Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حکومت کا اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم

    حکومت کا اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے پنجاب اسمبلی میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے ملاقات کی ہے. صوبائی وزراء راجہ بشارت اور چودھری ظہیر الدین بھی اس موقع پر موجود تھے، باہمی دلچسپی کے امور، بجٹ اجلاس، ورکنگ ریلیشن اور سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی ہے.

    وزیراعلی نے بجٹ اجلاس کے دوران اسمبلی کی کارروائی احسن طریقے سے چلانے پر چودھری پرویز الہی کی تعریف کی ہے،
    وزیر اعلیٰ کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار 560 ارب روپے کا ریکارڈ ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے، اپوزیشن عوام دوست بجٹ پر تنقید کر کے عوام سے دشمنی کر رہی ہے، سیاسی تماشا لگانے کی ہر سازش کو ملکر ناکام بنایا جائے گا، عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اتحادی جماعت سے مل کر کام کر رہےہیں اور کرتے رہیں گے، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے، اتحادی جماعت کو ہر موقع پر ساتھ لیکر چل رہے ہیں، پی ڈی ایم کا اکٹھ بکھر چکا، ہم ایک پیج پر ہیں اور ایک رہیں گے، اپوزیشن جماعتوں نے صرف سازشیں کیں اور ان عناصر کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، سازشیں کرنیوالے پیچھے رہ گئے اور ہمارا اتحاد آگے کی جانب بڑھ رہا ہے،

    چودھری پرویز الہی نے کہا کہ عوام دوست پر وزیراعلی عثمان بزدار کے اقدامات کو سراہا گیا، تحریک انصاف کے اتحادی ہیں، موجودہ حالات میں انتشار کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ہمارا نصب العین صرف عوام کی خدمت ہے.

  • وزیراعظم کی  ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت

    وزیرِ اعظم عمران خان سے ارکانِ قومی اسمبلی نے ملاقات کی.

    ملاقات میں مشیرِ تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد، معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور ملک عامر ڈوگر، ارکانِ قومی اسمبلی عاصم نذیر، رضا نصر اللّہ گھمن، خرم شہزاد اور صنعت کار شاہد نذیر نے ملاقات ٰکی ہے، ملکی سیاسی صورتحال، بجٹ میں عوام کے ریلیف اور صنعتوں کی سہولت و ترقی کیلئے کیے گے اقدامات پر گفتگو کی ہے، عاصم نذیر نے وزیرِ اعظم کو ٹیکسائل شعبے سے متعلقہ معاملات خصوصا موجودہ حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں ٹیکسٹائل کے شعبہ جات کا فروغ اور ترقی برآمدات میں شعبے کے کردار سے متعلق تفصیلی بریف کیا ہے. شعبے کی مزید بہتری و فروغ کے حوالے سے حل طلب معاملات اور تجاویز بھی پیش کی ہیں.

  • فیس بک کے بانی کا واٹس ایپ میں شاپنگ کو لانے کا اعلان

    فیس بک کے بانی کا واٹس ایپ میں شاپنگ کو لانے کا اعلان

    فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے 4 نئے فیچر کا اعلان کیا ہے جن میں واٹس ایپ اور مارکیٹ پلیس میں شاپس، انسٹاگرام ویژول سرچ اور شاپ ایڈز شامل ہیں جس سے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے ذریعے شاپنگ کرنا آسان ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ میں شاپس سے صارفین کو کاروباری اداروں سے کچھ خریدنے سے قبل بات چیت کا موقع ملے گا مارکیٹ پلیس میں شاپس کا فیچر فی الحال صرف امریکا میں دستیاب ہوگا۔

    مارک زکربرگ نے کہا کہ مارکیٹ پلیس میں یہ فیچر لوگوں کو فیس بک پر آن لائن دکان تشکیل دینے میں مدد فراہم کرے گا اور ایک بار شاپ سیٹنگ ان ایبل کرنے پر اسے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر استعمال کیا جاسکے گا۔

    فیس بک کے بانی نے کہا کہ انسٹاگرام ویژول سرچ سے صارفین کو تصاویر پر مبنی مصنوعات کو تلاش کرنے میں مدد ملے سکے گی جبکہ شاپ ایڈز شاپنگ تجربات کو پرسنلائز بنائے گا۔

    اس کے برعکس واٹس ایپ میں شاپس کا فیچر متعدد ممالک میں پیش کیا جارہا ہے جبکہ شاپ ایڈز امریکا، یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں متعارف کرایا جائے گا۔

    واٹس ایپ کو ہیکرز کی رسائی سے کس طرح محفوظ رکھا جائے

    انسٹاگرام اور فیس بک مارکیٹ پلیس میں تو پہلے ہی ایپس میں شاپس کا آپشن نمایاں ہے مگر واٹس ایپ شاپس ان میں نمایاں فیچر ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل رواں ہفتے فیس بک کی جانب سے کلب ہاؤس کی نقل پر مبنی لائیو آڈیو فیچر کو بھی سوشل میڈیا سائٹ کا حصہ بنایا گیا تھا مارک زکربرگ نے ان نئے ای کامرس فیچرز کا اعلان لائیو آڈیو روم میں بات چیت کے دوران ہی کیا۔

    واٹس ایپ انتظامیہ نے 100 فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    ان کا کہنا تھا کہ ہر ماہ ایک ارب سے زیادہ افراد مارکیٹ پلیس کو استعمال کرتے ہیں تو ہم کارباری اداروں کے لیے وہاں پر اپنی دکانوں کی تشکیل کے عمل کو زیادہ آسان بنارہے ہیں تاکہ زیادہ افراد کو رسائی مل سکے۔

    رواں ماہ کے شروع میں فیس بک کی ایف 8 کانفرنس کے دوران کمپنی نے واٹس ایپ فار بزنس میں اپ ڈیٹس کے بارے میں بتایا تھا اس سے قبل ایک بزنس اکاؤنٹ کو تشکیل دینے میں کئی ہفتے درکار ہوتے تھے مگر اب یہ چند منٹوں میں ممکن ہوسکے گا۔

    واٹس ایپ شاپ کا فیچر آنے والے ہفتوں میں دستیاب ہو سکے گا-

    واٹس ایپ کا جلد ہی زبردست فیچر متعارف کرانے کا اعلان

  • مکار مودی کی نئی چال . تحریر:نوید شیخ

    مکار مودی کی نئی چال . تحریر:نوید شیخ

    مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو ہفتے سے مختلف افواہوں اور قیاس آرائیوں کے درمیان مودی نے اچانک مقبوضہ کشمیر کی سبھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا ہے جو کل دلی میں ہو گا۔
    ۔ بھارت نواز پیپلز الائنز میں شامل سبھی جماعتوں نے طے کیا ہے کہ وہ اس اجلاس میں شریک ہوں گے ۔ اس اجلاس کا اصل مقصد کیا ہے ۔اس کی تشہیر نہیں کی جا رہی ہے۔ مگر جان بوجھ کر حریت پسندوں کو اس اجلاس سے دور رکھا گیا ہے ۔

    ۔ یہ درست ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارت نے کبھی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پر اگر دیکھا جائے تو چند روز پہلے انڈیا پاکستان کے درمیان اچانک جنگ بندی ہوئی۔ متحدہ عرب امارات نے بھی کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت میں مدد کر رہا ہے۔ اب انڈیا اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر بھی تاجکستان میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی میٹنگ میں ایک ساتھ ہوں گے۔

    ۔ اس لیے بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کشمیر کے بارے میں پس پردہ کچھ ہو رہا ہے۔ ابھی اس مرحلے پر اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے۔ اسے ریاست سے مرکزی علاقہ بنانے اور دوسرے سبھی معاملات میں کشمیر کی قیادت یا عوام کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ جس کے سبب بین الاقوامی سطح پر انڈیا پر تنقید بھی ہوئی اور پریشر بھی بڑھا ۔ خاص طور پر ابھی بھی انٹرنیشل فورمز پر جو بھارتی سفارت کاروں سے جو سب سے پہلا سوال ہوتا ہے وہ مقبوضہ کشمیر بارے ہی ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے بھارت کو اکثر موقعوں پر سبکی کا سامنا بھی رہا ہے ۔

    ۔ اس لیے اس آپشن کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مودی بات چیت کا راستہ کھول کر شاید اب دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ کشمیر میں صورتحال معمول پر ہے۔ سیاسی عمل شروع ہو چکا ہے اور سیاسی جماعتوں کے اشتراک سے ریاست میں انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ تو اس طرح کے اقدامات سے بھارت کو نکتہ چینی کا جواب دینے میں آسانی ہو گی۔

    ۔ دوسری جانب مودی حکومت نے کشمیر کے منظر نامے سے حریت پسندوں کو کامیابی کے ساتھ سائیڈ پر کر دیا ہے۔ یاد رکھنے کی چیز ہے کہ اب بات چیت حریت پسندوں سے نہیں بلکہ ہند نواز جماعتوں سے ہو رہی ہے اور یہ جماعتیں زیادہ خود مختاری اور دوسرے سوالات کے بجائے کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے جیسے سوالات اٹھائیں گی۔۔ جیسا کہ محبوبہ مفتی نے پہلے تو نہ کی کہ وہ نہیں جائیں پھر ہاں کردی کہ وہ جائیں ۔ اور میڈیا ٹاک میں یہ بھی کہا کہ ہمیں آئین نے جو حق دیا اور جو ہم سے لے لیا گیا۔ اس کی بحالی کا ہم مطالبہ کریں گے۔ ۔ فاروق عبداللہ نے بھی کشمیر کی 5 اگست 2019 سے پہلے والی پوزیشن بحال کرنے کی بات کی ہے ۔۔ کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کو بھی کشمیر کے سابق وزیر اعلی کے طور پر اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس پر انھوں نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ریاست کے طور پر بحالی اس اجلاس کا سب سے اہم موضوع ہو گا ۔

    ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نریندر مودی لداخ سے کاٹے ہوئے ’’جموں وکشمیر‘‘ کا ’’ریاستی تشخص‘‘ بحال کرنے کا عندیہ دے۔ مگر اس تشخص کی ’’بحالی‘‘ کا اصل مقصد مگر یہ ہوگا کہ لداخ سے کاٹے مقبوضہ جموں وکشمیر کی ’’صوبائی‘‘ حیثیت بحال کی جائے۔ ایسی بحالی کے لئے ’’ریاستی‘‘ یعنی صوبائی اسمبلی کے انتخاب ہوں ۔ مقبوضہ کشمیر میں محصور ہوئے بے بس ولاچار بنائے شہری ان میں حصہ لیں۔
    ’’اپنے نمائندے‘‘ چنیں تاکہ لداخ سے طاقت کے زور پر الگ کئے مقبوضہ جموں وکشمیر کے ’’مقامی اور صوبائی‘‘ معاملات کو براہ راست دہلی سے چلانے کی ضرورت نہ رہے۔ اور نام نہاد ’’منتخب صوبائی حکومت‘‘ ہی یہ فریضہ سرانجام دے۔ تو اس حوالے سے پاکستان کو گہری نظر بھی رکھنا ہوگی اورہوشیار بھی رہنا ہوگا ۔ کیونکہ مودی ایک نئی ’’گیم‘‘ کھیلنے کی تیاری میں ہے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی تیاری میں ۔ اس لیے اس گیم کا حقیقت پسندی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ویسے بھارت اپنا پورا زور لگا چکا ہے کہ کشمیر کے مسئلے وہ اپنا ذاتی مسئلہ قرار دے کر دنیا کے سامنے پیش کرے۔ تاہم بھارت سے وابستہ دنیا کے تمام تر کاروباری مفادات کے باوجود عالمی سطح پر کشمیر کو ایک تنازع ہی تسلیم کیا جاتا ہے اور اب تو مقبوضہ وادی میں بھارتی دہشت گردی کا معاملہ تصویری خاکوں ہی نہیں بلکہ میڈیا کی رپورٹ کے ذریعے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دیکھنے کا موقع مل رہا ہے کشمیری اپنے حق کے حصول کے لئے لازوال جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ۔ اگر جائزہ لیا جائے تو مودی سرکار نے اپنی تمام تر قوت اقلیتوں کی نسل کشی میں لگا دیں اس سلسلے میں مقبوضہ وادی پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہزار سے زائد لوگ غائب کئے گئے اس سلسلے میں بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے گرفتار کرکے غائب کر دیئے گئے ۔

    ۔ بے بسی اور خوف کے سائے میں جیتی کشمیری خواتین کسی ایسے مسیحا کی منتظر ہیں جو آئے اور انہیں اس خوف سے باہر نکالے کہ اب انکا سہاگ بھارتی فوج کی گولیوں سے محفوظ ہے۔ ۔ مقبوضہ کشمیر کی مجبور اور لاچار خواتین دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی خواتین سے انصاف مانگ رہی ہیں۔وہ دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی خواتین کو چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں۔سہاگ اجڑ جانے کے بعد انکی مشکالات اور تکالیف کو سمجھا جائے اور بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری خواتین کے ساتھ جو ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں اقوام متحدہ میں بیٹھی خواتین اس پر خاموشی کیوں ہیں۔۔ بھارت نے 74 سال سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے ، کشمیری جان و مال اور عزت کی قربانیاں دے کر الحاق پاکستان کے لیے وفاداری کی تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔ عالمی طاقتیں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سمیت بین الاقوامی ادارے ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بدترین کرفیو سے پوری طرح باخبر ہیں لیکن صرف معمولی مذمت جیسے بیانات کے سوا کچھ نہیں۔۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ مغرب ویسے تو دنیا بھر میں ہونے والے چھوٹے سے چھوٹے واقعے پر شور مچاتا ہے لیکن بھارت نے تقریباً سات سو روز سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے پوری وادی کو ایک جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکنے کے باوجود یہ مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔ پاکستان کے لیے جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے بھول کر پاکستان آگے بڑھ جائے گا۔ یہ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور پورے خطے میں امن کا قیام اس مسئلے کے حل سے جڑا ہوا ہے۔

    ۔ بھارت کی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا ہی ایک حصہ یہ بھی ہے کہ اس نے اب تک جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ جمایا ہوا ہے ۔ مگر بھارت کے ہتھکنڈوں سے نہ تو کشمیری اپنے حق سے دستبردار ہوئے ہیں اور نہ ہی پاکستان نے ان کے حق میں آواز بلند کرنا چھوڑا ہے۔۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے 1947 ء سے لے کر اب تک ہمارا واضح اور دو ٹوک موقف رہا ہے۔ اور آج بھی یہ ہی ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں اس مسئلے کو حل کیا جائے ۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو قابو کرنے اور پورے خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر حل کروائے کیونکہ جتنی مرضی تجارت شروع ہوجائے ۔ جتنی مرضی امن کی آشائیں آپ چلا لیں ۔ جتنے مرضی ثقافتی طائفے یہاں وہاں کربھیج دیں ۔ کشمیر مسئلے کے حل ہوئے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستانہ اور پر امن تعلقات ہرگز قائم نہیں ہوسکتے۔

  • اسٹرابیری مون کیا ہے ؟ جون2021 کا سٹرابیری مون سال کا آخری سُپرمون ہے؟

    اسٹرابیری مون کیا ہے ؟ جون2021 کا سٹرابیری مون سال کا آخری سُپرمون ہے؟

    ناسا کے مطابق ہمارے سیارے کا قدرتی مصنوعی سیارہ – جسے چاند کے نام سے جانا جاتا ہے – سورج کے برخلاف ظاہر ہوگا اور 24 جون 2021 کو 1:40 بجے مکمل طور پر روشن ہوگا ، یہ پورا چاند دو وجوہات کی بناء پر خاص ہے: یہ ایک اسٹرابیری مون ہے اور سال کا آخری سپرمون ہے!

    باغی ٹی وی : “بلیو مون” اور “سپرمون” کی اصطلاحات آج نسبتا عام ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی اسٹرابیری مون ، تھنڈر مون ، یا بیور مون کے بارے میں سنا ہے؟-

    ہر سال جون میں ہونے والا پورا چاند اسٹرابیری مون کو اپنے رنگ کی وجہ سے نہیں کہا جاتا ہے ، بلکہ اس نام کی کنونشن کی وجہ سے ابتدائی مقامی امریکیوں نے تشکیل دیا ہے۔ گریگوریئن اور جولیئن تقویم ان قبائل کو معلوم نہیں تھے ، لہذا ، اس کے بجائے ، وہ چاند کے مراحل کی گنتی کرکے وقت گزرنے کو چارٹ کرتے تھے۔


    چونکہ نام اس موسم کے دوران پیش آنے والے واقعات پر مبنی تھے ، لہذا یہ اصطلاحات قبائل کے مابین ہم آہنگ نہیں رہتیں۔ مثال کے طور پر جون کے چاند کو اسٹرابیری مون کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اسٹرابیری چننے کے موسم کا آغاز تھا ، اس لئے نہیں کہ چاند گلابی ہے۔ چاند کے لئے گلابی یا سرخ رنگت کا ہونا ممکن ہے ، لیکن یہ ایک بے ترتیب واقعہ ہے جس کی وجہ سے گلابی رنگ کے بادل اس کو ڈھکتے ہیں یا طوفان ، آلودگی ، یا آتش فشاں پھٹنے سے دھول یا دھوئیں کی وجہ سے آسمان میں چھلک پڑتی ہے۔ .

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام…

    جولائی کے چاند کو تھنڈر مون کہا جاتا ہے کیونکہ سال کے اس وقت کچھ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تھی۔ لیکن اس کو فل بک مون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ جولائی ہے جب ہرن کے پیسے پوری طرح پختہ ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک اصطلاح کو دوسرے کی ترجیح میں استعمال کرتے ہیں یہ ہے کہ نوآبادیاتی امریکیوں نے اپنے کیلنڈر کے لئے مخصوص نام اپنایا ، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کچھ نام محفوظ ہیں جبکہ دوسرے تاریخ سے محروم ہیں۔

    مارچ میں پورا چاند کرم مون کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ ایسا ہی ہوتا ہے جب کیچڑ کی ذاتیں نمودار ہونے لگتی ہیں اور پرندے کھانا لینا شروع کردیتے ہیں۔ اسے سیپ مون ، کرو مون اور لینٹین مون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ آخری نام اس حقیقت سے متاثر ہے کہ مارچ کے پورے چاند کو ایسٹر کی تاریخ طے کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

    “سپرمون” کی اصطلاح چاند کو بیان کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے جب وہ زمین کے اتنا قریب ہوتا ہے کہ وہ معمول سے بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اپریل 2021 میں سپرمون اوسط سے 6٪ بڑا تھا۔ یہ وہ اصطلاح نہیں ہے جو ماہرین فلکیات کے ذریعہ استعمال کی جاتی ہے ، جو اس طرح کے چاند کو “پیریجی فل مون” کہتے ہیں۔ لفظ “پیریجی” سے مراد اس وقت ہوتا ہے جب چاند کا بیضوی مدار اسے زمین کے قریب لاتا ہے۔ جب یہ زمین سے بہت دور ہوتا ہے ، تو اسے “آپجی مون” یا “مائکرو مون” کہا جاتا ہے۔

    زمین کے گرد ہر 27 دن کے مدار میں ، چاند زمین سے تقریبا 2 لاکھ 26 ہزار میل دور ، اور اس کی سب سے دوری ، یا اپوجی ، زمین سے 2 لاکھ 51 ہزار میل دور پر پہنچ جاتا ہے۔

    اگر آپ سپر اسٹرابیری مون کے وقت دن کی روشنی میں ہیں تو ، اس کے طلوع آفتاب کے دوران ایک بہتر نظارہ تلاش کریں ، جو مقامی وقت کے مطابق ، غروب آفتاب کے 20 منٹ بعد ہوتا ہے۔

    سپر اسٹرابیری مون 2021 کے لئے چار سپر مونز میں آخری ہوگا۔ سوپرمونز سال میں صرف تین سے چار بار ہوتا ہے ، اور ہمیشہ لگاتار ظاہر ہوتا ہے۔ آخری تین سپرمونز 26 مئی ، 27 اپریل ، اور 28 مارچ کو واقع ہوئی تھیں۔

    ناسا کے مطابق مغرب میں غروب آفتاب سے لطف اندوز ہوں ، اور اگر آپ مشرق کی طرف دیکھیں تو آپ کو ہمارے سپر اسٹرابیری مون کا ٹھیک ٹھیک گلابی رنگ نظر آئے گا!

  • مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے       کانگرس رہنما

    مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے کانگرس رہنما

    بھارتی اپوزیشن جماعت کانگرس کے رہنما پی چدم برم نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق پوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پی چدم برم نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے۔

    کانگریس کا کہنا ہے کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی اقدام کو ختم نہیں کیا جاسکتا، کشمیر کا اسٹیٹس 5 اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن پر لایا جائے۔

    واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج نئی دہلی میں مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے،وزیرِ اعظم نریندر مودی من پسند افراد سے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر بات کریں گے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد فاروق عبد اللّٰہ اور محبوبہ مفتی سے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی یہ پہلی ملاقات ہو گی۔

    مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

  • مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

    مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے،وزیرِ اعظم نریندر مودی من پسند افراد سے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر بات کریں گے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر پر آج بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر قیادت آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔ مودی حکومت کی جانب سے اہم کشمیری سیاسی جماعتوں کی قیادت کو دہلی میں آل پارٹی کانفرنس کی دعوت دی گئی ہے-

    ذرائع کے مطابق مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوشش شروع کر دی ہے سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی کے ساتھ میٹنگ کے لیے وفاقی داخلہ سکریٹری نے کشمیر اور ہندو اکثریتی خطہ جموں سے تعلق رکھنے والے 14 سیاسی رہنماؤں کو میٹنگ کے لیے مدعو کیا ہے۔ انہیں میٹنگ میں شرکت سے قبل کرونا (کورونا) ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔

    جن سیاسی رہنماؤں کو میٹنگ میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے، نیشنل کانفرنس سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے فرزند عمر عبداللہ، پی ڈی پی سے محبوبہ مفتی، کانگریس سے غلام نبی آزاد، تارا چند اور غلام احمد میر، پیپلز کانفرنس سے سجاد غنی لون اور مظفر حسین بیگ، اپنی پارٹی سے الطاف بخاری، بی جے پی سے رویندر رینہ، نرمل سنگھ اور کویندر گپتا، سی پی آئی (ایم) سے محمد یوسف تاریگامی اور نیشنل پنتھرس پارٹی سے پروفیسر بھیم سنگھ شامل ہیں۔

    بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی نمائندہ کل جماعتی حریت کانفرنس کو نظر انداز کر دیا، نام نہاد اے پی سی میں شرکت کرنے والوں کو ایجنڈہ تک نہیں دیا گیا –

    مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد فاروق عبد اللّٰہ اور محبوبہ مفتی سے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی یہ پہلی ملاقات ہو گی۔

    ادھر مقبوضہ کشمیر میں 48 گھنٹوں کے لیے اچانک انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔

    انڈیپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق فاروق عبداللہ کا کہنا تھا: ’وزیراعظم نے 24 جون کو دوپہر تین بجے نئی دہلی میں میٹنگ رکھی ہے جس میں ہمیں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ہم نے اس میٹنگ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہم اپنے موقف کو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے سامنے رکھیں گے۔‘

    فاروق عبداللہ نے کہا: ’ان کی طرف سے کوئی بھی ایجنڈا فکس نہیں ہے۔ وہاں ہم ہر معاملے پر بات کرسکتے ہیں۔‘

    اس موقعے پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: ’ان کا جو بھی ایجنڈا ہو، ہم اپنا ایجنڈا ان کے سامنے رکھیں گے۔ ہم کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں بند سیاسی اور دیگر قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں گے اور جن کی رہائی ممکن نہ ہو، ان کی کشمیر منتقلی کا مطالبہ کریں گے۔‘

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ملاقات میں مودی سے کہیں گے کہ 5 اگست کا اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے مقبوضہ کشمیر میں امن اسی وقت بحال ہو گا جب یک طرفہ فیصلہ واپس لیا جائے گا خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کے بغیر جموں و کشمیر اور اس پورے خطے میں امن کی بحالی نا ممکن ہے۔‘

    کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنما اور پی اے جی ڈی کے ترجمان محمد یوسف تاریگامی کا کہنا تھا کہ’ہم بھارتی حکومت کے ایجنڈے پر دستخط کرنے نہیں جا رہے ہیں۔ اگر ان کی تجویز ہمارے حق میں ہوگی تو ہم حمایت کریں گے اور اگر حق میں نہیں ہوگی تو ہم برملا مخالفت کریں گے۔‘

    تاریگامی کا مزید کہنا تھا کہ ’بھارتی حکومت نے میٹنگ کا کوئی ایجنڈا مقرر کیا ہے یا نہیں، ہمیں اس کی کوئی اطلاع نہیں۔ ہم میٹنگ میں اپنے موقف کو دہرائیں گے۔ آپ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم آسمان کے تارے نہیں مانگیں گے بلکہ وہی مانگیں گے جو ہمارا تھا۔ ہمیں وہاں اپنے عوام کا وکالت نامہ لے کر جانا ہے۔‘

  • مودی سرکار طالبان سے بات کرسکتی ہے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان سے کیوں نہیں؟

    مودی سرکار طالبان سے بات کرسکتی ہے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان سے کیوں نہیں؟

    کشمیری رہنما محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بھارت کومسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان سے بھی مذاکرات کرنے چاہیے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کشمیری رہنما محبوبہ مفتی نے سوال کیا ہے کہ اگر مودی سرکار طالبان سے بات کرسکتی ہے تو پاکستان سے کیوں نہیں؟ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے پاکستان سے بھی بات کرنی چاہیے اور خطے میں امن لانا چاہیے۔

    حریت کانفرنس میں کہا کہ حقیقی نمائندوں کےبغیرمسئلہ کشمیرپربات چیت بےمعنی ہے، اےپی سی عالمی برادری کوگمراہ کرنےکی کوشش ہے-

    جبکہ ترک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی حکام نے افغان طالبان سے دوحہ میں خفیہ ملاقات کی ہے تاکہ افغانستان میں اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی یقین دہانی حاصل کی جاسکے۔

    دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پی چدم برم نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے۔

    کانگریس کا کہنا ہے کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی اقدام کو ختم نہیں کیا جاسکتا، کشمیر کا اسٹیٹس 5 اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن پر لایا جائے۔

    مقبوضہ کشمیر پر آج بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر قیادت آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔ مودی حکومت کی جانب سے اہم کشمیری سیاسی جماعتوں کی قیادت کو دہلی میں آل پارٹی کانفرنس کی دعوت دی گئی ہے۔

  • اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی جان میکافی کی جیل میں مبینہ خودکشی

    اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی جان میکافی کی جیل میں مبینہ خودکشی

    اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی جان میکافی نے اسپین کی جیل میں مبینہ خودکشی کر کے موت کو گلے لگا لیا-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپین کی جیل میں قید جان میکافی اپنے سیل میں مردہ پائے گئے غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسپین کے شہر بارسلونا کی عدالت نے جان میکافی کو امریکا کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

    علاقائی کاتالان حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی ، لیکن جیل کی میڈیکل ٹیم نے آخر کار اس کی موت کی تصدیق کردی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ "عدالتی وفد موت کی وجوہات کی تحقیقات کرنے پہنچا ہے ،” انہوں نے مزید کہا کہ "ہر چیز خودکشی سے موت کی نشاندہی کرتی ہے۔”

    غیر ملکی خبر ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جان میکافی کو امریکا میں ٹیکس چھپانے کے الزام میں اکتوبر 2020ء میں اسپین میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    جان میکافی پر 2014ء سے 2018ء تک ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کرانے کا الزام تھا، ان پر اثاثے چھپانے کا بھی الزام تھا، انہوں نے اپنی آمدنی دوسروں کے نام پر اکاؤنٹس میں جمع کی تھی-

  • پاکستانی امن چاہتے ہیں اور مہمان نواز ہیں غیر ملکی سیاح کا تبصرہ   تحریر: میاں عبدالقدیر

    پاکستانی امن چاہتے ہیں اور مہمان نواز ہیں غیر ملکی سیاح کا تبصرہ تحریر: میاں عبدالقدیر

    تحریر میرے پیارے دوست عبدل حافظ علی کے نام!!!

    آج سے تقریباً 2 ماہ قبل سر ریحان اللہ والا نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور اسلام آباد میں موجود دوستوں کو دعوت دی کہ اگر کوئی شخص اسلا م آباد میں عبدل حافظ کی مہمان نوازی کرنا چاہتا ہے تو رابطہ کریں، جو دنیا کے 42 ممالک گھوم کر پاکستان پہنچے ہیں اور اس وقت BBC News کے ساتھ کام کر رہے ہیں!

    میرے دوست ارجمند بھائی نے ان کی یہ پیشکش قبول کی اور یوں سوشل میڈیا پر عبدل حافظ سے رابطہ کرلیا!

    عبدل حافظ کا تعلق سپین سے ہے اور یہ ایک سیاح(Blogger,Vloger ,Tourist) ہیں جو پچھلے تین ماہ سے پاکستان اسلام آباد میں موجود ہیں.

    شروع کے دنوں میں میں نے عبدل حافظ کو پارلیمنٹ آف پاکستان ،ہری پور ہزارہ امبریلا واٹر فال وغیرہ کا وزٹ کروایا.

    نہایت خوشی کی بات یہ ہے کہ میں کاشف بھائی اور عبدل حافظ پچھلے تین دن اکٹھے تھے جس میں ہم نے لاہور ،اوکاڑہ ،پاکپتن شریف ،بہاولنگر،فیصل آباد ،ہارون آباد اور ساہیوال کا وزٹ کیا.

    حافظ نے پنجابیوں کے ہاتھوں کے بنے ہوئے وہ وہ کھانے کھاے جو شاید انہوں نے کبھی زندگی میں دیکھے بھی نہیں تھے اور ذاتی طور پر عبدل حافظ مہمان نوازی کے معاملے میں پنجاب والوں کے شکر گزار ہیں.

    نہائت خوشی کی بات یہ ہے کہ پچھلے تین دن مسلسل سفر میں عبدل حافظ کے ساتھ بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا اور ساتھ ساتھ اوکاڑہ میں عبدل حافظ نے TEDx Talks میں جو سپیچ دی کمال تھی۔

    عبدل حافظ 5 جولائی کو اسلام آباد سے ترکی اور ترکی سے آگے ایتھوپیا سفر کرکے سپین پہنچے گے۔

    میں نے حافظ سے پوچھا پاکستان آپ کو کیسا لگا اور یہاں کے لوگوں کو آپ نے کیسا پایا؟

    ان کا بہت پیارا جواب تھا کہ سب سے پہلے تو میں آپ سب کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس طرح پنجاب اور خیبر پختون خواہ نے مجھے پیار اور محبت دی اس کے لیے الفاظ نہیں ہیں.

    عبدل حافظ نے بتایا کہ میں انڈیا بھی گھوما ہوں لیکن میں نے پاکستان میں جو وقت گزارا ہے وہ واقعی میں سکون سے بھرپور تھا یہاں کے لوگ سادہ لوح ہیں۔

    عبدل حافظ میں مجھے جو ایک بات خاص لگی وہ یہ تھی ان کی ٹایم مینجمنٹ اور اس معاملے میں پاکستانیوں کے بارے ان کی جو راۓ تھی وہ یہ تھی کہ پاکستانی اگر کہے گے کہ میں 30 منٹ میں آ رہا ہوں تو وہ 30 منٹ نہیں بلکے 3 گھنٹے ہوں گے 😃 یہی عادت انہوں نے میرے اندر دیکھی جس پر میں شرمندہ ہوں.

    اب اس وقت عبدل حافظ گلوبل یوتھ ایسوسی ایشن Global Youth Association کے ایک اہم عہدے پر فائز ہو چکے ہیں جس کااعلان جلد ہم آنے والے دنوں میں کریں گے. عبدل حافظ سے جلد ملاقات یا تو ترکی میں ہوگی یا عبدل حافظ دوبارہ اگلے سال پاکستان کا دورہ کریں گے انشااللہ.

    میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا کہ ایک انٹرنیشل سیاح جن کی میں نے مہمان نوازی کی وہ پہلے ہی 42 ممالک گھوم چکا ہے.

    مجھے امید ہے میری اور میرے دوستوں کی یہ مہمان نوازی یاد رکھی جائے گی اور عبدل حافظ پوری دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ پاکستان کا جو چہرہ دنیا میں سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے ویسا نہیں ہے اور پاکستانی تو بالکل اس کے برعکس ہیں ،پاکستانی تو امن چاہتے ہیں پاکستانی تو مہمان نواز ہیں اور پوری دنیا سے لوگوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں

    خدا حافظ شہزادے ❤️

    تحریر میاں عبدالقدیر