Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فاسٹ بولر نے کیا اپنے آبائی گھر کا رخ

    فاسٹ بولر نے کیا اپنے آبائی گھر کا رخ

    قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہنواز ڈاہانی کی اپنے آبائی گاؤں لاڑکانہ میں آمد ہوئی ہے، پیپلز یوتھ آرگنائزیشن ضلع لاڑکانہ کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری عبدالغفار ملانو کی پیپلز یوتھ آرگنائزیشن سٹی لاڑکانہ کے عہدیداران کے ہمراہ قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہنواز ڈاہانی سے ملاقات کی ہے،ملاقات کے دوران پیپلز یوتھ آرگنائزیشن سٹی لاڑکانہ کے سیکریٹری اطلاعات منیر احمد ملغانی، نائب صدر صدام حسین لاشاری، نائب صدر غلام مصطفیٰ گوپانگ، ڈپٹی جنرل سیکریٹری وزيرعلی تونیو، ریکارڈ اینڈ ایونٹ سیکریٹری عرفان علی جتوئی بھی عبدالغفار ملانو کے ہمراہ موجود تھے، عہدیداران نے شاہنواز ڈاہانی کو بہترین کارکردگی پر مبارکباد دیگئ اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے، عہدیداران نے شاہنواز ڈاہانی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے.

  • امریکہ میں چوروں کے لئے نیا قانون نافذ ،چوروں کے وارے نیارے ہوگئے، پولیس بےبس عوام پریشان

    امریکہ میں چوروں کے لئے نیا قانون نافذ ،چوروں کے وارے نیارے ہوگئے، پولیس بےبس عوام پریشان

    سان فرانسسکو: ریاست کیلیفورنیا میں نیا قانون منظور ہوا کہ اگر کوئی 950 ڈالر کے نیچے کوئی چیز چوری کرتا ہے تو پولیس چور کو روک نہیں یا اسے گرفتار نہیں کر سکتی –

    باغی ٹی وی : امریکہ میں کمیونزم اور سرمایہ داری ناکام ہوگئی ، اب جمہوریت کے ناکام ہونے کی باری ہے غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کیلی فورنیا میں 950 ڈالر سے کم کی چیزیں چوری کرنے پر پولیس چور کو نہ تو پکڑ سکتی یے اور نہ ہی روک سکتی ہے کیونکہ یہ غربت کو مجرم قرار دے رہا ہے کیلیفورنیا میں بہت سے دکانیں اس احمقانہ قانون کی وجہ سے بند ہورہی ہیں

    سان فرانسسکو میں وال گرین پرچون چین اسٹور سے سامان چوری کرتے ہوئے ایک شخص پکڑا گیا جب اسٹور پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے دیکھا اور اسے جانے دیا۔ ویڈیو میں ایک شخص دکھایا گیا ہے جس کا چہرہ چھپا ہوا ہے اور وہ ایک بڑے تھیلے میں سامان اٹھا رہا ہے اور اپنے سائیکل پر بھاگ رہا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے ، اور اس قانون کے غلط استعمال پر مباحثہ شروع ہوا ہے جس نے شمالی کیلیفورنیا کے شہر میں اس طرح کے واقعات کو جنم دیا ہے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں چوری کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ، خاص طور پر 2014 کے بعد جب اس شہر نے پروپوزیشن 47 نامی ایک متنازعہ قانون پاس کیا۔

    تجویز 47 کے تحت 950 ڈالر سے کم مالیت کا سامان چوری کرنا جرم نہیں بلکہ بدانتظامی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سان فرانسسکو میں یہ ایک عام سی نظر بن گئی ہے ، کیونکہ نئے قانون نے جرائم پیشہ افراد کو عام لوگوں کے لئے محفوظ بنانے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

    پولیس اہلکاروں کے مطابق ، اگر کوئی 950 ڈالر سے کم مالیت کی چیزیں چوری کرتا ہے تو ، پولیس کے پاس حوالے کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوتا ہے اور ملزم وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ اگر ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوتا ہے تو ، شاید اسے بینچ کا وارنٹ مل جائے گا۔

    چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے بڑی تعداد میں اسٹور بند ہوگئے ہیں۔ اے بی سی نیوز کی خبر کے مطابق ، "شہر کے نگران اہشا صفائے نے کہا ،” پچھلے پانچ سالوں میں سترہ وال گرینز ، تقریبا ہر گیپ کے خوردہ فروشوں کی دکان ختم ہوچکی ہے ، سی وی ایس پر حملہ آور ہے۔

    وال گرین کے عہدے داروں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ سان فرانسسکو اسٹورز میں شاپ لفٹنگ کے واقعات میں دوسرے شہروں کے اسٹوروں کے مقابلے میں چوری کے چار گنا زیادہ واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔

    صافائی نے کہا کہ بہت سارے واقعات میں ، یہ کیمروں کے ذریعے دیکھا گیا ہے کہ چور ایک دن میں متعدد مقامات پر حملہ کرتے ہیں۔ شہر میں اسٹورز بھی امریکہ کی جگہوں پر سیکیورٹی پر 35 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ سان فرانسسکو میں نہ صرف اسٹور کرائم بلکہ پراپرٹی کے جرائم بھی سب سے زیادہ ہیں۔ صورتحال اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اب منظم گروپس شاپ لفٹنگ کا دھندہ چلا رہے ہیں۔

    دی نیویارک پوسٹکے مطابق شہر کے پولیس نے استغاثہ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ اٹارنی چیسہ بیوڈین نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    اعدادوشمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پروجیکشن 47 منظور ہونے کے بعد سے گرفتاریوں کی تعداد پر مربوط قوانین کا مجموعی اثر پڑتا ہے۔ گرفتاری کے لئے صاف ہونے والے لاریسی کیسز کی تعداد 2018 میں 4.5 فیصد سے گھٹ کر 2020 میں 2.8 فیصد ہوگئی۔ تاہم ، نیویارک پولیس نے ، معاملات میں چار گنا زیادہ گرفتاری عمل میں لائی۔ سن 2018 میں ، سان فرانسسکو میں لارسی کیسز کی تعداد 18،363 رہی ، جبکہ 2020 میں یہ تعداد 11،062 ہوگئی۔
    https://www.youtube.com/watch?v=S6GcJ7sj7IY

  • کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

    کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

    کراچی کے شعیب احمد نے موٹر وے کے لیے موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی-

    باغی ٹی وی : ایپ سے مسافر کسی ہنگامی حالت میں اپنی لوکیشن اسپتال یا سکیورٹی اداروں تک پہنچا سکیں گے شعیب احمد نے جامعہ کراچی سے کمپیوٹر سائنس میں ڈگری حاصل کی اور آج کل دیگر ساتھیوں کے ساتھ ایک خاص موبائل ایپلی کیشن تیار کرنے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

    شعیب احمد اور ان کی ٹیم نے پاکستان میں موٹر وے کی مناسبت سے ایک خاص موبائل ایپلی کیشن بنائی ہے جو ناصرف ٹول پلازہ کے جھنجٹ سے نجات دلا سکتی ہے بلکہ کسی بھی ہنگامی حالت میں مسافروں کی لوکیشن متعلقہ اداروں تک پہنچا سکتی ہے۔

    نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب احمد نے بتایا کہ اس ایپ میں صرف ایک بٹن ہوگا جو کسی ایمر جنسی پر کلک کرنے پر فوراً نوٹیفیکیشن میری یا صارف کی لوکیشن کے ساتھ اتھارٹیز کو چلی جائے گی اتھارٹی سے آٹومیٹکلی قریبی پولیس موبائل گاڑیوں گو نزدیکی ایمبولینسز کو چلی جائے گی تو ایمرجنسی کے مقام کے نزدیک ترین اہلکار جا سکے گے-

    شعیب کے مطابق اسمارٹ موٹروے ایپ کے تحت آپ کو اپنے راستے میں ادا کرنے والے ٹول ٹیکس کا بھی علم ہو سکے گا اور لمبی لمبی قطاروں سے بھی چھٹکارا ممکن ہو جائے گا۔

    شعیب احمد اور ان کی ٹیم اس وقت امریکا میں موٹر وے کے لیے کام کر رہی ہے اور پاکستان میں اپنی اس ایپ کو سرکاری سطح پر متعارف کروانے اور عام شہریوں کو فراہم کرنے کی خواہاں ہے-

  • سندھ رینجرز کی محمڈن فٹبال گراؤنڈ پنجاب کالونی میں ٹورنامنٹ

    سندھ رینجرز کی محمڈن فٹبال گراؤنڈ پنجاب کالونی میں ٹورنامنٹ

    سندھ رینجرز کی محمڈن فٹبال گراؤنڈ پنجاب کالونی میں ٹورنامنٹ ، 32ٹیموں نے حصہ لیا-

    باغی ٹی وی : ترجمان رینجرز کے مطابق شاہد آفریدی، معین خان، جاوید شیخ اورڈی آئی جی ساؤتھ تقریب کے مہمان خصوصی تھے، ڈی جی رینجرز جنرل افتخار حسن چودھری کی ٹورنا منٹ کے فائنل مقابلے میں شرکت کی-

    ترجمان رینجرز کا کہنا تھا کہ فٹبال گراؤنڈعرصہ دراز سے ایک کوڑے دان کی شکل اختیار کرچکا تھا-فروری کو بحال کر کے اسپورٹس کمیونٹی کے حوالے کر دیا گیا تھا-

    شاہد آفریدی نے گراؤنڈ کے ایک حصے میں کر کٹ نیٹس تیار کرنے کا اعلان کیا-

    اس حوالے سے ڈی جی رینجرز کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ شہر کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں =

  • مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کر لیں.‏تحریر: فاطمہ بلوچ

    مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کر لیں.‏تحریر: فاطمہ بلوچ

    دنیا میں آنے والی ہر ذی روح چیز کو واپس جانا ہے
    چاہے وہ انسان ہو
    چرند پرند ہو
    جانور ہو
    یا کچھ بھی
    سب کو واپس اپنے اللہ پاک کی طرھ لوٹ کر جانا ہے
    پھر وہاں جا کر انسان اور جنات نے اپنے اعمال کا سامنا کرنا ہے ہر ایک نے حساب دینا ہے
    دنیا میں کیا کر کے آئے اور کیا کچھ کمایا
    کمانے سے مراد پیسہ ہی نہیں بلکہ اپنے کمائے ہوئے عمل بھی ہیں
    ہر وہ عمل جو انسان اٹھتے، بیٹھے، چلتے، پھرتے ہر لمحے کرتا ہے اس کا حساب دینا ہو گا
    اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں بار ہا انسان کو اس کی تخلیق کے بارے میں بتایا

    ارشادِ ربانی ہے:
    اور میں نے جن اور انسان اسی لئے پیدا کیے ہیں کہ وہ میری عبادت کریں
    سورۃ الذاریات،آیت56

    ارشادِ الٰہی ہے:اے آدم کی اولاد! ہم نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا (اس کی عبادت نہ کرنا) وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے
    سورہ یٰسین (آیت60،61)

    قرآن مجید میں بہت سی آیات میں انسانوں اور جنوں کو ان کی تخلیق کا بتایا گیا ہے
    انسان کو اللہ پاک نے عبادت کرنے لے لیے بھیجا تو ساتھ مخن نفسانی خواہشات بھی رکھ دی
    جس سے انسانوں اور فرشتوں میں فرق پیدا ہوا
    انسان کو فرشتوں سے اعلی کہا گیا ہے کیونکہ فرشتے صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کوئی خواہش نہیں ہے ان کی جب کہ انسان کی خواہشات بھی ہیں ساتھ ان خواہشات کے باوجود وہ اگر اللہ پاک حکم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر اپنی زندگی گزارنے کی فکر کرتا ہے تو وہ فرشتوں سے اعلی ہو جاتا ہے
    انسان کی 24 گھنٹے کی زندگی عبادت ہے اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر گزارے تو
    مسلمان کا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا سونا جاگنا اگر سنت کے مطابق ہو جائے تو اس کی ساری زندگی عبادت میں گزر جاتی ہے
    آج کا انسان اتنا غافل ہو چکا ہے اس کو پرواہ نہیں عبادات کی
    فرائض کی
    سنتوں کی
    نوافل تو دور کی بات
    انسان اپنے کام کاروبار نوکری میں اتنا مصروف ہو چکا ہے اس کو پرواہ ہی نہیں وہ کیسے گزار رہا ہے زندگی
    انسان کو کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کاروبار بھی ضروری ہے لیکن وہ ہی کام کاروبار اگر سنت کے مطابق ہو جائیں تو وہ بھی عبادت میں شامل ہو جائیں
    انسان کو مرنے کے بعد کی زندگی کی تیاری بلوغت کی عمر سے شروع کرنی پڑتی ہے
    لیکن اس سے پہلے والدین کی ذمہ داریوں میں شامل ہے وہ بچے کی تربیت ایسی کریں کہ وہ بلوغت کو پہنچنے تک ساری عبادات کا عادی ہو چکا ہو
    وہ اولاد اپنے اور اپنے والدین کے لیے بھی ذریعہ مغفرت بنے
    ہمیں اپنی باقی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنی عبادات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے
    دنیاوی کام کاج ضروریات تو یہاں ہی رہ جانی ہیں ہمیں اصل کام آنے والی جو چیز ہے وہ ہمارے اعمال ہیں جو ہمارے ساتھ قبر میں جائیں گے
    اس لیے ہمیں مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنی چاہیے
    تاکہ ہم جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والے بن جائیں

  • بلوچستان، ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن .تحریر:محمد مستنصر

    بلوچستان، ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن .تحریر:محمد مستنصر

    بلوچستان معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے ساتھ پاکستان کی معاشی ترقی اور تجارت کا مرکز بھی ہے۔ بلوچستان کو قدرت نے محنتی اور جفاکش شہریوں سے بھی نوازا ہے جو پاکستان کا اثاثہ ہیں۔
    مقامی بلوچ رہنمائوں، منتخب حکومت اور افواج پاکستان بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے خوشحالی لا کر بلوچستان کے عام شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ موجودہ حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مربوط حکمت عملی کے ساتھ بلوچستان کے لئے ترقیاتی پیکیج تیار کیا ہے اور اس امر کو یقینی بنیایا گیا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد تک اس ترقیاتی پیکیج کے ثمرات پہنچیں۔
    حکومت بلوچستان کے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لئے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لئے 16 ڈیم تعمیر کرے گی جبکہ زیتون کا ایک پروسیسنگ یونٹ اور تین پروسیسنگ یونٹ کھجور کے لئے بنائے جائیں گے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ مقامی کاشتکاروں کو زیتون اور کھجور کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔
    کسی بھی معاشرے کی تعمیر وترقی اور قیام امن تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اور بلوچستان کے بچوں کو حصول تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے چھ لاکھ چالیس ہزار بچوں کو فاصلاتی تعلیم دی جائے گی اور وہ بڑے شہروں میں اساتذہ سے منسلک ہوں گے۔ وسیلہ التلیم پروگرام کے تحت 83،000 بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی جبکہ حکومت کی طرف سے لڑکوں کے لئے ماہانہ وظیفہ 1500 روپے اور لڑکیوں کے لئے 2 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔جبکہ مختلف تربیتی ورکشاپس کے ذریعے بلوچستان کے 35 ہزار نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کرکے معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے ساتھ انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔
    گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج کوئٹہ میں تمام جدید سہولیات سے آراستہ ڈیجیٹل لائبریری قائم کی گئی ہے جس کے لئے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال میں پانچ ڈیجیٹل لائبریریوں کا دوسرا مرحلہ قائم کیا جائے گا۔
    بلوچستان کے لئے اعلان کردہ ترقیاتی پیکیج کے مطابق علاقے کی 57 فیصد آبادی کو بجلی فراہم کی جائے گی جبکہ اب تک صرف 12 فیصد شہریوں کو بجلی کی سہولت میسر ہے۔ شہریوں کو سفر کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لئے 3،083 کلومیٹر طویل سڑک کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے جن پر کام کا آغاز موجودہ مالی سال کے دوران کیا جائے گا۔

    عوام کو صحت کی بہترین اور معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لئے بلوچستان بھر میں 200 صحت مراکز کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ حاملہ ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو صحت نشونما پروگرام کے تحت صحت بخش خوراک مہیا کی جارہی ہے۔
    نہ صرف بلوچستان بلکہ خطے کی معاشی خوشحالی کا مرکز سمجھے جانے والے گوادر کی ترقی ایک جامع حکمت عملی کے تحت کی جارہی ہے جس کے لئے اولڈ سٹی ٹاؤن میں طویل مدتی نکاسی آب کے نظام، پانی کی فراہمی اور طویل مدتی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاکہ مقامی آبادی کے دیرینہ مسائل کا خاتمہ ہونے کے ساتھ انہیں دور جدید کی تمام تر سہولیات میسر آ سکیں۔ صحت مند معاشرے کو فروغ دینے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لئے صوبائی محکمہ کھیل اور ثقافت صوبہ بھر میں 33 اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔بلاشبہ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کی تعمیر وترقی کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جس کی وجہ سے نہ صرف بلوچستان کے شہریوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا رہا بلکہ بلوچستان ترقی کی دوڑ میں بھی خاصا پیچھے رہا مگر دیر آید درست آید کے مصداق موجودہ حکومت کی طرف سے بلوچستان کے دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنا کر عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی سنجیدہ کوششیں قابل تعریف ہیں۔

