Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹک ٹاک صارفین کے لئے کون سا نیا فیچر لارہا ہے؟

    ٹک ٹاک صارفین کے لئے کون سا نیا فیچر لارہا ہے؟

    چینی ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے اپنے صارفین کے لئے نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے-

    باغی ٹی وی :اکثر ٹک ٹاک پر کھانے پکانے کی کوئی ویڈیو دیکھتے ہوئے اس وقت کافی جھنجھلاہٹ ہوتی ہے جب ترکیب کو لکھنا پڑتا ہے یا کریٹیر کے بائیو لنک پر جاکر اسے دیکھنا پڑتا ہے تاہم اب ٹک تاک انتظامیہ نے ایک نئے فیچر کو متعارف کراکے اس مسئلے کو حل کردیا۔

    ٹک ٹاک نے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے کہ کہ ہم اس فیچر کے لئے بہت پُرجوش ہیں جو صارفین کو اپنی ویڈیو میں منی ایپس ایمبیڈ کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

    اس فیچر کو جمپس کا نام دیا گیا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی صارف کھانا پکانے کی ویڈیو بناتا ہے تو وہ ریسیپی ایپ ویشک کے لنک کو اس میں ایمبیڈ کرسکتا ہے، جس سے ناظرین ایک بٹن کلک کرکے اس ترکیب کو ٹک ٹاک کے اندر ہی دیکھ سکیں گے۔

    امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی

    یہ فیچر اس وقت آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے اور مخصوص ٹک ٹاکرز کو ہی دستیاب ہے، مگر ٹک ٹاک کہنا ہے کہ اس فیچر کو مزید افراد کو ٹیسٹنگ کے لیے فراہم کیا جائے گا۔

    جب جمپ فیچر سے لیس کسی ویڈیو کو دیکھا جائے گا تو ناظرین کو اسکرین کے نیچے ایک بٹن نظر آئے گا جو ٹک ٹاک کے اندر ایک نئی اسکرین میں مواد کو اوپن کرے گا اس کی ایک جھلک ٹک ٹاک کی جانب سے ایک ویڈیو میں بھی جاری کی گئی کہ اسے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    ٹک ٹاک کے مطابق اس وقت ویشک، وکی پیڈیا اور ٹیبیلوگ کو اس فیچر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ جلد بزفیڈ اور دیگر کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔

    ویشک کے سربراہ نک ہولزہر نے کہا ، "ہم ٹک ٹاک جمپ میں ایک نمایاں شراکت دار بن کر خوش ہیں ،” رواں سال کے شروع میں ایک محدود بیٹا شروع کرنے کے بعد سے ، ٹِک ٹاک اور ویشک نے ایک طویل عرصے سے دشواری کے خاتمے میں مدد کی ہے جو صارفین کو درپیش ہے کہ کیسے ٹک ٹا ک کے صارفین کو مکمل نسخہ والا مواد دیکھنے اور وقت بچانے کی اجازت دیں۔ اس سے قبل آن لائن شائع شدہ ترکیبیں شامل کرنے کے لئے نہ صرف ٹِک ٹاک کے تخلیق کارویشک استعمال کررہے ہیں بلکہ وہ ٹک ٹاک ک کی انوکھی ترکیبیں بھی شیئر کر رہے ہیں جو کہیں اور موجود نہیں ہیں۔

    خیال رہے کہ ٹک ٹاک پہلی کمپنی نہیں جو اس طرح کے فیچر کو ویڈیوز میں استعمال کررہی ہے، اسنیپ چیٹ میں بھی اس سے ملتا جلتا فیچر منیز کے نام سے موجود ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی اے کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے پشاور ہائیکورٹ کو بتایا تھا کہ شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلکیشن ٹک ٹاک سے 98 لاکھ غیراخلاقی ویڈیوز ہٹادی گئی ہیں۔

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان کی سربراہی میں عدالتی بینچ نے ٹک ٹاک پر اپ لوڈ ہونے والے مواد سے متعلق درخواست پر سماعت کی تھی سماعت کے دوران پی ٹی اے کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور وکیل جہانزیب محسود عدالت میں پیش ہوئے تھے-

    دورانِ سماعت ڈائریکٹر ٹیکنیکل پی ٹی اے نے بتایا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد اب تک ٹک ٹاک سے 98 لاکھ غیر اخلاقی ویڈیوز کو ہٹادیا گیا ہے جبکہ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اب تک غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرنے والے 7 لاکھ 20 ہزار ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو بلاک کردیا گیا ہے اور پاکستان کے لیے ٹک ٹاک کانٹینٹ ماڈریٹر کی تعداد بڑھائی گئی ہے۔

    موبائل آپریٹر ویلیو ایڈڈ خدمات کو فعال کرنے سے پہلے صارفین کی رضامندی حاصل کریں…

    علاوہ ازیں پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود ایڈووکیٹ نے بتایا تھا کہ عدالتی حکم کے بعد ٹک ٹاک نے پہلی مرتبہ پاکستان کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا ہے پی ٹی اے نے غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ ہونے سے پہلے سنسر کرنے کے لیے مختلف ممالک سے رابطے کیے لیکن ٹک ٹاک ویڈیو سنسر کرنے کے لیے کوئی ڈیوائس موجود نہیں ہے۔

    اس پر چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو کام آپ کررہے ہیں اس کو جاری رکھیں، ہم نہیں چاہتے کہ تفریح کے لیے ٹک ٹاک کو بند کیا جائے جو غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ ہوتا ہے اس کے ہمارے معاشرے پر برے اثرات پڑتے ہیں ہمیں صرف اس کی فکر ہے۔

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ جو غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں، اس کو فلٹر کیا جائےبعدازاں عدالت نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 22 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    پی ٹی اے کی ‘ٹوئٹر’ کو اعلی عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مواد ہٹانے کی…

  • بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    بھارت کی شمالی ریاست میزورام میں زیادہ بچوں والے والدین کے لیے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق یوں تو کئی ریاستیں آبادی میں کمی کے لیے خصوصی مہم چلا رہی ہیں تاہم ایک ریاست ایسی بھی ہے جہاں معاملہ اس کے برعکس ہے اور زیادہ بچے پیدا کرنے والے والدین کے لیے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

    شمالی ریاست میزورام کے کھیل کے وزیر رابرٹ روماویا نے اپنے حلقے میں زیادہ بچوں والے والدین کے لیے ایک لاکھ بھارتی روپے، ٹرافی اور تعریفی سند دینے کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے بچے ہونے پر یہ انعام دیا جائے گا۔

    اس موقع پر رابرٹ روماویا نے مزید کہا کہ زیادہ بچوں والے والدین کو انعام سرکاری خزانے سے نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کے بیٹے کی ایک تعمیراتی کنسلٹنسی فرم ینگ میزو ایسوسی ایشن انعامات کے لیے رقم فراہم کرے گی۔

    وزیر کھیل نے اپنے موقف کی تائید میں کہا کہ ریاست میں بانجھ پن میں اضافے اور آبادی میں مسلسل کمی تشویشناک ہے جس سے مختلف قبائل اور برادریوں کی بقا خطے میں پڑ گئی جب کہ کئی شعبوں میں ترقی کے لیے ریاست کی آبادی میں اضافہ ناگزیر ہوگیا۔

