Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ظلمت کے راستے .تحریر : ریحانہ جدون

    ظلمت کے راستے .تحریر : ریحانہ جدون

    ظلمت اور نور کے دو راستے ہیں جب ھم اللہ تعالٰی کی باتیں مانتے ھیں تو نور کا راستہ اختیار ھو جاتا ھے اور جب ھم شیطان کا راستہ اختیار کرتے ھیں تو ظلمت کا راستہ بن جاتا ھے اللہ تعالیٰ نے جتنی باتیں کہی ھیں اور جتنا فرمان الٰہی ھے اس کے کرنے سے ھم نور کے راستے میں آجا تے ہیں اور اگر شیطان کی باتوں میں آجاتے ھیں تو ظلمت میں آجاتے ہیں
    اور جس طرح جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے اسی طرح جب کسی قوم میں انصاف کا نظام سہی نہ ہو وہ قومیں تباہ ہوجاتیں ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے یہاں ہر چیز خواہ وہ زندگی ہو, موت ہو, عزت ہو , غیرت ہو یا انصاف ہو سب بک جاتا ہے.
    سچ کے نام پہ جھوٹ بِکتا ہے قابلیت کے نام پہ جہالت بکتی ہے, پیسے کے نام پر یہاں سب کچھ بِکتا ہے.
    ایک غریب سے اگر چھوٹا سا جرم ہوجائے تو اُسکی ساری زندگی یا تو پیشیاں بھگتنے میں یا پھر جیل میں گزر جاتی ہے , ہاں اگر آ پکے پاس پیسہ ہے تو اتوار کو بھی عدالت آ پکا کیس سننے کے لئے لگائی جاسکتی ہے.
    افسوس کئی بےگناہ جیل میں ہی وفات پا گئے اور اُنکی وفات کے بعد عدالت نے اُنکو بےگناہ قرار دیا جی ہاں یہ ہے غریب کے لئے انصاف کی رفتار

    کیا انصاف کی فراہمی ہر پاکستانی کا بنیادی حق نہیں ہے, اگر انصاف کی فراہمی ہر پاکستانی کا حق ہے تو چھوٹے موٹے مقدمات کی سماعت میں 5 سے 7 سال کیوں لگ جاتے ہیں ؟؟
    کیوں غریب انسان عدالتی نظام کو بددعائیں دیتا نظر آ تا ہے؟

    جواب اسکا آ سان ہے غریب کی درخواست ہزاروں فائلوں کے نیچے دب جاتی ہے. اس مفلوج نظام سے ملک وقوم کو انصاف کی امیدیں وابستہ ہیں لفظ آ یا ہے قوم تو ایک سوا ل اور پوچھنا چاہتی ہوں وہ یہ کہ کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟؟
    افسوس اس معاشرے میں اتنا بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اس میں رہنے کے لئے اپنے ضمیر کو مارنا ہوگا جو سچ بولتے ہیں ان کو چپ کروانا ہوگا…..
    انصاف کے لئے عدل کے ترازو میں رشوت اور اپنے حق کے لئے سفارشی کلچر اپنانا ہوگا کیونکہ یہاں انسانی جان تک کی کوئی قدر و قیمت نہیں, یہاں انسانی خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ سڑک پہ کوئی انسان ایڑیاں رگڑ کر مر رہا ہو تو لوگ اُسکو دیکھ کے رکیں گے ضرور ( ویڈیو بنانےکے لئے)
    مگر اُسکی مدد نہیں کریں گے.
    حقیقت میں ہم ایک قوم ہے ہی نہیں بلکہ لوگوں کا ہجوم ہیں جو اپنے اپنے مفادات کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے اور زلت اسکا مقدر بنتی جارہی ہے .
    دیکھا جائے تو یہاں نفرت بیچنے والے بھی جا بجا دکھائی دیتے ہیں جو محبت کی بجائے فرقہ پرستی کی تجارت کرتے ہیں
    یہاں سستے داموں اپنی مرضی کےفتوے مُفتی سے
    آ سانی سے مل جاتے ہیں …..
    ہمیں اس ظلمت کے راستے سے واپس اُجالوں کی طرف لوٹنا ہوگا, خوشحالی ہماری منزل ہے ترقی کی راہیں ہماری منتظر ہیں, ہمیں اندھیروں سے پیچھا چھڑانا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہر ایک اپنے حصے کی زمہ داری پوری ایمانداری سے نبھا ئے گا