  • موجودہ  کراچی کے حالات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    موجودہ کراچی کے حالات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی ،وہ شہر تھا جسے روشنیوں اور ستاروں کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا بدقسمتی سے اب کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے میرا کراچی
    پاکستان بھر سے ہر قوم و ذات کے لوگ میرے کراچی میں روزگار کمانے آتے تھے یہ وہ شہر تھا جس کو بہترین دنیا کے شہروں میں چوتھا نمبر حاصل تھا پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی میرے شہر قائد کو،

    کراچی میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد سابقہ سٹی ناظم سید مصطفیٰ کمال کے دور نظامت میں ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کراچی پیرس کا منظر پیش کرنے لگا جی ہاں وہ مصطفیٰ کمال جس نے اپنے نظامت کے پانچ سال دن رات ایک کر کے کراچی کی خوب خدمت کی جب لوگ راتوں کو سوتے تھے مصطفیٰ کمال انکی صبح بہتر بنانے کے لئے مصروف عمل رہے 2005 سے 2010 کا یہ دورانیہ کراچی والوں کیلئے تاریخ کا سب سے بہترین وقت رہا ہے یہ وہ وقت تھا جب مصطفیٰ کمال میئر کراچی بنے اور دل و جان سے کراچی والوں کی خدمت کی کیا لیاری ایکسپریس وے جہاں چھتیس ہزار گھر نالوں پر بنے ہوئے تھے وہاں کے رہائشیوں کو مختلف آبادیوں میں آباد کیا یہاں بات ختم نہیں ہوتی کٹی پہاڑی جو پختون بھائیوں کا گڑھ تھا وہاں لوگ جانے سے ڈرتے تھے وہاں پہاڑی توڑ کر راستہ بنانے والے بھی یہی مصطفیٰ کمال ہی تھی آج کراچی والوں کو مصطفیٰ کمال کی یاد تو آتی ہوگی..

    بہرحال یہ وقت تھا جب کراچی شہر دنیا کے پانچ بہترین شہروں میں شمار ہوتا تھا اور آج دنیا کے بدترین شہروں میں کراچی کا 16 واں نمبر ہے کراچی کے نام نہاد سیاستدانوں نے اپنے سیاست کو چمکانے کے واسطے کراچی کو لاوارث بنا دیا استعمال کرکے اللّه پاک میرے کراچی کو مصطفیٰ کمال جیسی باکردار قیادت اور باصلاحیت کردار سے نوازے آمین۔

  • کالے دل کے خوبصورت لوگ۔۔۔تحریر: وسیم اکرم

    کالے دل کے خوبصورت لوگ۔۔۔تحریر: وسیم اکرم

    ‏روز مرہ زندگی میں آپ کو بے شمار ایسے لوگوں سے پالا پڑے گا جو ظاہری طور پر عزت و اکرام کے حامل ہوں گے انہیں مرتبہ، مقام اور دولت بھی میسر ہوگی مگر ان کی ذات سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اگلے کا دل اور روح زخمی کر دیتے ہیں۔ لوگوں کے جذبات ان کا ایندھن ہوتے ہیں۔۔۔ چھوٹے دل والے یہ خوشامد پسند ہوتے ہیں انہیں اپنی تعریف کرتے اور کرواتے رہنا بے حد پسند ہوتا ہے۔ یہ خود نمائی کے شوقین ہوتے ہیں۔ انہیں اپنا آپ گھڑی گھڑی جتانے کی لت لگی ہوتی ہے۔ یہ ’ریکگنیشن اور وفاداریوں‘ کے بھوکے ہوتے ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ بزدل ہوتے ہیں۔ دلیری ان میں نام کی نہیں ہوتی۔ گالیاں دینے میں ماہر ہوتے ہیں۔۔۔ یہ مرد ہوں بھی تو ان میں مردانگی کا کوئی وصف نہیں ہوتا۔۔۔ یہ ہمیشہ ’پلے سیف‘ کی پالیسی کو اپنائے رکھتے ہیں۔ ان میں قربانی کا حوصلہ تو بالکل نہیں ہوتا اور یہ ہر معمولی خطرے سے بھی خود کو بچانے کی کوشش میں مصروف عمل رہتے ہیں، پھر چاہے ان کے ایک دلیرانا اقدام کی کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو۔۔۔۔

    ایسے بے چارے اپنی غلطی ماننے کو اپنی بے عزتی تصور کرتے ہیں اور خود کو ہر اس مقام اور حالت سے بچا کر رکھتے ہیں جہاں انہیں تنِ تنہا اپنا آپ یا اپنی کوئی قابلیت یا دعوٰی ثابت کرنا پڑجائے۔ یہ ایک خوبی بہرحال ان میں ہوتی ہے کہ وہ کمال کی ’پرسیپشن مینجمنٹ‘ کرتے ہیں۔ اپنا تراشیدہ چہرہ کبھی بے نقاب نہیں ہونے دیتے۔۔۔ انکی جھوٹی انا ہمیشہ بھوکی اور لالچی رہتی ہے۔ یہ آپ کا خون تک چوس کر ہضم کر جاتے ہیں اور ہمیشہ ’اور کی دوڑ‘ میں مصروف رہتے ہیں۔ اور یہ دوڑ صرف مادی چیزوں کی نہیں ہوتی بلکہ انسانی رویوں، جذبات اور خلوص، خدمت کی بھی ہوتی ہے۔ انہیں ہر وقت مزید خدمت، مزید قربانی، مزید خلوص اور مزید ’پروٹوکول‘ درکار ہوتا ہے۔۔۔ ایسے لوگ جس ٹیم یا گروہ میں ہوں اس گروہ سے وفاداریوں پر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں جب تک انکی منشاء کے مطابق سب کچھ ہوتا رہے تو ٹھیک ورنہ اپنے مخالف کو غداروں کی فہرست میں شامل کرلیتے ہیں۔۔۔ میں نے کمیونیکیشن اسٹڈیز کے نفیساتی پہلو پڑھتے وقت یہ سیکھا تھا کہ آپ جب بھی کسی سے ملتے ہیں تو آپ سے پہلے آپ دونوں کی ’اینرجیز‘ آپس میں ملتی ہیں اور آپ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی آپ کا ایک خاص تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ یہ تعلق آپ میں مخاصمت، تلخی، جھجک یا آسانی اور خلوص پیدا کرتا ہے۔ یہ آپ کے آئندہ تعلق کی نوعیت کی بنیاد بنتا ہے۔ مگر آپ جب بھی ایسے لوگوں سے ملیں گے آپ کو ان سے خوف، جھجک، مخاصمت یا تلخی محسوس ہوگی۔ کچھ لوگ کمال فنکار ہوتے ہیں، پہلی ملاقات میں شاید آپ کی ملاقات ایک چھلاوے سے ہو مگر وقت سے ساتھ یہ تحلیل ہوتا رہے گا۔۔۔

    ان لوگوں سے نفرت کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ تو ہمدردی کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے جذباتی وابستگی پیدا نہیں کرنی چاہیے اور انہیں کسی بھی طرح خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ یہ اعصاب پر سوار ہونے لگیں تو انہیں چیلنج کرنا چاہیے اور یقین جانیں ان کی جڑوں میں ایک خوف ہوتا ہے اور یہ خوف کبھی بھی آپ کی جرأت کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ آپ کی جیت ایسے لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے۔۔۔ ایسے لوگ ہر وقت دوسروں کو عزت پر لیکچر دیں گے لیکن یقین جانے کم ظرف اور گھٹیا انسان جتنی مرضی عزت کی باتیں کر لے کسی کیطرف سے ملنے والی عزت کا بوجھ کبھی نہیں اٌٹھا سکتا۔۔۔ یہ لوگ معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے ہوتے ہیں جہیں صرف سوشل میڈیا پر فلاسفر بننے کا موقع ملتا۔۔۔
    @PatrioticWsi

  • پڑوسیوں کے حقوق. ‏تحریر: طلعت کاشف سلام

    پڑوسیوں کے حقوق. ‏تحریر: طلعت کاشف سلام

    انسان کا اپنے والدین، اپنی اولاد اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ سب سے زیادہ واسطہ و تعلق بلکہ ہر وقت بھینٹ ملاقات، لین دین کا سابقہ ہمسایوں اور پڑوسیوں سے بھی ہوتا ہے اور اس کی خوشگواری و ناخوشگواری کا زندگی کے چین وسکون اور اخلاق کے اصلاح و فساد اور بناؤ بگاڑ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے
    اسلام اتنا پیارا مذہب ہے جس میں ہمیں اپنے گھر، خاندان، دوستوں عزیزوں کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بھی برابری اور بہترین تعلقات رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے

    جب اللہ تعالٰی نے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں اپنے محبوب، خاتم النبیین محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سوچ میں پڑ گئے اتنے حقوق دیے گئے ہیں تو کہیں وراثت میں بھی حقدار نا بنا دیا جائے

    حدیث شریف کا مفہوم ہے جب تم اپنے گھروں میں کچھ پکاو تو اگر زیادہ استطاعت نا ہو تو سالن میں پانی زیادہ ڈال دیا کرو تاکہ اس سالن کا شوربہ ہی اپنے پڑوسی کو دے سکو

    آج کل ہم اپنے پڑوسیوں کی مدد یا خیال تو دور کی بات ہے ہم جانتے بھی نہیں ہمارے بغل میں کون رہتا ہے
    کیسے حالات سے گزر رہا ہے
    ہمیں تو اپنے گھروں سے فرصت نہیں ملتی آج کل
    موجودہ دور میں ہم اپنے گھروں میں بھی کئی کئی دن اپنے گھر والوں سے نہیں مل پاتے
    دنیا کے پیچھے لگ کر ہم نے اپنی زندگی کو اتنا مصروف اور پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی ہم کیا کر رہے ہیں

    حضرت ابوشریح خزاعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جواللہ اورقیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اُسے چاہئے کہ وہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے
    (مسلم شریف )

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جوشخص اللہ اوراس کے رسول پر ایمان رکھتاہے اُسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے
    (مسلم شریف )

    عبدالرحمن بی ابی قراد نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کسی کو یہ بات پسند ہو کہ وہ اللہ اوراس کے رسول کا محبوب بنے تووہ اپنے پڑوس والوں کے ساتھ حسن سلوک کامعاملہ کرے

    پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار ہا اپنی محافل میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ذکر کیا اور پڑوسیوں کے حقوق پوری طرح پورے کرنے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے
    آج ہم اہنا محاسبہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے ہم کیا کھڑے ہیں
    ہمیں کیا کرنا چاہئے اور ہم کیا کر رہے ہیں

    آئیں آج سے سب مل کر اس بات کا اعادہ کریں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے پڑوسیوں کے حقوق پوری طرح ادا کر سکیں

  • بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی.تحریر :ماشا نور

    بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی.تحریر :ماشا نور

    ہمارے بہت سے گھروں میں بیٹیوں کو یہ بات بتائی جاتی ہے روٹی بنانا سیکھ لو ورنا سسرال جاکر مار کھاؤ گی شروع سے ہی بیٹیوں کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے انکو بات بات پر یہ سنے کو ملتا "پرائے گھر کی امانت ہو اپنے گھر جاکر کرنا جو کرنا ہے” جبکہ سسرال میں بہو بن کر اس سے زیادہ مشکل جمعلے سنے پڑتے "ماں نے کچھ سکھا کر نہیں بھیجا” کیوں ہم بیٹیوں سے یہ امید لگاتے ہیں کے وہ ہر کام چھوٹی سی عمر میں باخوبی سرانجام دیں ہم انکی تعلیم پر بات کیوں نہیں کرتے بیٹی کو پڑھانے اس کو بیٹے کے برابر کھڑا کیوں نہیں کرتے اس لیے کے وہ دوسرے گھر کی امانت ہے وہ ہمیں کماکر نہیں کھلائے گی بڑھاپے کا سہارا نہیں بنے گی تو معذرت کے ساتھ ان ماں باپ سے جن کی یہ سوچ ہے کے بیٹی بوجھ ہےاگر بیٹے بھی تو لاوارث چھوڑ دیتے ہیں ایسے ماں باپ کو پوچھتے نہیں جیسا آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے ہم روانہ ہی ایسے کتنے کیسز دیکھتے ہیں جس میں جوان جہاں اولاد ماں باپ کو مار پیٹ رہے ہوتے ہیں گالیاں دیتے ہیں "جن ماں باپ کو اف تک کرنے سے منہ فرمایا گیا” وہی مان باپ کو اولاد گندی گندی گالیاں دیتی ہے کیوں ؟کیوں کے ہم نے اولاد کی تربیت میں کمی رکھی ہم نے بیٹے کو راجا مہاراجا کی طرح ناز نخرے اٹھائے لیکن بیٹی کو بوجھ سمجھ کر گھر کی چار دیواری میں رکھا اسکی تعلیم روکی حالانکہ بیٹی وہ ہے جو والدین کی تکلیف پر ان سے زیادہ آنسو بہاتی ہے ہر ممکن کوشش کرتی کے کیا کروں ایسا کے ماں کی آنکھ میں آنسو ناائے ماں باپ کی عزت کا بوجھ اپنے نازک کندھوں پر رکھے وہ ہنستے مسکراتے سب سہہ جاتی ہے

