا اور ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ پورے جموں ڈویژن میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب ائیر فورس اسٹیشن پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہو رہا تھا۔

    ۔ حریت پسندوں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن مقبوضہ کشمیر پولیس چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائیہ کے اڈے پر بم گرانے کیلئے ڈرون استعمال کئے گئے۔ دھماکوں کے شبہے میں دو افراد گرفتار کر لئے گئے ہیں ۔ سرکاری طور پر اگرچہ بتایا گیا ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، صرف دو اہلکار زخمی ہوئے لیکن دھماکوں کے فوری بعد ایک سے زائد ایمبولینسوں کو جائے وقوعہ کے اندر داخل ہوتے دیکھا گیا جس سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کافی جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں جنہیں چھپایا جا رہا ہے۔ قیاس آرائیوں کی بڑی وجہ میڈیا کو جائے وقوعہ میں داخلے اور رپورٹنگ کی اجازت نہ دینا ہے۔ جس سے یہ شبہ بھی پیدا ہورہا ہے کہ یہ بھارت کی اپنی ایجنسیوں کی کارستانی بھی ہوسکتی ہے ۔

    ۔ بھارتی اخباروں میں شائع اور ٹی وی چینلز میں جو کچھ نشر ہو رہا ہے وہ صرف ائیر فورس اور پولیس کے دعوئوں پر مبنی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ پہلا ڈرون حملہ تھا ۔ پولیس کا مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ کشمیری مجاہدین بارودی مواد کی منتقلی کیلئے ڈرونز کو ہی استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب جموں شہرکے علاقے کالوچک میں فوجی مرکز کے قریب مزید دو ڈرونز آئے جن پر بھارتی فوجیوں نے گولیاں چلائیں اور اسکے بعد وہ ڈرون واپس چلے گئے، یہ واقعہ بھارتی فضایئہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کے ایک روز بعد پیش آیا ۔ دھماکوں کی اہمیت اس بنا پر اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ چند روز قبل ہی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت نواز کشمیری رہنمائوں کی کل جماعتی کانفرنس بلائی تھی جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں نام نہاد انتخابات اور حلقہ بندیوں کے حق میں ان کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ جس میں مودی مکمل ناکام رہا ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حقیقی سیاسی قیادت عرصہ دراز سے بھارتی جیلوں میں قید اپنی بے گناہی کی سزا بھگت رہی ہے۔ ان لوگوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنا حق خود ارادیت اور آزادی مانگتے ہیں۔ اس جرم میں اب تک نہ صرف 80ہزار سے زائد کشمیری نوجوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں اپنے سیاسی قائدین کی طرح بھارتی قید و بند کی صعوبتیں ایک طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں اور جو کشمیری قید نہیں ہیں وہ دنیا کے طویل ترین محاصرے میں ہیں۔ جس کو بھی سات سو روز گزر چکے ہیں بلکہ اب تو اس محاصرے کو دوسال مکمل ہونے والے ہیں ۔

    ۔ یہاں میں اپنے ان بعض نادان دوستوں کا بھی ذکر کردوں جو یہ توقع کر رہے تھے کہ مودی نے جو کشمیریوں کا اجلاس بلایا تھا اس میں اور کچھ نہیں تو کم از کم مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تو بحال کر دی جائے گی لیکن اس اجلاس میں نہ تو حقیقی کشمیری سیاسی قیادت کو جیلوں سے رہا کرکے مدعو کیا گیا نہ ہی کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی پر بات کی گئی۔ اس طرح یہ بے معنی اجلاس بھی ایک ڈرامہ اور گونگلوں سے مٹی جھاڑنا ہی ثابت ہوا۔۔ اس اجلاس میں مدعو کئے گئے چند معروف کشمیری قائدین نے بھی مودی سرکار کو ٹھینگا دکھایا۔ یوں یہ بے معنی اجلاس بے مقصد انجام سے دوچار ہوا جو مودی سرکار کی ناکامی کا باعث بنا۔۔ اب بھارتی تحقیقاتی اداروں کی جھوٹی تحقیق یہ ہے کہ پاکستان ڈرون کو جموں کشمیر میں کئی عرصے سے استعمال کر رہا ہے۔ ۔ چلیں اگر یہ مان بھی لیں کہ ڈرون پاکستان کی طرف سے آئے تھے تو کنڑول لائن کے پاس تو بات سمجھ آتی ہے ۔ یہ اتنی دور جموں میں ڈرون کیسے پہنچے ۔ یہ سوال بھارت میں کوئی بھی حکومت اور فضائیہ سے نہیں پوچھ رہا ہے ۔ ۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کو اس میں بھی آئی ایس آئی دیکھائی دے رہی ہے ۔ دراصل اس سب الزام تراشی کی وجہ ہے ۔ اب اسکا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر ، بھارتیوں کو خوف میں مبتلا کرکے ۔ بھارت اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کی تیاری میں ہے ۔ ۔ بھارتی خبر رساں ادارے نے تو دعویٰ بھی کر دیا ہے کہ بھارت نے اینٹی ڈرون سسٹم پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ کئی فوجی تنصیبات میں اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا جا چکا ہے۔ بھارت نے لال قلعہ پر ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر پہلی بار اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا تھا۔ جس کا نامlaser based directed energy weaponتھا ۔ یہ سسٹم کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو لیزربم کے ذریعہ گرا سکتا ہے ۔ ایک اور سسٹم ہے جو کہ DRDO کے لگاتار ٹرائل پر ہے کہ کیسے microwave کے ذریعہ ڈرون کو گرایا جاسکے ۔ اس کو jaming system بھی کہا جاتا ہے ۔

