Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تعلیمی اداروں میں کیمرے کیوں ضروری ۔۔۔تحریر:حنا

    تعلیمی اداروں میں کیمرے کیوں ضروری ۔۔۔تحریر:حنا

    جیسا کہ آپ جانتے ہیں ۔ہمارے ملک میں بدفعلی زنا اور فحاشی دن بدن بڑتی جارہی ہے ۔حکمران ریاست حتی کہ سبھی لوگ بے بس نظر آتے ہیں ۔۔کہ اس بدفعلی کو کیسے روکا جاے ۔آئے روز ِنت نئے کیس دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ دنیا بھر کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی اداروں میں کیمرے نصب کیے جاتے ہے اساتذہ سمیت بچوں کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے ۔بطور مسلمان ہم سب جانتے ہیں فحاشی اور بدفعلی گناہ ہے جرم ہے اور اسلام میں اس کی کیا سزا ہے ۔
    زنا کی سزا بتاتے وقت ۔
    اللہ تعالی نے فرمایا ۔
    اور تمھیں اللہ کے دین کے نفاد کے متعلق ان دونوں کے بارے میں کوئ ترس نہ آئے ۔
    اگر تم اللہ تعالی اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہو ۔
    (النور 2:24)
    وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲)ترجمہ: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔
    زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ ایسی سزا کو حدود اللہ کہا جاتا ہے جس کا جاری کرنا حاکم اسلام کا کام اور ذمہ داری ہے، 

    پاکستان میں اس وقت تین بڑے مکتبہ فکر ہیں جنکے مدارس کثیر تعداد میں پورے پاکستان میں پھیلے ہوۓ ہیں دیوبندی مکتبہ فکر کا الحاق وفاق المدارس سے ہے جس سے تقریبا 18600 مدارس منسلک ہیں جنمیں 20 لاکھ کے قریب طلباء طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ بریلوی مکتبہ فکر کا الحاق تنظیم المدارس سے ہے اور اس سے تقریبا 9000 بریلوی مدارس منسلک ہیں جنمیں 13 لاکھ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں
    اس طرح اہل حدیث مکتبہ فکر کا الحاق وفاق المدارس اسلافیہ سے ہے اس کے تحت تقریبا 1400 مدارس ملک بھر میں فعال ہیں جنمیں کل ملا کے 39000 طلباءوطالبات زیر تعلیم ہیں
    خلاصہ یہ نکلا کے پاکستان میں 29000 رجسٹرڈ مدارس ہیں جنمیں 3339000 طلباءوطالبات زیر تعلیم ہیں
    اسی طرح دنیاوی تعلیم کے اداروں پر بات ہو تو سرکاری غیر سرکاری ابتدائی مڈل سیکنڈری کالج یونیورسٹی سمیت 2234255 ادارے دنیاوی تعلیم کے لیۓ پاکستان میں فعال ہیں جنمیں قریب 8 کروڑ قوم کے بچے بچیاں زیر تعلیم ہیں

    پاکستان بھر میں مدرسہ ہو یا کالج یونیورسٹی ہو یا جامعہ الا قلیل ہر ایک ادارے میں ہفتے مہینے میں ایک دو کیس ایسے ضرور سامنے آتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے طلباء نے آپس میں یا طالب علم نے طالبہ سے یا ٹیچر نے طالبہ کیساتھ قاری نے بچے کیساتھ ٹیچر نے شاگرد کے ساتھ پروفیسر نے طلبہ کے ساتھ زیادتی کی ہے اور سینکڑوں ایسی زیادتیاں ہوتی ہیں جو سامنے ہی نہیں آتیں بچے مسلسل زیادتی کا شکار ہو ہو کر مفلوج ہو جاتے ہیں کچھ عرصہ پہلے گجرانوالہ کی دینی درسگاہ کی ویڈیو سامنے آئی تھی اس طرح اک کالج میں کلاس روم کے سیکنڈل کی بھی لاہور یونیورسٹی میں ایک طلبہ کا گینگ ریپ بھی مانسہرہ کے قاری شمس الدین کی زیادتی ہو یا آئے روز جو دین کے ٹھیکدار ہوتے ۔جو خود کو دین کا وارث کہتے ہیں آئے روز ان کی بدفعلی کی وڈیو آرہی ہے ۔

    اگر ہم سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھیں ۔تو ہمارے آس پاس ان گنت بچے اس وقت زیادتی کے بعد قتل کیے جا چکے ہیں. انصاف نہیں ملتا ۔۔کیوں؟ اس کی ایک بڑی وجہ ہے ۔۔میرے حکمرانوں کی خاموشی ۔۔۔موجودہ حکمران ہوں یا ماضی کے ۔۔سبھی ہمیشہ تب بولتے ہیں جب قتل یا درندگی سے متاثرہ ہونے والے بچے کا تعلق مخالف پارٹی کے صوبے یا علاقے سے ہو ۔۔ہمیشہ اس وقت انصاف کا رونا رویا جاتا ہے جب مخالف کو ذلیل اور لعن طعن کرنا ہو ۔حکمران انبیاء اور صحابہ کی مثالیں عوام کو تو دیتے ہیں لیکن خود عمل کیوں نہی کرتے درندگی فحاشی کتنا ہی بڑھ گئ ہو ۔اسے روکنا حکمرانوں پر فرض ہے ۔۔لیکن میرے حکمران تو جیسے ستو پی کر سووے ہووے ہیں ۔۔جناب عالی صرف گرفتار کرنے کو سزا دینا نہیں کہتے ۔۔کہ کسی نے جرم کیا تو آپ نے اسے سزا دے دی ۔۔جیلوں میں عیاشی کی زندگی دے دی ۔۔اور پھر وہی مجرم پولیس کو رشوت دے کر ضمانت کروا لیتا ہے ۔۔۔خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چوبیس لاکھ مربع میل کر حکومت کی……..راتوں کو اٹھ اٹھ کر پیرا دیتے تھے اور لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے…..کہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس بارے میں پوچھ ہو گی……

    ۔۔جب مدرسہ کا مولوی بچے کے ساتھ زنا کرتا ہے ۔ قتل کرتا ہے تو تمام علماء خاموش ہوتے ہیں ۔مگر ڈگری والے ماسٹر رونا ڈال رہے ہوتے ہیں ۔انصاف کا ۔۔ اصل میں انصاف کا نہیں ۔بلکہ مدرسے کو بدنام کرنے کا اور اس وقت میری تمام حقوق کی تنظیمیں بھی بڑھ چڑھ کہ بولتی ہے میرے اداکار میرے گلوکار چینلوں پہ کالے رنگ کے لباس پہن کہ آجاتے ہیں۔مگر انصاف نہیں مانگتے ۔انصاف مانگتے تو جس مولوی کی غلطی ہو وہ اس کی سزا کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں لیکن وہ تمام مولوی طبقے کو گالی گلوچ مدرسوں کو غلط جگہ قرار دے کر اپنا الگ ہی بغض نکالنے لگ جاتے ہیں ۔ مدرسے کو بدنام وہ تمام مولوی طبقہ بھی کرتا ہے جو ایک مولوی کی غلطی پہ گناہ پہ خاموش ہوتا ہے ۔وہ تمام حافظ قرآن وہ تمام عالم بھی اس گناہ میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ وہ خاموش رہے ۔اب آپ لوگ مجھے کہیں گے ۔تم علماء کو برا کیوں بول رہی ۔۔ باقی جگہوں پر بھی تو ایسا ہوتا ہے ۔۔ارے باقی جگہیں خدا کا گھر نہیں کہلائ جاتی مساجد مدارس کو خدا کا گھر کہا گیا ہے ۔۔اور علماء کا رتبہ بہت بلند رکھا گیا ہے ۔۔قرآن جیسی عظیم کتاب پڑھانے والا بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے والا ایسا فحش عمل کرے گا تو سوال تو ہوں گے ۔۔ انگلی تو اٹھے گی ۔۔صرف اس پر نہیں ہر مولوی ہر داڑھی والے پر کہ کہیں یہ بھی ایسا تو نہیں ۔۔ایک مچھلی گندی ہو تو پورا تالاب گندہ کرتی ہے۔۔۔دوسری بات ۔جب سکول کالجز یونیورسٹیوں میں کسی لڑکی لڑکے کے ساتھ غلط ہوتا ہے یا قتل ہوتا ہے تو میڈیا خاموش ہوتا ہے ۔میرے حکمران خاموش ہوتے ہیں ۔میرے اداکاروں میری گلوکاروں کے سیاہ رنگ کے لباس گم ہو جاتے ہیں ۔کیوں؟ کیوں کہ وہ جگہیں ڈگری والوں کی ملکیت ہوتی ہے ۔۔وہاں منہ بند رکھنے کے پیسے ملتے ہیں میڈیا مالکان کو ۔حقوق کے علمبرداروں کو ۔موم بتی مافیا کو ۔وہاں ہر تیسرا بندہ یہ کہ کر جھٹلا دیتا ہے کہ لڑکی ہی غلط ہو گی ۔لڑکا ہی غلط ہو گا ۔۔۔والدین ہی برے ہوں گے ۔۔۔ آج زنا کی اس وباء سے چھوٹے چھوٹے بچے بھی محفوظ نہیں۔وہ لڑکا ہو یا لڑکی ۔۔آج یہ کہنا کہ لڑکی نے ہی ورغلایا ہوگا ۔۔یا یہ کہنا بچی کا لباس پورا نہ تھا تو مرد بہک گیا ۔۔ایک ماں کا لاڈلہ بہک گیا ۔۔دین کا خودساختہ ٹھیکدار بہک گیا ۔۔یا سکول ماسٹر پروفیسر بچے کی خوبصورتی اور میک اپ کو دیکھ کر بہک گیا یہ بالکل غلط بات ہے۔ سال دو سال کے بچے جو ماں تک بولنا نہی جانتے ہوتے ۔ وہ بھی محفوظ نہیں ۔۔کیوں؟ اس کے ذمہ دار آپ سب بھی ہے ۔آپ نے کیوں نہیں مانگا انصاف ۔۔اسماء کے لیے ۔عاصمہ کے لیے ۔مدیحہ کے لیے ۔آمنہ کے لیے ۔ ۔نور کے لیے ۔ہادیہ کے لیے ۔رضوان کے لیے ۔عامر کے لیے ۔اور ان جیسے بے شمار بچوں کے لیے ۔۔آپ کیوں صرف اک دوسرے کی مخالفت پہ ہی بولتے ہو۔سرے عام پھانسی پر کیوں نہیں بولتے ؟کیوں نہیں سرے عام سنگسار کی بات کرتے۔۔کوی بھی بندہ کسی دوسرے کے ایسے جرم پر اسے سنگسار نہیں کر سکتا ۔۔یہ قانون حکمران بناتا ہے حکمران مجرم کو سنگساری کی سزا دے سکتا ہے ۔

    کچھ ماہ قبل جب بشریٰ انصاری نے مدارس میں کیمرے لگانے کا مطالبہ کیا تو ایک مشہور سلفی دانشور نے غلاظت اگلتے ہوئے اس مطالبے پہ بشریٰ کو طوائف قرار دیا تھا۔وہ اداکارہ ہے تو وہ طوائف ٹھہری اور مذہب کے نام پر بدفعلی کرنے والے کیا کہلاے؟
    ہاں یہ کہا جاسکتا تھا کہ سکولوں کالجوں میں بھی کیمرے لگاے جائیں ۔آپ مدرسوں میں کیمرے لگاو کوی مولوی مخالفت کرے اسے الٹا لٹکاو ۔۔علماء مولوی کو بھی ہم نے خدا سمجھ لیا ہے ۔۔کہ وہ گناہ کر ہی نہیں سکتا اور اگر کرتا ہے تو چپ کر جاو خاموش ہو جاو ۔۔نہ جانے کیوں یہ سوچ لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کی ہووی ہے ۔کہ عالم حافظ کو سزا کی بات کی تو دین خطرے میں پڑھ جاے گا ۔۔۔ارے دین کو سب سے زیادہ بدنام خود یہ علماء کررہے ہیں علماء کے بارے ایک فرمان ہے
    عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)۔۔۔تو علماء کو علماء ہی سمجھیے ۔۔خدا یا رسول نہیں کہ یہ مجرم ہے تو خاموش ہو جاو

    ہم ملکر حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں ۔پورے پاکستان میں خفیہ کیمرے نصب کیے جائیں
    مدارس میں کیمرے لگائے جائیں ۔ بشرطیکہ وہ کیمرے کالج، یونیورسٹی،ایم این اے، ایم پی ایز کے ریسٹ ہاؤسز، افسران کے دفاتر، پولیس، وکلاء اور بڑے بڑے دفاتر جو حکومت کے ماتحت ہے ہر جگہ خفیے کیمرے نصب کیے جائیں ۔۔ہاں یہ مفت کا کام نہیں ہے اس پہ بہت پیسہ لگے گا ہم عوام دیں گے پیسہ ۔۔ویسے بھی ہم بہت ٹیکس دیتے ہیں ۔۔چند پیسے اگر ہماری نسل کے تحفظ پہ لگ جائیں تو ہمیں قابل قبول ہے ۔۔آپ کیمرے لگائیں ۔پھر دیکھیں گے ۔۔برائی کس جگہ سے جنم لے رہی ہے ۔۔۔اور کون اس برائ سے پاک صاف ہے

    ۔

    Article Writer Name

    Hina 

     

  • ‏افغان باشندے یا افغان طالبان، تحریر: ارم رائے

    ‏افغان باشندے یا افغان طالبان، تحریر: ارم رائے

    ‏افغان باشندے یا افغان طالبان یہ دونوں ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ روس جب اسی کی دہائی میں افغانستان کو فتح کرنے آیا تو امریکہ نے افغان لوگوں کو وہاں کے باشندے قرار دیا اور انکی مدد کی تاکہ روس کو شکست ہو۔ البتہ ایسا ہوا بھی لیکن امریکہ کی مدد سے زیادہ افغان باشندوں کی جنگجو سوچ نے مدد کی اور انہوں نے اس وقت کے بہترین روسی ٹینکس کو بھی راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا اور روس کو شکست فاش ہوئی اور بدلے میں روس کو اپنی ریاستوں سے ہاتھ دوھونا پڑا۔ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہی افغانی باشندے طالبان کہلائے گئے۔ روس تو چلو دس سال رہا افغانستان میں لیکن امریکہ تقریبا بیس سال رہا اور اسکی جنگی صلاحیت روس سے بھی زیادہ طاقتور تھی لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ وہی جو روس کے ساتھ ہوا لیکن روس نے تو کوئی مدد نہیں کی اس بار امریکہ کے خلاف تو امریکہ کس کو الزام دے سکتا ہے اپنی شکست کا؟ امریکہ کو شکست اس لئے ہوئی کہ اس بار بھی امریکہ فوج کی لڑائی طالبان سے نہیں بلکہ افغانی باشندوں سے تھی جو کبھی ہار نہیں مانتے۔ اب امریکہ وہاں سے نکل رہا ہے تو طالبان یعنی افغانی باشندوں کو سول جنگ کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔

    مگر حقیت بلکل اس کے برعکس ہے۔ امریکہ سے زیادہ طالبان نے سیکھا ہے اس جنگ سے۔ انہوں نے سفارتی تعلقات اتنے اچھے سے استعمال کیے کہ امریکہ کا کوئی مطالبہ بھی امریکہ کے اپنے مفاد میں نہیں گیا اور یوں طالبان نے اپنے سارے مطالبات بھی منوا لئے اور امریکہ کو معاہدے کا پابند بھی کرلیا۔ اب نیٹو ممالک کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ طالبان سول حکومت کو گرا کر لوگوں کا خون بہائیں گے جو کہ بلکل غلط ہے۔ اصل میں یہ امیج اشرف غنی نے بنایا ہے طالبان کا مگر جن شہروں پر طالبان نے اب قبضہ کیا ہے وہ وہاں موجود لوگوں کی مدد سے کیا ہے اور زیادہ تر شہروں میں ایک قطرہ خون بھی نہیں بہا۔ اس سے صاف ظاہر ہے اگلے الیکشن میں حکومت طالبان کی ہوگی یعنی اصل میں لوگوں کی منتخب کی گئی حکومت۔ اگر ایسا ہوا تو کیا امریکہ اس حکومت کو قبول کرے گا تو یقین سے کہہ رہی ہوں کہ ہاں قبول کرے گا آج نہیں توکل۔ اس ایشیائی خطے میں اگر امن قائم رکھنا ہے تو امریکہ اور بھارت کا اثرورسوخ ختم کرنا ہوگا جو کہ امریکہ کے جانے سے ہوجائے گا۔ساری عسکریت پسندی اور شدت پسندی بھارت اور امریکہ کے تعاون سے کی گئی اور اس خطے کا امن برباد کرکے اسلحہ کی مارکیٹ کو فائدہ پہنچایا گیا۔ مجھے یقین ہے طالبان کی حکومت سے لوگوں کے حالات بدلیں گے اور اسکا اثر پاکستان پر یقینا پڑے گا کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن کا سب سے بڑا خواہش مند ہے کیونکہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ جیسے بھی ہوں وہ ہوتے تو بھائی بھائی ہی ہیں نا.

  • تبدیلی یا دھوکہ، تحریر:نوید شیخ

    تبدیلی یا دھوکہ، تحریر:نوید شیخ

    اب پتہ نہیں یہ افواہ ہے یا یہ خبر جان بوجھ کر گزشتہ دس پندرہ دنوں سے پھیلائی جا رہی ہے ۔ کہ عمران خان نے اپنے چند انتہائی بااعتماد ساتھیوں سے مشاورت کے بعد قبل از وقت انتخاب کی تیاری شروع کردی ہے۔ اور شاید اس سال کے آخر میں یا پھر اگلے سال کے آغاز میں نئے الیکشن ہو جائیں ۔

    ۔ یہ بھی دیکھائی دے رہا ہے کہ عمران خان کے وزراء میڈیا کے بھرپور استعمال کے ذریعے ایک نیا ’’بیانیہ‘‘ تشکیل دیتے نظر آرہے ہیں۔ جس میں اپوزیشن کو ہمشیہ کی طرح ’’چور اور لٹیرے‘‘کہہ کر پکارا جاتا ہے اور اپنے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم نے کرنا تو بہت کچھ تھا مگر حالات ساتھ نہیں دے رہے ہیں ۔ گزشتہ حکومتیں بگاڑ پیدا ہی بہت زیادہ کرگئی ہیں ۔ پر عمران خان ڈٹ گیا ہے ۔ وہ ان چوروں اور لیٹروں کے سامنے نہیں جھک رہا ہے ۔۔ یہاں تک کہ عمران خان امریکہ کیا ، بھارت کیا ، کسی کو گھاس نہیں ڈال رہا ہے ۔ اور پھر وہ ہی جنرل مشرف والا فارمولا لگایا جاتا ہے کہ عمران خان کے لیے pakistan first ہے ۔ یہ مسلسل گزشتہ کئی روز سے انٹرویو دیے گئے ہیں جس کا واحد ایجنڈا امریکہ ، افغانستان اور بھارت تھا اس کے بعد سے ٹیم عمران خان کپتان کو ایسا رہنما ثابت کرنے پر لگی ہوئی ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا ناکہ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا ۔۔۔جو نہ امریکہ کے آگے جھکتا ہے ۔ نہ مودی کی پرواہ کرتا ہے ۔ نہ کسی مافیا سے ڈرتا ہے ۔ نہ اسٹیبلشمنٹ کی سنتا ہے ۔ اور نہ ہی پارٹی میں کسی بغاوت سے گھبراتا ہے ۔

    ۔ سچی بتاوں تو مجھے نہیں پتہ کہ عمران خان قبل ازوقت الیکشن کروائیں گے یا نہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم نہیں کہ امریکہ کے سامنے وہ یوں ہی ڈٹے رہیں گے یا نہیں ۔ ۔ پر اس سب شور شرابے ، قصے کہانیوں اور سازشوں کے بیچ میں ایک مسئلہ ہے جس پر جان بوجھ کر کسی کی نظر نہیں جانے دی جارہی ہے ۔ وہ ہے روز بروز عوام کی زندگی اجیرن ہونا ۔ صرف بجٹ پیش ہونے اور بجٹ پاس ہونے کے آس پاس کے پندرہ دنوں میں پیٹرول دو دفعہ مہنگا ہوگیا ہے ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر نہ کسی کے پاس تسلی بخش جواب ہے نہ یہ معلوم کہ یہ لوڈ شیڈنگ ختم کیسے ہوگی ۔ ۔ لوگوں اور میڈیا کو گول گول دوسری چیزوں میں گھمانے کا ایک گھن چکر جاری ہے ۔ دیکھا جائے تو اپنے اقتدار کے روز اوّل سے عمران حکومت بازار میں کسادبازاری لائی۔ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوئے۔ بجلی ، پیڑول اور گیس کی قیمتوں میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوا۔ روزمرہّ استعمال کی اشیائے کی بڑھتی قیمتوں نے صرف کم آمدنی والوں کی ہی کمر نہیں توڑی اچھے اچھوں کے چینخیں نکوا دی ہیں ۔۔ اگر ان حقائق کو سامنے رکھا جائے تو عمران خان کو قبل از وقت انتخاب بارے سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

    ۔ کیونکہ اس سے بڑی ناکامی کیا ہو گی کہ جب جب وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مہنگائی سب سے مشکل چیلنج ہے اور ساتھ ہی یقین دلاتے ہیں کہ مہنگائی پر جلد قابو پا لیں گے۔ تو گھی اور آئل کی قیمت میں سات روپے فی کلو اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ۔ عوام نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف کو موقع ہی اس لیے دیا تھا کہ یہ مہنگائی سے نجات دلائے گی کرپشن کا خاتمہ کرے گی اور کڑا احتساب کرے گی ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو زبوں حال معیشت ملی تھی۔ پر اب حکومتی عوؤں کے مطابق اس میں مضبوطی آ چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے ہیں۔ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ پر اب بھی حکومت کے پاس صرف ایک ہی جواب ہے کہ معیشت اس سے کہیں زیادہ تباہ ہو چکی ہے جس کا اندازہ کیا گیا تھا۔ مسلسل تین سال سے مہنگائی پر قابو پانے کی امید دلائی جا رہی ہے مگر مہنگائی ہے کہ نہ صرف قابو میں نہیں آ رہی بلکہ مزید بھی پھن پھیلائے جا رہی ہے۔ ادھر بیروزگاری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

    ۔ مجھے تو یہ ایک لطیفہ لگتا ہے پتہ آپ اس کو کیسے لیتے ہیں ۔ اگر آپکو یاد ہو تو ان چوتھے وزیر خزانہ شوکت ترین نے چند روز پہلے ہی اسمبلی میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس نہیں لگائیں گے۔پتہ نہیں اب انھوں نے ٹیکس لگایا ہے یا نہیں پر ہر چیز اپنے آپ مہنگی ضرورہورہی ہے ۔ چاہے پھر وہ آٹا ہو ، چینی ہو ، دالیں ہو یا سبزیاں اور پھل ہوں ۔ ۔ کہا گیا تھا کہ منی بجٹ نہیں آئے گا مگر بجٹ کے دوسرے دن انہوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس بڑھانے کی بات کی۔ بجٹ کے چوتھے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔

    ۔ اس لیے اب عوام حکومتی گورننس اور وعدوں دونوں سے مایوس نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے دو سال باقی رہ گئے ہیں۔ اگر عوام کو مطلوبہ ریلیف نہ ملا تو حکومت انتخابات میں عوام سے خیر کی امید نہ رکھے۔ حکومت کو سرپٹ دوڑتے مہنگائی کے گھوڑے کو لگام ڈالنا ہو گی۔ کیونکہ ملکی معیشت کو حکمرانوں کی نظر سے دیکھیں تو سب اچھا کی نوید ہے۔جب کہ غریب طبقے کی آنکھوں سے دیکھیں تو ہر آنے والا دن زندہ رہنے کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔۔ ایک مزدور، دیہاڑی دار، راج مستری، چھوٹا بلڈر، کسی دکان پر بارہ پندرہ سو روپے روزانہ کی ملازمت کرنے والے کے لیے ایک دن کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہیں، چائے پراٹھا کے دام بڑھ گئے، تھڑے پر ملنے والی چائے کا کپ تیس روپے کا ہوگیا ہے۔ مسالے مہنگے، دالیں، سبزیاں، ادرک، پیاز، دارچینی، الائچی، سونف، مچھلی، دودھ ، دہی سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔ کوئی خاتون خانہ ایسی نہیں ملے گی جو مہنگائی کے ہاتھوں تنگ نہ ہو، کاروبار ٹھپ، تاجر پریشان، نان، ڈبل روٹی کے ریٹ ہوشربا ہوگئے ہیں ۔ غریب اور مڈل کلاس طبقہ مٹن کو بھول گیا ہے کیونکہ بیف اور چکن بھی اس کی جیب پر بھاری پڑ رہا ہے۔۔ ان حالات میں جب لوگ اقتصادی ترقی، ڈالروں کی برسات جیسے بیانات سنتے ہیں اور اپنے شب وروز دیکھتے ہیں تو انھیں افسوس ہوتا ہے کہ ارباب اختیار زمینی حقائق سے کس قدر بے بہرہ ہیں، یا اتنے سنگ دل اور بے حس ہیں کہ انھیں پتا ہی نہیں کہ ملک میں غریب خانے، مسافر خانے، مفت کھانے کھلا کر ملکی معیشت یا اقتصادی نظام کے مضبوط قلعے نہیں بنا ئے جاسکتے۔ باتیں تو حکمران غربت کے خاتمہ اور ایشین ٹائیگر بننے کی کرتے ہیں لیکن اپنے عوام کو معاشی آسودگی نہیں دے سکتے۔ مہنگائی کے لیے جس ٹائیگر فورس کو لائے تھے، اس کا کسی کو علم نہیں ہے کہ کہاں گئی ٹائیگر فورس۔۔ اس حکومت سے عوام کو امیدیں تھیں، شاید اب بھی ہے لیکن کوئی تو ایسی خبر سنائی دے جس سے غریب کو یقین آجائے کہ وہ اچھے دن بھی آئیں گے۔ جس کے خواب عمران خان نے دیکھائے تھے ۔

  • تمام کٹیگریزکو یکساں میچ فیس دی جائے گی، وسیم خان

    تمام کٹیگریزکو یکساں میچ فیس دی جائے گی، وسیم خان

    گورننگ بورڈ سے آئندہ مالی سال 22-2021 کی منظوری کے ساتھ ہی پی سی بی نے مینز سینٹرل کنٹریکٹ برائے 22-2021 کا اعلان کردیا ہے۔ 20 ایلیٹ کرکٹرز کے لیے اعلان کردہ اس فہرست میں کنٹریکٹ کی تین مختلف کٹیگریز سمیت تین ایمرجنگ کرکٹرزکوبھی شامل کیا گیا ہے.
    اس فہرست کو حتمی شکل دینے والےتین رکنی پینل میں ڈائریکٹرانٹرنیشنل ذاکر خان، چیف سلیکٹر محمد وسیم اورڈائریکٹرہائی پرفارمنس ندیم خان شامل تھے، اس دوران پینل نے قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اورکپتان بابراعظم سے بھی مشاورت کی ہے، جس کے بعد کنٹریکٹ کی یہ فہرست پہلے چیف ایگزیکٹو وسیم خان اورپھرحتمی منظوری کے لیے چیئرمین پی سی بی کے پاس بھجوائی گئی ہے، 12 ماہ پر مشتمل یہ کنٹریکٹ یکم جولائی 2021 سے 30 جون 2022 تک جاری رہے گا۔
    مینز سینٹرل کنٹریکٹ لسٹ میں شامل کھلاڑیوں کی فہرست میں
    کٹیگری اے میں بابراعظم، حسن علی، محمد رضوان اورشاہین شاہ آفریدی شامل ہیں.
    کٹیگری بی میں اظہرعلی، فہیم اشرف، فخرزمان، فواد عالم، شاداب خان اوریاسرشاہ شامل ہیں.
    کٹیگری سی میں عابد علی، امام الحق، حارث رؤف، محمد حسنین، محمد نواز، نعمان علی اورسرفراز احمد شامل ہیں.
    ایمرجنگ کٹیگری میں عمران بٹ، شاہنوازدہانی اورعثمان قادر شامل ہیں.
    کنٹریکٹ میں نظر ثانی کی گئی ہے،
    کٹیگری اے کے ماہوار وظیفے میں 25 فیصد اضافہ کیا ہے، کسی بھی فارمیٹ کی میچ فیس میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے.
    کٹیگری بی کے ماہواروظیفے میں 25 فیصد اضافہ کیا ہے، ٹیسٹ کی میچ فیس میں 15 فیصد اضافہ کیا ہے، ون ڈے انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 20 فیصد اورٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 25 فیصد اضافہکیا ہے.
    کٹیگری سی کے ماہواروظیفے میں 25 فیصد اضافہ کیا ہے، ٹیسٹ کی میچ فیس میں 34 فیصداضافہ کیا ہے، ون ڈے انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 50 فیصد اورٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 67 فیصد اضافہ کیا ہے.
    ایمرجنگ کٹیگری کے ماہوار وظیفے میں 15 فیصد اضافہ۔ٹیسٹ کی میچ فیس میں 34 فیصد اضافہ کیا ہے، ون ڈے انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 50 فیصد اور ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی میچ فیس میں 67 فیصد اضافہ کیا ہے.
    اس کنٹریکٹ کے تحت حسن علی اور محمد رضوان کو کٹیگری اے میں شامل کرلیا گیا ہے، حسن علی گزشتہ سال انجری کی وجہ سے کنٹریکٹ حاصل نہیں کرپائے تھے، تاہم سیزن 21-2020 میں شاندار کارکردگی کی بدولت انہوں نے سیزن 22-2021 کے لیے کنٹریکٹ کی اے کٹیگری حاصل کرلی ہے، محمد رضوان کو مستقل کارکردگی کی بدولت کٹیگری اے میں ترقی دی گئی ہے، فہیم اشرف، فواد عالم، محمد نوازاورنعمان علی کو بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں متاثرکن کارکردگی کی بدولت سینٹرل کنٹریکٹ برائے 22-2021 کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے.
    گزشتہ سال ایمرجنگ کٹیگری میں شامل فاسٹ باؤلرزحارث رؤف اورمحمد حسنین کو کٹیگری سی میں ترقی دی گئیئ ہے، شاہنواز دہانی، عثمان قادراورعمران بٹ کو ایمرجنگ کٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے۔
    اسد شفیق، حیدرعلی، حارث سہیل افتخاراحمد، عماد وسیم، محمدعباس، نسیم شاہ، شان مسعود اورعثمان شنواری کو سیزن 22-2021 کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ پیش نہیں کیا گیا ہے، تاہم یہ تمام کھلاڑی سلیکٹرز کے پلانز کا حصہ ہیں اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرکے آئندہ سال کے لیے کنٹریکٹ حاصل کرسکتے ہیں۔
    چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ معیاری کھلاڑیوں کے بڑے پول میں سے 20 کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، وہ اس موقع پر احسن انداز سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے پر پینل کا شکریہ ادا کرتے ہیں، گزشتہ سال کے مقابلے میں اس فہرست میں 8 نئے کھلاڑیوں کوکنٹریکٹ دیا گیا اور9 سے واپس لیا گیا ہے، تاہم ان 9 کھلاڑیوں کے لیے دروازے کھلے ہیں اور یہ سلیکٹرز کے پلانز کا حصہ ہیں، ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے اس سال ایمرجنگ کٹیگری میں شاہنواز دھانی، عمران بٹ اورعثمان قادر کو شامل کیا گیا ہے، ملک کی نمائندگی کرنے والے تمام کھلاڑیوں کو اب یکساں میچ فیس ملے گی، چاہے وہ کسی بھی طرز کی کرکٹ کھیل رہا ہو یا اس کے پاس سینٹرل کنٹریکٹ ہے یا نہیں، ہم نے معاشی طور پرایک چیلنجنگ سال کے باوجود سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کی آمدن میں اضافہ کیا ہے.

  • بچپن کی شرارت قسط 2۔۔۔تحریر: طلعت کاشف سلام

    بچپن کی شرارت قسط 2۔۔۔تحریر: طلعت کاشف سلام

    آج وعدے کے مطابق دوسری قسط لکھنے جا رہی ہوں، اور ان شاءاللہ ابھی یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔

    اچھا ایک بات سچ سچ بتائیں کیا آپ نے بچپن میں کسی کے گھر کی گھنٹی بجا کے بھاگے ہیں😅
    یہ شرارت میری ہر روز کی چلتے پھرتے معمول کا حصہ تھی۔ اسکول جاتے ہوئے، باہر کھیلتے ہوئے کبھی کوئی موقع جانے نہیں دیتی تھی۔
    پاکستان میں جب تھی تو بیل بجا کے معصوم بن کے چلنا شروع کردیتی تھی۔

    اور جب ابوظہبی میں تھی، تو شروع میں بڑی ٹینشن ہوئی کے اب یہ شرارت کیسے کروں، پر جی طلعت بیگم شرارت نہ کریں یہ تو ممکن ہی نہیں تھا اب سوچیں میرے شیطانی دماغ نے کیا طریقہ ڈھونڈا ھو گا۔

    سوچیں سوچیں ہاہاہاہاہاہاہا
    جی جناب ھم ابوظہبی میں اپارٹمنٹس میں رہتے تھے، اور وہاں بلڈنگ کے اندر داخل ہونے کے بعد انٹرکام ھوتے تھے جیسے یہاں ہوتے ہیں۔ اور اس زمانے میں کیمرے بھی نہیں ہوتے تھے۔ سوچیں میرے شرارتی یا شیطانی دماغ نے کیا سوچا، جی بلکل میں جب نیچے جاتی یا اوپر آتی، آتے جاتے 3 سے 4 لوگوں کو انٹرکام کردیتی۔ وہ فون اٹھا کے ہیلو ہیلو چیختے رہتے اور ھم(میں اور میری بہنیں) سایڈ میں چھپ کے انکے فون بند کرنے کا انتظار کرتے جیسے ہی بند ھوتا واپس جا کے اسے دوبارہ فون مار دیتے، اور پھر باہر جا کے کھیلنا شروع کردیتے، ایک بار تو ایک بندے نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی، وہ بیچارہ نیچے تک آگیا اور ھم وہاں معصوم بنے کھیلتے رہے۔ میری بڑی بہن مجھے اس حرکت سے بہت روکا کرتی تھی، پھر جب مزا آتا تو خود بھی ساتھ شامل ھو جاتی تھی۔

    یہ تو تھی ایک شرارت اب شرارت کا دوسرا لیول بھی سنیں، ویسے اب سوچتی ہو تو اپنی حرکتوں پر ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کے بیچارے عربیوں، گوروں کے ساتھ ملباریوں کو بھی خوب تنگ کیا، ھمارے سامنے والے اپارٹمنٹ میں ایک امریکن فیملی رہتی تھی، میرے ابو اور پڑوسی دونوں اتصالات میں جوب کرتے تھے۔ ایک دن  انکا نمبر ابو کی ڈائری سے چوری کیا اور اسکے بعد نیچے گروسری شاپ میں فون کرکے پیپسی لانے کا کہا اور اپنے بجائے اسکا فون نمبر اور اپارٹمنٹ نمبر دے دیا، اور جب بیچارہ ملباری پیپسی دینے ایا تو میجک آئی سے انکھ لگا کے باہر دیکھتی رہی ہاہاہاہاہاہاہا وہ بیچارہ سامنے والا بھی اتنا اچھا تھا کے اس نے خاموشی سے پیپسی لے کے اسے پیسے دے دئے، اور جب میں نے یہ دیکھا تو ہر روز یہ کچھ نہ کچھ آرڈر کرنے لگی۔ اور وہ معصوم بس یہی کہتا کے میں نے تو آرڈر نہیں کیا تھا پر چلو تم آگئے ہو تو دے دو۔

    آپ بھی سوچتے ہونگے کے اتنی سوبر دیکھنے والی طلعت بچپن میں شیطان کی پڑیا تھی۔ ویسے میرا بس چلے تو بیل بجانے والی حرکت ابھی بھی کروں، یقین کریں جب میں کبھی کوئی شرارت کرنے کا سوچ بھی رہی ہوتی تو میری بیٹی میرا چہرا دیکھ کے ہی سمجھ جاتی کے مما کے دماغ میں کچھ چل رہا ہے اور وہ پہلے ہی کہنا شروع کر دیتی، نو مما پلیز نو ہاہاہاہاہاہاہا
    چلیں آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے، پھر لیں گے ایک اور دوسری شرارت کے ساتھ۔۔۔

  • ناخوشگوار ازدواجی زندگی مردوں میں فالج اور قبل ازوقت موت کا باعث بن سکتی ہے     تحقیق

    ناخوشگوار ازدواجی زندگی مردوں میں فالج اور قبل ازوقت موت کا باعث بن سکتی ہے تحقیق

    تل ابیب یونیورسٹی نے دریافت کیا ہے کہ ناخوشگوار شادی شدہ زندگی سے مردوں کےلیے فالج اور کسی بھی دوسری وجہ سے قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق 32 سال کے دوران 10 ہزار سے زائد شادی شدہ اسرائیلی مردوں سے حاصل شدہ معلومات کا تجزیہ کرنے پر ماہرین کو معلوم ہوا کہ ناخوشگوار ازدواجی زندگی سے موت کا خطرہ، تمباکو نوشی سے ناگہانی موت کے خطرے سے مماثلت رکھتا ہے۔

    مطالعے کی ابتداء میں اپنی ناخوشگوار شادی شدہ زندگی کی شکایت کرنے والے 94 فیصد مردوں کو اگلے تیس سال میں فالج کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 21 فیصد مرد ناگہانی موت کا نوالہ بن گئےاس کے مقابلے میں تمباکو نوشی کرنے والے مردوں کےلیے موت کا خطرہ 37 فیصد تک، جبکہ کاہلی کی زندگی گزارنے والے مردوں کےلیے یہی خطرہ 21 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    ناخوشگوار ازدواجی زندگی اور مردوں کی قبل از وقت ناگہانی موت میں کیا تعلق ہے؟ اس بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ ازدواجی زندگی کے مسائل مردوں کو مستقل اعصابی تناؤ، ڈپریشن اور بے سکونی میں مبتلا کرسکتے ہیں جن کا عمومی نتیجہ فالج، دل کے دورے اور مختلف اعصابی و جسمانی بیماریوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

    یہ تحقیق 30 سال سے زیادہ کی تحقیق سے متعلق صحت کے وسیع اعداد و شمار پر مبنی تھی جس میں 10 ہزار اسرائیلی مردوں کی ہلاکت کا پتہ لگایا گیا تھا۔ بہت سے مرد اپنے خانگی اور ازدواجی مسائل کا مقابلہ کرنے کےلیے تمباکو نوشی، شراب نوشی، منشیات اور الا بلا کھانے جیسی عادتیں بھی اختیار کرلیتے ہیں جو آگے چل کر ان کی صحت کو تباہ کردیتی ہیں؛ اور بالآخر موت کی وجہ بھی بن جاتی ہیں۔

    ’’جرنل آف کلینیکل میڈیسن‘‘ کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین نے زور دیا ہے کہ ازدواجی زندگی سے متعلق تعلیم کو بھی عوامی صحت کے منصوبوں کا لازمی حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔

    مطالعے کے حصے کے طور پر ، محققین نے ایک ڈیٹا بیس کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جس نے 1960 کی دہائی میں ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کیا اور 32 سال تک ، اسرائیل کے تمام سرکاری ملازمین کی 10 ہزار مردوں کی صحت اور سلوک کا سراغ لگایا ، جس میں فالج سے موت پر خصوصی توجہ دی گئی اور عام طور پر قبل از وقت موت۔ مطالعہ کے آغاز میں ، زیادہ تر شرکاء 40 کی دہائی میں تھے۔ تب سے ، 64 فیصد متعدد بیماریوں سے ہلاک ہوئے۔

    اگرچہ یہ تحقیق صرف مردوں پر کی گئی ہے لیکن اس سے ماضی میں کی گئی تحقیقات کی تائید ہوتی ہے جن سے معلوم ہوا تھا کہ ناخوشگوار ازدواجی زندگی میاں اور بیوی، دونوں کی صحت اور زندگی کےلیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

  • بلوچستان اور فاٹا  اللہ تعالیٰ کا  انمول تحفہ  اور پاک فوج  کی انتھک محنت کا ثمر.تحریر: امان الرحمٰن

    بلوچستان اور فاٹا اللہ تعالیٰ کا انمول تحفہ اور پاک فوج کی انتھک محنت کا ثمر.تحریر: امان الرحمٰن

    رقبے کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ قدرتی خوبصورتی بلند پہاڑوں ، چشموں اور معدنیات سے مالا مال فطرت کا تحفہ ہے۔ اس سے متصل خیبر پختونخوا میں فاٹا کا علاقہ ہے۔ بلوچستان میں وزیرستان اور فاٹا دونوں افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدیں مشترک ہیں۔ سوویت یونین اور پھر امریکہ کے ذریعہ افغانستان پر حملے کے نتیجے میں ، افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پاکستان منتقل ہوگئی۔ آج بھی ، پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 300،000 سے زیادہ ہے جو گذشتہ 30 سالوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ ان مہاجرین میں سے زیادہ تر وزیرستان اور فاٹا سے آئے تھے۔ وہ بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے پاکستان آتے جاتے تھے

    منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ
    جب پاکستانی عوام اور حکومت افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے تھے ، کچھ مجرم ذہنیت پسند لوگوں نے آزادانہ تحریک کا فائدہ اٹھایا اور تینوں ممالک کے مابین بڑے پیمانے پر اسمگلنگ شروع کردی۔ جنگ سے تباہ حال بے روزگار افغانوں نے بھی منشیات بنانا شروع کردیا ، کچھ مقامی افراد بھی اس میں شامل ہوگئے۔ ان مجرموں کا لالچ بڑھتا گیا اور آہستہ آہستہ وہ دہشت گردوں کے حامی بن گئے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اسے نقصان پہنچانے کا موقع کبھی نہیں کھوتا ہے۔ بھارت نے وزیرستان کے اسمگلروں کی مدد سے بلوچستان میں دہشت گردوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا اور پورے پاکستان میں بم دھماکے کیے ، جس سے ہزاروں بے گناہ شہری ہلاک ہوئے۔ بلوچستان سے ہندوستانی بحریہ کے کمانڈر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور انکشافات نے ہندوستان کا بدصورت چہرہ پوری دنیا کو ظاہر کردیا۔ کلبھوشن نیٹ ورک کو ختم کرنے کے بعد ، پاکستانی فوج نے وزیرستان سے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کے خاتمے کے لئے فوجی آپریشن شروع کیا۔

    آپریشن ضرب عضب
    آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 180 بچے شہید ہوگئے۔ تب پوری قوم نے پاک فوج سے مطالبہ کیا کہ ان درندوں کو اس ظلم کی سزا دی جائے۔ اس دن کی حکومت کے حکم پر پاک فوج نے وزیرستان اور فاٹا میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا۔ پہلے مرحلے میں ، مقامی افراد کو نکال لیا گیا اور انہیں پناہ گاہوں میں محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ اس کے بعد دنیا کا سب سے انوکھا اور مشکل فوجی آپریشن شروع کیا۔ ایک طویل جنگ کے بعد ، دہشت گردوں کو شکست ہوئی۔ اس کارروائی میں ہزاروں دہشتگرد ہلاک اور سیکڑوں پاکستانی فوجی شہید ہوگئے۔
    اس آپریشن کا تیسرا مرحلہ۔ مہاجرین کی ان کے گھروں کو واپسی بھی مکمل ہوچکی ہے ، لیکن پاک فوج ابھی بھی علاقے میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے کام کر رہی ہے۔

    آپریشن ضرب عضب نے علاقے سے 90٪ دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ایک طویل عرصے بعد زندگی معمول پر آرہی ہے۔ اسکول اور کالج بنائے جارہے ہیں۔ میران شاہ میں پاکستان مارکیٹ نامی ایک بڑا تجارتی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ پاک فوج نے تباہ حال علاقے کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ علاقہ مکین ان سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ دوسری جانب دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردوں کی یلغار روکنے کے لئے پاک فوج سے پاک افغان بارڈر پر جرمانے کے خلاف بھی بھرپور مزاحمت کر رہے ہیں۔

  • افغان طالبان کا دباؤ،پاکستان اور اسرائیل.. تحریر:رانا عزیر

    افغان طالبان کا دباؤ،پاکستان اور اسرائیل.. تحریر:رانا عزیر

    عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا
    فرش کے سارے خداؤں سےالجھ بیٹھا ہوں
    عمران خان جہاں ایک طرف دنیا کے سامنے ہیرو بن کر ابھر ہیں اور دنیا میں واحد مرد مجاہد ہے جس نے امریکہ کو آنکھیں دکھائیں اور سپرپاور کو نو مور کہا۔ کل جیسے ہاؤس میں کھڑے ہوکر عمران خان نے اپنی 74 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی پالیسی بیان کی جس نے عالمی طاقتوں کی نیندیں حرام کردیں. اس کے بعد امریکہ کا پہلا خطرناک وار اسرائیل کی شکل میں لانچ ہوچکا ہے اور ایک ایسا عمران خان کے خلاف افغان طالبان سے منسوب کرکے سکینڈل لانچ کیا اور اس سکینڈل کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ اسرائیل کے جریدے ہیرٹز نے یہ انکشاف کیا ہے اب طالبان یہ فیصلہ کریں گے پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہا ہے۔ اس کے پیچھے کہانی بہت پیچیدہ ہے, کیا پاکستان نے طالبان کے دباؤ میں آکر فوجی اڈوں کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے؟ پوری قوم یہ جاننا چاہتی ہے، تو اسکا آج مکمل جواب آپکو ملے گا۔ ہمارے ہمسائے ملک میں اس وقت خانہ جنگی کا راونڈ ون شروع ہوچکا ہے جو کہ پاکستان کیلئے بہت خطرناک ہے لیکن پاکستان نے جیسے ہی بروقت فیصلے کیے امریکہ کے خواب چکنا چور کردیے، امریکہ اس جنگ میں پاکستان کو تنہا کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ ناکام ہوا تو اس نے نیا محاذ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ اسرائیل ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر پوری پاکستانی قوم ایک ہوجاتی ہے اور ہم اس دہشتگرد ناجائز ملک سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے فلسطین پر ناجائز قبضہ کیا۔ اور یہی وجہ ہے آج پاکستانی قوم عربوں سے اس وجہ نفرت کرنا شروع ہوگئ ہے کہ انھوں نے چند ٹکوں کی خاطر اسرائیل کو تسلیم کیا اور امت مسلمہ کا سودا کیا۔

    یہ اسرائیل کو پتا ہے کہ جب ہمارا گندہ نام عمران خان کے ساتھ جڑے گا تو عمران خان کی مقبولیت پاکستان میں کم ہوگی، کیونکہ پاکستان میں چند اشرافیے کے لوگ عمران خان کو یہودی ایجنٹ بھی کہتے ہیں تو یوں عمران خان کے خلاف پوری قوم کھڑی ہوجائے گی۔ 2001 میں جب امریکہ پر حملہ ہوا تو پوری دنیا امریکہ کو گود میں بیٹھ گئی، یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ نے امریکہ کو حکم دیا کو وہ افغانستان پر چڑھائی کردے، پاکستان نے اس وقت افغان طالبان کو کہا اگر اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردو تو یہ خطرہ ٹل سکتا ہے لیکن افغان طالبان نہ مانے۔ امریکہ ہماری کمزوریوں سے واقف ہے۔ یہی 2001 والی صورتحال دوبارہ پیدا ہوچکی ہے، اب امریکہ حافظ سعید اور طالبان لیڈرز کو پاکستان سے مانگ رہا ہے لیکن پاکستان اب ڈٹ گیا ہے، کچھ ہی دن پہلے اقوام متحدہ نے امریکہ کے زیر اثر ایک رپورٹ شائع کی کہ پاکستان داعش کو پاک افغان بارڈر پر پناہ دے رہا ہے اور پاکستان انھیں افغانستان میں استعمال کررہا ہے، امریکہ کا پلان یہ ہے کہ وہ پہلے پاکستان کو بدنام کرے پھر اقوام متحدہ اسے حکم دے گا کہ تم افغانستان پر بھی چڑھ دوڑو اور پاکستان پر بھی یہ ساری گیم امریکہ رچانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے بدلے یہ پاکستان کو کہا جارہا ہے کہ اگر اسرائیل کو پاکستان تسلیم کرتا ہے تو یہ خطرہ ٹل سکتا ہے کہ افغان طالبان اور حافظ سعید کوہمارے حوالے کردو اور ہم پھر بغیر بتائے آپریشن نہیں کریں گے۔ لیکن پاکستان اب کسی جنگ میں شرکت کرنے کیلئے تیار نہیں، اور امریکہ اپنے پینترے چلنے کی پوزیشن میں ہے وہ ہے اسرائیل ماڈل۔ لیکن پاکستان نے کمال کے پتے کھیلے کہ اگر افغان طالبا ن بھی طاقت کے زور پر آئیں گے ہم اپنا بارڈر سیل کردیں گے جو بڑا مثبت اشارہ تھا پوری دنیا کو، تو امریکہ کو لگ کہاں سے رہی ہے وہ اسے سمجھ نہیں آرہی ہے

  • افغان طالبان کی فتوحات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    افغان طالبان کی فتوحات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    اٹھارہ سالوں سے جاری جنگ بلآخر پچھلے سال اختتام پذیر ہوئی اور اسی کے ساتھ امریکا اور طالبان میں کامیاب مذاکرات ہوئے۔۔۔
    کل تک پوری دنیا یہ سمجھتی تھی امریکی فوج افغانستان پر قابض ہوکر طالبان کا خاتمہ کر دے گئی لیکن اللّه کی مدد جس کے ساتھ ہو پھر پوری دنیا بھی ایک ہو جائے کچھ نہیں کر سکتی یہی مدد طالبان کے ساتھ اللّه کی طرف سے ملی اور طالبان پوری دنیا میں سرخرو ہوئے۔۔۔
    وہ دور بھی ایک دور تھا جب حضرت ملا محمد عمر رح کی قیادت میں طالبان نے اپنی فتوحات کی ابتدا کی آج پوری دنیا نے یہ دیکھا کے طالبان کبھی دنیاوی خداؤں کے آگے نہیں جھکی امریکا جو اپنے آپکو سپر نیوکلیئر پاور کہتی نہ تھکتی تھی آج وہ افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہے۔۔
    طالبان نے حضرت ملا محمّد عمر رح کی قیادت میں جب افغانستان میں اپنی حکومت قائم کی تو ایسا لگتا تھا حضرت سیدنا عمرؓ کی خلافت کا وہ سنہرا دور دوبارہ شروع ہوا
    اللّه پاک ملا عمر رح کے درجات بلند فرمائے

    اب ایک بار پھر طالبان اپنی بہترین حکمت عملی کے تحت افغانستان میں فتوحات حاصل کر رہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں عنقریب طالبان دوبارہ افغانستان میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اس وقت پوری دنیا کی نظر افغانستان اور طالبان پر جمی ہے اور میری نیک خواہشات طالبان کے ساتھ ہیں۔
    اللہ تعالی ان کا حامی و ناصر ہو۔
    آمین

  • کینیڈا میں سابق سکول سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت

    کینیڈا میں سابق سکول سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت

    برٹش کولمبیا: کینیڈا میں ایک اور سابقہ بورڈنگ اسکول کے باہر سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق بچوں کی عمر 7 سے 15 سال کے درمیان ہے جنہیں 1890 سے لیکر 1970 کے درمیان کیتھولک چرچ کے زیر انتظام چلنے والے اسکول میں زبردستی کینیڈین معاشرے میں ہم آہنگی کے لیے تعلیم دی جاتی تھی۔

    19 ویں صدی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے قریب بچوں کو زبردستی مسیحی بورڈنگ اسکولوں میں تعلیم دی جاتی تھی تاہم اس دوران ہزاروں بچے بیماری اور دیگر وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوگئے تھے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کینیڈا کی ریاست سسکیچوان میں سابق بورڈنگ اسکول سے 751 اجتماعی قبریں دریافت کی گئی تھیں جب کہ مئی کے آخر میں بھی ایک اسکول کے احاطہ سے 215 بچوں کی اجتماعی قبریں برآمد ہوئی تھیں برٹش کولمبیا میں قائم سکول1978 میں بند کردیا گیا تھا اس حوالے سے کینڈین وزیراعظم نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ بچوں کی باقیات ایک پرانے بورڈنگ سکول سے برآمد ہوئیں بچوں کی اموات کب ہوئیں ،تحقیقات کی جائیں گی-

    کینیڈا کے ایک سکول کے احاطہ سے 215 بچوں کی باقیات برآمد