Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹویٹر پہ میرا پہلا دن .تحریر:بشارت محمود رانا

    ٹویٹر پہ میرا پہلا دن .تحریر:بشارت محمود رانا

    آج میں آپ سب کو سنانے جا رہا ہوں اپنی ٹویٹر پہ ہونے والی پہلی اینٹری مطلب میرا پہلا دن اور اِس دوران پیش آنے والے خوشگوار واقعات پہ مبنی کہانی میری زبانی۔۔۔

    جی ہاں ٹویٹر پہ میرا پہلا دن۔۔

    ویسے تو میں ٹویٹر پہ بہت پہلے سے موجود تھا اور ۲۰۱۲ کے شروع میں ہی میں نے ٹویٹر اور فیس بُک پہ اپنا پہلا پہلا اکاونٹ بنالیا تھا۔ حالانکہ فیس بُک پہ میں نے اپنا ایک پیج بھی بنایا ہواہے جس پہ ہزاروں میں میری فالووئینگ بھی ہے اور لوگ مجھے “Pakistan Ka Tiger” کے نام سے جانتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود بھی میں ٹویٹر پہ اتنا ایکٹو نہیں رہا کرتا تھا شائد اسکی وجہ بھی فیس بک ہی تھی اور ٹویٹر پہ بس اتنا سمجھ لیں کہ کبھی مہینے بعد ٹویٹر آن کر کے دیکھ لیا کرنا یا پھرکبھی اس سے بھی زیادہ وقت بیت جایا کرتا تھا۔

    لیکن! پھر ایک دم سے میری سوشل میڈیا زندگی میں چینج آیا جب میں نے ٹویٹر پہ ایک ٹرینڈنگ ٹیم میں شمولیت اختیار کی تو اسی دن کو میں ٹویٹر پہ اپنا پہلا دن تصور کرتا ہوں۔

    تب! شروع کے کچھ دن تو مجھے کافی چیزیں سمجھنے میں ہی گزر گئے جیسے کہ کسی کو ہینڈل کے ساتھ کیسے مینشن یا پھر پکچر میں ٹیگ کیسے کرنا ہے

    یہ سب سمجھنے کیلئے ٹویٹر رولز بھی پڑھے اور کچھ آن ائیر اور کچھ آف ائیر دوستوں سے بھی مدد لی اور یوٹیوب کا بھی بہت شکریہ کہ اس سے بھی بہت سی معلومات حاصل کیں جو میرے لئے بہت مفید ثابت ہوئیں اور بہت سے ایسے سینئرز جو بہت عرصے سے ٹویٹر استعمال کر رہی/رہے تھے اُن میں سے چند ایک سے بات بھی ہوئی اور کچھ سے بات کئے بنا ہی مطلب صرف انکی ٹویٹس کو دیکھ دیکھ کے ہی بہت سی چیزیں سیکھنے کوملیں، اُن سب کا بھی مشکور ہوں۔

    اور یہ سب بتاتے ہوئے میں بالکل بھی شرم محسوس نہیں کر رہا ہوں کیوںکہ کسی بھی چیز کو سمجھنے اور پھر اُس کی جانکاری پہ مکمل عبور حاصل کرنے تک کیلئے ایک باقائدہ پروسیس ہوتا ہے جسے پورا کئے بنا کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اور میں بھی اسی پروسیس سے گزرا۔

    جیسے جیسے مجھے چیزوں پہ عبور حاصل ہوتا گیا (البتہ! سیکھنے کیلئے ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے) تو میں نے دیکھا کہ یہ تو دنیا ہی الگ تھی کہ جہاں پوری دنیا، مطلب ہر ملک سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے جن میں ہیڈ آف سٹیٹس، گورنمنٹس آفیشلز، گورنمنٹس کے ادارے، انٹرنیشنل این جی اوز، انٹرنیشنل نیوز چینلز، انٹرنیشنل نیوز پیپرز، سیاستدان، صحافی، اداکار، سنگرز، رائٹرز، ڈائریکٹرز، شاعر، ادیب، فیشن ڈیزائنرز و آرٹسٹس، بیوٹیشنز یہاں تک کہ ہر طبقہِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ٹویٹر پہ اپنے مداحوں کو لبھانے کیلئے ٹویٹس کرنا اور پھر عام عوام یعنی فالوورز کا ان کو ریپلائی کرنا اور پھر جواباً آپس میں بات چیت تک کا بھی ہونا یقیناً میرے لئے یہ ایک انتہائی خوشگوار تجربہ تھا اور اس سے میں بہت محظوظ بھی ہونا شروع ہو گیا تھا۔

    پھر نیشنل اور انٹرنیشل لیول کے جو ٹرینڈز ہوتے ہیں اُن کے بارے میں بھی پتا چلا اور اس کا تجربہ ہونا بھی میرے لئے ایک نئی چیز تھی کیونکہ اس سے پہلے اکثر میں نے نیوز میں سُن اور دیکھ رکھا تھا کہ کسی کے حق میں یا مخالفت میں ٹویٹر پہ ٹرینڈ ہو رہا ہے اور اُس میں ہزاروں، لاکھوں یا کروڑوں ٹویٹس ہوئی ہیں۔

    اس سفر میں جو کہ اب تک صرف چند ماہ پر ہی محیط ہے، تو اپنے اس سفر کے دوران ایک انٹرسٹنگ بات یہ تھی جس پہ آپ بھی ہنسیں گے کہ میں نے ہر اُس ٹرینڈنگ ٹیمز میں شمولیت اختیار کی جس کے کسی ایک میمبر کا بھی مجھے آٹو انویٹیشن ملا تھا کیونکہ تب تک مجھے آٹو میسج کا بھی پتا نہیں تھا ( اور اب پتا چل جانے پہ میں کسی بھی آٹو میسج پہ کبھی کان ہی نہیں دھرتا) اور پھر میرے اپنے خود کے اصولوں پہ پورا نہ اترنے پہ میں نے کافی ٹرینڈنگ ٹیمز کو خیر باد بھی کہا (اپنے طور پہ وہ سب بھی اچھا کام کر رہی ہیں اُن کیلئے بھی میری نیک خواہشات ہیں) اور پھر اِن ٹرینڈز کے دوران میں نے اِن چند ماہ میں ہی اپنے بہت سے اکاونٹس سسپینڈ بھی کروائے، انٹرسٹنگلی ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک ہی دن میں میرے چار اکاونٹ سسپنڈ ہوگئے وہ لمحہ میرے لئے بہت ہی شاکنگ تھا لیکن! اسے میں اپنے لئے اعزاز بھی سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب اسلام، پاکستان، کشمیر و فلسطین اور اپنے کپتان جناب وزیراعظم عمران خان کے حق میں آواز اٹھانے کا ہی نتیجہ تھا۔ تو ٹویٹر کے اس سفر میں مجھے بہت سے نئے اور اچھے دوست بھی ملے اور بہت سے نئے تجربات سے بھی گزرا۔

    جن میں سے ایک یہ کہ بعض افراد کے اکثر ٹویٹر پہ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات اور مطلب پرستی والی دوستیوں کے بارے ٹویٹس بھی نظر سے گزرے تاہم اب تک میرا ایسے کسی بھی تجربے سے بالکل بھی پالا نہیں پڑا کیونکہ میں تو شروع سے ہی عزت دو کی پالیسی پہ عمل پیرا ہوں اور دوسرے فریق سے کبھی بھی عزت ملنے کی توقع سے نہیں ملا اور ہمیشہ اگلے کو خود سے زیادہ عزت دار اور معتبر سمجھاہے۔

    اور ہمارا پیارا دینِ اسلام اور ہمارے پیارے نبی ص کی تعلیمات بھی ہمیں یہی اصول سکھاتی ہیں کہ “جو تم سے توڑے اُس سے جوڑو اور جو تم سے جوڑے تم اُس سے مزید مضبوطی سے جُڑو” مطلب کہ عزت اور پیار دینے والوں کو ہمیشہ اُن سے بڑھ کے عزت و احترام اور پیار دو اور جو عزت نہیں کرتے اُن کی اور زیادہ عزت کرو تاکہ وہ بھی دوسروں کو عزت دینا سیکھ سکیں۔

    باقی سوشل میڈیا کی طرح ٹویٹر کو بھی میں نے ایک آئینے کی طرح پایا جس میں آپ خود کو اور دوسروں کو اچھے سے جانچ اور پرکھ سکتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی ٹویٹس، پوسٹس اور کمنٹس کے ذریعے اپنے آپ اور اپنی تربیت و اخلاقیات کو عیاں کر رہا ہوتا ہے۔

    اس لئے میرے مطابق تو ہر کسی کو عزت اور احترام دینا ہی مناسب ترین عمل ہے اور اللہ تعالی ہم سب کو اسی پہ عمل پیرا فرمائیں۔ آمین

    چونکہ ہر کسی کا کسی کو (افراد یا ماحول) کو جانچنے اور پرکھنے کا پیمانہ الگ ہو سکتا ہے مگر میں نے تو سوشل میڈیا کو ایسا پایا جسے میں نے اپنی تحریر کے زریعے آپ تک پہنچایا اور یہ تو تھا میرا اب تک کا ٹویٹر کا سفرنامہ جس میں اور بھی بہت سے انٹرسٹنگ واقعات اور تجربات ہیں جو کہ سب اس ایک تحریر میں سنانا ناممکن ہے اور کوشش کروں گا کہ اپنی کسی آنے والی تحریر میں وہ بھی سُنا سکوں

    امید ہے کہ آپ کو میرا یہ خوشگوار سفرنامہ پسند آیا ہو گا۔

  • قومی کرکٹ ٹیم کا ٹریننگ سیشن 7 جولائی سے شروع

    قومی کرکٹ ٹیم کا ٹریننگ سیشن 7 جولائی سے شروع

    دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے اعلان کردہ قومی اسکواڈ میں شامل ٹیسٹ کرکٹرز7 جولائی سے کراچی میں ٹریننگ کا آغاز کریں گے، یہ دس روزہ کیمپ بائیوسیکیورماحول میں لگایا جائے گا، کیمپ مکمل کرنے کے بعد یہ تمام کھلاڑی 21 جولائی کو لاہور کے مقامی ہوٹل میں آئسولیشن کریں گے، قومی ٹیم 26 جولائی کو بارباڈوس روانہ ہوگی، تربیتی کیمپ کی نگرانی ہیڈآف پلیئرز ڈویلمپنٹ ثقلین مشتاق کریں گے، اس دوران نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر کے دیگرکوچزمحمدیوسف، مشتاق احمد، عمررشید اورعتیق الزمان بھی ان کی معاونت کریں گے، فزیوتھراپسٹ امتیازاحمد، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ صبوراحمد اورمساجرعمران سلطان بھی کیمپ میں شرکت کریں گے.
    اس کیمپ میں گیارہ ٹیسٹ کھلاڑیوں عابد علی، اظہرعلی، فواد عالم،عمران بٹ، محمد عباس، نسیم شاہ، نعمان علی، ساجد خان، شاہنواز دھانی، یاسرشاہ اورزاہد محمود کے علاوہ چھ اضافی کھلاڑیوں کو بھی طلب کیا گیا ہے، ان چھ کھلاڑیوں میں عاکف جاوید، عرفان اللہ شاہ، امیرحمزہ، محمد حسن، محمد عمراورسیف اللہ بنگش شامل ہیں.
    کیمپ میں طلب کردہ 25 کھلاڑیوں، کوچزسمیت اورکیمپ میں شامل دیگر پانچ ارکان کی اتوار کے روز کویڈ 19 ٹیسٹنگ کی گئی ہے، جس کے نتائج منفی آئے ہیں، یہ تیس ارکان اب منگل کو کراچی میں اکھٹےہوں گے، جہاں ان کی دوسری کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کی جائے گی۔

  • حارث سہیل کی انجری ٹھیک نا ہوسکی

    حارث سہیل کی انجری ٹھیک نا ہوسکی

    مڈل آرڈر بیٹسمین حارث سہیل ابھی بھی اپنی دائیں ٹانگ میں درد محسوس کررہے ہیں، لہٰذا وہ 5 سے 6 جولائی تک ڈربی میں شیڈول آخری دونوں پریکٹس سیشنز میں شرکت نہیں کریں گے، اسی انجری کی وجہ سے ڈربی میں کھیلے گئے دونوں انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچزمیں بھی شرکت نہیں کی تھی، حارث سہیل کے ری ہیب کا آغاز ہوچکا ہے، تاہم ان کا ایم آرآئی اسکین 6 جولائی کو کارڈف میں ہوگا، جس کا جائزہ لینے کے بعد ہی ان کی انگلینڈ کے خلاف پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں دستیابی کا فیصلہ کیا جائے گا، پاکستان اورانگلینڈ کےمابین تین ایک روزہ اور تین ٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچزپرمشتمل سیریز کا آغاز8 جولائی کو کارڈف سے ہوگا، قومی کرکٹ اسکواڈ 6 جولائی کو ڈربی سے کارڈف روانہ ہوگا۔

  • پیپلز پارٹی نے وفاقی وزرا پر کاروائی کیلیے الیکشن کمیشن کو مراسلہ لکھ دیا

    پیپلز پارٹی نے وفاقی وزرا پر کاروائی کیلیے الیکشن کمیشن کو مراسلہ لکھ دیا

    پی پی پی آزاد کشمیر کے صدرچوھدری لطیف اکبرنے الیکشن کمیشن آزادکشمیرکومکتوب لکھا ہے، جس میں آمدہ انتخابات میں وفاقی حکومت کی مداخلت اور ممکنہ دھاندلی کی نشاندہی کی گی ہے، جسکے مطابق انتخابی مہم قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، الیکشن کمیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزرا لوگوں کو ووٹ بیچ رہے ہیں، جلسے میں خطاب کے دوران پاکستان سے فنڈز دینے کی بات کررہے ہیں، اس خلاف ورزی کا ہمارے پاس وڈیو ثبوت ہے، الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے.

  • ایل اے 2 کے امیدوار نے اپنی پوزیشن کیسے مضبوط کرلیِ؟

    ایل اے 2 کے امیدوار نے اپنی پوزیشن کیسے مضبوط کرلیِ؟

    بڑجن یوسی کنیلی پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں وکشمیر کے سینئیرنائب صدراورامیدوار قانون سازاسمبلی حلقہ ایل اے 2 اسلام گڑھ چکسواری چوہدری ظفرانورکی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے، چوہدری ظفرانورکی جارحانہ اننگ جاری ہے، پیپلز پارٹی اورمسلم کانفرنس کی بڑی وکٹیں گرادیں ہیں، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے کارکنان نے پی ٹی آئی کی ہمایت کا اعلان کردیا ہے، چوہدری عابد حسین، چوہدری محمد خورشید، چوہدری محمد خالد، قمر شہزاد، تیمورادریس، خرم شہزاد، چوہدری ازرم، چوہدری دانیال شبیر، چوہدری انس عابد، چوہدری محمد ایوب، چوہدری حاجی محمد یونس، چوہدری محمد قیوم، چوہدری محمد شاہ نواز، چوہدری ندیم ایوب، جنید علی، چوہدری احمد علی، چوہدری غلام رسول، چوہدری محمد شبیر، چوہدری بنارس سنگال، چوہدری محمد رئیس، عامر سہیل، چوہدری محمد توصیف شبیر، چوہدری حسن رضا، چوہدری محمد فاروق، چوہدری محمد معروف، چوہدری محمد ادریس، عنصر خادم، ناظم حسین، محمد شبیر، چوہدری عمران، چوہدری شیربان، چوہدری عاطف، چوہدری عنصر خادم، حافظ ناظم چوہدری، چوہدری یوسف اور چوہدری طارق نے اپنے کنبے قبیلے سمیت شمولیت کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، کارکنان کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومتوں نے علاقے میں‌ترقیاتی کاموں پر توجہ نہیں دی ہے، علاقے کےمسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے علاقے کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے.
    چوہدری ظفرانور نے شامل ہونے والے افراد کو خوش آمید کہا ہے.

  • انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    جنیوا:کینیڈا سے لے کر روس تک درجہ حرارت بڑھتا ہی جارہا ہے اور اس سے ماہرین اور عوام میں تشویش پھیلانے والے پودوں اور جانوروں کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اور ، اب ، یہ خبریں آرہی ہیں کہ انٹارٹیکا میں بھی گرجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا –

    باغی ٹی وی :یکم جولائی کو قطب جنوبی پر 18.3 ڈگری سینٹی گریڈ کے ریکارڈ درجہ حرارت کی تصدیق کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں مزید متوقع اضافہ ’بھیانک حد تک‘ پہنچ سکتا ہے جو مارچ 2015 میں پچھلی اعلی 17.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک چڑھ گیا تھا۔

