Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ؟ .تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ؟ .تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں اگر ہم تاریخ کی ان ورق کو دیکھیں جب کراچی کولاچی ہوا کرتا تھا تو اس شہر میں امن و سکون سے لوگ رہا کرتے تھے نا مذہب کے نام پر کوئی فساد ہوتا تھا نا ہی لسانیت کی بنیاد پر جھگڑے ہوتے دیکھے، جسے جسے وقت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگا آپسی پیار محبت لوگوں کی دلوں سے ختم ہونا شروع ہوگی،

    گزرتے وقت کے ساتھ کراچی میں رہنے والے خواہ وہ کسی بھی زبان سے تعلق رکھتے ہوں ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے اور آپسی بھائی چارہ ختم ہوتا چلا گیا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کچھ ایسی جماعتیں وجود میں آئی جن کا مقصد تعصب اور لسانیت کو ہوا دینا تھا کوئی مہاجر کے نام پر تو کوئی سندھی کے نام پر آپس میں لڑواتا کہی پٹھان تو کہی پنجابی دست گربان دکھائی دیے

    جس قوم کو قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے ایک جھنڈے تلے جمع کیا تھا وہ قوم لسانیت کی بھینٹ چڑھ گئی۔۔
    کولاچی سے کراچی تک کا سفر بہت کٹھن رہا اس درمیان بہت سے گھر اجڑے بہت سے بچے یتیم ہوئے خون کی ہولیاں کھیلی گئی…..
    آج تہتر سال گزر جانے کے باوجود ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟

    آج تہیہ کرلیں ہم نے یا تو مفاد پرست ٹولے کو اپنے اوپر مسلط کرنا ہے یا پھر ان سے جان چھڑانی ہے۔
    فیصلہ آپ کا..!!

  • غصہ عقل کو کھا جاتا ہے .تحریر: مہرالنساء رانا

    غصہ عقل کو کھا جاتا ہے .تحریر: مہرالنساء رانا

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے -یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے، وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اس کے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے
    انسان کو اللہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ خواہشات بھی رکھ دی

    انسان کو جب غصہ آتا ہے تو انسان اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتا
    انسان کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے
    انسان کی عقل ساتھ نہیں دیتی
    انسان غصے میں غیر فطری اور غیر اخلاقی کام بھی کر جاتا ہے
    غصے کی حالت میں انسان خود کا بھی اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا بھ نقصان کر دیتا ہے
    وقتی طور پر انسان جو کرتا ہے وہ اس کو ٹھیک لگ رہا ہوتا ہے لیکن بعد میں جب غصہ ختم ہوتا ہے
    انسان ہوش میں آتا ہے تو پھر سمجھ آتی ہے وہ جو کر رہا تھا وہ غلط تھا لیکن گیا وقت ہاتھ نہیں آتا
    اللہ پاک اور ان کے پیارے حبیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی غصہ کرنے سے منع کیا ہے
    اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی بہت دفعہ غصہ کو قابو کرنے کا کہا
    قرآن مجید میں غصہ نہ کرنے اور معاف کر دینے کی فضیلت کا بیان:

    1-’’وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓـئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ یَغْفِرُوْنَ‘‘[1]

     ’’اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصّہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں‘‘-

    -’’الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِط وَاللہُ  یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ‘‘[2]

    ’’یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں؛ اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘-

    چند احادیث
      ’’حضرت عطیہ (رضی اللہ عنہما) بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا، غضب شیطان کے اثر سے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو جب تم میں سے کوئی شخص غضب ناک ہو تو وہ وضو کرے‘‘-

    ’’حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ)بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم (ﷺ)نے فرمایا،جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آجائے کھڑا ہو تو بیٹھ جائے پھر اس کا غصہ ختم ہو جائے توٹھیک، ورنہ وہ لیٹ جائے‘‘

    حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (ﷺ)نے فرمایا جس شخص نےغصہ ضبط کر لیا حالانکہ وہ اس کے اظہار پر قادر تھا ،اللہ تعالیٰ اس کو امن اور ایمان سے بھر دے گا‘‘-

    اللہ اور ان کے پیارے حبیب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جب منع کر دیا تو پھر انسان کے پاس کوئی جواز، کوئی دلیل نہیں بچتی وہ غصہ کرے
    ہمیں بھی چاہئے ہم اپنے غصے پر قابو رکھیں اور اللہ پاک کے احکامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقوں پر زندگی گزاریں

  • پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی؟ تحریر:سید محمد مدنی

    پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی؟ تحریر:سید محمد مدنی

    میں پچھلے بیس سال سے پاکستان کی سیاست دیکھتا آ رہا ہوں اوراس بارجب فلسطین پرظلم ہؤا توبا حیثیت ایک مسلمان ملک پاکستان اورپاکستانیوں کےدل افسردہ تھے پاکستان کی خارجہ پالیسی نےاس بار بڑے عرصے بع دکروٹ بدلی اوراس کی وجہ وزیراعظم پاکستان کی اقوامِ متحدہ وہ تقریرہے جس سےکئی ممالک کے دارالحکومتوں کی زمینیں ہل گئیں وزیراعظم پاکستان عمران خان کا اقوام متحدہ میں دبنگ بیان خاص کرمقبوضہ کشمیراورفلسطین کےحوالےسےایک بہترین اورجامع بیان تھا پاکستان کی اہمیت کااندازہ آپ بین الاقوامی سطح پرافغانستان امن کےبارے کام اورکاوشوں اس کےعلاوہ وزیراعظم عمران خان کی شخصیت مسلم امہ کے لیے کتنی بہترین اوراہم ہے سے لگا سکتے ہیں

    یہی وجہ ہے کہ آج اوآئی سی ہومشرق وسطی کےممالک ہوں یہ بڑےادارے وزیراعظم کی کاوشوں کے بعد متحرک ہوئےاورآج وزیراعظم کی کاوشوں کی وجہ سے پاکستان کےعرب ممالک کےساتھ تعلقات مزید بہترین ہورہے ہیں خراب ہوئے نہیں بس تاثرایسا دیا گیا کہ خراب ہین اوراس میں قصورپاکستان کے دشمنوں کا ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان صرف پاکستان کاہی نہیں بلکہ وہ چاہتےہیں کہ مسلم ممالک اورمسلم امہ جوکہ دنیا کے اس خطےمیں بڑی تعدا دمیں ہیں اپنا اثرپیدا کریں

    صرف اسلاموفوبیا اورنبی آخری الزماں حضرت محمدرسول ﷲ صلعم سے متعلق موضوع پروزیراعظم سرتوڑکوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح بین الاقوامی سطح پر مسلم ممالک مغرب کوکہ باورکرائیں کےاسلام امن کاپیغام ہےاورمغرب کوکوئی حق نہیں کےوہ اس طرح ہمارےپیارے نبی صلعم کی شان میں گستاخی کرےاوروزیراعظم چاہتےہیں کہ کوئی ایسی قرارداد یانظام لائین کہ پھرآئندہ کسی کی جرات ناہو

    کچھ عرصہ پہلےجب پاکستان کےوزیرخارجہ جب فلسطین کےمسئلےپراقوامِ متحدہ گئےاوروہاں ترکی اوردیگرمسلم ممالک کےساتھ بہترین ڈپلومیسی کاکرداراداکیااورپھرجب بین الاقوامی خبروں کےچینل سی این این پرانٹرویو دیا جسے اس شوکی اینکرنےغلط رُخ دینے کی برابرکوشش کی اوروہ یہ تھاکہ میڈیا فلسطین کے مظالم نہیں دکھاتااوراثررکھنے والے افراد ہی میڈیا کوچلاتے ہیں جوکہ درست بات ہے لیکن اس اینکرنےاس کواینٹی سیمیٹیزم کانام دے دیا اینکروزیرخارجہ کی سچائی کوسننا نہیں چاہ رہی تھیں اوروہ اسرائیل کی طرف داری کرنے یا پھروزیرخارجہ کوغلط ثابت کرنے میں لگی ہوئی تھیں لیکن ناکام ہوئیں پاکستان کی دبنگ ڈپلومیسی نےایک بارپھراپنا اثراوراہمیت دکھائی اورحقائق دکھائےجس سےاورمسلم ممالک نےبھی فوری جنگ بندی پرزوردیا

    اب آتےہیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کشمیرکےحوالےسےبھارت کشمیرکواپنااٹوٹ انگ توکہتاہےمگروہیں ان پرظلم کرتاہےعورتوں کی بےحرمتی کرتاہےوزیراعظم پاکستان عمران خان نےبہت چاہاکےپاکستان بھارت میں تعلقات بہترہوں مگربھارت کارویہ ہمیشہ سےگھناؤنارہاہےکچھ عناصرغلط خبریں بھی نکالتے رہے کہ کشمیرپاکستان کے ہاتھ سے گیا اورحکومت پاکستان تجارت کرنے پرلگی ہے تومحترم میرے قارئین وزیراعظم صاحب نے یہ برملاکہا کہ پاکستان بھارت سے تجارت نہیں کرسکتا جب تک وہ کشمیر پر بات نہیں کرتا

    اب افغانستان کوزراگہری نظرسے دیکھتے ہیں یہ پاکستان ہی ہے جوامریکہ کوامریکہ کی ہی مدد سے افغانستان سے نکالنے کا کام کررہا ہےاوردنیا پاکستان کی معترف بھی ہے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو زرا بڑے صفحے پردیکھیں توپاکستان کی اہمیت کا اندازہ آپ کو ہوگا

  • بچپن کی شرارتیں قسط 1 ،تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    بچپن کی شرارتیں قسط 1 ،تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    جیسا کے آپ عنوان دیکھ سکتے ہیں، بچپن کی شرارتیں،
    آج میں آپ سے اپنی بچپن میں کی ہوئی شرارتیں شیعر کرونگی۔

    ھم سب نے اپنے بچپن میں کبھی نہ کبھی کسی مقام پر شرارت کی ہوتی ہے۔ سچ پوچھیں تو ھم لوگوں نے آج کے بچوں کے مقابلے میں کافی اچھا بچپن گزارا ہے۔ آج کے بچے پوری طرح سے الیکٹرانک بچپن گزار رہے ہیں، نہ باہر کھیلتے ہیں،نہ کسی سے ملتے ہیں، سارا دن ہاتھ میں یا تو کوئی الیکٹرانک ڈیوائیس ھوتی ہے یا گھر کمپیوٹر پر گیم کھیلنے میں لگے ہوتے ہیں۔ جو کے بچوں کو سوشل طور پر ایک دوسرے سے دور کرتے جا رہے ہیں۔

    چلیں اس موضوع پر پھر کبھی بات کرینگے۔
    فلحال تو آپ کچھ میرے بچپن کے بارے میں جانیں۔

    مجھے بچپن میں خود کو لڑکا کہلانے کا بڑا شوق تھا، کیوں حیران ھو گئے نہ ہاہاہاہاہاہاہا جی ہاں یہ سچ ہے۔۔

    جب میں آٹھ یا دس سال کی تھی، اس وقت اپنے بھائی کے کپڑے پہن کے بھائی کے ساتھ میں نے سائیکل بھی چلائی، کنچے بھی کھیلے، کرکٹ بھی کھیلی اور پتنگ بھی آڑائی۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرے بوائے کٹ بال اور کراچی کی خطرناک گرمی میں باہر کھیل کھیل کے رنگت بھی کالی سیاہ تھی، اسلیے کوئی سمجھ بھی نہیں پاتا تھا کے میں ایک لڑکی ہوں۔ وہ بھی کیا دن تھے، ہر چیز سے بےفکر سارا دن بھائی کے ساتھ آوارگی کھیل کود اور کوئی فکر نہیں، اور جب شام میں گندے پندے گھر واپس آتے تو آمی(مرحومہ) کی جھاڑ، اور ھم امی سے وعدہ کرتے کے کل نہیں جائینگے۔

    جب دوسری صبح ہوتی سب بھول بھال اسکول سے واپسی پر پھر سے بھاگ جاتے۔ امی کو اتنا تنگ کر رکھا تھا کے اپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔

    اور پھر سے وہی کرکٹ میچ، یا سائیکل کی ریس شروع ھو جاتی۔ اور شام میں وہی ڈانٹ، مزے کی بات یہ ہے کے بھائی کے سارے دوست مجھ سے بڑے تھے اور میں چھپکلی کی پتلی دبلی، لیکن طلعت بیگم بچپن میں بھی کسی سے ہار نہیں مانتی تھیں، جب سائیکل کی ریس ھوتی تو سب سے بڑی والی سائیکل میں پکڑ لیتی تھی، نہ گرنے کا خوف نہ چوٹ لگنے کا ڈر۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا کے بڑی سائیکل کے پہیے بڑے ہوتے اس لیے وہ تیز چلے گی اور میں جیت جاونگی ہاہاہاہا۔ یہ اور بات ہے کے زیادہ تر ہار جاتی تھی۔

    لیکن یہ سب شرارتیں جب یاد آتی ہیں تو اکیلے بیٹھے بیٹھے خود ہی ہونٹوں پر مسکراھٹ آجاتی ہے۔اور دل کرتا ہے کے کاش بچپن ایک بار پھر سے لوٹ آئے۔

