Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    شمشال جھیل ، گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل، اس خوبصورت جھیل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں دل جیسی منفرد شکل والی جھیلیں بہت کم تعداد میں ہیں لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ ان میں سب سے خوبصورت قرار دی جانے والی جھیل ’’شمشال‘‘ پاکستان میں واقع ہے۔

    گلگت بلتستان کی وسیع و عریض شمشال وادی میں پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ خوبصورت جھیل سیاحوں کےلیے ایک خوبصورت تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔

    وکی پیڈیا کے مطابق، وادی شمشال تک پہنچنے کا راستہ بہت مشکل ہوا کرتا تھا لیکن یہاں کے رہنے والوں نے کئی سال محنت کرکے ایک سڑک تعمیر کرلی جس کے بعد یہاں پہنچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

    وادی شمشال ایک انتہائی وسیع و عریض علاقہ ہے جس کی سرحدیں چین اور بلتستان سے ملتی ہیں۔ وادی شمشال میں پامیر کا علاقہ بھی شامل ہے۔ وادی شمشال ایک دشوار گزار وادی میں واقع ہے اس کی وجہ سے باقی دنیاسے سے کٹاہواتھا۔ تاہم، تقریباً دس سال پہلے اس خوبصورت وادی اور جفاکش کوہ پیماؤں کی سرزمین تک آخر کار سڑک بن گئی۔ سڑک کی تعمیر میں یہاں کے مقامی ہنرمندوں اور جفاکشوں نے انتہائی اہم قربانیاں دیں۔

    شمشال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے لیکن دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی اور انفرادیت اجاگر کرنے کےلیے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک غیر ملکی سیاحوں اور فوٹوگرافروں نے ہی اس منفرد جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے سے قید کیا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

    واضح رہے کہ شمشال کی ایک انتہائی اہم وجہ شہرت یہاں پر جنم لینے والی کم عمر کوہ پیما ثمینہ بیگ ہے، جس نے دنیا کی بلند ترین چوٹی سرکرکے یہ کارنامہ سر انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے علاوہ، وادی شمشال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما رجب شاہ اور مہربان شاہ نے پاکستان کی بلند ترین چوٹی پر چڑھنے کا اعزاز حاصل کیاہے۔ کوہ پیمائی سے منسلک نامور اور تجربہ کار افراد کی ایک بہت بڑی تعداد شمشال سے تعلق رکھتی ہے۔

  • شعیب اختر پاکستان موٹر وے پولیس کے سفیر مقرر

    شعیب اختر پاکستان موٹر وے پولیس کے سفیر مقرر

    سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کو پاکستان موٹروے پولیس کا سفیر مقرر کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہورسابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کو پاکستان موٹروے پولیس کا سفیر مقرر کر دیا گیا شعیب اختر نے سماجی رابطے کی وہب سائٹ ٹوئٹر پر یہ خوزخبری مداحوں کو سنائی-

    اپنے ٹوئٹ میں سابق فاسٹ باؤلر کا کہنا ہے کہ موٹروے پولیس کا بطور سفیر مقرر ہونے پر فخر ہے-

    شعیب اختر نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی آگاہی سے متعلق اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا-

    انہوں نے کہا کہ تمام شہریوں کو ٹریفک قوانین پر عمل کر کے مثال بننا چاہیے-

    شعیب اختر کی اس پوسٹ پر مداحوں کی جانب سے خوشی اور نیک تمناؤںکا اظہار کیا جا رہا ہے اور مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے-

  • افغانستان میں ترکی کا کھیل بے نقاب۔ ایسے نہیں چلے گا، تحریر:راؤ اویس مہتاب

    افغانستان میں ترکی کا کھیل بے نقاب۔ ایسے نہیں چلے گا، تحریر:راؤ اویس مہتاب

    ترکی کابل ائیر پورٹ کا کنٹرول حاصل کر کے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں سے کیا مراعات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ترکی کیوں سمجھتا ہے کہ وہ طالبان کی مخالفت کے باوجود ایسا کر لے گا۔ اس کے پاس امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان میں کس قسم کی طاقت بچ جائے گی اور طالبان اس وقت افغانستان میں کیا اور کس طرح پیش رفت کر رہے ہیں۔ اور امریکہ اس وقت افغانستان میں کس حد تک بے بس ہو چکا ہے۔
    افغانستان میں بدلتے ھالات نے اس وقت امریکہ سے لے کر چین تک اور بھارت سے لے کر روس تک سب کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔
    امریکہ معاہدے کے باوجود پریشان ہے کہ اگر طالبان نے ان کے جانے کے فورا بعد کابل پر قبضہ کر لیا تو دنیا بھر میں ان کی بڑی سبکی ہو گی۔ جب روس نے افغانستان پر قبضہ ختم کیا تو انہوں نے کابل کی لوکل حکومت کو تین سال تک اقتدار قائم رکھنے کے لیئے سپورٹ کیا کیونکہ یہ روس کی عزت کا معاملہ تھا کہ اس کی حمایت یافتہ حکومت کچھ عرصہ بھی نہ چل سکی۔ لیکن جیسے ہی روس نے اس حکومت کی سپورٹ کم کی اس کا تختہ پلٹ دیا گیا۔لیکن آج امریکہ کے لیئے اس سے بھی زیادہ سنگین صورتحال ہے۔ امریکہ کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر کابل پر طالبان نے فوری قبضہ کر لیا تو شائد یورپ اور امریکہ کو اپنے سفارت خانے چلانا بھی مشکل ہو جائے اور اس کے ہاتھ سے سب کچھ نکل جائے۔

    امریکہ اپنے سفارت خانے کی حفاظت کے لیئے چھ سو فوجی چھوڑ رہا ہے جس کو ایک جنرل لیڈ کرے گا جو امریکی سفیر کے ماتحت ہو گا۔لیکن اگر کابل ائیر پورٹ پر قبضہ ہو جاتا ہے تو امریکی نہ افغانستان سے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی آ سکتے ہیں ایسی صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیئے صورٹھال بہت خراب ہو جائے گی۔ ترکی پر امریکہ کی پابندیوں کا بہت پریشر ہے اور ترکی اپنے تعلقات امریکہ سے ٹھیک کرنا چاہتا ہے۔ اس لیئے ترکی کی طرف سے ایک پروپوزل آیا ہے کہ اس کی افواج کابل ائیر پورٹ کو کنٹرول سنبھالیں گی تاکہ افغانستان کی Air space میں امریکہ کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ترکی دوہزر تین سے افغانستان میں موجود ہے لیکن اس نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا بلکہ اس کے بدلے وہاں Administration Education Health اور پولیس ٹریننگ میں کام کیا اسی لیئے طالبان نے بھی ترکی کی افواج پر حملہ نہیں کیا۔

    لیکن اب صورتحال اس لیئے گھمبیر ہو گئی ہے کہ طالبان کی مرضی کے بغیر ترکی کابل ائیر پورٹ کا کنٹرول سنبھالنا چاہتا ہے۔ تاکہ افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ، یورپ اور امریکہ کو مدد فراہم کرے ان سے دیگر مراعات حاصل کی جا سکیں۔
    ایک تو امریکہ نے ترکی کے خلاف ہیومن رائٹ کے معاملے میں میدان گرم کیا ہو اہے۔دوسرا روس سے لیئے گئے S400 پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ تیسرا Mediterranean sea میں Greace سے تنازعات کی صورت میں یورپ سے تعلقات خراب ہیں۔ ان سب معاملات کو حل کرنے کے لیئے ترکی یورپ اور امریکہ کی افغانستان میں مدد کرنا چاہتا ہے۔اگر یورپ اور امریکہ کے افغانستان میں Diplomatic presence ترکی کی محتاج ہو جائے تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ ترکی کو کیا فائدہ ہو گا۔ جبکہ افغانستان میں نیٹو کے زیر اثر گزشتہ بیس سال مین افیم کی گاشت میں بیس گنا اضافہ ہو چکا ہے اور دنیا میں افیم کی تجارت کا 80% افغانستان سے جا رہا ہے۔ امریکہ کے اس منڈی میں مفادات کا تحفظ افغانستان کی Air space پر کنٹرول حاصل کیئے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترکی یہ سب کیسے کرے گا۔ ترکی نے گزشتہ کئی سالوں میں اٖفغانستان میں مسجدیں تعمیر کی ہیں اور وہاں سکول بنائے ہیں اور وہاں ترکی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے۔ ترکی نے افغانستان میں اپنا Soft image بنانے میں کافی انویسٹ منٹ کی ہے۔ ساتھ میں ترکی کا قطر میں فوجی اڈا ہے اور قطر کو سعودی عرب کے خلاف ترکی نے کافی مدد فراہم کی ہے۔ قطر میں طالبان کا آفس ہی نہیں بلکہ قطر نے ایک Pro Qatar Taliban group بھی تشکیل دیا ہے، جس کی سربراہی Gen rasheed dostum کر رہا ہے اور یہ Uzbak origion کے افغان طالبان ہیں۔ ترکی قطر کے اثرو رسوخ کو بھی اس مقصد کے لیئے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جبکہ طالبان کو خدشہ ہے کہ اگر ائیر پورٹ ترکی کے کنٹرول میں ہو گا تو بغیر کسی زمینی سفر کے امریکہ اور اس کے اتحادی۔۔ فوج اور دیگر ایکسپرٹ کی صورت میں Infiltrate کر سکتے ہیں۔

    اس وقت افغانستان کے حوالے سے جھوٹ اور افواوں کا بازار بھی گرم ہیں اور کئی مفاد پرست ٹولے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پراپیگنڈا کر رہے ہیں اور اس میں سب سے برا ٹارگٹ سچ اور حقیقت ہے جس کو برے طریقے سے مسخ کیا جا رہا ہے۔ وہ لوگ جو افغان میں امریکی قبضہ کے بڑے Banificiary ہیں کبھی عورت کی آزادی پر شور مچا رہے ہیں تو کبھی اقلیتوں کے حقوق کا تو کبھی امریکی سلامتی کا۔۔ لیکن پس پردہ ان کے اپنے مفادات ہیں۔ لیکن افغانستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف وہاں کے زمینی حقائق دیکھ کر وہاں کے لوگ ہی حل کر سکتے ہیں۔ پہلے پاکستان پر پریشر ڈالا گیا کہ وہ طالبان کو امریکی شرائط پر امن معاہدہ کرنے پر راضی کر یں تو پھر اشرف غنی جیدے دیگر مفاد پرست ٹولے نے پاکستان کے خلاف ہی ہرزہ سرائی کرنا شروع کر دی۔ اشرف غنی نے یہاں تک کہہ دیا کہ امریکہ کے جانے کے بعد امریکہ کا کردار بہت محدود ہو جائے گا لیکن افغانستان مین امن اور جنگ پاکستان کے ہاتھ میں ہو گا۔ آپ افغانستان کی تاریخ پر نظر ڈال کر دیکھ لیں یہاں کبھی بھی ائینی طور پر ایک سینٹرل حکومت صرف آئین کی بنیاد پر نہیں قائم ہو سکتی اس سے پہلے اگر سو سال سے زیادہ Ahmadzai/Muhammadzai monarchy نے حکومت قائم کی تو وہ بھی confederation of tribesتھی جس میں پشتونوں نے انہیں طاقت فراہم کی۔ طالبان ایک بہت بڑی فورس ہے اور اس کے بغیر نہ تو افغانستان میں مفاہمت ہو سکتی ہے اور نہ ہی امن۔۔

    افغانستان میں عورتوں کے حقوق پر بہت شور مچایا جاتا ہے۔۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ افغان سوسائٹی میں ایک عورت کو بحثیت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی نہ صرف عزت دی جاتی ہے بلکے ان کی حفاظت بھی کی جاتی ہے اور ہر کوئی اپنا ایک مخصوص مقام رکھتا ہے۔
    امریکہ بظاہر اپنی فوجین افغانستان سے نکال رہا ہے لیکن Academi جس کا پرانا نام بلیک واٹر ہو ۔۔ افغانستان میں مسلحہ افراد کی بھرتی کر رہا ہے۔ امریکہ، فرانس اور جرمنی احمد شاہ مسعود کے بیٹے کی ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں تاکہ اس کے نیٹ ورک سے
    intelligence-gathering کا کام لیا جائے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ کابل ہی حفاظت اشرف غنی کے اقتدار کو بچانے کے لیئے کرنا چاہتا ہے اور اشرف غنی جو پاکستان کا دشمن ہے اسے بچانے کے لیئے امریکہ کو اڈے دینا کون سی عقل مندی ہو گی۔ اس وقت طالبان کو چیلن کرنے والون میں امریکہ کے حمایت یافتہ کچھ طاقتور قبائل، ISIS, RAW, NDS ہیں جن کا حشر بھی وہی ہو گا جو نیٹو افواج کا ہوا اور افغانستان میں اس وقت اگر کوئی امن قائم کر سکتا ہے یا متحد کر سکتا ہے تو وہ صرف طالبان ہیں۔ اور ایسے وقت میں طالبان کو دھوکہ دینے کا مطلب ہے کہ پاکستان میں دوبارہ سے تحریک طالبان جیسے گروپوں کی پرورش جس کا صرف اور صرف فائدہ بھارت کو ہی ہو گا۔. جبکہ طالبان نے کہا ہے کہ جب آقا ہار گئے تو غلام کیا جنگ لڑیں گے۔ یعنی امریکہ کو ہرا دیا تو اس کی حمایت یافتہ افغان فورسس کیا لڑیں کی ۔ آئے روز خبریں آ رہی ہیں کہ افغان فورسسز پوری پوری فوجی چھاونیاں بمہ اسلحہ چھوڑ کے بھاگ رہے ہیں ہیں اور یہ سب چیزیں طالبان کے کنٹرول میں آرہی ہیں۔غیر ملکی افواج کے انخلاء اور امریکی فضائی تعاون سے جلد ہی محروم ہو جانے کے نتیجے میں افغان حکومتی فورسز کی ناکامی کا خدشہ بڑھ گیا ہے جبکہ طالبان کمانڈر ملک پر جلد ہی مکمل کنٹرول کر لینے اور اپنے نظریے کے مطابق اسلامی ریاست دوبارہ قائم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔

    امریکی افواج کے مئی میں حتمی انخلا کے آغاز کے بعد سے اب تک انہوں نے تقریباً تیس اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔ غزنی صوبے کے ایک طالبان کمانڈر ملّا مصباح کا کہنا ہے کہ مغرور امریکیوں کا خیال تھا کہ وہ دھرتی سے طالبان کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ لیکن طالبان نے امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو شکست دے دی جب امریکی یہاں سے چلے جائیں گے تو وہ (حکومتی فورسز) پانچ دن بھی ٹک نہیں پائیں گی۔ جب آقاوں کو شکست ہو چکی ہے تو غلام اسلامی امارت کے خلاف جنگ نہیں کر سکتے۔ طالبان نے حالیہ ہفتوں کے دور ان غزنی کے دو اہم اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ اہم صوبہ طالبان کے سابقہ مضبوط گڑھ قندھار کو ایک شاہراہ کے ذریعہ دارالحکومت کابل سے ملاتا ہے طالبان کی فوجی کامیابیوں نے ان خدشات کو تقویت فراہم کی ہے کہ امریکی اور ان کے دیگر اتحادیوں کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد وہ ملک کے تمام شہروں پر بھر پور حملے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ افغانستان کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے تھامس نکلسن نے افغانستان میں کشیدگی میں اضافے سے متنبہ کرتے ہوئے دوحہ مذاکرات میں جلد از جلد پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ آنے والے چند ہفتوں اور مہینوں میں ہم بد قسمتی سے کشیدگی میں اضافہ دیکھ سکتے ہیں اس سے نہ صرف میدان میں بلکہ مذاکرات میں بھی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو گا۔

  • منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان

    منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان

    منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان
    پاکستان کی سیاسی تاریخ کا خلاصہ یہ ہے کہ سیاست اور جمہوریت وہ ”منّی“ ہے ۔ جو بار بار بدنام ہوتی ہے۔ پھر چاہے الیکشن ہوں ۔ اس کے بعد رزلٹ ہوں ۔ بجٹ ہو ۔ یا پھر کسی بل کو پاس کرنے کا موقع ۔ ہمیشہ اسمبلی سیشن شروع ہوتے ایک نئی طرح کی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ مزے کی بات ہے کہ اسمبلی چاہے صوبائی ہو یا وفاقی ۔ گالم گلوچ ، مارکٹائی trade mark بن گیا ہے ۔ یعنی ممبران اسمبلی کا زبان اور کردار ایک ہی رہتا ہے ۔ اب تو اتنی بار ایوان مچھلی منڈی بن گیا کہ مچھلی منڈی والوں کو شرم آنا شروع ہوگئی ہے ۔ مگر ہمارے ممبران اسمبلی کا رویہ نہیں بدلا ۔

    ۔ میرے نزدیک مسلسل ان واقعات سے جمہوریت، پارلیمان، پارلیمانی نظام اور سیاست دان مکمل طور پر ڈس کریڈٹ ہو چکے ہیں ۔ کیونکہ حالیہ دنوں میں قومی اور بلوچستان اسمبلی میں جو کچھ ہوا ہے اُس پر پاکستانی جمہوریت برسوں شرمسار رہے گی۔ ۔ ساتھ ہی جو کچھ ہوا، اُس کا سہرا کسی ایک جماعت کے سر نہیں باندھا جا سکتا۔ سرکاری اور اپوزیشن بنچ برابر کے شریک سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں تو جو ہوا سو ہوا مگر بلوچستان اسمبلی میں تو یوں لگا جیسے کسی ایکشن فلم کی شوٹنگ چل رہی ہو ۔ وہاں اپوزیشن کا اعلان تھا کہ سرکاری ارکان کو ایوان میں جانے دیں گے نہ بجٹ پیش کرنے دیں گے اس لیے دروازوں کو تالے لگا دیئے ۔ وزیراعلیٰ جام کمال کا راستہ بھی روکا گیا،لیکن پولیس نے بکتر بند گاڑی کے استعمال سے دروازہ توڑ کر راستہ نکالا۔ جوتے بھی چلے ۔ ممبر اسمبلی زخمی بھی ہوئے ۔ یہ اپنی طرز کا انوکھا احتجاج تھا۔اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہماری پارلیمانی روایات کتنے خطرے میں ہیں۔ مگر اپوزیشن کی منہ زوری یقینا یک طرفہ نہیں ہے، حکومت کی منہ زوری اس کا سبب بنتی ہے۔ اگر مخالفوں کو دیوار سے لگانے کا رویہ اپنایا جائے گا، تو پھر ہنگامے ہوں گے،آگ بھڑکے گی اور اس آگ میں بہت کچھ بھسم بھی ہو گا۔

    ۔ پہلے بھی کئی بارعرض کر چکا ہوں کہ قوم اب ان مہنگی ترین اسمبلیوں اور عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے عوامی نمائندوں کا بوجھ اُٹھاتے اٹھاتے ہلکان ہوچکے ہیں۔ اب تو بے زار بھی دیکھائی دیتے ہیں۔ اب یہ عالم ہے کہ عوام اس طرزِ حکمرانی کے برے اثراتِ سہتے سہتے حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ لگتا ہے نہ حالات بدلیں گے نہ عوام کی حالتِ زار بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ یہ رونا تو اب عوام کا مقدر بن گیا ہے ۔ کیونکہ ہر نیا دور اور آنے والا حکمران کچھ کرے نہ کرے عوام کی ذلت اور دھوکوں میں ضرور اضافہ کر جاتا ہے۔ جس معاشرے میں عوام زندہ درگور اور اچھی خبر کو ہی ترس جائیں وہاں کیسی گورننس اور کہاں کا میرٹ؟

    ۔ پی ٹی آئی پر بھی تعجب ہے آدھی مدت گزارنے کے باوجود بھی طرزِ حکمرانی کے لیے کبھی ریاست مدینہ کا ماڈل پیش کیا جاتا ہے
    تو کبھی چین کا ، کبھی ملائیشیا کا ، تو کبھی یورپ کا جبکہ عوام کہتے ہیں کہ ہمیں نہ کوئی بیرونی ماڈل چاہیے اور نہ ہی کوئی نیا پاکستان ہمیں تو بس پرانا پاکستان لوٹا دیں۔ ہم پرانی ذلتوں اور مشکلات پر ہی گزارہ کر لیں گے۔ ہمیں نئے پاکستان کی وہ ذلتِ نہیں چاہیے جس کا کوئی اختتام ہی نہ ہو۔ ساتھ ہی اپوزیشن کو این آر او ملے گا یا نہیں ملے گا اس کا فیصلہ خدا جانے کس نے کرنا ہے؟ مگر جس نے کرنا ہے وقت آنے پر یہ پتہ چل جائے گا۔

    ۔ مگر اس تمام شور شرابے میں عوام کے لیے آٹا ، چینی ، گھی ، دالیں اور پیڑول مہنگا ہوچکا ہے ۔ اصل واردات یہ ہے جو عوام کے ساتھ یہ حکومت ڈال چکی ہے ۔ پتہ نہیں اب وہ فلاسفر کہاں ہیں جو اس بجٹ کے عوامی ہونے اور ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے دار تھے ۔ اب ان کو گزشتہ ایک ہفتے میں آٹا کی قیمت 27 روپے بڑھی ہوئی دیکھائی نہیں دیتی۔ اور تو اور پرندوں کو جو ۔۔۔ باجرہ ۔۔۔ بطور دانہ ڈالا جاتا ہے۔ رمضان سے پہلے یہ 65روپے کلو تھا آج 95 روپے ہے۔ مجھے نہیں معلوم اس برس قربانی کے جانوروں کی قیمت کیا ہو گی۔ مجھے بتائیے ان حالات میں کیسے یقین کیا جائے کہ ملک کی معیشت سنبھل گئی ہے۔ اور یہ دو تین چیزوں کی مثال میں نے ایسے ہی سمجھنے کے لئے دے دی ہے ۔ وگرنہ زندگی کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہیں ہے بلکہ اس نے بڑے بڑے عزت داروں کی چینخیں نکوادی ہیں۔

    ۔ حالت یہ ہوچکی ہے کہ لوگ بچے سکول سے اٹھا رہے ہیں ۔ چند دن پہلے جو تفصیل آئی اس کے مطابق گندم ، چینی ، دودھ ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے ۔ آپ ذرا بازار جا ئیے ہر ضرورت کی چیز کو آگ لگی ہوئی ہے۔ ضرورت کی کوئی چیز ایسی نہیں جو مہنگی نہ ہوئی ہو۔ دراصل معیشت تباہ نہیں ہو رہی ۔ ملک تباہ ہو رہا ہے۔ مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔ مہنگائی صرف غربت کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی ایک پوری نسل کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیسی قوم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ کیا پناہ گاہوں میں پلنے والے ملک چلا سکیں گے یا ملک چلانا صرف ایک طبقے کا کام رہے گا۔ آج بھی کسی سے پوچھ لیجیے۔ کسی کو حکومت کی کسی بات کا یقین نہیں۔ نہ آنے والے انتخابات سے غرض ہے ۔ صرف پوری قوم عمران خان سے یہ فریاد کرتی دیکھائی دیتی ہے کہ آپ اپوزیشن کو این آر او دیں نہ دیں لیکن ہمیں ضرور این آر او دے دیں۔ ہماری زندگیاں آسان کر دیں۔

    ۔ انتہائی معذرت کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنوں کو اپنے سیاسی بیانیے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ یہ بیانیہ پاکستان کے جمہوری اور سیاسی عمل کو نئے خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے ابتدا سے ہی سیاست دانوں کو کرپٹ ، چور اور ڈاکو قرار دینے والا بیانیہ اختیار کیا۔ جس کا فائدہ کم الٹا نقصان زیادہ ہوا ہے ۔ کیونکہ اب تک نہ تو نیب نہ ہی حکومت کسی چور ، ڈاکو یا کرپٹ کو سزا دلوا سکی ہے یا کم ازکم ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس حاصل کر پائی ہے ۔ تحریک انصاف کے اس سیاسی بیانیہ کے لئےمیں کوئی اور الفاظ استعمال نہیں کروں گا بلکہ صرف اتنا کہوں گا کہ یہ بیانیہ جمہوری اقدار اور رویوں کے منافی ہے۔ اس بیانیے نے سیاست اور سیاست دانوں کو گالی بنا دیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سیاست اور سیاست دانوں پر عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ نہ صرف سارے سیاست دان ایک جیسے ہوتے ہیں بلکہ ساری سیاسی جماعتیں بھی ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔

    ۔ اس وقت پاکستان سیاسی قیادت کے بحران میں ہے اور قومی اسمبلی کے حالیہ واقعات سے اس بحران کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت حکمران جماعت تحریک انصاف مبینہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈلز کی وجہ سے بحیثیت سیاسی جماعت اندرونی لڑائیوں کا شکار اور کمزور ہو چکی ہے ۔اس کی حکومت کو اپنے اندرونی مسائل اور ناراض دھڑوں سے ہر وقت خطرہ ہے۔ دوسری جانب حکومت آئندہ عام انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام یکطرفہ طور پر نافذ کرنے پر بضد ہے لیکن اسے الیکشن کمیشن بھی مسترد کر چکا ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان کی اپنی پسند نا پسند قوم پر مسلط کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے اور ظاہر ہے عدلیہ میں بھی یہ معاملات چیلنج ہونگے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کوئی باہمی ڈائیلاگ نہ ہونے کے ساتھ ساتھ آئینی اداروں کو بھی معاف نہیں کیا جا رہا۔ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ یا دیگر ادارے انہیں حکومتی حلقے رگڑا لگانے سے باز نہیں آتے۔ یوں لگتا ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

    ۔ بدقسمتی سے پاکستان کی صورتحال کوبعض تجزیہ نگار 1991ء میں سابق سوویت یونین کی صورتحال سے پر تشبیہ دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر سابق سوویت یونین امریکہ کے مقابلے میں فوج، میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ لیس ہونے کے باوجود اپنے اندرونی معاملات کی وجہ سے شکست سے دوچار ہو سکتا ہے تو پاکستان کو کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں۔ اس لئے اسے اپنے اندرونی حالات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ عمران خان بظاہر ایک کامیاب جمہوری لیڈرکے طور پر اپنا نام پیدا کرتے ہیں یا پھر سوویت یونین کے آخری صدورگورباچوف ثابت ہوتے ہیں۔

  • بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    اللہ رب العزت کی بنائی ہوئی یہ کائنات بے حد حسین ہے۔ یہ زمین اپنے دیدہ زیب رنگوں، دلنشیں نظاروں، بل کھاتے دریاوں، دلفریب وادیوں، فلک بوس پہاڑوں اور اس میں بسنے والے مختلف انواع و اقسام کےجانداروں کی موجودگی کے باعث باقی کائنات کی نسبت زیادہ حسین، خوبصورت اور دلکش معلوم ہوتی ہے۔ مگر جس طرح ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی، جس طرح ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا بالکل اسی طرح تمام خوبصورت نظر آنے والی چیزیں حقیقت میں بھی خوبصورت نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم اس کائنات کی اشرف المخلوقات سمجھی جانے والی تخلیق کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ تمام انسان خوبصورت نہیں ہوتے بلکہ کچھ انسان انتہائی بدصورت اور بہیودہ بھی ہوتے ہیں۔
    میں یہ بات اس لیے نہیں کہہ رہا کہ وہ ظاہری طور پر سیاہ رنگ یا برے خدوخال والے ہوتے ہیں بلکہ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان کے دل تاریک ہوتے ہیں، ان کا لہو بظاہر تو سرخ نظر آتا ہے مگر وہ سیاہ ہوتا ہے۔ ان کے اعمال بد ہوتے ہیں، ان کے افعال برے ہوتے ہیں۔ جی ہاں! جناب وہ لوگ اپنے کردار کی سیاہی اور بدصورتی کی وجہ سے بدصورت کہلاتے ہیں۔ مگر ایسے بدصورت لوگوں کو پہچاننا انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ ان کی بدصورتی ان کے اعمال، ان کی سوچ اور ان کے کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جو ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ یہ بدصورتی کی انتہائی خطرناک قسم ہے کیوں کہ یہ بدصورتی معاشرے کے حسین چہرے پر بدنما داغ یا ناسور بن کر ابھرتی ہے۔
    کردار کے بدصورت لوگوں کی ویسے تو کئی اقسام ہیں مگر آج کی تحریر بیمار ذہنیت، جنون ،معاشرتی پسماندگی اور جہالت سے بھرپور ایسے بدصورت لوگوں کے گرد گھومتی ہے جن کا نشانہ ہمارے بچے، ہماری قوم کا مستقبل یعنی ہماری آنے والی نسل ہے۔ یہ تحریر پاکستان میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی جانب توجہ دلانے کی ایک کاوش ہے۔ کیونکہ آج ہمارے مدرسوں، سکولوں اور کالجوں میں جانے والے بچے اور بچیاں انتہائی غیرمحفوظ حالات سے دوچار ہیں۔ والدین نہیں جانتے کہ مسجد کے مولوی، سکول کے استاد یا کالج یونیورسٹی کے پروفیسر انکے بچوں کے لیے روحانی باپ ثابت ہوں گے یا ایک خونخوار درندہ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ 6 ماہ میں 1500 سے زائد بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ڈان نیوز کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے 10 سے زائد واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو رہے ہیں مگر حقیقت میں پیش آنیوالے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی بچے اور ان کے والدین اپنی عزت کو تماشہ بننے سے بچانے کی غرض سے یا مجرم کے سیاسی و سماجی اثرورسوخ کی وجہ سے مصلحت کے تحت رو دھو کر چپ ہو جاتے ہیں کہ اپنا مقدمہ کل قیامت کو خدا لم یزل کی بارگاہ میں پیش کریں گے جہاں ہر تفریق سے ماورا سب کو انصاف ملتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مثال سے بات سمجھانا یا کسی کے درد کو محسوس کرنا آسان ہو جاتا ہے لیکن مثال کے طور واقعہ پیش کرنے کے لیے میرا قلم فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کس دلخراش واقعہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کس کے والدین کا دکھ بیان کروں یا کس بچے یا بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم اور سفاکیت کا تذکرہ اپنی تحریر میں کروں تاکہ آپکو معاملات کی سنجیدگی کا اندازہ ہوسکے۔ میں یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ میں آپ کے سامنے تین سالہ معصومہ، مقتولہ فریال پر ہونے والی زیادتی اور سفاکیت کا تذکرہ کروں یا حیوانیت اور درندگی کا نشانہ بننے والی آٹھ سالہ کم سن مقتولہ ہوض نور کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کا تذکرہ کروں۔ میں پنجاب کے پسماندہ گاؤں میں کسی بگڑے رئیس زادے کی وحشت کی نظر ہونے والے طلحہ نور کا ذکر کروں جس کے والدین کی آواز کو دبا دیا گیا یا پھر کسی شہر میں زیادتی کے بعد مار دیے جانے والے کسی اور معصوم فرشتے کا جس کی مسخ شدہ لاش کئی روز بعد والدین کو ملی۔
    سمجھ میں نہیں آتا کہ میں معصوم و مقتول زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کا تذکرہ کروں یا پھر خیبر پختونخواہ سے ذہنی طور پر معذور گوشی کے والدین کا دکھ بیان کروں یا پھر 14 سالہ اس بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم کا تذکرہ کیا جائے جسے راولپنڈی کے باریش نام نہاد معززین اور جواں سالہ لونڈوں نے مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ایسی اولاد کا تحفہ دیا جسے یہ نام نہاد حلالی معاشرہ “حرامی” کا لقب دے گا اور اس کی 14 سالہ معصوم و بے قصور والدہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی فحاشہ کے درجے پر فائز ہونا پڑے گا۔
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زمانے کی سفاکیت اور بربریت کی ایسی داستانیں اگر قلم کی نوک سے قرطاس کے سینے میں پیوست بھی کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ بھی حضرت انسان کے ایسے سیاہ کرتوتوں کو دیکھ کر کانپ اٹھے اور پناہ مانگے۔ مگر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسے دلخراش واقعات اور انسانیت سوز داستانوں کو اور ایسی داستانیں جنم لینے کی وجوہات کو جب تک زیر بحث نہیں لایا جائے گا معاشرہ لاشعور رہے گا اور یونہی ہمارا ناقابل تلافی نقصان ہوتا رہے گا۔ یہ آگ ہمارے گھروں کو جلاتی رہے گی اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ ایسے واقعات سے اگر ہم یونہی لاتعلق رہے تو یقین جانیے ہم بھی شریک جرم سمجھے جائیں گے اور اس بڑھتی ہوئی معاشرتی برائی کے پھیلنے میں برابر کے قصوروار سمجھے جائیں گے۔

    بہت افسوسناک بات ہے کہ ان واقعات سے متعلق آگاہی دینے اور ان کو روکنے کے لیے ہمارے ملک میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے اور یہ برائی ایک کے بعد دوسرا گھر جلا رہی ہے ۔ ہم اور ہماری گورنمنٹ کمیشنز بنانے، کمیٹیاں تشکیل دینے، فرضی قوانین پاس کرنے، ایوان میں جوڈو کراٹے کی مشق کرنے، ایسے واقعات پر سیاست کرنے اور والدین کو جھوٹے دلاسے دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہی۔ ہم بحثیت قوم بڑی ہمت کر کے صرف واقعات کی مذمت کرتے ہیں دو چار دن تحریک چلاتے ہیں اور اس کے بعد خاموشی سے اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں۔ ملزم چار دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہیں اور پھر ضمانت پر رہا ہو کر اپنی معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔ جیل سے باہر آکر انکی مثال ویسے درندے سی ہوجاتی ہے جس کا منہ خون آلود ہو جاتا ہے یعنی وہ اپنے ایک غلیظ دھندے کو مزید دیدہ دلیری سے انجام دیتے ہیں اور انکی دیکھا دیکھی کئی اور لومڑ شہہ پکڑتے ہیں اور ہم پہ در پہ ایسے واقعات پر مذمتوں اور کمیشنوں سے فارغ ہوکر اپنی معمول کی زندگی کی جانب لوٹ آتے ہیں۔ ہماری قومی بے حسی کو اگر ایک شعر میں بیان کروں تو ایسا کہوں گا کہ:
    افسوس یہ نہیں کہ بے حس ہیں ہم
    افسوس یہ ہے کہ احساس بے حسی بھی نہیں
    پاکستان میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات ایک تشویشناک صورتحال کو جنم دے رہے ہیں۔ یہاں آج کسی صورت کوئی بچہ یا بچی بھی مکمل محفوظ نظر نہیں آتا۔ ہر آئے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہم قوانین اور سزاوں کے ہوتے ہوئے بھی ایسے واقعات کو روکنے سے قاصر ہیں۔ اگر ہم نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ اٹھائے اور ان واقعات سے متعلق آگاہی اور شعور معاشرے میں نہ پھیلایا تو مستقبل میں یہ سماجی برائی ہمارے لئے سنگین حالات کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ آگ ایک گھر سے دوسرے اور پھر دوسرے سے تیسرے تک آئے گی اور عین ممکن ہے کہ اگلا ہدف میرا یا آپکا بچہ ہو۔ کیوں کہ ایک ایسا معاشرہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا جہاں پر ان کا مستقبل یعنی ان کے بچے محفوظ نہ ہوں

  • قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    "میری اوقات کہاں تم سے ہم کلام ہونا
    تیرے لہجے سے امیری کی مہک آتی ہے”

    آپ کا سٹیٹس نہیں انسان کا اخلاق کردار رویہ ہی آپ کی اصل تعلیم ہے آج کل ہم کہیں بھی نظر دہرا لیں ہمیں اخلاق میں کمی نظر آتی ہے بڑے بڑے جاگیردار وڈیرے ہمارے گزشتہ سب حکمران اسمبلی میں بیٹھے ہمارے نمائندے اپنے مطلب کے لئے اپنے رویہ اور بداخلاقی سے دنیا میں ہمارا کیا تاثر ڈالتے ہیں.
    آپ کا کردار اخلاق اور زبان کی نرمی ہی آپ کو اونچا کرتی ہے.
    دیکھا اور سوچا جائے تو ہماری موت کے وقت کسی کو آپ کے نمبر ڈگریاں اور عہدے یاد نہیں ہوں گے لوگ آپ کو آپ کے کام رویہ اور اخلاق سے یاد کریں گے.
    ایک خوبصورت اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ جو بدصورتی ہمیں دوسروں میں نظر آتی ہے دراصل وہ ہماری اپنی فطرت کا عکس ظاہر کرتی ہے. دراصل یہ تلخ حقیقت ہے کہ خالص خوراک اور مٌخلص لوگ اس قدر ناپید ہو گئے ہیں کہ اگر غلطی سے مل بھی جائیں تو ہمارا ہاضمہ اٌنہیـں ہضم نہیں کر پاتا. جب ہم کسی سے اپنا موازنہ کرتے ہیں تو ظاہر سے کرتے ہیں، یعنی کہ دکھائی دینے والی چیزوں سے۔ اس میں تعلیم، شکل، کامیابی سے، گھر، اور آسائشوں وغیرہ سے، اگر ہم یہ سوچ ختم کر کے یہ سوچیں کہ ہمیں تکبر ختم کر کے عاجزی اپنانی ہے مجھے فلاں کی طرح خوش اخلاق اور با کردار کامیاب و کامران ہونا ہے.

    جو اللّٰه پہ یقین نہیں کرتا تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. بے شک بادشاہت، دہشت، وحشت، طاقت، اور اکڑ ہمیشہ نہیں رہتی.
    جہاں امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں کردار کی خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے وہاں نا امیدی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے.
    جہاں منزل دھندلی پڑ جاتی ہے،
    جہاں اسباب نظر آنا بند ہو جاتے ہیں. جہاں آنسو آنکھوں کا مسکن بن جاتے ہیں آزمائشیں گھیر لیتی ہیں، جہاں راستے پتھر کی مانند لگتے ہیں.
    جہاں صبر ٹوٹ جاتا ہیں.
    وہیں سے اللہ پر یقین کا سفر شروع ہوتا ہے.
    دنیا کے کھوکھلے سہاروں سے
    نجات کا سفر،
    بندے اور اللّٰه کے تعلق کا سفر
    انسان کی اصل حقیقت ہے.
    جب تک ہمیں اخلاق اور زبان کی پختگی اور سچائی نہیں آتی ہم کبھی اپنی زبان سے کسی کو قائل نہیں کر سکتے.
    "جب آنکھیں نفس کی پسندیدہ چیزیں دیکھنے لگیں
    تو دل انجام سے اندھا ہو جاتاہے”

    سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا..
    شکریہ

  • ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎پاکستان کو جہاں خطے کے اعتبار سے اہم مقام حاصل ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات کی بھی فراوانی ہے. کئی ممالک میں سیاحت کو معیشت کے استحکام میں ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے
    ‎پاکستان میں سیاحت کی استعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2018 میں برطانیہ کی مہم جوئی کے حوالے سے معروف سوسائٹی "بیک پیکر” نے پوری دنیا میں مہم جوئی کے حوالے سے پاکستان کا شمار اول نمبر پر کیا اس کے علاوہ "فوربز” نے 2019 میں ایک شائع کردہ آرٹیکل میں پاکستان کا شمار دنیا
    ‎کی حسین ترین جگہوں میں کیا
    پاکستان اپنے اونچے اونچے برف پوش پہاڑوں سے بہت مشہور ہے کیونکہ دنیا کی 7 ہزار میٹر سے اونچی 10 چوٹیاں پاکستان میں ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان نے دنیا کے مختلف ملکوں سے آئس اسکیٹنگ کے کھلاڑیوں کو دعوت دی جنہوں نے پاکستان کے برف پوش پہاڑوں کو دنیا کے بہترین برفانی کھیلوں کے پہاڑ کہا۔ فروری 2019 میں پاکستان ائیرفورس نے 13 ملکوں کے 40 کھلاڑیوں کی چیمپئن شپ کروائی۔ اختتام پر تمام کھلاڑیوں نے پاکستانی حکومت کے اقدامات کو سراہا اور دوبارہ یہاں آنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

    ‎پاکستان کی حالیہ حکومت نے سیاحت کے فروغ کیلئے کوششیں کیں ہیں جن کے نتائج متاثر کن ہیں. شمالی علاقہ جات کے انفراسٹکچر کو بہتر بنایا جارہا ہے اور بہت سی نئی جگہیں سیاحتی مراکز کے طور پر متعارف کروائی جارہی ہیں۔
    ‎ سیاحتی ویزوں کے حصول میں آسانی کیلئے متعدد اقدامات کیے گئےجس میں 50 ملکوں بشمول امریکہ سے آنے والوں سیاحوں کو پاکستان پہنچنے پر ویزہ کے اجراء کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا، دوسرے175 ممالک کیلئے ویزہ کی درخواستوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے سیاحوں کی مشکلات میں کافی کمی آئی ہے
    ‎اس کے علاوہ سیاحت کیلئے کی جانے والی دیگر کوششوں میں کرتارپور راہداری کی فعالیت اور اس سے ملحقہ کمپلیکس کی تعمیر اور حال ہی میں جہلم میں افتتاح کئے جانے والے "البیرونی ریڈیس” جیسے مقامات قابل ذکر ہیں
    ‎حالیہ کرونا وبا کے باعث عالمی سطح پر سیاحت کے شعبہ میں کمی دیکھی گئی ہے جس میں سیاحوں کو مختلف ممالک کی طرف سے سفری پابندیوں جیسی مشکلات کا سامنا ہے
    ‎امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وبا کے خلاف کامیابیوں میں اضافہ ہو گا اور غیر ملکی سیاح ترجیحا پاکستان کا رخ کریں گے ۔سیاحت کے شعبے سے بہت سے لوگ روزگار سے وابستہ ہوں گے، جس سے ملکی زرمبادلہ میں سیاحت ایک اہم کردار کرے گی اور آنے والے کل میں پاکستان دنیا بھر میں سیاحتی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہوگا۔ ان شاءاللہ
    پاکستان زندہ باد
    ‏@warrior1pak

  • آج کا نوجوان .‏تحریر:  محمد حنظلہ شاہد

    آج کا نوجوان .‏تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    جب بھی کسی ملک کے روشن مستقبل کا خیال آتا ہے تو نظم اس ملک و قوم کے نوجوان نسل پر لگ جاتی ہیں ان نسل کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ ہیں کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کا اندازہ اس قوم کے نوجوان نسل کی قابلیت سے لگایا جاتا ہے کہ جو ان کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتے ہیں ایسی بنیاد کی جس کے بغیر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی نوجوان طلباء کے قابل اعتماد کارکن ہیں تحریک پاکستان میں انہوں نے نے فرمایا کی خدمات سر انجام دی ہیں طلباء نے اپنے بے پناہ جوش و ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی علامہ اقبال کونوجوانوں سے بہت محبت تھی انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نوجوان نسل میں شعور اور ولولہ پیدا کیا علامہ اقبال ایک جگہ فرماتے ہیں
    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
    یا رب آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    مگر آج کے نوجوان کی بات کی جائے تو کیا یہ وہی نوجوان نسل ہے کہ جس کی بات قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال نے کی کیا یہ وہی نوجوان نسل ہے کہ جس کے جوش و ولولے سے کئی ممالک میں انقلاب رونما ہوئے آج کی نوجوان نسل بھلا چکی ہے کہ کس طرح ہمارے آباؤ جیتا نے بڑے بڑے محاذ فتح کیے تھے وہ علم کا محافظ ہو یا جنگ کا ہر ہر میدان. اس میں کامیابی و فتح حاصل کی
    کیسے بڑے بڑے طاقتور حکمرانوں کو اپنے ایمانی جذبے سے شکست دی

    آج کے نوجوانوں کے بارے میں مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا
    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا 
    فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو 
    اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

    آج کا نوجوان اگر انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے تو اس میں مسلہ نہیں لیکن اس کا استعمال اگر پازیٹو انداز میں کیا جائے تو اس سے نوجوانوں کو بھی اور ملک و قوم کو بھی فائدہ ہو گا
    جو کام جو ترقی نوجوان کر سکتے ہیں وہ کوئی اور نہیں کر سکتا
    نوجوانوں کو صرف اپنے اندر جذبہ ایمان جگانے کی ضرورت ہے

    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

    تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

    پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

    شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

    حضرت علامہ محمد اقبال رح

  • افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان میں اس وقت فیصلہ کن جنگ چھڑی ہوئی ہے اور سپرپاور ستمبر ۲۰۲۱ تک یہاں سے چلا جائے گا، لیکن اس سب میں ایک بات قابل غور ہے کہ امریکی فو جیں یہاں سے جارہی ہیں لیکن امریکہ یہاں ہی رہنا چاہتا ہے، عمران خان کو بیش بہا آفرز دی گئیں، لیکن پاکستان کی ریاست کی پالیسی یہ تھی اب کی بار کسی دوسرے ملک کی جنگ کو اپنے سر نہیں لینا، ہم نے اپنا بہت نقصان کرلیا ہے۔ یہ امریکہ کیلے بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہے، کیونکہ پہلے ادوار میں پاکستان ایک فون کال پر ڈھیر ہوتا آیا ہے، اور ہم چند ٹکوں کی خاطر بکتے آئے ہیں۔ اب امریکہ کا کیا پلان ہے؟ وہ پاکستان سے اس کا بدلہ تو لے گا، مگر کیسے؟
    افغان طالبان کابل کے قریب پہنچ گئے ہیں وہ کبھی بھی غنی حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں، تقریبا ۴۰ ڈسڑکٹ پر قابض ہوگئے ہیں، اس ساری صورتحال کے اندر تشویشناک مرحلہ پاکستان کے لئے ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان پر الزام لگا کر چھڑھ دوڑنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ دنیا یہ حقیقت جانتی ہے کہ افغان طالبان کو مزاکرات کی میز پر لانا کوئی آسان کام نہیں تھا، یہ سب کچھ پاکستان کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اس سارے عمل میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ پاکستان نے بھارت کو اس سارے عمل میں شامل نہیں ہونے دیااور پاکستان دنیا کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ بھارت افغانستان میں امن لانے کا خواں نہیں ہے۔ کیونکہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی ڈو مور کی پالیسی اور پاکستان سے ڈرون حملوں کیلے فوجی اڈے اور فضائی حدود مانگنا یہ بھارتی لابی کے زیر اثر آتی ہے جو کہ نہ تو افغانستان میں امن چاہتا ہے اور نہ پاکستان کو ترقی کرنا دیکھنا چاہتا ہے۔ روس سے افغان جنگ کے خاتمے کے بعد جیسے امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑدیا تھا اور افغانستان کی خانہ جنگی کے اثرات سارے پاکستان پر آئے تھے۔ امریکہ اب پھر یہی سب کرنا چاہتا ہے لیکن اب خطے کی صورتحال مختلف ہے کیونکہ اب خطے میں نئی عالمی طاقت چین کی شکل میں موجود ہے اور امریکہ اس لیے افغانستان کو چھوڑکر جارہا ہے کہ چین کو افغانیوں کے ہاتھ مشکل میں ڈالا جائے۔ یہ بات ساری دنیا جانتی ہے افغان سیکورٹی فورسز اور پولیس افغانستان میں امن قائم نہیں کرسکتی، خصوصا افغان طالبان ۷۰ فیصد علاقوں پر قابض ہیں۔ تو امریکہ ان کی ٹریننگ کیلے قطر سے فوجی اڈے مانگ رہا ہے اور وہاں امریکہ کی مشرق وسطی کی سب سے بڑی ائیر بیس موجود ہے۔ وقت آگیا ہے حکومت پاکستان، روس، چین اور ایران ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس سے خطے میں پائیدار امن قائم ہو ا۔ گو کہ اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے امریکی انخلا کے بعد یا اس سے پہلے اگر ضرورت پڑی تو چینی، روسی فورسز افغانستان جاسکتی ہیں، لیکن امریکہ ترکی کو یہاں لانے کی تیاریاں کر رہا ہے کیونکہ ترکی نیٹو کا حصہ ہے۔ چین خود کو بلاوجہ جنگ میں نہیں دھکیلے گا اور دوسری جانب افغان طالبان کسی غیر ملکی افواج کو اپنی سرزمین پر نہیں دیکھنا چاہتے

    امریکہ بھارتی لابی کے زیر اثر آرہا ہے وہ افغانستان کو کسی صورت کوری ڈور نہیں بنے دے سکتا اور اس کا براہ راست اثر پاک امریکہ تعلقات پر آئے گا اور بھارت پاکستان پر پابندیاں لگوانے کیلے سرگرم ہے اور وہ اقوام متحدہ سے چند ٹکوں کے عوض امریکہ کو استعمال کرکے پاکستان کے خلاف رپورٹ شائع کروارہا ہے کہ پاکستان، پاک افغان بارڈر پر دہشتگردوں کو پناہ دے رہا ہے اور انھیں افغانستان میں بھارتی انسٹالیشیز پر حملوں کیلے استعمال کر رہاہے لیکن ایسا کر کے بھارت خود اپنے پاوں پر کلہاڑی مار چکا ہے۔ اب بھارت افغان طالبان کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے پاکستان کے بھی پاوں پکڑنے کیلے بھی تیار ہے اور وہ کشمیر کی خصوصی حثیت بحال کرنے کیلے بھی تیار ہے لیکن یہ سب وہ اپنے مفاد کیلے کر رہا ہے کیونکہ مودھی کی ساری الیکشن کمپین کشمیر کے خلاف رہی ہے وہ ایسا کرکے ہندوں کو اپنا قاتل نہیں بنوانا جاہتا۔
    لیکن لب لباب یہ ہے کہ بھارت کی نہ صرف اب افغانستان سے چھٹی ہو رہی ہے اب وہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کرنے کیلے استعمال نہیں کرسکے گا اور یہی چیز مودھی سرکار کو کھائی جارہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی دنیا پاکستان کے کردار کو سراہے کہ پاکستان دنیا میں امن لانے کا خواہاں ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ ملکر لائحہ عمل طے کرے وگرنہ یہ افغانستان کی خانہ جنگی کس کس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اورعالمی قوتوں کا مرکز اس وقت پاکستان بنا ہوا ہے ۔

  • ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون

    ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون

    ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون
    ہم اپنے خوابوں کو پانے کے لئے بہت کوشش کرتے ہیں اسکے لئے در در کی ٹھوکریں بھی کھاتے ہیں.. کئی بار ہمیں ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور پھر کبھی قسمت مہربان ہوتو انسان کامیابی کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے.
    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ لوگ کامیابی کے مقام پہ پہنچ کر خود کو بڑا محسوس کرنے لگتے ہیں (سب نہیں مگر موسٹلی ایسا ہوتا ہے) وہ اپنے سے چھوٹے کو کمتر اور حقیر سمجھنے لگتے ہیں, وہ بھول جاتے ہیں جس خدا نے انکو کامیابی دی وہی خدا ان لوگوں کا بھی ہے جن کو وہ کمتر سمجھ رہے ہیں.
    کیونکہ انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو, کتنا ہی کامیاب اور مشہور کیوں نہ ہو آ خر اُس نے اُسی مٹی میں دفن ہونا ہے جس میں ایک عام انسان دفن ہوگا, خاک سے بنا جسم آ خر خاک میں ہی تو ملنا ہے کیونکہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور یہ ہم سب جانتے بھی ہیں لیکن وہ وقت کونسا ہے اس راز سے ہم ناواقف ہیں.

    موت ہی ایسی چیز ہے جسکے آ گے طاقتور سے طاقتور بےبس ہوجاتے ہیں. پھر نہ تو شہرت اور نہ روپیہ پیسہ اسکی موت ٹال سکتے ہیں اور نہ ہی ذندگی کے دن بڑھا سکتے ہیں.. اصل میں انسان اپنی عارضی خوشیوں کو پانے کے لئے اسقدر بہت آ گے نکل جاتا ہے کہ واپسی ممکن نہیں رہتی اور تب اُسے اللہ یاد آ تا ہے تب وہ سوچتا ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا.
    آ ج اپنے اردگرد دیکھ سکتے ہیں کونسا گناہ, کونسی ایسی بُرائی نہیں جس میں ہم کسی نہ کسی طرح جھکڑے ہوئے ہیں, کسی کے حق پہ ڈاکہ ڈالتے ہوئے, جھوٹ بولتے ہوئے, چوری, قتل , یا (یہ جو آ جکل معصوم بچوں کو نوچا جارہا) ہم اپنی موت کو کیوں بھول جاتے ہیں؟؟

    ہم اپنے اس رب کو کیوں بھول جاتے ہیں جو ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے ؟
    ہم کسی کی ذات پہ تہمت لگاتے زرا دیر نہیں لگاتے پر اپنے پہ بات آ تی تو ہزاروں دلیلیں لئے بیٹھے ہوتے خود کو بےگناہ ثابت کرنے کے لیے…
    اللہ کے بندوں.. یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے
    اللہ کے بندوں.. اللہ کے بندوں پہ ظلم کرتے کیوں بھول جاتے ہوکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے.
    آ ج اللہ نے اگر شہرت دی پیسہ دیا, عہدہ دیا تو اسکا صحیح استعمال کرنا سیکھو, غلط استعمال کروگے تو ایک نہ ایک دن منہ کے بل گر جاؤ گے, اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق کو حقیر مت جانو…
    تمھارا تکبر کہیں تمھیں رسوا نہ کردے کیونکہ تکبر اللہ کو پسند نہیں.
    کہیں کسی کی حق تلفی ہوتے دیکھو تو اسکو روکو
    کہیں ظلم ہوتے دیکھو تو ظلم کے خلاف اپنی طاقت استعمال کرو اپنی آ واز بلند کرو.
    اپنی غلطی کو تسلیم کرنا سیکھو, یہ دولت یہ شہرت آ پکو دنیا میں تا کام آ سکتی ہے پر آخرت میں تمھارے اعمال ہی تمھیں بچائیں گے..

    کسی شہنشاہ کسی شہزادے یا کسی صدر کی میت کو کسی نے سجا کے نہیں رکھا… اور نہ کوئی رکھے گا. جانا اسی مٹی میں ہے جس میں ایک غریب ایک عام انسان جائے گا.
    آ ج کسی عہدے دار کو دیکھ لیں لوگ اپنی درخواستیں لیے انکے انتظار میں گھنٹوں بیٹھے رہے ہونگے مگر وہ جب آ ئے گا تو ٹھاٹ سے اور انکو ٹھیک سے سنے گا بھی نہیں اور خود کو اپنے مقام (جو اللہ نے دیا ہوا) پر فخر کرتا گزر جائے گا.. کیا اس لئے اللہ نے تمھیں طاقت, عہدہ, مقام دیا ؟

    دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگنے والوں یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں
    بہتر ہے اپنی اپنی جگہ درست کرلیں کیونکہ یہ ذندگی تو عارضی ہے اسے ایک سفر سمجھ کے گزاریں. لوگوں کے دکھ درد میں کام آنا ہی ایک انسان کا کام ہے. دنیا کے لالچ میں اندھے ہوکے اپنی آ خرت نہ بگاڑیں.