مصنف : محمد بلال لاکھانی
ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
قیمت :770روپے ۔4کلر آرٹ پیپر
برائے رابطہ : 042-37324034
پیش نظر کتاب ’’ 21ویں صدی کے ماڈرن مسلمان کے لئے شخصیت سازی کے سنہرے اصول ‘‘ دارالسلام کی بہت ہی خوبصورت اور مفید کتاب ہے۔ اس کتاب کے مصنف محمد بلال لاکھانی ہیں جو قرآن وحدیث کے ساتھ ساتھ جدید علوم پر بھی دسترس رکھتے ہیں محمد بلال لاکھانی نے اصل میں یہ کتاب انگریزی زبان میں real Life Lesson From The Holy Quran(for the 21 Ist Century Muslim) کے نام سے لکھی تھی ۔ زیر نظر کتاب انگلش کااردوترجمہ ہے جسے دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے آرٹ پیپر پر چہار کلر، دلکش اور جاذب نظر طریقے سے باتصویر شائع کیا ہے ۔ اس کتاب کی افادیت اور اہمیت کااندازہ اس کے نام سے بھی کیاجاسکتا ہے ۔یہ کتاب کامیاب زندگی گزارنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے مشعل راہ اور کامیابی کازینہ ہے ۔ زندگی بہت قیمتی شئی ہے ، اسے ہم اپنی مرضی سے نہیں گزارسکتے۔ اس لئے کہ زندگی کاایک ایک پل اور ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ زندگی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق بسر کی جائے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ کامیاب زندگی بسر کرے ، اس کی زندگی میں آرام اورسکون ہو ۔ آرام دہ اور پرسکون زندگی کاراز اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہے ۔ دنیاامتحان گاہ ہے اور زندگی ایک امتحان ہے ۔امتحان میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو محنت کرے اور امتحان کی تیاری کے لئے سب سے پہلے طے شدہ نصاب پڑھے ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں پر بہت مشفق ومہربان ہے یہ اس کی شفقت ومحبت اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں دنیا میں ہی نصاب اور امتحان کے بارے میں سب کچھ بتادیا ہے مقصد یہ ہے کہ ہم اچھے طریقے سے تیاری کرلیں ۔ یہ نصاب قرآن مجید ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے اس نصاب کو بہت کم پڑھاجاتا ہے یا پڑھتاتو جاتا ہے لیکن سمجھا نہیں جاتا ۔ زندگی کے پرچے حل کرتے وقت جوبڑی غلطیاں کی جاتی ہیں وہ نصاب ِ زندگی کوتوجہ سے نہ پڑھنے کا ہی منطقی نتیجہ ہے ۔ چنانچہ دنیا کے دیگر امتحانوں کی طرح زندگی کے امتحان کے نصاب کو پڑھنا اور سمجھنا بے حد ضروری ہے ۔ پیش نظر کتاب کا مقصد بھی یہی باور کروانا ہے کہ اکیسویں صدی کے جدید تعلیم یافتہ مسلمان قرآن مجید سے زندگی کے اسباق تلاش کریں اور اس کو نصاب زندگی کے طور پرپڑھیں ۔ یہ کتاب ان شاء اللہ قارئین میں قرآن مجیدکے تفصیلی مطالعے اور اس پر گہرے غوروخوض کاشوق اور جذبہ پیداکرے گی ۔ اس کتاب میں اکیسویں صدی کے جدید تعلیم یافتہ مسلمان کے لئے قرآن مجید سے اخذ کئے گئے سو سے زائد اسباق دیے گیے ہیں اور زندگی کے معاملات ومسائل کے متعلق قرآن مجید سے براہ راست رہنمائی حاصل کرنے کے آسان اور موثر طریقے بتائے گئے ہیں ۔ کتاب کاانداز بیان سادہ ، دلنشین اور عام فہم ہے ۔ قرآن مجید سے براہ راست رہنمائی حاصل کرنے کے لئے مختلف اسالیب کی مناسب تشریح بھی کتاب میں شامل ہے ۔ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں بتایاگیا ہے کہ زندگی خوشگوار ہوتوکیاکرنا چاہئے ،زندگی خوشگوار نہ ہوتو کیاکرناچاہئے ،اللہ تعالیٰ دولت اور صحت واپس لے لے توکیاکرناچاہئے ؟مشکلات ومصائب میں کون سی قرآنی آیات مددگار ہیں ، آدمی خود کوشیطان کاپیروکار بنتادیکھے توکیاکرے ؟ ۔ دوسرے باب میں حصول جنت کی قدم بہ قدم منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ اور ان افعال ، احوال اور معاملات کاتذکرہ کیاگیاہے جن پر عمل پیرا ہوکر بندہ یقینی طور جنت کاحقدار بن جاتا ہے ۔ تیسرے باب میں جہنم سے بچنے کے طریقے بیان کئے گئے ہیں اور کارآمد نصیحتیں بیان کی گئی ہیں ۔چوتھے باب میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کی روشنی میں حقیقی زندگی کے اسباب بیان کئے گئے ہیں ۔ آخری باب میں بیان کیا گیا ہے کہ روپیہ اور اسلام دوست ہیں یادشمن ؟ ۔اہم بات یہ ہے کہ کتاب میں مذکور تمام واقعات اور تمثیلات قرآن مجید سے ہی لئے گئے ہیں اور قرآن مجید سے خوب استفادہ کیا گیا ہے ۔ کتاب کاہرہر باب اچھی ، کامیاب اور حقیقی زندگی گزارنے کے متعلق کئی کئی اسباق پر مشتمل ہے ۔ قرآن مجید کے زریں اصولوں ، ہدایات ، اسباق پر مشتمل یہ کتاب ہرنوجوان بچے ، بچی کی ضرورت ہے ۔ قرآن مجید سے ماخوذ نصاب ِ زندگی کی یہ کتاب اکیسویں صدی کے جدید مسلمان کو غلطیوں سے بچائے گی اور سیدھی راہ پرچلائے گی ۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب دنیا کے انسان اپنے مسائل کے حل کے لئے قرآن مجید سے رہنمائی لیں ۔ ظاہری اعتبار سے یہ کتاب جس قدر خوبصورت ہے مضامین کے اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت اور دلکش ہے ۔ یہ کتاب ہر گھر اور ہر لائبریری کی ضرورت ہے ۔ یہ کتاب اپنے بچوں ، بچیوں اور دوست احباب کو تحفہ میں بھی دی جاسکتی ہے ۔
Category: بلاگ
-

تبصرہ کتب،شخصیت سازی کے سنہرے اصول
-

قرآن سے دوری، امت مسلمہ کا زوال،تحریر: اقصیٰ جبار
اسلامی معاشرے کی بنیاد قرآن کریم پر رکھی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہے جس نے انسانیت کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف گامزن کیا۔ یہ کتاب صرف عبادات کا ضابطہ نہیں، بلکہ سیاسی، سماجی، اخلاقی، معاشی اور فکری زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کی امت مسلمہ اپنے ہی ضابطۂ حیات سے بے خبر ہو چکی ہے۔ ہم نے قرآن کو صرف ثواب، تعویذ، رسمِ قل، اور رمضان کی رسمی تلاوت تک محدود کر دیا ہے۔ جس کتاب نے غلاموں کو حکمران، جاہلوں کو معلم، اور بکھری قوم کو ایک قیادت عطا کی، آج ہم نے اُسی کتاب کو طاقچوں کی زینت اور دفتری فائلوں کا عنوان بنا کر رکھ دیا ہے۔ قرآن جسے اللہ نے "ھدیً للناس” قرار دیا، آج ہم نے اسے صرف "مردوں کی بخشش” کا ذریعہ بنا دیا۔
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "وقال الرسول يا رب إن قومي اتخذوا هذا القرآن مهجوراً” (اور رسول نے کہا: اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا — الفرقان: 30)۔ یہ شکایت آج کی امت مسلمہ پر پوری اترتی ہے۔ ہم نے قرآن کو صرف الفاظ کی سطح پر اپنایا، معنیٰ اور مقصد سے غفلت برتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج امت مسلمہ کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے۔ مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں، نوجوان نسل مغربی تہذیب کے فریب میں گم ہے، اسلامی تہذیب صرف ماضی کے صفحات تک محدود ہو گئی ہے، حلال و حرام کا شعور مدھم پڑ چکا ہے، قرآن کی زبان سے ناواقفیت عام ہو چکی ہے، اور فرقہ واریت نے ہمیں ایک جسم کے بجائے متصادم گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ قیادت کے میدان میں ہم محروم ہو گئے ہیں، کیونکہ قیادت قرآن کے عدل، امانت، اور شوریٰ جیسے اصولوں پر استوار ہوتی ہے — جنہیں ہم نے فراموش کر دیا۔
اس زوال سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے: قرآن کی طرف واپسی۔ لیکن یہ واپسی صرف زبانی یا رسم و رواج کی نہیں، بلکہ شعوری، فکری، عملی اور اجتماعی سطح پر ہونی چاہیے۔ ہمیں قرآن کو صرف تلاوت کی نہیں بلکہ فہم اور تدبر کی کتاب بنانا ہوگا۔ ہر فرد روزانہ ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنے کی عادت اپنائے، اسے زندگی کے فیصلوں میں رہنمائی کا ذریعہ سمجھے۔ گھروں میں والدین قرآن فہمی کی مجلسیں منعقد کریں، بچوں کو محض قرأت نہیں، قرآن کی اخلاقیات بھی سکھائی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں قرآن کا نصاب صرف ناظرہ کی حد تک نہ رہے، بلکہ تدبر، سیاق و سباق، اور عملی استنباط کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ریاستی سطح پر عدل و انصاف کے وہی اصول لاگو کیے جائیں جو قرآن نے بیان کیے ہیں۔ قیادت، سیاست، معیشت، اور عدالتی نظام میں قرآن کی تعلیمات کو بنیاد بنایا جائے۔ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر قرآن سے ربط کو فروغ دینے والی مہمات چلائی جائیں تاکہ نوجوان نسل دوبارہ قرآن سے جڑ سکے۔
تاریخ گواہ ہے کہ خلافت راشدہ کا عدل، اندلس کا علم و حکمت کا دور، اور صلاح الدین ایوبی کی قیادت ایسے ادوار تھے جن کی بنیاد قرآن سے جڑے رہنے پر تھی۔ جن قوموں نے قرآن کو تھاما، وہ دنیا کی قیادت پر فائز ہوئیں، اور جنہوں نے اسے چھوڑا، وہ غلام بن کر رہ گئیں۔ آج کا اسلامی سال کا آغاز ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم رک کر سوچیں، اپنا جائزہ لیں، اپنی کوتاہیوں پر نادم ہوں، اور قرآن سے اپنا رشتہ پھر سے جوڑیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں "اقْرَأْ” — یعنی "پڑھ!” — کی صدا دوبارہ سننی چاہیے، کیونکہ یہی صدا انسانیت کے لیے بیداری کا پہلا اعلان تھی۔
آج امت مسلمہ کو صرف جلسوں، جلوسوں، اور نعروں کی نہیں بلکہ عملی رجوع کی ضرورت ہے۔ ہمیں قرآن کو اپنے انفرادی اور اجتماعی فیصلوں میں شامل کرنا ہوگا، اسے صرف مدرسے اور مسجد کی دیواروں تک محدود نہیں رکھنا، بلکہ بازار، عدالت، میڈیا، اور سیاست تک پھیلانا ہوگا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہم ایک ایسی منتشر قوم بنے رہیں گے جو ماضی پر فخر تو کرے گی، لیکن حال میں خوابِ غفلت میں مبتلا رہے گی۔ لیکن اگر ہم نے قرآن سے دوبارہ جڑنے کا عزم کر لیا، تو وہ رب جو رحمٰن اور رحیم ہے، ہمیں نہ صرف معاف کر دے گا، بلکہ دوبارہ عزت، قیادت، اور بیداری عطا فرما دے گا۔
-

ایک بل، ایک لاش اور وزیروں کی مسکراہٹ
ایک بل، ایک لاش اور وزیروں کی مسکراہٹ
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ انڈیکس ایک لاکھ اکتیس ہزار پوائنٹس کی حد پار کر چکا ہے اور سرمایہ دار طبقے کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لیکن اس معاشی پیش رفت میں ایک سوال ہے جو دماغ پر ہتھوڑے برسا رہا ہے اور ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ کیا یہ ترقی عام پاکستانی کے لیے بھی ہے یا یہ صرف چند مخصوص خاندانوں، اشرافیہ اور مالیاتی مافیاز کی جیبیں بھرنے کا ذریعہ ہے؟ جب غریب کا چولہا بجھا ہوا ہو، بچے فاقوں پر ہوں اور گھر کا مالک بجلی، پانی، آٹا اور دوائی کے اخراجات سے تنگ آ کر دیوار سے سر ٹکرا رہا ہو، تو سٹاک ایکسچینج کا یہ جشن سراسر تماشہ معلوم ہوتا ہے۔ملک کا عام شہری آج مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی ناہمواری کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ بجلی کے بلوں نے اس کا ذہنی سکون چھین لیا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں عام سواری کو بھی لگژری بنا چکی ہیں۔ ریلویز نے کرایوں میں اضافہ کر دیا، بسوں نے کرائے بڑھا دیے اور گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کی دھمکیاں دے رکھی ہیں۔ ملک شہزاد اعوان جیسے نمائندے ٹیکسوں اور ٹولز ٹیکس سے تنگ آ کر احتجاج کر رہے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں ان کی گاڑیاں نذرِ آتش اور لوٹ مار کا شکار ہو رہی ہیں۔ یہ صرف ٹرانسپورٹ کا بحران نہیں، یہ ہر اس شہری کا درد ہے جس کی روزمرہ اشیاء ان گاڑیوں سے جُڑی ہوئی ہیں اور جب ان اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ان کا بوجھ بھی عوامی کمر پر آ گرتا ہے۔
یہ معاشی دباؤ صرف تاجر یا ٹرانسپورٹر نہیں بلکہ ہر عام پاکستانی کی گردن پر ہے۔ گوجرانوالہ میں انور نامی محنت کش کا بجلی کا بل صرف 3800 روپے کی عدم ادائیگی پر کاٹ دیا گیا۔ جب اس نے ہمسائے سے بجلی لی تو گیپکو نے اس پر چوری کا مقدمہ درج کرا کے جیل بھجوا دیا اور 700 یونٹ کابل بنادیا۔ یہی مقدمہ اس وقت قیامت بن گیا جب اس کا بیٹا فراز تیزاب پی کر زندگی سے منہ موڑ گیا۔ ماں کی فریاد "میرا بیٹا بلوں کے دفتر کے چکر لگاتا رہا اور آخر مر گیا” صرف ایک بین نہیں، پورے سسٹم پر ایک تھپڑ ہے۔کچھ عرصہ قبل اسی شہر میں ایک بھائی نے بجلی کے بل کے جھگڑے پر اپنے ہی بھائی کو قتل کر دیا۔ ڈسکہ کی نسرین بی بی نے بیس ہزار روپے کے بل سے تنگ آ کر خود کو جلا لیا۔ یہ خبریں نہیں، ماتم ہیں، جن پر پورا معاشرہ آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے بجلی کی قیمت میں سات روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا تھا مگر یہ کمی بنیادی ٹیرف میں نہیں بلکہ عارضی فیول ایڈجسٹمنٹ میں کی گئی، جو اپریل سے جون تک محدود تھی۔ اب وہ ریلیف ختم ہو چکا ہے اور عوام پھر اسی ظلم کے شکنجے میں آ چکی ہے۔ وفاقی وزیر اویس لغاری کا یہ کہنا کہ "ہم نے مستقل ریلیف دیا ہے”، گویا ان ماں باپ کے زخموں پر نمک پاشی ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے کھو دیا۔ آج ایک دو کمروں کے گھر کا بجلی بل آٹھ سے دس ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے، جو ایک تنخواہ دار یا مزدور کے لیے موت کا پروانہ ہے۔
قانون دان اور ماہرنفسیات بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ یہ مہنگائی نہ صرف معاشی تباہی کا پیش خیمہ ہے بلکہ معاشرتی تنزلی، تشدد اور ذہنی بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔ گھروں میں جھگڑے، طلاقیں، قتل، خودکشیاں…یہ سب سلیب گردی کے بدترین نتائج ہیں۔ اگر یہی تسلسل جاری رہا تو ہم ایک ایسا معاشرہ بن جائیں گے جہاں انسانیت صرف کتابوں میں رہ جائے گی۔
اور اب وہ خونی سوال جو ہر دل کو چیر رہا ہے کہ جب سٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے تو کیا اس کا کوئی فائدہ عام پاکستانی کو مل رہا ہے؟ جب ایک غریب محنت کش کا بیٹا بجلی کے بل کی وجہ سے خودکشی کر لیتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جب بھائی بھائی کا قاتل بن جاتا ہے اور خواتین خودسوزی پر مجبور ہوتی ہیں تو کیا یہ نظام کی ناکامی نہیں؟ وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری، آپ کے فیصلوں نے عوام کی زندگیوں کو عذاب بنا دیا ہے۔ آپ اس "سلیب گردی” کے نتیجے میں معصوم پاکستانیوں کی اور کتنی جانیں لیں گے؟
کیا کوئی ادارہ یا لیڈر اس معاشرتی تباہی کو روکنے کے لیے آگے بڑھے گا یا ہم صرف اعدادوشمار کی چمک دمک میں کھوئے رہیں گے جبکہ عام آدمی کی چیخیں دبتی رہیں گی؟ اربابِ اختیار سے سوال ہے کہ آپ کے پاس اس درد کا کوئی مداوا ہے یا بس وعدوں اور عارضی ریلیف کے جھانسوں سے عوام کو مزید ٹھگتے رہیں گے؟ کب تک اویس لغاری کے غلط فیصلوں کی وجہ سے بچے یتیم، عورتیں بیوہ اور مائیں اپنے لخت جگر کی لاشوں پر بین کرتی رہیں گی؟ اس ظلم کے خلاف کون بند باندھے گا؟ کب تک سلیب گردی کی بھینٹ چڑھ کر جنازے اٹھتے رہیں گے؟ کیا کوئی آج کے دور کا عمر پیدا ہوگا جس نے کہا تھا کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اس کا جوابدہ عمر ہوگا؟
اب ان بھوکے، بے بس اور اویس لغاری کی سلیب گردی کی وجہ سے مرنے والوں کے خون کا ذمہ دار حاکم وقت وزیر اعظم میاں شہباز شریف نہیں تو اور کون ہے؟

-

زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے،تحریر:دعا مرزا
کل میرا زندگی سے نیا تعارف ہوا۔ فیصل ٹاون مون مارکیٹ میں میں نے ایک ایسا واقعہ دیکھا جس نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ شاید اگر میں اس کو ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرتی تو بات کی تشریح آسان ہوجاتی مگر میں اس وقت بغیر کسی دباو کے مشاہدے کرنا چاہتی تھی۔
رات کالی ہوچکی تھی ، لوگ کھانے کے بعد چائے کی چسکیاں لگا رہے تھے، کہیں قہقہے اور کہیں زندگی کی تلخیوں کی بات چل رہی تھی۔ مںظر وہاں رکا جب گھاس پر سوئے بچے کی اچانک آواز آئی ” ٹائم ہوگیا؟ ” اس کا تکیہ ٹوٹے جوتے تھے لیکن اس کے چہرے کے اطمینان سے لگا رہا تھا گویا وہ روئی کا گولے ہوں۔ اسکی ماں نے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے جواب دیا ” 10 بج گئے نیں اٹھ جا ” اور ساتھ ہی ایک ڈبہ اٹھایا۔ بچے نے ایک توڑے میں سے گولڈن جیکٹ نکالی، بٹن ٹھیک کئے اور فوری سیدھا ہوکے بیٹھ گیا۔ ماں نے ڈبے میں سے گولڈن رنگ اس کے منہ اور گردن پر ملنا شروع کیا۔ وہ ایسے بیٹھا رہا جیسے اس کو اس کا کام معلوم ہو اور کسی سیٹ پر پرفارمنس کیلئے جارہا ہو۔ اس کے فوری بعد اس نے ٹوپی پہنی اور درخت کے نیچے پڑے تھیلے میں سے لائٹوں والے جوگر نکال کر پہنے۔ مجھے وہ تھکا ہوا دکھائی دیا مگر اس نے کسی جوان مرد کی طرح خود کو تھپکی دی اور وہاں سے نکل پڑا۔ اسکی ماں دوپٹہ اوڑھ کر وہیں زمین پر سو گئی جہاں اس کا باپ پہلے سے سویا ہوا تھا۔
میں نے گردن موڑ کر اس کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ وہ ایک ٹیبل پر گیا اور اچانک روبوٹ بن گیا۔ بچہ بہت چھوٹا تھا لوگ فوری پیسےدے رہے تھے۔ کچھ دیر میں میری باری آئی وہ ایسے ہی مخصوص انداز میں مجھ تک پہنچا میں نے اس سے پیار سے پوچھا ” تھک گئے ہو؟ اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا اور بڑی بردباری سے کہا ” نہیں ” میں نے اس کی ٹوپی کو سرکاتے ہوئے پوچھا سکول جاو گے؟ اس بار اس نے ایک لمحہ بھی نہیں لیا اور ذرا اونچی آواز میں کہا ” نہیں ”اس کے بعد وہ خاموش کھڑا رہا وہ میرے لیے آج بہت سے سوال چھوڑ گیا تھا کیونکہ اس کی نم آنکھیں، تھکا ہوا چہرہ اور دوسری طرف سوئے ہوئے اس کے ماں باپ اور بہن بھائی اسکی ہمت نہیں آزمائش تھے۔ اسکا لہجہ بہت تکلیف دہ تھا۔
وہ وہاں سے چلا تھا زندگی کے 5 سال نے اسکو 50 سال کا درد دیا تھا۔
میں ہرگز نہیں کہہ رہی کہ وہ قابل ترس ہے مگر میں نے اسکے حوصلے سے سیکھا کہ زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے۔ -

بل نہیں دیا؟ مر جاؤ!، ریاست کے ہاتھوں ایک اور قتل
بل نہیں دیا؟ مر جاؤ!، ریاست کے ہاتھوں ایک اور قتل
تحریر: حبیب اللہ خان
گوجرانوالہ کے چھوٹے سے علاقے ونیہ والا میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا ہے جس نے صرف ایک خاندان کو نہیں، بلکہ پورے ریاستی نظام کو بےنقاب کر دیا ہے۔ محض 38 ہزار روپے کے بجلی کے بل کی عدم ادائیگی پر ایک محنت کش باپ کو گرفتار کر لیا گیا ، وہ بھی ایسے حالات میں جب اس کے گھر کی بجلی تین دن سے منقطع تھی اور حالات شدید غربت کی چغلی کھا رہے تھے۔ یہ کہانی انور اور اس کے بیٹے فراز کی ہے۔ بجلی کامیٹر کٹ گیا، گھر میں تاریکی چھا گئی اور اسی دوران گیپکو نے ہمسایوں سے عارضی بجلی لینے پر انور کو بجلی چوری کے الزام میں گرفتار کروا دیا۔ ریاستی مشینری نے اپنی چال چل دی مگر شاید اسے اندازہ نہ تھا کہ اس بار شکار صرف قید و بند تک محدود نہیں رہے گا۔فراز … ایک حساس دل رکھنے والا نوجوان تھا جو والد کی گرفتاری اور گھریلو تاریکی سے اندر ہی اندر جل رہا تھا، وہ ہر ممکن کوشش کرتا رہا کہ گیپکو کے دفتر جا کر کسی حل تک پہنچے۔ لیکن جب مایوسی حد سے بڑھ گئی تو اس نے تیزاب پی کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ وہ زندگی جس نے شاید کبھی سکون کا سانس ہی نہ لیا ہو، اُسے ریاست کی بےحسی نے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ ہم سب نے بچپن میں سنا ہے کہ "ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے”۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ماں اس طرح اپنے بھوکے بچے کو سزادیتی ہے؟ کیا ماں بجلی نہ ہونے پر اپنے بیٹے کو موت کی طرف دھکیلتی ہے؟ فراز کی خودکشی ایک عام خبر نہیں بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک ایسا طمانچہ ہے جس کی گونج دیرپا ہونی چاہیے۔
جب وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری بجلی چوروں کے خلاف "ریکوری مہم” پر فخر کرتے ہیں تو کیا ان سے یہ پوچھا نہیں جانا چاہیے کہ کیا یہ "ریکوری” انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟ کیا ان کی مہم نے غربت کو جرم بنا دیا ہے؟ کیا صرف اس لیے کہ انور ایک محنت کش تھا، اسے جیل میں ڈالنا جائز تھا؟ اور کیا فراز کی موت کا مقدمہ اب صرف والدین کے آنسوؤں میں دفن کر دیا جائے گا یا وزیرِ توانائی کو بھی کٹہرے میں بلایا جائے گا؟ یہ محض ایک افسوسناک واقعہ نہیں، یہ اس پالیسی کا نتیجہ ہے جس نے ہر قیمت پر ریکوری کا نعرہ لگا کر انسانیت کو پچھلی صف میں دھکیل دیا ہے۔ کیا اویس لغاری کی وزارت اس موت کی شریک مجرم نہیں؟ کیا ان کے اقدامات سے جنم لینے والے سانحات کا کوئی حساب نہیں ہونا چاہیے؟
آج ملک بھر میں اربوں روپے کے بل ادا نہ کرنے والے طاقتور سیاستدان، تاجر، افسران اور اشرافیہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ ان کے خلاف نہ ایف آئی آر درج ہوتی ہے، نہ گرفتاری، نہ ذلت۔ مگر ایک محنت کش انور، جو شاید 38 ہزار کی قسط بھی مانگتا ہوگا، اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کیا یہی قانون ہے؟ کیا یہی انصاف ہے؟ کیا یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؟ فراز کی موت ایک نوحہ ہے، ایک احتجاج ہے، ایک سائلانہ چیخ ہے ، وہ کہتا ہے "میرا جرم کیا تھا؟ کہ میں غریب تھا؟”
یہ سب کچھ ایک لمحاتی جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ریاست کے لیے ایک آئینہ ہے جس میں وہ اپنی پالیسیوں، اپنی ترجیحات اور اپنی بےحسی کا عکس دیکھ سکتی ہے۔ گیپکو حکام کے خلاف فوری انکوائری ہونی چاہیئے اور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کو اس واقعہ پر ایوان میں طلب کیا جانا چاہیے۔ وزارتِ توانائی کی "ریکوری پالیسی” کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ ایسے تمام کیسز میں جہاں غربت کی وجہ سے بل ادا نہ کیے جا سکے، ریاستی ریلیف، اقساط یا سماجی تحفظ کی اسکیمیں متعارف کروائی جائیں۔ فراز کی خودکشی پر عدالتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ ذمہ دار کون ہے . صرف بجلی چوری کرنے والا یا وہ نظام جو انسان کو جینے کا حق نہیں دیتا۔
اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں اگر ہم نے فراز کے آنسوؤں کو نظرانداز کیا، تو شاید کل کو کسی اور کا بیٹا، کسی اور کا باپ اسی ریاستی ظلم کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔ تب ہم صرف کفِ افسوس ہی ملتے رہ جائیں گے۔ کیا ہم ایک زندہ قوم ہیں؟ یا پھر ہم صرف زندہ لاشیں ہیں جو ہر دن ایک نیا ماتم سن کر تھوڑا سا افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلے سانحے تک خاموش ہو جاتے ہیں؟ فراز چلا گیا، انور شاید رہا بھی ہو جائے، لیکن یہ سوال ہمارے دل و دماغ پر نقش ہونا چاہیے کہ کیا ہم واقعی ایک زندہ ریاست ہیں؟ اگر ہم خاموش رہے، تو یہ خاموشی صرف ایک قتل پر نہیں ہو گی ، یہ ہمارے ضمیر کے قتل پر مہرِ تصدیق ہو گی۔

-

پیاس کے صحرا میں صبر کا دریا بہتا رہا
پیاس کے صحرا میں صبر کا دریا بہتا رہا.مکہ سے کربلا تک کا سفر،6محرم
تحریر: سیدریاض حسین جاذب
چھ محرم الحرام، وہ لمحہ جب سورج کربلا کی پیاسی زمین پر یوں ڈھل رہا تھا گویا افق پر خون پھیلنے لگا ہو، اور ہوا ایسی ساکت ہو چکی تھی جیسے پوری کائنات امام حسینؑ کے صبر اور استقلال کو دم سادھے دیکھ رہی ہو۔ کربلا کے اس بے در و دیوار میدان میں نہ کوئی بازار تھا، نہ دروازہ، صرف خیمے تھے، سجدے تھے، سسکیاں تھیں، اور آنکھوں میں انتظار کی نمی۔اسی دن ابن زیاد نے ظلم کا تاج پہن کر عمر بن سعد کو وہ آخری پیغام بھیجا، جو تاریخ کے ہر صفحے کو لہو سے رنگین کر گیا:
"حسینؑ سے یزید کے حق میں بیعت لو، ورنہ فرات کے کنارے اُن کا خون بہا دو۔”یوں چھ محرم وہ دن بن گیا جب دریا سے پانی چھن گیا، مگر اہلِ بیتؑ کے صبر کا چشمہ چھلکنے لگا۔ عمر بن سعد نے پانچ سو سپاہیوں کو فرات پر تعینات کر دیا۔ وہ پانی جو درختوں کی جڑیں تر کرتا تھا، جانوروں کی پیاس بجھاتا تھا، آج حسینؑ کے معصوم علی اصغرؑ پر حرام ٹھہرایا گیا۔ یزیدی لشکر کے سائے میں معصوم چہرے پیاس کی شدت سے زرد ہونے لگے۔ بی بی سکینہؑ کی لرزتی آواز خیمے کے سکوت میں یوں گونجی جیسے کسی روح نے فریاد کی ہو:
"اماں… پانی…”ماں نے آسمان کی طرف نگاہ کی، مگر لبوں پر شکوہ نہ آیا۔ صرف خاموشی سے اشک بہہ نکلے، کہ شکوہ صبر والوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔
مقتل کی روایت ہے کہ شام کے وقت بی بی سکینہؑ خیمے سے نکلی، شاید پانی کی تلاش میں، یا شاید چچا عباسؑ کی راہ تکتی ہوئی۔ امام حسینؑ نے اُسے واپس لا کر اپنی گود میں لیا، چادر میں لپیٹا، اور آسمان کی طرف خاموش نظروں سے دیکھا… گویا وقت کو گواہ بنا رہے ہوں، جیسے رب سے کہہ رہے ہوں:
"پروردگار! یہ تیرے حبیبؐ کی نواسی ہے، اور آج اسے امتِ محمدؐ نے پیاسا کر دیا۔”اسی شام، جب افق پر غروبِ شمس کے سائے زمین پر لہو کی چادر کی طرح پھیل رہے تھے، امام حسینؑ نے اپنے جانثار اصحاب کو بلایا۔ خیموں کے درمیان خاموشی ایسی تھی جیسے موت بھی رک گئی ہو، مگر فضاؤں میں وفا کی سرگوشیاں گونج رہی تھیں۔
امامؑ نے فرمایا:
"یہ لوگ صرف مجھے چاہتے ہیں، تم میں سے جو جانا چاہے، رات کی تاریکی میں نکل جائے، میں کسی پر بار نہیں رکھتا۔”مگر وہ اصحاب صرف محبتِ حسینؑ سے جیتے تھے۔ حبیب بن مظاہر، زہیر بن قین، مسلم بن عوسجہ نے یک زبان ہو کر کہا:
"مولا! اگر ہمیں سو بار قتل کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، اور پھر قتل کیا جائے، تب بھی ہم آپ کو تنہا نہ چھوڑیں گے۔”خیموں میں بی بی زینبؑ کی آنکھوں میں وہ بے قراری تھی جو آندھی سے پہلے درختوں پر چھا جاتی ہے۔ حضرت علی اصغرؑ کی سانسیں ڈول رہی تھیں، ہونٹوں پر خشکی جم چکی تھی، اور بی بی سکینہؑ کی نیند پیاس سے روٹھ چکی تھی۔ ماں کی گود میں بچہ بے سدھ پڑا تھا، مگر زبان پر فریاد نہ تھی، کیونکہ یہ خیمے اب سجدہ گاہ بن چکے تھے۔ ان کی خاموشی فریاد سے بڑھ کر تھی۔
یزیدی فوج بڑھتی جا رہی تھی، کمک ہر سمت سے آ رہی تھی، اور خیموں کا محاصرہ لمحہ بہ لمحہ سخت ہوتا جا رہا تھا۔ مگر امام حسینؑ کے چہرے پر نہ مایوسی تھی، نہ خوف۔ ان کی آنکھوں میں وہ روشنی تھی جو وقت کے اندھیروں کو چیر رہی تھی۔ ان کا عزم تاریخ کے ہر ظالم پر حجت بن چکا تھا۔ ان کے سکوت میں بھی ایک للکار تھی:
"ہم جھکنے نہیں آئے، ہم سر کٹانے آئے ہیں… مگر باطل کے در پر نہیں، حق کے علم کو بلند رکھنے کے لیے!”چھ محرم وہ دن تھا جب فرات بند ہوا، مگر حسینؑ کا دریا جاری ہو گیا۔ جب سکینہؑ کی پیاس نے تاریخ کی پیشانی پر آنسو کا نشان چھوڑا۔ جب زینبؑ کے ضبط نے کربلا کی شام کو شکست دی۔ جب حسینؑ کا سجدہ وقت کے تختوں کو لرزانے لگا۔ جب ماں نے بیٹے کو پیاسا دیکھا، اور پھر بھی رب کا شکر ادا کیا۔
جب صبر نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہاکہ"تو آ سکتی ہے، مگر ہمیں شکست نہیں دے سکتی!”یہی چھ محرم ہے، جہاں ریت تپ رہی تھی مگر سجدے ٹھنڈے تھے، جہاں زخم برس رہے تھے مگر ماتھا سجدے سے نہ اٹھا، جہاں پانی چھن گیا مگر وقار باقی رہا۔ یہ دن ہر سال آتا ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ عزت صرف تلوار سے نہیں، پیاس سے بھی بچائی جاتی ہے۔
اور سچ صرف بول کر نہیں، کٹ کر بھی لکھا جاتا ہے۔

-

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں خواتین کی مشکلات اور تذلیل ، ایک افسوسناک منظرنامہ
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں خواتین کی مشکلات اور تذلیل ، ایک افسوسناک منظرنامہ
تحریر: آمنہ خواجہ ملتان
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) حکومت پاکستان کی جانب سے کم آمدنی والے خاندانوں، خصوصاً خواتین کی مالی معاونت کے لیے ایک اہم فلاحی اقدام ہے۔ تاہم، اس عظیم مقصد کے باوجود، زمینی حقائق نہایت افسوسناک اور شرمناک ہیں۔ اوپر دی گئی تصویر میں جو منظر نظر آ رہا ہے، وہ صرف ایک تصویر نہیں بلکہ معاشرتی ناانصافی اور انتظامی ناکامی کی عکاسی ہے۔تصویر میں درجنوں خواتین ایک مرکز کے باہر قطار میں کھڑی یا زمین پر بیٹھی نظر آتی ہیں، جن میں معمر خواتین، بیمار و کمزور خواتین اور نوجوان لڑکیاں شامل ہیں۔ ان کے چہروں پر پریشانی، تھکن اور بے بسی واضح دکھائی دے رہی ہے۔ کچھ خواتین دھوپ اور گرمی کی شدت سے نڈھال ہوکر فرش پر بیٹھ گئی ہیں، جبکہ باقی اپنی باری کے انتظار میں کھڑی ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جو سرکاری امداد کی حقدار ہیں، مگر ان کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے باعث شرم ہے۔
▪️ مشکلات کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟
BISP کے تحت خواتین کو مالی امداد حاصل کرنے کے لیے اکثر گھنٹوں لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ نہ کوئی مناسب بیٹھنے کی جگہ ہے، نہ سایہ، نہ پانی کی سہولت اور نہ ہی ٹوکن یا نظام کا کوئی شفاف طریقہ۔
بعض اوقات خواتین کئی دن انتظار کے بعد بھی رقم حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں، کیونکہ یا تو رقم ختم ہو چکی ہوتی ہے یا سسٹم کام نہیں کرتا۔ عملے کا رویہ بھی اکثر تحقیر آمیز ہوتا ہے، جس سے خواتین کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔
ساتھ میں رشوت بھی کی جاتی ہے جو پیسے دے اسکے پیسے جلدی دیتے ہیں جو نا دے اسکے یا تو پیسے نہیں اے یا پھر بغیر ویرفکیشن کے بول دیتے کہ فنگر پرنٹ میچ نہیں ہوتےـ▪️ عزت یا خیرات؟
یہ پروگرام خواتین کی مدد کے لیے بنایا گیا تھا، مگر اس امداد کی وصولی کے لیے جن ذلت آمیز مراحل سے انہیں گزرنا پڑتا ہے، وہ اُن کی عزتِ نفس پر کاری ضرب ہے۔ بزرگ خواتین جو کہ شاید چل بھی نہ سکتی ہوں، ان کے لیے اس طرز کا انتظام مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ اکثر جگہوں پر مردوں کی موجودگی میں خواتین کا گھنٹوں قطار میں لگنا اُن کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔▪️ حل کیا ہو؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس پروگرام کے نظام کو بہتر بنائیں۔ خواتین کے لیے علیحدہ، باعزت اور آرام دہ مراکز قائم کیے جائیں۔ آن لائن یا موبائل ٹوکن سسٹم متعارف کروایا جائے تاکہ غیر ضروری ہجوم سے بچا جا سکے۔ خواتین کو قطاروں میں کھڑا ہونے کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں یا ATM کارڈز کے ذریعے رقم فراہم کی جائے۔ عملے کی تربیت کی جائے تاکہ وہ مستحق خواتین کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اصل مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور غربت کے خلاف جنگ میں ان کی مدد کرنا تھا۔ لیکن اگر یہ امداد تذلیل، تھکن اور پریشانی کی قیمت پر ملے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی ان خواتین کو "سپورٹ” کر رہے ہیں یا صرف اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑا رہے ہیں؟ یہ وقت ہے کہ ہم صرف امداد نہ دیں بلکہ ان خواتین کی عزتِ نفس کا بھی تحفظ کریں۔
-

سوات کا سانحہ: ایک معصوم کی خاموشی، ایک قوم کی بے حسی
سوات کا سانحہ . ایک معصوم کی خاموشی، ایک قوم کی بے حسی
عبدالرشید ترابی(جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ، بلتستان ڈویژن)
قدرتی آفات جب آتی ہیں تو صرف زمین، مکانات اور فصلیں نہیں بہاتیں بلکہ انسانوں کے ارمان، خواب، رشتے اور زندگیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔ ان آفات کا قہر جہاں قدرت کی طاقت کا مظہر ہوتا ہے، وہیں ہماری ریاستی کمزوری، ناقص منصوبہ بندی اور اجتماعی بے حسی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ سوات کا حالیہ واقعہ، جس میں ایک ہی خاندان کے دو معصوم بچے دریا کی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئے اور کل اٹھارہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو ہمارے قومی ضمیر پر سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔یہ سانحہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، یہ پوری قوم کے لیے ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنی غفلت، لاپرواہی اور ترجیحات کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ یہ المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم نے اپنی ریاستی ذمہ داریوں کو کتنا سنجیدہ لیا ہے؟ کیا ہمارے لیے انسانی جانیں واقعی اہم ہیں؟ یا ہم صرف تب جاگتے ہیں جب کسی ماں کی گود خالی ہونے کے بعد کوئی معصوم، ہمارے دلوں کو ہلا دے؟
جب تعزیت کے لیے ڈسکہ جانا ہوا، تو دل بوجھل تھا۔ الفاظ جیسے ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ گھر میں ایک عجیب سی خاموشی طاری تھی—نہ قہقہے، نہ بچوں کی کلکاریاں، نہ روزمرہ کی چہل پہل۔ اس خاموشی میں سب سے نمایاں وہ بچہ تھا جو ایک اجنبی کی گود میں سر رکھے، موبائل پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ شاید موبائل کی چمکتی اسکرین میں وہ دنیا تلاش کر رہا تھا جہاں اس کے بھائی بہن اب بھی زندہ ہوں، ہنستے کھیلتے ہوں۔
یہ وہ عمر ہے جہاں بچے کھلونوں کے لیے روتے ہیں، مگر یہ معصوم اپنے بہن بھائیوں کے لیے دل ہی دل میں رو رہا تھا۔ ہر چند لمحوں بعد وہ سر اٹھا کر ایک ہی سوال دہراتا: "بھائی کب واپس آئیں گے؟” یہ سوال صرف ایک بچے کا نہیں، یہ سوال اس قوم سے ہے جو آفات کے بعد تصویریں کھینچتی ہے، سوشل میڈیا پر کمنٹس کرتی ہے، اور پھر اگلے حادثے تک سب کچھ بھول جاتی ہے۔ وہ بچہ جو کل تک اسکول جانے کی تیاری کر رہا تھا، آج خاموش بیٹھا اپنی ننھی یادوں میں اپنے بچھڑ جانے والوں کو تلاش کر رہا ہے۔ کیا ہم واقعی ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جس کے جذبات بھی وقتی اور مصنوعی ہو چکے ہیں؟
اصل سوال یہ نہیں کہ سیلاب کیوں آیا، بلکہ یہ ہے کہ ہمیں کب سے معلوم تھا کہ سیلاب آ سکتا ہے؟ کیا ہمارے پاس بروقت وارننگ سسٹم موجود تھا؟ کیا مقامی انتظامیہ نے خطرے کے پیشِ نظر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا؟ کیا ہم نے وہ تمام اقدامات کیے جن سے ان قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا؟ افسوس، ان سب سوالوں کا جواب "نہیں” ہے۔
سوات جیسے پہاڑی علاقوں میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ معمول کا حصہ ہیں۔ وہاں کے لوگ ہر سال اس خطرے کے سائے میں جیتے ہیں۔ دریا کے کنارے آبادیاں، بغیر کسی حفاظتی بند یا فلڈ پروف انفراسٹرکچر کے، ہمیشہ خطرے کی زد میں رہتی ہیں۔ حکومت نے ماضی میں بھی دعوے کیے، فنڈز منظور کیے، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوا—صرف تصاویر، بیانات اور رسمی دورے۔
بارہا یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ہم صرف حادثات کے بعد متحرک ہوتے ہیں۔ آخر کیوں ہم ایک مؤثر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم قائم نہیں کر سکے؟ کیا مقامی حکومتوں کو اس سلسلے میں وسائل اور اختیارات دیے گئے؟ کیوں اسکولوں، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو محفوظ مقامات پر منتقل نہیں کیا گیا؟ یہ سانحہ یاد دلاتا ہے کہ قدرت کی مہلت ہمیشہ نہیں ملتی۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے، تو کل کو کوئی اور بچہ یہی سوال پوچھے گا—اور شاید تب بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہ ہو۔
ایک اور پہلو جو اس سانحے کو مزید المناک بناتا ہے، وہ ہے ریاست کی غیر موجودگی۔ جب حادثہ ہوا، تو ابتدائی گھنٹوں میں نہ کوئی ریسکیو ٹیم پہنچی، نہ کوئی حکومتی اہلکار۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشیں نکالیں، زخمیوں کو اسپتال پہنچایا، اور بے یار و مددگار متاثرین کی دلجوئی کی۔ یہ کس کی ذمہ داری تھی؟ کیا متاثرین کو حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہی ہمارا نیا قومی اصول بن چکا ہے؟
میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے تنقید کا مستحق ہے۔ چند گھنٹوں کی کوریج کے بعد اس خبر کو یوں نظرانداز کر دیا گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ افسوس، ریٹنگز کی دوڑ میں انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ ہمارے عوام کا اجتماعی حافظہ بھی حد درجہ کمزور ہو چکا ہے۔ ہم سانحات کو صرف اس وقت یاد رکھتے ہیں جب وہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بن جائیں۔ جیسے ہی کوئی نئی خبر آتی ہے، پرانی فراموش ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار انہی المیوں کو دہرا رہے ہیں، بغیر کسی سبق کے۔
اگر ہم واقعی ایک باشعور اور مہذب قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف اظہار افسوس سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں ایک جدید، مربوط اور فعال ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم قائم کرنا ہوگا۔ ہر قدرتی آفت کی بروقت اطلاع کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی الرٹ سسٹم ہونا چاہیے، جو مقامی آبادی کو فوری خبردار کرے۔ دریا کے کناروں پر حفاظتی بند، فلڈ چینلز اور مضبوط پل بنائے جائیں تاکہ سیلاب کے خطرات کم ہوں۔ NDMA اور PDMA کی ٹیموں کو مقامی سطح پر بااختیار اور متحرک بنایا جائے۔ ہر ضلع کی انتظامیہ کو فنڈز، ساز و سامان اور عملہ مہیا کیا جائے تاکہ وہ مقامی طور پر ان آفات سے نمٹنے کے قابل ہو۔ عوام کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے شعور دیا جائے، خاص طور پر اسکولوں اور کالجوں میں، تاکہ بچے نہ صرف خود محفوظ رہ سکیں بلکہ دوسروں کی بھی مدد کر سکیں۔
سوات کا یہ سانحہ صرف ایک خبر نہیں، ایک چیخ ہے۔ ایک دردناک یاد دہانی ہے کہ ہمیں اب جاگنا ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ ہم انسانی زندگی کو اعداد و شمار کے بجائے حقیقی قیمت دیں۔ وہ بچہ جس نے سوال کیا: "بھائی کب واپس آئیں گے؟” اس کا جواب ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی کچھ نہ کیا، تو یہ سوال ہمیشہ کے لیے ہماری اجتماعی بے حسی کا آئینہ بن کر رہ جائے گا۔

-

عوام کی جھولی اور حکمران
عوام کی جھولی اور حکمران
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانیحکومت نے ایک بار پھر عوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے سے بڑھ کر 266 روپے 79 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد یہ 262 روپے 59 پیسے سے بڑھ کر 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گئی اور پاکستانی عوام کی جھولی میں ایک نیا معاشی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ عوام کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے بوجھ تلے دبایا گیا ہو۔ 2023 میں پٹرول کی قیمت 331.38 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی تھی جو صرف 15 دنوں میں 41 روپے کا اضافہ تھا۔ اس بار کا اضافہ بھی عام پاکستانی اور خاص طور پر مزدور طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہے جو پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور کم آمدنی سے پریشان ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پمپ پر پٹرول اور ڈیزل کے نرخ تک محدود نہیں بلکہ یہ معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نجی اور عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10-20% اضافہ ہوچکا ہے۔ مزدور طبقہ جو اپنی آمدنی کا 20-30% آمدورفت پر خرچ کرتا ہے، اس اضافے کی وجہ سے خوراک اور تعلیم جیسے بنیادی اخراجات پر کٹوتی کرنے پر مجبور ہے۔ ایک مزدور جس کی ماہانہ تنخواہ 20,000 سے 30,000 روپے کے درمیان ہے، اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف ٹرانسپورٹ کرایوں پر خرچ کرنا پڑرہا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نقل و حمل کے اخراجات 15-25% بڑھ چکے ہیں جو زرعی اجناس، سبزیوں اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ آٹا، چینی، اور سبزیوں کی قیمتوں میں 10-15% اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بنیادی ضروریات کو پورا کرنا مشکل بنا دیاہے۔ مزدور طبقہ جو اپنی آمدنی کا 50-60% خوراک پر خرچ کرتا ہے، غذائی قلت اور قرض کے دلدل میں دھنس چکا ہے۔
اس کے علاوہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے زرعی مشینری اور صنعتی پیداوار کے اخراجات بڑھ چکے ہیں، جس سے زرعی اور صنعتی شعبوں کے اخراجات میں 5-10% اضافہ ہونالازم ہے۔ جس کا نتیجہ صنعتی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور کسانوں کی آمدنی میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ صنعتیں اخراجات کم کرنے کے لیے ملازمین کی تعداد کم کر رہی ہیں، جس سے مزدور طبقے کے لیے روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ مجموعی مہنگائی کی شرح کو بڑھاچکا ہے، جیسا کہ 2010 میں 6.10 روپے فی لیٹر اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا تھا اور 2025 تک یہ رجحان جاری ہے۔ اس سے عام پاکستانی کی قوت خرید کم ہوچکی ہے اور وہ بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز (FCA) نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ 2024 میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2.31 روپے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا جو صارفین کے بلوں میں غیر متوقع اضافے کا باعث بنتا ہے۔ مثال کے طور پر 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارف کا بل 3,000-3,500 روپے سے بڑھ کر 8,500-9,000 روپے تک جا سکتا ہے اگر وہ ایک یونٹ بھی زیادہ استعمال کر لے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی زیر نگرانی بنائی گئی سلیب پالیسی، جسے عوام "سلیب گردی” کہتے ہیں، غریب صارفین کو سبسڈی سے محروم کر دیتی ہے۔ پروٹیکٹڈ صارفین (200 یونٹ تک) کو 260 ارب روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے لیکن 201 یونٹ پر بل 5,000 روپے تک بڑھ جاتا ہے۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2,400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور اس کا بوجھ فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز اور ٹیکسوں کی صورت میں عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ اویس لغاری نے بجلی چوری اور اوور بلنگ کے خلاف اقدامات کا دعویٰ کیا لیکن میپکو میں 152 ملازمین اوور بلنگ میں ملوث پائے گئے اور انہیں صرف وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا۔
غریب طبقہ جو پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متاثر ہے، اب بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار ہے۔ 2023 میں بجلی کی قیمتوں میں 14 بار اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی برداشت کو پار کر دیا۔ ملک بھر میں احتجاج ہوئے، جہاں لوگوں نے بجلی کے بل جلائے اور سڑکیں بلاک کیں۔ سوشل میڈیا پر عوام نے اسے "ظلم” قرار دیا، جیسا کہ ایک صارف نے لکھا کہ "ایک یونٹ اضافے سے بل دگنا ہو جاتا ہے۔” غریب خاندان خوراک، تعلیم اور صحت پر خرچ کم کر رہے ہیں، جس سے غذائی قلت اور غربت بڑھ رہی ہے۔ مزدور طبقہ جو پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے، اس اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ ان کی آمدنی کا 60-70% خوراک، ٹرانسپورٹ اور رہائش پر خرچ ہوتا ہے اور اضافی اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجتاً وہ قرضوں اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔
حکومت کی پالیسیاں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی مشکلات بڑھا رہی ہیں۔ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کو جواز بنا کر یہ بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ اویس لغاری کی قیادت میں پاور سیکٹر کی اصلاحات کے دعوؤں کے باوجود بجلی چوری، اوور بلنگ اور گردشی قرضے کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ حکومت کو فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پٹرولیم لیوی کو کم کر کے یا سبسڈی دے کر عوام پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کے حسابات کو شفاف بنایا جائے اور اسے پچھلے مہینوں کے بجائے موجودہ بل میں شامل کیا جائے۔ پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے سلیب کی حد کو 200 سے بڑھا کر300 یونٹ تک کیا جائے۔ 250 ارب روپے کی بجلی چوری کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ پن بجلی، سولر اور ونڈ پاور جیسے سستے ذرائع پر انحصار بڑھایا جائے تاکہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت کم ہو۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور بجلی کے بھاری بلوں نے پاکستانی عوام کی جھولی کو مہنگائی اور معاشی دباؤ سے بھر دیا ہے۔ غریب اور مزدور طبقہ جو پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، اس "ظلم” کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ سوشل میڈیا پر عوام کا غم و غصہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ اضافہ ناقابل برداشت ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر ریلیف نہ دیا تو عومی بے چینی بہت بڑے احتجاج کا باعث بن سکتی ۔ حکمرانوں کوعوام کی جھولی کو خالی کرنے کے بجائے اسے سہارا دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ معاشی بدحالی سے نکل سکیں اور ایک باوقار زندگی گزار سکیں۔
-

میرا بادشاہ حسینؑ ہے.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی
گدائے درِ پنجتن پاک علیہم السلام
sadiaambergilani@gmail.comغریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حُسینؑ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑروز ء اول سے حق کی سربلندی کے لئیے اللہ رب العزت کے فرمانبردار و برگزیدہ بندے اللہ رب العزت کے ہر حکم کی تعمیل کرتے رہے ہیں۔ ماہِ محرم الحرام نواسہِ رسول اللہﷺ، جگر گوشہ علیؑ و بتولؑ، برادرِحضرت حسن المجتبیؑ،رکنِ اصحابِ کساءؑ،سید الشہداءؑ، سردارؑ ِ جنت، ریحانۃ النّبیؐ، پیکر ِ صبر و رضا، مثلِ عشق و وفا، سفیر ِ حق، شہنشاہِؑ کربلا سیدنا حضرت حسین ابن علی ؑ سے منسوب ہے۔ اس ماہ کے اوائل ایام سے یومِ عاشور کی شام ڈھلنے تک نبیِ آخر الزمان رحمت اللعالمین ﷺ کے پیارے نواسے امام ء عالی مقام مولا حسین ابن علی علیہ السلام نے دین ء حق کی سر بلندی کے لئیے اپنے صبر و استقامت اور شجاعت سے وہ مثال قائم کی ۔ کہ جو تاقیامت انسانیت کے لئیے ایک مشعل ء راہ بن گئی۔
امامِ عالی مقام حضرت حسینؑ ابن علیؑ کی ولادت باسعادت روایات کے مطابق 3 شعبان المعظم 4ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپؑ چمنِ زہراؑ و علیؑ کے دوسرے پھولؑ ہیں۔ آقا سرورِ کائنات ﷺ نے آپؑ کی ولادت باسعادت پہ تشریف لائے، خوشی کا اظہار فرمایا اور داھنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنیؐ زبان مبارک منہ میں دی۔اس طرح رسول اللہﷺ کا مقدس لعاب دھن حسین ؑ کی غذا بنا۔ رسول اللہﷺ بحکمِ ربی نام حسینؑ رکھا۔ اور ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔آپؑ کی کنیت ابا عبداللہ اور لقب سید الشہداءؑ ٹھہرا۔
حضور سرور ء کائناتﷺ دونوں شہزادوں حسنین کریمیں علیھم السلام سے بے حد محبت فرماتے اور ان سے محبت رکھنے کا حکم رکھنے کا حکم بھی فرماتے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا؛
’’جس نے حسنؑ اور حسینؑ سےمحبت کی ، اس نے مجھؐ سے محبت کی اور جس نے ان سے بعض رکھا اس نے مجھؐ سے بغض رکھا۔
(سُنن ابن ماجہ :143)ترجمہ؛ ”حسنؑ اور حسینؑ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“۔( جامع الترمزی)
حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسنین کریمین ؑ کی طرف دیکھ کر فرمایا:”اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔“
(ترمذی، الجامع الصحیح، 5: 661، ابواب المناقب، رقم: 3782)یہ حسنین کریمین علیھم السلام سے محبتِ آقاِ دو جہاں ﷺ ہے۔ کہ کہیں رسولِ خدا ﷺ سجدہ طویل فرماتے ہیں۔ کہیں اپنے کندھوں مبارک پہ سوار فرماتے ہیں۔ اور کہیں انؑ کے لیے خطبہ روک کے منبر سے تشریف لاتے ہیں۔اور آغوشِ نبوتﷺ میں لے لیتے ہیں۔
سید الشہداء ؑمولا امام حسین علیہ السلام سے رسول اللہﷺ کی محبت اس فرمان ء عالیشان سے ظاہر ہے۔ فرمایا؛
ترجمہ:”حسینؑ مجھؐ سے ہے اور میں ؐ حسینؑ سے ہوں، جو حسینؑ سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے، حسینؑ میری نسلوں میں سے ایک نسل ہے۔“(سنن الترمذی، ابواب المناقب، (5/ 658 و659) برقم (3775)، ط/ شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابی الحلبی مصر)روایات سے ثابت ہے کہ رسولِ خداﷺ نے سیدنا حضرت حسینؑ کی شہادت کی خبر آپؑ کے بچپن میں ہی سنا دی تھی۔ اور غم کا اظہار فرمایا۔ ایک روایت کے مطابق ہے ۔
عبداللہ بن نجی کے والد ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے، ان کے ذمے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے وضو کی خدمت تھی، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی کے قریب پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ابوعبداللہ! فرات کے کنارے پر رک جاؤ، میں نے پوچھا کہ خیریت ہے؟ فرمایا: میں ایک دن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہو رہی تھی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیؐ! کیا کسی نے آپؐ کو غصہ دلایا، خیر تو ہے کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں؟ فرمایا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرئیلؑ اٹھ کر گئے ہیں، وہؑ کہہ رہے تھے کہ حسینؑ کو فرات کے کنارے شہید کر دیا جائے گا، پھر انہوںؑ نے مجھؐ سے کہا کہ اگر آپؐ چاہیں تو میں آپؐ کو اس مٹی کی خوشبو سونگھا سکتا ہوں؟ میںؐ نے انہیںؑ اثبات میں جواب دیا، تو انہوںؑ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور مجھؐے دے دی، بس اس وقت سے اپنے آنسؤوں پر مجھےؐ قابو نہیں ہے۔
(مسند احمد: 648)امامِ عالی مقام حضرت حسینؑ ابن علی علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ پہ نظر ڈالیں۔تو آپؑ نے چھ سال چند ماہ کا عرصہ اپنے جد امجد رسول اللہﷺ کے زیر سایہ گزارا اور 29 سال و گیارہ ماہ اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین حضرت مولاعلیؑؑ اور دس سال کا عرصہ اپنے برادر بزرگوار حضرت امام حسن المجتبیؑ کے ساتھ گزارا۔ آپؑ اصحابِ کساء(ع) میں شامل ہیں۔ اور اپنے نانا جان رسول اللہﷺ کے ساتھ مباہلہ میں بھی حاضر تھے۔ جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جنگِ نہروان میں شرکت فرمائی اور حق کا ساتھ دیا۔
احادیث و روایات سے ثابت ہے ۔ کہ سید الشہداء سیدنا حسینؑ سیرت و صورت میں اپنے نانا جان سرور ء کائنات رسول خداﷺ سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔اور جو بھی آپؑ کو دیکھتا اسے رسول خداﷺ یاد آجاتے ۔
امامِ عالی سیدنا حسینؑ حَلِیمُ الطَّبْع تھے۔ غلاموں سے درگز فرماتے۔ اور ان کو آزاد فرماتے۔ آپؑ ایک نہایت شجاع، عادل، بلند کردار اور پرہیزگار شخصیت کے مالک تھے۔
سیدنا حضرت حسینؑ نے فرمایا؛
"کوئی ایسی بات زبان پر مت لاؤ۔ جو تمہاری قدر و قیمت کو کم کر دے۔”
(جلاء العیون جلد 2 صفحہ 205)امامِ شہداء سیدنا امام حسینؑ کی عظیم شخصیت کی مبارک خصوصیات میں سے ایک روشن خوبی ظلم کو قبول نہ کرنا تھی۔ اور یہی وجہ تھی کہ نواسہِ رسول اللہﷺ نے یزید(لعین) کے ظلم و ناانصافی کو تسلیم کرنے سے صاف انکار فرمایا اور علمِ حق بلند فرمایا۔ آپؑ نے راہِ خدا میں اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنا گھر بار لٹا کے دین حق کی آبیاری فرمائی۔
واقعہِ کربلا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا فلسفہ،ایک درس اور ایک عظیم مقصد کارفرما ہے۔ اور اس میں شخصیت و کردارِ سیدنا امام حسینؑ ایک مکمل درس گاہ نظر آتی ہے۔ واقعہِ کربلا کو سمجھنے کے لیے فلسفہِ حضرت حسینؑ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔مستند تاریخی روایات کے مطابق رجب 60ھ/ 680 ء میں یزید(لعین) نے اسلامی اقدار اور دین کے احکامات کے منافی ظلم، جبر و استبداد پر مبنی اپنی حکومت کا اعلان کیا اور بالجبر عام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔ مدینہ میں بیعت کے لئے سیدنا حسینؑ ابن علی ؑ کو مجبور کیا۔ اور اس سلسلہ میں امامِ عالی مقامؑ پہ سختی کرنے کا حکم جاری کیا۔ سیدنا حسینؑ سے بیعت لینا یزید کی مجبوری تھی۔ کیونکہ امت کی نگاہوں کا مرکز نواسہِ رسول اللہﷺ تھے۔ ظلم و بربریت کے خوف سے اہلِ مدینہ تو خاموش ہو سکتے تھے۔ مگر نواسہ ِ رسول اللہﷺ، ابنِ فاتؑحِ خیبر، سیدنا حسینؑ ابنِ علیؑ کہ جو حق گوئی و حق پرستی کے سائے میں جوان ہوئے ہوں ، جنؑ کی پرورش ہی آغوشِ نبوتﷺ میں ہوئی ہو۔ جنؑ کے سامنے اپنے نانا جان ﷺ کا واضح حکم موجود ہو،
ترجمہ:”سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہء حق کہنا ہے۔“ (ترمذی،أبو داود وابن ماجہٌ)
جن پر اُس وقت دین خدا کو بچانے کی ذمہ داری عائد ہو رہی ہو، جن پر اُمت کی نگائیں ٹھہری ہوئی ہوں۔خاموش رہ کر ایک بے دین شخص کی بیعت کیسے فرما سکتے تھے۔
سو سالار ِ شہداءؑ نے اپنے نانا جان رسول اللہﷺ کے حکم پہ عمل فرماتے ہوئے علمِ حق بلند فرمایا اور28 رجب 60ھ کو مدینہ سے مکہ اور پھر 8 ذوالحج 60ھ کو حالات کے تیور دیکھتے ہوئے حرمتِ کعبہ کو بچانے کی خاطر حج کو عمرے میں تبدیل کیا۔ اور مکہ سے کربلا کی طرف سفر فرمایا۔ کہ آپؑ احراموں میں تلواریں چھپائے یزید (لعین) کے بھیجے ہوئے قاتلوں اور ان کے ارادوں کو جان چکے تھے۔ خانوادہِ رسول اللہﷺ سمیت 72 نفوس اکرامؑ نے دینِ حق کی سر بلندی کے لئے قیام فرمایا۔
شہنشاہِ کربلا سیدنا حسینؑ نے حر بن یزید ریاحی اور اس کے لشکر کے سامنے اپنے خطبے میں فرمایا۔
"لوگ دنیا کے غلام ہیں ۔ اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے ۔ جب تک دین کے ساتھ ان کا مفاد وابستہ ہے۔ وہ اس کے گرد جمع رہتے ہیں۔ اور جب آزمائش کا وقت آتا ہے۔ تو دین دار تھوڑے رہ جاتے ہیں۔ ”
(تحف العقول جلد 1 صفحہ 245, تاریخ الطبری جلد 4 صفحہ 300، بحار الأنوار جلد 78 صفحہ 117)2 محرم سنہ 61 ھ کو آپؑ اپنے اہل بیتؑ کیساتھ کربلا معلی تشریف فرما ہوئے۔معلوم فرمایا کہ اس جگہ کا کیا نام ہے۔ کربلا معلوم ہونے پر سید الشہداءؑ نے اس جگہ کو خریدا اور یہیں قیام کا فیصلہ فرمایا۔
اللہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتے ہیں:
ترجمہ: ”اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔“(153)
واقعہِ کربلا میں یوم عاشور کی اذانِ شبیہ پیغمبرؑ علیؑ اکبر بن حسینؑ بتاتی ہے۔ کہ اہل بیتؑ اور قرآن ساتھ ساتھ تھے۔ چھ ماہ کے شیر خوار شہید شہزادہ علی اصغرؑ بن حسینؑ سے لے کر 85 سالہ ضعیف صحابیِ رسولؐ حضرت حبیب ابنِ مظاہر اسدیؓ تک،ہر ایک کی قربانی بے مثال و لازوال نظر آتی ہے۔ اگر اہلِ بیت اطہارؑ کی بیبیوں ؑ کا ذکر ہو۔ تو سیدہ زینبؑ بنت علیؑ سے لے معصوم بچی شہزادی سکینہ بنت حسینؑ تک ہر ایک صبر و ہمت کا پیکر تھیں۔کربلا دینِ حق کی سربلندی کے لئیے صبر و رضا اور ایثار و شجاعت کی ایک ایسی عظیم و لازوال داستان ہے۔ جہاں ہر کردار سخاوت و جرات میں ایک انمول مثال ہے۔ روایات کے مطابق واقعہِ کربلا میں سیدنا حسینؑ کے چار بھائی جناب حضرت عباسؓ بن علیؑ علمدار ِکربلا، حضرت جعفرؓ بن علیؑ، حضرت عبداللؓہ بن علیؑ اور حضرت عثمانؓ بن علیؑ جو کہ مولا علی المرتضی علیہ السلام اور بی بی جناب ام البنینؓ کے بیٹؓے تھے شہید ہوئے۔ شبیہ پیغمبر روایات کے مطابق مولا امام حسن علیہ السلام کے 4 شہزادےؑ اپنے چچا جان امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ کے ساتھ شریک ِجہاد تھے ۔ جن میں سے تین جناب سیدنا ابوبکرؑ بن حسنؑ، سیدنا قاسمؑ بن حسنؑ، سیدنا عبداللہؑ بن حسنؑ کربلا میں شہید ہوئے۔ اور ایک جناب سیدنا حسنؑ مثنی بن حسنؑ شیدید زخمی اور پھر قید ہوئے ۔
10 محرم 61ھ/ 680ء یوم عاشور،وہ خون ریز و قیامت خیز دن جو اہل بیت رسول اللہﷺ پہ گزر گیا۔ وہی اہل بیتؑ کہ جوؑ شاملِ درود ہیں۔ جن کے بارے میں رسول اللہﷺ نے امت کو خدا کا خوف دلایا تھا۔ انؑہی کو پیاسا شہید کر دیا گیا۔ خُونِ عترتِ رحمۃ للعالمینﷺ تپتے ریگزار میں بہایا گیا۔ جنؑ کو رسول اللہﷺ چومتے، سونگھتے اور سینہِ اقدس سے لگاتے تھے۔ انہیںؑ سردارِؑ جنت ، نواسہ رسول اللہﷺ ، جگر گوشہِ بتولؑ سیدنا حسین ابن علی ؑ کے گلے پہ خنجر چلایا گیا۔ رسول اللہﷺ کے کندھوں کے سوارؑ کے لاشے پہ گھوڑے دوڑائے گئے۔باپردہ بییبوں ؑ پہ شام غریباں طاری کر دی گئی۔ انؑ کے خیمے جلائے گئے۔ اسیر بنایا گیا۔ بازاروں سے گزارا گیا۔ دربار میں کھڑا گیا کیا گیا۔ قید و بند کی ایذائیں پہنچائی گئیں۔۔۔ امت کے رونے کے لئیے تو یہی کافی ہے۔ کہ نواسہ رسول اللہﷺ جن کے گھر سے پردے کی ابتدا ہوئی تھی۔ انہیؑ کو ایک شرابی کے دربار میں بحیثیت قیدی کھڑا ہونا پڑا۔
امت پہ رونا فرض ہے۔ کہ اس دن انؐ پیغمبر رحمت اللعالمینﷺکے گھرانے کو شہید کیا گیا۔ جنہوںؑ نے امت کو کلمہ پڑھنا اور امت بننا سیکھایا۔شہادتِ امامِ شہداءؑ پہ غم کرنا سنت رسول اللہﷺ ہے۔ جو واقعہ کربلا سے پہلے بھی ثابت ہے۔ اور بعد میں بھی۔ شہادتِ امامِ عالی مقام وہ غم ہے۔ کہ جس پہ کائنات کی ہر شے اور جن و انس نے اشک بہائے۔
طبرانی میں درج ہے۔ کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں۔ کہ میں نے حضرت حسین بن علی علیہ السلام پر جنوں کو نوحہ کرتے ہوئے سنا۔واقعہِ کربلا انسانی تاریخ کا وہ خونی باب ہے۔ کہ جس پہ تاقیامت نسلِ انسانی آنسو بہاتی رہے گی۔
حق و باطل کی جنگ شروع سے اور آخر تک رہے گی۔ مگر واقعہِ کربلا سے ہمیں حسینیت کا درس ملتا ہے۔ کہ "امر باالمعروف اور نہی المنکر” کے نفاذ کے لئیے ظالم کے لشکر کے سامنے 72 بھی نکلیں۔ تو کافی ثابت ہوتے ہیں۔
امام حسینؑ نے انسان میں حق کے لئیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کی سوچ کو بیدار فرمایا ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے۔ کہ امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ نے دامنِ رضائے خداوندی نہ چھوڑا اور نہ ہی ظالم و جابر کے ظلم و جبر کو تسلیم کیا۔ یہی وجہ ہے۔ کہ آج ہر باضمیر خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ سیدنا حسین ابنِ علیؑ کو اپنا رہنما مانتا ہے۔ حسنیت کل بھی ژندہ تھی۔ اور تاقیامت ژندہ رہے گی۔
لاکھوں کروڑوں سلام ہو حق پرستوں کے بادشاہ سیدنا حسینؑ ابن علیؑ اور آپؑ کے جانثار ساتھیوںؓ پہ۔؎
ہم کو حسینؑ ایسا بہادر بنا گئے
سر کٹ گئے یزید کی بیعت مگر نہ کی