آسمان مہربان ہے یا آسمان والا؟
بارہ مئی 2025 میری زندگی کا رنگین دن تھا۔ اس دن میں نے ہمت کے، محنت اور جرات کے سب ہی رنگ دیکھے۔ سورج ڈھل چکا تھا، اور چاند اپنی چاندی پھیلائے آسماں پر جگمگا رہا تھا۔ ساتھ دور سے دکھنے والے ننھے منے ستارے دنیا کو روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔
تازہ اور خوش گوار ہوا ہر سوگوار شخص کو ذہنی طور پر ہلکا پھلکا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسی وقت رات میں، مجھے پروگرام میں شرکت کرنے کا ‘دعوت نامہ’ ملا۔
وہ تقریب نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ وہاں انہیں ایوارڈز اور میڈلز سے نوازا جانا تھا۔
پہلے پہل، میرا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ کیوں کہ وہ میرا پہلا ‘ ادبی ایوارڈ ‘ ہوتا۔ مگر تقریب پنجاب کے شہر ‘ لاہور ‘ میں ہونی تھی۔
لاہور ؟
لاہور ؟
لاہور ؟
یہ اسمِ معرفہ میرے کانوں اور دل کو راس نہ آیا۔ اگلے دن چند آنسو بہہ کر میں نے میسج کیا۔
‘ Ma’am! Sorry I can’t come, due to some problem which is undescribable.”
Thank-you!
اس دن کے بعد، میں مسکرانا بھول گئی تھی۔ میری خوشیاں کیوں چھین لی جاتی ہیں ؟ کیوں اس دلِ ناشاد کو شاد نہیں رہنے دیا جاتا؟
میں محنت کرتی جاؤں، اور حاصل کچھ نہیں ؟
اللّٰہ تعالیٰ مجھ پر مہربان ہیں۔ ہاں مہربان ہیں!
یہ میں نہیں میرا دل کہتا ہے۔
ہر بار کی طرح اس دکھ کی گھڑی میں بھی قرآن تھاما۔ وہاں سے جو تسلیاں ملتی ہیں وہ حوصلہ بخش ہوتی ہیں، اور امید افزا ہوتی ہیں۔
‘دل کو بارِ دگر مسکرانے کا سندیس ملا.’
اگرچہ آپ کی زندگی میں مثبت اور تعمیری سوچ والے نفوس موجود ہیں۔ تو آپ خوش قسمت ہیں۔ ان لوگوں کی آپ سے جڑت ہی آپ کی خوش قسمتی کی ‘علت’ ہے۔
میں جب جب ہمت ہارنے لگوں، زرش میرے حوصلوں کو پست ہونے نہیں دیتیں۔ میں ایک ایورڈ کے ضائع ہو جانے پر آنسو بہا رہی تھی۔ زرش نے اپنے ضائع ہوئے ایواڈز کی تعداد گنوائی۔
ایک نہیں۔
دو نہیں۔
تین نہیں۔
چار، پانچ ایورڈ ضائع ہوئے۔
مگر ان کی ہمت اور پیشن آج بھی قائم ہے۔ وہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے لکھ رہی ہیں۔
ادبی دنیا میں جب کبھی مشکل گھڑی آئے، وہ مجھے سمجھاتی ہیں، دل جیت لینے والی دعائیں دیتی ہیں۔ ایسے لوگ سب کی قسمت میں کہاں ہوتے ہیں؟
‘ یہ تو ہم جیسے ہوتے ہیں جن کی قسمت میں آپ جیسے ہوتے ہیں۔’
یہ بات میں نے پہلے بھی لکھی تھی، ہمارے خاندان میں لڑکیوں کی پڑھائی پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ اور قلم کار ؟
دور دور تک کوئی نہیں۔
مجھے اس بات پر فخر ہوتا یے کہ میں پورے خاندان میں سب سے چھوٹی ہوں۔
میرے بعد کوئی نہیں یے !
الحمد اللّٰہ! اللّٰہ تعالیٰ نے زرخیز ذہن سے نوازا ہے۔ میں نے سب سے پہلے ‘ڈاکٹر’ بننے کا خواب بُنا تھا۔ جہاں سپورٹ نام کی کوئی چیز نہ ہو وہاں ڈاکٹر نہیں بنا جاتا۔ اس وقت میں چھوٹی تھی خود سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ خود کو سنبھالنا نہیں سیکھی تھی۔
پھر میں نے بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ بی اے کے دوران ایک اور خواب بُن لیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بننے کا، مجھے CSS کرنا یے۔
یہ خواب بھی تکمیل تک نہیں پہنچا، اس میدان میں قدم دھرنے سے پہلے ہی سمجھوتہ کرنا پڑا۔ کیوں کہ میں ‘ لڑکی ‘ ہوں۔
پھر آنسو صاف کر کے انگلش پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ مگر یہاں بھی سمجھوتہ آڑے آیا۔
روزانہ یونی ورسٹی جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کیوں کہ میں ‘لڑکی’ ہوں۔
اتنے خوابوں کے بکھر جانے کے بعد بھی زندہ ہوں۔ پس یہی میرا حوصلہ ہے۔
‘
‘ اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں ‘
ایک بار پھر خوب آنسو بہا کر دل کو ہلکا کیا۔ اور آخر کار اُردو ادب کی راہ لی۔ اس میدان میں قدم رکھنے سے پہلے ہی قلم تھام لیا تھا۔ شاید وہ سب میرا نہیں تھا۔
‘میرے حصّے اُردو ادب اور قلم آیا ‘
قلم تھامنے کے بعد مجھے ادبی محافل میں دعوت نامے ملنے لگے۔ ایک بار پھر سمجھوتہ زندگی میں لوٹ آیا۔ کبھی کسی محفل میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
کئی بار ٹوٹ کر بھی خود کو بکھرنے نہیں دیا۔
کیوں کہ:
ہزار برق گرے ــــــــــــ لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کر رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
Category: بلاگ
-

ادبی دنیا کا پہلا ایوارڈ.تحریر:کنزہ محمد رفیق
-

ترمیم شدہ پیکا ایکٹ، کیا پولیس کے اختیارات ختم ہو گئے؟
ترمیم شدہ پیکا ایکٹ، کیا پولیس کے اختیارات ختم ہو گئے؟
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
پاکستان میں سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ(پیکا2016 )ڈیجیٹل جرائم جیسے ہیکنگ، ڈیٹا کی چوری، سائبر اسٹاکنگ، آن لائن ہراسانی اور نفرت انگیز تقریر کی روک تھام کے لیے ایک قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔جیو فیکٹ چیک کے مطابق ابتدائی طور پر اس قانون نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کو سائبر کرائمز کی تفتیش کا مرکزی ادارہ نامزد کیا تھا جبکہ پولیس کا کردار محدود تھا۔ 2023 کی ترامیم نے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دی، لیکن تفتیش کے لیے مقدمات ایف آئی اے کو منتقل کیے جاتے تھے، 2025 کی ترامیم نے پولیس کے کردار کو مکمل طور پر ختم کر کے تمام اختیارات ایک نئے ادارے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)، کو منتقل کر دیے ہیںپنجاب پولیس نے دعوی کیا کہ جنوری 2025 میں پیکا ایکٹ کی ترامیم کے باوجود، انہیں سائبر کرائمز کے مقدمات درج کرنے اور ان کی تفتیش کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے قانون کی دفعہ 50A کا حوالہ دیا، جس کے مطابق جب تک NCCIA مکمل طور پر فعال نہیں ہو جاتی، ترمیم سے پہلے موجود تفتیشی ادارہ اپنے فرائض انجام دیتا رہے گا۔ اس دعوے کے تحت لاہور پولیس نے 22 اپریل 2025 کو فیس بک، ایکس اور واٹس ایپ پر "نفرت انگیز تقریر” اور ریاستی عہدیداروں کو بدنام کرنے کے الزامات میں 23 ایف آئی آرز درج کیں۔ تاہم ایک حالیہ جیو فیکٹ چیک رپورٹ اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔ ماہرین، ایک سرکاری اہلکاراور عدالتی حکم کے مطابق ترمیم شدہ قانون کے تحت پولیس کے پاس پیکا کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے ۔ 18مئی 2025 کونیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمود الحسن نے واضح کیا کہ پیکا کی دفعہ 30 کے تحت تمام اختیارات NCCIA کو منتقل کر دیے گئے ہیںاور پولیس سے یہ اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔
ایک ڈیجیٹل رائٹس ایکسپرٹ نے کہا کہ 2016 میں ایف آئی اے کو واحد تفتیشی ادارہ نامزد کیا گیا تھا اور 2023 کی ترامیم نے پولیس کو صرف ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن 2025 کی ترامیم نے پولیس کا کردار مکمل طور پر ختم کر دیا۔ ان کے مطابق پولیس کی جانب سے درج کی گئی کوئی بھی ایف آئی آر اب قانونی حیثیت نہیں رکھتی ۔ سپریم کورٹ کے وکیل صلاح الدین احمد نے کہا کہ دفعہ 50A صرف FIA کے تفتیشی اختیارات کو NCCIA کے قیام تک برقرار رکھتا ہے اور پولیس کا کوئی ذکر نہیں ہے، اس لیے ان کا اختیار خود بخود ختم ہو چکا ہے۔ وکیل اسد جمال نے بھی تصدیق کی کہ صرف NCCIA کو ترمیم شدہ پیکا کے تحت دائرہ اختیار حاصل ہے جبکہ پولیس اور FIA دونوں کو اس سے روک دیا گیا ہے۔
30 اپریل 2025 کو کراچی کے ضلع ملیر کے سول جج مظہر علی نے ایک مقدمے میں فیصلہ دیا کہ پولیس کو پیکا کے تحت تفتیش کا اختیار نہیں ہے۔ یہ مقدمہ ایک فیس بک صارف کے خلاف درج کیا گیا تھا، جس پر صدرِ پاکستان کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرنے کا الزام تھا۔ جج نے لکھا کہ پیکا کی دفعہ 29 کے تحت صرف NCCIA کو یہ اختیار حاصل ہے اور مقدمہ بعد میں خارج کر دیا گیا۔
12نومبر2024کی ایکسپریس اردو کے مطابق پیکا ایکٹ کے تحت پولیس کا کردار ہمیشہ سے محدود رہا ہے اور ماہرین نے اس پر تنقید کی کہ پولیس کے پاس سائبر کرائمز کی تفتیش کے لیے نہ تو مناسب تربیت تھی اور نہ ہی تکنیکی صلاحیت ۔21جنوری 2022کی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے اور پولیس کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے خواتین درخواست گزاروں کو آن لائن ہراسانی کے مقدمات میں انصاف نہیں مل سکا ۔ مزید برآں 3مئی 2024کی بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے پیکا ایکٹ کا غلط استعمال بھی رپورٹ ہوا، جیسے کہ سیاسی مخالفین کو ہدف بنانے کے لیے مقدمات درج کرنا شامل ہیں۔
15دسمبر2024کو ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق 4اپریل 2025 کو وفاقی حکومت نے NCCIA کی باضابطہ تشکیل کی اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی تعینات کیا۔ اس نئے ادارے کا مقصد سائبر کرائمز کی تفتیش کو زیادہ موثر اور پیشہ ورانہ بنانا ہے۔ NCCIA کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ اہلکاروں کے ساتھ لیس کیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل جرائم، جیسے کہ فشنگ، ڈیپ فیک، اور آن لائن فراڈ، سے نمٹا جا سکے۔ تاہم ڈان نیوز کی ایک اور رپورٹ جو 25جنوری2025کو شائع ہوئی کہ NCCIA کے قیام نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ڈیجیٹل رائٹس ایکٹیوسٹس کا خیال ہے کہ اس نئے ادارے کے ذریعے حکومت سوشل میڈیا پر کنٹرول بڑھانا چاہتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ پیکا ترمیمی بل 2025 ڈیجیٹل منظرنامے پر حکومتی گرفت کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔
2025 کی ترامیم کے بعد پیکا ایکٹ کے تحت پولیس کا کوئی قانونی کردار باقی نہیں رہا۔ تمام اختیارات NCCIA کو منتقل کر دیے گئے ہیں اور پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آرز قانونی جواز سے محروم ہیں۔ ماہرین اور عدالتی فیصلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پولیس کو اب نہ تو مقدمات درج کرنے اور نہ ہی تفتیش کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ تبدیلی عوام کے لیے الجھن کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ سائبر کرائمز کی شکایات کے لیے اب NCCIA سے رجوع کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس نئے ادارے کی صلاحیت کو مضبوط کرے اور عوام میں اس کے کردار کے بارے میں آگاہی پیدا کرے تاکہ سائبر کرائمز کے متاثرین کو فوری اور موثر انصاف مل سکے۔

-

منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر : راحین راجپوت
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں ، اور یہی خوبی انہیں باقی تمام انسانوں سے ممتاز کرتی ہیں ۔ ایک ایسی ہی شخصیت سعید خان المعروف اداکار رنگیلا کی بھی تھی جو اپنی لازوال اداکاری کے فن سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے اور آج رنگیلے کو ہم سے جدا ہوئے بیس سال گزر گئے لیکن وہ اپنی خودساختہ اداکادی کی وجہ سے رہتی دنیا تک ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
سعید خان المعروف اداکار رنگیلا دنیائے شوبز کا وہ نام ہے جس کا نام لیتے ہی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے ، جنہوں نے اپنے منفرد انداز سے انڈسٹری کو ایک نئی جہت اور ایک نئی پہچان دی ۔24 مئی 2025 ء کو رنگیلے کو دنیا سے رخصت ہوئے بیس سال مکمل ہو جائیں گے ، لیکن ہم چاہ کر بھی رنگیلے کی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لئے خدمات کو فراموش نہیں کر سکتے ، کیونکہ ان لوگوں نے اپنے آپ سے بے نیاز ہو کر نہ صرف پاکستان فلم انڈسٹری کا نام روشن کیا بلکہ انڈسٹری پر اپنے عہد کی ایک گہری چھاپ چھوڑی ۔ ان کے ذکر کے بغیر پاکستانی فلمی تاریخ ہمیشہ ادھوری رہے گی ۔ انہوں نے چالیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کیا اور اپنی منفرد مزاحیہ اداکاری سے شائقین فلم کو محظوظ کیا ۔
اداکار رنگیلا یکم جنوری 1937 ء کو ضلع ننگرہار ، افغانستان میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام محمد سعید خان تھا ، جبکہ انڈسٹری میں شہرت انہوں نے اپنے مزاحیہ نام رنگیلا سے حاصل کی ۔ذریعہ معاش کے سلسلے میں انہوں نے افغانستان سے ہجرت کرکے پشاور اور بعد میں لاہور کا رخ کیا ، جہاں شروع میں انہیں فلمی سائن بورڈ پینٹ کرنے پڑے ، لیکن بعد میں باضابطہ فلمی کیریئر کا آغاز 1958 ء میں فلم "جٹی” سے کیا ۔ اس فلم میں رنگیلا مزاحیہ اداکار کے طور پر سامنے آئے ۔ اس فلم کے ڈائریکٹر ایم جے رانا تھے اور جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو باکس آفس پر ہٹ ہو گئی ۔ اس فلم میں لوگوں نے رنگیلے کے کردار کو بہت پسند کیا ۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد اس نے فلموں میں بطور اداکار کام کرنے کی ٹھان لی ، یہی کامیابی بعد میں جنون کی کیفیت اختیار کر گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے رنگیلے نے اپنے آپ کو فلم انڈسٹری میں بطور فلم ساز ، ہدایت کار ، نغمہ نگار ، کہانی نویس اور موسیقار کی حیثیت سے متعارف کروایا ۔
1969 ء میں رنگیلا نے اپنی پروڈکشن میں پہلی فلم ” دیا اور طوفان ” بنائی جس میں انہوں نے بحیثیت فلم ساز ، ہدایت کار ، نغمہ نگار اور مصنف کام کیا ۔ جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو اس نے رنگیلے کی شہرت و مقبولیت کو چار چاند لگا دئیے ۔ اس فلم میں رنگیلے نے اپنا لکھا ہوا گانا ” گا میرے منوا گاتا جا رے ، جانا ہے ہم کا دور ” بہت دردناک آواز میں گایا ۔ یہ گانا اسی فلم کے ہیرو اداکار اعجاز پر فلمایا گیا ۔اس کے بعد ” رنگیلا پروڈکشن "کے بینر تلے ایک سے بڑھ کر ایک فلمیں پروڈیوس کی گئیں جن میں ایک فلم "رنگیلا ” 11 ستمبر 1970 ء کو پاکستانی سینما کی زینت بنی جس میں رنگیلے نے ٹائٹل رول ادا کیا ، اس فلم کے نغمات اسٹریٹ ہٹ ثابت ہوئے ، اس فلم میں رنگیلے کے گائے ہوئے دو نغمے بھی شامل کئے گئے جو بہت مشہور ہوئے ، جن میں ایک نغمہ ” ہم نے جو دیکھے خواب سہانے ، آج ان کی تعبیر ملی ۔ ” اور دوسرا ” منور ظریف کے ساتھ ” چھیڑ کوئی سرگم ” یہ دونوں نغمے موسیقار کمال احمد نے لکھے ، اور اس فلم کی موسیقی بھی خود کمال احمد نے ترتیب دی ، اسی فلم کا ایک گانا تصور خانم کی آواز میں اداکارہ نشو بیگم پر پکچرائز کیا گیا ، ” وے سب توں سوہنیاں” نے اس فلم کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا ۔ الغرض یہ فلم منفرد انداز میں گولڈن جوبلی سے ہم کنار ہوئی ۔
یکم اکتوبر 1971 ء میں ان کی ایک اور ہیٹ ٹرک فلم ” دل اور دنیا منظر عام پر آئی ۔ اس فلم نے بھی کراچی سرکٹ میں شاندار پلاٹینم جوبلی منائی ۔ اس کے علاوہ ان کی سپر ہٹ فلم ” انسان اور گدھا ” جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کی دیگر فلموں میں میری زندگی ہے نغمہ ، نوکر مالک ، سونا چاندی ، مس کولمبو ، باغی قیدی ، تین یکے تین چھکے ، آنسو بن گئے موتی ، جیسے جانتے نہیں ، امانت ، دو رنگیلے ، کبڑا عاشق ، عشق نچاوے گلی گلی ، ہمراز ، ہیرو ، انٹرنیشنل گوریلا ، عورت راج ، دو تصویریں ، دوستی ، گہرا داغ ، بازار حسن ، میڈم باوری ، رنگیلے جاسوس اور عبداللہ دی گریٹ ، میری محبت تیرے حوالے ، صبح کا تارا ، گنوار ، جہیز ، نمک حلال ، دو رنگیلے ، ایمان دار ، بے ایمان ، کاکا جی ، راجا رانی ، امراؤ جان ادا ، پردہ نہ اٹھاؤ ، صاحب بہادر اور فلم قلی شامل ہیں ۔ رنگیلے کو بہترین سکرین پلے رائٹر ، کامیڈین ، مصنف اور بہترین ڈائریکٹر کی حیثیت سے نو مرتبہ نگار ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
رنگیلا پروڈکشن کے بینر تلے جتنی فلمیں بھی تخلیق کی گئیں وہ سب کی سب ہی لازوال اور اپنے عہد کی شاہکار فلمیں ثابت ہوئیں ۔ پردہ سکرین پر رنگیلے کی آمد فلم بینوں میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھی ۔ رنگیلے نے فلموں میں کامیڈین سے لے کر ہیرو تک کا سفر انتھک محنت اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر طے کیا ، یہاں تک کہ رنگیلے کو پاکستانی فلم انڈسٹری کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا ۔ رنگیلے کے پاس ہر ڈائریکٹر ، پروڈیوسر کی لائن لگی ہوتی کہ وہ ہماری فلم میں کام کرے ۔ رنگیلے نے اپنی محنت اور ذہانت سے فلم انڈسٹری میں اپنا الگ مقام بنایا ۔ انہوں نے اپنے عہد کی تقریباً تمام ہیروئن کے ساتھ کام کیا ۔
اداکار رنگیلے کی آواز بھارتی گلوکار مکیش سے ملتی تھی ۔ جب مکیش کا انتقال ہوا تو بھارت نے رنگیلے کو بطور گلوکار کام کرنے کی پیشکش کی ، لیکن مصروفیت کے باعث اس نے بھارت میں کام کرنے سے انکار کردیا ۔
رنگیلے نے تین شادیاں کیں ۔ چالیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے اس عظیم اداکار کو زندگی کے آخری ایام میں گردوں ، جگر اور پھیپھڑوں کے مسائل نے آ گھیرا ، جس کے علاج کے لئے اسے کئی کئی مہینے ہسپتال میں گزارنے پڑے ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں امداد کی پیشکش ہوئی تو اس نے اسے ٹھکرا دیا ۔ وفات سے پہلے اداکارہ نشو بیگم نے اپنے اور رنگیلے پر فلمایا گیا گانا ” وے سب توں سوہنیاں ” رنگیلے کے پاس بیٹھ کر اتنی دردناک آواز میں گایا کہ پاس بیٹھے سب لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے ۔ سب لوگ رنگیلے کی زندگی اور صحت کے لئے دعائیں مانگنے لگے لیکن افق کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ ان موذی امراض کا مقابلہ کرتے کرتے بالآخر 24 مئی 2005 ء کو لاہور میں 68 سال کی عمر میں اس ابدی سفر پر روانہ ہو گیا جہاں سے آج تک کوئی واپس نہیں آیا ۔ ان للہ وان الیہ راجعون ۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم اداکار رنگیلا کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ۔ -

ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم
کرونا وبا کے بعد پوری دنیا کے کام کرنے میں تبدیلی آئی ہے ۔ جس کی سب سے بڑی مثال ورک فرام ہوم یعنی گھر سے کام ہے ۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ کی بدولت ممکن ہوا۔ ورک فرام ہوم کئی لحاظ سے مفید ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی موجود ہیں ،پہلے ہم ا س کے فوائد پر نظر ڈالتے ہیں
روزانہ دفتر آنے جانے میں کئی گھنٹے ضائع ہوتے ہیں، جو گھر سے کام کرنے کی صورت میں بچ جاتے ہیں۔
ایندھن، پبلک ٹرانسپورٹ، دفتر کے کھانے اور لباس کے اخراجات میں واضح کمی آتی ہے۔یہ بچت سالانہ ہزاروں روپے تک ہو سکتی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔افراد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکتے ہیں۔بچوں کی دیکھ بھال، گھریلو کام یا والدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ کام کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔یہ سب ذہنی سکون میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، جو کام کی کارکردگی پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔بغیر رکاوٹ کام کرنے سے بعض افراد کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔دفتر کے غیر ضروری شور، غیر متعلقہ ملاقاتوں یا داخلی سیاست سے بچاؤ ملتا ہے۔کئی اداروں کی رپورٹس کے مطابق گھر سے کام کرنے والے ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔ملازمین دنیا کے کسی بھی مقام سے کام کر سکتے ہیں۔ادارے بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد تک پہنچ سکتے ہیں، خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔افراد اپنے آبائی علاقوں یا چھوٹے شہروں میں رہتے ہوئے بھی بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔کم سفر کی وجہ سے کاربن کے اخراج میں کمی آتی ہے۔دفاتر میں توانائی کی بچت ہوتی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے فائدہ مند ہے۔یہ ایک "گرین ورک کلچر” کی طرف مثبت قدم ہے۔
ورک فرام ہوم کے چیلنجز
1. پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی کمی:ہر فرد کے لیے خود کو منظم رکھنا آسان نہیں ہوتا۔گھر کے ماحول میں کام اور آرام کے درمیان فرق ختم ہو سکتا ہے، جس سے توجہ متاثر ہوتی ہے۔غیر منظم معمولات، دیر سے سونا یا بروقت کام نہ کرنا عام مسائل بن جاتے ہیں۔
2. تنہائی اور ذہنی دباؤ:
دفتر کا سماجی ماحول نہ ہونے کے باعث انسان خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔ٹیم ورک، ساتھیوں سے مشورے، اور غیر رسمی گفتگو جیسے عوامل کی کمی ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔
3. رابطے اور تعاون میں کمی:
ورچوئل میٹنگز ذاتی تعامل کا متبادل نہیں بن سکتیں۔غلط فہمیاں اور موثر رابطے کی کمی ٹیم کے کام کو متاثر کرتی ہے۔کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو آمنے سامنے زیادہ مؤثر انداز میں مکمل ہوتے ہیں۔
4. ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار:
مستحکم انٹرنیٹ اور جدید آلات کی عدم دستیابی کام میں خلل ڈال سکتی ہے۔
سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔
ٹیکنالوجی سے ناآشنا افراد کے لیے یہ نظام ایک چیلنج بن سکتا ہے۔5. کارکردگی کی نگرانی کا مسئلہ:
گھر سے کام کرتے ہوئے آجر کے لیے ملازم کی کارکردگی اور وقت کی نگرانی مشکل ہو جاتی ہے۔اس سے مائیکرو مینجمنٹ اور اعتماد کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو ملازمین کے حوصلے کو متاثر کرتے ہیں۔6. کام کی زیادتی اور وقت کی حد بندی کا فقدان:
گھر اور دفتر کی حدود واضح نہ ہونے کے باعث "آف ڈیوٹی” وقت بھی کام میں لگ سکتا ہے۔یہ بات ذہنی تھکن (Burnout) اور جسمانی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ -

تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ، دن تےگن میں مرجانا ای ،اور وہ چلا گیا ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری
تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ ، ہجر دا شاعر آپ ہجر ہو گیا۔۔ساہواں وچ وسدا تجمل کلیم زمین دے سپرد ہوگیا۔۔۔۔
برصغیر پاک و ہند کے معروف پنجابی شاعر ، پنجابی شاعری کی کتابوں کے مصنف، استادوں کے استاد عظیم شاعر "تجمل کلیم صاحب ” اس دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں۔ ( انا للہ وانا الیہ راجعون ) ان کا تعلق بابا بلھے شاہ کے شہر قصور سے اوران کی رہائش چونیاں میں ہے،،
پنجاب کی زرخیز دھرتی ایک اور خوش نوا شاعر سے محروم ہوگئی۔ ثجمل کلیم آج خاموشی سے، مگر گہرے اثرات چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات نہ صرف پنجابی ادب کے لیے سانحہ ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی صدمہ ہے جنہوں نے زندگی کو ان کے اشعار میں جیتا، محبت کو ان کے لفظوں میں محسوس کیا اور درد کو ان کے اشعار سے جانا۔
دن تے گن میں مر جانا ای
تیرے بن میں مر جانا ای
میں گُڈی دے کاغذ ورگا
توں کن من میں مر جانا ای
جیہڑے دن توں کنڈ کرنی اے
اوسے دن میں مر جانا ای
۰میرے قد نوں تول ریہا ایں
تول نہ، من میں مر جانا ای
ثجمل کلیم ان شعرا میں شامل تھے جو لفظوں کو صرف جوڑتے نہیں تھے، ان میں روح پھونکتے تھے۔ ان کا کلام ایک ایسے مسافر کا کلام تھا جو زندگی کے ہر موڑ پر لمحوں کو لفظوں میں قید کرتا چلا گیا۔ وہ نہ صرف محبت کے شاعر تھے، بلکہ دکھ، جدائی، سماجی ناہمواری اور فطری حسن کو بھی انہی جذبوں سے بیان کرتے تھے۔
ان کے چند اور اشعار دل کی گہرائیوں کو چھو لیتے ہیں:
ساہ وی تیری یاد وچ لبدا اے،
سُکھ وی تیرے ہجر دا درد لگدا اے۔
ساہواں نوں وی لگدا اے تیری خوشبو دا رنگ،
ایہہ کیہڑی جا چپ وچوں بولیا تُوں؟
ثجمل کلیم کی شاعری کا سب سے بڑا کمال ان کی سادگی تھی۔ وہ غیر ضروری لفظوں کے شور سے بچتے اور سیدھے دل پر وار کرتے تھے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں خالص دیہی لہجہ، مادری زبان کی مٹھاس، اور پنجاب کی ثقافت کی خوشبو صاف محسوس ہوتی تھی۔
مرن توں ڈردے او بادشاہو
مرن توں ڈردے او بادشاہو
کمال کردے او بادشاہو
کسے نوں مارن دا سوچدے او
کسے تے مردے او بادشاہو
تُسی نا پاؤ دِلاں تے لَوٹی
تُسی تے سَر دے ہو بادشاہو
اے میں کھڈاری کمال دا ہاں
کہ آپ ہَر دے او بادشاہو
وہ ان معدودے چند شعرا میں سے تھے جو پنجابی زبان کو عزت دلواتے رہے، اسے جدید پیرائے میں ڈھالتے رہے اور نئی نسل کو اس زبان کی خوبصورتی سے روشناس کراتے رہے۔
مکھ ٹیرے تے میں نئیں مرنا
ہن تیرے تے میں نئیں مرنا
آپ تے صدقے ہو سکناں میں
اوہ گھیرے تے میں نئیں مرنا
اکو واری کُھو لے بیبا
ہر پھیرے تے میں نئیں مرنا
اے سجناں د ڈیرہ نئیں تے
اس ڈیرے تے میں نئیں مرنا
لعنت اینج دیاں اکھاں اتے
جے میرے تے میں نئین مرنا
ثجمل کلیم کی وفات پر دل سے نکلا ایک سوال ہر عاشقِ ادب کی آنکھ میں نمی بن کر ٹھہرا ہے:
“ہن کون لکھے گا اس درد نوں جیہڑا صرف کلیم سمجھدا سی؟”
پتھر اُتے لیک ساں میں وی
ایتھوں تک تے ٹھیک ساں میں وی
آدم تک تے سبھ نوں دسنا
خورے کتھوں تیک ساں میں وی
حرمل جس دم تیر چلایا
چیکاں وچ اک چیک ساں میں وی
اوہنے گل سوئی ول موڑی
نکیوں ڈھیر بریک ساں میں وی
عمرے! مینوں رول رہی ایں
تینوں نال دھریک ساں میں وی
ادبی محفلوں میں ثجمل کلیم کا آنا جیسے بہار کی آمد ہوا کرتا تھا۔ وہ جب کلام سناتے تو محفل سانس روک لیتی، سامعین دم بخود رہ جاتے، اور پھر واہ واہ کے شور میں ان کے اشعار فضا میں پرواز کرتے۔ وہ شاعر نہیں، ایک تجربہ تھے۔ ان کا انداز، لب و لہجہ، اور الفاظ کا چناؤ انہیں الگ اور منفرد بناتا تھا۔
ان کی ایک نظم جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی:
میری مٹی دی خوشبو وچ تُوں وسدا ایں،
ساہواں وچ گھل گھل کے تُوں رسدا ایں،
تیرے ہون دی خوشبو اے کسے ویلے،
مینوں ہر پل، ہر وار تے لبدا ایں۔
یہ اشعار صرف نظم نہیں، وہ جذبات ہیں جنہیں کلیم نے اپنے قلم سے زندگی دی۔ ان کا درد، ان کی چاہت، ان کی یادیں، اب صرف کتابوں کے صفحوں پر نہیں، ہمارے دلوں میں محفوظ ہو چکی ہیں۔
صلہ پیار دا ویریا قہر تے نئیں
تینوں دل ای دتا اے زہر تے نئیں
ہر بندے دے ہتھ اے اٹ روڑا
ایہہ شہر وی تیراای شہر تے نئیں
ساہواں نال ای جاوے گا غم تیرا
کنج سُکے گی اکھ اے نہر تے نئیں
یار ہس کے لنگھےنے غیر وانگوں
میرے لیکھ دا پچھلا پہر تے نئیں
ہتھیں سینکھیا دتا ای نفرتاں دا
ہن کدی جے کہویں وی ٹھہر، تے نئیں
ثجمل کلیم کی وفات کا دکھ صرف ذاتی نہیں، یہ ایک اجتماعی صدمہ ہے۔ وہ شاعری کے اس قبیلے کے آخری نمائندوں میں سے تھے جو لفظوں کو عبادت سمجھتے تھے، شاعری کو مشن جانتے تھے اور معاشرے کے ہر درد کو اپنی ذات میں سمو کر صفحۂ قرطاس پر اتار دیتے تھے۔
دُنیا بند پٹاری وانگر
کھولے کون مداری وانگر
ساہ جُثے دا سچا رشتہ
کھوٹا ساڈی یاری وانگر
دُکھاں ڈاہڈا چسکا دتا
قسمے چیز کراری وانگر
اکھ راتاں نوں کُھلی رہندی
اُس بازار دی باری وانگر
اک ہیرے نوں کہندا رہناں
کٹ کلیجا آری وانگر
ہم ان کے جانے پر افسوس تو کرتے ہیں، لیکن فخر بھی ہے کہ ہم ان کے دور میں جیے، ان کا کلام سنا، اور ان سے محبت کی۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، کیونکہ شاعر مرتے نہیں، وہ صرف لمحہ بھر کو خاموش ہوتے ہیں۔ ان کی آواز، ان کے لفظ، ان کا جذبہ ہمیشہ ہم سے بات کرتا رہے گا۔
ان کے آخری مجموعۂ کلام کا ایک اقتباس گویا ان کی زندگی کا نچوڑ ہے:
ساہ وچ رہیا، خواب وچ وسیا،
ساہ وچ وس کے ہونڑ جدائیاں دے رستے تے تُوں چلیا۔
یہی ثجمل کلیم کا فکری قد تھا۔ وہ محبت کو ہمیشہ کے لیے لفظوں میں قید کر گئے۔ ان کی شاعری آئندہ نسلوں کے لیے چراغ راہ رہے گی۔
دل دا شیشہ صاف تے نئیں نا
توں فِر کیتا معاف تے نئیں نا
توں کیوں ہجر سزاواں دیویں
تیرے ہتھ انصاف تے نئیں نا
پریاں ہر اک تھاں ہندیاں نیں
ٹوبے وچ کوہ قاف تے نئیں نا
میرے لیڑے رت بھرے نیں
تیرے ہتھ وی صاف تے نئیں نا
کٹھیاں جین دی عادت پا کے
وکھ ہونا انصاف تے نئیں نا
آج وہ ہم میں نہیں، مگر ان کے اشعار زندہ ہیں، ان کی خوشبو باقی ہے، ان کی یادیں امر ہو چکی ہیں۔
کیہڑا ہتھ نہیں جردا میں
کیہڑی ساہ نہیں مردا میں
ہسن والی گلّ تے وی
ہسّ نہیں سکیا ڈردا میں
قسمت لُٹن آئی سی
کردا تے کیہ کردا میں
سارے بھانڈے خالی نیں
ہوکا وی نہیں بھردا میں
خود مریا واں تیرے تے
تیتھوں نہیں ساں مردا میں
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بڑے زرخیز دماغوں نے کسمپرسی کی حالت میں سرکاری ہسپتالوں کے بیڈ پر ہی دم توڑا ہے ۔ تجمل کلیم مرحوم کے لیے دعا مغفرت کیجیے گا۔ہماری دعا ہے ربِ کریم انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے لفظوں کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین -

مودی، جنوبی ایشیا کا نیتن یاہو: خطے میں جنگ، پراکسی حملے اور آبی دہشتگردی
مودی، جنوبی ایشیا کا نیتن یاہو: خطے میں جنگ، پراکسی حملے اور آبی دہشتگردی
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
جنوبی ایشیا ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہےاور اس بار قیادت ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو اپنی سیاست، پروپیگنڈا اور عسکری عزائم کے امتزاج سے نیتن یاہو کی پرچھائی بن چکا ہے۔ نریندر مودی صرف بھارت کا وزیراعظم نہیں بلکہ اب ایک ایسے حکمران کی صورت میں سامنے آ چکے ہیں جو اسرائیلی طرز کی ریاستی دہشتگردی، فالس فلیگ آپریشنز اور پراکسی جنگ کو اپنی پالیسی کا مرکزی ہتھیار بنا چکا ہے۔ راجستھان میں کھڑے ہوکرخطے کو تباہ کرنے کی دھکیاں،بلوچستان میں دہشت گردی اور اقوام متحدہ کے فورمز سے لے کر سندھ طاس معاہدے کی معطلی تک، مودی حکومت کی ہر چال جنوبی ایشیا میں ایک طویل، خطرناک اور غیر متوقع کشیدگی کو جنم دے رہی ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ دنیا اس بھارتی جارحیت کو محض انتخابی نعرہ سمجھنے کے بجائے ایک حقیقی خطرہ تصور کرے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو نگلنے کے درپے ہے۔مودی کی حالیہ دھمکیاں، بلوچستان میں معصوم بچوں پر دہشت گرد حملے اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی اس جارحانہ پالیسی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے بھارت نہ صرف پاکستان کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے بلکہ خطے میں مسلسل کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ فالس فلیگ آپریشنز اور ریاستی سطح پر دہشتگردی کی پشت پناہی سے بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ ان اقدامات کا سنجیدگی سےسخت نوٹس لے اور جنوبی ایشیا کو ایک ممکنہ تباہ کن تصادم سے بچانے میں کردار ادا کرے۔
راجستھان جلسے میں مودی کی تقریر اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ انتخابی فوائد حاصل کرنے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دے رہاہے۔ "پہلگام حملے کا بدلہ 22 منٹ میں لینے” جیسے دعوے، پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں کی دھمکیاں، اور "سندور جب بارود میں بدلتا ہے” جیسے الفاظ اُن کی جنگی نفسیات اور پاکستان دشمنی کے واضح مظاہر ہیں۔ بھارت کی کوشش ہے کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کر کے اسے سفارتی تنہائی کا شکار بنایا جائے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
بلوچستان کےضلع خضدار میں سکول بس پر ہونے والا حملہ، جس میں تین طالبات سمیت پانچ افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے، بھارتی پراکسی نیٹ ورک کی گھناونی سازش کا نتیجہ تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملہ بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہوں کے ذریعے کروایا گیا، جنہیں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی سرپرستی حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وفاقی وزراء نے کھل کر اجیت دوول کے کردار کی نشاندہی کی، جو بھارت کی جارحانہ خفیہ پالیسیوں کا معمار مانا جاتا ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کے اعترافات بھارت کے پراکسی نیٹ ورکس کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔
اسی تسلسل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور رنبیر نہر کی توسیع جیسے اقدامات کو دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے خلاف واٹر وار کی باقاعدہ ابتدا ہے۔ "خون اور پانی اکٹھے نہیں بہہ سکتے” جیسے بیانات مودی کے اس جنگی بیانیے کی توسیع ہیں جس کے تحت بھارت پاکستان کے معاشی استحکام پر ضرب لگانا چاہتا ہے۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے خطے میں بھوک، قحط اور غربت کو فروغ ملنے کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔
پاکستانی قیادت نے ان جارحانہ اقدامات کا بروقت جواب دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مظفرآباد میں اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان نے نہ صرف بھارتی دھمکیوں کو مسترد کیا بلکہ 1971 کی شکست کے زخموں کا ازالہ کر دیا۔ پاک فضائیہ نے بھارتی طیارے مار گرائے اور الفتح میزائلوں کے ذریعے بھرپور دفاعی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے خضدار حملے کو مودی کی پراکسی جنگ کا حصہ قرار دیا اور گجرات سے لے کر بلوچستان تک پھیلے بھارتی دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔ چین، امریکہ اور دیگر ممالک نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
یہ سب حقائق تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان اب اپنی سفارتی مہم کو مزید فعال کرے اور اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر بھارت کے جنگی جنون، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پراکسی حملوں کا ناقابلِ تردید ثبوتوں کے ساتھ پردہ فاش کرے۔ نریندر مودی جس راستے پر چل رہاہے، وہ راستہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تباہ کن پالیسیوں سے مختلف نہیں۔ ریاستی دہشتگردی، مذہبی شدت پسندی اور جارحیت کا امتزاج پورے جنوبی ایشیا کو ایک ایٹمی تصادم کی طرف دھکیل رہا ہے۔
ایسے میں پاکستان کی ریاست، افواج، انٹیلی جنس ادارے اور عوام کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہو گا۔ دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے، بین الاقوامی سطح پر مؤثر مؤقف اپنانے اور داخلی استحکام کو برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ اپنے نظریاتی، جغرافیائی اور آبی سرحدوں کے دفاع کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا ہے۔ مودی سرکار کی بڑھتی ہوئی جارحیت نے واضح کر دیا ہے کہ اب پاکستان کو صرف زبانی مذمت سے آگے بڑھنا ہو گا۔
مودی کی فاشسٹ پالیسیوں، پراکسی حملوں اور آبی دہشتگردی نے بھارت کو ایک ذمہ دار جمہوریت کے بجائے عسکریت پسند ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔ کلبھوشن یادیو کا اعتراف،جعفر ایکسپریس ، خضدار میں معصوم طالبات پر حملے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی جڑیں کہاں پیوست ہیں۔ مودی کا طرزِ حکمرانی اب نیتن یاہو سے مشابہ ہو چکا ہے ، جہاں امن کی کوئی گنجائش نہیں، صرف طاقت کی زبان بولی جاتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو نہ صرف اپنی داخلی صفوں کو مضبوط کرنا ہو گا بلکہ عالمی برادری کے سامنے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ یہ مقدمہ پیش کرنا ہو گا کہ خطے میں اصل خطرہ کہاں سے جنم لے رہا ہے۔ یہ وقت اتحاد، تدبر اور ہم آہنگی کا ہے کیونکہ وطن کی حفاظت اب محض اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

-

پاکستان کے خلاف افغانستان استعمال کرنے کی مودی سرکار کی ناکام کوشش
پاکستان کے خلاف افغانستان استعمال کرنے کی مودی سرکار کی ناکام کوشش
تحریر: نصیب شاہ شینواری
افغانستان کے حزبِ اسلامی کے رہنما انجینئر گلبدین حکمتیار کے ایک بیان کو "افغانستان انٹرنیشنل پشتو” کے ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق حکمتیار کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اپنے پڑوس میں ایک خودمختار اور طاقتور بنگلہ دیش، سری لنکا اور پاکستان برداشت نہیں کر سکتا، تو وہ ایک خودمختار اور طاقتور افغانستان کو کیسے برداشت کرے گا، جس نے دہلی پر کئی صدیوں تک حکومت کی ہے؟حکمتیار کے اس بیان میں افغان حکومت کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے پاکستان یا دیگر پڑوسی ممالک کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کی کھل کر مخالفت کرے۔اگر افغانستان کھل کر بھارتی جارحیت کی مذمت کرتا ہے تو اس سے وہ پڑوسی ممالک کے دل جیت سکتا ہے اور بھارت کو سفارتی سطح پر شکست دے سکتا ہے۔
مضبوط اور خودمختار افغانستان کے لیے ضروری ہے کہ افغان سیاسی رہنما آپس میں متحد ہوں، ایسا نہ ہو کہ 70 کی دہائی کی طرح افغانستان میں سیاسی رہنماؤں کے درمیان ذاتی تعصب اتنا پروان چڑھے کہ وہ اپنے ذاتی سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو قتل کریں، بالکل اسی طرح جیسے افغانستان میں ہوا تھا، جس کا فائدہ پھر روس نے اٹھایا اور دس سال تک افغانستان میں خون کی ہولی کھیلی گئی، لاکھوں بے گناہ افغان شہریوں کو شہید کیا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں افغان شہریوں نے پاکستان ہجرت کی۔
روس انقلاب میں، پڑوسی ایران کے برعکس، پاکستان میں افغان مہاجرین کو مکمل آزادی حاصل تھی اور افغان مہاجرین نے پاکستان آتے ہی پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں اپنا کاروبار اور ان کے بچوں نے تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔
ایسی صورت حال میں، جب مودی سرکار نے 22 اپریل کو پہلگام کا جعلی ڈرامہ رچایا اور عالمی سطح پر پاکستان کو اس دہشت گردی کے واقعے میں ملوث کرنے کی کوشش کی، لیکن مودی سرکار کے اس جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستان بدنام نہ ہو سکا۔ اگرچہ حال ہی میں افغان حکومت نے پہلگام واقعے کی مذمت کی، لیکن پاکستان پر بلا اشتعال بھارت کی جارحیت کی افغان حکومت نے مذمت تک نہ کی اور ایسا متنازعہ بیان جاری کیا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے خوشگوار تعلقات ایک دفعہ پھر خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
اس صورت حال میں، جس افغان حکومت نے پہلگام واقعے کی مذمت کی، بالکل اسی طرح افغان حکومت کو چاہیے تھا کہ پاکستان پر انڈیا کے بلا اشتعال حملے کی بھی بھرپور مذمت کرتی اور بھارت کو اس جارحیت سے روکتی۔ اس لیے کہ جب افغانستان کا پڑوسی ایٹمی ملک پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہوں اور وہ دیگر سازشی ممالک کے اشاروں پر نہ چلے، تب جا کر پاکستان جیسے نیوکلیئر طاقت رکھنے والے ملک دوسرے سازشی عناصر کو شکست فاش دے سکتے ہیں۔
پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی اور حالیہ جنگی محاذ پر بھی بھارت کو شکست دی ہے، لیکن بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور 7 مئی سے 12 مئی تک جنگ کے دوران بھارت شکست کھانے کے باوجود، مودی سرکار کے نمائندے ایسے بیانات جاری کرتے ہیں جن سے سازش اور جنگ کی بو آتی ہے۔
ایسی صورت حال میں، اگر بھارت کو فضائی یا زمینی فوجی قوت میں برتری حاصل ہے تو پاکستانی بری، فضائیہ اور بحریہ کی فوج کی مثال بھی نہیں ہے۔ نیوکلیئر طاقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی افواج اور قوم میں ایمان و جہاد کا جذبہ ہے اور تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ مسلمانوں نے کم تعداد اور وسائل کے باوجود، زیادہ تعداد اور وسائل رکھنے والے مخالفین کو شکست دی ہے۔
پاکستان بطور مضبوط نیوکلیئر پاور کا عملی مظاہرہ دنیا نے 10 مئی کی فجر کی نماز کے بعد دیکھا جب پاکستانی فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی حدود میں گھس کر دشمن کو دندان شکن شکست دی۔ پاکستانی شاہینوں نے 6 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے جن میں تین فرانس ساختہ رافیل طیارے بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے شاہینوں کی طرف سے بھارت کے طیارے گرانے کی تصدیق بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی کی اور اب تو پاکستانی فضائیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم نے دشمن کے 7 طیارے مار گرائے ہیں اور اس شکست کی وجہ سے مودی سرکار نے ایک بھوکے کتے کی طرح بھونکنا شروع کیا ہے۔
جنگ کے دنوں میں پاکستان کے آہنی وار نے انڈیا کی خاتون فوجی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ان دنوں اس خاتون فوجی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ انڈیا کبھی بھی پاکستان کے ساتھ جنگ اور جارحیت نہیں چاہتا، جس سے ثابت ہوا کہ پاکستانی شاہینوں نے مودی سرکار کو سیزفائر کے لیے آمادہ کیا۔
بھارت کی بین الاقوامی منافقت اور سازش کو دیکھیں کہ جب سے پاک-انڈیا کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے، تو بھارت پاکستان کے مسلمان ہمسایہ افغانستان کے ساتھ نزدیکی بڑھانے کی کوشش کرتا آ رہا ہے تاکہ پاکستان اور افغانستان میں غلط فہمیاں پیدا کی جائیں، حالانکہ بات ایسی نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔ روس انقلاب ہو یا روس انقلاب کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی، پاکستان نے ہر وقت افغان حکومت اور افغان بھائیوں کے لیے بارڈر کھلا رکھا ہے۔
اب تو مودی سرکار ایسی سازشوں پر اُتر آئی ہے کہ افغانستان میں بھی ڈیم بنانے کے منصوبوں پر افغان حکومت کے ساتھ پلان شروع کیا تاکہ افغانستان سے نکلنے والے دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے روکا جا سکے۔
ایسی صورت حال میں افغانستان کی موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ گلبدین حکمتیار کے بیان کے عین مطابق بھارتی سازش کا حصہ نہ بنے، اس لیے کہ حکمتیار نے پہلے ہی کہا ہے کہ انڈیا جب پڑوس میں ایک آزاد اور خودمختار پاکستان اور بنگلہ دیش برداشت نہیں کر سکتا، تو بھارت ایک آزاد، مضبوط اور خودمختار افغانستان کو کیسے برداشت کر سکتا ہے؟
-

بھارتی دہشت گردی: فیصلہ کن جواب وقت کا تقاضا
بھارتی دہشت گردی: فیصلہ کن جواب وقت کا تقاضا
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا ڈھونگ رچاتا آرہاہے، برسوں سے اپنے ہمسایوں خاص کر پاکستان کے خلاف پراکسی وار کے ذریعے دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ 21 مئی 2025 کو بلوچستان کے شہر خضدار میں ایک سکول بس پر خودکش حملہ اس کی بھیانک مثال ہے، جس میں تین معصوم بچوں سمیت پانچ افراد شہید اور 38 زخمی ہوئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے واضح کیا کہ یہ بزدلانہ فعل بھارت کی منصوبہ بندی کے تحت اس کی پراکسی تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے انجام دیا۔ یہ حملہ بھارت کی اس شدید مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو اسے آپریشن سندور کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔بی ایل اے کوئی مقامی علیحدگی پسند تحریک نہیں ہے بلکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایک ہتھیار ہے جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ گرفتار دہشت گردوں نے بارہا اعتراف کیا کہ انہیں بھارت سے مالی امداد، ہتھیار، تربیت اور اہداف کی ہدایات ملتی ہیں۔ 2015 سے اب تک بی ایل اے کے 18 سے زائد حملوں میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کے تمام ترسازشوں کے راستے دہلی جاکے ملتے ہیں۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافات نے اس پراکسی نیٹ ورک کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی جاری ہے۔ بھارتی میڈیا، جیسے زی نیوزودیگر دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے بجائے انہیں پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جو ان کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ خضدار کا سانحہ اسی بزدلانہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس میں بھارت میدان جنگ میں ناکامی کے بعد معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر اپنی شکست کا بدلہ لے رہا ہے۔
اسی طرح شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں 19 مئی 2025 کو ہونے والا حملہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی ایک اور دہشت گرد تنظیم ’فتنہ الخوارج‘ کا کارنامہ تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ گروہ مساجد کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، ان کی بے حرمتی کرتے ہیں اور معصوم شہریوں کو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیےبلی چڑھادیتے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے دہشت گردمساجد میں جوتوں سمیت گھومتے ہیں، سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کرتے ہیں اور مساجد کی حرمت کو جان بوجھ کر پامال کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی فورسز مقدس مقامات کی عزت کی وجہ سے جوابی کارروائی سے گریز کریں گی۔ پاکستانی قوم اور افواج ان کے مکروہ مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہیں۔
بھارت کی ناکامی صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں ہے،سی پیک جیسے منصوبوں نے پاکستان کو معاشی خودمختاری کی راہ پر گامزن کیا ہے لیکن بھارت اس ترقی سے خوفزدہ ہے۔ گوادر، دشت اور خضدار میں ہونے والے حملے پاکستان کی معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش کا حصہ ہیں۔آپریشن سندور کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت نے پراکسی جنگوں پر انحصار بڑھا دیا، جن میں بی ایل اے اور فتنہ الخوارج اس کے آلہ کار ہیں۔ یہ حملے پاکستان کے امن و استحکام کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں لیکن پاکستانی قوم ہر بار ان سازشوں کو ناکام بناتی آرہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ حالیہ پاک بھارت محدود جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کی بھرپور مدد کی۔ جنگ سے قبل اسرائیل کے 150 تربیت یافتہ افراد بھارت پہنچے اور سری نگر سمیت دیگر مقامات پر اسرائیلی ہتھیار استعمال کیے گئے۔ یہ گٹھ جوڑ نہ صرف پاکستان کے خلاف ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان نے جنگ بندی کی کوئی درخواست نہیں کی بلکہ بالغ نظری سے حالات کو سنبھالا۔ انہوں نے پسرور چیک پوسٹ کا ذکر کیا جہاں پاکستانی فوجیوں نے آخری دم تک مقابلہ کیا اور اپنی پوزیشن نہیں چھوڑی جو پاک فوج کی بہادری اور عزم کی روشن مثال ہے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 83 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔ جب بھی ملک میں امن قائم ہونے لگتا ہے، بھارت اپنی پراکسی تنظیموں کو متحرک کر دیتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر بھارت جنگ چاہتا ہے تو پاکستان اس کے لیے تیار ہے، لیکن ہم امن کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی جنگ دونوں ممالک کے لیے تباہ کن ہوگی اور بھارت کا جھوٹا بیانیہ اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے قوم سے اتحاد کی اپیل کی اور کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔
بھارت کی ریاستی دہشت گردی اب مزید برداشت سے باہر ہے۔ خضدار کے معصوم شہداء کا خون پاکستانی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ چکا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس مکار دشمن سے اپنے بچوں اور بے گناہ شہریوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے۔ پاکستانی قوم ایک متحد اور بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی دیوار کی طرح اس دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے اور ہماری بہادر افواج ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ بھارت کا مکروہ چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا جائے اور اس کا ہر سہولت کار، ہر دہشت گرد اور ہر سرپرست انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پاکستان امن، ترقی اور غیرت کی علامت ہے لیکن ہمارا صبر اب جواب دے چکا ہے۔ بھارت کے اس گھناؤنے کھیل کا خاتمہ ناگزیر ہے اور ہمیں اپنے شہداء کے خون کا بدلہ فیصلہ کن اور بے رحم انداز میں لینا ہے، اب کسی مصلحت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ عالمی برادری سے اپیل ہے کہ وہ بھارت کے اس شیطانی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کے کارروائی کرے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام اور بھارتی دہشت گردی کو روک لگانے کےلیے اپنا کردار ادا کرے۔

-

آم :پھلوں کا بادشاہ اور میرپورخاص کی پہچان
آم :پھلوں کا بادشاہ اور میرپورخاص کی پہچان
تحریر: سید شاہزیب شاہ
پاکستان کی سرزمین قدرتی نعمتوں سے مالا مال ہے، اور انہی میں ایک انمول نعمت "آم” ہے، جسے بجا طور پر پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ آم صرف ایک خوش ذائقہ پھل نہیں، بلکہ یہ ہماری ثقافت، زراعت اور معیشت کا اہم ستون بھی ہے۔ پاکستان آم کی پیداوار میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہے، اور جب آم کی بات ہو تو سندھ کا شہر میرپورخاص اپنے منفرد ذائقے، اعلیٰ اقسام اور تاریخی روایت کے باعث سرفہرست آتا ہے۔ضلع میرپورخاص، اپنی زرخیز زمین، خوشگوار آب و ہوا اور محنتی کسانوں کی بدولت آم کی کاشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں آم کی کاشت ایک صدی سے زائد پرانی روایت ہے، جو وقت کے ساتھ جدید زرعی تکنیکوں سے مزید ترقی پا چکی ہے۔ یہ علاقہ آم کی متعدد اعلیٰ اقسام کے لیے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔
میرپورخاص میں پیدا ہونے والی آم کی مشہور اقسام میں سندھڑی، چونسہ، لنگڑا، انور رٹول، دوسہری اور بیگن پالی شامل ہیں۔ ان میں سے سندھڑی کو مٹھاس، خوشبو اور رس کی فراوانی کے باعث آم کا بادشاہ کہا جاتا ہے، جبکہ چونسہ گرمیوں کے اختتام پر آنے والا دیرپا ذائقہ رکھنے والا آم ہے، جو اپنی لاجواب لذت کے باعث ہر سال مقبولیت میں اضافہ کرتا ہے۔
میرپورخاص سے ہر سال لاکھوں من آم اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک برآمد کیے جاتے ہیں۔ اس برآمدی عمل سے جہاں کسانوں کو روزگار اور منافع حاصل ہوتا ہے، وہیں ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ پاکستانی آم بالخصوص مشرقِ وسطیٰ، یورپ، اور امریکہ کی منڈیوں میں انتہائی پسند کیے جاتے ہیں۔ آم کی تجارت صرف زرعی شعبے تک محدود نہیں بلکہ یہ ملکی معیشت کا فعال کردار بن چکی ہے۔
میرپورخاص میں ہر سال آم میلہ (مینگو فیسٹیول) منعقد کیا جاتا ہے، جہاں آم کی درجنوں اقسام کی نمائش ہوتی ہے۔ یہ میلہ کسانوں اور تاجروں کے لیے نہ صرف معاشی فوائد کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ عوام اور سیاحوں کے لیے تفریح، ثقافت اور ذائقے کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ آم میلہ اس علاقے کی زراعت، روایت اور تہذیب کی جھلک بھی پیش کرتا ہے، جہاں نہ صرف خرید و فروخت ہوتی ہے بلکہ کسانوں کو ان کی محنت کا اعتراف بھی ملتا ہے۔
اگرچہ میرپورخاص آم کی کاشت میں ایک روشن مقام رکھتا ہے، مگر یہاں کے کسان بعض سنجیدہ مسائل کا سامنا بھی کر رہے ہیں، جن میں پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، کیڑوں اور بیماریوں کا پھیلاؤ اور جدید زرعی تحقیق تک محدود رسائی شامل ہیں۔ اگر حکومت، زرعی ادارے، میڈیا اور نجی شعبے اس شعبے کو جدید سہولیات، تحقیق اور مالی معاونت فراہم کریں، تو آم کی صنعت نہ صرف مقامی سطح پر ترقی کرے گی بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی پاکستان کا مقام مزید مستحکم ہوگا۔
آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ پاکستانی زراعت کی شان اور میرپورخاص کی پہچان ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اس قیمتی اثاثے کو قومی سرمایہ سمجھ کر اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ کسان خوشحال ہوں، معیشت مضبوط ہو، اور پاکستان کا نام دنیا میں مزید روشن ہو۔
-

بھارت کی سفارتی ناکامی اور آم ڈپلومیسی کا زوال
بھارت کی سفارتی ناکامی اور آم ڈپلومیسی کا زوال
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
سفارت کاری بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ دنیا کے ممالک مختلف طریقوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے استوار کرتے ہیں، جن میں بیک ڈور ڈپلومیسی یعنی خفیہ مذاکرات، ٹریک ٹو ڈپلومیسی جو غیر سرکاری افراد کے ذریعے رابطوں پر زور دیتی ہے، کرکٹ ڈپلومیسی جو کھیلوں کے ذریعے ممالک کو قریب لاتی ہے، ثقافتی ڈپلومیسی جو فنون اور روایات کے تبادلے سے روابط بڑھاتی ہے اور آم ڈپلومیسی جو تحائف کے ذریعے خیر سگالی کا اظہار کرتی ہے شامل ہیں۔ بھارت نے اپنے مشہور الفانسو اور کیشر آموں کو سفارتی تحفے کے طور پر استعمال کر کے اپنی سافٹ پاور کو فروغ دینے کی کوشش کی، لیکن یہ منصوبہ نہ صرف ناکام ہوا بلکہ اس کی خارجہ پالیسی کی کمزوریوں اور چالاکیوں کو بھی عیاں کر گیا۔ بھارت نے اس منصوبے کے ذریعے امریکہ کے ساتھ سیاسی، معاشی اور سفارتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ناقص منصوبہ بندی اور دستاویزات کی خامیوں نے اسے شرمندگی سے دوچار کیا۔8 اور 9 مئی 2025 کو ممبئی سے 15 کنٹینرز پر مشتمل آموں کی کھیپ شعاع ریزی کے عمل سے گزر کر امریکہ بھیجی گئی جو کیڑوں کو ختم کرنے اور آموں کی شیلف لائف بڑھانے کے لیے ضروری تھا۔ تاہم امریکی حکام نے PPQ203 فارم کی نامکمل تیاری کا بہانہ بنا کر اس کھیپ کو لاس اینجلس، سان فرانسسکو اور اٹلانٹا کے ہوائی اڈوں پر مسترد کر دیا۔ بھارتی برآمد کنندگان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے شعاع ریزی کا عمل مکمل کیا تھا اور PPQ203 فارم بھی تیار تھامگر یا تو بھارتی عملے کی غفلت یا امریکی حکام کی سخت پالیسی کی وجہ سے یہ کوشش ناکام ہوئی۔ نتیجتاً برآمد کنندگان کو دو مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا، آموں کی کھیپ واپس بھارت بھیجیں، جو خراب ہونے والے آموں کے لیے مہنگا اور غیر عملی تھا یا اسے امریکہ میں تباہ کر دیں۔ انہوں نے آموں کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے تقریباً 500,000 ڈالر یعنی 4.15 کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا۔ یہ واقعہ بھارت کے برآمدی نظام کی خامیوں اور سفارتی تیاری کی کمی کو واضح کرتا ہے۔
یہ ناکامی صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کا تسلسل ہے۔ ماضی میں بھی بھارت نے 1950 کی دہائی میں چین کے ساتھ آم ڈپلومیسی کی کوشش کی تھی جو خاطر خواہ نتائج نہ لا سکی۔ اس بار بھی بھارت کی نام نہاد سافٹ پاور امریکی ہوائی اڈوں پر ضائع ہو گئی، جو اس کی سفارتی ناکامی کی علامت بن گئی۔ ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور مہاراشٹر اسٹیٹ ایگریکلچرل مارکیٹنگ بورڈ کے درمیان رابطوں کی کمی نے اس ناکامی کو مزید گہرا کیا۔ یہ واقعہ بھارت کے برآمدی نظام میں شفافیت کی کمی اور ناقص انتظامی ڈھانچے کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے چالاکی اور چاپلوسی پر مبنی رہی ہے۔ وہ اپنے مفادات کے لیے عالمی طاقتوں کے سامنے سر جھکاتا ہے، لیکن اس کی ناقص منصوبہ بندی اسے ہر بار ناکام کرتی ہے۔ حالیہ پاک بھارت چار روزہ جنگ (مئی 2025) میں پاکستان کے ہاتھوں میدان جنگ میں شرمناک شکست نے بھارت کی عسکری اور سفارتی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ اس جنگ نے نہ صرف بھارت کے فوجی دعووں کی قلعی کھولی بلکہ اسے عالمی سطح پر سفارتی تنہائی سے بھی دوچار کیا۔ امریکہ جو بھارت کا اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے نے بھی اس موقع پر بھارت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا۔ آم ڈپلومیسی کی ناکامی اور امریکی حکام کی جانب سے کھیپ کی مستردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنی چالاکیوں سے عالمی برادری کو متاثر نہیں کر سکتا۔
اب سفارت کاری کا دور بدل چکا ہے اور بھارت کی دھونس دھاندلی، عیاری اور مکاری عالمی سطح پر ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستانی خارجہ پالیسی اور اس کے پالیسی ساز بھارت کی ان چالاکیوں کو ہر عالمی فورم پر بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ بھارت جہاں جہاں جائے گا پاکستان اس کی بچھائی ہوئی چالیں دنیا کے سامنے لاتا رہے گا اور اس کی ہر مکروہ سازش کو ناکام بنائے گا۔ اب وہ وقت چلا گیا جب روس بھارت کے لیے اقوام متحدہ میں ویٹو پاور استعمال کر کے اسے بچا لیتا تھا۔ بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کی سافٹ پاور کے دعوے محض دھوکا ہیں اور اس کی ناقص خارجہ پالیسی عالمی برادری میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔ اگر بھارت نے شفافیت، پیشہ ورانہ تیاری اور مضبوط نظام کو نہ اپنایا تو آم ڈپلومیسی کی طرح اس کی تمام سفارتی کوششیں ناکامی کا شکار ہوتی رہیں گی اور عالمی برادری اسے مکمل طور پر مسترد کرتی رہے گی۔
