Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محل سے میوزیم میں تبدیل ہونے والا "مُکھی ہاؤس”

    محل سے میوزیم میں تبدیل ہونے والا "مُکھی ہاؤس”

    1921 میں ، جیٹھانند مکھی نے حیدرآباد میں مکھی ہاؤس (مکھی بیٹی کا نام تھا) تعمیر کیا۔ اس وقت اسے سونے کے حقیقی پانی سے پینٹ کیا گیا تھا۔ 2008 میں ، مکھی خاندان کی اولادوں نے مکھی ہاؤس کے مستقبل کے دعوؤں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ اسے محفوظ کرکے میوزیم میں تبدیل کردیا جائے۔

    باغی ٹی وی : اس تحفظ کی سربراہی ڈاکٹر کلیم لاشاری نے سندھ کے محکمہ نوادرات سے کی تھی ، جس کا سن 2014 میں میوزیم کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا تھا۔ بڑے گھر میں سندھی ہندوؤں کا وہ متمول حصہ دکھاتا ہے جس کی تعلیم سے لے کر معاشرتی بہبود تک ہر شعبے میں نمایاں رہی ہے تقسیم ہند کے دوران کنبے کو چھوڑنا پڑا۔

    اب ایک صدی ہونے کو آئی ہے۔ یہ گھر آج بھی نظر رکھنے والی آنکھوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، اور دیکھنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ یہ گھر حیدرآباد میں ہوم اسٹیڈ ہال کے سامنے مکھی ہاؤس کے نام سے مشہور ہے جسے ‘مکھی محل’ بھی کہتے ہیں۔

    یہ عمارت 1921 میں اس وقت کی مشہور شخصیت جیٹھانند مکھی نے اپنی خواہش کے مطابق تعمیر کروائی تھی، جسے انہوں نے گھر کا نہیں بلکہ مکھی محل کا نام دیا تھا، اور یہ واقعی ایک محل سے کم نہیں ہے۔ جیٹھانند مکھی اس زمانے میں حیدرآباد کی شہری انتطامیہ کے سربراہ تھے۔ شہر کے کافی انتظامی معاملات ان کے سپرد تھے۔ اسی مکھی ہاؤس سے تھوڑے سے فاصلے پر مکھی باغ بھی تھا مگر اب اس باغ کے کوئی بھی آثار دکھائی نہیں دیتے، جہاں پر اب گنجان آبادی ہے۔ اس شاہکار گھر کی تعمیر کے سات برس بعد جیٹھانند مکھی 1927 میں انتقال کر گئے۔

    برصغیر کی تقیسم کے بعد جو ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا وہ سالہا سال تک جاری رہا۔ شاید ان گھروں کے در و دیوار کو کبھی یہ اندازہ نہیں رہا ہو گا کہ وہ تنہا رہ جائیں گے اور ان گھروں کی کہانیاں صرف ہم لوگوں سے زبانی ہی سنتے رہیں گے، لیکن مکھی خاندان پاکستان بننے کے بعد بھی اسی شہر اور گھر میں مقیم تھا۔

    1957 کو انہیں اس شہر کو چھوڑ کر جانا پڑا۔ جیٹھانند مکھی کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اور دو بیٹے یہاں پر رہ رہے تھے، مگر انہیں یہ کہا گیا تھا کہ اگر وہ یہاں مزید رہے تو ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں اس محل نما گھر کو خیرباد کہنا پڑا اور یہ خاندان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندوستان چلا گیا۔

    یہاں پر کسی زمانے میں ہندوستانی سفارت خانہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ ایف سی کا ہیڈ کوارٹر بھی رہا، جبکہ اسے کے نچلے حصے کو اسکول میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

    حیدرآباد کے شہر نے اس وقت اپنا سکون کھو دیا جب 1988 میں یہاں لسانی فسادات ہوئے تھے۔ انہی دنوں مکھی ہاؤس کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ گھر کے دروازے، کھڑکیاں اور کمروں میں رکھا فرنیچر جل کر خاک ہو گئے تھے مگر اس کے باوجود بھی آج مکھی ہاؤس سلامت ہے۔

    2009 میں سندھ حکومت کے محکمہء آثارِ قدیمہ نے اس گھر کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد 2013 میں مکھی خاندان نے اپنے قدیم گھر کا دورہ کیا اور اسے سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے بعد میوزیم میں تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی، چنانچہ اب اسے ایک میوزیم میں تبدیل کیا گیا ہے۔

    مکھی ہاؤس ایک دو منزلہ عمارت ہے، جس میں 12 کمرے اور دو بڑے ہال ہیں۔ نذر آتش ہو جانے کے بعد دیواروں پر کیے گئے نقش و نگار بھی مٹ گئے تھے مگر چند بچ جانے والے نقوش کو دیکھ کر دیواروں اور چھت پر اسی قسم کے نقش و نگار بنائے گئے ہیں، تاکہ اس کی قدامت برقرار رہے۔

    موٹی دیواروں میں کافی کھڑکیاں اور دروازے بنائے گئے ہیں، جن میں شیشم اور ساگوان کی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہر کمرے کی دیوار میں الماریاں نصب کی گئی ہیں، روشندان بنائے گئے ہیں۔ اس دور میں جو فن تعمیر کے رجحانات تھے، انہیں برقرار رکھتے ہوئے گھر کو بنایا گیا ہے۔ مگر اس گھر کی خاص بات یہ کہ اس کا ایک مرکزی گنبد بھی ہے جو اسے تمام عمارات سے ممتاز بناتا ہے، اور اسے دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ کشادہ کمرے اور رہداریاں بھی گھر کی زینت میں اضافہ کرتے ہیں۔ عمارت کی تعمیر میں اینٹ کے بجائے بلاکس کا استعمال کیا گیا ہے-