    حالیہ تحقیقات سے بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ برفانی براعظم قطب جنوبی (انٹارکٹیکا) اور گرین لینڈ کے اوسط درجہ حرارت میں صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ کے اضافے سے بھی وہاں جمی ہوئی کھربوں ٹن برف پگھل سکتی ہے جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح 43 فٹ تک بلند ہوسکتی ہے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ اس مقام تک پہنچ گیا تو پھر شاید ہمارے پاس ماحول کو دوبارہ درست کرنے کا کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔

    انٹارکٹیکا کا اوسط درجہ حرارت ساحلی علاقوں میں منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ براعظم کے درمیان بلند ترین مقامات پر منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔

    گرمیوں میں انٹارکٹیکا کا اوسط ساحلی درجہ حرارت گرمیوں میں 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے کچھ زیادہ، اور سردیوں میں منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے جبکہ جمعہ کے روز انٹارکٹیکا میں 18.3 ڈگری سینٹی گریڈ کے ریکارڈ درجہ حرارت کی تصدیق، اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ’’عالمی موسمیاتی تنظیم‘‘ (ڈبلیو ایم او) نے کی تھی۔

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    یہ درجہ حرارت انٹارکٹیکا میں ارجنٹائن کے تحقیقی مرکز ایسپیرینزا نے 6 فروری 2020 کے روز ریکارڈ کیا تھا۔ البتہ انٹارکٹیکا میں بلند ترین درجہ حرارت 30 جنوری 1982 کے روز، 19.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    اس سال 9 فروری کو انٹارکٹیکا میں برازیل کے تحقیقی مرکز نے بھی وہاں 20.75 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت معلوم کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن ڈبلیو ایم او نے تجزیئے کے بعد اس ریکارڈ کو مسترد کردیا ہے۔

    پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی

    عالمی موسمیاتی تنظیم کے اوّل نائب صدر اور ارجنٹائن میں محکمہ موسمیات کے سربراہ ڈاکٹر سیلیستو ساؤلو نے کہااس نئے ریکارڈ سے ایک بار پھر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کےلیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے-

    دوسری جانب عالمی موسمیاتی تنظیم کے سیکریٹری جنرل، پیٹیرے تالاس نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ برفانی براعظم انٹارکٹیکا، دنیا میں سب سے تیزی سے گرم ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں کا اوسط درجہ حرارت پچھلے پچاس سال میں 3 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

    گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

  • علی امین ووٹ کی بولی لگانے لگ گئے

    علی امین ووٹ کی بولی لگانے لگ گئے

    کوٹلی آذاد کشمیرمیں وفاقی وزیرامورکشمیرعلی امین گنڈا پوری نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ووٹ‌ کی لیڈ پرایک کروڑ کا پیکج دیں گے، آزاد کشمیرمیں ہماری حکومت بنتی ہے تو 500 ارب روپے کا پیکج دیں گے، وفاقی وزیر کے وہاں ہونے سے کشمیر میں لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے.
    اسی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرمواصلات مراد سعید نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر کی الیکشن مہم شروع کرنے آئے تھے، مگر آپ نے جیت کا فیصلہ دے دیا ہے.
    علی امین اورمراد سعید کے اس بیان کو لے کرمسلم لیگ ن یوتھ ونگ یورپ کے چئیرمین راجہ محمد خالد نے پی ٹی آئی کے وزرا پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزرا آزاد کشمیر کی الیکشن کمین میں بیہودہ اورگالیوں والی زبان استعمال کررہے ہیں، ایک ووٹ ایک کروڑََِِِکی بولی لگا کرانتخابی اصلاحآت کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کررہے ہیں، وفاقی وزرا کے خلاف کاروائی کی جائے، ان حلقے کے امیدواروں کو نا اہل کیا جائے، پاکستان میں گالیوں کے کلچر کو فروغ دینے والی جماعت پی ٹی آئی کشمیر کی پرامن فضا کو آلودہ کررہی ہے، کشمیر کا سودا کرنے والی جماعت جس راستے پر چل رہی ہے اس کے آگے راجہ فاروق حیدر جرات کے ساتھ ان کا مقابلہ کررہے ہیں، کشمیرکی عوام اپنی ووٹ کی پرچی سے ان کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیں گے.

  • ‏عالمی سیاست اور پاکستان کو درپیش خطرات!     تحریر: ایمان ملک

    ‏عالمی سیاست اور پاکستان کو درپیش خطرات! تحریر: ایمان ملک

    وہ ریاستیں جو عالمی سیاست کے گہرے پانیوں میں قومی مفاد کو بالائے طاق رکھتی ہیں اور خاص طور پر دوسروں کے تنازعات میں بے جا الھجنے کی بجائے اپنے لئے ایک قابل و مؤثر خارجہ پالیسی کے انتخاب کو ترجیح دیتی ہیں دور حاضر کے چیلنجز میں صرف وہی کامیاب ہونگی۔ بدقسمتی سے ، ماضی قریب و بعید میں متعدد پاکستانی حکومتیں اس طرح کے اقدامات کو اپنانے میں ناکام رہی ہیں ، مثال کے طور پر، افغانستان پر سوویت حملے کے بعد ملک کو سرد جنگ کی سیاست میں دھکیلنا اور ساتھ ساتھ پاکستان کو افغانی دلدل میں دھنسانا اور تو اور بدلے میں تیس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ بنا کسی عالمی امداد کے بلا چوں چراں اپنے ناتواں کندھوں پر قبول کرنا وہ چند چیدہ چیدہ غلطیاں ہیں جن کی بڑی بھاری قیمت ہم تا حال ادا کر رہے ہیں۔
    اب جبکہ خطے میں ایک اور جغرافیائی سیاسی محاذ آرائی (مغربی کیمپ بمقابلہ چین کی صورت میں) سامنے آرہی ہے تو پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے ضمن میں کچھ سخت انتخابات کرنے اور فیصلے لینے کی اشد ضرورت محسوس ہوگی۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے رواں ہفتے منگل کے روز چینی ریاست کے نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کو بتایا کہ پاکستان کسی بھی بیجنگ مخالف گروپ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔ پاکستان کے "سب کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے چاہئیں” ، عمران خان نے چینی میڈیا کو مزید بتایا ، کہ اسلام آباد اور بیجنگ کے مابین تعلقات بہت گہرے ہیں۔

    عمران خان نے انٹرویو میں ابھرتی ہوئی بیلڈ بیک بیٹر ورلڈ (بی 3 ڈبلیو) اسکیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ”عجیب ، زبردست دشمنی” ہے جس کو حال ہی میں جی 7 کی صنعتی مغربی ریاستوں (اور جاپان) کے بلاک نے شروع کیا ہے۔ جیسا کہ امریکی عہدیداروں نے ریکارڈ پر کہا ہے ، یہ منصوبہ چین کے ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے ، جس کا سی پیک بھی ایک حصہ ہے۔

    یہ قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نے مذکورہ انٹرویو میں سی پیک کو "سب سے بڑی چیز قرار دیا جو پاکستان میں اس وقت ہو رہی ہے”۔ واضح رہے کہ بی 3 ڈبلیو کے ساتھ ، امریکہ ، چین پر قابو پانے کے لئے چار ریاستوں کے گروپ ، جس میں ہندوستان بھی شامل ہے ‘ کواڈ ‘ پر زور دے رہا ہے۔ ان جغرافیائی سیاسی پیشرفتوں پر غور کرتے ہوئے دیکھا جائے تو وزیر اعظم کے خدشات درست ہیں ، اور انہوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ پاکستان اپنے دیرینہ دوستوں کو ترک نہیں کرے گا۔

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات واقعتاً دیرینہ ہیں۔ اور اس کو کسی بھی وقتی مفاد یا بے وفا و عارضی دوست کے لئے قربان گاہ پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ ماضی میں بھی بیجنگ ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کے لئے آیا ہے ، اور پاکستان اس کے عزم و امداد کی قدر کرتا ہے۔ تاہم کسی بھی ملک کے لئے نااہل اور بے بنیاد حمایت کی پوزیشن کا جائزہ لیا جانا بھی بین الا اقوامی تعلقات کے لئے ناگزیر ہوتا ہے۔ کیونکہ بین الااقوامی تعلقات ہمیشہ زندہ اور پر وقار قوموں کے قومی مفادات کے تابع ہوتے ہیں ناکہ کسی کی ذاتی مفادات، خواہشات یا ایماء کے ۔
    پاکستان کی بھی خواہش ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرے اور سرد جنگ کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین موجود سودی تعلقات سے آگے بڑھے۔ لہذا ، واشنگٹن کو یہ پیغام واضح ہونا چاہیئے کہ پاکستان ان کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے ، لیکن امریکا کو یہ بھی باور کرانا چاہیئے کہ پاکستان اپنے روایتی حلیفوں کو الگ الگ کرنے کے لئے تیار کردہ کسی بھی دشمنی کا فریق نہیں بن سکے گا۔

    مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے انخلاء کے بعد اب پاکستان کی ضرورت باقی نہیں رہی اسی لئے امریکا اب بیہودہ ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ حال ہی میں امریکا نے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے اسے چائلڈ سولجرز روک تھام ایکٹ کی فہرست میں شامل کر دیا۔ بظاہر اور حقیقتاً یہ بے بنیاد فیصلہ ہے کیونکہ پاکستان حالت جنگ میں نہیں، نہ ہی پاکستان کسی اور ملک کے ساتھ جنگ کر رہا ہے تو اس طرح سے کم عمر سپاہیوں کو زبردستی بھرتی کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض دباؤ بڑھانے کا حربہ ہے۔ اس سے واشنگٹن پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے نیز اس فیصلے سے پاکستان کی فوج بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ اس فہرست میں شمولیت کے بعد پاک فوج بین الااقوامی امن مشن اور امریکا میں پیشہ ورانہ کورسز پر اپنے فوجی نہیں بھیج سکے گی۔ بلا شبہ یہ غمازی کرتا ہے کہ امریکہ کے لیے پاکستان کی اہمیت اب ختم ہو چکی ہے۔ مزید براں، اب مسقبل قریب میں بھی امریکہ کی طرف سے انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر پاکستان کے حوالے سے منفی رپورٹس قوی متوقع ہیں۔ بلکہ یورپی یونین کی طرف سے بھی ان مسائل پر رپورٹس آئیں گی تاکہ پاکستان پر مزید دباؤ بڑھایا جائے۔۔۔ایسے میں امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں جبکہ وہ برابری کی بنیاد کی بجائے ہمہ وقت پاکستان کا آقا بننے کی کوششیوں میں لگا رہے؟؟؟ واضح رہے فیٹف کی تلوار بھی اسی ضمن پر پاکستان کے سر پر لٹکتی چھوڑی گئی ہے۔

    در حقیقت ، خارجہ پالیسی کے تمام فیصلوں کی راہنمائی کرنے کا یہی مذکورہ بالا( قومی مفاد کی ترجیح) منتر ہونا چاہیئے۔ چاہے پاکستان عرب-ایران کے تنازعہ میں شامل ہو رہا ہو یا پھر خارجہ پالیسی کے دیگر سوالات میں ، پاکستان کو اپنی غیرجانبداری کو برقرار رکھنا چاہیئے۔ نیز اسے عملیت ، اصولوں اور قومی مفاد کے مطابق رہنا چاہیئے۔ مثال کے طور پر ، پاکستان نے سنہ 2015ء میں "یمن امبرگليو” ( یمن کے الجھاؤ) میں شامل نہ ہوکر صحیح فیصلہ لیا، حالانکہ اس فیصلے نے ہمارے بہت سارے عرب ‘بھائیوں’ کو ناراض کردیا تھا۔ تاہم، اس موقع پر پارلیمنٹ کی اجتماعی دانشمندی نے پاکستان کو ایک اور دلدل میں پھنسنے سے بچایا تھا۔ لہٰذا ، اب بھی اور آئیندہ بھی جمہوری عمل کے ذریعے ہی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے تمام سوالات کو دانشمندانہ اور انصاف پسندانہ انداز میں طے کیا جانا چاہیئے۔

  • واٹس ایپ کےاینڈروئیڈ فون اور آئی فون صارفین کے لئے خوشخبری

    واٹس ایپ کےاینڈروئیڈ فون اور آئی فون صارفین کے لئے خوشخبری

    سلیکان و یلی: واٹس ایپ نے آئی فون سے اینڈروئیڈ فون اور اینڈروئیڈ سے آئی فون پر منتقل ہونے والے صارفین کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے پر کام شروع کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ نظر رکھنے والی ویب سائٹ وےبیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ انتظامیہ اس فیچر پر گزشتہ کئی ماہ سے کام کر رہی ہےاورجلد ہی واٹس ایپ کے استعمال کنندگان ایک آپریٹنگ سسٹم سے دوسرے آپریٹنگ سسٹم پر اپنی چیٹ کو منتقل کرسکیں گے۔


