Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارتی حملہ. تحریر :ارم رائے

    بھارتی حملہ. تحریر :ارم رائے

    یہ پاکستان ہے۔ اور اس دھرتی پہ صبح کے 3:00AM .ہورہے ہیں لوگ معمول کے مطابق اپنی اپنی خواب گاہوں سوئے ہوِئے ہیں اور کچھ تہجد گزار مسجدوں میں ہیں ، جو اللہ کے حضور سجدہ ریز ہیں اور دعاوں اور سسکیوں میں امت مسلم کی کامیابی و کامرانی کے لیے دعاوں میں مشغول ہیں۔ پرندے کچھ دیر تک چہچہانے میں لگ جائیں گے۔ دو دوست رات گئے کی محفل برخاست کر کے اپنے گھر کی طرف آ رہے ہیں، کہ اچانک ٹینکوں کے گولوں اور جنگی جہازوں کی دل ہلا دینے والی آوازیں سماعتوں سے ٹکرانا شروع ہو جاتی ہیں،لوگ مارے خوف سے ششدر میں ہیں کہ کیا ہو گیا ہے۔دل کی دھڑکنوں کی بے ترتیبی زور پکڑتی ہے ۔ ہیبت ناک اور کلیجے کو پھٹا دینے والی آوازویں بہت قریب ہوتی جارہی ہیں۔ساتھ ساتھ تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ اتنے میں مسجد کے لاوڈ سپیکر سے جان لیوا الفاظ کچھ یوں سنائی دیتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔بزدل بھارت نے لاہور کی جانب سے پھر حملہ کر دیا ہے اور عوام سے اپیل ہے کہ فوجی بھائیوں کے کندھے سے کندھا ملائے۔ اعلان ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اک ماں سب سے پہلے اپنے جوان بیٹے کو کہتی ہے میرے بیٹے آج اسلام اور کفر کی جنگ چھڑ گئ ہے ۔میں اس وقت تک آپ راضی نہیں ہوں گی جب تک تیرا لہو کفر کے شعلے کو ٹھنڈا نہیں کر دیتا۔ یہ سننا تھا کہ بیٹا خالی ہاتھ بارڈر کی طرف دوڑ لگا دیتا ہے۔جب نوجوان بارڈر پر پہنچتا ہے تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر فوجی بھائیوں کی امداد کے لیے نقل و حرکت میں ہے ۔ہر سو عوام ہی عوام ہے ۔عوام کے ہاتھوں میں کوئی نہ کوئی ضروری سامان ہے۔ کسی کے ہاتھ میں پھولوں کے گل دستے ہیں۔بچوں کے پاس پاس پانی کی بو تلیں ہیں۔ تو کسی کے ہاتھ میں میں گھریلو بندوقیں ہیں۔کسی کے ہاتھ میں فروٹ ہیں جو گھر میں رکھے فریزروں سے لئے گئے ہیں۔ ایک کے پاس تو کپڑے میں بندھی ہوئی دال روٹی اور گھر کے دروازے کو توڑ کر لی گئ اک مضبوط چوکھاٹ بھی ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ چوکھاٹ کس لیے لائے ہو تو جواب ملا، جب اسلحہ ختم ہو جائے گا تو جا ئے گا تو یہ چوکھاٹ بندوق بن جائے گی۔۔۔۔اس کے اس جواب نے عوام اور افواج میں مزید انرجی پیدا کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔ فوجی ٹینکوں کو عوام نے اپنے حصار میں گھیر رکھا ہے ۔ہر سو ملی نغموں کی بہار ہے۔ لوگ بارڈر پر سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں ۔آس پاس جنگی جہازوں کی گھن گرج اور ٹینکوں کی ہیبت ناک اوازوں نے دشمن پر دھاک بٹھا رکھی ہے۔ دونوں جانب فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے تھنڈر جہاز اور ایف سولہ جہازوں نے فضا کو دھواں دھواں اور گردو غبار سے آلودہ کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ جنگ ایک میلہ بن گئ ہے جیسے بازار ہو ۔جیسے لوگ خرید و فروخت کے لیے آئے ہوں ۔کسی پر کوئی خوف کے آثار نہیں ہیں ۔مشکل وقت میں اتفاق مشکلات کو بے معنی کر دیتا ہے۔ فوجی بھائیوں سے عوام کی محبت نے جنگ کا پانسہ یک طرفہ کردیا ۔فوجی کو گولی لگتے لگتے ایک عام سے ادمی کے سینے سے گزر جاتی ہے ۔ فوجی زخمی ہوتے ہوتے عام ادمی زخمی ہو جاتا ہے۔ دور سے فوجیوں کو بچانے کے مزید کھدائیاں جاری ہیں۔ یہ جذبہ ایمانی دیکھ کر اور فوج سے محبت نے افواج کے لہو گرما دئے ۔ فوجی دستوں نے نعرہ تکبیر کے فلک شگاف نعرے ایسے لگائےکہ ٹینکوں سے نکلنے والے گولوں کی رفتار دوگنی ہو گئی۔ جہاں اک منٹ میں ایک گولہ جانا تھا وہاں ایک منٹ تین تین گولے دشمن کی طرف نکلے۔ جہاں فضائیہ نے منٹوں میں ہدف تباہ کرنا تھا وہاں سیکنڈوں میں ہدف مکمل ہونے لگا۔ جنگ تیز ہو گئ نتائج فوری آنے لگ گئے۔ ہر پانچ منٹ دشمن کا اہم ترین مقام تباہ ہونے لگا نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعروں نے ایسی توانائی بخشی کہ پاک آرمی کے کے دستے دشمن کی سر زمین میں ٹینکوں کو آگے بڑھاتے گئے۔ٹینک کے گولوں سے دشمن کو نیست و نابود کرتے گئے اور اوپر سے ایف سولہ اور تھنڈر جیسے پاور فل جنگی جہازوں نے دشمن کے علاقے کو تباہ برباد کر کے رکھ دیا۔۔

    ادھر لمبی اور کالی زلفوں والے بڑی اور مضبوط قدو قامت کے مالک اللہ کے شیر کہیں سے آ نکلتے ہیں جیسے یہ غاروں میں سے نکل کے آئے ہوں جیسے یہ خاص وقت کے انتظار میں تھے جیسے یہ آئے نہیں بھیجے گئے ہوں۔جیسے یہ غزوہ ہند کے حصے دار ہوں۔۔ان کی آمد نے جنگ میں ہلچل مچا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے دشمن کی بھاری نفری لاشوں کی شکل اختیار گئ ۔لاشیں لاشیں اتنی پڑی ہیں کہ گدھ سالہا سال مزے ا ڑا سکتے ہیں

    یِہ خواب میں ابھی دیکھ رہی تھی کہ کسی نے مجھے کہا کہ ہندوستان فتح ہو گیا ہے اور دہلی کی بڑی مسجد پر سبز ہلالی جھنڈا لگا دیا گیا ہے۔ آئیے اس لہراتے سبز ہلالی جھنڈے کو دیکھتے ہیں۔اس خوشی میں میری آنکھ کھل گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ آرٹیکل عوام اور افواج کی یکجہتی کے فوائد پر لکھا گیا ہے اسے عوام میں آگہی کے لئے ضرور شیر کیجئے

  • مودی کی نئی سازش . تحریر: نوید شیخ

    مودی کی نئی سازش . تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے بھارت میں کرونا شور زراکم ہورہا ہے تو مودی نے پھر دوبارہ وہ ہی پرانا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے ۔ وہ ہی حربے ، وہی پرانے طریقہ واردات اور وہ ہی اپنی اوقات دیکھانا شروع کر دی ہے ۔ مودی ایک بار پھر پاکستان مخالف ، چین مخالف اور کشمیر مخالف جذبات کو ابھارنے کا گھناونا کھیل شروع کردیا ہے تاکہ بھارتی عوام کو پھر اس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جائے کہ ان کی نظر مودی کی کرونا پر نااہلی ، لداخ اور کشمیر ، جو اس نے بھارت کا معاشی بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ اس پر نہ جائے ۔