    ۔ بھارت کے سی ڈی ایس بپن راوت بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ مستقبل کی جنگ کے لئے خود کو تیار کرنا ہو گا۔ بھارت نے اس ضمن میں تینوں افواج کے اہم اڈوں پر اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اسکے لئے بھارت نے اسرائیل سے بھی مدد لی ہے اور بھارتی بحریہ نے چھوٹے ڈرون سے نمٹنے کے لئے اسرائیل کو اینٹی ڈرون سسٹم کا 2000 سے زائد کا آرڈر کیاہے یہ اینٹی ڈرون سسٹم computerized ہے۔ اسکو بندوق کے اوپر بھی لگایا جا سکتا ہے اور کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو اس سسٹم سے فضا میں ہی تباہ کیا جا سکتا ہے۔ ۔ حقائق یہ ہیں کہ بھارت میں کورونا نے جس طرح تباہی مچائی ۔ دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اور مودی کی اس ضمن میں کارکردگی جو رہی وہ بھی پوری دنیا نے دیکھ لی ہے کہ لاشیں جلانے کے لئے نہ شمشان گھاٹوں میں جگہ ملتی تھی نہ ان کی چتائوں کو جلانے کے لئے لکڑیاں دستیاب تھیں۔ دہلی، کلکتہ، ممبئی، امرتسر، چندی گڑھ، میزو رام، حیدرآباد سمیت اترپردیش اور راجستھان میں مودی سرکار کی ناکامی کا یہ عالم رہا کہ کورونا ویکسین تو کیا متاثرین کو آکسیجن تک میسر نہیں تھی۔

    ۔ لاکھوں بھارتی باشندے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر آکسیجن کی قلت کی وجہ سے ایڑیاں رگڑتے ہوئے ہلاک ہوتے رہے۔ لاکھ کوششوں کے باوجود جھوٹا بھارتی میڈیا بھی مودی سرکار کی اس تاریخی ناکامی پر پردہ نہیں ڈال سکا۔۔ چین کے ساتھ تنازع میں بھی بھارت کو لینے کے دینے پڑے اور مار الگ سے کھائی۔ پاکستان کے ساتھ پنجہ لڑانے کی کوشش بھی بھارتی ناکامی پر ختم ہوئی۔ اگر پاکستان اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ نہ کرتا تو بھارت ابھی نندن کو آزاد کرانے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا جو پاکستان پر حملہ کرنے اور نقصان پہنچانے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اس حماقت میں بھی بھارت کا منہ کالا ہوا۔ ۔ بھارتی معیشت مودی حکومت میں زوال پذیر ہے اور تجارتی گراف مسلسل نیچے گر رہا ہے۔ معیشت کی تباہی و بدحالی بھی مودی سرکار کی ایک اور بدترین ناکامی ہے۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری رہنمائوں کی جانب سے بھارت کو ٹکا سا جواب ملنے پر جموں دھماکوں کے ایک اور رخ کی نشاندہی ہوتی ہے جس کی طرف اشارہ پاکستان کے عسکری ذرائع نے بھی کیا ہے۔ جس میں جموں دھماکوں کو بھارتی حکومت کا پلوامہ ۔ twoڈرامہ قرار دیا ہے۔ ان کا خدشہ بالکل درست ہے کیونکہ بھارت اس واقعے میں پاکستان کو ملوث کر کے وہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جنہیں وہ پلوامہ حملے کے ڈرامے کے بعد حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا تھا۔

    ۔ پھر افغانستان کی بگڑتی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر بھی وہ پاکستان کے خلاف جو امریکہ کو طالبان کے خلاف کاروائی کے لئے اڈے نہ دینے کا اعلان کر چکا ہے۔ کوئی نیا محاذ کھول سکتا ہے اس پس منظر میں جموں دھماکے دور رس اثرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ ۔ کہا جاتا ہے کہ دشمن بھی اعلیٰ ظرف ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے بھارت ایسا نہیں بلکہ دوسری طرح کا پڑوسی اورمخالف ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ بھارت کو جب بھی اندرونی یا بین الاقوامی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اسی طرح کا کوئی ڈرامہ رچا کر الزام پاکستان پر اس لئے عائد کرتا ہےتاکہ اس ناکامی سے دنیا اور بھارتی عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے۔

  • جذبہ حب الوطنی، ہمت و حوصلے کی زندہ مثال .خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل سکواڈ کا قابل فخر سپاہی .تحریر: محمد مستنصر

