Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ماں کی یاد . تحریر:عترت آبیار

    ماں کی یاد . تحریر:عترت آبیار

    زندگی کی کوئی محرومی نہیں یاد آئی
    جب تلک ہم تھے ترے قرب کی آساٸش میں
    گزرے وقتوں میں ایک ہوا کرتا تھا برگد کا پیڑ ،جس کی چھاٶں بہت گھنی ہوتی تھی اور گرمی کے موسم میں اردگرد کے سب لوگ دھوپ کی تپش سے بچنے کے لیۓ اس درخت تلے اکٹھے ہوجاتے تھے ،اس گھینری چھاٶں میں بیٹھ کر سارے دکھ درد‏بھول جایا کرتے اور زندگی بہتر گزر جاتی ،
    برگد کے پیڑ کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوتی ہیں اور اس پیڑ کو ختم کرنا آسان کام نہیں ،ہمارے ارد گرد بھی بہت سے رشتے برگد جیسی چھاٶں لیۓ ہمیں موسموں کی شدت سے محفوظ رکھتے ہیں .

    ماں بھی ایسا ہی ایک گھنیرا درخت ہے جب تک زندہ رہتی ہے ساری‏گرمی ،سردی آندھی ،طوفان خود پر سہہ کر محض خاموش رہتی ہے اور بچوں پر کسی دکھ کی پرچھاٸیں تک نہیں آنے دیتی اوربچوں کو دنیا ایک کھیل سے زیادہ کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا،ہر طرح کی جگتیں مذاق اور بے فکری چھاٸ رہتی ہے،انسان کبھی سوچ ہی نہیں سکتا کہ اس پیڑ کا تنا کمزور ہو کر اچانک کسی دن ‏ڈھے جائے گا جس کی جڑیں زمین میں دور تک پھیلی ہیں مگر پھر بھی موسموں کی سختیاں برداشت کرتا یہ پیڑ کسیے اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے پتہ ہی نہیں لگتا .اس چھاٶں میں کسی گاٶں کے چوپال کا سا منظر ہوتا ہے رشتے دار ہوں یا محلے دار،عیدوں تہواروں پر اکٹھے ہوتے ہیں اورزندگی کسی فلم کی کہانی‏لگتی ہے مگر جب ماں جیسے برگد کی چھاٶں مٹی اوڑھ کر سو جاتی ہے تب لو کے تھپیڑے انسان کی روح کو جھلسا دیتے ہیں اور خون جما دینے والے سرد ہواٸیں جسم کو شل کر دیتی ہیں تو دینا کی اصل حقیقت سمجھ آتی ہے،کوٸ کتنا حقیقت پسند ہو یا دانشور،ماں کے دنیا سے رخصت کا تصور نہیں کر سکتا،کم از کم‏میں نہیں جانتی تھی کہ میری ماں رخصت ہو جاۓ گی،یوں لگتا تھا کہ ساری دنیا بھی ختم ہو گٸ تب بھی ماں کی چھاٶں ایسے ہی قاٸم و داٸم رہے گی،مگر یہ محض تصوراتی دنیا تھی جو آج بھی نیند کی وادی میں جاتے ہی حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے ،برسوں بیت گۓ اس جداٸ کو مگر آج بھی یہی لگتا ہے کہ وہ‏یہیں کہیں ہے اور ابھی مجھے ڈانٹتے ہوۓ کہیں گی ”تم نے میرا پرس کیوں کھولا“

    میں ہمیشہ سے حساب کے مضموں میں نکمی رہی ،کسی چیز کا حساب رکھنا نہ آیا مگر برگدجیسی چھاٶں کے جاتے ہی حساب کے سارے سوالوں کے جواب ازبر ہوگۓ” بس وہ آواز کہیں کھو“ گٸ ہے‏ہمارے ہاتھ سے ایسے نازک تعلق مٹھی میں بھری ریت کی طرح نکل جاتے ہیں اور ہمیں خبر بھی نہیں ہو پاتی ، جب ایسا کوٸ دل میں اترا ہوا رشتہ اپنے ہاتھوں مٹی کے سپرد کر کے خالی ہاتھ گھر کو لوٹنا پڑے تو وہ رات کیسے کٹتی ہے یہ صرف وہی لوگ جان سکتے ہیں جو اس کرب سے گزرے ہیں ،گھر میں پھیلی ‏سرخ گلابوں کی خوشبو کیسے چبھتی ہے یہ بھی سب نہیں جان سکتے

  • کینسل ایگزیمز سیو سٹوڈنٹس؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    کینسل ایگزیمز سیو سٹوڈنٹس؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پچھلے کچھ عرصے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طالبعلموں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اُن کے امتحانات منسوخ کر کے انہیں پروموٹ کیا جائے۔ اس مطالبے کا پس منظر، وجوہات، مثبت و منفی پہلو اور اثرات پر بات کرتے ہیں۔