    ویب بیٹا انفو نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چیٹ کس طرح باآسانی منتقل کی جاسکیں گی ویڈیو کے کیپشن میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کیلئے ایک کیبل کی ضرورت درپیش ہوگی تاہم یہ سہولت فی الحال بیٹا ورژن استعمال کرنے والے صارفین کیلئے متعارف کروائی جائے گی۔

    رواں سال مارچ میں ہی یہ خبرسامنے آئی تھی کہ واٹس ایپ دو آپریٹنگ سسٹمز کے درمیان چیٹ منتقل کرنے کے فیچر پر کام کر رہا ہے کیوںکہ گوگل اینڈروئیڈ صارفین کے لیےچیٹ کا بیک اپ گوگل ڈرائیو پر جب کہ آئی فون کے صارفین کی چیٹ کا بیک اپ آئی کلاؤڈ پر بناتا ہے۔

    واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل

    اور یہ دونوں ایک دوسرے کے بیک اپ کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور ایک موبائل سے دوسرے فون پر منتقل ہونے صارف گوگل ڈرائیو یا آئی کلاؤڈ پر موجود واٹس ایپ کے چیٹ بیک اپ کو منتقل نہیں کر سکتے۔

    توکلنا ایپ میں اب نئے فیچرز اردو زبان میں بھی دستیاب

  • زمین سے 66 ہزار کلومیٹر فاصلے پر گزرنے والا نیا سیارچہ

    زمین سے 66 ہزار کلومیٹر فاصلے پر گزرنے والا نیا سیارچہ

    11 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتا ہوا ایک نو دریافت شدہ سیارچہ زمین سے 66 ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گزرتا دیکھا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 7 میٹر طویل یہ سیارچہ جسے ‘2021 این اے’ کا نام دیا گیا ہے 3 جولائی کوسعودی وقت کے مطابق صبح 7بج کر57 منٹ پر دیکھا گیا تھا۔

    یہ سیارچہ زمین سے ایک قمری فاصلے تقریبا384401 کلومیٹرکے اندر2021 کے آغاز کے بعد سے اب تک گزرنے والا 68 واں سیارچہ ہے جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینئر ماجد ابو زہرہ نے بتایا کہ اس سیارچے کا تعلق اپولو گروپ سے ہے۔

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    یہ ایسے سیارچوں کا مجموعہ ہے جس میں 5.3 سے لے کر 12میٹر قطر کی چٹانیں شامل ہیں یہ زمین کے قریب والے سیارچوں کی اس نام نہاد فہرست میں شامل ہیں جن کی گزرگاہیں زمین کے مدار کو قطع کرتی ہیں۔

    ‘2021 این اے’ سیارچہ زمین کے قریب آنے سے قبل پہلی مرتبہ یکم جولائی کو ہوائی کی ‘پین سٹارس ون ‘ رصد گاہ سے دیکھا گیا تھا۔

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    ابوزہرہ نے کہا ہے کہ اگر سیارچہ زمین سے تصادم کے راستے پر ہوتا تو یہ زمین کی فضا میں پہنچتے ہی آگ کا گولا بن جاتا کسی بھی سیارچے کی دریافت نظام شمسی کے بارے میں ہمارے علم کو آگے بڑھانے میں معاون ہوتی ہے۔

    ابو زہرہ کے مطابق یہ اجسام ٹائم مشینوں کی طرح ہیں جن کے پاس بہت سارے رازموجود ہوتے ہیں۔ یہ ہماری زمین کی ابتدا کے بارے میں مزید معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

    ابوزہرہ نے بتایا ہے کہ جدید سیارچے کی نقل و حرکت کا مشاہدہ، مستقبل میں کسی بھی سیارچے سے لاحق خطرے کا اجتماعی طور پر جواب دینے کے لئے بین الاقوامی صلاحیتوں کی آزمائش کا بہترین موقع ہے۔

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت