Baaghi TV

Category: بلاگ

  • افغان امن عمل .ازقلم: فیصل فرحان

    افغان امن عمل .ازقلم: فیصل فرحان

    کہانی آج سے بیس سال پہلے سے شروع ہوتی ہے جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ نے افغانستان میں ط الب ان کی حکومت کا تختہ الٹا تو اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہوئے۔ اس خطے میں افغانستان کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔
    جن میں 5 ہزار سکیورٹی اہلکار، 70 ہزار معصوم لوگ شہید اور تقریباً 100 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔
    پر امن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ کیونکہ پاکستان پہلے سے تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ سے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کیا۔ چاہے وہ دوہا قطر میں ہونے والے امر یکہ طا لبان امن مذاکرات ہوں یا پھر ڈیورنڈ لائن پر طورخم سے لیکر چمن تک سرحد پر باڑ لگانا ہوں۔

    اب چونکہ ام ر یکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور افغانستان چھوڑنا پڑا لیکن امر یکہ کا شاطرانہ اور مداخلتی پالیسی جوکہ شاید ان کو فرانسیسیوں اور انگریزوں سے ورثے میں ملی ہے کہ وہ کسی بھی جگہ کو آسانی سے نہیں چھوڑتا بلکہ کسی نہ کسی ٹول کے ذریعے اپنی مداخلت جاری رکھتا ہے۔
    اس لیے امریکہ کا افغانستان سے مکمل طور پر انخلاء کے بعد اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اڈے دینا کا مطالبہ کیا گیا۔ آج کے جدید اصطلاح میں اس کو (Drone Treatment) کہا جاتا ہے جس میں UAVS کو استعمال کر کے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکی سرزمین سے باہر جنگ لڑی جاتی ہے جس میں امریکہ کا نہ تو کوئی فوجی مرتا ہے اور نہ کوئی اور نقصان۔

    اس سلسلے میں پاکستانی ریاست نے "Absolutely Not” کا انتہائی واضح اور
    دو ٹوک موقف دے کر مزید کسی بھی جنگ کا متحمل نہ ہونے کا واضح پیغام دے دیا۔
    پاکستان کا یہ موقف انتہائی خوش آئند اور ہمارے غیرت و حمیت کے عین مطابق ہے۔
    پاکستان کے اس دو ٹوک اور غیر متوقع سٹانس کے بعد امریکہ اور اس کے خوار دوست پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرینگے۔
    جن میں ہائبرڈ وار، انفارمیشن وار انسرجنسی اور مختلف قسم کے کانسپریسی تھیوریز کے ذریعے عوام کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسایا جائے گا۔ میڈیا کو استعمال کیا جائے گا مذہبی اور مختلف لسانی جماعتوں کو استعمال کیا جائے گا۔
    ہماری قوم نے بہت سی قربانیاں دیے کر اس پاک چمن کا امن دوبارہ بحال کیا ہے۔ اور اب یہ ہم سب کی ذمّہ داری ہے کہ سوشل میڈیا پر ہم ریاست کے اس بہادرانہ اور دلیرانہ موقف اور فیصلوں کا ہر صورت دفاع کریں۔ اور ریاستی اداروں کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرکے اغیار کے سازشوں کو ناکام بنائیں۔
    اللہ تعالیٰ مملکت پاکستان اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

  • مغربی تہذیب کا سیاہ چہرہ. تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    مغربی تہذیب کا سیاہ چہرہ. تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    افراد اور قوموں کی اپنی کوئی نہ کوئی تہذیب ہوتی ہے جس سے ان کی بہت گہری وابستگی ہوتی ہے۔ تہذیبوں کا مذہب یا اجتماعی نظام سے بھی بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے کہیں کہیں تہذیب سے مذہب سے بھی بڑھ کر جذباتی تعلق ہوتا ہے،ہمارے روشن خیال لوگ مغربی معاشرے کی انسان دوستی ،انصاف وقانون کی بالادستی کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے اورمغرب کومہذب معاشرہ ثابت کرنے کیلئے زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہوئے ہیں لیکن ان روشن خیالوں نے کبھی بھی تاریخ کے اوراق پلٹ کرنہیں دیکھے کہ وہ جس تہذیب کے گرویدہ انہوں نے ماضی میں کتنے مظالم ڈھائے اورکتنے بیگناہوں کوپلک جھپکتے ہی موت کی ابدی نیندسلادیااورکتنے لوگوں اپاہج بنایا ،یہ 13 اپریل 1919 ء کی بات ہے جب جلیانوالہ باغ میں انگریزوں نے قتلِ عام کیا، جسے امرتسر قتلِ عام بھی کہا جاتا ہے،جب پرامن احتجاجی مظاہرے پر برطانوی ہندوستانی فوج نے جنرل ڈائر کے احکامات پر گولیاں برسا دیں۔ اس مظاہرے میں بیساکھی کے شرکا ء بھی شامل تھے جو پنجاب کے ضلع امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں جمع ہوئے تھے۔ یہ افراد بیساکھی کے میلے میں شریک ہوئے تھے جوسکھوں کا ثقافتی اور مذہبی اہمیت کا تہوار ہے۔ بیساکھی کے شرکا ء بیرون شہر سے آئے تھے اور انہیں علم بھی نہیں تھا کہ شہر میں مارشل لاء نافذ ہے۔اتوارکے دن جنرل ڈائر کو بغاوت کا پتہ چلا تو اس نے ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی لگا دی مگر لوگوں نے اس پر زیادہ کان نہ دھرے۔ چونکہ بیساکھی کا دن سکھ مذہب کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے آس پاس کے دیہاتوں کے لوگ باغ میں جمع ہو گئے تھے۔ جب جنرل ڈائر کو باغ میں ہونے والے اجتماع کا پتہ چلا تو اس نے فورا پچاس گورکھے فوجی اپنے ساتھ لیے اور باغ کے کنارے ایک اونچی جگہ انہیں تعینات کر کے مجمعے پر گولی چلانے کا حکم دیا۔ دس منٹ تک گولیاں چلتی رہیں حتی کہ گولیاں تقریبا ختم ہو گئیں۔ جنرل ڈائر نے بیان دیا کہ کل 1650 گولیاں چلائی گئیں۔ شاید یہ عدد فوجیوں کی طرف سے جمع کیے گئے گولیوں کے خولوں کی گنتی سے آیا ہوگا۔ برطانوی ہندوستانی اہلکاروں کے مطابق 379 کو مردہ اور تقریبا 1100 کو زخمی قرار دیا گیا۔ انڈین نیشنل کانگریس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اندازہ 1000 اور زخمیوں کی تعداد 1500 کے لگ بھگ تھی۔