    اس گھر میں ان لوگوں کی یادیں بسی ہیں جن میں سے کافی اب اس دنیا میں نہیں رہے، مگر یہ گھر ایک ایسا تاریخی ورثہ بن چکا ہے جس کی حفاظت نہ صرف شہریوں پر بلکہ حکومت پر بھی لازم ہے تاکہ یہ دوبارہ کسی زوال کا شکار نہ ہو، کیونکہ اس طرح کی عمارات اب حیدرآباد میں نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔

     

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ
  • رشتوں کو بچائیں مگر کیسے؟      تحریر: سعدیہ بنت خورشید احمد

    رشتوں کو بچائیں مگر کیسے؟ تحریر: سعدیہ بنت خورشید احمد

    رشتوں کو بچائیں مگر کیسے
    تحریر:- سعدیہ بنت خورشید احمد

    خاندانی نظام معاشرے کی بہت اہم اکائی ہے مختلف افراد سے مل کے ایک خاندان بنتا ہے۔ اس خاندان کو قائم رکھنے کے لئے ایثار ، قربانی، محبت و مودّت، سمجھوتہ وغیرھم کرنے کی سخت ترین ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ ہر فرد کی سوچ مختلف ہوتی ہے۔ جب سوچ مختلف ہو تو مسائل بھی مزید بڑھتے ھیں۔
    ہمارے روایتی معاشرے میں خاندانی نظام کو بہت اہمیت حاصل ہے۔

    اس کی اس سے بھی زیادہ اہمیت قرآن و حدیث میں واضح کردی گئی ہےنبی علیہ الصلوۃ والسلام کی حیات طیبہ ھمارے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت سے موجود ہے بیویوں کے حقوق الگ، والدین کے الگ، شوہر کے الگ اولاد کے الگ حقوق متعین فرمائےاور ان کو اپنی عملی زندگی میں لاگو کرکے دکھایا مزید اس کی تائید یوں فرمائی کہ جو ھمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کا ادب نہ کرے وہ ھم میں سے نہیں۔

    اس حدیث پر غور و خوض کیا جائے تو یہ بہت وسیع معنی رکھتی ہے جس میں پورا کا پورا خاندان سما جاتا ہےاسلام خاندان کا ایک وسیع تصور رکھتا ہے جس میں ماں باپ بیٹے بیٹیاں، دادا دادی۔ چچا تایا وغیرہ سب شمار ہوتے ھیں لیکن شریعت نے سب کی حدود بھی متعین فرمائیں کہ کوئی کسی دوسرے کی ذاتیات یا حقوق کو پامال نہ کرے۔

    ھمارے معاشرے میں خاندان تو بہرحال موجود ھیں لیکن بدقسمتی سے ہم یورپ کی رنگینیوں سے مرعوب ہو کر جدیدیت کا شکار ہو گئےھم اپنی تمام روایات کی پاسداری بھی کرنا چاہتے ھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ماڈرن ازم بھی ھمارے اندر موجود ہے جو کہ بالکل ہی متضاد نظام ھیں یعنی ھم روایتی معاشرے کے مطابق رشتوں ناتوں کو بھی بچانا چاہتے ہیں اور یورپ کی طرح ایک خاص لائف اسٹائل کو بھی اپنانا چاہتے ھیں۔

    یورپ نے تو خاندانی نظام کو بالکل ختم ہی کردیا اس لئے جو شخص کماتا ہے وہ ساری کمائی اپنے آپ پر ہی خرچ کرتا ہے اس لئے ان کے لائف اسٹائلز ھمارے سامنے اپنی مثال آپ ھیں جبکہ ھمارے ہاں جہاں خاندانی نظام رائج ہےایک شخص کمانے والا ہوتا ہے جبکہ باقی سب افراد کھانے والے، تو وہاں ایسے شاہانہ لائف اسٹائل کا سوچنا ہی بے کار ہے۔

    مزید برآں یہ کہ ایک شخص شادی سے پہلے اپنی تمام کمائی اپنی ماں کے حوالے کرتا ہے اور اس کی توجہ کا مرکز اس کی ماں اور بہن ہی ہوتی ہے جبکہ شادی کے بعد یہ نظام دو حصوں میں منقسم ہو جاتا ہے اور بچوں کی پیدائش کے بعد معاملات مزید بڑھ جاتے ھیں جس میں اخراجات بڑھ جاتے ھیں اور سب کو وقت دینا مشکل ہو جاتا ہے-

    یہ تقسیم عموماً ایک ماں کی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔ جس سے مسائل مزید بڑھتے ھیں اور ساس بہو اور نندوں کے درمیان معمولی سے معمولی بات پہ لڑائی ہوتی چلی جاتی ہے جب ایک عورت کی خواہشات پوری نہیں ہو پاتیں تو حقوق نسواں کا نعرہ بلند ہونے لگتا ہے جو کہ مغرب نے عورت کے دماغ میں فتور ڈالا ہوا ہے۔

    عورت مرد کو اپنا حریف سمجھتی ہے ھماری عورت اس مغرب زدہ نعرے کو سمجھ ہی نہ سکی جو معاشرے کو بگاڑنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے مغرب نے اپنے اہداف کو پورا کرنے کے لئے مسلمانوں کے مضبوط ترین خاندانوں کو نشانہ بنایا -اور بالآخر ھمارے خاندان اب کمزور ہو چکے ھیں مسئلہ سمجھنے کا یہ ہے کہ جدید دور میاں بیوی کو لڑانا چاہتا ہے-

    عورت کی خواہشات زیادہ، آمدنی کم ہوتی ہے جس سے ایک عورت اپنی زندگی کا دائرہ تنگ ہوتا ہوا محسوس کرتی ہے جس کے پیش نظر وہ مادیت پرستی کی اس خواہش کو لے کر گھر سے باہر نکلتی ہے قطع نظر اس سے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت متاثر ہوگی ھم باہر بہت کم وقت گزارتے ہیں جس سے سے لوگوں کے رہن سہن کا ٹھیک سے اندازہ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    باہر نکلتے ہوئے مرد اور عورت سب ہی اچھا خاصا تیار ہوتے ھیں اور بول چال بھی اکثر خوبصورت ہوتا ہے جس کو دیکھ کے ھم بہت جلد مرعوب ہو جاتے ھیں یہی چیز ہمارے گھر کے ماحول کو خراب کرنے کی ایک اھم وجہ بنتی ہے کہ ہمیں باہر کے ماحول کو دیکھ کے گھر کے ماحول میں خامیاں نظر آنے لگتی ھیں۔

    عملی زندگی باہر کی دنیا سے یکسر مختلف ہے جس میں بہت کچھ دیکھنا سننا برداشت کرنا پڑتا ہے لیکن افسوس کہ ھمارے اندر قوت برداشت بہت کم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے خاندان جڑنے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتے ھیں دوسروں کے طرز زندگی سے مرعوب ہو کر اورباہر کے لوگوں کی نظر آنے والی خوبیوں سے متاثر ہو کر جب ھم اپنے گھریلو نظم کی کسی تیسرے شکایت کرتے ھیں تو تیسرا فریق اس مسئلہ کو مزید ابھار کے بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

    اگر کہیں کسی نے غلطی سے کچھ برداشت کر لیا تو تیسرے شخص کو یہ بات برداشت نہیں ہوتی اور اکثر ایسا کہا جاتا ہے کہ تمہارا فوری دو کی بجائے چار سنانا بنتا تھا تاکہ آئندہ مزید کچھ کہنے کی ہمت نہ ہو جو بات گھر کی چار دیواری میں خوش اسلوبی سے منظم طریقے سے حل کی جا سکتی تھی وہ کورٹ کچہریوں کی زینت بن جاتی ہے۔ گلیوں کوچوں کا ایک خاص موضوع بننے کے بعد گھر کی عزت کو داغ دار کرنے کا سبب بنتی ہے جس کے باعث جو مرد بہادری کے طور پہ معروف ہوتے ھیں، کسی کو منہ دکھانے سے کنی کتراتے ھیں ۔

    یوں معاملات سلجھنے کی بجائے مزید الجھتے چلے جاتے ھیں یوں جدید دور میاں بیوی کو لڑوا کر باہر کے لوگوں سے جوڑنا چاہتا ہے ھماری اصل یہ ہے کہ ہم تضاد کا شکار ہوگئے ھیں ان مسائل کا واحد حل صرف اور صرف سمجھوتہ ہے ماں ہے تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ مزید ذمہ داریوں اور وقت کی قلت کے پیش نظر اگر توجہ کم دی جا رہی ہے تو اس کو زیادہ مسئلہ نہ بنایا جائے کیونکہ بیوی بچوں کے حقوق بھی بہرحال مسلّم ھیں-

    ایک بیوی کو غور کرنا چاہیے کہ افراد زیادہ ھیں کمانے والا ایک ہے تو اخراجات کی فہرست کم رکھےمعاملہ جس بھی طرف ہو، سمجھوتہ مرد اور عورت دونوں کی اشد ترین ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے خوبصورت خاندانی نظام کو قائم رکھ سکتے ھیں اور رشتوں کو بچا سکتے ھیں کیونکہ زندگی اک جہد مسلسل ہے، سفر مسلسل ہے ۔ یہاں ھمیشہ نہیں رہنا ماسوائے جتنا وقت ہمارے لئے لکھ دیا گیا اس کو گزارنا ہے فقط۔ یوں نہیں تو یوں صحیح گزر ہی جائے گی

  • واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل

    واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل

    فیس بک کی ایپ واٹس ایپ صارفین جلد ہی واٹس ایپ کو مختلف ڈیوائسز پر استعمال کرسکیں گے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کو آپ ایک وقت میں ایک اکاؤنٹ کو ایک ہی ڈیوائس پر چلا سکتے ہیں، اور کمپیوٹر پر چلانے کے لیے آپ کے موبائل کا انٹرنیٹ سے منسلک ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن اب واٹس ایپ گوگل پلے بیٹا پروگرام کے ذریعے دی گئی نئی اپ ڈیٹ 2.21.14.1 میں اپنے استعمال کنندگان کے لیے نہایت اہم فیچر کی آزمائش کر رہا ہے۔

    اس نئی اپ ڈیٹ کے بیٹا(آزمائشی) ورژن میں واٹس ایپ کے مختلف ڈیوائسز پر کام کرنے کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ اور اس نئے فیچر کی اپ ڈیٹ جلد ہی صارفین کے لیے جاری کردی جائے گی جس کے بعد صارفین واٹس ایپ ویب، واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ اور پورٹل کو موبائل فون کے انٹرنیٹ سے منسلک ہوئے بنا استعمال کر سکیں گے۔


    ٹیکنالوجی ویب سائٹ ویب بیٹا کے مطابق واٹس ایپ لنکڈ موبائل ڈیوائسز کے لیے ’ لاگ آؤٹ‘ کے آپشن پر کام کر رہا ہے اور یہ فیچر بھی مستقبل میں دستیاب ہوگا۔ آج بھی واٹس ایپ نے اس سیکشن کو دوبارہ اپ ڈیٹ کیا ہے جو کہ واٹس ایپ اکاؤنٹس میں ملٹی ڈیواسز فعال ہونے کے بعد دستیاب ہوگا۔ جب کہ ملٹی ڈیوائسز استعمال کرتے ہوئے آپ کی کالز اور پیغامات ’ اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹیڈ‘ ہوں گے۔

    ملٹی ڈیوائس کے بارے میں تازہ ترین خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ملٹی ڈیوائس کے پہلے ورژن کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے موبائل کو کنیکٹ کرنا ممکن نہیں ہوگا اور مندرجہ بالااسکرین شاٹ میں واٹس ایپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملٹی ڈیوائس بیٹا کو استعمال کرتے ہوئے آپ صرف ایک فون ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

    ویب سائٹ ویب بیٹا کے مطابق فیس بک کے بانی مارک زکر برگ بھی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ ملٹی ڈیوائس فیچر اگلے دو ماہ کے اندر اینڈروئیڈ اور آئی او ایس کے استعمال کنندگان کے لیے دستیاب ہوگا۔

  • سمندر سے ملنے والا نایاب شیل 18000 روپے میں نیلام

    سمندر سے ملنے والا نایاب شیل 18000 روپے میں نیلام

    بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں سمندر سے ملنے والا شیل ساڑھے 18000 ہزار روپے میں نیلام ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق آندھرا پردیش کے مشرقی گوداوری ضلع کے اپڈا گاؤں میں دریائے گوداوری کے کنارے پر غیر معمولی طور پر نارنجی رنگ کا بڑا شیل پایا گیا ہے۔ سمندری شیل ، جو آسٹریلیائی بگل یا فلاز ترہی کے نام سے جانا جاتا ہے کی نیلامی 18،000 روپے میں کی گئی۔


    خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق 27 جون کو سمندری مخلوق کی تصاویر ٹویٹر پر پوسٹ کی گئیں۔ شیل کی اس قسم کو سائنسی طور پر سرینکس آروینس کے نام سے جانا جاتا ہے ، یہ شیل دنیا کے سب سے بڑے سائز کے شیل کی نسل سے ہے ٕ۔ سیرنکس آروانس 91 سینٹی میٹر تک لمبا اور 18 کلو گرام تک وزنی ہوسکتا ہے۔ اس کے کنبے کی واحد نسل ہونے کی وجہ سے ، سرینکس آروانس سب سے بڑا زندہ شیل گیسٹروپڈ ہے۔

    یہ قسم عام طور پر شمالی آسٹریلیا اور قریبی علاقوں میں پاپو نیو گنی اور مشرقی انڈونیشیا میں پائی جاتی ہے۔ سرینک آروانس مقامی طور پر ان جگہوں پر عام ہے جہاں زیادہ مقدار میں مچھلی نہیں ہوتی ہے اور وہ کیڑے کھانے سے زندہ رہتے ہیں۔ چونکہ وہ کم سے کم 50 میٹر گہرائی کے ساتھ گہرے سمندر میں رہتے ہیں ، لہذا جب کبھی بڑی لہریں انھیں دھکیلتی ہیں تو ساحل پر شاذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ، انواع کی محولیاتی نظام کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

  • نیوٹرل ہونے اور پروفیشنلزم کا ڈھکوسلہ. تحریر ‏حمیرا الیاس

    نیوٹرل ہونے اور پروفیشنلزم کا ڈھکوسلہ. تحریر ‏حمیرا الیاس

    میرے بھائی ہم صحافی ہیں۔۔ہمارے پروفیشن کے مطابق ہم سائیڈز نہیں لے سکتے۔ہمیں نیوٹرل ہو کر رہنا پڑتا ہے ورنہ آپ اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ خیانت کرتے ہیں۔

    دیکھئے ہم کیریئر ڈپلومیٹ ہیں اور ہمارا کام ہے کہ ریاست ہمیں جو چیز کہے ہم اس کے لئے لوبنگ کریں اور ان مفادات کو حاصل کریں۔ ہم خود سے یہ تعین نہیں کر سکتے کہ کیا چیز ہمارے ملک کے لیے اچھی یا بری ہے۔۔۔ ہم وہ کریں گے جو ہمیں ریاست کہے گی۔ یہی پروفیشنلزم ہے۔

    دیکھیں میں ایک پروفیشنل سولجر ہوں۔میرا یہ کام نہیں ہے کہ اس بات کا تعین کرو کہ کون سا آپریشن صحیح ہے یا غلط۔ ہمیں قیادت جو حکم دیتی ہے بطور پروفیشنل فوجی میرا کام ہے اس پر عمل کرنا۔ صحیح ہے یا غلط پالیسی۔۔ اچھا یا برا کام۔۔۔ یہ تعین کرنا قیادت کا کام ہے۔

    دیکھیں میں ایک پروفیشنل وکیل ہوں۔۔۔میرا کام موکل کا دفاع کرنا ہے۔ اور میرے انکل ایک پروفیشنل جج ہیں۔ ان کا کام موجودہ قانون اور اس کے اصولوں کے مطابق مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے ۔۔۔وہ قانون سخت ہے یا نرم۔۔ اسلامی ہے یا غیر اسلامی۔۔۔ یہ دیکھنا ان کا کام نہیں ہے۔ بطور پروفیشنل، ان کا کام قانون جو بھی ہے اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔

    اوکے اوکے اوکے!
    او۔۔۔۔کے!
    او۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے!!!!!

    تو جناب میرے آپ سے کچھ سوال ہے!!!

    کہ آپ کے لیے شریعت کا قانون زیادہ معتبر ہے یا آپ کا پروفیشنل کوڈ آف ایتھکس اور پروفیشن کے قوانین؟

    آپ اللہ کو سب سے پہلے بطور مسلمان جواب دینگے یا بطور صحافی؟

    آپ کو اللہ نے اپنے بندے کی حیثیت میں پیدا کیا ہے یا صحافی کی حیثیت میں؟

    آپ بطور مسلمان اسلام کے وکیل پہلے نہیں ہیں؟

    آپ کا کام اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ نہیں ہے؟

    آپ کا کام امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہیں ہے؟

    کیوں کیا آپ اسلام سے کوئی بالاتر کسی پوزیشن پر کھڑے ہیں؟

    بطور صحافی نیوٹرل ہونے کا دعوی کرنا خود ایک آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہے۔ جو مغربی ماڈل کی پوزیشن ہے۔ کیا مغرب کا ہر صحافی جمہوریت، لبرل رائٹس، ہیومن رائٹس کو نیوٹرل پوزیشن نہیں سمجھتا؟ آپ کی نظر میں عورت کو کیا حق ملنا چاہئے؟ آپ کا جو بھی جواب ہوگا یہ ایک آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہوگی۔۔۔ تو نیوٹرل بھلا کیسے کوئی ہو سکتا ہے؟ اور کیا آپ ملک کے مفادات کو بھی نیوٹرل ہونے کے نام پر اگنور کر دیں گے، جس چیز کو بھی بے شک آپ ملک کا مفاد سمجھیں؟

    اگر آپ کیریئر ڈپلومیٹ ہیں۔۔ تو آپ جانتے بوجھتے کشمیر پر سودا بازی کی حکومتی ہدایات کو بیک ڈور ڈپلومیسی سے کیوں پرفارم کریں گے۔ جبکہ آپ کو یہ معلوم ہو کہ یہ امریکی ہدایت پر کیا جا رہا ہے۔ اور یہ براہ راست ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ کیوں کیا آپ کا پروفیشن ملک یا اسلام سے پہلے ہے؟ اگر آپ ملازم ہیں اور آپ کی قیادت آپ کو ان آپریشنز کا حکم دیں جس کے لیے وہ امریکہ سے ڈالر وصول کر رہے ہو اور آپ اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ امریکی پالیسی ہے تو اس کے لئے آپ اپنے لوگوں کو کیسے تاراج کر سکتے ہیں؟ کیا آپ اللہ کو جواب دہ نہیں ہے؟ اللہ سبحان تعالی نے قرآن میں پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اللہ اس عذر کو قبول نہیں کرے گا کہ آپ اپنے بڑوں کی اطاعت کر رہے تھے۔

    اور آپ ایک پروفیشنل جج ہیں تو کیا آپ قرآن کے اس حکم سے مبرا ہے جس میں کہا گیا کہ جو کوئی اس چیز سے فیصلے نہ کرے جو اللہ نے نازل کر دیا ہے تو وہ ظالم ہیں وہ فاسق ہے اور وہ کافر ہے۔

    تو یہ نیوٹرل ہونا ایک ڈھکوسلہ ہے جسکو مغرب نے ڈیزائن کیا ہے اور یہ بنیادی طور پر مغربی آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہے جس کو آپ نیوٹرل نیوٹرل کا راگ الاپ کر اپنائے ہوئے ہیں۔
    ‎@humerafs

  • ماہِ نبوت طلوع ہوا .تحریر :فاطمہ بلوچ

    ماہِ نبوت طلوع ہوا .تحریر :فاطمہ بلوچ

    سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی
    سب سے بالا و وَالا ہمَارا نبی
    اپنے مولیٰ کا پیارا ہمَارا نبی
    دونوں عالَم کا دُولہا ہمَارا نبی
    بزمِ آخر کا شمع فَروزاں ہوا
    نُورِ اوّل کا جلوہ ہمَارا نبی

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کی آنول نال کٹی ہوئی تھی۔{آنول نال کو بچے پیدا ہونے کے بعد دایہ کاٹتی ہے۔}
    آپ ختنہ شدہ پیدا ہوئے۔عبدالمطلب یہ دیکھ کر بےحد حیران ہوئے اور خوش بھی۔وہ کہا کرتے تھے، میرا بیٹا نرالی شان کا ہوگا۔{الہدایہ}
    آپ کی پیدائش سے پہلے مکّہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے۔لیکن جونہی آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا۔بارشیں شروع ہوگئیں، خشک سالی دور ہوگئی۔درخت ہرے بھرے ہوگئے اور پھلوں سے لد گئے۔زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔
    پیدائش کے وقت آپ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے۔سر آسمان کی طرف تھا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے۔مطلب یہ کہ سجدے کی سی حالت میں تھے۔{طبقات}
    آپ کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔جیسا کہ ہم نماز میں اٹھاتے ہیں۔
    حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    "جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا۔اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے۔” ( طبقات )
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں:
    "محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی میں مجھے بصری میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں تک نظر آئیں۔”
    علامہ سہلی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ نے اللہ کی تعریف کی۔ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں:
    "اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا ۔
    "اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ کی بےحد تعریف ہے اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں۔”
    آپ کی ولادت کس دن ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔آپ صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔
    تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت سے قول ہیں۔ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ایک روایت 8 ربیع الاول کی ہے، ایک روایت 2 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں۔زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ آپ 8 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔تقویم کے طریقہ کے حساب سے جب تاریخ نکالی گئی تو 9 ربیع الاول نکلی۔مطلب یہ کہ اس بارے میں بالکل صیح بات کسی کو معلوم نہیں۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مہینہ ربیع الاول کا تھا اور دن پیر کا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو پیر کے دن ہی نبوت ملی۔پیر کے روز ہی آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ کی وفات ہوئی۔
    آپ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔یعنی ہاتھیوں والے سال میں۔اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔
    آپ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی تھی –
    واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ
    ابرہہ یمن کا عیسائی حاکم تھا – حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں – اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا :
    ” یہ لوگ کہاں جاتے ہیں ”
    اسے جواب ملا:
    ” بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں ”
    اس نے پوچھا:
    ” بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے”
    اسے بتایا گیا :
    ” پتھروں کا ہے ”
    اس نے پوچھا :
    ” اس کا لباس کیا ”
    بتایا گیا
    ” ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے ”
    ابرہہ عیسائی تھا – ساری بات سن کر اس نے کہا ":
    "مسیح کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے اس سے اچھا گھر تعمیر کروں گا ”
    اس طرح اس نے سرخ ” سفید ” زرد ” اور سیاہ پتھروں سے ایک گھر بنوایا – سونے اور چاندی سے اس کو سجایا اس میں کئی دروازے رکھوائے اس میں سونے کے پترے جڑوائے – اس کے درمیان میں جواہر لگوائے – اس مکان میں ایک بڑا سا یاقوت لگوایا – پردے لگوائے ” وہاں خوشبوئیں سلگانے کا انتظام کیا – اس کی دیواروں پر اس قدر مشک ملا جاتا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کی ہوگئیں – یہاں تک کہ جواہر بھی نظر نہیں آتے تھے۔
    پھر لوگوں سے کہا:
    ” اب تمہیں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جانے کی ضرورت نہیں رہی, میں نے یہیں تمہارے لیے بیت اللہ بنوادیا ہے لہٰذا اب تم اس کا طواف کرو ”
    اس طرح کچھ قبائل کئی سال تک اس کا حج کرتے رہے – اس میں اعتکاف کرتے رہے – حج والے مناسک بھی یہیں ادا کرتے رہے –
    عرب کے ایک شخص نفیل خشمی سے یہ بات برداشت نا ہوسکی – وہ اس مصنوعی خانۂ کعبہ کے خلاف دل ہی دل میں کڑھتا رہا -آخر اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ابرہہ کی اس عمارت کو گندہ کرکے چھوڑے گا -پھر ایک رات اس نے چوری چھپے بہت سی گندگی اس میں ڈال دی -ابرہہ کو معلوم ہوا تو سخت غضب ناک ہوا کہنے لگا :
    "یہ کاروائی کسی عرب نے اپنے کعبہ کے لیے کی ہے , میں اسے ڈھادوں گا اس کا ایک ایک پتھر توڑدوں گا ”
    اس نے شام و حبشہ کو یہ تفصیلات لکھ دیں , اس سے درخواست کی کہ وہ اپنا ہاتھی بھیج دے – اس ہاتھی کا نام محمود تھا – یہ اس قدر بڑا تھا کہ اتنا بڑا ہاتھی روئے زمین پر دیکھنے میں نہیں آیا تھا – جب ہاتھی اس کے پاس پہنچ گیا تو وہ اپنی فوج لیکر نکلا اور مکہ کا رخ کیا – یہ لشکر جب مکہ کے قرب و جوار میں پہنچا تو ابرہہ نے فوج کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے جانور لوٹ لیے جائیں – اس کے حکم پر فوجیوں نے جانور پکڑ لیے – ان میں عبدالمطلِّب کے اونٹ بھی تھے –
    نفیل بھی اس لشکر میں ابرہہ کے ساتھ موجود تھا اور یہ عبدالمطلِّب کا دوست تھا – عبدالمطلِّب اس سے ملے – اونٹوں کے سلسلے میں بات کی – نفیل نے ابرہہ سے کہا :
    ” قریش کا سردار عبدالمطلِّب ملنا چاہتا ہے یہ شخص تمام عرب کا سردار ہے ” شرف اور بزرگی اسے حاصل ہے – لوگوں میں اس کا بہت بڑا اثر ہے -لوگوں کو اچھے اچھے گھوڑے دیتا ہے, انہیں عطیات دیتا ہے, کھانا کھلاتا ہے- ”
    یہ گویا عبدالمطلِّب کا تعارف تھا – ابرہہ نے انہیں ملاقات کے لیے بلالیا – ابرہہ نے ان سے پوچھا
    ” بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں؟”
    انہوں نے جواب دیا :
    ” میں چاہتا ہوں میرے اونٹ مجھے واپس مل جائیں ”
    ان کی بات سن کر ابرہہ بہت حیران ہوا – اس نے کہا :
    ” مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ عرب کے سردار ہے ” بہت عِزّت اور بزرگی کے مالک ہیں ” لیکن لگتا ہے مجھ سے غلط بیانی کی گئی ہے- کیونکہ میرا خیال تھا آپ مجھ سے بیت اللہ کے بارے میں بات کریں گے جس کو میں گرانے آیا ہوں اور جس کے ساتھ آپ سب کی عِزّت وابستہ ہے – لیکن آپ نے تو سرے سے اس کی بات ہی نہیں کی اور اپنے اونٹوں کا رونا لیکر بیٹھ گئے – یہ کیا بات ہوئی ”
    اس کی بات سن کر عبدالمطلِّب بولے
    "آپ میرے اونٹ مجھے واپس دے دیں بیت اللہ کے ساتھ جو چاہیں کریں ” اس لیے کہ اس گھر کا ایک پروردگار ہے – وہ خود ہی اس کی حفاظت کرے گا – مجھے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ”
    ان کی بات سن کر ابرہہ نے حکم دیا :
    "ان کے اونٹ واپس دے دیے جائیں ”
    جب انہیں ان کے اونٹ واپس مل گئے ” تو انھوں نے ان کے سموں پر چمڑے چڑھا دیے – ان پر نشان لگادیے – انہیں قربانی کے لیے وقف کرکے حرم میں چھوڑ دیا تاکہ پھر کوئی انہیں پکڑ لے تو حرم کا پروردگار اس پر غضب ناک ہو –
    پھر عبدالمطلِّب حِرا پہاڑ پر چڑھ گئے – ان کے ساتھ ان کے کچھ دوست تھے – انہوں نے اللہ سے درخواست کی :
    "اے اللہ! انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے سامان کی حفاظت کر۔”
    ادھر سے ابرہہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھا۔وہ خود ہاتھی پر سوار لشکر کے درمیان موجود تھا۔ایسے میں اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ہاتھی بانوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ اٹھا۔انہوں نے اس کے سر پر ضربیں لگائیں۔آنکس چبھوئے مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔کچھ سوچ کر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ فوراً اس طرف چلنے لگا۔اس کا رخ پھر مکہ کی طرف کیا گیا تو پھر رک گیا۔ہاتھی بانوں نے یہ تجربہ بار بار کیا۔آخر ابرہہ نے حکم دیا، ہاتھی کو شراب پلائی جائے تاکہ نشے میں اسے کچھ ہوش نہ رہ جائے اور ہم اسے مکہ کی طرف آگے بڑھاسکیں۔چنانچہ اسے شراب پلائی گئی، لیکن اس پر اس کا بھی اثر نہ ہوا۔

  • انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی . تحریر: مبین خان

    انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی . تحریر: مبین خان

    انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی .جب تک کے وہ خود ہار نہ مان لے۔