  • ٹیم کی سلیکشن میں میرٹ کو نظر انداز کردیا

    ٹیم کی سلیکشن میں میرٹ کو نظر انداز کردیا

    لاہور کی چھ ٹیموں کی سلیکشن میں میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئیں، کرکٹ آرگنائزرز سلیکشن کے طریقہ کار اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے پر حیران ہیں، سابق کپتان رمیز راجہ، انضمام الحق ،اکرم رضا،منصور راناکے بیٹوں کو باصلاحیت کِھلاڑیوں پر فوقیت دینے کا انکشاف ہوا ہے، ویسٹ زون میں کھیلنے والے رمیز راجہ کے بیٹے حیدر رمیز راجہ کو نارتھ زون میں شامل کرلیا گیا ہے، اکرم رضا کے بیٹے ذیشان اکرم اور انضمام الحق کے بیٹے ابتسام الحق ایسٹ زون کی ٹیموں میں شامل کیا گیا ہے، منصور رانا کے بیٹے دانیال رانا کو ایسٹ زون کی ایک ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، ایسٹ زون کی ٹیم میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے معظم حیات کو شامل کردیا گیا ہے، آصف گوندل، آصف غفور، زبیر ملک کی سلیکشن پر بھی تحفظات سامنے آرہے ہیں، ٹیموں نے سلیکشن کے معاملے پر اہم کرکٹ آرگنائزرز کے بورڈ سے رابطے کرلیا ہے، آرگنائزرز نے سلیکشن میں سامنے آنے والی من مانیوں کی نشاندہی کردی ہے.
    آرگنائزرز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل میچ کروانا ضروری تھا تو تمام کھلاڑیوں کو طلب کیا جانا چاہیے تھا، ٹرائل میچ میں صرف 75 کھلاڑیوں کو طلب کیا جانا ٹرائلز کے پورے عمل کو مشکوک بناتا ہے.

  • آرچری کے مقابلوں کی  تاریخ کا اعلان کردیا گیا

    آرچری کے مقابلوں کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا

    ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے سپورٹس بورڈ پنجاب آرچری اکیڈمی کا دورہ کیا ہے، ڈائریکٹر سپورٹس محمد حفیظ بھٹی نے سپورٹس بورڈ پنجاب آرچری اکیڈمی کے امور بارے بریفنگ دی گئی، اکیڈمی میں کھلاڑیوں کا پریکٹس میچ بھی دیکھا، مسائل سُنے اور موقع پر احکامات جاری کِے، انہوں نے خود بھی تیر اندازی کر کے اپنی مہارت دکھائی ہے،اس موقع پر انہوں نے کھلاڑیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 9 اور 10 جولائی کو بھوربن میں آرچری چیمپئن شپ کروا رہے ہیں، مختلف شہروں میں آرچری سنٹرز بنائیں جائیں گے، سپورٹس بورڈ تیراندازی کے فروغ کیلئے کام کررہا ہے.
    سپورٹس بورڈ پنجاب آرچری اکیڈمی میں کوچ تیمور اور ٹرینر دانش عباس نے ڈی جی سپورٹس پنجاب کو ٹیکنیکل معاملات پر بریفنگ دی گئی.

  • حُسنِ اَخلاق .تحریر:مبین خان

    حُسنِ اَخلاق .تحریر:مبین خان

    حسن اَخلاق کی ایک پہلو کے اعتبار سے تعریف:‏
    ’’حسن‘‘ اچھائی اور خوبصورتی کو کہتے ہیں، ’’اَخلاق‘‘ جمع ہے ’’خلق‘‘ کی جس کا معنی ہے ’’رویہ، برتاؤ، عادت‘‘۔یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے رویے یا اچھے برتاؤ یا اچھی عادات کو حسن اَخلاق کہا جاتا ہے۔امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:

    ’’اگر نفس میں موجود کیفیت ایسی ہو کہ اس کے باعث عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ اچھے اَفعال ادا ہوں تو اسے حسن اَخلاق کہتے ہیں اور اگر عقلی اور شرعی طور پر ناپسندیدہ برے اَفعال ادا ہوں تو اسے بداَخلاقی سے تعبیر کیاجاتا ہے۔‘‘
    حسن اَخلاق میں شامل نیک اعمال:

    حقیقت میں حسن اَخلاق کا مفہوم بہت وسیع ہے، اس میں کئی نیک اعمال شامل ہیں چند اعمال یہ ہیں:معافی کو اختیار کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا،جاہلوں سے اعراض کرنا، قطع تعلق کرنے والے سے صلہ رحمی کرنا،محروم کرنے والے کو عطا کرنا،ظلم کرنے والے کو معاف کردینا،خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا،کسی کو تکلیف نہ دینا،نرم مزاجی، بردباری، غصے کے وقت خود پر قابو پالینا، غصہ پی جانا، عفو ودرگزر سے کام لینا، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا، مسلمان بھائی کے لیے مسکرانا، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا، لوگوں میں صلح کروانا، حقوق العباد کی ادائیگی کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا، دعائے مغفرت کرنا، کسی کی پریشانی دور کرنا، کمزوروں کی کفالت کرنا، لاوارث بچوں کی تربیت کرنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا، بڑوں کا احترام کرنا، علماء کا ادب کرنا، مسلمانوں کو کھانا کھلانا، مسلمانوں کو لباس پہنانا، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا ، مشقتوں کو برداشت کرنا، حرام سے بچنا، حلال حاصل کرنا، اہل وعیال پر خرچ میں کشادگی کرنا۔ وغیرہ:
    آیت مبارکہ:‏

    اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:( وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴))(پ۲۹، القلم: ۴)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے ۔‘‘اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے:حضرت اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سیّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خُلْق قرآن ہے ۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی نے مجھے مَکارِمِ اَخلاق و محاسنِ افعال کی تکمیل وتتمیم (مکمل وپورا کرنے)کے لئے مبعوث فرمایا ۔

    ترے خُلْق کو حق نے عظیم کہا

    تر ی خِلْق کو حق نے جمیل کیا
    کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا!

    (حدیث مبارکہ) میزان عمل میں سب سے وزنی شے:

    حضرتِ سیِّدُناابودَرْداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ باقرینہ ہے: ’’ قیامت کے دن مؤمن کے میزان میں حسنِ اَخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں ہو گی۔‘‘

    حسن اَخلاق کا حکم:
    حسن اخلاق کے مختلف پہلو ہیں اسی وجہ سے بعض صورتوں میں حسن اخلاق واجب، بعض میں سنت اور بعض صورتوں میں مستحب ہے۔
    حسن اَخلاق اپنانے کے دس(10)طریقے:
    (1)اچھی صحبت اِختیار کیجئے:
    (2) حسن اَخلاق کے فضائل کا مطالعہ کیجئے:
    (3)بداَخلاقی کی دُنیوی واُخروی برائیوں پر غور کیجئے:
    (4)حسن اَخلاق میں شامل نیک اَعمال کی معلومات حاصل کیجئے:
    (5)دِل میں احترامِ مسلم پیدا کیجئے:
    (6)نفسانی خواہشات سےپرہیز کیجیے:‏
    (7)حسن اَخلاق کی بارگاہِ اِلٰہی میں دعا کیجئے:
    (8)بُرائی کا جواب اچھائی سے دیجیے:
    (9)بد اَخلاقی کے اَسباب کو دُور کیجئے:
    (10)بلا وجہ غصہ چھوڑ دیجیے:

    تحریر مبین خان

  • صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    دنیا کی ایک تحقیق بھی یہ ثابت نہیں کرسکی کہ کھانے کے بعد Cold Drink پینے سے کھانا ہضم ہوجاتا ہے۔کھانے کے بعد ڈکار (Burp) آنے کو ہم کھانا ہضم ہونے کی علامت سمجھتے ہیں ، جو کہ غلط ہے۔
    دراصل ڈکار آنا کھانا ہضم ہونے کی علامت نہیں بلکہ جب ہم کھانا تیزی سے کھاتے ہیں تو ہمارے پیٹ میں کھانے کے ساتھ ساتھ ہوا (air) بھی چلی جاتی ہے۔ پھر جب ہم کھانے سے فراغت حاصل کر لیتے ہیں تو ہمارے پیٹ میں داخل ہوا (air) منہ کے راستہ سے باہر آتی ہے جس کی وجہ سے ایک آواز پیدا ہوتی ہے جسے ہم ڈکار (burp) کہتے ہیں۔
    کوشش کریں کہ کھانے کے آخر میں پانی نہ پیا جائے کیونکہ کھانے کے آخر میں پانی پینا کھانے کو ہضم کرنے میں رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔

    کیونکہ جب کھانا انسانی پیٹ میں جاتا ہے تو چھوٹے چھوٹے ذرّات کی صورت میں ہوتا ہے مگر جب کھانے کے اوپر سے پانی پی لیا جائے یاں کوئی بھی liquid پی لیا جائے تو کھانے کے ذرّات بڑے بڑے ہوجاتے ہیں جو کھانا ہضم کرنے میں رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔
    انسانی زندگی کے بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب Cold Drink کا استعمال بہت زیادہ ہوجاتا ہے مثلاً شادی بیاہ ، پارٹیز اور عید جیسی تقریبات کے موقع پر۔

    تو یاد رکھیں صرف ایک Cold Drink کا can جو 330 ملی لیٹر پر مشتمل ہوتا ہے اُس میں 9.75 چائے کے چمچ کے برابر چینی (sugar) شامل ہوتی ہے یعنی 330 ملی لیٹر کولڈ ڈرنک کا can جب انسان کے پیٹ میں جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ کہ liquid کے ساتھ ساتھ 39 گرام چینی (sugar) بھی انسان کے پیٹ میں جارہی ہوتی ہے
    جس کی وجہ سے انسان کے جسم میں diabetes ، bloodpressure ، وزن میں اضافہ اور جگر کے امراض جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں تو کوشش کریں کولڈ ڈرنکس کی جگہ تازہ پھلوں سے تیار کردہ juice کا استعمال کریں جس کے حقیقتاً فوائد ہیں۔

    اللہ پاک ہمیں طرح طرح کی بیماریوں سے محفوظ فرمائے۔
    اپنی صحت کا خیال رکھیں کیونکہ ” صحت عظیم نعمت ہے۔”

  • گمان  تحریر:   سیف اللہ عمران

    گمان تحریر: سیف اللہ عمران

    گمان ۔۔۔۔تحریر:: عمران علی

    یقین کچے گھڑے کو پکا رنگ دیتا ہے اور گمان محلات میں رہ کر لرزتا ہے، خوفزدہ ہوتا ہے زرا سہمہ رہتا ہے

    آپ کے گمان پر آپ کی زندگی کا تسلسل ہے

    مطلب کہ آپ جس چیز کا گمان زیادہ کر لیں کہ یہ ایسی ہے. تو آگے چل کر آپ کو وہی کچھ ملے گا جیسا آپ نے گمان کیا

    اللہ پاک فرماتے ہیں اے میرے بندے تومجھ سے جیسا گمان کرے گا میں تجھ سے تیرےگمان کے مطابق معاملہ کرتا رہوں گا پختہ یقین منزل کو قدموں کی دھول بنا دیتا ہے اللہ پر یقین مثبت سوچ اور مضبوط ارادہ جس کے کردار اور شخصیت ہوں وہ ماحول میں نہیں ماحول خود ان میں ڈھلتا ہے کیوں کہ انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی نہیں مانتا

    عبرت اور مقدر میں بڑا فرق ہے
    کچھ لوگ عبرت حاصل کرکے مقدر سنوار لیتے ہیں.
    اور کچھ لوگ مقدر پر چھوڑ کر عبرت بن جاتے ہیں.

    تمھیں پتہ ہے تمہارا مسئلہ کیا ہے ۔۔۔؟
    تم نے اپنے فیصلے اللہ پر چھوڑ تو دیے ہیں مگر دل سے نہیں چھوڑے تم اب بھی چاہتے ہو کہ کاش فیصلہ وہی ہو جو تمہاری خواہش ہے

    یہ کیسا اعتبار ہے بھلا ۔۔۔؟
    سمندر کے بیچ کھڑے شخص کو اس بات سے کیا غرض کشتی آر لگے یہ پار اسے تو بس یہ یقین ہونا چاہیے٬
    میں ڈوب بھی گیا تو یہ میرے لیے آر پار جانے سے بہتر ہوگا
    یہی تو اعتبار امتحان ہے
    اللہ جتنی محبت اپنے بندے سے کرتا ہے آپ کے گمان سے بھی آگے ہے ہم صرف دیکھتے ہیں جو ظاہری خوبصورتی ہے جب کے اللہ یہ بھی جانتا ہے آپ کے لیے کیاخوب صورت ہے
    یقین کرو جس دن اس اعتبار پے فیصلہ اللہ پے چھوڑو گے کہ جو بھی ہوا میرے لیے وہی بہترین ہوگا اس دن نہ صرف آپ بےچینی سے نکل آئیں گے بلکہ فیصلہ آپ کے یقین سے ذیادہ بہترین ہوگا کیوں کہ اللہ ساری دنیا اور لوگوں کے دلوں سمیت ان کی سوچ کے رخ تک بدلنے پے قادر ہے۔

  • کیڈٹ کالج کی فیسوں میں 10 فیصد اضافہ پر وزیر اعلیٰ نے بڑا حکم سنا دیا

    کیڈٹ کالج کی فیسوں میں 10 فیصد اضافہ پر وزیر اعلیٰ نے بڑا حکم سنا دیا

    کیڈٹ کالج سوات کے بورڈ آف گورنرز کا چھٹا اجلاس وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کیڈٹ کالج میں باقی ماندہ تعمیراتی کاموں کیلئے نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان کی منظوری دے دی گئی ہے، پلان کے تحت چھ مختلف مرحلوں میں تعمیراتی کاموں کا عمل مکمل کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں رہائشی ہاسٹل، مسجد، کثیر المقاصد ہال اور ٹراما سنٹر تعمیر کئے جائیں گے، دوسرے مرحلے میں سیوریج، لانڈری، گریڈ 1تا6 ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس ، تیسرے مرحلے میں گریڈ 7تا16 ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس، اسپورٹس کمپلیکس، چوتھے مرحلے میں گریڈ17 سے اوپر کے ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس، اسٹاف بیرک، پانچویں مرحلے میں سکواش کورٹ، سوئمنگ پول اور رائیڈنگ کلب جبکہ چھٹے مرحلے میں پرنسپل ہاﺅس، لنک روڈز اور دیگر انفراسٹرکچر تعمیر کئے جائیں گے.
    جنرل آفیسر کمانڈنگ 21 آرٹلری ڈویژن، سیکرٹری ابتدائی و ثانونی تعلیم، سیکرٹری منصوبہ بندی، سیکرٹری خزانہ، کمشنر ملاکنڈ، چیئرمین بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سوات، پرنسپل کیڈٹ کالج سوات کے علاوہ بورڈ آف گورنر کے دیگر ممبران نے بھی اجلاس میں شرکت کی ہے، اجلاس کے شرکاء کو بورڈ آف گورنر کے سابقہ اجلاس میں کئے گے فیصلوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں پیشرفت کے علاوہ ادارے میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں، ادارے کی مجموعی کارکردگی، مالی و انتظامی اُمور میں درپیش مسائل اور دیگر اُمور پر بریفینگ دی گئی ہے، بورڈ آف گورنرز نے مالی سال 2020-21 کے لئے ادارے کے اخراجات کی توثیق کے علاوہ مالی سال 2021-22 کیلئے بجٹ کی بھی منظوری دے دی ہے، اجلاس میں ادارے کی فنانس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے طریقہ کار کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، وزیراعلیٰ نے کیڈٹ کالج سوات کی فیسوں میں 10 فیصد سالانہ اضافے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں طلباء اور اُن کے والدین پر کسی صورت بھی اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا ہے، اُنہوں نے کہا کہ اضافی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے حکومت اداروں کو خصوصی گرانٹ دینے پر غور کرے گی، اس موقع پر وزیراعلیٰ نے رحمتہ اللعالمین سکالر شپ پروگرام کے تحت کیڈٹ کالجوں کے مستحق طلباء کو بھی سکالرشپ دینے کا اعلان کیا ہے، کیڈٹ کالج کیلئے فیس پالیسی کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، تاہم وزیراعلیٰ نے ادارے کے حکام کو فیس چارجز کو حقیقت پسندانہ بنانے اور چھٹیوں کے دوران طلباء سے میس چارجز کی مد میں وصولیاں نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، بورڈ آف گورنر نے ادارے میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے بطور پائلٹ پراجیکٹ اکیڈمک بلاک کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، اسی طرح اجلاس میں کیڈٹ کالج سوات میںگیارہویں کلاس میں داخلوں کیلئے میرٹ فارمولے میں چند ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، کیڈٹ کالج سوات کو پورے ملاکنڈ ڈویژن میں معیاری تعلیم کی فراہمی کا ایک اہم ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ اس ادارے سے اب تک 637 کیڈٹ فارغ التحصیل ہو کر آرمی، میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس ادارے کی مزید تعمیر و ترقی اور اس کے مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، اُنہوں نے کالج انتظامیہ کو نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان کے مطابق انفراسٹرکچر کی تعمیر پر جلد کام شروع کرنے اور اگلے دو سالوں کے اندر اس کی تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے.

  • نظام المدارس پاکستان نے دینی مدارس کے نصاب پر سوال اٹھا دئے؟

    نظام المدارس پاکستان نے دینی مدارس کے نصاب پر سوال اٹھا دئے؟

    نظام المدارس پاکستان کے زونل صدور اور ضلعی کوارڈینیٹرز کا اہم اجلاس نظام المدارس پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ میں صدر نظام المدارس پاکستان علامہ مفتی امداد اللہ قادری کی زیر صدارت منعقد ہوا ہے، اتفاق علماء نے مدارس کے ذمہ داران کی طرف سے رجسٹریشن اور نصاب پر نظرثانی پر متنازعہ وقف املاک ایکٹ پر نظر ثانی کا موقف منظور کروانے پر شکریہ ادا کیا ہے، مفتی امداد اللہ قادری، خرم نوازگنڈاپور،علامہ میر آصف اکبر،علامہ عین الحق بغدادی نے اجلاس سے خطاب کیا ہے، اس میں کہا فیا کہ مدارس دینیہ کے طلباء کو جدید سائنسی علوم بھی پڑھانا ہوں گی، مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صرف رجسٹرڈ مدارس اور بورڈز کو اسناد جاری کرنے کا اختیار ہونا چاہیے، اجلاس میں علمائے کرام نے متفقہ اعلامیہ منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ”مدارس دینیہ کی رجسٹریشن اور نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے ریاستی سطح پر بروئے کار آنے والے اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ مدارس کی رجسٹریشن کو 100 فیصد یقینی بنایا جائے کسی کو ضوابط کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ سیاست اور فرقہ واریت میں ملوث مدارس کے حوالے سے ریاست زیروٹالرینس کی پالیسی اختیار کرے، حکومت رجسٹرڈ مدارس کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اساتذہ کی جدید تدریسی خطوط پر کورسز میں مدد دے، مدارس دینیہ کے مختلف سطح کے تعلیمی پروگرامز کی تکمیل پر اسناد کے اجراء کا اختیار صرف قانونی تقاضے پورے کرنے والے بورڈز کو ہونا چاہئے“۔
    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نظام المدارس پاکستان کے نائب صدر خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ مدارس دینیہ کے طلباء کو روایتی گردانیں رٹانے کی بجائے انہیں جدید سائنسی،معاشی، معاشرتی مسائل کا حل بھی دینا ہو گا تاکہ وہ اسلام اور پاکستان کے سفیر بن کر پوری دنیا میں اسلام کا پرامن اور علمی تشخص اجاگر کر سکیں۔ نیم خواندہ علماء اسلام کی غلط تعبیریں کر کے اسلام کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو دین سے دور کررہے ہیں۔ نظام المدارس پاکستان کے صدر علامہ مفتی امداد اللہ قادری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نصاب پر نظر ثانی کے تمام مراحل میں خصوصی سرپرستی کرنے پر ہم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مشکور ہیں۔مدارس دینیہ کا اڑھائی سو سالہ پرانا نظام ذہین طلباء کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کررہا ہے۔ نصاب پر نظر ثانی کے مخالفین نسلوں کے ساتھ ظلم کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں اور انہیں علم و ادب اور تعمیر و ترقی کے مرکزی دھارے سے کاٹ رہے ہیں۔ ایسے تمام علماء اپنے احوال پر نظر ثانی کریں اور امت پرترس کھائیں۔
    نظام المدارس پاکستان کے ناظم اعلیٰ علامہ میر آصف اکبر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نظام المدارس پاکستان نے حکومت کو متنازعہ وقف ایکٹ پر نظر ثانی پر آمادہ کر کے علماء و مشائخ کا ایک اہم مطالبہ منوایا۔ انہوں نے کہا کہ نظام المدارس مدارس دینیہ کی ایک مضبوط آواز بن چکا ہے۔
    نظام المدارس پاکستان کے کنٹرولر امتحانات علامہ عین الحق بغدادی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مدارس دینیہ کے نصاب پر نظر ثانی کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ان شاء اللہ اس میں کامیاب ہوں گے۔ نظام المدارس کی تعلیمی پالیسی مقابلہ نہیں موازنہ اور مکالمہ ہے۔ ہمارا مقصد ایک دین دار تعلیم یافتہ نسل پروان چڑھانا ہے۔ نظام المدارس کا نصاب عصری تقاضوں کے مطابق ہے۔ مدارس دینیہ کے ساتھ مشاورت کر کے آگے بڑھیں گے۔اجلاس میں علامہ محمد اشفاق علی چشتی، علامہ محمداسلم صابری، پروفیسر ثمر عباس، علامہ خلیل احمد قادری، مفتی غلام اصغر صدیقی، مفتی رفیق قادری رندھاوا، مفتی شہزاد احمد سجاد، علامہ پروفیسر آصف شہزاد جماعتی، علامہ محمد شہزاد تبسم، علامہ مفتی خلیل احمد حنفی، علامہ گل محمد چشتی، علامہ پروفیسر اشتیاق حبیب، قاری رحمت اللہ عصمت نے بھی اظہارخیال کیا ہے.

  • سائبان اُجڑ رہے ہیں! تحریر:عقیل احمد راجپوت

    سائبان اُجڑ رہے ہیں! تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی میں اس وقت نا جائز تجاوزات کے خلاف آپریشن بہت تیزی سے جاری ہے جس میں برساتی نالوں کے اطراف قبضہ کرکے یا کے ایم سی اور کے ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اصل یا جعلی کاغذات کے حصول کے بعد بنائے گئے سائبان کو گرایا جائے گا اور گرایا جا بھی رہا ہے دوسری جانب کراچی سرکلر ریلوے کی زمین پر بنائی گئی تعمیرات پر بھی ہر دن بلڈوزر پہنچ جاتے ہیں یہ سب کچھ ایک دم سے نہیں ہوگیا یہ سالوں کی عقل مندی اور ذہانت کا وہ پھل ہے جو کراچی کے عوام اب جا کر چکھ رہے ہیں کیونکہ کراچی میں ادارے تو بہر حال ہر وقت موجود ہی تھے ایسا تو کبھی بھی نہیں ہوا ہوگا کے کراچی کی تعمیراتی اور آبادکاری کرنے والے ادارے چھٹیوں پر گئے ہوئے ہو اور عوام نے ان کی ادوار میں ناجائز تعمیرات کرلی ہو ایسا بھی نہیں ہوسکتا کے کراچی شہر میں آپ ایک دیوار جائز زمین پر بنا رہے ہو اور آپ کو مٹھائی کا ہرجانہ نا بھرنا پڑا ہو کراچی والے یہ سب جانتے ہیں لیکن ایسا کیا ہوا جو ہزاروں گھروں کی تعمیرات ہوتی رہی اور کراچی سے ہر ماہ کروڑوں روپے تنخواہیں وصول کرنے والے ادارے سوتے رہے ہوا کچھ یوں کے ہر منسلک ادارے نے اپنے حصے کا مال غنیمت وصول کیا اور آنکھوں کو بند کئے رکھا کیونکہ ان کی سمجھ کے مطابق بنی گالا کو ریگولیشن کے لئے چھوٹ مل سکتی ہے تو یہ تو بچاری غریبوں کی بستیاں ہیں یہاں کس نے آجانا ہے لیکن ہوا کچھ الٹ بلکہ وہ ہوا جس کا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کراچی میں برسوں کی محکمہ جاتی نااہلی کا سارا بوجھ ان غریبوں پر ڈال دیا گیا جو پہلے ہی اپنے حصے سے زیادہ تاوان ادا کرچکے تھے اور کچھ تو ایسے بھی تھے جن کی قسمت میں ساری زندگی کی کمائی جمع کرنے کے بعد لینے والے اپنے آشیانے میں رہنے کا موقع چند دنوں پہلے ہی میسر آیا تھا اطلاعات کے مطابق لوگ خد کشیاں کر رہے ہیں پاگل دیوانے کی طرح اس ملک خداداد پاکستان کی ریاست جو کے ایک ماں کی طرح اپنے بچوں کو اپنی باہوں میں سمولے گی سوچ کر ادھر ادھر بھاگتے گرتے پڑتے کسی معجزے کی امید کا انتظار کررہے ہیں بچیوں کے رشتے ختم ہوگئے لوگ ایک ہی لمحے میں روڈ پر آگئے مگر نیا پاکستان ہے کے ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا ریاست مدینہ کے دعویدار ان غریبوں کے آشیانوں کو ایک آرڈیننس کے زریعے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ہر کام کی کوئی قیمت ہوتی ہے یہ غریب چیئرمین سینیٹ کے انتخابات تھوڑی ہیں جو تعداد پوری نا ہونے کے باوجود جیتا جاسکتا ہے یہ یوسف رضا گیلانی بھی نہیں جو سینیٹ میں معجزہ دکھا کر سینیٹر بن جائے یہ غریب جہانگیر ترین بھی نہیں جو اپنا علیحدہ گروپ بناکر اپنے حق میں حکومتوں کو جھکا سکیں یہ تو وہ غریب پاکستانی ہیں جو دودھ سے لیکر مرغی اور چینی سے لیکر پیٹرول تک ہر چیز میں اضافی رقم دیکر بھی اپنے حصے کا آئینی حق جو انہیں پاکستان کے آئین کے مطابق حاصل ہے وہ ہی حاصل کر لیں

    چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ آبادکاری کا فزیکل ریویو کروا کر جس سن سے آبادکاری شروع ہوئی آج تک پوسٹ ہونے والے تمام ہی افسران سے عوام کے نقصانات کا حرجانہ وصول کیا جائے ہرجانہ ادا نا کرنے والے کی جائیدادوں کی نیلامی کرکے رقم وصول کی جائے این او سی جاری کرنے والے محکموں سے حاصل کردہ ریونیو غریبوں میں واپس تقسیم کیا جائے اگر انصاف کا عمل کراچی سے شروع ہو ہی گیا ہے تو اس کو پاکستان کے طول وعرض میں پہنچایا جائے آل آصف اسکوائر کے قبضے ہوئے الاٹیز کو ان کے آشیانے واپس کرائے جائے قابضین سے دہائیوں رہنے کا رینٹ الاٹیز کو دلوایا جائے .اور میں تو کہتا ہوں کے بس انصاف کیا جائے جو دنیا کے سامنے چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا اعلان کرے

  • مقبوضہ کشمیر اور پاکستان :تحریر: معین الدین بخاری

    مقبوضہ کشمیر اور پاکستان :تحریر: معین الدین بخاری

    کشمیر کا جب بھی ذکر کریں تو دو باتیں ضرور ذہن میں آتی ہیں ایک تو ظلم و ستم کی نا ختم ہونے والی داستان اور دوسری بات قائد اعظم محمد علی جناح کا مشہور قول کہ "کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔” تقریباً 73 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی اہل کشمیر کے دکھ درد میں کمی واقع نہیں ہو سکی ہے بلکہ یہ ظلم و ستم کی داستان ہے کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔
    کشمیر ایک ایسی بے بسی کی تصویر ہے کہ جہاں اقوام متحدہ کے 194 ممالک میں سے صرف پانچ ممالک (چین، ایران، ترکی اور ملائشیا ) مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے لائی گئی پاکستانی قرارداد کے حق میں ووٹ دیتے ہیں باقی پوری دنیا اہل کشمیر پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والے بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ یوں تو شروع ہی سے کشمیریوں پر بے شمار مظالم ڈھائے جاتے رہے ہیں جن میں غیر قانونی پولیس تشدد، پھر کشمیریوں کا encounter اور معصوم کشمیریوں کی عصمت دری سر فہرست ہیں لیکن مودی کے موجودہ دور حکومت میں تو یہ مظالم ہر حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔

    آرٹیکل 370 اور 35 میں ترمیم کے بعد ہی کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر کے 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں پر 9 لاکھ سے زائد فوج سے محاصرہ کر کے تمام کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے یہاں تک انکی فصلیں تباہ، ادویات ناپید اور اشیائے خور دنوش بھی چھین لی گئی ہیں۔ آئے روز درجنوں کشمیریوں کو پابند سلاسل کیا جانے لگا ہے۔ اسی طرح کئی کشمیریوں کو ناحق شہید کر دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ جو کشمیری کشمیر کے علاوہ رہائش پذیر ہیں انہیں بھی جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ہے ۔
    ایسے سنگین حالات میں بھی کشمیری عوام نے پاکستان سے محبت کا دامن نہیں چھوڑا اور آج تک پر امید ہیں کہ پاکستان کی عظیم افواج اپنے خواب غفلت سے بیدار ہو کر آئیں گے اور انکی تمام مشکلات سے جان بخشی کروائیں گے ۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے کشمیر کے مسئلے کو دنیا کے اعوانوں تک پہنچانے میں کردار ادا کیا ہے اور دنیا سے مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے لیکن بندہ ناچیز کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ اقوام متحدہ تو اپنی پاس کردہ قرارداد کی حفاظت کیلئے بھی ایک لفظ تک نہیں بولا۔

    ادھر پاکستان میں حالات یہ ہیں کہ دیگر سیاستدانوں کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ صاحب نے بھی بیان دیا کہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے۔ ایسے وقت میں جب انڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی ہندوستان کا حصہ ہے اور انڈیا کسی بھی وقت فوجی کارروائی سے یہ حصہ واپس لے کر قبضہ کر سکتا ہے تو ہمارے سیاست دانوں اور آرمی چیف کا بیان حیران کن ہے ۔
    آرٹیکل 370 کی ترمیم کے بعد بھارتی جنرل کانفرنس کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان خواتین کی عصمت دری جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے اور ہمارے حکمران صرف اس بات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ ہم کشمیر کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے ۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں ہم جب اپنے سیاستدانوں سے یہ سنتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ لوگ پاکستانی اور کشمیری قوم کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ جبکہ آج تیسرا سال خصوصی اور عمومی طور پر 73 سال سے زائد ہو گیا ہے اور پاکستان کشمیر آزاد کروانے کے درپے ہے پھر ہم ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکے جبکہ انڈیا پورے کشمیر پر قابض ہو گیا ہے تو حضرات میرا سوال صرف یہی ہے کہ کیا ہم واقعی اہل کشمیر سے مخلص ہیں اور کیا واقعی کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے؟ اگر جواب آپ کے پاس ہے تو ضرور دیجئے!