    جن گھروں میں بیٹیاں ہوتی ہیں وہ گھر جنت ہے بیٹی کی ہنسی سے سارا گھر روشن ہوجاتا ہے اس کے نازک ہاتھوں میں کانج کی چوڑیاں دیکھ کر دل خوش ہوجاتا ہے اسکے معصوم سے چہرے کو دیکھ کر کام سے آئے باپ کی سارا دن کی تھکن اتر جاتی باپ کا غرور ہے بیٹی ماں کا مان ہے بیٹی
    بیٹی ماں باپ کے دکھ میں ہمسفر ہے مجھے یاد ہے آنکھوں دیکھا حال کے اک ماں ہسپتال میں بستر پر پڑی تھی اور بیٹی وہی نیچے اپنی چادر پھیلائے اللہ سے رو رو کر دعائیں کررہی تھی دل چیر دیا تھا اس لمحے نے کوئی انتہائی سخت دل ہوگا جس نے اس لمحے کو دیکھ کر آمین نا کہا ہوگا پھر بیٹی بوجھ کیسے ہوسکتی ہے بیٹی تو رحمت ہے

    اگلا مرحلہ سسرال میں اسکے لیے اور کھٹن ہوتا ہے سب کے دل جیتنا شوہر ساس سسر نند دیور سمیت پورے گھر کو ساتھ لے کر چلنا سب کی ضرورتوں کا خیال رکھنا چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنا گھر کی یاد آئے تو کچن میں جاکر آنسو بہا لینا یہ سب ایک بیٹی کرتی ہے قسمت اچھی ہو تو سسرال والے اچھے مل جاتے جو بہو نہیں بیٹی کی طرح رکھتے گھر کے فیصلوں میں بہو کی رائے لی جاتی اسکے جائز حقوق دیے جاتے ایسی لڑکی میں اعتماد پیدا ہوتا ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت اچھی کرتی ہے جہاں ذہنی سکون ہو وہاں عورت تنگی بھی ہنس کر برداشت کرلیتی ہے دوسری طرف پیسے کی بارش ہو مگر رشتوں میں اعتبار بھروسہ ایک دوسرے کی خوشی کی فکر نا ہو وہاں دم گھٹتا ہے ہم اپنی بیٹوں کو اگر یہ سیکھانے کے بجائے کے تم نے آگے جاکر سسرال سمنبھالنا ہے انکو تعلیم دلوائیں ان کو زندگی میں کیا کرنا ہے یہ پوچھیں تو بہت سی بیٹیاں سسرال جاکر ظلم سے بچ سکتی ہیں اس کے ساتھ ہی والدین کو چائیے اپنی اولاد کو مذہبی تعلیم ضرور دیں تاکہ انکو اچھے سے معلوم ہو کے ہمارے مذہب میں عورت مرد کے جائز حقوق کیا ہے اور حدود کیا ہے وہ خود اپنی زندگی میں بہتر فیصلے لیں اللہ پاک ہر بیٹی کا نصیب اچھا کرے اسکو ایسی ہمت دے کے وہ معاشرے کے لیے مثال بنے اور اپنی نسل کو بہترین انسان بنائے
    آمین