    واضح رہے کہ 2011 کی مردم شماری میں میزورام کی آبادی 10 لاکھ 91 ہزار 14 تھی یعنی 21 ہزار 87 اسکوائر کلومیٹر کے رقبے پر محیط اس ریاست میں فی اسکوائر کلومیٹر 52 افراد رہتے ہیں۔ میزورام بھارت میں آروناچل پردیش کے بعد سب سے کم آبادی والی ریاست ہے۔

    ان کا یہ اعلان ایک متعدد عیسائی مذہبی گروہ کے رہنما صیہون چنا کی موت کے ایک ہفتہ بعد سامنے آیا ہے جس کی 39 بیویاں اور 94 بچے تھے جن کے علاوہ کئی پوتے پوتیاں ہیں۔

    ایوارڈ اسکیم آسام حکومت کے سرکاری ملازمتوں کے لئے دو بچوں کی پالیسی پر عمل درآمد کے بالکل برعکس تھی اور کہا ہے کہ سرکاری اسکیموں کے لئے بھی آہستہ آہستہ اسی طرح کے اصولوں کا اطلاق کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق مسٹر روئٹے شمال مشرق میں پہلے رہنما نہیں ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ بچوں والے جوڑوں یا خواتین کو نقد ایوارڈ دینے کا اعلان کیا یا دیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ "بیرونی افراد” اور تارکین وطن کی تعداد میں کمی ہونے کے خدشے کے مطابق وہ کام کر رہے ہیں۔

    میگھالیہ کی کھاسی پہاڑیوں کی خودمختار ضلعی کونسل نے جنوری 2017 میں امیلیا سوہتن کو 17 بچوں کو جنم دینے کے لئے 16،000 ڈالر دیئے تھے جبکہ ڈوروتھیا خارانی اور فیلومینا سوہلنگپیا کو 15 بچوں کو جنم دینے پر 15،000 ڈالر دیئے گئے تھے۔ کونسل نے کہا ، یہ انعام دوسروں کے لئے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب تھا۔

    تقریبا ایک دہائی کے بعد ، منی پور میں غیر سرکاری تنظیموں نے زیادہ تر بچوں والی ماؤں کے لئے مقابلہ جات کا انعقاد شروع کیا۔ ایسے ہی ایک گروپ ، ارمدام کنبہ اپنبا لپ ، نے جولائی 2016 میں 10 اور 15 بچے پیدا کرنے والی 13 خواتین کو انعام سے نوازا تھا-

    جون 2018 میں ، وائی ایم اے کے صدر وانلالرواتا نے کہا کہ میزورم کو "بیبی بوم” کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ میزوز نے "ہزاروں تارکین وطن مزدوروں کو ایک جگہ پر اکٹھا کیا-

    جبکہ این ڈی ٹی وی کے مطابق آسام کے وزیر اعلی ہمانتا بِسوا سرما نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت ریاست کی مالی معاونت سے چلنے والی کچھ اسکیموں کے تحت فائدہ اٹھانے کے لئے دو بچوں کی پالیسی پر آہستہ آہستہ عمل درآمد کرے گی۔

    2019 میں ، ریاستی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ جنوری 2021 سے دو سے زیادہ بچے ہوں گے وہ سرکاری ملازمت کے اہل نہیں ہوں گے آسام میں اس وقت پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے دوسری ضروریات کے ساتھ دو بچوں کا معمول ہے۔

    چند روز قبل ، اتر پردیش لاء کمیشن کے چیئرمین آدتیہ ناتھ متل نے کہا کہ بڑھتی آبادی پر ایک نظر رکھنی چاہئے کیونکہ اس سے ریاست میں مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

    ایک غیر سرکاری تنظیم ، پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا (پی ایف آئی) نے کہا ہے کہ بھارت کو چین کے اس دو بچوں کی پالیسی پر نظر ثانی سے سبق حاصل کرنا چاہئے جس کا یہ دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا زبردستی آبادی کی پالیسیوں سے بہتر کام کرتا ہے۔

    گذشتہ سال دسمبر میں ، مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ہندوستان میں خاندانی بہبود کا پروگرام رضاکارانہ ہے۔

  • امریکا نے ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی سمیت 3 نیوز ویب سائٹس بند کر دیں

    امریکا نے ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی سمیت 3 نیوز ویب سائٹس بند کر دیں

    امریکا نے ایک طرف چین کی ایپلیکیشنز سے پابدنی اٹھالی تو دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی سمیت 3 اداروں کی ویب سائٹس بند کردیں۔

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا کے مطابق ایران کی بڑی نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ بند کیا جانا پہلی بار ہوا ہے ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ معاملے پر محکمہ انصاف سے پوچھا جائے۔

    واضح رہے کہ ویب سائٹس ایران میں قدامت پسند ابراہیم رئیسی کے صدر بننے کے بعد بند کی گئیں۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی ایپلیکیشنز پر لگائی پابندی ہٹا دی گئی ہے امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹک ٹاک اور وئی چیٹ پر پابندی لگانے سے متعلق ٹرمپ کا فیصلہ واپس لے لیا ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک اور وئی چیٹ پر پابندی لگائی تھی-

    دوسری جانب چین کی جانب سے جوبائیڈن کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیا چینی حکام کا کہنا ہے کہ ک ٹاک پر عائد پابندی ختم کرنےکا فیصلہ خوش آئیند اور درست جانب قدم ہے-

    امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی
  • امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی

    امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی

    امریکی صدر جو بائیڈن نے چینی موبائل ایپ ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر عائد پابندی اٹھا لی، خبر ایجنسی

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی ایپلیکیشنز پر لگائی پابندی ہٹا دی گئی ہے-

    خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹک ٹاک اور وئی چیٹ پر پابندی لگانے سے متعلق ٹرمپ کا فیصلہ واپس لے لیا ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک اور وئی چیٹ پر پابندی لگائی تھی-

    دوسری جانب چین کی جانب سے جوبائیڈن کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیا چینی حکام کا کہنا ہے کہ ک ٹاک پر عائد پابندی ختم کرنےکا فیصلہ خوش آئیند اور درست جانب قدم ہے-

    واضح رہے کہ رواں سال کے پہلے مہینے کے شروع میں ہی مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے آٹھ سافٹ ویئر ایپلی کیشنز کے ساتھ ٹرانزیکشن پر پابندی عائد کرنے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ، جس میں علی پے، سمیت 7 اور دیگر ایپس شامل ہیں-

    ڈیجیٹل ادائیگیاں کوویڈ19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیےتھے جس کے تحت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے-ایگزیکٹیو آرڈر کا مقصد چینی حکومت کو امریکی صارفین کے ڈیٹا اکٹھا کرنے سے روکنا ہے۔

    اس دستاویز میں زور دیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے چینی سافٹ ویئر اپلیکشنز سے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جارحانہ اقدامات کیے جائیں اب یہ محکمہ تجارت کی جانب سے تعین کیا جائے گا کہ اس حکم نامے کے تحت 45 دن کے اندر کونسی ٹرانزیکشنز پر پابندی عائد ہوتی ہے۔

