Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کو بچھڑے سال بھی بیت گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(علی عمران شاھین)

    پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کو بچھڑے سال بھی بیت گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(علی عمران شاھین)

    سال گزشتہ کےماہ جون میں زیست فانی کے ایک سے بڑھ کر ایک پیارے کے فراق کا دکھ سہنا پڑا۔ ان میں سے ایک ہمارے استاد صحافت پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی تھے جن کے نام اور تصور سے ہی تن بدن میں سکون و طمانیت کی لہر دوڑ جاتی تھی ۔۔۔۔

    یہ چند سطریں اسی وقت لکھ گئی تھیں ۔۔۔۔۔۔ دوبارہ پیش ہیں ۔۔۔۔۔۔

    زمانہ تلمیذی سے عالی جامعات کے نمونہ عمل اور ہم سب کے مشفق و مربی استاذِ کبیر پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی چل دئیے۔
    سچ یہ ہے کہ ہر سو عجب ضیاپاشیاں بکھیرتی اک شمع بچ چلی تھی اور آج وہ بھی بجھ گئی۔۔۔۔

    کل ہی کی تو بات ہے آپ یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے سکول آف میڈیا کے ڈین پروفیسر کی حیثیت سے فیکلٹی ممبرز سے آن لائن مجلس میں خوش گوار موڈ کےساتھ تبادلہ خیال اور ہدایات عطافرمارہے تھے۔

    دل ودماغ کے ہر نہاں خانے کی کہی یہ ہے کہ میدان صحافت کے شعبہ تدریس میں ہی آپ کی خدمات و مساعی لاتعداد و بےحساب ہیں۔تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اس سے بھی بالا 50 سال قبل 1972ء میں جب ملک بھر کے نوعمر متلاشیان علم، اسلامی جمعیت طلبہ کے پرچم تلے”بنگلہ دیش نامنظور تحریک”چلا رہے تھے تو وہ لاہور سے نکلنے والے ہر جلوس میں شرکت کرتے اور مختلف تعلیمی اداروں میں منعقدہ جلسوں سے”قاری مغیث الدین شیخ”کی حیثیت سے خوب رنگ جما اور جذبوں کو جگا کر خطاب کرتے۔

    ان سے ہم سب کے سیکھنے اور انہیں دیکھنے کی عمر برسوں پر محیط ہے۔ وہ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان، ان کے شاگرد و صحافت کے بطل جلیل آغا شورش کاشمیری اور حمید نظامی جیسے مرحومین کے ممتاز مداحین میں سے تھے۔اس پر مستزاد،اتنی پرشکوہ شان پانے کے باوجود متانت و عاجزی ایسی کہ آخری دنوں تک اپنے استاد ڈاکٹر مسکین حجازی کا ذکر غایت حددرجہ عقیدت و احترام سے کرتے۔

    ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بانی ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ماس میڈیا کمیونیکیشن پنجاب یونیورسٹی کی وفات حسرت آیات فرد واحد کا سانحہ ارتحال نہیں بلکہ ایک ادارے کی ہی جیسے موت ہے۔ سب گواہ ہیں کہ وہ عہد ساز نظریاتی معلم اورنابغہ روزگار شخصیت تھے۔ اسلامیت اور پاکستانیت کے فقیدالثال مبلغ تھے۔ شعبہ صحافت میں انہیں استاذ الاساتذہ، شیخ الاساتذہ بلکہ رئیس الاساتذہ کا عالی مقام و مرتبہ حاصل تھا اور ان کا یہ منسب تادیر ان کے سب تلامذہ کے اذہان و قلوب میں نسل در نسل جاگزیں رہے گا ۔

    ہمیں یقین محکم ہے کہ صدیوں آپ کا شمار محسنین صحافت و دردمندان ملک و ملت میں ہوگا۔

    وہ ایک جوہر ومردم شناس عبقری شخصیت تھے۔جیسے ہی ان کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی تو جسم و جاں جیسے بے جاں سے ہوگئے، ان کے یوں اور اتنے جلد فراق پر ملال اور وفات حسرت آیات سے جگر پاش پاش ہے، آپ کے اٹھ جانے سے ایک شخصیت کی ہی کمی واقع نہیں بلکہ فروغ علم صحافت و وطنیت و متانت کا ایک عظیم عہد تمام ہوا۔۔۔

    تن بدن کا رواں رواں ان کی یاد میں پکار رہا ہے کہ
    اک روشن دماغ تھا کہ نہ رہا۔۔۔
    اک جلتاچراغ تھا کہ نہ رہا۔

    رب کریم آپ کی بخشش کاملہ اور مغفرت تامہ فرماکر ان کی روح پر فتوح کو اعلیٰ علیین کا مکین و مقیم بنائیں۔
    الھم اغفرلہ و الرحمہ ۔۔۔۔۔۔۔
    آمین یا خیر الغافرین

    پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کو بچھڑے سال بھی بیت گیا
    تحریر:
    (علی عمران شاھین)

  • ‏ماڈرن شیر . تحریر:عمالقہ حیدر

    ‏ماڈرن شیر . تحریر:عمالقہ حیدر

    ایک بار شیر اور لومڑی میں کسی بات پہ ٹھن گئی.
    لومڑی نے کہا کہ کچھ بھی ہو وہ شیر سے بدلا ضرور لے گی،،
    لومڑی نے جنگل میں ایک بیوٹی پارلر کھولا اور جنگل کے بادشاہ شیر سے عاجزی سے استدعا کی.
    کہ حضور عالی مقام آپ اپنے مبارک قدم ہمارے بیوٹی پارلر میں رکھیں اور اسکا افتتاح کیجیے ،،
    شیر ہنسا اور کہا کہ اے نادان لومڑی میں تو شیر ہوں مجھے بناؤ سنگھار سے کیا لینا دینا ہے.
    ،، یہ کام تم کسی اور سے کراو ،،
    لومڑی نے کہا اے خوبصورتی کے پیکر میرے رحمدل عالیجاہ میں آپکی ریپوٹیشن بہتر بنانا چاہتی ہوں آپکو علم ہی نہیں ہے بادشاہ عالی مرتبت کہ آپکے مخالفوں نے آپکے بارے میں کئی جھوٹے دعوے مشہور کیے ہیں.
    ،، نت نئی افواہوں کا بازار گرم ہے ،،
    آپ کو جنگل میں قدامت پسند اور تنگ نظر بادشاہ کہا جارہا ہے ،،
    اور آپکو روشن خیالی کا دشمن سمجھا جا رہا ہے ،،
    آپ بیوٹی پارلر کا افتتاح کریں گے تو آپکے متعلق یہ افواہیں دم توڑ دیں گی،،

    شیر نے ایک لمحہ لومڑی کی باتوں پہ سوچا اور پھر افتتاح میں آنے کی حامی بھر لی ،،

    شیر نے بیوٹی پارلر کا فیتہ کاٹا ،، ریچھ ،، لگڑ بگڑ ،، بھینسے ،، گائے ،، زیبرا ،،ہرن ،، وغیرہ نے خوب تالیاں بجائیں ،،
    اسٹیج سیکرٹری بندر تھا پہلے اس نے خوب اچھل اچھل کر داد دی ،،
    پھر مائک پہ آ کر اعلان کیا ،،
    ” شہنشاہ دوراں
    آج آپ نے اس محفل میں آکر ثابت کر دیا ھے.
    کہ آپ ایک روشن خیال بادشاہ ہیں ،،
    بناؤ سنگھار کی اس محفل کی سرپرستی سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ احساس جمال سے بہرور ہیں ،،
    یوں آپکے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈہ جو یک طرفہ تھا زائل ہو گیا ہے ،،
    شیر کو یہ سب باتیں بڑی عجیب لگ رہی تھی لیکن جب سب نے تالیاں بجانی شروع کیں تو شیر کو بھی اچھا لگنے لگا ،،

    تقریب کے بعد لومڑی لہنگا پہن کر سٹیج پہ آئی اور پورے سات بار جھک کر بادشاہ کو سلامی دی ،، اور کہا
    ” یہ باندی آپکی آمد کا شکریہ ادا کرتی ہے ،،
    اب آپکی آمد کی خوشی میں یہ باندی ایک مجرہ پیش کرتی ہے ،،
    پھر لومڑی نے جی بھر کر مجرا پیش کیا.
    مجرا ایسا تھا کہ لومڑی نے میدان سے دھوئیں اٹھا دئیے ،،
    شیر پہلے تو حیرانگی سے یہ سب کچھ دیکھتا رہا پھر اسکو بھی لطف آنے لگا ،،
    یہ تقریب صبح تک جاری رہی ،،

    دوسرے دن لومڑی ایک ایک جانور کے پاس گئی..
    اور کہا کہ اب تو شیر کی چیرہ دستیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ،،
    شیر سے کوئی شریف جانور نہیں محفوظ ،،
    وہ شریف جانورں سے بھی مجرہ کراتا ہے ، پہلے تو اس کمبخت کے ہاتھوں کسی کی جان محفوظ نہ تھیں اب عزتیں بھی نہیں محفوظ ،،
    اس طرح کئی جانوروں کے ساتھ میٹنگز طے کرتے کرتے لومڑی نے ایک مشترکہ اتحاد تشکیل دے دیا اس اتحاد میں چیتا بھڑیا سانپ بندر ریچھ سب شامل تھے ،

    ایک دن شیر کے غار میں لومڑی حاضر ہوئی.
    اور عرض کی ظلِ الہی اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ،،

    ظللِ الہی اس وقت ایک ہرن نوش جاں فرمانے کے بعد اونگھ رہا تھا بادشاہ دوراں نے غنودگی کے عالم میں کہا بولو ،،
    لومڑی نے دست بستہ کہا.
    کہ شہنشاہ ہر دلعزیز کی روشن خیالی کی دھوم تو ہر طرف ہی ہے ،
    لیکن چیتے ریچھ ہاتھی وغیرہ نے آپکے خلاف ایک کولیشن تشکیل دی یے ،
    خود اس میں آپکے قریبی دوست شامل ہیں.. آپ جانتے ہیں یہ کافی ظالم جانور ہیں ،،
    آپکا ان سے بیک وقت ٹکرانا مصلحت نہیں ہے.
    میرے پاس ایک ترکیب ہے.
    جس پہ عمل کرنے سے انکے غبارے سے ہوا نکالی جا سکتی ہے ،،
    شیر نے غصے سے دھاڑتے ہویے کہا تجویذ پیش کیجائے ،

    ،لومڑی خوشامدی انداز سے بولی..
    بادشاہ سلامت آپکے خلاف سارہ پروپیگنڈہ آپکے دانتوں اور ناخن کی وجہ سے ہے ،،
    اس پہ شیر غصے سے داڑھا اور کہا تو کیا میں یہ نکلوا دوں ،،
    لومڑی بولی..
    خدا نہ کرے بادشاہ سلامت.
    لیکن اگر آپ صرف پنجوں کے ناخن کٹوا دیں اور سامنے والے تھوڑے سے دانت نکلوا دیں..
    تو آپکی طاقت بھی بحال رہے گی اور دشمن کا پروپیگنڈہ بھی مکمل خاک میں مل جایے گا ،

    ،، شیر نے سوچا کہ کہیں سارے جنگل کے اتحادی ملکر مجھ پہ حملہ نہ کر دیں..

    اس نے نہ چاہتے ہویے بھی لومڑی کی یہ تجویز مان لی.
    وہ بھول گیا کہ وہ ایک شیر ہے وہ بس ڈانس اور دوسرے محفلوں تک رہنے کا عادی ہو چکا تھا ،،

    ایک روز شیر شکار کرنے اپنی غار سے نکلا اور ایک ہرن کے پیچھے کئی کلومیٹر بھاگنے کے بعد اسکو قابو کیا ،،
    لیکن جب اسکے جسم میں اپنے ناخن گاڑھنا چاہے تو پنجے میں ناخن نہ ہونے کی وجہ سے پنجہ پھسل گیا..
    اس نے جلدی سے دانت ہرن کے گلے میں گاڑھنے کی کوشش کی لیکن یہ حربہ بھی ناکام ہؤا ،،

    اس جدوجہد کے دوران ہرنی کو بھی علم ہو گیا…
    کہ شیر فارغ ہے یہ بس نام کا شیر ہے..
    تو ہرنی نے شیر کو چار پانچ لاتیں اچھی رسید کر لیں اور وہاں سے بھاگ نکلی ،،

    شیر نے کئی جانوروں پہ قسمت آزمائی کی لیکن ایک بھی جانور پہ داؤ نہ چلا شام تک بھوک سے برا حال ہو گیا تھا ،،

    نڈھال شیر گرتے پڑتے اپنے کچھار پہنچا اور اس وقت امید کی کرن دکھائی دی.
    جب اسکو دور سے لومڑی غار میں داخل ہوتی ہوئی نظر آئی…

    لومڑی نے بادشاہ سلامت کے آگے نہ سلام پیش کیا نہ عزت دی نہ اسکو ظل الہی یا عالی جاہ کہا نہ ہی شیر کو شہنشاہ دوراں کہا…
    ،، لومڑی نے طنزیہ انداز سے کہا بھوک تو بہت لگی ہو گی،
    شیر نے نقاہت سے کہا.
    ہاں بہت زیادہ تم میرے لیے خوراک کا انتظام کر دو،
    میں نے تمہارے ہی مشورے پہ ناخن نکلوائے ہیں اور تمہارے ہی کہنے پہ سامنے کے دانت نکلوائے.
    اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے.
    کہ میرے لیے خوراک کا انتظام کر دو ،،

    لومڑی نے یہ سنا تو ایک لمبا قہقہ لگایا اور شیر کو ایک لات رسید کر کے کہا..

    او بیوقوف چوپائے

    کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں کرتا ،،،،،،
    ہاں تمہارے ساتھ چونکہ ایک تعلق ہے ،،
    لہذا میں تیرے لیے گوشت تو نہیں لیکن گھاس کا انتظام کر سکتی ہوں ،،

    یہ سن کر شیر کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا ، اس نے لومڑی پہ اچانک حملہ کیا لیکن لومڑی پہلے سے تیار تھی وہ وہاں سے ہٹی اور شیر جو نڈھال تھا اسی جگہ گر پڑا ،،
    کچھ دن بعد لومڑی شیر کے پاس پھر آئی..
    شیر بے ہوشی کے عالم سے دو چار تھا.
    اس نے لومڑی کو دور سے دیکھا تو چلا کر کہا.

    مجھے گھاس کھانا بھی منظور ہے.
    اللہ کے لیے کہیں سے میرے لیے گھاس کا انتظام ہی کر دو..
    اب تو میں گھاس کے لیے گھومنے کے بھی قابل نہیں رہا ۔۔
    لومڑی نے شیر کی یہ بے بسی دیکھی تو لومڑی کی آنکھوں میں جیت کی چمک واضح دکھائی دی لومڑی نے شیر کو طنزیہ کہا..

    "گھاس بھی تب ہی مل سکتی ہے جب تم منہ سے میاؤں کی آواز نکالو ”

    یہ سن کر شیر کا جی چاہا کہ…
    زمین پھٹ جایے اور وہ اس میں دھنس جائے.
    لیکن جس کو اپنے وقار سے زیادہ اپنی جان عزیز ہو اسکی زمین میں دھنس جانے کی خواہش پوری نہیں ہؤا کرتی…

    چنانچہ شیر نے اپنا جی کڑا کر کے اپنے منہ سے میاؤں کی آواز نکالی اور پھر رحم طلب نظروں سے لومڑی کی طرف دیکھنے لگا ،،

    لومڑی نے حقارت سے اسے دیکھا اور کہا یہ میاؤں کی آواز تم نے ٹھیک نہیں نکالی تم کچھ دن ریاضیت کرو پریکٹس کرو جس دن سے تم میاؤں کی صیحح آواز نکالنے میں کامیاب ہو جاؤ تو اس دن سے تم کو گھاس باقاعدگی سے ملنا شروع ہو جائے گی ،،

    آخری اطلاعات آنے تک شیر ابھی تک میاؤں میاؤں کی آواز نکالنے میں مصروف ہے…
    شیر اب تک میاؤں میاؤں کی اواز نکالنے میں کافی دسترس حاصل کر چکا ہے ،،۔۔

    یہ چالاک لومڑی یہود و ہنود ہیں اور شیر مسلم ممالک اور امت مسلمہ ہے.

    ان گنت کوتاہیوں اور مختلف ہتھکنڈوں میں پھنس کر امتِ مسلمہ بھول بیٹھی ہے کہ وہ ایک شیر ہے.
    سائنس و ٹیکنالوجی, پروڈکشن اور دفاعی امور میں ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیا گیا اور ہم نے بھی عقل و دانش کو سلائے رکھا اور مسلسل سوئے ہوے ہیں.

    آج یہ شیر بس میاؤں میاؤں کر رہا ہے ،،….
    بقول علامہ اقبال

    تھے تو آباء تمہارے ہی مگر تم کیا ہو,
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو,

  • جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر

    جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر

    جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر
    لاہور میں آج خوفناک دھماکہ ہوا جس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا اور ہر طرف قیاس آراییاں شروع ہوگئی کہ یہ دھماکہ آخر کس نے کروایا ؟ اور اس دھماکے کا ٹارگٹ حافظ سعید بتایا جا رہا ہے، لیکن حافظ سعید ابھی تک کہاں پر ہیں؟ اور اس دھماکے کے تانے بانے کس کے ساتھ جڑ رہے ہیں ؟
    جس جگہ پر دھماکا ہوا وہ کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہیں تاہم حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔اردو پوائنٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شہری نے تصدیق کی ہے کہ دھماکا حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہوا ہے،انہیں گھر میں نظر بند کیا گیا ہے،حافظ سعید کے گھر کے باہر سیکیورٹی موجود ہوتی ہے اور اسی کے سامنے آج دھماکا ہوا ہے۔
    حافظ سعید کی سیکورٹی کے لیے ایک گاڑی ہر وقت موجود رہتی ہے جبکہ پولیس بھی ہر وقت ان کی رہائش گاہ کے قریب ہوتی ہے۔

    شہری کے مطابق گھروں میں لوہے کے پیس بھی گرے ہیں،میڈیا میں بتایا جا رہا ہے کہ دھماکا گھر کے اندر ہو اہے لیکن دھماکا گاڑی کے اندر ہوا ہے اور بظاہر یہ گیس پائپ لائن پٹھنے کا دھماکا نہیں ہے۔دھماکے کے بعد آگ بھی لگ گئی اور دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا. دھماکا اتنا زوردار تھا کہ ہمارے گھر میں ہل گئے.

    اگر پولیس پکٹ نہ ہوتی تو گاڑی ہائی ویلیو ٹارگٹ تک پہنچ سکتی تھی ، ہمیں 65 تھریٹ الرٹس موصول ہوئے ، دھماکوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوتے ہیں ، قیاس آرائیاں نہ کریں تو بہتر ہے.

    لیکن ایک چیز نے سوچنے پر مجبور کردیا کہ ایک طرف امریکا پاکستان کو اڈے نہ دینے کی سزا دے رہا ہے تو امریکا پاکستان میں افغانستان کی خانہ جنگی منتقل کرنا چاہتا ہے، اور وہ پاکستان پر حملے کرکے اکیلا چھوڑنا چاہتا ہے ، ایک تو لاہور جوہر ٹاؤن حملے میں غیر ملکی مواد استمال ہوا اور اس سے ایک چیز واضح ہوگئی یہ امریکا اور بھارت کا ٹریلر ہے کہ اب امریکا اسامہ طرز پر آپریشن کرنے جارہا ہے اور یہ اسی چیز کی کڑی ہے ، کہ اب پاکستان میں دہستگردی کرواکے پاکستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. اور جب سے عمران خان نے امریکا کو absolute not کہا ہے تو عمران خان نے اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، تو لاہور جوہر ٹاؤن دھماکہ حافظ سعید کو ٹارگٹ کرنا یہ اشارہ ہے کہ امریکا بڑے آپریشن کی تیاری کررہا ہے. اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیز اس وقت مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں

  • پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی
    پاکستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ایک حسین ترین ملک ہے، جیسے اللہ سبحانہ و تعالی نے برف سے ڈھکی چوٹیاں، سرسبز سبزہ زار، بنجر چٹانیں اور چکردار پہاڑیاں، جنگلات، سمندر، زرخیر میدان، دریا، صحرا اور ساحلی علاقے، غرض ہمارا ملک کسی جنت سے کم نہیں ہے، لیکن یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارا ملکِ پاکستان بدترین عالمی حدت کا شکار ہے،ماحولیاتی مطالعات سروے  کے مطابق پاکستان  عالمی حدت سے متاثرہ دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ پاکستان میں عالمی حدت کے حوالے سے بہت کم لوگ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں..

    زمین کے اوسط درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کا نام عالمی حدت ہے۔ ہماری زمین کے ماحول میں کچھ ایسی گیسز پائی جاتی ہیں جو نیم مستقل لیکن دیرپا رہتی ہیں یہ گیسز قدرتی طور پر نہیں بلکہ زمین پر انسانی تجربات کے باعث مثلاً صنعتی ترقی ، آبادی میں اضافے ، جنگلات کی کٹائی اور انتہائی آلودگی پھیلانے والے فوسیل ایندھن کے استعمال سے ہم آہنگ ہے۔ جس کی وجہ سے قدرتی ماحول متاثر ہوتا ہے اور یہی عالمی حدت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔۔

     سائنسدانوں کے مطابق عالمی حدت میں بنیادی طور پر جوچھ گیسیں اضافہ کررہی ہیں ان میں سب سے بڑاحصہ کاربن ڈائی اکسائیڈکاہے۔ جبکہ میتھین، نائٹڑس آکسائیڈ، ہائیڈرو فلورو کاربن اورسلفر اکسا فلورائیڈ با الترتیب دوسرے تیسرے چوتھے پانچویں اور چھٹے نمبرپرہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ ایک مرکب سالمہ ہے جس جو کاربن کے ایک اور آکسیجن کے دو عددایٹموں سے ملکر تشکیل پاتا ہے یوں یہ تین ایٹمی سالمہ سورج کی توانائی کوجذب کرکے اس کے اخراج کے نتیجے میں تپش میں اضافہ کرتاہے۔

    مکرمی! پاکستان میں اگر عالمی حدت سے پیدا ہونے والے اثرات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کوئلے کو توانائی حاصل کرنے کے لئے جلایا جاتا ہے اور یہ عالمی حدت اور دیگر ماحولیاتی مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے۔کوئلے اور تیل سے بجلی پیدا کرنے کے باعث بھی گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوا ہے۔کوئلہ جلنے کے بعد کاربن گیس کا اخراج کرتا ہے جو ماحول میں حد درجہ آلودگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فضا میں کاربن کی مقدار بڑھا دیتا ہے اور یوں درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث کرہ ارض پرقائم حفاظتی غلاف جسے اوزون لیئر کا نام دیا جاتا ہے اس میں سوراخ پیدا ہوگیا ہے جس کے باعث سورج کی مضر شعائیں زمین کی سطح تک پہنچ کر درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔ انسان ترقی کے نام پر اپنی تباہی کا انتظام خود کرتا آ رہا ہے اور آج اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اسے کوئی راستہ نہیں دکھائی دیتا۔ کاربن ڈائی اکسائیڈ اور میتھین، دونوں گلوبل وارمنگ کا سبب ہیں۔ یہ گیسیں ہماری زمین کے اوپر فضا میں ایک ایسا دائرہ کھینچ دیتی ہیں جو سورج سے حرارت کو زمین پر آنے تو دیتا ہے، لیکن واپس نہیں جانے دیتا، جس کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔درجہ حرارت بڑھنے سے زمین کے قدرتی نظام میں خلل پڑتا ہے۔

    عالمی حدت کے باعث انسان کو مختلف مسائل کا سامنا ہے مثلاً زمین کے درجہ حرارت کے باعث برفانی تودوں کا تیزی سے پگھلنے سیلاب کے خطرات پیدا ہورہے ہیں ،اس کی وجہ سے سمندروں کا پانی گرم سے گرم تر ہو رہا ہے، اس کے اثرات پاکستان میں بسنے والی ہر مخلوق پر پڑیں گے عالمی حدت پانی کے چکر کو متاثر کرتی ہے ، اور اس کے ساتھ پینے کے پانی تک رسائی ہوتی ہے تو ، بیماریوں خصوصا سانس اور جلد کی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر عالمی حدت کو روکا نہیں گیا توو وہ مقام آ سکتا ہے کہ کہ زمین پر انسانوں کی بود و باش مشکل ہو جائے گی ،اس کا حل صرف اور صرف درخت لگانا ہے۔

    عالمی حدت پر کنٹرول کا ایک نسخہ اب ہماری دسترس میں ہے وہ ہے "درخت لگانا” ۔ درخت نہ صرف صدقہ جاریہ ہیں بلکہ اس وقت پاکستان اوردنیا کی سب سے بڑی ضرورت ہیں،درخت دن کے وقت کاربن گیس جذب کر کے آکسیجن گیس خارج کرتے ہیں درخت انسانوں کے دوست اور زمین کا زیور ہیں ۔درخت انسانوں کو نہ صرف آکسیجن، سایہ، پھل ،میوہ جات اور ایندھن مہیا کرتے ہیں بلکہ یہ ماحول کو آلودگی سے بھی بچاتے ہیں، زمین کو زرخیز کرتے ہیں، جنگلی حیات کا مسکن ہیں، زمینی کٹائو میں کمی لاتے ہیں ،سیلاب کو روکتے ہیں اور درجہ حرارت کو کم رکھتے ہیں،درخت دن کے وقت کاربن گیس جذب کر کے آکسیجن گیس خارج کرتے ہیں ۔ درخت ماحولیات کو سازگار اور موسم کو اعتدال پر رکھنے میں معاون ہوتے ہیں.

    درخت ہمارے قدرتی ماحول کو آلودگی اور عالمی حدت سے بچاتے ہیں۔ مگربدقسمتی سے پاکستان میں شب و روز درختوں کو بے دردی کے ساتھ کاٹے جارہا ہے، جس سے فضا میں آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا توازن یقینی طور پر بگڑ سکتاہے اور یہ عالمی حدت میں اضافہ کا اہم سبب بن جائے گا کیونکہ جس حساب سے درختوں کی کٹائی ہوگی، اس تناسب سے پیڑ پودے نہیں لگائے جائیں گے۔ ہم روزانہ اپنے آس پاس میں بھی یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ آبادی میں اضافہ کے سبب جس بے دردی کے ساتھ درختوں کو کاٹا جاتا ہے، اس کے مقابلے نئے پیڑ پودے نہیں لگائے جاتے۔ بہرحال یہ بات قطعاً فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آج پاکستان میں عالمی حدت کے لیے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کو بھی اہم سبب مانا جاتا ہے۔ 

    پاکستان کو عالمی حدت کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے۔آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ نے شجر کاری کی بہت زیادہ تاکید کی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے”اگر قیامت قائم ہو جائے، اور تم میں سے کسی شخص کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو، اور اسے قیامت قائم ہونے سے پہلے پودا لگانے کی مہلت مل جائے تو وہ اس پودے کو لگا دے” اگر کوئی شخص ایک پودا لگائے تو اس کو قیامت تک اس کا اجر ملتا رہے گا لہٰذا ضروری ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے مشن میں حکومت کی مکمل معاونت کریں اورجہاں بھی وزیر اعظم عمران کے بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت دس بلین درخت لگانے کا پروگرام منعقد ہو بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔اس سے ثواب بھی ملے گا آکسجن بھی ملے گی سایہ بھی ملے گا۔نہ صرف درخت لگا کر جان چھڑانی ہے بلکہ اس کی حفاظت بھی کرنی ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔اس لیے ہر فرد ایک درخت لازمی لگاٸیں ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا عمل پاکستان کو عالمی حدت کے تباہ کن اثرات سے بچانے کا سبب ہوگا۔ اور یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے کہ جس کا فاٸدہ ہماری آنے والی نسلوں کو ہوگا۔

    اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
    جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

    اللہ پاک ﷻہمارے ملک پاکستان کو سر سبز و شاداب رکھے ۔آمین!!

  • آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں عمران خان کے نقش قدم پر چلنے لگیں

    آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں عمران خان کے نقش قدم پر چلنے لگیں

    آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں
    پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چلنے اور
    جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی خواہشمند ہیں، عام انتخابات میں کامیابی کے لیے سیاسی پارٹیاں اور وزارت عظمیٰ کے نامزد امید وار ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ اسی ضمن میں کئی سیاسی پارٹیاں اور امیدوار 2021 کے انتخابات میں اپنے کارکنوں اور انتخابی ٹیموں کو منظم کرنے اور ووٹروں کو پولنگ کے لیے متحرک کر کے اپنے حق میں نتائج حاصل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں جیسا کہ 2018 کے عام انتخابات میں وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا۔ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد کا تعلق بیرون ملک سے ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقف بھی ہیں اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے خواہشمند بھی ہیں. لہٰذا اطلاعات کے مطابق کئی سیاسی پارٹیوں نے اس سلسلے میں مختلف ذرائع سے winelection.ai کی اس ٹیم کے ساتھ رابطہ کیا ہے جنہوں نے 2018 میں پی ٹی آئی کے لیےکانسٹچوینسی مینجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس ) بنایا اور اس پر عملدرآمد کرایا تھا۔ پی ٹی آئی کی مرکزی لیڈر شپ کی جانب سے اس سسٹم کی افادیت کے بھرپور اعتراف کے ساتھ ساتھ نیوز ایجنسی رائٹرز اور معروف بین الاقوامی اخبارات نے انتخابات کے بعد اپنی رپورٹ میں، پی ٹی آئی کی کامیابی میں سی ایم ایس کے نمایاں کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اسے پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی میں ایک کلیدی ہتھیار قرار دیا تھا. جس کے ذریعے پی ٹی آئی نے انتخابات سے قبل الیکشن ڈے مینجمنٹ کی مکمل تیاری کے علاوہ اپنے تمام ووٹروں کی نشاندہی، پولنگ کے دن تمام ووٹروں سے رابطہ، پولنگ اسٹیشن ٹیموں کے ذریعے ہر ووٹ کی کاسٹنگ اور پولنگ اسٹیشنوں سے بروقت نتائج کا حصول یقینی بنایا تھا. پی ٹی آئی کے انتخابی امیدواروں کی اکثریت نے عمران خان کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تاکید پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے حلقوں میں سی ایم ایس پر عملدرآمد کرایا تھا. جس کی بدولت ان علاقوں میں بھی جہاں رابطے کے دیگر ذرائع ناقص تھے، وہ اپنے ہر ووٹ کے حصول میں کامیاب رہے جبکہ دیگر پارٹیاں ہاتھ پاؤں مارتی رہ گئیں تھیں.

  • اسامہ بن لادن فریڈم فائٹر یا دہشتگرد .تحریر: عمار احمد عباسی

    اسامہ بن لادن فریڈم فائٹر یا دہشتگرد .تحریر: عمار احمد عباسی

    وزیراعظم عمران خان کا بین الاقوامی میڈیا کو دیا گیا انٹرویو اور پھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا افغان میڈیا کو دیا گیا انٹرویو دونوں میں ایک چیز کی مماثلت ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ بین الاقوامی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو جائے مگر اس تناظر میں طالبان کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب افغان صحافی نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اسامہ بن لادن کا پوچھا کہ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اسامہ بن لادن کو شہید کہا تھا تو کیا آپ بھی اسامہ کو شہید سمجھتے ہیں؟؟ جس کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے اسامہ ماضی بن چکا ہے مگر صحافی کے اسرار کرنے پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسامہ بن لادن نے افغان عوام کے لیے کوئی تشدد کا راستہ نہیں اپنایا جس کا مطلب کہ انہوں نے اِسے دہشتگرد ماننے سے انکار کر دیا ۔ چلیں ماضی کے کچھ حصوں کا زکر کرتے ہیں جس کی بنیاد پر آپ اسامہ بن لادن کو فریڈم فائٹر یا دہشتگرد کہا جائے۔

    جب نائن الیون کا واقعہ ہؤا تو القاعدہ نے اس کی زمہ داری قبول کی جس کے نتیجے میں امریکی افواج نے افغانستان میں چڑھائی کر دی مگر اُس وقت میں دنیا کی بہترین اور موجودہ دور میں بھی دنیا کی بہترین ٹاپ تین خبرایجنسی میں سے ایک "Reuters” ہے جس نے نائن الیون حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کو دہشتگرد لکھنے سے انکار کر دیا جس پر پوری دنیا کو تشویش ہوئی اور امریکہ نے بھی اس پر بھرپور احتجاج کیا مگر "Reuters” انتظامیہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن مسلم دنیا کے لیے فریڈم فائٹر ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے موٹیویشن ہے اِس لیے ہم اُسے دہشتگرد نہیں لکھیں گے۔

    مگر سچ تو یہ ہے کہ سویت یونین کی افغان چڑھائی کے دوران اسامہ بن لادن کو سعودی عرب سے بلایا گیا اور امریکہ نے اسلحہ فراہم کیا اور پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ساتھیوں کو افغان جہاد میں امریکہ کے کہنے پر استعمال کیا اور امریکہ نے ہر سہولت فراہم کی اور یوں امریکہ کی مدد سے سویت یونین کو شکست ہو گئی مگر پھر اس افغان جہاد کے بعد اسامہ بن لادن کو بطور فریڈم فائٹر متعارف کرایا گیا مگر جب اس عرصے میں امریکی اسلحہ جو پاکستان نے محفوظ کر لیا تھا اس کو اجڑی کیمپ میں اسلحہ ڈپو میں ہی تباہ اور ناکارہ کر دیا گیا۔

    سوال یہ ہے کہ اگر اسامہ بن لادن دہشتگرد تھا تو اس وقت دہشتگرد کیوں نہیں کہا گیا کہ جب اس نے افغان جہاد میں سویت یونین کے خلاف جہاد کیا اور کئی لوگوں کو مارا تو کیا یہ سب درست تھا؟؟ اگر آپ کے نزدیک دہشتگردی کی تعریف یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے مخالف قوتوں کے خلاف لڑنا بہادری اور امریکہ اور اس کی حامی قوتوں کے خلاف لڑنا دہشتگردی ہے تو آپ کو اپنی اس دہشتگردی کی تعریف پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔۔ جب ایبٹ آباد آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کو قتل کر دیا گیا تو بہت سے سوالات اٹھائے گئے مگر سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کا علمبردار امریکہ اسامہ کے معاملے میں انسانی حقوق کیوں نہیں برقرار رکھ پایا؟؟ بن لادن کو قتل کرنے کے بجائے اسے صدام حسین کی طرح پروسیکیوشن کا حق کیوں نہیں دیا گیا؟؟ کیا مہذب معاشرے میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کو سراہا جاتا ہے؟؟حقیقت تو یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کو اس طرح قتل کر کے مسلم دنیا میں ہیرو بنا دیا جس کی وجہ سے مسلم دنیا میں لوگ اسے آج بھی ہیرو اور فریڈم فائٹر مانتے ہیں۔کسی معصوم اور بے گناہ کی جان لینا دہشتگردی ہے اس کا تعلق کسی رنگ و نسل سے نہیں ہوتا مگر افغان جہاد کے بعد اور نائن الیون کے بعد اس دوران کچھ لوگوں کو یہ چیز نظر کیوں نہیں آئی کہ داڑھی سے انکار پر لوگوں کی گردنیں اُڑا دی گئی اور ان کے ساتھ فٹبال کھیلا گیا یہ سب چیزیں نائن الیون کے بعد ہی کیوں نظر آئیں؟؟
    امریکی مفادات میں کسی کو فریڈم فائٹر یا دہشتگرد کہنا زوال کی نشانی ہے۔

  • خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    سیدہ طیبہ طاہرہ عابدہ .یعنی خاتون جنت پہ لاکھوں سلام

    اس نیلے آسمان کے نیچے اور زمین کے اس سینے پر محسن انسانیت کو سب سے عزیز ترین اگر کوئی شخصیت تھی تو وہ آپ کی لخت جگر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا تھیں۔آپ نے اپنی اس جگرگوشہ کوجنت میں عورتوں کی سردار قرار دیا۔ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی خوشبو سونگھ کرفرماتے کہ ان میں سے مجھے بہشت کی خوشبوآتی ہے کیونکہ یہ اس میوۂ جنت سے پیداہوئی ہیں جو شب معراج جبرائیل نے مجھے کھلایاتھا۔

    حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی پیدائش مبارکہ بعثت نبوی کے پانچویں سال ہوئی۔یہ صبح صادق کاوقت تھا،جمعۃ المبارک کادن اور21ربیع الثانی کی متبرک تاریخ تھی۔آپ خاص قریش،آل بنی ہاشم،بنی عبدالمطلب اور اہل بیت نبوی میں سے تھیں۔امت مسلمہ کے ہاں آپکی عقیدت کسی بھی اور خاتون سے کہیں زیادہ ہے ۔ آپکی پہچان صرف آپکی ذات مبارکہ یا آپکاحسب و نسب ہی نہیں بلکہ آپکی آل و اولاد اورآپکی نسل بھی عالم انسانیت میں قابل فخروقابل ستائش ہے۔

    سیدہ فاطمہ کے مشہور القابات ’’زہرا‘‘اور’’سیدۃ النساء العالمین‘‘ہیں اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپکو دنیا و جنت کی خواتین کی سردارقراردیاتھا۔آپکی مشہور کنیت ’’ام الائمہ‘‘ہے ، آپکے 2 فرزندان حضرت امام حسن علیہ السلام اورحضرت امام حسین علیہ السلام کے باعث آپکو’’ام السبطین‘‘اور’’ام الحسنین‘‘بھی کہاجاتاہے۔آپ کو خاتون جنت،الطاہرہ،السیدہ وغیرہ سے بھی یاد کیاجاتاہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو بلاکر فرمایا:مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے کہ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی آپ سے کروں ۔یکم ذوالحجہ 2 ہجری کو 500درہم حق مہر کے عوض یہ نکاح عمل میں آیا۔

    جب بھی بیمارہوتیں تو حضرت علی علیہ السلام کچھ لانے کاپوچھتے توفرماتیں: میرے والد محترم  نے مجھے منع کیا ہے کہ میں آپ سے کچھ مانگوں۔اگر کوئی صبر وقناعت کی زندہ تصویرکودیکھنا چاہے تو آپکی زندگی کامطالعہ کرے۔

    فاقوں پر فاقے گزرجاتے تھے لیکن آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس گھرانے کی چوکھٹ سے کوئی سوالی خالی نہ جاتاتھا۔یہ وہ گھرانا ہے جس پر درودپڑھے بغیرمسلمانوں کی نماز ہی مکمل نہیں ہوتی ۔صبرواستقامت کا پہاڑ یہ خاتونِ جنت وصال نبوی کے کچھ ہی ماہ بعد 3 جمادی الثانی 11 ہجری کو اس دارفانی سے کوچ فرماگئیں۔ ان ہستیوں سے تعلق و عقیدت ایمان کی نشانی ہے۔
    آؤ در زہراء پر پھیلائے ہوئے دامن
    ہے نسل کریموں کی لجپال گھرانہ ہے

  • ڈوراورڈومور.تحریر : محمد ناصراقبال خان

    ڈوراورڈومور.تحریر : محمد ناصراقبال خان

    قادروکارساز اللہ رب العزت نے قرآن مجید فرقان حمیدکی سورة المائدة میںاِرشاد فرمایا ” کسی ایک اِنسان کاناحق قتل پوری انسانیت کاقتل جبکہ ایک انسان کی جان بچاناپوری انسانیت کوبچانے کے مترداف ہے”۔نام نہا د روزگار یاشوق کیلئے دوسروں کی زندگی سے کھیلنے والے معاشرے کے مٹھی بھر گمراہ لوگ زندگیاں بچانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانیوالے پولیس اہلکاروں کوگالیاں دیتے ہیں ۔اے کاش پتنگ سازی اورپتنگ بازی کے” عادی” اور”فسادی” اِس فرمان الٰہی پرغور کرتے ہوئے اپنا ا پنا گھناﺅناکاروباربند اورمذموم شوق ترک کردیں کیونکہ پتنگ بازی ایک ایسا”جنون” ہے جس نے اب تک ہزاروں انسانوںکوان کے اپنے "خون” میں ڈبودیا ہے۔پتنگ ساز اورپتنگ بازیادرکھیں اللہ ربّ العزت کے حقوق کی معافی بھی کافی ہے لیکن حقوق العباد میں معافی کے ساتھ ساتھ تلافی بھی از بس ضروری ہے ۔ معافی اورتلافی کے بغیر والے معاملات میں فیصلہ روزِمحشر ہوگا۔اپنے ناپسندیدہ معاملات کے فیصلے دنیا میں ہی کرواکے جانابہتر ہے کیونکہ حشر کے معاملات بہت نازک ترین ہوں گے۔پتنگ ساز اورپتنگ باز یادرکھیں وہ جانے انجانے میں ہرچندروز بعد کسی نہ کسی بیگناہ انسان کی زندگی کی ڈور کاٹ رہے ہیں اوریہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ قتل عمد ہے لہٰذاءاگر قانون کی کمزوری ،بیچارگی،عدم دلچسپی یاناقص ترجیحات کے سبب انہیں اِس جہان میں ا پنے ہاتھوں کسی بیگناہ کے قتل کی سزانہ ملی تواُس جہان میں مخصوص”گناہ” کابھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔دھاتی ڈور سے بیگناہوں کادلخراش قتل وہ” درندگی” ہے جس پرقاتل کو”شرمندگی "تک نہیں کیونکہ وہ درندے اپنے گناہ اورانجام سے انجان ہوتے ہیں۔ہماری "زندگی” معبود کی” بندگی” کیلئے ہے لہٰذاء”درندگی” کامظاہرہ کرنیوالے عناصرقابل گرفت اورناقابل رحم ہیں۔پتنگ سازوں اور پتنگ بازوں کی دھاتی ڈورہرگزکسی شہری کی قاتل نہیں کیونکہ وہ عناصر خود ان بیگناہوں کے قتل میں براہ راست ملوث اور زیردفعہ 302 سپیڈی ٹرائل کے مستحق ہیں ۔پتنگ ساز اورپتنگ باز وہ بدنصیب ہیں جوخودتوایک دن مرجاتے ہیں لیکن ان کاگناہ زندہ رہتاہے ۔اب ہمارے ہاں ہرشب برات کو سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے معافی طلب کی جاتی ہے اورپھر سال بھر ہم دوسروں کوپریشان اوران کے حقوق پامال کرتے ہیں۔گردن پرڈورپھرنے سے مارے جانیوالے کاکوئی نہ کوئی قاتل ضرورہوتا ہے لیکن اسے اپنے اس گھناﺅنے فعل کی اطلاع نہیں ہوتی اوروہ مزے کی نیندسوتاہے لیکن جب اُس کی موت کے بعدرشتہ داراسے اندھیری قبر میں اتاردیں گے توپھر وہاں وہ یقیناعذاب کاسامناکرے گا۔اپنے ہاتھوںکسی بیگناہ کی ناحق موت کے بعد کوئی قاتل مرقد میں چین سے نہیں رہ سکتا ۔

    جومحکمہ پولیس سے نفرت کرتے اوراہلکاروںکو گالیاں دیتے ہیں وہ یادرکھیں ہماری اورہمارے پیاروں کی زندگی کی حفاظت ان کافرض منصبی ہے اوراپنا فرض اداکرتے ہوئے اب تک پندرہ سوسے زائد پولیس آفیسر اوراہلکاروں نے جام شہادت نوش کیاہے جبکہ جوہرٹاﺅن بم دھماکے میں زخمی باوردی پولیس اہلکار کا پراعتماد چہرہ بھی سب نے دیکھا ہے لہٰذاءکسی آفیسراوراہلکار کاناپسندیدہ انفرادی فعل دیکھتے ہوئے محکمہ پولیس کی قابل رشک اجتماعی خدمات سے انکار اورقربانیوں کوفراموش نہ کریں۔یادرکھیں ون ویلنگ اورپتنگ بازی "خون” اور”جنون” کاتاریک راستہ اورقیمتی انسانی جانوں کیلئے مہلک ہے۔ ہمارے پیاروں کی زندگی کوون ویلنگ اورپتنگ بازی کی صورت میں انتہائی مہلک خطرات سے بچانے کیلئے ہمارے وردی پوش سرفروش اپنی زندگیاں تک داﺅپرلگادیتے ہیں اسلئے ان کی قدر،عزت اوران پراعتماد کے ساتھ ساتھ ان سے بھرپورتعاون کریں۔ ہماری خدمت اورحفاظت پولیس اہلکاروں کافرض جبکہ ان کی مدد کرناشہریوں پرقرض ہے ۔ ڈور سے ہونیوالے قتل عام کے بعد کوئی زندہ ضمیر پتنگ سازی اورپتنگ بازی کاتصور بھی نہیں کرسکتا۔مختلف واقعات میںشاہراہو ں پر جاتے ہوئے شہ رگ پرڈور پھرنے سے کئی معصوم بچوں سمیت مردوزن تڑپ تڑپ کرموت کی گھاٹ اترے اورباری باری ان کاجنازہ اٹھالہٰذاءاس کے باوجود پتنگ سازی اورپتنگ بازی سے باز نہ آنیوالے” لوگ” یقینامردہ ضمیراورانسانیت کیلئے "روگ” ہیں۔پتنگ بازی کاحامی مٹھی بھر طبقہ اس نام نہاد ثقافت کوزندہ رکھنا چاہتا ہے جبکہ اس سے بیزار لوگ غالب اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی خاموش ہیں جبکہ ا ن کی اس مجرمانہ خاموشی نے انہیں قاتل بنادیا ہے کیونکہ جہاں کسی مقتول کا قاتل بے نام ونشاں ہووہاں معاشرے کو قتل میں ملوث سمجھاجاتاہے لہٰذاءمعاشرے کاہرفرد اورطبقہ ون ویلنگ ،پتنگ سازی ،پتنگ بازی،جعلی ادویات کی تیاری وتجارت،بچوں سمیت خواتین پرجنسی تشدد ،منشیات کی فروخت اوراس کا استعمال روکنے کیلئے اپنااپناکلیدی کرداراداکرے۔جس چاردیواری میں پتنگ سازی اورجس چھت پرپتنگ بازی ہوتی ہے وہاں آس پاس پڑوسی توہوتے ہیں توپھروہ کیوں پولیس کواطلاع نہیں کرتے،میں ان شہریوں کو پتنگ سازوں ،پتنگ بازو ں کاسہولت کار اورشریک مجرم سمجھتاہوں ،انہیں بھی قتل عمد کے مقدمات میں نامزد کیاجائے،خدانخواستہ آئندہ ڈور سے قتل ہونیوالے بچے یا شہری کاتعلق ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے سواس وقت سے ڈریں اورایک معاون کی طرح اپنی محافظ پولیس کی مددکریں ۔

    ہمارے ہاںڈورکوقاتل کہاجاتا ہے توپھریقینامرنیوالے مقتول ہیں لہٰذاءانہیں جاںبحق کہنا انصاف نہیں۔ہر وہ تھانہ جس کی حدودمیں ڈور سے کسی شہری کاقتل ہووہ نامعلوم قاتل کیخلاف قتل عمد کی دفعات کے تحت مقدمات درج اوربعدازاں وہاں سے گرفتارہونیوالے شرپسند پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کوان مقدمات میں نامزد اورچالان کرے ۔آئے روزدھاتی ڈور پھرنے سے قیمتی انسانی جانوں کاضیاع قومی المیہ ہے ،اگر دھاتی ڈور سے اموات محض ایک حادثہ ہیں توپھر ایس ایچ اوزکومعطل کیوں کیاجاتا ہے،یہ معطلی کوئی راہ حل نہیں۔پولیس حکام اپنے کس کس ماتحت ایس ایچ او کومعطل کریں گے جبکہ ا یس ایچ او کی معطلی کے باوجود پتنگ بازی کاسلسلہ معطل نہیں ہوتا۔ پولیس تنہا پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کا ناطقہ بند نہیںکرسکتی ، اپنے پیاروں کو” ڈور” سے بچانے کیلئے شہریوں کی طرف سے” ڈومور” ناگزیر ہے۔ شاہراہوں پررواں دواں بیگناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے درندے تختہ دار کے مستحق ہیں ۔ راقم کی تجویز کی روشنی میں پولیس نے پتنگ بازوں کیخلاف کریک ڈاﺅن کیلئے ڈرون کیمروں کا استعمال شروع کردیا ہے ، میرے پاس مزید انتہائی موثر تجاویزہیں لیکن آئی جی پنجاب سمیت کوئی سننے کیلئے تیار نہیں کیونکہ کسی مقتول سے ان کاخونی رشتہ نہیں ہے ۔ حکمران اور پولیس حکام خون کی ہولی روکنے کیلئے مختلف طبقات کی نمائندہ شخصیات کے ساتھ مکالمے کااہتمام کریں ۔پتنگ بازی ،منشیات اورجنسی درندگی سمیت مختلف سماجی اورمعاشرتی برائیوں سے نجات کیلئے تعلیمی نصاب ،اساتذہ اورعلماءحضرات سے بھرپور مدد لی جاسکتی ہے ۔پتنگ سازو ں اورپتنگ بازوں کیخلاف منظم اورموثر کریک ڈاﺅن کیلئے” ابابیل سکواڈ” بنایا جبکہ باشعور شہری رضامند ہوں تو ان سے رضاکارانہ کام لیاجائے اورحکام ان کانام صیغہ رازمیں رکھیں۔پولیس پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کامحاصرہ اورمحاسبہ کرنے کیلئے اپنے پرائیویٹ انفارمرز کومتحرک کرے۔

    لاہور کے پروفیشنل اورجہاندیدہ سی سی پی او ایڈیشنل آئی جی غلام محمودڈوگر جبکہ لاہورکے نیک نیت اورزیرک ڈ ی آئی جی آپریشنز ساجدکیانی کی انتھک قیادت میں ان کے مستعد ٹیم ممبرز پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کے تعاقب کرتے ہوئے ان کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں۔غلام محمودڈوگر اورساجدکیانی تھانہ کلچر کی تبدیلی کیلئے کوشاں اوراس نیت سے مختلف تھانوںکادورہ کرتے ہیں ،وہ تھانہ فیکٹری ایریا ،کوٹ لکھپت اورنواب ٹاﺅن کی عمارتوں کامعائنہ کرنے کیلئے وہاں کاسپیشل وزٹ کریں۔تھانہ” نواب ٹاﺅن” کانام سن کرلگتا ہے یہ تھانوںکا”نواب” ہوگالیکن تھانہ” نواب” ٹاﺅن کی عمارت کسی جھونپڑی اورجھگی سے بدتر ہے جبکہ اس کے اطراف میں جھاڑیاں خطرے سے خالی نہیں ۔ تھانہ فیکٹری ایریا کو ایک کھنڈر نمابوسیدہ عمارت میں منتقل کرنااور اہلکاروں کی زندگی داﺅپرلگاناانصاف نہیں، یقینا کوئی ایس پی دوگھنٹوں تک اس عمارت میں نہیں بیٹھ سکتا،اسے فوری کسی جدید اورمحفوظ عمارت میں شفٹ کیاجائے ۔ لاہورپولیس بیک وقت کئی محاذوں پرسربکف ہے تاہم غلام محمودڈوگر اور ساجدکیانی کے سخت،درست اوردوررس اقدامات سے پتنگ بازی پر کافی حدتک قابوپالیا گیا ہے لیکن ابھی انہیں مزید کام کرنا ہوگا ۔روزانہ بنیادوں پرلاہور کے مختلف تھانوں کی حدود سے پتنگ ساز اورپتنگ باز گرفتار ہورہے ہیں لیکن قوانین میں سقم کے نتیجہ میں انہیں فوری ضمانت ملنا ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔چندگھنٹوں کی گرفتاری کے بعد رہائی اورپولیس کی جگ ہنسائی سے معاشرے کو پتنگ سازی اورپتنگ بازی کے نتیجہ میں ہونیوالے کشت وخون سے نجات نہیں ملے گی ۔پتنگ ساز اورپتنگ بازدرندے اورقاتل ہیں لہٰذاءان کے شر سے بیگناہ شہریوں کی حفاظت کیلئے ان درندوں کو زندانوں میں رکھیں،یادرہے ہرقاتل کی طرح ڈور سے شہریوں کوقتل کرنیوالے بھی تختہ دار کے مستحق ہیں۔ سی سی پی او ایڈیشنل آئی جی غلام محمودڈوگر اور ڈ ی آئی جی آپریشنز لاہور ساجدکیانی پنجاب کی منتخب سیاسی قیادت سے ملاقات کریں اور اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میںانہیں تعمیری تجاویز دیں کیونکہ کوئی معاشرہ سخت "قانون "بنائے بغیر” قانون شکنی” نہیں روک سکتا ۔ منتخب ایوان معاشرے کودرپیش چیلنجز کودیکھتے ہوئے قانون سازی کریں ،پتنگ سازی اورپتنگ بازی کاراستہ صرف© "قانون سازی” سے روکاجاسکتا ہے۔

  • گالی کوئی کلچر نہیں .تحریر: ملک ضماد 

    گالی کوئی کلچر نہیں .تحریر: ملک ضماد 

    اسلام سمیت دنیا کے تمام مذاہب میں اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے سب سے زیادہ اسلام میں اخلاقیات کا درس دیا گیا ہے

    خود ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ساری زندگی لوگوں کو اخلاقیات کا درس دیا اور خود اس پر پہلے عمل کیا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار گالیاں دیتے، مختلف القابات سے بلاتے، جادوگر اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے لیکن کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کا جواب نہیں دیا بلکہ ان کے لئے ہدایت کی دعا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی وجہ سے وہ لوگ جو گالیاں دیتے تھے وہ مسلمان ہوئے پھر خود وہ لوگ داعی بنے پھر وہ خود اخلاقیات کا درس دیتے دیتے پوری دنیا میں پھل گئے

    طائف کی گلیوں میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوت و تبلغ شروع کی تو طائف کے لوگوں نے نبی اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم کو طائف سے باہر نکال دیا اور ان کے پیچھے نوجون لڑکوں کو لگا دیا جو ان کو پتھر مارتے رہے پتھر لگنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک سے اتنا خون بہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے مبارک خون سے بھر گئے

    طائف سے باہر نکل کر جب کسی جگہ آرام کرنے بیٹھے تو جبرائیل علیہ السلام آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ میں طائف والوں کو تباہ کر دوں تو نبی کریم ص نے کہا نہیں اللہ پاک ان طائف والوں کی آنے والی نسلوں سے دین کا کام لیں گے

    پھر دنیا نے دیکھا طائف سے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ نکلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالی دینے والے کو بھی دعا دیتے تھے پتھر مارنے والے کو بھی دعا دیتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو بھی درس صبر و تحمل سے رہنا کوئی برا کہے درگزر کروکوئی گالی دے برداشت کروایک حدیث شریف کا مفہوم ہے

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا “گناہ کبیرہ میں یہ بھی ہے کہ انسان اپنے والدین کو گالی دے”۔ صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، “یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دے سکتا ہے؟” آپﷺ نے فرمایا کہ “ہاں ! وہ اس طرح کہ یہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ جواب میں  اس کے باپ کو گالی دے ، یہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ جواب میں اسکی ماں کو گالی دے”

    ( بخاری ، مسلم )

    آج کل ہمارے معاشرے میں گالی کو فیشن سمجھا جا رہا ہے ایک دوسرے کو اگر مخاطب بھی کرنا ہے تو گالی دے کر کیا جا رہا ہے حالانکہ اسلام میں کسی نام بگاڑنے یا گالی دینے والے کے لیے سخت وعید بتائی گئی ہے ہماری عام عوام ہو یا ہمارے ارباب اختیار ہواسمبلی میں بیٹھے ممبران ہوں یا اسمبلی سے باہر سیاسی لوگ دفاتر میں بیٹھے افسران ہوں یا سڑکوں پے کام کرنے والے جس کو بھی دیکھو آج کل اس کے زبان پے گالی عام ہو چکی ہے

    پھر اکثر لوگ گالیاں بھی ماں بہن کی دیتے ہیں جن کو پتہ نہیں ہوتا ان کے بیٹے، بھائی باہر کیا گل کھلا رہے ہیں جو ان ہو اتنے اچھے طریقے سے یاد کیا جا رہا ہے سب سے پہلے ہم انسان ہیں پھر مسلمان ہیں ہمیں بطور معاشرہ یہ سوچنا ہو گا کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے ہم کسی کو گالی دیں اور وہ ہمیں گالی دے گالی دینا اخلاقی، مذہبی، معاشرتی، قانونی، کسی بھی طور پے جائز یا قابل برداشت نہیں اکثر دیکھا گیا ہے دوست ایک دوسرے کو مذاق میں گالیاں دیتے دیتے لڑ پڑتے ہیں اور بات قتل و غارت گری تک پہنچ جاتی ہے پھر وہ دوست جو ایک دوسرے کے بغیر سانس نا لیتے تھے ان کی چھوٹی سی غلطی سے بات خاندانی دشمنی تک پہنچ جاتی ہے ،

    آئیں مل کر اپنے آپ سے شروع کریں اور پھر پورے معاشرے کو اس کی ترغیب دیں گالی نہیں پیار دو پیار محبت کا کلچر عام کرو پیار دو پیار لو کو اپناو

  • پاکستان میں جنسی تشدد کی اہم وجوہات اور انکا سد باب .تحریر : حسن ساجد

    پاکستان میں جنسی تشدد کی اہم وجوہات اور انکا سد باب .تحریر : حسن ساجد

    باغی ٹی وی ویب سائٹ کے توسط سے راقم الحروف نے اپنی گزشتہ تحریر کے ذریعے پاکستان میں بچوں کے ساتھ ہونیوالے جنسی تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ کی طرف ارباب اختیار اور عوام الناس کی توجہ دلانے کی کوشش کی۔ میں باغی ٹی کی انتظامیہ کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک اہم اور توجہ طلب مسئلہ پر میری تحریر کو شائع کیا۔ بڑھتا ہوا جنسی تشدد ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور کسی بھی مسئلہ کو حل کرنے سے پہلے اس کی ممکنہ وجوہات کو تلاش کرنا اہم ہوتا ہے۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے چند اہم وجوہات اور ان کا ممکنہ میری حل آج کی تحریر کا حصہ ہے۔

    1- ماحول، معاشرہ اور شعور:
    کسی بھی جاندار کی طبیعت، مزاج، کردار اور اوصاف پر اس کے ماحول اور معاشرہ کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ انسان پیدائشی طور پر سلیم الفطرت اور معصوم ہوتا ہے۔ انسان خیر اور شر دونوں چیزیں اپنے معاشرے اور اردگرد کے ماحول سے سیکھتا ہے۔ انسان پیدائشی طور پر نیکوکار یا بدکار نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف ایک انسان ہوتا ہے، معاشرہ ہی اس کو اچھائی یا برائی کی جانب راغب کرتا ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں منفی سوچ اور منفی روایات فروغ پا رہی ہیں جن کو سیکھ کر ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ میرے نزدیک جب بری صحبت کا شکار یہ نوجوان اپنے جذبات کی تسکین کے لیے خیر اور شر کی تمیز بھول جاتے ہیں تو ایسے واقعات جنم لیتے ہیں۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو باکردار بنانے اور اس لعنت سے چھٹکارہ پانے کے لیے ان کے ذہنوں سے منفی سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا اور تربیت کے اس فقدان کا خلا پر کرنا ہوگا جس کی بدولت وہ ایک انسان کی بجائے وحشی درندے کا روپ دھار لیتے ہیں۔ کیونکہ ہم معاشرے سے منفی سوچ اور منفی رویوں کو ختم کیے بغیر اس برائی اور اس جیسی دیگر برائیوں سے نہیں بچ سکتے ۔

    اس معاملے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی برائی کو ختم کرنے سے پہلے اس برائی کے متعلق شعور اور اس سے متعلق آگہی کا ہونا ضروری ہے مگر ہمارے نوجوان میں شعور اور آگہی کی کمی ہے ۔ جس کے باعث ہم ایک صحت مند اور باشعور معاشرہ تشکیل دینے سے قاصر ہیں۔ معاشرتی برائیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مثبت روایات کا امین اور تہذیب و اخلاقیات کا پاسدار ایک صحت مند، مہذب، باشعور اور پڑھا لکھا معاشرہ تشکیل دیں جو مثبت سوچ کی حامل ایک ایسی نوجوان نسل تیار کرے جن میں ایسی خرافات بالکل موجود نہ ہوں۔ اور اس طرز کے صحت مند اور تہذیب یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کے سامنے گندی اور فحش گفتگو سے پرہیز کریں۔ ان کے سامنے اخلاقیات سے گری ہوئی گفتگو نہ تو خود کریں اور نہ ہی کسی دوسرے کو کرنے دیں۔ ہم ان کے اندر مثبت سوچوں کو پروان چڑھائیں اور ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں معاشرے کا ایک ذمہ دار اور باشعور شہری بننے میں مدد فراہم کریں۔

    2- والدین اور بچوں کے تعلقات میں کھچاؤ:-

    بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں والدین اور بچوں کے تعلقات اکثر خاندانوں میں کھچاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ والدین اور بچوں کے تعلقات میں اعتماد کی جگہ سختی اور ڈر پایا جاتا ہے۔ جس کے باعث نہ تو بچے کھل کر اپنے مسائل کا اظہار اپنے والدین سے کر سکتے ہیں اور نہ ہی والدین بچوں کو دوستانہ ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں مسائل کو سن کر اس کا مؤثر حل نکالا جائے۔
    یہاں اس بات کا تذکرہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے کہ میری نظر سے چند ایسے واقعات بھی گزرے ہیں جن میں بچوں نے جب والدین سے اپنے ساتھ ہونے والے اس بدترین سلوک کا تذکرہ کیا تو والدین نے ان کو اعتماد دینے اور ان کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے الٹا ان کو ڈانٹ دیا کہ وہ متعلقہ شخص پر الزام تراشی کر رہے ہیں جس کی بدولت بظاہر شرافت کا لبادہ اوڑھے معاشرے کے مکروہ کرداروں کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی اور بہت سے دیگر بچے انکی وحشت کا شکار ہوتے رہے۔ جب تک والدین ایسے مسائل پر اپنے بچوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان پر مؤثر انداز سے کوئی ایکشن نہیں لیں گے یا اپنے بچوں کی شکایات کو محبت سے دوستانہ ماحول میں سن کر ان کے مسائل اور شکایات کو دور کرنے کی مخلص کوشش نہیں کریں گے ہمارے معاشرے میں ایسے مسائل جنم لیتے رہیں گے۔
    ایسے دلخراش واقعات سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ اعتماد کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات قائم کریں جس میں وہ بچوں کو ایسی پیش آنے والی اور دیگر تمام شکایات کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں اور جب بچوں کو ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو وہ بچوں کو ڈرانے یا دھمکانے کے بجائے ان کے ساتھ بہتر اور مثبت رویہ رکھتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کریں۔

    3- غربت، بے روزگاری اور معاشی اضطراب:-
    حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک مبارک حدیث کا مفہوم ہے کہ “قریب ہے کہ تمہاری غربت تمہیں کفر تک لے جائے”۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرتی خرافات کے پیش آنے میں ایک بڑی وجہ غربت اور بے روزگاری بھی ہے۔ میرے نزدیک ایسے واقعات کے بڑھنے کی ایک وجہ غربت، بے روزگاری اور معاشی اضطراب ہے کیوں کہ غربت کے باعث والدین اپنے بچوں کا پیٹ پالنے میں بے حد مصروف ہیں۔ ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچے کی حرکات پر توجہ دیں یا اس سے ملنے جلنے والے افراد پر نظر رکھیں۔
    اب اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو بڑھتی ہوئی بے روزگاری نوجوانوں کو ٹینشن، ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل، معاشی اضطراب اور محرومیاں دے رہی ہے اور نوجوان اس ہیجانی کیفیت سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ فحش بینی، نشہ اور دیگر سماجی برائیوں کی نظر ہوجاتے ہیں۔ ایسے کام کرنے سے ان کے اندر منفی سوچوں کا رجحان بڑھتا ہے جو ان کو سماجی برائیوں مثلاً کرپشن بدعنوانی اور جنسی تشدد جیسے واقعات کی طرف ابھارتا ہے۔
    ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ہنگامی بنیادوں پر اپنے معاشی مسائل کو حل کریں۔ بالخصوص نوجوان طبقہ کی کریئر کونسلنگ پر توجہ دی جائے تا کہ ہمارا نوجوان معاشی بدحالی کا شکار ہو کر سماجی خرافات کی نظر نہ ہو جائے۔

    4- کمزور قوانین اور سماجی بے حسی :-
    کمزور عدالتوں اور ناقص قانون سازی کے حوالہ سے ہم جہاں کرپشن اور بدعنوانی سمیت بہت سے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں وہیں جنسی تشدد کے واقعات کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں کے قوانین اور عدالتی کاروائیاں بہت کمزور ہیں۔ سیاسی دباؤ، اثر و رسوخ رشوت اور دیگر افعال کے ذریعے ہم انصاف کو مظلوم کی پہنچ سے دور کر دیتے ہیں۔ اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا معاشرہ اجتماعی سماجی بے حسی کا شکار ہے۔ کیونکہ ہمیں صرف اپنا ہی درد محسوس ہوتا ہے دوسرے کے درد کو محسوس کرنے کا جذبہ ہم میں ناپید ہوچکا ہے۔ ہم دوسروں کی تکلیف کو محسوس کر کے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے اپنے اوپر اس مصیبت کے نازل ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
    ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم معاشرے میں احساس ذمہ داری، باہمی اخوت اور ایثار کا جذبہ پیدا کریں تاکہ ہم دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے مسائل پر ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ ہمیں اپنے عدالتی نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا اور ہمارے پولیس اور تھانہ کلچر کو بھی ہمیں ٹھیک کرنا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کے رونما ہونے پر ملزمان کو فورا پکڑا جائے اور مناسب سزا دی جائے تاکہ معاشرے میں برائیوں کے خاتمے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    5- علاقائی تہذیب و ثقافت سے انحراف :
    مثل مشہور ہے کہ “جیسا دیس ویسا بھیس”۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارا لباس اور ہمارا طرز زندگی ویسا ہونا چاہیے جیسا اس معاشرے اور کمیونٹی کے باقی تمام لوگوں کا ہے جس میں ہم رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں مغربی طرز زندگی پر کاربند ہونا اور مغربی لباس زیب تن کر کے مکمل طور پر معمول کے مطابق زندگی گزارنا مشکل کام ہے۔ مغربی طرز کا لباس زیب تن کر کے جب بچے اور بچیاں باہر نکلتے ہیں تو خون سونگھنے والے ان درندوں کی نگاہیں ان بچوں کا تعاقب کرتی ہیں جو موقعہ ملتے ہی اپنی تسکین کا سامان پیدا کرلیتی ہیں۔
    ایسے واقعات کو مناسب انداز سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں اور بالخصوص بچیوں کو ایشیائی طرز کا لباس پہنائیں جو ہماری روایات اور ہمارے اردگرد کے ماحول کے متصادم نہ ہو۔ میں وزیراعظم پاکستان کے مختصر لباس کی ممانعت پر دیئے گئے بیانہ کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ کیونکہ مختصر لباس زیب تن کرنا ہماری تہذیب و ثقافت اور ہمارے کلچر کا حصہ نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے خواتین اور بچیوں کا مختصر لباس مردوں میں درندگی ابھارنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے لہذا ہمیں بطور قوم اس کلچر اور اس رواج کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے شعار اور روایات کی پاسداری کرتے ہوئے خود بھی اسلامی لباس زیب تن کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسکی عادت ڈالیں۔

    6- ریاستی اداروں کا کردار:-
    مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کسی بھی ریاست کے چار اہم ستون ہیں۔ معاشرتی و اخلاقی تعمیر میں ان اداروں کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ یہ ادارے اپنے لوگوں کے مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بےشمار واقعات کے ہو جانے کے بعد بھی ریاستی اداروں میں بھی اس مسئلہ کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جانے کے نام پر سیاست تو ہوئی ہے مگر کوئی ٹھوس اقدامات ہمیں نظر نہیں آئے جس کے ذریعے ہم اپنے مستقبل اپنے بچوں اور بچیوں کو اس آگ سے محفوظ رکھ سکیں۔ میڈیا پر بھی محض ٹی وی ریٹنگ بڑھانے اور واقعات کو اچھالنے کا کام ہوتا ہے واقعات کو حل کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روکتھام کے حوالے سے میڈیا بھی اپنا تعمیری کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ میری ان تمام ریاستی اداروں میں بیٹھے ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ “بچے محفوظ مستقبل محفوظ” کے اصول پر عمل پیرا ہو کر مقننہ، عدلیہ اور میڈیا میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ قانون سازی کے عمل کو یقینی بنائیں تاکہ مجرموں کے لیے مؤثر سزاؤں اور قانونی حدود و قیود کا تعین کرتے ہوئے ان واقعات کو روکا جا سکے۔ بحیثیت پاکستانی میری اپنی قوم سے بھی گزارش ہے کہ ہمارے بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں۔ اگر ہم نے یوں ہی بے حسی دکھائی تو کل کو یہ آگ پھیل کر ہمارے گھر تک پہنچ جائے گی اور پھر ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
    لہذا ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ہمیں مل کر آج ہی اس برائی کو روکنا ہوگا تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہو۔ اللہ پاک پاکستان کے ہر بچے اور ہر بیٹی کو محفوظ مستقبل عطا فرمائے اور اسے اس ملک کا وفادار اور باعزت شہری بنائے۔
    آمین