Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کے خلاف امریکی سازشیں. تحریر: نوید شیخ

    پاکستان کے خلاف امریکی سازشیں. تحریر: نوید شیخ

    کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم ابھی نندن کو پکڑ لیتے ہیں ۔ کلبھوشن یادو کو بھی رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے ہیں مگر دنیا میں ہماری اس طرح سنوائی نہیں ہوتی جیسے ہونی چاہیے ۔ دوسری جانب بھارت کوئی جھوٹا موٹا ڈرامہ بھی کرے تو سب پاکستان کی جانب انگلی اٹھانا شروع ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ اس سلوک کی وجہ امریکہ ہے ۔ آگے چل کر بڑی تفصیل سے امریکہ کی کارستانیوں بارے بتاتا ہوں ۔ ۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا پاکستان کو کتنا نقصان ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں جو گزشتہ کئی دنوں سے ڈرامہ بازی جاری ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ کس کو نہیں پتہ کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اپنے سیاسی مفادات کی حفاظت کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ۔ اس وقت جو ملک کو مسائل درپیش ہیں یہ حقیقی طور پر امتحان کا وقت ہے ۔

    ۔ آپ دیکھیں بھارتی فضائیہ کی عمارت پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد پاکستان پر الزام عائد کرنے کی بڑی تگڑی کوششیں ہو رہی ہیں مگر کتنے سیاستدان ہیں جنہوں نے اس کا جواب دیا ہے۔ آج بھی اسمبلی میں بڑی تقریریں ہوئی ہیں ۔ شور شرابہ ہوا ہے ۔ مگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ مودی اور بھارت کی شرانگیزیوں کا جواب دے دیتے ۔۔ کسی کو خیال نہیں آیا کہ یہ سوال یہ اٹھا دیتے کہ جو ڈرون بھارت دیکھا رہا ہے ۔ یہ چھوٹے والے ڈرون ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ بھی اس کی بیٹری لائف ہوئی تو 40 منٹ سے زیادہ ہوا میں نہیں رہ سکتا ۔ اور یہ والا ڈرون کہیں آگیا ہے تو کہیں سے تو آپریٹ ہو رہا ہوگا ۔ کہیں جا کر یہ گرے گا بھی ۔ اس کو تو ڈھونڈو ۔ مگر کسی کا اپنی سیاست سے ہٹ کر توجہ ہو تو سوال کرے ۔ مودی کو جواب دے ۔ بھارت کے پراپیگنڈہ کا توڑ کرے ۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی کو نہیں پتہ چلا ۔ کہ لاہور میں جو دھماکہ ہوا اس کے پیچھے بھارت اور RAW کا ہاتھ تھا ۔ قومی اسمبلی میں آج بڑی جذباتی تقریریں ہوئیں ۔ پر اس اہم موقع پر جس کو دنیا میں بھارت پلوامہ ٹو بنا کر پیش کر رہا ہے ۔ ہماری پارلیمنٹ چپ ہے ۔ آخر کیوں ؟۔ لاہور تو لاہور ۔ کراچی سے بھی RAW کا ایک خطرناک نیٹ ورک پکڑ لیا گیا ہے۔ پر کیا قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو یہ توفیق ہوئی کہ حکومت دنیا کو کیوں نہ بتا سکی کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے ۔ ۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمارے سکیورٹی اداروں کو پاکستان میں کسی دہشت گردی کے واقعے میں بھارتی خفیہ ادارے RAW کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ پاکستان ایسے بہت سے ثبوت اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کرچکا ہے جن کی بنیاد پر بھارت کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے تھی لیکن افسوس کی بات ہے کہ عالمی برادری اس سلسلے میں کھوکھلے بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ بھی نہیں کرتی۔ بھارت کی پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں یا دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی بحریہ کا افسر کلبھوشن یادیو ہے جسے پاکستانی سکیورٹی اداروں نے بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔

    ۔ کیا یہ سیاسی قیادت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اردگرد ہونے والے واقعات پر نگاہ رکھے اور ملکی مفاد میں سیاسی اختلافات کو بھلا کر پاکستان کی سلامتی اور بقاء کو اہمیت دیتے ہوئے مثبت طرز عمل اختیار کرے۔ ۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ بھارت مزید ایسی کوئی کارروائیاں کرے تاکہ وہ لاہور دھماکے میں اپنی ایجنسی کے ملوث ہونے کے معاملہ سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے ۔ لیکن ہمارے دفتر خارجہ کو اس سلسلے میں پوری توجہ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور بھارت کے خلاف ملنے والے ثبوت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر کے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنا چاہیے۔۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیری قیادت سے ملاقات کا ایک اور ڈھونگ ناکام ہوگیا ہے۔ ۔ نریندر مودی اس وقت عالمی سطح پر شدید دباؤ میں ہیں۔ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو یا لداخ میں تیار بیٹھی چینی افواج، اگر پاکستان پھنسا ہوا ہے تو مسائل بھارت کے لیے بھی کم نہیں ہیں ۔

    ۔ کیونکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ معاملات کو بہتر بنا کر خطے کا چوہدری بنے اور چین کا مقابلہ کرنے کےلیے تیار ہو۔ لیکن بیچ میں کشمیر آجاتا ہے اس لیے یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا کیونکہ پاکستان کا واحد مطالبہ ہے کہ کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے، تبھی مذاکرات کی میز سجائی جاسکتی ہے۔ پر ابھی تک بھارت کو چوہدری بنانے کی امریکہ کی خواہش بہت مہنگی پڑ رہی ہے ۔ ۔ حالت یہ ہے کہ quad اتحاد بنانے کے باجود ایشیا میں امریکی غلبہ زوال پذیر ہے حالات اِس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ افغانستان سے انخلا کے بعد خطے پرنظر رکھنے کے لیے کوئی ملک اڈے دینے کو تیا رنہیں۔ دراصل ایسے حالات بنانے میں امریکی حماقتوں کا بڑا ہاتھ ہے افغانستان میں بھارتی کردار کی ضد نے چین کو قبل ازوقت مقابلے پر آنے کی راہ دکھائی اور پاکستان کو بھی خفا کر دیا کیونکہ پاکستان نے اپنا مستقبل چین سے وابستہ کر لیا ہے اِس لیے اب یہ توقع کم ہی ہے کہ پاکستان اور امریکہ ماضی کی طرح ایک دوسرے سے شیر وشکر ہوں۔

    ۔ اس حوالے سے عمران خان نے اپنے حالیہ چینی ٹی وی کو انٹرویومیں واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف علاقائی اتحاد قائم کیا ہے۔ امریکی اتحاد میں بھارت اور دیگر ممالک شامل ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ نا مناسب رویہ رکھا گیا مغربی ممالک کا پاکستان پر دباؤ ڈالنا نا مناسب ہے۔ پاکستان پر جتنا بھی دباؤ ڈال لیں، پاک چائنہ تعلقات قائم رہیں گے۔ پاک چائنہ تعلقات ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ہیں۔ ۔ اس لیے اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان میں دوری بڑھتی جا رہی ہے اور آگے یہ مزید بڑھنے کی جانب گامزن ہے ۔ وجہ بھارت ہے ۔ آپ دیکھیں جب افغان سرزمین پر بھارت کی موجودگی چین اور پاکستان دونوں کو قبول نہیں توپھر امریکی کیوں ضد کرتے ہیں سمجھ نہیں آتی ویسے بھی بڑے رقبے، بڑی آبادی اور بڑی فوج کے علاوہ بھارت میں کوئی خوبی نہیں ۔ بھارت وہ میمنا ہے جسے دودھ پینے کے سوا کچھ نہیں آتا پہلے روس اور اب امریکہ کی طرف ہونے میں یہی خصلت کارفرما ہے بھارت کی بے جا حمایت امریکی غلبے کو زیادہ تیزی سے زوال کی گہرائیوں میں پھینک سکتی ہے۔

    ۔ دراصل دہشت گردوں کی سرکوبی کا علمبردار امریکہ اڈے لیکر اہم ممالک پر نظر رکھناچاہتاہے لیکن پاکستان ایسا کچھ کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں۔ دوسرایہ کہ پاکستان اب طالبان کے حمایتی یا مخالف گروہوں کولڑنے کے لیے میدان فراہم نہیں کرنا چاہتا اور وہ اقتدار کا فیصلہ کرنے کا حق افغانوں کو دینے کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ افغان اپنے لسانی یا نسلی مسائل کا حل بھی خود تلاش کریں لیکن امریکی خواہش ایسی نہیں وہ کسی نہ کسی صورت میں علاقے میں موجود رہنا چاہتا ہے۔

