Baaghi TV

Category: بلاگ

  • توکلنا ایپ میں اب نئے فیچرز اردو زبان میں بھی دستیاب

    توکلنا ایپ میں اب نئے فیچرز اردو زبان میں بھی دستیاب

    سعودی عرب میں توکلنا ایپ میں مزید فیچرز کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں ’ہیلتھ پاسپوٹ‘ کے علاوہ بیرون ملک سفر کے دوران کورونا انشورنس کی سہولت کے بارے میں معلومات شامل ہیں اور فیچرز عربی سمیت متعدد زبانوں میں فراہم کیے گئے ہیں جن میں اردو شامل ہے۔

    باغی ٹی وی : خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی رپورٹ کے توکلنا ایپ کی انتظامیہ کا کہنا ہےکہ ایپ کے فیچرز میں مزید اضافے سے لوگوں کو کافی سہولت ہوگی نئے اضافہ کیے جانے والے فیچرز میں سعودی مرکزی بینک اور کواپریٹو انشورنس کونسل کی جانب سے منظورشدہ انشورنس پالیسی جو بیرون مملکت سفر کے دوران کورونا کے مرض کی کوریج کےلیے مخصوص ہے شامل ہے۔

    واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل

    نئے فیچر میں ہیلتھ پاسپورٹ کی تفصیلات کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں ویکسینیشن کے بعد اسٹیٹس ظاہر کیا جاتا ہے ہیلتھ پاسپورٹ کے ذریعے با آسانی معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص نے ایک ویکسین لگوائی ہے یا دونوں کا کورس مکمل کرچکا ہے۔

    اگر دونوں ویکسین لگوائی ہیں تو اسٹیٹس ’محصن‘ کا ہوگا اس کے ساتھ ہی ویکسینیشن کی تاریخ اور جو ویکیسین دی گئی ہے اس کی تفصیلات بھی درج کی جاتی ہیں۔

    کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

    ہیلتھ پاسپورٹ میں سفر کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹ شامل کی جاتی ہے جو بیرون ملک سفر کے لیے درکار ہوتا ہے۔

    سعودی منصوعی ذہانت ’سدایا‘ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ توکلنا کے نئے فیچرز ایپ اسٹور، ایپ گیلری یا گوگل اسٹور سے اپ ڈیٹ کیے جاسکتے ہیں نئے فیچرز عربی سمیت متعدد زبانوں میں فراہم کیے گئے ہیں جن میں اردو شامل ہے۔

    فیس بُک کا اپنے "شی مینز بزنس” کو پاکستان میں توسیع دینے کا فیصلہ

  • وقت کی قدر کریں.تحریر: ملک ضماد

    وقت کی قدر کریں.تحریر: ملک ضماد

    بس صبح ہوئی شام ہوئی
    عمر یوں ہی تمام ہوئی

    اللہ تعالٰی نے انسان کو اپنی زندگی کو سنوارنے یا بگاڑنے کے لیے عمر کا تعین کر کے اس مخصوص وقت دیا ہے
    ہر انسان کے پاس اتنا ہی وقت ہے جتنا اس کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے
    بہترین انسان وہ ہے جو وقت کی قدر و اہمیت کو سمجھ کر مخصوص اوقات میں مخصوص کام جو اس کو اللہ پاک کی طرف سے بتائے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر کے بتائے وہ کرے
    گیا وقت ہاتھ نہیں آتا
    انسان اپنی جتنی زندگی گزار چکا ہے وہ قصہ پارینہ بن چکی ہے
    اب وہ وقت کسی بھی صورت واپس نہیں آ سکتا
    اگر گزرے وقت میں اچھے کام کیے تو وہ اس کو آنے والی دنیاوی اور آخرت کی زندگی میں کام آئیں گے
    انسان کے پاس جو وقت ہے وہ اس کو اگر قیمتی بنا لے تو اس کی باقی زندگی آسان گزرتی ہے
    اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں بھی بار ہا وقت کی قسمیں کھا کر انسان کو بتایا
    اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔

    وَالْعَصْرِ اِنَّ ا لْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ
    (العصر:3،2)

    قسم ہے زمانہ کی۔ یقیناً انسان خسارے میں ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کی قسم اٹھائی ہے ان میں سے ایک وقت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر میں صبح کی قسم، سورۃاللّیل میں رات کی قسم، سورۃالضحیٰ میں چاشت کے وقت کی قسم اور سورۃ العصر میں زمانہ کی قسم کھائی ہے

    اس لیے انسان کو اپنا موجودہ وقت جو وہ گزار رہا ہے اس کو قیمتی بنانے اور آگے کی زندگی کو آسان کرنے کے لیے وقت کی قدر کرنی چاہیے

    وقت کی قدر ان لوگوں سے پوچھیں جن کے پاس وقت، موقع، پیسہ سب کچھ تھا لیکن انہوں نے وقت کی قدر نہیں تو وہ لوگ آج رو رہے ہیں اقر چیخ چیخ کر دنیا کو بتا رہے ہیں خدا راہ وقت کی قدر کر لو آج وقت ہے تو اس کے قدر کرو کل نہیں ہو گا تو پچھتاوا ہو گا

    وقت انسان کو خود اپنی قدر کرنے کے لیے بلاتا ہے لیکن انسان غافل ہے جو وقت کی قدر نہیں کرتا
    وقت انسان کو بار بار موقع دیتا ہے اپنے آپ کو سنبھال لو، سنوار لو، کچھ کما لو، لیکن انسان کی آنکھوں پے لمبی عمر جینے اور صحت مند رہنے کی پٹی بندھی ہوئی ہے جو اس کو سمجھ نہیں آتی
    اگر لمبی عمر کا انتظار وقت کرتا تو نوح علیہ السلام 9 سو سال سے زیادہ عمر پا کر بھی دنیا سے چلے گئے

    اگر صحت پکی پکی تندرست رہتی تو اللہ کے پیارے حبیب نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم بیمار نا ہوتے

    اس لیے انسان کو آنکھیں کھول کر اللہ کے حکم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقوں پر زندگی گزارنی چاہئے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکے

    جب ہم اپنے کاروبار، نوکری، پیشہ کو پورا ٹائم نہیں دیتے تو وہ کاروبار تباہ ہو جاتا ہے
    نوکری سے ہمیں نکال دیا جاتا ہے
    اس طرح ہم آپ زندگی میں اگر زندگی کو گزارنے کے لئے ٹائم نہیں دیں گے
    وقت کی قدر نہیں کریں گے تو کیسے ہم سوچ سکتے ہیں ہماری زندگی آرام دہ، اور خوشیوں سے بھری گزرے گی

    جو وقت کو مفت گنوائے گا
    وہ آخر کو پچھتائے گا
    کچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گا
    جو بوئے گا سو کھائے گا
    تو کب تک دیر لگائے گا
    یہ وقت بھی آخر جائے گا
    اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
    پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