    چینی کمپنیوں علی پے، وی چیٹ پے، کیم اسکینر، شیئر ایٹ، ٹینسینٹ کیو کیو، وی میٹ اور ڈبلیو پی ایس آفیس ایپس پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ حکم نامہ ان کی صدارت کی مدت کے ختم ہونے 14 دن پہلے جاری کیا گیاتھا۔

    دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بدھ کو معمول کی بریفننگ کے دوران کہا تھا کہ چین کی جانب سے کمپنیوں کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

    ترجمان نے کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا جارہا ہے اور بلاوجہ غیرملکی کمپنیوں کو دبایا جارہا ہے۔

    وزارت نے مزید کہا تھا کہ اس سے چینی کمپنیوں اور ان کے صارفین کے مفادات کو بھی نقصان پہنچا ہے ، جن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہے ، جنہوں نے وبائی امراض کے دوران ایپلی کیشن کو بغیر رابطے کی ادائیگی کے اختیارات کے طور پر "وسیع پیمانے پر استعمال” کیا تھا۔

    تاہم اس وقت جیو بائیڈن کی ٹرانزیکشن ٹیم اور SHAREit نے اس پر کوئی تبصرہ دہنے سے انکار کیا تھا-

    امریکا میں شئیرایٹ اور علی پے سمیت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد
  • کیا ایران کے صدر کے پاس اختیارات ہوتے؟   "تحریر :فصیح حیدر”

    کیا ایران کے صدر کے پاس اختیارات ہوتے؟ "تحریر :فصیح حیدر”

    1979کے انقلاب کے بعد ایران میں 12 بار صدارتی انتخابات ہو چکے ہیں اور 18 جون 2021 کو ایران میں تیرہویں صدر کے لیے الیکشن ہوئے جس میں ایران کے چیف جسٹس جناب ابراہیم رئیسی نے واضح اکثریت حاصل کرلی۔ ایران کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ، ایران کا صدر کوئی چیف جسٹس ہو۔ ایران میں کئی سالوں سے الیکشن ہو رہے ہیں اور مختلف لوگ صدر کی حیثیت سے منتخب بھی ہو تے چلے آرہے ہیں لیکن اصل مدعے بحث یہ نہیں ہے کہ کون ایران کا صدر بنتا ہے، بنیادی بات تو ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنا ہے۔ اگر ہم ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ آیا صدر کے پاس واقع ہی عملی و حقیقی طور پر اختیارات ہوتے ہیں یا ایران کو کوئی دوسری شخصیت چلاتی ہے۔
    تو دوستو! یہاں پر ایک بات واضح کر لیں گے ایران کا صدر چاہے کوئی بھی بن جائے واحد، حتمی اور آخری اختیار ایران کے سپریم لیڈر جناب آیت اللہ خامنائی کے پاس ہوتا ہے۔ یہ ایران کے ہیڈ آف اسٹیٹ کہلاتے ہیں، ایران کی اسٹیبلشمنٹ جوڈیشری اور ٹیوی یہ سب اہم ادارہ ان کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایران کی خارجہ پالیسی خود ایران کے سپریم لیڈر طے کرتے ہیں۔ملک کی معاشی اور معاشرتی پالیسیاں ان کے دستخط کے بغیر لاگو نہیں کی جاسکتی۔ آپ اس کو آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اگر صدر کے پاس اپنی کابینہ چننے کا اختیار ہے تو سپریم لیڈر کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی کابینہ کے ممبر کو عہدے سے فارغ کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ ملک کا صدر بھی اگر ملکی مفادات کے خلاف جا کر کوئی کام کرتا ہے تو وہ چاہے تو اس کو بھی ہٹا سکتے ہیں۔ تو جو کوئی بھی ایران کا صدر ہوں یا اس صدارتی دوڑ میں شامل ہوں ، اس کے ذہن میں ایک چیز بالکل واضح ہوتی ہے ،کہ اقتدار میں آکر آپ کسی بھی قسم کی کوئی پارٹی بندی ،کوئی مونوپولی(monopoly) ، کسی قسم کے اختیارات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں،صدر کے پاس چاہے جتنے مرضی اختیارات هو وہ پھر بھی سپریم لیڈر سے نیچے ہی رہے گا۔
    مختصر یہ کہ صدر صرف ایران میں پارلیمانی(parliamentary ) و سیکریٹیریل(secretarial) ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔ ایران کا ہر صدر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے اور وہ مسلسل دو بار الیکشن میں کھڑا ہونے کا اہل رہتا ہے لیکن تیسری مرتبہ اسے اپنی جگہ کسی اور کو بطور صدر کھڑا کرنا پڑتا ہے۔ اس بار منتخب ہونے والے صدر ابراہیم رئیسی کا تعلق ہارڈ لائنر گروپ سے ہے۔ بنیادی طور پر ایران میں تین قسم کی سیاسی سوچ پائی جاتی ہے۔
    1:ہارڈ لائنر (hardliner )
    2:ماڈریٹ(moderate ) 3ریفورم سٹ (reformist)
    ہارٹ لائنر وہ ہوتے ہیں جو ولایت فقہ پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی فقہ کے مطابق چلنااور قانون سازی کرنا ان کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ماڈریٹ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ اعتدال پسند ہوتے ہیں، حسن روحانی جو کہ ابراہیم رئیسی سے پہلے صدر تھے ماڈریٹ گروپ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی سوچ ملکی معیشت اور ترقی کے ساتھ ساتھ ولایت فقہ یعنی ہارڈ لائنر جیسی ہوتی ہے، ریفارمیسٹ وہ ہوتے ہیں جو ہارٹ لائنر کے بالکل مخالف سوچتے ہیں، ان کی پہلی ترجیح ملکی معیشت اور ترقی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہوتی ہے، ابراہیم رئیسی جیسا کہ ہم پہلے اوپر بتا چکے ہیں کہ ان کا تعلق ہارڈ لائنر گروپ سے ہے۔ انہوں نے اپنا کیرئیر بطور پروینشل پراسیکیوٹرجنرل(provincial prosecutor general) شروع کیا تھا، پھر ان کے پاس بہت اہم اداروں کے عہدے بھی رہے، جن میں ہیڈ آف جوڈیشری ڈپٹی چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل ہیں۔

    پھر انہوں نے جوڈیشری کو چھوڑ دیا اور القدس رضوی فاؤنڈیشن کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات دے کر سپریم لیڈر نے انہیں 2019 میں چیف جسٹس آف ایران لگا دیا۔ بطور چیف جسٹس کام کرتے ہوئے انہوں نے کرپشن کے خلاف اعلان جنگ کیے رکھا۔ ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات کی وجہ سے یہ بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں کھٹکنا شروع ہوں گے، انہوں نے 2017 کے الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا، لیکن حسن روحانی کے مقابلے میں یہ دوسرے زیادہ اکثریت لینے والے امیدوار تھے۔ 2021 کے الیکشن میں واضح نظر آرہا تھا کہ ایران کے خاص ادارے اور سپریم لیڈر خود یہ چاہتے ہیں کہ ایران کا اگلا صدر ابراہیم ریسی ہو، ابراہیم رئیسی کے مقابلے میں گارڈین کونسل نے ان امیدواروں کا انتخاب کیا جن کا کوئی بہت زیادہ اثر و رسوخ نہیں تھااور بڑے بڑے نام جیسا کہ تین بار اسپیکر رہنے والے علی لارے جانی اور دو بار صدر رہنے والے 1979کہ انقلاب کے بعد ایران میں 12 بار صدارتی انتخابات ہو چکے ہیں اور 18 جون 2021 کو ایران میں تیرہویں صدر کے لیے الیکشن ہوئے جس میں ایران کے چیف جسٹس جناب ابراہیم رئیسی نے واضح اکثریت حاصل کرلی۔ ایران کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ، ایران کا صدر کوئی چیف جسٹس ہو۔ ایران میں کئی سالوں سے الیکشن ہو رہے ہیں اور مختلف لوگ صدر کی حیثیت سے منتخب بھی ہو تے چلے آرہے ہیں لیکن اصل مدعے بحث یہ نہیں ہے کہ کون ایران کا صدر بنتا ہے، بنیادی بات تو ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنا ہے۔ اگر ہم ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ آیا صدر کے پاس واقع ہی عملی و حقیقی طور پر اختیارات ہوتے ہیں یا ایران کو کوئی دوسری شخصیت چلاتی ہے۔
    تو دوستو! یہاں پر ایک بات واضح کر لیں گے ایران کا صدر چاہے کوئی بھی بن جائے واحد، حتمی اور آخری اختیار ایران کے سپریم لیڈر جناب آیت اللہ خامنائی کے پاس ہوتا ہے۔ یہ ایران کے ہیڈ آف اسٹیٹ کہلاتے ہیں، ایران کی اسٹیبلشمنٹ جوڈیشری اور ٹیوی یہ سب اہم ادارہ ان کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایران کی خارجہ پالیسی خود ایران کے سپریم لیڈر طے کرتے ہیں۔ملک کی معاشی اور معاشرتی پالیسیاں ان کے دستخط کے بغیر لاگو نہیں کی جاسکتی۔ آپ اس کو آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اگر صدر کے پاس اپنی کابینہ چننے کا اختیار ہے تو سپریم لیڈر کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی کابینہ کے ممبر کو عہدے سے فارغ کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ ملک کا صدر بھی اگر ملکی مفادات کے خلاف جا کر کوئی کام کرتا ہے تو وہ چاہے تو اس کو بھی ہٹا سکتے ہیں۔ تو جو کوئی بھی ایران کا صدر ہوں یا اس صدارتی دوڑ میں شامل ہوں ، اس کے ذہن میں ایک چیز بالکل واضح ہوتی ہے ،کہ اقتدار میں آکر آپ کسی بھی قسم کی کوئی پارٹی بندی ،کوئی مونوپولی(monopoly) ، کسی قسم کے اختیارات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں،صدر کے پاس چاہے جتنے مرضی اختیارات هو وہ پھر بھی سپریم لیڈر سے نیچے ہی رہے گا۔

    مختصر یہ کہ صدر صرف ایران میں پارلیمانی(parliamentary ) و سیکریٹیریل(secretarial) ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔ ایران کا ہر صدر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے اور وہ مسلسل دو بار الیکشن میں کھڑا ہونے کا اہل رہتا ہے لیکن تیسری مرتبہ اسے اپنی جگہ کسی اور کو بطور صدر کھڑا کرنا پڑتا ہے۔ اس بار منتخب ہونے والے صدر ابراہیم رئیسی کا تعلق ہارڈ لائنر گروپ سے ہے۔ بنیادی طور پر ایران میں تین قسم کی سیاسی سوچ پائی جاتی ہے۔
    1:ہارڈ لائنر (hardliner )
    2:ماڈریٹ(moderate ) 3ریفورم سٹ (reformist)
    ہارڈ لائنر وہ ہوتے ہیں جو ولایت فقہ پر یقین رکھتے ہیں اور ہر صورت میں شریعت خداوندی نافذ کرنا ان کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ماڈریٹ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اعتدال پسند ہوتے ہیں، حسن روحانی جو کہ ابراہیم رئیسی سے پہلے صدر تھے ماڈریٹ گروپ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی سوچ ملکی معیشت اور ترقی کے ساتھ ساتھ ولایت فقہ یعنی ہارڈ لائنر جیسی ہوتی ہے، ریفارمیسٹ وہ ہوتے ہیں جو ہارٹ لائنر کے بالکل مخالف سوچتے ہیں، ان کی پہلی ترجیح ملکی معیشت اور ترقی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہوتی ہے، ابراہیم رئیسی جیسا کہ ہم پہلے اوپر بتا چکے ہیں کہ ان کا تعلق ہارٹ لائنر گروپ سے ہے۔ انہوں نے اپنا کیرئیر بطور پروینشل پراسیکیوٹرجنرل(provincial prosecutor general) شروع کیا تھا، پھر ان کے پاس بہت اہم اداروں کے عہدے بھی رہے، جن میں ہیڈ آف جوڈیشری ڈپٹی چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل ہیں۔
    پھر انہوں نے جوڈیشری کو چھوڑ دیا اور القدس رضوی فاؤنڈیشن کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات دے کر سپریم لیڈر نے انہیں 2019 میں چیف جسٹس آف ایران لگا دیا۔ بطور چیف جسٹس کام کرتے ہوئے انہوں نے کرپشن کے خلاف اعلان جنگ کیے رکھا۔ ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات کی وجہ سے یہ بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں کھٹکنا شروع ہوں گے، انہوں نے 2017 کے الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا، لیکن حسن روحانی کے مقابلے میں یہ دوسرے زیادہ اکثریت لینے والے امیدوار تھے۔ 2021 کے الیکشن میں واضح نظر آرہا تھا کہ ایران کے خاص ادارے اور سپریم لیڈر خود یہ چاہتے ہیں کہ ایران کا اگلا صدر ابراہیم ریسی ہو، ابراہیم رئیسی کے مقابلے میں گارڈین کونسل نے ان امیدواروں کا انتخاب کیا جن کا کوئی بہت زیادہ اثر و رسوخ نہیں تھااور بڑے بڑے نام جیسا کہ تین بار اسپیکر رہنے والے علی لارے جان اور دو بار صدر رہنے والے محموداحمدی نجات کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ خود سپریم لیڈر کا جھکاؤ بھی ابراہیم رئیسی کی طرف تھا اس بات کا اشارہ ان کے ادارے کی جانب سے کیے گئے ٹیلیگرام میسج سے ملتا ہے جس میں انھوں نے لکھا تھا:” pursue justice and fight against corruption ” اور یہی خاصیت ابراہیم رئیسی کی تھی، ان کی وجہ شہرت بھی یہی تھی کہ وہ انصاف پسند اور کرپشن کے خلاف تھے، لہذا یہ بات واضح تھی کے ابراہیم رئیسی ہی صدر منتخب ہوں گے۔
    بہرحال ایران کا صدر کوئی بھی بنے ایرانیوں کو اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پچھلی ایک دہائی سے ایران کے معاشی حالات بہت برے ہو چکے ہیں لوگوں کے پاس کام نہیں ہیں امریکہ کی سنکشنز (sanction) کی وجہ سے آئے دن مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور جو کمی بیشی رہ گئی تھی وہ ایک سال پہلے پھیلے کرونا وائرس نے پوری کر دی۔
    ایران کے شہریوں سے الیکشن کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تو اکثر کا کہنا تھا کہ ہمیں ان الیکشن کا کیا فائدہ جب کہ ہمارے گھروں میں کھانے پینے کے لئے اور کمانے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ نجات کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ خود سپریم لیڈر کا جھکاؤ بھی ابراہیم رئیسی کی طرف تھا اس بات کا اشارہ ان کے ادارے کی جانب سے کیے گئے ٹیلیگرام میسج سے ملتا ہے جس میں انھوں نے لکھا تھا:” pursue justice and fight against corruption ” اور یہی خاصیت ابراہیم رئیسی کی تھی، ان کی وجہ شہرت بھی یہی تھی کہ وہ انصاف پسند اور کرپشن کے خلاف تھے، لہذا یہ بات واضح تھی کے ابراہیم رئیسی ہی صدر منتخب ہوں گے۔
    بہرال ایران کا صدر کوئی بھی بنے ایرانیوں کو اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پچھلی ایک دہائی سے ایران کے معاشی حالات بہت برے ہو چکے ہیں لوگوں کے پاس کام نہیں ہیں امریکہ کی سنکشنز (sanction) کی وجہ سے آئے دن مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور جو کمی بیشی رہ گئی تھی وہ ایک سال پہلے پھیلے کرونا وائرس نے پوری کر دی۔
    ایران کے شہریوں سے الیکشن کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تو اکثر کا کہنا تھا کہ ہمیں ان الیکشن کا کیا فائدہ جب کہ ہمارے گھروں میں کھانے پینے کے لئے اور کمانے کے لئے کچھ بھی نہیں۔

  • ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    وطن سے الفت و محبت اور اس سے متعلق ہر چیزسے حد درجہ قلبی تعلق بلا قید مذہب وملت ہرانسان بلکہ ہر ذی روح کے اندر قدرت کی طرف سے کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔اس کے لیے آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے ہی آس پاس نظر دوڑائیں توآپ کو بے شمار مخلوق آپ کو زمین وآسمان میں ایسی مل جائیں گی جو صبح اپنے رزق کی تلاش میں نکلتی ہیں اور شام ہوتے ہی اپنے محبوب گھر کی طرف واپس لوٹ جاتی ہیں

    انسان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جس سر زمین پریہ اپنی آنکھیں کھولتا ہے،پرورش پاتا ہے،عنفوان شباب کو پہنچتا ہے،شادی بیاہ کرتا ہے،ملازمت وتجارت کرتاہے اور آخر میں اسی کی سرزمین کو اپنی آرام گاہ کے لیے پسند کرتا ہے ،اس کی یادیں اور اس سے متعلق ہر چیز کی محبت اس قداس کے رگ وریشہ میں سرایت کر جاتی ہیں کہ وہ وطن کی آن بان اور شان کے لیے جان تک کی بازی لگانے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا

    کسی بھی ملک میں رہنے والے لوگ اس ملک، ریاست سے محبت کرتے ہیں
    اس ملک کی مٹی کی خوشبو سے پیار کرتے ہیں
    ملک کی مٹی کو دھرتی ماں کہتے ہیں
    ملک کوئی بھی ہو اسلامی ہو یا غیر اسلامی ملک سے محبت وہاں کے شہری کرتے ہیں
    بھلے ملک کی حکمرانی ان کی مرضی کے لوگوں کی ہو یا مخالفین کی ان کی ملک سے محبت کا اپنا انداز ہوتا ہے
    وہ ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں

    ملک کے اندر کے معاملات جیسے بھی ہوں لیکن ملک سے باہر سے اگر کوئی بات کرے تو اس کو سب مل کر جواب دیتے ہیں
    وطن سے محبت ایک فطری امر ہے ، بہت سی احادیث سے وطن کی محبت پر راہنمائی ملتی ہے ، ہجرت کرتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:مَا أَطْیَبَکِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّکِ إِلَیَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِی أَخْرَجُوْنِی مِنْکِ مَا سَکَنْتُ غَیْرَکِ۔تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے ! اگر میری قوم تجھ سے نکلنے پر مجھے مجبور نہ کرتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آبائی وطن مکہ مکرمہ سے محبت کا ذکر فرمایا ہے

    اسلام بھی ہمیں اپنے ملک، وطن، سرزمین سے محبت کا درس دیتا ہے
    ملک خداداد پاکستان میں کچھ سیاسی جماعتوں کے لوگ، کچھ مفاد پرست نام نہاد عوامی نمائندے ملک دشمنی میں اس قدر گر چکے ہیں جو نا تو شرعی حدود کا خیال کرتے ہیں اور نا ہی ملکی قانون کا وہ ہر موقع ملنے پر ملکی اداروں اور پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ بنتے نظر آتے ہیں

    ملک کو اندرونی و بیرونی دشمنوں کے ساتھ مل کر کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں
    شرعی اعتبار سے بھی وطن سے محبت کرنا سنت انبیاء ہے

    اللہ تعالیٰ قرآن پاک میںاپنی جان کی محبت کے ساتھ اپنے وطن سے محبت وتعلق کو ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔

              ’’ اور اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرلو اور اپنے گھروں سے نکل جاؤتو وہ ہرگز نہ کرتے سوائے چند افراد کے‘‘۔(سورہ نساء)۔

              اور دوسری جگہ پر وطن کی محبت کو دین و مذہب سے جوڑ کر فرماتا ہے: اللہ نے تم کو ان کے ساتھ نیکی اور انصاف سے منع نہیں کیا،جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ ہی تم کو تمہارے گھروں سے نکالا  ‘‘
    (سورہ ممتحنہ)

              جب نبی رحمتﷺ نے مدینہ منورہ کو وطن بنا لیا تو دعا میں فرما یا کرتے تھے:اے اللہ ہمارے اندر مدینہ کی اتنی محبت پیدا کر دے،جتنی تونے مکہ کی محبت دی ہے،مدینہ کی آب وہوا درست فرمادے اور ہمارے لیے اس شہر کو برکت والا بنادے۔مدینہ جو یثرب ہے اس سے بخار کو دوسری طرف منتقل فرمادے‘‘
    (بخاری)

    سیاسی اختلافات کو بھول کر ایک پیج پے آئیں اور ملک و قوم کی سلامتی و خوشحالی کے لئے ایک ہو کر ملک کے لیے کام کریں

