Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بچپن کی شرارتیں قسط 1 ،تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    بچپن کی شرارتیں قسط 1 ،تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    جیسا کے آپ عنوان دیکھ سکتے ہیں، بچپن کی شرارتیں،
    آج میں آپ سے اپنی بچپن میں کی ہوئی شرارتیں شیعر کرونگی۔

    ھم سب نے اپنے بچپن میں کبھی نہ کبھی کسی مقام پر شرارت کی ہوتی ہے۔ سچ پوچھیں تو ھم لوگوں نے آج کے بچوں کے مقابلے میں کافی اچھا بچپن گزارا ہے۔ آج کے بچے پوری طرح سے الیکٹرانک بچپن گزار رہے ہیں، نہ باہر کھیلتے ہیں،نہ کسی سے ملتے ہیں، سارا دن ہاتھ میں یا تو کوئی الیکٹرانک ڈیوائیس ھوتی ہے یا گھر کمپیوٹر پر گیم کھیلنے میں لگے ہوتے ہیں۔ جو کے بچوں کو سوشل طور پر ایک دوسرے سے دور کرتے جا رہے ہیں۔

    چلیں اس موضوع پر پھر کبھی بات کرینگے۔
    فلحال تو آپ کچھ میرے بچپن کے بارے میں جانیں۔

    مجھے بچپن میں خود کو لڑکا کہلانے کا بڑا شوق تھا، کیوں حیران ھو گئے نہ ہاہاہاہاہاہاہا جی ہاں یہ سچ ہے۔۔

    جب میں آٹھ یا دس سال کی تھی، اس وقت اپنے بھائی کے کپڑے پہن کے بھائی کے ساتھ میں نے سائیکل بھی چلائی، کنچے بھی کھیلے، کرکٹ بھی کھیلی اور پتنگ بھی آڑائی۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرے بوائے کٹ بال اور کراچی کی خطرناک گرمی میں باہر کھیل کھیل کے رنگت بھی کالی سیاہ تھی، اسلیے کوئی سمجھ بھی نہیں پاتا تھا کے میں ایک لڑکی ہوں۔ وہ بھی کیا دن تھے، ہر چیز سے بےفکر سارا دن بھائی کے ساتھ آوارگی کھیل کود اور کوئی فکر نہیں، اور جب شام میں گندے پندے گھر واپس آتے تو آمی(مرحومہ) کی جھاڑ، اور ھم امی سے وعدہ کرتے کے کل نہیں جائینگے۔

    جب دوسری صبح ہوتی سب بھول بھال اسکول سے واپسی پر پھر سے بھاگ جاتے۔ امی کو اتنا تنگ کر رکھا تھا کے اپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔

    اور پھر سے وہی کرکٹ میچ، یا سائیکل کی ریس شروع ھو جاتی۔ اور شام میں وہی ڈانٹ، مزے کی بات یہ ہے کے بھائی کے سارے دوست مجھ سے بڑے تھے اور میں چھپکلی کی پتلی دبلی، لیکن طلعت بیگم بچپن میں بھی کسی سے ہار نہیں مانتی تھیں، جب سائیکل کی ریس ھوتی تو سب سے بڑی والی سائیکل میں پکڑ لیتی تھی، نہ گرنے کا خوف نہ چوٹ لگنے کا ڈر۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا کے بڑی سائیکل کے پہیے بڑے ہوتے اس لیے وہ تیز چلے گی اور میں جیت جاونگی ہاہاہاہا۔ یہ اور بات ہے کے زیادہ تر ہار جاتی تھی۔

    لیکن یہ سب شرارتیں جب یاد آتی ہیں تو اکیلے بیٹھے بیٹھے خود ہی ہونٹوں پر مسکراھٹ آجاتی ہے۔اور دل کرتا ہے کے کاش بچپن ایک بار پھر سے لوٹ آئے۔

    چلیں ابھی مجھے اجازت دیں، انشاءاللہ اس بچپن کی شرارت کو جاری رکھتے ہوئے کوشش کرونگی کے ہر روز نہیں تو ہر دوسرے روز آپ سب کو اپنی شرارتوں میں شامل کروں۔
    آج صرف شرارتوں کا انٹروڈکشن تھا پکچر ابھی باقی ہے۔
    اگلی قسط کا انتظار کریں۔

  • اسکول نہیں نوٹوں کی مشین ہیں! تحریر: عقیل احمد راجپوت

    پاکستان کا سب سے بڑا المیہ تعلیم کا بوسیدہ نظام سرکاری اسکولوں میں تعلیم نام کی چڑیا اگر کسی پاکستانی نے دیکھی تو وہ 80 کی دھائی کا زمانہ تھا اس کے بعد سیاست دانوں سے لیکر ہر کاروباری شخصیت نے اپنے ایک منافع بخش کاروبار کے طور پر اسکول کا انتخاب کیا جس میں کبھی نقصان ہو ہی نہیں سکتا اس بھیانک صنعت کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں معنوں تعلیم ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسے غائب ہورہی ہے جیسے کراچی سے صفائی کا نظام کراچی والوں کی مثالیں اب اسی طرح کی ہوگئی ہے خیر اسکول مافیا کا زور آج اتنا بڑھ چکا کے سپریم کورٹ کے فیصلوں اور واضح احکامات کے باوجود یہ مافیا اپنی مان مانی جاری رکھا ہوا ہے فیسوں سے لیکر کاپیوں اور یونیفارم سے لیکر مختلف پروجیکٹس کے نام پر والدین کی جیبوں سے پیسہ ایسے نکالا جاتا ہے جیسے کراچی میں مرغی کا ریٹ پھر کراچی والا!

    تو قدر دانوں بات یوں ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے نام پر اساتذہ کو دی جانے والی تنخواہیں اسکولوں کے نام پر جاری ہونے والے فنڈ ایسے غائب ہورہے ہیں جیسے کچرے میں کراچی غائب ہو رہا ہے!
    اسکول پر اربوں کھربوں لگانے والے حکمرانوں میں سے کسی ایک اولاد ان سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتی ہوئی دکھائی دیتی تو مجھے احساس ہوتا کے پاکستان دو نہیں ایک ہوگیا تبدیلی کے بعد مگر پاکستان تبدیلی کے بعد بھی دو ہیں تبدیلی کا نعرہ لگانے والے یہ حکمران اپنے بچوں کو بیکن ہاؤس اور ماما پارسی جیسے اسکولوں سے نکال کر کالے پیلے اسکول میں جب داخلہ کروانا شروع ہوجائیں تو سمجھ لینا تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آگئی ہے مگر فلحال تبدیلی ایسی ہی ہے جیسے کراچی کی پینے کے پانی کی لائنوں سے آتا ہوا گٹر ملا پانی!

    اسکول مافیا کی من مانیاں اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب انہوں نے ان کاروباری سرگرمیوں کو رہائشی علاقوں میں بھی شروع کردیا عام سا بجلی پانی اور ٹیکس دینے کے بعد یہ کمرشل کاروبار کو رہائشی علاقوں میں چلا کر علاقے کی عوام کو روزانہ کی بنیاد پر مشکل اور پریشانیوں میں ڈال رہے ہیں اسکول کی چھٹیوں کے وقت اس پاس کے لوگ اپنے گھروں سے کسی ایمرجنسی کی صورت میں باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے بلکل کراچی کی سڑکوں پر چوتھے گیر میں لگاتار گاڑی چلانے کی طرح!

    تو حکمرانوں اور اداروں سے درخواست ہے کہ مافیا ختم تو آپ نہیں کرسکتے کم سے کم اس پر قانون سازی کرکے ایک راہ ہموار کریں جس کے زریعے گزرنے والے والدین کو اپنی پریشانیوں کو کس حد تک بڑھانا ہے اور اپنا کتنا پیٹ کاٹنا ہے معلوم ہو بلکل اسی طرح جیسے کراچی والوں کو پانی آنے اور ٹینکرز کس دن ڈلوانا ہے معلوم ہوتا ہے
    کرونا وائرس کے ادوار میں فیسوں کا معاملات کو دیکھا جائے فیسوں کو والدین کی استقامت کے مطابق وصول کیا جائے بچوں کو فیسوں کے جمع نا کروانے پر اسکول سے نکالنے کے عمل کو رکوایا جائے بچوں کو فیس نا دینے کی پاداش میں سزائیں نا دی جائے ان کی دل آزاری اور تضحیک نا کی جائے بلکل اسی طرح جیسے کراچی کے نالے صاف نہیں کئے جاتے!

    آخری اور اہم نوٹ پر بات کا اختتام کرتا ہوں کہ رہائشی علاقوں سے اسکولوں کو فوری کمرشل جگہوں پر شفٹ کیا جائے کیونکہ خدا نا خواستہ کسی حادثے کی صورت میں وہاں ریسکیو آپریشن نہیں کیا جاسکتا اسکول میں ایمرجنسی اخراج کا کوئی موثر نظام نہیں اس پر فوری عملدرآمد کروایا جائے تاکہ حادثے کی صورت میں جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے میری یہ درخواست چارج شیٹ ہیں ان اداروں کے افسران کے خلاف جو اس کے کرتا دھرتا ہیں ایسے کسی بھی حادثے کی صورت میں وہ اسکے زمہ دار ہونگے

  • افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    پاکستان کی سات ہزار میں سے ساڑھے ہانچ ہزار کلومیٹر سرحدیں بھارت اور افغانستان کے ساتھ ہیں جو کسی طور پر بھی محفوظ اور دوستانہ نہیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کے بری طرح براہ راست متاثر ہو گا۔ ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ بیٹھے گا بھی یا نہیں۔ ۔ دوسری جانب بھارت نے جموں،کشمیر اور لداخ پر غاصبانہ قبضہ کرکے جنونی بھارتی قیادت خطہ کے حالات کو لہو لہان کردینا چاہتی ہے۔ ۔ تیسری طرف (FATF) نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھ کر عالمی پریشر برقرار رکھا ہے۔ ۔ چوتھا اقتصادی طور پر پاکستان بدستور آئی ایم ایف کی کالونی بنا ہوا ہے۔۔ یہ بہت مشکل صورت حال ہے جس سے ملک کو بچنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    ۔ اس وقت بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت میں بھی ایسے لوگ ہیں اور اپوزیشن میں بھی ایسے لوگ ہیں ۔ جو اپنے اپنے کام سے ناواقف نظر آتے ہیں۔ حکومت والوں کا لہجہ اپوزیشن کا سا ہے اور اپوزیشن کا حکومت کا سا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے ہماری جمہوریت آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے بھاگنے میں لگی ہے۔ میری نظر میں اگر اس وقت پاکستان کا کوئی سب سے بڑا مسئلہ ہے تو وہ ہے افغانستان کی موجودہ صورتحال ۔ کیونکہ آنے والوں سالوں اور دہائیوں میں جو بھی افغانستان کے حالات ہوں گے وہ پاکستان پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوں گے ۔ مگر دوسری چیزوں کی طرح اس معاملے پر بھی ہمارے سیاستدانوں کو کچھ ادراک نہیں کہ کیا ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے ۔ رہی بات عوام کی تو وہ بھی لگتا ہے صرف ٹک ٹاک بنانےاور دیکھنے میں لگی ہے ۔ کسی کو کچھ اندازہ نہیں کہ ہمارے دروازے پر کیا مصیبت دستک چکی ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ افغانستان کے حوالے سے کوئی بھی بے ڈھنگا فیصلہ ملک کو ایک بار پھر شدید بحران سے دوچار کرے گا۔ قومی معیشت ویسے ہی کمزور ہے۔ کورونا وائرس نے بھی حالات کی خرابی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اب اگر افغانستان کے حوالے سے کوئی مہم جوئی ہوئی تو پاکستان کے لیے معاملات کو سنبھالنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بیانیے کا دور ہے اور انٹرنیشنل محاذ پر ہم ابھی تک وہ بیانیہ نہیں تشکیل دے پائے جو کہ دینا چاہیے تھا ۔

    ۔ آپ دیکھیں افغان فوج کا مورال گرا ہوا ہے اور اس معاملے میں افغانستان کے صدر پاکستان پر الزام تراشی کا موقع ضائع نہیں کر رہے۔ سوال یہ ہے کہ بیس سال تک امریکا اور اُس کے اتحادیوں سے بھرپور امداد پانے کے باوجود افغان فوج کو اب تک اتنا مضبوط کیوں نہیں کیا جاسکا کہ وہ اتحادی افواج کے بعد ملک کو بہتر طور پر سنبھال سکے؟ اب یہ سوال کوئی نہیں اُٹھا رہا ہے اور ایک بار پھر سارا ملبہ پاکستان پرڈالنے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ اور شاید عنقریب آپکو پھر سے یہ سننے کو ملے کہ DO MORE ۔ پاکستان کے لیے ایک بار پھر فیصلے کی گھڑی آگئی ہے۔ اہم ۔۔۔ پیش رفت ۔۔۔ یہ ہے کہ پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کھل کر اور واضح پر سامنے آچکے ہیں کہ کسی بھی صورت میں پاکستان اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔ چاہے وہ طالبان کے لیے ہو یا پھر امریکہ کے لیے ۔ پاکستان افغانستان میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا مخالف بھی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان افغانستان میں خانہ جنگی نہیں چاہتا وہاں مستقل اور پائیدار امن چاہتا ہے اور اسکے لیے ہر حد تک جانے کے لیے بھی تیار ہے۔ پاکستان افغانستان میں عوامی تائید سے بننے والی حکومت کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔ یقینی طور پر یہ بڑا اچھا فیصلہ ہے ۔ ۔ پر اصل مسئلہ عالمی طاقتوں کا ہے سب کو اپنے اپنے مفادات عزیز ہیں ۔ کیونکہ چین اور روس کے مفادات اپنی جگہ ہیں امریکہ کے مسائل اور اس کی ضروریات اپنی جگہ ہیں اس میں یہ تو طے ہے کہ ان تمام ممالک کو ہر حال میں پاکستان کی ضرورت ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جائے تو جائے کہاں ۔ یعنی ایک آگے کنواں ہے تو پیچھے کھائی ہے ۔ ۔ اس حوالے سے حکومت کی واضح پالیسی بڑی اچھی بات ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔ مگر اس حوالے سے دنیا کو قائل کرنا ، دنیا کو سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے ۔ جتنا ایک اچھا فیصلہ کرنا ہے ۔

    ۔ کیونکہ اس نئی جنگ کے پس منظر بہت سے ممالک اپنی دشمنیاں بھی نبھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہم کو چوکنا اور ہوشیار بھی رہنا ہے کہ کہیں افغانستان کے ساتھ ساتھ خدانخواستہ پاکستان ان کی نئی
    battle groundنہ بن جائے ۔ کیا آپ نے نوٹس کیا ہے گزشتہ چند دنوں میں پاکستان میں ایک بار پھر دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ کیا ایک بار پھر سے بڑے شہروں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ شروع ہوگیا ہے ۔ ان تمام چیزوں پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے اور ان سدباب کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔ عمران خان کہتے ہیں کہ امریکا جس طور بھارت سے روابط رکھتا ہے بالکل اُسی طور پاکستان کو بھی جگہ دے۔ وزیراعظم شاید بھولتے ہیں کہ بھارت نہ صرف یہ کہ بڑی منڈی ہے بلکہ دنیا کو بڑی تعداد میں ورک فورس فراہم کرنے والا ملک بھی ہے۔ بھارت کسی بھی طاقت سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں ہے۔ بدقسمی سے ہم نہیں ہیں ۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ اندرونی اختلافات اور تضادات سے جان چھڑانے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے۔ ۔ دوسری جانب بات سخت ہے پر آپ دیکھیں کہ پاکستانی سیاست کے کردار ایک دوسرے کے ساتھ چلنے اور ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ لیکن افغانستان میں اشرف غنی اور طالبان کو دن رات سیاسی حل تلاش کرنے کے مشورے دیے جا رہے ہیں۔ امریکہ تک کو عقل کے ناخن فراہم کرنے کے لیے سرگرمی دکھائی جا رہی ہے۔ لیکن یہی ناخن حکومت ، عمران خان ، نواز شریف ، زدراری یا دیگر اپنے استعمال میں لانے کو تیار نہیں ہیں ۔

    ۔ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں انتہائی اعتماد کے ساتھ یہ بات تو کر دی ہے کہ طالبان سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ کابل پر قبضہ نہ کریں۔ لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان وزیراعظم عمران خان کی بات مان لیں گے کیا طالبان، القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروہ اپنے وہ اہداف ترک کر دیں گے۔ جن کے لئے وہ دہائیوں سے لڑ رہے ہیں؟۔ اس لیے اس چیز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ طالبان کی قوت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایک طرف وہ دارالحکومت کابل کے دروازے تک پہنچ گئے ہیں اور دوسری طرف افغان قیادت امریکا کے در پر گری ہوئی ہے۔ معاملات بالکل واضح ہیں۔ ۔ افغان قیادت چاہتی ہے کہ امریکا اپنی افواج کا انخلا مکمل ہو جانے کے بعد کی صورتِ حال کے حوالے سے ضامن کا کردار قبول کرے۔ طالبان پر قابو پانا تنہا افغان قیادت یا فوج کے بس میں نہیں ہے ۔ ایسے میں صدر اشرف غنی امریکا اور یورپ سے کوئی باضابطہ ضمانت چاہتے ہیں کہ طالبان کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کی جاتی رہے۔ ۔ پر سوال یہ ہے کہ امریکا کیوں چاہے گا کہ فوج نکالنے کے بعد بھی اس کا افغانستان کے معاملات سے کچھ تعلق رہے؟ اور بالخصوص ایسا تعلق جس میں ذمہ داری بھی نمایاں ہو؟ ۔ صاف ظاہر ہے کہ موجودہ افغان حکومت کا انجام بھی سویت افواج کے انخلا ء کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کی طرح ہونے والا ہے ۔ اس کے بعد امریکہ کے تشکیل کردہ داعش و القاعدہ گروہوں کے افغان طالبان کے ساتھ تصادم کی صورت میں ایک بڑی خانہ جنگی کا خطرہ ہے ۔ جس کے شعلوں سے پاکستان سمیت افغانستان کے دیگر ہمسائے کسی صورت محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ شاید امریکہ کی خواہش بھی یہی ہے کہ افغانستان بدامنی کے دلدل میں دھنسا رہے۔ کیونکہ جتنا اس خطے میں انتشار ہوگا چین کے سی پیک اور روس کے مفادات کو نقصان پہنچاتا رہے گا ۔ تو ہم کو سمجھنا چاہیے کہ افغانستان میں خانہ جنگی امریکہ کے مفاد میں ہے اور وہ حالات کو اس جانب ہی موڑ رہا ہے کہ افغانستان خوفناک اور خون خوار خانہ جنگی کا شکار ہو جائے ۔ ۔ کیونکہ جوبائیڈن کا یہ بیان بڑا معنی خیز اور پریشان کن ہے ۔ کہ ہم افغانستان سے جارہے ہیں۔ اب اپنی تقدیر کا فیصلہ افغانوں کو خود کرنا ہوگا۔ افغان قیادت کے لیے یہ ٹکا سا جواب راتوں کی نیندیں اڑانے دینے کو کافی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے پریشانی کا سامان ہوسکتا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں حالات خراب ہیں۔ ۔ اشرف غنی کی قیادت میں وہاں کی سیاسی قیادت شدید بے یقینی کا شکار ہے۔ اُس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا کہ مغرب کے مکمل انخلا کے بعد طالبان سے کیونکر نمٹا جاسکے گا۔

    ۔ اس لیے اب پاکستان کو افغانستان کے حوالے ہر فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہے۔ معمولی سی غلطی ایک بار پھر ہمیں داخلی سلامتی کے بحران سے دوچار کرسکتی ہے۔ لازم ہوچکا ہے کہ ہر پالیسی بہت سوچ سمجھ کر اپنائی جائے اور کسی بھی فریق کو بے جا طور پر نوازنے یا اُس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ رکھنے سے گریز کیا جائے۔۔ اس لیے وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی سٹیک ہولڈرز افغان معاملے پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسی پالیسی بنائیں کہ پاکستان نقصان سے بچ جائے ۔ ورنہ نوشتہ دیوار اب سامنے لکھا دیکھائی دینے لگا ہے ۔ کیونکہ پاکستان ایک بار پھر تاریخ دو راہے پر کھڑا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک تمام فریق مطمئن و متفق نہیں ہونگے ۔ ورنہ امریکہ چلا جائے یا کوئی اور آ جائے۔ افغانستان میں امن نہیں آئے گا۔

  • اسلام، حجاب اور عورت مارچ .تحریر:حسن ساجد

    اسلام، حجاب اور عورت مارچ .تحریر:حسن ساجد

    اسلام ایک جامع، فطری اور کامل دین ہے جس کے تمام قوانین  اور اصول و ضوابط فطرت کے تمام تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ اسلامی نصب العین انسانیت کی بقا، ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود سے بھرپور ہے کیونکہ اسلام واحد دین ہے جو زندگی سے متعلق تمام معاملات (دینی و دنیاوی، سیاسی و سماجی، معاشی و معاشرتی) میں مکمل اور جامع ترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو انسانی زندگی اور مہذب معاشرتی تکمیل کے تمام پہلووں کا مکمل احاطہ کیا ہوئے ہے۔ اگر حسن معاشرت کی بات کی جائے تو انسانوں کے مابین ہمدردی، اخلاص، اتفاق، باہمی تعلقات اور خدمت کی غرض سے جڑے رشتوں اور باہمی حقوق و فرائض کو جس خوش اسلوبی سے اسلام نے بیان کیا ہے  وہ کہیں اور میسر نہیں آتے۔ حقوق العباد کے عمومی موضوع سے اگر ہم اپنے مخصوص موضوع یعنی عورت کے حقوق و فرائض کی طرف متوجہ ہوں تو ہمیں تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہو گا کہ اسلام سے قبل رومی، یونانی اور زمانہ جاہلیت کے ادوار میں عورت سے ساتھ کس قدر بدتر اور تضحیک آمیز برتاؤ رکھا جاتا تھا۔ وہ ظلم و ستم کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جو عورت ان تمام ادوار میں سہہ چکی ہے۔  آپ کو تاریخ انسانی میں اسلام وہ واحد دین ملے گا جس نے نہ صرف عورت کی تضحیک منع فرمایا بلکہ عورت کو معاشرے میں رتبہ، مقام اور عزت و آبرو سے بھی سرفراز فرمایا۔ اسلام نے عورت کا وراثت میں حصہ مقررکیا اور دیگر اسے وہ تمام حقوق عطا کیے جن سے اسے محروم رکھا جاتا تھا۔ اسلام نے عورت کو معاشرے میں وہ مقام عطا کیا جس کی وہ صدیوں سے متلاشی تھی۔ اسلام نے دنیا کو عام پیغام دیا کہ عورت سامان عیش و عشرت نہیں بلکہ نسل انسانی کی بقا اور سلامتی کا نام ہے۔ جہاں اسلام نے عورتوں کے بے شمار حقوق مقرر کیے ہیں وہیں ان پر کچھ ذمہ داریاں اور فرائض بھی عائد کیے ہیں جن کی پاسداری تہذیب یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عورت کے ذمہ تمام فرائض میں سب سے اہم اور اولین فرض  احکام الہی کی روشنی میں اپنی عصمت اور آبرو کی حفاظت کرنا ہے۔ اس فرض کی تکمیل کے لیے اللہ رب العزت نے خواتین کو باکردار اور باپردہ ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ معاشرے میں ان کا وقار بلند ہو۔ اللہ رب العزت سورہ النور کی آیت نمبر 31 میں ارشاد فرماتا ہے کہ، 

    ” ترجمہ: اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔  النور31″۔ احکام پردہ اور عصمت کے تحفظ پر اس کے علاوہ بھی بیسیوں آیات اور احادیث مبارکہ موجود ہیں جن میں عورت کو باپردہ اور باحیا رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    الحمدللہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جو نظریہ اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے لہذا یہاں کی تہذیب و ثقافت اور ملکی قوانین کا اسلامی قوانین کے ساتھ مطابقت رکھنا بے حد ضروری ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے احکام الہی اور اسلامی قوانین کی پاسداری ہم پر فرض ہے اگر ہم اس سے روگردانی کریں گے تو یہ ہمارا یہ عمل اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی ، سرکشی اور قانون شکنی کے زمرے میں آئے گا۔ اسلام نے عورت کو جس انداز سے باپردہ رہنے کا حکم صادر کیا ہے اس کی ہوبہو پیروی ہم سب پر فرض ہے اور اس پر کسی قسم کی ذاتی رائے کو فوقیت دینا گناہ کبیرہ ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اور اسکے احکامات مہذب اور باوقار معاشرت کے تمام اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم اس لیے صادر فرمایا ہے کہ معاشرہ اس بے حیائی اور فحاشی سے  بچ سکے جو نسل انسانی اور خاندانی نظام کو تباہ و برباد کررہی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے وطن عزیز بھی عورت کی آزاد طرز زندگی کے نام پر بے پردگی، بے حیائی اور فحاشی پھیلانے والے اسلام اور پاکستان دشمن عناصر کی زد میں ہے۔ اس پھیلتی ہوئی بے شرمی اور بے حیائی کا نتیجہ ہمیں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم اور خواتین کی عصمت دری کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں جنسی جرائم کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ 

    اس سنگین صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے اپنے اہم بیان میں خواتین کو مختصر لباس زیب تن کرنے سے اجتناب کرنے کی ہدایت جاری کی۔ وزیراعظم پاکستان نے خواتین کو پردے کا اہتمام کرنے کی ہدایت دی تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم اور بے راہ روی کو روکا جاسکے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں ہر شخص ذاتی مفاد کے لیے خیر و شر اور احکام الہی کو فراموش کیے بیٹھا ہے۔ وزیراعظم کے اس بیان پر سیاست دان اپنی سیاست چمکانے کی غرض سے مخالف بیانات دے رہے ہیں تو دوسری لبرل مافیہ اور اسلام دشمن قوتیں سیخ پا ہیں۔ اس بیان کے باعث اصل مروڑ لبرلز اور انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکے داروں کے پیٹ کیں اٹھ رہے ہیں جنہیں پاکستان میں اپنا دھندہ چوپٹ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مادر پدر آزاد خیالات کا حامی یہ طبقہ جو "عورت مارچ” کے نام سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کا ڈھونگ رچا کر در پردہ بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دے رہا ہے۔ ہم سب اس بات کے شاہد ہیں کہ کس طرح عورت کارڈ استعمال کرتے ہوئے اس طبقے نے ملک میں فحاشی کو عام کیا ہے۔ یہ لوگ دوبارہ سے "عورت مارچ” کے لیے پر تول رہے ہیں مگر گزشتہ عورت مارچ کے جلسے جلوسوں میں استعمال ہونیوالے بینرز، نعروں اور اسکے علمبرداروں کے کرتوت ہم سب کے سامنے ہیں۔ جن سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کا مقصد عورت کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ یہ لوگ عورت کو آزادی اور حقوق کی جنگ کے نام پر گمراہ کرکے بے حیائی اور فحاشی کی جانب راغب کررہے ہیں۔ عورت کی تعلیم، وراثت میں اسکا حق، ملازمت کے یکساں مواقع اور دیگر حقوق کو چھوڑ کر انکی سوئی گھوم گھما کر بے پردگی اور بے حیائی پر ہی آکر ٹکتی ہے۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد اس طبقے کے اس قدر متحرک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ لبرل طبقہ عمران خان صاحب کی عوام میں مقبولیت سے بخوبی واقف ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ خان صاحب کے اس بیان کے بعد پردے کے معاملے میں نوجوان نسل کا وہ طبقہ بھی اس معاملے میں محتاط ہوجائے گا جو اس سے قبل پردے کی پابندی کا قائل نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنا دھندہ بچانے اور فحاشی پھیلا کر ہماری نوجوان نسل کو بہکانے کے لیے نئے اور منفرد انداز سے وارد ہوں گے۔ بحیثیت مسلمان اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلامی قوانین، اسلامی رویات اور تہذیب و ثقافت کو اپناتے ہوئے ان اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کو شکست دیں ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسلام کے سنہری اصولوں کی بنیاد پر ایک ایسا فلاحی، صحت مند اور مذہب معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہررنگ و نسل کے لوگ طبقاتی اور جنسی تقسیم سے آزاد پرامن زندگی گزار سکیں۔ 

    اللہ اقوام عالم میں پاکستان کو رفعتیں اور بلندیاں عطا فرمائے آمین 

  • حسیات کی انسانی زندگی  میں اہمیت .تحریر: عترت آبیار

    حسیات کی انسانی زندگی میں اہمیت .تحریر: عترت آبیار

    ‏انسان نے دنیا میں آنکھ کھولی تو سب سے زیادہ آنکھ اور زبان کا استعمال کیا . ارتقا۶ کے ماہرین کے مطابق جنگلی زندگی نے انسانی جسم میں بے پناہ تبدیلیاں کیں .مرد نے شکار کے لیۓ دور دراز جانا شروع کیا تو عورت نے زراعت کے ذریعے اپنی گزر بسر اور تنہاٸ ختم کرنے کے لیۓ سبزیاں اور پالتو ‏جانور اور پرندے پالنا شروع کر دیے اور یوں عورت گھر اور گھر کی حفاظت تک محدود ہوگٸ جبکہ مرد کے لیۓ باہر کی دنیا کے راستے کھلتے چلے گیۓ اس نظریہ میں کتنی حقیقت اور کتنا فسانہ ہے یہ تو وقت کے ساتھ واضح ہوتا جائے گا مگر ایک بات میں حقیقت ضرور محسوس ہوتی ہے کہ جنگل کی زندگی میں جہاں ‏ہر طرف جنگلی جانور اور درندے انسان کے ساتھ بستے تھے آخر انسان حفاظت کے لیۓ کون سے طریقہ اپناتا ہوگا؟ آنکھیں ایک خاص حد سے آگے کام کرنا چھوڑ دیتی تھیں اور ہاتھ سے صرف قریب کی چیزوں کو محسوس کیا جاسکتا تھا .

    اس صورت میں وہ کون سی حسیات تھیں جو انسان کی حفاظت کرنے میں معاون ہوتی تھی ‏علم الانسان کے مطابق سننے اور سونگھنے کی حیسیات انسان زندگی کو محفوظ بنانے میں معاون بنی .اندھیرے میں دور سے آنے والے انجان حملہ آور کو پہچاننے میں ”سماعت“اور”بو“ نے مدد کی اور زندگی اپنے مدارج طے کرنے لگی .ابتدا میں مرد و عورت ایک دوسرے کو خوشبو سے پہچانتے تھے پھر زندگی نے کروٹ ‏لی تو پہچان کے دوسرے طریقے ایجاد ہوے مگر جانوروں میں آج بھی یہی طریقہ موجود ہیں . جنگلی جانور شکار کی خوشبو دور سے سونگھ لیتے ہیں اور کتا ،بلی،شارک،بھیڑیا ہاتھی سب اپنی سونگھنے کی حس کی بدولت ہی زندہ ہیں اور اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق قطار میں چلتے ہوے ‏ایک دوسرے کی بو سونگھ کر چلتی ہیں انسان کی ساٸنسی ترقی نے جسمانی اعضا۶ کو منجمد کر دیا ہے آنکھوں کی کمزوری کو عینک لگا کر دور کیا جاتا ہے کیونکہ اب ہم آنکھوں سے زیادہ کام لیتے ہیں جبکہ دوسرے اعضا۶ کی معاونت کے لیۓ مصنوعی چیزیں مارکیٹ میں آچکی ہیں مگر دنیا میں آنے والا بچہ اپنی ‏ماں کو صرف خوشبو اور آواز سے پہچانتا ہے

    اگر ہم غور کریں تو خوشبو آج بھی زندگی کا بہت اہم حصہ ہے آنکھیں بند کرکے باغ میں جاٸیں تو ہر پھول کو لمس کے بغیر صرف خوشبوسے جان جاتے ہیں .کمرے میں بیٹھے ہونے کے بوجود بارش کی خوشبو اپنے آنے کی خبر دیتی ہے جسے ہم پسینہ کی بو کہتے ہیں وہ بھی ‏دراصل ہر انسان کی پہچان کی وجہ ہے ،کھانے کی خوشبو اشتہا۶ میں اضافہ کا سبب بنتی ہے جبکہ ناپسندیدہ بو تکلیف کا سبب بنتی ہے. ان سب نعمتوں کو ہر انسان اپناحق سمجھتا ہے مگر حق سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان نعمتوں سے نوازنے والی ذات کا شکر ادا کرنے کے لیۓ بھی سوچ لیا کریں .