    گذشتہ ایک سال میں دنیا بھر میں نسلی ناانصافی کے خلاف مظاہروں میں مظاہرین کی طرف سے سلطنت ، استعمار اور غلامی کی علامتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ مظاہرے مئی 2020 میں افریقی نژاد امریکی شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں پھٹ پڑے۔اس طرح دنیاکے مختلف ممالک میں ظلم،جبراورناانصافیوں پراحتجاجوں کالامتناہی سلسلہ جاری ہے ، کینیڈا میں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے معاملے پر احتجاج کرنے والے پرتشدد مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے گرادیے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں برآمد ہونے والی سیکڑوں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے معاملے پر سڑکوں پر نکلنے والے نارنجی شرٹ پہنے مظاہرین نے احتجاجی ریلی نکالی۔وینیپیگ میں نکلنے والی ریلی میں سیکڑوں افراد شریک تھے جنہوں نے ایک چوک پر پہنچنے کے بعد وہاں نصب ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کی طرف پیش قدمی کی۔ریلی میں شامل چند مشتعل مظاہرین چبوترے پر چڑھے اور انہوں نے پہلے ملکہ وکٹوریہ پھر ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے کو زمین پر گرادیا۔ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کو گرانے کے بعد شہریوں کا غصہ مزید بڑھ گیا، مشتعل افراد نے مجسمے گرانے کے بعد نسل کشی پر فخر نہیں کا نعرہ بھی لگایا۔کینیڈین میڈیا کے مطابق یہ معاملہ ایک روز قبل اس وقت پیش آیا جب روایتی طور پر ملک بھر میں سرکاری سطح پر جشن منایا جانا تھا تاہم بچوں کی باقیات ملنے کے بعد اسے منسوخ کردیا گیا۔ بچوں کی باقیات ملنے پر دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرین سڑکوں پر آئے اور انہوں نے حکومت سے واقعات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔واضح رہے کہ کینیڈا میں گذشتہ دنوں اجتماعی قبروں سے ایک ہزارسے زائد قبائلی بچوں کی باقیات دریافت ہوئیں تھیں جبکہ اس سے قبل مقامی رہائشی اسکول میں 215 بچوں کی باقیات پر مشتمل ایک اجتماعی قبر ملی تھی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اس اسکول کو 1978 میں بند کردیا گیا ہے، جن کی باقیات ملیں وہ برٹش کولمبیا کے کیملوپس انڈین رہایشی اسکول کے طالب علم تھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے قدیم مقامی باشندوں کے قبائل میں سے ایک رہنما نے بتایا کہ برٹش کولمبیا میں قدیمی باشندوں کے بچوں کے لیے قائم ایک سابقہ مشنری اسکول کے قریب سے مزید 182 قبریں دریافت ہوئی ہیں۔لوئر کوٹینے ہینڈ نے بتایا کہ کرین بروک کے قریب سابقہ سینٹ یوجینز مشن اسکول کے پاس سے لاشیں برآمد ہوئیں۔کمیونٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ اسکول 1913 سے 1970 تک چلتا رہا اور 2020 میں یہاں تلاش شروع کی گئی تھی۔کینیڈا کے صوبے سسکاچیوان میں پرانے اسکول کی سائٹ سے 751 نامعلوم قبریں دریافت کی گئی ہیں۔اسی طرح ایک اورغیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی ریاست سسکاچیوان کے شہرریجینا سے تقریبا 140 کلومیٹر دورایک سابق بورڈنگ اسکول میں قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں سینکڑوں قبائلی بچوں کی لاشیں دفن ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ جگہ رومن کیتھولک چرچ کے زیر انتظام تھی، تمام قبریں بچوں کی ہیں یا بالغ افراد کی ہیں اس بارے میں تاحال تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔واضح رہے کہ 1863 سے 1998 تک کینیڈا میں حکومت اورمذہبی حکام کے ذریعے چلائے جانے والے بورڈنگ اسکول میں قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بچوں کووالدین سے زبردستی علیحدہ رکھ کر نئی زبان اور جدید ثقافت اپنانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ان بچوں کو اکثر اپنی زبان بولنے یا اپنی ثقافت پر عمل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور ان میں سے بہت سوں کے ساتھ بدسلوکی اور زیادتی کی جاتی تھی۔ 2008 میں اس نظام کے اثرات کو جاننے کے لیے قائم کردہ کمیشن کو معلوم ہوا کہ مقامی بچوں کی بڑی تعداد کبھی بھی اپنے گھروں اور اپنی برادریوں میں واپس نہیں آئی۔ 2015 میں جاری کی گئی تاریخی ‘ٹرتھ اینڈ ریکنسلیشن رپورٹ’ میں کہا گیا کہ یہ پالیسی ‘ثقافتی نسل کشی’ کے مترادف تھی۔

    کینیڈا کے مختلف شہروں میں، چرچوں کی نگرانی میں چلنے والے بورڈنگ اسکولوں میں مقامی بچوں کی کئی اجتماعی قبروں کے انکشاف کے بعد، متعدد کلیسائوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔غیرملکی نیوزایجنسی کے مطابق ذرائع کاکہناہے کہ ان قدیم چرچوں بورڈنگ اسکول میں قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے بچوں سے متعلق ریکارڈموجود ہے اس لئے منظم طریقے سے ریکارڈ کوتحقیات کرنے والوں اداروں کے ہاتھ لگنے سے بچانے کیلئے کلیساؤں کو آگ لگائی جارہی ہے اور اس کا الزام احتجاج کرنے والوں پرلگایاجارہاہے ۔سوچنے کی بات ہے اگرخدانخواستہ یہ قبریں کسی مسلم ملک کے تعلیمی ادارے سے ملتی توتحقیقات سے قبل ہی اسے اسلامی دہشت گردی قراردیاگیاہوتا،اب یہ قبریں مغرب کے مہذب معاشرے سے تعلق رکھنے والے ملک کینیڈاجوکہ برطانوی کالونی ہے کیتھولک عیسائی چرچوں کے زیرانتظام چلائے جانے والے سکولوں سے ملی ہیں ،اگراسے مغرب کے پیمانے سے ماپاجائے تو اسے لازی طورپر کیتھولک عیسائی دہشت گردی کہناچاہئے اوراس سے بڑھ کر تعجب کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان جب اپنے حق کی حصول کے لیے کھڑا ہو تو انھیں دہشت گرد کہنے میں اور ثابت کرنے میں جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں کہ مذہب اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دیتے ہیں، جبکہ اسلام مخالف طاقتیں ہر روز کہیں نہ کہیں بے چارے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کرکے ناحق انکا خون بہاتے ہیں، اور بلا وجہ ان کو شہید کردیتے ہیں، محض اس وجہ سے کہ وہ مسلمان ہیں، انھیں کوئی عیسائی دہشت گرد، یہودی دہشت گرد،اورہندو دہشت گردنہیں کہتا، انھیں کبھی تو دماغی معذور بنا کر،اور کبھی تو یہ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتااور ا ن کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے حتیٰ کہ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیاپر پابندی لگا دی جاتی ہے مظالم پر آوازاٹھانے والوں کے سوشل میڈیا اکائونٹ بلاک کردئے جاتے ہیں تا کہ ا ن مظالم کی ویڈیوزوائرل نہ ہوسکیں ،یہ ہے مغرب کی سیاہ تہذیب جو انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہے لیکن خوبصورت سلوگن کی وجہ دنیاسے اوجھل ہے ۔