    Talat K Salam
    @alwaystalat

  • سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت کے آخری طاقتور بادشاہ محمد شاہ کے انتقال کے بعد سلجوق سلطنت آہستہ آہستہ اپنے زوال کی جانب جانے لگی۔ ملک شاہ جب فوت ہوا تو اس نے اپنے پیچھے چار بیٹے چھوڑے۔ برکیاق، محمد ، سنجر اور محمود۔ محمود جو کہ بعد میں ناصر الدین محمود کے نام سے پہچانا گیا بچہ تھا۔ اسکے ہاتھ پر بحث کی گئی۔ کیونکہ اس کی ماں ترکان خاتون کو ملک شاہ کے دور حکومت میں بڑی قدر ومنزلت حاصل تھی۔ محمود تقریبا دو سال 485ھ بمطابق 1092 ء تا 487ھ بمطابق 1094ء تک حکمران رہا۔ کیونکہ انکا اور انکی والدہ کا وصال ہو گیا۔ ان کے بعد رکن الدین ابو المظفر برکیاق بن ملک شاہ آیا۔ اور 498ھ بمطابق 1105ء تک حکمراں رہا۔ پھر رکن الدین ملک شاہ ثانی کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ اور اسی سال اقتدار غیاث الدین ابو شجاع محمد کے ہاتھ لگا اور وہ 511ھ بمطابق 1118ء تک حکمراں رہا۔
    عظیم دولت سلجوقیہ کا آخری حکمراں غیاث الدین ابو شجاع محمد تھا۔ جس کا پایہ تخت مارواء النہر کا علاقہ تھا خراسان، ایران اور عراق کے علاقوں پر بھی اس کی حکمرانی تھی۔ بالآخر 511ھ بمطابق 1118ء کو شاہنات خوارزم کے ہاتھوں اسکا خاتمہ ہوا۔
    ماوراءالنہر سے سلجوقیوں کی سلطنت کے خاتمے کے ساتھ ہی سلاجقہ افتراق و انتشار کا شکار ہو گئے۔ اور ان کی وحدت پارہ پارہ ہو گئی۔ انکی طاقت اس قدر کمزور ہو گئی کہ سلجوقی متعدد گروہوں اور باہم متصادم لشکروں میں تبدیل ہو گئے جو تخت و تاج حاصل کرنے کے لئے باہم دست و گریباں رہتے تھے۔ عظیم سلجوقی سلطنت چھوٹی چھوٹی امارات اور دول میں تبدیل ہو گئی۔ اور یہ امارات اور سلطنتیں کسی ایک سلطان کے اقتدار کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوئی جیسا کہ طغرل بیگ سلطان الپ ارسلان ، ملک شاہ اور اسکے اسلاف کے دور میں متحد تھی۔ ہر ایک علاقہ خود مختار تھا۔ ہر ایک کا اپنا فرمانروا تھا اور ان میں کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں تھا۔
    اس افتراق و انتشار کے نتیجے میں مارواءالنہر میں ایک اور طاقت ابھر کر سامنے آئی۔ یہ خوارزمی سلطنت تھی جو ایک عرصہ تک منگولی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی۔ خوارزمی سلطنت کے ساتھ سلجوقی امارات، عراق اور شام کے شمال میں قائم ہوئیں۔ جو اتابک امارات کے نام سے پہچانی جاتی تھی۔ اسی عرصہ میں سلاجقہ روم کی سلطنت سامنے آئی۔ یہ وہ سلطنت تھی جس نے صلیبی حملوں کو روکا اور ایشیائے کوچک کا شمال مغربی کونا دشمن کے دست وبرد سے محفوظ رکھا۔ لیکن یہ سلطنت منگولوں کے تابڑ توڑ حملوں کا مقابلہ نہ کر سکی اور بالآخر ان غارت گروں نے ان علاقوں میں تباہی مچا دی۔
    سلجوقی سلطنت کے سقوط میں چند عوامل کار فرما تھے اور یہی عوامل عباسی خلافت کے سقوط کا پیش خیمہ ثابت ہوئے
    ان عوامل میں چند ایک یہ ہیں

    1) سلجوقی گھر کے اندر بھائیوں، چچاؤں، بیٹوں اور پوتوں کے درمیان تخت و تاج کے لئے چپقلش۔
    2) بغص امراء، وزراء اور اتابکوں کی طرف سے سلجوقی حکمرانوں کے درمیان فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانا۔
    3) حکومتی امور میں خواتین کا عمل دخل۔
    4) عباسی خلفاء کا سلجوقی فوجی قیادت کے سامنے کمزور اور بے بس ہونا اور ہر طاقتور سلجوق تاجور کی حکومت کو تسلیم کر کے خطبہ میں اس کے نام کو شریک کرنے کی اجازت دے دینا اور اس سلسلے کی طرف احتیاط نہ کرنا۔
    5) سلجوقی سلطنت کا شام ، مصر اور عراق کو عباسی خلافت کے جھنڈے کے نیچے متحد کرنے میں ناکام ہونا۔
    6) سلجوقیوں کا مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہنا۔ اسی چیز نے انکی قوت کا خاتمہ کیا اور عراق میں انکی سلطنت ختم ہو گئی۔
    7) سلجوقی سلطنت کے خلاف باطینیوں کی مذموم سازشیں اور سلجوقی سلاطین ان کے قائدین، زعماء کو دھوکے سے قتل کرنے کی انکی مسلسل کوششیں اور خونی حملے۔
    8) سمندر پار سے آنے والے صلیبی جنگجو اور سلجوقی سلطنت کا یورپ سے آنے والے وحشی لشکروں کے ساتھ ٹکراؤ ۔
    اسکے علاؤہ کئی دوسرے اسباب بھی تھے۔
    لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کہ اپنے دور حکومت میں انہوں نے عظیم کارنامے انجام دیے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ۔
    1) سلجوقی سلطنت کی بدولت عباسی خلافت کا زوال دو صدیاں مؤخر ہو گیا۔ اگر سلجوقی نہ ہوتے تو شیعہ رافضیوں کے ہاتھوں بہت پہلے عباسی خلافت کا وجود مٹ جاتا۔
    مصریوں کی سلطنت عبیدی فاطمی سلجوقیوں کی طاقت کہ وجہ سے مشرق کے عرب مسلمانوں کو باطینی عبیدی رافضی سلطنت کے جھنڈے تلے جمع نہ کر سکی اور انکے مذموم مقاصد پورے نہ ہوئے۔
    3) دولت سلجوقی کی کوشیش اسلامی مشرق کے اتحاد کی تمہید اور پیش خیمہ تھی اور یہ اتحاد سنی سلطنت عباسی کے جھنڈے کے نیچے سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں مکمل ہوا۔
    4) سلجوقیوں نے اپنے زیر نگیں خطے میں علمی اور انتظامی ترقی کے حوالے سے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اور اس علاقے میں امن و امان قائم کیا۔
    5) بیزنطینی شہنشاہیت کی طرف سے ہونے والے صلیبی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کافی حد تک منگولی خطرے سے نمٹنے کی کوشش کی۔
    6) ان علاقوں میں سنی مذہب کی ترویج کی اور سنی علماء کی قدرومنزلت کو بڑھایا۔

  • اچانک سے سستے دانشور،عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ تحریر:رانا عزیز

    اچانک سے سستے دانشور،عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ تحریر:رانا عزیز

    وزیراعظم عمران خان نے حالیہ ایک انٹرویو دیا جس نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا اور اس انٹرویو کو توڑ مروڑ کرایسے پیش کیا گیا کہ عمران خان کے کچھ کلپس کو کاٹ دیا جس میں اینکر نے خواتین اور جنسی زیادتی کے حوالے سے سوالات پوچھے اور عمران خان نے پھر ہندتوا اور مغرب کے کلچر کو بوچھاڑ کر رکھ دیا
    وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پر انہیں اپوزیشن سمیت کئی خواتین نے بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے یہ بات کہہ کر ہماری دل آزاری کی ہے، انہوں نے جنسی ہوس کو خوتاین کے کپڑوں سے منسوب کر دیا ہے جبکہ ملک میں کم سن بچیوں کے ساتھ بھی جنسی استحصال کے واقعات ہو رہے ہیں، ایسے میں کیا بچیاں بھی مختصر کپڑے پہنتی ہیں؟ تاہم اب وزیراعظم عمران خان کے اس انٹرویو کا وہ حصہ سامنے آ گیا ہے جو غیر ملکی ٹی وی نے نشر ہی نہیں کیا۔
    سیاست ڈاٹ پی کے نامی ویب سائٹ نے وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کے سیاق و سباق پر مبنی غیر ایڈٹ شدہ ایک ویڈیو کلپ شئیر کیا جس میں اینکر نے وزیراعظم عمران خان سے سوال کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ اگر آپ عریانیت کو فروغ دیں گے تو اس سے اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہو گا، آپ نے جو گفتگو کی اس پر بڑا رد عمل آیا، اس کا جواب کیسے دیں گے ؟ جس پر وزیراعظم عمران خان نے جواباً کہا کہ یہ بالکل غلط ہے۔

    میں جو کہنا چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ یہ جُرم بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جب میں وزیراعظم بنا تو میں نے پولیس سربراہوں کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کون سا جُرم سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے ؟انہوں نے مجھے بتایا کہ جنسی تشدد سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جنسی تشدد میں صرف ریپ شامل نہیں ہے۔ اس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی بھی شامل ہے۔
    بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا سُن کر مجھے بے حد دُکھ ہوا۔ اس میں تکلیف دہ امر یہ تھا کہ صرف ایک فیصد ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔جب کسی بچے کے ساتھ ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے یعنی کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ان کی فیملی شرم کی وجہ سے ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں کرتی۔ لہٰذا میں جو کہہ رہا تھا وہ یہ تھا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف ایک فیصد مجرموں تک پہنچ پاتے ہیں۔

    ایسی صورتحال میں ایسے جرائم کا سامنا پورے معاشرے نے کرنا ہوتا ہے۔ سوسائٹی ایسے جرائم کا مقابلہ آگاہی سے کر سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے کبھی حجاب کا نہیں کہا، میں نے پردے کے تصور کی بات کی تھی، میں نے مزید کہا کہ نائٹ کلبز جیسی چیزیں ہمارے ہاں نہیں ہیں،مغربی معاشرے کی طرح ہمارے ہاں ایسے مقامات نہیں ہیں جہاں لڑکے لڑکیاں آپس میں میل جول کر سکیں،اسی لیے ہمارا معاشرہ اور طرز زندگی مغرب سے بالکل مختلف ہے۔
    ایسے معاشرے میں اگر آپ عریانیت کو فروغ دیں گےاور پھر نوجوان لڑکوں کے پاس کوئی ایسی جگہ بھی نہ ہو جہاں جا کر وہ اپنے جذبات کا اظہار کر سکیں تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ اس سے معاشرے میں جرائم میں اضافہ ہو گا جو ہمارے کرائم چارٹ سے بھی واضح ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنسی تشدد کے واقعات کو روکنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ قانون نافذ کر کے ان کو روکا جائے۔
    لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر واقعات، زیادہ تر سے میری مراد ہے کہ پولیس کے مطابق جنسی تشدد کے 99 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے اسی لیے پورے معاشرے کے یعنی عوام ، اسکولز ، اُساتذہ ، میڈیا وغیرہ سب کو اس میں کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ اسی طرح ہم عوام میں آگاہی پیدا کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے میں نے پردے کے تصور کی بات کی تھی۔

    اور مجھے یاد ہے کہ میں نے کیا کہا تھا۔ میں نے پردے کی تصور کی بات کی تھی،پردے کا مطلب ہے کہ ہوس سے بچا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پردہ صرف منہ ڈھانپنا نہیں بلکہ معاشرے میں عریانیت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ اینکر نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ پاکستان میں آپ کے خیال میں عریانیت کی کون کون سے قسمیں ہیں جو ختم کرنے کی ضرورت ہے؟ جس پر وزیراعظم عمران خان نے جواب دیا کہ اس کا ایک اہم ذریعہ تو موبائل فونز ہیں، آج کل موبائل فونز پر جو مواد دستیاب ہے، نو عمر بچوں یا لڑکیوں کو انسانی تاریخ میں اس قسم کے مواد تک کبھی رسائی حاصل نہیں تھی
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آ خر یہ اچانک سے سستے دانشور، نام نہاد صحافی ، عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ اس کی وجہ کیا ہے ؟ پاکستان کو کیسے اب مزید کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گا ؟ یہ وہ سوال ہیں جس کا جواب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے
    عمران خان سے امریکا نے اڈے مانگے افغانستان میں حملے کرنے کیلے اور اس خطے کی نگرانی کرنے کیلیے عمران خان نے صاف صاف انکار کردیا اور کہا ( absolutely not) تو اس کے بعد اس بیان سے دنیا کی توجہ اٹھانے کے لئے اور پاکستان میں پوری قوم جو عمران خان کی نظریاتی مخالف بھی تو وہ بھی کپتان کے ساتھ کھڑے ہوگیئے، تو امریکا نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہویے عمران خان کے کلپس کو مسخ کر کے اور کلپس کاٹ کر چلا دیا جس سے دنیا میں نئی بحث چڑھ گئی، اسی کو ہماری قوم کو سوچنا ہوگا کہ دشمن ہم پر مسلط ہونے کی کوشش کر رہا ہے. عمران خان نے کہا ہم پہلے ہی بھاری قیمت ادا کرچکے ہیں، اگر امریکا 20 سال بعد بھی تاریخ کی سب سے طاقتور فوجی مشین کے ساتھ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکا تو یہ امریکا ہمارے ملک کے اڈوں سے کیا کرسکے گا؟
    عمران خان نے امریکا کے خلاف بیان دے کر جان خطرے میں ڈال دی ہے. ۔ یا تو ان کی زندگی کو خطرہ ہے یا ان کی حکومت کو. وگ کہہ رہے ہیں کہ امریکا نے تو لیاقت علی خان کو بھی قتل کرا دیا تھا کیونکہ انہوں نے ایران میں مداخلت سے انکار کیا تھا اور اب عمران خان کے خلاف بھی پراپیگنڈہ شروع ہو گیا،این جی اوز نے بھی کام شروع کر دیا ہے،بڑے پیمانے پر فنڈ ملتے ہیں اور حکومت کو اس کی بھی تحقیقات کرنی چاہئیے۔

  • تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

    تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

    بنکاک: تھائی لینڈ میں کھانےکی تلاش میں بھوکا ہاتھی ایک گھر کی دیوار توڑ کر باورچی خانے میں گھس گیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار دی گارجیئن کے مطابق یہ واقعی مغربی تھائی لینڈ کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ شور شرابے اور دیوار ٹوٹنے کی آواز سن کے رٹچر وان نامی ایک رہائشی کی آنکھ کھل گئی، جب وہ اصل ماجرا دیکھنے کے لیے اپنے باورچی خانے میں گئے تو سامنے موجود منظر انہیں حیران کرنے کے لیے کافی تھا کیوںکہ ایک ہاتھی ان کے باورچی خانے کی دیوار توڑ کر بن بلائے مہمان کی طرح اپنی سونڈ سے درازوں میں کچھ تلا ش کر رہا تھا۔