    2020 میں کوویڈ (کرونا وائرس) کی وجہ سے جہاں دوسرے معمولات زندگی متاثر ہوئے، وہیں تعلیمی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی ادارے بھی بند تھے۔ ان وجوہات کی بنا پر وزارت تعلیم نے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد امتحانات کے بغیر پروموشن کا فیصلہ کیا۔ دہم اور بارہویں جماعت کے امیدواروں کو پچھلے سال کے امتحانات کی بنا پر نمبر دیے گئے اور نہم اور گیارہویں کے طالبعلموں کو کہا گیا کہ اُنکو اگلے سال کے امتحانات کی بنا پر نمبر دیے جائیں گے۔

    یہ ایک مجبوری میں کیا گیا فیصلہ تھا کیوں کہ اُس وقت نا تو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب تھی اور نہ ہی حالات کنٹرول میں تھے۔ لیکن اُس وقت کچھ ذہین/ محنتی بچوں نے امتحانات کی منسوخی کے خلاف احتجاج کیا تھا، جن کا موقف تھا کہ اس فیصلے کی وجہ سے نہ صرف اُنکی محنت رائیگاں جائے گی بلکہ مستقبل میں انکا میریٹ بھی متاثر ہو سکتاہے۔
    2021 کے آغاز میں ہی وزیرِ تعلیم نے بول دیا تھا کہ اس سال امتحانات کے بغیر کسی کو بھی پروموٹ نہیں کیا جائے گا، لیکن وقتاً فوقتاً اس کے خلاف طالب علموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ جس میں باقاعدہ اعلان کے بعد شدت آ گئی۔

    کچھ روز قبل کُچھ سٹوڈنٹس نے فیض آباد احتجاج کرتے ہوئے سرینگر ہائی وے کو نہ صرف بند کر دیا بلکہ وہاں موجود نجی گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچایا۔ جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے درجنوں گرفتاریاں کیں۔

    سٹوڈنٹس کے تحفظات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اعلان کیا کہ اس سال امتحانات صرف آدھے اختیاری مضامین کے ہوں گے اور اُن 4-3 مضامین کا سلیبس بھی کم کر دیا گیا ہے۔

    کچھ طالبِ علموں کا مطالبہ ہے کہ امتحانات کو منسوخ کر کے ان کو پروموٹ کر دیا جائے۔ اس کے لیے وہ پہلی توجیح یہ دیتے ہیں کہ ہمیں امتحانات کی تیاری کا وقت نہیں دیا گیا۔ دوسری توجیح کرونا کی دی جاتی ہے کہ ہماری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک سال کا عرصہ 3 یا 4 مضامین کی تیاری کے لیے کم تھے؟ کیا انہوں نے پورا سال اِس اُمید میں تیاری نہیں کی کہ اگلے سال بھی امتحان کینسل ہو جائیں گے؟ اور اگر کرونا کی بات کی جائے تو اِسکی تیسری ویو تقریباً ختم ہو چُکی ہے، ویکسینیشن کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ اور اگر ہمیں شاپنگ کرتے وقت کرونا کی فکر نہیں ہوئی، احتجاج کرتے وقت کرونا کا خطرہ نہیں ہوتا تو امتحانات میں بھی کرونا کُچھ نہیں کہے گا۔

    سٹوڈنٹس کے ایک دوسرے گروپ کا مطالبہ ہے کہ چونکہ ہماری کلاسز آن لائن ہوئی ہیں اِس لیے امتحانات بھی آن لائن لیے جائیں۔ یہ گروپ بھی آن لائن امتحانات کے لیے کرونا کی توجیح پیش کرتے ہیں۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ کی تیاری اچھی ہے تو اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ امتحان فزیکل ہوتے ہیں یا آن لائن۔ کرونا کی پیک میں کلاسز آن لائن ہوئی تھی، لیکن اس وقت اسکول اور کالج کھولے جا چُکے ہیں، اگر اس وقت بھی تعلیمی ادارے بند ہوتے تو یہ مطالبہ شاید قابلِ قبول ہوتا۔ اور ویسے بھی اگر روز مرہ زندگی کے لیے ہم کرونا کو خاطر میں نہیں لاتے تو امتحانات کے لیے یہ توجیح کچھ مضحکہ خیز ہے۔

    آنلائن امتحانات کے لیے توجیح پیش کی جاتی ہے کہ چونکہ آنلائن کلاسز ٹھیک طرح سے نہیں ہوئیں اور بہت سارے لوگ انٹرنیٹ ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے کلاسز بھی نہیں لے سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پڑھائی تو کتابوں کی مدد سے خود بھی کی جا سکتی ہے لیکن ایسے سٹوڈنٹس جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں وہ آن لائن امتحان کیسے دیں گے؟

    کچھ بچے مطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ اُنکو تیاری کے لیے مناسب وقت نہیں ملا اس لیے اُنکے امتحانات کو ملتوی کیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ ایک سال میں تیاری نہ کر سکے تو مزید کتنا وقت چاہیے؟
    اور اس سب میں کچھ لوگوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے طالب علموں کو بڑھاوا بھی دیا۔ ان معصوم بچوں کے درمیان موجود کُچھ شر پسند عناصر نے تو امتحانات منسوخ نا ہونے کی صورت میں املاک کو آگ لگانے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔

    کُچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سٹوڈنٹس کو بغیر امتحان پاس کر دیا گیا تو یہ نہ صرف اُن کے لیے بلکہ مُلک کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گا۔ سٹوڈنٹس کے رویے سے لگتا ہے کہ انہوں نے تیاری نہیں کی۔ آج انکو امتحان کے بغیر ڈگری دی دی گئی تو کل کو یہ لوگ بغیر محنت نوکری کا مطالبہ بھی کریں گے۔ اور نوکری مل بھی گئی تو یہ پرفارم کیا کریں گے۔
    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طالب علم آن لائن امتحانات کا مطالبہ اس لیے کر رہے ہیں کہ اِن میں نقل کرنا آسان ہے۔ لوگ اپنی جگہ کسی اور سے پیپر حل کروا سکیں گے یا کسی سے مدد لے سکیں گے۔

    بالفرض اگر امتحان منسوخ ہو جاتے ہیں تو مستقبل کی پڑھائی کے لیے میرٹ کیسے بنیں گے؟ اور اگر اس سال بغیر امتحان ڈگری لینے والوں کو انڈسٹری نے قبول نہ کیا تو انکا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یہ لوگ پھر سڑکوں پر آئیں گے؟

    ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جو لوگ امتحان دینا چاہتے ہیں اُنکی اِس خواہش کا احترام کون کرے گا؟ ایسے سٹوڈنٹس تو اکثریت میں ہیں جو مطالبہ کرتے ہیں کہ اِن کے امتحان جلد سے جلد لیے جائیں۔ یہ طبقہ امتحان منسوخ ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والے میرٹ اور نوکری کے مسائل کی وجہ سے بھی پریشانی کا شکار ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر فزیکل امتحانات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے لئے 29 جون کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جبکہ بین الصوبائی وزیر تعلیم کانفرنس (آئی پی ای ایم سی) میں لیے گئے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس سال بغیر امتحان کسی بھی طالب علم کو اگلی کلاس میں ترقی نہیں دی جائے گی۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں حکومت کو چاہیے کہ امتحانات میں بچوں کی صحت کے لیے خصوصی اقدامات کرے وہیں والدین کو بھی اپنے بچوں کو امتحانات کے لیے قائل کرنا چاہئے۔ طالب علموں کو بھی اپنی پڑھائی پر توجہ دینی ہوگی کیوں کہ امتحانات کا منسوخ ہونا مسائل کا حل نہیں ہے۔ بغیر امتحان ترقی کا سب سے زیادہ نقصان سٹوڈنٹس کا ہی ہوگا۔اس سے نہ صرف مزید مسائل پیدا ہوں گے بلکہ زندگی کے دوسرے امتحانات زیادہ مُشکِل ہو جائیں گے۔

  • منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    ہمارے معاشرے میں منشیات کا استعمال دن بدن زور پکڑتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ لوگوں کی ذہنی سکون کا نا ہونا ہے لوگ ذہنی سکون کے لیے نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتے ہیں جس پر وقتی طور پر تو ان کو کچھ تھقعا اعام مل جاتا ہے لیکن اس سے ان کی صحت دن بدن بگڑنا شروع ہو جاتی ہے آخر وہ اسی نشہ کی عادت کو لے کر کسی نا کسی جگہ مردہ حالت ملتے ہیں کوئی کسی نالہ میں تو کوئی کسی کھیت ہیں
    منشیات کے عادی لوگ نا صرف اپنا جانی مالی نقصان کر رہے ہوتے ہیان بلکہ وہ اپنے خاندان، معاشرے میں بھی یہ بیماری پھیلا رہے ہوتے ہیں  جس سے معاشرے میں دوسرے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں منشیات کے عادی لوگ جب کسی کام کے قابل نہیں رہتے یا منشیات خریدنے کے لئے پیسہ نہیں ہوتا تو وہ لوگ پھر چوری، ڈاکہ، وغیرہ مار کر اپنے نشے کے پیسے پورے کرتے ہیں

    جس سے وہ رفتہ رفتہ ایک اور جرم میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس جرم کے بھی عادی مجرم بن جاتے ہیں ایسے لوگ جن پکڑے جاتے ہیں تو جیل میں بھی ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا تو وہاں بھی ایسے ہی پڑے پڑے اپنی سزا پوری کرنے کے بعد باہر آ جاتے ہیں یا پھر کچھ لوگ نشہ نا ملنے کی صورت میں وہاں ہی انتقال کر جاتے ہیں منشیات فروشوں کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں وہ نا صرف ملک کے اندر بلکہ ملک سے باہر سے بھی غیر قانونی طریقے سے منشیات ملک میں منگواتے ہیں اور پورے ملک میں اس کو بیچنے کے لیے نیٹ ورک بناتے ہیں جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں شامل ہوتے ہیں

    خاص طور پر سکول، کالجز پر ان کی نظر ہوتی ہے منشیات فروش ملک سے باہر سے جب غیر قانونی طریقے سے پیسہ منگواتے ہیں تو اس سے ملک کا نقصان بھی ہوتا ہے سمگلنگ کی صورت میں پیسہ باہر جا رہا ہوتا ہے نا کوئی ٹیکس نا کوئی فیس دیتے ہیں بدلے میں ملک میں موت (منشیات) لے کر آتے ہیں کچھ عرصے میں افغانستان کا بارڈر بند ہونے کی وجہ سے منشیات کی اسمگلنگ میں کمی دیکھنے کو ملی ہے لیکن پھر بھی اس طرح کنٹرول نہیں ہو سکا جس طرح ہونا چاہئے تھا ابھی بھی مختلف غیر قانونی عادت اسمگلروں کے زیر استعمال ہیں جن کے زریعے وہ منشیات کا کاروبار کر رہے ہیں ابھی بھی وقت کی ضرورت ہے ایسے لوگوں کو جتنی جلدی ہو سکے پکڑ کر کیفرکردار تک پہنچایا جائے تاکہ نشے جیسی لعنت سے ہم چھٹکارا حاصل کر سکیں حکومتی اور متعلقہ اداروں کو سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے

  • "طبقاتی نظام میں فرق” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    "طبقاتی نظام میں فرق” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    بد قسمتی سے ہمارا طبقاتی نظام معاشرے کا بہت اہم مسئلہ بن چکا ہے اس مسئلے کے پسِ آئینہ جو عوامل کارفرما ہیں اُن سے ہر باشعور اِنسان آگاہ ہے مگر ایسی آگہی اور ادراک کا کیا کرنا جس میں ان مسائل کا حل ہی نہ ہو نہ ان کے تدارک کے لئے کوئی کارگر حکمت عملی تیار کی جا سکے اور تفریق کو کم کرنے کے لئے ہم سب کو انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ایسے حالات میں
    ہر شخص اپنے وسائل سے بڑھ کر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کوشاں رہتا ہے تا کہ اس کے بچے نہ صرف اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکیں بلکہ معاشرے میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کے قابل بھی ہوں اور زندگی کو بہترین طریقے سے گزار سکیں
    لیکن دن رات کی تگ و دو اسے غریبی اور مفلسی کی زنجیروں میں جکڑ کر زہنی بیمار کر دیتے ہیں
    ایسے میں امیر طبقے کے لئے بہترین سہولیات ان کے بچوں کے لئے اچھے تعلیمی ادارے

    پروٹوکول، غریب رکشہ ڈرائیور کے لئے چالان کی ادائیگی لازم ہے جب کہ کسی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر قانون کی دھجیاں بکھیرتے امیر زادے کے لئے نہیں کیوں کہ وہ صاحب حیثیت کی اولاد ہے اس کے ماموں چاچو کی فون کال ہمارے نظام سے ماورا ہے دن رات اسی طبقاتی تفریق کی الجھن مڈل کلاس بچوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے
    سکولز کالجز میں امیروں کے بچوں کے لئے الگ رولز دیکھ کر مڈل کلاس بچے رات کو اپنے والدین سے بہت سے سوال کرتے ہیں ایسے میں ان کے والدین انکو کیا بتائیں کہ ان کے سوال غلط نہیں مگر جواب بھی نہیں ہے

    پھر بھی غریب والدین اپنے بچوں کو سنہرے مستقبل کے حوالے سے خوب صورت خواب دیکھا کر آنے والے کل کے لئے مضبوط کرتے ہیں
    اور پھر وہی بچے پڑھ لکھ کر جب کسی اچھی نوکری پر مامور ہوتے ہیں تو ان میں سے بیشتر اپنا ماضی بھول کر خود کو وی آئی پی کیٹیگری میں رکھ کر باقی سب کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں تو فرق کہاں اور کیسے کم ہو سکتا جب کہ انفرادی طور پر کوئی عمل پیرا نہیں ہوتا
    اس طبقاتی تفریق میں کمی کے لئے حکومتی پالیسیز پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تا کہ تعلیم علاج اور روزگار کے لئے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں ورنہ یہ فرق کبھی نہ ختم ہونے والی ایسی لکیر ہے جسے کوئی کبھی بھی نہیں مٹا سکتا۔

  • نجومی اور قسمت، ‏تحریر ۔ عمالقہ حیدر

    نجومی اور قسمت، ‏تحریر ۔ عمالقہ حیدر

    عجیب بات تو یہ ہے چھ فٹ کا وجود اور کائنات سے وسیع دماغ ،پہاڑوں سے مضبوط ارادہ، سمندروں سے گہری سوچ رکھنے والا شخص جب اپنا توانائی سے بھرا ہوا ہاتھ نجومی کے ہاتھ پہ رکھ کر قسمت بارے پوچھتا ہے تو اچھی قسمت نحوست کی چادر اوڑھ کر اک مدت کے لئے سو جاتی ہے، یوں اچھی قسمت والا دوسری کی زبان سے نکلی ہوئئ قسمت کا شکار ہو جاتا ہے، آدھی قسمت دوسرے کے ہاتھ میں ہوتی،

    پرانے زمانے کی طرح آج بھی فٹ پہ بیٹھے نجومی کے پاس نوجوان ہاتھ دکھا کر اپنے مستقبل کے حالات سن رہے ہوتے ہیں، نجومی کی بہت سی پیش گوئیاں کے بعد محبوبہ سے شادی بھی ہونے کے قوی امکان ظاہر ہوتے ہیں،یوں ایسی باتیں سن کر دل کی تسکین بڑھتی چلی جاتی ہے

    نجومی کے کہے ہوئے الفاظ ذہنی تخیلات بدلنے میں دیر نہیں کرتے، عام ذہن سب سے زیادہ قسمت پر انحصار کرتا ہے، خاص ذہن نجومی کے لفظوں کو گورکھ دھندہ سمجھ کر بچ جاتے ہیں، قسمت پر انحصار کرنے والے دراصل زمہ داریوں سے بچتے ہیں،
    جو حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتا وہ دفاع کے لئے قسمت کی ڈھال استعمال کر جاتا ہے،
    ہم جس قسمت کو نجومی کے حوالے سوچتے ہیں وہ نجومی خود قسمت کے ہاتھوں ذلیل ہو کر ہمیں اپنا جیسا بناتا ہے،
    نجومی ہمیں بتاتا ہے کہ ہاتھ کی فلاں لکیر تمہارے لئے اچھی نہیں ہے اگلے سال آپ اک حادثہ کا شکار ہو جائیں گے، کاروباری ترقی ابھی تک تو رکی ہوئ ہے لیکن جب آپ چھپن سال کے ہو جائیں گے تب کہیں بہتری ہو گی کیونکہ اجکل آپکا ستارہ بھی آپکے حق میں نہیں ہے زحل کی چھاؤں پڑنے سے زندگی اچانک رخ موڑ ے گی اور یوں تم اک چھوٹے سے کام میں شہرت یافتہ ہو جاؤ گے،لوگ آپ کے آٹو گراف کو ترسیں گے،ایسی بات سن کر دل تو بہلے گا۔

    اک حکایت نجومی بارے معروف ہے کہ نجومی آسمانوں کی خبریں گلی گلی سناتا تھا، مستقبل کا وہ خاکہ بیان کرتا کہ سننے والے کے پاس سوائے ایمان لانے کہ کچھ نہ بچتا تھا، اک دن نجومی ہر آدمی کو مطمئن کیے جا رہا تھا، کہ آدمی نے کہا، آنے والے زمانے کی خبریں سنانے والی یہ بھی آج بتا دے کہ تیری بیوی کے آشنا کا نام کیا ہے، یہ سن کر اس کے وجود کی ساری طنابیں ایسی ٹوٹی کی وہ دوبارہ نہ بن سکی،اور ہمیشہ کے لئے نجومی آسمان کی خبروں کی طرح غیب ہو گیا،

    لوگوں کو غیب کی خبریں بتانے والہ اپنی بیوی کے آشنا سے لاعلم ہے،

    اس لئے اک زمانہ تھا جب علم نہیں تھا شعور نہیں تھا، انسان کی اڑان نجومی تک تھی اب ہمیں سوچنا چاہئے کہ کائنات اک اصول پر چل رہی ہے عمل کا رد عمل ہو رہا ہے سستی اور کاہلی کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مسلسل محنت کا پھل مل کر رہتا ہے، زمہ داریوں سے بچنے کے کتنے بڑے حادثات جنم لیتے ہیں، ہم آج کام نہیں کریں گے تو کل دوستوں سے پیچھے رہ جائیں گے، کار کی خواہش رکھنے والہ محنت بغیر نہیں خرید سکتا،
    خدا نہ چھپر پھاڑ کر دیتا ہے اور نہ ہمیں مزید انتظار کرنا چاہئے، نہ ہمیں زندگی کو قسمت کے حوالے کریں نہ کسی نجومی کے رحم و کرم پر کریں ہم اپنے مدد گار آپ ہیں،

    ،برے زمانے میں سب سے پہلے بھای چھوڑتا ہے اور بعد میں بہترین دوست،

    اس لئے دوسروں پر توقع نجومی کے خوبصورت لفظوں جیسی ہے،
    اس لئے ہر جوان کے پاس ٹوٹل پندرہ سے بیس سال ہوتے ہیں بعد میں سب مایا لگتا ہے،
    ہم محدود اور ہماری خواہشات لا محدود ہیں،فطرت اپنے اصولوں سے انحراف نہیں کرتی، سردیوں کی طویل رات بیمار اور صحت مند کے لئے یکساں ہے،
    ہم جو پھینکیں گے وہی لوٹے گا، اس لئے ہم نے اپنے اہداف خود آپ نے بنانے ہیں اور خود ہی مکمل کرنے ہیں، نہ کوئ ساتھ دیتا ہے اور نہ کوئ ساتھ کھڑا ہوتا ہے، ہاں اگر کوئ ساتھ ہوتا بھی ہے تو ذاتی مفاد کی خاطر،

    اللہ ہم سب کے ایمان پختہ کرے اور ہر اس چیز سے دور کرے جو ہمارے ایمان کو متزلزل کرتی ہے، اور ایسے ہستی سے ضرور آشنائی دے جو ہمارے انگلی صراط مستقیم تک لے جائے۔ آمین ثم آمین

  • خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    صدر عارف علوی سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے وفد کی چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی قیادت میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی، زونل رویت ہلال کمیٹی کے ممبران اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی ہے.
    صدر پاکستان کا کہنا ہے کہ علماء مساجد کے ذریعے لوگوں میں اہم سماجی موضوعات پر اسلام کی تعلیمات واضح کریں، اسلام نے سب سے پہلے خواتین کو وراثت کا حق دیا ہے، علماء وراثت میں خواتین کے حقوق پر مساجد کے ذریعے لوگوں میں آگاہی پیدا کریں، علماء بڑھتی ہوئی آبادی اور صحت کے مسائل کے متعلق لوگوں کو تعلیم دیں، علماء معاشرتی اصلاح اور اخلاقی اقدار کے فروغ کیلئے کام کریں، علماء منبر و محراب کے ذریعے بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیں، علماء نےکورونا کے دوران لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے ،ایس او پیز پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کیا، تمام رویت ہلال کمیٹیوں کو فعال بنانے پر چیئرمین، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے کردار کو سراہا ہے.

  • انگلینڈ سے جیتنے کیلئے پر عزم شاداب

    انگلینڈ سے جیتنے کیلئے پر عزم شاداب

    قومی وائیٹ بال کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے بہت پر جوش ہوں، جلد از جلد کنڈیشنز سے ہم آہنگی کی کوشش کررہے ہیں، انگلینڈ میں موسم تبدیل ہو جائے تو گیند سیم ہونے لگتا ہے، سورج نکل آئے تو یہاں کا موسم ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کے لیے موزوں ہوتا ہے، مثبت سوچ کے ساتھ انگلینڈ آئے ہیں، پہلا ٹریننگ سیشن شاندار رہا ہے، انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ چیمپئن ہے اور وائیٹ بال کرکٹ کی بہت اچھی ٹیم ہے، گزشتہ دورہ انگلینڈ میں اچھی پرفارمنس رہی ہے، اس مرتبہ بھی بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے، ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے پہلے انگلینڈ کے خلاف سیریز تیاری کا اچھا موقع ہے، مکمل فٹ ہوچکا ہوں، باؤلنگ پر خاص توجہ دے رہا ہوں، پی ایس ایل میں اچھی باؤلنگ کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا، میری پہلی ترجیح باؤلنگ ہی ہے، کوشش ہے کہ پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ آؤٹ کر سکوں، اگلے چند ماہ ہمیں مسلسل کرکٹ کھیلنی ہے اس لیے ٹرینر نے ابھی فٹنس ٹیسٹ کا بھی اہتمام کیا ہے، پریکٹس سیشنز میں فزیکل ٹریننگ پر توجہ مرکوز ہے تاکہ فٹنس ٹیسٹ کی بھی تیاری ہوسکے.

  • آٹھ سیٹوں سے حکومت بنائیں گے فیاض الحسن

    آٹھ سیٹوں سے حکومت بنائیں گے فیاض الحسن

    وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ بلاول زرداری گلگت بلتستان کے بعد اب کشمیر انتخابات میں ہارنے کی تیاریاں کر رہے ہیں، ایک دفعہ پھر سے بلاول زرداری نے ہارنے سے پہلے ہی دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیا ہے، 45 سیٹوں پر 8 امیدوار کھڑے کر کے پیپلز پارٹی جیتنے کے سہانے خواب سجا رہی ہے، وزیراعظم عمران خان نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر میں ایک نئی روح پھونکی ہے، بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں راجیو گاندھی کا 1989 کا دورہ پاکستان سب کو یاد ہے۔ اس وقت راجیو گاندھی کو خوش کرنے کے لیے کشمیر کے بورڈز اتروا لیے گئے تھے۔ وزیراعظم عمران خان ڈنکے کی چوٹ پر بغیر کسی مصلحت کے کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کو منہ کی کھانی پڑے گی.

  • ندا ڈار اعزاز پانے کے قریب

    ندا ڈار اعزاز پانے کے قریب

    ندا ڈار ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 وکٹوں کا سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہے، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین 3 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز 30 جون سے ہوگا، سر ویون رچرڈز اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے ان میچز میں شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز ندا ڈار ہوں گی، جنہیں ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 وکٹیں مکمل کرنے کے لیے صرف ایک وکٹ درکار ہے، گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ کرکٹر پہلی پاکستانی اور دنیا کی پانچویں خاتون کرکٹر ہوں گی جو یہ اعزاز کریں گی، اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی انیسہ محمد (120)، آسٹریلیا کی ایلیسا پیری (115)، جنوبی افریقہ کی شبنم اسماعیل (110) اور انگلینڈ کی آنیا شرب سول (102)، ہی یہ سنگ میل عبور کرسکی ہیں، ٹی ٹونٹی کرکٹ میں پاکستان کی سب سے کامیاب باؤلر ندا ڈار اب تک 18.35 رنز فی وکٹ کے اعتبار سے 99 وکٹیں حاصل کرچکی ہیں، ندا ڈار مینز یا ویمنز دونوں قسم کی کرکٹ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر ہوں گی.
    ندا ڈار کا کہنا ہے کہ کرکٹ ایک دلچسپ کھیل ہے، جو آپ کو اچھے اور برے دونوں طرح کی دن دکھاتا ہے، مگر اس سے وابستگی کبھی ختم نہیں ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ یقیناََ 100 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل وکٹوں کاسنگ میل عبور کرنا ان کے لیے خوشی کا باعث ہوگا تاہم اگر اس روز میچ میں ان کی پرفارمنس سے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو فائدہ ہوگا تو یہ خوشی دوبالا ہوجائے گی، ایک سینئر کھلاڑی اور آلراؤنڈر کی حیثیت سے اپنی ذمہ دایاں بخوبی جانتی ہیں اور کوشش کروں گی کہ اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کی فتوحات میں اضافہ کرسکوں.
    ندا ڈار نے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2010 میں سری لنکا کے خلاف میچ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا، گو کہ اس سنسنی خیز میچ میں سری لنکا نے ایک رن سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم ندا ڈار نے اس میچ میں محض 10 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کی تھیں، آلراؤنڈر اپنے ٹی ٹونٹی کرکٹ کیرئیر میں 1152 رنز بناچکی ہیں، وہ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی پاکستان کی تیسری بہترین بیٹسمین بھی ہیں، اب تک پاکستان کے لیے 105 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکی ہیں، ان 110 میں سے 43 میچز میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے، انہوں نے ان 43 میچز میں 52 وکٹیں حاصل کیں ہیں.

  • کنٹریکٹ خواتین کھلاڑیوں کا اعلان کردیا گیا

    کنٹریکٹ خواتین کھلاڑیوں کا اعلان کردیا گیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 کا اعلان کردیا گیا ہے، سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں 12 خواتین کرکٹرزکو شامل کیا گیا ہے، تمام کٹیگریز کے ماہوار وظیفے میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جویریہ خان اور بسمہ معروف اے کٹیگری میں برقرار ہیں، ندا ڈار کی بی کٹیگری میں ترقی کی گئ ہے، پی سی بی ویمنز کرکٹر آف دی ایئر 2020 فاطمہ ثناء کو کٹیگری سی میں جگہ مل گئی ہے، کائنات امتیاز نشرہ سندھو، انعم امین، فاطمہ ثنا، کائنات امتیاز، ناہیدہ خان، عمیمہ سہیل اور سدرہ نوازبھی کٹیگری سی کا حصہ بن گئی ہے، فاطمہ ثناء کے علاوہ گزشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کرکٹرز رواں سال بھی ایمرجنگ کٹیگری میں شامل ہیں، رواں سال 12 خواتین کرکٹرز کو کنٹریکٹ سے نوازا گیا ہے، گزشتہ سال یہ تعداد 9 تھی، ان تمام کھلاڑیوں کے لیے اعلان کردہ کنٹریکٹ یکم جولائی سے لاگو ہوں گے، ان 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ کی اے، بی اور سی کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایمرجنگ کنٹریکٹ کی لسٹ میں بھی 8 کھلاڑی شامل ہیں،ایمرجنگ ویمنز کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 میں عائشہ نسیم، کائنات حفیظ، منیبہ علی صدیقی، نجیہہ علوی،رامین شمیم، صباء نذیر ،سعدیہ اقبال اور سیدہ عروب شاہ شامل ہیں، انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ میں گزشتہ ایک سالہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دئیے گئے ہیں، اس سلسلے میں آئندہ ڈومیسٹک کرکٹ اور مستقبل میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی مصروفیات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے، قومی خواتین کرکٹ کودورہ ویسٹ انڈیز کے بعد اب 2 ٹی ٹونٹی اور 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے لیے اکتوبر میں انگلینڈ کی میزبانی کرنی ہے، قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو دسمبر میں آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ کوالیفائر میں شرکت کرنی ہے، آئندہ سال پاکستان کو آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈکپ اور کامن ویلتھ گیمز میں بھی شرکت کرنی ہے، قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے جنوری 2021 میں جنوبی افریقہ کا دورہ کیا تھا، جہاں سےاسکواڈ زمبابوے روانہ ہوا تھا تاہم کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث وہ دورہ مکمل نہ کیا جاسکا تھا،علاوہ ازیں، سیزن 21-2020 میں پی سی بی نے قومی سہ فریقی ٹی ٹونٹی ویمنز چیمپئن شپ کا بھی انعقاد کیا تھا، جنوبی افریقہ کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز میں دو نصف سنچریاں اسکور کرنے والی واحد کرکٹر ندا ڈار کو سینٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری سی سے بی میں ترقی دی گئی ہے، وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی دوسری کھلاڑی تھیں،
    گذشتہ سال پی سی بی ویمنز ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والی فاطمہ ثنا ءکو سی کٹیگری میں ترقی مل گئی ہے، وہ اس سے قبل ایمرجنگ کٹیگری کا حصہ تھیں، 19 سالہ کرکٹر نے ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتےہوئے تین میچوں میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں، اس دوران انہوں نے تین اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 95 رنز بھی بنائے تھے، اس ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی قرار پانے والی کائنات امتیاز کو بھی موجودہ کنٹریکٹ کی سی کٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کی چار اننگز میں 111 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ تین کھلاڑیوں کو بھی پویلین کی راہ دکھائی تھی، نشرہ سندھو کو بھی کٹیگری سی کا کنٹریکٹ پیش کیا گیا ہے، انہوں نےڈیانا بیگ (9 وکٹیں ) کے بعد گزشتہ سیزن میں پاکستان کی جانب سے ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ (6 وکٹیں) حاصل کی تھیں، جنوبی افریقہ میں پاکستان کی قیادت کرنے والی جویریہ خان ویسٹ انڈیز کے خلاف 30 جون سے شروع ہونے والی سیریز میں بھی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کریں گی، تین ٹی ٹونٹی اور پانچ ون ڈےانٹرنیشنل میچز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والی جویریہ خان کو سینٹرل کنٹریکٹ کی ٹاپ(اے) کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے، ان کے ساتھ بسمہ معروف بھی اسی کٹیگری کا حصہ ہیں، فاطمہ ثناء کے علاوہ گزشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کھلاڑیوں کو اس کٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے، اُدھر وکٹ کیپر سدرہ نواز کی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی ہوگئی ہے.
    چیئرآف نیشنل ویمنز سلیکشن کمیٹی عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ وہ سیزن 22-2021 کے لیے ویمنز کنٹریکٹ پانے والی تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں، رواں سال 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے، گزشتہ سال یہ تعداد 9 تھی، عمدہ کارکردگی کی بدولت فاطمہ ثناء کو ایمرجنگ سے ترقی دے کر سی کٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے، تاہم ایمرجنگ کٹیگری میں شامل باقی آٹھوں کھلاڑیوں کو رواں سال بھی ایمرجنگ کنٹریکٹ دیا گیا ہے، وہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہیں۔ عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے گزشتہ سال دنیا کے لیے ایک چیلنج تھا مگر پی سی بی نےاس دوران بھی خواتین کرکٹرز کے لیے انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کا اہتمام کیے رکھا ہے، ندا ڈار نے جنوبی افریقہ میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث انہیں سی سے بی کٹیگری میں ترقی دی گئی ہے، وہ پرامید ہیں کہ ندا ڈار ایک سینئر ممبر کی حیثیت سے یہ ذمہ داری نبھاتی رہیں گی اور اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کو میچز جتوانے کی کوشش کرتی رہیں گی، وہ کائنات امتیاز اور نشرہ سندھو کو بھی مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں کہ جو بین الاقوامی اور ڈومیسٹک دونوں طرز کی کرکٹ میں اپنی کارکردگی سے سلیکٹرز کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی ہیں، جہاں ہم نے چند کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں سینٹرل کنٹریکٹ میں ترقی دی ہے تو وہیں ہم نے غیرتسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر سدرہ نوازکی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی کردی ہے،
    سلیکشن کمیٹی چھ ماہ بعد کنٹریکٹ کی اس فہرست کا دوبارہ جائزہ لے گی اور اگر ضرورت پڑی تو اس پر نظرثانی بھی کی جائے گی تاہم ہمیں یقین ہے کہ یہ تمام کھلاڑی ہمارے اعتماد پر پورا اتریں گی.