    ۔ امریکہ کوشاید معلوم نہیں کہ حالات بدل چکے ہیں چین پر ہمسایہ ممالک تکیہ کرنے لگے ہیں جو امریکی اتحاد کی طرف قدم بڑھائے اُسے چین روکنے بھی لگا ہے بنگلہ دیش پر چین اسی نوعیت کا دباؤ ڈال چکا ہے جبکہ کم وبیش تین دہائیوں سے خاموش روس نے بھی عالمی کردار بڑھانا شروع کر دیا ہے اور عالمی امور میں امریکہ مخالف روش پرگامزن ہے۔ ۔ روسی صدر پیوٹن جلد پاکستان کا دورہ بھی کرنے والے ہیں ۔ ۔ ایران پہلے ہی خطے میں امریکہ مخالف بلاک کا پُرجوش حصہ ہے۔ جس سے نتیجہ واضح ہے کہ امریکی غلبے کا زوال شروع ہوگیا ہے اور جلد ہی عالمی منظر نامے پر واحد زمینی سُپر طاقت کے مدمقابل ایک سے زائد نئی طاقتیں آنے کا امکان ہے۔

  • ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

    فلائنگ کار کی پہلی شہر سے پہلی پرواز مکمل ہونے کے بعد ڈویلپرز نقل و حمل کے ایک "نئے دور” کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : لوواکیا میں مقیم کمپنی کلین ویژن کی اُڑنے والی گاڑی یا فلائنگ کار کے ایک آزمائشی ماڈل نے پیر کی صبح 6 بجے سلواکیا کے شہروں نیترا اور براٹیسلاوا کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے درمیان ایک گھنٹہ 35 منٹ کی پرواز کامیابی سے مکمل کی ہے۔

    اس کے موجد پروفیسر سٹیفن کلین کا دعویٰ ہے کہ یہ کار ایک ہزار کلومیٹر اور 8200 فٹ کی بلندی پر اُڑ سکتی ہے اور اس نے ہوا میں اب تک 40 گھنٹے گزارے ہیں اسے کار کی خصوصیات سے ہوائی جہاز کی خصوصیات حاصل کرنے میں صرف دو منٹ 15 سیکنڈ لگتے ہیں۔

    یہ ایک باقاعدہ پیٹرول اسٹیشن سے ایندھن پر چلتا ہے اور 160bhp بی ایم ڈبلیو انجن کے ساتھ لگایا گیا ہے ، اور یہ 118mph کی بحری رفتار کے ساتھ 8،200 فٹ پر اڑ سکتی ۔اس کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ فلائنگ کار کا نیا ، پری پروڈکشن ماڈل 186mph کی رفتار سے سفر کرنے اور صرف 600 میل سے زیادہ کی دوری کی پرواز کے قابل ہوگا۔

    فلائنگ کار کے موجد پروفیسر اسٹیفن کلین نے کہا: "یہ پرواز دوہری نقل و حمل کی گاڑیوں کے ایک نئے دور کا آغاز کرتی ہے۔ اس سے نقل و حمل کا ایک نیا زمرہ کھل جاتا ہے ۔

    کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

    ایئر کار کے پر اس کے دروازوں کے پاس فولڈ ہوتے ہیں اور اس صورت میں یہ کسی عام گاڑی کی طرح ہوتی ہے پروفیسر کلین نے خود یہ کار رن وے پر چلائی اور پھر اسے اڑا کر لے گئے۔

    پیر کی صبح انھوں نے اس تجربے کو ’نارمل‘ اور ’بہت خوبصورت‘ قرار دیا۔ ہوا میں اس گاڑی نے 170 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر لی تھی اس میں دو لوگ بیٹھ سکتے ہیں اور کل وزن کی حد 200 کلو گرام ہے۔

    مگر ڈرون ٹیکسی کے آزمائشی ماڈل کے برعکس، یہ ایئر کار سیدھا اوپر کی طرف اڑان نہیں بھر سکتی کیونکہ اسے اڑان بھرنے کے لیے رن وے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    سنہ 2019 میں کنسلٹنٹ کمپنی مورگن سٹینلی نے پیشگوئی کی تھی کہ سنہ 2040 تک اڑنے والی گاڑیوں کے شعبے کی مالیت 15 کھرب ڈالر تک جا سکتی ہے۔

    کلین وژن کے شریک بانی ، انتون زازاک نے مزید کہا: "ایئر کار اب صرف تصور کا ثبوت نہیں ہے… اس نے سائنس فکشن کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔”

    "ونڈ کیچر” ونڈ ٹربائن سے سالانہ 5 گنا زیادہ بجلی بنانے والا گرڈ سسٹم

    منگل کو ایک تقریب کے دوران ہنڈائی موٹرز یورپ کے چیف ایگزیکٹیو مائیکل کول نے کہا تھا کہ یہ خیال ’ہمارے مستقبل کا حصہ ہو گا، دہائی کے آخر تک اڑن کاروں کو شہروں میں تعینات کردیا جائے گا۔

    سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اور تاجروں کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کول نے کہا:اڑنے والی گاڑیوں کو اس لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کہ ان کی مدد سے موجودہ ٹریفک انفراسٹرکچر پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے "اگر آپ نے مجھ سے کچھ سال پہلے پوچھا ہوتا کہ کاریں اڑ رہی تھیں تو میں اپنی زندگی میں دیکھوں گا ، مجھے یقین نہیں آتا لیکن یہ جدید ، سمارٹ موبلٹی حل پیش کرنے کے ہمارے مستقبل کے حل کا حصہ ہے-

    ایئر کار کو بنانے والی کمپنی کلین ویژن نے کہا ہے کہ اس آزمائشی ماڈل کو بنانے میں دو سال لگے اور اس پر ’20 لاکھ یورو سے کم’ خرچ آیا ہے۔

    کلین ویژن کے معاون اور سرمایہ کار اینٹن ریجک کہتے ہیں کہ اگر یہ کمپنی عالمی فضائی سفر کا تھوڑا سا بھی حصہ لے لیتی ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی صرف امریکہ میں ایئر کرافٹ کے قریب 40 ہزار آرڈرز ہیں اگر ہم ان میں پانچ فیصد بھی مکمل کر لیں اور ایئر کرافٹ کو فلائنگ کار میں بدل دیں تو ہمارے ہاتھ بڑی مارکیٹ لگ جائے گی۔

    یونیورسٹی آف دی ویسٹ آف انگلینڈ میں ایوی ایشن کے ماہر ڈاکٹر سٹیفن رائٹ کہتے ہیں کہ ایئر کار ’بوگاٹی ویرن اور سیزنا 172 سے مل کر بنی ہے وہ کہتے ہیں کہ انھیں نہیں لگتا کہ ہوائی جہاز کے مقابلے ایسی کار سے ایندھن پر زیادہ خرچ آئے گا۔

    اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے بارے میں خفیہ امریکی رپورٹ کے کچھ حصے منظر عام پر…

    ڈاکٹر رائٹ کہتے ہیں کہ ‘مجھے ماننا پڑے گا کہ یہ بہت پُرکشش ہے۔ لیکن اجازت ناموں کے حوالے سے میرے سینکڑوں سوالات ہیں کوئی بھی ہوائی جہاز بنا سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسے ہوائی جہاز کی ضرورت ہے جو مسافروں کے ساتھ لاکھوں گھنٹوں تک اڑتا رہے اور جس میں حادثہ ہونے کے امکانات بہت کم ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے اس کاغذ کے ٹکڑے کا انتظار ہے جس پر لکھا ہو کہ اسے اڑانا اور بیچنا محفوظ ہے۔

  • خود احتسابی .تحریر: مزمل مسعود دیو

    خود احتسابی .تحریر: مزمل مسعود دیو

    بزرگ فرماتے ہیں کہ جب آپ کسی دوسرے کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں تو ذرا غور سے دیکھا کرو کیونکہ اسی ہاتھ کی تین انگلیاں تمہاری طرف اشارہ کررہی ہوتی ہیں اس لیے کسی کو وہ بات کہنے سےُپہلے تین بار سوچو کہ کہیں وہ بات جس پر تم انگلی اٹھا رہے ہو تمہارے اپنے اندر تو نہیں پائی جاتی پھر اگلے کو تلقین کرو ایسا نہ ہو کہ پھر بعد میں شرمندگی اٹھانی پڑے۔
    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے

    (لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ﴿٢﴾ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 61۔ الصف:2-3) کیوں تم وہ کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔

    ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس میں اکثریت کا کام دوسروں پر تنقید کرنا ہے لیکن وہی لوگ جب اس تنقید میں زد میں آتے ہیں تو بلبلا اُٹھتے ہیں کیونکہ انکے مطابق وہ معاشرے کے سب سے بہترین لوگ ہیں۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو جو انسان کسی دوسرے کی برائیاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے اس میں پہلے سے وہ برائی موجود ہوتی ہے کیونکہ کہیں نہ کہیں اس کے ذہن میں اس برائی کے خواص موجود ہوتے ہیں۔

    خود احتسابی مطلب اپنے آپ کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اور خود ہی ملزم، خود ہی وکیل اور خود ہی جج بن کر گنہگار اور بے گناہ کا فیصلہ کرنا۔ گنہگار ثابت ہونے پر اپنے آپ کو سدھارنا اور ان غلطیوں کو چھوڑنے کا ارادہ بنانا۔
    اکثر اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ گھر کے اندر باپ خود سگریٹ پیتا ہے۔ کئی لوگ نشہ کرتے ہیں، جوا، زنا جیسی غلط کاریوں میں ملوث ہوتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو ان سب سے منع کر رہے ہوتے ہیں۔ گھر کا بڑا ہونے کے ناطے تو درست ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ خود ان برائیوں میں ملوث ہوں اور دوسروں کو اس سے بچنے کا درس دیں۔ پہلے اپنے آپ کو ان برائیوں سے دور کریں اپنے بچوں اور معاشرے کے سامنے ایک نمونہ بنیں پھر آپکی بات کا دوسروں پر بہت گہرا اثر ہوگا۔
    سکول وکالجز میں زیادہ تو اساتذہ اپنے کلاس ٹائم میں بچوں کو نہیں پڑھاتے اور کل کے لیے ہوم ورک دے دیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ نوبت آجاتی ہے کہ وہ ہوم ورک بھی چیک نہیں کرتے اسطرح بچوں کے اندر اس استاد کا خوف ختم ہوجاتا ہے اور بچوں کے نزدیک ٹائم پاس کی حیثیت رہ جاتی ہے لیکن اگر آپ انکو دوبارہ کام پڑھنے کے لیے بولو تو اس بات کو ٹال مٹول کردیتے ہیں اس میں قصوروار بچے نہیں وہ استاد ہے جس نے اپنے آپ کو اس مقام تک پہنچایا۔ اگر وہی استاد اپنا محاسبہ کریں تو انہیں پتا چلے گا کہ انہیں جس کام کی تنخواہ ملتی تھی وہ کام انہوں نے سرانجام نہیں دیا اسلیے یہ نوبت آئی۔

    بہت سی ایسی مثالیں ہیں جو معاشرے کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں لیکن اگر ہر فرد، ادارہ اپنا اپنا محاسبہ کرے تو کوئی شک نہیں کہ بہت ساری برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔

  • ‏اسوۂ رسول اور ہم.تحریر:۔محمد عادل حسین

    ‏اسوۂ رسول اور ہم.تحریر:۔محمد عادل حسین

    ہم مسلمان ہیں اورمسلمان کا مطلب فرمانبردار ہے
    اصطلاح میں اس سے مراد وہ شخص ہےجو اللہ کےاحکامات اور اس کے رسولؐ کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرے
    فرمان الہی ہے

    "لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡہِمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ”

    یقیناً تمہارے لئے رسولُ اللّٰهﷺ اچھا نمونہ ہیں ( اور عمدہ پیروی ہے خاص کر ) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو

    سورة الممتحنة – Ayat No 6

    یہ سیدھا سااصول بیان کردیا کہ ہم اپنے ہر قول وفعل ولادت سے وفات تک ہرکام میں رسولُ اللّٰهﷺ کی پیروی کریں
    اپنی عبادت اور نیکی کے بارے میں کہ اگر اس کا طریقۂ و ہئیت آپ طریقے کے مطابق نہ تو وہ قبول نہیں۔

    اسی طرح تجارت،سیاست،عدالت خلوت،جلوت،رشتہ داری،دوستی ،بیوی ،بچوں، والدین،اولاد کے حقوق الغرض زندگی کاکوئی معاملہ بھی ایسا نہیں کہ جس کی راہنمائی رسولُ اللّٰهﷺ نے نا کی ہو

    اصحابؐ محمدﷺ کاانداز کیاان کو مقام ومرتبہ کس وجہ سے ملا کہ اسؤہ رسول پہ اپنی زندگی بسرکرتے تھے جوبھی حکم ملتا ان کا کام "سمعناواطعنا” (سننااور فورا عمل کرنا) تھا شراب کی حرمت کامعاملہ دیکھ لیں حکم جاری ہوتے ہی ذخیرہ شدہ کو فورا بہادیا
    ایک دن آپؐ خطبہ ارشاد فرما رہے آپ نے کہا "اجلسوا”!
    بیٹھ جاؤ ایک صحابی کہ جو دروازے کی دہلیز پہ تھے وہی بیٹھ گۓایک قدم اٹھانا بھی گوارہ ناکیا
    اللہ تعالی نے پھر مقام کیا دیا
    انکو رضی اللہ عنہ کاسرٹیفیکٹ زندگی میں ہی عطاء کردیا

    ہم بھی نیک اعمال کس وجہ سے کرتے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجاۓ

    آج ہماری حالت کاایک سبب یہ کہ ہم نے اسؤہ رسولؐ سے روگردانی کی اور جن کی مخالفت کا حکم ملا تھا(یہود ونصری)ان کو اپنا آئیڈیل بنا لیا۔

    شاعر نے بھی کیاخوب عکاسی کی
    تمہاری تہذیب اپنےہی خنجر سے خود کشی کرے گی
    شاخ نازک یہ جو آشیانہ بنے گا ناپائدار ہوگا

    اللہ ہمیں اسؤہ رسول پہ زندگی بسر کرنے کی توفیق دے،آمین

  • ہائے غربت.تحریر:مبین خان

    ہائے غربت.تحریر:مبین خان

    کثر و بیشتر لوگ کہا کرتے ہیں کہ غریبوں سے ہمدردی کرنا چاہیے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ غریبی بہت اچھی چیز ہے، اسلام غریبی میں پھلا پھولا ہے، کبھی کسی غریب کو دیکھا تو کہا ہائے ہائے، کبھی غریب کو دیکھا تو بات بھی نہیں کی، کبھی ساتھ بیٹھنے بھی نہیں دیا، بعض لوگ ساتھ لیکر کہیں جانے کے لئے تیار نہیں، بعض لوگ بات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔

    انسان جب کسی دوسرے کو اپنے سے بھی زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہے تو کچھ تسلی ہوتی ہے،اسے کچھ جینے کا حوصلہ ملتا ہے
    انسان جب کسی دوسرے کو اپنے سے بھی زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہے تو کچھ تسلی ہوتی ہے،اسے کچھ جینے کا حوصلہ ملتا ہے کہنے کو تو ہر امیر ہر دولتمند یہ بات کہتا ہے کہ پیسہ ہاتھ کی میل ہے آج میرے ہاتھ کل کسی اور کے ہاتھ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دولتمند ہوتے ہی مزاج کیوں بدل جاتا ہے۔معلوم یہ ہوا کہ یہ بات وہ ایک محاورے کے طور پر کہہ رہا ہے، دکھاوے کے لئے کہہ رہا ہے حقیقت میں اسے اس بات کا یقین ہے کہ آج میرے پاس پیسہ ہے تو سب کچھ ہے میں جو چاہوں کرسکتا ہوں حکومت بھی غریبی کے خاتمے کا نعرہ بلند کرتی ہے بلکہ پوری دنیا غریبی کے خاتمے کی بات کرتی ہے لیکن جب سے دنیا قائم ہوئی ہے تب سے امیری و غریبی دونوں ہیں، اس لیے کہ یہ نظام الٰہی ہے اور ویسے بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا میں ہر شخص ایک برابر ہوتا تو دنیا میں کیسے امن و امان قائم رہتا۔جب دنیاوی سطح پر یہ نظام قائم ہے کہ ہر آدمی ایک برابر نہیں ہے تو پھر قدرت کے قانون کو کیسے چیلنج کیا جاسکتا ہے اگر قدرت نے سب کو ایک برابر کیا ہوتا تو سب ووٹ مانگتے پھر ووٹ دیتا کون۔
    پوری دنیا کے انسانوں کا چہرہ الگ الگ ہے، آنکھوں کا لینز الگ ہے، ہاتھوں کا فینگر الگ الگ ہے یہ تینوں چیزیں اس بات کا اعلان کررہی ہیں کہ قدرت کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے اے انسانو! اگر قدرت تمہیں چھپر پھاڑ کر دے سکتی ہے تو چمڑی ادھیڑ کر لے بھی سکتی ہے اس لئے غریبوں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو، غریبوں کا دل نہ دکھاؤ فرعون لاؤ لشکر سمیت دریائے نیل میں غرق کردیا گیا، قارون خزانہ سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا، نمرود کو ایک مچھر کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا، شداد کو خود اس کی بنوائی ہوئی جنت کی چوکھٹ پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیاپھر آج کا انسان کس کھیت کی مولی ہے جو یہ سوچ رہا ہے کہ ہم مالدار ہیں تو ہمارا بال بیکا نہیں ہوسکتا ایک دولتمند کے گھر میت ہوتی ہے پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح خبر پھیل جاتی ہے اس کے آخری رسومات میں لوگوں کا اژدہام ہے

    تاحد نگاہ جم غفیر ہے بڑے بڑے امراء، رؤسا، حکمراں سب کے سب آئے ہوئے ہیں، ایک غریب گھرانے میں موت ہوتی ہے کسی کو پتہ بھی چلتا ہے تو اسے کوئی حیرت نہیں ہوتی وقت مقررہ پر اس کے قریبی ساتھی رشتہ دار کاندھے پر اٹھاتے ہیں آخری رسومات ادا کرتے ہیں اور اسی مٹی میں اسے بھی دفن کیا جاتا ہے۔دنیا میں رہنے کا طریقہ الگ الگ، سوسائٹی الگ الگ نہ دولتمند کے ساتھ ایک دو لوگ دوچار دن قبر میں سونے کے خواہشمند ہوئے نہ غریب کے ساتھ تو پھر یہی احساس وقت رہتے کیوں نہیں ہوتا، جب آخری وقت ہوتا ہے تو غلطی کی معافی تلافی کی جاتی ہے آخر یہی کام صحتمند رہتے ہوئے کیوں نہیں کیا جاتا،، کتنی رشتہ داریاں بگڑجاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، کتنی دوستیاں ختم ہو جاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، نکاح اور شادی بیاہ کو مشکل بنادیا گیا ۔امیری اور غریبی کے نام پر، جہیز کا بازار بھی لگایا جاتا ہے اور جہیز کی آڑ میں موت کے گھاٹ بھی اتارا جاتا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے۔
    ایک طرف کوئی مخمل کے بستر پر سوتا ہے دوسری طرف کوئی اخبار بچھا کر فٹ پاتھ پر سوتا ہے زندگی کا گذر بسر تو دونوں کا ہورہا ہے لیکن ایک کا آرام سے دوسرے کا تکلیف سے لیکن آج کے حالات پر نظر دوڑا نے سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ انسانوں کی بھیڑ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر انسانیت میں کمی آتی جارہی ہے غریبی کے خاتمے کا خواب دکھا کر سیاست تو خوب کی جاتی ہے مگر غریبوں کو راحت پہنچانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاتا اب تو دینی، سیاسی، سماجی غرضی کہ ہر شعبے ہر میدان میں امیری اور غریبی کی کھائی بڑھتی جا رہی ہیزکوٰۃ کی رقم دے کر بھی بہت سے لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں ملتا جب تک کہ چار آدمی سے ذکر نہ کر دیں حالانکہ اسلامی تاریخ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے ایک غریب آدمی کے پاس امدادی رقم بھیجی تو یہ کہدیا تھا کہ ان سے یہ نہ بتانا کہ یہ رقم کس نے دی ہے،

    ان سے تم بھلے سلام کرنا لیکن میرا سلام نہ کہنا، ہوسکے تو ان کے ہاتھ میں رقم نہ دیکر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے ان کے قریب رکھ دینا وہ صاحب جب رقم دیکر واپس آئے تو حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ آپ نے اپنا سلام کہنے سے کیوں منع کیا اور دوسری بات یہ کہ پیسہ ہاتھ میں دینے سے کیوں منع کیا تو حضرت عائشہ ؓنے کہا کہ تم میرا سلام کہتے تو ہوسکتا ہے کہ وہ پھر کبھی ایسی حالت میں ہوتے کہ انہیں پھر امداد کی ضرورت پڑتی اور مجھ تک پیغام یہ سوچ کر نہیں پہچا تے کہ ان کے پاس سے ایک بار امدادی رقم آچکی ہے۔
    اس لیے میں نے یہ سوچا کہ انہیں معلوم ہی نہ ہو کہ یہ رقم عائشہؓ نے بھیجی ہے اور ہاتھ میں نہ دینے کے لیے اس وجہ سے کہا کہ تم ہاتھ میں دیتے تو ہوسکتا تھا کہ ان کا ہاتھ نیچا ہوتا اور تمہارا ہاتھ اوپر ہوتا تو کہیں تمہارے دل میں یہ خیال نہ پیدا ہوجاتا کے لینے والے کا ہاتھ نیچے اور دینے والے کا ہاتھ اوپر ہے تو کہیں تم تکبر نہ کر بیٹھتے بہت سے علماء کرام نے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓنے اپنے بھانجے عروہ کویہ رقم بھیجی تھی۔
    بہر حال اس واقعے سے امدادی سامان و رقم کا پرچار پرسار کرنے والوں کو عبرت حاصل کرنا چاہیئے بلکہ اس واقعے سے ہر خاص و عام کو سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جو مالدار تھے وہ اپنی دولت سے جنت کا سامان خریدا کرتے تھے اور آج کا مسلمان بھی مدارس سے لیکر خانقاہوں تک صرف مرغ و ماہی کا انتظام کرنے والوں اور مٹھیوں کو موٹی موٹی رقم سے گرم کرنے والوں کو اہمیت دیتا ہے اور غریب مریدین تک کو قریب تک بیٹھنے کی جگہ نہیں دیتا کوئی بڑے حوصلے سے دعوت دیتا ہے تو اس کے وہاں جانے سے کتراتے ہیں اور کسی کے ہاں اس انداز سے جاتے ہیں کہ کھانے کے بعد دسترخوان پر ہاتھ اٹھاکر اجتماعی دعا تک کرتے ہیں۔
    کیا اس سے غریبوں کو ٹھیس نہیں لگتی، کوئی آپ کو نذرانہ دے تو اس سے مصافحہ کریں اور گلے بھی لگائیں اور کوئی ہاتھ بڑھائے تو اسے اشاروں اشاروں میں کہیں ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے تو کیا اس غریب مرید کو ٹھیس نہیں پہنچے گی پھر بھی اسٹیج سے خطابت کے انداز میں کہیں کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے تو دنیا چاہے کچھ بھی کہے میں تو یہی کہوں گا کہ ایسا کرنے والا رہنما نہیں بلکہ روٹی توڑ فقیر ہے، یہ واعظ نہیں بلکہ یہ ایک شعبدہ باز ہے اس کا انداز خطابت ایک فن ہے ،فن سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
    ہر انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو تو آتے ہی ہیں اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کوئی بھی انسان اچھے برے حالات سے بھاگ نہیں سکتا ہے انسان کے لیے لازمی ہے کہ وہ اچھے اور موافق حالات میں اللہ رب العزت کا شکر ادا کرے اور غرور و تکبر سے بچنے کی کوشش کرے اور برے حالات کا مقابلہ بھی اعتماد اور خوش اسلوبی سے کرے اور کبھی بھی اپنی زندگی سے بیزار اور ناامید نہ ہو جائے کیوں کہ نہ ہی اچھے حالات ہمیشہ کے لیے رہتے ہیں اور نہ ہی برے حالات، لیکن برے حالات میں کام آئے لوگ ہمیشہ یاد رہتے ہیں ان ہی برے حالات اور مصائب میں ایک پریشانی اور مسئلہ غریبی ہے یہ ایسی بیماری ہے کہ جس کو بھی لگ جاتی ہے اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی غریب انسان کسی کا نہیں رہتا اور نہ ہی اسے کوئی اپناتا ہیں یہاں تک کہ سگے بھائی بہن بھی ایسے شخص سے رشتہ ناطہ رکھنا گوارا نہیں کرتے۔
    انساں سے غریب انسان اپنا بسر اوقات کیسے مہیا کرتا ہے یہ صرف ایک غریب ہی جانتا ہے۔ ہمیں غریب کا مذاق اڑا کر ان کا دل نہیں دکھانا چاہیئے کیونکہ غریب ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ غریب انسان دن رات ایک کر کے اپنے اہل و اعیال کے لیے دو وقت کا کھانا ممکن بنا تا ہے بہت سے غریب لوگ غربت سے تنگ آ کر مختلف جرائم میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا خدا نخواستہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر کے سنگین جرم کے مرتکب ہوتے ہیں حالانکہ مجرم بننے کے لیے، یا خودکشی جیسا سنگین قدم اٹھانے کے لیے غریب ہونے کی دلیل دینا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے لیکن غربت کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ضرور ہوتا ہے اور بہت سے لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے آئے دن سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ویڈیوز اور پوسٹس نظر آتے ہیں جن میں مختلف سماجی کارکن کسی غریب کی حالت زار سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے مفلوک الحال لوگوں کے لیے مدد کی درخواست بھی کی جاتی ہے ساتھ ہی ضرورت مند لوگوں کا اکائونٹ نمبر بھی دے دیا جاتا ہے جس سے پیسہ براہ راست ضرورت مند کے کھاتے میں جاتا ہے اور گڑبڑ کی زیادہ گنجائش نہیں رہتی یہ ایک اچھا کام ہے بلکہ اس عمل کو سراہا جانا چاہئے کیوں اس طرح بہت سے غریب لوگوں کی مدد ہو جاتی ہے بہت سے بیمار لوگوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے ایسی درجنوں مثالیں دی جا سکتی ہیں

    جہاں لوگوں کی اس طریقے سے بہت مدد کی گئی یہ سوشل میڈیا کا بہترین استعمال ہے لیکن حیرت تب ہوتی ہے جب بہت سے صاحب ثروت لوگوں کو میڈیا کے ذریعے ہی پتا چلتا ہے کہ ان کا ہمسایہ اتنا غریب ہے کہ وہ اپنی داستان لے کر سوشل میڈیا پر آ گیا ہے آخر ہمارے آس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی غربت ہمیں نظر کیوں نہیں آتی؟ ہمیں بھی پتہ کیوں نہیں چلتا کہ ہمارے ارد گرد کتنی بیوائیں ہیں جن کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے؟ کتنے یتیم بچے ہیں جو محض غربت کی وجہ سے تعلیم چھوڑ کر مزدوری کرتے ہیں؟ کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جن کی عمر ڈھلتی جا رہی ہے لیکن محض غربت کی وجہ سے ان کی شادی نہیں ہو پاتی ہے؟ کتنے ایسے بیمار ہونگے جن کے پاس ادویات کے لئے پیسے نہیں ہونگے؟ اور کتنے ایسے گھر ہونگے جہاں کئی کئی دنوں تک چولھا نہیں جلتا ہو گا؟

    آخر ہم سوشل میڈیا کا انتظار کیوں کرتے ہیں شاید محض اس وجہ سے کہ وہ ہمارے آس پڑوس میں رہتے ہیں ہمیں ان کی غربت نظر نہیں آتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے لوگوں کو سوشل میڈیا پر پوری دنیا کو اپنے حالات بتانے پڑتے ہیں لیکن بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو غربت میں گھٹ گھٹ کر جینا پسند کرتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر نہیں آتے ہیں ایسے لوگوں تک پہنچنے کے لئے بہترین راستہ یہی تھا کہ صاحب ثروت لوگ اپنی آنکھوں سے پردہ ہٹا کر اپنے آس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی خفیہ طور پر مدد کر کے اللہ کے دربار میں خوشنودی حاصل کریں۔غریبی غریب انسان کے لئے تو امتحان ہے ہی ساتھ ہی یہ صاحب ثروت لوگوں کے لیے بھی آزمائش کی گھڑی ہوتی ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب کورونا کی وبانے غریب افراد کا جینا محال کردیا ہے۔
    تحریر:مبین خان
    سٹی خان پور ضلع رحیم یار خان.

  • ‏نعت گوئی. تحریر: عترت آبیار

    ‏نعت گوئی. تحریر: عترت آبیار

    نعت گوئی ایسی صنف ادب ہے جس میں طبع آزمائی کرتے ہوے شعرا حضرات بہت احتیاط کرتے ہیں.عربی میں ”مدح“ کا لفظ استمال ہوتا ہے جبکہ اردومیں نعت ایسے اشعار کو کہتے ہیں جو صرف آپﷺ کی شان ممدوحہ میں کہے گیۓ ہوں اس کا اطلاق نظم و نثر دونوں پر ہوتا ہے.انبیا ،اولیا، یا عام انسان ‏ہر ایک کی تعریف وستاٸش اس ضمن میں شامل ہوتی ہیں اگر کسی زندہ انسان کی خوبیاں بیان کی جاٸیں تو مدح کہلاتی ہے جبکہ مرنے کے بعد خوبیاں بیان ہوں تو مرثیہ کہلاتا ہے،مگر آپ ﷺ کی ذات گرامی اس قاعدے سے مستثنٰی ہے .آپﷺانسانِ کامل ہیں اور بشری صفات کا اعلٰی و ارفع نمونہ ہیں،قرآن مجید میں ‏خود آپ ﷺ کی سیرت و مکارم اخلاق کا آٸینہ دار ہے اسی وجہ سے نعت کے فن میں مبالغہ اور غلو کی کوٸ گنجاٸش نہیں ہے،اسی لیۓمولانا جامی فرماتے ہیں
    ہزار بار بشویم دہین بہ مشک وگلاب
    ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است

    حضرت ابو طالب نے سب سے پہلے نعت گوئی کی ابتدا کی،سیرت النبی میں ابن ہشام ‏نے ایک قصیدہ کے سات ایسے اشعار نقل کیۓ ہیں جو حضرت ابو طالب نے آپﷺکی مدح اور اپنے خاندان کی خصوصیات میں کہے .بعد میں اصحاب رسولﷺ کے ہاں بھی نعت گوئی کا سلسلہ چلتا رہا جس کی توثیق آپ ﷺ نے خود فرمائی حضرت حسان بن ثابت نے نذرانہ عقیدت پیش کر کے بارگاہ رسالتﷺسے ”شاعر رسول“ کا خطاب ‏پایاایک اور جلیل القدر صحابی حضرت کعب بن زہیر بن ابی سلمیٰ کے طویل قصیدے”قصیدہ بردہ“کے صرف ایک شعر پر ہزاروں شعری مجموعہ و بیاضیں قربان کہ اس پر آپﷺ نے اپنا پیراہین مبارک عطا فرما کر شاعر اور شعر دونوں کو حیات جاوداں عطا کی. یہ قصیدہ”قصیدہ بردہ بانت سعاد “ کے نام سے بھی جانا ‏جاتا ہے اس کو چادر والا قصیدہ بھی کہتے ہیں . قصیدہ بردہ کے نام سے امام بوصیری کا بھی ہے جنیہں آپﷺنے عالم رویا میں چادر سے نوازایہ برس ہابرس سے زبان زد خاص وعام چلا آرہا ہے،
    مولای صل وسلم داٸماً ابدًا
    علی حبیبک خیر الخلق کلھمہ

    اردو نعت کا باقاعدہ آغاز سلطان محمد قلی قطب شاہ سے ‏ہواجو سولہویں اور سترہویں صدی کے صاحب دیوان شاعر تھے جدید نعت گوئی کا آغاز مولانا الطاف حسین حالی سے ہوا
    وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
    مردیں غریبوں کی بر لانے والا
    مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
    وہ اپنے پراۓ کا غم کھانے والا

    مولانا حالی کا نعتیہ کلام کم مگر اعلیٰ معیار کا ہے.‏اردو کےتقریباً تمام شعرا نے نعت گوٸ میں حصہ ڈالنے کی سعی کی ہے اس صنف میں کبیر داس بھی شامل ہیں جن کے دوہے کا ایک مصرعہ مشہور ہے
    کہت کبیر سنو بھٸ سادھو نام محمدﷺآۓ
    علامہ اقبال کہتے ہیں
    لوح بھی تو قلم بھی تو ترا وجود الکتاب
    گنبد آبگینہ رنگ ترے محیط میں حباب ‏عالم آب و خاک میں ترے ظہور سے
    فروغ ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب
    امیر مینائی کچھ اس انداز میں لکھتے ہیں
    مدینے جاٶں پھر آٶں مدینے پھرجاٶں
    تمام عمر اسی میں تمام ہوجائے
    حفیظ تاٸب لکھتے ہیں
    میرے غم خانے کو ہے ان کی توجہ درکار
    جن کو آتا ہے تبسم سے اجالا کرنا
    فراق کہتے ہیں ‏مدینے میں اگر پیدا ہوا ہوتا تو کیا ہوتا
    محمد کی گلی بھیتر فنا ہوتا تو کیا ہوتا

    محسن کاکوری،جگر مرادآبادی،ماہرالقادری،جلیل مانک پوری ،تسنیم فاروقی،امیر مینائی،ابرار کرنپوری،ماجد دیو بندی اوربہت سے دوسرے حضرات نے اس صنف میں قابل قدر اضافہ کیاموجودہ نعتیہ شاعری عہد نبوی سے شروع ہونے ‏والی روایات کا جان دار اور شان دار تسلسل ہےاور حالی و اقبال کے وسیلے سے عصر حاضر کے شعرا تک پہنچی پھر ریڈیو ،ٹی وی،پرنٹ میڈیا،فلم،نعتیہ مشاعروں ،مجالس،میلاد اور دینی محافل کے ذریعے فروغ پا کر آج ہمارے سامنے بے بہا خزانہ بن کر ابھری ہے
    ماخذات
    تاریخ گوئی نور کی ندیاں
    ڈاکڑ عزیز احمد

  • ڈپریشن بیماری ہے.تحریر: ماشا نور

    ڈپریشن بیماری ہے.تحریر: ماشا نور

    جہاں ایک طرف باہر ممالک میں ڈپریشن کو باقاعدہ بیماری تسلیم کرکے اس کا علاج کیا جارہا وہی پاکستان میں اس بیماری پر بہت کم لوگ بات کرتے یا اس کو مانتے ہیں اکثر لوگ کہتے ہیں ڈپریشن کوئی بیماری نہیں یہ کردار کی کمزوری ہے یا پھر انسان کے کسی گناہ کا احساس جو اسکو پریشان کرتا ہے اس کے علاوہ اگر آپ کے مالی حالات اور اردگرد کا ماحول ناساز ہے تو یہ بھی ذہنی تناؤ اور دباؤ کا باعث بنتا ہے ڈپریشن کی مختلف وجوہات ہیں سب سے پہلے مالی پریشانی پاکستان میں 25 فیصد لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے گھریلوں مسائل ہوں یا شادی کا نا ہونا ایسے میں خواتین میں غصہ پایا جاتا ہے کہا جاتا ہے غصہ نارمل انسان کو آتا ہے جو کافی حد تک ٹھیک ہے مگر بات بات پر غصہ، ناراضگی، بیزاری، یہ ڈپریشن کی علامات ہیں ڈپریشن کے نتیجے میں کچھ افراد کو ذہنی بے چینی، تشویش، ناکارہ ہونے یا منفی خیالات کا سامنا ہوتا ہے
    سونے میں مشکل ڈپریشن کے شکار افراد کو اکثر تھکاوٹ اور جسمانی توانائی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے مگر ان کے لیے رات کو سونا بھی آسان نہیں ہوتا
    آدھے سر کا درد بھی ڈپریشن سے جڑا ہوا ہوسکتا ہے، ڈپریشن نہ صرف سردرد کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے مریضوں میں آدھے سر کے درد کی شکایت عام ہوتی ہیں،بہت سارے ایسے کیسز بھی ہمیں پاکستان میں دیکھنے کو ملے جہاں طلبہ نے امتحان میں ناکامی کے بعد خودکشی کی جب والدین اپنے بچوں پر پریشر ڈالتے ہیں کے تم نے نمایاں کامیابی حاصل کرنی ہے تب وہ اسٹوڈنٹ ذہنی اذیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ناکام ہونے پر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں ڈپریشن کے مریض یا تو بہت زیادہ بولتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں ایسے میں انکی مدد کرنے کا طریقہ یہی ہے جو خاموش ہیں ان سے بات کی جائے ہوسکتا ہے وہ پہلے کسی سے بات نا کرنا چائیں بہت سے کیسز میں ڈپریشن کے شکار لوگوں نے کسی کو کچھ نا بتایا بلکہ خودکشی کو ترجیح دی ایسے لوگوں کو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ان سے پوچھا جائے کے آخر پریشانی کیا ہے ڈپریشن ایک میڈیکل کنڈیشن ہے جس کی ذمہ داری مریض پر نہیں ہے اور اس کا موثر علاج موجود ہے کونسلنگ یا سائیکالوجیکل سیشن سے علاج جبکہ سائیکیٹرسٹ کچھ مخصوص ٹیسٹوں کے بعد آپ کے لیے دوائی تشخیص کرتے ہیں۔ عام طور پر ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں علاج ساتھ ساتھ چلتے ہیں اگرچہ ڈپریشن کو کم کرنے یا ختم کرنے کی ادویات اور کونسلنگ سے خودکشی کرنے کی سوچ میں کمی ہو سکتی ہے لیکن یہ ہر مریض کے لیے بہترین علاج نہیں ہے ایسے مریضوں کو ایک خاص وقت لگتا ہے اس بیماری سے باہر آنے میں جس میں گھر والے، دوست اہم کردار ادا کرسکتے ہیں
    ایک برطانوی باکسر نے اپنے انٹرویو میں بتایا کے وہ ڈپریشن کا شکار ہیں جس سے جان چھڑانے کے لیے انہونے نشہ لینا شروع کردیا وہ کہتے کے انکو محسوس ہوتا جیسے وہ خود کو کچھ وقت میں مار لینگے، بہت سے لوگ شراب، ڈرگس، کا استعمال شروع کردیتے ہیں لوگوں سے میل جول ترک کرکے وہ خود کو تنہا نشے کا عادی بنالیتے جسکا انجام ایک دن خودکشی ہوتا ہے جب کوئی نارمل انسان اچانک خاموش ہوجاے یا بہت زیادہ بات کرنے لگے غصہ کرنے لگے تو ہم اسکو دھتکار دیتے ہیں نفساتی کہہ کر اگنور کرتے جو غلط ہے ایسے مریضوں کو اکیلا نا چھوڑیں ان پر نظر رکھیں ان کی حرکات پر نظر رکھیں احساس کمتری جلن حسد یہ سب انسان کو ڈیریشن کا شکار بنا دیتا ہے
    ڈپریشن سے کیسے باہر نکلا جاے
    اگر ڈپریشن کی نوعیت زیادہ نہیں تو آپ اچھی خوراک لیں وقت پر مکمل نیند پوری کریں موبائل کا استعمال ضرورت سے بہت زیادہ نا کریں باقاعدہ واک کریں فیملی دوستوں میں وقت گزاریں اور اپنے آپ کو خوش رکھیں لیکن اگر ڈپریشن کی علامات بہت زیادہ ہے جس کے باعث آپ کے روزمرہ کے معمولات متاثر ہو رہے ہیں یا گھر والے، دوست یا آس پاسں کے افراد کہہ رہے ہیں کہ آپ میں کوئی واضح تبدیلی آرہی ہے تو اسکی صحیح تشخیص کے لیے آپ کو پروفیشنل کی مدد لینی ہوگی اور اس میں دیر نا کریں کوئی آپکا پیارا اس بیماری کا شکار ہے تو لازمی اسکی مدد کریں

  • حلیمہ سعدیہ ؓ کی گود میں. تحریر: فاطمہ بلوچ

    حلیمہ سعدیہ ؓ کی گود میں. تحریر: فاطمہ بلوچ

    اس زمانے میں عرب کا دستور یہ تھاکہ جب ان کے ہاں کوئی بچہ ہوتا تو وہ دیہات سے آنیوالی دائیوں کے حوالے کردیتے تھے تاکہ دیہات میں بچے کی نشوونمابہتر ہواوروہ خالص عربی زبان سیکھ سکے-
    دائیوں کا قافلہ مکہ میں داخل ہوا_انہوں نے ان گھروں کی تلاش شروع کی جن میں بچے پیدا ہوئے تھے-اس طرح بہت سی دائیاں جناب عبد المطلب کے گھر بھی آئیں-نبی کریمﷺکو دیکھالیکن جب انہیں معلوم ہواکہ یہ بچہ تو یتیم پیدا ہواہے تو اس خیال سے چھوڑکر آگے بڑھ گئیں کہ یتیم بچے کے گھرانے سے انہیں کیاملے گا-اس طرح دائیاں آتی رہیں، جاتی رہیں…کسی نے آپ کو دودھ پلانامنظور نہ کیااور کرتیں بھی کیسے؟ یہ سعادت تو حضرت حلیمہؓ کے حصے میں آناتھی-
    جب حلیمہ ؓ مکہ پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا، سب عورتوں کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیاہے اور اب صرف وہ بغیر بچے کے رہ گئیں ہیں اور اب کوئی بچہ باقی نہیں بچا، ہاں ایک یتیم بچہ ضرور باقی ہے جسے دوسری عورتیں چھوڑ گئیں ہیں-
    حلیمہ سعدیہؓ نے اپنے شوہر عبد اللہ ابن حارث سے کہا:
    خدا کی قسم! مجھے یہ بات بہت ناگوار گزر رہی ہے کہ میں بچے کے بغیر جاؤں دوسری سب عورتیں بچے لے کر جائیں، یہ مجھے طعنے دیں گے، اس لیے کیوں نہ ہم اسی یتیم بچے کو لے لیں۔”
    عبداللہ بن حارث بولے:
    "کوئی حرج نہیں! ہوسکتا ہے، اللہ اسی بچے کے ذریعے ہمیں خیروبرکت عطا فرمادیں۔”
    چنانچہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا عبدالمطلب کے گھر گئیں۔جناب عبدالمطلب اور حضرت آمنہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔پھر آمنہ انہیں بچے کے پاس لے آئیں۔آپ اس وقت ایک اونی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔وہ چادر سفید رنگ کی تھی۔آپ کے نیچے ایک سبز رنگ کا ریشمی کپڑا تھا۔آپ سیدھے لیٹے ہوئے تھے، آپ کے سانس کی آواز کے ساتھ مشک کی سی خوشبو نکل کر پھیل رہی تھی۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں۔آپ اس وقت سوئے ہوئے تھے، انہوں نے جگانا مناسب نہ سمجھا۔لیکن جونہی انہوں نے پیار سے اپنا ہاتھ آپ کے سینے پر رکھا، آپ مسکرادیے اور آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "میں نے دیکھا، آپ کی آنکھوں سے ایک نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا، میں نے آپ کو گود میں اٹھا کر آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیانی جگہ پر پیار کیا۔پھر میں نے آپ کی والدہ اور عبدالمطلب سے اجازت چاہی، بچے کے لیے قافلے میں آئی۔میں نے آپ کو دودھ پلانے کے لیے گود میں لٹایا تو آپ دائیں طرف سے دودھ پینے لگے، پہلے میں نے بائیں طرف سے دودھ پلانا چاہا، لیکن آپ نے اس طرف سے دودھ نہ پیا، دائیں طرف سے آپ فوراً دودھ پینے لگے۔بعد میں بھی آپ کی یہی عادت رہی، آپ صرف دائیں طرف سے دودھ پیتے رہے، بائیں طرف سے میرا بچہ دودھ پیتا رہا۔

    پھر قافلہ روانہ ہوا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "میں اپنے خچر پر سوار ہوئی۔آپ کو ساتھ لے لیا۔اب جو ہمارا خچر چلا تو اس قدر تیز چلا کہ اس نے پورے قافلے کی سواریوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔پہلے وہ مریل ہونے کی بنا پر سب سے پیچھے رہتا تھا۔میری خواتین ساتھی حیرانگی سے مخاطب ہوئیں:
    "اے حلیمہ! یہ آج کیا ہورہا ہے، تمہارا خچر اس قدر تیز کیسے چل رہا ہے، کیا یہ وہی خچر ہے، جس پر تم آئیں تھیں اور جس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل تھا؟ ”
    جواب میں میں ان سے کہا:
    "بےشک! یہ وہی خچر ہے، اللہ کی قسم! اس کا معاملہ عجیب ہے۔”

    پھر یہ لوگ بنو سعد کی بستی پہنچ گئے، ان دنوں یہ علاقہ خشک اور قحط زدہ تھا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "اس شام جب ہماری بکریاں چر کر واپس آئیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے تھے جب کہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا، ان میں سے دودھ بہت کم اور بہت مشکل سے نکلتا تھا۔ہم نے اس دن اپنی بکریوں کا دودھ دوہا تو ہمارے سارے برتن بھرگئے اور ہم نے جان لیا کہ یہ ساری برکت اس بچے کی وجہ سے ہے۔آس پاس کی عورتوں میں بھی یہ بات پھیل گئی، ان کی بکریوں بدستور بہت کم دودھ دے رہی تھیں۔
    غرض ہمارے گھر میں ہر طرف، ہر چیز میں برکت نظر آنے لگی۔دوسرے لوگ تعجب میں رہے۔اس طرح دو ماہ گزر گئے۔دو ماہ ہی میں آپ چلنے پھرنے لگے۔آپ آٹھ ماہ کے ہوئے تو باتیں کرنے لگے اور آپ کی باتیں سمجھ میں آتیں تھیں۔نو ماہ کی عمر میں تو آپ بہت صاف گفتگو کرنے لگے۔

    اس دوران آپ کی بہت سی برکات دیکھنے میں آئیں۔حلیمہ سعدیہ فرماتی ہیں:
    "جب میں آپ کو اپنے گھر لے آئی تو بنو سعد کا کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا۔جس سے مشک کی خوشبو نہ آتی ہو، اس طرح سب لوگ آپ سے محبت کرنے لگے ۔جب ہم نے آپ کا دودھ چھڑایا تو آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے:
    اللہ اکبرکبیراوالحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا
    یعنی اللہ تعالٰی بہت بڑاہے، اللہ تعالی کے لئے بے حد تعريف ہے، اور اس کےلئے صبح وشام پاکی ہے،، ۔
    پھر جب آپ ﷺدو سال کے ہو گئے تو ہم آپ کو لےکر آپ کی والدہ کے پاس آئے، اس عمر کو پہنچنے کے بعد بچوں کو ماں باپ کے حوالہ کردیا جاتاتھا ۔ادھر ہم آپکی برکات. دیکھ چکےتھے اور ہماری آرزو تھی کہ ابھی آپ کچھ اور مدت ہمارے پاس رہیں، چنانچہ ہم نے اس بارے میں آپ کی والدہ سے بات کی، ان سے یوں کہا ;
    ،، آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم بچےکو ایک سال اوراپنے پاس رکھیں، میں ڈرتی ہوں، کہیں اس پر مکہ کی بيماريوں اور آب و ہوا کااثر نہ ہوجائے،، ۔
    جب ہم نے ان سے باربار کہا تو حضرت آمنہ مان گئیں اورہم آپ کو پھر اپنے گھر لے آئے۔جب آپ کچھ بڑے ہو گئے تو باہر نکل کر بچو ں کو دیکھتے تھے ۔وہ آپ کو کھیلتے نظر آتے، آپ ان کے نزدیک نہ جاتے، ایک روز آپ نے مجھ سے پو چھا;
    ،، امی جان ” کیا بات ہے دن میں میرے بھائ بہن نظر نہیں آتے? آپ اپنے دودھ شریک بھائ عبداللہ اور بہنوں انیسہ اور شیما کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں; میں نے آپ کو بتایا، وہ صبح سویرے بکریاں چرانے جاتےہیں، شام کے بعد گھر آتے ہیں: یہ جان کر آپ نے فرمایا:
    "تب مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا کریں”
    اسکے بعد آپ اپنے بھائ بہنوں کے ساتھ جانے لگے ۔آپ خوش خوش جاتے اور واپس آتے، ایسے میں ایک دن میرے بچے خوف زدہ انداز میں دوڑتے ہوئے آئے اور گھبرا کر بولے:
    "امی جان! جلدی چلئے… ورنہ بھائ محمدﷺ ختم ہو جائیں گے۔”
    یہ سن کر ہمارے تو ہوش اڑ گئے، دوڑ کر وہاں پہنچے، ہم نے آپ کو دیکھا، آپ کھڑے ہوئے تھے، رنگ اڑا ہوا تھا، چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی – اور یہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ کو سینہ چاک کئے جانے سے کوئی تکلیف ہوئی تھی بلکہ ان فرشتوں کو دیکھ کر آپ کی حالت ہوئی تھی -”
    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، ہم نے آپ سے پوچھا:
    "کیا ہوا تھا؟”
    آپ نے بتایا:
    "میرے پاس دو آدمی آئے تھے – وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے – (وہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تھے) ان دونوں میں سے ایک نے کہا:
    ” کیا یہ وہی ہیں؟”
    دوسرے نے جواب دیا:
    "ہاں یہ وہی ہیں -”
    پھر وہ دونوں میرے قریب آئے، مجھے پکڑا اور لٹادیا – اس کے بعد انہوں نے میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے کوئی چیز تلاش کرنے لگے – آخر انہیں وہ چیز مل گئی اور انہوں نے اسے باہر نکال کر پھینک دیا، میں نہیں جانتا، وہ کیا چیز تھی -”
    اس چیز کے بارے میں دوسری روایات میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ایک دانہ سا تھا – یہ انسان کے جسم میں شیطان کا گھر ہوتا ہے اور شیطان انسان کے بدن میں یہیں سے اثرات ڈالتا ہے –
    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، پھر ہم آپ کو گھر لے آئے – اس وقت وہ میرے شوہر عبد اللہ بن حارث نے مجھے سے کہا:
    "حلیمہ! مجھے ڈر ہے، کہیں اس بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، اس لیے اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو

  • پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ کیسے ٹھنڈی ہو گی؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ کیسے ٹھنڈی ہو گی؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے جس کے حصول کا مقصد دین اسلام کا نفاذ تھا، لیکن آج تک سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم اس مقصد کی تکمیل حاصل نہیں کر سکے جس کے لئے ملک حاصل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان میں فرقہ واریت نے اپنے مقصد تک پہنچنے ہی نہیں دیا،پاکستان میں بظاہر تو مسلمان ،لیکن گروہوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں جس کا فائدہ ہمارا دشمن مسلسل اٹھا رہا ہے،کون اکثریت میں ہے کس کی تعداد زیادہ ہے؟ دیکھا جائے تو پاکستان میں اکثریت سنیوں کی ہے اسکے باوجود فرقہ واریت کی لپیٹ میں ہے اسکی بنیادی وجہ جو مجھے دیکھنے کو ملی وہ ہے ایران میں خمینی انقلاب وہاں جب خمینی نے تحریک چلائی اسکے منفی اثرات پاکستان میں پھیلے ،اس تحریک سے پہلے دیکھیں تو پاکستان میں کسی بھی طرح کا فساد فرقہ وارانہ دہشت گردی دیکھنے کو نہیں ملی۔۔۔

    پاکستان میں اہل سنت کے مقدس شخصیات بلکے اسلام کی مقدس شخصیات حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی شان میں گستاخانہ اشعر اور جو تبرا کیا گیا اسکے بعد امت مسلمہ میں جو غم و غصہ پایا گیا اسکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایران سے نفرت انگیز لٹریچر پاکستان لایا جاتا رہا اور عوام کو آپس میں فرقہ واریت کے نام پر لڑوانے کی بھرپور کوشش کی گئی،جب یہ سب ہوا تو پھر پاکستان میں مذہبی جماعتیں وجود میں آئی جن کا مقصد دفاع صحابہؓ اور حضرات صحابہؓ کی ناموس کا دفاع کرنا تھا ،اور ایسے یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا ۔۔۔

    حضرات صحابہ کرامؓ پوری امت مسلمہ کی مقدس شخصیات ہیں جن کے ذریعے ہم تک اسلام پہنچا یہ وہ شخصیات ہیں جن کی تربیت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ،حضرات صحابہؓ کے بارے میں اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں ،”رضی اللہ تعالی عنہ و رضو عنہ”
    جب امت مسلمہ کی عظیم شخصیات کی شان اقدس میں گستاخی کی جائے گئی تو مسلمان کب خاموش رہ سکتے ہیں۔۔

    اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام دشمن عناصر نے پاکستان کو فرقہ واریت میں دھکیل دیا آج ہم سنی،شیعہ دیوبندی،بریلوی اہل دیث،وہابی تو ہیں لیکن کیا ہم مسلمان بھی ہیں؟؟
    یہ سوال ہمیں اپنے دل سے کرنا ہے
    چاہے ہم سنی ہوں یا شیعہ سب سے پہلے انسان ہیں اور اگر ہم اپنے آپ کو کلمہ گو مسلمان سمجھتے ہیں  تو اسلام کی مقدس شخصیات پر تبرا کرنا چھوڑنا ہوگا تبھی جاکر یہ فرقہ واریت کی آگ ٹھنڈی ہوگی۔

  • امریکہ کا پلان بی. تحریر:رانا عزیر

    امریکہ کا پلان بی. تحریر:رانا عزیر

    افغانستان کے حالات فائنل راؤنڈ میں داخل ہوچکے ہیں، اور یہ ایک فیصلہ کن جنگ ہے جس کا اثر اب کابل سے بھارت اور امریکہ تک بھی جائے گا۔ اصل تو اس خانہ جنگی کا مقصد پاکستان کے امن کو تباہ کر کے ہمارےملک پاکستان کو ترقی سے روکنا۔ اب امریکہ نے باقاعدہ اعلان کردیا ہے ان کے ٹاپ کے جرنیل کا یہ کہنا ہے کہ حالات بے قابو ہوچکے ہیں، افغان مجاہدین 100 سے زائد اضلاع کے ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کرچکے ہیں،اور وہ کابل سے 60 میل دور ہیں، جنرل آسٹن ملر کا یہ کہنا تھا، اب وہاں خانہ جنگی ہونے جارہی ہے
    خانہ جنگی امریکہ نے اسی صورت میں کرنی تھی کہ افغان طالبان کابل پر چڑھائی کریں اور ہم حملہ آور ہوجائیں. جیسے پہلے لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے اور پاکستان کے ہر گلی کوچے میں دہشتگردی پھیل گئی تھی، دشمن کے سلیپر سیل ایکٹو ہوگئے تھے تو اب بھی امریکہ اس جنگ میں پاکستان کو اکیلا کرنا چاہتا ہے، عمران خان نے کہا تھا اگر خانہ جنگی ہوئی پاکستان اپنا بارڈر سیل کردے گا اور یہ امریکہ کا پلان چوپٹ ہوگیا۔ امریکہ نے پھر پاکستان میں آزادی کی تحریک چکو جنم دینے کیلے بلوچ کارڈ استعمال کیا اور بلوچستان کو آزاد کرو کی تحریک شروع کرنے کاپلاں کیا، ہمارے گمنام ہیروز نے امریکی خواب چکنا چور کردی۔

    اب امریکہ کا پلان خطرناک ہے۔ وہ پوری دنیا کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنے جارہا ہے اور عمران خان کو اب مزید سکینڈلز کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے. اب امریکہ اس کارڈ کو کھیلنے جارہا ہے کہ پاکستان پر یہ الزام لگائے گا کہ میں نے پاکستان کے وزیراعظم سے دہشتگردوں کے خلاف افغانستان کے لیے فوجی اڈے مانگے تھے تو پاکستان نے دہشتگردوں کو پناہ دی اور ہمیں فوجی اڈے نہیں دیے اور پاکستان نے ان دہشتگردوں کو ہمارے خلاف افغانستان میں استعمال کیا، ایسی رپورٹ امریکہ اقوام متحدہ کے ذریعے شائع بھی کرواچکا ہے حال ہی میں۔

    تو اب امریکہ پاکستان کو بدنام کرکے اور پھر بغیر بتائے اوباما آپریشن یعنی کہ جیسے اسامہ بن لادن کے خلاف ایک جعلی آپریشن کیا اور پاکستان پر داغ لگایا اب وہی صورت حال امریکہ پیدا کرنے جارہا ہے، وہ پاکستان میں بغیر بتائے گھسے گا، ہماری خفیہ ایجنسی اس تاک میں بیٹھی ہوئی ہیں کہ اب ہم انھیں بھرپور جواب دیں گے اور پلٹ کر جواب دیں گے۔

    بھارت بھی اپنے شہریوں کو کہہ چکا ہے، افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہونے جارہی ہے اب اپنی حفاظت کریں اور بھارت یہ الزام بھی لگا رہا ہے کہ دہشتگردی گروپ ان کو اغواء اور نشانہ بنا رہے ہیں، صرف یہ دکھانے کیلئے کہ پاکستان ان دہشتگردوں کی معاونت کررہا ہے، اور اس وقت بھارت میں بالکل پلوامہ والے حالات ہیں، مودھی اب ایک اور الیکشن جیتنے کیلئے اپنے ہی فوجیوں اور لوگوں کو مروائے گا اور الزام پاکستان پر لگائے گا۔ اس سارے پلان کے ساتھ اب دشمن میداں میں اتر رہا ہے۔ عمران خان واضح کر کے ہیں ہم جواب دینے کیلئے تیار ہیں اور دوسری جانب چین اور روس پاکستان کے لیے ہر طرح کھڑے ہونے کیلے تیار ہیں اور وہ پاکستان کی اس جنگ میں بھرپور مدد کریں گے جس کی تشویش امریکہ کو بھی ہے۔