    ۔ یوں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فضائیہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کا الزام بھارتی تجزیہ کاروں نے پاکستان پر عائد کر دیا ہے ۔ اور ایک بار پھر بھارت کی جانب سے war mongering
    جاری ہے ۔ حالانکہ جو حقائق ہیں وہ واضح اشارہ ہیں کہ یہ کام کسی اندر کے بندے جیسے RAWکا ایک نیا رچایا ہوا ڈرامہ ہے بلکل پلوامہ جیسا جس کا ملبہ پاکستان پر ڈالا گیا تھا ۔ اور اس کا بھی ملبہ بھی پاکستان پر ڈالنے کی کوشش جاری ہے ۔ ساتھ ہی اس واقعہ کی آڑ میں مودی اور بھارت بڑی بڑی ڈیلیں کرنے کے درپے پر بھی ہے ۔ ۔ حالانکہ جو سوال بنتا تھا کہ مودی جی جنہوں نے بھارتی فضائیہ کو رافیل سے لے کر پتہ نہیں کون کون سے سسٹم اور ریڈار ۔۔۔ غریب بھارتیوں کے پیسے خرچ کر لا کر دیے ہیں ان کی کارکردگی کیا ہے ۔ آخری کیسے بھارتی فضائیہ کے اڈے پر ڈرون حملے ہو گئے ۔ کیا سب بھنگ پی کر سوئے ہوئے تھے ۔ اور RAW کیا کر رہی تھی ۔ دراصل یہ وہ ہی معاملہ ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ ماضی کی طرح ان حملوں کا الزام پاکستان پر اس لیے عائد کیا جا رہا ہے کہ ایک جانب چین ، لداخ اور کشمیر کے معاملات مودی سے بالکل کنڑول نہیں ہو پارہے ہیں تو دوسری جانب کرونا پر خراب کارکردگی اور معیشت کا مودی نے جنازہ نکال دیا ہے ۔

    ۔ دراصل مقبوضہ کشمیر کے جموں ائیر بیس پر پانچ منٹ کے وقفے سے ہونے والے دو زور دار دھماکے اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ کشمیری عوام بھارت کے ہتھکنڈوں کے آگے جھکنے والے نہیں۔۔ ایک دھماکے سے بھارتی فضائیہ کے اڈے کی عمارت کی چھت اڑ گئی جبکہ دوسرا دھماکہ کھلی جگہ پر ہوا۔ دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا اور ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ پورے جموں ڈویژن میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب ائیر فورس اسٹیشن پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہو رہا تھا۔

    ۔ حریت پسندوں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن مقبوضہ کشمیر پولیس چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائیہ کے اڈے پر بم گرانے کیلئے ڈرون استعمال کئے گئے۔ دھماکوں کے شبہے میں دو افراد گرفتار کر لئے گئے ہیں ۔ سرکاری طور پر اگرچہ بتایا گیا ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، صرف دو اہلکار زخمی ہوئے لیکن دھماکوں کے فوری بعد ایک سے زائد ایمبولینسوں کو جائے وقوعہ کے اندر داخل ہوتے دیکھا گیا جس سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کافی جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں جنہیں چھپایا جا رہا ہے۔ قیاس آرائیوں کی بڑی وجہ میڈیا کو جائے وقوعہ میں داخلے اور رپورٹنگ کی اجازت نہ دینا ہے۔ جس سے یہ شبہ بھی پیدا ہورہا ہے کہ یہ بھارت کی اپنی ایجنسیوں کی کارستانی بھی ہوسکتی ہے ۔

    ۔ بھارتی اخباروں میں شائع اور ٹی وی چینلز میں جو کچھ نشر ہو رہا ہے وہ صرف ائیر فورس اور پولیس کے دعوئوں پر مبنی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ پہلا ڈرون حملہ تھا ۔ پولیس کا مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ کشمیری مجاہدین بارودی مواد کی منتقلی کیلئے ڈرونز کو ہی استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب جموں شہرکے علاقے کالوچک میں فوجی مرکز کے قریب مزید دو ڈرونز آئے جن پر بھارتی فوجیوں نے گولیاں چلائیں اور اسکے بعد وہ ڈرون واپس چلے گئے، یہ واقعہ بھارتی فضایئہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کے ایک روز بعد پیش آیا ۔ دھماکوں کی اہمیت اس بنا پر اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ چند روز قبل ہی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت نواز کشمیری رہنمائوں کی کل جماعتی کانفرنس بلائی تھی جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں نام نہاد انتخابات اور حلقہ بندیوں کے حق میں ان کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ جس میں مودی مکمل ناکام رہا ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حقیقی سیاسی قیادت عرصہ دراز سے بھارتی جیلوں میں قید اپنی بے گناہی کی سزا بھگت رہی ہے۔ ان لوگوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنا حق خود ارادیت اور آزادی مانگتے ہیں۔ اس جرم میں اب تک نہ صرف 80ہزار سے زائد کشمیری نوجوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں اپنے سیاسی قائدین کی طرح بھارتی قید و بند کی صعوبتیں ایک طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں اور جو کشمیری قید نہیں ہیں وہ دنیا کے طویل ترین محاصرے میں ہیں۔ جس کو بھی سات سو روز گزر چکے ہیں بلکہ اب تو اس محاصرے کو دوسال مکمل ہونے والے ہیں ۔

    ۔ یہاں میں اپنے ان بعض نادان دوستوں کا بھی ذکر کردوں جو یہ توقع کر رہے تھے کہ مودی نے جو کشمیریوں کا اجلاس بلایا تھا اس میں اور کچھ نہیں تو کم از کم مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تو بحال کر دی جائے گی لیکن اس اجلاس میں نہ تو حقیقی کشمیری سیاسی قیادت کو جیلوں سے رہا کرکے مدعو کیا گیا نہ ہی کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی پر بات کی گئی۔ اس طرح یہ بے معنی اجلاس بھی ایک ڈرامہ اور گونگلوں سے مٹی جھاڑنا ہی ثابت ہوا۔۔ اس اجلاس میں مدعو کئے گئے چند معروف کشمیری قائدین نے بھی مودی سرکار کو ٹھینگا دکھایا۔ یوں یہ بے معنی اجلاس بے مقصد انجام سے دوچار ہوا جو مودی سرکار کی ناکامی کا باعث بنا۔۔ اب بھارتی تحقیقاتی اداروں کی جھوٹی تحقیق یہ ہے کہ پاکستان ڈرون کو جموں کشمیر میں کئی عرصے سے استعمال کر رہا ہے۔ ۔ چلیں اگر یہ مان بھی لیں کہ ڈرون پاکستان کی طرف سے آئے تھے تو کنڑول لائن کے پاس تو بات سمجھ آتی ہے ۔ یہ اتنی دور جموں میں ڈرون کیسے پہنچے ۔ یہ سوال بھارت میں کوئی بھی حکومت اور فضائیہ سے نہیں پوچھ رہا ہے ۔ ۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کو اس میں بھی آئی ایس آئی دیکھائی دے رہی ہے ۔ دراصل اس سب الزام تراشی کی وجہ ہے ۔ اب اسکا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر ، بھارتیوں کو خوف میں مبتلا کرکے ۔ بھارت اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کی تیاری میں ہے ۔ ۔ بھارتی خبر رساں ادارے نے تو دعویٰ بھی کر دیا ہے کہ بھارت نے اینٹی ڈرون سسٹم پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ کئی فوجی تنصیبات میں اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا جا چکا ہے۔ بھارت نے لال قلعہ پر ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر پہلی بار اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا تھا۔ جس کا نامlaser based directed energy weaponتھا ۔ یہ سسٹم کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو لیزربم کے ذریعہ گرا سکتا ہے ۔ ایک اور سسٹم ہے جو کہ DRDO کے لگاتار ٹرائل پر ہے کہ کیسے microwave کے ذریعہ ڈرون کو گرایا جاسکے ۔ اس کو jaming system بھی کہا جاتا ہے ۔

    ۔ بھارت کے سی ڈی ایس بپن راوت بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ مستقبل کی جنگ کے لئے خود کو تیار کرنا ہو گا۔ بھارت نے اس ضمن میں تینوں افواج کے اہم اڈوں پر اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اسکے لئے بھارت نے اسرائیل سے بھی مدد لی ہے اور بھارتی بحریہ نے چھوٹے ڈرون سے نمٹنے کے لئے اسرائیل کو اینٹی ڈرون سسٹم کا 2000 سے زائد کا آرڈر کیاہے یہ اینٹی ڈرون سسٹم computerized ہے۔ اسکو بندوق کے اوپر بھی لگایا جا سکتا ہے اور کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو اس سسٹم سے فضا میں ہی تباہ کیا جا سکتا ہے۔ ۔ حقائق یہ ہیں کہ بھارت میں کورونا نے جس طرح تباہی مچائی ۔ دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اور مودی کی اس ضمن میں کارکردگی جو رہی وہ بھی پوری دنیا نے دیکھ لی ہے کہ لاشیں جلانے کے لئے نہ شمشان گھاٹوں میں جگہ ملتی تھی نہ ان کی چتائوں کو جلانے کے لئے لکڑیاں دستیاب تھیں۔ دہلی، کلکتہ، ممبئی، امرتسر، چندی گڑھ، میزو رام، حیدرآباد سمیت اترپردیش اور راجستھان میں مودی سرکار کی ناکامی کا یہ عالم رہا کہ کورونا ویکسین تو کیا متاثرین کو آکسیجن تک میسر نہیں تھی۔

    ۔ لاکھوں بھارتی باشندے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر آکسیجن کی قلت کی وجہ سے ایڑیاں رگڑتے ہوئے ہلاک ہوتے رہے۔ لاکھ کوششوں کے باوجود جھوٹا بھارتی میڈیا بھی مودی سرکار کی اس تاریخی ناکامی پر پردہ نہیں ڈال سکا۔۔ چین کے ساتھ تنازع میں بھی بھارت کو لینے کے دینے پڑے اور مار الگ سے کھائی۔ پاکستان کے ساتھ پنجہ لڑانے کی کوشش بھی بھارتی ناکامی پر ختم ہوئی۔ اگر پاکستان اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ نہ کرتا تو بھارت ابھی نندن کو آزاد کرانے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا جو پاکستان پر حملہ کرنے اور نقصان پہنچانے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اس حماقت میں بھی بھارت کا منہ کالا ہوا۔ ۔ بھارتی معیشت مودی حکومت میں زوال پذیر ہے اور تجارتی گراف مسلسل نیچے گر رہا ہے۔ معیشت کی تباہی و بدحالی بھی مودی سرکار کی ایک اور بدترین ناکامی ہے۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری رہنمائوں کی جانب سے بھارت کو ٹکا سا جواب ملنے پر جموں دھماکوں کے ایک اور رخ کی نشاندہی ہوتی ہے جس کی طرف اشارہ پاکستان کے عسکری ذرائع نے بھی کیا ہے۔ جس میں جموں دھماکوں کو بھارتی حکومت کا پلوامہ ۔ twoڈرامہ قرار دیا ہے۔ ان کا خدشہ بالکل درست ہے کیونکہ بھارت اس واقعے میں پاکستان کو ملوث کر کے وہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جنہیں وہ پلوامہ حملے کے ڈرامے کے بعد حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا تھا۔

    ۔ پھر افغانستان کی بگڑتی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر بھی وہ پاکستان کے خلاف جو امریکہ کو طالبان کے خلاف کاروائی کے لئے اڈے نہ دینے کا اعلان کر چکا ہے۔ کوئی نیا محاذ کھول سکتا ہے اس پس منظر میں جموں دھماکے دور رس اثرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ ۔ کہا جاتا ہے کہ دشمن بھی اعلیٰ ظرف ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے بھارت ایسا نہیں بلکہ دوسری طرح کا پڑوسی اورمخالف ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ بھارت کو جب بھی اندرونی یا بین الاقوامی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اسی طرح کا کوئی ڈرامہ رچا کر الزام پاکستان پر اس لئے عائد کرتا ہےتاکہ اس ناکامی سے دنیا اور بھارتی عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے۔

  • جذبہ حب الوطنی، ہمت و حوصلے کی زندہ مثال .خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل سکواڈ کا قابل فخر سپاہی .تحریر: محمد مستنصر

    جذبہ حب الوطنی، ہمت و حوصلے کی زندہ مثال .خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل سکواڈ کا قابل فخر سپاہی .تحریر: محمد مستنصر

    اکیسویں صدی کے اوائل میں جب امریکا اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پر حملہ آور ہوا تو دہستگردی کے خلاف اس جنگ میں امریکا کے اتحادی کے طور پر سب سے ذیادہ نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکی افواج کے اتحادی کے طور پر فرنٹ رول کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیاتو بالخصوص افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع کے ساتھ خیبرپختونخوا کے بندوبستی اضلاع بھی دہشتگردی کی لپیٹ میں آگئے، اور یوں پاکستان کو دو دہائیوں کے دوران اربوں روپے کے مالی نقصان کے علاوہ ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی بھی دینا پڑی۔ قوم کو دہشتگردی کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے دیگر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا پولیس کے افسروں اور جوانوں نے بھی کم وسائل کے باوجود گراں قدر قربانیاں دیتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔
    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جب بھی خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو ڈیرہ اسماعیل خان بم ڈسپوزل یونٹ کے انچارج عنائیت اللہ ٹائیگر کا نام ہمت، حوصلے اور جذبہ حب الوطنی کی زندہ مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
    ڈیرہ اسماعیل خان کے رہائشی عنایت اللہ نے 1998 میں بطور کانسٹیبل خیبرپختونخوا پولیس جائن کی جبکہ سال 2000 میں بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بن گئے، عنایت اللہ نے اپنے کیریئر کا پہلا بم سال 2001 میں ناکارہ بنایا 21 سال کے اس مشکل اور کٹھن میں متعدد بار عنایت اللہ زخمی بھی ہوئے مگر کسی بھی موقع پر عنایت اللہ ٹائیگر کا حوصلہ پست ہوا نہ ہی بم ناکارہ بناتے وقت کبھی زخمی ہاتھوں میں کپکپاہٹ کا احساس ہوا۔
    عنایت اللہ ٹائیگر نے جب بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بن کر کام شروع کیا تو ایک موٹر سائیکل، بیگ میں موجود ایک خنجر، پستول اور بارودی مواد کے ساتھ جڑی تاریں کاٹنے کے لئے ایک کٹر، ان اوزاروں کے سہارے محض جذبہ ایمانی ، شوق شہادت اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر مختصر عرصہ میں 150 سے زائد مختلف اقسام کے بم ناکارہ بنا ڈالے یہی وجہ تھی کہ بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے ستائے ڈیرہ اسماعیل کے باسیوں نے عنایت اللہ کو نہ صرف ایک مسیحا اور ہیرو کے طور پر جانا بلکہ انکی جاں فشانی کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں "ٹائیگر” کے ٹائٹل سے بھی نواز دیا۔
    اکیس سال کے کیریئر کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر مختلف نوعیت کے 3 ہزار سے زائد بموں، خود کش جیکٹس ، راکٹ لانچرز، دستی بموں اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنا چکے ہیں۔

    اپنے کیریئر کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر ہمیشہ سے ہی شرپسندوں کے نشانے پر رہے اور متعدد بار زخمی بھی ہوئے۔سال 2012 میں پیش آنے والے ایک حادثہ کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر کا بایاں بازو بری طرح متاثر ہوا جبکہ سال 2014 کے دوران ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں عنایت اللہ ٹائیگر کی ٹانگ کٹ گئی مگر عنایت اللہ ٹائیگر عزم و ہمت کے ساتھ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ آج بھی اپنے ہم وطنوں کی جانوں کے تحفظ میں پیش پیش رہتے ہیں۔
    ۔
    سال 2014 میں شدید زخمی ہونے کے باوجود عنایت اللہ ٹائیگر نے کبھی اپنی مصنوعی ٹانگ کو فرض کی ادائیگی میں آڑے نہیں آنے دیا اور صحت مند ہوتے ہی دو مہینے کی سخت فزیکل ٹریننگ کے بعد دوبارہ ناصرف بم ڈسپوزل سکواڈ جائن کیا بلکہ سال 2014 سے اب تک 82 بم ناکارہ بنا چکے ہیں۔

    عنایت اللہ ٹائیگر لگن، تجربے اور مہارت کے باعث خیبر پختونخوا پولیس میں ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں، عنایت ٹائیگر کو مخصوص صورتحال کے پیش نظر نہ صرف خیبر پختونخوا کے سرکاری و نجی اداروں اور یونیورسٹیز میں لیکچرز کے لئے مدعو کیا جاتا ہے بلکہ دیگر صوبوں میں بھی بم ڈسپوزل اہلکار عنایت اللہ ٹائیگر کے تجربے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    ملک وقوم کی عظیم خدمات کے اعتراف میں عنایت اللہ ٹائیگر کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پانچ لاکھ روپے نقد جبکہ حکومت کی طرف سے صدارتی تمغہ شجاعت سےبھی نوازا گیا تاہم عنایت اللہ ٹائیگر کا کہنا ہے کہ ہم وطنوں کی طرف سے ملنے والی محبت، دعائیں اور پیار اس کے لئے سرمایہ حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • محل سے میوزیم میں تبدیل ہونے والا "مُکھی ہاؤس”

    محل سے میوزیم میں تبدیل ہونے والا "مُکھی ہاؤس”

    1921 میں ، جیٹھانند مکھی نے حیدرآباد میں مکھی ہاؤس (مکھی بیٹی کا نام تھا) تعمیر کیا۔ اس وقت اسے سونے کے حقیقی پانی سے پینٹ کیا گیا تھا۔ 2008 میں ، مکھی خاندان کی اولادوں نے مکھی ہاؤس کے مستقبل کے دعوؤں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ اسے محفوظ کرکے میوزیم میں تبدیل کردیا جائے۔

    باغی ٹی وی : اس تحفظ کی سربراہی ڈاکٹر کلیم لاشاری نے سندھ کے محکمہ نوادرات سے کی تھی ، جس کا سن 2014 میں میوزیم کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا تھا۔ بڑے گھر میں سندھی ہندوؤں کا وہ متمول حصہ دکھاتا ہے جس کی تعلیم سے لے کر معاشرتی بہبود تک ہر شعبے میں نمایاں رہی ہے تقسیم ہند کے دوران کنبے کو چھوڑنا پڑا۔

    اب ایک صدی ہونے کو آئی ہے۔ یہ گھر آج بھی نظر رکھنے والی آنکھوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، اور دیکھنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ یہ گھر حیدرآباد میں ہوم اسٹیڈ ہال کے سامنے مکھی ہاؤس کے نام سے مشہور ہے جسے ‘مکھی محل’ بھی کہتے ہیں۔

    یہ عمارت 1921 میں اس وقت کی مشہور شخصیت جیٹھانند مکھی نے اپنی خواہش کے مطابق تعمیر کروائی تھی، جسے انہوں نے گھر کا نہیں بلکہ مکھی محل کا نام دیا تھا، اور یہ واقعی ایک محل سے کم نہیں ہے۔ جیٹھانند مکھی اس زمانے میں حیدرآباد کی شہری انتطامیہ کے سربراہ تھے۔ شہر کے کافی انتظامی معاملات ان کے سپرد تھے۔ اسی مکھی ہاؤس سے تھوڑے سے فاصلے پر مکھی باغ بھی تھا مگر اب اس باغ کے کوئی بھی آثار دکھائی نہیں دیتے، جہاں پر اب گنجان آبادی ہے۔ اس شاہکار گھر کی تعمیر کے سات برس بعد جیٹھانند مکھی 1927 میں انتقال کر گئے۔

    برصغیر کی تقیسم کے بعد جو ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا وہ سالہا سال تک جاری رہا۔ شاید ان گھروں کے در و دیوار کو کبھی یہ اندازہ نہیں رہا ہو گا کہ وہ تنہا رہ جائیں گے اور ان گھروں کی کہانیاں صرف ہم لوگوں سے زبانی ہی سنتے رہیں گے، لیکن مکھی خاندان پاکستان بننے کے بعد بھی اسی شہر اور گھر میں مقیم تھا۔

    1957 کو انہیں اس شہر کو چھوڑ کر جانا پڑا۔ جیٹھانند مکھی کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اور دو بیٹے یہاں پر رہ رہے تھے، مگر انہیں یہ کہا گیا تھا کہ اگر وہ یہاں مزید رہے تو ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں اس محل نما گھر کو خیرباد کہنا پڑا اور یہ خاندان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندوستان چلا گیا۔

    یہاں پر کسی زمانے میں ہندوستانی سفارت خانہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ ایف سی کا ہیڈ کوارٹر بھی رہا، جبکہ اسے کے نچلے حصے کو اسکول میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

    حیدرآباد کے شہر نے اس وقت اپنا سکون کھو دیا جب 1988 میں یہاں لسانی فسادات ہوئے تھے۔ انہی دنوں مکھی ہاؤس کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ گھر کے دروازے، کھڑکیاں اور کمروں میں رکھا فرنیچر جل کر خاک ہو گئے تھے مگر اس کے باوجود بھی آج مکھی ہاؤس سلامت ہے۔

    2009 میں سندھ حکومت کے محکمہء آثارِ قدیمہ نے اس گھر کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد 2013 میں مکھی خاندان نے اپنے قدیم گھر کا دورہ کیا اور اسے سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے بعد میوزیم میں تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی، چنانچہ اب اسے ایک میوزیم میں تبدیل کیا گیا ہے۔

    مکھی ہاؤس ایک دو منزلہ عمارت ہے، جس میں 12 کمرے اور دو بڑے ہال ہیں۔ نذر آتش ہو جانے کے بعد دیواروں پر کیے گئے نقش و نگار بھی مٹ گئے تھے مگر چند بچ جانے والے نقوش کو دیکھ کر دیواروں اور چھت پر اسی قسم کے نقش و نگار بنائے گئے ہیں، تاکہ اس کی قدامت برقرار رہے۔

    موٹی دیواروں میں کافی کھڑکیاں اور دروازے بنائے گئے ہیں، جن میں شیشم اور ساگوان کی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہر کمرے کی دیوار میں الماریاں نصب کی گئی ہیں، روشندان بنائے گئے ہیں۔ اس دور میں جو فن تعمیر کے رجحانات تھے، انہیں برقرار رکھتے ہوئے گھر کو بنایا گیا ہے۔ مگر اس گھر کی خاص بات یہ کہ اس کا ایک مرکزی گنبد بھی ہے جو اسے تمام عمارات سے ممتاز بناتا ہے، اور اسے دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ کشادہ کمرے اور رہداریاں بھی گھر کی زینت میں اضافہ کرتے ہیں۔ عمارت کی تعمیر میں اینٹ کے بجائے بلاکس کا استعمال کیا گیا ہے-

    اس گھر میں ان لوگوں کی یادیں بسی ہیں جن میں سے کافی اب اس دنیا میں نہیں رہے، مگر یہ گھر ایک ایسا تاریخی ورثہ بن چکا ہے جس کی حفاظت نہ صرف شہریوں پر بلکہ حکومت پر بھی لازم ہے تاکہ یہ دوبارہ کسی زوال کا شکار نہ ہو، کیونکہ اس طرح کی عمارات اب حیدرآباد میں نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔

     

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ
  • رشتوں کو بچائیں مگر کیسے؟      تحریر: سعدیہ بنت خورشید احمد

    رشتوں کو بچائیں مگر کیسے؟ تحریر: سعدیہ بنت خورشید احمد

    رشتوں کو بچائیں مگر کیسے
    تحریر:- سعدیہ بنت خورشید احمد

    خاندانی نظام معاشرے کی بہت اہم اکائی ہے مختلف افراد سے مل کے ایک خاندان بنتا ہے۔ اس خاندان کو قائم رکھنے کے لئے ایثار ، قربانی، محبت و مودّت، سمجھوتہ وغیرھم کرنے کی سخت ترین ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ ہر فرد کی سوچ مختلف ہوتی ہے۔ جب سوچ مختلف ہو تو مسائل بھی مزید بڑھتے ھیں۔
    ہمارے روایتی معاشرے میں خاندانی نظام کو بہت اہمیت حاصل ہے۔

    اس کی اس سے بھی زیادہ اہمیت قرآن و حدیث میں واضح کردی گئی ہےنبی علیہ الصلوۃ والسلام کی حیات طیبہ ھمارے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت سے موجود ہے بیویوں کے حقوق الگ، والدین کے الگ، شوہر کے الگ اولاد کے الگ حقوق متعین فرمائےاور ان کو اپنی عملی زندگی میں لاگو کرکے دکھایا مزید اس کی تائید یوں فرمائی کہ جو ھمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کا ادب نہ کرے وہ ھم میں سے نہیں۔

    اس حدیث پر غور و خوض کیا جائے تو یہ بہت وسیع معنی رکھتی ہے جس میں پورا کا پورا خاندان سما جاتا ہےاسلام خاندان کا ایک وسیع تصور رکھتا ہے جس میں ماں باپ بیٹے بیٹیاں، دادا دادی۔ چچا تایا وغیرہ سب شمار ہوتے ھیں لیکن شریعت نے سب کی حدود بھی متعین فرمائیں کہ کوئی کسی دوسرے کی ذاتیات یا حقوق کو پامال نہ کرے۔

    ھمارے معاشرے میں خاندان تو بہرحال موجود ھیں لیکن بدقسمتی سے ہم یورپ کی رنگینیوں سے مرعوب ہو کر جدیدیت کا شکار ہو گئےھم اپنی تمام روایات کی پاسداری بھی کرنا چاہتے ھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ماڈرن ازم بھی ھمارے اندر موجود ہے جو کہ بالکل ہی متضاد نظام ھیں یعنی ھم روایتی معاشرے کے مطابق رشتوں ناتوں کو بھی بچانا چاہتے ہیں اور یورپ کی طرح ایک خاص لائف اسٹائل کو بھی اپنانا چاہتے ھیں۔

    یورپ نے تو خاندانی نظام کو بالکل ختم ہی کردیا اس لئے جو شخص کماتا ہے وہ ساری کمائی اپنے آپ پر ہی خرچ کرتا ہے اس لئے ان کے لائف اسٹائلز ھمارے سامنے اپنی مثال آپ ھیں جبکہ ھمارے ہاں جہاں خاندانی نظام رائج ہےایک شخص کمانے والا ہوتا ہے جبکہ باقی سب افراد کھانے والے، تو وہاں ایسے شاہانہ لائف اسٹائل کا سوچنا ہی بے کار ہے۔

    مزید برآں یہ کہ ایک شخص شادی سے پہلے اپنی تمام کمائی اپنی ماں کے حوالے کرتا ہے اور اس کی توجہ کا مرکز اس کی ماں اور بہن ہی ہوتی ہے جبکہ شادی کے بعد یہ نظام دو حصوں میں منقسم ہو جاتا ہے اور بچوں کی پیدائش کے بعد معاملات مزید بڑھ جاتے ھیں جس میں اخراجات بڑھ جاتے ھیں اور سب کو وقت دینا مشکل ہو جاتا ہے-

    یہ تقسیم عموماً ایک ماں کی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔ جس سے مسائل مزید بڑھتے ھیں اور ساس بہو اور نندوں کے درمیان معمولی سے معمولی بات پہ لڑائی ہوتی چلی جاتی ہے جب ایک عورت کی خواہشات پوری نہیں ہو پاتیں تو حقوق نسواں کا نعرہ بلند ہونے لگتا ہے جو کہ مغرب نے عورت کے دماغ میں فتور ڈالا ہوا ہے۔

    عورت مرد کو اپنا حریف سمجھتی ہے ھماری عورت اس مغرب زدہ نعرے کو سمجھ ہی نہ سکی جو معاشرے کو بگاڑنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے مغرب نے اپنے اہداف کو پورا کرنے کے لئے مسلمانوں کے مضبوط ترین خاندانوں کو نشانہ بنایا -اور بالآخر ھمارے خاندان اب کمزور ہو چکے ھیں مسئلہ سمجھنے کا یہ ہے کہ جدید دور میاں بیوی کو لڑانا چاہتا ہے-

    عورت کی خواہشات زیادہ، آمدنی کم ہوتی ہے جس سے ایک عورت اپنی زندگی کا دائرہ تنگ ہوتا ہوا محسوس کرتی ہے جس کے پیش نظر وہ مادیت پرستی کی اس خواہش کو لے کر گھر سے باہر نکلتی ہے قطع نظر اس سے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت متاثر ہوگی ھم باہر بہت کم وقت گزارتے ہیں جس سے سے لوگوں کے رہن سہن کا ٹھیک سے اندازہ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    باہر نکلتے ہوئے مرد اور عورت سب ہی اچھا خاصا تیار ہوتے ھیں اور بول چال بھی اکثر خوبصورت ہوتا ہے جس کو دیکھ کے ھم بہت جلد مرعوب ہو جاتے ھیں یہی چیز ہمارے گھر کے ماحول کو خراب کرنے کی ایک اھم وجہ بنتی ہے کہ ہمیں باہر کے ماحول کو دیکھ کے گھر کے ماحول میں خامیاں نظر آنے لگتی ھیں۔

    عملی زندگی باہر کی دنیا سے یکسر مختلف ہے جس میں بہت کچھ دیکھنا سننا برداشت کرنا پڑتا ہے لیکن افسوس کہ ھمارے اندر قوت برداشت بہت کم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے خاندان جڑنے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتے ھیں دوسروں کے طرز زندگی سے مرعوب ہو کر اورباہر کے لوگوں کی نظر آنے والی خوبیوں سے متاثر ہو کر جب ھم اپنے گھریلو نظم کی کسی تیسرے شکایت کرتے ھیں تو تیسرا فریق اس مسئلہ کو مزید ابھار کے بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

    اگر کہیں کسی نے غلطی سے کچھ برداشت کر لیا تو تیسرے شخص کو یہ بات برداشت نہیں ہوتی اور اکثر ایسا کہا جاتا ہے کہ تمہارا فوری دو کی بجائے چار سنانا بنتا تھا تاکہ آئندہ مزید کچھ کہنے کی ہمت نہ ہو جو بات گھر کی چار دیواری میں خوش اسلوبی سے منظم طریقے سے حل کی جا سکتی تھی وہ کورٹ کچہریوں کی زینت بن جاتی ہے۔ گلیوں کوچوں کا ایک خاص موضوع بننے کے بعد گھر کی عزت کو داغ دار کرنے کا سبب بنتی ہے جس کے باعث جو مرد بہادری کے طور پہ معروف ہوتے ھیں، کسی کو منہ دکھانے سے کنی کتراتے ھیں ۔

    یوں معاملات سلجھنے کی بجائے مزید الجھتے چلے جاتے ھیں یوں جدید دور میاں بیوی کو لڑوا کر باہر کے لوگوں سے جوڑنا چاہتا ہے ھماری اصل یہ ہے کہ ہم تضاد کا شکار ہوگئے ھیں ان مسائل کا واحد حل صرف اور صرف سمجھوتہ ہے ماں ہے تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ مزید ذمہ داریوں اور وقت کی قلت کے پیش نظر اگر توجہ کم دی جا رہی ہے تو اس کو زیادہ مسئلہ نہ بنایا جائے کیونکہ بیوی بچوں کے حقوق بھی بہرحال مسلّم ھیں-

    ایک بیوی کو غور کرنا چاہیے کہ افراد زیادہ ھیں کمانے والا ایک ہے تو اخراجات کی فہرست کم رکھےمعاملہ جس بھی طرف ہو، سمجھوتہ مرد اور عورت دونوں کی اشد ترین ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے خوبصورت خاندانی نظام کو قائم رکھ سکتے ھیں اور رشتوں کو بچا سکتے ھیں کیونکہ زندگی اک جہد مسلسل ہے، سفر مسلسل ہے ۔ یہاں ھمیشہ نہیں رہنا ماسوائے جتنا وقت ہمارے لئے لکھ دیا گیا اس کو گزارنا ہے فقط۔ یوں نہیں تو یوں صحیح گزر ہی جائے گی

  • واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل

    واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل

    فیس بک کی ایپ واٹس ایپ صارفین جلد ہی واٹس ایپ کو مختلف ڈیوائسز پر استعمال کرسکیں گے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کو آپ ایک وقت میں ایک اکاؤنٹ کو ایک ہی ڈیوائس پر چلا سکتے ہیں، اور کمپیوٹر پر چلانے کے لیے آپ کے موبائل کا انٹرنیٹ سے منسلک ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن اب واٹس ایپ گوگل پلے بیٹا پروگرام کے ذریعے دی گئی نئی اپ ڈیٹ 2.21.14.1 میں اپنے استعمال کنندگان کے لیے نہایت اہم فیچر کی آزمائش کر رہا ہے۔

    اس نئی اپ ڈیٹ کے بیٹا(آزمائشی) ورژن میں واٹس ایپ کے مختلف ڈیوائسز پر کام کرنے کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ اور اس نئے فیچر کی اپ ڈیٹ جلد ہی صارفین کے لیے جاری کردی جائے گی جس کے بعد صارفین واٹس ایپ ویب، واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ اور پورٹل کو موبائل فون کے انٹرنیٹ سے منسلک ہوئے بنا استعمال کر سکیں گے۔


    ٹیکنالوجی ویب سائٹ ویب بیٹا کے مطابق واٹس ایپ لنکڈ موبائل ڈیوائسز کے لیے ’ لاگ آؤٹ‘ کے آپشن پر کام کر رہا ہے اور یہ فیچر بھی مستقبل میں دستیاب ہوگا۔ آج بھی واٹس ایپ نے اس سیکشن کو دوبارہ اپ ڈیٹ کیا ہے جو کہ واٹس ایپ اکاؤنٹس میں ملٹی ڈیواسز فعال ہونے کے بعد دستیاب ہوگا۔ جب کہ ملٹی ڈیوائسز استعمال کرتے ہوئے آپ کی کالز اور پیغامات ’ اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹیڈ‘ ہوں گے۔

    ملٹی ڈیوائس کے بارے میں تازہ ترین خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ملٹی ڈیوائس کے پہلے ورژن کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے موبائل کو کنیکٹ کرنا ممکن نہیں ہوگا اور مندرجہ بالااسکرین شاٹ میں واٹس ایپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملٹی ڈیوائس بیٹا کو استعمال کرتے ہوئے آپ صرف ایک فون ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

    ویب سائٹ ویب بیٹا کے مطابق فیس بک کے بانی مارک زکر برگ بھی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ ملٹی ڈیوائس فیچر اگلے دو ماہ کے اندر اینڈروئیڈ اور آئی او ایس کے استعمال کنندگان کے لیے دستیاب ہوگا۔

  • سمندر سے ملنے والا نایاب شیل 18000 روپے میں نیلام

    سمندر سے ملنے والا نایاب شیل 18000 روپے میں نیلام

    بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں سمندر سے ملنے والا شیل ساڑھے 18000 ہزار روپے میں نیلام ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق آندھرا پردیش کے مشرقی گوداوری ضلع کے اپڈا گاؤں میں دریائے گوداوری کے کنارے پر غیر معمولی طور پر نارنجی رنگ کا بڑا شیل پایا گیا ہے۔ سمندری شیل ، جو آسٹریلیائی بگل یا فلاز ترہی کے نام سے جانا جاتا ہے کی نیلامی 18،000 روپے میں کی گئی۔


    خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق 27 جون کو سمندری مخلوق کی تصاویر ٹویٹر پر پوسٹ کی گئیں۔ شیل کی اس قسم کو سائنسی طور پر سرینکس آروینس کے نام سے جانا جاتا ہے ، یہ شیل دنیا کے سب سے بڑے سائز کے شیل کی نسل سے ہے ٕ۔ سیرنکس آروانس 91 سینٹی میٹر تک لمبا اور 18 کلو گرام تک وزنی ہوسکتا ہے۔ اس کے کنبے کی واحد نسل ہونے کی وجہ سے ، سرینکس آروانس سب سے بڑا زندہ شیل گیسٹروپڈ ہے۔

    یہ قسم عام طور پر شمالی آسٹریلیا اور قریبی علاقوں میں پاپو نیو گنی اور مشرقی انڈونیشیا میں پائی جاتی ہے۔ سرینک آروانس مقامی طور پر ان جگہوں پر عام ہے جہاں زیادہ مقدار میں مچھلی نہیں ہوتی ہے اور وہ کیڑے کھانے سے زندہ رہتے ہیں۔ چونکہ وہ کم سے کم 50 میٹر گہرائی کے ساتھ گہرے سمندر میں رہتے ہیں ، لہذا جب کبھی بڑی لہریں انھیں دھکیلتی ہیں تو ساحل پر شاذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ، انواع کی محولیاتی نظام کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

  • نیوٹرل ہونے اور پروفیشنلزم کا ڈھکوسلہ. تحریر ‏حمیرا الیاس

    نیوٹرل ہونے اور پروفیشنلزم کا ڈھکوسلہ. تحریر ‏حمیرا الیاس

    میرے بھائی ہم صحافی ہیں۔۔ہمارے پروفیشن کے مطابق ہم سائیڈز نہیں لے سکتے۔ہمیں نیوٹرل ہو کر رہنا پڑتا ہے ورنہ آپ اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ خیانت کرتے ہیں۔

    دیکھئے ہم کیریئر ڈپلومیٹ ہیں اور ہمارا کام ہے کہ ریاست ہمیں جو چیز کہے ہم اس کے لئے لوبنگ کریں اور ان مفادات کو حاصل کریں۔ ہم خود سے یہ تعین نہیں کر سکتے کہ کیا چیز ہمارے ملک کے لیے اچھی یا بری ہے۔۔۔ ہم وہ کریں گے جو ہمیں ریاست کہے گی۔ یہی پروفیشنلزم ہے۔

    دیکھیں میں ایک پروفیشنل سولجر ہوں۔میرا یہ کام نہیں ہے کہ اس بات کا تعین کرو کہ کون سا آپریشن صحیح ہے یا غلط۔ ہمیں قیادت جو حکم دیتی ہے بطور پروفیشنل فوجی میرا کام ہے اس پر عمل کرنا۔ صحیح ہے یا غلط پالیسی۔۔ اچھا یا برا کام۔۔۔ یہ تعین کرنا قیادت کا کام ہے۔

    دیکھیں میں ایک پروفیشنل وکیل ہوں۔۔۔میرا کام موکل کا دفاع کرنا ہے۔ اور میرے انکل ایک پروفیشنل جج ہیں۔ ان کا کام موجودہ قانون اور اس کے اصولوں کے مطابق مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے ۔۔۔وہ قانون سخت ہے یا نرم۔۔ اسلامی ہے یا غیر اسلامی۔۔۔ یہ دیکھنا ان کا کام نہیں ہے۔ بطور پروفیشنل، ان کا کام قانون جو بھی ہے اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔

    اوکے اوکے اوکے!
    او۔۔۔۔کے!
    او۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے!!!!!

    تو جناب میرے آپ سے کچھ سوال ہے!!!

    کہ آپ کے لیے شریعت کا قانون زیادہ معتبر ہے یا آپ کا پروفیشنل کوڈ آف ایتھکس اور پروفیشن کے قوانین؟

    آپ اللہ کو سب سے پہلے بطور مسلمان جواب دینگے یا بطور صحافی؟

    آپ کو اللہ نے اپنے بندے کی حیثیت میں پیدا کیا ہے یا صحافی کی حیثیت میں؟

    آپ بطور مسلمان اسلام کے وکیل پہلے نہیں ہیں؟

    آپ کا کام اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ نہیں ہے؟

    آپ کا کام امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہیں ہے؟

    کیوں کیا آپ اسلام سے کوئی بالاتر کسی پوزیشن پر کھڑے ہیں؟

    بطور صحافی نیوٹرل ہونے کا دعوی کرنا خود ایک آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہے۔ جو مغربی ماڈل کی پوزیشن ہے۔ کیا مغرب کا ہر صحافی جمہوریت، لبرل رائٹس، ہیومن رائٹس کو نیوٹرل پوزیشن نہیں سمجھتا؟ آپ کی نظر میں عورت کو کیا حق ملنا چاہئے؟ آپ کا جو بھی جواب ہوگا یہ ایک آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہوگی۔۔۔ تو نیوٹرل بھلا کیسے کوئی ہو سکتا ہے؟ اور کیا آپ ملک کے مفادات کو بھی نیوٹرل ہونے کے نام پر اگنور کر دیں گے، جس چیز کو بھی بے شک آپ ملک کا مفاد سمجھیں؟

    اگر آپ کیریئر ڈپلومیٹ ہیں۔۔ تو آپ جانتے بوجھتے کشمیر پر سودا بازی کی حکومتی ہدایات کو بیک ڈور ڈپلومیسی سے کیوں پرفارم کریں گے۔ جبکہ آپ کو یہ معلوم ہو کہ یہ امریکی ہدایت پر کیا جا رہا ہے۔ اور یہ براہ راست ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ کیوں کیا آپ کا پروفیشن ملک یا اسلام سے پہلے ہے؟ اگر آپ ملازم ہیں اور آپ کی قیادت آپ کو ان آپریشنز کا حکم دیں جس کے لیے وہ امریکہ سے ڈالر وصول کر رہے ہو اور آپ اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ امریکی پالیسی ہے تو اس کے لئے آپ اپنے لوگوں کو کیسے تاراج کر سکتے ہیں؟ کیا آپ اللہ کو جواب دہ نہیں ہے؟ اللہ سبحان تعالی نے قرآن میں پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اللہ اس عذر کو قبول نہیں کرے گا کہ آپ اپنے بڑوں کی اطاعت کر رہے تھے۔

    اور آپ ایک پروفیشنل جج ہیں تو کیا آپ قرآن کے اس حکم سے مبرا ہے جس میں کہا گیا کہ جو کوئی اس چیز سے فیصلے نہ کرے جو اللہ نے نازل کر دیا ہے تو وہ ظالم ہیں وہ فاسق ہے اور وہ کافر ہے۔

    تو یہ نیوٹرل ہونا ایک ڈھکوسلہ ہے جسکو مغرب نے ڈیزائن کیا ہے اور یہ بنیادی طور پر مغربی آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہے جس کو آپ نیوٹرل نیوٹرل کا راگ الاپ کر اپنائے ہوئے ہیں۔
    ‎@humerafs

  • ماہِ نبوت طلوع ہوا .تحریر :فاطمہ بلوچ

    ماہِ نبوت طلوع ہوا .تحریر :فاطمہ بلوچ

    سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی
    سب سے بالا و وَالا ہمَارا نبی
    اپنے مولیٰ کا پیارا ہمَارا نبی
    دونوں عالَم کا دُولہا ہمَارا نبی
    بزمِ آخر کا شمع فَروزاں ہوا
    نُورِ اوّل کا جلوہ ہمَارا نبی

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کی آنول نال کٹی ہوئی تھی۔{آنول نال کو بچے پیدا ہونے کے بعد دایہ کاٹتی ہے۔}
    آپ ختنہ شدہ پیدا ہوئے۔عبدالمطلب یہ دیکھ کر بےحد حیران ہوئے اور خوش بھی۔وہ کہا کرتے تھے، میرا بیٹا نرالی شان کا ہوگا۔{الہدایہ}
    آپ کی پیدائش سے پہلے مکّہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے۔لیکن جونہی آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا۔بارشیں شروع ہوگئیں، خشک سالی دور ہوگئی۔درخت ہرے بھرے ہوگئے اور پھلوں سے لد گئے۔زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔
    پیدائش کے وقت آپ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے۔سر آسمان کی طرف تھا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے۔مطلب یہ کہ سجدے کی سی حالت میں تھے۔{طبقات}
    آپ کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔جیسا کہ ہم نماز میں اٹھاتے ہیں۔
    حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    "جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا۔اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے۔” ( طبقات )
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں:
    "محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی میں مجھے بصری میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں تک نظر آئیں۔”
    علامہ سہلی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ نے اللہ کی تعریف کی۔ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں:
    "اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا ۔
    "اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ کی بےحد تعریف ہے اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں۔”
    آپ کی ولادت کس دن ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔آپ صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔
    تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت سے قول ہیں۔ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ایک روایت 8 ربیع الاول کی ہے، ایک روایت 2 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں۔زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ آپ 8 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔تقویم کے طریقہ کے حساب سے جب تاریخ نکالی گئی تو 9 ربیع الاول نکلی۔مطلب یہ کہ اس بارے میں بالکل صیح بات کسی کو معلوم نہیں۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مہینہ ربیع الاول کا تھا اور دن پیر کا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو پیر کے دن ہی نبوت ملی۔پیر کے روز ہی آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ کی وفات ہوئی۔
    آپ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔یعنی ہاتھیوں والے سال میں۔اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔
    آپ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی تھی –
    واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ
    ابرہہ یمن کا عیسائی حاکم تھا – حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں – اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا :
    ” یہ لوگ کہاں جاتے ہیں ”
    اسے جواب ملا:
    ” بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں ”
    اس نے پوچھا:
    ” بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے”
    اسے بتایا گیا :
    ” پتھروں کا ہے ”
    اس نے پوچھا :
    ” اس کا لباس کیا ”
    بتایا گیا
    ” ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے ”
    ابرہہ عیسائی تھا – ساری بات سن کر اس نے کہا ":
    "مسیح کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے اس سے اچھا گھر تعمیر کروں گا ”
    اس طرح اس نے سرخ ” سفید ” زرد ” اور سیاہ پتھروں سے ایک گھر بنوایا – سونے اور چاندی سے اس کو سجایا اس میں کئی دروازے رکھوائے اس میں سونے کے پترے جڑوائے – اس کے درمیان میں جواہر لگوائے – اس مکان میں ایک بڑا سا یاقوت لگوایا – پردے لگوائے ” وہاں خوشبوئیں سلگانے کا انتظام کیا – اس کی دیواروں پر اس قدر مشک ملا جاتا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کی ہوگئیں – یہاں تک کہ جواہر بھی نظر نہیں آتے تھے۔
    پھر لوگوں سے کہا:
    ” اب تمہیں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جانے کی ضرورت نہیں رہی, میں نے یہیں تمہارے لیے بیت اللہ بنوادیا ہے لہٰذا اب تم اس کا طواف کرو ”
    اس طرح کچھ قبائل کئی سال تک اس کا حج کرتے رہے – اس میں اعتکاف کرتے رہے – حج والے مناسک بھی یہیں ادا کرتے رہے –
    عرب کے ایک شخص نفیل خشمی سے یہ بات برداشت نا ہوسکی – وہ اس مصنوعی خانۂ کعبہ کے خلاف دل ہی دل میں کڑھتا رہا -آخر اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ابرہہ کی اس عمارت کو گندہ کرکے چھوڑے گا -پھر ایک رات اس نے چوری چھپے بہت سی گندگی اس میں ڈال دی -ابرہہ کو معلوم ہوا تو سخت غضب ناک ہوا کہنے لگا :
    "یہ کاروائی کسی عرب نے اپنے کعبہ کے لیے کی ہے , میں اسے ڈھادوں گا اس کا ایک ایک پتھر توڑدوں گا ”
    اس نے شام و حبشہ کو یہ تفصیلات لکھ دیں , اس سے درخواست کی کہ وہ اپنا ہاتھی بھیج دے – اس ہاتھی کا نام محمود تھا – یہ اس قدر بڑا تھا کہ اتنا بڑا ہاتھی روئے زمین پر دیکھنے میں نہیں آیا تھا – جب ہاتھی اس کے پاس پہنچ گیا تو وہ اپنی فوج لیکر نکلا اور مکہ کا رخ کیا – یہ لشکر جب مکہ کے قرب و جوار میں پہنچا تو ابرہہ نے فوج کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے جانور لوٹ لیے جائیں – اس کے حکم پر فوجیوں نے جانور پکڑ لیے – ان میں عبدالمطلِّب کے اونٹ بھی تھے –
    نفیل بھی اس لشکر میں ابرہہ کے ساتھ موجود تھا اور یہ عبدالمطلِّب کا دوست تھا – عبدالمطلِّب اس سے ملے – اونٹوں کے سلسلے میں بات کی – نفیل نے ابرہہ سے کہا :
    ” قریش کا سردار عبدالمطلِّب ملنا چاہتا ہے یہ شخص تمام عرب کا سردار ہے ” شرف اور بزرگی اسے حاصل ہے – لوگوں میں اس کا بہت بڑا اثر ہے -لوگوں کو اچھے اچھے گھوڑے دیتا ہے, انہیں عطیات دیتا ہے, کھانا کھلاتا ہے- ”
    یہ گویا عبدالمطلِّب کا تعارف تھا – ابرہہ نے انہیں ملاقات کے لیے بلالیا – ابرہہ نے ان سے پوچھا
    ” بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں؟”
    انہوں نے جواب دیا :
    ” میں چاہتا ہوں میرے اونٹ مجھے واپس مل جائیں ”
    ان کی بات سن کر ابرہہ بہت حیران ہوا – اس نے کہا :
    ” مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ عرب کے سردار ہے ” بہت عِزّت اور بزرگی کے مالک ہیں ” لیکن لگتا ہے مجھ سے غلط بیانی کی گئی ہے- کیونکہ میرا خیال تھا آپ مجھ سے بیت اللہ کے بارے میں بات کریں گے جس کو میں گرانے آیا ہوں اور جس کے ساتھ آپ سب کی عِزّت وابستہ ہے – لیکن آپ نے تو سرے سے اس کی بات ہی نہیں کی اور اپنے اونٹوں کا رونا لیکر بیٹھ گئے – یہ کیا بات ہوئی ”
    اس کی بات سن کر عبدالمطلِّب بولے
    "آپ میرے اونٹ مجھے واپس دے دیں بیت اللہ کے ساتھ جو چاہیں کریں ” اس لیے کہ اس گھر کا ایک پروردگار ہے – وہ خود ہی اس کی حفاظت کرے گا – مجھے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ”
    ان کی بات سن کر ابرہہ نے حکم دیا :
    "ان کے اونٹ واپس دے دیے جائیں ”
    جب انہیں ان کے اونٹ واپس مل گئے ” تو انھوں نے ان کے سموں پر چمڑے چڑھا دیے – ان پر نشان لگادیے – انہیں قربانی کے لیے وقف کرکے حرم میں چھوڑ دیا تاکہ پھر کوئی انہیں پکڑ لے تو حرم کا پروردگار اس پر غضب ناک ہو –
    پھر عبدالمطلِّب حِرا پہاڑ پر چڑھ گئے – ان کے ساتھ ان کے کچھ دوست تھے – انہوں نے اللہ سے درخواست کی :
    "اے اللہ! انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے سامان کی حفاظت کر۔”
    ادھر سے ابرہہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھا۔وہ خود ہاتھی پر سوار لشکر کے درمیان موجود تھا۔ایسے میں اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ہاتھی بانوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ اٹھا۔انہوں نے اس کے سر پر ضربیں لگائیں۔آنکس چبھوئے مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔کچھ سوچ کر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ فوراً اس طرف چلنے لگا۔اس کا رخ پھر مکہ کی طرف کیا گیا تو پھر رک گیا۔ہاتھی بانوں نے یہ تجربہ بار بار کیا۔آخر ابرہہ نے حکم دیا، ہاتھی کو شراب پلائی جائے تاکہ نشے میں اسے کچھ ہوش نہ رہ جائے اور ہم اسے مکہ کی طرف آگے بڑھاسکیں۔چنانچہ اسے شراب پلائی گئی، لیکن اس پر اس کا بھی اثر نہ ہوا۔

  • انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی . تحریر: مبین خان

    انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی . تحریر: مبین خان

    انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی .جب تک کے وہ خود ہار نہ مان لے۔

    ہمارے سامنے اکثر ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو قسمت اور نصیب کی خرابی کا شکوہ کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ یا تو وہ خود محنت نہیں کرتے، کام سے جی چراتے ہیں یا پھر انہیں انکی نیت کا بدلہ مل رہا ہوتا ہے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ بجائے اپنی غلطی ماننے کے وہ سارا الزام قسمت کو دے رہے ہوتے ہیں کہ خدا ہمیں دینا ہی نہیں چاہتا یا پھر یہ کہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ نصیب میں ہی یہ ملنا نہ تھا۔ یہ سراسر ایک غلط نظریہ ہے۔ خدا پاک کبھی کسی کے ساتھ زیادتی یا نا انصافی نہیں کرتا۔ ہر کسی کو اسکی محنت کا ثمر ضرور ملتا ہے۔ ہاں مگر اسکے لیے محنت تو ضروری ہے۔

    اللہ پاک نے ہمیشہ انسان کیلئے کئی راستے کھول رکھے ہوتے ہیں، اب اہم یہ ہے کہ کون اپنی مرضی کا مقام پانے یا اپنی خواہش بر لانے کیلئے محنت جاری رکھتا ہے ۔ آزمائشیں بھی آتی ہیں مگر وہ ہمرے خدا پر ایمان اور یقین کا ایک امتحان ہوتی ہیں۔ جو انہیں صبر شکر سے گزارنے میں کامیا ب ہو جاتا ہے اسکے لیے اللہ پاک بہت اچھا اجر تیار کر رکھتے ہیں۔

    اس لیے کبھی کبھی ہمیں ہماری من پسند چیز یا راہ مل نہیں پاتی۔ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کبھی کبیھی خدا اپنے بندے کی محنت ، نیت اور اسکا جذبہ پرکھنا چاہ رہا ہوتا ہے، اسی لیے کوئی ایک راہ بند کردی جاتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ مزید کئی راہیں کھول دی جاتی ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کو بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ خدا پاک کے ہر فیصلے میں حکمت ہوتی ہے۔ اگر ہمیں محنت مشقت کے بعد بھی کچھ مل نہیں پا رہا تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے لیے بہتر نہ ہو۔ اگر آزمائش آ جائے تو

    بے صبری کا مظاہرہ کیوں؟
    کیا ہمیں اللہ پاک پر یقین نہیں ؟
    کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہے؟
    لیکن جب محنت اور کوشش کی ہی نہ جائے تو نصیب یا قسمت کو الزام دینا کہاں کا انصاف ہے؟