    ہمارے سامنے اکثر ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو قسمت اور نصیب کی خرابی کا شکوہ کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ یا تو وہ خود محنت نہیں کرتے، کام سے جی چراتے ہیں یا پھر انہیں انکی نیت کا بدلہ مل رہا ہوتا ہے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ بجائے اپنی غلطی ماننے کے وہ سارا الزام قسمت کو دے رہے ہوتے ہیں کہ خدا ہمیں دینا ہی نہیں چاہتا یا پھر یہ کہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ نصیب میں ہی یہ ملنا نہ تھا۔ یہ سراسر ایک غلط نظریہ ہے۔ خدا پاک کبھی کسی کے ساتھ زیادتی یا نا انصافی نہیں کرتا۔ ہر کسی کو اسکی محنت کا ثمر ضرور ملتا ہے۔ ہاں مگر اسکے لیے محنت تو ضروری ہے۔

    اللہ پاک نے ہمیشہ انسان کیلئے کئی راستے کھول رکھے ہوتے ہیں، اب اہم یہ ہے کہ کون اپنی مرضی کا مقام پانے یا اپنی خواہش بر لانے کیلئے محنت جاری رکھتا ہے ۔ آزمائشیں بھی آتی ہیں مگر وہ ہمرے خدا پر ایمان اور یقین کا ایک امتحان ہوتی ہیں۔ جو انہیں صبر شکر سے گزارنے میں کامیا ب ہو جاتا ہے اسکے لیے اللہ پاک بہت اچھا اجر تیار کر رکھتے ہیں۔

    اس لیے کبھی کبھی ہمیں ہماری من پسند چیز یا راہ مل نہیں پاتی۔ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کبھی کبیھی خدا اپنے بندے کی محنت ، نیت اور اسکا جذبہ پرکھنا چاہ رہا ہوتا ہے، اسی لیے کوئی ایک راہ بند کردی جاتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ مزید کئی راہیں کھول دی جاتی ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کو بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ خدا پاک کے ہر فیصلے میں حکمت ہوتی ہے۔ اگر ہمیں محنت مشقت کے بعد بھی کچھ مل نہیں پا رہا تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے لیے بہتر نہ ہو۔ اگر آزمائش آ جائے تو

    بے صبری کا مظاہرہ کیوں؟
    کیا ہمیں اللہ پاک پر یقین نہیں ؟
    کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہے؟
    لیکن جب محنت اور کوشش کی ہی نہ جائے تو نصیب یا قسمت کو الزام دینا کہاں کا انصاف ہے؟

  • کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ؟ .تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ؟ .تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں اگر ہم تاریخ کی ان ورق کو دیکھیں جب کراچی کولاچی ہوا کرتا تھا تو اس شہر میں امن و سکون سے لوگ رہا کرتے تھے نا مذہب کے نام پر کوئی فساد ہوتا تھا نا ہی لسانیت کی بنیاد پر جھگڑے ہوتے دیکھے، جسے جسے وقت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگا آپسی پیار محبت لوگوں کی دلوں سے ختم ہونا شروع ہوگی،

    گزرتے وقت کے ساتھ کراچی میں رہنے والے خواہ وہ کسی بھی زبان سے تعلق رکھتے ہوں ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے اور آپسی بھائی چارہ ختم ہوتا چلا گیا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کچھ ایسی جماعتیں وجود میں آئی جن کا مقصد تعصب اور لسانیت کو ہوا دینا تھا کوئی مہاجر کے نام پر تو کوئی سندھی کے نام پر آپس میں لڑواتا کہی پٹھان تو کہی پنجابی دست گربان دکھائی دیے

    جس قوم کو قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے ایک جھنڈے تلے جمع کیا تھا وہ قوم لسانیت کی بھینٹ چڑھ گئی۔۔
    کولاچی سے کراچی تک کا سفر بہت کٹھن رہا اس درمیان بہت سے گھر اجڑے بہت سے بچے یتیم ہوئے خون کی ہولیاں کھیلی گئی…..
    آج تہتر سال گزر جانے کے باوجود ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟

    آج تہیہ کرلیں ہم نے یا تو مفاد پرست ٹولے کو اپنے اوپر مسلط کرنا ہے یا پھر ان سے جان چھڑانی ہے۔
    فیصلہ آپ کا..!!

  • غصہ عقل کو کھا جاتا ہے .تحریر: مہرالنساء رانا

    غصہ عقل کو کھا جاتا ہے .تحریر: مہرالنساء رانا

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے -یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے، وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اس کے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے
    انسان کو اللہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ خواہشات بھی رکھ دی

    انسان کو جب غصہ آتا ہے تو انسان اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتا
    انسان کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے
    انسان کی عقل ساتھ نہیں دیتی
    انسان غصے میں غیر فطری اور غیر اخلاقی کام بھی کر جاتا ہے
    غصے کی حالت میں انسان خود کا بھی اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا بھ نقصان کر دیتا ہے
    وقتی طور پر انسان جو کرتا ہے وہ اس کو ٹھیک لگ رہا ہوتا ہے لیکن بعد میں جب غصہ ختم ہوتا ہے
    انسان ہوش میں آتا ہے تو پھر سمجھ آتی ہے وہ جو کر رہا تھا وہ غلط تھا لیکن گیا وقت ہاتھ نہیں آتا
    اللہ پاک اور ان کے پیارے حبیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی غصہ کرنے سے منع کیا ہے
    اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی بہت دفعہ غصہ کو قابو کرنے کا کہا
    قرآن مجید میں غصہ نہ کرنے اور معاف کر دینے کی فضیلت کا بیان:

    1-’’وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓـئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ یَغْفِرُوْنَ‘‘[1]

     ’’اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصّہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں‘‘-

    -’’الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِط وَاللہُ  یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ‘‘[2]

    ’’یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں؛ اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘-

    چند احادیث
      ’’حضرت عطیہ (رضی اللہ عنہما) بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا، غضب شیطان کے اثر سے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو جب تم میں سے کوئی شخص غضب ناک ہو تو وہ وضو کرے‘‘-

    ’’حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ)بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم (ﷺ)نے فرمایا،جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آجائے کھڑا ہو تو بیٹھ جائے پھر اس کا غصہ ختم ہو جائے توٹھیک، ورنہ وہ لیٹ جائے‘‘

    حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (ﷺ)نے فرمایا جس شخص نےغصہ ضبط کر لیا حالانکہ وہ اس کے اظہار پر قادر تھا ،اللہ تعالیٰ اس کو امن اور ایمان سے بھر دے گا‘‘-

    اللہ اور ان کے پیارے حبیب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جب منع کر دیا تو پھر انسان کے پاس کوئی جواز، کوئی دلیل نہیں بچتی وہ غصہ کرے
    ہمیں بھی چاہئے ہم اپنے غصے پر قابو رکھیں اور اللہ پاک کے احکامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقوں پر زندگی گزاریں

  • پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی؟ تحریر:سید محمد مدنی

    پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی؟ تحریر:سید محمد مدنی

    میں پچھلے بیس سال سے پاکستان کی سیاست دیکھتا آ رہا ہوں اوراس بارجب فلسطین پرظلم ہؤا توبا حیثیت ایک مسلمان ملک پاکستان اورپاکستانیوں کےدل افسردہ تھے پاکستان کی خارجہ پالیسی نےاس بار بڑے عرصے بع دکروٹ بدلی اوراس کی وجہ وزیراعظم پاکستان کی اقوامِ متحدہ وہ تقریرہے جس سےکئی ممالک کے دارالحکومتوں کی زمینیں ہل گئیں وزیراعظم پاکستان عمران خان کا اقوام متحدہ میں دبنگ بیان خاص کرمقبوضہ کشمیراورفلسطین کےحوالےسےایک بہترین اورجامع بیان تھا پاکستان کی اہمیت کااندازہ آپ بین الاقوامی سطح پرافغانستان امن کےبارے کام اورکاوشوں اس کےعلاوہ وزیراعظم عمران خان کی شخصیت مسلم امہ کے لیے کتنی بہترین اوراہم ہے سے لگا سکتے ہیں

    یہی وجہ ہے کہ آج اوآئی سی ہومشرق وسطی کےممالک ہوں یہ بڑےادارے وزیراعظم کی کاوشوں کے بعد متحرک ہوئےاورآج وزیراعظم کی کاوشوں کی وجہ سے پاکستان کےعرب ممالک کےساتھ تعلقات مزید بہترین ہورہے ہیں خراب ہوئے نہیں بس تاثرایسا دیا گیا کہ خراب ہین اوراس میں قصورپاکستان کے دشمنوں کا ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان صرف پاکستان کاہی نہیں بلکہ وہ چاہتےہیں کہ مسلم ممالک اورمسلم امہ جوکہ دنیا کے اس خطےمیں بڑی تعدا دمیں ہیں اپنا اثرپیدا کریں

    صرف اسلاموفوبیا اورنبی آخری الزماں حضرت محمدرسول ﷲ صلعم سے متعلق موضوع پروزیراعظم سرتوڑکوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح بین الاقوامی سطح پر مسلم ممالک مغرب کوکہ باورکرائیں کےاسلام امن کاپیغام ہےاورمغرب کوکوئی حق نہیں کےوہ اس طرح ہمارےپیارے نبی صلعم کی شان میں گستاخی کرےاوروزیراعظم چاہتےہیں کہ کوئی ایسی قرارداد یانظام لائین کہ پھرآئندہ کسی کی جرات ناہو

    کچھ عرصہ پہلےجب پاکستان کےوزیرخارجہ جب فلسطین کےمسئلےپراقوامِ متحدہ گئےاوروہاں ترکی اوردیگرمسلم ممالک کےساتھ بہترین ڈپلومیسی کاکرداراداکیااورپھرجب بین الاقوامی خبروں کےچینل سی این این پرانٹرویو دیا جسے اس شوکی اینکرنےغلط رُخ دینے کی برابرکوشش کی اوروہ یہ تھاکہ میڈیا فلسطین کے مظالم نہیں دکھاتااوراثررکھنے والے افراد ہی میڈیا کوچلاتے ہیں جوکہ درست بات ہے لیکن اس اینکرنےاس کواینٹی سیمیٹیزم کانام دے دیا اینکروزیرخارجہ کی سچائی کوسننا نہیں چاہ رہی تھیں اوروہ اسرائیل کی طرف داری کرنے یا پھروزیرخارجہ کوغلط ثابت کرنے میں لگی ہوئی تھیں لیکن ناکام ہوئیں پاکستان کی دبنگ ڈپلومیسی نےایک بارپھراپنا اثراوراہمیت دکھائی اورحقائق دکھائےجس سےاورمسلم ممالک نےبھی فوری جنگ بندی پرزوردیا

    اب آتےہیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کشمیرکےحوالےسےبھارت کشمیرکواپنااٹوٹ انگ توکہتاہےمگروہیں ان پرظلم کرتاہےعورتوں کی بےحرمتی کرتاہےوزیراعظم پاکستان عمران خان نےبہت چاہاکےپاکستان بھارت میں تعلقات بہترہوں مگربھارت کارویہ ہمیشہ سےگھناؤنارہاہےکچھ عناصرغلط خبریں بھی نکالتے رہے کہ کشمیرپاکستان کے ہاتھ سے گیا اورحکومت پاکستان تجارت کرنے پرلگی ہے تومحترم میرے قارئین وزیراعظم صاحب نے یہ برملاکہا کہ پاکستان بھارت سے تجارت نہیں کرسکتا جب تک وہ کشمیر پر بات نہیں کرتا

    اب افغانستان کوزراگہری نظرسے دیکھتے ہیں یہ پاکستان ہی ہے جوامریکہ کوامریکہ کی ہی مدد سے افغانستان سے نکالنے کا کام کررہا ہےاوردنیا پاکستان کی معترف بھی ہے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو زرا بڑے صفحے پردیکھیں توپاکستان کی اہمیت کا اندازہ آپ کو ہوگا