    جذبہ حب الوطنی، ہمت و حوصلے کی زندہ مثال .خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل سکواڈ کا قابل فخر سپاہی .تحریر: محمد مستنصر

    اکیسویں صدی کے اوائل میں جب امریکا اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پر حملہ آور ہوا تو دہستگردی کے خلاف اس جنگ میں امریکا کے اتحادی کے طور پر سب سے ذیادہ نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکی افواج کے اتحادی کے طور پر فرنٹ رول کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیاتو بالخصوص افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع کے ساتھ خیبرپختونخوا کے بندوبستی اضلاع بھی دہشتگردی کی لپیٹ میں آگئے، اور یوں پاکستان کو دو دہائیوں کے دوران اربوں روپے کے مالی نقصان کے علاوہ ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی بھی دینا پڑی۔ قوم کو دہشتگردی کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے دیگر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا پولیس کے افسروں اور جوانوں نے بھی کم وسائل کے باوجود گراں قدر قربانیاں دیتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔
    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جب بھی خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو ڈیرہ اسماعیل خان بم ڈسپوزل یونٹ کے انچارج عنائیت اللہ ٹائیگر کا نام ہمت، حوصلے اور جذبہ حب الوطنی کی زندہ مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
    ڈیرہ اسماعیل خان کے رہائشی عنایت اللہ نے 1998 میں بطور کانسٹیبل خیبرپختونخوا پولیس جائن کی جبکہ سال 2000 میں بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بن گئے، عنایت اللہ نے اپنے کیریئر کا پہلا بم سال 2001 میں ناکارہ بنایا 21 سال کے اس مشکل اور کٹھن میں متعدد بار عنایت اللہ زخمی بھی ہوئے مگر کسی بھی موقع پر عنایت اللہ ٹائیگر کا حوصلہ پست ہوا نہ ہی بم ناکارہ بناتے وقت کبھی زخمی ہاتھوں میں کپکپاہٹ کا احساس ہوا۔
    عنایت اللہ ٹائیگر نے جب بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بن کر کام شروع کیا تو ایک موٹر سائیکل، بیگ میں موجود ایک خنجر، پستول اور بارودی مواد کے ساتھ جڑی تاریں کاٹنے کے لئے ایک کٹر، ان اوزاروں کے سہارے محض جذبہ ایمانی ، شوق شہادت اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر مختصر عرصہ میں 150 سے زائد مختلف اقسام کے بم ناکارہ بنا ڈالے یہی وجہ تھی کہ بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے ستائے ڈیرہ اسماعیل کے باسیوں نے عنایت اللہ کو نہ صرف ایک مسیحا اور ہیرو کے طور پر جانا بلکہ انکی جاں فشانی کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں "ٹائیگر” کے ٹائٹل سے بھی نواز دیا۔
    اکیس سال کے کیریئر کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر مختلف نوعیت کے 3 ہزار سے زائد بموں، خود کش جیکٹس ، راکٹ لانچرز، دستی بموں اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنا چکے ہیں۔

    اپنے کیریئر کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر ہمیشہ سے ہی شرپسندوں کے نشانے پر رہے اور متعدد بار زخمی بھی ہوئے۔سال 2012 میں پیش آنے والے ایک حادثہ کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر کا بایاں بازو بری طرح متاثر ہوا جبکہ سال 2014 کے دوران ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں عنایت اللہ ٹائیگر کی ٹانگ کٹ گئی مگر عنایت اللہ ٹائیگر عزم و ہمت کے ساتھ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ آج بھی اپنے ہم وطنوں کی جانوں کے تحفظ میں پیش پیش رہتے ہیں۔
    ۔
    سال 2014 میں شدید زخمی ہونے کے باوجود عنایت اللہ ٹائیگر نے کبھی اپنی مصنوعی ٹانگ کو فرض کی ادائیگی میں آڑے نہیں آنے دیا اور صحت مند ہوتے ہی دو مہینے کی سخت فزیکل ٹریننگ کے بعد دوبارہ ناصرف بم ڈسپوزل سکواڈ جائن کیا بلکہ سال 2014 سے اب تک 82 بم ناکارہ بنا چکے ہیں۔

    عنایت اللہ ٹائیگر لگن، تجربے اور مہارت کے باعث خیبر پختونخوا پولیس میں ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں، عنایت ٹائیگر کو مخصوص صورتحال کے پیش نظر نہ صرف خیبر پختونخوا کے سرکاری و نجی اداروں اور یونیورسٹیز میں لیکچرز کے لئے مدعو کیا جاتا ہے بلکہ دیگر صوبوں میں بھی بم ڈسپوزل اہلکار عنایت اللہ ٹائیگر کے تجربے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    ملک وقوم کی عظیم خدمات کے اعتراف میں عنایت اللہ ٹائیگر کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پانچ لاکھ روپے نقد جبکہ حکومت کی طرف سے صدارتی تمغہ شجاعت سےبھی نوازا گیا تاہم عنایت اللہ ٹائیگر کا کہنا ہے کہ ہم وطنوں کی طرف سے ملنے والی محبت، دعائیں اور پیار اس کے لئے سرمایہ حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