  • پاکستان میں یک جماعتی سیاسی نظام . تحریر:سنگین علی زادہ

    پاکستان میں یک جماعتی سیاسی نظام . تحریر:سنگین علی زادہ

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کو دیکھا، مجھے یوں لگتا ہے کہ مستقبل میں تمام سیاسی جماعتوں میں سے قابل لوگوں کو منتخب کر کے، ایک ایسی سیاسی جماعت بنائی جائے گی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قابل ترین افراد شامل ہوں گے۔
    پاکستانی سیاست میں ایک ایسی تبدیلی کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک سیاسی جماعت میں ضم کر کے صرف واحد قومی سیاسی جماعت بنے۔ بالکل اسی طرح جیسے چین میں یک جماعتی سیاسی نظام ہے۔ اس کے فائدے ہی فائدے ہیں۔ ایک تو ملک سے انصافیوں، جیالوں، پپلیوں اور پٹواریوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور پیچھے خالص اور سیاست سے پاک پاکستانی رہ جائیں گے۔ دوسرا یہ اسلامی نظامِ حکومت کے نزدیک ترین ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت میں پارٹیاں نہیں ہوتیں۔
    خود عمران خان چین میں صدر کے چناؤ اور صدارتی امیدوار نامزد کرنے کے طریقہ کار کی تعریف کر چکے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں عمران خان کے زہن میں چینی نظامِ سیاست امریکہ کے نظامِ سیاست سے بھی بہتر ہے۔
    یک جماعتی سیاسی نظام میں صرف ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے۔ اس میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کو عوام منتخب نہیں کرتے۔ بلکہ سیاسی پارٹی کے ارکان کا آپس میں مقابلہ کروا کے پارٹی کے ارکان کے زریعے ہی قومی و صوبائی اسمبلیوں کےلیے لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
    پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میں کچھ قابل اور ایماندار سیاست دان موجود ہیں۔ نا تو ایسا ہے کہ سارے سیانے لوگ صرف پی ٹی آئی یا ن لیگ میں ہیں۔ اور نا ہی ایسا ہے کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی یا تحرiیکِ لبیIک میں تمام کے تمام لوگ قابل ہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں کچھ ہیرے، کچھ موتی، جبکہ کچھ کنکر پتھر ہیں۔اگر ایسا ہو جائے کہ ہر جماعت کے ان ہیرے موتیوں کو الگ کر دیا جائے۔ اور کنکروں پتھروں وغیرہ کی چھانٹی کر کے باہر کر دیا جائے۔ پھر تمام ہیروں کو اکھٹا کر ایک جماعت میں ضم کر دیا جائے اور باقی کی تمام سیاسی پارٹیوں کو ختم کر دیا جائے، تو ایک ایسی سیاسی پارٹی بن سکتی ہے جس میں امریکہ کے ساتھ سیاسی جنگ لڑنے کی صلاحیت موجود ہو گی۔
    اس کے کئی فائدے ہوں گے مثلاََ
    1 وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی اور خارجہ معاملات سنبھالنے کا اضافی فوج جی ایچ کیو سے کم ہو جائے گا۔
    2۔ سفارت کاری کے میدان میں جس طرح پاکستان اب بہت پیچھے دھکے کھاتا پھر رہا ہے، یہ دھکے کھانے سے بچ جائے گا۔
    3 کثیر جماعتی سیاسی نظام ملک میں جو انتشار اور افراتفری پیدا کرتا ہے وہ ختم ہو جائے گا۔
    4 سول اداروں کے اندر جو سیاسی مداخلت ہوتی ہے وہ سو فیصد سے کم ہو کر صرف دس فیصد رہ جائے گی۔ درجنوں سیاسی جماعتوں کے بجائے صرف ایک سیاسی جماعت ہونے کی وجہ سے۔
    5 ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے معاملات میں جو سیاسی مداخلت ہوتی ہے اور اس کے جواب میں سیاست کے اندر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے، یہ آپس کی چھیڑ چھاڑ اور لڑائی بھی ہمیشہ کےلیے ختم ہو جائے گی۔
    6 سیاسی مقاصد اور مفادات کے تحت ملک میں جو لسانی، صوبائی اور فرقہ وارانہ تقسیم سیاسی جماعتیں پیدا کرتی ہیں وہ ختم ہو جائے گا۔
    7۔ سیاسی جماعتیں آپس میں الیکشن لڑنے کےلیے ہر پانچ سال بعد مجموعی طور پر اربوں روپے خرچ کرتی ہیں۔ یہ اربوں روپے خرچ کر کے اسمبلی تک پہنچتی ہیں اور اسمبلی پہنچنے کے بعد کھربوں روپے کی دیہاڑیاں لگاتی ہیں۔ اگر ایک ہی سیاسی جماعت ہو ملک میں تو الیکشن کی وجہ سے ہونے والے کھربوں روپے کے یہ ہیر پھیر بھی ختم ہو جائیں گے۔
    8 ملک سے نسل در نسل چلنے والی موروثی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ بادشاہت کی طرح جو پہلے دادا ایم این اے بنتا ہے، پھر بیٹا منسٹر بنتا ہے اور پھر پوتا وزیر بنتا ہے اس کا ہمیشہ کےلیے خاتمہ ہو جائے گا۔
    9 غیر ملکی ایجنسیوں کےلیے کثیر سیاسی جماعتی نظام میں اپنے مطلب کے لوگوں کی منڈی لگی ہوتی ہے۔ یونین کونسل کے چیئرمین سے لے کر فیڈرل منسٹر تک، غیر ملکی ایجنسیاں ہمیشہ اپنے مطلب کا بندہ ڈھونڈنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ ایک ہی سیاسی جماعت ہو تو یہ لعنت کم ہو جائے گی۔
    10 یک جماعتی سیاسی نظام کے زریعے سرمائے کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یعنی ارب پتی آدمی اپنے ایک ارب روپے میں سے دس کروڑ روپے کا خرچہ کر کے الیکشن جیت جاتا ہے۔ اور پھر کئی ارب کماتا ہے۔ اگر مناسب چیک اینڈ بیلنس رہے تو یک جماعتی نظام میں یہ لعنت بھی نہیں رہے گی۔
    11 جاگیردار، نوابزادے، رئیس، انڈسٹریل لوگوں کا سیاست سے قبضہ ختم ہو جائے گا۔ بس سیاست صرف قابل لوگوں کا عقلی کھیل رہ جائے گی۔
    یک جماعتی سیاسی نظام کے فائدے تو اتنے ہیں کہ ان پہ کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ چین اسی یک جماعتی سیاسی نظام کے زریعے سپر پاور بننے جا رہا ہے۔
    دیکھیے آپ کے پاس پانچ سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے والی گاڑی موجود ہو۔ مگر سڑک جس پہ وہ گاڑی چل رہی ہو، اس میں جمپ ہی اتنے ہوں کہ گاڑی ساٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اوپر جا ہی نہ سکے تو آپ کو چاہیے کہ آپ اس سڑک کو اتنا بہتر کرو کہ اس پہ گاڑی پانچ سو کلو میٹر فی گھنٹہ دوڑ سکے۔ موجودہ سیاسی نظام پہ آپ ملک کی گاڑی کو ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑا رہے ہیں۔ جبکہ یہ گاڑی پانچ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی دوڑ سکتی ہے۔ تو بہتر ہے کہ سیاسی نظام کی اس سڑک کو اب تبدیل کر لیا جائے۔ کیوں کہ ہمسائے ملک بھارت کے علاوہ اب بنگلہ دیش جو سنہ 71 میں ہم سے آزاد ہوا تھا، اس کی گاڑی بھی ہم سے بہتر دوڑ رہی ہے۔ ہمیں بھی اب اپنی سیاسی سڑک بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

  • دورِ فِتن، ہم اور ہمارے علماء کی ذمہ داری۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    دورِ فِتن، ہم اور ہمارے علماء کی ذمہ داری۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    دورِ فِتن کی علامات جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں وہ اب ظاہر ہوتی جارہی ہیں۔ اب آنے والا وقت سخت سے سخت تر ہوتا جائے گا ہر نئی آنے والی مصیبت کے مقابلے میں گزشتہ مصیبت ہلکی معلوم ہوگی۔ لہٰذا نجات اِسی میں ہے کہ دنیا کی محبت دل سے نکال کر آخرت کی تیاری کی جائے اللّه کے حضور صدقِ دل سے توبہ کی جائے اور رسول اللہ ﷺ کی سُنتوں کو اپنایا جائے ۔ آپ آج اپنئ اِردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو محسوس ہوگا کتنا مشکل ہے کہ میں اِن وجوہات سے بچ سکوں مگر مشکل نظر آئے گا ،کیونکہ سب سے بڑا فتنے باز ہمارا موبائل ہی ہے جو ہر چند سیکنڈ بعد ہمیں موصول ہونے والے میسیجز ہیں جو بنا تصدیق ہم تک پہنچ جاتے ہیں اور بنا تحقیق کئے وہی میسج یا تحریر ویسے ہی آپ آگے فارورڈ کرتے ہیں ، لیکن اِن گناہوں سے بچنے کا اور خُود کو اِن فتنوں سے بچانے کیلئے آسان سا حل ہے کے ہم دین کے اُن ارکان اُن باتوں کو اپنائیں جن اعمال کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ، اب یہاں بات آتی ہے کہ ہمارے علماء کا کردار کتنا ضروری ہے اور کیا وہ اپنا کردار ٹھیک سے ادا کر رہے ہیں ۔۔؟ اگر نہیں تو ہمیں خُود چاہئے کے اپنے محلے کی مسجد کے عالم یا مولوی سے سوال کریں کے کہ جناب اِس طرف بھی کچھ بیان کیا کریں ، ہمارے مُعاشرے میں بُرائی بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی رہی ہے کے ہم نے اپنے علماء سے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے ، اُس سے ہُوا کیا۔۔؟ اُس سے یہ ہُوا کے علماء بھی ڈھیلے پڑ گئے اپنی اصل ذمہ داری سے ، اب اگر اِن مسائل پر بات کی جائے تو مجھے ایک پوری کتاب لکھنا پڑ جائے گی ، اور ہم نے کتاب کو تو ہاتھ لگانا نہیں کیوں کے زمانہ بدلتا جا رہا ہے اور اِسی بدلتے زمانے میں فتنے بپا ہوتے جائیں گے اب چند احادیث کے حوالے اور قُرآن کریم سے آیات پیشِ خدمت ہیں ۔
    انِّی لَأَرَی مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُیُوتِکُمْ کَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ
    صحیح البخاری رقم الحدیث۵۳۱۵۔صحیح مسلم رقم الحدیث۵۸۸۲
    بے شک میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں کی جگہوں میں فتنے ایسے گر یں گے جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں
    عن کعب(رض) قال أظلمتکم فتنۃ کقطع اللیل المظلم لایبقی بیت من بیوت المسلمین بین المشرق والمغرب الادخلتہ
    الفتن لنعیم بن حماد:ج۱ص۴۵۲رقم الحدیث۴۱۷
    حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اندھیری رات کے مانند تم پر ایسا فتنہ آئے گا جو نہیں چھوڑے گا کوئی گھر مسلمانوں کے گھروں میں سے مشرق و مغرب کے درمیان مگر یہ کہ وہ ہو امیں داخل ہوجائے گا
    ہر صاحب بصیرت جس کو اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم اور اپنے دین کے صحیح فہم سے نوازا ہو ، وہ اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایسے گونگے اور بہرے ،گھٹا ٹوپ اور تیرہ و تاریک فتنے ظہور پذیر ہوں گے جو ایسے رگڑا دیں گے جیسے چمڑے کو زمین پر پٹخااور رگڑا جاتا ہے، جو ایسے اُدھیڑ کر رکھ دیں گے جیسے بالوں کو اُدھیڑا اور رگڑا جاتا ہے، جو ایسے ریزہ ریزہ کردیں گے جیسے خشک اور سوکھی مینگنی کو ریزہ ریزہ کردیا جاتا ہے یا جیسے روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ثریدمیں ڈالا جاتا ہے ،جوایسی چوٹیں لگائیں گے جن کی تاب کوئی نہ لاسکے گا،اور ان فتنوں میں سب سے بد ترین فتنہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی اُمت کو ڈرایا اور فرمایا کے مجھ سے پہلے آنے والے ہر نبی اور پیغمبر نے اپنی قوم کو ڈرایا وہ ہے ’’دجال اکبر ‘‘کا فتنہ اور اس فتنے کو دنیا میں ہونے والے ہر فتنے کا موجب اور منبع قرار دیا

    وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَۃٌ مُنْذُ کَانَتْ الدُّنْیَا صَغِیرَۃٌ وَلَا کَبِیرَۃٌالَّا لِفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ
    مسنداحمد:ج۵ص۹۸۳رقم الحدیث:۲۵۳۳۲۔مجمع الزوائد:ج۷ص۵۳۳رجالہ رجال الصحیح
    اور آج تک دنیامیں جو کوئی چھوٹا بڑا فتنہ رونماہوتا ہے وہ دجال کے فتنے کی وجہ سے ہے
    فتنہ چھوٹا ہو یا بڑا وہ دجال کے فتنے پر ہی منتج ہوگا۔سو جو اس کے فتنے سے پہلے فتنوں سے بچ گیا وہ دجال کے فتنوں سے بھی بچ جائے گا
    احادیث فی الفتن والحوادث ج:۱ ص۶۵۲بحوالہ تیسری عالمی جنگ اور دجال

    اس افسوس ناک صورتحال سے زیادہ کرب کی بات یہ ہے کہ اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم جو دنیا کا واحد گروہ ہے جسے ماضی ،حال اور مستقبل کا قُرآن و سنت کی صورت میں کافی علم دیا گیا ہے ،آج حیران اور ناواقف راہ ہیں اور بھٹک رہی ہے اور دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعد اب ان فتنوں کے ظہور کی رفتار تیز ہوتی محسوس ہورہی ہے گویا ہمیں خُود محنت کرنا ہے اِن فِتنوں سے جتنا ہو سکے خُود کو اور اپنے اردگرد دوست احباب کو ہر چھوٹے چھوٹے برے عمل سے روکنا ہے اور مسلمان وہی ہے جو برائی کو روکے اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں ہر بات ہر آنے والے دور کے بارے میں کُھلے الفاظ میں بتایا گیا ہے کیا ہم اتنے قاہل ہو گئے ہیں کے اپنے ایمان کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے جبکہ قُرآن میں اللہ فرما رہا ہے۔ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ
    (سُورۃمحمد:۱۸)
    تو کیا یہ قیامت کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ اِن کے پاس اچانک آجائے ،یقیناً اس کی نشانیاں تو ظاہر ہوہی چکی ہیں۔پھر جب اُن کے پاس قیامت آجائے تو انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا ۔
    نشانیوں کا خروج یکے بعد دیگرے ہوگا ،اس طرح پے درپے آئیں گی جس طرح لڑی ٹوٹنے کے بعدپروئے ہوئے دانے آتے ہیں
    ان حالات کا تقاضا ہے کہ قُرآن و احادیث مبارکہ کی روشنی میں اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے ،موجودہ حالات کی تبدیلی کو صحیح زاویہ سے دیکھاجائے اور آئندہ کے لئے صحیح نشاندہی کی جائے تاکہ اُمت اپنے فرضِ منصبی کو پیش آنے والے عظیم معرکہء خیر وشر میں کماحقہ سرانجام دے کر پوری انسانیت کو کامیابی سے ہمکنار کرے ۔
    اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ میری اِس کوشش کو قبول فرمائے اور اللہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو سچی توبہ اور استقامت نصیب فرمائے ۔آمین
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

