Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عوام کی محبت، پاک فوج کی طاقت. تحریر  عمالقہ حیدر

    عوام کی محبت، پاک فوج کی طاقت. تحریر عمالقہ حیدر

    عمران خان کی امریکی صدر جوبائیڈن کو منہ توڑ جواب نے امریکہ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور امریکہ کا تھنک ٹینک اب اس نتیجہ پہ پہنچا ہے کہ اب پاکستان ہاتھ سے نکل چکا ہے، جہاں ڈو مور کی صدا پاکستان کو لبیک کہنے پر مجبور کر دیتی تھی اب نو مور کی جوابی کڑک دار آواز امریکہ کو پورے دنیا میں رسوا کر رہی ہے، پوری دنیا اس بات پہ حیران ہے کہ امریکہ سپر پاور ہو کے بھی پاکستان سے ابھی بات منوانے میں ہر دن کمزور سے کمزور ہوتا جا رہا ہے، ادھر پاکستانی کی روس سے گہری دلچسپیاں افغانستان میں امریکہ کے لئے نے نئے انداز میں قبرستان بنا رہیں ہیں اس لئے روس پاکستان کا یہ اتحاد امریکہ کے لئے درد سر بن کے رہ گیا ہے، اور ساتھ چاینہ کی نوازشات امریکہ کے لئے اک عذاب سے کم نہیں ، خطہ کی لمحہ لمحہ بدلتی صورت اللہ کے فضل سے پاکستان کے حق میں جا رہی ہے۔ لیکن امریکہ پہلے بھی پاکستان کے نقصان میں تھا اور اب تو امریکہ نے سر گرمیاں اور تیز کر دی ہیں، امریکہ کی ہر بار کی ابلیسی مجلس پاک فوج کے امیج کو نقصان پہنچانے پہ ہوتی ہے لیکن ہر بار پاک فوج کا روشن چراغ امریکی ہواؤں سے نہیں بجھ سکا،

    اب امریکہ کی ساری سازشوں کا نچوڑ یہ نکلا ہے کہ امریکہ اپنی ایجنسیوں کے ذریعے پاکستان میں وہ مخصوص طبقہ خرید رہی ہے جن کی جڑیں پاکستان میں ہر سو پھیلی ہوئ ہیں ان کے ذریعے پاک فوج کے خلاف اربوں روپے کی لاگت سے تیار کمپین چلائی جا رہی ہے اور ہم آئے روز میڈیا اخبار اور خاص کر سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں، کئی عناصر پاک فوج کے خلاف اعلانیہ بھونک رہے ہیں اس کی مثال کراچی کا مگر مچھ سامنے ہے، اور سوشل میڈیا پر آئے روز شدت سے اپنا مکروح دھندہ جاری کئے ہوئے، جن کا مقصد پاک فوج کے خلاف مذموم سازشیں ہیں.

    آپ اس پر غور کر سکتے کہ اچانک منظور پشتیں کہیں سے نکل آتا ہے اور کہیں سے اچکزئی نظریہ انگڑائی لینا شروع کر دیتا ہے اور کبھی تو بلوچستان میں پاک فوج خلاف نعرہ بازی شروع ہو جاتی اور ماشاءاللہ کچھ سیاست دانوں کا تو ویسے بھی یہی اول و آخر مشن جاری ساری ہے،

    ہر ملک کی افواج کی طاقت اسکی عوام کی محبت سے ہے جب تک عوام الناس فوج کے ساتھ ہوں ہزار سپر پاور بھی اس فوج کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس لئے ہر صوبے میں پاک فوج کو کسی نہ کسی صورت ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے،

    یاد رہے ہر مسلم ملک جس کی فوج کمزور تھی اس کی حالت ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں وہاں عزتیں غارق ہو گئی ہیں، بھوک و افلاس نے ڈیرے جما رکھے ہیں، امن شانتی کا نام تک نہیں بچا، بچوں کا مستقبل تباہ کے رہ گیا ہے، اور ان مسلم ممالک کا قصور یہ تھا کہ وہ مسلمان تھے اور فوج کمزور رکھتے تھے،۔
    دوستوں بھائیوں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف اک جنگ جاری ہے آپکا اک کومنٹس اور آپکا اک لائیک بہت معنی رکھتا ہے، اسلئے ایسا کوئ پیج یا پکچر سامنے آ بھی جائے جو پاک فوج کے خلاف ہو تو اسے رد کریں اور اپنی پاک فوج کے ساتھ محبت کا اظہار کریں یہی وہ فوج جس کے حصہ میں غزوہ ہند آئے گی اور انشاء اللہ عوام کی محبت سے اور پاک فوج کی طاقت سے اسلام کا جھنڈا دنیا کے کونے کونے میں نظر آ ہے گا، اور پاک فوج کے دشمن پہلے بھی ذلیل و رسواء ہوئے ہیں اور اب بھی ہوں گے

  • انسان کیا ہے؟ :تحریر مبین خان

    انسان کیا ہے؟ :تحریر مبین خان

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​

    یاایہا الناس انتم الفقراءالی اللّٰہ واللّٰہ ھو الغنی الحمید (فاطر: ١٥)
    ”لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اللہ ہی ہے جو بے نیاز ہے اور آپ اپنی ذات میں حمد کے لائق“۔

    عزیز دوستوں!۔
    فقر بندگی کا ایک زبردست موضوع ہے۔ بلکہ فقر ہی بندگی ہے۔ انسان کیا ہے؟ محتاجیوں اور ضرورت مندیوں کا مجموعہ۔ اپنی یہ حقیقت پہچاننا، اس کا اعتراف اور احساس کرنا بندگی کا ایک زبردست عمل ہے۔ دوسری طرف اللہ کو ہر ضرورت سے بے نیاز اور ہر نقص سے مبرا جاننا اور یوں اللہ کو خود اس کی ذات میں قابل ستائش مان کر اس کی حمد کرنا عبادت کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔

    ان دونوں باتوں میں براہ راست تعلق ہے۔ جس قدر انسان اپنے فقر اور احتیاج کا احساس کرتا ہے اتنا ہی وہ اللہ کی بے نیازی کا معترف ہوتا اور اس کی مطلق حمد کا دم بھرتا ہے۔ جس قدر وہ اللہ کے غنی اور بے نیاز ہونے کی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے اتنا ہی وہ اپنی اور سب مخلوق کی اللہ کے آگے محتاجی اور ضرورت مندی کا معترف ہوتا ہے اور اسی قدر اس پر خالق اور مخلوق کی حقیقت کا یہ فرق واضح ہو جاتا ہے۔ نہ صرف خالق اور مخلوق کا یہ فرق ظاہر ہوتا ہے بلکہ خالق اور مخلوق کا یہ تعلق بھی واضح ہوتا ہے۔ ایک بے نیاز اور دوسرا اس کامحتاج۔ ایک غنی اور دوسرا اس کے در کا فقیر۔

    چنانچہ آدمی کا اپنے آپ کو فقیر اور محتاج جاننا اور اللہ کے غنی اور بے نیاز ہونے کا معترف ہونا ایک محنت طلب کام ہے اور دل کا ایک مسلسل عمل۔

    البتہ انسان بہت جلد بھول جانے والا ہے۔ اِس کی ضرورت پوری ہو تو یہ اپنا فقر بھول جاتا ہے۔ اس کی مراد برآئے تو یہ اپنی یہ حقیقت کہ یہ محتاجیوں کا مجموعہ ہے اس کی نگاہ سے ہی روپوش ہو جاتی ہے۔ ایک شکم سیر کو ’بھوک‘ کا تصور کرنا بہت ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ پیٹ بھرا نہیں کہ ضرورت مندی کا تصور ہی چلا گیا! اب جب تک دوبارہ بھوک نہیں لگتی یہ بھلا چنگا ہے! یہ لمحہء حاضر کا اسیر جاہل محظ ہے ظلوم اور جہول۔ تب اس میں تونگری اور بے نیازی آتی ہے جو کہ دراصل اللہ کی صفت ہے اور صفتِ بندگی کے سراسر منافی۔ انسان کا بے نیاز ہونا اور اپنے آپ کو غیر ضرورت مند جاننا دراصل اپنی اوقات بھول جانا ہے۔ یہ دہری جہالت ہے۔ ایک اس کا اپنے آپ کو محتاج نہ جاننا او دوسرا کسی مہربان کے ہاتھوں اپنی ضرورت پوری ہو جانے کو بے نیازی کے مترادف جان لینا۔ جو اپنی صفت سے ناآشنا رہے وہ اللہ کی معرفت بھی کبھی نہیں پاتا۔ اپنی ’بندگی‘ اور ’عاجزی‘ سے ناواقف اللہ کی ’خدائی‘ اور ’بے نیازی‘ کا کیونکر معترف ہوگا! ایسے آدمی کی نگاہ میں ’بندگی‘ اور ’خدائی‘ کے مابین بہت ہی تھوڑا فرق رہ جائے گا جو ممکن ہے کہ پلک جھپکنے میں جاتا رہے۔ شرک کر لینا بھی لوگوں کیلئے تبھی آسان ہو جاتا ہے۔

    اسلامی عبادات ساری کی ساری دراصل اسی فقر کا اظہار ہیں۔ مخلوق کی اسی صفت کا اقرار ہیں۔ بندگی کا ہر عمل اللہ کے غنی مطلق اور لائق حمد ہونے کا اعتراف ہے۔ نماز ہے تو تب دُعا ہے تو تب۔ تسبیح ہے تو تب اور ذکر ہے تو تب۔ سب اسی حقیقت کا اعادہ ہے۔ البتہ روزہ اس حقیقت کا ایک بہت ہی منفرد اظہار ہے۔ روزہ ایک موحد کی زبان پر اس کے اس فقر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روزہ کی صورت میں ایک موحد کا رواں رواں یہ بولتا ہے کہ وہ مجسم احتیاج ہے اور اس ذات کا سدا محتاج جو ہر عیب سے پاک، ہر ضرورت سے بے نیاز، غنی مطلق، لائق حمد اور احد اور صمد ہے اور جس کے آگے ہر مخلوق اپنی ضرورت کیلئے دست سوال درازکرتی اور ایک اسی کے فضل کے سہارے جیتی ہے اور جس کے در کا یوں محتاج ہونا کہ اس کی محتاجی اس کے ماسوا ہر ہستی سے اس کو بے نیاز کردے نہ صرف فضیلت کی بات ہے بلکہ انسان کی اصل دولت اور سرمایہء افتخار ہے۔ پس روزہ ایک انداز کی تسبیح ہے۔ یہ اپنے فقر کا بیان ہے اور خداکے بے عیب اور بے نیاز ہونے کا اقرار اور اس کے فضل کا اعتراف اور اس کی احسان مندی کا اظہار اور اس کی دین پر قناعت اور اس سے مانگنے کا ایک اسلوب۔

    چنانچہ روزہ اس صفت بندگی کا اقرار ہے۔ یہ انسان کے فقر کا بیان ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ بندہ بھوکا ہے _ اور بھوک بندے کی صفت ہے _ جب تک کہ اللہ اس کو نہ کھلائے اور یہ کہ پاکی اور تعریف اس کی جو اس کی اس بھوک کا علاج اپنے پاکیزہ رزق سے کرتا ہے اور یہ کہ تعریف اس کی تب بھی جب بندہ بھوکا ہو اور تعریف اس کی تب بھی جب بندہ اس کا رزق کھائے اور اس رزق سے اپنی بھوک اور پیاس بجھائے۔ سو یہ ایک بے لوث تعلق ہے۔ گو یہ ایک محتاج اور ایک غنی کا تعلق ہے اور گو یہ اس کے فضل کا ہر دم سوالی ہے مگر اس کو یہ ظرف بھی نصیب ہوا ہے کہ اِس کیلئے اُس کی تعریف کرنا کچھ پیٹ بھرنے پر موقوف نہیں! سبحان اللہ روزہ کیسی خوبصورت عبادت ہے! اللہ کی تسبیح، اللہ کی بندگی، اللہ کی حمد اور اللہ کی فرمانبرداری کچھ اِس کی شکم سیری پر منحصرنہیں۔ یہ بھوکا رہ کر بھی اس کی ویسی ہی حمد اور تعریف کرے گا جیسی کہ شکم سیر ہو کر۔

  • فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    بھارت میں 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق چند دن قبل ایک بھارتی لڑکی کے بھائی اور ان کی سہیلی نے ان کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر اخبارات میں رشتے کے لیے ایک اشتہار شائع کروایا۔

    رپورٹ کے مطابق مذکورہ اشتہار مزاحیہ تھا اور مذاق میں ہی دیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کو شادی کے لیے 25 سے 28 سال کے امیر لڑکے کی تلاش ہے۔

    مذکورہ اشتہار بھارت کے متعدد چھوٹے اخبارات میں شائع کروایا گیا اور یہ اشتہار انگریزی زبان میں شائع کروایا گیا اشتہار میں بتایا گیا کہ سوشل سیکٹر میں ملازمت کرنے والی 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کو جس کے بال چھوٹے ہیں اور ناک بھی چھیدی ہوئی ہے، اسے شادی کے لیے 25 یا پھر زیادہ سے زیادہ 28 سال کی عمر کے لڑکے کی تلاش ہے۔

    اشتہار میں دولہے کی دیگر شرائط میں لکھا گیا تھا کہ اس کے پاس پیسہ ہونا چاہیے، کم از کم 20 ایکڑ رقبے پر فارم ہاؤس ہونا چاہیے اور یہ کہ اسے زیادہ سے زیادہ ایک بیٹا ہے جس کا اچھا کاروبار بھی ہونا چاہیے ساتھ ہی اشتہار میں ایک ای میل ایڈریس دیا گیا تھا کہ جس پر امیدواروں کو رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
    https://twitter.com/awryaditi/status/1404665961718841347
    مذکورہ اشتہار اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جب کہ ایک کامیڈین اداکارہ نے اسے ٹوئٹ کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے اسے ری ٹوئٹ کرنا شروع کردیا بہت سارے دیگر لوگوں کی طرح اس اشتہار پر بالی وڈ کی اداکارہ رچا چڈھا نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا تاہم اس اشتہار کے پیچھے کون لوگ ہیں اس متعلق انڈیا میں خاصی چہ میگوئیاں ہوئیں اور یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا یہ اشتہار درست بھی تھا۔
    https://twitter.com/RichaChadha/status/1404693333599920130?s=20
    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اشتہار شائع کروانے والی لڑکی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے بھائی نے ان کی 30 ویں سالگرہ پر مذاق کے طور پر مذکورہ اشتہار شائع کروایا، کیوں کہ بھارت میں عام طور پر جب کسی لڑکی کی عمر 30 سال ہوجاتی ہے تو اس پر شادی کے لیے دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ انہیں ای میل پر کم از کم 60 ای میل موصول ہوئے ہیں، جن میں انہیں جہاں شادی کی پیش کش کی گئی، وہیں ان پر سخت تنقید بھی کی گئی کہ خود زیادہ عمر کی ہیں مگر انہیں لڑکا کم عمر چاہیے۔

    ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق حیران کن انکشافات

    مذکورہ لڑکی کے مطابق بعض افراد نے انہیں’سونے کی متمنی‘ اور ’منافق‘ تک کہا کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہیں مگر پھر بھی ایک امیر خاوند کی تلاش میں ہیں ورامیر لڑکے سےشادی کرنے کے بجائے خود پیسے کمانے کے مشورے بھی دیئے جب کہ بعض خواتین نے انہیں فیمنسٹ ہونے کی وجہ سے بھی غصے سے بھرپور ای میل کیے-

    کچھ لوگوں نے اس کے اشتہار کو ’زہریلا‘ قرار دیا اور یہ کہ وہ خود تو فربہ لگتی ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ تمام فیمنسٹس بے وقوف ہوتے ہیں۔ ایک خاتون تو اس قدر ناراض ہوئیں کہ انھوں نے دھمکی دی کہ میرا بھائی مذکورہ لڑکی کو 78 ویں منزل سے نیچے پھینک دے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں جہاں اب بھی 90 فیصد شادیاں ارینجڈ یعنی بغیر پسند کے ہوتی ہیں تو ایسے میں ہر کوئی ایک امیر دولہا چاہتا ہے اس اشتہار میں یہ دیکھنے کے لیے بہت سے لوگوں کو مشتعل کیا گیا اور وہ مشتعل ہو بھی گئے۔

    مزکورہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس اشتہار نے بہت سے لوگوں کی انا کو نقصان پہنچایا ہے ن کے مطابق آپ ایسی باتیں اونچی آواز میں نہیں کہہ سکتے۔ مرد ہر وقت ایک دراز، سمارٹ اور خوبصورت دلہنیں مانگتے ہیں۔ وہ اپنی دولت کے بارے میں شیخیاں بھگارتے ہیں۔ مگر جب صورتحال بدلتی ہے تو پھر وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ ایک عورت اس طرح کا معیار کیسے طے کر سکتی ہے۔

    لڑکی کا کہنا ہے کہ یہ اشتہار اس صورتحال پر ایک طنز تھا اور میرے خیال میں اس اشتہار پر وہی لوگ خفا ہوئے ہیں جنھیں ایسے اشتہارات میں ایسی سمارٹ، خوبصورت بیگمات کی تلاش ہوتی ہے۔

    اور جو اس طنز پر بھی مشتعل ہوئے ہیں ان سے لڑکی کا ایک سوال ہے کیا آپ روزانہ اخبارات میں ایسے اشتہارات پڑھنے کے بعد ایسی ای میلز تمام ایسی مطلوبہ دلہنوں کو بھی بھیجتے ہیں جو انتہائی پرکشش اور امیر ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ کو یہ پدرشاہی ختم کرنی ہو گی۔

  • دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس

    دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں دلہن نے شادی سے انکار کردیا کیونکہ اس کے ہونے والے شوہر کی نظر اتنی زیادہ کمزور تھی کہ وہ چشمے کے بغیر اخبار بھی نہیں پڑھ سکتا تھا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق خبروں کے مطابق، اتر پردیش کے علاقے صدر کوتوالی میں قصبہ جمال پور ے ارجن سنگھ نے اپنی بیٹی ’ارچنا‘ کی شادی اور قصبہ بنشی کے ’شیوم‘ سے طے کی تھی اور دونوں کے گھر والے تیاریوں میں مصروف تھے۔

    رشتہ طے کرتے وقت لڑکے کی تعلیم کو اولیت دی گئی۔ شِیوم مقررہ وقت پر بارات لے کر پہنچا تو اس کی عینک اس کی شادی میں رکاوٹ بن گئی۔

    شادی کی تقریبات میں دلہن کے گھر کی عورتوں نے دیکھا کہ دولہا نے زیادہ تر وقت چشمہ لگایا ہوا تھا جس پر انہیں اندازہ ہوا کہ شاید وہ چشمے کے بغیر ٹھیک سے نہیں دیکھ سکتا۔

    رشتہ طے کرتے وقت لڑکے والوں نے یہ بات نہیں بتائی تھی، لہذا ان عورتوں نے عین شادی والے دن دولہا کا ’’امتحان‘‘ لینے کا فیصلہ کیا۔

    تاہم دلہن نے بھی دولہا کو عینک میں دیکھا تو کہا کہ وہ کمزور نظر کے آدمی کے ساتھ شادی نہیں کرسکتی۔ دلہن نے شرط رکھی کہ اگر دولہا بنا عینک کے اخبار پڑھ دے تو وہ شادی کرلے گی۔

    شِیوم نے دلہن کی شرط پوری کرنے کی پوری کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام ہوگیا۔دلہن کے اس طرح انکار پر باراتیوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو دلہن کے گھر والوں نے بارات کو ہی خالی ہاتھ واپس لوٹادیا۔

    اس کے بعد انہوں نے مقامی تھانے میں دولہا کے گھر والوں کے خلاف شکایت بھی درج کروا دی جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں دولہا کی اس ’’خرابی‘‘ کے بارے میں نہ بتا کر دھوکا دیا گیا جبکہ دولہا والے شادی کے انتظامات پر دلہن والوں کے اخراجات کی رقم، جہیز میں دی گئی بھاری نقدی اور دولہا کےلیے موٹر سائیکل سمیت دوسرا تمام ساز و سامان واپس کرنے سے انکاری ہیں۔

    شکایت درج کرنے سے پہلے مقامی پولیس نے یہ مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن دولہا والوں کے تعاون نہ کرنے پر پولیس میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

    لڑکی کے والد ارجن سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ لڑکے کی نظر اتنی کمزور ہوگی۔ جب میری بیٹی کو اس بارے میں پتا چلا تو اس نے فوراً شادی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا اور ہم نے بھی اس کا ساتھ دیا-

    بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

  • نیوز اینکر نے براہ راست نشریات کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا

    نیوز اینکر نے براہ راست نشریات کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا

    لیوکاسا : نیوز اینکر نے براہ راست نیوز بلیٹن کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرقی افریقا کے ملک زمبیا میں نجی ٹی وی چینل (کے بی این ) ٹی وی سے تعلق رکھنے والے نیوز اینکر کلیمینا کبیندا نے براہ راست نشریات میں تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا۔

    اینکر نے بلیٹن کے اختتام پر کہا ہم انسان ہیں، ہمیں تنخواہ دی جانی چاہیے، بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے، مجھے اور میرے کچھ ساتھیوں کو تنخواہ نہیں دی جا رہی، ہمیں تنخواہ ملنی چاہیے۔


    بعد ازاں کلیمینا کبیندا نے نیوز بلیٹن کا ویڈیو کلپ اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کردیا اور لکھا کہ ہاں میں نے لائیو ٹی وی پر ایسا کیا، کیونکہ بہت سے صحافی اس بارے میں بات کرنے سے گھبراتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں آواز نہیں اٹھانا چاہیے۔

    نیوز ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اپنےبیان میں اینکر کے الزامات کا جواب نہیں دیا سی ای او کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اینکر کلیمینا نشے کی حالت میں تھے-

    انہوں نے کہا کہ کے بی این نے ملازمین کی شکایات کے لیے ایک بہترین نظام بنا رکھا ہے جہاں کوئی بھی ملازم اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے، لیکن اینکر نے براہ راست بلیٹن میں ایسا کیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کی مزید تحقیقات کرائیں گے کہ اینکر کو نشے کی حالت میں نیوز بلیٹن کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔

  • یہ سائنسدان مینڈکوں کی آواز کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں

    یہ سائنسدان مینڈکوں کی آواز کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں

    سڈنی: آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل میں ایک 70 سالہ سینئر سائنسدان پروفیسر مائیکل ماہونی ہیں جو مینڈکوں سے باتیں کرنے کےلیے انہی کی طرح ’’ٹر ٹر‘‘ کرتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے "رائٹرز” کے مطابق آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل میں ایک 70 سالہ سینئر سائنسدان پروفیسر مائیکل ماہونی نے مینڈکوں کی طرح ٹرانےمیں مہارت حاصل کی ہے وہ مینڈکوں کی آوازوں کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں اور ٹرّا کر انہیں جواب دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور جب مینڈک ٹرّا کر انہیں جواب دیتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔

    پروفیسرمائیکل ماہونی نے”رائٹرز” کو بتایا کہ جب وہ مینڈکوں کو پکارتے ہیں اور انہیں جواب ملتا ہے تو انہیں خوشی ہوتی ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ مینڈک خاموش نہ ہوجائیں-

    5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر

    ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں مینڈکوں کی 240 انواع پائی جاتی ہیں مگر ان میں سے تقریباً 30 فیصد کی بقاء کو ماحولیاتی تبدیلیوں، بیماریوں، قدرتی پناہ گاہوں کی تباہی،سائٹرائڈ فنگس اور پانی کی بھیانک آلودگی سے شدید خطرہ لاحق ہے ماہونی نے کہا کہ عالمی سطح پر تمام خطوں میں ورٹیبریٹس میں سب سے زیادہ خطرہ مینڈکوں کو ہے۔

    70 سالہ پروفیسر ماہونی اپنے طویل کیریئر میں مینڈکوں کی 15 انواع بھی دریافت کرچکے ہیں۔ جبکہ انہوں نے مینڈکوں کی کچھ انواع کو ناپید ہوتے بھی دیکھا ہے-

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    ماہونی نے کہا ، "شاید میرے کیریئر کا سب سے افسوسناک حصہ یہ ہے کہ ایک نوجوان کی حیثیت سے ، میں نے ایک مینڈک کو دریافت کیا اور اس کے دو سال کے اندر ہی پتہ چلا کہ مینڈک ناپید ہو گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ "میں نے اپنے کیریئر کے شروع میں ہی اس سے آگاہی حاصل کرلی کہ ہمارے کچھ مینڈک کتنے کمزور ہیں۔ ہمیں اپنے رہائش گاہوں کو دیکھ کر یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا غلط ہے۔”

    انہوں نے کہا ، "ہم نے ان کے تباہ کن نقصان کے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے جو کچھ کیا وہ آسٹریلیائی مینڈکوں کے لئے پہلا جینوم بینک قائم کرنا ہے۔”

    ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے دریافت کیا کہ 2019 اور 2020 میں آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے تقریباً تین ارب جانور ہلاک ہوئے تھے جن میں کم از کم پانچ کروڑ مینڈک بھی شامل تھے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    اس عمر رسیدگی میں بھی ماہونی اپنے شاگردوں کو مینڈکوں سے بات کرنے کے طریقے اور انہیں آواز لگانا سکھاتے ہیں۔ البتہ ماہونی یا ان کے شاگردوں میں سے کوئی بھی مینڈکوں کی زبان سمجھنے کا دعویدار نہیں۔

    ماہونی کے تحفظ کے اس جذبے نے ان کے طلباء کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ ان میں سے ایک ، سائمن کلو نے ، 2016 میں ماہونی کے اعزاز میں ایک نئے دریافت مینڈک کا نام "ماہونی ٹاڈلیٹ” رکھا تھا۔

  • مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل  ایریا میں 2 دھماکے

    مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2 دھماکے

    مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2دھماکے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2دھماکے ہوئے دھماکہ کےباعث عمارت کی چھت تباہ ہوگئی جبکہ جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے-

    بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکےکےوقت ایئرپورٹ پرایک اعلیٰ سطح اجلاس جاری تھا-

  • کرونا ویکسین اور عوام کی ہچکچاہٹ .تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    کرونا ویکسین اور عوام کی ہچکچاہٹ .تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    کرونا وائرس آغاز سے ہی مختلف قسم کے شک شبہات کا شکار رہا ہے۔ ماہرین آج تک اس کے اسٹارٹنگ پوائنٹ کا تعین نہیں کر سکے۔ امریکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا آغاز ووہان کی ایک لیبارٹری سے ہوا، کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ کرونا ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ سے پھیلنا شروع ہوا، اور کچھ تحقیقات بتاتی ہیں کہ جب چائنہ میں یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا اُس وقت امریکہ میں بھی اِس کے مریض تھے۔

    پاکستان میں اِس وبا کو بھی ایک سازش کے طور دیکھا گیا۔ عوام کی اکثریت نے اس بیماری کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔اور طرح طرح کی تاویلیں پیش کی گئی۔

    زہر کے ٹیکے:
    کچھ لوگوں نے ہیلتھ کیئر ورکرز پر الزام لگایا کہ حقیقت میں کرونا کچھ نہیں ہے، پیسوں کی لالچ میں یہ ڈاکٹرز جان بوجھ کر ہر مریض کو کرونا میں ڈال رہے ہیں۔ اور چونکہ ڈاکٹروں کو مریض مارنے کے عوض امریکہ سے ڈالرز ملتے ہیں اس لیے لوگوں کو زہر کے ٹیکے لگا کر اُنکے اعضاء نکالے جا رہے ہیں، اسی وجہ سے میت کو دیکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ بُہت سارے ڈاکٹرز، نرسز اور اُنکے گھر والے خود اس بیماری کا شکار ہو گئے۔ اور میت کی تدفین کے لیے ڈبلیو ایچ او کی ہدایات پر عمل کیا جا رہا تھا۔

    مساجد بند کرانے کی سازش:
    بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جب لاک ڈاؤن لگایا گیا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ مساجد بند کرانے کی سازش ہے۔ حالانکہ وبا کی صورت میں اسلام نے نہ صرف بیمار اور صحت مند کے اکٹھا ہونے سے منع کیا ہے بلکہ دیگر ضروری اقدامات کا بھی حکم دیا ہے۔

    سلام نے ہمیں سنی سُنائی باتوں کو بغیر تصدیق آگے پھیلانے سے منع فرمایا ہے لیکن ہم نے کرونا وبا میں اس نصیحت پر عمل کرنے کی بجائے سنی سنائی باتوں کو مرچ مسالا لگا کر آگے پھیلایا۔

    وہ لوگ جنہوں نے وبا کے عروج کے وقت حفاظتی تدابیر پر یہ کہہ کر عمل نہیں کیا کہ "موت کا جو وقت معین ہے اس سے پہلے نہیں آ سکتی” اور کرونا وائرس ہمیں کچھ نہیں کہتا” وہ لوگ بھی اس وقت ویکسین سے خوفزدہ ہیں۔

    اپساس سروے:
    بین الاقوامی مارکیٹ ریسرچ ادارے ’اپساس‘ کے پاکستان میں ہوئے ایک حالیہ سروے کے مطابق 39 فی صد افراد تاحال کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کو تیار نہیں ہیں۔
    اس سروے میں پوچھا گیا کہ کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے پر کیا آپ اسے لگوائیں گے؟ جس کے جواب میں 61 فی صد افراد نے ہاں جب کہ 39 فی صد نے نفی میں جواب دیا۔

    اس انکار کی وجہ ویکسین کا نئی ہونا نہیں، کیوں کہ کئی سالوں سے حفاظتی ویکسینز استعمال کی جا رہی ہیں اور ویکسین کو کسی بھی نا قابل علاج بیماری سے بچنے کا محفوظ ترین اور موثر ترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
    کرونا وائرس سے جڑے شک شبہات کی طرح اسکی ویکسین کے متعلق موجود بہت سارے ابہام، شک شبہات اور غلط فہمیاں لوگوں کے انکار کی وجہ ہیں۔

    ویکسین کے متعلق غلط فہمیاں:
    ویکسین کے متعلق پہلے افواہ یہ پھیلائی گئی کہ اِس میں ایک چپ موجود ہے جس کے ذریعے نہ صرف لوگوں کی جاسوسی کی جائے گی بلکہ اس سے اُنکا دماغ بھی کنٹرول کیا جائے گا۔ اس افواہ کو تقویت اس طرح ملی کہ کچھ لوگوں نے ویکسین لگنے کی جگہ پر میگنیٹ چپکانے کی ویڈیو شیئر کیں۔ لیکن حقیقت میں اُس ویڈیو کو بنانے کے لیے بغل کے نیچے بھی میگنیٹ چھپایا گیا تھا۔ بہرحال بُہت سارے لوگ ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ویکسین بھی ایک یہودی سازش ہے اور اس میں چپ موجود ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کا ذہن کنٹرول کیا جائے گا۔

    میگنیٹ والی تھیوری کے بعد ایک نئی تھیوری پیش کی گئی کہ ویکسین لگوانے والے دو سال میں وفات پا جائیں گے، اور اس کو تقویت دینے کے لیے ایک نوبل انعام یافتہ سائنس دان کی تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا۔ حقیقت میں اُس تحقیق میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی وجہ سے وائرس کے زیادہ مضبوط ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن یہاں کچھ لوگوں نے اُسکو بالکل تبدیل کر کے پھیلایا۔

    ویکسین سے متعلق اس خوف و ہراس کی وجہ غیر تصدیق شدہ باتوں کا پھیلاؤ ہے۔ ہم لوگ اپنی مشہوری کے لیے نہ صرف خود سے کہانیاں گھڑ لیتے ہیں بلکہ مرچ مسالا لگا کر دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہیں۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہم متعلقہ ماہرین کی تحقیق اور ہدایات پر غیر متعلقہ لوگوں کی ذاتی رائے کو فوقیت دیتے ہیں۔

    ویکسین کے سائڈ ایفیکٹس:

    ویکسینز عموماً بُہت زیادہ محفوظ ہوتی ہیں لیکن ہر ویکسین کے کچھ معمولی سے مضر اثرات ہوتے ہیں۔ جو کہ دراصل ہمارے جِسم کے دفاعی نظام کے فعال ہونے کی نشانی ہوتے ہیں۔ ویکسین لگنے کے بعد عمومی طور پر ہلکا پھلکا بخار، جسم درد، جوڑوں میں درد، ٹیکہ لگنے کی جگہ پر اکڑاؤ اور درد وغیرہ ہو سکتا ہے جو کہ ایک دو دن میں ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن یہ ایک دن کی تکلیف ہمیں جان لیوا بیماری سے بچا لیتی ہے۔

    کچھ لوگوں میں کسی جینیاتی مسئلے کی وجہ سے کچھ شدید سائڈ ایفیکٹس بھی آئے ہیں جن میں خون کا جمنا (آسٹرا زنيكا) اور دل کے مسلز کا ہلکی نوعیت کا انفیکشن (فائزر) شامل ہیں۔ لیکن ان کی شرح تقریباً 0.0004٪ ہے (1000000 افراد میں 4 کیسز) لیکن بیماری کی وجہ سے انہی مسائل کی شرح 16.5٪ ہے(1000000 افراد میں 165000 کیسز)۔

    شرح اموات میں کمی:
    گزشتہ ایک مہینے کے ریکارڈ کے مطابق، امریکہ میں کرونا کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح اُن لوگوں میں زیادہ ہے جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی۔ 99.2 فیصد اموات ویکسین نا لگوانے والوں کی ہوئی ہیں۔(18150 میں سے 18000 اموات ویکسین نا لگوانے والوں کی ہوئی ہیں)

    دُنیا میں ویکسینیشن کی شرح:
    اسرائیل 60٪، بحرین 55٪، انگلینڈ 47٪، امریکہ 45٪
    جرمنی 34٪، ڈنمارک 30٪، فرانس 26٪، کینیڈا 23٪،
    چائنا 16٪، انڈیا 14٪، روس 11٪، پاکستان 2٪
    مندرجہ بالا شرح ویکسین کی دونوں خوراکوں کے حساب سے ہے۔ یہ واضح ہے کہ ویکسین کو جن یہودیوں کی سازش کہا جا رہا ہے اُنہوں نے سب سے زیادہ ویکسینز لگوائی ہیں۔ یاد رہے بیماری ایک سازش ہو سکتی ہے علاج نہیں۔ کیوں کہ علاج کی ضرورت سازش کرنے والوں کو بھی پڑتی ہے۔

    عمومی شک و شبہات اور اُنکے جوابات

    1) کیا واقعی ویکسین میں چپ موجود ہے؟
    بالکل بھی نہیں۔ ویکسین عام طور پر مردہ وائرس یا نقلی وائرس (بیماری پھیلانے والے وائرس کا ہم شکل) سے بنائی جاتی ہے۔ اس میں کسی چپ کی موجودگی ممکن نہیں۔
    بالفرض اگر چپ موجود ہو بھی تو وہ انجکشن میں تیرتی نظر آنی چاہئے جو کہ نہیں آتی، اور چپ کا سرنج سے گزرنا ممکن نہیں۔ اور ایسی چپ بنائی ہی نہیں جا سکی جو عام آنکھ سے نظر نہ آئے۔

    2) کیا ویکسین لگوانے والے 2 سال میں مر جائیں گے؟
    اس سوال کا جواب بھی نہیں میں ہے۔ ویکسینز جان بچانے کیلئے بنائی جاتی ہیں۔ اور آج تک کسی بھی شخص کی موت واقع نہیں ہوئی۔ زندگی اور موت کا اختیار اور علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

    3) کیا ویکسین سے بانجھ پن کا خطرہ ہوگا؟
    کوئی بھی زندہ وائرس صرف متعلقہ بیماری پھیلا سکتا ہے، اور مُردہ وائرس صرف متعلقہ بیماری سے بچا سکتا ہے۔ ویکسین سے کسی اور بیماری کا امکان نہیں ہوتا۔ اور بحثیت مسلمان ہمارا ایمان یہ ہے کہ اولاد دینے کا اختیار بھی صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

    4) زبردستی ویکسین کیوں؟
    انفرادی طور پر کسی بھی شخص کو زبردستی ویکسین نہیں لگائی جاتی۔ لیکن بحثیت معاشرہ ہماری زمہ داری ہے کہ ویکسین لگوا کر اپنے آپ کو محفوظ بنائیں۔ کچھ ادارے اپنی ملازموں کی حفاظت کے لیے ویکسین لگوانے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں کیوں کہ وہاں آپ کے ساتھ کئی دیگر لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ آپ کی وجہ سے کس دوسرے کو بیماری ہو جائے تو زمہ دار آپ ہی ہوں گے۔
    5) جن میں وائرس نہیں اُن میں وائرس کیوں داخل کریں؟
    ویکسینز میں صحتمند وائرس نہیں ہوتا۔ یا تو وائرس کو کیمیکل سے مار دیا جاتا ہے یا اپاہج کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ بیماری نہیں پھیلا سکتے۔ کچھ ویکسینز میں وائرس کی خاص پروٹین (آسان الفاظ میں شکل) کسی دوسرے وائرس میں لگا دی جاتی ہے، جس سے ہمارا جِسم ہوشیار ہو جاتا ہے لیکن بیمار نہیں ہوتا۔

    6) آسٹرا زینیکا ویکسین اور 40 سال سے کم عمر افراد؟
    حال ہی میں لوگوں کی ڈیمانڈ پر پاکستان میں 40 سال سے کم عمر افراد کو آسٹرا زینیکا ویکسین لگانے کا آغاز کیا گیا ہے۔ عام حالات میں ‌‌‌‎آسٹرا زنیکا ویکسین 40 سال سے کم عمر افراد کے لیے نہیں ہے۔ ان کے لیے دیگر ویکسینز موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود 40سال سے کم عمر والا کوئی شخص یہ ویکسین لگوانا چاہتا ہے تو وہ اپنی زمہ داری پر ہی لگوائے گا۔ (گورنمنٹ اس کا مشورہ نہیں دیتی) ۔

    ضرورت اس امر کی ہے ہمیں اپنے اللّٰہ پر کامل یقین رکھتے ہوئے ان افواہوں پر توجہ نہیں دینی چاہئے اور متعلقہ ماہرین کی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے۔

  • امریکہ کا خطرناک منصوبہ. تحریر: رانا عزیر

    امریکہ کا خطرناک منصوبہ. تحریر: رانا عزیر

    ایک علاقے کا چودھری جو عام لوگوں کو کمی سمجھتا تھا، وہ ان سے من چاہے کام اور ان کو پیسوں کے عوض خرید کر ان سے مشکل کام لیتا تھا اور وہ کمی بیچارے زائدہ پسیوں کی خاطر بساط سے بڑھ کر چودھری کا کام کرتے تھے ، لیکن کمیوں کا ایک لڑکا پڑھ لکھ کر جوان ہوا اور وہ بڑا انسان بنتا ہے، اور ایک دن وہ پاکستان کا وزیراعظم بن جاتا ہے، امریکا چونکے پہلے چودھری تھا تو وہ پاکستان کو حقیر نظروں سے دیکھتا ہے. ایسا کیوں ؟ جب نواز شریف نے ایمل کانسی کو امریکا کے ہاتھوں دیا تو ایک امریکی عہدیدار نے کہا پاکستان پیسوں کے لئے اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں، زرداری نے حسین حقانی کے زریعے امریکا کو کہا مجھے پاکستانی فوج سے بچا لیں، مشرف نے ایک کال پر فوجی اڈے دیا. تو امریکا اس دور کا عادی تھا جب پاکستان ایک فون کال پر ڈھیر ہوجاتا تھا. تو اب ایک وزیراعظم آیا ہے جس نے پاکستان کی تاریخ بدل کر رکھ دی ہے.

    لیکن یہ سب اک طرف لیکن جوبائیڈن اب کس طرح اس چیز کو ہنڈل کرے گا؟ ظاہر ہے وہ اس طرح سے ہار ماننے والا نہیں ، کیونکہ وہ ایک چودھری ہے تو چودھری کی شان میں فرق ہے. اب امریکا کا پلان کیا ہے ؟ وہ افغانستان میں کیا کرنے والا ہے ؟ دراصل امریکا پاکستان کو ایران ، عراق اور دیگر واسطی اشیائی مملک کے ساتھ توانائی کا کوریڈور تباہ کرنا چاہتا ہے. یہ ایک بہت بڑی پائپ لائن ہے جوعراق سے شروع ہوتی ہے ، پاکستان کے زریعے ہوتی ہوئی، ہمالیہ اور کشمیر سی چین تک جائے گی، اس سے تیل چین جائے گا اور چائنیز انویسٹمنٹ مشرق وسطیٰ تک جائے گی جس سے چین مزید مظبوط ہوگا اور امریکا کا پتا ہمیشہ کے لئے صاف ہوجاے گا اور جب اس پورے خطے سے امیرکا جائے گا تو CPEC افغانستان تک جائے گا اور یہ یہ کوریڈور بن جائے گا، تو امریکا اس چیز کو روکنا چاہتا ہے. اب امریکا پاکستان کی کیسے تباہی کرسکتا ہے ؟ ایک یہ ڈائریکٹ حملہ کرے گا، لیکن وہ نہیں کر سکتا ایک تو پاکستان بہت بڑا ہے دوسرا پاکستان ایٹمی ملک ہے، اس کے پاس اب ایک راستہ ہے جسے پاکستان کو روکنا ہوگا،

    امریکا کا پلان یہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی پشتون آبادی اور بلوچ کارڈکھیل کر پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے تاکہ پاکستان کو توڑ دیا جائے، اس امریکا PTM اور BLA جیسی اپنی proxies کا سہارا لے گا. اس کے لئے ہماری پاک فوج بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سینکڑوں دہشتگردوں کو پکڑ چکا ہے جو اس طرح کی ہوا دینے کے منصوبے سے آئے تھے.

    تو امریکا اس طرح کی صورتحال پیدا کرنے کی منصوبہ بندیاں کر رہا ہے، لیکن اگر امریکا قطر میں اڈے لیتا ہے تو وہ پھر بھی پاکستان کے زمینی راستے کا محتاج ہے کیوںکہ اس کی ہیوی مشینری افغانستان میں مجود ہے جو وہ چاہتا ہے کہ وہ افغان طالبان اور پاکستان اور چین کے ہاتھ نہ لگ جائے. تو جوبڈن کیلئے عمران خان کو کال کرنا اسکی مجبوری ہے.

  • ,”ڈو مور سے نو مور تک” تحریر:محمد محسن

    ,”ڈو مور سے نو مور تک” تحریر:محمد محسن

    چند دن پہلے آپ نے Absolutely Not کی تو خوب دھوم سنی ہو گی۔ عمران خان کے امریکی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں جب پاکستان سے فضائی اڈوں کا مطالبہ کیا گیا تو بدلے میں ملنے والے بیان نے اینکر پرسن کو حیرانی میں مبتلا کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ پاکستانی حکمران ٹی وی پر بیٹھا جب لائیو انٹرویو دے رہا ہو گا تو تاریخی معمول کے مطابق ہاں بولے گا یا پھر شاید بات کو گھما پھرا دے گا۔ لیکن اس کو کیا معلوم تھا کہ اس بار تو ساری گیم ہی الٹ جائے گی۔ اس واضح نا نے تو عالمی منظر نامے پر اک کھلبلی مچا کر رکھ دی۔ کھلبلی مچتی بھی کیوں نہ کیونکہ ہمیشہ سے ہمارا یہ معمول رہا کہ جب بھی امریکہ مدد کے لیے ہمارے پاس آیا تو ہم نے ان کے لیے دل و جان سے انکی خوب آہ و بھگت کی اور ان کو ہر ممکن بلکہ نا ممکن مدد بھی فراہم کی سوائے چند اک مواقعوں کے۔ دل میں یہی تمنا لیے اس دفعہ بھی پہلے امریکی انٹیلیجنس کا ڈائریکٹر اور بعد میں ٹی وی اینکر آئے لیکن دونوں کو کوئی خاص لفٹ نہیں کروائی گئی۔ ماضی میں کیا کیا ہوتا رہا آئیے پہلے اک نظر اس پہ ڈال لیتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد اس وقت کی دونوں سپر پاورز کے انویٹیشنز پاکستان کو موصول ہوئے۔ سوویت یونین کے تعلقات پہلے سے ہی انڈیا خاص طور پر نہرو فیملی سے اچھے ہونے کی بنا پر اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نے امریکہ کو منتخب کیا۔ جس پر تب سے لیکر آج تک تنقید ہوتی آئی ہے۔ خیر تب کے حالات کے مطابق جو ان کو بہتر لگا انہوں نے کیا۔ ہمیں انڈیا کے مقابلے میں اک ایسا طاقتور حلیف چاہیئے تھا جو مشکل میں ہماری مدد کر سکتا ۔ دوسری جانب امریکہ کو ساؤتھ ایشیاء میں اک ایسا حامی ملک چاہیئے تھا جو اس خطہ میں سوویت یونین کا پھیلاؤ روکنے میں اسکا مددگار ثابت ہو۔ لہٰذا لیاقت علی خان کے دور میں پہلی بار امریکہ نے پاکستانی سر زمین میں اڈے مانگے لیکن لیاقت علی خان نے انکار کردیا۔ یہ انکار دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں سرد مہری کا باعث نہ بنا جیسا کہ عموماً ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایوب خان کے دور تک پاکستان مختلف امریکی فوجی اتحادوں میں ان کے ساتھ شامل ہوا جسکی بدولت پاکستان کو فوجی اور معاشی امداد ملتی رہی۔ اسی دوران میں حسین شہید سہروردی وہ پہلا پاکستانی وزیر اعظم تھا جس نے 1956 میں پشاور کا ائیر سٹیشن امریکہ کو لیز پر دیا تاکہ وہ سوویت یونین کی جنوبی ایشیاء میں بڑھوتری پر اک نظر رکھ سکے۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے اک ایسا سلسلہ شروع ہو جو کہ اکیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہا۔ ایوب خان کے دور میں تو باہمی تعلقات نقطہء عروج تک جا پہنچے وہ تو پاکستان- انڈیا کی 1965 کی جنگ شروع ہو گئی جس نے امریکی عیاری کو ظاہر کر دیا نہیں تو شاید وہ اک وقفہ جو اس جنگ کے بعد رونما ہوا کبھی نہ ہوتا۔ اسی اک مختصر وقفہ کے دوران پاکستان نے امریکہ کے علاؤہ دوسرے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے شروع کر دئیے۔

    پاکستان-انڈیا کی 1965 اور 1971 کی یکے بعد دیگرے جنگوں نے امریکی دوستی کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔ جسکی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آتے ہی سوویت یونین اور چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے شروع کر دئیے تھے۔ بھٹو کو بہرحال یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس وقت بھٹو نے پہلے والی غلطی نہ دہرائی۔ بھٹو نے چین اور سوویت یونین کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات بحال رکھے جسکی وجہ سے اس نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے امریکہ اور چین کے تعلقات کی راہ ہموار کی۔ بھٹو سوویت یونین سے انویسٹمنٹ لے کر آیا جسکی بدولت پاکستان میں سٹیل مل لگی۔ اس دوران میں چین ابھی اتنا طاقتور اور اہم نہیں تھا کہ اس پر مکمل انحصار کیا جاتا۔ دوسرا بھٹو کیپیٹل ازم کی بجائے سوشلزم کو زیادہ اہمیت دیتا تھا۔ اگرچہ اس دورانیہ میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی لیکن پھر بھی امریکہ نے بھٹو کو اپنے پیش نظر رکھا جسکی سب سے بڑی وجہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا۔ ایوب خان کے دور کے بعد تعلقات جس سرد مہری کا شکار ہوئے تھے وہ ضیاء الحق کے آنے کے بعد گرمجوشی میں بدل گئے۔ ضیاء الحق پاکستان کا شاید پہلا حکمران تھا جس کو امریکہ میں فرسٹ کلاس پروٹوکول دیا گیا۔ وہ ڈیمانڈز جو ہوائی اڈوں پر منحصر ہوتی تھی اب کی بار بہت آگے چلی گئیں۔ قصہ مختصر یہ کہ پاکستان اک پرائ جنگ میں کود پڑا جس میں نہ صرف اڈے دئے گئے بلکہ انٹیلیجنس، ٹریننگ کے ساتھ ساتھ لڑنے کے لیے مجاہدین بھی فراہم کیے گئے۔ اس کے بدلے میں خوب امداد بھی ملی۔ سوویت یونین کی فوجوں کے انخلاء کے ساتھ ہی پاکستان پر شدید معاشی پانبدیاں لگا دی گئیں جو کہ اکیسویں صدی تک جاری رہیں۔ مجاہدین کی سوویت یونین کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد وہی امریکہ جس کو پتہ تھا کہ پاکستان ایٹمی پروگرام پر کام کر رہا ہے نے فوراً پاکستان پر شدید قسم کی معاشی پانبدیاں لگا دیں۔ جنگ کے بدلے میں ملنے والی فوجی اور معاشی امداد کو فوراً بند کر دیا گیا۔ مختصر یہ کہ بیسویں صدی کا آخری عشرہ پاکستان کے لیے بہت تنگدستی والا عشرہ تھا۔ وہ تو بھلا ہو چین اور سعودی عرب کا جنہوں نے اس مشکل ترین صورتحال میں بھی پاکستان کا ساتھ دیا۔ 9/11 کے بعد افغانستان میں وار آن ٹیرر شروع کی گئی اور وہی امریکہ جو 1989 کے بعد ہمرے طرف سے منہ فیر گیا تھا اک بار پھر بھاگا بھاگا پاکستان کے پاس آیا اور مدد طلب کی جس میں فوجی اڈے سرفہرست تھے۔ اس بار انکا خیال تھا کہ پاکستان یا تو فوجی اڈے نہیں دے گا یا پھر سخت شرائط منوائے گا جس کہ لیے وہ پہلے سے ہی تیار تھے۔ لیکن قربان جائیں اپنے جنرل پرویز مشرف سے جنہوں نے سب کی سب امریکی شرائط کو من و عن یہ کہہ کر قبول کر لیا کہ پاکستان کے پاس اس کے علاؤہ اور کوئی آپشن ہی نہیں تھی۔ وہ امریکہ جو اپنی شرائط میں سے کچھ کے مانے جانے پر مرکوز تھا اسکی سب شرائط کو تسلیم کر لیا گیا۔ اس بات پر امریکی خود بھی شسدر رہ گئے کہ وہ پاکستان جس کو ہمیشہ ہم نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا اس نے پھر ان کا بھرپور ساتھ دینے کی حامی بھر لی۔ خیر یہاں سے نا تو امریکی پھولے نہ سما رہے تھے اور نہ ہی مشرف کی کابینہ۔ یہاں سے پاکستان میں ڈرون حملوں اور ڈو مور کا اک ایسا سلسلہ شروع ہو جو کہ عمران خان کے آنے تک جاری رہا۔

    یہ ڈرون حملے اور ڈو مور کا تانا بانا مشرف دور سے شروع ہوا اور پیپلز پارٹی کے دور میں اپنے عروج پر پہنچا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اک طرف تو ڈرون حملوں کی اجازت دیتی رہی تو دوسری طرف انکو تنقید کا نشانہ بھی بناتی رہی۔ وہ تو بعد میں وکی لیکس کے دوران یہ واضح ہوا کہ پیپلز پارٹی نے تو ان ڈرون حملوں کے بارے میں ڈبل سٹینڈرڈز پالیسی اختیار ہوئی تھی۔ ہماری جنریشن کو جب تھوڑی بہت سیاست کی سمجھ آنے لگی تب سے ہم تو امریکہ کی جانب سے اک ہی آرڈر سنتے آئے ہیں "ڈو مور”. یہ ڈو مور کا سلسلہ بش جونیئر سے شروع ہوا اور اب شاید اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ جارج بش، کی دو ٹرمز اور اس کے بعد باراک اوباما کی دونوں ٹرمز تک یہ اپنے فل آب و تاب سے جاری رہا۔ ہمارے جیسے بچے تب سوچتے تھے کہ کیا مجبوری ہے کہ اک امریکی صدر یا کوئی امریکی حکومت کا نمائندہ جب بھی پاکستان آتا ہے یا یہاں سے ہمارے حکمران وہاں جاتے ہیں تو ڈو مور کی ہی آواز آتی ہے۔ ویسے کیسی پالیسی تھی کہ پاکستان نے اپنے ہی اڈے دیئے اور اپنے ہی لوگ ان کے ہاتھوں سے مروا رہے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ جو دہشت گرد تھے ان کے خلاف آپریشن کیا جاتا لیکن کسی نے سوچا کہ اب تک تقریباً اسی ہزار مرنے والے پاکستانیوں میں سے کتنے دہشت گرد تھے اور کتنے معصوم۔ عمران خان نے ہماری جنریشن کو اسی لی ہی فیسینیٹ کیا کہ یہ بندہ واحد تھا جس نے ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کی مخالفت کی۔ اسی لیے پاکستانیوں خاص طور پر یوتھ نے اسکا ساتھ دیا کہ یہ بندہ کچھ کرے گا۔ ہاں اگرچہ حکومت میں آنے کے بعد عمران خان نے اپنے کئی وعدے پورے نہیں کیے لیکن اک بات پر قائم رہا کہ امریکہ کے ساتھ برابری کے تعلقات ہوں گے اگر ہوئے تو۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آیا تو اس نے آتے ہی پاکستان کے متعلق اپنے پہلے ٹویٹ میں کچھ ایسی زبان استعمال کی جسکا عرف عام میں مطلب ڈو مور تھا۔ لیکن جوابی ٹویٹ میں عمران خان نے بھی وہی لہجہ استعمال کیا ۔ جب عمران خان امریکی دورے پر گیا تو معمول سے ہٹ کر پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس نے روایتی حکمرانوں کی طرح امداد کی بھیک نہیں مانگی یہاں تک کہ امداد کا لفظ تک استعمال نہیں کیا۔ پچھلے ہفتہ میں امریکی ٹی وی دئیے جانے والے انٹرویو میں عمران خان نے امریکہ کے متعلق وہی رویہ، وہی پالیسی اختیار کی جسکا ذکر پچھلے بیس سالوں سے کرتا آرہا تھا۔ خیر عمران خان نے absolutely not تو کہہ دیا اب امریکہ اور ایورپ کی جانب سے اسکا ری ایکشن بھی آسکتا ہے جس کے لیے پاکستان کو تیار رہنا ہوگا۔ عمران خان نے لیاقت علی خان کی طرح جو پالیسی آج اختیار کی اگر یہ پالیسی پاکستانی حکمران شروع سے اختیار کرتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ آج پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہو چکا ہوتا۔ آج پاکستان آئی۔ایم۔ایف، ورلڈ بینک اور فیٹیف پر انحصار نہ کر رہا ہوتا کیونکہ انہی اداروں اور امریکہ نے شروع سے پاکستان کو اپنی امداد پر لگا دیا جسکی وجہ سے ہم آج تک معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہو سکے اور نہ ہی ہم نے اس کے لیے تگ و دو کی۔