  • مصطفیٰ کمال، امیدوں کی کرن،تحریر : ثاقب شیخ

    مصطفیٰ کمال، امیدوں کی کرن،تحریر : ثاقب شیخ

    جو لوگ آج یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ مصطفیٰ کمال واپس ایم کیو ایم میں چلے جائیں گے آئے ان پر تھوڑی نظر اس پر ڈالی جائے

    چھ سال پہلے وہ لوگ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ 2 لوگ آتو گئے ہیں لیکن یہ خیابان سحر سے باہر نہیں آسکتے

    آج اَلْحَمْدُلِلّٰه رب نے خیابان سحر کے گھر سے نکال کر دنیا بھر میں پھیلا دیا آج جہاں جہاں پاکستانی ہیں، وہاں پاک سرزمین پارٹی بھی موجود ہے

    2018 کے الیکشن کے بعد لوگوں نے یہ بھی افواہ پھیلائی کہ مصطفیٰ کمال پارٹی ختم کرکے دبئی واپس چلیں جائیں گے اور پھر وقت نے ثابت کردیا

    حالیہ طوفانی بارشوں میں پی ایس پی فاؤنڈیشن کے تحت پاک سرزمین کارکنان کی انتھک محنت نے پورے کراچی میں یہ بات ثابت کردی کہ آج اللّه تعالی نے پاک سرزمین پارٹی کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کردیا ہے

    انشاء اللّه حسد کرنے والے کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے ظالموں کے مقدر میں ہمیشہ ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں

    بیشک جھوٹوں پر اللّه کی لعنت ہوتی ہے

  • اسرائیل ٹو پاکستان براستہ سعودی عرب. تحریر:رانا عزیر

    اسرائیل ٹو پاکستان براستہ سعودی عرب. تحریر:رانا عزیر

    افغانستان میں ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑی ہوئی ہے، امریکا اس جنگ کی شکست قبول کرنے کے لئے تیار نہیں، پاکستان نے جب امریکا کو تاریخی جواب دیا تو امریکی کی چودھراٹ خطرہ میں پڑھ گئی، اور جو بیڈن اس حوالے سے پاکستان کا محتاج ہے، جو بیڈن جب یہ جنگ دنیا کی طاقتور مشینری سے بھی ہار گیا تو اس نے نیا انداز اپنا لیا ، اور پاکستان سے دوسرے انداز سی نمٹنے کی تیاری کر چکا ہے. راصل امریکا پاکستان کو ایران ، عراق اور دیگر واسطی اشیائی مملک کے ساتھ توانائی کا کوریڈور تباہ کرنا چاہتا ہے. یہ ایک بہت بڑی پائپ لائن ہے جوعراق سے شروع ہوتی ہے ، پاکستان کے زریعے ہوتی ہوئی، ہمالیہ اور کشمیر سی چین تک جائے گی، اس سے تیل چین جائے گا اور چائنیز انویسٹمنٹ مشرق وسطیٰ تک جائے گی جس سے چین مزید مظبوط ہوگا اور امریکا کا پتا ہمیشہ کے لئے صاف ہوجاے گا اور جب اس پورے خطے سے امیرکا جائے گا تو CPEC افغانستان تک جائے گا اور یہ یہ کوریڈور بن جائے گا، تو امریکا اس چیز کو روکنا چاہتا ہے. اب امریکا پاکستان کی کیسے تباہی کرسکتا ہے ؟ ایک یہ ڈائریکٹ حملہ کرے گا، لیکن وہ نہیں کر سکتا ایک تو پاکستان بہت بڑا ہے دوسرا پاکستان ایٹمی ملک ہے، اس کے پاس اب ایک راستہ ہے جسے پاکستان کو روکنا ہوگا، امریکا کا پلان یہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی پشتون آبادی اور بلوچ کارڈکھیل کر پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے تاکہ پاکستان کو توڑ دیا جائے، اس امریکا PTM اور BLA جیسی اپنی proxies کا سہارا لے گا. اس کے لئے ہماری پاک فوج بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سینکڑوں دہشتگردوں کو پکڑ چکا ہے جو اس طرح کی ہوا دینے کے منصوبے سے آئے تھے.

    دوسرا بھارت کو امریکا نے گرین سگنل دے دیا ہے، کہ وہ کشمیر میں پوری طرح سے قبضہ کرنا شروع کردے اور ہندوں کو مزید بسانا شروع کردیے اور برارست پاکستان پر بھارت حملے کی تیاریاں بھی کر چکا ہے تو پاکستان دونوں بارڈر پر ہائی الرٹ ہے_
    دونوں صورتوں میں امریکا کو شکست ہوئی ہے

    اب وہ نئے انداز میں سامنے آیا ہے
    اسرائیلی جریدے ” ہیوم“ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے سابق مشیر زلفی بخاری نے نومبر2020 میں اسرائیل کا مختصر دورہ کیا تھا اور وزارت خارجہ کی سنیئراہلکار سے ملاقات بھی کی تھی. اسرائیلی جریدے کا کہنا ہے کہ زلفی بخاری اپنے برطانوی پاسپورٹ کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد سے براستہ لندن اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پہنچے تھے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد انہیں سرکاری گاڑی کے ذریعے تل ابیب لے جایا گیا جہاں ان کی اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار سے انہوں نے ملاقات کی.

