Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تعلیم کیوں ضروری ہے. تحریر: ملک ضماد

    تعلیم کیوں ضروری ہے. تحریر: ملک ضماد

    حدیث شریف کا مفہوم ہے
    طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ
    عِلم کا حاصل کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت)پرفرض ہے۔
    (سنن ابن ماجہ)
    اب تعلیم کے مختلف مراحل اور شعبے ہیں جن میں انسان کو پہلے مرحلے میں وہ تعلیم حاصل کرنی جس سے وہ ایمان کو سمجھ بوجھ سکے
    پھر اس کو اتنا علم حاصل کرنا چاہیے جس سے وہ پاکی، ناپاکی، حلال، حرام، کا فرق کر سکے
    پھر ارکان اسلام کے بارے میں اتنا علم ضروری ہے جس سے وہ اسلام کے بنیادی ارکان کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے والا بن جائے
    پھر اس کو معاشرے، ماحول کے بارے میں بھی اتنا علم ہونا چاہئے تاکہ اس کو پتہ چل سکے اس وقت ہمارے معاشرے میں کیا اور کیسے چل رہا ہے سب
    معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار اپنے علم کی بنیاد پے ادا کر سکے
    دور حاضر میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے جس سے انسان کو نا صرف اپنے ادر گرد بلکہ ضلع، صوبہ، ملکی سطح پر حالات و واقعات سے واقف ہو سکے اور دنیا میں چلنے والی ٹیکنالوجی کو بھی سمجھ سکتا ہو اور اس کے مطابق معاشرے میں چلنے اور اس پے عمل کرنے کی صلاحیت رکھنا بھی آج کے دور میں ضروری ہے
    تاکہ انسان اگر دین کا کام بھی کرے تو اس کے لیے بھی اس کو مشکل نا ہو وہ آسانی سے ہر علاقے، گلی، محلے  میں جا کر دیں اسلام کی تبلیغ کر سکے

    اسی طرح اگر اس نے کوئی کام کاروبار کرنا ہے تو اس کے لیے بھی ضروری ہے اس کو اتنا علم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے کاروبار کو حلال طریقے سے چلا سکے
    اپنے ماتحت لوگوں کے حقوق کا اس طرح خیال رکھے جیسے شریعت اس کو اجازت دیتی ہے اور شریعت اس کو بتاتی ہے
    دنیاوی علم اتنا ضروری ہے اس دور جدید میں ہم دنیا سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں
    علم حاصل کرنے کا مقصد صرف نوکری حاصل کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کا ایک اہم فرد بننے کے لیے ضروری ہے اتنا علم ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے میں اپنی روز مرہ کی زندگی عزت و احترام سے گزارے اور اپنے ارد گرد لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچائے
    علم کا مقصد صرف حاصل کرنا ہی نہیں بلکہ اس علم سے دوسروں کو سیراب کرنا بھی ضروری ہے
    ہم علم حاصل کر کے اپنے آپ کو تو فائدہ دے سکتے ہیں لیکن اس سے وہ علم جہاں تک ہے وہاں ہی رک جائے گا لیکن اگر ہم اسی علم کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اور اس سے باقی لوگوں کو فائدہ پہنچائیں گے تو وہ علم بڑھتا رہے گا اور اس میں ہمارا حصہ بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    ایک اور حدیث شریف کا مفہوم ہے
    ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: علم حاصل کرو، گو تمہیں چین میں جانا پڑے”
    اس حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم حاصل کرنے کی اہمیت کے بارے میں بتایا علم حاصل کرنے کے لیے آپ کو کتنا بھی دور جانا پڑے آپ جاو اور علم حاصل کرو
    تعلیم کے بعد اگر کوئی انسان کوئی چھوٹا موٹا کام یا نوکری بھی کرتا ہے تو اس میں اور جو بغیر تعلیم کے بڑے سے بڑا کاروبار بھی کر لے اس میں واضح فرق دیکھنے کو ملتا ہے
    بڑھا لکھا آدمی چھوٹا کام، کاروبار کر کے بھی بڑا بن سکتا ہے لیکن تعلیم کے بغیر شروع کیا گیا کام، کاروبار جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں ہی رہتا ہے اکثر دیکھا گیا ہے پڑھے لکھے لوگ نیچے سے اوپر جانے پر یقین رکھتے ہیں جب اس کے برعکس جو لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے وہ ڈائریکٹ اوپر جانا چاہتے ہیں جس سے وہ اکثر منہ کے بل گرتے ہیں اور اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں
    تعلیم کا اتنا ہونا ضروری ہے انسان اپنے معاشرے میں روزمرہ کی زندگی عزت و احترام اور دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ساتھ گزار سکے اور دور جدید میں دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہو

  • ڈو مور سے نو مور تک کا سفر.تحریر: ملک ضماد

    ڈو مور سے نو مور تک کا سفر.تحریر: ملک ضماد

    پاکستان کو آزاد ہوئے 74 سال ہو گئے لیکن ابھی تک ہم انگریزوں کے غلام بنے ہوئے تھے
    کبھی امریکہ تو کبھی یورپ کے آگے ہم جھکے رہتے تھے
    امریکہ امداد اور فنڈز کے نام پے ہمیں پیشہ تو دیتا رہا لیکن ہم سے اپنی مرضی کے کام بھی لیتا رہا
    کبھی روس کے خلاف جنگ میں مدد تو کبھی افغان جنگ میں پاکستان کی سرزمین استعمال کی جاتی رہی
    کبھی پاکستان کے اندر اسامہ کے لیے آپریشن پاکستان ملٹری اکیڈمی کے ساتھ کر کے چلے جاتے تھے تو کبھی بغیر کسی اجازت یا پیشگی اطلاع کے پاکستان کے جس شہر میں دل کرتا تھا ڈرون اٹیک کر کے پاکستانیوں کو شہید کر کے چلا جاتا تھا اور ہم بات بھی نا کر سکتے تھے کیوں کہ امریکہ ہمیں امداد دے رہا تھا
    ہم بولنے کی ہمت بھی کرتے تو ہمیں مختلف پروگرامز جو آئی ایم ایف یا امریکہ کے تعاون سے چل رہے ہوتے تھے ان کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی تھی یا پھر پاکستان پر پابندیاں لگانے کی دھمکیان دی جاتی
    جس سے پاکستان کے حکمران اپنی غلامی اور خوف کا پورا حق ادا کرتے اور جو جو کچھ امریکہ کہتا پاکستان وہ پورا کرتا بھلے اس مین پاکستان کا نقصان ہی کیوں نا ہو رہا ہوتا

    میرے ملک کے بچے عورتیں ہی کیوں نا ڈرون حملوں میں شہید ہو رہے ہوتے
    ہمیں تو ڈالرز مل رہے تھے نا
    اس طرح پاکستان کا نام پوری دنیا میں ڈرپوک اور غلام کی طرح مشہور ہوا
    پاکستان کے سابقہ کرکٹر، موجودہ وزیراعظم عمران خان جب سے سیاست میں آیا اس کا پہلے دن سے مطالبہ رہا کہ امریکہ کی غلامی چھوڑو اور اپنے پاوں پے کھڑا ہونے کی کوشش کرو لیکن کسی نے اس کی نا سنی الٹا اسی پے باتیں شروع کر دی
    جب پاکستانی حکمرانوں نے نا سنی تو اس نے خود عوام کے ساتھ مل کر امریکہ کو جواب دینے کے لیے وزیرستان کی طرف لانگ مارچ کیا، عوام کے ساتھ مل کر نیٹو کی سپلائی جو پاکستان سے افغانستان جاتی ہے کو روکے رکھا
    اس کے بعد عمران خان کے خلاف بیرونی طاقتیں متحرک ہوئی اس کو چپ کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ پاکستان کا درد رکھنے والا لیڈر تھا وہ نا ڈرا اور نا چپ ہوا اپنی آواز بلند کرتا رہا
    اس نے ایک ہی بات کو ذہن میں بٹھائے رکھا ہر ملک سے دوستی رکھی جائے گی لیکن وہ دوستی برابری کی سطح پر ہو گی نا کہ ابتری کمتری کی سطح پر

    اس طرح جب اس نے اقتدار سنبھالا تو اس نے سب ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن وہ تعلقات برابری کی سطح پر
    اس نے اسلامی ممالک کو اکٹھا کرنے اور مغرب اور یورپ کے پریشر سے نکلنے کے لیے کوششیں کی
    اس نے یورپ کے بجائے سعودیہ، ایران، ملیشیاء، ترکی، یو اے ای، قطر اور باقی بھی اسلامی ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کیا
    امریکہ کو ہر دفعہ منہ توڑ جواب دیا اور بتایا ہم اتحادی اور دوست تو ہیں لیکن یہ بات کبھی نہیں مانی جائے گی آپ اوپر اور ہم نیچے ہیں
    ہم برابری کی سطح پر کام کریں گے
    اگر امریکہ مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے تو اس کو میرے برابر کے بندے کو میرے پاس بھیجنا ہو گا
    میں سیکنڈ ٹیئر لیڈر شپ سے بات نہیں کروں گا
    پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی دفعہ دیکھنے کو ملا کہ کسی پاکستانی حکمران نے امریکہ کی سی آئی اے کے چیف سے ملنے سے انکار کیا
    اس سے پہلے امریکی چپڑاسی کے آگے ہمارے لیڈرز ایسے سر جھکائے کھڑے ہوتے تھے جیسے وہ ہی سب سے بڑے لیڈر ہیں
    عمران خان نے انٹرنیشنل میڈیا کو انٹرویو میں واضح کیا جو چہہ میگوئیاں چل رہی ہیں پاکستان دوبارہ افغانستان آپریشن کے لیے اپنے اڈے امریکہ کو دے رہا ہے وہ سب جھوٹ ہے پاکستان کبھی بھی اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کے لیے کسی کو نہیں دے گا
    اس بیان کے بعد پورے پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہو گئے کہ کسی نے تو امریکہ کو منہ توڑ جواب دیا