  • منشیات اور ہمارا معاشرہ .تحریر : ریحانہ جدون

    منشیات اور ہمارا معاشرہ .تحریر : ریحانہ جدون

    منشیات وہ اشیاء جات ہیں جن کے استعمال کی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ ذہنی و جسمانی آسودگی ہے- دنیا بھر میں سینکڑوں اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں انسان منشیات کے نشے میں گرفتار ہیں اور اس کی وجوہات میں میڈیا (رسائل، فلم، ٹی وی، ناول، کہانی وغیرہ) پر منشیات کے استعمال کو دلفریب انداز میں پیش کرنا، والدین کی ناقص توجہ اور تربیت، سنگت و صحبت کا اثر، دوسروں کو دیکھ کر رشک و طلب وغیرہ شامل ہیں- لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا نشے کی عادت کیوں لاحق ہوجاتی ہے؟
    پہلی بات کہ اسلام میں ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور اسکی خرابیوں سے ہر کوئی واقف بھی ہے اس لئے اسے ایک صحت مند انسان قبول نہیں کرسکتے.

    سب سے پہلا سوال کہ منشیات کیا ہے ؟؟
    منشیات مختلف کیمیائی مرکبات سے بنائی جاتی ہے جو ایک انسانی جسم میں معمول سے ہٹ کر وہ کیفیت پیدا کرے جسے استعمال کرنے والے شخص کی چاہ ہو.. منشیات میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے
    منشیات کا استعمال تو آدمی اپنے اختیار سے شروع کرتا ہے؛ لیکن جب وہ اس لت میں پڑ جاتا ہے تو آپ اپنے قابو میں نہیں رہتا، وہ اضطراراً منشیات کے خرید نے اوراستعمال کرنے پر گویا مجبور ہوتا ہے ، چاہے کھانے کو دو روٹی میسر نہ ہو ، گھر کے لوگ بھوک اور فاقہ سے گذار رہے ہوں ، علاج کے لئے پیسے میسر نہ ہوں ؛ لیکن جو اس عادت کا اسیر ہو گا، وہ انسانی ضروریات کو پس پشت ڈال کر پہلے اپنی اس بری عادت کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا ، اس لئے اسراف اور فضولی خرچی کا یہ بہت بڑا محرک ہے، نشہ خوری نے خاندان کے خاندان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ، …

    دیکھا جائے تو اس کے استعمال پر پابندی ہونے کے باوجود یہ آ سانی سے دستیاب ہے بلکہ اب تو رواج کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے.
    اور جس طرح ہماری نوجوان نسل نشے کی لت میں مبتلا ہورہی ہے وہ تشویش ناک ہے, اتنی پابندیوں کے باوجود اسکے استعمال کی شرح میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے,
    نوجوانوں میں یہ وباء عام ہونے کی وجوہات میں کچھ وجوہات یہ بھی ہیں مثلاً بےخوفی کا بڑھ جانا
    موت سے غافل ہونا
    آ خرت کی فکر اور اللہ کی بارگاہ میں حاضری اور جواب دہی کا استحضار نہ رہنا,
    جب یہ سب ہوگا تو یہ گناہوں کی طرف جائیں گے ایسا لگتا ہے کہ انکی لگام انکے نفس کے قبضے میں ہے,
    افسوس کے کچھ لوگ معاشرے میں اسکا عادی ہونا فخر سمجھتے ہیں
    منشیات کے بہت سی اقسام ہیں جن میں چرس, نشہ آور ادویات, تمباکو نوشی, شراب, گھٹکا وغیرہ…
    سب سے زیادہ خطرناک نشہ ہیروئن کا ہے, جب کوئی شخص ہیروئن کی لت میں پڑ جاتا ہے وہ نشے کا مریض کہلاتا ہے.
    آ ج پاکستان کی کئ مصروف شاہراہیں دیکھ لیں سینکڑوں نوجوان وہاں نیم بےہوشی میں پڑے نظر آ ئیں گے, ان میں کچھ گھریلو مسائل سے تنگ آ کے نشے کی طرف راغب ہوئے اور کچھ لیلیٰ مجنوں کی کہانی کا حصہ خود کو سمجھنے لگے تھے, کچھ بےروزگاری اور معاشرتی بے حسی کی وجہ سے…. وہ اسطرح کہ جب معاشرتی طعنوں کی ضد میں انسان تنہائی پسند رہتا ہے اور اسکی بےسکونی اسکی توجہ نشے کی طرف مبذول کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ معاشرتی لعن طعن سے بےحس ہونے کے لئے اسکا استعمال کرتا ہے.

    ویسے نشے کا استعمال کس دور میں ہوا یہ معلوم نہیں اور جو لوگ نشے کے استعمال سے تکلیف, ذہنی دباؤ ختم کرنا چاہتے ہیں وہ اسکا بےدریغ استعمال کرتے ہیں پر وہ نہیں جانتے کہ اس سے ذہنی دباؤ وقتی طور پر ختم ہوجاتا ہے پھر مصیبت ہمیشہ گلے پڑ جاتی ہے.
    نشے کا استعمال کرنے والے افراد حقیقت میں کمزور قوت ارادی کے ہوتے ہیں, اس لئے بعض اوقات بے سکونی اور اضطرابی کی کیفیت بھی انسان کو نشے میں مبتلا کرسکتی ہے.
    نشے کے نقصانات زیادہ ہیں یہ تیزی سے انسان کو اسکے منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں, ایسے لوگ معاشرے میں دوسروں کی نظروں سے گر جاتے ہیں اور کئی تو اپنا گھر بار نشے کی لت میں بیچ دیتے ہیں,
    انکے بچے رُل جاتے ہیں. انکے خاندان بکھر جاتے ہیں.
    منشیات کا عادی انسان نہ صرف خود کا نقصان کردیتا ہے بلکہ اپنے سے جُڑی زندگیوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے انکی زندگی کو بھی توڑ پھوڑ کا شکار بنا دیتا ہے .
    ایسے لوگ حقیقت میں بہت مظلوم ہوتے ہیں انکو ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم انکو دوبارہ سے زندگی کی سہی راہ پہ لا سکتے ہیں. اس لئے انکو حقارت سے نہ دیکھیں, انکی عزت نفس مجروح ہونے سے بچائیں, ایسے لوگوں کو توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور انھیں احساس دلانا ہے کہ وہ بھی اس معاشرے کا فرد ہیں…

  • سب سے پہلے پاکستان .تحریر : ملک علی رضا

    سب سے پہلے پاکستان .تحریر : ملک علی رضا

     
    ہم امن کے ساتھی ہیں مگر کسی قسم کی جنگ میں ہم امریکہ کا ساتھ نہیں دے سکتے، ایسا کہنا تھا وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا  قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران خطاب میں۔حالیہ خطے کی  بدلتی صورتحال اور افغانستان سے امریکی اتحادی افواج کے انخلا کی وجہ سے اس وقت پاکستان پر سخت پریشر ہے کیونکہ امریکہ نے اپنی افغانستان میں ناکامی کے بعد پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین میں امریکی اتحادی فوجیوں کو جگہ فراہم کرے تا کہ وہ پاکستان میں رہ کر افغانستا ن کے علاقوں پر اپنی نظر رکھ سکے۔ مگر پاکستان نے عالمی دباو  اور خطرات کو پس پُشت ڈال کر امریکہ کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اب پاکستان کسی بھی دوسرے کی جنگ میں براہ راست شامل نہیں ہوگا جیسے پہلے پاکستان نے امریکہ کے کہنے پر سب کچھ کیا اور اس جنگ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اُٹھانا پڑا  ۔

    اسی اثنا میں امریکہ نے افغانستان میں  رہ کر پاکستان میں 430 کے قریب ڈرون اسٹرائیک کیے جس میں ہزاروں بے گناہ افراد کی جانیں گئیں اور بہت نقصان اُٹھانا پڑا ۔ عمران خان کی حکومت شروع ہوتے ہی وزیر اعظم کا خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ عمران خان یہودی ایجنٹ ہے مگر  یہ کیسا ایجنٹ ہے کہ جس نے یہودیوں کے سامنے پاکستان نے عزت وقار کی خاطر گُھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا جیسا کہ گزشتہ ادوار میں کیا گیا ۔پاکستان نے طالبان ، امریکی اتحادی فوجوں اور افغانستان حکومت میں امن کی خاطر ثالث کا کردار ادا کیا یہی وجہ ہے کہ اب کی بار امریکہ کو پاکستان کی منت سماجت کرنی پڑی کہ وہ افغانستان سے انخلا میں انکی مدد کرے اور طالبان کیساتھ امن کی فضا قائم کرنے میں مدد کرے اور پاکستان نے جہاں تک ممکن ہوا مدد کی تا کہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔ دوسری جانب امریکہ ایک طرف پاکستان کے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہہ رہا ہے اور دوسری جانب بھارت کو افغانستان میں کنٹرول دلوانے کے لیے جو اس سے بن پڑ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ اسی وجہ سے 25 سال بعد ایسا موقع آیا ہے کہ بھارت کی افغان طالبان سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ عمران خان نے کچھ دن پہلے ایک امریکی جریدے کو انٹرویو میں بھی امریکہ کو اپنی سرزمین دینے پر   دو ٹوک جواب دیا تھا  کہ پاکستان اب اپنی سرزمین کسی بھی قسم کی جنگ کے لیے استعمال ہونے نہیں دےگا۔

    اپوزیشن جماعتیں عمران خان پر تنقید کے نشتر چلاتے رہتے ہیں اور  دنیا بھر  کے ممالک اس وقت عمران خان کے کسی بھی بیان کو لیکر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اور انٹرنیشنل میڈیا تو عمران خان کے کسی بھی بیان کو جو امریکہ ، اسرائیل یا انکے اتحادیوں کے بارے میں بات ہوتی اس میں سے ہر منفی پوائنٹ کو اُٹھا کر دنیا کے سامنے اس طرح سے لاتے ہیں جیسے عمران کان نے انکے خلاف بات کر کے کوئی جُرم کر دیا ہو۔یہ بات تو کنفر م ہو چکی ہے ایک تُرکی کے صدر رجب طیب ادرغان اور دوسرا اب عمران خان ایسا لیڈر ہے جس کی بات پوری دنیا میں گونجتی ہے۔ کشمیر کے معاملے پر بھی اقوام متحدہ سے لیکر او آئی سی جیسے فورمز یورپین پارلیمنٹ تک کشمیر کے حوالے سے بات کی گئی جو کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہاں اگر ہم پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے کردار کی تعریف نہ کی جائے تو یہ سراسر زیادتی ہوگی یہاں تک کہ اس سب کے پیچھے جو اصل محنت ہے وہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی محنت ہےجنہوں نے  پاکستان کے وقار کی خاطر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو بھی اب انکی اصل جگہ پر رکھ دیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی  لیفٹینت جنرل فیض حمید کے مختلف ممالک کے دوروں اور خاص طور پر تُرکی ، قطر اور افغانستان کے دوروں کی خاصی اہمیت رہی۔ عمران خان کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس وقت پاکستانی کی سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔ عمران خان کے   ہر بیان کے بعد بھارت میں ایک آگ سی لگ جاتی ہےا ور  اتنی تکلیف امریکہ کو نہیں ہوتی جتنی بھارت کو ہوتی ہے۔عمران خان کے پارلیمنٹ میں دیے جانے والے بیان کو اپوزیشن کی جماعتو ں نے بھی سراہا جس کے بعد عوام  کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جو بات عرصہ دراز سے حکومتیں کرنے والوں کے کرنی چائیں تھیں اور پہلی بار بننے والا وزیر اعظم عمران خان کر رہا ہے۔ عمران خان نے پاکستان کے وقار اور عزت کی خاطر بیرونی دباو کو مسترد کر دیا ہےاور اب  اس کے آفٹر شاکس پاکستان میں متعدد جگہوں سے آئیں گے کیونکہ اس بات کی تکلیف کارد عمل پاکستان میں آئے گا ۔ اب اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو  عمران خان کا ساتھ دینا چائیے۔ آنے والے وقت میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے تا کہ پاکستان اپنے موقعف سے پیچھے ہٹ جائے تو اس کے لیے عوام کو چائیے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے سیاسی قیادتوں کے لیے کام کرنا ہے یا پاکستان کی عزت و وقار کے لیے ؟۔ عمران خان نے کشمیر کے حوالے سے بھی پھر سے کہہ دیا کہ اگر بھارت اپنے  فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا تب تک  بھارت کے ساتھ بات چیت نہیں ہوگی ۔

  • میٹنگ میں جنرل باجوہ نے نواز شریف کو کیا پراسرار پیغام دیا؟ .تحریر: رانا عزیر

    میٹنگ میں جنرل باجوہ نے نواز شریف کو کیا پراسرار پیغام دیا؟ .تحریر: رانا عزیر

    گزشتہ روز پاکستان کی تاریخ انتہائی اہم میٹنگ ہوئی جس میں آرمی چیف اور دیگر فوجی حکام سمیت پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے شرکت کی۔ یہ میٹنگ چونکہ خفیہ تھی اس لیے اس کے مندرجات کھل کر سامنے نہیں آئے، لیکن جو ذرائع نے بتایا ہے وہ بہت دلچسب ہے، آرمی چیف نے نوازشریف کا ذکر کیا، اور کچھ اہم اشارے دیے جس نے ن لیگ کی کشتی میں بڑاسوراخ کردیا اور لندن میں بیٹھا کاغذی شیر بھی رسوا ہوگیا۔
    سیاسی عسکری قیادت میں زیادہ گپ شپ کھانے کی میز پر ہوئی۔ اجلاس میں ماحول اچھا تھا، کسی معاملے پر بھی تلخی نہیں ہوئی،اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھل گئی۔

    پہلا سوال مشاہد حسین، دوسرا شہباز شریف اور تیسرا بلاول بھٹو جبکہ تیسرا شاہ محمود نے کیا۔

    ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہا تھا کہ وزیراعظم اجلاس میں نہ آئیں۔حکومت اور فوج ایک ہی پالیسی پر نظر آئے۔سوال جواب کا سیشن طویل ہو گیا جس پر آرمی چیف نے کہا کہ کوئی اعتراض نہیں ، اجلاس بے شک ہفتے کے آخر پر رکھ لیں۔ آپ کے ساتھ ہم کھانا کھائیں گے ناشتہ کرنے کو بھی تیار ہیں۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ لینا ہے۔
    آرمی چیف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور سیکیورٹی صورتحال پر اجلاس کچھ دن بعد پھر بلا لیتے ہیں۔ اجلاس میں آرمی چیف نے لیگی رہنما احسن اقبال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بیٹے سے نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں ملا تھا، رہنما ن لیگ مشاہد حسین نے کہا کہ اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ ن پر ہاتھ ہولہ رکھیں جس پر آرمی چیف سے مسکراتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری بھی ساتھے کھڑے ہیں آپ کے۔
    ذرائع کے مطابق کھانے کی میز پر رانا ثناء اللہ اور رانا تنویز بھی آ گئے۔ تو جنرل باجوہ نے کہا کہ میری تو بیوی بھی راجپوت ہے، میرے چھوٹے بیٹے کی منگنی پشتونوں میں ہوئی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کی فوج میں 40 فیصد پشتون ہیں۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی ایم کے ایم این اے علی وزیر کو معاف کر دیں، آرمی چیف نے جواب دیا کہ پاکستانی فوج پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔

    لہذا علی وزیر کو بھی معافی مانگنی ہو گی۔مجھ پر تنقید تو نواز شریف اور ایاز صادق نے بھی کی تاہم ہم نے برداشت کی۔اس دوران محسن داوڑ نے اٹھ کر بولنے کی کوشش کی تو اسپیکر نے روک لیا جس پر قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آپ کھل کر بات کریں۔محسن داورڈ آپ مجھ سے علحیدگی میں بھی ملیں،کبھی آپ کا راستہ نہیں روکا۔آپ الیکشن جیت کر آئے ہیں لہذا آپ کی بات سننے کو تیار ہیں۔
    بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ علی وزیر کو معاف کردیا جائے جس میں نوازشریف کو بھی گہرا پیغام پہنچا۔ آرمی چیف نے جواب دیا : میری ذات کو گالیاں دیں میں نے کچھ نہیں کہا، جنرل فیض کو دیں خیر ہے لیکن ان لوگوں نے فوج کو گالیاں دیں وہ قابل برداشت نہیں ہے۔ اب اس سے کیا واضح ہوتا ہے؟ جو صحافی دن رات یہ گن گا رہے تھے کہ نواز شریف کی ڈیل ہوچکی ہے، نوازشریف نے فوج کو الٹا لٹکانا تھا اس وجہ سے فوج نے اسے باہر بھیج دیا ان کا ڈراپ سین ہوگیا، پس ثابت ہوا ہے اب اگر نوازشریف وطن واپس آئیں گے، ان کو پاکستان کے ادارے الٹا لٹکانے کے لیے تیار ہیں، اور اس ڈر سے آج کے بعد نوازشریف وطن واپس نہیں آئیں گے اور وہ غدار الطاف حسین کا روپ دھار چکے ہیں۔

  • اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ  سیکھو—— خاص تحریر—— (علی عمران شاھین)

    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو—— خاص تحریر—— (علی عمران شاھین)

    چند روز قبل کینیڈا میں ایک پاکستانی مسلم خاندان کو جو ٹرک کے نیچے کچل کر قتل کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا،میں نے اس پر اپنی ایک اصلاحی مجلس میں کچھ معروضات پیش کیں کہ ہم مسلمانوں کا اس طرح بلاوجہ و بلا ضرورت اپنے ملک چھوڑ کرکافروں کے ملکوں میں جاکر برضا و رغبت و اطمینان رہنا بالکل غلط ہے۔ایسا عمل کرنے والوں کے بارے میں پیارے نبی محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ ہے کہ "میں ان سے بری ہوں”

    البتہ وہیں کے مقامی لوگوں کا معاملہ مختلف ہے۔بعد گفتگو نجی محفل ہوئی تو ایک دوست میرے پاس بیٹھ کر کینیڈاویورپ وغیرہ کے” فضائل "بیان کرنے لگے۔

    انہوں نے جب وہاں کی خوبیاں گنوانی شروع کیں تو میں نے کہا کہ ان خوبیوں کو اپنانے سے ہمیں کس نے روکا؟اور اس پر اختلاف کس کا ہے؟ ہمیں خود کو درست کرنا چاہیے، اخلاقی و معاشرتی آداب کو زندگی کا حصہ بنانا چائیے، یہ سب تو میں خود ابھی بیان بھی کر چکا ہوں۔

     

    باتوں باتوں میں انہوں نے ساتھ خود ہی انکشاف کیا کہ ان کے خاندان کے بہت سے افراد کینیڈا میں ہی مقیم ہیں۔ ان کی پھوپھو حالیہ رمضان کے آغاز میں کینیڈا میں ہی وفات پا گئی تھیں تو ان کی وہیں تدفین ہوئی۔بتانےلگے کہ ان کی قبر کی جگہ کے لئے وہاں ان کی فیملی نے مقامی سرکاری انتظامیہ کو پاکستانی 9لاکھ روپے کے برابر ادا کی تب تدفین ممکن ہوئی۔

    (بصورت دیگر نعش تب تک سرد خانے میں رہتی ہے جب تک رقم کا انتظام نہ ہوجائے اور وہ مسلمان باہم چندہ وغیرہ جمع کرکے کرتے ہیں،اور سرد خانے کا بل بھی بھرنا پڑتا ہے)

    جی، آپ کو معلوم ہے کہ کینیڈا وہ ملک ہے،جو کرہ ارض پر رقبے کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر پے اور آبادی میں پونے چار کروڑ کے ساتھ 37ویں نمبر پر (یعنی ہمارے ایک شہر کراچی سے کچھ زیادہ )البتہ دولت وثروت میں دنیا کے پہلے 10امیر ترین ممالک میں سے ایک،لیکن دل اتنا تنگ اور ظرف اتنا چھوٹا ہے کہ ایک قبر کی جگہ اپنے کسی شہری کو مفت تو کجا کم قیمت میں نہیں دے سکتے۔۔۔۔۔

    میں ابھی پڑھ رہا تھا کہ ہماری ایک عدالت نے آج ہی پنجاب حکومت کو حکم دیا ہے کہ بڑے شہروں کے پوش امیر علاقوں میں بھی جو چند ہزار روپے لے کر تدفین ہوتی ہے،اسے بھی ختم کرے اور مکمل مفت تدفین کا اہتمام کرے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