    رواں ماہ کے آخر میں سعودی وزیر خارجہ ایک خطرناک پیغام لیکر جوبایڈن اور اسرائیلی وزیراعظم بینٹ کا پاکستان آرہے ہیں، چونکہ سعودی عرب اب اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہا ہے اور اسرائیل نے ایک ڈرامہ رچا کر کہ ہم مسجد اقصی کا کنٹرول سعودی عرب کو دے رہے ہیں، تو اس بہانا سعودی عرب تسلیم بھی کرے گا۔ تو سعودی عرب یہ چاہتا ہے کہ پاکستان۔ بھی اسرائیل کو تسلیم کرے تاکہ اس پر پریشر بھی کم ہو اور اس کے مقاصد بھی پورے ہوجائیں، لیکن ریاست نے دوٹوک فیصلہ کیا ہے ہم اب کسی پریشر میں نہیں آئیں گے، عمران خان کی دکھتی رگ سعودی عرب میں موجود پاکستانی ہیں، سعودیہ عرب ہمیں یہ دھمکی دے سکتا ہے کہ ہم انھیں سعودی عرب سے نکال دیں گے۔

    اب اسرائیل کے زریعے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کے پاکستان کو عالمی دنیا کے سامنے بدنام کیا جائے گا ، پاکستانی قوم کو بھٹکایا جائے گا، اور پاکستان پر دہشتگردی کے لیبل لگا کر فلمیں بنائی جایں گی اگر پاکستان نے امریکا کی افغانستان کی جنگ میں ساتھ نہ دیا. تو یہ ساری گیم دوبارہ سے پاکستان کے خلاف کھلی جارہی ہے جو پھلے نومبر میں اور ٹرمپ دور میں کھیلی گئی تھی

  • فرقہ واریت مسلم دنیا بمقابلہ باقی دنیا. تحریر:حسان خان

    فرقہ واریت مسلم دنیا بمقابلہ باقی دنیا. تحریر:حسان خان

    کوئی بھی بڑا بین الاقوامی اخبار کھولیں تو مسلم ورلڈ والے سیکشن میں آپکو یمن ، شام ، عراق ، لبنان ، لیبیاء کی تباہی اور وہاں کی کٹھ پتلی حکومتوں کے آنے جانے کی خبریں ہی ملتی رہتی ہیں۔ امریکہ بہادر کی خاص "مہربانیوں” کے علاوہ جس چیز نے ان ممالک کی تباہی س بربادی میں اہم کردار ادا کیا وہ ہے ان ممالک میں فرقہ واریت کی بناء پر ایران اور سعودیہ عرب کی پرسکسی جنگ۔ ایران اور سعودیہ عرب کی اس پراکسی جنگ نے مسلم دنیا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا یے۔ ایک چھوٹی سی مثال لے لیتے ہیں یمن میں ایران حوثی باغیوں کی امداد کرتا ہے اور سعودیہ ان باغیوں پر بم گراتا ہے مگر ان دونوں کے چکر میں تباہ یمن ہو رہا ہے مر عام مسلمان رہے ہیں اور کچھ دہائیوں پہلے تک ایک خوشحال ملک آج پتھر کے زمانے میں پہنچ چکا ہے۔ ایسی خبریں پڑھنے کے بعد ذہن میں سوال ضرور اٹھتا ہے کیا اسلام کے علاوہ دنیا کے کسی اور مزہب میں فرقے نہیں ہوتے ؟ اگر ہوتے ہیں تو کیا وہ بھی اسی طرح اپنے ہم مذہبوں کی تباہی و بربادی کا سامان مہیا کرتے ہیں ؟؟ آج ہم انہی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرینگے
    عیسائیت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مزہب ہے اور اس کے پیروکاروں کی تعداد لگ بھگ دو ارب اڑتیس کروڑ سے زائد ہے اور 15 ممالک کا سرکاری مذہب ہے۔ عیسائیت کے دس فرقے ہیں جن کے بنیادی عقائد میں ایک دوسرے سے اختلاف ہیں اور ان میں زبانی گولہ باری بھی ہوتی رہتی ہے مگر عیسائی دنیا میں مذہب کی بناء پر ایک دوسرے کا قتل اور فرقہ وارانہ فسادات نہیں دیکھے جاتے اور ناں ہی ایک فرقہ دوسروں کے ساتھ کسی قسم کی پراکسی وار میں الجھا ہوا یے۔ اٹلی میں کیتھولک عیسائیت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے جبکہ رومانیہ میں اسکے مخالف فرقے آرتھوڈوکس عیسائیت ماننے والوں کی اکثریت ہے مگر آپ کبھی نہیں سنیں گے ان دونوں فرقے والوں نے یورپ کے کسی ملک کو میدان جنگ بنایا ہوا ہو اور اس ملک میں اپنے فرقے والوں کی حکومت لانے کیلئے وہاں جنگ چھڑوا دی ہو
    اسی طرح یہودیت ہے اس کے چار بڑے فرقے ہیں مگر جب بھی کہیں یہودیت بمقابلہ باقی دنیا ہو تو بنیادی اختلافات کے باوجود سارے یہودی متحد ہو جاتے ہیں تو سوال یہ ہے مسلمان ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟؟

    ایران نے پوری القدس فورس بںا رکھی ہے جسکا مقصد بتایا جاتا ہے کہ یہ ملک سے باہر ایرانی مفادات کا تحفظ کرتی یے جبکہ حقیقت یہ ہے اس تنظیم کے زریعے ایران ہمسائیوں ممالک میں اپنے فراقے اور پسند کی حکومت بنانے کی جستجو میں مصروف ہے اسی مقصد کیلئے ایران نے لبنان میں حزب اللہ کو کھڑا کیا ، یمن میں حوثی باغیوں کی کھل کر حمایت کر رہا ہے اسی طرح سعودیہ عرب اپنے پسند کے گروہوں پر کھل تک ڈالروں اور ریالوں کی برسات کرتا رہتا ہے تاکہ اسکی ہم نظریہ حکومت قائم کی جا سکے۔ شام میں ایران بشار الاسد کا خاص اتحادی ہے جبکہ سعودیہ شامی حکومت کے خلاف مختلف ملشیاء کو جدید ہتھیار فراہم کر کے جنگ کی آگ کو مزید بھڑکا رہا ہے نیز یہ تمام عرب ممالک ایران اور سعودیہ کی سرد جنگ کا میدان جنگ بنایا ہوا ہے۔ ایرانی رکن پارلیمنٹ عصمت اللہ فلاحتفی شاہ کے مطابق ایران صرف شام میں اپنی پراکسی وار پر 30 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ سعودیہ عرب نے جتنا پیسہ بہایا اسکا کوئی حساب ہی نہیں۔
    پاکستان میں بھی فرقہ وارانہ فسادات اور اپنے نظریات کی ترویج کیلئے دونوں ممالک نے اپنی اپنی پسند کی تنظیموں پر سرمایہ کاری کی جس کی وجہ سے پاکستان دہائیوں تک ان فسادات کی لپیٹ میں رہا اور آج تک ان فسادات اور نفرتوں کی سائے سے نکل نہیں سکا۔ ایران اور سعودیہ عرب مسلم دنیا کے امریکہ اور سویت یونین بن چکے ہیں جنکی آپسی پراکسی جنگوں نے کئی برادر اسلامی ممالک کو تباہ کر دیا ہے جس طرح امریکہ اور سابقہ سویت یونین کی سرد جنگوں نے کوریا ، ویت نام اور افغانستان سمیت کئی ملکوں میں جنگیں برپا کیے رکھیں آپ غور کریں جو ممالک ان دونوں کے حصار سے دور ہیں وہاں کوئی بدامنی فتنہ فساد نہیں ہے۔ ملائیشیا ، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش ایران و سعودیہ سے دور الگ تھلگ ہیں وہاں پر ان دونوں ممالک کی آپسی جنگ نہیں چھڑی ہوئی وہاں پر امن و سکون ہے۔