    چلیں ابھی مجھے اجازت دیں، انشاءاللہ اس بچپن کی شرارت کو جاری رکھتے ہوئے کوشش کرونگی کے ہر روز نہیں تو ہر دوسرے روز آپ سب کو اپنی شرارتوں میں شامل کروں۔
    آج صرف شرارتوں کا انٹروڈکشن تھا پکچر ابھی باقی ہے۔
    اگلی قسط کا انتظار کریں۔

  • اسکول نہیں نوٹوں کی مشین ہیں! تحریر: عقیل احمد راجپوت

    پاکستان کا سب سے بڑا المیہ تعلیم کا بوسیدہ نظام سرکاری اسکولوں میں تعلیم نام کی چڑیا اگر کسی پاکستانی نے دیکھی تو وہ 80 کی دھائی کا زمانہ تھا اس کے بعد سیاست دانوں سے لیکر ہر کاروباری شخصیت نے اپنے ایک منافع بخش کاروبار کے طور پر اسکول کا انتخاب کیا جس میں کبھی نقصان ہو ہی نہیں سکتا اس بھیانک صنعت کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں معنوں تعلیم ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسے غائب ہورہی ہے جیسے کراچی سے صفائی کا نظام کراچی والوں کی مثالیں اب اسی طرح کی ہوگئی ہے خیر اسکول مافیا کا زور آج اتنا بڑھ چکا کے سپریم کورٹ کے فیصلوں اور واضح احکامات کے باوجود یہ مافیا اپنی مان مانی جاری رکھا ہوا ہے فیسوں سے لیکر کاپیوں اور یونیفارم سے لیکر مختلف پروجیکٹس کے نام پر والدین کی جیبوں سے پیسہ ایسے نکالا جاتا ہے جیسے کراچی میں مرغی کا ریٹ پھر کراچی والا!

    تو قدر دانوں بات یوں ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے نام پر اساتذہ کو دی جانے والی تنخواہیں اسکولوں کے نام پر جاری ہونے والے فنڈ ایسے غائب ہورہے ہیں جیسے کچرے میں کراچی غائب ہو رہا ہے!
    اسکول پر اربوں کھربوں لگانے والے حکمرانوں میں سے کسی ایک اولاد ان سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتی ہوئی دکھائی دیتی تو مجھے احساس ہوتا کے پاکستان دو نہیں ایک ہوگیا تبدیلی کے بعد مگر پاکستان تبدیلی کے بعد بھی دو ہیں تبدیلی کا نعرہ لگانے والے یہ حکمران اپنے بچوں کو بیکن ہاؤس اور ماما پارسی جیسے اسکولوں سے نکال کر کالے پیلے اسکول میں جب داخلہ کروانا شروع ہوجائیں تو سمجھ لینا تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آگئی ہے مگر فلحال تبدیلی ایسی ہی ہے جیسے کراچی کی پینے کے پانی کی لائنوں سے آتا ہوا گٹر ملا پانی!

    اسکول مافیا کی من مانیاں اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب انہوں نے ان کاروباری سرگرمیوں کو رہائشی علاقوں میں بھی شروع کردیا عام سا بجلی پانی اور ٹیکس دینے کے بعد یہ کمرشل کاروبار کو رہائشی علاقوں میں چلا کر علاقے کی عوام کو روزانہ کی بنیاد پر مشکل اور پریشانیوں میں ڈال رہے ہیں اسکول کی چھٹیوں کے وقت اس پاس کے لوگ اپنے گھروں سے کسی ایمرجنسی کی صورت میں باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے بلکل کراچی کی سڑکوں پر چوتھے گیر میں لگاتار گاڑی چلانے کی طرح!

    تو حکمرانوں اور اداروں سے درخواست ہے کہ مافیا ختم تو آپ نہیں کرسکتے کم سے کم اس پر قانون سازی کرکے ایک راہ ہموار کریں جس کے زریعے گزرنے والے والدین کو اپنی پریشانیوں کو کس حد تک بڑھانا ہے اور اپنا کتنا پیٹ کاٹنا ہے معلوم ہو بلکل اسی طرح جیسے کراچی والوں کو پانی آنے اور ٹینکرز کس دن ڈلوانا ہے معلوم ہوتا ہے
    کرونا وائرس کے ادوار میں فیسوں کا معاملات کو دیکھا جائے فیسوں کو والدین کی استقامت کے مطابق وصول کیا جائے بچوں کو فیسوں کے جمع نا کروانے پر اسکول سے نکالنے کے عمل کو رکوایا جائے بچوں کو فیس نا دینے کی پاداش میں سزائیں نا دی جائے ان کی دل آزاری اور تضحیک نا کی جائے بلکل اسی طرح جیسے کراچی کے نالے صاف نہیں کئے جاتے!

    آخری اور اہم نوٹ پر بات کا اختتام کرتا ہوں کہ رہائشی علاقوں سے اسکولوں کو فوری کمرشل جگہوں پر شفٹ کیا جائے کیونکہ خدا نا خواستہ کسی حادثے کی صورت میں وہاں ریسکیو آپریشن نہیں کیا جاسکتا اسکول میں ایمرجنسی اخراج کا کوئی موثر نظام نہیں اس پر فوری عملدرآمد کروایا جائے تاکہ حادثے کی صورت میں جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے میری یہ درخواست چارج شیٹ ہیں ان اداروں کے افسران کے خلاف جو اس کے کرتا دھرتا ہیں ایسے کسی بھی حادثے کی صورت میں وہ اسکے زمہ دار ہونگے

  • افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    پاکستان کی سات ہزار میں سے ساڑھے ہانچ ہزار کلومیٹر سرحدیں بھارت اور افغانستان کے ساتھ ہیں جو کسی طور پر بھی محفوظ اور دوستانہ نہیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کے بری طرح براہ راست متاثر ہو گا۔ ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ بیٹھے گا بھی یا نہیں۔ ۔ دوسری جانب بھارت نے جموں،کشمیر اور لداخ پر غاصبانہ قبضہ کرکے جنونی بھارتی قیادت خطہ کے حالات کو لہو لہان کردینا چاہتی ہے۔ ۔ تیسری طرف (FATF) نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھ کر عالمی پریشر برقرار رکھا ہے۔ ۔ چوتھا اقتصادی طور پر پاکستان بدستور آئی ایم ایف کی کالونی بنا ہوا ہے۔۔ یہ بہت مشکل صورت حال ہے جس سے ملک کو بچنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    ۔ اس وقت بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت میں بھی ایسے لوگ ہیں اور اپوزیشن میں بھی ایسے لوگ ہیں ۔ جو اپنے اپنے کام سے ناواقف نظر آتے ہیں۔ حکومت والوں کا لہجہ اپوزیشن کا سا ہے اور اپوزیشن کا حکومت کا سا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے ہماری جمہوریت آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے بھاگنے میں لگی ہے۔ میری نظر میں اگر اس وقت پاکستان کا کوئی سب سے بڑا مسئلہ ہے تو وہ ہے افغانستان کی موجودہ صورتحال ۔ کیونکہ آنے والوں سالوں اور دہائیوں میں جو بھی افغانستان کے حالات ہوں گے وہ پاکستان پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوں گے ۔ مگر دوسری چیزوں کی طرح اس معاملے پر بھی ہمارے سیاستدانوں کو کچھ ادراک نہیں کہ کیا ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے ۔ رہی بات عوام کی تو وہ بھی لگتا ہے صرف ٹک ٹاک بنانےاور دیکھنے میں لگی ہے ۔ کسی کو کچھ اندازہ نہیں کہ ہمارے دروازے پر کیا مصیبت دستک چکی ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ افغانستان کے حوالے سے کوئی بھی بے ڈھنگا فیصلہ ملک کو ایک بار پھر شدید بحران سے دوچار کرے گا۔ قومی معیشت ویسے ہی کمزور ہے۔ کورونا وائرس نے بھی حالات کی خرابی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اب اگر افغانستان کے حوالے سے کوئی مہم جوئی ہوئی تو پاکستان کے لیے معاملات کو سنبھالنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بیانیے کا دور ہے اور انٹرنیشنل محاذ پر ہم ابھی تک وہ بیانیہ نہیں تشکیل دے پائے جو کہ دینا چاہیے تھا ۔

    ۔ آپ دیکھیں افغان فوج کا مورال گرا ہوا ہے اور اس معاملے میں افغانستان کے صدر پاکستان پر الزام تراشی کا موقع ضائع نہیں کر رہے۔ سوال یہ ہے کہ بیس سال تک امریکا اور اُس کے اتحادیوں سے بھرپور امداد پانے کے باوجود افغان فوج کو اب تک اتنا مضبوط کیوں نہیں کیا جاسکا کہ وہ اتحادی افواج کے بعد ملک کو بہتر طور پر سنبھال سکے؟ اب یہ سوال کوئی نہیں اُٹھا رہا ہے اور ایک بار پھر سارا ملبہ پاکستان پرڈالنے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ اور شاید عنقریب آپکو پھر سے یہ سننے کو ملے کہ DO MORE ۔ پاکستان کے لیے ایک بار پھر فیصلے کی گھڑی آگئی ہے۔ اہم ۔۔۔ پیش رفت ۔۔۔ یہ ہے کہ پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کھل کر اور واضح پر سامنے آچکے ہیں کہ کسی بھی صورت میں پاکستان اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔ چاہے وہ طالبان کے لیے ہو یا پھر امریکہ کے لیے ۔ پاکستان افغانستان میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا مخالف بھی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان افغانستان میں خانہ جنگی نہیں چاہتا وہاں مستقل اور پائیدار امن چاہتا ہے اور اسکے لیے ہر حد تک جانے کے لیے بھی تیار ہے۔ پاکستان افغانستان میں عوامی تائید سے بننے والی حکومت کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔ یقینی طور پر یہ بڑا اچھا فیصلہ ہے ۔ ۔ پر اصل مسئلہ عالمی طاقتوں کا ہے سب کو اپنے اپنے مفادات عزیز ہیں ۔ کیونکہ چین اور روس کے مفادات اپنی جگہ ہیں امریکہ کے مسائل اور اس کی ضروریات اپنی جگہ ہیں اس میں یہ تو طے ہے کہ ان تمام ممالک کو ہر حال میں پاکستان کی ضرورت ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جائے تو جائے کہاں ۔ یعنی ایک آگے کنواں ہے تو پیچھے کھائی ہے ۔ ۔ اس حوالے سے حکومت کی واضح پالیسی بڑی اچھی بات ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔ مگر اس حوالے سے دنیا کو قائل کرنا ، دنیا کو سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے ۔ جتنا ایک اچھا فیصلہ کرنا ہے ۔

    ۔ کیونکہ اس نئی جنگ کے پس منظر بہت سے ممالک اپنی دشمنیاں بھی نبھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہم کو چوکنا اور ہوشیار بھی رہنا ہے کہ کہیں افغانستان کے ساتھ ساتھ خدانخواستہ پاکستان ان کی نئی
    battle groundنہ بن جائے ۔ کیا آپ نے نوٹس کیا ہے گزشتہ چند دنوں میں پاکستان میں ایک بار پھر دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ کیا ایک بار پھر سے بڑے شہروں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ شروع ہوگیا ہے ۔ ان تمام چیزوں پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے اور ان سدباب کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔ عمران خان کہتے ہیں کہ امریکا جس طور بھارت سے روابط رکھتا ہے بالکل اُسی طور پاکستان کو بھی جگہ دے۔ وزیراعظم شاید بھولتے ہیں کہ بھارت نہ صرف یہ کہ بڑی منڈی ہے بلکہ دنیا کو بڑی تعداد میں ورک فورس فراہم کرنے والا ملک بھی ہے۔ بھارت کسی بھی طاقت سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں ہے۔ بدقسمی سے ہم نہیں ہیں ۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ اندرونی اختلافات اور تضادات سے جان چھڑانے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے۔ ۔ دوسری جانب بات سخت ہے پر آپ دیکھیں کہ پاکستانی سیاست کے کردار ایک دوسرے کے ساتھ چلنے اور ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ لیکن افغانستان میں اشرف غنی اور طالبان کو دن رات سیاسی حل تلاش کرنے کے مشورے دیے جا رہے ہیں۔ امریکہ تک کو عقل کے ناخن فراہم کرنے کے لیے سرگرمی دکھائی جا رہی ہے۔ لیکن یہی ناخن حکومت ، عمران خان ، نواز شریف ، زدراری یا دیگر اپنے استعمال میں لانے کو تیار نہیں ہیں ۔

    ۔ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں انتہائی اعتماد کے ساتھ یہ بات تو کر دی ہے کہ طالبان سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ کابل پر قبضہ نہ کریں۔ لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان وزیراعظم عمران خان کی بات مان لیں گے کیا طالبان، القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروہ اپنے وہ اہداف ترک کر دیں گے۔ جن کے لئے وہ دہائیوں سے لڑ رہے ہیں؟۔ اس لیے اس چیز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ طالبان کی قوت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایک طرف وہ دارالحکومت کابل کے دروازے تک پہنچ گئے ہیں اور دوسری طرف افغان قیادت امریکا کے در پر گری ہوئی ہے۔ معاملات بالکل واضح ہیں۔ ۔ افغان قیادت چاہتی ہے کہ امریکا اپنی افواج کا انخلا مکمل ہو جانے کے بعد کی صورتِ حال کے حوالے سے ضامن کا کردار قبول کرے۔ طالبان پر قابو پانا تنہا افغان قیادت یا فوج کے بس میں نہیں ہے ۔ ایسے میں صدر اشرف غنی امریکا اور یورپ سے کوئی باضابطہ ضمانت چاہتے ہیں کہ طالبان کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کی جاتی رہے۔ ۔ پر سوال یہ ہے کہ امریکا کیوں چاہے گا کہ فوج نکالنے کے بعد بھی اس کا افغانستان کے معاملات سے کچھ تعلق رہے؟ اور بالخصوص ایسا تعلق جس میں ذمہ داری بھی نمایاں ہو؟ ۔ صاف ظاہر ہے کہ موجودہ افغان حکومت کا انجام بھی سویت افواج کے انخلا ء کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کی طرح ہونے والا ہے ۔ اس کے بعد امریکہ کے تشکیل کردہ داعش و القاعدہ گروہوں کے افغان طالبان کے ساتھ تصادم کی صورت میں ایک بڑی خانہ جنگی کا خطرہ ہے ۔ جس کے شعلوں سے پاکستان سمیت افغانستان کے دیگر ہمسائے کسی صورت محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ شاید امریکہ کی خواہش بھی یہی ہے کہ افغانستان بدامنی کے دلدل میں دھنسا رہے۔ کیونکہ جتنا اس خطے میں انتشار ہوگا چین کے سی پیک اور روس کے مفادات کو نقصان پہنچاتا رہے گا ۔ تو ہم کو سمجھنا چاہیے کہ افغانستان میں خانہ جنگی امریکہ کے مفاد میں ہے اور وہ حالات کو اس جانب ہی موڑ رہا ہے کہ افغانستان خوفناک اور خون خوار خانہ جنگی کا شکار ہو جائے ۔ ۔ کیونکہ جوبائیڈن کا یہ بیان بڑا معنی خیز اور پریشان کن ہے ۔ کہ ہم افغانستان سے جارہے ہیں۔ اب اپنی تقدیر کا فیصلہ افغانوں کو خود کرنا ہوگا۔ افغان قیادت کے لیے یہ ٹکا سا جواب راتوں کی نیندیں اڑانے دینے کو کافی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے پریشانی کا سامان ہوسکتا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں حالات خراب ہیں۔ ۔ اشرف غنی کی قیادت میں وہاں کی سیاسی قیادت شدید بے یقینی کا شکار ہے۔ اُس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا کہ مغرب کے مکمل انخلا کے بعد طالبان سے کیونکر نمٹا جاسکے گا۔

    ۔ اس لیے اب پاکستان کو افغانستان کے حوالے ہر فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہے۔ معمولی سی غلطی ایک بار پھر ہمیں داخلی سلامتی کے بحران سے دوچار کرسکتی ہے۔ لازم ہوچکا ہے کہ ہر پالیسی بہت سوچ سمجھ کر اپنائی جائے اور کسی بھی فریق کو بے جا طور پر نوازنے یا اُس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ رکھنے سے گریز کیا جائے۔۔ اس لیے وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی سٹیک ہولڈرز افغان معاملے پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسی پالیسی بنائیں کہ پاکستان نقصان سے بچ جائے ۔ ورنہ نوشتہ دیوار اب سامنے لکھا دیکھائی دینے لگا ہے ۔ کیونکہ پاکستان ایک بار پھر تاریخ دو راہے پر کھڑا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک تمام فریق مطمئن و متفق نہیں ہونگے ۔ ورنہ امریکہ چلا جائے یا کوئی اور آ جائے۔ افغانستان میں امن نہیں آئے گا۔

  • اسلام، حجاب اور عورت مارچ .تحریر:حسن ساجد

    اسلام، حجاب اور عورت مارچ .تحریر:حسن ساجد

    اسلام ایک جامع، فطری اور کامل دین ہے جس کے تمام قوانین  اور اصول و ضوابط فطرت کے تمام تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ اسلامی نصب العین انسانیت کی بقا، ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود سے بھرپور ہے کیونکہ اسلام واحد دین ہے جو زندگی سے متعلق تمام معاملات (دینی و دنیاوی، سیاسی و سماجی، معاشی و معاشرتی) میں مکمل اور جامع ترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو انسانی زندگی اور مہذب معاشرتی تکمیل کے تمام پہلووں کا مکمل احاطہ کیا ہوئے ہے۔ اگر حسن معاشرت کی بات کی جائے تو انسانوں کے مابین ہمدردی، اخلاص، اتفاق، باہمی تعلقات اور خدمت کی غرض سے جڑے رشتوں اور باہمی حقوق و فرائض کو جس خوش اسلوبی سے اسلام نے بیان کیا ہے  وہ کہیں اور میسر نہیں آتے۔ حقوق العباد کے عمومی موضوع سے اگر ہم اپنے مخصوص موضوع یعنی عورت کے حقوق و فرائض کی طرف متوجہ ہوں تو ہمیں تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہو گا کہ اسلام سے قبل رومی، یونانی اور زمانہ جاہلیت کے ادوار میں عورت سے ساتھ کس قدر بدتر اور تضحیک آمیز برتاؤ رکھا جاتا تھا۔ وہ ظلم و ستم کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جو عورت ان تمام ادوار میں سہہ چکی ہے۔  آپ کو تاریخ انسانی میں اسلام وہ واحد دین ملے گا جس نے نہ صرف عورت کی تضحیک منع فرمایا بلکہ عورت کو معاشرے میں رتبہ، مقام اور عزت و آبرو سے بھی سرفراز فرمایا۔ اسلام نے عورت کا وراثت میں حصہ مقررکیا اور دیگر اسے وہ تمام حقوق عطا کیے جن سے اسے محروم رکھا جاتا تھا۔ اسلام نے عورت کو معاشرے میں وہ مقام عطا کیا جس کی وہ صدیوں سے متلاشی تھی۔ اسلام نے دنیا کو عام پیغام دیا کہ عورت سامان عیش و عشرت نہیں بلکہ نسل انسانی کی بقا اور سلامتی کا نام ہے۔ جہاں اسلام نے عورتوں کے بے شمار حقوق مقرر کیے ہیں وہیں ان پر کچھ ذمہ داریاں اور فرائض بھی عائد کیے ہیں جن کی پاسداری تہذیب یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عورت کے ذمہ تمام فرائض میں سب سے اہم اور اولین فرض  احکام الہی کی روشنی میں اپنی عصمت اور آبرو کی حفاظت کرنا ہے۔ اس فرض کی تکمیل کے لیے اللہ رب العزت نے خواتین کو باکردار اور باپردہ ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ معاشرے میں ان کا وقار بلند ہو۔ اللہ رب العزت سورہ النور کی آیت نمبر 31 میں ارشاد فرماتا ہے کہ، 

    ” ترجمہ: اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔  النور31″۔ احکام پردہ اور عصمت کے تحفظ پر اس کے علاوہ بھی بیسیوں آیات اور احادیث مبارکہ موجود ہیں جن میں عورت کو باپردہ اور باحیا رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    الحمدللہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جو نظریہ اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے لہذا یہاں کی تہذیب و ثقافت اور ملکی قوانین کا اسلامی قوانین کے ساتھ مطابقت رکھنا بے حد ضروری ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے احکام الہی اور اسلامی قوانین کی پاسداری ہم پر فرض ہے اگر ہم اس سے روگردانی کریں گے تو یہ ہمارا یہ عمل اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی ، سرکشی اور قانون شکنی کے زمرے میں آئے گا۔ اسلام نے عورت کو جس انداز سے باپردہ رہنے کا حکم صادر کیا ہے اس کی ہوبہو پیروی ہم سب پر فرض ہے اور اس پر کسی قسم کی ذاتی رائے کو فوقیت دینا گناہ کبیرہ ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اور اسکے احکامات مہذب اور باوقار معاشرت کے تمام اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم اس لیے صادر فرمایا ہے کہ معاشرہ اس بے حیائی اور فحاشی سے  بچ سکے جو نسل انسانی اور خاندانی نظام کو تباہ و برباد کررہی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے وطن عزیز بھی عورت کی آزاد طرز زندگی کے نام پر بے پردگی، بے حیائی اور فحاشی پھیلانے والے اسلام اور پاکستان دشمن عناصر کی زد میں ہے۔ اس پھیلتی ہوئی بے شرمی اور بے حیائی کا نتیجہ ہمیں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم اور خواتین کی عصمت دری کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں جنسی جرائم کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ 

    اس سنگین صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے اپنے اہم بیان میں خواتین کو مختصر لباس زیب تن کرنے سے اجتناب کرنے کی ہدایت جاری کی۔ وزیراعظم پاکستان نے خواتین کو پردے کا اہتمام کرنے کی ہدایت دی تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم اور بے راہ روی کو روکا جاسکے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں ہر شخص ذاتی مفاد کے لیے خیر و شر اور احکام الہی کو فراموش کیے بیٹھا ہے۔ وزیراعظم کے اس بیان پر سیاست دان اپنی سیاست چمکانے کی غرض سے مخالف بیانات دے رہے ہیں تو دوسری لبرل مافیہ اور اسلام دشمن قوتیں سیخ پا ہیں۔ اس بیان کے باعث اصل مروڑ لبرلز اور انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکے داروں کے پیٹ کیں اٹھ رہے ہیں جنہیں پاکستان میں اپنا دھندہ چوپٹ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مادر پدر آزاد خیالات کا حامی یہ طبقہ جو "عورت مارچ” کے نام سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کا ڈھونگ رچا کر در پردہ بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دے رہا ہے۔ ہم سب اس بات کے شاہد ہیں کہ کس طرح عورت کارڈ استعمال کرتے ہوئے اس طبقے نے ملک میں فحاشی کو عام کیا ہے۔ یہ لوگ دوبارہ سے "عورت مارچ” کے لیے پر تول رہے ہیں مگر گزشتہ عورت مارچ کے جلسے جلوسوں میں استعمال ہونیوالے بینرز، نعروں اور اسکے علمبرداروں کے کرتوت ہم سب کے سامنے ہیں۔ جن سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کا مقصد عورت کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ یہ لوگ عورت کو آزادی اور حقوق کی جنگ کے نام پر گمراہ کرکے بے حیائی اور فحاشی کی جانب راغب کررہے ہیں۔ عورت کی تعلیم، وراثت میں اسکا حق، ملازمت کے یکساں مواقع اور دیگر حقوق کو چھوڑ کر انکی سوئی گھوم گھما کر بے پردگی اور بے حیائی پر ہی آکر ٹکتی ہے۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد اس طبقے کے اس قدر متحرک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ لبرل طبقہ عمران خان صاحب کی عوام میں مقبولیت سے بخوبی واقف ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ خان صاحب کے اس بیان کے بعد پردے کے معاملے میں نوجوان نسل کا وہ طبقہ بھی اس معاملے میں محتاط ہوجائے گا جو اس سے قبل پردے کی پابندی کا قائل نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنا دھندہ بچانے اور فحاشی پھیلا کر ہماری نوجوان نسل کو بہکانے کے لیے نئے اور منفرد انداز سے وارد ہوں گے۔ بحیثیت مسلمان اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلامی قوانین، اسلامی رویات اور تہذیب و ثقافت کو اپناتے ہوئے ان اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کو شکست دیں ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسلام کے سنہری اصولوں کی بنیاد پر ایک ایسا فلاحی، صحت مند اور مذہب معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہررنگ و نسل کے لوگ طبقاتی اور جنسی تقسیم سے آزاد پرامن زندگی گزار سکیں۔ 

    اللہ اقوام عالم میں پاکستان کو رفعتیں اور بلندیاں عطا فرمائے آمین 

  • حسیات کی انسانی زندگی  میں اہمیت .تحریر: عترت آبیار

    حسیات کی انسانی زندگی میں اہمیت .تحریر: عترت آبیار

    ‏انسان نے دنیا میں آنکھ کھولی تو سب سے زیادہ آنکھ اور زبان کا استعمال کیا . ارتقا۶ کے ماہرین کے مطابق جنگلی زندگی نے انسانی جسم میں بے پناہ تبدیلیاں کیں .مرد نے شکار کے لیۓ دور دراز جانا شروع کیا تو عورت نے زراعت کے ذریعے اپنی گزر بسر اور تنہاٸ ختم کرنے کے لیۓ سبزیاں اور پالتو ‏جانور اور پرندے پالنا شروع کر دیے اور یوں عورت گھر اور گھر کی حفاظت تک محدود ہوگٸ جبکہ مرد کے لیۓ باہر کی دنیا کے راستے کھلتے چلے گیۓ اس نظریہ میں کتنی حقیقت اور کتنا فسانہ ہے یہ تو وقت کے ساتھ واضح ہوتا جائے گا مگر ایک بات میں حقیقت ضرور محسوس ہوتی ہے کہ جنگل کی زندگی میں جہاں ‏ہر طرف جنگلی جانور اور درندے انسان کے ساتھ بستے تھے آخر انسان حفاظت کے لیۓ کون سے طریقہ اپناتا ہوگا؟ آنکھیں ایک خاص حد سے آگے کام کرنا چھوڑ دیتی تھیں اور ہاتھ سے صرف قریب کی چیزوں کو محسوس کیا جاسکتا تھا .

    اس صورت میں وہ کون سی حسیات تھیں جو انسان کی حفاظت کرنے میں معاون ہوتی تھی ‏علم الانسان کے مطابق سننے اور سونگھنے کی حیسیات انسان زندگی کو محفوظ بنانے میں معاون بنی .اندھیرے میں دور سے آنے والے انجان حملہ آور کو پہچاننے میں ”سماعت“اور”بو“ نے مدد کی اور زندگی اپنے مدارج طے کرنے لگی .ابتدا میں مرد و عورت ایک دوسرے کو خوشبو سے پہچانتے تھے پھر زندگی نے کروٹ ‏لی تو پہچان کے دوسرے طریقے ایجاد ہوے مگر جانوروں میں آج بھی یہی طریقہ موجود ہیں . جنگلی جانور شکار کی خوشبو دور سے سونگھ لیتے ہیں اور کتا ،بلی،شارک،بھیڑیا ہاتھی سب اپنی سونگھنے کی حس کی بدولت ہی زندہ ہیں اور اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق قطار میں چلتے ہوے ‏ایک دوسرے کی بو سونگھ کر چلتی ہیں انسان کی ساٸنسی ترقی نے جسمانی اعضا۶ کو منجمد کر دیا ہے آنکھوں کی کمزوری کو عینک لگا کر دور کیا جاتا ہے کیونکہ اب ہم آنکھوں سے زیادہ کام لیتے ہیں جبکہ دوسرے اعضا۶ کی معاونت کے لیۓ مصنوعی چیزیں مارکیٹ میں آچکی ہیں مگر دنیا میں آنے والا بچہ اپنی ‏ماں کو صرف خوشبو اور آواز سے پہچانتا ہے

    اگر ہم غور کریں تو خوشبو آج بھی زندگی کا بہت اہم حصہ ہے آنکھیں بند کرکے باغ میں جاٸیں تو ہر پھول کو لمس کے بغیر صرف خوشبوسے جان جاتے ہیں .کمرے میں بیٹھے ہونے کے بوجود بارش کی خوشبو اپنے آنے کی خبر دیتی ہے جسے ہم پسینہ کی بو کہتے ہیں وہ بھی ‏دراصل ہر انسان کی پہچان کی وجہ ہے ،کھانے کی خوشبو اشتہا۶ میں اضافہ کا سبب بنتی ہے جبکہ ناپسندیدہ بو تکلیف کا سبب بنتی ہے. ان سب نعمتوں کو ہر انسان اپناحق سمجھتا ہے مگر حق سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان نعمتوں سے نوازنے والی ذات کا شکر ادا کرنے کے لیۓ بھی سوچ لیا کریں .

  • مودی کی نئی گھناؤنی چال. تحریر : نوید شیخ

    مودی کی نئی گھناؤنی چال. تحریر : نوید شیخ

    ۔ مودی کی زیرصدارت مسئلہ کشمیر پر نام نہاد آل پارٹیز کانفرنس ناکام ہو گئی ہے ۔ کیونکہ کانفرنس میں کشمیری کٹھ پتلی لیڈران عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی پھٹ پڑے ہیں اور انھوں نے بھارت کی کشمیر پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کا بھارت کے ساتھ اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی تک ہماری لڑائی جاری رہے گی۔ وادی میں نئی حلقہ بندیاں بھی ہمیں قبول نہیں۔

    ۔ اسی طرح سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی کہا ہے کہ پانچ اگست کو غیرقانونی طریقے سے دفعہ 370 کو آئین سے حذف کیا گیا۔ ہم نے مودی سے کہا ہے کہ جب طالبان سے بات ہوسکتی ہے تو پاکستان کے ساتھ بھی بات چیت کرنی چاہیے۔ ۔ حقیقت میں مودی سرکار نے عالمی دبائو کو ٹالنے کیلئے کشمیری لیڈران کو آل پارٹیز کانفرنس کا دانہ ڈالا مگر بھارتی کٹھ پتلی قیادت بھی کشمیر کی آزادی کے برعکس کوئی بات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ جس ’’ریاست‘‘ کو اب ’’بحال‘‘ کرنے کی تیاری ہورہی ہے اسے لداخ سے الگ کردیا گیا ہے۔وہ دلی سے براہِ راست چلائی Union Territoryہی رہے گا یعنی
    ’’وفاق کے زیر انتظام‘‘ علاقہ۔۔ لداخ سے الگ کئے مقبوضہ جموں وکشمیر کو اب درحقیقت ایک صوبے کی حیثیت میں ’’بحال ‘‘ کیا جائے گا جو آئینی اعتبار سے بھارت کے دیگر صوبوں کی طرح اس ملک کا
    ’’اٹوٹ انگ‘‘ہوگا۔۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے تحت جموں وکشمیر کو فراہم ہوئی ’’خصوصی حیثیت‘‘ اب بحال نہیں ہوگی۔ اس طرح اپنے طور بھارت کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کو ’’حل‘‘ کردے گا۔

    ۔ یوں باقی ماندہ مقبوضہ کشمیر کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی اور وہاں مرکزی حکومت کا مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر تعینات ہو گا۔ لداخ کو مرکز کے زیر انتظام ایسا علاقہ قرار دیا گیا ہے جس کی اپنی کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔ بھارت کا منصوبہ یہ ہے کہ لداخ میں ہندو باشندوں کو ملک کے دوسرے علاقوں سے لا کر بسایا جائے۔ نریندر مودی اور امیت شاہ نے اے پی سی میں جس واحد معاملے پر بات کی وہ مقبوضہ کشمیر میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق مشاورت ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ حلقہ بندیاں اس طریقے سے کی جائیں کہ مخصوص علاقوں میں ہندو ووٹر اکثریت میں ہوں۔ بھارت حلقہ بندیوں کے معاملے پر الگ جبر کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بھارتی آئین کے تحت 2026ء سے پہلے نئی حلقہ بندیاں نہیں ہو سکتیں۔ مودی حکومت نے گزشتہ برس آسام میں جب مرضی کی حلقہ بندیوں کی کوشش کی تو اسے مقامی سطح پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اب مودی اسی آئینی خلاف ورزی کو مقبوضہ کشمیر میں متعارف کرانے کی کوشش میں ہے تاکہ کشمیر کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دیا جا سکے۔ بھارت اس طرح کے منصوبے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئے گئے استصواب رائے کے وعدے کے متبادل کے طو پر بروئے کار لانے کا خواہاں ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے متعلق بھارت کے عزائم کسی لحاظ سے خیر پر مبنی نہیں۔

    ۔ صورتحال یہ ہے کہ دو سال کے دوران ہزاروں افراد کو بھارت کے مختلف علاقوں سے لاکر کشمیر میں آباد کیا گیا ہے۔ کشمیریوں کے خلاف مسلسل آپریشن ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کی املاک کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ باغات کو کاٹا جا رہا ہے اور دکانوں کو منہدم کرنے کی پالیسی اختیار کر کے روزگار تباہ کئے جا رہے ہیں۔۔ دوسری جانب افغانستان کی بدلتی صورت حال اور امریکی رویے میں تبدیلی نے مودی حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ پاکستان سے کشمیر پر مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے۔ مودی مذاکرات سے قبل کشمیر کا معاملہ اس حد تک الجھا دینا چاہتے ہیں کہ مذاکرات میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بجائے مودی حکومت کے اقدامات زیر بحث رہیں۔ مودی کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی کے لئے اے پی سی جیسے اقدامات کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ یوں بھارت کا خیال ہے کہ یہ بین الاقوامی مداخلت کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ مودی چاہے جتنی بھی پلاننگ کرلے مگر یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ اس کے یہ منصوبے کتنے کامیاب ہوتے ہیں ۔ ۔ اس نام نہاد کانفرنس میں بھارت نواز آٹھ پارٹیوں کے 14رہنمائوں نے شرکت کی جبکہ کانفرنس میں کشمیریوں کی اصل نمائندہ حریت قیادت کو نظرانداز کردیا گیا۔

    ۔ جبکہ مودی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر میں انتخابات کے بعد کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جو کہ ایک ڈھکوسلا ہے ۔ دلاسا ہے ۔ بالکل ایسا ہی ہے کہ یہ کرلو تو ریاستی حیثیت بحال کر دیں گے ۔ یعنی مودی نے ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی سازش رچ دی ہے ۔ ۔ کیونکہ اگر کشمیریوں کو یہ بھارتی فیصلہ قبول ہوتا تو وہ کٹھ پتلی اسمبلی کے ہر انتخاب کے بائیکاٹ کا راستہ اختیار نہ کرتے اور نہ ہی وہ بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد جاری رکھتے۔۔ اس طرح مودی سرکار کی کشمیریوں کو تقسیم کرنے کی سازش بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ کشمیریوں کی منزل درحقیقت مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت کی بحالی نہیں بلکہ بھارتی تسلط سے آزادی ہے جس پر وہ کسی مفاہمت کیلئے تیار نہیں اور پاکستان کا بھی یہی دیرینہ اور اصولی موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل یواین قراردادوں پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔ ۔ دوسری جانب حریت قیادت نے بجا طور پر بھارت اور دنیا کو باور کرادیا ہے کہ مودی کا رچایا جانے والا ڈرامہ کشمیروں کے زخموں پر نمک پاشی اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔۔ دراصل مودی کشمیریوں سے غداری کی تاریخ دہرا رہے ہیں۔ کیونکہ کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں اور پاکستان کی شرکت کے بغیر تنازعۂ کشمیر کے حل کیلئے کوئی بھی ملاقات یا مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتے۔ کشمیری عوام بھارت سمیت مودی پر اعتماد کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہیں ۔ کیونکہ مودی نے کشمیر کو جھنڈے ،شناخت اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرکے اپنے زرخریدوں کی بھی تذلیل کی ہے جبکہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔

    ۔ کشمیری عوام اپنی دھرتی کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اس جدوجہد میں وہ اب تک اپنے لاکھوں پیاروں کی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں جبکہ انکی مالی قربانیوں کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔ وہ اپنی آزادی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو ہرگز تیار نہیں جنہوں نے درحقیقت اپنا مستقبل قیام پاکستان سے بھی پہلے پاکستان کے ساتھ منسلک کرلیا تھا۔ اسی تناظر میں کشمیر اور پاکستان کے عوام کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ الحاق ہی کشمیریوں کی منزل ہے اور انکی اس منزل کا حصول ہی دراصل تکمیل پاکستان ہے۔

    ۔ بھارت نے گزشتہ دوسال سے مقبوضہ وادی میں کرفیو لگا کر مظلوم کشمیریوں کے بنیادی حقوق بھی سلب کررکھے ہیں اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری کا عملی طور پر کچھ نہ کرنا اور کرفیو ہٹانے کے لیے بھارت پر دباؤ نہ ڈالنا عالمی بے حسی اور بے ضمیری کا ثبوت ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت مختلف بین الاقوامی اور عالمی پلیٹ فارموں پر لابنگ کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو احساس دلائے کہ جب تک بھارت جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں دیتا تب تک خطے میں امن و امان قائم نہیں ہوسکتا۔

  • مٹن کڑاہی کیوں نہیں کھلائی، دولہا بارات واپس لے گیا

    مٹن کڑاہی کیوں نہیں کھلائی، دولہا بارات واپس لے گیا

    بھارت میں دلہن والوں کی جانب سے باراتیوں کو کھانے میں مٹن کڑاہی پیش نہ کرنے پر دلہا بارات واپس لے گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں حالیہ چند دنوں میں عجیب و غریب وجوہات کی بنا پر بارات واپس لے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے حال ہی میں دلہن نے دلہا کی نظر کمزور ہونےکی وجہ سے شادی سے انکار کرتے ہوئے بارات کو خالی ہاتھ واپس کر دیا تھا-

    میڈیا کے مطابق اب ریاست اوڈیشا کے ضلع جے پور میں شادی کی تقریب میں اس وقت ہنگامہ کھڑا ہوگیا جب باراتیوں کو حسب وعدہ کھانے میں مٹن کڑاہی پیش نہیں کی گئی۔

    مٹن کڑاہی پیش نہ کرنے پر 27 سالہ دلہا رماکانت پترا اس پر نا صرف ناراض ہوگیا بلکہ شادی سے ہی انکار کردیا دلہن والوں نے دلہا اور اس کے گھر والوں کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن ودلہا مسلسل جھگڑا کرتا رہا اور بارات واپس لے گیا۔

    باراتی اپنے ایک عزیز کے گھر ٹھہرے اور راستے میں پڑنے والے ایک گاؤں کی لڑکی سے دلہا کی شادی کروا کر واپس اپنے گاؤں لوٹے تاکہ بارات خالی واپس آنے کا طعنہ نہ ملے۔

    ادھر دلہن والوں نے اس معاملے پر پولیس سے رجوع کرلیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ دلہا دوسری شادی کر چکا ہے اور اب صلح صفائی کی بھی گنجائش نہیں بنتی۔

    فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس