Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان سمیت دنیابھرمیں مقیم کشمیری آج سے ہفتہ شہدا منارہےہیں،مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کا اعلان

    پاکستان سمیت دنیابھرمیں مقیم کشمیری آج سے ہفتہ شہدا منارہےہیں،مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کا اعلان

    پاکستان سمیت دنیا بھرمیں مقیم کشمیری آج سےہفتہ شہدامنارہےہیں-

    باغی ٹی وی : کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہفتہ شہدامنانےکی کال کل جماعتی حریت کانفرنس نےدی پاکستان اوربیرون ممالک میں دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا-

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل احتجاجی ریلیاں اورجلوس نکالےجائیں گے، 8جولائی کوشہید برہان وانی کےیوم شہادت کویوم مزاحمت منایا جائےگا اور برہان وانی کےآبائی قصبےترال کی طرف مارچ کیاجائےگا-

    کے ایم ایس کی رپورٹ کے مطابق 13جولائی کو 1931کےشہدا کی یاد میں یوم شہدا منایا جائےگا، ہفتہ شہدا کےدوران مقبوضہ کشمیرمیں مکمل ہڑتال ہوگی-

  • کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید تمغہ بسالت.   تحریر: ایمان ملک

    کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید تمغہ بسالت. تحریر: ایمان ملک

    سوات جسے پاکستان کا سویٹزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے سرسبز وشاداب میدانوں، خوبصورت مرغزاروں اور شفاف پانی کے چشموں سے مالا مال ہے۔ دنیا کے حسین ترین خطوں میں شمار کیا جانے والا یہ علاقہ، پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے شمال مشرق کی جانب 254 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جب کہ صوبائی دارلحکومت پشاور سے اس کا فاصلہ 170 کلو میٹرہے۔ مگرسنہ 2007ء سے سنہ2009ء کے درمیان دہشت گرد تنظیم ٹی این ایس ایم (تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی) کے بانی صوفی محمد اور اس کے داماد ملا فضل اللہ کے زیر قیادت طالبان نے سوات میں نظام عدل اور نفاذ شریعت کی آڑ میں ایسا گھناؤنا کھیل رچا کہ اس پوری وادی کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔
    جولائی سنہ 2007ء میں جنوبی ایشیاء کی یہ خوبصورت ترین وادی موت اور تباہی کی وادی میں تبدیل ہو گئی۔ جہاں سیاحوں کی بجائے خوف کے سائے منڈلانے لگے۔ اور بچیوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانا بند کر دیئے گئے۔ اور ٹی وی سیٹس، سی ڈیز اور کمپیوٹرز کو حرام قرار دے کر نذرِآتش کرنا شروع کر دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بچیوں کے اسکولوں اور سی ڈیز کی دکانوں میں دھماکے ہونے لگے اور پولیس اور سیکورٹی فورسز پر خود کش حملے روزانہ کا معمول بن گیا۔ ملا فضل اللہ کی کھڑی کردہ دہشت گرد "شاہین فورس” نے طالبان کمانڈر سراج الدین کی زیر قیادت بالائی سوات کے اسکولوں، ہسپتالوں اور گورنمنٹ دفاتر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ جہاں پاکستان کے قومی سبز ہلالی پرچم کو ٹی این ایس ایم کے سیاہ اور سفید پرچم سے تبدیل کر دیا گیا۔

    اس گھمبیر صورتحال سے نمٹنے کے لئے اس وقت کی نگران حکومت نے تقریباً25000 کے قریب سپاہیوں پر مشتمل پاک فوج کے دستے وادی سوات روانہ کئے۔ جن کی کارروائی کے بعد ملا فضل اللہ کے بہت سے ساتھی مارے گئے اور وہ خود فرار ہو گیا۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 13 پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کو چارباغ اورمٹہ کے علاقوں میں بے دردی سے جانوروں کی طرح ذبحح کیا گیا۔ اور یہیں سے ہی پاکستان میں دہشت اور بربریت کے ایک ایسے باب کا آغاز ہواجس میں پاکستان کے متعدد سول اور عسکری اداروں سے وابستہ اہلکاروں نے جانیں نچھاور کر کے بہادری اور دلیری کی وہ داستانیں رقم کیں جن کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اوراس لئے ہم سے ڈومور کا مطالبہ کرنے والوں پر یہ لازم ہے کہ پاکستان کے ان شہریوں،فوجی افسران اور جوانوں کی لہو سے لکھی گئی منفرد داستانوں کو پڑھیں اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر خود سے سوال کریں کہ کیوں ان کی ڈیرھ لاکھ کے قریب فوج، بے تحاشہ وسائل اور وسیع بجٹ کے باوجود افغانستان میں نہ تو امن قائم کر پائی اور نہ طالبان کے زیر تسلط علاقوں کا کنٹرول حاصل کر سکی؟؟؟

    بہرحال، سوات میں ملا فضل اللہ دوبارہ سرگرم ہوا اس نے پاکستانی ریاست اور اس کے نظام کے خلاف کھلم کھلا جنگ کا اعلان کر دیا جو اس کے شر انگیز نقط نظر میں غیر اسلامی اور غیر شرعی تھا۔ حالات مزید بگڑتے گئے مگر اسی دوران حکومت اور دہشت گرد تنظیم ٹی این ایس ایم کے بانی صوفی محمد کے مابین ‘امن معائدہ’ طے پاگیا۔ اسی اثناء میں طالبان کی جانب سے ایس ایس جی (اسپیشل سروسز گروپ) کے 4 اہلکار بھی حراست میں لئے گئے جب وہ خوازہ خیلہ بازار میں معمول کے مطابق خریداری کرنے میں مشغول تھے۔ اگرچہ ان اہلکاروں کے پاس اسلحہ موجود تھا مگر پھر بھی انہوں نے امن معائدے کی پاسداری کرتے ہوئے ہر گز کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔ اور خود کو چپ چاپ طالبان کے حوالے کر دیا۔ ان ایس ایس جی کے چار اہلکاروں میں سے ایک کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید بھی تھے جنہوں نے اپنے کردار اور عمل سے پاک فوج کے بعد دیگرنوجوان آفیسرز کے لئے ایک ایسی مثال چھوڑی جو سب کے لئے باعث تقلید بنی۔ اور آج اسی لئے ہم سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ہمارے آفیسرز کی شہادتوں کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

    کہوٹہ سے تعلق رکھنے والے اس پاک فوج کے آفیسر نے اپنی ابتدائی تعلیم ملٹری کالج جہلم سے حاصل کی جو کہ پاک فوج کی نرسری تصور کی جاتی ہے۔ بعد ازاں پاک فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد کیپٹن نجم نے رضاکارانہ طور پر خود کو ایس ایس جی سروس کے لئے پیش کیا۔ جو عسکری تربیت سازی کے حوالے سے انتہائی دشوارگزار اورکٹھن انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ مگر کیپٹن نجم نے اس تربیت کی ہر مشکل کو آسانی سے عبور کیا اور ایک نڈر، سخت جان کمانڈو بنے جس کا ثبوت انہوں نے اُن بائیس 22 دنوں میں دیا جو انہوں نے اپنے چار دیگر ساتھیوں سمیت طالبان کی حراست میں گزارے۔ ان کی بڑی ہمشیرہ مسز وحیدہ عامر کے مطابق ان کے خاندان کو ان کی حراست کا علم پاک فوج سے نہیں بلکہ دنیا ٹیلی وژن کے اس براہ راست نشر کئے جانے والے انٹر ویو سے ہوا جو بہت عرصے تک علمی حلقوں میں زیرِ بحث رہا۔ دوران حراست کیپٹن نجم کو اپنے گھر والوں سے بذریعہ ٹیلی فون بات چیت کی اجازت تھی ۔ مگر انہوں نے اپنی گفتگو میں کبھی بھی اپنے گھر والوں پر عیاں نہیں ہونے دیا کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں اور نہ ان کے خاندان نے ان پر ظاہر کیا کہ وہ سب جانتے ہیں۔

    کیپٹن نجم کی ہمشیرہ کے مطابق ان کے بھائی ان 22 دنوں میں بہت باہمت اوربا حوصلہ رہے نہ تو ان کا ایمان ڈگمگایا نہ ان کے پاؤں لڑ کھڑائے۔ بلکہ وہ انہیں تاکید کرتے رہے کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو کبھی بھی پاک فوج کو برا بھلا نہ کہا جائے کیونکہ وہ پاک فوج کو اپنا حقیقی خاندان تصور کرتے تھے۔ یہاں واضح رہے کہ یہ تذکرہ سنہ 2009ء میں اپریل کے آخری اور مئی کے اوائل کے دنوں کا ہے جب پاکستان کے حالات بہت خراب تھے اور سرعام میڈیا پر پاک فوج کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جانا معمول سمجھا جاتا تھا ۔ اس دوران کیپٹن نجم کے ایک بھائی اور چھوٹی بہن ملک سے باہر قیام پذیر تھے جنہیں وہاں ان کے موبائل فونز پر طالبان کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے۔ طالبان یہ سب پریشر ٹیکٹکس کے لئے کر رہے تھے تا کہ ان چار اہکاروں کے بدلے ان کی حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل طے پا جائے۔ جو کہ ممکن نہیں ہوئی۔ اسی اثناء میں کیپٹن نجم اور ان کے دیگر ساتھی طالبان کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوئے اور انہوں نے ایک قریبی گاؤں میں پناہ لی۔ مگر وہاں ان کی مخبری ہو گئی اور انہیں وہاں سے بھی بھاگنا پڑا۔ مگراسی دوران ان کا ایک ساتھی ٹانگ پر گولی لگنے کے باعث زخمی ہو گیا اورزمین پر گر گیا۔ اس نے کیپٹن نجم سے کہا، "سر آپ جائیں، مجھے یہیں چھوڑ دیں”۔ مگر کیپٹن نجم ریاض شہید ایک حقیقی کمانڈو تھے وہ کیسے اپنے ساتھی کو وہاں اکیلا چھوڑ سکتے تھے۔ لہٰذا وہ سب اپنے زخمی ساتھی کو بچانے کے چکر میں دوبارہ طالبان کی گرفت میں چلے گئے۔ اب ان کی فون پر گھر والوں سے بات چیت ہونا بھی بند ہو گئی۔ کیونکہ طالبان کو سمجھ میں آچکا تھا کہ حکومت پاکستان اور پاک فوج ان ظالمان سے کسی بھی قسم کی کوئی سودے بازی نہیں کرے گی۔

    اب کیپٹن نجم اور ان کے دیگر تینوں ساتھیوں کو الگ الگ جگہوں پر حراست میں رکھا گیا تھا۔ ایک دن انہیں معلوم ہوا کہ صبح طالبان ان سب کو ذبح کر کے شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو ذبح کر بھی دیا گیا۔ مگر جب طالبان کیپٹن نجم کو لینے کمرے میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کس ماں کے شیر کو للکار رہے ہیں۔ کیپٹن نجم نے ایک ایک کر کے (کمرے میں انہیں لینے کے آنے والے) آٹھ دہشت گردوں کی گردنیں توڑ کر انہیں جہنم واصل کر دیا۔ اوراسی اثناء میں پاکستان کا یہ عظیم لخت جگر کمرے کے باہر کھڑے دہشت گرد کی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہو گیا۔ اور بالآخر 11مئی سنہ 2009ء میں پاک فوج کے اس 24 سالا نوجوان آفیسر کو اپنے آبائی علاقے کہوٹہ میں پورے عسکری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ گو کہ کوئی بھی دنیاوی تمغہ یا اعزاز کیپٹن نجم کی قربانی اوربے مثال بہادری کے شایان شان نہیں مگر بعد از شہادت کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید کو حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی ملک و قوم کے لئے خدمات اور عظیم قربانی کے اعتراف میں تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔
    کیپٹن نجم نے اپنے ساتھیوں سمیت جان کے نذرانے تو پیش کئے مگر ان چاروں سپاہیوں کی قربانی ہی تھی جو سوات کو طالبان کے ناپاک قدموں سے پاک کرنے کے لئے آپریشن راہِ نجات اور راہِ راست کا موجب بنی۔ یہ آپریشن آج دنیا بھر کی متعدد ملٹری اکیڈمیز میں ایک ٹیکسٹ کیس کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے۔ جس نے جنت کا نظارہ پیش کرنے والی اس وادی(سوات) کو خوف کے سائے سے نکال کر دوبارہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

    آج ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور ہماری افواج اور آئی ایس آئی پر دہشت گردوں سے روابط ہونے کےالزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ اس فوج پر الزامات لگائےجاتے ہیں جس نے کیپٹن نجم سمیت اپنے چار بیٹے شہید کروا دیئے مگران کی جانوں کے بدلےطالبان سے کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی۔ مگر کہیں نہ کہیں تو کوتاہی ہماری بھی ہے کیونکہ بد قسمتی سے ہم آج تک دہشت گردی خلاف جنگ میں اپنی قربانیاں اور اپنے نڈر ہیروز کی کارنامے اس طرح دنیا کے سامنے نہیں لا پائے جس طرح امریکہ اپنے سپاہیوں کی کہانیاں عالمی جنگوں کے بعد اور ابھی افغان جنگ کے حوالے سے منظر عام پر لاتا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پروپیگنڈہ وار کا دور ہے۔ جس میں زمینی کارروائی کے علاوہ ذہن سازی اور مثبت سوچ کی نشونما اور ترویج پر بھی توجہ دینا لازم ہوتا ہے۔ اور جہاں ہم شاید بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

    یہ کام صرف پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا نہیں بلکہ ہمارے پرائیویٹ میڈیا بشمول فلم انڈسری اور ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ہے کہ وہ آگئے آئیں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو فلمانے میں اپنی کردار ادا کریں تاکہ دنیا بھی جان سکے کہ پاکستان دہشت گرد ریاست نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ریاست ہے۔

  • خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، خطرات اور اُنکا حل .تحریر : ذیشان ہوتی

    خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، خطرات اور اُنکا حل .تحریر : ذیشان ہوتی

    پشتون قوم میں تین اقسام کے نوجوان ہیں۔ اور یہ وہ نوجوان ہیں کہ اگر مل کر ایک ساتھ چلیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں نہیں روک سکتی۔
    پہلی قسم کے نوجوان مذہبی طبقے سے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ہر شہ کو مذہب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ نوجوان ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جو ان نوجوانوں کے دلوں میں مذہب کے نام پر وطن سے نفرت پیدا کرتے ہیں۔ یہ نوجوان مذہب کے نام پر خودکش دھماکوں کے لئے تیار کیے جاتے ہیں۔

    دوسری قسم ان نوجوانوں کی ہے جو قوم پرست ہیں۔ ان نوجوانوں کو بچپن سے قوم پرستی کی بناء پر نفرت سکھا دی گئی ہوتی ہے اور ان کے ذہنوں میں یہ بات رکھ دی گئی ہوتی ہے کہ پشتون قوم کو ہمیشہ سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ہر سطح پر قوم پرستی کا نعرہ لگاتے ہیں اور قوم پرستی کی خاطر پاکستان کو بھی اہمیت نہیں دیتے۔
    تیسری قسم ان نوجوانوں کی ہے جو سوشل میڈیا پر فعال ہیں۔ یہ نوجوان ہر اس طبقے کی حمایت کرلیتے ہیں جو طبقہ انہیں اپنی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہوئے انہیں پیسے فراہم کرتا ہو۔ یہ نوجوان پیسے کی لالچ میں ملک کے خلاف نفرت پھیلانے سے بھی نہیں کتراتے ہیں۔

    اس وقت پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے اور ملک کے دشمنوں کی یہی سازش ہے کہ پہلے اس ملک کے نوجوانوں کو تقسیم کریں اور پھر انہیں اپنی مفادات کے لئے استعمال کریں۔ اس وقت پاکستان میں 64 فیصد نوجوان ہیں۔ جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہے جہاں نوجوانوں کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی تک نوجوانوں کے اتحاد کے لئے کوئی پروگرام تربیت نہیں دیا گیا جہاں یہ نوجوان آپس میں بیٹھ جائیں، اور اس کی وجوہات اوپر بیان کر دی گئی ہے۔
    دوسری طرف غیر ملکی میڈیا نے پاکستان میں صرف خیبرپختونخواہ کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ اور ہر واقعے کو بڑھ چڑھ کر پیش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف پیجز بناتے ہیں اور ایسا مواد شئیر کرتے ہیں جو پاکستان اور نوجوانوں کے لئے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ جبکہ نوجوان طبقہ میڈیا کے اس پراپیگنڈے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا پہلا ہدف بھی یہی نوجوان ہیں، کیونکہ نوجوان وہ طبقہ ہے جو جلد اثر انداز ہوتا ہے اور ان کو کسی بھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
    اسی طرح بہت سے این جی اوز بھی پاکستان کے خلاف کام کرتے ہوئے نوجوانوں کے لئے مختلف تربیتی پروگرام تشکیل دیتے ہیں اور ان تربیتی پروگراموں میں نوجوانوں کو ایسی مواد فراہم کرتے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ ریاستی اداروں کے لئے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ یہاں نوجوانوں کی ایسی ذھن سازی کی جاتی ہے کہ یہ نوجوان اپنے ہی ریاستی اداروں کے خلاف بولنے لگتے ہیں۔ بیشتر این جی اوز نے پشتون نوجوانوں ہی کو اپنا نشانہ بنایا ہوا ہے اور بے روزگار نوجوانوں کو چند روپوں کی لالچ میں ملک کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ ان نوجوانوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ ملک کتنی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ہے۔

    ہمارے تعلیمی اداروں کا نصاب بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ نوجوانوں کی ذہن سازی کرے۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال انتہائی ناکارہ ہے ہے۔ جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اول تو طلباء کو دیگر زبانیں سکھائی جاتی ہیں اور جب طلباء میٹرک پاس کرلیتے ہیں تو نہ انہیں علامہ اقبال کے افکار کا پتہ ہوتا ہے اور نہ قائد اعظم محمد علی جناح کی اس ملک کے لئے قربانیوں سے با خبر ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ طلباء ان قومی رہنماؤں کے خلاف تک بولنے لگتے ہیں۔

    پاک فوج نے اس ملک کی حفاظت اور سربلندی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ لیکن اس وقت نوجوانوں کا ایسا ایک طبقہ موجود ہے جو پاکستان کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ نوجوانوں کے اس طبقے میں پاکستان کے نوجوان کم جبکہ افغانستان کے نوجوان زیادہ ہیں۔ اس طبقہ نے پاکستان کے نوجوانوں کو تقسیم کر رکھا ہے اور یہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں امن قائم ہو۔

    بھارت بھی پاکستان کا وہ دشمن ہے جو پاکستان میں امن نہیں چاہتا۔ بھارت بھی ان پشتون نوجوانوں کو اپنی مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے اور مختلف ذرائع سے خاص تنظیموں کو فنڈنگ فراہم کرکے پاکستان اور خصوصاً پاک فوج کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ اگر اس وقت ہم نے اپنے ان مسائل پر غور نہ کیا تو چند ہی سالوں میں اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ جہاں ہمیں اپنے دوست اور دشمن کا پتہ تو لگ جائے گا لیکن تب وقت گزر چکا ہوگا۔

  • سیاحت اور معیشت .‏تحریر: لاریب اطہر

    سیاحت اور معیشت .‏تحریر: لاریب اطہر

    اللہ پاک نے دنیا کو خوبصورت بنایا ہے لیکن اس میں کچھ مخصوص علاقے اپنی خوبصورتی میں خاص مقام رکھتے ہیں
    کچھ تو پورے پورے ملک ہی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا میں شہرت حاصل کر چکے ہیں
    جن میں پاکستان بھی ایک خوبصورت ملک ہے
    پاکستان میں بھی کچھ شہر، علاقے تو اتنے خوبصورت ہیں کہ ان کو دیکھنے کے لیے پوری دنیا سے لوگ پاکستان کا سفر کرتے ہیں اور کئی کئی دنوں تک وہ پاکستان کے ان خوبصورت علاقوں میں رہتے ہیں
    دنیا کے اکثر ممالک کی معیشت کا دارومدار ہی سیاحت پر ہے جن میں سوئٹزرلینڈ دنیا میں سیاحت کے لیے مشہور ہے پوری دنیا سے لوگ سوئٹزرلینڈ جاتے ہیں وہاں رہتے ہیں سیر تفریح کرتے ہیں جس سے ان کی معیشت کو بھی سپورٹ ملتی ہے
    جو دوسرے ممالک سے سفر کرتے ہیں وہ ویزا، ٹکٹ، ہوٹل، ٹریولنگ سب کے لیے سیاحت کے لیے جانے والے ملک سے استعمال کرتے ہیں جس سے ان کو فائدہ ہوتا ہے
    اسی طرح جب پوری دنیا سے لوگ پاکستان کا سفر کرتے ہیں تو وہ بھی پاکستان آنے کے لیے ویزا، ٹکٹ، ٹریولنگ وغیرہ یہاں سے ہی استعمال کرتے ہیں
    جس سے پاکستان کو فائدہ ہوتا ہے
    گزشتہ ادوار میں پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا جس سے پاکستان کی سیاحت بری طرح متاثر ہوئی
    بیرونی دنیا سے تو دور پاکستانی کے شہری بھی سفر کرنے اور سیاحتی مقامات کو دیکھنے کے لئے جانے سے ڈرنے لگے
    پھر اللہ پاک کی مدد سے پاکستان کی عوام اور اداروں کی مدد سے پاکستان نے دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا اور واپس اپنے ٹریک پے آنا شروع ہوا جس سے بیرونی دنیا سے بھی لوگ اب پاکستان کا سفر کرنا شروع ہو چکے ہیں جس سے پاکستان کی معیشت اور پاکستان کی خوبصورتی دونو کو دنیا میں مقام مل رہا ہے
    اس وقت پاکستان کی موجودہ حکومت بھی کوشش کر رہی ہے پاکستان کے سیاحتی مقامات کو مزید خوبصورت اور پر امن بنایا جائے تاکہ سیاحت میں مزید اضافہ ہو
    پاکستان کے گلگت بلتستان ہو یا گلیات کے اونچے چمکتے پہاڑ
    سوات ہو یا لاہور کے سیاحتی مقامات اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہیں
    میری حکومت وقت اور اداروں سے بھی اپیل ہے کہ ان مقامات کو مزید بہتر کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں تیز کی جائیں تاکہ پاکستان بھی باقی دنیا کی طرح سیاحت سے زیادہ سے زیادہ پیسہ کما کر معیشت اور عوام کے لیے بہتر اقدامات کر سکے
    اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2018-19ء میں پاکستان میں بیرونی سیاحوں کی تعداد 19لاکھ سے زاید رہی اور انہوںنے پاکستان میں 31کروڑ 70لاکھ امریکی ڈالرز خرچ کیے۔ورلڈ ٹورازم اینڈ ٹریول کونسل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سیاحت کو فروغ دے کر دس سال کی قلیل مدت میں 39.8ارب ڈالرز کما سکتا ہے 
    دنیا کے کئی ممالک میں قدرتی خوبصورتی تو نہیں لیکن وہاں کے حکمرانوں نے محنت اور لگن سے ملک کو خوبصورت بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا اور آج وہ اربوں ڈالرز صرف سیاحت سے کما رہے ہیں
    جبکہ پاکستان میں تو قدرتی خوبصورتی ہے
    بلند و بالا پہاڑ
    ریگستان
    دریا
    سمندر
    ہر وہ چیز جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے وہ پاکستان میں قدرتی طور پر موجود ہے بس اداروں کی مزید توجی کی منتظر ہے

    گو کہ پاکستان کی حکومت اس وقت بہت اچھا کام کر رہی ہے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش ابھی بھی موجود ہے

  • پاکستان کا عدالتی نظام .تحریر : حمزہ بن شکیل

    پاکستان کا عدالتی نظام .تحریر : حمزہ بن شکیل

    کسی بھی ملک، ریاست کے بنیادی ستونوں میں اہم ترین ستون انصاف کا ہے۔ اسلام بھی دنیا میں عدل و انصاف کی بنیاد پر پوری دنیا میں پھیلا جسے خود پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجہ الوداع کے موقع پر فرمایا کسی کالے کو گورے پر کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ اللہ پاک کے ہاں فوقیت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا اہم واقع بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے .”ایک فاطمہ نامی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کی جاتی ہے جس نے چور کی ہوتی ہے تو اس کے لیے بہت سفارشیں آتی ہیں کہ اس کا تعلق اچھے خاندان سے ہے ان کو معاف کر دیا جاۓ اور اس کا ہاتھ نہ کاٹا جاۓ لیکن اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور فرمایا زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ اس طرح کرتے تھے کہ امیر کو چھوڑ دیتے اور غریب کو سزا دیا کرتے تھے”

    اس وقت پاکستان میں عدالتی اصلاحات نا گزیر ہو چکی ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہے۔ اول تو غریب اور کمزور کو انصاف ملتا ہی نہیں اور اگر مل جاۓ تو اس میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ مظلوم عدالتوں کی خاک چھانتے دنیا ہی چھوڑ جاتا ہے. غریب بیچارہ بے قصور بھی ہو تو کئی کئی سالوں تک عدالتوں کے دھکے کھاتا ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور طاقتور اربوں روپے لوٹنے کے باوجود دے دلا کے چند ہی دنوں میں بری ہو جاتا ہے۔

    ایک طرف غریب روٹی یا چپل چوری کرتے پکڑا جاۓ تو ساری عمر جیل میں چکی پیستا ھے اور دوسری طرف لیاری گینگ وار کے عزیر بلوچ اور دن دھاڑے ٹریفک وارڈن کو کچلنے والے رکن بلوچستان اسمبلی مجید اچکزئی جیسے لوگ انہی عدالتوں سے نا کافی ثبوتوں کی بنیاد پر رہا ہو جاتے ہیں..

    کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا کیوں کے کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں۔ یاد رکھیں جہاں انصاف نہ ہو وہاں کبھی امن نہیں ہوتا اور غربت خیرات سے نہیں انصاف سے ختم ہوتی ہے۔اللّه پاک بھی انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اللّه کی عدالت میں صرف انصاف ہوتا ہے اور ظالم پر رحم کرنا مظلوم پر ظلم کرنے جیسا ہے۔ قدرت کا یہ قانون ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے یہی مکافات عمل ہے۔

    آزاد اور خود مختار عدالتیں ہی حق اور سچ پر مبنی فیصلہ دے سکتی ہیں۔ آج پاکستانی عدالتوں میں قریب 21 لاکھ سے زائد مقدمات انصاف کے منتظر ہیں- اس پرانے اور فرسودہ نظام کو اب بدلنے کا وقت ہے۔ ‏عدالتی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ موجودہ حکومت کے چند وعدوں میں سے ایک وعدہ عدالتی نظام میں اصلاحات اور تبدیلیاں تھی جو اب تک پورا نہیں ہو سکا۔

    حکومت کو تمام متعلقہ اداروں اور حکام کے ساتھ مل کر عدالتوں میں پڑے تمام زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئے تا کہ سب لوگوں کو فوری اور بروقت انصاف مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جھوٹے مقدمات اور جھوٹی شہادتوں کو روکا جانا چاہئے اور مقدمات کے غیر ضروری التواء کے ذمہ دار ججز اور وکلاء کے خلاف عملی کروائی ہونی چاہئے۔ پارلیمنٹ کو عدالتی اصلاحات پر توجہ دینی چاہئیے۔

    اللّه تبارک و تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں:

    {إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ o} [المائدہ:۴۲]
    ” بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ”

    إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
    (الحجرات 9)
    "اللہ قسط سے انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.”

    (حدیث قدسی ، مسلم : 2577 )
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
    ” مظلوم کی بد دعا سے بچو ، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا _” (بخاری : 1469 ، مسلم : 19)

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی حالت میں تشریف لاتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں:

    ”اے لوگو! اگر میں نے کسی کی پیٹھ پر کبھی درّہ مارا ہے تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے، وہ مجھ سے بدلہ لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کو برابھلا کہا تو یہ میری آبرو حاضر ہے، وہ اس سے انتقام لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کا مال چھینا ہے تو میرا مال حاضر ہے، وہ اس سے اپنا حق لے سکتا ہے اور تم میں سے کوئی یہ اندیشہ نہ کرے کہ اگر کسی نے انتقام لیا تو میں اس سے ناراض ہوں گا، یہ بات میری شان کے لائق نہیں۔”


  • کچروں میں دھنستا کراچی :تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کچروں میں دھنستا کراچی :تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر ملک کا ترقی کا ضامن ہے اس کے لوگ وطن پرستی کا جزبہ ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے یہ ملک کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہے ہیں لیکن ملک کے کرتا دھرتاؤں نے کراچی کو ویرانوں میں تبدیل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کراچی والوں کو چوروں کے ساتھ مل کر چوکیداروں نے ہی تو لٹوایا ہاں ہاں اس کو لوٹنے والوں کے چہروں سے نقاب کھینچا جائے تو اس میں زیادہ تر تو اپنے ہی نظر آئینگے بلدیاتی نظام کے سب اختیارات اپنوں کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر تو پیپلز پارٹی کے حوالے کئے گئے اٹھارویں ترمیم سے لیکر کراچی والوں کو دئیے گئے سارے ہی زخم اگر اچھے اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھے جائیں تو سب ہی پر اپنوں کا ہاتھ نکلے گا کوٹہ سسٹم پر رونے والے اپنوں نے پرویز مشرف دور میں کیونکر کوٹہ سسٹم ختم نہیں کروایا کیوں چودا سالوں کا گورنر گورنری کے منصب سے ہٹنے کے بعد ایک دن بھی اس کراچی میں نہیں رکا اور اگلے ہی دن دبئی کی پروقار زندگی گزارنے واپس چلا گیا جن مہاجروں کے ووٹ پر گورنر رہا 14 سالوں میں بدلے میں انہیں کیا دیکر گیا مہاجروں کی گلی محلے آج بھی گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں کچرے کا ڈھیر جو دور کسی گراؤنڈ یا کنڈی پر ہوا کرتا تھا آج ہر گلی کے کونے پر آگیا ہے روڈ دیکھے ہوئے زمانے گزر گئے گٹر کا پانی پھلانگ پھلانگ کر کراچی کا نوجوان اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو اتنا حاصل کر کا ہے کے اگر وہ دوڑا تو دوسرا کوئی مقابل نہیں ہوگا دور تک بلکہ بہت دور تک کراچی والوں کا احساس محرومی بڑھ رہا ہے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ اس پر رحم نہیں صرف اس کا حق ہی دے دیا کریں تو یہ بدلے میں آپ کو ابھی جو دے رہا ہے اس کئی گنا بڑھا کر واپس کردے گا اس کا اچھا اور معیاری ڈاکٹر وہ ہی ہوسکتا ہے جو پہلے بھی اس کا بہترین علاج کر کا ہو جس کو اس کے ایک ایک سینٹی میٹر کا علم ہو جو جانتا ہو پانی آئیگا کہا سے اور جائے گا کہا سے جو جانتا ہو کراچی کے مسائل کو دنوں میں حل کرنے کا فارمولا کیا ہے جو گھر سے نکلتے وقت یہ نا سوچتا ہو کے واپس کتنے نوٹ لیکر جانا ہے جو یہ سوچتا ہو کے کراچی والوں کی صبح کو بہتر کیسے بنانا ہے جس کو یہ احساس ہو کے میرے پاس جو زمہ داری ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوکر حساب کتاب دینا ہے جو پاکستان کو ترقی دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہونے والا انسان ہو جو رات کو رات نہیں اور دن کو دن نہیں سمجھتا ہو جس کی گھڑی میں ایک ہی وقت نظر آتا ہو کام کام کام کام کام لینا جانتا ہو کام کرنے والوں کی قدر و قیمت جانتا ہو جو اپنے لئے فرمائشوں کا نہیں بلکہ عوام کے لئے آسائشوں کا طلبگار رہتا ہو جو کراچی سے کشمور اور ساتوں براعظموں میں اپنے کام کی وجہ سے جانا اور مانا گیا ہو جس نے وہ کام کئے کے لوگ اسے کام کا بندہ ہے کہہ کر پکاریں جو سید بھی ہو مصطفیٰ بھی ہو اور کمال بھی ہو جس کے کام کو دنیا نے سراہا ہو جس کی لگن کو کراچی ہی نہیں پورے پاکستان حمایت حاصل ہو مصطفیٰ کمال ہی ہیں جو کچرے میں دھنستے سندھ کے شہروں کو واپس اپنے اصل مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

    کراچی شہر ملک کی ترقی کا ضامن ہے اس کے لوگ وطن پرستی کا جزبہ ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے یہ ملک کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہے ہیں لیکن ملک کے کرتا دھرتاؤں نے کراچی کو ویرانوں میں تبدیل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کراچی والوں کو چوروں کے ساتھ مل کر چوکیداروں نے ہی تو لٹوایا ہاں ہاں اس کو لوٹنے والوں کے چہروں سے نقاب کھینچا جائے تو اس میں زیادہ تر تو اپنے ہی نظر آئینگے بلدیاتی نظام کے سب اختیارات اپنوں کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر تو پیپلز پارٹی کے حوالے کئے گئے اٹھارویں ترمیم سے لیکر کراچی والوں کو دئیے گئے سارے ہی زخم اگر اچھے اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھے جائیں تو سب ہی پر اپنوں کا ہاتھ نکلے گا کوٹہ سسٹم پر رونے والے اپنوں نے پرویز مشرف دور میں کیونکر کوٹہ سسٹم ختم نہیں کروایا کیوں چودا سالوں کا گورنر گورنری کے منصب سے ہٹنے کے بعد ایک دن بھی اس کراچی میں نہیں رکا اور اگلے ہی دن دبئی کی پروقار زندگی گزارنے واپس چلا گیا جن مہاجروں کے ووٹ پر گورنر رہا 14 سالوں میں بدلے میں انہیں کیا دیکر گیا مہاجروں کی گلی محلے آج بھی گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں کچرے کا ڈھیر جو دور کسی گراؤنڈ یا کنڈی پر ہوا کرتا تھا آج ہر گلی کے کونے پر آگیا ہے روڈ دیکھے ہوئے زمانے گزر گئے گٹر کا پانی پھلانگ پھلانگ کر کراچی کا نوجوان اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو اتنا حاصل کر کا ہے کے اگر وہ دوڑا تو دوسرا کوئی مقابل نہیں ہوگا دور تک بلکہ بہت دور تک

    کراچی والوں کا احساس محرومی بڑھ رہا ہے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ اس پر رحم نہیں صرف اس کا حق ہی دے دیا کریں تو یہ بدلے میں آپ کو ابھی جو دے رہا ہے اس کئی گنا بڑھا کر واپس کردے گا اس کا اچھا اور معیاری ڈاکٹر وہ ہی ہوسکتا ہے جو پہلے بھی اس کا بہترین علاج کر کا ہو جس کو اس کے ایک ایک سینٹی میٹر کا علم ہو جو جانتا ہو پانی آئیگا کہا سے اور جائے گا کہا سے جو جانتا ہو کراچی کے مسائل کو دنوں میں حل کرنے کا فارمولا کیا ہے جو گھر سے نکلتے وقت یہ نا سوچتا ہو کے واپس کتنے نوٹ لیکر جانا ہے جو یہ سوچتا ہو کے کراچی والوں کی صبح کو بہتر کیسے بنانا ہے جس کو یہ احساس ہو کے میرے پاس جو زمہ داری ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوکر حساب کتاب دینا ہے جو پاکستان کو ترقی دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہونے والا انسان ہو جو رات کو رات نہیں اور دن کو دن نہیں سمجھتا ہو جس کی گھڑی میں ایک ہی وقت نظر آتا ہو کام کام کام کام کام لینا جانتا ہو کام کرنے والوں کی قدر و قیمت جانتا ہو جو اپنے لئے فرمائشوں کا نہیں بلکہ عوام کے لئے آسائشوں کا طلبگار رہتا ہو جو کراچی سے کشمور اور ساتوں براعظموں میں اپنے کام کی وجہ سے جانا اور مانا گیا ہو جس نے وہ کام کئے کے لوگ اسے کام کا بندہ ہے کہہ کر پکاریں جو سید بھی ہو مصطفیٰ بھی ہو اور کمال بھی ہو

    جس کے کام کو دنیا نے سراہا ہو جس کی لگن کو کراچی ہی نہیں پورے پاکستان کی حمایت حاصل ہو مصطفیٰ کمال ہی ہیں جو کچرے میں دھنستے سندھ کے شہروں کو واپس اپنے اصل مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

  • سرد جنگ .تحریر:رانا عزیر

    سرد جنگ .تحریر:رانا عزیر

    افغانستان میں جنگ کے اختتام کے آثار دور تک دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ امریکہ اس خطے میں رہنا چاہتا ہے اور وہ پاکستان میں ایک دفعہ پھر تباہی مچانا چاہتا ہے تاکہ سی پیک کو تباہ کیا جا سکے۔ چین سی پیک کے ذریعے ہی وسطی ایشیاء اور پھر دنیا کے دیگر ممالک تک رسائی حاصل کررہا ہے جو کہ امریکہ اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

    اشرف غنی نے بھی اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر واشنگٹن کی طرف کشکول بڑھا دیا ہے۔ ابھی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق طالبان 117 اضلاع پر قابض ہوچکے ہیں وہ امریکی سازوسامان پر بھی قابض ہورہے ہیں۔ اب امریکہ عرب ممالک سے پاکستان پر پریشر بڑھا رہا ہے کہ آپ کے تمام پاکستانیوں کو نکال دیا جائے گا اگر امریکہ کی افغانستان میں مدد نہ کی گئی، لیکن پاکستان کی ریاست کا دوٹوک فیصلہ ہے نو مور۔ بھارت کو بھی بڑا خطرہ لاحق ہے چونکہ بھارت بھی اپنے را کے ایجنٹ جو پاکستان میں دہشتگردی کرنے کیلئے دہشتگردوں کو افغانستان سے کنٹرول کرتے تھے ان کو بھارت لے جا چکا ہے، اب بھارت کو ڈر ہے کہ پاکستان کی افغانستان میں سیاسی مداخلت بڑھی گی۔ خطے میں امریکہ اور چین کے شدت پکڑتے اختلافات اور سرد جنگ کو ملحوظ خاطر نہایت ضروری ہے، چین برملا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ اب سپر پاور بننے جارہا ہے، چین کے کیے اب پاکستان بہت اہم ہے اور ایسی قیادت بھی چین کو پاکستان میں چاہیے تھی جو امریکہ کے سامنے کھڑا ہوسکے اب چین کے پاس دونوں صورتیں موجود ہیں، امریکہ پاکستان کو اب ایران، عراق اور دیگر وسطیٰ ایشیائی ممالک سے توڑنے چاہتا ہے جس میں ایک پائپ لائن کا پراجکٹ بہت اہم ہے جو عراق سے شروع ہوتا ہے پاکستان کے ذریعے ہمالیہ کشمیر اور چائنہ تک جاتا ہے یوں تیل چین جائے گا اور چینی سرمایہ کاری مشرق وسطی میں پھیلے گی۔ امریکہ اب وسطی ایشیاء کے ساتھ مشرق وسطی میں بھی اسڑیجٹک ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جس کے بعد اس کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔

    دنیا میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اور ون بیلٹ ون روڈ ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ چین سرمایہ کاری، تجارت کو استعمال کرتے ہوئے ایشیا میں ذرائع آمد و رفت کا ایسا جال بچھا رہا ہے جس سے ہر ایک پالیسی اس منصوبے کو اتنا اوپر لے کر جارہی ہے کہ پورا خطہ اس کی آغوش میں آجائے گا جس کا سب سے اہم حصہ گوادر ہے جو پوری دنیا کا حب بننے جارہا ہے جس سے عرب بھی tips for building strength پریشان ہیں کہ ان کی معیشت بھی کھڈے لائن لگ جائے گی۔ سی پیک کو سبوتازژ کرنے کیلے بھارت اور امریکہ پاکستان میں دہشتگردی کی نئی لہر لانے کی منصوبہ بندیاکررہے ہیں۔ تاکہ پاکستان کا امن برباد کرکے سرمایہ کاری کو روکا جائے لیکن نئے پاکستان کا وقت آگیا ہے

  • ھئمم

    ھھآج کل ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں عورت کو ایک بوجھ، ذمہ داری اور بد نصیبی کی نشانی سمجھا جاتا ہے ۔ خواتین کے لئے بدقسمتی سے ایسے ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں کہ وہ خود کومعاشرے کا حصہ سمجھتے سے محروم کردیتی خود کو۔ آج کل ہمارے معاشرے میں عورت کے لئے یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس کا کام صرف گھر گرہستی کرنا ہے اور خود کو شوہر کے لئے ایک بہت ہی اچھی بیوی بن کر دیکھانا ہے۔ وہ کبھی شوہر کے آگے زبان نہ چلائے،اسکی بات ہر خواہش ایک آواز میں پوری کرے۔کیوں عورت کو صرف گھر گرستی جیسے کاموں تک ہی محدود کررکھا ہے۔

    عورت معاشرے کی تکمیل کے لیے اہم عنصر ہے۔ عورت ہر روپ میں انمول تحفہ ہے خدا کی طرف سے وہ صرف اپنے خاندان کی زندگی ہی نہیں بناتی بلکہ ایک خالی مکان کو گھر بنانے میں اپنی زندگی گزار دیتی ہے۔ اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتی ہے۔ بچوں کی اچھی تربیت کرتی ہے،انکی اچھی اور اعلی پرورش کرتی ہے اور اولاد کو اچھا شہری بنانے کی کوشش میں مگن ہوجاتی ہے۔بحیثیت مجموعی عورت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ایک مثالی ریاست،معاشرہ اور خاندان تعمیر کرے۔
    آج اگر ہم اپنے ملک میں کئی علاقوں میں جائیں وہاں عورت پر نظر ڈالیں تو اس کو اعلی تعلیم، صحت جیسی بنیادی حق سے بھی محروم کررکھا ہے۔ ان کو خود سے فیصلہ کرنے کا حق بھی نہیں دیا جاتا ہے۔
    آج کے زمانے میں اب بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ وقت بدل گیا ہے تو کیا ہوا عورت کے حقوق اب بھی ویسے ہی ہیں۔ آج بھی عورت کو صحت، تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی میسر نہیں۔اور جن علاقوں میں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات میسر ہیں وہاں ان کو مساوات اور ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    منفی مساوات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان ان ملکوں میں دوسرے نمبر پر آتا ہے اور اس لحاظ سے پیچھے بھی ہے۔
    آج بھی خواتین اپنے اوپر تشدد صرف اور صرف اس لئے برداشت کررہی ہیں کہ ان پر کوئی اور تشدد نہ ہوجائے وہ سمجھتی کہ اگر انہوں نے آواز اٹھائی تو لوگ ان پر انگلیاں اٹھائیں گے اور ان کو الزام تراشی کا شکار بنا دیں گے۔ ان کے گھر والے بھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے اور یوں ہرحال میں قربانی دینے،برداشت کرنے کے اور مصلحت سے کام لینے کے لئے بھی عورت کو ہی کہا جائے گا۔ ان کو ہر وقت اس بات کا ڈر کہ کہیں طلاق ہوگئی تو لوگ اور یہ معاشرہ کیا کہے گا لوگ کیا سوچیں گے معاشرے میں اور مزید بدنامی ہوگی۔ ہر حال میں عورت کو ہی تحمل اور برداشت سے کام لینا ہوگا اور اس بات کا دباؤ اس کو گھر والے اور رشتہ دار بھی دیتے ہیں کہ چاہیے کچھ بھی ہو اپنا گھر تم کو ہی بچانا ہے۔ آخر کیوں اور کب تک؟ کیا یہ سب اگر کسی مرد کے ساتھ ہو تو کیا اس کو بھی اسی طرح لوگ سمجھائیں گے،یہی کہیں گے کہ اپنی انا کو مارو،اور رشتہ بچاو۔ شاید نہیں اور کبھی نہیں کیونکہ ان کی نظر میں عورت ایک بہت بے معنی سی چیز ہے اور اس لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

    مرد عورت پر ہاتھ اٹھائے، گالیاں دے،مارپیٹ کرے پھر بھی عورت کو یہ رشتہ ختم نہیں کرنے کا کہا جاتا ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ مالی لحاظ سے شوہر کی ہی محتاج ہوتی ہے۔ اس کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنے اخراجات خود برداشت نہیں کرسکتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین اس کی تعلیم پر توجہ ہی نہیں دیتے اور ان کی تعلیم پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ وہ ان کو گھر سے باہر بھیجنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ اور یہی سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے جو عورت مالی لحاظ سے اپنے گھر والوں کے سامنے کمزور اور ان کی محتاج بن کر رہ جاتی ہے۔
    اگر عورت کو بچپن میں ہی اس کے حقوق دیے جائیں تو وہ ایسے کسی بھی قسم حالات اور ناانصافی کا سامنا نہیں کرے۔
    آج معاشرے میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ عورت کو صحت تعلیم روزگار جیسے حقوق دیے جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹیوں کی تربیت ایسے کریں ان کو اچھی تعلیم دلوائیں اور ان کو سارے حقوق دیں۔ کسی بھی کے ساتھ محض صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں رکھا جائے کیونکہ کچھ بھی ہو سب سے پہلے وہ انسان ہے۔ عورت کی قابلیت کو اس بات سے نہیں جانچیں کہ وہ صرف گول روٹی ہی بنا سکتی ہے بلکہ اس معاشرے میں رہتے ہوئے اس کا حصہ ہوتے ہوئے وہ ہر کام جو مرد کرسکتا ہے وہ عورت بھی کر سکتی ہے اور اپنے گھر والوں کا سر فخر سے بلند بھی کرسکتی ہے۔ اس لیے عورت کی قدر کریں اور اس کا خیال رکھیں۔

    تحریر: ایمن رافع

  • 5 جولائی یومِ سیاہ کا ڈھونگ تحریر: فیصل خالد

    5 جولائی یومِ سیاہ کا ڈھونگ تحریر: فیصل خالد

    ذوالفقار علی بھٹو کی بنائی ہوئیPPP فقط چُوں چُوں کا مربہ پارٹی تھی
    اس میں اسلام،سوشلزم،جمہوریت اور لادینیت کے تمام اجزاء شامل تھے
    بلاشبہ بھٹو جینئیس تھا لیکن زیادہ تر معاملات میں اِیول جینئیس تھا
    وہ جینئیس تھا تو صرف اس حوالے سے کہ وہ لوگوں کو جمع بھی کر سکتا تھا اور انہیں کسی نکتے پر مائل بھی کر سکتا تھا
    یہی وجہ ہے کہ اس نے پی پی پی کے بے تُکے منشور پر سیاستدان بھی جمع کر لیے تھے اور اسلام کا تڑکہ لگانے کیلیے مولانا کوثر نیازی جیسے مولوی بھی ساتھ ملا لیے تھے

    یہ بھٹو کی منفی لیکن طلسماتی شخصیت اور اس کے جاہلانہ منشور کا کمال ہے کہ پی پی کو ضیاء جیسا اسلام پسند اور الطاف حسین جیسا دہشت گرد بھی ختم نہ کر سکے
    بھٹو نے پی پی میں جو مفاد پرست لوگوں کی زیریں غلام قیادت ترتیب دی تھی اس نے بھی ذاتی مفاد پرستی کا حق ادا کر دیا
    بھٹو کے دربارِ منافقت میں وڈیرے،تعلیم یافتہ افراد مزدور جب پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

    سب جونکوں کی طرح اپنی اپنی جگہ کو چاٹنے میں مصروف رہے
    کسی کو صف اول کی قیادت اور بھٹو کا متبادل بننے کی فکر نہیں تھی کہ پی پی کے سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے

    یہی وجہ ہے کہ بھٹو کی پی پی کا سیاسی عمل اس کی پھانسی کے بعد جمہوریت سے موروثیت کی شکل اختیار کر گیا

    جمہوریت کیلیے شعور و قابلیت درکار ہوتی ہے جبکہ موروثیت کیلیے لا شعور اور جاہلیت مطلوب ہوتی ہے
    چنانچہ بھٹو کی پیدا کی ہوئی جہالت نے پی پی کو سیاسی سے زیادہ موروثی طور پر مستحکم کیا
    پی پی کی موروثیت کو بے نظیر نے خوب استعمال کیا،
    بھٹو کے نام کا مکمل فائدہ اٹھایا

    پھر بے نظیر کے قتل کے بعد زرداری نے موروثیت کی گاڑی کو جہالت کے دو پہیے بے نظیر کو "شہید” کہہ کر اور بلاول زرداری کو "بھٹو” کہہ کر دیے اور خود جئے بھٹو کا اسٹئرنگ سنبھال کر چلانے لگا

    یہی مرحلہ پی پی کی تباہی کا آغاز تھا

    پی پی میں جن کو بزرگ سیاستدان کہا جاتا ہے ان کی حیثیت خاندان کے بوڑھے ملازم،مالی یا خانسامے سے زیادہ نہیں۔اور نہ ہی ان میں سیاسی شعور ہے۔
    وہ کل وقتی لٹیرے تھے اور لٹیرے ہی رہے۔
    کسی کو پی پی کے سیاسی حوالے کی فکر نہ رہی۔
    یہی وجہ ہے کہ وہ بزرگ ملازم اور جیالے زرداری سے موہوم اختلاف کے باوجود پی پی کے نام سے لوٹ مار کرتے رہے۔
    ورنہ پی پی 50 سال کے بعد سندھ تک محدود نہ ہوتی۔

    پی پی کو موروثیت نے تباہ کر دیا

    نصرت بھٹو کی رفاقت،بے نظیر کی ذہانت اور زرداری کی شاطرانہ خیانت نے پی پی کو محدود سہی لیکن زندہ ضرور رکھا ہوا ہے۔

    اب نصرت کی رفاقت اور بے نظیر کی ذہانت ختم ہو گئیں۔

    زرداری کی دلیرانہ اور شاطرانہ قیادت کے ختم ہونے کی صورت میں بلاول کی مخنثانہ اور مضحکہ خیز قیادت پی پی کو مکمل تباہی سے ہمکنار کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے۔
    کیونکہ بلاول کے پاس اس کی انفرادی حیثیت میں بے نظیر جیسی ذہانت ہے نہ زرداری جیسی خباثت

    ابھی بھی پی پی کے برائے نام سیاستدانوں کیلیے موقع ہے کہ وہ "مرد ” بنیں، آگے آئیں۔
    پارٹی قیادت پر سوال اٹھائیں اور پارٹی کو موروثیت سے سیاست و جمہوریت کی راہ پر گامزن کریں۔
    خود بھی جیالے پن سے نکل کر سیاسی کارکن بنیں۔

    یقین جانیے بلاول کی طفلانہ، مخنثانہ اور جاہلانہ "حرکات” وہ آگ ہیں جو زرداری کی موت کے فوراً بعد پارٹی کو جلا کر بھسم کر دیں گی

    "اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے”

    Twitter handle
    @_FaysalKhalid

  • ماضی کو بھول کر مستقبل کو دیکھا جائے بلاول بھٹو

    ماضی کو بھول کر مستقبل کو دیکھا جائے بلاول بھٹو

    چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے نکیال کشمیرمیں الیکشن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بے نظیر سے سیکھا ہے کہ جہاں کشمیرکی بہن، بیٹی کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا، عمران خان کوبزدل وزیراعظم قراردیا گیا ہے، موودی تاریخی حملہ کرتا ہے وزیراعظم بزدلانہ رویہ رکھے ہوئے ہے، ہم آزاد کشمیرکی عوام کے ساتھ ہیں، نا ہم اسلام آباد میں کٹھ پٹھلی حکومت چاہتے ہیں، نا ہم آزاد کشمیرمیں کٹھ پٹھلی حکومت چاہتے ہیں، ہماری اولین ترجیح یہ کہ آزاد کشمیرزیادہ روزگاردیئے جائیں گے، زیادہ نوکریاں دی جائیں گی، پیپلزپارٹی کے دورمیں پینشن کا اضافہ ہوا ہے، تنخواہوں بھی ہمارے دور میں اضافہ کیا گیا ہے، ہم عمران کی طرح آپ کو لاوارث نہیں چھوڑ سکتے ہیں، آپ سب سیاسی جماعت کو جانتے ہیں، پیپلز پارٹی کو موقع دیں تاکہ اپنے آباؤاجداد کے خواب کو پورا کرسکوں، عمران خان نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کر کے نوکروں سے نکال دیا ہے، پیپلزپارٹی وہ جماعت ہے جوعوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں،ہم نے غریب کا ساتھ دیا ہے، ہم ہر پالیسی میں کلئیر ہیں، کشمیر کا مستقبل کشمیرکی عوام کریں کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، اسمبلی میں کھڑے ہوکر ہم کہتے ہیں کشمیر کی سودے بازی نا منظور کرتے ہیں، میں آپ کے درمیان ہوں بے نظیر کا مشن، ذولفقار کا مشن نا مکمل ہے، ماضی کو بھول کر مستقبل کو دیکھا جائے، ایک ہی جماعت ہے جو پاکستان کو ہر مسئلے سے نکال سکتا ہے، تیر کا ساتھ دیں، جیت کا نشان تیر کا نشان ہے.