    جس دن ان دونوں ممالک نے اپنے قدرتی وسائل کا استعمال جنگیں چھیڑنے کی بجائے اپنی قوم اور ملک کی بہتری پر خرچ کرنا شروع کیا اس دن اسلامی دنیا میں سکون آ جائے گا

  • "بانجھ پن” اور بیٹیاں .تحریر: ارم رائے

    "بانجھ پن” اور بیٹیاں .تحریر: ارم رائے

    آج دو موضوعات پر بات کرونگی۔ پہلا ہے بانجھ پن جسکا مطلب عام طور پر یہ لیا جاتا ہے کسی عورت کا ماں نا بن سکنا، بانجھ پن بھی ایک بیماری ہے جس طرح اور کئی بیماریاں ہیں اور یہ بیماری بھی قابل علاج ہے۔ اور اہم بات کہ یہ بیماری عورت اور مرد دونوں میں ہوتی ہے۔ پھر اسکا الزام صرف عورت پر ہی کیوں؟ صرف عورت ہی کیوں یہ طعنہ سنتی اور برداشت کرتی ہے؟ کوئی مرد کو طعنہ کیوں نہیں دیتا کہ تم باپ نہیں بن سکتے ہو؟ کسی بھی بازار میں چلے جائیں، شاپنگ مالز میں چلے جائیں، ہسپتالوں میں چلے جائیں، دیواروں کو دیکھیں یا پھر حکیموں کے اشتہارات کو ہر جگہ اپ کو مردانہ کمزوری کے علاج کے طریقے بتانے والوں کے نام اور مقام کی تفصیل ملےگی۔ کسی عورت کے بارے میں نہیںلکھا ہوگا کہ اسکا علاج موجود ہے۔ پھر عورت ہی کیوں یہ ظلم سہتی کہ وہ بانجھ ہے ماں نہیں بن سکتی، اسکا مطلب تو یہ ہے کہ 80فیصد مرد باپ نہیں بن سکتے ہیں۔ پھر علاج کے نام پر صرف عورت کی زندگی کو کیوں کھلواڑ بنایا جاتا ہے؟ اسلام کے نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو اولاد مرد کے نصیب سے ہے پھر مورد الزام عورت کیوں؟ ماں نا بننے کے طعنے کے ساتھ چھوڑ دینے والے مرد کیا عورت کو اسکی عمر اور جوانی بھی لوٹا سکتے ہیں؟ اس مردوں کے معاشرے میں رہتے ہوئے کیا کبھی کسی عورت نے مرد کو اس لیے چھوڑا کہ وہ باپ نہیں بن سکتا اور عورت کو بچے چاہییں؟ کیا کبھی عورت نے سرعام مرد کو طعنہ دیا؟ کبھی اولاد نا ہونے کا بہانہ بنا کر چھوڑا؟ طلاق کی وجوہات کچھ بھی ہوسکتی ہیں لیکن کبھی یہ نہیں ہوتی کہ مردچونکہ باپ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے چھوڑ رہی ہوں۔ اس لیے جب بھی کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو تو برائے مہربانی اپنا چیک آپ بھی کروا لیں اگر خود کو دوائی کی ضرورت ہے تو وہ بھی استعمال کر لیں صرف عورت کو الزام لگا کر اسکی زندگی کے بہترین سال ضائع کر کے اسے چھوڑ کر معاشرے کے رحم و کرم پر نا چھوڑیں۔ آخرت میں جواب صرف نماز کا نہیں لیا جانا بلکہ ہر اس بات کا لیا جانا ہے جسکے لیے نگران بنایا گیا۔ حاکم بنایا گیا ہے۔

    بیٹیاں
    آج کا دوسرا موضوع بیٹیاں ہیں۔ بیٹیاں جنہیں رحمت کہاگیا، بیٹیاں جو گھر کی رونق ہیں، بیٹیاں جو تتلیاں ہیں، بیٹیاں جن کی وجہ سے گھروں میں رونق زندگی میں سکون ہے بیٹیاں جنہیں میرے رب نے والدین کی بخشش کا زریعہ بنایا، بیٹیاں جو ہمارے آخری نبی صلی اللهعلیہ والہ وسلم کی سنت کی وارث، وہ بیٹیاں جنہیں اسلام کی آمد سے قبل دفن کردیا جاتا تھا انکی عزت، حرمت، کا تحفظ کیا ہمارے دین اسلام نے۔

    آپ صلی الله والہ وسلم کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ فرمایا
    بیٹیوں کی پرورش کرنے والا قیامت کے دن میرے ساتھ یوں کھڑا ہوگا جیسے انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ ہم اسلام کے پیروکار ہیں، ہم اس دین کو پھیلانے والے اس سنت کا پرچار کرنے والے کیسے اتنے بڑے فرمان سے انحراف کر سکتے ہیں؟ کیسے بیٹیوں کو زحمت کہہ سکتے ہیں؟ کیسے بیٹی کے پیدائش کا الزام عورت پر لگا کر اسے چھوڑ سکتے ہیں؟ کیسے بیٹیوں کو بوجھ سمجھ سکتے ہیں؟ میں نے ایک دو لوگ ایسے دیکھے جو باقائدہ خوشی مناتے ہیں کہ بیٹیاں ہیں انکی تعلیم اور تربیت کرتے ہیں اچھے طریقے سے انکانکاح کرتے ہیں۔ کیا سب لوگ ایسے نہیں ہوسکتے؟ گھریلوتشدد کے واقعات میں سب سے زیادہ جم باتوں پر تشدد ہوتا ہے عورت پر وہ بانجھ پن اور بیٹیوں کی پیدائش پر ہے۔ جب بیٹا، بیٹی ہے ہی الله کی طرف سے تو مجرم عورت کیسے؟ اب تو سائنس نے بھی یہ بات ثابت کردی کہ بیٹی یا بیٹے کی پیدائش میں عورت سے زیادہ مرد کا ہاتھ ہے تو پھر الزام عورت پر کیوں؟ مرد اپنے آپ کو جب حاکم سمجھتے ہوئے عورت کو بیٹیوں کی پیدائش کا مجرم ٹھہرا کر چھوڑ دیتا ہے بیٹیوں سے رخ موڑ لیتا ہے اس عورت کو اور بیٹیوں کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے تو اس عورت اور بیٹیوں کے ہر قسم کے نقصانات کا زمہ دار وہ مرد ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی گنہگار اور آخرت کے عذاب کا بھی مستحق ہوتا ہے۔ زندگی کتنی مختصر اور عارضی ہےیہاں کس نے قیامت تک رہنا ہے رہنی صرف رب کی زات ہے۔ بیٹیوں کے بغیر تو والدین کے جنازے تک خالی ہوتے ہیں۔ رحمت کی قدر کریں تاکہ نعمت سے نوازے جا سکیں۔ بیٹیوں کی پیدائش پر خوش ہوں انکی تربیت کریں انکا ساتھ دیں معاشرے میں جینے کے قابل بنائیں۔ انہیں انکے پاؤں پر کھڑا کریں۔ انہیں بوجھ نہیں گھر کی رونق بڑھاپے کا سہارا سمجھیں۔ اور ان سب سے بڑھ کر آخری الزمان نبی کریم صلی الله عليه والہ وسلم کا آخرت میں ساتھ پانے کی سعی کریں۔ الله پاک ہمیں اپنے راستے پر چلانے کی توفیق عطاء فرمائے۔ اپکی دعاؤں کی طلبگار