    رٹچر کا کہنا ہے کہ بون چوائے نامی یہ ہاتھی شاید کچھ کھانے کے لیے تلاش کر رہا تھا کیوں کہ وہ باورچی خانے کی درازوں سے چیزیں باہر نکال کر پھینک رہا تھا، اس نے برتن اور دیگر سامان کو بھی درازوں سے نکال کر فرش پر پھینک دیا تھا۔ اور آخر میں نے اس پلاسٹک کی تھیلیوں کو چبانا شروع کردیا۔ رٹچر نے اس سارے واقعے کی ویڈیو بنا لی۔

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    اس واقعے کے بارے میں کائینگ کراچین نیشنل پارک کےمنتظم اتھیپون تھائی مونکول کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نینشل پارک میں رہنے والے ہاتھی بون چوائے نے کھانے کی تلاش میں قریبی دیہات کا رخ کیا ہو، اس سے قبل بھی وہ رٹچر کے گاؤں میں گھس چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق بون چوائے کا رٹچر کے باورچی خانے کا دورہ انہیں کافی مہنگا پڑا ہے اور تقریبا 50 ہزار بھات کا نقصان ہوا ہے۔

    تھائی لینڈ میں ہاتھیوں پر تحقیق کرنے والے محقق ڈاکٹر جوشوا پلاٹنک کا کہنا ہے کہ نیشنل پارک میں رہنے والے ہاتھیوں کے لیے قریبی دیہاتوں میں گنے اور بھٹے کی فصلوں پر حملہ بہت عام بات ہے اور یہ زیادہ تر رات میں کھیتوں پر حملہ کرتے ہیں،کسانوں اور ہاتھیوں دونوں کے لئے یہ واقعی ایک مشکل مسئلہ ہے-

    پلاٹنک کا کہنا ہے بہت سے دیہاتی ہاتھیوں کے لیے عقیدت اور ہمدردی رکھنے کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہتے وہ عام طور پر ہاتھیوں پر الزام نہیں لگاتے ہیں لیکن وہ اس مسلئے کا دیرپا حل چاہتے ہیں۔

    مقامی کمیونٹی کے رضاکار اور نیشنل پارک کے افسر مل کر ہاتھیوں کی نگرانی کرتے ہیں ، عموماً انہیں جنگلوں میں واپس بھیجنے کے لیے تیز شور اور رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ چین میں بھی حال ہی میں ہاتھیوں کا ایک جھنڈ سامنے آیا ہے جو کہ گزشتہ 15 ماہ سے کسی نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہے اور اپنے راستے میں آنے والی گنے اور بھٹے کی فصلوں کو تباہ کرچکا ہے، جب کہ حکام اس جھنڈ کے سفر کو ٹریک کرنے کے لیے ڈرون اور مقامی لوگوں کی مدد سے نگرانی کر رہے ہیں تاہم اس جھنڈ کے مستقل سفر کرنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔

    چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    بہت سے لوگوں نے سوال کیا کہ ہاتھیوں نے اب تک کیوں سفر کیا ہے پلاٹنک نے کہا ، "ایشیاء میں یہ واقعات بڑھ رہے ہیں ، اور یہ ہاتھیوں کے رہائش گاہ میں دستیاب وسائل میں کمی اور انسانی پریشانی میں اضافے کی وجہ سے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جسمانی رکاوٹوں یا ہاتھیوں کو منتقل کرنے جیسے طریقوں سے صرف ایک قلیل مدتی اثر پڑے گا۔

    اگر آپ ہاتھیوں کو ان کے قدرتی رہائش گاہ میں خوراک ، پانی اور دیگر وسائل کی ضرورت کو پورا نہیں کرتے ہیں (یا اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پاس وہ کہیں اور موجود ہیں) ، تو وہ ان وسائل کی تلاش میں رکاوٹوں اور دیہاتوں یا فصلوں کے میدانوں تک رسائی حاصل کریں گے۔

  • چین کیجانب سے کریک ڈاؤن میں توسیع کیوجہ سے بٹ کوائن پھر گراوٹ کا شکار

    چین کیجانب سے کریک ڈاؤن میں توسیع کیوجہ سے بٹ کوائن پھر گراوٹ کا شکار

    چین کی جانب سے بٹ کوائن کے حوالے سے کریک ڈاؤن میں توسیع کی وجہ سے اس کی قیمت میں بھی پھر کمی آگئی۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ ہفتے ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کی ٹوئٹس کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں اضافہ سامنے آیا تھا لیکن ایک بار پھر اس کی قیمت میں کمی آگئی ہے برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں پیر کے روز بٹ کوائن کی قیمت میں 9 فیصد کمی دیکھی گئی۔

    بٹ کوائن کی قیمت پیر کے دن 12 روز کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی اور یہ اب 32،288 ڈالرز میں فروخت ہورہا ہے اگر بٹ کوائن کی قیمت میں یہ کمی برقرار رہتی ہے تو یہ رواں ماہ میں کرپٹو کرنسی کی قدر میں سب سے زیادہ کمی ہوگی۔

    18 جون کو چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں حکام نے کریپٹوکرنسی مائننگ کے پروجیکٹس کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

    گزشتہ ماہ چین کی کابینہ، ریاستی کونسل نے مالی خطرات پر قابو پانے کے اقدامات کے تحت بٹ کوائن کی مائننگ اور تجارت پر پابندی عائد کرنے کا عزم کیا تھا۔

    لندن میں مقیم کرپٹو فرم بی سی بی گروپ کے بین سیبلی نے کہا کہ چینی مائنرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کوائن کا ذخیرہ کم کررہے ہیں اور ہمیں نچلی سطح پر لے کرجارہے ہیں۔

    بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر آگئی

    یاد رہے کہ گزشتہ 6 روز میں بٹ کوائن کی قیمت پانچویں بار کم ہوئی ہے اور اپریل میں 65 ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد اس کی قیمت نصف ہوگئی ہے۔

    اس کے باوجود رواں برس بٹ کوائن کی قیمت میں مجموعی طور پر 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے دوسری جانب بٹ کوائن کی حریف دوسری بڑی کرپٹوکرنسی ایتھر کی قدر میں 12 فیصد کمی آئی ہے۔

    خیال رہے کہ چین میں بٹ کوائن کی پیداوار، بٹ کوائن کی عالمی پیداوار کے نصف حصے سے زیادہ ہے یونیورسٹی آف کیمبرج کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بٹ کوائن مائننگ کے لحاظ سے سیچوان چین کا دوسرا بڑا صوبہ ہے۔

    برسات کے موسم میں کچھ مائنرز اس کی پیداوار کو سیچوان منتقل کرتے ہیں تاکہ پن بجلی کے وسائل سے مستفید ہوسکیں وہ کمپنیاں جو بٹ کوائن کی مائننگ کرتی ہیں عام طور پر کرپٹوکرنسی کی بڑی فہرست کی حامل ہوتی ہیں اور ان کا کوئی بھی قدم قیمتوں میں بڑی کمی کا باعث بنتا ہے-

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا