Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور

    میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور

    میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور
    یوں تو سبھی کراچی کے وارث بنتے ہیں مگر جہاں بات کراچی والوں کے حقوق کی آئے تب وفاق دانتوں میں انگلیاں دبائے خاموش اور صوبائی حکومت سب اچھا ہے کا راگ الاپتی نظر آتی ہے کسی کو کوئی غرض ہی کے شہر کراچی میں پانی ہے یا نہیں بجلی آئے نا آئے لاکھوں کے بل آنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی نلکوں میں پانی کی امید لگائے کراچی والے ٹینکر مافیا کے رحم وکرم پر گزربسر کررہے ہیں پانی تو خرید کر پینا پڑے گا آخر پورے ملک کو پالنے کی زمہ داری کراچی والوں کی جو ہے گھر میں گیس آئے نا آئے سی این جی پمپ پر گیس ملنا کسی کراچی والے کے لیے نعمت سے کم سے روزگار کی خاطر رکشہ چلانے والے اس مہنگائی میں کیسے چلائیں پیٹرول پر رکشہ یہاں تو بڑے بڑوں کا تیل نکال دیا ہے مہنگائی نے، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر آپکو ہیل پارک کے جھولوں کا مزہ نا آئے تو کیا ہی بات ہے کہنے کو کما کر دینے والا شہر ہے مگر حساب وہی ماں اولاد کو اچھا کھلا کر پہنا کر خود بھوکی رہ جاتی ، ارے جناب ہم سے کوئی وقت کی پابندی سیکھے کے الیکٹرک کے لوڈ شیڈنگ کر کر کے عوام کو گھڑی دیکھنے کی عادت ہی چھڑا دی اب تو بجلی جانے آنے کے حساب سے ہی کراچی والوں نے خود کو ڈھال لیا ہے
    گھر سے باہر نکلتے ہی اپکو لگے گا آپ کسی کچرے کے جزیرے پر پہنچے ہیں جگہ جگہ کوڑا بہتے گٹر پارکس میں غلاظت اور ہمارے خوبصورت شہر کے بیچ پولیس کی موجودگی میں پل کے نیچے بیٹھے نشئی جو ہر طرح کا نشہ باآسانی کرتے ہی نہیں بیچتے بھی ہیں تھوڑا آگے بڑھ جائیں تو غیر مقاموں کی بڑی آبادی آپکو نظر آئے گی جنہونے اس شہر کو اپنا آبائی گھر سمجھ کر بستر ڈالے ہوئے ہیں ہم پھر بھی آف نہیں کرتے کیونکہ ہم کراچی والے ہیں ہم میں سب سما جاتے ہیں مگر ہمارا دکھ ہمارے مسائل نا کوئی سیاسی جماعت حل کر سکی نا ہی وفاقی حکومت نے "کھاتے ہیں تو لگا بھی دیں” ایک بار بھی سوچا نہیں،

    میں کراچی ہوں میں بارش،ٹوٹی سڑکیں، ٹرانسپورٹ،بہتے گٹر، بے روزگاری، لاچاری، پانی کی قلت میں سب برداشت کرونگا مگر میں تم سب کو پالوں گا کسی کو بھوکا نہیں مرنے دنگا میں خود سب سہتا رہوں گا ٹوٹ جاؤنگا مگر تمہارے گھروں کے چولھے بجھنے نہیں دنگا ہاں میں بے بس ہوں میں اکیلا ہوں مگر میں تم کو اکیلا نا چھوڑوں گا تم سب مجھ کو نوچ کر کھالو میں اف تک نا کرونگا ہاں میں "لاوارث” ہوں پر تم کو "لاوارث” نا چھوڑوں گا

  • معاشرے کی اصلاح کیسے ہوگی؟ تحریر: احمد لیاقت

    معاشرے کی اصلاح کیسے ہوگی؟ تحریر: احمد لیاقت

    کچھ لوگ معاشرےکی اصلاح کی بات کرتےہیں ضرور کرنی بھی چاہیے، اور کچھ لوگ معاشرےمیں انصاف کی بات کرتےہیں یہ بھی ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس پر بہت کم بات ہوتی ہے کہ معاشرے میں بگاڑ اور فساد کب پیدا ہوتاہے؟

    معاشروں میں بگاڑ خدا کی قائم کردہ حدود اور لمٹ کو کراس کرنے سے پیدا ہوتا ہے، دنیا میں جن افراد اور معاشروں نے بھی اللہ کی قائم کردہ لمٹ کو کراس کیا انہوں نے کسی اور پر نہیں خود پر ظلم کیا، معاشرے کا بگاڑ صرف غریب ملکوں میں نہیں ترقی یافتہ ملکوں میں زیادہ نظر آتا ہے

    چودہ سو سال پہلے اللہ پاک نے ہمیں اپنی قائم کردہ حدود سے باہر نکلنے کے نقصانات سے آگاہ کردیا تھا اللہ تعالی کے اس ارشاد کی روشنی میں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہےکہ

    یہ اللہ کی حدیں ہیں سو ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا سو وہی ظالم ہیں۔ (سورہ بقرۃ 229)

    معاشرے اور افراد کو حدور اور لمٹ میں قائم رکھنے کے لیے سب سے بڑی چیز انصاف اور عدالت ہے جس کی نصیحت خدا نے چودہ صدیاں قبل حکمرانوں سے فرمائ تھی

    اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو ، بے شک اللہ تمہیں نہایت اچھی نصیحت کرتا ہے بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے (سور نساء 58)

    معاشرے کی اصلاح کے لیے لمبی چوڑی پلاننگ کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو یہ دو آسان نسخے بتا دیے ہیں ان پرعمل کی ضرورت ہے، معاشرے کے افراد خدا کی بتائ ہوئ لمٹ میں زندگی بسر کریں اور جو بھی اس لمٹ کو کراس کرے چاہے وہ غریب ہو یا امیر عالم ہو یا جاہل اسٹوڈنٹ ہو یا ٹیچر مرد ہو یا عورت اور فقیر ہو یا بادشاہ اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے، جس دن یہ دو کام ہوگئے معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا۔

    کسی ایک فرد کی اصلاح معاشرے کی اصلاح ہے
    یہ کہاوت بھی اسلام کے بالکل برعکس ہے اسلام کہتا ہے کہ اسلام کو ریاست میں نافذ کرو جس میں معاشرے کی اصلاح ہوگی معاشرے میں ہر انسان کی اصلاح ہوگی

  • قومی ہاکی ورلڈ کپ کے ہیرو بلڈ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہوگئے

    قومی ہاکی ورلڈ کپ کے ہیرو بلڈ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہوگئے

    ہاکی ورلڈ کپ 1994 کے ہیرونوید عالم کینسرکی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں، اولمپئن نوید عالم کو بلڈ کینسرکی تشخیص شوکت خانم ہسپتال میں ہوئی ہے، نویدعالم بیجنگ اولمپکس میں پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی رہ چکے ہیں.
    بیٹی حاجرہ نوید نے بتایا ہے کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرزنےعلاج کیلئے 40 لاکھ روپے کا تخمینہ بتایا ہے، بابا نے پاکستان کو94 کا ورلڈ کپ جتوایا تھا، علاج میں مدد کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت اورصوبائی حکومتوں سے بھی علاج میں مدد کی اپیل کی گئی ہے.
    اولمپین چیمپین نوید عالم نے 1994 کا ورلڈ کپ جتوایا تھا، وہ 2005 سے 2007 تک ہاکی فیڈریشن میں سیکٹری کے عہدے پر تعنیات رہے تھے، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے خلاف بات کرنے پر فیڈریشن نے انہیں ڈیئریکٹر جنرل کے عہدے برخواست کردیا تھا.

  • بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار.تحریر : ریحانہ جدون

    بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار.تحریر : ریحانہ جدون

    بچوں کی تربیت بڑا کٹھن کام ہے کیونکہ آج کے اس دور میں بچے کی تربیت کے ساتھ ساتھ آپکو اپنی تربیت بھی کرنا پڑے گی, آ پکو اپنی عادات بھی درست کرنا پڑیں گی کیونکہ بچہ آ پ سے ہی سیکھتا ہے, آ پ ہی کی نقل کرتا ہے, ہر بات میں ویسا ہی ردعمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسا آ پ کرتے ہیں جیسا دیکھے گا ویسا کریگا اور جیسا سنے گا ویسا بولے گا. اپنا بچہ کس کو پیارا نہیں ہوتا… یہ ہمارے پیار کی شدت کا ہی ایک پہلو ہے کہ ہم اسکی ضرورت سے زیادہ دیکھ بھال اور نگرانی کرتے ہیں اور فکر رہتی ہے کہ اسکو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسکا بچہ ذہنی و جذباتی لحاظ سے بھی صحت مند ہو, اُسکا کردار اُسکی عادات اچھی ہوں اور بڑا ہوکر ایک مہذب اور کامیاب انسان بنے.

    ہماری اسی شدت آرزو کی وجہ سے ہم بچے کو متوازن بنانے کی کوشش میں خود متوازن نہیں رہتے اور کئی دفعہ ہم منفی رویہ اختیار کرجاتے ہیں, جیسا کہ عموماً ہم کرتے ہیں,, یہ نہ کرو, وہ نہ کرو, تم کوئی کام نہیں کرتے, یہ کیوں کِیا, یہ کیا کردیا, وغیرہ وغیرہ

    اب زرا غور کریں تو اس میں صرف دو جُز نظر آئیں گے ایک نفی اور دوسرا حکم کا…
    اور یہ دونوں اجزاء تعمیر کے نہیں بلکہ تخریب کے ہیں اور تربیت کے لئے سخت مضر.

    بیشک آپکا مقصد نیک ہے اور آپ اپنے بچے کو اچھا انسان بنانا چاہتے ہیں مگر یہ طریقہ درست نہیں کیونکہ اگر آ پ تعمیر چاہتے ہیں تو آپکا انداز بھی تعمیری ہونا چاہیے .بچہ ایک مستقل شخصیت رکھتا ہے اور اسکی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی. بچے کو مناسب آزادی دیں کہ وہ اپنی اصلی شخصیت ظاہر کرسکے. آپکی ڈانٹ ڈپٹ آپکا منفی رویہ بچے کی شخصیت کو دبا دے گا. کوشش کریں کہ اپنی شخصیت بچے پر مسلط نہ کریں.

    بات چیت اور رویے میں غصے, اکتاہٹ اور کھردرے پن کا ثبوت نہ دیں. اگر بچے کے کسی کام یا بات سے آپکو غصہ آ رہا ہوتو کوشش کریں اُس وقت بچے سے بات نہ کریں, اپنے غصے پر قابو پانے کے بعد بات کریں, صبر و ضبط کا ثبوت نہ دیں گے تو بچوں میں تحمل کہاں سے آئے گا؟اُن کو پیار سے سمجھائیں اور آپکا لہجہ ایسا ہونا چاہیے کہ بچہ اسکو غور سے سُنے اور سمجھے. جہاں تک ممکن ہو انکے کھیل کود میں دخل نہ دیں کیونکہ بچوں کا کھیل بھی انکے کام کا حصہ ہوتا ہے اور کھیل سے وہ کام کرنا سیکھتے بھی ہیں. بچوں کے ساتھ دوستانہ رہنمائی کا انداز اختیار کریں, منفی کی بجائے مثبت رویہ اپنائیں. اسطرح ایک مثبت ذہن تیار ہوگا.

    کئی والدین بچوں کے ساتھ سخت رویہ اپناتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بچہ کوئی غلطی کردیتا ہے تو والدین کے خوف سے والدین سے بات چھپانے لگتا ہے, بچے کے ساتھ آپکا دوستانہ رویہ ہوگا تو بچہ ہر بات آ پ سے شیئر کریگا. بچہ جب اسکول یا مدرسے سے واپس آ ئے تو دوستانہ رویے سے پوچھیں آج میرےبچے نے کیا کیا پڑھا آج کیا کیا کِیا… اور دیکھنا وہ شوق سے آپکو بتائے گا ہم نے آج یہ پڑھا, آج یہ کھیل کھیلا وغیرہ

    کہنا یہ ہے کہ بچے کی اپنی شخصیت کو ابھرنے کا موقع دیں. آپ اپنی شخصیت کو زبردستی اس پر نہ مسلط کریں. بچے کو کسی جائز کام اور ضروری بات سے محض اس لئے نہ روکیں کہ وہ آپکے مزاج کے خلاف ہے یا آپ کے مشاغل میں فرق آتا ہے. دیکھیں ایک حیوان بھی اپنے بچوں کو بھوکا نہیں چھوڑتا کسی نہ کسی طرح انکا پیٹ بھر دیتا ہے, مگر صرف انسان ہی ہے جو اپنی اولاد کو اگر کچھ قیمتی دے سکتا ہے ہے تو وہ ہے بہترین تربیت… آ پکی یہی بہترین تربیت انسان کی بہترین خدمت بھی ہے اس طرح آپکا بچہ ایک بہترین اور مہذب انسان بنے گا انشاءاللہ

  • یس سر سے ابسلیوٹلی ناٹ تک کا سفر .تحریر: سنگین علی زادہ

    یس سر سے ابسلیوٹلی ناٹ تک کا سفر .تحریر: سنگین علی زادہ

    سوال:
    کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے معاملے میں اتنا ہی غیر سنجیدہ ہے کہ بیس سال پہلے ریاست نے ایک فیصلہ کیا تھااور بیس سال بعد پاکستان 180 ڈگری کا یوٹرن لے کر الٹا پھر گیا؟ یعنی بیس سال پہلے امریکہ کو اڈے دیے، اتحادی بن کر یس سر کیا تو اب بیس سال بعد ابسلیوٹلی ناٹ کیوں کر رہا ہے؟ جس طرح آج سے بیس سال پہلے کیے گئے مشرف کے ایک فیصلے کو عمران خان اسمبلی میں آج غلط قرار دے رہے ہیں، کیا اب سے بیس سال بعد کا کوئی حکمران اسمبلی میں کھڑے ہو کر عمران خان کے موجودہ فیصلے کو بھی غلط قرار دے رہا ہو گا؟ کیا ہم خارجہ پالیسی کے معاملے میں یوں ہی کوہلو کے بیل کی طرح ایک دائرے میں گھومتے رہیں گے؟
    جواب:
    1
    نائن الیون سے چالیس سال پہلے امریکہ نے افغان جنگجوؤں کو روس کے خلاف کھڑا کر کے پوری دنیا میں ج ہ ا د شروع کروایا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے انہی لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر ایک سو اسی ڈگری کا ٹرن لیا۔ تب نا تو آپ نے امریکہ کو کوہلو کا بیل قرار دیا نا ہی آپ کو امریکی خارجہ پالیسی دائرے میں گھومتی دکھائی دی۔ بلکہ آپ نے دل و جان سے امریکہ کے اس فیصلے کی تائید کی۔ آج اگر پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ہے تو آپ کو تکلیف کیوں ہے؟
    2
    دنیا کی ہر ریاست میں خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد ریاست کا مفاد ہوتا ہے۔ نائن الیون سے دو سال پہلے پاکستان ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے معاشی اور ملٹری پابندیوں میں جکڑا جا چکا تھا۔ ہم ایٹم بم بنا چکے تھے مگر حالات واقعی گھاس کھانے والے بنتے جا رہے تھے۔ ایسے خراب معاشی حالات میں امریکہ کے ساتھ جنگ شروع ہوتی تو یہ دانشور جو آج مشرف پہ اڈے دینے کےلیے اعتراض کر رہے ہیں، وہ گھاس کھا کھا کے مر چکے ہوتے اور ان کی بھٹکتی آتما مشرف کو اڈنے نا دینے کی وجہ سے پورے پاکستان میں گالیاں دیتی پھرتی۔

    3
    آج عمران کے ابسلیوٹلی ناٹ اور مشرف کی یس کے درمیان بیس سال کا فرق ہے۔ ان بیس سالوں میں بہت کچھ بدلا ہے۔ مثلاََ
    بیس سال پہلے افغان سٹوڈنٹس کے ساتھ دنیا کا ایک بھی ملک نہیں کھڑا تھا آج درجن بھر ملک ان کے ساتھ ہیں۔
    بیس سال پہلے کا چین زمین پہ تھا آج آسمان پہ ہے اور امریکہ کو ٹکر دینے کےلیے پوری طرح تیار ہے۔
    بیس سال پہلے کا روس معاشی طور پر بدحال تھا اور امریکہ اسے مردہ ریچھ قرار دے چکا تھا۔ آج وہ ریچھ امریکا کو جِن جپھا ڈالنے کےلیے ہوشیار کھڑا ہے۔
    بیس سال پہلے افغانستان میں امریکہ کی موجودگی سے چین اور روس دونوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا مگر آج ہے۔
    بیس سال پہلے کوئی سی پیک نہیں تھی، کوئی گوادر پورٹ نہیں تھی جن کی وجہ سے چینی مفادات کو خطرہ ہوتا اور وہ امریکہ کو یہاں سے نکالنے کےلیے پاکستان کا ساتھ دیتے۔ آج یہ سب کچھ ہے اور وہ پاکستان کا ساتھ بھی دے رہے ہیں۔
    ایسے آئیڈیل حالات اگر عمران خان کے بجائے مشرف کو اس وقت ملتے جیسے آج ہیں یقیناََ مشرف امریکہ کو ناں کرتا۔
    مگر مشرف نے ہاں کی اس لیے کہ
    1 پاکستان اس وقت اس قابل نہیں تھا کہ افغانستان کی جنگ کو اپنے گھروں میں داخل کرے۔
    2 پہلے سے موجود معاشی پابندیوں کو ختم کروانے کے بجائے دوگنا کرے۔
    3 بھارت کو موقع دے کہ اپنے اڈے امریکہ کو دے اور وہ بحرہِ ہند کے پانیوں سے ہوتا ہوا بھارت میں ڈیرہ لگائے، وہاں سے پاکستان پہ حملہ کرے اور پاکستان کو کھنڈر بنا کر یہاں اڈے بنانے کے بعد یہاں سےا فغانستان کو فتح کرے۔

    اوپر لکھا ہےکہ دنیا کی ہر ریاست کی خارجہ پالیسی کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ مشرف نے ریاست کے مفادات کا تحفظ کیا۔ آج بیس سال بعد ریاستی مفاد کا تحفظ امریکہ کو جگہ دینے کے بجائے نکالنے میں پوشیدہ ہے لہذا ہم نے یہی کیا۔ یہی امریکہ نے کیا تھا۔ چالیس سال پہلے جو م ج ا ہ د تھے چالیس سال بعد وہ دہشت گرد تھے۔ یہی دنیا کی ہر ریاست کرتی ہے۔ یہی مثال چودہ سو پہلے مدینہ کی ریاست میں بار بار ملتی ہے۔ ریاستِ مدینہ کے تحفظ کےلیے یہودیوں جیسی قوم کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔ پھر ریاستِ مدینہ کے تحفظ کےلیے ہی انہی یہودیوں کے ساتھ جنگ کی گئی۔ ریاستی مفاد کے تحفظ کےلیے ریاستِ مدینہ نے مکہ کے کفار کے ساتھ صلحِ حدیبیہ کی تھی۔ اور پھر ریاستی مفاد کے تحفظ کےلیے ہی انہی کفارِ مکہ کے ساتھ جنگ کی گئی تھی۔ بلاشبہ ریاستِ مدینہ اور ریاستِ پاکستان کے مفادات میں یقیناََ فرق ہے۔ مگر یہ حقیقت کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ وہ ریاستِ مدینہ اور یہ ریاستِ پاکستان دونوں مسلمان ریاستیں ہیں۔ آپ مشرف کے فیصلے کے بجائے اس فیصلے اثرات دیکھو۔
    کیا بیس سال یہاں رہ کر امریکہ کوئی کامیابی لے سکا؟
    کیا افغان سٹوڈنٹس ختم ہو گئے؟
    کیا آج پھر افغان سٹوڈنٹس اسی طرح طاقتور نہیں؟
    کیا پوری دنیا میں امریکہ بدنام نہیں ہوا کہ مٹھی بھر جنگجوؤں کو ختم نہ کر سکا؟
    اور سب سے بڑھ کر،
    کیا بیس سال بعد ہی سہی پاکستان اس قابل نہیں ہوا کہ امریکہ کو ابسلیوٹ ناٹ کہہ سکے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر دکھ کاہے کا ہے ببوا؟
    تحریر: سنگین علی زادہ۔

  • ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ .تحریر: بشارت محمود رانا

    ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ .تحریر: بشارت محمود رانا

    پاکستان کا خواب دیکھنے اور اپنی لازوال شاعری کے زریعے محکوم اور بدحال مسلمانانِ برصغیر کو جگانے والے عظیم مفکر ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال رح صاحب کے لکھے گئے اس شعر میں جتنا وزن، وسعت اور دور اندیشی میں نے محسوس کی ہے آج اپنی اس تحریر کے زریعے اور اپنے ناقص سے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ کسی حد تک اس کا احاطہ کر سکوں

    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

    ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

    جب کبھی بھی ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال رح صاحب کا یہ شعر میری نظر سے گزرتا ہے تو یقین جانیں کہ میں اس سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کیا میں علامہ صاحب کی اس بات پہ پورا اتر رہا ہوں یا پھر اس پہ پورا اتر سکنے کی کوشش تک بھی کر رہا ہوں

    لیکن! ہر بار میں اس کے جواب میں خاموش سا رہ جاتا ہوں اور کوئی جواب نہیں ڈھونڈ پاتا وہ اِس لئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ علامہ محمد اقبال رح صاحب کی زیادہ تر فکر اور شاعری حضورِ اقدس جناب محمّد رسول اللہ ﷺ کی احادیث و فرامین اور اُن کی قائم کردا ریاستِ مدینہ میں نافذ کردہ قوانین اور اصولوں کے گرد ہی گھومتی ہے

    تو میرے مطابق علامہ اقبال رح صاحب کا یہ کہنا کہ

    “ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

    یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اگر کوئی سمجھے تو ہم سب کیلئے بہت بڑے اعزاز کی بھی بات ہے۔ جس کو بطور ایک “ملّت کا ستارہ” بن کے نبھانا ہم سب پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے۔ قطع نظر اس کے کہ چاہے آپ ایک وزیراعظم، ایک وزیر، ایک آرمی چیف، ایک جنرل، ایک فوجی،ایک چیف جسٹس، ایک جج، ایک وکیل، ایک سی ایس پی آفیسر، ایک سائنسدان، ایک پروفیسر، ایک ٹیچر، ایک بیوروکریٹ، ایک گورنمنٹ آفیسر، ایک سول سروینٹ، ایک ڈاکٹر، ایک بینکر، ایک بزنس مین، ایک انجینئر، ایک صحافی، ایک ادیب و شاعر، ایک اداکار و فنکار، ایک سنگر، ایک کسان و دہقان، ایک مزدور و دیہاڑی دار، ایک طالب علم، کوئی بچہ یا بوڑھا اور کوئی مرد یا عورت یہاں تک کہ ہر اِک فرد اِس ملکِ خدا داد پاکستان کیلئے ایک روشن اور چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہے اور ہم سب اپنی اپنی پہنچ اور استطاعت کے مطابق پاکستان کے ہر اچھے اور بُرے ایمج کے ذمہ دار ہیں۔

    تو پھر کیوں ناں ہم سب بطور ایک ذمہ دار شہری اپنی اپنی اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے (قطع نظر اس کے کہ آپ سیاسی طور پہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا لیڈر کو پسند یا نا پسند اور سپورٹ یا مخالفت کرتے ہیں کیونکہ جہاں ہمارے پیارے ملک پاکستان کی عزت اور وقار کی بات آئے تو ہمیں اپنی ہی کھینچی ہوئی اِن ریڈ لائنز کو خود ہی جوتے کی نوک پہ رکھتے ہوئے اپنے اس ملک پاکستان کے حق میں ہونے والی ہر اچھائی کے ساتھ اور ہر برائی کے خلاف کھڑا ہونا ہے) ہمیں اپنے اِرد گرد ہر اُس اچھائی کا ساتھ دینا ہو گا جو ہمارے پیارے مذہب اسلام، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے فرامین و تعلیمات کے مطابق ہوں اور ہر اُس برائی کے خلاف دیوار بن کے بھی کھڑے ہونا ہو گا جو آنحضرت ﷺ کے فرامین و تعلیمات کے برعکس ہوں اور مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال رح صاحب کے اِن اشعارمیں بھی اسی بات کا درس دیا گیا ہے۔

    اور ایک طرح سے اگر غور کیا جائے تو اس میں اصلاً آپ کو “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” ہی کی اصل روح بھی نظر آئے گی جس کا حکم ہمیں اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بھی بار بار دیا ہے۔

    تو میرے پیارے پاکستانیو! جس طرح سے ڈاکٹر علامہ اقبال رح صاحب نے ہم سب کو یہ کہہ کر ذمہ دار قرار دیا ہے کہ “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر” میرے نزدیک اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنے ملک اور قوم کی تقدیر کو خود لِکھ کے (اچھی یا بُری) اِس کو عملی جامہ پہنانا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔

    اور اب یہ ہم پہ منحصر ہے کہ ہم اس ملک و قوم کی شان، قدر ومنزلت کو دنیا کے سامنے اچھائی کی صورت میں پیش کرتے ہوئے اپنے پیارے ملک پاکستان کی شان میں اضافے کا باعث بنتے ہیں یا پھر اس سب کے برعکس ہم اپنے اِس ملک پاکستان کی شان، قدر ومنزلت کو اپنی اپنی برائیوں میں پڑنے کے بعد اقوامِ عالم میں بدنام کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

    اور ہم میں سے ہر کوئی اس میں برابر کا شریک ہے۔

    تو اب آخر میں اپنے سب پاکستانیوں سے یہ کہوں گا کہ آپ کبھی بھی اس بات کو فراموش مت کرنا کہ آپ لوگ اُس ملک کے باسی ہیں جو ریاستِ مدینہ کے بعد اسلام کے نام پہ کی گئی ہجرت کے بعد اور ہمارے بزرگوں کی لاکھوں قربانیوں، بہت سے ولیوں کی دُعاؤں اور کئی عظیم لیڈروں کی محنت کے بعد ہمیں نصیب ہوا تھا۔

    اور اب ہم سب پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اِس ملک پاکستان کو اقوامِ عالم میں عظیم سے عظیم تر بنانے کیلئے ہر قسم کی تگ و دو کریں اور اپنے تائیں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔

    یقیناً! اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم سب مِل کے اس ایک مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ڈٹ جائیں تو ایک دن انشاءاللہ ہم اس میں ضرور کامیاب بھی ہو جائیں گے۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو- آمین ثم آمین

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • قومی ویمین کرکٹ ٹیم بدھ سے ویسٹ انڈیز کے مد مقابل ہوگی

    قومی ویمین کرکٹ ٹیم بدھ سے ویسٹ انڈیز کے مد مقابل ہوگی

    پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی اگلے سال آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کوالیفائرراؤنڈ اورآئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کی تیاریاں جاری ہیں، اس سلسلے میں بدھ کے روز پاکستان ویمن ٹیم کا مقابلہ ویسٹ انڈیزکی ویمن ٹیم سے ہونے جا رہا ہے، پانچ ایک روزہ میچوں پرمشتمل سیریز کا پہلا میچ انٹیگا کے کولیج کرکٹ گراؤنڈ میں بدھ کے روزکھیلا جا ئے گا، اس سال پاکستان ویمن ٹیم اپنا چوتھا ایک روزہ میچ کھیلنے جا رہی ہے، اس سے قبل پاکستانی ٹیم دورہ جنوبی افریقہ میں تین ایک روزہ میچ کھیل چکی ہے، پہلا ایک روزہ میچ کے علاوہ کولیج کرکٹ گراؤنڈ میں دوسرا اورپانچویں میچ بلترتیب 9 اور18 جولائی کو کھیلا جائے گا.
    ندا ڈار نے اس سیریزکے دوران ٹی ٹونی وکٹوں کی سنچری مکمل کی ہے، 19 سالہ فاطمہ ثناء اورڈیانا نے چارچاروکٹیں حاصل کیں ہیں، ندا ڈارکی باؤلنگ نے مخالف ٹیم کے رنزروکنے میں اہم کردارادا کیا ہے.
    جویریہ خان نے کہا کہ پاکستان ٹیم نے باؤلنگ کے شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اب ایک روزہ میچوں کی سیریزمیں بھی بہترنتائج حاصل کرنے کے لیے بیٹنگ لائن کوپرفارم کرنا ہو گا، جویریہ خان 2744 رنزبنا کرویمن ٹیم کی ایک روزہ میچوں کی کامیاب ترین بلے باز ہیں، یہ پانچ میچ ہمارے لیے بہت اہم ہیں، ان میچزسے ورلڈ کپ کوالیفائرمرحلے اوراگلے سال ویمن ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں مدد ملے گی، بیٹنگ لائن کے پرفارم کرنے سے اچھے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، ٹی ٹونٹی سیریزسے ہمیں بیٹنگ کنڈیشنزکوسمجھنے میں کافی مدد ملی ہے، ہم ایک روزہ سیریزمیں بہترپرفارم کریں گی، بیٹسمینوں کو مشکل حالات میں خود کو پرسکوں رکھنےکی کوشش کرنا ہوگی، ٹی ٹونی میں شکست پرجویریہ خان کا کہنا تھا، ہم نے میچزجیتنے کے لیےسخت محنت کی تھی، ہم نے بیٹنگ پر بہت کام کیا تھا، بدقسمتی سے ہم ایک یونٹ کی طرح پرفارم کرنے میں ناکام رہے ہیں، لیکن ہماری باؤلنگ نے بہت اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کیا جو کہ ایک خوش آئند عمل ہے، نڈا ڈا اورانعم امین بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں، فاطمہ ثناء ایک نوجوان کے طور پریشرمیں حالات کوبرداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
    پاکستان ویمن اے ٹیم کی تین میچوں پر مشتمل ایک روزہ سیریز کا آغاز ہفتے سے ہوگا، قومی اے ٹیم ہفتہ کو دوبارہ ایکشن میں نظر آئے گی۔ اس سے قبل قومی اے ٹیم تین ٹی ٹونی میچوں پرمشتمل سیریزمیں ویسٹ انڈیز کی اے ٹیم کو شکست دے چکی ہے، قومی اے ٹیم کی اوپنرعائشہ ظفرنے ایک ہاف سنچری کی مدد سے 93 رنز بنائے ہیں، کائنات امتیازنے چاروکٹیں حاصل کیں ہیں، رامین شمیم، ماہم طارق اورایمن انورنے تین تین وکٹیں حاصل کیں ہیں، رامین پاکستان اے ٹیم کی قیادت کا سلسلہ جاری رکھیں گی.
    اسکواڈ میں جویریہ خان (کپتان، قومی ٹیم)، رامین شمیم (ون ڈے کپتان، اےٹیم)، سدرہ نواز(ٹی 20 کپتان، اے ٹیم)، عالیہ ریاض، ایمن انور، انعم امین، عائشہ نسیم، عائشہ ظفر، ڈیانا بیگ، فاطمہ ثناء، ارم جاوید، جویریہ رؤف، کائنات امتیاز، کائنات حفیظ، ماہم طارق، منیبہ علی صدیقی(وکٹ کیپر)، ناہیدہ خان، ناجیہ علوی(وکٹ کیپر)، نشرہ سندھو، نتالیہ پرویز، ندا ڈار، عمائمہ سہیل، صبا نذیر، سعدیہ اقبال، سدرہ امین، اورسیدہ عروب شاہ کو شامل کیا گیا ہے.

  • بھارتی سی ڈی ایس بپن راوت کے کارنامے، تحریر:نوید شیخ

    بھارتی سی ڈی ایس بپن راوت کے کارنامے، تحریر:نوید شیخ

    بیچ میں اتوار آگیا تھا مگر چند دن پہلے کی بات ہے کہ بھارتی فواج کی جھوٹی شان و شوکت کے پرخچے دنیا کے سامنے اڑنے لگے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ناThe man behind the gun always matters ۔ اب مسلسل ناکامیوں کے سبب بھارتی افواج کے دو بڑے آپس میں لڑ پڑے ہیں ۔۔ بپن راوت نے زمینی افواج کو برتر کہا ہے جبکہ بھارتی ائیر فورس کو معاون کہا ہے ۔

    ۔ اب یہ بپن راوت کی جانب سے ایئر فورس پر ایک ڈائریکٹ حملہ تھا تو بھارتی ایئر چیف نے بھی بیان داغ دیا ۔ اور چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کے بیان کی نفی کر دی۔ کہ بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو کبھی رافیل طیاروں میں کرپشن، پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے۔۔ حالانکہ شفاف تجزیہ کیا جائے تو بھارتی فوج ۔ ایئر فورس اور نیوی سب ہی ہر جگہ ہر معاملے میں ناکام ہی ہوئی ہیں ۔ ۔ ویسے ہم کو سی ڈی ایس بپن راوت کا شکرگزار ہونا چاہیئے اور دعا کرنی چاہیئے کہ ان کا یہ عہد یوں ہی سالوں سال چلتا رہا ہے ۔ کیونکہ ان کی بدولت ہی دنیا کو معلوم ہورہا ہے کہ بھارتی افواج کوئی منظم فورس نہیں بلکہ ایک ملیشیاء ہیں ۔ ۔ جہاں افسران کو جنگ لڑنا تو نہیں آتا مگر کرپشن کرنی آتی ہے ۔ جہاں یہ تو نہیں پتہ کہ جہاز اُڑانا کیسے ہے مگر رافیل ڈیل میں دیہاڑی لگانی آتی ہے ۔ جہاں افسران کو یہ تو نہیں پتہ کہ سرحد پر کھڑے جوان کوکھانے کے لیے سوکھی روٹی اور دال کیسے پہنچانی ہے مگر یہ پتہ ہے کہ اپنے سے جونئیرز اور انکی بیگمات کو جنسی ہراساں کیسے کرنا ہے ۔ ۔ تو میری نظر میں چاہے بپن راوت ہوں بھارتی ایئر چیف ہوں یا بھارتی نیوی تینوں ہی فیل ہیں ۔ کیونکہ بھارتی فوج نے لداخ میں مار کھائی تھی تو ابھی نندن پاکستان چائے پی کر گیا تھا ۔ تو بھارتی نیوی اپنے کھڑے جہاز اور submarinesکو ڈبونے میں مہارت رکھتی ہے ۔

    ۔ میں کچھ آپکو بپن راوت کے کارنامے گنوا دیتا ہوں ۔ سب سے پہلے تو بپن روات کی سربراہی میں بھارت میں رافیل طیاروں کی خریداری میں کرپشن کا سکینڈل سامنے آیا تھا ۔ جس سے انھوں نے اپنی ہی ایئر فورس کو 45 ہزار 696 کروڑ بھارتی روپے کا ٹیکہ لگایا تھا۔۔ تو یہ ان کے کرتوت ہیں ۔ دراصل ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو 6.25 بلین ڈالر کے ٹھیکے سے نوازا گیا اور تیجا جہاز لینے پر مجبور کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی فضائیہ پہلے دن ہی ان جہازوں کو ان کی تکنیکی مسائل کی وجہ سے مسترد کر چکی تھی۔ کیونکہ 1970 ء کے بعد سے MIG-21
    کے حا دثات میں 170 سے زیادہ پائلٹ اور 40 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ بلکہ اس کو میڈیا نے flying cofins کا نام دے دیا تھا ۔یوں مگ-21 کے فرسودہ بیڑے کی جگہ تیجا جہازوں کو متعارف کرایا گیا لیکن اب تک 60 فیصد تیجا گراؤنڈ ہو چکے ہیں۔ مودی حکومت اور بھارتی ائیر فورس کا 27 جنوری کو تیجا جہاز استعمال نہ کرنا اس پروجیکٹ کی ناکامی کا عکاس ہے۔ یوں بھارتی ایوی ایشن سسٹم انڈسٹری اپنی غیر معیاری پیداوار اور دہائیوں پرمحیط اپنی مسلسل نا کامیوں اور نااہلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں بد نام ہے۔ دنیا میں خود کو چین کا متبادل اور مقابل متعارف کروانے والا ملک 26 سال میں اپنے تیار کردہ جہاز کی کینوپی کا فالٹ تک درست نہ کر پایا۔ تو یہ کارکردگی بھارتی ایئر فورس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

    ۔ دوسرا آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ سی ڈی ایس بپن راوت ہی ہیں جن کہ miscalculationکی وجہ سے بھارتی افواج نے 2020میں چین کے خلاف ایک ناکام آپریشن کیا جس میں بھارتی فوج کے افسر سمیت پتہ نہیں کتنے جوان جان کی بازی ہار گئے ۔ چینیوں نے اٹھا اٹھا کر سیدھا اوپر سے نیچے پھینکا تھا ۔ اور اگر آپ کو یاد ہو تب کی اخباری رپورٹس کے مطابق یہ کلی طور پر سی ڈی ایس بپن راوت کا پلان تھا اور بھارتی آرمی چیف کو اس کا کچھ معلوم نہیں تھا ۔ اس آپریشن کی ناکامی کے بعد یہ سننے میں بھی آیا تھا کہ سی ڈی ایس بپن راوت اور بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نروانے کی آپس میں ۔۔۔ توتو میں میں ۔۔۔ بھی ہوئی تھی ۔ چین سے مار کھانے کے بعد بپن راوت یہاں تک نہیں روکا بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت جو امریکہ کے کواڈ گروپ میں شامل ہوا ہے یہ بھی بپن راوت کا کارنامہ ہے ۔ کیونکہ اس کو یہ معلوم ہے کہ بھارتی فوج تو کسی صورت چین کا مقابلہ نہیں کرسکتیں ۔ تو امریکہ کا ہی آسرا ہو جائے مگر وقت نے طے کیا کہ یہ ایک بہت بڑا بلنڈر ثابت ہوا ۔ کیونکہ بپن راوت نے تو بس سوچا کہ امریکہ کی گود میں بیٹھ کر پتہ نہیں ان کو ٹیکنالوجی سمیت کیا کیا ملے گا ۔ جس سے یہ چین کا بھرکس بنا دیں گے ۔ پر بھارت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا بھارت کو معاشی طور پر کتنا دھچکا لگے گا ۔ چین نے بھارتی اشیاء پر مختلف طرح کی پابندی لگائی ۔ جس کی وجہ سے بھارت کو معاشی طور پر کافی نقصان پہنچا ۔ اور بھارت چین کے منتے ترالے کرتا دیکھائی دیتا ہے ۔ جبکہ چین نے جب سے لداخ کے علاقوں پر قبضہ کیا ہے وہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ہے ۔ ساتھ ہی بھارت کو اپنی افواج اتنی بلندی پر رکھنے پر اچھا خاصا خرچہ بھی کرنا پڑرہا ہے اوراچھی خاصہ تعداد میں بھارتی افواج کو مستقل طور پر وہاں رکھنا پڑ رہا ہے ۔ یوں بپن راوت کی ایک غلطی جو اس نے شروعات میں ایک ناکام آپریشن کرکے کی اس کا نقصان اب تک بھارت اٹھا رہا ہے ۔

    ۔ پھر بپن راوت نے باوجود اس کے بھارت اندرونی طور پر کچھ نہیں بناتا ہے ۔ یہ آئیڈیا دیا کہ بھارتی افواج کو made in india equipmentاستعمال کرنا چاہیئے ۔ اس فارمولے نے ابھی اپنا اثر نہیں دیکھایا ہے مگر عنقریب آپکو اس کے اثرات بھی دیکھائی دینے لگیں گے ۔ کیونکہ یاد رکھیں خراب tejasبنانے میں تیس سے چالیس سال لگے ہیں اور ساٹھ فیصد تیجا گراونڈ ہیں ۔ پیسوں کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے ۔ تو یہ made in indiaاسلحہ بھارتی فوج کی ایک اور قبر بننے جا رہا ہے ۔ ۔ اچھا جس مقصد کے لیے بپن راوت کو ایک طرح سے extension دے کر سی ڈی ایس لگایا گیا تھا ۔ وہ مقصد پورا نہیں ہوا ۔ وہ یہ تھا کہ بھارتی فوج ، بھارتی نیوی ، بھارتی ایئر فورس کے آپریشنز کو یکجا کیا جائے ۔ یعنیinteroperabilityبنائی جائے ۔ اس میں تو وہ مکمل ناکام ہوگئے ہیں ۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت سے خوش نہیں ۔ بھارتی ایئر فورس چیف سے ان کا حالیہ پھڈا آپکے سامنے ہے ۔ یقینی طور پر انڈین نیوی کو بھی ان سے شکایات ہوں گی ۔ ۔ کیونکہ بپن راوت سمجھتا ہے کہ ایئر فورس اور نیوی آرمی کے supporting armsہیں ۔ مگر ایسا ہوتا نہیں ہے ۔ یوں بپن راوت اپنی ہی فورسز کو ایک دوسرے کے سامنے لا رہا ہے ۔ اور ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے خلاف کر رہا ہے ۔ پھر بپن راوت جو cold star doctrine کی دھمکی دیا کرتا تھا وہ بھی پاکستان کب کا اٹھا کر بحر ہند میں پھینک چکا ہے ۔

    ۔ اس کے علاوہ آپکو یاد ہو یہ وہ ہی بپن راوت ہے جو two war frontsپر اکیلا لڑنے کے دعوے کیا کرتا تھا ۔ یعنی بیک وقت پاکستان اور چین کے ساتھ جنگ ۔ اب گزشتہ ایک سال سے یہ چین سے معافیاں مانگ رہے ہیں مگر اب وہ ان کو گھاس نہیں ڈال رہا ہے اور مذاکرات کے نام پر بھارتی افواج کو بھی exposeکررہا ہے اور بھارتی حکومت کے بھی ناک سے چنے چبوا رہا ہے ۔ یوں بھارتی افواج کی جھوٹی شان و شوکت کے پرخچے دُنیا کے اُڑانے میں بپن راوت کا کریڈٹ سب سے زیادہ ہے ۔آپ کا کیا خیال ہے ۔

  • جعلی سگریٹ بنانے والی فیکٹری کے مالک کو گرفتار نہ کرنے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

    جعلی سگریٹ بنانے والی فیکٹری کے مالک کو گرفتار نہ کرنے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

    دی وائس کے زیراہتمام جعلی سیگریٹ بنانے والی کمپنی وے وارڈ کے خلاف مظفرآباد مرکزی ایوان صحافت کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے، مظاہرین نے پلے کارڈ اورکتبے اٹھا رکھے تھے، جن پروے وارڈ کمپنی کے خلاف انتظامیہ اورپولیس کے خلاف نعرے درج تھے، فضا نااہل انتظامیہ ہائے ہائے، دوہرا قانون نا منظور، نااہل پولیس ہاے ہاے، جعلی سیگریٹ کمپنی بند کرو بند کرو، سے گونج اٹھی ہے، اگردوہفتے کے اندربابرتاج کو گرفتارنہ کیا گیا تویہ معاملہ دی وائس کے زیراہتمام انٹرنیشنل سطح پر اٹھایا جائے گا، جعلی کمپنی کی پشت پناہی کرنے والے نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، جس پر ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، اگرکمپنی کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گی تو ہم پشت پناہی کرنے والوں کے ناموں کوچوکوں چرواہوں میں آویزاں کریں گے.
    نوجوانوں نے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، آئی جی پی آزاد کشمیر، ڈی آئی جی، کمشنر مظفرآباد، ایس ایس پی مظفرآباد ڈی سی مظفرآباد کومخاطب کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ جعلی سیگریٹ بنانے والی فیکٹری کے مالک بابرتاج نامی شخص جس پرمتعدد ایف آئی آردرج ہوئی ہیں کو آج تک کیوں گرفتارنہیں کیا گیا ہے،بابر تاج اسمبلی میں کیسے پہنچتا ہے، بابر تاج کشمیر ہاؤس میں کیسے پہنچتا ہے، بابرتاج پرائم منسٹر ہاؤس کیسے پہنچتا ہے، سی سی ٹی فوٹیج پی ایم ہاؤس سے جعل ساز بابر تاج تک کیسے پہنچی ہیں، ایسے مقامات پر پولیس کی کڑی سیکورٹی ہوتی ہے پھر نامزد ملزم درجنوں ایف آئی آروالا جعل سازملزم ہرجگہ کیوں کھلے عام گھوم پھررہا ہے؟ آخر اس شخص کو اتنی چھوٹ کیوں دے رکھی ہے؟‌ کیا قانون امیراورغریب کے لیے برابر نہیں ہے ، پولیس ملزم کو گرفتار کیوں نہیں کرتی اگر کرتی بھی ہے تو ایک دو گھنٹے بعد رہا کیوں کر دیتی ہے؟ اگر اس طرح کوئی اورعام شہری ہوتا تواس کوعمرقید یا سزائے موت دی جاتی، لیکن اس بااثر شخص کو گرفتار کرتے ہی کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟
    مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہماری ریاست کے اندردوہرا قانون کس لیے قائم کیا گیا ہے؟ ایک عام آدمی کواپنی ضمانتیں کروانے کے لیے مہینوں انتظارکرنا پڑتا ہے، مگراس شخص کو صرف پانچ منٹ میں رہا کردیا جاتا ہے، کیا یہ مافیا اتنا بااثر ہے اس پرپولیس بھی ہاتھ ڈالنے سے ڈرتی ہے؟ آخر اس کے پیچھے رازکیا ہے وہ عوام کے سامنے لایا جائے، اگر پی ایم ہاؤس کی فوٹیج لیک ہوسکتی ہے، اگر پی ایم ہاؤس ہی محفوظ نہیں توایک عام آدمی اپنے آپ کو کیسے محفوظ سمجھے گا؟
    گزشتہ چند روز قبل بھی بابرتاج کی کمپنی میں بڑی تعداد میں شراب اوراسلحہ برآمد ہوا، لیکن کیا مجال اس کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی، ملزم بابرتاج اورکمشنرانکم ٹیکس آخردونوں پی ایم ہاؤس کیا کررہے تھے؟ دونوں کے درمیان جب ہاتھا پائی ہوئی پولیس ہونے کے باوجود اس ملزم کوگرفتارکیوں نہیں کیا گیا تھا، عوام کو بے وقوف نہ سمجھا جائے اس کے پیچھے جن لوگوں کے ہاتھ ہیں ان ہاتھوں کو سامنے لایا جائے، ورنہ ہم اچھی طرح سامنے لانا جانتے ہیں، چند عرصہ قبل بھی اس کی فیکٹری روانی کے مقام پرانکم ٹیکس کی جانب سے چھاپہ مارا گیا ہے، جس پرجعلی سیگریٹ برآمد بھی ہوئے ہے، فیکٹری کوسیل کرنے کے احکامات بھی جاری ہوئے ہیں، لیکن کیا مجال مافیا نے اس فیکٹری کو بند کرنے دیا ہو، ہم نوجوانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں کرنے دیں نگے، چاہئے اس کے لیے ہمیں بھی کیوں نہ تختہ دارپر لٹکا دیا جائے‌، ہمیں مجبور نہ کیا جائے ہم کوہالہ پل بند کرکے احتجاج کرینگے.
    پاکستان کے مختلف تھانوں میں بھی اس جعل سازکے خلاف ایف آئی آر درج ہیں پھر بھی اس کوگرفتارنہ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے، اگراس چھوٹی سی ریاست کے اندرجعلی فیکٹریاں بنای جا سکتی ہیں تو دیگرعوام کو بھی چھوٹ دے دینی چاہیے، کیوں کہ ہماری انتظامیہ اور پولیس بہت کمزورہے، یہ صرف کمزوراوربے بس کے لیے رہ گی ہے، کیوںکہ ان کے بس میں نہیں کے بااثراورامیرپرہاتھ ڈال سکے.
    اس موقع پر نواجونوں ک بڑی تعداد موجود تھی، راجہ سمیع بابر، راجہ قیس قدیر، راجہ شیراز، راجہ قاسم فرید، راجہ حسنین، راجہ احسان، احمد گیلانی، عاشر قریشی، ایاز احمد،مزمل ملک، قاسم ریاض، رقیب سلہریا، راجہ زین، حق نوازسلہریا، عماد راجہ، علی راجہ، راجہ احتشام، راجہ مشائق، بلال خان، انس شمریز، ذیشان قاضی، محمد اویس، راجہ نبیل، مہدی شاہ، حنین، راجہ عاصم، راجہ ذوالقرنین، نواز احمد، صفدر راجہ، اسامہ سعید، مدثر شیخ، عمرگل حسن، ملک علیان اعوان، وغیرہ نے شرکت کی ہے.

  • لوگوں کو کورونا ویکسین سے متعلق آگاہی فراہم کرنیوالے آٹو رکشے کے چرچے

    لوگوں کو کورونا ویکسین سے متعلق آگاہی فراہم کرنیوالے آٹو رکشے کے چرچے

    بھارت کی ریاست چنئی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ گوتم نے کوویڈ 19 کی ویکسین سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لئے ویکسین لگانے کے بعد ایک آٹو رکشہ کا ماڈل بنایا ہے-

    باغی ٹی وی :انڈین ایکسپریس کے مطابق تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رکشے کو کس منفرد طرز سے ڈیزائن کیا گیا ہے رکشے پر نیلے رنگ کا پینٹ کیا گیا ہے اس کے چاروں اطراف سرنجیں نکلی ہوئی ہیں جبکہ چھت پر کورونا ویکسین کی بڑی سی شیشی بھی بنائی گئی۔

    اس رکشے میں ساؤنڈ سسٹم بھی نصب ہے جو اونچی آواز میں لوگوں کو کورونا وائرس کی ویکسین کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔

    “میں ویکسینیشن کے بارے میں شعور پیدا کرنے پر کام کر رہا تھا اور میں نے گریٹر چنئی کارپوریشن سے رجوع کیا جو بھی کچھ ایسا ہی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا۔ چنانچہ ہم مل کر ’ویکسین آٹو‘ لے کر آئے۔ یہ منصوبہ دو ماہ قبل تیار کیا جانا تھا لیکن بدقسمتی سے اس میں تاخیر ہوگئی کیونکہ میں کوویڈ ۔19 سے متاثر ہوا تھا ، ”گوتم نے انڈین ایکسپرس کو بتایا۔

    آٹو منی کندن نامی ایک شخص چلاتا ہے جو کارپوریشن کے ہر زون کو روزانہ کی بنیاد پر محیط کرتا ہے۔ گوھم کا کہنا ہے کہ زونل میڈیکل آفیسر انہیں ان علاقوں کی ایک فہرست فراہم کریں گے جہاں ویکسین لگانے کے بارے میں شعور کی کمی ہے۔ اس مہم کے دوران جی سی سی زون کے سپروائزر بھی موجود رہیں گے۔ گوتم اور دیگر رضاکار ویکسین سے متعلق پرچے دیتے ہیں اور لوگوں کوویکسین سے متعلق ان کے سوالات پوچھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    “جی سی سی کی طرف سے بہت کوشش کرنے کے باوجود ، شہر میں بہت سے لوگ اب بھی ویکسین سے آگاہ نہیں ہے۔ خوف کا عنصر بھی ہے۔ ہم ان کو سمجھاتے ہیں کہ ماضی میں ویکسین نے بیماریوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہا کہ اسے ویکسین کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ ٹیکہ لگانے کے لئےمطلوبہ دستاویزات رکھنے والے قریبی پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر میں جاؤ۔ بہت سے لوگ کوویشیلڈ اور کوویکسین کے فرق سے بخوبی واقف نہیں ہیں اور ہم ان سب چیزوں کو آسان زبان میں سمجھا رہے ہیں-

    گوتم نے بتایا کہ آٹو کو اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اگر بارش ہو بھی تو اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا اور یہ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