  • میرا خواب نیا مضبوط پاکستان .تحریر: فضل عباس

    میرا خواب نیا مضبوط پاکستان .تحریر: فضل عباس

    اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو ۔
    پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دم ہو

    میں ایک پاکستانی ہوں میرا وطن پاکستان ہے ہر انسان کی طرح مجھے میرے وطن سے بے حد محبت ہے مجھے بھی میرے وطن سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں میں آپ سب سے اپنے وطن کے بارے میں اپنا خواب بیان کرنا چاہتا ہوں

    میں چاہتا ہوں میرا وطن تعلیم کے میدان میں سب سے آگے ہو میرے وطن کا ہر بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو میرے ملک کے ہر کونے میں تعلیم کی سہولت موجود ہو علم میرے وطن کے بچوں کی طاقت بنے یہاں کا ہر فرد علم حاصل کرنے میں سب سے آگے ہو جیسا کہ ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    "علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے”

    میں چاہتا ہوں میرا وطن صحت کی سہولیات دینے میں سب سے آگے ہو میرے وطن میں دی جانے والی سہولیات دنیا میں کہیں بھی نہ ہوں یہاں کے ہسپتال دنیا میں بہترین ہوں یہاں مریض ہسپتال میں ڈاکٹر کو مسیحا سمجھیں یہاں ڈاکٹر خود کو خدا نہیں خدمت گزار سمجھے یہاں کے ہسپتال میں داخل مریض خود کو محفوظ سمجھے

    میں چاہتا ہوں کہ میرا وطن کھیل کے میدان میں فاتح بنے جس طرح ماضی میں ہم نے کارنامے سر انجام دیے وہی کارنامے دوبارہ سر انجام دیں جس طرح عمران خان کی قیادت میں ہم نے کرکٹ کا عالمی کپ جیتا بلکل اسی طرح ہم دوبارہ فاتح قرار پائیں اسی طرح اسکواش کے میدان میں جہانگیر خان کی طرح کامیابیوں کو اپنے وطن کی عزت بنائیں سب سے زیادہ خوشی کی بات تو تب ہے جب ہم اپنے قومی کھیل ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں

    میں چاہتا ہوں میرا وطن سب سے بڑی معاشی طاقت بنے دنیا بھر سے لوگ یہاں ملازمت کرنے آئیں میرے وطن کے لوگوں کو ملازمت کے لئے باہر نہ جانا پڑے میرا وطن سب کی امید ہو میرے وطن کی معاشی اعتبار سے دنیا میں ایک الگ ٹھاٹ باٹ ہو میرا وطن عظیم معاشی طاقت بنے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن ایسا وطن ہو جہاں غریب اور امیر نہیں بلکہ انسان ہوں جہاں عزت کا پیمانہ دولت نہیں انسانیت ہو جس انسان میں انسانیت ہو وہی عزت دار ہو میں چاہتا ہوں میرے وطن میں غریب اور امیر میں کوئی فرق نہ ہو غریب بھی اسی طرح جیے جس طرح امیر

    میں چاہتا ہوں میرا وطن اسلامی مملکت بنے جس طرح ہم نے اسلام کے نام پر وطن حاصل کیا ویسے ہی یہاں اسلامی قوانین نافذ ہوں میں چاہتا ہوں میرے وطن میں ہر کام اسلام کے مطابق ہو

    میں چاہتا ہوں میرا وطن اسلامی دنیا کا سربراہ بنے اسلامی ممالک پاکستان کے جھنڈے تلے یکجا ہوں اسلام ایک طاقت بنے جس کا محور پاکستان ہو میرے وطن کو اسلامی دنیا میں وہ مقام حاصل ہو جو بھائیوں میں بڑے بھائی کا ہوتا ہے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن امن کا گہوارہ بنے جس طرح ہماری افواج نے دہشتگردوں کا سر کچلا اسی طرح آگے بھی کچلتی رہیں یہاں پر صدا امن رہے یہ دھرتی امن کی دھرتی بنے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن وہ سلطنت بنے جہاں سب بھائی بھائی ہوں کہ جہاں ہر کوئی اپنا فرض دوسرے کا حق سمجھ کر ادا کرے میرے ملک میں کوئی کسی کا حق نہ مارے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن ایسا ہو جہاں سیاست خدمت کا نام ہو جہاں سیاست کرپشن سے پاک ہو جہاں سیاستدان اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل ہوں

    اپنے خواب کا اختتام کرتے ہوئے کہوں گا میرا وطن ایسا ہو جیسا اقبال کا خواب اور جناح کی محنت تھی

  • سترسالہ محرومیوں کا ازالہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،سعید انجم مغل

    سترسالہ محرومیوں کا ازالہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،سعید انجم مغل

    جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ کے نامزد امیدوا ربرائے قانون سازاسمبلی حلقہ ایل اے 1 سعید انجم مغل نے یونین کونسل راجکوٹ میں مغل برادری کی جانب سے شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سیاست متوسط طبقے اورپسماندہ علاقوں کی خوشحالی ہے، سترسالہ محرومیوں کا ازالہ کریں گے، راجکوٹ کی مغل برادی کا شکرگزارہوں آپ نے اعتما د دیا ہے، اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے، نوجوانوں نے جمود کو توڑ دیا اب نوجوان کشمیرکی قیادت کریں گے، راجکوٹ پہنچنے پرسعید انجم مغل کا نوجوانوں اوربرادری عمائدین کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا ہے، کارکنوں کی جانب سے پھولوں کی پتیاں نچھاورکی گیں، جبکہ راجہ عامر سیاب، قاری مقبول نے مالا پہنا کرساتھیوں سمیت جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے.
    یونین کونسل راجکوٹ میں کارنرمیٹنگزاورعلاقہ معززین کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے سعید انجم مغل کا کہنا تھا کہ شکرگزار ہوں کہ راجکوٹ کے میرے بزرگوں اورنوجووان دوستوں نے مجھے محبت دی اوراپنی بھرپورحمایت کا یقن دلایا ہے، راجوکوٹ میں اس بارنہ تیر چلے گا اوربلا بلکہ راجکوٹ کے نوجوانوں نے جمود کوتوڑدیا ہے، اس بارنظریاتی اورخوشحالی کشمیرکیلئےعملی طور پرمصروف جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کی فتح ہوگی، 25 جولائی کوصرف کرسی پرمہریں لگیں گی۔

  • وزیراعظم ایماندار لیکن نااہل کابینہ .تحریر ۔ زیشان روؤف

    وزیراعظم ایماندار لیکن نااہل کابینہ .تحریر ۔ زیشان روؤف

    میری تحریر کا ایک ایک لفظ میرے دل کی اواز ہے اور جو لیکھ رہا ہوں اس پر توجہ ضرور کریں۔
    عمران خان , کارکنان اور وزیر, مشیر
    یہ تین الاگ الاگ چیزیں ہیں ایک عمران خان ہے جو کچھ کرنا چاہتا ہے اور اس کے کارکنان اس کی طاقت ضرور ہیں لیکن یہ وزیر مشیر عمران خان کی 25 سال کی محنت کو پانی پانی کرنے کے در پر ہیں۔ کیوں کہ ٹھنڈی گاڑی ٹھنڈا کمرا اور پروٹوکول جو مل رہا ہے تو عوام جائے جہنم میں اور عمران خان کا کیا ہے اس کی جدوجہد اور نام بھی جائے جہنم میں ہم تو ارام کرنے اہیں ہیں اور وقت گزارنے اہیں ہیں۔
    یہ سب وہ لوگ ہیں جو ہر جماعت سے اچھل اچھل کر تحریک انصاف کا حصہ2018 میں بنے یہ وہ ہیں جو پولیس کے پرچوں قبضے اور بے شمار ایسے کاموں میں ملوث ہیں ۔
    یہ کسی بھی مشکل وقت میں جماعت کا ساتھ نہیں دیں گے
    عمران خان اپ کو اس نظام سے ناکامی کے اعلاوہ کچھ نہیں مل سکتا اپ کو سڑکوں پر نکل کر ایک نئے صدارتی نظام کی طرف انا ہوگا جو ملک کی ضرورت بن چکا ہے ۔ کرپٹ اور نااہل کابینہ سے جان چھڑواہیں ۔

    یہ کرپٹ وزرا صرف اپنا مال بنا ریے ہیں اور یہ لوگ اس نظام کو اپنے حق میں چلانا جانتے ہیں یہ سب کابینہ کے اراکین اپ سے پہلے کئی سالوں سے اس نظام کا حصہ ہیں وہ نظریہ عمران کو نہیں نظریہ پیسے کو سمجھتے ہیں اور وہ ہی کر ریے ہیں جو ہر وزیراعظم کے ساتھ رہ کر کرتے ہیں۔

    وقت اج بھی ہے قدم لیں ایک نئے نظام کا
    کل یہ وقت بھی شائد نہ ہو۔

  • لالٹین نکال لو، بجلی….. آ…..گئی ہے! تحریرِ: محمد اسامہ

    لالٹین نکال لو، بجلی….. آ…..گئی ہے! تحریرِ: محمد اسامہ

    دنیا میں جب سے بجلی کا آغازہوا ہے، تب سے لوگ بجلی کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ بجلی کے بغیرایک لمحہ گزارنا مشکل ہوجاتا ہے. جب بجلی بند ہوتی ہے تو انسان کی یہ حالت ہوتی ہے جیسے وہ دنیا میں نہیں جنگل میں رہ رہا ہے. سر کے اوپرآسمان، پاؤں کے نیچے زمین، دائیں بائیں درخت، چرند پرند اور جانورملے ہوں. اس ساری بات کا مقصد یہ ہے کہ انسان بجلی کے ساتھ چل رہا ہے. بجلی کے بغیر ایک سانس بھی نہیں گزار سکتا ہے.
    پاکستان میں بجلی کا بحران پچھلی ڈیڑھ دہائیوں سے چلا آ رہا ہے. دنوں کے حساب بجلی غائب رہتی ہے، پھربھی پاکستان کی قوم کی ہمت ہے کہ زندگی ہنس کھیل کرگزار رہی ہے، جب برداشت سے باہرمعاملہ ہوجائے تو گھروں سے باہرنکل کراحتجاج کے نام پراپنی بھڑاس نکال دیتے ہیں، پھراپنے اپنے گھروں کو واپسی کرلیتے ہیں، اس معاملے کے ذمہ داران عوام کو امید کا دلاسہ دلا کر پھر سے خواب غفلت کی نیند میں مدحوش ہوجاتے ہیں، عوام امید کے سہارے صرف راہ تکتی ہے اور صبرکرکے وقت گزارتی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ عادی ہوجاتی ہے، جو لوگ مالدار ہوتے ہیں وہ بجلی حاصل کرنے کے دوسرے طریقے استعمال کرلیتے ہیں، جولوگ صرف گزارے کی زندگی بسر کررہے ہوتے ہیں وہ صرف گزارا ہی کرتے ہیں.
    پاکستان میں بجلی جانے کا دور2007 سے شروع ہوا تھا، جو2021 یعنی تاحال جاری ہے. پاکستان میں انرجی کے بحران کی وجہ بننے کے مختلف پہلو ہیں. 2001 سے ابھی تک پاکستان مختلف عالمی مسائل کا شکار ہے. کبھی بیرونی جنگ میں فریق بن کراپنا نقصان کروایا ہے، کبھی بیرونی پاپندیاں لگی ہیں، آئی ایم ایف جیسے ادارے کی کڑکی میں پھنسایا گیا ہے، دہشت گردی کے نام سے شروع ہونے والی خانہ جنگی نے پاکستان کومعاشی طورپربہت نقصان پہنچایا ہے، 2008 کے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی تھی، سیاسی حوالے سے مضبوط لوگ ہیں، اپنے دورحکومت میں اس جماعت کے ذمہ داروں نے سوائے اپنے پیٹ پالنے کے کوئی کام نہیں کیا تھا، اپنے 5 سال کے دورحکومت میں انرجی کے حوالے سے کوئی مضبوط پالیسی نہیں بنا سکے، انرجی کے نظام کوچلانے کیلئے ان کے پاس ریونیونا ہونے کے برابرتھا، حکومتی تعلقات والے فیکٹریوں کے مالک بجلی کا بل ہی نہیں دیتے تھے، ٹیکس چھوٹ چل رہی تھی، کرپشن عروج پرکی جا رہی تھی، کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، جس کا جو دل چاہتا تھا وہ کرتا تھا، اداروں کی حالت ابترسے ابترہوتی گئی تھی، معیشت کو چلانے کیلئے اس حکومت نے ٹیکس ہی بڑھاۓ تھے، نوبت یہاں تک آگئی کہ ادارہ کی نجاکاری کرنا پڑ گئی تھی، حکومتی ذمہ داروں میں انرجی کے مسائل کو حل کرنے کیلیئے شعورہی نہیں تھا، پاکستان کے وسائل کو استعمال کرنے کی بجائے امریکہ سے 300 ملین ڈالرکا قرضہ لے لیا گیا تھا، پھر بھی انرجی کے مسائل پرقابو نہیں پا سکی تھی، وقت پراس حکومت سے کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تھا، آئی ایم ایف سے قرضہ لے کرنظام چلایا جا رہا تھا، اس دورحکومت میں ذمہ داراس قابل بھی نہیں تھے کہ اپنے وسائل کو بروئے کارلایا جا سکے، جی ڈی پی 4 فیصد تک آگئی تھی، پاکستان کی انڈسٹریز کومکمل بند کردیا گیا تھا، انڈسٹریز کے بند ہونے سے عوام بے روزگارہوگئی تھی، اس دورحکومت میں بجلی کا شارٹ فال 8500 میگاواٹ تک پہنچ گیا تھا جو کہ بجلی کی ضرورت کا 40 فیصد تھا، انرجی کی پیداوارکو بڑھانے کیلئے بیرونی قرضوں کا سہارا لیا جاتا تھا، باہر سے قرضہ لے کرادارے کے معاملات چلائے جاتے تھے، ادارے کی آمدن صرف درمیانے طبقہ کے لوگوں سے ہی آتی تھی.
    2013 میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو اس وقت بجلی کی لوڈشیڈنگ 12 گھنٹے شہروں میں، 16 گھنٹے دیہاتوں میں ہوتی تھی. شروع میں تو ان پرجوں تک نا رینگی.عوام مشکلات سے دوچار سراپہ احتجاج تھی. کوئی سننے والا نہیں تھا. 2 سالہ حکومت کے بعد ان کو ہوش آنا شروع ہوگیا تھا. نئی پالیسیاں بنانے کا آغاز ہوا. اس حکومت نے انرجی کے مسائل حل کرنے کیلئے 2 پالیسیاں بنائیں. ایک یہ کہ نادہندگی کے آدھے پیسے دے دیے جائیں. دوسرا یہ کہ انرجی کی نئی پالیسی دے دی جائے. اس دورحکومت میں 260 بلین روپے انڈی پینڈنٹ پاور پلانٹس کو گردشی قرضے کی مد میں دیے گئے تھے. اس وقت شارٹ فال 6000 میگاواٹ تک پہنچ گیا تھا۔ قرضہ ادا کرنے سے 1700 میگاواٹ بجلی شامل کی گئی تھی۔ کچھ نئے منصوبوں سے پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 22500 میگاواٹ تک پہنچ گئی تھی۔ اس دور حکومت ریونیو نہیں تھا۔ ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح بہت کم تھی۔ قرضوں سے نظام چلایا جا رہا تھا۔ قرضے لے کرقرضہ دینے سے بجلی کی بندش کا مسئلہ حل تو ہوگیا تھا لیکن مستقل حل نہیں تھا. بظاہریہ لگتا تھا کہ بجلی مسئلہ مستقل حل ہوگیا ہے. فیکٹریوں کے مالک بل دینے کی بجائے ذمہ داروں کی جیب گرم کرتے تھے. کئی کئی سالوں سے کروڑوں روپے کے بقایا جات پائے جاتے ہیں. ذمہ داروں کواس کی پرواہ تک نا تھی. انکے اکاؤنٹس میں وقت پرکرپشن کا پیسہ پہنچ جاتا تھا.
    وعدوں کے پل باندھنے والے 2018 میں پاکستان کے حکمران بنے. پی ٹی آئی کی حکومت کے ذمہ دار جو اپنی غلطیاں بھی پچھلوں پر ڈالنے کے ماہرہیں. جنہوں نے پاکستان کی ترقی کی قسم کھائی ہے. اس دورحکومت میں بھی بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی ہے. اس لوڈشیڈنگ سے تو پیپلز پارٹی کا دور تازہ ہوگیا ہے. موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے خطے میں موسم خشک اورگرم ہوگیا ہے. اس کے ساتھ ہی عوام پربجلی کی لوڈشیڈنگ کا پہاڑ توڑدیا گیا ہے. حکومتی ذمہ داروں سے حالات حاضرہ پر بات کی تو حسب معمول پچھلے ادوار پرمعاملہ ڈال دیا گیا ہے. اس وقت ملک کے شہری علاقوں میں 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے. دیہی علاقوں میں 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے. اس حکومت میں کچھ عقلمند لوگ بھی ہیں جنہوں نے اصل معاملے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے. پاکستان میں اس وقت 6500 میگاواٹ کا شارٹ فال آیا ہے. انرجی کے وزیرکا کہنا ہے کہ اس وقت ڈیمانڈ 24100 میگاواٹ ہے. پیداوار 22600 میگاواٹ ہے. 1500 میگاواٹ کا مسئلہ آ رہا ہے. یعنی اس حکومت کہ 3 سال میں کوئی ایسی ترقی نہیں کی گئی جس سے انرجی کے مسائل پرقابو پایا جاسکے. حالانکہ اس حکومت نے مختلف ڈیموں کی تعمیرکا کام اپنے دورحکومت کے آغاز میں ہی کردیا تھا. ٹیکس ریونیو بھی بہترہوگیا ہے. فیکٹریوں والے بھی بل ادا کررہے ہیں. یہاں تک کہ حالیہ لوڈشیڈنگ کے دوران عالمی بینک کی رپورٹ میں توانائی کے شعبہ میں اصلاحات لانے پرعالمی بینک نے حکومت وقت کی تعریف کی ہے، یہ حکومت حالات بہتر کرنے کا دعویٰ تو کرتی ہے مگرکرنہیں پا رہی ہے. عوام بیچاری حکومتی ذمہ داروں کا منہ تکتی رہ جاتی ہے. حکومت وقت سے گزارش ہے کہ جلد سے جلد بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرلیا جائے.

    @its_usamaislam