Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاک بحریہ نے گالف چیمپین شپ کا آغاز کردیا

    پاک بحریہ نے گالف چیمپین شپ کا آغاز کردیا

    25 ویں چیف آف دی نیول اسٹاف اوپن گالف چیمپیئن شپ 2021، 8 سے 11 جولائی 2021 تک کراچی گالف کلب میں کھیلی جارہی ہے، پیٹرن پاک نیوی گالف (ساوتھ)، کموڈورمحمد وقار نے آج کراچی گالف کلب میں افتتاحی تقریب سے خطاب کیا ہے، تقریب میں کمانڈر کراچی، ریئر ایڈمرل اویس احمد بلگرامی نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی ہے.
    25ویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن چیمپیئن شپ پروفیشنلز، سینئر پروفیشنلز، جونیئرپروفیشنل، امیچرز، سینئرز، ویٹرنز، لیڈیزاورجونیئرز کیٹیگریزمیں کھیلی جائے گی، پروفیشنلزاورامیچرزکے 72 ہولز میچز، جونیئرزکے لئے 18 ہولز میچز، خواتین اورسینئرزکے 36 ہولزمیچز اورویٹرنز کے لئے 9 ہولزکے میچزرکھے گئے ہیں، ٹورنامنٹ کی انعامی رقم 8.5 ملین روپے ہے، اس کے علاوہ ہول ان ون کے فاتح کے لئے” ٹویوٹا فارچیونر”اوردیگر کیٹیگریزکے فاتحین کیلئے بہت سارے مزید انعامات رکھے گئے ہیں۔
    پاکستان گالف فیڈریشن کے کیلنڈر میں قومی سطح کے گالف ایونٹ کو شامل کرنے کے لئے 1995 میں چیف آف دی نیول اسٹاف گالف چیمپین شپ کا پہلا ایڈیشن کھیلا گیا تھا، جس کے بعد یہ قومی گالف سرکٹ کا باقاعدہ اوراہم ایونٹ بن چکا ہے، چیمپین شپ کا باقاعدہ انعقاد پاک بحریہ کی قومی سطح پر اس کھیل کے فروغ کے لئے وابستگی کا مظہر ہے۔
    پاک بحریہ ہمیشہ قومی، بین الاقوامی سطح پر مختلف کھیلوں کے فروغ کے لئے سرگرم عمل رہی ہے، گالف کے علاوہ، پاک بحریہ باقاعدگی سے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کرتی رہی ہے، جس میں چیف آف دی نیول اسٹاف انٹرنیشنل اسکواش چیمپیئن شپ، چیف آف دی نیول اسٹاف اوپن ہاکی چیمپیئن شپ، چیف آف دی نیول اسٹاف شوٹنگ چیمپیئن شپ اورنیشنل سیلنگ چیمپیئن شپ شامل ہیں، پاک بحریہ نے چند سال قبل انٹرنیشنل ملٹری اسپورٹس کونسل سیلنگ چیمپیئن شپ کا انعقاد کیا تھا، جس میں 12 مختلف ممالک کی فوجی ٹیموں نے حصہ لیا تھا، 2018 میں چیف آف دی نیول اسٹاف اوپن ایشین ٹورگالف چیمپیئن شپ بھی اسی مقام پرمنعقد کی گئی تھی، ایسے کھیلوں کے انعقاد سے نہ صرف معاشرے میں صحت مندانہ سرگرمیاں متعارف کروانے میں مدد ملتی ہے بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کا تصور ایک کھیل دوست ملک کی حیثیت سے اجاگر کرنے میں بھی مدد ملے گی، ایشین گولڈ میڈلسٹ منیرصادق، مامون صادق، ذکا اللہ، نادیہ رئیس اورکرکٹ کی دنیا کے مشہور بلے بازفخرزمان اوراولمپک کوالیفائنگ شوٹرجی ایم بشیر پاک بحریہ کے پلیٹ فارم سے بین الاقوامی سطح پرنام کمانے والے افرادمیں شامل ہیں۔
    افتتاحی تقریب میں عنبرتانیہ انصاری جنرل مینیجرمارکیٹنگ اینگروکارپوریشن لمیٹڈ، اسپانسرز، معززسول فوجی حضرات اورسینئر کھلاڑیوں نے شرکت کی ہے.

  • فیس بک کا ٹوئٹر جیسا اہم فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ

    فیس بک کا ٹوئٹر جیسا اہم فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ

    فیس بک جلد ہی ٹوئٹر کی طرح ’تھریڈ‘ فیچر متعارف کروانے جارہا ہے –

    اغی ٹی وی : ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ کے مطابق فیس بک اپنے صارفین کے لیے ’عوامی شخصیات کے ایک چھوٹے گروپ کے ساتھ‘ ’تھریڈ‘ فیچر متعارف کروانے جا رہا ہے جس سے صارفین ایونٹس میں لائیو کمینٹری بھی کر سکیں گے۔

    اس بارے میں فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تھریڈڈ پوسٹس میں ’ویو پوسٹ تھریڈ ‘ کا بٹن بھی شامل ہوگا، جس سے فالوورز تھریڈ میں موجود تمام پوسٹوں کو باآسانی نیوی گیٹ کر سکیں گے۔

    تاہم فیس بک نے ابھی تک تھریڈ کے عوامی رول آؤٹ فیچر کے لیے تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں اور ابھی تک یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ فیس بک اس فیچر کو مزید صارفین تک وسعت دے گا یا نہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق ٹوئٹر پر محدود کریکٹرز کی وجہ سے تھریڈز بہت کارآمد ہیں اور صارفین اپنی ٹوئٹس کو مکمل کرنے کے لیے پوسٹوں کو ملا دیتے ہیں، تاہم فیس بک میں کریکڑ کاؤنٹ کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے تھریڈ مختلف طریقے سے کام کر سکتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق طویل پوسٹ کے بجائے فیس بک تھریڈز کو کسی ایونٹ میں براہ راست کمینٹری کے لیے استعال کیا جاسکتا ہے جب کہ یہ انفلوئنسرز کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

    اس بارے میں ٹیکنالوجی بلاگر اور سوشل میڈیا کنسلٹنٹ میٹ نوارا کا کہنا ہے کہ ’تھریڈ فیچر کی بدولت کسی بھی پرانی پوسٹ میں نئی پوسٹ شامل کرکے ایک تھریڈ بنائی جاسکے گی جس میں شامل تمام پوسٹس کی آڈیئنس پہلی پوسٹ کی طرح یکساں ہوگی۔

  • فضائل عشرہ ذی الحجہ اور اس میں کرنے کے کام         بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    فضائل عشرہ ذی الحجہ اور اس میں کرنے کے کام بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    فضائل عشرہ ذی الحجہ اور اس میں کرنے کے کام

    بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ
    =============

    عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَالْفَجْرِ
    قسم ہے فجر کی !
    الفجر : 1
    وَلَيَالٍ عَشْرٍ
    اور دس راتوں کی !
    الفجر : 2

    اللہ تعالیٰ جن دس راتوں کی قسم اٹھا رہے ہیں
    بہت سے مفسرین نے اس (’’ وَ لَيَالٍ عَشْرٍ ‘‘) سے ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں مراد لی ہیں۔

    ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:
    "یہی تفسیر صحیح ہے”
    تفسير ابن كثير: (8/413)

    اور کسی بھی چیز کی قسم اٹھانا اسکی اہمیت، اور اسکے عظیم فوائد کی دلیل ہے

    دنیا کے ایام میں سب سے افضل دن

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «ﺃﻓﻀﻞ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﻌﺸﺮ» .
    دنیا کے ایام میں سب سے افضل دن( ذوالحجہ کے) دس دن ہیں
    (ﺻﺤﻴﺢ) …
    صحیح الجامع الصغير 1133 –

    تنبیہ
    رمضان کے آخری عشرہ اور عشرہ ذی الحجہ میں تقابلی طور پر علماء اس طرح بیان کرتے ہیں کہ عشرہ رمضان کی راتیں افضل ہیں کیونکہ ان میں لیلة القدر آتی ہے اور عشرہ ذی الحجہ کے دن افضل ہیں۔

    امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
    ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن رمضان کے آخری دس دنوں سے افضل ہیں اور رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں ذوالحجہ کی دس راتوں سے افضل ہیں۔
    حافظ ابن قیم بیان کرتے ہیں کہ جب فاضل اور سمجھدار شخص اس پر غوروخوض کرے گا تو وہ اسے شافی و کافی پائے گا کیونکہ ذوالحجہ کے دس دنوں کے علاوہ ایام کے اعمال اللہ تعالی کو دس ذوالحجہ کے اعمال سے زیادہ محبوب نہیں اور ان ایام میں یومِ عرفہ،یوم نحر اور یوم ترویہ بھی ہیں(جو خاص فضیلت کے حامل ہیں)اور رمضان کی آخری دس راتیں شب بیداری کی راتیں ہیں جن میں رسول اللہﷺرات بھر عبادت کیا کرتے تھے اور ان راتوں میں شبِ قدر بھی۔چنانچہ جو شخص اس تفصیل کے بغیر جواب دے گا اس کےلئے ممکن نہیں کہ وہ صحیح دلیل پیش کر سکے۔(مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ:25؍287)

    عشرہ ذی الحجہ میں آنے والے عرفہ کے دن کی خاص فضیلت

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ، مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمِ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ ”
    "کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو،وہ(اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بناء پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے:یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟”
    مسلم 3288

    ایک یہودی نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ
    يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا، لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ اليَهُودِ نَزَلَتْ، لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا.

    اے امیرالمومنین! تمھاری کتاب ( قرآن ) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس ( کے نزول کے ) دن کو یوم عید بنا لیتے

    قَالَ: أَيُّ آيَةٍ؟
    آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے؟

    قَالَ: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3]

    اس نے جواب دیا ( سورہ مائدہ کی یہ آیت کہ ) “ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا

    قَالَ عُمَرُ: «قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ، وَالمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ»
    ” حضرت عمر نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو ( خوب ) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ( اس وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔
    بخاري 45

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ جمعہ کا دن اور عرفہ کا دن ہمارے ہاں عید ہی مانا جاتا ہے اس لیے ہم بھی اس مبارک دن میں اس آیت کے نزول پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں، پھر عرفہ کے بعد والا دن عیدالاضحی ہے، اس لیے جس قدرخوشی اور مسرت ہم کو ان دنوں میں ہوتی ہے اس کا تم لوگ اندازہ اس لیے نہیں کرسکتے کہ تمہارے ہاں عید کا دن کھیل تماشے اور لہوولعب کا دن مانا گیا ہے، اسلام میں ہرعید بہترین روحانی اور ایمانی پیغام لے کر آتی ہے۔

    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق يوم عرفہ عید کا دین

    عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    《يوم عرفة ، ويوم النحر وأيام التشريق عيدنا أهلَ الإسلام ،و ھی ایام أكل وشرب》
    "یوم عرفہ، قربانی کا دن اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کے لیے عید ہیں اور یہ ایام کھانے پینے کے ہیں ۔
    (سنن أبي داود : ۲٤۱۹ ، سنن الترمذي: ۷۷۳ ، سنن النسائی: ۳۰۰۷، وسنده حسن)

    یہ ایسا دن ہے جس کی اللہ تعالی نے قسم اٹھائ ہے

    اورعظیم الشان اورمرتبہ والی ذات قسم بھی عظیم الشان والی چيز کے ساتھ اٹھاتی ہے ، اوریہی وہ یوم المشہود ہے جو اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں کہا ہے :

    وشاهد ومشهود البروج ( 3 ) حاضرہونے والے اورحاضرکیے گۓ کی قسم ۔

    ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :

    ( یوم موعود قیامت کا دن اوریوم مشہود عرفہ کا دن اورشاھد جمعہ کا دن ہے ) اسے امام ترمذي نے روایت کیا اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے حسن قرار دیا ہے ۔

    عشرہ ذی الحجہ کے آخری دن یعنی یوم النحر کی عظمت

    سیدنا عبداللہ بن قرط ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
    إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ قَالَ عِيسَى قَالَ ثَوْرٌ وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي

    ” اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑھ کر عظمت والا دن یوم النحر ( دس ذوالحجہ ) اس کے بعد یوم القر ( ۱۱ ذوالحجہ ) ہے ۔ “ عیسیٰ نے ثور سے نقل کیا کہ یہ دوسرا دن ہوتا ہے “
    ابو داؤد 1765

    یوم القر کی وضاحت کے لیے الصحيح لابن خزيمه میں اس روایت پر یوں تبویب کی گئی ہے
    ﺑﺎﺏ ﻓﻀﻞ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﺮ ﻭﻫﻮ ﺃﻭﻝ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺘﺸﺮﻳﻖ
    یوم القر کی فضیلت کا بیان اور اس سے مراد ایام تشریق کا پہلا دن ہے. 2966

    عشرہ ذی الحجہ میں بڑی بڑی عبادات جمع ہوجاتی ہیں

    اس عشرہ مبارکہ کا ایک خاص امتیاز ہے جو کسی اور عشرے کو حاصل نہیں ہے وہ یہ کہ اس میں انسان تمام بڑی بڑی عبادات بجا لا سکتا ہے
    جیسے روزے، نماز، زکوٰۃ، حج، جہاد، اور ہجرت وغیرہ
    بالخصوص حج اور قربانی دو ایسی عبادات ہیں جو اس عشرے میں ہی ادا کی جاتی ہیں

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ فتح الباری کےاندرفرماتےہیں:
    ” عشرہ ذی الحجہ کی امتیازی حیثیت کاسبب غالبایہ ہےکہ دیگرایّام کےمقابلےمیں بڑی بڑی عبادتیں مثلا:نماز، روزہ، زکاۃ اورحج ان ایام میں اکٹھی ہوجاتی ہیں”
    (فتح الباری (3/136))

    عشرہ ذی الحجہ میں نیک اعمال کی باقی دنوں کے نیک اعمال پر فضیلت

    سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    مَا مِنْ أَيَّامٍ, الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ –يَعْنِي: أَيَّامَ الْعَشْرِ-، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ, إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.
    ” اللہ تعالیٰ کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پسندیدہ نہیں ہے جتنا کہ ان دنوں میں پسندیدہ اور محبوب ہوتا ہے ۔ “ یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں ۔ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں ، جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر جو کوئی شخص اپنی جان و مال لے کر نکلا ہو اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو ۔ “
    ابو داؤد 2438، بخاری 926، ترمذی

    عشرہ ذی الحجہ کے اعمال

    پہلا عمل

    تسبیحات، تحمیدات اور تکبیرات کہنا

    اس عشرہ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی، بڑائی اور حمد و ثناء بکثرت کرنی چاہئے

    اس بارے میں فرمان باری تعالی ہے:

    {لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ}

    تا کہ وہ اپنے فائدے کی چیزوں کا مشاہد ہ کریں، اور مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں[الحج : 28]

    یہاں ” أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ ” سے مراد عشرہ ذو الحجہ [ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن] ہیں۔

    ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    «ﻣﺎ ﻣﻦ ﺃﻳﺎﻡ ﺃﻋﻈﻢ ﻋﻨﺪ اﻟﻠﻪ، ﻭﻻ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻴﻪ اﻟﻌﻤﻞ ﻓﻴﻬﻦ ﻣﻦ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﻌﺸﺮ ﻓﺄﻛﺜﺮﻭا ﻓﻴﻬﻦ اﻟﺘﺴﺒﻴﺢ، ﻭاﻟﺘﻜﺒﻴﺮ، ﻭاﻟﺘﻬﻠﻴﻞ»
    کوئی دن ایسے نہیں جو اللہ کے ہاں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والے ہوں اور جن میں کیا ہوا نیک عمل ان دس دنوں سے زیادہ محبوب ہو پس تم ان ایام میں اللہ کی تسبیح، تکبیر اور تہلیل بکثرت کرو
    المعجم الکبیر للطبرانی 11116
    شعب الایمان للبیھقی

    مسند احمد کی ایک روایت میں
    "والتحميد”
    کے الفاظ ہیں
    دیکھئیے ((أحمد (2/75)شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے:شرحہ علی المسند رقم (5446))”

    تسبیح کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا جیسے سبحان اللہ کہنا

    تکبیر کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنا جیسے اللہ اکبر کہنا

    تہلیل کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان کرنا جیسے لا الہ الا اللہ کہنا

    تحمید کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنا جیسے الحمد للہ کہنا

    ان چاروں اعمال و کلمات کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
    اللہ تعالیٰ کو یہ چار کلمات
    سُبْحَانَ اللَّهِ
    وَالْحَمْدُ لِلَّهِ
    وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
    وَاللَّهُ أَكْبَرُ
    سب سے زیادہ محبوب ہیں
    مسلم 2137

    مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن اعمال تولنے والے ترازو میں ان کلمات کے بہت زیادہ بھاری ہونے پر تعجب کیا ہے
    فرمایا
    مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ
    یہ (چار) کلمات ترازو میں کس قدر وزنی ہیں
    مسند احمد 15235

    پورا عشرہ ذی الحجہ تکبیرات کہنا صحابہ کرام کا مبارک عمل ہے

    صحيح بخاری میں معلق روایت ہے
    وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ يَخْرُجَانِ إِلَى السُّوقِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ يُكَبِّرَانِ وَيُكَبِّرُ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِمَا

    عبداللہ بن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ان دس دنوں میں تکبیرات کہتے ہوئے بازار کی طرف نکل جاتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ مل کر تکبیرات کہتے

    نو ذوالحجہ کی فجر سے بالخصوص تکبیرات کا آغاز :

    ابو وائل شقیق بن سلمہ الأسدی رحمہ اللہ (تابعی) بیان کرتے ہیں :

    كَانَ عَلِيٌّ يُكَبِّرُ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ غَدَاةَ عَرَفَةَ، ثُمَّ لَا يَقْطَعُ حَتَّى يُصَلِّيَ الْإِمَامُ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ بَعْدَ الْعَصْرُ.

    "سیدنا علی رضی اللہ عنہ عرفہ کی صبح ، فجر کی نماز کے بعد تکبیرات کہتے، پھر ایام تشريق کے آخری دن (١٣ ذوالحجہ کو) امام کے نماز عصر پڑھانے تک مسلسل کہتے رہتے اور عصر کی نماز کے بعد بھی تکبیرات کہتے.”

    ( المستدرك للحاكم : ٤٤٠/١ ح: ١١١٣ ، السنن الكبرى للبيهقي : ٤٣٩/٣ ح : ٦٢٧٥ وسنده حسن)

    عکرمہ مولی ابن عباس رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کرتے ہیں :

    أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ، إِلَى آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.

    "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ عرفہ کی نماز فجر سے لیکر ایام تشريق کے آخری دن (١٣ ذوالحجہ) تک تکبیرات کہتے.”

    ( مصنف ابن أبي شيبة : ٤٨٩/١ ح: ٥٦٤٦ ، المستدرك للحاكم : ٤٤٠/١ ح : ١١١٤ ، السنن الكبرى للبيهقي : ٤٣٩/٣ ح : ٦٢٧٦ وسنده صحیح)

    امام عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي رحمہ اللہ سے تکبیرات کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :
    يُكَبَّرُ مِنْ غَدَاةِ عَرَفَةَ إِلَى آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ كَمَا كَبَّرَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللہِ.

    "عرفہ کی صبح سے لے کر ایام تشريق کے آخر تک تکبیرات کہے جیسا کہ سیدنا علی اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے.”

    (المستدرك للحاكم : ٤٤٠/١ ح : ١١١٦ وسنده صحیح)

    تکبیرات کے الفاظ

    اس بارے میں معاملہ وسیع ہے کیونکہ تکبیرات کہنے کا حکم مطلق ہے

    فرمانِ باری تعالی ہے:
    (وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ)

    تا کہ تم اللہ تعالی کی اسی طرح بڑائی بیان کرو جیسے اس نے تمھیں سکھایا ہے۔
    [البقرة:185]

    اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تکبیرات کیلیے الفاظ کی تعیین نہیں فرمائی

    الغرض کوئی بھی الفاظ تکبیرات کیلئے آپ کہہ سکتے ہیں کیونکہ تکبیرات کے معین الفاظ مرفوعاً منقول نہیں ہیں۔

    البتہ صحابہ کرام سے منقول تکبیرات کے الفاظ پر پابندی کرنا بہتر ہے۔

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے تکبیرات کے یہ الفاظ منقول ہیں

    ” اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ ”

    [اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں۔ ]

    "مصنف ابن ابی شیبہ” (2/165-168)
    "إرواء الغلیل” (3/125)

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے
    "الله اكبر كبيرا الله اكبر كبيرا واجل ‘الله اكبر ولله الحمد
    اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف واسنادہ صحیح

    بیہقی (3/315) نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ الفاظ روایت کیئے ہیں
    ” اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، اَللهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اَللهُ أَكْبَرُ عَلَى مَا هَدَانَا”
    البانی رحمہ اللہ نے اسے "ارواء الغلیل” (3/126) میں صحیح قرار دیا ہے۔

    سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے
    ” الله اكبر الله اكبر كبيرا”
    کے الفاظ ثابت ہیں ۔
    ( ابن ابی شیبہ 2/168 ح5645
    السنن الکبری اللبیہقی 3/316)

    دوسرا عمل

    روزے رکھیں

    امہات المؤمنین میں سے ایک کا بیان ہے کہ
    كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ.
    رسول اللہ ﷺ ذوالحجہ کے ( پہلے ) نو دن ، عاشورہ محرم ، ہر مہینے میں تین دن اور ہر مہینے کے پہلے سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے ۔
    ابو داؤد 2437

    بغرضِ ترغیب روزوں کے چند فضائل درج کر رہا ہوں تاکہ اس عشرہ مبارکہ میں روزے رکھنے کا شوق پیدا ہو جائے

    حضرت حزیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا
    فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ
    ’’آدمی کی آزمائش ہوتی ہے اس کے بال بچوں کے بارے میں، اس کے مال میں اور اس کے پڑوسی کے سلسلے میں۔ ان آزمائشوں کا کفارہ نماز روزہ اور صدقہ ہیں۔‘‘

    روزے جہنم کی آگ کے سامنے ڈھال ہیں
    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

    اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.

    ’’روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘
     نسائی، السنن، کتاب الصيام، 2 :  637، رقم :  2230، 2231

    ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

    مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا 
    کہ جو شخص لوجہ اللہ ایک دن کا روزہ رکھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ایک روزے کی برکت سے اس کے چہرے کو ستر برس مدّت کی مسافت تک آگ سے دور کر دیتا ہے
    بخاري

    روزے کا اجر اتنا زیادہ ہے کہ اس کا کوئی شمار ہی نہیں ہے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی :  إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.

    ’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے :  روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔‘

     ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2 : 305، رقم :  1638

    وفی روایۃ
    : کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأنَا اَجْزِيْ بِهِ.

    ’’ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے۔ پس یہ (روزہ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘

     بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب هل يقول انی صائم اذا شتم، 2 : 673، رقم : 1805.۔

    عرفہ کا روزہ

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ،
    عرفہ کے دن کے دن روزہ رکھنے سے مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہ معاف فرمادے گا
    (صحیح مسلم ،الصیام ، الترمذي، الصوم، باب ما جاء في فضل الصوم يوم عرفة، ح :۷۶۹)

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ، مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمِ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ ”
    "کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو،وہ(اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بناء پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے:یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟”
    مسلم 3288

    ام المؤمنين سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

    «ما من السنة يوم أصومه أحب إلي من أن أصوم يوم عرفة».

    "مجھے پورے سال کے دنوں میں سے عرفہ کے دن روزہ رکھنا سب سے زیادہ پسند ہے.”

    (مسند ابن الجعد : 512، شعب الایمان للبیہقی : 315/5 ح : 3485، تهذيب الآثار للطبري : 600 وسندہ صحیح)

    ضروری بات
    یہ روزہ حاجیوں کے لیے نہ رکھنا زیادہ بہتر ہے :
    عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام فضل لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
    "شك الناس يوم عرفة في صوم النبي صلى الله عليه وسلم، فبعثت إلى النبي صلى الله عليه وسلم بشراب  فشربه.
    "لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے متعلق شک میں تھے (کہ آج آپ کا روزہ ہے یا نہیں) تو میں نے آپ کی طرف ایک مشروب بھیجا تو آپ نے اسے نوش فرما لیا”۔
    (صحيح البخاري : ۱۹۵۸ ، ۱۹۸۸ ، صحیح مسلم : ۱۱۲۳)

    امام شافعی(٢٠٤ھ)رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    "فأحب صومها إلا أن يكون حاجًّا فأحب له ترك صوم يوم عرفة لأنه حاجٌّ مضَحٍّ مسافرٌ ولترك النبي ﷺ صومه في الحج وليقوى بذلك على الدعاء ، وأفضل الدعاء يوم عرفة”.
    "میں (نو ذوالحجہ) کے روزے کو پسند کرتا ہوں سوائے حاجی کے ، اس کے لیے یہ ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ نہ رکھے کیونکہ وہ فریضہ حج ادا کرنے والا، قربانی کرنے والا اور مسافر ہے ( سب سے بڑی بات) نبی کریم ﷺ نے بھی حج میں روزہ نہیں رکھا، تاکہ وہ دعا کے لیے خوب توانا رہے اور عرفہ کے دن کی دعا افضل دعا ہے”۔
    (دیکھئے مختصر المزني: ص٥٩، فضائل الأوقات للبيهقي: ص۳٦٤)

    عرفہ کا روزہ علاقائی 9تاریخ یا یوم عرفہ کے مطابق

    جب سے جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ میں تیزی آئی ہے تب سے بعض حلقوں کی جانب سے صوم عرفہ کے متعلق ایک عجیب اشکال کھڑا کیا گیا ہے
    وہ یہ کہ روزہ اسی دن رکھا جائے گا جس دن حاجی لوگ میدان عرفات میں جمع ہونگے خواہ اپنے علاقے میں اس دن نو تاریخ ہو یا نہ ہو

    جبکہ یہ موقف کئی ایک وجوہات کی بنا پر انتہائی کمزور موقف ہے

    (1)اس موقف کے قائل تمام علماءرمضان کے روزوں’دیگر نفلی روزوں اور یوم عاشور اور عیدین وغیرہ کی تعیین میں تو قمری تقسیم کو تسلیم کرتے ہیں لیکن یومِ عرفہ سے دھوکا کھا کر اس کو سعودی تاریخ سے جوڑنے کرنے کی کوشش کرتے ہیں

    (2)اگر اس موقف کو تسلیم کر لیا جائے تو تمام اسلامی دنیا سعودی یومِ عرفہ کے مطابق روزہ رکھ ہی نہیں سکتی۔کیونکہ مشرقی ممالک میں سحری سعودی وقت سے دو یا تین گھنٹے قبل شروع ہوتی ہے اور افطاری بھی ان سے پہلے ہوتی ہے۔اسی مناسبت سے تو مشرقی لوگ سعودی تاریخ کے مطابق روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور بعض مغربی ممالک میں قمری تاریخ سعودی تاریخ سے آگے ہے۔چنانچہ مکہ مکرمہ میں جب یومِ عرفہ ہوتا ہے تو وہاں عیدالاضحی منائی جارہی ہوتی ہے تو اس غیرمنصفانہ تقسیم سے تو مغربی ممالک کے مسلمان یوم عرفہ کے روزہ کی فضیلت سے محروم رہیں گے

    (3)روئے زمین پر ایسے خطے موجود ہیں کہ سعودیہ کےلحاظ سےیومِ عرفہ کے وقت وہاں رات ہوتی ہے ان کےلئےروزہ رکھنے کا کیا اصول ہوگا؟اگر انہیں عرفہ کے وقت روزہ رکھنے کا پابند کیا جائے تو کیا وہ رات کا روزہ رکھیں گے

    (4)اگرچہ آج ہم سائنسی دور سے گزر رہے ہیں لیکن آج سے چند سال قبل معلومات کے یہ ذرائع میسر نہ تھے جن سے سعودیہ میں یومِِ عرفہ کا پتا لگایا جا سکتا اب بھی دیہاتوں اور دراز کے باشندوں کو کیسے پتا چلے گا کہ سعودی میں یومِ عرفہ کب ہے تاکہ وہ اس دن روزے کا اہتمام کریں

    ماخوذ از فتاویٰ شیخ عبد الستار الحماد حفظہ اللہ تعالیٰ

    یوم عرفہ کے دیگر اعمال

    غسل کرنا :

    إِنَّ رجلاً سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْغُسْلِ ، فَقَالَ : ” اغْتَسِلْ كُلَّ يَوْمٍ إِنْ شِئْتَ "، قَالَ: لَا، بَلِ الْغُسْلُ أَيْ الْمُسْتَحَبُّ قَالَ: ” اِغْتَسِلْ کُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ ، وَيَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ النَّحْرِ وَ يَوْمِ عَرَفَةَ ”

    ” سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے غسل کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : چاہے ہر روز غسل کرو ، سائل نے پوچھا : نہیں، کونسا غسل مستحب ہے؟ فرمایا : ہر جمعہ، عید الفطر، عید الاضحٰی اور عرفہ کے دن غسل کرو . ”

    ( مسند مسدد کما فی المطالب لابن حجر : 693 و سندہ صحیح ووثق رجاله البوصیری في إتحاف الخيرة المهره : 265/2 )

    یوم عرفہ میں بالخصوص گناہوں سے بچنا

    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

    إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ، وَبَصَرَهُ، وَلِسَانَهُ، غُفِرَ لَهُ.

    "جو شخص اس (یعنی عرفہ کے) دن اپنے کانوں، آنکھوں اور زبان کو گناہوں سے قابو میں رکھتا ہے اسے بخش دیا جاتا ہے.”

    ( مسند أحمد : 329/1 ح : 3041، مسند أبي داود الطيالسي : 2857، مسند أبي يعلي : 2441، الزهد للوكيع : 488 وسندہ صحیح و اخطأ من ضعفه، وصححه الهيثمي و البوصيري و المنذري والمناوي و احمد شاكر . و انظر : أخبار مكة للفاكهي و المعجم الكبير للطبراني شعب الایمان للبيهقي و فضل يوم عرفة لابن عساكر و صحیح ابن خزيمة)

    تیسرا عمل

    جہاد فی سبیل اللہ

    اس عشرہ میں جہاد فی سبیل اللہ کا اجر و ثواب اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ عام دنوں میں کیا جانے والا جہاد بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا
    اور بالخصوص اگر کوئی خوش قسمت مجاہد ان دنوں شہادت کی سعادت حاصل کرلیتا ہے تو اس کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    مَا مِنْ أَيَّامٍ, الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ –يَعْنِي: أَيَّامَ الْعَشْرِ-، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ, إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.
    ” اللہ تعالیٰ کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پسندیدہ نہیں ہے جتنا کہ ان دنوں میں پسندیدہ اور محبوب ہوتا ہے ۔ “ یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں ۔ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں ، جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر جو کوئی شخص اپنی جان و مال لے کر نکلا ہو اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو ۔ “
    ابو داؤد 2438، بخاری 926، ترمذی

    چوتھا عمل

    حج بیت اللہ

    سبحان اللہ کیسا عظیم عشرہ ہے کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ایسا ہے جو خاص اسی عشرے سے تعلق رکھتا

    بغرضِ ترغیب حج و عمرہ کے چند فضائل درج کر رہا ہوں تاکہ اس عشرہ مبارکہ میں حج بیت اللہ کا شوق پیدا ہو جائے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ( تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّھُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِی الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ وَالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ )
    [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في ثواب الحج والعمرۃ : ٨١٠، عن عبد اللّٰہ بن مسعود (رض) ]
    ” حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو، کیونکہ یہ فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ “

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ( اَلْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَھُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَاءٌ إِِلَّا الْجَنَّۃُ )
    [ بخاري، الحج، باب وجوب العمرۃ و فضلھا : ١٧٧٣۔ مسلم : ١٣٤٩ ]
    ” عمرہ سے لے کر عمرہ، دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔ “ گناہوں کی معافی بھی بہت بڑا نفع ہے،

    نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
    ( مَنْ حَجَّ لِلَّہ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہٗ أُمُّہٗ )
    [ بخاري، الحج، باب فضل الحج المبرور : ١٥٢١، عن أبي ہریرہ ۔ مسلم : ١٣٥٠ (رح) ّ ]
    ” جو شخص حج کرے، نہ کوئی شہوانی فعل کرے اور نہ کوئی نافرمانی کرے تو واپس اس طرح (گناہوں سے پاک ہو کر) جائے گا جس طرح اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ “

    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن عاص (رض) سے فرمایا تھا :
    ( أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ وَأَنَّ الْھِجْرَۃَ تَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَھَا وَأَنَّ الْحَجَّ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ )
    [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ ۔۔ : ١٢١ ]
    ” کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے اور یہ کہ ہجرت اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتی ہے اور یہ کہ حج اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے۔ “

    پانچواں عمل

    عید پڑھنا

    اسی عشرہ مبارکہ کے آخری دن یعنی دس ذی الحجہ کو عید کی نماز ادا کرنا ایک اہم شرعی فریضہ ہے

    عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‏‏‏‏
    أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، ‏‏‏‏‏‏ .

    اضحی کے دن ( دسویں ذی الحجہ کو ) مجھے عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے مقرر و متعین فرمایا ہے
    داود 2789

    شرعی دلائل اور عید کی اسلام میں اہمیت کے پیش نظر صحیح بات یہی ہے کہ نماز عید فرض ہے

    ام عطيہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كيا ہے :
    أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِحْدَانَا لا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ . قَالَ : لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا

    ” ہميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عيد الفطر اور عيد الاضحى ميں ( عيد گاہ كى طرف ) نكلنے كا حكم ديا، اور قريب البلوغ اور حائضہ اور كنوارى عورتوں سب كو، ليكن حائضہ عورتيں نماز سے عليحدہ رہيں، اور وہ خير اور مسلمانوں كے ساتھ دعا ميں شريك ہوں, وہ كہتى ہيں ميں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم: اگر ہم ميں سے كسى ايك كے پاس اوڑھنى نہ ہو تو ؟
    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اسے اس كى بہن اپنى اوڑھنى دے ”
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 324 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 890 ).

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى ” مجموع الفتاوى” ميں كہتے ہيں:
    ” دلائل سے جو ميرے نزديك راجح ہوتا ہے وہ يہ كہ نماز عيد فرض عين ہے، اور ہر مرد پر نماز عيد ميں حاضر ہونا واجب ہے، ليكن اگر كسى كے پاس عذر ہو تو پھر نہيں ” اھـ (ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 16 / 217 )

    اگر جمعہ اور عیدین ایک دن جمع ہو جائیں تو جمعہ کے متعلق رخصت ہے۔ حالانکہ جمعہ واجب ہے، اگر صلوٰۃ عید فرض نہ ہوتی تو دوسرے فرض کو کیسے ساقط کر سکتی ہے۔ یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ صلوٰۃ عیدین دیگر نماز پنجگانہ کی طرح فرض عین ہے

    چھٹا عمل

    قربانی

    عشرہ ذی الحجہ کے آخری دن یعنی دس ذی الحجہ کو قربانی کرنا دوسرے تینوں دنوں کی بنسبت ثواب زیادہ ہے ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
    (( مَاالْعَمَلُ فِیْ اَیَّامٍ اَفْضَلُ مِنْھَا فِیْ ھٰذِہٖ قَالُوْا وَلَا الْجِھَادُ قَالَ وَلَا الْجِھَادُ اِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ یُخَاطِرُ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ یَرْجِعْ بِشَیْئٍ))
    [’’ کسی اور دن میں عبادت ان دس دنوں میں عبادت کرنے سے افضل نہیں ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ جہاد بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ جہاد بھی نہیں ۔ہاں وہ شخص جو اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالتے ہوئے نکلے اور پھر کوئی چیز واپس نہ لوٹے۔‘‘]

    قربانی کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے
    قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
    کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔
    الأنعام : 162

    دوسرے مقام پر ارشاد ہے
    وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ
    اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔ سو تمھارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے فرماںبردار ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنادے۔
    الحج : 34

    لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ … : یعنی ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ہمارے عطا کردہ پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام لے کر انھیں قربان کریں، نہ کہ کفار کی طرح ہمارے عطا کر دہ چوپاؤں کو بتوں اور غیر اللہ کے آستانوں پر انھیں خوش کرنے کی نیت سے ذبح کریں۔

    دیگر مذاہب میں قربانی کا ثبوت

    اللہ تعالیٰ کے لیے بطور نیاز قربانی کرنا تمام آسمانی شریعتوں کے نظام عبادت کا لازمی جز رہا ہے
    تفسیر ثنائی میں ہے :
    ’’قرآن مجید کے اس دعویٰ (کہ ہر قوم میں قربانی کا حکم ہے) کا ثبوت آج بھی مذہبی کتب میں ملتا ہے۔ عیسائیوں کی بائبل تو قربانی کے احکام سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی دوسری کتاب سفر خروج میں عموماً یہی احکام ہیں۔ تعجب تو یہ ہے کہ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ ہندوؤں اور آریوں کے مسلمہ پیشوا منوجی کہتے ہیں : ’’یگیہ (قربانی) کے واسطے اور نوکروں کے کھانے کے واسطے اچھے ہرن اور پرند مارنا چاہیے۔ اگلے زمانے میں رشیوں نے یگیہ کے لیے کھانے کے لائق ہرن اور پکشیوں کو مارا ہے۔ شری برہماجی نے آپ سے آپ یگیہ (قربانی) کے واسطے پشو (حیوانوں) کو پیدا کیا۔ اس سے یگیہ جو قتل ہوتا ہے وہ بدھ نہیں کہلاتا۔ حیوان، پرند، کچھوا وغیرہ، یہ سب یگیہ کے واسطے مارے جانے سے اعلیٰ ذات کو دوسرے جنم میں پاتے ہیں۔‘‘ [ ادہیائے : ۵۔ شلوک : ۲۲، ۲۳، ۳۹، ۴۰ ] گو آج کل کے ہندو یا آریہ ایسے مقامات کی تاویل یا تردید کریں مگر صاف الفاظ کے ہوتے ہوئے ان کی تاویل کون سنتا ہے۔ اس جگہ ہم نے صرف یہ دکھانا تھا کہ قرآن شریف نے جو دعویٰ کیا ہے وہ بحمد اللہ اپنا ثبوت رکھتا ہے، باقی قربانی کی علت اور وجہ کے لیے ہماری کتب مباحثہ، حق پر کاش، ترک اسلام وغیرہ ملاحظہ ہوں۔‘‘
    بحوالہ تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ

    اسلام میں بھی یہ بطور عبادت مقرر کی گئی ہے، اس میں حاجی، غیر حاجی کی کوئی قید نہیں ہے۔ البتہ مکہ میں حج یا عمرہ پر کی جانے والی قربانی کو ہدی اور دوسرے مقامات پر کی جانے والی قربانی کو اضحیہ کہا جاتا ہے۔

    انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
    [ ضَحَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلٰی صِفَاحِهِمَا يُسَمِّيْ وَيُكَبِّرُ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهٖ]
    [بخاري، الأضاحی، باب من ذبح الأضاحي بیدہ : ۵۵۵۸۔ مسلم : ۱۹۶۶ ]
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کیے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلوؤں پر اپنا پاؤں رکھا اور ’’ بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ ‘‘ پڑھ کر ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔‘‘

