Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیر کا پوسٹر بوائے کہ جس کی جدائی کو ایک عرصہ ہوا تمام ، تحریر: محمد عامر

    کشمیر کا پوسٹر بوائے کہ جس کی جدائی کو ایک عرصہ ہوا تمام ، تحریر: محمد عامر

    کشمیر کا پوسٹر بوائے کہ جس کی جدائی کو ایک عرصہ ہوا تمام ، تحریر: محمد عامر

    باغی ٹی وی : ‏برہان وانی، تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونکنے والا حریت کمانڈر 8 جولائی 2021
    مقبوضہ کشمیر کی جِدو جہدِ آزادی کو اپنے خون سے نیا رنگ دینے والے حریت کمانڈر برہان مظفر وانی اور ان کے ساتھیوں کو شہید ہوئے پانچ برس بیت گئے۔

    شہید برہان وانی 19 ستمبر 1994 میں جموں کشمیر کے ایک گاؤں شریف آباد میں پیدا ہوئے ، برہان وانی نے صرف پندرہ سال کی عمر میں گھر سے بھاگ کر تحریک آزادی کشمیر میں شرکت کا فیصلہ کیا اور ایک مسلح تنظیم میں شامل ہوئے ، ایک سال بعد حزب المجاہدین میں شامل ہوگئے۔

    برہان وانی کے بھائی خالد وانی کو 2015 میں بھارتی فوجیوں نے ترال کے علاقے میں اس وقت ایک جعلی مقابلے میں شہید کردیا تھا، جب وہ اپنے تین دوستوں کے ہمراہ اپنے بھائی سے ملنے جارہے تھے۔

    بڑے بھائی کی شہادت کے بعد برہان وانی نے کھل کر سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو بندوق اٹھانے اور بھارت کیخلاف مسلح جدوجہد کی راہ اپنانے کی بھرپور مہم چلائی، جس کے جواب درجنوں نوجوان بھارتی فوج کیخلاف اس مہم میں شامل ہونے لگے۔

    آٹھ جولائی دو ہزار سولہ کو برہان مظفر وانی ککرناگ کے بم ڈورہ گاؤں میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران دو ساتھیوں سمیت شہید کر دیئے گئے تھے۔

    عالمی مبصرین کے مطابق برہان وانی کی شہادت نے مقبوضہ علاقے کے نوجوانوں میں حق خود ارادیت کے حصول کی خاطر ایک نئے جذبے کو جنم دیا اور جاری تحریک مزاحمت میں ایک نئی روح پھونکی۔

    برہانی وانی نے اپنے خون سے وہ لکیر کھینچ دی جس کو اب بھارت چاہے بھی تو مٹا نہیں سکتا ان کی آواز آج مقبوضہ وادی کے کونے کونے میں سنائی دی رہی ہے۔

    تحریر: محمد عامر

  • تحریک لبیک کے نامزد امیدوار نے ڈڈیال میں کارنرمیٹنگ کی

    تحریک لبیک کے نامزد امیدوار نے ڈڈیال میں کارنرمیٹنگ کی

    ڈڈیال میں لبیک یارسول اللہﷺ کے زیراہتمام آڑہ جٹاں میں کارنرمیٹنگ کی گئی ہے، اسیرناموس رسالتﷺ سعید منہاس کالیا کے زیرانتظام یہ میٹنگ کی گئی ہے، نامزد امیدوارفیصل مشتاق نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی ہے، شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے نامزد امیدوارنے کہا کہ ان شاء اللہ آڑہ جٹاں میں صرف 25 جولاٸی کولبیک یارسول اللہﷺ کی صداٸیں لگاٸی جائیں گی.
    آزادکشمیرمیں الیکشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی تیاریاں اپنے زوروں پر جاری ہیں، کارکنان اپنے امیدوارکوجتوانے کیلئے پر امید ہیں.

  • قصور کس کا؟ از قلم: فیصل فرحان

    قصور کس کا؟ از قلم: فیصل فرحان

    پاکستان میں روز ظلم و بربریت کی نئی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہے۔ کبھی خبر سننے کو ملتی ہے کہ فلا امیر زادے نے فلا عورت کے ساتھ ریپ کر دیا فلا وڈیرے نے فلا غریب کو سرعام قتل کر دیا۔ اور یہ سارے واقعات چوری چھپے نہیں ہو رہے بلکہ سرعام ہزاروں گواہوں کے سامنے بلکہ ویڈیوز تک موجود ہوتی ہے لیکن ان سب ثبوتوں کے باوجود یہ درندے چند مہینوں بعد آزاد کیسے ہو جاتے ہے؟ یقینً ہمارے ذہن میں پہلا سوال عدلیہ کا آتا ہے لیکن اکیلی عدلیہ ان سب کی قصور وار نہیں ہے۔ سب سے بڑا قصور تو ہمارے غیر مکمل اور کالے قانون کا ہے۔ ہمارا ملکی آئین خود چوروں اور لٹیروں کو آزادی دیتا ہے پھر عدلیہ کیسے سزا دے؟؟ آپ سب کو بلوچستان والا واقعہ یاد ہوگا جس میں ایک پولیس والے کو بلوچستان کے وڈیرے نے ڈیوٹی کے دوران گاڑی سے کچل دیا اور اس کیس کا سب سے اہم ثبوت ویڈیو تھی جس میں صاف نظر آرہا تھا لیکن اس وڈیرے نے اس شہید پولیس والے کی فیملی کو ڈرا دھمکا کر دیت کا نام دے کر کیس معاف کروا لیا اور پکا ثبوت ہونے کے باوجود باعزت بری ہوگیا۔ اسی طرح کشمالہ طارق کے بیٹے والا کیس بھی یاد ہوگا جس میں کئی گھروں کے چراغ بجھا کر ان کو ڈرا دھمکا کر دیت دے کر کیس معاف کروا لیا ۔