  • مودی کی نئی گھناؤنی چال. تحریر : نوید شیخ

    مودی کی نئی گھناؤنی چال. تحریر : نوید شیخ

    ۔ مودی کی زیرصدارت مسئلہ کشمیر پر نام نہاد آل پارٹیز کانفرنس ناکام ہو گئی ہے ۔ کیونکہ کانفرنس میں کشمیری کٹھ پتلی لیڈران عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی پھٹ پڑے ہیں اور انھوں نے بھارت کی کشمیر پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کا بھارت کے ساتھ اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی تک ہماری لڑائی جاری رہے گی۔ وادی میں نئی حلقہ بندیاں بھی ہمیں قبول نہیں۔

    ۔ اسی طرح سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی کہا ہے کہ پانچ اگست کو غیرقانونی طریقے سے دفعہ 370 کو آئین سے حذف کیا گیا۔ ہم نے مودی سے کہا ہے کہ جب طالبان سے بات ہوسکتی ہے تو پاکستان کے ساتھ بھی بات چیت کرنی چاہیے۔ ۔ حقیقت میں مودی سرکار نے عالمی دبائو کو ٹالنے کیلئے کشمیری لیڈران کو آل پارٹیز کانفرنس کا دانہ ڈالا مگر بھارتی کٹھ پتلی قیادت بھی کشمیر کی آزادی کے برعکس کوئی بات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ جس ’’ریاست‘‘ کو اب ’’بحال‘‘ کرنے کی تیاری ہورہی ہے اسے لداخ سے الگ کردیا گیا ہے۔وہ دلی سے براہِ راست چلائی Union Territoryہی رہے گا یعنی
    ’’وفاق کے زیر انتظام‘‘ علاقہ۔۔ لداخ سے الگ کئے مقبوضہ جموں وکشمیر کو اب درحقیقت ایک صوبے کی حیثیت میں ’’بحال ‘‘ کیا جائے گا جو آئینی اعتبار سے بھارت کے دیگر صوبوں کی طرح اس ملک کا
    ’’اٹوٹ انگ‘‘ہوگا۔۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے تحت جموں وکشمیر کو فراہم ہوئی ’’خصوصی حیثیت‘‘ اب بحال نہیں ہوگی۔ اس طرح اپنے طور بھارت کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کو ’’حل‘‘ کردے گا۔

    ۔ یوں باقی ماندہ مقبوضہ کشمیر کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی اور وہاں مرکزی حکومت کا مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر تعینات ہو گا۔ لداخ کو مرکز کے زیر انتظام ایسا علاقہ قرار دیا گیا ہے جس کی اپنی کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔ بھارت کا منصوبہ یہ ہے کہ لداخ میں ہندو باشندوں کو ملک کے دوسرے علاقوں سے لا کر بسایا جائے۔ نریندر مودی اور امیت شاہ نے اے پی سی میں جس واحد معاملے پر بات کی وہ مقبوضہ کشمیر میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق مشاورت ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ حلقہ بندیاں اس طریقے سے کی جائیں کہ مخصوص علاقوں میں ہندو ووٹر اکثریت میں ہوں۔ بھارت حلقہ بندیوں کے معاملے پر الگ جبر کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بھارتی آئین کے تحت 2026ء سے پہلے نئی حلقہ بندیاں نہیں ہو سکتیں۔ مودی حکومت نے گزشتہ برس آسام میں جب مرضی کی حلقہ بندیوں کی کوشش کی تو اسے مقامی سطح پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اب مودی اسی آئینی خلاف ورزی کو مقبوضہ کشمیر میں متعارف کرانے کی کوشش میں ہے تاکہ کشمیر کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دیا جا سکے۔ بھارت اس طرح کے منصوبے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئے گئے استصواب رائے کے وعدے کے متبادل کے طو پر بروئے کار لانے کا خواہاں ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے متعلق بھارت کے عزائم کسی لحاظ سے خیر پر مبنی نہیں۔

    ۔ صورتحال یہ ہے کہ دو سال کے دوران ہزاروں افراد کو بھارت کے مختلف علاقوں سے لاکر کشمیر میں آباد کیا گیا ہے۔ کشمیریوں کے خلاف مسلسل آپریشن ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کی املاک کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ باغات کو کاٹا جا رہا ہے اور دکانوں کو منہدم کرنے کی پالیسی اختیار کر کے روزگار تباہ کئے جا رہے ہیں۔۔ دوسری جانب افغانستان کی بدلتی صورت حال اور امریکی رویے میں تبدیلی نے مودی حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ پاکستان سے کشمیر پر مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے۔ مودی مذاکرات سے قبل کشمیر کا معاملہ اس حد تک الجھا دینا چاہتے ہیں کہ مذاکرات میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بجائے مودی حکومت کے اقدامات زیر بحث رہیں۔ مودی کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی کے لئے اے پی سی جیسے اقدامات کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ یوں بھارت کا خیال ہے کہ یہ بین الاقوامی مداخلت کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ مودی چاہے جتنی بھی پلاننگ کرلے مگر یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ اس کے یہ منصوبے کتنے کامیاب ہوتے ہیں ۔ ۔ اس نام نہاد کانفرنس میں بھارت نواز آٹھ پارٹیوں کے 14رہنمائوں نے شرکت کی جبکہ کانفرنس میں کشمیریوں کی اصل نمائندہ حریت قیادت کو نظرانداز کردیا گیا۔

    ۔ جبکہ مودی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر میں انتخابات کے بعد کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جو کہ ایک ڈھکوسلا ہے ۔ دلاسا ہے ۔ بالکل ایسا ہی ہے کہ یہ کرلو تو ریاستی حیثیت بحال کر دیں گے ۔ یعنی مودی نے ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی سازش رچ دی ہے ۔ ۔ کیونکہ اگر کشمیریوں کو یہ بھارتی فیصلہ قبول ہوتا تو وہ کٹھ پتلی اسمبلی کے ہر انتخاب کے بائیکاٹ کا راستہ اختیار نہ کرتے اور نہ ہی وہ بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد جاری رکھتے۔۔ اس طرح مودی سرکار کی کشمیریوں کو تقسیم کرنے کی سازش بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ کشمیریوں کی منزل درحقیقت مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت کی بحالی نہیں بلکہ بھارتی تسلط سے آزادی ہے جس پر وہ کسی مفاہمت کیلئے تیار نہیں اور پاکستان کا بھی یہی دیرینہ اور اصولی موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل یواین قراردادوں پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔ ۔ دوسری جانب حریت قیادت نے بجا طور پر بھارت اور دنیا کو باور کرادیا ہے کہ مودی کا رچایا جانے والا ڈرامہ کشمیروں کے زخموں پر نمک پاشی اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔۔ دراصل مودی کشمیریوں سے غداری کی تاریخ دہرا رہے ہیں۔ کیونکہ کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں اور پاکستان کی شرکت کے بغیر تنازعۂ کشمیر کے حل کیلئے کوئی بھی ملاقات یا مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتے۔ کشمیری عوام بھارت سمیت مودی پر اعتماد کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہیں ۔ کیونکہ مودی نے کشمیر کو جھنڈے ،شناخت اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرکے اپنے زرخریدوں کی بھی تذلیل کی ہے جبکہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔

    ۔ کشمیری عوام اپنی دھرتی کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اس جدوجہد میں وہ اب تک اپنے لاکھوں پیاروں کی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں جبکہ انکی مالی قربانیوں کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔ وہ اپنی آزادی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو ہرگز تیار نہیں جنہوں نے درحقیقت اپنا مستقبل قیام پاکستان سے بھی پہلے پاکستان کے ساتھ منسلک کرلیا تھا۔ اسی تناظر میں کشمیر اور پاکستان کے عوام کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ الحاق ہی کشمیریوں کی منزل ہے اور انکی اس منزل کا حصول ہی دراصل تکمیل پاکستان ہے۔

    ۔ بھارت نے گزشتہ دوسال سے مقبوضہ وادی میں کرفیو لگا کر مظلوم کشمیریوں کے بنیادی حقوق بھی سلب کررکھے ہیں اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری کا عملی طور پر کچھ نہ کرنا اور کرفیو ہٹانے کے لیے بھارت پر دباؤ نہ ڈالنا عالمی بے حسی اور بے ضمیری کا ثبوت ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت مختلف بین الاقوامی اور عالمی پلیٹ فارموں پر لابنگ کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو احساس دلائے کہ جب تک بھارت جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں دیتا تب تک خطے میں امن و امان قائم نہیں ہوسکتا۔

  • مٹن کڑاہی کیوں نہیں کھلائی، دولہا بارات واپس لے گیا

    مٹن کڑاہی کیوں نہیں کھلائی، دولہا بارات واپس لے گیا

    بھارت میں دلہن والوں کی جانب سے باراتیوں کو کھانے میں مٹن کڑاہی پیش نہ کرنے پر دلہا بارات واپس لے گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں حالیہ چند دنوں میں عجیب و غریب وجوہات کی بنا پر بارات واپس لے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے حال ہی میں دلہن نے دلہا کی نظر کمزور ہونےکی وجہ سے شادی سے انکار کرتے ہوئے بارات کو خالی ہاتھ واپس کر دیا تھا-

    میڈیا کے مطابق اب ریاست اوڈیشا کے ضلع جے پور میں شادی کی تقریب میں اس وقت ہنگامہ کھڑا ہوگیا جب باراتیوں کو حسب وعدہ کھانے میں مٹن کڑاہی پیش نہیں کی گئی۔

    مٹن کڑاہی پیش نہ کرنے پر 27 سالہ دلہا رماکانت پترا اس پر نا صرف ناراض ہوگیا بلکہ شادی سے ہی انکار کردیا دلہن والوں نے دلہا اور اس کے گھر والوں کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن ودلہا مسلسل جھگڑا کرتا رہا اور بارات واپس لے گیا۔

    باراتی اپنے ایک عزیز کے گھر ٹھہرے اور راستے میں پڑنے والے ایک گاؤں کی لڑکی سے دلہا کی شادی کروا کر واپس اپنے گاؤں لوٹے تاکہ بارات خالی واپس آنے کا طعنہ نہ ملے۔

    ادھر دلہن والوں نے اس معاملے پر پولیس سے رجوع کرلیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ دلہا دوسری شادی کر چکا ہے اور اب صلح صفائی کی بھی گنجائش نہیں بنتی۔

    فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس

  • لباس،خواتین اور جنسی ہراسگی .تحریر:علی عبداللہ

    لباس،خواتین اور جنسی ہراسگی .تحریر:علی عبداللہ

    لباس کی اہمیت اسی روز شروع ہو گئی تھی جب شجر ممنوعہ کھانے پر آدم و حوا کو برہنگی کے باعث اپنے بدن جنت کے پتوں سے چھپانا پڑے اور پھر یہیں سے لباس اور حجاب کی بحث نے جنم لیا جو آج تک زیر بحث ہے۔ مرد و عورت کے مابین ایک مخصوص فاصلہ رکھنے کو جہاں مختلف مذاہب نے اصول و ضوابط پیش کیے، وہیں ظاہری طور پر مرد اور عورت کے لیے لباس کی اہمیت اور اس کا طریقہ کار بھی وضع کیا۔ کوئی بھی الہامی مذہب شرم و حیا اور لباس کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں پیچھے نہیں رہا چاہے وہ عیسائیت تھی یا یہودیت یا پھر اسلام، تمام مذاہب نے باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کو بھی محفوظ اور پاکیزہ بنانے پر زور دیا ہے۔ پست ترین قوموں میں بھی لباس کی اہمیت برقرار رہی اور ایسی قوموں نے جنگلوں میں رہتے ہوئے بھی اپنی سمجھ بوجھ اور مرتبے کے مطابق لباس وضع کیے تا کہ ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ جسم کو ڈھانپنے اور حیا کا تصور برقرار رکھا جا سکے۔ سینٹ پال نے لکھا ہے کہ ”خواتین کو سجاوٹ کے لیے ایسا مناسب لباس استعمال کرنا چاہیے جو شائستہ اور عمدہ ہو۔“ اسلام کی بات کریں تو قران کہتا ہے، ”اے اولاد آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانپے اور تمہارے لیے زینت ذریعہ بھی ہو۔“ یہاں ایک بات تو واضح ہو گئی کہ لباس جسم کو ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ ہمیں محفوظ بنانے اور شرم و حیا کو برقرار رکھنے کا باعث ہے۔

    لباس جسم انسانی کو خوبصورتی بخشتا ہے اور اسے طمانیت کے احساس سے روشناس کرواتا ہے۔ انسانی جذبات پر لباس کا گہرا اثر ہے، اسی لیے سیاہ لباس، سفید لباس، سرخ لباس وغیرہ مختلف جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ جبکہ بسنت اور بہار کی مناسبت سے پیلے اور تیز رنگوں والے لباس استعمال کیے جاتے ہیں۔ جذبات برانگیختہ کرنے والے کئی اقسام کے لباس جدید دنیا میں رائج ہیں جو انسانی جذبات کو بھڑکا کر جنسی طور پر انھیں مشتعل کرنے کا باعث بنتے ہیں- آپ کسی بھی بڑے سٹور پر چلے جائیں، وہاں مردوں سے زیادہ خواتین کے لباس کی مختلف اقسام دیکھنے کو ملیں گی کیونکہ جذبات کو ابھارنے میں یہ لباس نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ فرائڈ کے مطابق ”ہمارے اکثر افعال کی رہنمائی عقل نہیں کرتی۔ جو کچھ ہم سوچتے ہیں، جو کچھ ہم خواب میں دیکھتے ہیں اور جو کچھ ہم کرتے ہیں، ان کا تعین اکثر اوقات ہماری غیر عقلی جبلتیں جنھیں ترنگ یا من کی موج بھی کہا جا سکتا ہے کرتی ہیں۔ اس قسم کی غیر عقلی جبلتیں بنیادی انگیختوں یا ضروریات کا اظہار بھی ہو سکتی ہیں۔ مثلاً شیر خوار بچے کا ماں کا دودھ چوسنے کی جبلت بنیادی ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کی جنسی انگیخت بھی بنیادی ہو سکتی ہے۔“ جنس مخالف کی جانب مائل ہونے کی بہت سی نفسیاتی، حیاتیاتی اور فطری وجوہات ہیں اور انہی عناصر کو مزید تقویت دینے کے لیے مختلف انداز کے لباس مستعمل ہیں۔ جب ایک لباس آپ کو محفوظ ہونے کا احساس دلا سکتا یا آپ کو مذہبی اور کسی خاص قوم یا طبقے کا فرد کہلوا سکتا ہے تو یقیناً لباس انسان کے جذبات کو بھی ابھار سکتا ہے۔ لہذا یہ بحث ہی نہیں کہ لباس کا جنسی جذبات پر کوئی اثر ہے یا نہیں، یہ حقیقت ہے کہ لباس جنسی جذبات کو بھڑکانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لباس جنسی ہراسگی کی وجہ ہے؟ اس کا سادہ اور آسان جواب یہ ہے کہ ریپ اور ہراسگی کی بہت سی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ لباس بھی ہے۔ پوری دنیا میں کی جانے والی مختلف تحقیقات کے مطابق خواتین کا چست اور مختصر لباس ہراسگی اور ریپ کی وجوہات میں اہم کردار کا حامل ہے۔ ”Grammer et al. 2004“ کے مطابق کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ مخصوص لباس مردوں کو جنسی طور پہ لبھانے اور اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق جو کہ 20 سال سے 68 سال کی خواتین سے انٹرویو کے ذریعے کی گئی، میں بتایا گیا کہ خواتین لباس، کاسمیٹکس اور اپنی جسمانی حرکات کے ذریعے اپنے جنسی جذبات کو ظاہرکرتی ہیں۔ 2011 میں کی جانے والی ایک تحقیق (Gueguen 2011) کے مطابق مختصر اور چست لباس پہننے والی خواتین کی جانب لوگ سب سے زیادہ متوجہ ہوئے جبکہ ڈھیلے اور مکمل لباس پہننے والی عورتوں کے جانب بہت کم لوگوں نے توجہ دی۔ ایک اور تحقیق سے ظاہر ہوا کہ جو جوان عورتیں مختصر اور اعضا کو ظاہر کرنے والے لباس پہنتی ہیں وہ بہت زیادہ جنسی جرائم کے خطرات سے دوچار ہوتی ہیں۔ ورک مین اور جانسن کی تحقیق جس میں مرد و عورتوں کو دو تصاویر دکھائی گئیں، ایک تصویر میں مختصر اور چست لباس والی خاتون جبکہ دوسری تصویر میں عام ڈھیلے ڈھالے لباس والی خاتون موجود تھی۔ دیکھنے والے مردوں اور عورتوں نے پہلی تصویر میں موجود مختصر لباس والی خاتون کو جنسی ہراسانی پر اکسائے جانے کی وجہ قرار دیا۔ ایسی ہی چند تحقیقات مراکش، افریقہ اور ہندوستان میں بھی ہو چکی ہیں جن میں بہت سی خواتین اس بات سے متفق تھیں کہ چست اور مختصر لباس جنسی ہراسگی کا سبب بنتا ہے۔ لباس اور جنسی ہراسگی کے مابین تعلق پر بہت سے نظریات پیش کیے جا چکے ہیں جن میں ایٹری بیوشن تھیوری، ابجیکٹیفیکیشن تھیوری اور فیمینسٹ تھیوری وغیرہ شامل ہیں۔ 2018 کی تحقیق کے مطابق مختصر اور غیر مناسب لباس میں ملبوس عورت کم ذہین، کمزور کردار اور کم اہل سمجھی جاتی ہے۔

    اس ساری بحث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جنسی ہراسگی میں ہمیشہ عورت ہی ذمہ دار ہوتی ہے اور مرد بیچارہ بے قصور ہے۔ جنسی جرائم کی بے شمار وجوہات ہیں اور مرد ہمیشہ اس میں شامل ہوتا ہے، لیکن لباس کو اس سارے معاملے سے نکال دینا اور اس کی اہمیت سے انکار کرنا خطرناک بات ہے۔ جو لوگ بچوں سے زیادتیوں کی مثالیں دیتے ہیں اور لباس کو جنسی ہراسگی کی وجہ نہیں مانتے، وہ بھی درحقیقت اچھی طرح جانتے ہیں کہ مختلف ذرائع جیسے ٹی وی، انٹرنیٹ، فلمیں، فیشن شو اور سوشل میڈیا ایپس جیسے ٹک ٹاک، لائیکی اور سنیک ویڈیو پر پیش کیے جانے والے پروگرام اور ویڈیوز میں اکثریت ایسے مواد کی ہوتی ہے، جو مسلسل جنسی جذبات کو ابھارتے ہیں اور جن میں ماڈلز اور اداکاروں نے پرکشش اور چست و مختصر لباس پہنا ہوتا ہے۔ نتیجتاً ایک عام آدمی مسلسل جب ان کو دیکھتا ہے اور جنسی طور پر مشتعل ہوتا ہے تو پھر اس کے سامنےجو موقع آئے وہ اسے ضائع نہیں کرتا۔ اس طرح آسان ترین شکار انہیں چھوٹے بچے بچیاں نظر آتے ہیں جنہیں وہ اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ دوسری دلیل لوگ مغرب کی پیش کرتے ہیں کہ وہاں تو ہے ہی مختصر لباس تو پھر وہاں ایسے واقعات کیوں نہیں ہوتے؟ ایسے لوگوں سے عرض ہے کہ ریپ اور ہراسگی کے سب سے زیادہ واقعات یورپ اور امریکہ میں ہی ہوتے ہیں جنہیں ہمارا میڈیا مختلف وجوہات کی بنا پر پیش نہیں کرتا۔ پھر وہاں زنا بالرضا پر کوئی روک ٹوک نہیں اور اکثریت اسی پر گزارہ کرتی ہے۔ سخت قوانین اور سزائیں صرف جبراً زیادتی پر ہیں- اس کے باوجود اس معاشرے میں جنسی جرائم کی شرح بلند ہونا حیران کن ہے اور تحقیقات نے ثابت بھی کیا ہے کہ لباس ان واقعات کے پیش آنے میں خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ڈاکٹر ایلکسس کاریل کے مطابق ”لوگ ان قوانین طبعی کی مخالفت کرتے ہیں جن کو اسلامی زبان میں کائناتی سنتیں کہا جاتا ہے اور اس نتیجے میں تہذیبی و اخلاقی گراوٹ پیدا ہوتی ہے۔“

    مغربی اثر و رسوخ کی بنا پر ہمارے ہاں بھی چونکہ اب عورت آزادی کے نام پر پرانی کسان عورت کی طرح ماں کے کردار اور ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتی ہے اور بقول ایک عرب سکالر کے، وہ ابسن کی عورت کی طرح دوست، گرل فرینڈ اور ساتھی بننے کو جدت سمجھتی ہے۔ حالنکہ یہ مغرب کا مسئلہ تھا کہ امریکی عورت کسی قیمت پر تقریب میں حاضری ترک نہیں کرتی۔ پیرس کی معزز عورت ڈرتی ہے کہ اس کا عاشق اسے چھوڑ نہ جائے اور ابسن کی ہیروئن اپنی ذات کے علاوہ کسی کو توجہ کے قابل نہیں سمجھتی، لیکن اب مشرقی عورت بھی اس ڈگر پر چلنے کو پر پھیلا رہی ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں زنا بالجبر ہو یا بالرضا، دونوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس پر سزائیں مقرر ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ جدیدیت کے قائل افراد کو صرف مرضی کے بنا کیے گئے فعل پر اعتراض ہوتا ہے اور انہیں سخت سزا دیے جانے کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں، مگر اپنی مرضی سے استوار کیے گئے جنسی تعلقات پر اعتراض نہیں ہوتا اور نہ ہی ان پر لاگو شرعی سزا پر بات کی جاتی ہے۔ لباس میں آئے روز جدت کے نام پر عجیب و غریب انداز اپنائے جا رہے ہیں جو شرم و حیا سے عاری ہوتے ہیں۔ اسی مسئلے سے بچنے کے لیے ہی اسلام نے عورت کو شائستہ اور عمدہ لباس پہننے کی تلقین کی ہے، جس میں اس کے اعضا ظاہر نہ ہوں اور مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو اب ان دونوں احکامات پر بیک وقت عمل کرنے کی ضرورت ہے نا کہ صرف نگاہیں نیچی کرنے پر زور دیا جائے۔

  • اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کا قانون. تحریر:عائشہ یاسین

    اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کا قانون. تحریر:عائشہ یاسین

    پچھلے دنوں ایک الگ مسئلے کو سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ یہ مسئلہ نوجوانوں کی شادی کے متعلق تھا۔ نوجوانوں کی اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کو ہر صورت ممکن بنانے پر زور دیا گیا اور شادی نہ ہونے کی صورت میں والدین کو اس کا جواب طلب کرنے کی تجویز دی گئی اور باقاعدہ قانون نافذ کرنے اور اس پر عمل کروانے کے قانون کو رائج کرنے کی تلقین کی گئی۔ اس بحث میں صرف نوجوانوں کی بے راہ روی اور غلط سمت میں جانے کے خدشات کو واضح کیا گیا۔ ایک عام شہری ہونے کے ناطے یہ بات عقل تسلیم کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔ اٹھارہ سال میں شادی کسی صورت ممکن نہیں۔ اس کی ایک نہیں بے شمار وجوہات ہیں۔ ایک عام سروے میں جب یہ بات نوجوانوں سے پوچھی گئی تو ان کے پاس ہنسنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہ تھا۔ اسی طرح جب یہ مسئلہ والدین کے آگے رکھا گیا تو ان کی شکل پر فکر و پریشانی کے ساتھ صرف یہ الفاظ ادا ہوئے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟
    ہم جدید دور کے باسی ہیں اور ہر دور کا ایک تقاضا ہوتا ہے۔ جلد شادی کرنا ہرگز کوئی مسئلہ نہیں مگر اس شادی کو نبھانا اور آنے والی نسل کی پرورش اور کفالت اہم مسئلہ ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر اس قدر نا پختہ اور غیر سنجیدہ دور ہوتا ہے جس میں لڑکا لڑکی زندگی کو ایک خواب و خیال گردانتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی موج مستی اور شور ہنگاموں جیسی ہوتی ہے۔ ان میں احساس زمہ داری اور قوت فیصلہ نہیں ہوتا۔ وہ انتہائی جذباتی اور نڈر ہوتے ہیں۔ فیصلہ کرنا اور اس پر قائم رہنا ان کے لیے دشوار ہوتا ہے۔ ایسے میں ان پر شادی جیسی ذمہ داری ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ اس سے بھی زیادہ ضروری ان کی تعلیم ہے۔ بہتر تعلیم اور بہتر ذریعہ معاش کا ہونا انتہائی اہم ہے۔

    عموما تمام دنیا میں پیشہ وارانہ تعلیم کے مکمل ہونے کی عمر 23 سال ہے۔ پھر اس کے بعد نوکری اور دیگر انٹرنشپ وغیرہ میں ایک سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔اگر ہم اصول و ضوابط کے حساب سے اندازہ لگائیں تو بھی 24 سال کی عمر سے پہلیشادی ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ ہاں جہاں تک بات لڑکیوں کی ہے تو بھی اگر ہم لڑکی کی پیشہ وارانہ تعلیم نظرانداز کرکے ان کی تعلیم کی معیشت انتہائی کمزور ہے اور جہاں پہلے ہی غربت اور جہالت کا راج ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ تجویز نامناسب ہے۔ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی نوجوانوں کے ساتھ ناروا سلوک برتا جارہاہے۔ لڑکیوں کی تعلیم ویسے ہی ایک متنازعہ معاملہ ہے۔ نہ ہی لڑکیوں کو بہتر تعلیمکو مختص کریں تو انٹر بنتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں جہاں ہمارے ملک کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر ان کے جائز حقوق دیے جاتے ہیں۔نو عمری کی شادی کسی طور خیر کا باعث نہیں بن سکتی۔ چھوٹی عمر کی شادیوں سے صحت کے معاملات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ تعلیم کی شرح نمو میں کمی آسکتی ہیں۔ آبادی جو پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہے خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ پیشہ وارانہ افراد کی کمی ہوسکتی ہے۔ نہ سمجھی اور لا ابالی عمر کی شادی گھر کے نہ بسنے کا سبب بن سکتی ہے۔

    شادی کوئی کھیل نہیں بلکہ یہ ایک معاہدہ ہے جو دو افراد کے بیچ قائم ہوتا ہے تاکہ نسل پروان چڑھے اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکے۔ایسا ہرگز نہیں کہ میں کم عمر کی شادی کے خلاف ہوں۔ بلکہ بات صرف اتنی سی ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر کو ہی قانون بنانا دانشورانہ روش نہیں۔ ہاں 24 سے 25 سال کی عمر کی بات کی جائے تو بات کچھ سمجھ آتی ہے کہ جب بچے تعلیم کی فارغ التحصیل ہوجائیں اور ذمہ داریوں کا تعین کرسکیں تو ان کی شادی کر دینی چاہیے۔ بات صرف حقائق و معاشرتی شعور کی بنیاد پر کی جائے تو نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے مگر ایک ایسی تجویز جس کا معاشرے میں اطلاق ہونا ممکن نہ ہوسکے سوائے وقت کے زیاں کے کچھ نہیں۔ نوجوانوں کے لیے اگر قانون دان کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جس سے نوجوانوں کی فلاح و ترقی کے راستے کھل سکیں۔ بہتر معاش زندگی اور بہتر تعلیمی نظام کو مستحکم بنایا جاسکے تاکہ آج کا نوجوان بیرون ملک جانے کے خواب دیکھنے کے بجائے اپنے ملک میں رہ کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکے اور ملک و قوم کو ترقی مل سکے۔ سو اس طرح کے قانون جس سے نوجوانوں کے مستقبل کو خطرہ ہوسکتا ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔

  • آرٹیکل 370 کی بحالی  کے سوا مسئلےکا  کوئی حل قبول نہیں ، کشمیری قیادت مودی پر پھٹ پڑی

    آرٹیکل 370 کی بحالی کے سوا مسئلےکا کوئی حل قبول نہیں ، کشمیری قیادت مودی پر پھٹ پڑی

    آرٹیکل 370 کی بحالی کے سوا مسئلےکا کوئی حل قبول نہیں ، کشمیری قیادت مودی پر پھٹ پڑی

    باغی ٹی وی : مودی سرکار کو ایک بار پھر منہ کی کھانا پڑی جب اس نے کشمیری سیاسی قیادت کو بلا کر نام نہاد اے پی سی بلائی ، اور اس میں کشمیری قیات آرٹیکل 370 کو بحال کرنے کے سوا کچھ منظور نہ تھا . بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی بھارت نوا ز جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس چوبیس جون کو نئی دہلی میں طلب کی تھی۔

    کانفرنس میں چودہ افراد کو ملاقات کی دعوت دی گئی تھی ۔ان میں نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی ،پیپلز کانفرنس وغیرہ شامل ہیں ۔جموں سے جن شخصیات کو مدعو کیا ہے ان میں غلام نبی آزاد اور پروفیسر بھیم سنگھ شامل تھے ۔اس طرح دعوت ملاقات پانے والوں میں چار سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ،عمر عبداللہ ،غلام نبی آزاد اور محبوبہ مفتی شامل تھے۔ان جماعتوں نے مودی کی کی کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے مشاورت کر نے کے بعد شرکت کا فیصلہ کیا حالانکہ کانفرنس کا کوئی پیشگی ایجنڈا نہیں تھا.

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصدیق

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    یوں اس کانفرنس کی ناکامی کے بعد بھارت کا ایک اور ڈرامہ فلاپ ہوگیا، جب کشمیری قیادت کے ساتھ بھارتی وزیر اعظم کی آل پارٹیز کانفرنس ایک ایسے نقطے پر اختام پذیر ہوئی جس کا کوئی نتیجہ نہ تھا ، شرکا نے آڑٹیکل 370 کے کالعدم کرنے پر بھارتی وزیر اعظم پر خوب تنقید کی اور اس کو بحال کرنا ہی واحد حل بتایا

    نریندر مودی نے شرکاء‌ کے عزم اور غیض و غضب کا اندازہ لگاتے ہوئے چانکیائی چال کھیلی اور کہا کہ مناسب وقت پر مقبوضہ وادی کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی۔

    اے پی سی کے بعد مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہم بھی کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کروا کر دم لیں گے۔

    مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی تک لڑائی جاری رہے گی، پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور رہے گا، دوست بدلے جاسکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں۔

    بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنر جی نے مودی لتے لیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370کے خاتمہ سے دنیا میں بھارت کی دنیا میں بدنامی ہوئی، مودی سرکار کا یہ اقدام ایسا ہے جس سے بھارت کوکوئی فائدنہیں ہوا