    ساتواں عمل

    قربانی کی نیت رکھنے والا عشرہ ذی الحجہ میں حجامت وغیرہ نہ کروائے

    قربانی کا ارادہ رکھنے والا شخص جب ذوالحجہ کا چانددیکھ لے یا یہ خبر عام ہو جائے کہ چاند نظر آگیا ہے تو اس رات سے لے کر اپنے جا نور کی قربانی کر لینے تک اپنے جسم کے کسی حصے سے کوئی بال یا ناخن نہ کاٹے کیونکہ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ»
    (صحیح مسلم، الأضاحي، باب نهى من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو يريد التضحية أن يأخذ من شعره…، ح:۱۹۷۷)
    "جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔

    یہ پابندی قربانی کرنے تک ہے
    صحیح مسلم اور سنن ابو داود میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں:
    (( فَلاَ یَاْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِہٖ وَ لاَ مِنْ اَظْفَارِہٖ شَیْئًا حَتّٰی یُضَحِّيَ ))
    ’’وہ اپنے جانور کو ذبح کرلینے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔‘‘

    المستدرک على الصحيحين میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے
    "ﺇﺫا ﺩﺧﻞ ﻋﺸﺮ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﻓﻼ ﺗﺄﺧﺬﻥ ﻣﻦ ﺷﻌﺮﻙ ﻭﻻ ﻣﻦ ﺃﻇﻔﺎﺭﻙ ﺣﺘﻰ ﺗﺬﺑﺢ ﺃﺿﺤﻴﺘﻚ”
    یعنی یہ ناخنوں اور بالوں کی پابندی قربانی کرلینے تک ہے
    حدیث نمبر 7519

    مؤطا امام مالک میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے بعد سر کے بال کٹوائے
    ﻓﺤﻠﻖ ﺭﺃﺳﻪ ﺣﻴﻦ ﺫﺑﺢ اﻟﻜﺒﺶ، ﻭﻛﺎﻥ ﻣﺮﻳﻀﺎ ﻟﻢ ﻳﺸﻬﺪ اﻟﻌﻴﺪ ﻣﻊ اﻟﻨﺎﺱ
    موطا ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻣﻦ اﻟﻀﺤﺎﻳﺎ

    یہ پابندی تمام گھر والوں پر ھے

    نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت کرتے ہیں
    أﻥ اﺑﻦ ﻋﻤﺮﻣﺮ ﺑﺎﻣﺮﺃﺓ ﺗﺄﺧﺬ ﻣﻦ ﺷﻌﺮ اﺑﻨﻬﺎ ﻓﻲ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﻌﺸﺮ
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان دس دنوں میں ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بیٹے کے بال کاٹ رہی تھی
    تو آپ نے فرمایا
    "ﻟﻮ ﺃﺧﺮﺗﻴﻪ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ اﻟﻨﺤﺮ ﻛﺎﻥ ﺃﺣﺴﻦ”
    اگر تو اسے قربانی کے دن تک مؤخر کردیتی تو بہتر ہوتا
    مستدرک للحاکم 7520

  • کشمیر کے وارث ہم ہیں، کشمیر صوبہ بنے گا نہ ضم ہونے دیں گے     وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان

    کشمیر کے وارث ہم ہیں، کشمیر صوبہ بنے گا نہ ضم ہونے دیں گے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان

    وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ کشمیر کے وارث ہم ہیں، کشمیر صوبہ بنے گا نہ ضم ہونے دیں گے ، عمران نے پوری قوم کو تقسیم کر دیا –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کھانڈا بیلہ میں کارکنان مسلم لیگ ن کے اجتماع سے خطاب کے دوران وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ اگر جھوٹ فراڈ میں آگے نکل جانے کو تبدیلی کہتے ہیں تو کشمیر میں ایسا نہیں چلے گا،پاکستان میں تبدیلی چند دنوں کی مہمان ہے-

    انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر بھر میں تعمیر وترقی کاجال بچھایا ،ضلع جہلم ویلی کو دس ارب روپے کے فنڈز دئیے جو ماضی کی کوئی حکومت نہ دے سکی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے الیکشن نہیں جیتے جاتے-

    راجہ فاروق حیدر خان نے کہا اسٹام دینے والوں اور بیوہ و غریب خواتین کو جعلی امدادی چٹیں دینے والوں کوجیل بھیجوائوں گا –

    راجہ فاروق نے کہا کہ مسلم کانفرنس، پی پی پی،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے مل کر ٹکٹ تقسیم کئے ،عوام ایسی کسی تانگہ پارٹی کاحصہ نہ بنیں جو کشمیریوں کے تشخص اور لاکھوں کشمیریوں کے عزت وقار کو داو پر لگائے۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہم سب کشمیری ہیں اور ایک قوم ہیں ،مجھے کہا گیا کہ آزاد کا لفظ ہٹا دیں اور میں نہیں مانا، میں نے ان کے بہت سے رازوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔

  • پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے سیریز کا آج سے آغاز

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے سیریز کا آج سے آغاز

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے سیریز کا آج سے آغاز ہورہا ہے، ۔ڈے اینڈ نائٹ ون ڈے میچ کارڈف میں کھیلا جائے گا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ون ڈے سیریز کا پہلا میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بجے شروع ہوگا، قومی کرکٹرز نے حریف کے خلاف مقابلے کے لیے بدھ کو بھرپور پریکٹس سیشن کیا۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ پہلے ون ڈے میچ سے قبل انگلینڈ کی پوری ٹیم کے تبدیل ہونے سے مایوسی ہوئی ہے لیکن ہم اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں کریں گے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے بلے باز حارث روَف انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سے باہر ہوگئے ہیں حارث روَف ہیمسٹرنگ انجری کی وجہ سے ون ڈے سیریز نہیں کھیل سکیں گے-

    سیریز کا دوسرا میچ 10 جولائی کو لارڈز میں پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 3 بجے کھیلا جائے گا جبکہ تیسرا اور آخری میچ برمنگھم میں 13 جولائی کو کھیلا جائے گا جو کہ پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بجے شروع ہوگا۔

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹوئنٹی میچز 16، 18 اور 20 جولائی کو ہوں گے۔

  • اکثر مظلوم ملزمان سے صلح کیوں کرلیتے ہیں؟ تحریر: ملک رمضان اسراء 

    اکثر مظلوم ملزمان سے صلح کیوں کرلیتے ہیں؟ تحریر: ملک رمضان اسراء 

    اکثر مظلوم ملزمان سے صلح کیوں کرلیتے ہیں؟

    منصف: اسلام آباد میں مقیم صحافی اور کالم نگار ہے۔

    کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اکثریت اوقات زیادتی کا شکار مظلوم لوگ ملزمان سے کیوں کرلیتے جس کے سبب ملزمان سزا سے بچ جاتے آج میں آپ کو اس بلاگ میں ایک حقیقی کہانی کا واقع سناتا ہوں جس میں مظلوم خاندان نے ملزمان سے صلح کرلی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں گرہ مٹ میں شریفہ بی بی نامی لڑکی کو برہنہ کرکے علاقہ کی گلیوں میں گھمایا گیا تھا۔ 13 اپریل کو مقامی عمائدین اور سابق ایم این اے ٹانک داور خان کنڈی کی ثالثی کے توسط سے گاوں گرہ مٹ میں ایک جرگہ کے تحت 2017 میں بے لباس کی گئی شریفہ بی بی کے خاندان اور ملزمان کے مابین راضی نامہ کروایا گیا۔

    جرگہ میں موجود ایک شخص نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: اس وقت شریفہ بی بی کیس میڈیا میں آنے کے بعد پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا تاہم سجاول نامی شخص جو برادری کا وڈیرا اور بااثر شخص تھا جن پر مرکزی ملزم ہونے کا الزام ہے کو کئی عرصہ بعد گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ روپوش ہوگیا تھا اور متاثرہ خاندان نے مرکزی ملزم کو سیاسی چھتری فراہم کرنے کا الزام اس وقت کے صوبائی وزیر مال اور موجودہ وفاقی وزیر علی امین خان گنڈہ پور پر عائد کیا تھا جسکی علی امین نے تردید کی تھی تاہم بااثر ملزمان شریفہ بی بی کے خاندان پر صلح کرنے کیلئے دباو ڈالتے رہے تاکہ سجاول سیہڑ کو پولیس گرفتاری سے بچایا جاسکے اور معاملہ کو رفع دفع کیا جائے  مگر اس وقت شریفہ بی بی کے خاندان نے قانونی کروائی کرنے کو ترجیح دی۔

     جرگہ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والوں میں شامل ایک شخص نے بتایا: ہم نے اللہ کی رضا کی خاطر گزشتہ چار سال سے چلے آرہے اس مسئلہ کا راضی نامہ کرکے فریقین کے مابین یہ تنازع ختم کرایا ہے تاکہ مزید یہ ایک دوسرے کے ساتھ اس جھگڑے میں نہ پڑے رہیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ  اس صلح نامہ کے عوض ملزمان کی طرف سے بطور جرمانہ شریفہ بی بی کے خاندان کو کتنی رقم ادا کی گئی تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ بھی طے نہیں پایا جب کہ شریفہ بی بی اور ان کے خاندان نے ملزمان کو فی سبیل اللہ معاف کردیا۔ 

    لیکن جرگہ میں موجود شناخت ظاہر نہ کرنے والے مذکورہ شخص نے اس دعوی کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان نے تمام ملزمان کو فی سبیل اللہ معاف نہیں کیا بلکہ ثالثوں نے یہ فیصلہ مبلغ 45لاکھ روپے میں کیا ہے جسکے تحت ہر ملزم کو پانچ لاکھ روپے ادا کرنے ہیں انہوں نے دعوی کیا جس روز یہ جرگہ ہوا اس وقت شریفہ بی بی کے خاندان کو موقع پر 23 لاکھ روپے ادا کیئے گئے جبکہ بقیہ رقم عدالت میں زیر سماعت کیس ختم ہونے کے بعد ادا کی جائے گی۔

    ثالثی کا کردار ادا کرنے والے نے مزید بتایا: ہم جرگہ ثالثین نے ملزمان پر کچھ شرائط عائد کی ہیں اور وہ یہ کہ ملزمان شریفہ بی بی کے محلہ کی مخصوص گلیوں جن میں متاثرہ لڑکی اور ان کے خاندان کا آنا جانا لگا رہتا ہے میں تمام عمر نہیں جائیں گے۔ اور یہ اس لیئے کیا گیا تاکہ ملزمان اور متاثرہ خاندان کا حتی الامکان آمنا سامنا نہ ہوسکے کیونکہ جو کچھ متاثرہ بچی اور ان کے ساتھ ہوا تھا اسکا کسی صورت مداوا نہیں کیا جاسکتا البتہ ہم نے پوری دیانتداری سے کوشش کی ہے کہ شریفہ بی بی کے خاندان کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور یہ راضی نامہ ان کی رضامندی سے ہوا ہے۔

    شریفہ بی بی کے بھائی سجاد سیال جن پر وڈیروں کی لڑکی کے ساتھ فون پر بات کرنے کے الزام کی وجہ سے اس جھگڑا کی بنیاد بنی تھی نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے راضی نامہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ: "ہمیں وسیب کے وڈیروں نے پہلے بھی بہت دفعہ کہا تھا کہ راضی نامہ کرلو لیکن اس وقت ہم نے انکار کردیا تھا لیکن پھر گزشتہ کئی دنوں سے گاوں سمیت مختلف اہل علاقہ اور مشران نے ہمیں کہا کہ آپس میں راضی نامہ کرلو لہذا ہم نے ان سے سوچنے کا وقت مانگا اور میں نے اپنی بہن شریفہ بی بی اور والدہ سے مشورہ کرکے جرگہ ثالثان جن میں سابق رکن قومی اسمبلی داور کنڈی اور مقامی شخصیت شیخ توقیر اکرم شامل تھے سے اپنی رضامندی ظاہر کی جسکے بعد مقامی عمائدین سمیت ان لوگوں نے ہماری صلح کروا دی۔

    ایک سوال کے جواب میں ساجد نے کہا: ” اس راضی نامہ کے حوالے سے ہم پر کسی قسم کا کوئی دباو نہیں اور ناہی ہم کسی زبردستی کے تحت ملزمان سے راضی نامہ کررہے۔

     جب ساجد سیال سے یہ سوال کیا گیا کہ: اگر آپ پر کوئی دباو نہیں اور تمام ملزمان بھی گرفتار ہوگئے تھے تو پھر کیس کی پیروی کرنے کے بجائے آپ نے صلح کیوں کی اور کیا آپ نہیں چاہتے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کیفر کردار تک پہنچیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: "ہم نے ایسا اپنی جان چھڑانے کیلئے کیا تاکہ آگے بدی (نسل در نسل دشمنی) سے بچا جاسکے کیونکہ اگر یہ تنازعہ ایسے جارہی رہا تو خدانخواستہ پھر کبھی کوئی اس دشمنی کے سبب مسئلہ نہ بن جائے لہذا یہ جھگڑا ختم ہوجائے تو بہتر ہے کیونکہ ہم اس علاقے میں رہتے ہیں یہاں آپس میں رشتہ داریاں بھی ہیں اور دوسرا کیس کی پیروی کیلئے مسلسل آنا جانا یہ ہمارے لیئے انتہائی تکلیف دہ مرحلہ رہا جبکہ میری بہن کئی عرصہ سے بیمار رہی اور اب بھی زیر علاج ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا: "میں چھ بہنوں کا واحد بھائی ہوں اور شریفہ بی بی سمیت چار بہنوں اور ایک ماں کا اکلوتا کفیل ہوں، میری دو بہنوں کی شادی ہوچکی جبکہ اس مسئلہ کے سبب شریفہ بی بی سمیت باقی تین بہنوں کے ابھی تک کہیں رشتے بھی نہیں ہوئے کیونکہ ہمارے ہاں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے جہالت ہے۔ اور اللہ نہ کرے اس دشمنی کی وجہ سے مجھے کچھ ہوگیا تو میری بوڑھی ماں اور کنواری بہنوں کا کیا بنے گا؟”

    انکے مطابق: ملزمان کی خواتین شریفہ بی بی کے پاس جبکہ ملزمان اہل علاقہ سمیت باہمرہ ایک عدد بیل ہمارے گھر چل کر آئے اور اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے ہمارے پورے خاندان سے معافی مانگی اور شرمندگی کا اظہار بھی کیا جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو اس راضی نامہ کے بدلے جرمانہ کے طور ملزمان کی جانب سے کوئی رقم ادا کی گئی تو انہوں نے انکار نہ کرتے ہوئے اس حوالے سے بات کرنے پر معزرت کرتے ہوئے کہا کہ: وہ ہمارے پاس چل کر آگئے لہذا ہم یہ دشمنی مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتے ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ: وہ (ملزمان) خواتین و مرد ہمارے پاس معافی کیلئے چل کر آئے لہذا شریفہ بی بی بھی اس صلح نامہ سے راضی ہے اور انکو معاف کردیا گیا ہے جب ان سے کہا گیا کہ مزید تصدیق کیلئے خود شریفہ بی بی کا موقف جاننا چاہتا ہوں تو ان کا جواب تھا ہمارے علاقہ میں موبائل سروس کا بہت زیادہ مسئلہ ہے اور گاوں سے باہر صرف اونچی جگہوں پر سگنل آتے ہیں لہذا ان سے بات کرانا ممکن نہیں۔

    شریفہ بی بی کے بھائی نے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: میڈیا نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا اور جن جن لوگوں نے ہمارے لیئے اس وقت ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ 

    شریفہ بی بی کیس میں ملزمان کے وکیل غلام محمد سپل  نے بتایا: چند ماہ قبل اس کیس میں نامز ملزمان نے ضمانتیں کروائی تھی تاکہ وہ شریفہ بی بی کے خاندان کے ساتھ راضی نامہ کرسکیں جسکے لئے خود متاثرہ خاتون نے ڈی آئی خان سیشن کورٹ میں بیان قلمند کرایا تھا کہ ہماری ملزمان کے ساتھ صلح پر بات چیت چل رہی لہذا مجھے ان کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں جسکے بعد عدالت نے انہیں دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

    جب ملزمان کے وکیل سے پوچھا گیا کہ دعوی کیا جارہا ہے کہ رقم کے عوض صلح نامہ کیا گیا ہے لیکن دونوں فریقین اس بات کو ماننے سے انکاری ہیں کیا اس کی کوئی قانونی وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: بالکل اگر واقعی یہ راضی نامہ پیسوں کے عوض ہوا ہے اور یہ لوگ عدالت میں یہ جواز پیش کریں کہ ہم نے ملزمان کو رقم کے بدلے معاف کیا تو پھر عدالت یہ بات قبول نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ وہ فی سبیل اللہ معاف کرنے کا کہہ رہے تاکہ کل کو عدالت میں کوئی قانونی مسئلہ پیدا نہ ہوجائے۔

    جب اس سلسلہ میں شریفہ بی بی کے وکیل احمد علی اور جرگہ میں ثالثی کا اہم کردار ادا کرنے والے سابق رکن قومی اسمبلی داور خان کنڈی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ 

    پس منظر:

     نومبر 2017 میں شریفہ بی بی جس کا تعلق گاوں گرہ مٹ تحصیل درابن ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے کے بھائی سجاد سیال پر  کومب برادری کی ایک لڑکی سے فون پر بات کرنے کے الزام کی دشمنی کی بنا پر ان کی متاثرہ بہن کو بااثر وڈیروں نے برہنہ کرکے گاوں کی گلیوں میں گھمایا تھا لیکن دوسری طرف سجاد سیال اس الزام سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس لڑکی سے فون پکڑا گیا تھا وہ میرا نہیں تھا اور ناہی میرے نام پر اسکی سم تھی، اس وقت سم ڈیٹا نکلوایا گیا تھا اور وہ سم جس شخص کے نام پر تھی اسے چھپا دیا گیا اور جھوٹا الزام مجھ پر لگادیا گیا۔

     شریفہ بی بی کے خاندان کے مطابق ان کی سترہ سالہ بیٹی کو بے لباس کرنے والوں میں کل 9 لوگ ملوث تھے جن میں سجاول سیہڑ نامی وڈیرا ان کی پشت پناہی کررہا تھا اور انہوں نے اس واقعہ کے فورا بعد متاثرہ لڑکی کے بھائی سجاد پر پرچہ کروا دیا کہ درحقیقت یہ ملزم ہے اور اس نے ہمارے گھر آکر خواتین کے کپڑے پھاڑے۔

     شریفہ بی بی کے خاندان نے دعوی کیا تھا کہ: یہ اس لئے کیا گیا تاکہ متاثرہ خاندان کی طرف سے کیا گیا پرچہ کراس ہوسکے لیکن بعدازاں اس کوتاہی میں ملوث ایس ایچ او کو معطل بھی کیا گیا جنہوں نے مرکزی ملزم کے ساتھ مل کر اس وقت سانحہ کے فورا بعد رپورٹ کیلئے آئی متاثر لڑکی کو تھانہ میں گالیاں دی تھی جس کا الزام خود شریفہ بی بی نے ایک ٹی وی پروگرام میں بھی لگایا تھا کہ:  "جب میں خاندان کے ساتھ تھانہ رپورٹ کرنے گئی تو وہاں موجود پولیس آفیسر نے مجھے گالیاں دیتے ہوئے دھکے دیئے اور کہا نکل جاو اصل قصوروار تمہارا بھائی سجاد ہے اور تم اب ان پر الزام لگا رہی۔”

     بعدازاں معاملہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے قومی سطح پر چلا گیا اور پولیس نے تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا اور عدالت پیش کرکے جیل بھیج دیا تھا۔

    سماجی کارکن رجب علی فیصل کا خیال ہے کہ اکثر مظلوم ملزمان سے اس لیئے صلح کرلیتے ہیں کیونکہ ان میں کیس کی پیروی کی طاقت نہیں ہوتی کیونکہ وہ غریب اور غیر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں لہذا  ایسے دیہی اور پسماندہ علاقوں کے لوگ مقامی وڈیروں سے ڈرتے ہیں کیونکہ تھانہ کچہری میں سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے انکی پہنچ زیادہ ہوتی ہے۔ اور پھر انہوں نے اسی معاشرہ میں رہنا ہوتا ہے انکی جائیداد، روزگار، رشتہ داریاں وہاں پر ہوتی ہیں لہذا وہ چاہا کر بھی ملزمان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکتے کیوں کہ وہ مختلف مجبوریوں میں جکڑے ہوتے ہیں جس میں سب بڑی وجہ آگاہی نہ ہونا اور غربت ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک اس بارے میں کسی قسم کی آگاہی ہے اور نا ہی ایسا کوئی فعال ادارہ جو ان لوگوں صحیح معنوں میں رہنمائی یا مدد کرسکے اور شریفہ بی بی کیس میں بھی یہی عوامل شامل ہیں جسکے سبب مظلوم گھرانے نے ملزمان سے صلح کرلی۔

  • شاہینوں کا شہر سرگودھا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    شاہینوں کا شہر سرگودھا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    1904 میں ایک انگریز عورت کے ہاتھوں نو آبادیاتی نظام کے تحت آباد کیا جانے والا پاکستان کا پہلا شہر سرگودھا ہے اسکے بعد اسلام آباد اور فیصل آباد بنائے گئے۔
    شہر کے درمیان میں ایک مارکیٹ ہے جسے گول چوک مارکیٹ کہا جاتا ہے اسکے اندر ایک خوبصورت مسجد بھی ہے۔ کہتے ہیں اسی جگہ ایک تالاب ہوا کرتا تھا جسکے کنارے ایک گھر تھا ۔ ہندو جو اس تالاب کا مالک تھا اسکا نام “گودھا” تھا اور تالاب کو فارسی میں “سر” کہتے ہیں تو اسی مناسبت سے اس کا نام سرگودھا رکھا گیا۔
    اپنے محلے وقوع کے اعتبار سے سرگودھا خاص اہمیت کا حامل شہر ہے۔ 5800 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان میں واقع سرگودھا کو ڈویژن کا درجہ حاصل ہے اور موجودہ ڈویژن میں 6 تحصیلیں بھلوال، بھیرہ، کوٹمومن، سرگودھا، سلانوالی، شاہ پور شامل ہیں۔ کل آبادی تقریبا 270000 دو لاکھ ستر ہزار ہے۔
    تعلیمی میدان میں سرگودھا کا لٹریسی ریٹ تقریبا 80% ہے جبکہ پورے ملک میں 30%۔ تعلیمی اداروں میں سرفہرست سرگودھا یونیورسٹی ،اس کے علاوہ ائیربیس کالج، میڈیکلُ کالج، لاء کالج، ووکیشنکل کالج، کامرس کالج اور بہت سارے پرائیویٹ تعلیمی ادارے جیسے پنجاب گروپ آف کالجز، دارارقم گروپ، بیکن ہاوس، سٹی سکول سسٹم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    صحت کی سہولتوں کے لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور اسکے علاوہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز، پرائیویٹ ہسپتال ، ٹی بی سنٹر ، ٹراما سنٹربھی موجود ہیں۔ شوکت خانم ، آغا خان ہسپتال کے کولیکشن سنٹر بھی کام کررہے ہیں۔
    کیونکہ یہ ایک پلانڈ شہر ہے تو اس شہر میں ہر قسم کے کاروبار کے الگ الگ بازار ہیں جیسے سونے کی مارکیٹ، کپڑے کی مارکیٹ۔ تمام بازاروں کے درمیان میں ایک چوک آتا ہے جو ان بازاروں کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ اگر آپ شہر کے کسی بھی کونے سے داخل ہوں تو آپ پورے شہر کو باآسانی گھوم سکتے ہیں۔

    دفاعی لحاظ سے اس شہر کی بہت اہمیت ہے کیونکہ یہاں پر پاکستان ائرفورس کا ہوائی اڈہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس شہر کو شاہینوں کا شہر بھی کہا جاتاہے۔ اس شہر کی فضائیں ہر وقت ائرفورس کے جنگی طیاروں کی آواز سے گونجتی رہتی ہیں۔ 1965 کی جنگ میں ائر فورس نے بہت اہم کردار ادا کیا اور بہترین کارکردگی پر سرگودھا شہر کو ہلال استقلال سے نوازا گیا۔ لاہور اور سیالکوٹ کے علاوہ یہ اعزاز صرف سرگودھا شہر کوہے۔ اسی جنگ میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے اور ایک منٹ سے کم وقت میں انڈیا کے 5 جہازوں کو مار کر ورلڈ ریکارڈ بنانے والے ایم ایم عالم کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ اسکے علاوہ سرفراز رفیقی کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ پاکستان کے کم عمر ترین نشان حیدر کا اعزاز پانے والے راشد منہاس اسی دھرتی کے سپوت ہیں۔
    سرگودھا اپنی بہت ساری باتوں سے مشہور ہے جس میں سرفہرست یہاں کا کینو مالٹا ہے جو پورے پاکستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔سرگودھا شہر بجری کی سپلائی سے بھی مشہور ہے بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا کرش سپلائر ہے۔ اس شہر نے پاکستان کی بہت ساری مشہور شخصیات کو بھی جنم دیا ہے جن میں جنرل حمید گل، احمد خان المعورف ملنگی، فٹح خان بلوچ،مفتی محمد شفیع، خواجہ ضیاءالدین سیالوی،خواجہ قمرالدین سیالوی، ملک فیروز خان نون، ملک خضر حیات ٹوانہ، پیر امیر محمد بھیروی. مولانا محمد حسین نیلوی . پیر کرم شاہ صاحب ازھری. سید حامد علی شاہ . مولانا ثناءاللہ امرتسری: علامہ عطاءاللہ بندیالوی. مولانا عبدالشکور ترمذی. سید سبطین نقوی اور مولانا نقشبند شامل ہیں۔
    اسکے علاوہ کھیل میں محمد حفیظ، اعزاز چیمہ اور نوید لطیف کرکٹ میں سرگودھا کی نمائندگی کر چکے۔ اس شہر کے نامور شعراء میں احمد ندیم قاسمی, وصی شاہ، ڈاکٹر وزیر آغا. ریاض احمد شاد . شاکر کنڈان. محمد حیات بھٹی. غلام محمد درد. قاسم شاہ. افضل عاجز. اور ھارون الرشید تبسم .سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ڈاکٹر عطاء الرحمان. ڈاکٹر شاہد اقبال. ڈاکٹر عامر علی شامل ہیں۔

  • افغانستان، امریکی فوج کا انخلاء اورپاکستان پرمنڈلاتے خطرات.تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    افغانستان، امریکی فوج کا انخلاء اورپاکستان پرمنڈلاتے خطرات.تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ہیرو شیما پر ایٹم بم گرانے کے بعد سے آج تک دیکھیں تو امریکہ نے کہیں کوئی جنگ نہیں جیتی، ویت نام ہو یا صومالیہ ، سوڈان ہو یا عراق ،ہرجگہ امریکہ کوناکامی کاسامناکرناپڑا،امریکہ سے پوری دنیاکے لوگ نفرت کرتے ہیں امریکہ نے جس ملک پر جنگ مسلط کی اس ملک کے وسائل لوٹے ہیں ، امریکہ نے کبھی تنہا جنگ نہیں لڑی ہمیشہ دیگر ممالک کے لائولشکر سے حملہ آور ہوامگرامریکہ کوکہیں بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی اس کے برعکس امریکہ نے کبھی اپنی شکست بھی تسلیم نہیںکی۔
    9/11 کوبہانہ بنا کر افغانستان پر امریکا اور اس کے اتحادیوںنے 2002 ء میں جنگ مسلط کر دی۔ افغانستان کے خلاف اس جنگ میں تقریباََتمام مغربی ممالک امریکا کے حواری بن کر شامل ہو گئے، ان ممالک میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیٹو تنظیم کے بیشتر ممالک شامل تھے۔ اس کارروائی میں نیٹو فوجوں ہوائی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے اور فرضی دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ،ان گنت بم افغانیوں کی بستیوں پر گراتے جس سے جیتے جاگتے انسانوں کی بستیاں پلک جھپکتے ہی مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوجاتی تھی۔

    گیارہ ستمبر 2001 میں جب امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا اور اس حملے کی ذمے داری اسامہ بن لادن پر ڈالی گئی تو امریکا اسامہ بن لادن کو ڈھونڈتے ہوئے افغانستان میں داخل ہوگیا۔ اسامہ کی تلاش پر بے گناہ افغانوں کا خون بہایا گیا۔ افغان سرزمین پر تاریخ کی بدترین بمباری کی گئی اور اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا۔اس سے قبل طالبان دورحکومت میں افغانستان پرامن افغانستان کی طرف گامزن تھا لیکن گیارہ ستمبر کے واقعے نے ایک بار پھر حالات بدل دیے اور افغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی بدامنی کی لہرنے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ افغانستان کی جنگ میں امریکا کا اتحادی بننے پر پاکستان کو بم دھماکوں کی صورت میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ جانی و مالی قربانیوں کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیا۔ ملک میںامن کیلئے پاک فوج،رینجرز، ایف سی، پولیس، پاکستانی شہریوں اور سیاستدانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج بھی پاکستانی عوام بم دھماکوں کی گونج سے سہمے ہوئے ہیں۔

    گزشتہ 21 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے بعد اب امریکا نے اپنی ناکامی کا مبینہ اعتراف کرتے ہوئے اس ناکامی کا ملبہ پاکستان پرڈالنے کی کوشش کی اور بالآخر واپسی کا فیصلہ کر ہی لیا، یہ جنگ امریکا کے گلے میں پھنسی ایسی ہڈی بن گئی تھی جسے وہ نہ نگل سکتا تھا اور نہ ہی اگل سکتا تھا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال 11 ستمبر تک تمام امریکی فوجی دستے افغانستان سے واپس بلالیے جائیں گے۔افغانستان میں سب سے بڑا فوجی اڈہ بند کرنے کے ساتھ ہی گویا امریکا نے جنگِ افغانستان کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے جس کا فیصلہ گزشتہ سال طالبان کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں کیا گیا تھا۔افغانستان کا بگرام ایئر بیس امریکی فوج نے خالی کر دیاہے، امریکی فوجی رات کی تاریکی میں خاموشی سے واپس چلے گئے، افغان انتظامیہ بھی بے خبر رہی،امریکیوں کے انخلاء کا افغان طالبان نے خیرمقدم کیا ہے۔ کابل میں صرف 650 امریکی فوجی سفارت خانے کی حفاظت کے لیے رہ گئے ہیں، مکمل انخلا اگست میں ہو گا۔ فضائی آپریشن اب متحدہ عرب امارات، قطر یا بحری بیڑے سے کیے جائیں گے، مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اتحادیوں نے مل کر بہت سی جنگیں جیتیں لیکن افغان جنگ ہار گئے۔ امریکی فوج کے انخلا کے بعد اب ایک بار پھر افغانستان میں اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ افغان طالبان نے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان دارالحکومت کابل کے قریبی علاقوں تک پہنچ چکے ہیں اور افغان دارالحکومت کابل سے ایک گھنٹے کی دوری پر ہیں جوکہ کسی بھی لمحے کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں،ان حالات کودیکھتے ہوئے افغان کٹھ پتلی صدر اشرف غنی اپنے فیملی کے افرادکوپہلے ہی افغانستان سے نکال چکا ہے،

    خوداشرف غنی نے طالبان کے خطرے کے پیش نظرفرارہونے کیلئے جہازتیارکھڑاکیاہواہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر افغانستان کی اندرونی معاملات کے اثرات پاکستان پر پڑنے کا خطرہ موجود ہے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال حکومت پاکستان کیلئے پریشانی کا باعث ہے ۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں ایک طویل نشست ہوئی اور ممکنہ خطرات سے بچنے کیلئے صف بندی کی جارہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تو واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ پرائی جنگ کا کیوں حصہ بنیں۔ انہوں نے امریکا کو ہوائی اڈے دینے سے بھی انکار کردیا ہے۔ لیکن حکومت کو مغربی سرحدوںسے اٹھنے والے خطرات کے بادلوں کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ملکی معاشی صورتحال بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ افغان مہاجرین کا مزیدبوجھ برداشت کیا جاسکے۔ اس حوالے سے حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا اور ملکی مفاد میں سیاسی جماعتوں کو بھی حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔

    اس وقت تیزی سے بدلتے عالمی پس منظر میں جب ممالک عالمی طاقتوں کے اثر سے نکل کراپنے ملکی مفادات کے پیش نظر فیصلے کر رہے ہیں، سی پیک کا منصوبہ اس خطے کے مختلف چھوٹے بڑے ممالک کے لیے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔نیپال سے گوادر تک بننے والا معاشی کوریڈوراور خطے کے تمام چھوٹے بڑے ممالک کے ساتھ چین کی بھاری مشترکہ سرمایہ کاری نے امریکا اور اس کے حلیفوں کے لیے نئی پریشانی اور مشکلات کھڑی کرد ی ہیں۔چین کا بنایا ہوا سی پیک دنیا کی تجارتی منڈی کو یکسر تبدیل کرنے جا رہا ہے۔ 62 ارب ڈالرز کی چینی سرمایاکاری سے غیر محدود رسائی اور معاشی ترقی پاکستان کے استحکام کا راستہ کھولنے جا رہی ہے جو ہمارے بعض دوست ممالک کو قابل قبول نہیںہے۔ ایسے وقت میں امریکی فوج کے انخلاء سے خطے میں انتشارپیداہونے کے خطرات مزیدبڑھ چکے ہیں ،جس سے تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں خلل پڑسکتا ہے اورامریکہ سمیت پاکستان کے دشمن ممالک نہیں چاہتے کہ سی پیک منصوبہ کامیاب ہو،ایساپاکستان کو کسی صورت قبول نہیں ہے، حکومت پاکستان اورہمارے اداروں کوچاہئے کہ دشمنوں کی سازشوں ،انتشار اوردہشت گردی کے مذموم مقاصدکوناکام بنانے اورخطرات سے نمٹنے کی پیش بندی ضرورکرلیں۔

  • ہسپتال مافیا. تحریر: شعیب رحمان

    ہسپتال مافیا. تحریر: شعیب رحمان

    ہمارے ملک میں بہت سی مافیاز میں سے ایک "ہسپتال مافیا” بھی ہے، جو کہ عام شہری (غریب ہو یا امیر) کے جزبات سے کھیلتی جسکا اولین کام صرف اور صرف پیسہ بٹورنا ہے.
    یہ اب پرانی بات ہوئی کہ ہسپتال والے مسیحائی کا کام کرتے آج کے دور میں یہ بات الف لیلی کی داستان ہی لگتی، پورے ملک سے آپکو سینکڑوں واقعات سننے کو ملینگے کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے ڈیڈ باڈی دینے کے لیئے کس طرح سے رقم نکلوائی،
    ہمارے ایک دوست ضیاء الدین ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں انکے بقول ہمیں باقاعدہ یہ لیکچر دیا جاتا کے جبتک مریض کے لواحقین پیسے دینے کی استطاعت رکھتے ہوں ان سے پیسے نکلواتے رہو کیونکہ آپکی تنخواہ اور ہسپتال کے اخراجات اسی سے چلتے ہیں-
    جب بوڑھے والدین اپنے آخری وقت کو پہنچتے تو یہ ہسپتال گدھ کی طرح حملہ آور ہوتے،ایک تو گھر والوں پر فیملی پریشر بھی ہوتا کہ والدین کو ہسپتال کیوں لیکر نہی گئے؟

    نا ہونے کے برابر کیسس میں ایسا ہوا ہوگا کہ ستر اسی سال عمر کا پیشنٹ سیریس حالت کے بعد صحت یاب ہوکر گھر لوٹا ہو، 95% کیسس میں یہ ہسپتال اس عمر کے مریضوں کو میت میں بدل نے کے لاکھوں روپے لیتے، جسکے لیئے غریب مڈل کلاس شخص قرض لیتا، زیور بیچتا مگر ان ہسپتال والوں کو زرا بھی احساس نہی ہوتا،
    حکومت کو چاہئے اس معاملے میں قانون سازی کرے اور ہسپتال کی انتظامیہ کو پابند کرے کہ علاج میں کامیابی کی صورت میں ہی اسے بل ادا کیا جائے اور اگر مریض جاں بر نہی ہوتا تو بل کی ادائیگی کو لواحقین کے حالات سے مشروط کیا جائے کہ اگر وہ دینے کے قابل ہیں تو ادا کریں ورنہ ہسپتال کی انتظامیہ اس شخص سے حلفیہ بیان لیکر بل کو خود ادا کرے،اس یہ ہوگا انتظامیہ لواحقین کو مریض کے متعلق درست معلومات بتائے گی غیر ضروری علاج سے اجتناب کریگی، نیب کو بھی چاہیئے کہ زرا ہسپتالوں کی لوٹ ماری کو چیک کرے کرونا کی وبا کے دوران عام شہری کو کسی چور ڈکیت نے نہی لوٹا ہوگا جتنا کے ان مسیحاؤں نے لوٹا
    #شعیب_رحمان

  • بیروزگاری کا خاتمہ پر کیسے؟؟ تحریر : حمزہ بن شکیل

    بیروزگاری کا خاتمہ پر کیسے؟؟ تحریر : حمزہ بن شکیل

    اس وقت دنیا بھر میں بیروزگاری ایک بہت سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس سے دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہیں۔ بیروز گاری کے باعث معاشرہ میں بیشمار سماجی برائیاں سر اٹھاتی ہیں جن کی روک تھام کے لئے ہمیں حکومتی اور انفرادی سطح پر چند ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

    ویسے تو بیروزگاری کی بیشمار وجوہات ہیں پر ان میں ایک سب سے بڑی وجہ ہماری دن بدن بڑھتی آبادی بے جس کی وجہ سے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال اس سال ہونے والے ایف آئی اے کے امتحان ہیں جن کے لئے اب تک 12 لاکھ امیدواروں نے 1137 سیٹوں کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں جو کے ٹوٹل کا دس فیصد بھی نہیں بنتا۔ بیروز گاری کی دوسری سب سے اہم وجہ آئے روز بڑھتی مہنگائی اور ٹیکس ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سب نے غریب اور بیروز گار شخص کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ دو سال میں جہاں کورونا وائرس نے کئی انسانی جانیں نگلی ہیں وہیں اس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے روزگار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور بیروز گاری کی سطح میں بہت خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سفارشی کلچر جیسی معاشرتی برائیاں بھی بے روزگاری کی ایک بڑی وجہ میں سے ایک ہیں جس کے باعث بہت سے محنتی اور ہنر مند افراد کو اچھی نوکری حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اندازہ لگائیں پاکستان میں ہر سال قریب 28 ہزار نوجوان گریجویشن مکمل کرنے کے باوجود اچھی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔

    بے روزگار افراد کو پریشانی اور ذہنی تناؤ کے باعث بہت سی جسمانی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے افراد اموماً معاشی بدحالی اور مایوسی کی دلدل میں پھنسنے کے بعد فرار اختیار کرنے کے لئے نشے کی لت میں لگ جاتے ہیں اور کچھ تو خودکشی تک کر لیتے ہیں۔

    ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ بیروزگاری جیسی سنگین اور سماجی برائی کو کسی صورت نظر انداز نہ کرے اور اپنی طرف سے ہر ممکن اقدامات کرے تا کہ بیروزگاری کو جلد از جلد جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ اس مسئلے کے خاتمے کیلئے حکومت کو مناسب معاشی منصوبہ بندی، موثر حکومتی پالیسیاں اور ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات بیروز گاری کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سفارش جیسے ترجیحی سلوک کا خاتمہ ضروری ہے تا کہ نوکریاں میرٹ کی بنیاد پر مل سکیں۔

    حکومت کے ساتھ ساتھ تمام مخیر حضرات کو بھی اس کار خیر میں کھل کر اپنا حصہ ڈالنا چاہئے تاکہ ہم مل کر معاشرے سے بیروزگاری کو ختم کر سکیں اور ایک خوشحال معاشرہ تشکیل پا سکے۔