    یاد رکھیں اسلام نے دیت والی حد صرف اس کیلیے رکھی جس سے غلطی ہو جائے یا جھگڑے میں قتل ہو جائے اسلام ہرگز کسی ظالم یا بدمعاش کی دیت قبول نہیں کرتا بلکہ اسے کڑی سے کڑی سزا دیتا ہے لیکن ہمارے ملک میں سسٹم الٹا ہے یہاں پر ہر امیر اور بدمعاش کی دیت قبول کر لی جاتی ہے جو کہ ہمارے قانون میں شامل ہے۔ اب خود بتاو یہاں پر عدلیہ کیا کرے؟ جب قانون خود راستہ دے رہا ہو۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے ججز بہت پارسا ہے یقینًا بہت سے ججز کرپٹ ہے جو بڑی بڑی پارٹیوں سے پیسے لے کر فیصلہ کرتے ہے لیکن وہ ججز بھی قانون کا استعمال کر کے ہی ظالموں کو رہا کرتے ہے اسلیے آج تک کسی جج کو کوئی افف تک نہیں کر سکا کیونکہ سارا پراسس قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ اسلیے اگر ہمیں ملک میں ظلم اور نا انصافی کو ختم کرنا ہے تو ہنگامی بنیادو پر لاء ریفارمز کرنی ہوگی اور سخت شقیں شامل کرنی ہونگی تاکہ ہر ظالم اور چور کو کڑی سے کڑی سزا ہوسکے اور پھر کوئی جج چاہ کر بھی دونمبری نہیں کر سکے گا اگر کرے گا تو پکڑا جائے گا۔ انصاف کسی بھی معاشرے کیلیے سب سے اہم جز ہے۔ نبی کریمؐ نے پورانی اقوام کی تباہی کا یہی سبب بتایا کہ وہ لوگ غریب کو سزا دیتے تھے اور امیر کو چھوڑ دیے تھے جیسا آجکل ہمارے ملک میں ہورہا ہے۔

    امام علیؓ کا قول ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن انصافی کا نظام کبھی نہیں چل سکتا اور یہی پاکستان کی پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اگر پاکستان کو بہترین ملک بنانا ہے تو سب سے پہلے نئے قانون بنائے جائے اور ہر قانون کو مکمل سٹڈی کے بعد پاس کیا جائے تاکہ کسی قسم کی جھول باقی نہ رہے پھر ان شا اللہ جلد ہمارا ملک عظیم اقوام میں شامل ہوگا

  • مشکل کشا صرف رب کی زات.تحریر: ارم رائے

    مشکل کشا صرف رب کی زات.تحریر: ارم رائے

    صرف عقل و شعور والوں کے لئے۔
    کیا اللہ کے سوا کوئی اور مشکل کشا حاجت روا یا مشکلات حل کرنے پر قادر ہے؟
    اکثر مذہبی حلقوں میں یہ بحث سر اٹھاتی ہے کہ کیا اللہ کے سوا کوئی غیر اللہ مشکل حل کرسکتا ہے؟ یا صرف اللہ ہی اس پر قادر ہے؟ دونوں فریقین میں سے کوئی بھی قائل نہیں ہوتا،جب ایک ذی شعور انسان کے ذہن میں یہ سوال اُبھرتا ہے تو وہ اس سوال کو مختلف پہلووں سے جانچتا اور پرکھتا ہے کہ کس طرح اللہ کے سوا کوئی اور ہستی مشکل کشا ہو سکتی ہے اس سوال کی مختلف صورتیں ہیں۔

    مثلا کسی انسان کو ایک مشکل کا سامنا ہے وہ چاہتا ہے کہ میری مشکل دور ہو، وہ اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو پکارنا چاہتا ہے جو اس کی مشکل دُور کر دے اب ۔۔
    1۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور ہستی مشکل حل کر سکتی ہے تو بتایئے کہ انسان اور مشکل کُشا کے درمیان ہزاروں میلوں کی دُوری پر وہ زندگی میں یا زندگی کے بعد قبر میں آواز سُن سکتا ہے؟
    2۔ بالفرض یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اتنے فاصلوں سے بھی آواز سُن سکتا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ دنیا کی ہر زبان سے واقف ہے یا نہیں مثلاً سرائیکی والا سرائیکی میں مشکل پیش کرے گا، جرمن جرمنی زبان میں، انگریز انگریزی میں اور پٹھان پشتو میں آواز دے گا
    3۔ اگر یہ بات بھی ثابت کر دی جائے کہ وہ ہستی ہر زبان سے واقف ہے تو پھر سوال پیدا ہو گا کہ اگر ایک لمحہ میں سینکڑوں یا ہزاروں لوگ اپنی مشکلیں اس کے سامنے پیش کریں تو کیا وہ ان سب کی مشکلات اسی لمحہ سُن اور سمجھ لے گا؟ یا اس کے لیے قطار بنانے کی ضرورت پیش آئے گی ؟
    4۔ کیا اس ہستی کو کبھی نیند بھی آتی ہے یا وہ ہمیشہ جاگتی رہتی ہے؟ اگر کبھی نیند آتی ہے تو ہمارے پاس ایک ٹائم ٹیبل ہونا چاہیئے کہ کب اس کو نیند آتی ہے اور کب وہ جاگ رہی ہوتی ہے تاکہ ہم اپنی مشکل صرف اسی وقت پیش کریں جب وہ ہستی جاگ رہی ہو ، یا وہ نیند میں بھی سنتی ہے؟
    5۔ ایک دوسرا انسان ہے جو بولنے سے قاصر ہے، وہ ایسی مشکل میں مبتلا ہے کہ اس کا گلا بند ہو چکا ہے، اگر وہ دل ہی دل میں اپنی مشکل پیش کرے تو کیا وہ ہستی اس کی دلی فریاد بھی سُن لے گی ؟
    6۔ انسان کو پیدائش سے لے کر موت تک چھوٹی بڑی تمام مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اگر اللہ تمام مشکلات حل کر سکتا ہے تو پھر غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر غیر اللہ ان تمام مشکلات کو حل کرنے پر قادر ہے تو پھر اللہ کی کیا حاجت ہے؟
    7۔ اگر غیر اللہ مشکل کُشا یا مشکلات حل کرنے پر قادر نہیں، تو ہو سکتا ہے کہ کچھ مشکلات حل کرنے کا بیڑا اللہ نے اُٹھایا ہوا ہو اور کچھ مشکلات حل کرنے کے اختیارات اس نے کسی غیر کو دے رکھے ہوں، ایسی صورت میں تو ہمارے پاس یہ فہرست ہونی چاہیئے کہ کون کون سی مشکلات اللہ تعالیٰ حل کرنے پر قادر ہے اور کون کون سی مشکلات غیر اللہ حل کرسکتا ہے تاکہ مسائل اور مشکلات اسی کے سامنے پیش کر سکیں جو اس کو حل کرنے پر قادر ہو
    8۔ کیا اللہ کے سوا جو ہستی مشکل سے نکال سکتی ہے وہ مشکل میں ڈال بھی سکتی ہے یا اس کی ڈیوٹی صرف حل کرنے پر ہے؟ اگر وہ مشکل حل کر سکتی ہے تو پھر مشکل میں ڈالنے والا کون ہے؟
    9۔ بالآخر نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ مشکلات میں ڈالنے والا ہے اور غیر اللہ مشکل حل کرنے والا ، بالفرض ایک ہستی مشکل میں ڈالنے والی ہو اور دوسری مشکل حل کرنے والی تو دونوں میں سے کونسی ہستی اپنا فیصلہ واپس لے لے گی؟
    10۔ کسی بھی برگزیدہ یا گناہ گار ہستی کا جنازہ پڑھنا ہو تو اس کی بخشش کے لئے اللہ کو آواز دی جائے گی یا مشکل کشا کو؟

    ساری دنیا کے انسان مل کر بھی آپ کو کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے، ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی آپ کو عزت یا ذلیل نہیں کر سکتے ، ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی آپ کے لئے مشکل یا آسانی پیدا نہیں کر سکتے مگر صرف اللہ ،بے شک وہ یکتا ہی مشکل کشا ہے۔اسکے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔کسی غیر الله کی گنجائش نہیں ہے اس لیے مانگنا صرف اللہ سے ہےلیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ جو لوگ صوفیاء کرام اور اولیاء کرام کے کمالات کی وجہ سے انکو نعوز باللہ مشکل کشا یا دینے والے کا درجہ دیتے ہیں تو یہ شرک اور گناہ عظیم ہے۔لیکن ان بزرگان دین کو گالی نہیں دی جا سکتی جو لوگ انکو گالی دیتے ہیں وہ بھی اتنے ہی گنہگار ہیں جتنے ان سے مانگنے والے۔ آپ غیر جانبداری سے ان تمام اولیاء کرام کو پڑھیں انکی تعلیمات کو پڑھیں تو آپ کو صرف واحدنیت ملےگی۔ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیمات ملیں گی۔ کس طرح اپنی زات کی نفی کر کے دوسروں کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے ملےگا۔ انکے قبروں کو جن لوگوں نے پیسہ بنانے کا زریعہ بنایا وہ انکی تعلیمات کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں اسلام پھیلا ہی ان بزرگان دین کی وجہ سے ہے۔ آئیں ان سے مانگنے کے بجائے انکی تعلیمات پر عمل کریں پھر ان شاء الله ہماری دنیوی زندگی بھی کامیاب ہوگی اور آخروی بھی۔

  • فاشزم (فسطائیت). تحریر :عمر خان

    فاشزم (فسطائیت). تحریر :عمر خان

    فاشزم (فسطائیت) لاطینی لفظ "فاشیو” سے اخذ کیا گیا ہے جس کا لفظی معنی "ایک بنڈل” ہے، قدیم روم میں سول مجسٹریٹ کے پاس ڈنڈوں کا ایک بنڈل ہوتا تھا وہ گلیوں بازاروں میں پھرتا اور اگر کوئی شہری قانون کی خلاف ورزی کررہا ہوتا تو اس کو سزا کے طور پر ان ڈنڈوں سے پیٹا جاتا۔
    فسطائیت (Fascism) آمریت کی ہی ایک شکل ہے ، یعنی ایک پارٹی یا ایک فرد کی حکومت۔ فاشزم ایک ایسا نظام حکومت ہے جس کی قیادت ایک آمر کرتا ہے جو سیاسی مخالف کو جبر و تشدد سے دبائے ، صنعت و تجارت پر مکمل کنٹرول کرے اور قوم پرستی یا نسل پرستی کو فروغ دے کر اپنی آمرانہ حکمرانی برقرار رکھے۔
    فاشزم کی واضح مثال اٹلی کا حکمران "بینیتو موزولینی” اور جرمنی کا حکمران ” ایڈولف ہٹلر” رہے ہیں۔
    اگرچہ فاشسٹ جماعتیں اور تحریکیں ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف تھیں ، لیکن ان میں بہت سی خصوصیات مشترک تھیں جن میں انتہائی شدت پسندانہ رویہ، انتہائی عسکریت پسندانہ قوم پرستی ، سیاسی و ثقافتی آذادی کی توہین ، قدرتی معاشرتی درجہ بندی اور اشرافیہ کی حکمرانی کا اعتقاد شامل ہیں۔

    • نیشنلزم (قوم پرستی)

    نیشنلزم (قوم پرستی) لفظ Nation (قوم) سے
    اخذ کیا گیا ہے۔ قوم کا مطلب انسانوں کا ایسا گروہ جن میں ثقافت ، نسل ، جغرافیائی محل وقوع ، زبان ، سیاست ، مذہب یا روایات پرستی میں سے کوئی ایک بھی قدر مشترک ہو ۔
    18 ویں صدی سے پہلے کچھ مخصوص ادوار میں خاص طور پر جنگ ،تناؤ اور تنازعات کے دوران مختلف سلطنتوں میں مخصوص گروہوں یا علاقائی اکائیوں کے اندر قومی احساس کے جذبات اور سوچ موجود تھی۔ 18 ویں صدی میں تہذیب کو قومیت کا تعین سمجھا گیا۔ اس سے قبل کسی بھی سلطنت کے عوام کی پہچان بادشاہ یا حکمران کے نام سے ہوتی تھی ، عوام نے بادشاہ کو قوم کا مرکز بنائے رکھا تھا۔ قوم پرستی کی آئیڈیالوجی نے واضح کیا کہ بادشاہ قوم یا ریاست نہیں ہے۔ ریاست عوام کی قومی ریاست ، آبائی وطن یا مادر وطن ہے۔ جب ریاست کی شناخت قومی تہذیب سے ہوئی تب ریاست قوم کی پہچان بن گئی۔ مثال کے طور پر تب یہ اصول پیش کیا گیا تھا کہ لوگوں کو صرف ان کی اپنی مادری زبان میں ہی تعلیم دی جاسکتی ہے ، نہ کہ دوسری تہذیبوں کی زبانوں میں۔

    سلطنتوں کے زیر اقتدار بڑی مرکزی ریاستوں نے لسانی ، ثقافتی ، علاقائی یا مذہبی شناخت کے طور خود کو ایک قوم میں متحد کیا اور پرانے جاگیردارانہ ، آمرانہ ، شخصی حکمرانی سے آذادی حاصل کی۔ ان قومی ریاستوں نے عوام کی ذاتی زندگی اور تعلیمی نصاب کی سیکولرائزیشن کی جس سے عام زبانوں کو فروغ ملا، اور چرچ یا مذہبی شخصیات کے تسلط کو قومی ریاست کی حکومت سے الگ کیا۔ تجارت میں اضافے اور معاشی ترقی نے قوم پرست آئیڈیالوجی میں نئی روح پھونک دی۔اس ترقی نے ان تصورات کا مقابلہ کیا جو صدیوں تک سیاسی فکر اور شہری آزادی پر حاوی تھے
    امریکی اور فرانسیسی انقلابات کو اس کا پہلا طاقتور مظہر سمجھا جاسکتا ہے۔ نیشنل ازم 19 ویں صدی کے شروع میں وسطی یورپ میں اور صدی کے وسط تک مشرقی اور جنوب مشرقی یورپ میں پھیلا۔ 20 ویں صدی کے آغاز میں ایشیاء اور افریقہ میں بھی قوم پرستی پھیل گئی۔ اس طرح 19 ویں صدی کو یورپ میں قوم پرستی کا دور کہا جاتا ہے ، جبکہ 20 ویں صدی میں پورے ایشیاء اور افریقہ میں طاقتور قومی تحریکوں کے عروج اور جہدوجہد کا آغاز ہوا۔
    مذہبی قوم پرستی کی بنیاد پر بنی ریاست پاکستان اور لسانی نسلی بنیاد پر بنگلہ دیش کا قیام بھی قوم پرستی کی واضح مثالیں ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر قوم کے پاس ایک مخصوص علاقائی ریاست ہو مثال کے طور پر فلسطینوں کے پاس ریاست نہیں ہے لیکن وہ ایک قوم کی شناخت رکھتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی ریاست منقسم ہے لیکن اس ریاست کے شہری ایک قوم ہی جانے جاتے ہیں۔

    •حب الوطنی (Fascism)

    حب الوطنی (Patriotism) کسی ملک ، قوم یا سیاسی جماعت سے وابستگی وفاداری اور محبت کا نام ہے ۔ حب الوطنی (ملک سے پیار) اور قوم پرستی (کسی ایک قوم سے وفاداری) کو اکثر مترادف سمجھا جاتا ہے جبکہ ان دونوں میں واضح فرق ہے۔
    حب الوطنی وطن سے محبت جبکہ نیشنل ازم ایک قوم کی عکاس ہے

    #عمر نامہ

  • انسان اور انسان سے جڑے رشتے.تحریر : ریحانہ جدون

    انسان اور انسان سے جڑے رشتے.تحریر : ریحانہ جدون

    انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اپنے ساتھ رشتوں اور تعلق کا ایک سلسلہ لے کر آتا ہے, والدین , بہن بھائی, دادا دادی, نانا نانی, وغیرہ
    پر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے تو تعلق کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے جن میں دوست, اسکول فیلوز پارٹنر وغیرہ شامل ہوجاتے ہیں.
    کوئی انسان خوش نصیب ہوتا ہے کہ اسکو مخلص اور وفادار دوست مل جاتے ہیں اور کوئی کی زندگی اس نعمت سے خالی ہوتی ہے.
    رشتے اور تعلق کے اعتبار سے اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہمیں دو طرح کی انتہا ملتی ہیں. ایک انتہا وہ ہے جس میں انسان سب رشتوں سے لاتعلق بن جاتا ہے اور صرف اپنی دنیا بسا لیتا ہے اور دوسری انتہا یہ کہ انسان اپنے دوستوں کو اپنی دنیا سمجھنے لگتا ہے.
    یہ دونوں صورتیں ایک انسان کو معیاری زندگی سے دور لے جاتی ہیں.
    بعض دفعہ ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ انسان اپنے تعلقات کو اپنے رشتوں پہ فوقیت دینے لگتا ہے اور اسطرح اپنے رشتوں سے بےحس ہوجاتا ہے.
    وہی رشتے جو پیدا ہوتے ہی اپنے ساتھ لے کے آ یا ہوتا ہے.
    ایک مثال دیتی ہوں..
    جن بہن بھائیوں کے ساتھ میں کھیل کود کے بڑا ہوا ہوتا ہے, دن میں 50 بار ان سے لڑ جھگڑ کے ایک دوسرے کو مار پیٹ کے) رات کو پھر ایک ساتھ ایک دسترخوان پہ اکٹھے بیٹھے ہوتے ہیں.
    ایسی کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے ان رشتوں سے دوری اختیار کرلیتا ہے ؟؟
    میرا جانا ایک گھر ہوا وہاں کچھ دیر باتوں باتوں میں پتا چلا کہ چار بہنیں ہیں ایک بھائی ہے ( جو انکو چھوڑ چکا ہے)
    اس عورت کی زبانی کے ماں کی وفات بہت پہلے ہوگئی تھی اور بابا نے دوسری شادی نہیں کی ہم بہن بھائی کو پالا.
    بھائی سب سے چھوٹا تھا اس لئے بہت لاڈلا بھی تھا. دو بہنوں کی اور بھائی کی شادی ہوگئی ایک دن باپ نے اپنی 3 دکانیں ایک گھر بھائی کے نام کردیا اور بھائی کو بیٹھا کے کہا کہ تمھارا حصہ میں نے اپنی زندگی میں دے دیا ہے اب یہ گھر رہ گیا ہے یہ گھر میری چارو بیٹیو کو دونگا.
    یہ سن کے بیٹا غصے میں آ گیا اور کہا کہ بہنوں کو کیوں دوگے یہ بھی میرا ہے..
    اس بات پہ باپ بیٹے کی بحث اس حد تک بڑھ گئی کہ بیٹا اپنی بیوی کو لے کے لاہور شفٹ ہوگیا.
    باپ کو فالج ہوا اسکی بیماری میں بھی باپ کو ملنے نہ آ یا اور 4 سال تک وہ بستر پر رہا…
    اس دوران اسکو بیٹیاں ہی سنبھالتی رہی اور پھر ایک دن باپ فوت ہوگیا باپ کی فوتگی کی خبر بیٹے کو دی گئی مگر وہ باپ کے جنازے کو کندھا دینے تک کو نہ آ یا.

    جیسے جیسے وہ عورت داستان سنا رہی تھی کہ آ نسو میری آنکھوں سے نکل رہے تھے اور بار بار ایک ہی سوال میرے زہن میں گونج رہا تھا کہ کیا پیسہ, جائیداد اتنی قیمتی ہوجاتی ہے کہ اپنے رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ؟؟؟
    یا شاید اس اولاد کی بدقسمتی تھی کہ دنیا میں ہی اپنی جنت اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا..
    ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی انسان ایک دم اتنا بےحس, بے درد نہیں ہوجاتا جب تک خود اسکے ساتھ ایسا مسلسل نہ ہورہا ہو جو اسکی برداشت سے باہر ہوگیا ہو….
    پر میرے خیال میں رشتوں کو برداشت نہیں کیا جاتا انکو نبھایا جاتا ہے اپنا فرض سمجھ کے.
    پر جب دُنیاوی محبت انسان پہ حاوی ہو جائے تو پھر کچھ نہیں کہا جاسکتا…

    لوگوں کے اس جنگل میں ہر طرح کے لوگوں سے آ پکا واسطہ پڑا ہوگا یا پڑ سکتا ہے بعض دفعہ آ پکو ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو بظاہر بڑے نیک, خوش اخلاق ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ہے..
    یاد رکھیں عظیم انسان وہ ہے جو اپنے ساتھ جڑے رشتوں کو کبھی نہیں چھوڑتا .
    اور ماں باپ کو تو کبھی بھی نہیں..
    خدارا اپنے تعلقات نبھائیے پر اپنے رشتے بھی مت توڑیں..
    دنیا کی عیش کی زندگی کی خاطر ان قیمتی رشتوں سے خود کو محروم نہ کریں.
    عارضی چیزوں میں سکون تلاش کرنے کی بجائے اللہ کی رضا میں خوش رہنا سیکھیں اللہ کی محبت تمھیں بھٹکنے نہیں دے گی.
    اس محبت میں اتنی طاقت ہے کہ اللہ کے ایک حکم پر عمل کرنے کے لیے انسان اس فانی دنیا سے لڑ جاتا ہے وہی کام کرنے لگتا ہے جو اللہ کو پسند ہو جب اسے اللہ کی رضا میں رہنا آ جاتا ہے تو پھر ہر طرف سکون ہی سکون,
    دنیا کی محبت دنیا کے تعلقات ایک سائیڈ کرکے اللہ کے بتائے راستے پر چل کے تو دیکھو ہر طرح کی ڈپریشن سے آ زاد ہوجائیں گے
    امید ہے یا شاید آ پ میرا پیغام سمجھ گئے ہونگے

  • برہان مظفر وانی شہیداور مقبوضہ جمو ں وکشمیر تحریر: محمد اختر اسلم

    برہان مظفر وانی شہیداور مقبوضہ جمو ں وکشمیر تحریر: محمد اختر اسلم

    برہان مظفر وانی شہیداور مقبوضہ جمو ں وکشمیر

    تحریر: محمد اختر اسلم

    جہاں پودں سے نکلتے ہیں خون کے آنسو، وہاں انسان رہتے ہیں اِسے کشمیر کہتے ہیں؛کشمیر کی آزادیِ جدوجہدمیں برہان مظفر وانی کا نام وہ سنہری باب ہے جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔شہیدوں کی سر زمین جنت نظیر وادیِ کشمیر کے اِس بہادر سپوت نے آزادیِ جدوجہدکو ایک نئی سمت دے کر وہ کارنامہ سر انجام دیاجو تاریخ کے ورقوں میں تاقیامت یاد رکھاجائے گا۔ برہان وانی کی شہادت وہ موقع تھا جس نے کشمیری نوجوانوں کو بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے سامنے تحریکِ مزاحمت کو تیز کرنے کا بھرپور جواز دیا۔برہان وانی کی عمر 21 برس تھی، اِن کا تعلق ترال کے شریف آباد گاؤں کی ایک اعلیٰ تعلیم ِ آفتہ گھرانے سے تھا، اِن کے والد مظفر وانی پیشہ کے اعتبار سے اسکول پرنسپل تھے۔برہان وانی نے دورِ جدید کی سماجی رابطہ ویب سائٹ کے زریعے کشمیری نوجوانوں کو یکجاء کیا اور تحریک ِ ّآزادی کو تقویت دی۔کشمیر کی آزادی کے خواہاں دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے برہان وانی ایک رول ماڈل ہے۔ وادی کے ہر بچہ کی طرح برہان وانی بھی بچپن ہی سے بھارتی مظالم کے خلاف تھے۔ کشمیر کی تاریخ میں یہ پہلے نوجوان تھے جنہوں نے نہ صرف مسلۂ کشمیر کو سماجی رابطہ ویب سائٹ پر اجاگر کیا بلکہ تحریکِ آزادی کو ایک نئیجہت دی۔قابض بھارتی فوج نیبرہان وانی کی نوجوانوں میں بڑھتی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے تحریک ِ ّآزادی کو دہشتگردی سے منسوب کرنا شروع کر دیا جو سلسلہ بتدریج جاری ہے۔ 8 جولائی 2016 بروز جمعہ کی سہ پہر برہان اور اُن کے دو ساتھی ککرناگ سے متصل ایک گاؤں بمڈور کی مقامی مسجد میں نمازِ عصر کرنے کے بعد جونہی باہر نکلے، قابض افواج نے اِن کو محاصرے میں لے کر شہید کر دیا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد جو ردِعمل آیا وہ اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جو لاوا پک رہا ہے وہ کسی بھی وقت جنوبی ایشیا کو ایک جوہری تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے،دوسری جانب کشمیری عوام آج 2021 میں بھی اپنی آزادی کیلئے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں کشمیرمیڈیا سروس کے مطا بق برہان وانی کی شہادت سے اب تک بھارت 1,414 کشمیریوں کو شہید،26,823معصوم کشمیری گرفتار اوراب تک جعلی مقابلوں کی آڑ میں 4,335گھروں اور دُکانوں کو مسمار کر کے کشمیریوں کا معاشی قتل، 119 سہاگنوں کا سہاگ اجاڑا جا چُکاہے اور 254کشمیری بچوں کے باپ کاسایہ اُن کے سروں سے چھین لیا گیا ہے۔ بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں اب تک 1,051کشمیری خواتین اجتمائی حوِ س کا نشانہ بن چُکی ہیں جبکہ 2000زاہدکشمیریوں کو آنکھوں کی بینائی سے محروم کیا جا چُکا ہے ۔ اِن تمام ظلم و جبر کا مقصدصرف اور صرف کشمیریوں کو اُن کے آزادی کے مطالبہ سے پیچھے ہٹا کر اپنے زیرِ تسلط رہنے پر مجبور کرنا ہے۔بھارت کے مظالم پر خاموشی عالمی انصاف کے علمبرداروں کے منہ پر ایک تمانچہ ہے۔ آج کے دورِ جدید میں بھی جمو ں وکشمیر ظلم و جبر کی ایسی نظر بن چُکا ہے جہاں بھارتی فوج کی 14،15،16 کور تعینات ہے جس کی مجموعی تعداد9لاکھ سے زاہد ہے جس کا مطلب اوسطً ہر 10کشمیریوں پر ایک فوجی تعینات ہے،یہاں یہ بات واضح رہے کہ اِس وقت مقبوضہ وادی دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ ہے اور قابض فوج ظلم وبربریت کی ایسی داستان رقم کر رہی ہے کہ وادی کی مٹی کا کوئی ایسا ٹکڑا نہیں جس میں شہید کا خون شامل نہ ہو،وہاں کوئی ندی نالہ ایسا نہیں بہتا جس میں کشمیری مسلمانوں کا خون نہ بہتا ہو، وادی کا کوئی ایسا گھر نہیں جس میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوا ہو اور کوئی ایسا شخص زندہ نہیں جو قابض فوج کے ہاتھوں تشدد کا شکار نہ ہوا ہو۔ہندوتوا سرکار کے تمام تر ظلم و درندگی کے باوجود کشمیری مسلمان آج بھی یک زبان، یک جان ہو کر سبز ہلالی پرچم ہاتھو ں میں تھامے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں، کشمیری جانتے ہیں کہ آزادیِ جدوجہد میں اُ ن کی قربانیاں اور جزبے بھارتی فوج کی بندوقوں سے زیادہ طاقت ور ہیں اور جیت ہمارا مقدر ہے کیونکہ حق اور باطل کی جنگ میں جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔ اِس وقت مقبوضہ وادی کے حالات انتہائی حساس ہیں،ایسے میں اقوامِ عالم پر زامہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوراًبھارت کی اِن خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اورکشمیریوں کے ساتھ کئے گئے حقِ خود ارادیت کے وعدے کو وفاکرے ایسے میں اگر اقوا مِ متحدہ نے کوئی پیشرفت نہ کی تو جنوبی ایشیا ایکجوہری جنگکا سامنہ کر سکتا ہے جس کہ دوردرس نتائج نا صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا پر مرتکب ہونگے۔

  • ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنے والا کم عمرنوجوان کے 2 سرکرنےکیلئے روانہ

    ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنے والا کم عمرنوجوان کے 2 سرکرنےکیلئے روانہ

    وزیرکھیل پنجاب رائے تیموربھٹی نے شہروزکاشف کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے، ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنے والے شہروز کاشف آج K-2 سرکرنے کی مہم پرروانہ ہوں گے، شہروز کاشف حکومت پنجاب کے نوجوانوں کے خیر سگالی سفیر ہیں، ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنے والے کم عمرترین پاکستانی شہروزK-2 سرکرنے والے دنیا کے کم عمرترین کوہ پیما بن جائیں گے.

    وزیرکھیل پنجاب نے کہا کہ امید ہے ماؤنٹ ایورسٹ کی طرح شہروز K-2 بھی سرکرلیں گے، شہروزآپکی ہمت، جوش وولولے پرہمیں فخر ہے، اللہ تعالی اس مہم جوئی میں آپکی مدد کرے گا، ان شاللہ آپ K-2 سر کرنے والے دنیا کے کم عمرترین کوہ پیما ہوں گے، شہروز ہمارے نوجوانوں کے لئے بہادری کی روشن مثال ہیں۔

  • کرکٹ کے شائقین کیلئے بری خبر،حارث سہیل سیریزسے باہر ہوگئے

    کرکٹ کے شائقین کیلئے بری خبر،حارث سہیل سیریزسے باہر ہوگئے

    مڈل آرڈربیٹسمین حارث سہیل ہیمسٹرنگ انجری کے باعث انگلینڈ کے خلاف سیریزسے باہر ہوگئے ہیں، بدھ کو کیے جانے والے ایم آر آئی اسکین میں انکشاف ہوا ہے کہ مڈل آرڈربیٹسمین گریڈ تھری ٹیئرکا شکارہیں، وہ گزشتہ ہفتے ڈربی میں ایک پریکٹس سیشن کے دوران اس انجری کا شکار ہوئے تھے، پی سی بی کے میڈیکل پینل نے حارث سہیل کو چار ہفتے کا ری ہیب پروگرام تجویز کیا ہے، جسے مکمل کرنے پرمڈل آرڈر بیٹسمین کی انجری کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
    انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی سیریز کے لیے قومی اسکواڈ میں منتخب ہونے والے حارث سہیل اب وطن واپس پہنچ کر نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہورمیں اپنے ری ہیب پروگرام کا آغاز کریں گے۔
    حارث سہیل کا کہنا ہے کہ وہ انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی سیریزمیں متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کرکےقومی کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ مستقل بنانے کے منتظر تھے، تاہم انجری کے باعث انہیں اپنا دورہ مختصر ہونے پرافسوس ہے، مگر اب وہ لاہورواپس پہنچ کر اپنے ری ہیب پروگرام کاآغازکردیں گے، تاکہ وہ ڈومیسٹک سیزن 22-2021 کے لیے خود کو تیارکرسکیں۔
    پاکستان اور انگلینڈ کےمابین تین ایک روزہ اور تین ٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچز پرمشتمل سیریزکا آغاز8 جولائی کو کارڈف سے ہوگا، قومی اسکواڈ 21 جولائی کو ویسٹ انڈیز روانہ ہوگی، جہاں اسے 5 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل اور2 ٹیسٹ میچز میں شرکت کرنا ہے۔
    قومی کرکٹ ٹیم آج انگلینڈ کے خلاف پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے گی، پونے گیارہ بجے ہوٹل سے اسٹیڈیم روانہ ہوگی، دونوں ٹیموں کے مابین میچ کا آغاز دوپہر ایک بجے ہوگا، اس دوران قومی ٹی ٹونٹی کرکٹرزدوپہر 2 سے 4 بجے تک اپنا ٹریننگ سیشن کریں گے،
    نوجوان مڈل آرڈر بیٹسمین سعود شکیل آج ڈیبیوکریں گے،صہیب مقصود کی 5 سال بعد قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی ہعئی ہے، فائنل الیون میں امام الحق، فخرزمان، کپتان بابراعظم اور محمد رضوان، سعود شکیل، صہیب مقصود، شاداب خان اور فہیم اشرف، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اورحارث رؤف بھی فائنل الیون میں شامل ہیں.

  • وطن عزیز،پاکستان  .تحریر:فضیلت اجالہ

    وطن عزیز،پاکستان .تحریر:فضیلت اجالہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ،میرا وطن ،میرا حوالہ ،دنیا پہ جنت کا چھوٹا سا نظارہ ۔
    14اگست 1947 کو مانند آفتاب دنیا کے نقشے پہ طلوع ہوا
    اسلام کے نام پے حاصل کی گئ سر زمین وطن کو خدا تعالی نے ہر قسم کی رعنائ بخشی ہے ۔
    پاکستان 881913 مربع کلو میٹر کے ساتھ دنیا کا تیتیسوا بڑا ملک ہے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے بڑے ممالک میں پانچویں نمبر پر آتا ہے ۔
    پاکستان کے مشرق میں بھارت،شمال میں چین اور مغرب میں افغانستان ہے جبک جنوب کی طرف ساحلی پٹی ہے جو اسے بحیرہ عرب سے ملاتی ہے ۔
    پاکستان ایک ایسی خط زمین جسے اللہ تعالی نے ہر قسم کی آب و ہوا سے نوازا جس میں آپکو گرمی ،سردی ،خزاں اور بہار کا موسم ملتا ہے تو وہیں لاتعداد قدرتی مناظر انسانی آنکھوں کو رعنائ بخشتے ہیں ۔اسلام آباد کو پاکستان کا درالخلافہ ہونے کی حیثیت حاصل ہے تو وہی شہر قائد کراچی کو روشنیوں کا شہر اور عظیم ترین شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔پھر باری آتی ہے لاہور کی جسے زندہ دل لوگوں کا شہر مانا جاتا ہے۔جہاں ایک طرف عظیم تاریخی مقامات انسان کو سنہرے ماضی میں دھکیلتے ہیں تو دوسری طرف لزیز کھانے آپکو کہیں اور جانے نہی دیتے ۔
    پاکستان میں پائ جانے والی جھیلیں دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں شمار ہوتی ہیں تو وہی شمالی علاقہ جات کا حسن دیکھنے والے بے خود رہ جاتے ہیں ۔
    پاکستان کے شمالی علاقوں میں آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان ،ناران کاغان،خیبر پختنخوا اور شمال مغربی پاکستان شامل ہے ۔شمالی علاقہ جات میں قدرت کے بے شمار نظاروں کے ساتھ مختلف عمارتیں قلعے،جنگلات ،شاہرائیں اور وادیاں بھی قابل ستائش ہیں
    ۔سکردو میں پایا جانے والہ ٹھنڈا صحرا "دیو سائ” قدرت کی تخلیق کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔بلوچستان کے پہاڑی سلسلے دیکھنے والوں کو مسحور کرتے ہیں ،زیارت کوئٹہ اور گوادر کی خوبصورتی کی مثال نہی ملتی ۔
    بہاولپور کا صحرا چولستان اور ڈیرہ غازی خان کا فورٹ منرو سیاحوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتے ہیں ۔

    صوبہ پنجاب ،پانچ دریاؤں کی سرزمین ،جسے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔شمالی پنجاب اور جنوبی پنجاب ۔پنجاب میں بہت سے سیاحتی مقامات ہیں جن میں سے مری کو خاص مقام حاصل ہے تو جنوبی پنجاب میں واقع ملتان کو سر زمین اولیا ء کا درجہ حاصل ہے ۔تاریخی اور سیاحتی لحاظ سے لاہور کو اہم مقام حاصل ہے جو قدیم ثقافتی ورثہ ،تاریخ،مزہب،سیاحت اور تفریح کے حوالے سے ہر وہ کشش اپنے اندر رکھتا ہے جو ایک سیاح کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے ۔

    اسلامی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں ہر رنگ و نسل ،اور مزہب کے لوگ پائے جاتے ہیں جو پاکستان کو دلکش رنگوں کا مجموعہ بناتے ہیں اور وہی اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ پاکستا ن ایک مہمان نواز اور محبت بانٹنے والا ملک ہے ۔کرتار پور راہداری معاہدہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ پاکستان اپنے اندر بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے احترام کرتا ہے ۔
    گو بہت سے اندرونی و بیرونی طاقتیں ملک پاکستان کا امن تباہ کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں لیکن افواج پاکستان،حکومت اور عوام کی مشترکہ کوششوں کی بدولت پاکستان میں کافی حد تک امن قائم ہوچکا ہے ۔انٹرنیشنل سیاحوں اور کرکٹ کی واپسی ایک خوش آئندہ عمل ہے ۔
    تاہم ابھی بھی بہت محنت ،ہمت،عزم اور لگن کی ضروت ہے تاکہ ہمارا وطن ترقی پزیر مما لک کی فہرست میں شامل ہوسکے ۔اسکیلیے ہم سب کو باہم اختلاف بھلا کر قدم سے قدم ملا کر اور عزم و ہمت کیساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔
    اب قرض ہے ہم پر مٹی کا
    ،اس منزل کا،اس دھرتی کا
    تقدیر کریں تدبیر کریں،
    آو وطن تعمیر کریں۔