    "”یہ ہے ڈو مور سے نو مور تک کا سفر””

  • روس اور چین کو لڑاو ، امریکہ نے نئی سازش تیار کر لی ۔۔تحریر: نوید شیخ

    روس اور چین کو لڑاو ، امریکہ نے نئی سازش تیار کر لی ۔۔تحریر: نوید شیخ

    جو موجودہ حالات چل رہے ہیں قدرتی امر ہے کہ چین اور روس کے درمیان تعلقات اب مزید مضبوط ہوں گے اور ان کے زیر اثر جو ممالک ہیں ۔ عنقریب انکا ایک نیا بلاک بنتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ اس سے دنیا میں کافی تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہوں گی ۔

    ۔ جب بھی ایسا ہوا تو یقینی بات ہے کہ اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل اپنا دائرہ اثر کھو دیں گے ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ اس وقت بڑی تیزی سے دنیا ایک نئی دنیا بننے جا رہی ہے ۔ جہاں طاقت کا منبہ دو طاقتیں یا تین یا چار بھی ہو سکتی ہیں ۔ ہر خطے اور ہر علاقے کی اپنی ترجیحات ہوں گی ۔ مفادات ہوں گے ۔ ہر کسی کا اپنا انٹرنیٹ ، اپنی ٹیکنالوجی ، اپنی زبان ، اپنے قانون اور اپنے ہی اصول ہونگے ۔

    ۔ اس لیے فی الوقت تو امریکہ اور مغربی طاقت کا سورج بڑی تیزی سے غروب ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ پر ایک چیز جس کے بارے ہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ مغرب جیسی سازش شاید ہی کوئی کرسکتا ہو ۔ اس میں یہ ماہر ہیں ۔ اور آج اس وی لاگ میں ۔ اس ہی بارے میں آپکو بتاوں گا ۔

    ۔ کہ کیسے امریکہ واقعتا چین اور روس کے مابین پائے جانے والے اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن نے ایک فون کال کے دوران ، دونوں ممالک کے مابین جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد رکھی گئی ۔

    ۔ لگ ایسا رہا ہے کہ بائیڈن کی نئی انتظامیہ نے روس فوبیا کو چھوڑ دیا ہے اور ماسکو سے اتحاد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ چین کی طاقت میں اضافہ کو امریکہ چین کے ہمسایہ میں بڑے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کو قائم کرکے زائل کیا جا سکتا ہے ۔

    ۔ حالیہ جوبائیڈن اور پیوٹن کی ملاقات میں بھی امریکہ یہ ہی کرنے کی کوشش کرے گا ۔ کہ روس کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیا جائے اور بدلے میں روس کم ازکم چین والے میں معاملے میں نیوٹرل ہوجائے ۔ چپ ہو جائے ۔ کیونکہ اکیلے اکیلے چین یا روس کا مقابلہ کرنا امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے لیے زیادہ آسان ہے ۔ یہ وہی برسوں سے آزمودہ فارمولا ہے ۔ divide and rule والا۔ ابھی تک تو امریکہ اس سلسلے میں کامیاب ہوتا دیکھائی نہیں دیتا ہے ۔

    ۔ مگر یاد رکھیں طاقت کے اپنے اصول ہیں ۔ روس کا یہ خوف کہ وہ چین کے مقابلے میں کمتر حیثیت کا ہے ۔ مستقبل میں چین کے ساتھ تعاون کو روک سکتا ہے۔ روس میں واقعی کچھ لوگوں کو خوف لاحق ہے کہ چینی معیشت پر زیادہ انحصار ماسکو کو مراعات دینے پر مجبور کردے گا جس پر اب تک تو روس نے مزاحمت کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر روس کو لگا کہ اسے غیر منظم طور پر کسی محکوم مقام پر رکھا گیا ہے ۔ یا اگر چین کو لگتا ہے کہ اسے مغرب کے ساتھ کسی ناپسندیدہ تصادم میں گھسیٹا جارہا ہے۔ اور روس ساتھ نہیں دے رہا ۔تو یہ مفاہمت ختم بھی ہوسکتی ہے ۔

    ۔ پھر آپ دیکھیں ہیں تو یہ دونوں ممالک ہی بڑے gaints اور شاید ٹیکنالوجی میں روس چین سے آگے ہی ہے ۔ مگر دوسری جانب چین کاروبار میں کافی آگے ہے ۔ یوں دیکھا جائے تو مستقبل قریب میں اگر کوئی ایسا بندوبست ہوجاتا ہے کہ اس خطے میں چین اور روس کی اجارہ داری ہوگی تو اس کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہی ہوگا کہ جنوبی ایشیا ہو ، فار ایسٹ ایشیا ہو ، یوریشیا ہو ۔ اس میں کس ملک کی کمپنی کیا کام کرے گی ۔ کس کو کیا ٹھیکہ ملے گا ۔ تو یہ ایک ایسی چیز اور معاملہ ہے جس کو وقت سے پہلے امریکہ expliot کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اور یوں امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کی امیدیں لگائے بیٹھا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب روس کے اندر موجود بہت سے سکالرز کا خیال یہ ہے کہ یہ بندوبست چین اور روس میں پہلے طے ہوچکا ہے کہ نئی دنیا میں روس تحفظ فراہم کرے گا یعنی سیکورٹی۔۔۔۔

    ۔ اور اسکے ذریعے اپنی طاقت اور پیسے میں اضافہ کرے گا جبکہ چین کاروبار کرے گا ۔ اور بنیادی طور پر چین کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا روس کے اپنے مفاد میں ہے۔ جبکہ Carnegie Moscow Centerکے ڈائریکٹر Dmitri Trenin
    کے الفاظ میں چین کے ساتھ دوستی کا متبادل روس کے لئے تباہی ہوگی۔۔ یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کیونکہ ایک دفعہ مغرب نے چین والا معاملہ حل کرلیا تو اس کا اگلاٹارگٹ یقینی طور پر روس ہی ہوگا ۔۔ اسی لیے پچھلے کئی سالوں میں ماسکو اور بیجنگ اپنے تعلقات کو ایک اعلی سطح پر لے گئے ہیں ۔ روس اپنا جدید ترین ہتھیار جیسے سکھوئی 35 جیٹ لڑاکا۔ ایس 400 میزائل سسٹم چین کو فروخت کررہا ہے۔ یہ چین اور روس کے تعلقات کی قربت کا علامتی ڈسپلے ہے۔ مزید یہ کہ دونوں نئے محاذوں میں داخل ہو رہے ہیں ۔ جن میں مشترکہ ہائی ٹیک منصوبے شامل ہیں ۔ اس میں Tianwan میں روسی فرم Rosatom کے ذریعہ ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر اور Xudapu
    جوہری بجلی گھر شامل ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایک نیا مسافر طیارہ ، CR929 بھی تیار کریں گے اور قمری خلائی اسٹیشن بنانے کا ہدف رکھیں گے۔ ان پیش رفتوں کے اچانک الٹ جانے کا تصور کرنا مشکل ہے ، جس کو حاصل کرنے میں برسوں لگے۔

    ۔ پر سازش اور مغرب ان دوںوں کا پرانا ساتھ ہے ۔ میرے حساب سے امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے سازشوں کا جال بننا شروع کر دیا ہوگا ۔ اور جیسے کواڈ گروپ ، جی سیون اور اب نیٹو کے ذریعے چین پر پریشر بڑھا رہا ہے اس سے تو لگتا کیا ہے بلکہ صاف دیکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ کا اگلا وار یہ ہو گا کہ کسی طرح عالمی سطح پر چین پر sanctions لگوائی جائیں چاہے ۔ پھر چاہے شکنکیانگ والا معاملہ ہو ، تائیوان والا معاملہ ہو ، وباء والا معاملہ یا انسانی حقوق والا معاملہ ہے ۔ کسی بھی ایشو کا اٹھایا جاسکتا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس زور اور شد ومد سے جوبائیڈن اس پر توجہ دے رہے ہیں کہ یہ وائرس کہاں سے اور کیسے شروع ہوا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جلد دنیا کو بتایا جائے کہ یہ انسان کا بنایا ہوا وائرس ہے اور اسکے پیچھے چین تھا یا اسکی لیبارٹری تھی ۔ اور اس کو بنیاد بنا کر چین کھڈے لائن لگایا جا ئے ۔ پر جو بھی اقدام چین کے خلاف اٹھایا گیا اس پر اگر روس خاموش رہا ہے یا چین کے دوست ممالک خاموش رہے تو چین سے نبٹانا آسان نظر آتا ہے ۔ کیونکہ آپ دیکھیں ابھی تک نیٹو ، جی سیون یا کواڈ گروپ کی طرف سے جو بھی بیانات آئے ہیں اس پر چین کے حق میں ابھی تک کسی بھی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے ۔ امریکہ کا پلان بھی یہ ہی دیکھائی دیتا ہے کہ اتنا گرد اور جھوٹ پھیلاؤ ۔ ساتھ ہی سب کو چپ رکھو ۔ پھر جو چاہے ۔ جیسے مرضی چین سے ڈیل کرو ۔ اس پر پابندیاں لگاؤ یا اس کے خلاف اقدامات کرو ۔ تو اس تمام صورتحال میں امریکہ اور مغرب کے ساتھ ساتھ چین اور روس کے تعلقات پر بھی بڑی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔

  • درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ تحریر: رانا عزیر

    درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ تحریر: رانا عزیر

    لاہور کے ایک مدرسے میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ، کیا ہماری تہذیب پر مغرب اور امریکہ کاحملہ ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال تو یہی معلوم ہوتا ہے۔

    17 جون کو وفاق المدارس کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس بورڈ کے ساتھ وابستہ ملک بھر سے تیرہ سو علما جمع ہوئے۔ ان میں شیخ التفسیر تھے اور شیخ الحدیث بھی، مفتی بھی اور مناظر بھی۔ خیال یہی تھاکہ اس واقعے پر بورڈ کا متفقہ موقف سامنے آئے گا اور وفاق کم ازکم ایک قرارداد کی صورت میں اپنی اس تشویش کا اظہار ضرور کرے گا تاکہ معاشرے کو یہ پیغام ملے کہ ادارہ اسے ایک حساس واقعہ سمجھتا ہے۔ یہ توقع پوری نہیں ہو سکی۔
    وگ جب اپنے بچے مدارس کے سپرد کرتے ہیں تو یہ ان کے پاس امانت ہوتے ہیں۔ مدرسہ عام سکول یا کالج نہیں ہے۔ یہ ایک طرح سے ایک طالب علم کی پوری زندگی اور معاملات کا محافظ ہے، ایک کیڈٹ کالج کی طرح۔ وہ بچے کی تعلیم، رہائش اور کھانے ہی کے لیے مسئول نہیں، اس کے اخلاق، کردار اور عزت و ناموس کی حفاظت کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔ معاشرہ اگر وسائل کے ساتھ اپنے بچے بھی ان کے حوالے کرتا ہے تو اس بھروسے پرکہ ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جا ئے گا اور اس کے ساتھ بچے کی معصومیت اور عزتِ نفس کا بھی لحاظ رکھا جائے گا۔

    مدرسے اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا یہ رشتہ کسی صورت مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک مدرسے کے مہتمم کی ذمہ داری ہے کہ اگر کہیں کوئی افسوسناک واقعہ ہو تو اس کی نیند حرام ہوجائے، اس کا سکون برباد ہو جائے۔ وہ اس وقت تک چین کی نیند نہ سوئے جب تک اس بات کو یقینی نہ بنالے کہ اس طرح کا واقعہ دہرایا نہیں جائے گا۔

    یہ اسی وقت ہوگا جب مہتمم کو یہ معلوم ہوکہ وہ اس دنیا میں کسی کے سامنے جواب دہ ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اگرچہ یہ احساس کافی ہونا چاہیے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے اور وہ اس کے حضور میں مسئول ہے لیکن انسان کمزور ہے اور ہمیشہ حضوری کے اس احساس میں نہیں رہتا۔ اس لیے قانون اور ایک حاکم قوت کی ضرورت رہتی ہے جو اس کی کمزوری پر نظر رکھے۔ مدرسے کے معاملے میں یہ کام وفاق المدارس کا ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وفاق نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔

    وفاق یا علما یہ دلیل نہیں دے سکتے کہ باقی مقامات پر بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ پہلی بات کہ اگر اسے درست مان لیا جائے تو بھی یہ ایسے حادثوں کے لیے جواز نہیں بن سکتا۔ ہر آدمی اور ہر ادارہ اپنے افعال کا ذمہ دار ہے۔ وہ یہ دلیل نہیں پیش کر سکتاکہ جب دوسرے یہ کام کررہے ہیں تو وہ کیوں نہ کرے؟ دوسرا یہ کہ جو دین کے نام پر معاشرے میں کھڑا ہے… وہ کوئی عالم ہو یا سیاستدان، کالم نگار ہو یا استاد… اس کی اخلاقی ذمہ داری دوسروں سے سوا ہے۔ مذہب تو نام ہی اخلاقی وجود کی تطہیر کا ہے۔ جو مذہب کا علمبردار ہے، اس کے لیے بدرجہ اتم لازم ہے کہ وہ اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں سنجیدہ ہو اور اسے ہر لمحہ اپنی فکر لگی رہے۔ وہ دوسروں سے زیادہ اپنا محتسب ہو۔

    ممکن ہے یہ کہا جائے کہ بند کمرے کے کسی اجلاس میں اس پر تشویش کا اظہار ہوا۔ ممکن ہے ایسا ہواہو لیکن جب ایک معاملہ عوام میں زیرِ بحث آجائے اور اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہو جائے تو پھر بند کمرے کا کوئی اجلاس اس کا مداوا نہیں کر سکتا۔ پھر لازم ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی موقف ہو اور وہ عوام کے سامنے آئے۔ گناہ کی خبر چند افراد تک محدود ہوتو اس کی تشہیر مناسب نہیں لیکن جب سماج میں پھیل جائے تو اس سے صرفِ نظر اس گناہ کو سماجی قدر کے طور پر قبول کرنا ہے۔ لازم تھا کہ جب خبر پھیل گئی تھی تو وفاق کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس بلا کر اس پر اپنا موقف دیا جاتا۔ کسی اہتمام کے بغیر ایک سنہری موقع وفاق کے ہاتھ آگیا تھاکہ عہدے داروں کے انتخابات کے لیے، اس کے ذمہ داران پہلے سے طے شدہ اجلاس میں جمع تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر عوام کو اعتماد میں لیا جاسکتا تھا۔ افسوس کہ یہ توقع پوری نہیں ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن اپنے خطاب میں ایران توران کی خبرلائے۔ مغرب اور امریکہ کی تہہ زمین سازشوں کا انکشاف کیا۔ اگر ذکر نہیں کیا تو لاہور کے اس واقعے کا۔ یہ باور کرنا ممکن نہیں کہ ان جیسا باخبر آدمی ایک ایسے واقعے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا جو اس وقت ہر اس آدمی کے علم میں ہے جو سوشل میڈیا سے کوئی مس رکھتا ہے۔ اس واقعے سے ان کی یہ بے اعتنائی بتاتی ہے کہ وہ اسے کتنا اہم سمجھتے ہیں اور خود احتسابی کے معاملے میں کتنے حساس ہیں۔

    برادرم مولانا محمد حنیف جالندھری پندرہ سال سے وفاق کے ناظم اعلیٰ چلے آرہے ہیں۔ اب مزید پانچ سال کے لیے انہیں ایک بارپھر اس ذمہ داری کا اہل سمجھا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں عمرِ خضر دے اور ہم انہیں ہمیشہ اس منصب پر متمکن دیکھیں، انہوں نے بھی اس کی ضرورت نہیں محسوس کی حالانکہ وہ سب سے زیادہ اور براہ راست اس واقعے کے بارے میں مسئول ہیں۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس پر اپنی تشویش کا نہ صرف اعلانیہ اظہار کرتے بلکہ یہ بھی بتاتے کہ مدارس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے وفاق نے کیا حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

    میں اس حادثے کو عموم کا رنگ دینے کے حق میں نہیں۔ میں اسے ایک منفرد واقعہ کے طور پردیکھ رہاہوں۔ میں مدرسے سے وابستہ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اجلے کردار کی شہرت رکھتے ہیں۔ بعض سے میں شخصی طور پر واقف ہوں۔ مولانا عبدالرؤف ملک کو کم و بیش تیس سال سے جانتا ہو۔ میں نے انہیں وسیع القلب اورایک صاف ستھرا انسان پایا ہے۔ کئی سال ہو گئے، مولانا زاہدالراشدی سے ایک تعلق قائم ہوئے۔ ان سے مل کرہمیشہ ایک پاکیزہ آدمی کا تاثر ملا۔ ذاتی تعلق رکھنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جن کا تعلق مدرسے سے ہے، اس لیے میں اس واقعے کو عمومی رنگ دینے کے حق میں نہیں۔

    تاہم اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس بار سوشل میڈیا نے اس پر مٹی ڈالنے کو ممکن نہیں رہنے دیا۔ اس کے بعد لازم ہو گیا ہے کہ وفاق المدارس اسے بنیاد بنا کر مدرسوں کی اخلاقی تطہیر کا ایک منظم منصوبہ بنائے۔ پہلے تجزیہ اور پھر روک تھام کے لیے حکمتِ عملی۔ اس میں مدرسے سے باہر کے لوگوں کوبھی شامل کرے جن میں ماہرینِ نفسیات ہوں اور سکالر بھی۔ وہ اس بات کو کھوج لگائیں کہ درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ ان کا کتنا تعلق ہماری تفہیمِ دین اور سماجی روایت سے ہے؟ وہ کون سے نفسیاتی عوامل ہیں جن کے زیرِ اثر عمر رسیدہ لوگ بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ جدید علمِ نفسیات میں اس پر بہت تحقیق ہو چکی۔

    یہ واقعات صرف وفاق المدارس کا مسئلہ نہیں، مدارس کے تمام بورڈز کو اس معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاہم چونکہ یہ وفاق کے حوالے سے موضوع بناہے، اس لیے اصلاحِ احوال کے لیے بھی وفاق ہی کو پہل کرنی چاہیے۔ مولانا صاحب کے خطاب سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بھی جیسے امریکہ اور مغرب کی کوئی سازش ہے کیونکہ اس وقت جس نے مدرسے کی ناموس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے، وہ یہی واقعہ ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ سازش کا یہ بیانیہ اب زیادہ بکنے والا نہیں۔ معاشرہ ان باتوں سے آگے بڑھ چکا ہے

  • نوجوان صحافی. تحریر:رانا عزیر

    نوجوان صحافی. تحریر:رانا عزیر

    ونود مہتا نامور بھارتی صحافی اور مشہور میگزین آئوٹ لک کے بانی ایڈیٹر تھے۔ ان کی خودنوشت "لکھنو بوائے "نے بڑی پزیرائی حاصل کی۔ ونود مہتاکا شمار دلیر، بااصول اورڈٹ جانے والے ایڈیٹروں میں کیا جاتا ہے۔ اپنے چالیس سالہ صحافتی تجربے کی روشنی میں انہوں نے نوجوان صحافیوں کے لئے چند مشورے تحریر کئے۔ ونود مہتا سوال اٹھاتے ہیں: "کیا صحافی کو انقلابی ہونا چاہیے؟ ونود کے خیال میں یہ خیال رومانوی ہونے کے باوجود غیر عملی ہے۔ آپ کسی بڑے کاز کے لئے کام کرنے والے انقلابی ہیں یا کسی خاص ایجنڈے کے بغیر انقلابی مزاج رکھتے ہیں، دونوں صورتوں میں ایسی انقلابی رومانویت سے دور رہیں۔ ریڈیکل ازم کا بھی ٹکٹیں جمع کرنے کی طرح خاص وقت اور جگہ ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ نوجوانی میں کسی نے کوئی انقلابی پمفلٹ لکھا ہو، مگر وقت کے ساتھ اسے آگے بڑھ جانا چاہیے۔ جرنلزم میں ایسے شوریدہ سروں یا سر پھروں کے لئے جگہ نہیں۔ ایک بات البتہ سمجھناضروری ہے کہ چی گویرا ٹائپ ہٹ اینڈ رن قسم کی صحافت کی ضرورت نہیں، مگر اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ آپ روایتی گھسی پٹی سوچ کے غلام بن جائیں۔ اہم طاقتور لوگ جب صبح اٹھتے اور اخبار پڑھتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ ان کے موقف کی تصدیق ہو، اسے چیلنج نہیں کیا جائے۔ آپ کو مگر یہ چیلنج کرنا چاہیے۔ صحافیوں میں بھیڑ چال کا رواج (Herd Mentality)ہے، کوئی ایک کچھ کرے تو سب پیروی کرتے ہیں۔ ایک اچھے صحافی کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس نے کب ان کا حصہ بننا ہے اور کب اکیلا شکار کرنا ہے۔

    ونود مہتا آگے چل کر دو ممتاز مغربی لکھاریوں کی کوٹیشن دیتا ہے، پہلی کے مطابق، جس موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں، اس پر روایتی نقطہ نظر جان لیں اور پھراپنی تحریر میں اس کے خلاف دلائل دیں۔ دوسری کوٹیشن دلچسپ ہے، "جب شک میں ہوں تب حملہ آور ہوں۔”
    کیا سیاستدان اور صحافی دوست ہوسکتے ہیں؟ ونود مہتا کا جواب نفی میں ہے، مگر ان کے مطابق جارج اورویل (اینمل فارم ناول کے مصنف)بننے کی ضرورت نہیں، وہ جب ٹربیون اخبار کے بک ایڈیٹر تھے تو کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک نہیں ہوتے تھے کہ مصنف سے ملاقات دیانت دارانہ تبصرے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ ونود مہتا آگے جا کر نکتہ اٹھاتے ہیں کہ سیاستدانوں اور صحافیوں دونوں کا ایجنڈا ایک دوسرے سے نہایت مختلف بلکہ متضاد ہے۔ سیاستدان بیشتر اوقات حقائق یا سچ کو توڑموڑ کر، کچھ خفی کچھ جلی انداز میں پیش کرتے ہیں جبکہ صحافی کا کام ہے جہاں تک ممکن ہو سچ سامنے آئے۔ اس لئے سیاستدانوں سے قربت کے بجائے اہم یہ ہے کہ آپ سچ کے کتنے قریب ہیں؟

    کیا ایک صحافی کو اپنا استعفاجیب میں ڈال کر پھرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں یہ بہت مشکل سوال ہے، آپ کی ایک فیملی ہے جس کے اخراجات برداشت کرنے ہیں، گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز، بنک کی قسطیں وغیرہ وغیرہ۔ تاہم ایک دیانت دار صحافی کی زندگی میں کم از کم ایک موقعہ ایسا آتا ہے جب وہ ایسا کرنے کا سوچتا ہے۔ ونود مہتا یہاں پر مشورہ دیتا ہے کہ آپ سب ایڈیٹر، فیچر رائٹر، رپورٹر، فوٹوگرافر، اسٹنٹ ایڈیٹر یا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، آپ کو اپنے کام میں بہترین ہونا چاہیے۔ میڈیا کے تمام تر مسائل اور نئے آنے والے بے تہاشا نوجوانوں کے باوجود آج بھی کوالٹی ایک نایاب صفت ہے۔ اپنے آپ کو بہتر کرنے کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ آج بھی میں کوئی اچھی تحریر دیکھوں تو اسے دو بار پڑھتا ہوں۔ پہلی بار اس کی کوالٹی جانچنے جبکہ دوسری بار اس کے انداز تحریر اور مہارت کو بغور دیکھنے کے لئے۔ اس لئے یقین رکھیں کہ اگر آپ ایک بہترین صحافی ہیں تو آپ بے روزگار ہوسکتے ہیں، مگر یہ مدت مختصر ہوگی کیونکہ مارکیٹ میں اچھے صحافی کی شہرت بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور کوئی نہ کوئی ضرور آپ کی مہارت سے استفادہ کرنا چاہے گا۔
    گر غلطی ہو جائے تب صحافی کو کیا کرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں بعض اوقات صحافی خود کو بے عیب اور پرفیکٹ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس رفتار سے خبریں آتی ہیں، ان پر کام ہوتا، فائنل ٹچ دیا جاتا ہے، اتنے مختصر وقت میں پرفیکٹ کام کرنا ممکن ہی نہیں۔ اخبار ہے ہی نامکمل، عجلت میں کئے گئے کام کی پراڈکٹ۔ حتیٰ کہ مضامین، تجزیے، کالم، اداریے وغیرہ بھی بہت بار نہایت عجلت میں، ڈیڈ لائن پریشر کے تحت لکھے جاتے ہیں۔ آپ کے پاس مکمل ڈیٹا نہیں، اعداد وشمار چیک کرنے کا وقت نہیں مل پاتا، حتیٰ کہ لفظوں کی املا درست کرنا بھی مسئلہ ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ کرشمہ ہی ہے کہ فائنل پراڈکٹ (اخبار یا ٹی وی نیوزبلیٹن)کا تاثر اتنا برا نہیں، وہ خاصا موثر ہوتا ہے۔ کوئی صحافی مکمل اور خامیوں سے پاک نہیں، اس حقیقت کو سب سے پہلے ذہن میں لے کر چلیں۔ نیویارک ٹائمز جیسا اخبار جو اپنی خبر کی تحقیق کے لئے کئی مراحل پر مشتمل پراسیس اختیار کرتا ہے، اس نے بھی عراق جنگ کے حوالے سے بالکل غلط اور بے بنیاد معلومات فراہم کیں،۔ وہ صدر بش کے وائٹ ہائوس ٹیم کے ہاتھوں استعمال ہوگئے اور اس پر نیویارک ٹائمز کو بعد میں اپنے قارئین سے معذرت کرنا پڑی۔ اصول یہ ہے کہ غلطی ہو تو اسے تسلیم کریں۔ چھپانے یا کمزور عذر تراشنے کے بجائے مانیں۔ اپنے قارئین سے واضح الفاظ میں معذرت کریں۔ البتہ صحافی کو غلطیاں دہرانی نہیں چاہیں۔ میرے حساب سے تین سال میں ایک آدھ غلطی کی گنجائش بن سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

    صحافی کو اپنی انا کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں اسے تالے میں بند کرکے رکھ دینا چاہیے۔ صحافیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غلطیوں کی نشاندہی کریں اور اسے کیسے ٹھیک کیا جائے، اسی وجہ سے کچھ صحافی مستقل قسم کے ناصح بن جاتے ہیں۔ بعض ایڈیٹر سمجھتے ہیں کہ وہ ملک چلارہے ہیں یاقوم کے لئے ایجنڈا سیٹ کر سکتے ہیں۔ ایڈیٹر(اور کالم نگار) بھول جاتے ہیں کہ ان کے دھماکہ خیز ادارئیے اور دھواں دھار کالم زیادہ سے زیادہ تیس منٹ کی زندگی رکھتے ہیں۔ اس کے بعد اخبارکھڑکیوں کے ٹوٹے شیشوں کو ڈھانپنے کے کام آتے ہیں۔ یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم صحافیوں کا سماج میں کچھ اثرہے مگر اس سے کہیں کم جتنا ہم تصور کرتے ہیں۔ ایک بڑے مغربی صحافی نے کہا تھا، "صحافی شراب سے زیادہ خودپسندی کے ہاتھوں برباد ہوتے ہیں۔” ہم صحافی میچ میں بہترین سیٹ حاصل کرتے ہیں، یہی کافی ہے، جمہوریت کے کھیل میں ہم کھلاڑی نہیں، اپنا کردار سمجھ لینا چاہیے، اسے مکس کرنا مصیبت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔
    کیا صحافی کو اپنا سٹائل بہتر کرنے پر وقت اور پیسہ صرف کرنا چاہیے؟ ونود مہتا لکھتے ہیں کہ ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ آپ کسی بھی زبا ن میں لکھتے ہوں، اس میں مہارت حاصل کرنا لازم ہے۔ ایک زمانے میں سب ایڈیٹر اپنے رپورٹر کی خبر میں اس کے اسلوب کی دلکشی کا جائزہ ضرور لیتے تھے۔ اب حالات بدل گئے ہیں، مگر آج بھی ایک اچھی سٹوری اگر بہترین طریقے سے لکھی گئی ہو تو اس کا تاثر بہت بڑھ جاتا ہے جبکہ ایک بڑی سٹوری کمزور اسلوب کی وجہ سے غیر موثر ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی بڑے ناول نگار کا اسلوب اپنا لیں یا بڑی مرصع نثر لکھیں جس میں مشکل مترادفات ہوں۔ نہیں اس کے بجائے مشہور ادیب ہیمنگوئے کے الفاظ یاد رکھیں کہ سیدھے سادے الفاظ ہی بہترین ہوتے ہیں۔ آپ کی زبان سادہ اوردلچسپ ہونی چاہیے۔ خوش ونت سنگھ اس پر خاص توجہ دیتا تھا کہ اس کی تحریر زیادہ سے زیادہ رواں اور قابل مطالعہ ہو۔ اسی وجہ سے خوشونت کو ناپسند کرنے والے بھی اسے پڑھتے ضرور تھے۔ ادب میں ممکن ہے کوئی مشکل اور ثقیل نثر کے باوجوداپنا کام چلا لے، مگر مین سٹریم صحافت میں یہ عیاشی ممکن نہیں۔ لکھنے والے کو اپنے پہلے فقرے سے قاری کو انوالو کر لینا چاہیے۔ اس لئے تحریرکا آغاز بہت توجہ اور محنت سے اچھا بنا کر لکھنا چاہیے۔ اگر اپنے پہلے پیرے میں قاری کو گنوا بیٹھے تو سب کچھ ضائع ہوگیا۔
    ونود مہتا نے معروف برطانوی صحافی، مصنف جارج اورویل کا دلچسپ اقتباس نقل کیا، اورویل لکھتے ہیں ” دو باتیں ایسی ہیں جو کسی لکھنے والے کے لئے قاتل ہیں۔ کٹر روایتی پن لکھنے والے کے لئے تباہ کن ہے، چاہے رائٹ ونگ یا لیفٹ ونگ دونوں انتہائوں کا سخت روایتی پن تحریر کو بے رنگ اور بے کشش، مصنوعی بنا دیتا ہے۔ تحریر کی دوسری سب سے بڑی خامی اس میں دیانت داری کا فقدان ہے۔ اگر کسی کی اصل سوچ اور جس کا وہ پرچار کرنے لگا ہے، اس میں فرق ہے تب مصنف اپنی تحریر میں گھسی پٹی اصطلاحات اور بلند بانگ الفاظ استعمال کر کے اسے مصنوعی بنا دے گا۔ جیسے کسی کتاب پر فرمائشی تبصرہ یا کالم لکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، ایسی تحریر کمزور ہی ہوتی ہے۔
    ونود مہتا کے مطابق اچھا لکھنا کسی سکول میں نہیں سیکھا جا سکتا، بہت بار اپنے وجدان پر بھروسا کرنا پڑتا ہے، تاہم جارج اورویل نے لکھنے والے کے لئے چند اصول وضع کئے، ان میں سے سب سے اہم یہ کہ اگر آپ کے پاس اپنی بات کہنے کے لئے مختصر جملہ ہے تو اس کی جگہ کبھی طویل جملہ استعمال نہ کریں۔ لکھنے کے بعد اگر کسی لفظ کو کاٹا جا سکتا ہے تو اسے ضرور کاٹ دیں۔ پامال الفاظ اور جملے استعمال نہ کریں۔

  • آزادی افکار. تحریر:تحریر حسن ساجد

    آزادی افکار. تحریر:تحریر حسن ساجد

    اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
    جب کوئی شخص ایمان کی نیت سے اس کلمہ طیبہ کو صدق دل سے پڑهتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اسے ہم مسلمان کہتے ہیں۔ ایک مسلمان کے نزدیک اس کلمہ طیبہ کا دل و زبان سے اقرار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام تر معاملات اور اپنی سوچ کو اللہ اور رسول پاک حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکامات کے تابع کر چکا ہے۔ یعنی وہ اپنے آپکو انکی بیعیت میں دیتے ہوئے اللہ رب العزت کے حضور اپنی بندگی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل اطاعت کا اظہار کر رہا ہے. جب ایک شخص دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا ہو تو اس کے بعد ایک مسلمان کو یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے معاملات زندگی میں "میرے نزدیک” ، "میری سوچ کے مطابق” یا "میری رائے یہ ہے کہ” جیسے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے کسی مسئلے کا حل تلاش کرے یا کسی چیز کی وضاحت پیش کرے۔ یہ اصول بالخصوص ایسے معاملات و امور کے لیے اٹل اور ابدی ہے جن معاملات یا امور کے بارے میں اللہ اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالصراحت اپنے احکامات جاری کر چکے ہوں. ایسی صورتحال میں بحیثیت مسلمان احکامات الہی و رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تبدیلی یا ان میں اپنی مرضی کے مطابق گنجائش نکالنا یا ان کی نافرمانی کی کوشش ایک مجرمانہ اور صریح نافرنانی پر مشتمل عمل ہے۔ عقائد و ایمانیات سے روگردانی کا عمل اس سے کہیں بڑا، سنگین اور قابل اعتراض جرم ہے کہ کسی ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کی جائے یا ان میں ترمیم کی کوشش کی جائے ۔ یعنی اس سے مراد ہے کہ جس طرح آپ کو کسی ملک کے قوانین میں ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر تبدیلی یا ترمیم کی اجازت نہیں بلکل اسی طرح دینی امور یا قوانین کی ذاتی رائے پر نفی کی قطعی طور پر اجازت نہیں۔

    بات کو سمجھنے کے لیے ایک مثال کا سہارا لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ امریکی شہریت کے حامل شخص ہیں تو آپ کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالائے طاق ہوکر ان تمام قوانین کی پیروی کرنی ہوگی جو امریکہ میں نافذ العمل ہیں ان قوانین کے سامنے آپکی ذاتی رائے کی مہمل حیثیت ہے اور اگر آپ ان قوانین سے منحرف ہوکر ذاتی رائے کو فوقیت دیں گے تو آپکا یہ عمل ریاستی قوانین سے انحراف اور غداری کے زمرے میں آئے گا جس کی بنیاد پر آپکو ریاستی قوانین کے مطابق جزاوسزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بالکل یہی معاملہ ایک دین کے پیروکار کے لیے ہے کہ جب متعلقہ شخص اپنے دینی احکامات کی روگردانی یا نفی کرے گا یا صریح دینی احکامات پر ذاتی رائے کو فوقیت دے گا تو اسکا یہ عمل گناہ اور قابل جرم گردانا جائے گا۔
    گزشتہ چند دہائیوں سے آزادی افکار اور فریڈم آف سپیچ کے نام پر الہامی ادیان بالخصوص اسلام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ نظریہ اسلام پر قائم وطن عزیز خاص طور پر اسلام دشمن قوتوں کے نشانے پر ہے جس کے عوام کو لبرل ازم، سیکولرازم اور ایتھزم (لادینیت) جیسے جھانسوں میں پھنسا کر اسلامی تعلیمات اور احیائے دین سے دور کیا جارہا ہے۔ چونکہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی مسلمان ہے اور یہاں اسلامی حکومت قائم ہے جسکی بدولت یہاں کھلے عام دین دشمنی کی تبلیغ ممکن نہیں اس لیے دین دشمن قوتیں ماڈریٹ مسلمان اور سیکولر طبقہ پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کوشاں ہیں۔

    سیکولرازم کے قائل حضرات "مذہبی” اور "لبرل” لوگوں کے بین بین ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ منافقانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہوتے ہیں. اگر مزید وضاحت سے کہا جائے تو اردو زبان کا محاورہ ” آدها تیتر آدها بٹیر ” انکی فلاسفی کی مکمل ترجمانی کرتا ہے. یہ لوگ مذہب پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار بھی ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ آزادی رائے کے تحت مختلف مقامات پہ احکامات شریعت پر "اپنی سوچ” اور "اپنی فکر” کو فوقیت دیتے ہوئے معاملات زندگی میں اسلام کے قوانین سے روگردانی کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس فتنہ کا سامنا ہمیں ملالہ یوسفزائی کے ایک انتہائی متنازعہ بیان کی صورت میں کرنا پڑا۔ ملالہ یوسفزائی نے اپنے بیان میں نکاح جیسے متبرک اور معتبر عمل کا ناصرف انکار کیا گیا بلکہ ہماری نوجوان نسل کو بے راہ روی کی طرف راغب کرنے کی مکروہ کوشش بھی کی۔ ملالہ یوسفزائی کی جانب سے صریح اسلامی احکامات کا انکار اور حضور نبی کریم کی سنت سے روگردانی قابل سزا جرم ہے جس پر حکومت پاکستان، اسلامی نظریاتی کونسل اور عدلیہ کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملالہ کو اپنی حیثیت واضح کرنے کے لیے کسی مناسب پلیٹ فارم پر بلانا چاہیے تھا۔

    نظریات کی اس جنگ میں نشانے پر ہماری نوجوان نسل ہے جسے اپنے نصب العین سے ہٹانے اور بے راہ روی کا شکار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ میں نوجوان نسل سے مخاطب ہوں اور ان کو یہ واضح کردینا چاہتا ہوں اگر اللہ پاک نے آپ کو ایک مسلمان پیدا کیا ہے تو سجدہ شکر بجا لاو کہ تمہیں زندگی بسر کرنے کے لیے ایک جامع اور مکمل نصب العین ملا ہے۔ کیونکہ اسلام محض عبادات و ایمانیات سے جڑا مذہب ہی نہیں بلکہ ایک کامل و اکمل دین اور ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو عقائد، عبادات، معاشرت، معاشیات، اخلاقیات اور معاملات سمیت زندگی کے تمام پہلووں سے متعلق انسان کو مکمل اور بہترین راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کی پیروی کے دعویدار اور ایک مسلمان شخص کو زیب نہیں دینا کہ وہ ان معاملات کہ بارے میں "اپنی سوچ” یا "اپنی رائے” کو معیار قرار دے جن سے متعلق شریعت محمدی میں تصریح پائی جاتی ہے. میری مسلم نوجوانوں سے درخواست ہے کہ دور حاضر کے تمام دھوکوں اور فتنوں سے بچنے کے لیے "ادخلو فی السلمہ کافته” پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوجائیں اور شریعت محمدی کو معیار سمجهتے ہوئے اپنی سوچ کو اسکے تابع کر لیں اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے.
    اور دوسری جانب مادر پدر آزاد خیالات کے حامل وہ لوگ جو حکامات شریعت کو ترک کرنے کا جواز ” مگر میرے نزدیک ایسا ہے کہ” کہہ کر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنے اوپر اسلام کی جعلی ملمع کاری کرنے کی بجائے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اور اپنی سوچ کو معیار قرار دیتے ہوئے سیکولر یا لبرل یا ماڈریٹ مسلمان کہلوانے کی بجائے لادین یا ایتھیسٹ کہلوانا شروع کر دیں۔ اس دوغلی صورتحال میں آپکا حساب ایسا ہی ہے کہ "دهوبی کا کتا گهر کا نہ گهاٹ کا”۔ اور رہی بات تمہاری فریڈم آف سپیچ، آزاد سوچ یا آزادی رائے کی تو ایسی فریڈم آف سپیچ یا آزادی رائے جو دین اور اپنی روایات سے دور کرے وہ ہمارے نزدیک ایک شیطانی عمل ہے۔ الحمدللہ پاکستان کا نوجوان طبقہ بیدار مغز اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہے وہ تمہاری اصلیت سے واقف ہوچکا ہے اور اب تمہارے جھانسوں میں بلکل بھی نہیں آئے گا۔
    ایسے سرخوں اور ضمیر فروش خود ساختہ دانشوروں کی نظر حضرت اقبال کے ایک شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔ حضرت اقبال نے فرماتے ہیں کہ

    اس قوم ميں ہے شوخي انديشہ خطرناک
    جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
    گو فکر خدا داد سے روشن ہے زمانہ
    آزادئ افکار ہے ابليس کی ايجاد

  • ہم کٹتے رہے اور تھے خاموش مسلمان ۔۔۔   تحریر: جام جازم

    ہم کٹتے رہے اور تھے خاموش مسلمان ۔۔۔ تحریر: جام جازم

    ‏ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
    شکوہ نہیں کافر سے کہ وہ ٹھہرا جو کافر ۔۔۔
    تم لوگ تو اپنے تھے مسلمان تھے آخر ۔۔۔
    کچھ کرنے سے کچھ کہنے سے کیوں تم رہے قاصر ۔۔۔

    مظلوم سے تھا بغض یا ظالم کے محبان ۔۔۔
    درجات کی سیڑھی پر ہم جب چڑھیں گے ۔۔۔
    بارگاہ رب میں ایک عرض کریں گے ۔۔۔

    ہم کٹتے رہے اور تھے خاموش مسلمان ۔۔۔
    رمضان المبارک کا الواعی جمعہ اور شب قدر کی بابرکت رات ہر طرف اپنے پر پھیلائے ہوئے تھے ۔ ہر طرف  عبادت کے پرنور اور روح پرور مناظر تھے ۔ مسلمان عقیدت و محبت کے ساتھ مسجدوں میں ایک خدا مطلق کے سامنے اپنے دامن کو پھیلائے بیٹھے تھے۔ اور اللہ سے مغفرت کی بھیک مانگنے میں مصروف تھے ۔ ایسے میں اچانک بیت المقدس میں دنیا کے سب سے بڑی دہشت گرد اسرائیلی افواج دھاوا بولتی ہیں۔ جس میں نہ صرف مسجد کی بے حرمتی کی گئی۔ بلکہ عورتوں بچوں اور بزرگوں کی پروا کئے بغیر ان پہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ے گئے ۔ دہشت گردی کی اس واردات میں ربڑ کی گولیاں اور اسٹین گرینیڈ سے نہتے فلسطینوں کو نہ صرف زخمی کیا گیا بلکہ 17 نہتے فلسطینی بشمول معصوم بچے دہشت گردی کی اس واردات میں جام شہادت نوش کر گئے ۔
    بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت مریم کو انکی والدہ بی بی حنہ نے اس مسجد کیلئے وقف کر دیا تھا ۔پھر اسی شہر میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش ہوئی اور ادھر سے  انہوں نے تبلیغ کا آغاز کیا ۔ معراج میں نماز کی فرضیت سے  لے کر تقریباً 17 ماہ تک مسلمانوں نے اسی قبلہ کی طرف نماز ادا کی ۔ یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ یہ فلسطین انبیا کرام علیہ سلام کا مسکن ہے ۔

    کسی غیر مسلم کا کتا بھی مر جائے تو یورپی یونین انسانیت کا سبق سکھانے اس مسئلے میں کود جاتی ہے ۔ مسئلہ کسی امریکی سیاہ فام کا ہو یا کسی یہودی کا یورپی یونین انسانیت کا چارٹر اٹھائے آ جاتی ہے مگر چھوڑیں – فلسطین تو ایک  پسماندہ ملک ہے جس کی آبادی مسلمان ہے یہ کوئی سیاہ فام نہیں جن کی ایک پکار پہ یورپی یونین کے در و دیوار تک لرز جائیں یہ تو نہتے فلسطینیوں کی فریاد اور آہ و زاریاں ہیں ۔ جن سے یورپی یونین کا کوئی واسطہ نہیں ۔ انسانیت کے علمبردار اور انسانی حقوق کے جھوٹے دعویداروں کیلئے فلسطینی تو شاید انسان ہی نہیں ۔ صرف فلسطینی ہی کیوں جہاں بھی معاملہ مسلمانوں کی زندگی اور عزت کا ہو ۔ وہاں یورپی یونین غفلت کی میٹھی نیند سوتی نظر آتی ہے ۔ شاید عالمی ضمیر بے حسی کی چادر اوڑھے منافقت کی اس دوڑ میں اتنا مگن ہے کہ اسے مسلمانوں کا لہو نظر نہیں آ رہا ۔ اور مسلمانوں کا لہو اس قدر بے توقیر ہے کہ اس پہ نہ تو کوئی آواز اٹھے گی نہ مہم چلائی جائے گی ۔
    گزشتہ سال ایک سیاہ فام کی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں امریکن پولیس افسر سیاہ فام کی گردن پہ اپنے پنجے گاڑے کھڑا تھا ۔ اس تصویر پہ انسانی حقوق کے عالمی ادارہ کی چیخیں نکل گئی تھی۔ نہ صرف یہ بلکہ ٹوئٹر پہ دو دن تک سیاہ فارم طبقے کے حق میں مہم چلائی گئی جس میں بیت سے ممالک کی شخصیات نے  حصہ لیا۔
    جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیا پہ ایک تصویر زیر گردش ہے جس میں یہ واضح طور پہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مریم عساف نامی فلسطینی لڑکی کی گردن میں ایک اسرائیلی فوجی اپنا گھٹنا گاڑے کھڑا ہے ۔ مگر عالمی ارادہ برائے انسانی حقوق کی طرف سے ایک بیان بھی جاری نہ ہو سکا تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یورپی یونین انسانیت کے حقوق کی علمبرداد نہیں بلکہ صرف غیر مسلموں کے حقوق کی محافظ ہے ۔ خیر ان سے کیا گلہ انکے لئے مسلمانوں کی زندگی اور عزت کی کوئی اہمیت ہی نہیں ۔
    مگر اسرائیلی فوجی کا گھٹنا مریم عساف کی گردن پہ نہیں بلکہ 57 مسلمان ممالک کی غیرت اور عزت پہ ہے ۔ مگر اس گھٹنے کا دباؤ محسوس کرنے کیلئے ضمیر کا زندہ ہونا شرط ہے ۔ یہی رویہ اگر کسی مسلمان ملک نے کسی غیر مسلم لڑکی کے ساتھ کیا ہوتا تو اب تک عالمی سطح پہ کہرام مچ جاتا ۔ اور یورپی یونین کے دو و دیوار تک ہلا کر رکھ دیئے جاتے۔ لیکن یہ ایک فلسطینی لڑکی ہے جس سے کسی ملک کا کوئی تجارتی فائدہ منسلک نہیں اور نہ ہی کسی قسم کے کوئی فنڈز ملنے کی امید ہے ۔ لہذا اس پہ ظلم و جبر کرنے کا سرٹیفیکیٹ اسرائیل کو یورپی یونین نے خود دیا ہے ۔

    یہی وقت ہے جب حق و باطل میں ایک پختہ لکیر کھینچ دی جائے ۔ یہی وقت ہے جب مومن اور برائے نام مسلمان کی راہیں الگ ہوجانی چاہیئے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہم اپنے قبلہ اول کی پامالی پہ بھی خاموش رہے تو پھر تو شاید کبھی ہم بول ہی نہ سکیں گے ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس ظلم پہ خاموش رہنے پر ہماری قوت گویائی سلب نہ کر لی جائے۔
    مگر بحیثت مسلمان کیا ہم اس پاک سر زمیں اور قبلہ اول کے لئے کبھی متحد نہیں ہو سکتے ؟  کیا ہم پہ اب بھی جہاد فرض نہیں ہوا ؟ کیا ہماری افواج اور ہماری  ایٹمی طاقت بس دکھاوا ہے نہ ہم کشمیر کیلئے لڑے نہ فلسطین کیلئے لڑیں گے ۔ اگر ہم آج بھی خاموش رہے اور اسی بات پہ قائم رہے کہ “جنگ کسی مسلئےکا حل نہیں” تو پھر انتظار کریں اس وقت کا جب ہمارا حال فلسطینیوں سے بھی بدتر ہوگا کیونکہ پھر سب کی باری آئے گی ۔ اور ہم بھی اپنے ہاتھ پاھں باندہ کر اس تماشے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی خاموش رہیں گے اور یہی کہیں گے کہ “جنگ تو کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی”۔
    اس مشکل وقت میں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ تمام مسلمان ممالک متحد ہو کر سب سے بڑی دہشت گرد ریاست کے خلاف نہ صرف جہاد کا علم بلند کریں بلکہ انہیں انکے منتقی انجام پہ پہنچا کر پوری دنیا کو یہ پیغام دیں کہ جب بات انسانیت کی ہو اور جب بات قبلہ اول کی ہو تو ہم مسلمان اپنے وسائل اور فائدے اور نقصان کی پروا کیے بغیر جہاد کا علم بلند کریں گے ۔

  • ہراسمنٹ کا نشانہ صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی ہیں ،تحریر:طلعت کاشف سلام

    ہراسمنٹ کا نشانہ صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی ہیں ،تحریر:طلعت کاشف سلام

    پاکستان اسلامی ملک ہے لیکن آج تک پاکستان میں نا تو کسی کو شرعی سزا دی گئی اور نا ہی کسی شرعی قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ہراسمنٹ کا شکار صرف عورت کو ہی سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا شکار عورتوں کے ساتھ مرد بھی ہیں۔

    بہت سے کیسز ایسے رپورٹ ہوتے ہیں جہاں سکول کالجز میں جوان لڑکوں، آفسز میں مردوں کو بھی ہراس کیا جاتا ہے

    مدارس میں طالب علموں کو بھی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    کبھی ان کو نمبروں کے بہانے تو کبھی سیلیری کے بہانے
    کبھی سکول کالجز میں چھٹی کے بہانے تو

    کبھی آفس میں ڈیوٹی میں نرمی کے بہانے ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے تو کبھی ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ تک بنایا جاتا ہے۔

    لیکن مرد بیچارہ عزت کی خاطر کسی سے بات نہیں کر سکتا اور چپ ہو کر ہراسمنٹ کا شکار بنتا رہتا ہے
    ہمارے ہر ادارے میں ایسے درندے موجود ہیں جو مردوں پے بھی عورتوں کی طرح کی نظر رکھتے ہیں
    موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کیسے ان کو موقع ملے وہ اپنا کام پورا کریں

    اور مرد کو بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنائیں۔

    اسلام میں زانی کے لیے سخت سزا کا حکم دیا گیا ہے
     زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ ایسی سزا کو حدود اللہ کہا جاتا ہے جس کا جاری کرنا حاکم اسلام کا کام اور ذمہ داری ہے

    حضرت لوط علیہ سلام کی قوم پر عذاب بھی اسی وجہ سے آیا تھا وہ نوجوان لڑکوں کے ساتھ زناء کیا کرتے تھے
    اللہ پاک نے قرآن پاک میں کہی مقام پر لوط علیہ سلام کی قوم کا ذکر کیا ہے

    قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اور لوطؑ کو یاد کرو،

    جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ’’ تم بے حیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو؟ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذّت (حاصل کرنے) کے لیے مَردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔‘‘
    (سورۃ النمل54,55)

    اج بھی ہم اگر اپنے ارد گرد معاشرے میں دیکھیں تو ہمیں بہت سے مرد ایسے ملیں گے جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہوتی لیکن وہ مرد ہونے کے ناطے کسی سے ذکر کرنے کے بجائے یا تو اس زیادتی کا شکار بنتے رہتے ہیں یا پھر وہ ادارہ، سکول کالج چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ایک اور جگہ اللہ پاک نے فرمایا

    "اور قومِ لوط ؑ نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا ۔ جب اُن سے اُن کے بھائی، لوطؑ نے کہا کہ’’ تم کیوں نہیں ڈرتے، مَیں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور مَیں تم سے اِس (کام )کا بدلہ نہیں مانگتا، میرا بدلہ (اللہ) ربّ العالمین کے ذمّے ہے۔ کیا تم اہلِ عالَم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں، اُن کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔‘‘
    (سورۂ الشعرا 160-166)

    ہمیں اپنے ارد گرد کے معاشرے میں اپنی بہن بیٹیوں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی بے نقاب کرنے، ان کو سزائیں دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا

    ہمارے اداروں کو بھی ایسے لوگوں پر نظر رکھنی ہو گی جہاں پر ایسے درندے موجود ہیں جو عورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں
    @alwaystalat

  • معاشرتی ناسور (دہشتگردی).تحریر محمد طلحہ بغدادی

    معاشرتی ناسور (دہشتگردی).تحریر محمد طلحہ بغدادی

    دہشت گردی معاشرے کا وہ واحد مسئلہ ہے جو کسی بھی قوم اور ملک کے لیے بدنامی کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی تنزلی کا سبب بنتی ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، دہشت گردی ایک برائی ہے یہ ایک بڑا گناہ ہے دہشت گردی کے لفظ سے ہی اسکا مطلب لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے مکروہ اور ناپاک مقاصد کے لیے خوف و ہراس پیدا کر کے لوگوں پر رعب طاری کر کے اپنا اثر و رسوخ قائم کیا جاسکے
    دہشت گردوں کے دل مردہ، دماغ اور صلاحیت عقل سے عاری ہوتی ہے یہ انسانی روپ میں چٔھپے وہشی بھیڑیے ہوتے ہیں دہشتگردی کا مسئلہ پوری دنیا کے لیے مشترک ہے
    بدقسمتی سے پاکستان کو بھی اس ناسور، برائی، ( دہشت گردی) سے سامنا رہا ہے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان دہشت گردی کی جنگ سے نبردآزما ہے، پاکستان ملک میں امن کی خاطر دہشتگردوں سے جنگ کررہا ہے
    پاکستان اور پاکستانی قوم کو دہشت گردوں نے بدنام کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی، دہشت گردوں نے اپنی ناکام، اور ناپاک کاروائیوں کی بدولت بازاروں، دینی درسگاہوں، حتیٰ کہ مساجد تک نہیں چھوڑی، حالانکہ ہمارے قرآن پاک میں ارشاد ہے
    ترجمہ:
    کہ جس نے ایک انسان کا قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا
    اگر دینِ اسلام اسکی مکمل نفی کررہا ہے تو ناجانے دہشت گرد اس اہم فرمان کو جھٹلا کر کیوں اس میں کود پڑتے ہیں
    ہر مذہب میں دہشت گردی کو حرام قرار دیا گیا ہے
    جتنے بھی صحیفے اتارے گئے چاروں آسمانی کتابوں ( تورات، انجیل، زبور، قرآن پاک) کسی میں بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ محبت، امن اور بھائی چارے کا سبق اور پیغام دیا گیا
    میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ دہشت گرد کونسی مخلوق یا پھر کونسے جہان سے ہیں جو آئے روز اپنے ناپاک عزائم کرتے ہیں لوگوں کی زندگی اجبیران کرتے ہیں معاشرے میں نفرت کی ہوا کو بھڑکاتے ہیں

    گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں دہشت گردی عروج پر رہی دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے باعث پاکستان کو بدنام کیا جاتا رہا، جان بوجھ کر اور سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو دہشتگردی کی جنگ میں دھکیلا گیا جس کی وجہ پاکستان کو اسکی بھاری قیمت چکانا پڑی
    یہ وہ دہشت گردی ہی تھی جس کے لیے پاکستانی فورسز نے دن رات ایک کر کے پاکستان کو اندرونی و بیرونی چیلنجوں سے نمٹانے کے لیے بلا خوف نڈر ، بہادر اور بے باک بن کر بے پناہ قربانیاں دی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ملک کی خاطر شہید ہونے کو ترجیح دی تاکہ پاکستان کو امن و امان کا گہوارہ بنا سکیں، ملک کو امن کی جانب گامزن کرسکیں ، تاکہ ملک کو ترقی کی جانب پروان چڑھا سکیں، تاکہ پاکستان کا مستقبل نیک شگون ثابت کرسکیں
    تاکہ پاکستانی قوم سکون، سٔکھ، اور چین کی زندگی بسر کر سکیں
    الحمدللہ سکیورٹی فورسز کی کامیاب کوششوں کے باعث
    آج پاکستان میں امن و امان کی صورتحال ہے مساجد، عبادت گاہیں دہشت گردی سے پاک ہیں ہر پاکستانی سکون و اطمینان کی زندگی بسر کررہا ہے کھیلوں کے میدان آباد ہیں، دنیا بھر کی ٹیمیں پاکستان میں کھیلنے کو ترجیح دے رہی ہیں، بلوچستان امن کا گہوارہ بن چکا، کراچی کے لوگ قربانیوں کی بدولت سکون کی فضاء میں جی رہے ہیں، خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کا جڑ سے خاتمہ کردیا گیا

    دہشتگردوں کے ناپاک عزائم مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث دہشتگرد اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں عالمی برادری پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف کوششوں اور قربانیوں کو سراہ رہی ہے، پاکستان کو امن کی جگہ قرار دیا جارہا ہے،
    دہشت گردی کی جنگ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز جن میں پولیس، ایف سی، رینجرز، اور افواجِ پاکستان نے دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے مکمل حکمتِ عملی کے ساتھ پروگرام تشکیل دیا اور اسکی بدولت ملک امن و امان، سلامتی، اور سکون کا مرکز بنا، انکی لازوال قربانیاں قوم پر احسان ہیں پاکستان کو اس دہشتگردی سے پاک کرنے کے لیے جتنی بھی قربانیاں دی گئی قوم اپنے شہداء کی مقروض ہے

    بے شک شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ایک سپاہی شہید ہوکر ہی قوم کو امن کی زندگی میسر کرتا ہے قربانی دے کر ہی ملک کا سہارا بنتا ہے

    ایک ایک قربانی قوم شہیدوں کی یاد رکھی ہوئی ہے شہید اس ملک کا سرمایہ ہیں، فخر ہیں، ہمارے سروں کے تاج ہیں،

    دعا ہے کہ اللّٰهُ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائے اور ہمارے جوانوں کی غیبی امداد فرمائے آمین

  • یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

    بیجنگ: ڈجیٹل یوٹیوبر اور خبرنامہ پڑھنے والے ورچول نیوزکاسٹر کے بعد چین نے تاریخ میں پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت سے ایک ڈیجیٹل طالبہ تخلیق کر لی ہے جو چین ہی میں تیار کیے گئے وسیع سطح کے مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام سے چلتی ہےاس طالبہ کا نام ’ہُوا ژائی بِنگ‘ رکھا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : چینی میڈیا کے مطابق اس سسٹم کی نقاب کشانی یکم جون کو بیجنگ اکیڈمی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس 2021 میں کی گئی تھی اس طالبہ کو سنگہوا یونیورسٹی میں داخل کیا گیا ہے-

    گزشتہ دنوں ہُوا ژائی بِنگ نے چین کی مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ویبو پر اپنی زندگی کی پہلی پوسٹ کی، اور اس میں اس نے اعلان کیا کہ وہ سنگہوا یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں پڑھنے جا رہی ہے، تو لوگ سائنس دانوں کی اس تخلیق پر حیران رہ گئے۔

    ویبو پر اپنے پہلے ولاگ میں ہُوا ژائی بِنگ نے کہا کہ جب سے میں ’پیدا‘ ہوئی ہوں، تب سے میں ادب اور فن کی رسیا ہوں س ویڈیو میں ہُوا ژائی بِنگ کی آمد، آواز اور پس پردہ موسیقی، حتیٰ کہ اس کی بنائی پینٹنگز بھی، سب کچھ ایک ریکارڈ بریکنگ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلنگ سسٹم Wudao 2.0 پر تیار کیا گیا تھا۔

    ہُوا ژائی بِنگ اس وقت کمپیوٹر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پڑھ رہی ہے جدید ترین الگورتھم اور سافٹ ویئر ہے جو اسے مسلسل سیکھنے میں مدد دیتے ہیں 15 جون منگل کو اس نے پہلی کلاس لی ہے اور ان کا پہلا سیمسٹر ڈیٹا ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے۔ انہیں پڑھانے کےلیے ماہر پروفیسر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

    چین مریخ پر کامیابی سے خلائی جہاز لینڈ کرنے والا امریکہ کے بعد دوسرا ملک بن گیا

    اساتذہ کے مطابق ایک سال میں اس کا شعور 12 سالہ بچے جتنا ہوجائے گا اس طرح وہ لوگوں سے گھل مل کر ان سے سیکھے گی اور دن بدن انسان نما ہوتی چلی جائے گی اور انسانوں کے ساتھ مزید تخلیقی امور انجام دے سکے گی۔
    https://www.youtube.com/watch?v=iE3sGOod0lo
    اس سے پہلے بیجنگ اکادمی برائے مصنوعی ذہانت اور ایک کمپنی زائپو اے آئی نے اس ڈجیٹل طالبہ کی تربیت کی ہے لیکن اسے پڑھانے اور اتنی رقم خرچ کرنے کی اصل وجہ اب بھی سامنے نہیں آسکی ہے۔

    ایک پریس ریلیز کے مطابق چین اے آئی شعبے کو بڑھانا چاہتا ہے 2025 تک وہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) میں ’غیرمعمولی اہم سنگِ میل‘ حاصل کرنا چاہتا ہے چین کا خیال ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجینس ملک کی معاشی ترقی اور صنعتی فروغ کے لیے بہت ضروری ہے۔

    چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

    کمپیوٹرسائنس کے پروفیسر ٹانگ جائی نے کہا کہ ہوا اب لکھ سکتی ہیں، وہ پینٹنگ اور شاعری کرتی ہیں اور موسیقی کا رحجان رکھتی ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ سسٹم گفتگو کی نقل کرنے، نظمیں لکھنے اور تصاویر کو سمجھنے کے لیے 17 کھرب 50 ارب پیرامیٹرز استعمال کرتا ہے۔ اور اس نے گوگل سوئچ ٹرانسفر کے ترتیب دیے 16 کھرب پیرامیٹرز کا ریکارڈ توڑا تھا۔

    تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ طالبہ کچھ سادے جذبات رکھتی ہیں اور منطقی فکر بھی پیش کرتی ہیں۔ اس طرح یہ دیگر ورچول کرداروں سے بہت مختلف ہے۔ اس کی تیاری میں پہلے سے ہی دیگر کمپیوٹرماڈلوں سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔

    نئے خلائی اسٹیشن کی تعمیر،چین نے اپنا خلائی مشن روانہ کردیا