Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ نکل کیوں نہ سکا ؟ کیا کوئی سازش ہورہی ہے؟ تحریر:نوید شیخ

    پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ نکل کیوں نہ سکا ؟ کیا کوئی سازش ہورہی ہے؟ تحریر:نوید شیخ

    آج ایک بار پھر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کوگرے لسٹ میں ہی رکھا ہے ۔ اور کہا ہے کہ پاکستان بہت اچھا کام کررہا ہے ۔ مزید کرتا رہے ۔ اس حوالے سے حماد اظہر نے ایک پریس کانفرنس بھی کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 27 سے 26 نکات پر عمل کرچکا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ایف اے ٹی ایف کے صدر Dr. Marcus Pleyer نے کہا کہ اب بھی پاکستان کو دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی بھارت کی حوالے سے دونمبری تو آگے چل کر بتاتا ہوں ۔ پراس حوالے سے حماد اظہر نے کہا ہے کہ جلد اس پر بھی عمل درآمد کر لیا جائے گا ۔

    ۔ پر اس حوالے سے کچھ چیزوں اور معاملات کو دیکھنا بہت ضروری ہے ۔ اگر آپ غور کریں تو جب بھی ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہونے والا ہوتا ہے تو کچھ اہم واقعات اور چیزیں رونما ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جاتا ہے ۔ ۔ سب جانتے ہیں کہ انڈیا کی سازشوں کے نتیجے میں حافظ سعید کو اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے عالمی شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جبکہ امریکہ نے ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت بھی ہیں جن کا نام ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں متعدد بار لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں ہونے والے دھماکے کے بعد ہر قسم کے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ جبکہ پاکستان نے حافظ سعید کو 2019 میں گرفتار کیا جبکہ اس سے پہلے انھیں ان کے گھر میں نظر بند اور واچ لسٹ پر بھی ڈالا ہوا ہے۔

    ۔ توعین اجلاس سے پہلے لاہور میں ایک دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے اور یہ خاص حافظ سعید کے گھر کے پاس ہوتا ہے ۔ یہ بڑا معنی خیز واقعہ تھا ۔ اس کے پیچھے کون ہے اس کا سراغ تو یقینی طور پر ایجنسیاں لگا رہی ہوں گے ۔ عنقریب اس میں ملوث کردار کیفر کردار تک بھی پہنچ ہی جائیں گے ۔ پر اس واقعہ سے واضح ہوگیا ہے کہ کوئی ہے جو چاہتا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف میں پھنسا رہے ۔ کوئی ہے جو چاہتا ہے کہ پاکستان معاشی طور پر خود کفیل نہ ہوسکے ۔ کوئی ہے جو مسلسل پاکستان کے خلاف اندرونی اور بیرونی طور پر سازشیں جاری رکھے ہوئے ۔ اس ہی بارے چند روز قبل وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بغیر کسی لگی لپٹی نام لے کر کہا تھا کہ انڈیا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اور انڈیا کو اس فورم کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ اس حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے جسے سیاسی معاملات کو نمٹانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ تو وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جو بیان دیا تھا اس سے واضح ہو گیا تھا کہ معاملات پیچیدہ نظر آرہے ہیں۔ اور پہلے سے معلوم تھا کہ اس بار کوئی ریلیف نہیں ملنا ۔

    ۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایف اے ٹی ایف میں انڈیا کو قانونی طور پر نہیں روکا جا سکتا۔ ساتھ ہی اس وقت جو ماحول بنا ہوا ہے۔ وہ پاکستان کے خلاف جاتا ہوا ہی نظر آ رہاتھا۔ کیونکہ لاہور میں ہونے والے دھماکے کو ایک سائیڈ پر بھی رکھ دیں تو دوسری جانب افغانستان والا معاملہ بھی آپ کے سامنے ہے ۔ ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے پاکستان بڑھتا ہوا پریشر بھی آپ کے سامنے ہے ۔ تو افغان صورتحال کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کے فورم کو امریکہ کی جانب سے پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جانا آپ رد نہیں کر سکتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں کئی حکومتی نمائندے جیسے کہ معید یوسف، شاہ محمود قریشی اور یہاں تک کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے خود ایسے بیانات دیے گئے ہیں کہ اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا الزام پاکستان پر عائد نہ کیا جائے۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ انھیں کہیں نہ کہیں سے یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ ایسا کیا جا سکتا ہے اور پاکستان کے خلاف اس طرح کا بیانیہ بنایا جا سکتا ہے۔ جس کے بعد ایف اے ٹی ایف اور اس جیسے دیگر فورمز کو پاکستان کے خلاف استعمال کیاجانا مقصود ہے ۔

    ۔ دوسری جانب جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ایف اے ٹی ایف جیسے عالمی فورمز تکنیکی ہوتے ہیں۔ اور انھیں ویسے ہی رہنے دینا چاہیے۔ کیونکہ ایسا نہ ہونا ایف اے ٹی ایف کی اپنی ساکھ کے لیے صحیح نہیں ہے۔ ورنہ ایسے فورمز پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے جو کہ ہو رہا ہے کیونکہ سیاست استعمال ہو رہی ہے۔ مگر طاقت کا اپنا اصول ہوتا ہے ۔ اس چیز کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ جس کو استعمال کرکے بڑے ممالک چھوٹوں کو سرنگوں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

    ۔ اس حوالے سے پاکستان کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا اور اپنا house in order کرنا بھی ضروری ہے ۔ سازشوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنی بے وقوفیوں پر بھی نظر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ ایف اے ٹی ایف کے لیے ایک نمائندہ یا ترجمان ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر غور کیا جائے تو ایک ہی وقت کئی حکومتی وزرا اس حساس موضوع پر اپنی رائے دیتے رہتے ہیں۔ یہاں تک فردوس عاشق اعوان بھی اس پر اپنی ماہرانہ رائے دیتی رہتی ہیں ۔ اس وقت یہ ہو رہا ہے کہ کئی ترجمان اور وزراء اپنے اپنے نمبر ٹانگنے کی چکروں میں ایف اے ٹی ایف پر سیاسی بیانات کا جواب دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کو نیچا دیکھانے کے لیے بلاوجہ کے گڑھے مردے اکھاڑے جاتے ہیں ۔ جس سے ہمارا کیس عالمی برادری کے سامنے کمزور ہو جاتا ہے اور جو مخالفین ہیں ان کو فائدہ پہنچتا ہے۔

    ۔ کیونکہ انڈین میڈیا میں خبریں اور تجزیے دیکھ کر اور پڑھ لیں آپکو واضح تصویر پتہ چل جائے گی کہ انڈیا کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے۔ اس وقت بھی کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا گیا ہے تو وہاں پرخوب خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کیا جا رہے ہیں ۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے ادارے اور قیادت بھارت کی اس کوشش کو ناکام بنا چکے ہیں کہ پاکستان بلیک لسٹ میں رہے لیکن اب بھارت چاہتا ہے کہ مزید سوالات اور اعتراضات ہوں۔ اور پاکستان پھر سے پیچھے کے طرف جائے اور گرے سے نکل کر کسی طرح بلیک لسٹ میں شامل ہو ۔ یوں ہم ایف اے ٹی ایف کے گھن چکر میں پھنسے رہیں ۔

    ۔ کیونکہ آپ گذشتہ تین برسوں سے انڈیا کے ذرائع ابلاغ اور اعلیٰ حکام کے بیانات دیکھ لیں ۔ ساتھ ہی انڈین سفارتکار ایشیا پیسیفک گروپ اور ایف اے ٹی ایف دونوں جگہ پاکستان کے خلاف لابینگ کرتے رہے ہیں ۔ پاکستان ایشیا پیسیفک گروپ کا تو رکن ہے لیکن وہ 40 رکنی ایف اے ٹی ایف کا رکن نہیں جہاں حتمی فیصلہ ہوتا ہے۔ انڈیا اس کا ایک رکن ہے۔ جس کا وہ اس صورتحال میں فائدہ اٹھاتا ہے ۔ ۔ دوسرا سازشی تھیوریوں پر بھی کم دھیان دینا چاہیئے جیسے ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انڈیا کے علاوہ فرانس بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاہم بعد میں پاکستانی وزارت خزانہ نے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ انٹرنیشنل ۔۔۔ کوآپریشن ریویو گروپ ۔۔۔کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے فرانس پاکستان کا ایک فعال پارٹنر ہے جو تکنیکی معاونت اور ہدایات فراہم کرتا رہتا ہے۔ اسی کے پس منظر میں وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ افواہوں پر مبنی یا سسنی خیز خبریں شائع کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے ہمارے بین الاقوامی تعاون اور ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔۔ دیکھا جائے تو ایف اے ٹی ایف کی اس وقت رہ جانے والی سفارشات پر پاکستان نے بھرپور کام کیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو اعتراضات آتے رہے ہیں ۔ ان کا بھی پاکستان جواب دیتا رہا ہے اور آگے بھی دیتا رہے گا۔ اس لیے پاکستان کا یہ خیال تھا کہ پاکستان سے مزید کام کرنے یا ’ڈو مور‘ کی تلوار ہٹا دینی چاہیے۔ بالکل جائز خواہش تھی ۔

    ۔ مگر دنیا میں معاملات ایسے نہیں چلتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی شفارشات پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے بڑی شدید لابنگ اور بہترین سفارت کاری کی ضرورت بھی ہے۔ اور اس حوالے سے ایک فوکل پرسن کا ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔ ۔ کیونکہ جب ایف اے ٹی ایف کے سربراہ
    Dr. Marcus Pleyer سے سوال پوچھا گیا کہ کیا باقی ماندہ ایک آئٹم پورا کرنے کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا یا منی لانڈرنگ کے حوالے سے ایکشن پلان پر بھی عمل در آمد گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ضروری ہو گا۔ تو انہوں نے کہا کہ ایک آئٹم جو کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سزاؤں سے متعلق ہے اس کے مکمل ہونے کے بعد ایک ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے گا جو زمینی حقائق کا جائزہ لے گی۔ ۔ دوسری جانب اس موقع پر اردو نیوز کے نامہ نگار وسیم عباسی نے بھارت میں یورینیم کے لیک اور بھارت کے جائزے پر سوال کیا جس پر ایف اے ٹی ایف کے سربراہ کا کہنا تھا۔ میں یورینیم سے متعلق میڈیا رپورٹس سے آگاہ ہوں مگر جب تک ہم ان کا جائزہ نہ لے لیں تب تک اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ تو اس سے آپ اس فورم کی baisness
    کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔

    ۔ اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح ایک بلیک لسٹ بھی ہے جس میں اس وقت دنیا کے دو ممالک ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ ۔ گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر روکا جا سکتا ہے۔ تو ہم کو vigilant رہنے کی بھی ضرورت ہے اور عقل وفہم کا استعمال کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ جوش کی نہیں ہوش کی ضرورت ہے ۔ ۔ ہم کو یاد رکھنا چاہیے اس بارے میں جہاں انڈیا کی تمام تر توجہ کا مرکز آنے والے دنوں میں ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ ہے۔ وہیں امریکہ بھی اس تمام تر صورتحال کو بغور دیکھ رہا ہے۔ اور افغانستان کا غصہ پاکستان پر نکالنے کی راہ تلاش کر رہا ہے ۔

  • کراچی روشنیوں سے کچرے کا سفر. تحریر: عقیل احمد راجپوت

    کراچی روشنیوں سے کچرے کا سفر. تحریر: عقیل احمد راجپوت

    کراچی دنیا کے چھٹے بدترین رہائشی شہروں میں شامل ہوگیا جس پر کراچی کے شہری مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ پورے پاکستان کو ٪67 ریونیو اور سندھ کا ٪90 پرسنٹ ریونیو اکھٹا کرکے دینے پر کراچی کے شہری کچرے گٹر ملے پانی سیوریج کے ناکارہ نظام اور ٹوٹی سڑکوں کے ساتھ صحت کی سہولیات کے فقدان کے حقدار ہیں اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ یہ ہر سال ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ خیرات کرتے ہیں مگر مستحق تک کتنی پہنچتی ہے کوئی نہیں جانتا کیونکہ کراچی کا فقیر مقامی نہیں ہے سفید پوش لوگوں کا حق مارنے کی طرح سندھ اور وفاق بھی کراچی کا حق ہمیشہ سے مارتا آیا ہے کوٹہ سسٹم سے لیکر مردم شماریوں تک ہر چیز میں کراچی کی حق تلفی کی گئی مگر کراچی موجودہ اور سابق حکمرانوں نے ان کی امیدوں کو پورا کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دی ماسوائے پرویز مشرف کے دور حکومت نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال کی نظامت میں کراچی نے عروس البلاد کراچی کا کچھ فیصد ہی حسن دیکھا مگر پیپلز پارٹی کی 13 سالوں کی محنت اور لگن نے کراچی کو کچراچی میں ایسا تبدیل کیا کے لوگ موئن جو دڑو کو بھول کر کراچی کی مثالیں پیش کرنے لگے ہیں احوال یہ ہے کے کراچی سی پورٹ اور ریونیو کی بہتات کے باوجود اپنے حصے کا آئینی حق مانگ تو رہا ہے مگر حکمرانوں میں دم خم نظر نہیں آتا موجودہ حکمرانوں کو دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کراچی کے حکمرانی کے دعویدار کہلاتے ہیں مگر سندھ وفاق پر اور وفاق سندھ پر کراچی سے تعصب کی بناء پر سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہا ہے کا الزام عائد کرتے ہیں رہی ایم کیو ایم تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا وزارت لو سائٹ میں بیٹھ کر کبھی وفاق پر کبھی سندھ حکومت پر لسانی صوبے کے نعرے کے نام پر بلیک میل کرو کی سیاست پر عمل پیرا ہے کیونکہ شائد وہ اس بات کا یقین کرچکے ہیں کے کراچی والے اتنے بھولے ہیں کے ہماری کسی بھی کارکردگی کو پس پشت ڈال کر صرف مہاجر نعرے پر انہیں تاقیامت ووٹ ملتے رہیں گے حالانکہ 2018 کے الیکشن کا رزلٹ جیسا بھی رہا ہے ایم کیو ایم کو اس کے ووٹرز نے متنبہ کیا ہے کے سمبھل جاؤ حد تو یہ کے 2021 کے بلدیہ ٹاؤن کے حلقہ این اے 249 میں ایم کیو ایم ٹاپ فور میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی

    بہرحال کراچی کا موسم اور کراچی والوں کا دماغ کب بدل جائے کوئی نہیں جانتا 2023 کے جنرل الیکشن سے پہلے شائد بلدیاتی انتخابات ہوجائے مشکل ہے مگر ناممکن نہیں اگر ایسا ہوا تو کراچی والوں کا انتخاب کیا ہوگا
    دو بڑے کانٹے دار مقابلے کی امید کی جارہی ہیں اگر بلدیاتی انتخابات سیدھا ناظم کے لئے ہوئے تو کراچی کی پہلی پسند سید مصطفیٰ کمال ہی ہونگے یہ بات کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنوں سے بھی پوچھ لی جائے تو وہ انکاری نہیں ہوسکتا دوسرا مقابلہ یونین کونسل کی سطح پر ہونے والے انتخابات کی صورت میں اس وقت مشکل اختیار کر سکتا ہے جب کراچی کو ضلعی سطح پر مزید تقسیم کرنے کی پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے روک دیا جائے یا کورٹ سے ان پر حکم امتناعی جاری ہوجائیں تو کراچی میں اس بار مقابلہ پاک سر زمین پارٹی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مشترکہ طور پر ہوسکتا ہے کیونکہ بلدیہ ٹاؤن کے ضمنی انتخابات میں پاک سر زمین پارٹی نے پورے پاکستان کے سامنے اپنی کامیاب انتخابی مہم کے زریعے منوا لیا ہے اور لوگوں نے انہیں ناقابل یقین پزیرائی سے بھی نوازا ہے جو بھی ہے مصطفیٰ کمال اپنے ماضی کے کاموں کے حوالے سے اپنی مہم کو کامیاب طور پر عوام کے سامنے رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو کراچی اور حیدرآباد کے شہری علاقوں سے ان کی جیت کا تناسب بہت بھاری اکثریت سے نکلنے کا امکان ہے مصطفیٰ کمال اپنی روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی کانر میٹنگ کو مستقل جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی انتخابی مہم این اے 249 کے بعد رکی نہیں بلکہ جاری وساری ہے وہ کراچی حیدرآباد میرپور خاص کے دوروں کے دوران اپنے ذمے داران کو مستقل طور پر لوگوں کے درمیان تعلقات کو بحال رکھنے اور عوامی رابطوں کو فعال رکھنے کی تاکید کر رہے ہیں مصطفیٰ کمال خود بھی پارٹی کے دیگر ارکان کے ساتھ روز کسی نا کسی گلی محلے میں چھوٹے اور بڑے جلسے اور کارنر میٹنگ سے خطاب کرکے کراچی کے لوگوں تک ان کی محرومی ختم کرنے کا کیا فارمولا ہے بتا بھی رہے ہیں اور لوگوں میں موجود بے چینی کو اپنی سیاسی قوت کے طور پر اپنی رائے سے ملانے کی کامیاب انتخابی مہم پر کامیابی سے عمل پیرا بھی ہیں

  • نگر اور صحت .تحریر: یاور عباس

    نگر اور صحت .تحریر: یاور عباس

    نگر قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ یہاں کے خوبصورت مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں لیکن ان دونوں نگر کے نوجوانوں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی انسانی حقوق کو لیکر سڑکوں پر ہیں آج ہم صحت کے مسائل پر بات کریں گے کہ آخر نگر میں صحت کے اتنے گھمبیر صورتحال کیسے پیدا ہوئے اور ان کا حل کیسے ممکن ہیں سب سے پہلے نگر میں موجود ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کا جائزہ لینگے اور سرکاری اعداد شمار پر ہی بات کریں گے۔
    ضلع نگر میں اس وقت دو 30 بیڈ ہسپتال ہیں ایک حلقہ پانچ نگر خاص اور ایک حلقہ چار سکندر آباد میں، نگر خاص کے ہسپتال میں کل 149 آسامیاں ہیں جن میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف سمیت گریڈ 1 تک کے ملازمین شامل ہے لیکن سرکاری کاغذات اور زمینی حقائق میں بہت بڑا تضاد ہے 30 بیڈ ہسپتال کے لئے 149 ملازمین کی ضرورت ہے جبکہ سرکار نے اب تک صرف 53 آسامیاں پر ملازمین بھرتی کی ہے اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کیا ہم 53 ملازمین سے دن رات بھی کام لئے تو 96 ملازمین کی کمی کو پوری کر سکتے ہیں اس سے بھی سنگین صورتحال 30 بیڈ سکندر آباد ہسپتال کے ہیں جہاں کل آسامیاں 149 ہیں اور بھرتی ملازمین کی تعداد صرف 27 ہے جبکہ اس ہسپتال میں ہنزہ نگر سمیت شاہراہ قراقرم پر ہونے والے تمام حادثات کے زخمی اور مریضوں کو فوری یہاں منتقل کیا جاتا ہے لیکن یہاں کے صورتحال آپ کے سامنے ہیں ایسے میں کیسے 27 ملازمین 122 ملازمین کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں، افسوس علاقے کی عوامی نمائندے غفلت کے نیند سو رہیں۔
    نگر کے مصائب ابھی ختم نہیں ہوئے اسکرداس 10 بیڈ ہسپتال میں کے لئے 39 ملازمین بھرتی ہونے تھے لیکن ابھی تک کسی ایک کو بھی بھرتی نہیں کیا گیا ہے، میاچھر میں موجود ضلع نگر کی واحد مادر اینڈ چائلڈ ہسپتال جس کو چلانے کے لئے سرکاری کاغذ میں 7 ملازمین کی ضرورت ہے کسی ایک کو بھی بھرتی نہیں کیا جاسکا۔

    اس کے علاوہ ڈاڈیمل نگر، اور سونی کوٹ چھلت نگر کے فرسٹ ایڈ سنٹرز کی بلڈنگز تو تعمیر ہوئے لیکن 7 میں سے کسی ایک ملازم کو بھرتی نہیں کیا گیاہے یہ صرف چند علاقوں کے کے تفصیلات ہیں باقی علاقوں میں اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔
    نگر کے مصائب بہت زیادہ ہیں جن کو ایک کالم میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے یہاں کے عوام اکیسویں صدی میں بھی صحت جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے گزشتہ 30 سالوں سے عوام کے درمیان اتنے نفرتیں پیدا کی ہے جس کے بدولت یہاں بھائی بھائی کا دشمن بنا ہے عوام تقسیم در تقسیم ہیں سیاسی و مذہبی لوگ اپنے ذاتی مفادات میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ ان کو مشترکہ مفاد کا خیال ہی نہیں لیکن ہم سلام پیش کرتے ہیں نگر کے نوجوانوں کو چاہئے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی، مذہبی، طلبہ یا علاقے جماعت سے ہے اس وقت نگر کے حقوق کے لئے ایک ہونے کی بھرپور کوشش کر رہیں اور کسی حد تک اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوچکے ہیں جن میں محکمہ تعلیم، محکمہ صحت کے ملازمین کی نوٹیفکیشن سمیت باب نگر کے ایشوز کو بہت ہی احسن طریقے سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہیں۔
    نگر کی ضلعی انتظامیہ خصوصآ ڈپٹی کمشنر نگر جناب ذوالقرنین حیدر خان اور ڈی ایچ او نگر، ایس پی نگر کی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور تعاون بھی قابل ذکر اور خوش آئند بات ہیں گلگت بلتستان خصوصآ نگر میں ایسا پہلے بار ہو رہا نوجوان اور ضلعی انتظامیہ مل کر مسائل کو حل کرنے مصروف ہیں۔
    ہماری دعا ہیں اللہ تعالٰی ان تمام لوگوں کی توقعات میں اضافہ فرمائیں جو خالق خدا کے لئے آسانیاں پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ آمین

  • سقوطِ ڈھاکہ، پاکستان کے لئے ففتھ جنریشن وار فیئر کا  آغاز.تحریر: امان الرحمٰن

    سقوطِ ڈھاکہ، پاکستان کے لئے ففتھ جنریشن وار فیئر کا آغاز.تحریر: امان الرحمٰن

    جو قومیں اپنی تاریخ سے سبق نہیں لیتی ہیں وہ خود تاریخ بن جاتی ہیں
    16 اور 17 دسمبر 1971 کی درمیانی شب، جب ریڈیو ڈھاکہ نے بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کیا ، یہ اعلان قیامت کے دن کی طرح دونوں اطراف کے مسلم پاکستانیوں کےدلوں پر پڑ گیا۔ پاک سرزمین کا ایک بڑا حصہ ہم سے الگ ہوچکا ہے۔ ایک بازو ٹوٹ گیا تھا۔ بہت سے لوگوں کی چیخیں اور ہچکیاں بند ہوگئیں اور بہت سے دلوں نے دھڑکنا بند کردیا۔ سقوط ڈھاکہ بھی جنگ کے متاثرین اور اس کے نتیجے میں کہکشاں طاقت کے طور پر سامنے آنے کے لئے قیامت کا دن تھا۔ آج تک ہم یہ تعین نہیں کرسکے ہیں کہ سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دار کون تھا۔
    سقوط ڈھاکہ شروع ہوتا ہے
    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد وہ سوچ تھی جو ملک کے دونوں حصوں میں پیدا ہوئی۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ مغربی پاکستان کی ایک ذیلی کالونی ہیں اور مغربی پاکستان ریشم کیڑا اور چائے کھا رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مرکز میں ان کی نمائندگی کا فقدان ہے۔ اسی طرح مغربی پاکستان میں یہ خیال بھی پھیل گیا تھا کہ مشرقی پاکستان میں آج سیلاب کی وجہ سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ بنگالی ایک بیکار قوم ہیں اور علم و عقل سے محروم ہیں۔ یہ پاکستان میں پانچویں نسل کی جنگ کا آغاز تھا۔
    1958 سے ، مغربی اور مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے علاقوں میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اور ایک مخلوط حکومت تشکیل دی گئی ہے۔ لیکن دسمبر 1970 میں ، یحییٰ خان کے ماتحت ملک کے سب سے پرامن اور پہلے بالغ ریفرنڈم کے انتخابات کے نتائج ایک جھٹکے کے طور پر سامنے آئے۔
    جب مجیب الرحمٰن نے مغربی پاکستان میں اپنی غیر مقبولیت کو دیکھا تو انہوں نے اندرا گاندھی کے ساتھ سازش کی ، جسے اگرتلا سازش کہا جاتا ہے۔ لیکن جلد ہی مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں مغربی شہریوں کا بے دردی سے قتل عام کرنا شروع کردیا۔ اگر صرف کوئی سازش ہوتی جس کے لئے مجیب نے اپنی جان دے کر قیمت ادا کی۔
    1970 کے انتخابات کے بعد ، مشرقی پاکستان کے وزیر اعظم بننا ان کا حق تھا۔ تب بھٹو صاحب نے اس وقت کے حالات کی نزاکت کو نہ سمجھے ، اور کہا کہ صدر مشرقی پاکستان سے ہوں گے ، ورنہ آپ یہاں ہیں اور ہم یہاں ہیں۔ اس نعرے کے معنی بنگالیوں نے پہلے ہی ہی پلٹ دیئے تھے جو پہلے ہی ہندوستانی پروپیگنڈے کے زیر اثر تھے اور ہندوستان کی مالی اعانت سے چلنے والی مکتی باہنی کو زیادہ کھل کر اپنا کھیل کھیلنے کا موقع ملا۔
    ہندوستانی حکومت 1965 کی جنگ میں پاکستانی فوج پر ڈھائے جانے والے بدترین ذلت کا بدلہ لینے کے لئے بے چین تھی کیونکہ ہندوستان کی فوج کو پہلے ہی 1962 میں چین کے ہاتھوں ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
    ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تذلیل محسوس کرتے ہوئے ، ہندوستانی فوج نے پاکستان کے خلاف پراکسی وار کا آغاز کیا۔ کیونکہ جنگ کا براہ راست نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ پاکستانی ، بحیثیت قوم ، دشمن کو کس طرح رد .عمل دیتے ہیں۔ لہذا ہندوستان نے اپنے پیسوں کا استعمال دونوں طرف تقریر کرنے اور ریڈیو پروگرام نشر کرنے کے لئے کیا جس سے فاصلے پیدا ہوئے۔ پھر اس نے مکتی باہنی کی بنیاد رکھی جس نے بنگالیوں کے حقوق کے نعرے لگائے اور احساس محرومی میں اضافہ کیا۔
    ایک طرف اندرا گاندھی مکتی باہنی کے توسط سے مسلمان بھائیوں کا قتل کررہی تھیں ، دوسری طرف وہ کہہ رہی تھیں کہ … آج ہم نے خلیج بنگال میں نظریہ پاکستان کو ڈبو دیا ہے۔
    سقوط ڈھاکہ
    جب مکتی باہنی نچلی سطح پر اپنا زہر پھیلارہا تھا تب بھی اقتدار کے ایوان میں حکومت سازی کی جدوجہد جاری تھی۔ ماننے کو تیار نہیں۔ اور بھارت کے دانت تیز تھے
    آخر کار ، پاکستان کی تاریخ میں ، تکلیف دہ دن وہ آیا جب دنیا نے حیرت سے دیکھا کہ 1965 میں ہندوستانی فوج کو کچلنے والی فوج صرف چھ سال بعد ہتھیار ڈال رہی ہے۔
    پاکستانی فوج نے ہائی کمان کے حکم کی تعمیل کی کیونکہ اسے اپنے ادارے پر اعتماد تھا۔ آرمی چیف جانتے تھے کہ سپلائی لائن ٹوٹی ہے۔ ہندوستانی فوج کی سپلائی بحال ہوگئی۔ غدار بنگالی پاکستانی فوج کو آگاہ کرکے ہندوستانی فوج کی خبریں پھیلا رہے تھے۔ مکتی باہنی نے فوجی بیرکوں کو کھانے پینے اور ایندھن کی فراہمی کے تمام راستے بند کردیئے تھے۔ تو پاک فوج کس کے لئے لڑے گی؟ سیاست کے لئے اور مکتی باہنی اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں یا غدار بنگالیوں کے لئے؟
    آج تک یہ بحث ختم نہیں ہوئی کہ سیاست دان ذمہ دار تھے یا فوج۔
    یاد رکھیں جب کلکتہ کے بازاروں میں مکتی باہنی کے بنگالیوں نے مغربی پاکستانی اساتذہ ، ڈاکٹروں ، انکم ٹیکس افسران اور دیگر طبقاتی ملازمین اور عام لوگوں کے قتل عام کے بعد اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور بہنوں کو کچھ پیسوں میں فروخت کیا تھا۔ یہ نہ تو فوج کا کام تھا اور نہ ہی کسی سیاستدان کا۔ یہ مسلمان بنگالیوں کا کام تھا جو دشمن پروپیگنڈے کا نشانہ بنے۔
    مکتی باہنی نے لاکھوں غیر بنگالی مسلمانوں کو قتل کیا اور اپنی تقریبا Muslim 1.5 ملین مسلمان بہنوں کو کولکتہ میں ہندوؤں کو فروخت کیا۔ وجہ پروپیگنڈا تھا جس نے بھائی کو بھائی کی عزت اور زندگی کا دشمن بنا دیا۔

    موجودہ صورت حال
    مکتی باہنی بنگالیوں کے حقوق کے نعرے کے تحت تشکیل دی گئی تھی اور مسلمانوں کا خون بہانے سے ملک کو فنا کردیا گیا اور جب مقصد حاصل ہوا تو ہندوستان نے مکتی بہنی اور مجیب کو بھی ختم کردیا۔
    کراچی میں ایم کیو ایم نے مہاجروں کے حقوق کے نام پر اپنے آپ کو قائم کیا اور کراچی کو خون میں نہلایا۔
    اب پی ٹی ایم پختون حقوق کے نام پر قائم کیا گیا ہے اور پختونوں کی لاشوں پر گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے۔
    ان تمام تنظیموں کا ایک ہی طریقہ ہے اور ایک ہی مقصد تمام پاکستانیوں کو ختم کرنا ہے۔ یہ پانچواں نسل کی جنگ ہے جس سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بار بار پاکستان کی موجودہ نوجوان نسل کو آگاہ کیا ہے۔
    ہمارا دشمن چالاک ہے ، وہ رات کے اندھیرے میں چپکے سے حملہ کرتا ہے اور اندھیرے میں غداروں کو خریدتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ہم سب سے پہلے اور سب سے اہم پاکستانی ہیں ، یہی ہماری شناخت ہے۔ آج بنگالیوں کے آلو … چائے اور چاول بین الاقوامی مارکیٹ میں ہندوستانی لیبل کے تحت فروخت ہوتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ہونے کے بجائے بنگلہ دیش ایک سیکولر جمہوریہ بن گیا ہے جہاں مسلمان علماء کو پھانسی دی جارہی ہے۔ مودی کہتے ہیں کہ یہ اپنا دوسرا گھر ہے۔
    اندرا گاندھی ، شیخ مجیب اور بھٹو اپنی خواہشات اور سازشوں سے اپنے انجام کو پہنچے۔ لیکن یہ پراکسی جنگ آج بھی جاری ہے۔ دشمن اب بھی وہی سازشیں کر رہا ہے۔ آج بھی غدار ہیں۔ لیکن اب جب ہم واقف ہیں ، تو آئیے مل کر جواب دیں دُشمن کے اُن تمام حربوں کو ناکام بنائیں اور جس کے لئے ہمارا سب سے بڑا اور مضبوط ہتھیار ہمارا اتحاد، اتفاق ہے اور ہم نے ہر حال میں اپنا اتحاد قائم رکھنا ہے اِن شاء اللہ
    اللہ کریم پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین
    پاکستان پائندہ باد

  • امن و محبت کی علمبردار۔۔۔۔ ایف سی فورس پاکستان ! تحریر:ذیشان ہوتی

    امن و محبت کی علمبردار۔۔۔۔ ایف سی فورس پاکستان ! تحریر:ذیشان ہوتی

    فرنٹیئر کور (ایف سی) ایک پیرا ملٹری فورس ہے جو پاک-افغان اور پاک-ایران بارڈر سے منسلک حساس علاقوں اور قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی کے فرائض ادا کر رہی ہے۔
    سال2001 کے بعد خیبرپختونخواہ کے قبائلی اضلاع سمیت پورا صوبہ پڑوسی ملک افغانستان کے قریب تر ہونے کی وجہ سے دہشتگردی جیسی آگ کی لپیٹ میں آگیا جس کی وجہ سے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ہزاروں لوگوں نے بھی اپنی جانیں قربان کیں اور کئی لاکھ خاندان بھی متاثر ہوئے۔ ان مشکل حالات میں ایف سی اور دیگر سیکیورٹی ادارے جہاں قبائلی علاقوں کی سرحدوں کا دفاع کر رہے تھے وہیں پختون روایات سے باخبر فرنٹیئرکور نے قبائلی علاقوں میں دہشتگردی سے متاثرہ لوگوں کے سروں پر دست شفقت رکھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران عوام کی خدمت اور ان کے جان و مال کے تحفظ میں آئی جی ایف سی سے لیکر فرنٹیر کور کے جوان تک ہر شخص بہ نفس نفیس شامل رہا جس نے ملک کے دفاع اور عوام کے تحظ کی قسم کھائی ہے۔

    خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع سمیت پورے پاکستان کو مستقل طور پر دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کیلئے ایف سی نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا آغاز کیا جسکو انتہائی مہارت اور خوش اسلوبی کیساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔
    ایف سی کے افسران بشمول جوانوں نے ارض مقدس کی سرحدوں کا نہ صرف جوانمردی سے دفاع کیا بلکہ دہشتگردی کے ناسور سے متاثرہ عوام کے ساتھ اپنا رابطہ بھی برقرار رکھا تاکہ عوام میں احساس محرومی پیدا نہ ہو جو ایک انتہائی شفیق اور بہترین عمل تھا۔ ایف سی نے عوام سے سناشائی کو بڑھایا اور ان میں گھل ملنے کے لئے ان کی ہر غمی خوشی میں شرکت کی۔ اس کی ایک بڑی مثال حالیہ ضلع مہمند کے زیارت ماربل کا حادثہ تھا جب فرنٹیر کور نے عوام کے دکھ کو اپنا سمجھتے ہوئے ان کے آنسؤں کو پونچھنے اورانہیں دلاسہ دینے کے لئے نہ صرف اپنا کندھا پیش کیا بلکہ ان کے خاندان کی مالی مدد بھی کی اور ساتھ ساتھ ان کے گھر کے ایک فرد کو ایف سی میں بھرتی کرنے کا اعلان بھی کیا۔
    فرنٹیر کور کی عوامی خدمت کا سلسلہ یہی پر نہیں رکتا بلکہ ایف سی نے قبائلی علاقوں میں بے شمار ترقیاتی اور خوشحالی کے منصوبے بھی شروع کیے۔ فرنٹیئر کور نے دہشتگردی سے متاثر ان علاقوں کے سکولوں اور کالجوں از سر نو تعمیر اور بحال کیا جن کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا تاکہ قبائلی بچے تعلیم جیسی نعمت سے محروم رہیں۔ ایف سی نے دہشت گردوں کی اس سازش کو ہر بچے کے لیے مفت اور آسان تعلیمی رسائی سے ناکام بنایا۔ کیونکہ فرنٹیئر کور کو معلوم ہے کہ قبائل محب وطن پاکستانی ہیں اور انکے بچے پاکستان کا روشن مستقبل۔ اور کل کو یہ تعلیم یافتہ بچے بھی اس ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار کریں گے۔ اسی لیے قبائلی بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے فریضہ کو اہم اور ترجیحاتی بنیادوں پر لیتے ہوئے پاک فوج، ایف سی اور حکومتی مشران کی بدولت قبائلی علاقوں میں سینکڑوں نئے معیاری تعلیمی ادارے بنائے گئے اور بیسیوں جزوی یا مکمل طور پر تباہ شدہ اداروں کو از سر نو تعمیر کروایا تاکہ ان بچوں کو جو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جاسکے۔ اعلی تعلیم کے کیے قائم کیے جانے والے اداروں میں سے ایک مثال مامد گٹ کیڈٹ کالج ضلع مہمند کی ہے۔ جس میں قبائلی بچے بین الاقوامی معیار کی تعلیم سے مستفید ہورہے ہیں اور اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
    قبائلی علاقوں میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ چند قدم کا فاصلہ خراب سڑکوں کی وجہ سے گھنٹوں میں طے کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کو آمدو رفت میں دقت کا سامنا تھا بلکہ دہشتگردی کی وجہ سے لوگوں کے متاثرہ کاروبار کو سہارا دینے کی بھی اشد ضرورت تھی اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے ایف سی کے مشران نے لوکل کنٹریکٹرز اور حکومت کی مدد سے امتیازی مواصلاتی نظام کا جال بچھانا شروع کردیا۔ سینکڑوں کلومیٹر طویل قومی سطح کی بہترین کشادہ سڑکیں بنائی گئیں اور ساتھ ساتھ تباہ شدہ مارکیٹوں کو ایک نئی شکل دے دی جو جدید سہولیات سے آراستہ ہیں۔ اب جس کی بدولت لوگوں کے کاربار میں بھی بہتری آئی ہے اور مقامی لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو رہا ہے۔

    قبائلی علاقوں میں امن بحالی کے بعد حکومت اور سیکورٹی اداروں کی اولین ترجیح میں تباہ شدہ مکانات کا معاوضہ دینا تھا تاکہ یہ لوگ اپنے گھروں کو آباد کرکے نئی زندگی شروع کرسکیں ۔ اس مقصد کیلئے ایف سی کی نگرانی میں شفاف سی ایل سی پی سروے کا آغاز کیا گیا جس میں دو علاقائی مشران، ایک ڈیٹا انٹری آفیسر، ایک انجنئیر اور ایک ایف سی کیپٹن شامل تھا۔ پانچ افراد پر مشتمل اس کمیٹی نے متاثرہ خاندانوں کا شفاف ڈیٹا اکھٹا کیا جسکی بنیاد پر پی ڈی ایم اے کیجانب سے جزوی طور پر تباہ شدہ مکان کے مالکان کو فی خاندان ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے اور مکمل تباہ شدہ مکان والے کو چار لاکھ روپے کا امدادی معاوضہ دیا جاچکا ہے۔ اگر کسی گھر میں ایک سے زائد خاندان مقیم تھے تو انکو فی خاندان کے حساب سے مندرجہ بالا معاوضہ مل چکا ہے اور یہ عمل تاحال جاری ہے۔
    قبائلی عوام کو صاف پانی کی فراہمی ایک خواب تھا جسکو شرمندہ تعبیر کرتے ہوئے ایف سی نے ہر قبائلی ضلع میں صاف پانی کے سینکڑوں پلانٹس لگائے تاکہ لوگوں کو گھر کی دہلیز پر صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    چونکہ ان علاقوں میں جدید طبی و حفظان صحت کی سہولیات اور ہسپتالوں کا فقدان تھا تو یہاں کے عوام کو علاج معالجے کے لیے مجبوراً پشاور اور صوبے کے دیگر بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا تھا۔ اب ہر تحصیل میں بی ایچ یو اور ہر ضلع میں دور جدید کا ہیڈکوارٹر ہسپتال موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف سی کیجانب سے فری میڈیکل کیمپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے تحت فرنٹیئر کور جدید ترین میڈیکل کیمپس کا انعقاد کرتی ہے اور دور پار کے دیہاتی علاقوں تک ضروری اور اہم علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔

    قبائلی علاقوں میں اکثر قوموں کے مابین تصادم اور دشمنیوں کا طویل سلسلہ چلا آ رہا تھا جس سے علاقائی لوگوں کو شدید مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ اس شیطانی روایت کو توڑنے اور قبائلی عوام کو متحد رکھنے کیلئے ایف سی مشران اور علاقائی ملکان پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن کی بدولت آج تک سینکڑوں تنازعات قبائلی روایات کے مطابق امن و عافیت سے حل کروائے گئے ہیں۔
    خیبرپختونخواہ کے قبائلی اضلاع میں اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور مویشی پالنے سے وابستہ ہے جنکی ضروریات کو دیکھتے ہوئے قبائلی اضلاع کے ہر تحصیل میں ویٹرنری ہاسپٹل اور زرعی مراکز بنائے گئے ہیں۔

    دہشت اور خوف کی فضا میں جوان ہوتی ہوئی قبائلی نسل کی ذہنی نشوونما کے لیے ایف سی مشران نے نہ صرف کھیلوں کے میدان بنائے بلکہ ان نوجوانوں کو مالی معاونت بھی فراہم کی گئی تاکہ انکو سپورٹس کٹس خریدنے میں آسانی ہو۔قبائلی علاقوں میں جاری ترقیاتی سفر کی داستان بڑی طویل ہے جسکو ایک آرٹیکل میں سمیٹنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے کیونکہ جاری اعدادوشمار کے مطابق امن بحالی کے بعد تقریبا 2900 ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے جن میں ایف سی کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ ان شاء اللہ فرنٹیئرکور ایسے ہی عوام کی خدمت جاری رکھے گی اور میں ایف سی کے ناقابل فراموش کردار پر انکو دل سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں
    پاکستان زندہ باد

  • میڈیا کے نوجوانوں پر اثرات .تحریر :فضل عباس

    میڈیا کے نوجوانوں پر اثرات .تحریر :فضل عباس

    آج کے دور میں نوجوان نسل سب سے زیادہ میڈیا سے متاثر ہے اس پر کچھ لکھنے سے پہلے میڈیا کی اقسام بیان کر لیتے ہیں

    میڈیا کی تین بڑی اقسام ہیں
    1: ذرائع ابلاغ
    2: اخبارات
    3: سوشل میڈیا
    سب سے پہلے ذرائع ابلاغ کی بات کرتے ہیں

    ذرائع ابلاغ میں تمام ٹیلی ویژن چینل اور ریڈیو کے چینلز شامل ہیں ٹیلی ویژن انسانی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈال رہا ہے یہ اثر مثبت بھی ہے منفی بھی،کیوں کہ ہر چیز کا مثبت پہلو پہلے دیکھنا چاہیے اس لیے سب سے پہلے ہم ذرائع ابلاغ کے مثبت پہلو کو نمایاں کرتے ہیں ہم ذرائع ابلاغ کے ذریعے تازہ ترین خبروں سے آگاہ رہتے ہیں جو واقعہ ہو جہاں پر ہو ہم میں سے ہر ایک کو اسی وقت پتہ چل جاتا ہے اس طرح ہم پوری دنیا سے جڑے رہتے ہیں اس کے علاوہ مختلف پروگراموں میں مختلف ماہرین کی رائے جان سکتے ہیں جس سے ہمیں جھوٹ سچ کا اندازہ ہو سکتا ہے اور اس سے ہم اپنا نظریہ بنا سکتے ہیں

    نیوز چینلز نے سیاست کے میدان میں انقلاب برپا کردیا ہے اب ہر ایک لیڈر قوم کو جواب دہ ہے اب کسی لیڈر کا غلط کام نہیں چھپ سکتا ہے اب عوام لیڈرز کی اصلیت دیکھ کر منتخب کرتے ہیں اس کے علاوہ ان چینلز پر ماضی کی حکومت اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کا موازنہ کیا جاتا ہے جس سے لوگوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ کونسی حکومت کتنی اچھی ہے اور کس حکومت نے عوام کے لیے کیا کیا ہے

    آگاہی پھیلانے میں ذرائع ابلاغ کا اہم کردار ہے مختلف وقت میں مختلف مقاصد کے لیے ذرائع ابلاغ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے خاص کر ابھی کورونا وباء کے دوران ذرائع ابلاغ نے عوام میں بھرپور آگاہی پھیلائی ہے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے جو احتیاط لازم ہے اس کی آگاہی کے لیے مختلف اشتہارات اور ڈاکیومنٹریز چلائی ہیں

    اس کے بعد آتی ہے ڈرامہ انڈسٹری
    ذرائع ابلاغ میں ڈرامہ انڈسٹری کے ذریعے انقلاب لایا جا سکتا ہے نوجوان نسل کو تعلیم،جہاد اور اچھائی کی ترغیب دی جا سکتی ہے بچوں کو اخلاقیات کا درس دیا جا سکتا ہے برائیوں کے خاتمے کی مہم چلائی جا سکتی ہے اور یہ سب ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی ممکن ہے لیکن افسوس کی بات ایسا نہیں ہو رہا

    آج کے دور میں کھیل اور ذرائع ابلاغ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چکے ہیں اب ذرائع ابلاغ کے بغیر کھیل منعقد کروانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا دنیا میں ہونے والے تمام کھیلوں کے بین الاقوامی میچز کسی نہ کسی چینل پر براہِ راست نشر ہو رہے ہوتے ہیں کھلاڑی کھیل کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والے اشتہارات سے کروڑوں روپے کماتے ہیں اس طرح کھیل اور ذرائع ابلاغ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چکے ہیں

    اب بات کرتے ہیں اخبارات کی
    اخبار پر انسان کی اپنی مرضی چلتی ہے جب انسان کو وقت ملے اخبار اٹھائے اور پڑھ لے
    اخبارات میں انسان کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ جہاں سے پڑھنا چاہے پڑھ لے جبکہ ذرائع ابلاغ پر آپ اپنی مرضی نہیں چلا سکتے
    اخبارات میں آپ کو سیاست انٹرٹینمنٹ اور کھیل کی خبریں میسر ہوتی ہیں اس کے علاوہ مختلف کالم نگاروں کے لکھے گئے کالم بھی پڑھنے کو ملتے ہیں

    اس کے بعد آتا ہے تیزی سے پھیلتا سوشل میڈیا
    تقریباً ہر ایک نوجوان آج سوشل میڈیا سے منسلک ہے اور اس کے بے شمار فوائد ہیں آپ آسانی سے اپنی رائے دے سکتے ہیں کوئی بھی موضوع ہو آپ اس پر اپنی رائے دے سکتے ہیں اس پر تبصرہ کر سکتے ہیں آپ اس میں مکمل آزاد ہیں

    اب دوسرے پہلو کا جائزہ لیتے ہیں اور میڈیا کے نقصانات کو بیان کرتے ہیں
    میڈیا میں ہونے والے ٹاک شوز میں سیاستدانوں کی گرتی ہوئی اخلاقی اقدار نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کر رہی ہیں نوجوان صحیح راہ سے بھٹک کر اخلاق کی نچلی منزلیں طے کر ریے ہیں وہ بھی سیاست دانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں ،اس کے بعد آتی ہے ڈرامہ انڈسٹری جو اس وقت بے راہ روی کا شکار ہے اور بے حیائی کو فروغ دے رہی ہے ڈرامہ انڈسٹری سے نوجوان نسل بری طرح متاثر ہے نوجوان نسل جہاد اور تعلیم کے بجائے بے حیائ کی جانب راغب ہے جو کہ افسوس ناک امر ہے

    جہاں تک بات ہے کھیل کی تو کھیل کھیلنا دیکھنے سے نسبتاً بہتر ہے لیکن نوجوان کھیل کھیلنے کو نظر انداز کر رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کھیل کھیلنے کو فروغ دیا جائے اس کے بعد اخبارات کی بات کریں تو اس کے نقصانات قدرے کم ہیں لیکن آج کی نوجوان نسل اخبارات سے دور ہو چکی ہے سوشل میڈیا کے جس طرح سب سے زیادہ فوائد ہیں اسی طرح نقصانات بھی سب سے زیادہ ہیں نوجوان ہر کام چھوڑ کر سارا دن سوشل میڈیا پر رہتے ہیں اور اکثر اوقات غلط سرگرمیوں میں مشغول ہو جاتے ہیں جو کہ ان کے مستقبل کے لیے قدرے افسوس ناک ہے

    اس سب کے باوجود نوجوان نسل کو چاہیے کہ میڈیا سے جس قدر فوائد حاصل کر سکیں اس قدر حاصل کریں اور نقصانات کو کم سے کم کیا جائے حکومت وقت کو چاہئے کہ میڈیا میں آ کر گفتگو کرنے والے سیاستدانوں کو اچھی زبان استعمال کرنے کا پابند بنائے اور بے حیائ پر مبنی ڈراموں پر پابندی لگائے تا کہ نوجوان ایسی سرگرمیاں دیکھیں جن سے انہیں فائدہ ہو

    سوشل میڈیا کو ایک ضابطہ میں لا کر بہتر سے بہتر تر بنایا جا سکتا ہےاور یہ نوجوان نسل کے لیے ایک رحمت ثابت ہو سکتا ہے

  • نشہ بیماری بھی جرم بھی .تحریر: ملک ضماد

    نشہ بیماری بھی جرم بھی .تحریر: ملک ضماد

    پاکستان میں منشیات کا استعمال دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے
    ہر زور کئی لوگ پولیس کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوتے ہیں اور کئی لوگ مر بھی جاتے ہیں نشہ کا استعمال میں اس وقت نوجوان نسل زیادہ ہے جو سکول کالجز میں پڑھتے ہیں اس کے بعد پھر کاروباری شخصیات کو بھی منشیات کے استعمال ریکارڈ کیا گیا ہے منشیات کا استعمال پہلے تو لوگ ذہنی و جسمانی سکون کے کیے کرتے ہیں لیکن بعد میں وہ ہی سکون برباد کو جاتا ہے اور لوگ نشے کی حالت میں کبھی درد بدر کی ٹھوکریں اور کبھی کہیں سڑک کنارے یا کسی ندی نالے میں پڑے ملتے ہیں اسلام میں بھی نشہ آور چیزوں کے استعمال سے منع کیا گیا ہے
    اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مقدس میں ارشادفرماتاہے:

    (1)(اے محبوبﷺ)تم سے شراب اورجوئے کاحکم پوچھتے ہیں ۔تم فرمادوکہ ان دونوں میں بڑاگناہ ہے۔اورلوگوں کاکچھ دنیوی نفع بھی،لیکن ان دونوں کاگناہ ان کے نفع سے بڑاہے۔(سورۂ بقرہ:آیت219،پ2)

    ترجمہ: ائے ایمان والوں !نشہ کی حالت میں نمازکے پاس نہ جاؤ جب تک اتناہوش نہ ہوکہ جوکہواسے سمجھو۔(کنزالایمان،النساء4؍43،پ5)

    رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔شراب پیتے وقت شرابی کا ایمان زائل ہوجاتاہے۔ایک اورجگہ ارشادفرمایاکہ :جوزناکرے یاشراب پیئے اللہ تعالیٰ اس سے ایمان کھینچ لیتاہے جیسے آدمی اپنے سرسے کرتاکھینچ لے۔(فتاویٰ رضویہ،ج۱۱)

    حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔قسم ہے میرے عزت کی جوبندہ شراب ایک گھونٹ بھی پیئے گامیں اس کواتنی ہی پیپ پلاؤں گا۔اورجوبندہ میرے خوف سے اُسے چھوڑے گامیں اس کومقدس حوض سے پلاؤ ں گا۔(امام احمد)

    منشیات فروش معاشرے کے لیے بربادی کا سبب بنتے ہیں اور اپنی ذات کا نقصان بھی کرتے ہیں منشیات کے استعمال سے معاشرے میں بڑھتی برائیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو کہ اداروں کے لیے سوچنے کا مقام ہے ہم سب کا فرض ہم مل کر معاشرے سے اس لعنت کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں متعلقہ اداروں ساتھ بھی مکمل تعاون کریں

  • کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    انسان کو جب تک دکھ, تکلیفیں نہیں ملتیں اُسے خوشیوں کا احساس نہیں ہوتا اور بعض دفعہ ایسا دکھ ملتا ہے کہ وہ گزرے لمحات کو یاد کرکے روتا ہے کہ وہ وقت کتنا اچھا تھا…
    پھر چاہ کر بھی وہ وقت انسان واپس نہیں لا سکتا, وہ ایک یاد بن کر ہمیں اس چیز کا احساس بھی دلاتا رہتا ہے کہ تب ہم اتنے لاعلم, اتنے لاپروا کیوں تھے, تب ہم نے ایسا کیوں سوچا کہ تھا کہ یہ وقت ہمیشہ ہی رہے گا…
    اپنی زندگی میں مشغول ایسے تھے کہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک پل میں سب کی زندگی بدل جائے گی کہ پھر ہنسنے کا دل کریگا بھی تو ….. آ نکھوں میں آ نسو آ جائیں گے.
    میرا خاموش رہنا صرف میری ماں ہی محسوس کرتیں تھیں, میرے چہرے کو اداس دیکھ کر وہ سمجھ جاتیں تھیں کہ آ ج میرا دل اداس ہے.
    زندگی پُرسکون رواں دواں تھیں کہ ایک صبح 4:30 پہ سوات کے پولیس اسٹیشن سے کال آ ئی کہ ایک گاڑی نے ہماری گاڑی کو پیچھے سے ہٹ کیا ( جس کا ڈرائیور سو گیا تھا) اور اس ایکسیڈنٹ میں میرے بھائی کی موت ہوگئی ہے یہ خبر کسی قیامت سے کم نہیں تھیں بھائی کے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوگئے
    اُس لمحے کسی کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے .
    سبھی دُکھی تھے پر میری ماں کو کسی طرح صبر نہیں آ رہا تھا وہ بس ایک ہی بات کہہ جارہی تھیں میری زندگی کا وسیلہ میرا بیٹا مجھے کیسے چھوڑ کے جاسکتا ہے. سب انکو تسلیاں دے رہے تھے بھائی کی میت شام کو گھر پہنچی ایک کہرام برپا تھا ہر آ نکھ اشک بار تھی میری ماں بار بار بے ہوش ہوجاتیں تھیں آ دھی آ دھی رات اٹھ کے بھائی کی قبر پہ چلی جاتیں پھر شاید میری ماں کی تڑپ ہی تھی کہ بھائی کے چالیسویں کی رات میری ماں مجھے چھوڑ کر بھائی کے پاس چلی گئیں بھائی کا ایکسیڈنٹ رات 1:30 کے قریب ہوا اور یہی وقت میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا اور 10 منٹ میں ہی میری ماں مجھے چھوڑ کے بھائی کے پاس چلی گئیں…

    اُس رات میرے ساتھ رات 12:15 تک بیٹھیں باتیں کرتیں رہیں, باتوں باتوں میں کچھ نصیحتیں کرتیں رہیں مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ اُنکی آ خری باتیں ہونگیں اور جن کا احساس اُنکی موت کے بعد ہُوا… انکی کہی یہ بات کہ بیٹا بڑا وہی ہوتا ہے جس کا دل بڑا ہوتا ہے تم سب سے چھوٹی ہو کوئی بات کہہ بھی جائے تو دل بڑا کرلیا کرو…
    میں اب کس سے کہوں کہ ماں میرا دل اتنا بڑا نہیں ہے میری آ نکھوں کے آ گے سے آ پکا چہرہ ہٹتا ہی نہیں ہے..
    میرے کانوں میں آ پکی آ واز گونجتی رہتی ہے, میں کسی محفل میں بھی جاتی ہوں تو میری آ نکھوں میں آ نسو آ جاتے ہیں.
    میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ماں آ پ اسطرح اچانک سے مجھے چھوڑ جائیں گی.. کیا آ پ کے لئے بھائی ہی سب کچھ تھا..
    ماں آ پ کے ہوتے میں نے کبھی خود خیال نہیں کیا کہ اب میں بڑی ہوگئی ہوں میری آ پ سے ضد کرکے بات منوانا ویسے ہی رہا جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے ضد کرکے منواتا ہے..
    میں نے کئی لوگوں کی موت دیکھی میں نے کبھی ان لوگوں کے درد کو محسوس نہیں کیا جو کسی اپنے کی موت دے کے جاتی ہے…
    میں سوچتی تھی کہ ماں باپ جب بوڑھے ہوجاتے ہیں تو انکی خدمت کی جاتی ہے جب بیمار ہوتے ہیں اُنکی خدمت کی جاتی ہے..
    پر مجھ بدنصیب کو کیا معلوم تھا کہ ماں کی خدمت میرے نصیب میں ہے ہی نہیں,
    میری ماں تو آخری دن تک میرا خیال کرتیں رہیں…
    میری چیزیں سنبھال کے رکھنا اور پھر اُنکا یہ کہنا کہ میں کب تک تیری چیزوں کو سنبھالو گی..
    پھر ماں سے کسی بات پہ ناراض ہوجانا اور انکا پھر میری پسند کی چیزیں ابو سے منگوانا…
    ماں مجھے احساس ہوگیا ہے پر اب میرے پاس آپ نہیں ہو,
    میں خود کو بہت ٹوٹا ہوا بہت ادھورا محسوس کرتی ہوں…
    اب تو میں نے ناز نخرے کرنا بھی چھوڑ دیا ہے
    ماں اب تو میں نے روٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے…
    ماں سب کا مقام اپنی اپنی جگہ خاص ہے پر ماں آ پکے گلے لگ کے خوشی یا غم کا رونا کسی اور کے ساتھ ممکن نہیں…
    ایسا کوئی نہیں جو بنا پوچھے سمجھ جائے.. میری وہ بے فکر زندگی صرف آ پکے بدولت تھی ماں
    میرے دل کی حالت بیان کرنے کو سمجھ نہیں آ تا الفاظ کہاں سے لاؤں بس اتنا ہی کہ

    افسانہِ دلِ برباد کیا سناؤں ماں
    اجڑ گئ میری دنیا کہاں میں جاؤں ماں
    کہاں تلاش کروں ہائے اب متاعِ سکوں
    کہاں گئی میری جنت ، کہاں سے لاؤں ” ماں "

  • ابلیس کا دربار . تحریر:عمالقہ حیدر

    ابلیس کا دربار . تحریر:عمالقہ حیدر

    شیاطین کی انٹر نیشنل کانفرنس کچھ دیر تک شروع ہونے والی ہے دور دراز سے اور ہر ملک سے جنات جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں اس انٹر نیشنل کانفرس کی سب سے بڑی حیرانی یہ ہے کہ جنات کا سب سے بڑا امیر اس کانفرنس سے خطاب کرے گا یہ امیر ہر سو سال بعد ایک بڑے اجتماع سے مخاطب ہوتا ہے اور خطابت کے بعد پھر سو سال نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اس لیے آج کا اجتماع شیاطین کے لیے بہت اہم ہے کروڑوں شیاطین اپنے محبوب کی جھلک دیکھنے کے لیے بےتابی سے اجتماع کیطرف رواں دواں ہیں پھر اپنے امیر کی وعظ و نصیحت کو اپنے پلو باندھ کر اس پر عمل ہر صورت کرتے ہیں چاہیے اس کی خاطر خون کی ندیاں بھی بہانی پڑ جائیں اس لیے کچھ انسانوں کی دنیا میں بھی گروپ اس بڑے اجتماع میں شریک ہو رہے ہیں ۔ جو اس ابلیسی خطاب سے اپنی سماعتوں کو تسکین دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آئیے شیاطین کے امیر کی بارعب اور گرج دار آواز میں اس کا خطاب سنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    *میرے کارندوں آپ جانتے ہیں کہ پچھلہ سو سالہ ہدف جسطرح نے کامیابی سے طے کیا ہے اس کی کارکردگی پر میری آتما بہت خوش ہے۔ جسطرح آپ نے اسلام میں فرقہ پرستی کو ہوا دی اور مسلمان کو مسلمان سے دور کیا اس کی اب مثال نہیں ملتی اور اس کی اور کامیابی کیا ہو۔ ایک ہی اللہ اور ایک رسول اور ایک قرآن رکھنے والے ایک دوسرے کے دشمن ہیں وجہ صرف آپکی بھڑ کائ ہوئ فرقہ پرستی کی آگ ہے ۔ہمیں اگر ڈر ہے تو صرف اسلام سے ہے اور یہی وہ اسلام ہے جو ہماری ابلیسی پالیسی میں رکاوٹ ہے۔ اس لیے اس آگ کو مزید تیز کر کے اسلام کو منتشر کر دو لیکن آج کے اس بڑے اجتماع سے خطاب کرنے کا مقصد یہ لے کر آیا ہوں کہ اب آپ نےمزید اسلام کو کیسے کمزور کرنا ہے تاکہ اس کا نام بھی مٹ جائے کیونکہ ہماری فرقہ پرستی کا مشن مکمل ہو چکا ہے اور اسلام کی نئ نسل ہماری اس پالیسی سے خوب واقف ہو گئ ہے ۔نئے نوجوان دوسرے کے مسلک کو ادب سے دیکھتے ہیں اس لیے مجھے نئ پالیسی کا اعلان کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ہم نے اگلے سو سالہ کا سوچنا ہے کہ اسلام کے مقلدین کی کیسے دھجیاں آڑانی ہیں یہی وہ دین ہے جو مضبوط ہو گیا تو ہماری دھجیاں اڑا دے گا۔ کیونکہ دوسرے مذاہب کو ہم نے جسطرح بے منزل راہوں کا مسافر بنایا ہے اس کی مثال دینا مشکل ہے___

    سنو میرے پیرکارو ۔۔۔۔۔۔۔

    اسلام کے سینے میں مضبوط ترین اگر کوئ چیز محفوظ ہے تو وہ شرم و حیا اگر آج اسلامی تہزیب زندہ ہے تو اسی خوبی کی وجہ سے ہے۔ پچھلی صدی میں ہم نے یورپ میں عورت کا استعمال کر کے یورپ کا خاندانی اور معاشرتی نظام تباہ کیا اب دیکھو وہاں ماں بہن اور بھائ میں شرم و حیا ختم ہو گئ ہے بھائ کی بہن دوستوں کے ساتھ جہاں جائے کوئ روک تھام نہیں عورت کو ہم نے پورن انڈسٹری میں پہنچا کر اسے آزادی نسواں دی ۔اب دیکھو عورت یورپ میں اپنی من چاہی زندگی گزار کر ہماری پالیسی کی آئینہ دار ہے اور یہی ہماری کامیابی ہے اور یہی ہمارا مشن ہے جو ہر دن مزید سے مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے___

    آج کی اگلی سو سالہ پالیسی یہ ہے کہ اب آپ نے اہل مسلم خواتین کے دماغوں میں تحریک آزادی کا تخیل دینا ہے تاکہ وہ حدود و قیود اور حجاب جیسی گھٹیا اور روایتی انداز کو توڑ دے تاکہ مسلم خواتین سب سے پہلے ایک خاوند کی بیوی کہلانے سے نکلے اور اسے یہ حق دینے کی تقویت دینی ہے کہ۔۔۔۔ میرا جسم میری مرضی۔۔۔ اور اس جیسے شاندار نعرے اس کی روح تک اتار دینے ہیں۔ اور کچھ میرے پیروکار نے مزید Tikokاور BIGO LIV جیسے نئے راستوں سے مزید روشناس کرانا ہے کیونکہ ہم جب تک بے حیائ اور برہنہ تراکیب کو عام نہیں کریں گے اسلام کی بنیاد کمزور نہیں ہو گی اس کے لیے مزید پورن گرافی کو عام کرو۔یہی وہ راستہ جس کے ذریعے اس اسلام کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔
    تاکہ یہ جنسی تحریک دماغوں میں رچ بس جائے۔ خاندانی رشتوں کی تمیز ختم ہو ۔اس مشن کی پہلی کامیابی یہ ہو گی کہ جب بہن بھائ میں جنسی
    گفتگو میں کوئ ہچکچاہٹ نہ ہو تو سمجھو کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں ۔ہمارا یہ مشن اس صدی میں مقبول ترین ہو گا کیونکہ میری آنکھیں آنے والے زمانے میں بہت کامیابیاں دیکھ رہی ہیں آپس میں اتفاق میں رینا اہل مسلم کی طرح تفرقوں سے دور رہنا اور اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹنا کیونکہ اگر اسلام مضبوط ہو گیا تو ہمارا نام و نشان مٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آج کافی دنوں بعد بڑی خبریں ہیں ۔ آج تمام چیزیں کھول کر آپ سامنے رکھوں گا کہ زرداری کا مشن لاہور کیا ہے ۔ کیسے جنوبی پنجاب محاذ دوبارہ سرگرم ہونے والا ہے ۔ پی ٹی آئی نے اگلے الیکشن کے لیے کن چالیس لاکھ ووٹروں سے امید باندھ لی ہیں ۔ اور دو سال پہلے ہی جنرل الیکشن کی تیاری کیوں شروع ہوگی ہے ۔

    ۔ مگر ان سب چیزوں پر بات کرنے سے پہلے چند آج کی خبریں ہیں ۔ آئل ٹینکر والے احتجا ج رہے ہیں جس سے کئی شہروں میں پیٹرول کی قلت ہوسکتی ہے ۔ فلور ملز والے احتجاج کررہے ہیں ۔ اس حوالے سے بھی کہا جا رہا ہے کہ لاہور اور فیصل آباد میں آٹے کی قلت ہوسکتی ہے اور ریٹ اوپر جا سکتا ہے ۔ پھر سندھ میں گیس کی قلت کی وجہ سے صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو سپلائی معطل کر دی گئی ہے ۔ لاہور میں واسا نے پانی کے بلوں میں
    45
    فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے ۔ یہ آئل ٹینکر والے اور فلور مل والے بھی اضافی ٹیکسوں کی ہی وجہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ حالانکہ بجٹ دیتے وقت کہا گیا تھا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے ۔ یہ ٹیکس فری بجٹ ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ابھی بجٹ نے پاس ہونا ہے مگر اس کے ثمرات عوام تک پہنچانا شروع ہوگئے ہیں ۔

    ۔ سیاست کی بات کریں تو کچھ ہفتے پہلے اپوزیشن میں جو جوش و خروش پیدا ہوا تھا۔ اب وہ سرد پڑ گیا ہے ۔ لے دے کر شہباز شریف ہی دیکھائی دیتے ہیں ۔ مریم نواز کی گھن گرج بھی اب ختم ہوگئی ہے ۔ وہ بھی تب ہی میڈیا کو اپنا درشن کرواتی ہیں جب کوئی پیشی ہو ۔ ورنہ سب سے سستی شائد خاموشی ہی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کبھی کبھی میڈیا پراپنا چہرہ دکھاتے ہیں لیکن ہیں وہ بھی خاموش ہی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب لوگوں کو دیکھانے کے لیے ہو اور اندر کھاتے ایک بڑی پلاننگ چل رہی ہے ۔

    ۔ مگر ن لیگ اور پی ٹی آئی سے ہٹ کر ملک میں ایک تیسری سیاسی قوت بھی ہے۔ یعنی پیپلز پارٹی ۔۔۔ ۔ اس تمام منظر میں مفاہمت کے بادشاہ اور سیاست کے جادوگر سابق صدر آصف زرداری آئندہ انتخابات میں سرپرائز دینے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ ۔ زرداری کی پرویز الٰہی سے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو ان کے عزائم اور مستقبل کے سیاسی نقشے کا پتہ دیتی ہے۔ میڈیا پر ذرائع کے حوالے سے شائع شدہ اندرونی کہانی کے مطابق دوران ملاقات آصف زرداری نے پرویز الٰہی کو مخاطب کرکے کہا ۔۔۔ آپ ہمارے بھی اتحادی تھے اور اس حکومت کے بھی ہیں۔ فرق تو پتا چل گیا ہوگا؟ عمران خان کبھی سیاستدان نہیں تھے، خان کو لانے والے بھی اب پچھتا رہے ہیں، اگلے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی سب کو سرپرائز دے گی۔ جلد جنوبی پنجاب کی اہم شخصیات پیپلز پارٹی میں شامل ہوں گی۔ ۔ اس موقع پر پرویز الٰہی نے بھی بلاول بھٹو کی تعریف کی اور کہا کہ قومی اسمبلی میں متعدد مرتبہ بلاول بھٹو کی تقریر سنی بہت میچور بات کرتے ہیں۔۔ اس گفتگو سے حساب لگائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری اگلے الیکشن کی تیاری میں کمر کس چکے ہیں۔

    ۔ اب یہاں زرا رک جائیں ایسا نہیں ہے کہ عمران خان یا پی ٹی آئی اس پلاننگ سے غافل ہے یا ان کو پریشانی نہیں ہے ۔ یہ جو تارکین وطن کو ووٹ کا حق اور ای ووٹنگ کا شور ہے اس کے بڑے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ کیونکہ 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 88 لاکھ کے قریب پاکستانی آباد ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں ان میں اضافہ بھی ہوا ہو گا ۔ اور کمی بھی ہوئی ہو گی ۔ ان میں چند لاکھ پاکستانی وہ بھی ہوں گے جن کے کاغذات کا مسئلہ ہو گا ۔ جو بطور ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ نہ کر سکیں۔ اب آپ اندازہ لگائیں تو کم و بیش چالیس سے پچاس لاکھ نئے ووٹر تو ہوں گے جو بیرون ملک مقیم ہیں۔ ۔ اب گزشتہ الیکشن میں کُل ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ اکیاون ہزار ووٹ پاکستان تحریک انصاف نے حاصل کئے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ چھیانوے ہزار ووٹ حاصل کیے تھے ۔ اسی طرح سے پاکستان پیپلز پارٹی نے انہتر لاکھ ایک ہزار ووٹ حاصل کئے تھے ۔۔ یوں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے ووٹ میں چالیس لاکھ کا فرق ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) سے اٹھاون لاکھ جبکہ پی ٹی آئی سے ننانوے لاکھ ووٹ پیچھے ہے۔ ۔ اب اگر مقبولیت میں کمی بیشی کا حساب سامنے رکھیں تو شہروں میں مہنگائی کے باعث تحریک انصاف کا ووٹ بینک ضرور متاثر ہوا ہے۔ ۔ تو اس جمع تفریق کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی تمام تر اُمیدوں کا محور سمندر پار پاکستانی ہیں۔ اس لیے یہ حکومت ہر حال میں جائز ناجائز طریقے سے ان کو ووٹ کا حق اور سسٹم میں شامل کرنا چاہتی ہے ۔ کیونکہ صرف یہ ہی ایک واحد صورت باقی رہ گئی ہے جس کے بدولت وہ دوبارہ حکومت بنا سکتے ہیں ورنہ تو جو کارکردگی ہے اس بنیاد پر تو شاید اس بار پی ٹی آئی کے پی کے میں بھی حکومت نہ بنا سکے ۔ ۔ اسی لیے اپوزیشن جماعتیں بھی ہر قیمت پر انتخابی اصلاحات میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ یہ ووٹ بینک کہاں جانا ہے اور یہ فیصلہ کس کے مفاد میں ہوگا ۔ ۔ اب جو بات زرداری کررہے ہیں کہ وہ جنوبی پنجاب میں نقب لگائیں گے ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تین سالوں میں محض سیکرٹریٹ کا لالی پاپ دیا گیا ہے ۔

    ۔ اگرآپ کو یاد ہو تو جس وقت جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنا کر جنوبی پنجاب کے سیاستدان تحریکِ انصاف سے بالواسطہ طور پر منسلک ہوئے تھے تو تحریکِ انصاف کی ایک لہر موجود تھی۔ لوگ ایک نئی سیاسی جماعت کو آزمانے کے موڈ میں تھے۔ تبدیلی کا نعرہ اپنا اثر دکھا رہا تھا۔ اس پر جنوبی پنجاب سے تحریکِ انصاف کو ایک بڑی فتح ملی تھی۔ پر اب صورتحال یہ ہے کہ شاید تحریک انصاف جنوبی پنجاب سے اپنی جیتی ہوئی نشستیں حاصل نہ کر سکے۔

    ۔ زرداری نے اس چیز کو پڑھ لیا ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان مجبوری میں اس حکومت کی طرف سے وعدے وفا نہ ہونے پر نئی منزلوں کی طرف اڑان بھریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان کی بڑی تعداد ان کے ساتھ آسکتی ہے۔ ۔ اس کا اشارہ جہانگیر ترین نے بھی صحافیوں کے گروپ کے ساتھ ملاقات میں دیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو آپشن نہیں کہا تھا لیکن مسلم لیگ ن سمیت تمام آپشنز کھلی رکھنے کا اعتراف کیا تھا۔۔ یہاں آپکو یاد کروا دوں کہ جنوبی میں زیادہ تر electables ہیں ۔ جن کو الیکشن جیتنے کے لیے کسی پارٹی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ ہی electables جب ن لیگ میں گئے تھے تو ان کی حکومت بن گئی تھی اور جب یہ ہی گزشتہ الیکشن میں ہجرت کرکے پی ٹی آئی میں گئے تو ان کی حکومت بن گئ تھی ۔۔ شاید اسی لئے زردری کو یہ امکان نظر آتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب سے صوبائی اسمبلی میں نقب لگائی جا سکتی ہے۔ ایسا ہوگیا تو یہ ایک بہت بڑا کرشمہ ہوگا۔۔ سندھ کی نشستوں کے ساتھ پنجاب اور کے پی سے کچھ نشستیں اگر پیپلز پارٹی کو مل گئیں تو اگلے الیکشن میں مرکز میں پیپپلز پارٹی کی پوزیشن بہتر ہوسکتی ہے۔ پنجاب میں ان کی توجہ کا مرکز جنوبی پنجاب ہے۔ جہاں تک ۔۔۔ کے پی کے ۔۔۔ کی بات ہے تو ماضی بتاتا ہے کہ کے پی کے عوام کسی بھی حکومت کو زیادہ عرصہ تک مسلط نہیں رہنے دیتے۔۔ یوں جنوبی پنجاب اور کے پی کے سے اگر آصف زرداری کی توقعات پوری ہو جائیں تو اگلے الیکشن میں وفاق پر کنٹرول کا خواب پورا کرنا آصف علی زرداری صاحب کی سیاسی جادوگری کیلئے مشکل مہم نہیں ہوگی۔ یوں اگر پیپپلز پارٹی اگلے الیکشن میں 90کے قریب سیٹیں لینے میں کامیاب ہوجائے تو وہ جوڑ توڑ کرکے ، ق لیگ ، جے یو آئی دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر بآسانی وفاق میں حکومت بنا سکتی ہے ۔

    ۔ اس لیے فی الحال جنوبی پنجاب کے امیدواروں پر ’’باریک بینی سے کام‘‘ شروع کئے جانے کی اطلاعات نے حکومتی کیمپوں میں تھرتھلی مچائی ہوئی ہے ۔ اب لگتا ہے کہ وہ بات جو عمران خان نے چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں سوچی مگر دبا لی۔ اس نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے عمران خان کی جماعت اندر خانے کام کرنے میں مصروف ہے ۔ یوں تحریک انصاف کو وعدے پورے نہ کرنے پر جنوبی پنجاب میں جو نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس کا جو ووٹ بینک متاثر ہوگا۔ اس کا اندازہ اگلے الیکشن میں ہوجائے گا ۔