    اسی دوران ایک اور دوست بتانے لگے کہ ان ملکوں میں بسنے والے ہم پاکستانی وغیرہ تو انگریزوں کے علاقوں میں بہت کم جاتے ہیں کیونکہ ان کی ہم سے نفرت ہی اتنی ہوتی ہے جو برداشت نہیں ہو پاتی۔نائن الیون کے بعد تو وہاں ہر روز کتنی جگہ تارکین وطن مسلمانوں کو چن چن کر مارا جاتا،حملے کئے جاتے ہیں۔

    کمال دیکھئے کہ وہاں آپ پانی سے استنجا نہیں کرسکتے، کیوں کہ کسی بھی استنجا خانے میں پانی رکھنا سخت منع ہے،آپ جتنے مرضی امیر ہوں،گھر میں ملازم نہیں رکھ سکتے،گھر کے سارے کام اہل خانہ نے خود کرنے ہوتے ہیں،مر جائیں تو جنازے میں 40 موحد نمازی مسلمان شامل ہونے والے نہ مل پائیں،

    یہ کیسی زندگی ہے جس کی طرف ہمارے لوگ دوسروں پر محض اپنی سبقت ظاہر کرنے کے لئے لپک لپک کر دوڑے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہی جن کے یہاں ناز نخرے اٹھانے والے بے شمار ہوتے ہیں وہ وہاں محض چمک دمک پر نامعلوم و گمنام زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے سب لٹانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔جن کی یہاں حکومتی موج مستیاں ہوتی ہیں اور ہر طرف ہٹو بچو کی صدائیں ہوتی ہیں وہ وہاں سڑکوں گلیوں ٹرینوں میں ویسے ہی گھوم رہے ہوتے ہیں اور کوئی انہیں دیکھنے والا نہیں ہوتا۔

    اللہ فرماتے ہیں‌
    (اے مسلمانو !)تمھیں کافروں کا دنیا میں عیش و رونق کے ساتھ رہنا کسی دھوکے میں نہ ڈالے،یہ تو تھوڑا سا سامان زیست ہے اور پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ ٹھہرنے کی بہت بری جگہ ہے۔۔۔۔
    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
    سنگ مر مر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو۔۔۔۔۔۔
    خاص تحریر۔۔۔۔۔(علی عمران شاھین)

  • اخوت یونیورسٹی خواب نہیں حقیقت۔ تحریر: عادل ندیم

    اخوت یونیورسٹی خواب نہیں حقیقت۔ تحریر: عادل ندیم

    وہ دور جس میں تعلیم کو ذریعہ معاش بنا لیا گیا ھو
    اس دور میں تعلیم، کھانا ، رھائش، یونیفارم اور دیگر ضروری سامان کی مفت فراہمی ایک دیوانے کا خواب ھی لگتا تھا۔
    لیکن یہ خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ھے۔

    میں آپ کو متعارف کروانے جا رھا ھوں
    لاھور اور قصور کے سنگم پر للیانی نہر کے کنارے واقع اخوت کالج یونیورسٹی قصور سے۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کا ایک اور خواب ایک اٹل حقیقت کا روپ دھارے ھمارے سامنے کھڑا ھے۔

    اخوت کالج یونیورسٹی میں پنجاب، سندھ ، کے پی کے ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام علاقوں سے برابری کی بنیاد پر طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ھے۔

    اخوت کالج میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسز کا آغاز 2015 سے ھو چکا تھا اور اب یونیورسٹی کلاسز کا بھی آغاز ھو چکا ھے۔
    طلباء سے ایک روپیہ بھی فیس کی مد میں نہیں لیا جاتا۔
    اعلیٰ معیار کا کھانا ، تعلیم اور رہائش مفت فراھم کی جاتی ھے۔
    طلباء کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ھے۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب سے جب طلباء کی فیس کے بارے میں پوچھا جاتا ھے تو ان کا یہ کہنا ھے کہ
    اخوت کالج یونیورسٹی میں طلباء سے پڑھائی سے قبل لاکھوں روپے فیس کا مطالبہ نہیں کیا جاتا بلکہ طلبا سے کہا جاتا ھے کہ پڑھ لکھ کر جب کامیاب ھو جاؤ تو پھر آ کر اپنی فیس ادا کر دینا تا کہ آپ کسی کا سہارا بن سکو اور آپ کی دی ھوئی فیس سے کوئی اور پڑھ لکھ کر کامیاب ھو سکے۔

    اس قدر اعتماد؟ اس قدر بھروسہ ؟
    اسے خاموش انقلاب ھی کہا جا سکتا ھے ۔

    ایسا انقلاب جو ھمیں کچھ سالوں بعد نظر آنا شروع ہو جاے گا جب اخوت کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دیں گے۔
    اخوت ایجوکیشن پروگرام میں اخوت کالج یونیورسٹی قصور ، اخوت انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فیصل آباد ، اخوت کالج فار وومن چکوال ، این جے وی سکول کراچی اور اخوت پرائمری سکولز (350 سے زائد) شامل ھیں ۔

    نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

  • دولت عثمانیہ کا آغاز و ارتقا .تحریر: محمد سمیع اللہ

    دولت عثمانیہ کا آغاز و ارتقا .تحریر: محمد سمیع اللہ

    عثمانیوں کا تعلق ایک ترکمانی قبیلے سے ہے۔ جو ساتویں صدی ہجری بمطابق تیرھویں صدی عیسوی کو کردستان میں آباد تھا۔ اور پیشے سے چرواہا تھا۔ چنگیز خان کی قیادت میں جب منگولیوں نے عراق اور ایشیائے کوچک کے مشرقی علاقوں میں حملے کئے تو عثمان کا دادا سلیمان اپنے قبیلے کے ساتھ ہجرت کر کے کردستان سے اناضول کے علاقوں میں ا بسا اور اخلاط کے شہر کو اپنا مسکن بنایا۔ یہ 617ھ 1220ء کی بات ہے عثمان کا دادا سلیمان 627ھ بمطابق 1230ء کو فوت ہوا اور اپنے منجھے بیٹے ارطغرل کو اپنا جانشین بنایا ارطغرل اناضول سے شمال مغرب کی جانب مسلسل بڑھتا رہا اسکے ساتھ تقریبا سو خاندان اور چار سو سے زائد شہسوار تھے۔
    عثمان کا والد ارطغرل جب منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لئے یہاں سے نکلا تو اس وقت اسکے ساتھ چار سو کے قریب خاندان تھے۔ راستے میں ایک جگہ اچانک شوروغوغا بلند ہوا۔ ارطغرل جب قریب پہنچا تو دیکھا کہ مسلمانوں اور نصرانیوں کے درمیان جنگ کا میدان گرم ہے اور بیزنطنی عیسائی مسلمانوں کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ ارطغرل کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ اپنی پوری قوت اور شجاعت کے ساتھ آگے بڑھے اور اپنے ہم مذہب و ہم عقیدہ بھائیوں کو اس مشکل سے نکالے۔ ارطغرل نے اس زور سے حملہ کیا کہ نصرانیوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اور اسکی پیش قدمی مسلمانوں کے لئے فتح کا سبب بن گئی۔ جب معرکہ کارزار ختم ہوا تو سلجوقی اسلامی لشکر کے سپہ سالار نے ارطغرل اور اسکے دستے کی بروقت پیش قدمی کی تعریف کی اور انہیں رومی سرحدوں کے پاس اناضول کی مغربی سرحدوں میں ایک جاگیر عطا کی۔ اس طرح انہیں موقع دیا کہ وہ رومی علاقوں کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے سلجوقی سلطنت کی توسیع کا موجب بنے۔ سلجوقیوں کو ارطغرل اور اسکے قبیلے کی صورت میں ایک طاقتور حلیف مل گیا۔ جنہوں نے رومیوں کی خلاف جہاد میں انکا پورا پورا ساتھ دیا۔اس ابھرتی ہوئی سلطنت اور سلاجقہ روم کے درمیان ایک گہرہ تعلق پیدا ہو گیا جس کا سبب رومی تھے جو انکے مشترکہ دشمن تھے اور مذہب و عقیدہ میں انکے مخالف تھے۔
    ارطغرل جب تک زندہ رہا محبت کا یہ تعلق باقی رہا۔ارطغرل کی وفات کے بعد اسکے بیٹے نے بھی سلطنت سلجوقیہ کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔
    عثمان کی پیدائش::
    656ھ بمطابق 1258ء کو ارطغرل کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ والدین نے اس کا نام عثمان رکھا۔اسی عثمان کی طرف عثمانی سلطنت منسوب کی جاتی ہے۔ یہ اسی سال کی بات ہے جب ہلاکو خان کی قیادت میں منگولوں نے عباسی خلافت کے دارالحکومت بغداد پر حملہ کیا۔ بڑے بڑے واقعات پیش آئے۔مسلمانوں نے بڑی بڑی مصیبتیں دیکھی۔ منگولوں نے شہر میں تباہی مچا دی۔
    انہوں نے مرد عورتیں بزرگ بچے حتی کہ جو بھی ملا اسے قتل کر ڈالا سوائے نصرانیوں کہ یا ان لوگوں کہ جنہوں نے ان کے ہاں پناہ لی۔
    یہ بہت واقعہ اور عظیم حادثہ تھا۔ جس سے انت مسلمہ کو گزرنا پڑا۔ ایک ایسی امت جو اپنی نافرمانیوں اور گناہوں کی وجہ سے کمزور ہو گئی۔ اور اسکی طاقت جاتی رہی۔تاتاریوں نے دل کھول کر خون ریزی کی اور بےشمار انسانیت کو قتل کیا۔مال و دولت کو لوٹا۔ گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ان مشکل حالات میں جب امت مسلمہ کڑے وقت سے گزر رہی تھی دولت عثمانیہ کا مؤسس عثمان پیدا ہوا ۔
    عثمان میں اعلی قائدانہ صلاحیتیں

    شجاعت و حوصلہ مندی: جب بیزنطینوں نے مورصہ، مادانوس، ادرہ، نوس، کتہ، کستلہ، کے نصرانی امراء کو 700ھ 1301ء میں دولت عثمانیہ کے مؤسس عثمان سے جنگ کرنے کی غرض سے ایک صلیبی معاہدہ تشکیل دینے کی دعوت دی اور نصرانی امراء نے انکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس نوزائدہ سلطنت کو ختم کرنے کے لئے ایکا کر لیا۔تو عثمان اپنی فوجوں کو لیکر آگے بڑھا خود جنگوں میں گھس گیا اور صلیبی فوجوں کو تتر بتر کر کے شجاعت و بہادری کا شاندار مظاہرہ کیا کہ عثمانیوں کے نزدیک اس کی بہادری ضرب المثل بن گئی۔
    حکمت و دانائی:
    عثمان جب اپنی قوم کا رئیس اعظم مقرر ہوا تو اس نے بڑی عقل ودانائی کا مظاہرہ کیا اور سلطان علاء الدین کی نصرانیوں کے خلاف مدد کی۔ بہت سے ناقابل شکست شہروں اور قلعوں کو فتح کرنے میں اسکے ساتھ رہا اسی وجہ سے دولت سلاجقہ روم کے فرمانروا سلجوقی سلطان علاءالدین نے اسے بڑی عزت دی اسے اپنے نام کا سکہ ڈھالنے اور اپنے ماتحت علاقوں میں اپنے نام کا خطبہ پڑھنے کی اجازت دی۔
    اخلاص و اللہیت : عثمان کے زیر نگیں علاقوں کے قریب بسنے والے لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ وہ دین اسلام کا ایک مخلص سپاہی ہے تو وہ اسکی مدد کو کمربستہ ہو گئے اور ایک ایسی اسلامی سلطنت کے ستونوں کو مستحکم کرنے کے لئے متحد ہو گئے جو اسلام دشمن سلطنت کے سامنے نا قابل عبور دیوار بن کر کھڑی ہو گئی
    صبر واستقامت:
    جب عثمان نے قلعوں اور شہروں کو فتح کرنا شروع کیا تو یہ صفت ان کی شخصیت میں نمایاں طور پر سامنے آئی 707ھ میں اس نے یکے بعد دیگرے کتہ، لفکہ، اق، حصار، قوج حصار کے قلعے فتح کئے۔ 712ھ میں کبوہ، یکیجہ طراقلوا اور تکرر بیکاری وغیرہ قلعے فتح کیے۔
    عدل وانصاف:
    اکثر ترکی مراجع جنہوں نے عثمانیوں کی تاریخ قلم بند کی ہے بتاتے ہیں کہ ارطغرل نے اپنے بیٹے بانی دولت عثمانیہ قرہجہ حصار میں قاضی مقرر کیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب 684ھ 1285 ء میں مسلمانوں کا اس شہر پر قبضہ ہوا۔عثمان نے ایک جھگڑے میں ایک مسلمان کی خلاف فیصلہ سناتے ہوئے بیزنطنی نصرانی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔بیزنطینی کو اس سے بڑا تعجب ہوا اور اس نے عثمان سے پوچھا کہ آپ نے میرے حق میں کیسے فیصلہ سنا دیا جبکہ میں آپ کے دین پر نہیں ہوں تو عثمان نے اسے جواب دیا کہ ہمارا دین ہمیں انصاف کرنے کا کہتا ہے تو میں کیسے نہ انصاف کروں عثمان کے اس عدل و انصاف کی بدولت اس شخص اور اسکی قوم کو ہدایت نصیب ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
    وعدہ کی پابندی:
    وعدہ کی پاسداری کا انہیں بڑا خیال تھا وہ جو وعدہ کرتے پورا کرتے۔ قلعہ اولوباد کے بازنطینی امیر نے جب عثمانی سپاہ کے ہاتھ میں قلعے کی چابیاں دیں تو یہ شرط عائد کی کہ کوئی عثمانی سپاہی پل سے گزر کر قلعے میں داخل نہیں ہو گا۔ عثمان نے اسکا پورا پورا التزام کیا اور اسکے جانشینوں نے بھی اس عہد کو نبھایا۔
    عثمان کا دستور حکمرانی:
    دولت عثمانیہ کے بانی عثمان کی زندگی جہاد اور دعوت دین کے لئے عبارت تھی۔ علماء اسلام امیر کو گھیرے رکھتے تھے اور سلطنت میں شرعی احکام کی تنفیذ اور انتظامی امور کی