Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لباس،خواتین اور جنسی ہراسگی .تحریر:علی عبداللہ

    لباس،خواتین اور جنسی ہراسگی .تحریر:علی عبداللہ

    لباس کی اہمیت اسی روز شروع ہو گئی تھی جب شجر ممنوعہ کھانے پر آدم و حوا کو برہنگی کے باعث اپنے بدن جنت کے پتوں سے چھپانا پڑے اور پھر یہیں سے لباس اور حجاب کی بحث نے جنم لیا جو آج تک زیر بحث ہے۔ مرد و عورت کے مابین ایک مخصوص فاصلہ رکھنے کو جہاں مختلف مذاہب نے اصول و ضوابط پیش کیے، وہیں ظاہری طور پر مرد اور عورت کے لیے لباس کی اہمیت اور اس کا طریقہ کار بھی وضع کیا۔ کوئی بھی الہامی مذہب شرم و حیا اور لباس کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں پیچھے نہیں رہا چاہے وہ عیسائیت تھی یا یہودیت یا پھر اسلام، تمام مذاہب نے باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کو بھی محفوظ اور پاکیزہ بنانے پر زور دیا ہے۔ پست ترین قوموں میں بھی لباس کی اہمیت برقرار رہی اور ایسی قوموں نے جنگلوں میں رہتے ہوئے بھی اپنی سمجھ بوجھ اور مرتبے کے مطابق لباس وضع کیے تا کہ ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ جسم کو ڈھانپنے اور حیا کا تصور برقرار رکھا جا سکے۔ سینٹ پال نے لکھا ہے کہ ”خواتین کو سجاوٹ کے لیے ایسا مناسب لباس استعمال کرنا چاہیے جو شائستہ اور عمدہ ہو۔“ اسلام کی بات کریں تو قران کہتا ہے، ”اے اولاد آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانپے اور تمہارے لیے زینت ذریعہ بھی ہو۔“ یہاں ایک بات تو واضح ہو گئی کہ لباس جسم کو ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ ہمیں محفوظ بنانے اور شرم و حیا کو برقرار رکھنے کا باعث ہے۔

    لباس جسم انسانی کو خوبصورتی بخشتا ہے اور اسے طمانیت کے احساس سے روشناس کرواتا ہے۔ انسانی جذبات پر لباس کا گہرا اثر ہے، اسی لیے سیاہ لباس، سفید لباس، سرخ لباس وغیرہ مختلف جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ جبکہ بسنت اور بہار کی مناسبت سے پیلے اور تیز رنگوں والے لباس استعمال کیے جاتے ہیں۔ جذبات برانگیختہ کرنے والے کئی اقسام کے لباس جدید دنیا میں رائج ہیں جو انسانی جذبات کو بھڑکا کر جنسی طور پر انھیں مشتعل کرنے کا باعث بنتے ہیں- آپ کسی بھی بڑے سٹور پر چلے جائیں، وہاں مردوں سے زیادہ خواتین کے لباس کی مختلف اقسام دیکھنے کو ملیں گی کیونکہ جذبات کو ابھارنے میں یہ لباس نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ فرائڈ کے مطابق ”ہمارے اکثر افعال کی رہنمائی عقل نہیں کرتی۔ جو کچھ ہم سوچتے ہیں، جو کچھ ہم خواب میں دیکھتے ہیں اور جو کچھ ہم کرتے ہیں، ان کا تعین اکثر اوقات ہماری غیر عقلی جبلتیں جنھیں ترنگ یا من کی موج بھی کہا جا سکتا ہے کرتی ہیں۔ اس قسم کی غیر عقلی جبلتیں بنیادی انگیختوں یا ضروریات کا اظہار بھی ہو سکتی ہیں۔ مثلاً شیر خوار بچے کا ماں کا دودھ چوسنے کی جبلت بنیادی ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کی جنسی انگیخت بھی بنیادی ہو سکتی ہے۔“ جنس مخالف کی جانب مائل ہونے کی بہت سی نفسیاتی، حیاتیاتی اور فطری وجوہات ہیں اور انہی عناصر کو مزید تقویت دینے کے لیے مختلف انداز کے لباس مستعمل ہیں۔ جب ایک لباس آپ کو محفوظ ہونے کا احساس دلا سکتا یا آپ کو مذہبی اور کسی خاص قوم یا طبقے کا فرد کہلوا سکتا ہے تو یقیناً لباس انسان کے جذبات کو بھی ابھار سکتا ہے۔ لہذا یہ بحث ہی نہیں کہ لباس کا جنسی جذبات پر کوئی اثر ہے یا نہیں، یہ حقیقت ہے کہ لباس جنسی جذبات کو بھڑکانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لباس جنسی ہراسگی کی وجہ ہے؟ اس کا سادہ اور آسان جواب یہ ہے کہ ریپ اور ہراسگی کی بہت سی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ لباس بھی ہے۔ پوری دنیا میں کی جانے والی مختلف تحقیقات کے مطابق خواتین کا چست اور مختصر لباس ہراسگی اور ریپ کی وجوہات میں اہم کردار کا حامل ہے۔ ”Grammer et al. 2004“ کے مطابق کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ مخصوص لباس مردوں کو جنسی طور پہ لبھانے اور اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق جو کہ 20 سال سے 68 سال کی خواتین سے انٹرویو کے ذریعے کی گئی، میں بتایا گیا کہ خواتین لباس، کاسمیٹکس اور اپنی جسمانی حرکات کے ذریعے اپنے جنسی جذبات کو ظاہرکرتی ہیں۔ 2011 میں کی جانے والی ایک تحقیق (Gueguen 2011) کے مطابق مختصر اور چست لباس پہننے والی خواتین کی جانب لوگ سب سے زیادہ متوجہ ہوئے جبکہ ڈھیلے اور مکمل لباس پہننے والی عورتوں کے جانب بہت کم لوگوں نے توجہ دی۔ ایک اور تحقیق سے ظاہر ہوا کہ جو جوان عورتیں مختصر اور اعضا کو ظاہر کرنے والے لباس پہنتی ہیں وہ بہت زیادہ جنسی جرائم کے خطرات سے دوچار ہوتی ہیں۔ ورک مین اور جانسن کی تحقیق جس میں مرد و عورتوں کو دو تصاویر دکھائی گئیں، ایک تصویر میں مختصر اور چست لباس والی خاتون جبکہ دوسری تصویر میں عام ڈھیلے ڈھالے لباس والی خاتون موجود تھی۔ دیکھنے والے مردوں اور عورتوں نے پہلی تصویر میں موجود مختصر لباس والی خاتون کو جنسی ہراسانی پر اکسائے جانے کی وجہ قرار دیا۔ ایسی ہی چند تحقیقات مراکش، افریقہ اور ہندوستان میں بھی ہو چکی ہیں جن میں بہت سی خواتین اس بات سے متفق تھیں کہ چست اور مختصر لباس جنسی ہراسگی کا سبب بنتا ہے۔ لباس اور جنسی ہراسگی کے مابین تعلق پر بہت سے نظریات پیش کیے جا چکے ہیں جن میں ایٹری بیوشن تھیوری، ابجیکٹیفیکیشن تھیوری اور فیمینسٹ تھیوری وغیرہ شامل ہیں۔ 2018 کی تحقیق کے مطابق مختصر اور غیر مناسب لباس میں ملبوس عورت کم ذہین، کمزور کردار اور کم اہل سمجھی جاتی ہے۔

    اس ساری بحث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جنسی ہراسگی میں ہمیشہ عورت ہی ذمہ دار ہوتی ہے اور مرد بیچارہ بے قصور ہے۔ جنسی جرائم کی بے شمار وجوہات ہیں اور مرد ہمیشہ اس میں شامل ہوتا ہے، لیکن لباس کو اس سارے معاملے سے نکال دینا اور اس کی اہمیت سے انکار کرنا خطرناک بات ہے۔ جو لوگ بچوں سے زیادتیوں کی مثالیں دیتے ہیں اور لباس کو جنسی ہراسگی کی وجہ نہیں مانتے، وہ بھی درحقیقت اچھی طرح جانتے ہیں کہ مختلف ذرائع جیسے ٹی وی، انٹرنیٹ، فلمیں، فیشن شو اور سوشل میڈیا ایپس جیسے ٹک ٹاک، لائیکی اور سنیک ویڈیو پر پیش کیے جانے والے پروگرام اور ویڈیوز میں اکثریت ایسے مواد کی ہوتی ہے، جو مسلسل جنسی جذبات کو ابھارتے ہیں اور جن میں ماڈلز اور اداکاروں نے پرکشش اور چست و مختصر لباس پہنا ہوتا ہے۔ نتیجتاً ایک عام آدمی مسلسل جب ان کو دیکھتا ہے اور جنسی طور پر مشتعل ہوتا ہے تو پھر اس کے سامنےجو موقع آئے وہ اسے ضائع نہیں کرتا۔ اس طرح آسان ترین شکار انہیں چھوٹے بچے بچیاں نظر آتے ہیں جنہیں وہ اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ دوسری دلیل لوگ مغرب کی پیش کرتے ہیں کہ وہاں تو ہے ہی مختصر لباس تو پھر وہاں ایسے واقعات کیوں نہیں ہوتے؟ ایسے لوگوں سے عرض ہے کہ ریپ اور ہراسگی کے سب سے زیادہ واقعات یورپ اور امریکہ میں ہی ہوتے ہیں جنہیں ہمارا میڈیا مختلف وجوہات کی بنا پر پیش نہیں کرتا۔ پھر وہاں زنا بالرضا پر کوئی روک ٹوک نہیں اور اکثریت اسی پر گزارہ کرتی ہے۔ سخت قوانین اور سزائیں صرف جبراً زیادتی پر ہیں- اس کے باوجود اس معاشرے میں جنسی جرائم کی شرح بلند ہونا حیران کن ہے اور تحقیقات نے ثابت بھی کیا ہے کہ لباس ان واقعات کے پیش آنے میں خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ڈاکٹر ایلکسس کاریل کے مطابق ”لوگ ان قوانین طبعی کی مخالفت کرتے ہیں جن کو اسلامی زبان میں کائناتی سنتیں کہا جاتا ہے اور اس نتیجے میں تہذیبی و اخلاقی گراوٹ پیدا ہوتی ہے۔“

    مغربی اثر و رسوخ کی بنا پر ہمارے ہاں بھی چونکہ اب عورت آزادی کے نام پر پرانی کسان عورت کی طرح ماں کے کردار اور ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتی ہے اور بقول ایک عرب سکالر کے، وہ ابسن کی عورت کی طرح دوست، گرل فرینڈ اور ساتھی بننے کو جدت سمجھتی ہے۔ حالنکہ یہ مغرب کا مسئلہ تھا کہ امریکی عورت کسی قیمت پر تقریب میں حاضری ترک نہیں کرتی۔ پیرس کی معزز عورت ڈرتی ہے کہ اس کا عاشق اسے چھوڑ نہ جائے اور ابسن کی ہیروئن اپنی ذات کے علاوہ کسی کو توجہ کے قابل نہیں سمجھتی، لیکن اب مشرقی عورت بھی اس ڈگر پر چلنے کو پر پھیلا رہی ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں زنا بالجبر ہو یا بالرضا، دونوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس پر سزائیں مقرر ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ جدیدیت کے قائل افراد کو صرف مرضی کے بنا کیے گئے فعل پر اعتراض ہوتا ہے اور انہیں سخت سزا دیے جانے کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں، مگر اپنی مرضی سے استوار کیے گئے جنسی تعلقات پر اعتراض نہیں ہوتا اور نہ ہی ان پر لاگو شرعی سزا پر بات کی جاتی ہے۔ لباس میں آئے روز جدت کے نام پر عجیب و غریب انداز اپنائے جا رہے ہیں جو شرم و حیا سے عاری ہوتے ہیں۔ اسی مسئلے سے بچنے کے لیے ہی اسلام نے عورت کو شائستہ اور عمدہ لباس پہننے کی تلقین کی ہے، جس میں اس کے اعضا ظاہر نہ ہوں اور مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو اب ان دونوں احکامات پر بیک وقت عمل کرنے کی ضرورت ہے نا کہ صرف نگاہیں نیچی کرنے پر زور دیا جائے۔

  • اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کا قانون. تحریر:عائشہ یاسین

    اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کا قانون. تحریر:عائشہ یاسین

    پچھلے دنوں ایک الگ مسئلے کو سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ یہ مسئلہ نوجوانوں کی شادی کے متعلق تھا۔ نوجوانوں کی اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کو ہر صورت ممکن بنانے پر زور دیا گیا اور شادی نہ ہونے کی صورت میں والدین کو اس کا جواب طلب کرنے کی تجویز دی گئی اور باقاعدہ قانون نافذ کرنے اور اس پر عمل کروانے کے قانون کو رائج کرنے کی تلقین کی گئی۔ اس بحث میں صرف نوجوانوں کی بے راہ روی اور غلط سمت میں جانے کے خدشات کو واضح کیا گیا۔ ایک عام شہری ہونے کے ناطے یہ بات عقل تسلیم کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔ اٹھارہ سال میں شادی کسی صورت ممکن نہیں۔ اس کی ایک نہیں بے شمار وجوہات ہیں۔ ایک عام سروے میں جب یہ بات نوجوانوں سے پوچھی گئی تو ان کے پاس ہنسنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہ تھا۔ اسی طرح جب یہ مسئلہ والدین کے آگے رکھا گیا تو ان کی شکل پر فکر و پریشانی کے ساتھ صرف یہ الفاظ ادا ہوئے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟
    ہم جدید دور کے باسی ہیں اور ہر دور کا ایک تقاضا ہوتا ہے۔ جلد شادی کرنا ہرگز کوئی مسئلہ نہیں مگر اس شادی کو نبھانا اور آنے والی نسل کی پرورش اور کفالت اہم مسئلہ ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر اس قدر نا پختہ اور غیر سنجیدہ دور ہوتا ہے جس میں لڑکا لڑکی زندگی کو ایک خواب و خیال گردانتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی موج مستی اور شور ہنگاموں جیسی ہوتی ہے۔ ان میں احساس زمہ داری اور قوت فیصلہ نہیں ہوتا۔ وہ انتہائی جذباتی اور نڈر ہوتے ہیں۔ فیصلہ کرنا اور اس پر قائم رہنا ان کے لیے دشوار ہوتا ہے۔ ایسے میں ان پر شادی جیسی ذمہ داری ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ اس سے بھی زیادہ ضروری ان کی تعلیم ہے۔ بہتر تعلیم اور بہتر ذریعہ معاش کا ہونا انتہائی اہم ہے۔

    عموما تمام دنیا میں پیشہ وارانہ تعلیم کے مکمل ہونے کی عمر 23 سال ہے۔ پھر اس کے بعد نوکری اور دیگر انٹرنشپ وغیرہ میں ایک سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔اگر ہم اصول و ضوابط کے حساب سے اندازہ لگائیں تو بھی 24 سال کی عمر سے پہلیشادی ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ ہاں جہاں تک بات لڑکیوں کی ہے تو بھی اگر ہم لڑکی کی پیشہ وارانہ تعلیم نظرانداز کرکے ان کی تعلیم کی معیشت انتہائی کمزور ہے اور جہاں پہلے ہی غربت اور جہالت کا راج ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ تجویز نامناسب ہے۔ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی نوجوانوں کے ساتھ ناروا سلوک برتا جارہاہے۔ لڑکیوں کی تعلیم ویسے ہی ایک متنازعہ معاملہ ہے۔ نہ ہی لڑکیوں کو بہتر تعلیمکو مختص کریں تو انٹر بنتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں جہاں ہمارے ملک کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر ان کے جائز حقوق دیے جاتے ہیں۔نو عمری کی شادی کسی طور خیر کا باعث نہیں بن سکتی۔ چھوٹی عمر کی شادیوں سے صحت کے معاملات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ تعلیم کی شرح نمو میں کمی آسکتی ہیں۔ آبادی جو پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہے خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ پیشہ وارانہ افراد کی کمی ہوسکتی ہے۔ نہ سمجھی اور لا ابالی عمر کی شادی گھر کے نہ بسنے کا سبب بن سکتی ہے۔

    شادی کوئی کھیل نہیں بلکہ یہ ایک معاہدہ ہے جو دو افراد کے بیچ قائم ہوتا ہے تاکہ نسل پروان چڑھے اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکے۔ایسا ہرگز نہیں کہ میں کم عمر کی شادی کے خلاف ہوں۔ بلکہ بات صرف اتنی سی ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر کو ہی قانون بنانا دانشورانہ روش نہیں۔ ہاں 24 سے 25 سال کی عمر کی بات کی جائے تو بات کچھ سمجھ آتی ہے کہ جب بچے تعلیم کی فارغ التحصیل ہوجائیں اور ذمہ داریوں کا تعین کرسکیں تو ان کی شادی کر دینی چاہیے۔ بات صرف حقائق و معاشرتی شعور کی بنیاد پر کی جائے تو نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے مگر ایک ایسی تجویز جس کا معاشرے میں اطلاق ہونا ممکن نہ ہوسکے سوائے وقت کے زیاں کے کچھ نہیں۔ نوجوانوں کے لیے اگر قانون دان کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جس سے نوجوانوں کی فلاح و ترقی کے راستے کھل سکیں۔ بہتر معاش زندگی اور بہتر تعلیمی نظام کو مستحکم بنایا جاسکے تاکہ آج کا نوجوان بیرون ملک جانے کے خواب دیکھنے کے بجائے اپنے ملک میں رہ کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکے اور ملک و قوم کو ترقی مل سکے۔ سو اس طرح کے قانون جس سے نوجوانوں کے مستقبل کو خطرہ ہوسکتا ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔

  • آرٹیکل 370 کی بحالی  کے سوا مسئلےکا  کوئی حل قبول نہیں ، کشمیری قیادت مودی پر پھٹ پڑی

    آرٹیکل 370 کی بحالی کے سوا مسئلےکا کوئی حل قبول نہیں ، کشمیری قیادت مودی پر پھٹ پڑی

    آرٹیکل 370 کی بحالی کے سوا مسئلےکا کوئی حل قبول نہیں ، کشمیری قیادت مودی پر پھٹ پڑی

    باغی ٹی وی : مودی سرکار کو ایک بار پھر منہ کی کھانا پڑی جب اس نے کشمیری سیاسی قیادت کو بلا کر نام نہاد اے پی سی بلائی ، اور اس میں کشمیری قیات آرٹیکل 370 کو بحال کرنے کے سوا کچھ منظور نہ تھا . بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی بھارت نوا ز جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس چوبیس جون کو نئی دہلی میں طلب کی تھی۔

    کانفرنس میں چودہ افراد کو ملاقات کی دعوت دی گئی تھی ۔ان میں نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی ،پیپلز کانفرنس وغیرہ شامل ہیں ۔جموں سے جن شخصیات کو مدعو کیا ہے ان میں غلام نبی آزاد اور پروفیسر بھیم سنگھ شامل تھے ۔اس طرح دعوت ملاقات پانے والوں میں چار سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ،عمر عبداللہ ،غلام نبی آزاد اور محبوبہ مفتی شامل تھے۔ان جماعتوں نے مودی کی کی کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے مشاورت کر نے کے بعد شرکت کا فیصلہ کیا حالانکہ کانفرنس کا کوئی پیشگی ایجنڈا نہیں تھا.

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصدیق

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    یوں اس کانفرنس کی ناکامی کے بعد بھارت کا ایک اور ڈرامہ فلاپ ہوگیا، جب کشمیری قیادت کے ساتھ بھارتی وزیر اعظم کی آل پارٹیز کانفرنس ایک ایسے نقطے پر اختام پذیر ہوئی جس کا کوئی نتیجہ نہ تھا ، شرکا نے آڑٹیکل 370 کے کالعدم کرنے پر بھارتی وزیر اعظم پر خوب تنقید کی اور اس کو بحال کرنا ہی واحد حل بتایا

    نریندر مودی نے شرکاء‌ کے عزم اور غیض و غضب کا اندازہ لگاتے ہوئے چانکیائی چال کھیلی اور کہا کہ مناسب وقت پر مقبوضہ وادی کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی۔

    اے پی سی کے بعد مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہم بھی کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کروا کر دم لیں گے۔

    مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی تک لڑائی جاری رہے گی، پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور رہے گا، دوست بدلے جاسکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں۔

    بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنر جی نے مودی لتے لیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370کے خاتمہ سے دنیا میں بھارت کی دنیا میں بدنامی ہوئی، مودی سرکار کا یہ اقدام ایسا ہے جس سے بھارت کوکوئی فائدنہیں ہوا

  • ماں کی یاد . تحریر:عترت آبیار

    ماں کی یاد . تحریر:عترت آبیار

    زندگی کی کوئی محرومی نہیں یاد آئی
    جب تلک ہم تھے ترے قرب کی آساٸش میں
    گزرے وقتوں میں ایک ہوا کرتا تھا برگد کا پیڑ ،جس کی چھاٶں بہت گھنی ہوتی تھی اور گرمی کے موسم میں اردگرد کے سب لوگ دھوپ کی تپش سے بچنے کے لیۓ اس درخت تلے اکٹھے ہوجاتے تھے ،اس گھینری چھاٶں میں بیٹھ کر سارے دکھ درد‏بھول جایا کرتے اور زندگی بہتر گزر جاتی ،
    برگد کے پیڑ کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوتی ہیں اور اس پیڑ کو ختم کرنا آسان کام نہیں ،ہمارے ارد گرد بھی بہت سے رشتے برگد جیسی چھاٶں لیۓ ہمیں موسموں کی شدت سے محفوظ رکھتے ہیں .

    ماں بھی ایسا ہی ایک گھنیرا درخت ہے جب تک زندہ رہتی ہے ساری‏گرمی ،سردی آندھی ،طوفان خود پر سہہ کر محض خاموش رہتی ہے اور بچوں پر کسی دکھ کی پرچھاٸیں تک نہیں آنے دیتی اوربچوں کو دنیا ایک کھیل سے زیادہ کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا،ہر طرح کی جگتیں مذاق اور بے فکری چھاٸ رہتی ہے،انسان کبھی سوچ ہی نہیں سکتا کہ اس پیڑ کا تنا کمزور ہو کر اچانک کسی دن ‏ڈھے جائے گا جس کی جڑیں زمین میں دور تک پھیلی ہیں مگر پھر بھی موسموں کی سختیاں برداشت کرتا یہ پیڑ کسیے اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے پتہ ہی نہیں لگتا .اس چھاٶں میں کسی گاٶں کے چوپال کا سا منظر ہوتا ہے رشتے دار ہوں یا محلے دار،عیدوں تہواروں پر اکٹھے ہوتے ہیں اورزندگی کسی فلم کی کہانی‏لگتی ہے مگر جب ماں جیسے برگد کی چھاٶں مٹی اوڑھ کر سو جاتی ہے تب لو کے تھپیڑے انسان کی روح کو جھلسا دیتے ہیں اور خون جما دینے والے سرد ہواٸیں جسم کو شل کر دیتی ہیں تو دینا کی اصل حقیقت سمجھ آتی ہے،کوٸ کتنا حقیقت پسند ہو یا دانشور،ماں کے دنیا سے رخصت کا تصور نہیں کر سکتا،کم از کم‏میں نہیں جانتی تھی کہ میری ماں رخصت ہو جاۓ گی،یوں لگتا تھا کہ ساری دنیا بھی ختم ہو گٸ تب بھی ماں کی چھاٶں ایسے ہی قاٸم و داٸم رہے گی،مگر یہ محض تصوراتی دنیا تھی جو آج بھی نیند کی وادی میں جاتے ہی حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے ،برسوں بیت گۓ اس جداٸ کو مگر آج بھی یہی لگتا ہے کہ وہ‏یہیں کہیں ہے اور ابھی مجھے ڈانٹتے ہوۓ کہیں گی ”تم نے میرا پرس کیوں کھولا“

    میں ہمیشہ سے حساب کے مضموں میں نکمی رہی ،کسی چیز کا حساب رکھنا نہ آیا مگر برگدجیسی چھاٶں کے جاتے ہی حساب کے سارے سوالوں کے جواب ازبر ہوگۓ” بس وہ آواز کہیں کھو“ گٸ ہے‏ہمارے ہاتھ سے ایسے نازک تعلق مٹھی میں بھری ریت کی طرح نکل جاتے ہیں اور ہمیں خبر بھی نہیں ہو پاتی ، جب ایسا کوٸ دل میں اترا ہوا رشتہ اپنے ہاتھوں مٹی کے سپرد کر کے خالی ہاتھ گھر کو لوٹنا پڑے تو وہ رات کیسے کٹتی ہے یہ صرف وہی لوگ جان سکتے ہیں جو اس کرب سے گزرے ہیں ،گھر میں پھیلی ‏سرخ گلابوں کی خوشبو کیسے چبھتی ہے یہ بھی سب نہیں جان سکتے

  • کینسل ایگزیمز سیو سٹوڈنٹس؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    کینسل ایگزیمز سیو سٹوڈنٹس؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پچھلے کچھ عرصے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طالبعلموں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اُن کے امتحانات منسوخ کر کے انہیں پروموٹ کیا جائے۔ اس مطالبے کا پس منظر، وجوہات، مثبت و منفی پہلو اور اثرات پر بات کرتے ہیں۔

    2020 میں کوویڈ (کرونا وائرس) کی وجہ سے جہاں دوسرے معمولات زندگی متاثر ہوئے، وہیں تعلیمی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی ادارے بھی بند تھے۔ ان وجوہات کی بنا پر وزارت تعلیم نے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد امتحانات کے بغیر پروموشن کا فیصلہ کیا۔ دہم اور بارہویں جماعت کے امیدواروں کو پچھلے سال کے امتحانات کی بنا پر نمبر دیے گئے اور نہم اور گیارہویں کے طالبعلموں کو کہا گیا کہ اُنکو اگلے سال کے امتحانات کی بنا پر نمبر دیے جائیں گے۔

    یہ ایک مجبوری میں کیا گیا فیصلہ تھا کیوں کہ اُس وقت نا تو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب تھی اور نہ ہی حالات کنٹرول میں تھے۔ لیکن اُس وقت کچھ ذہین/ محنتی بچوں نے امتحانات کی منسوخی کے خلاف احتجاج کیا تھا، جن کا موقف تھا کہ اس فیصلے کی وجہ سے نہ صرف اُنکی محنت رائیگاں جائے گی بلکہ مستقبل میں انکا میریٹ بھی متاثر ہو سکتاہے۔
    2021 کے آغاز میں ہی وزیرِ تعلیم نے بول دیا تھا کہ اس سال امتحانات کے بغیر کسی کو بھی پروموٹ نہیں کیا جائے گا، لیکن وقتاً فوقتاً اس کے خلاف طالب علموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ جس میں باقاعدہ اعلان کے بعد شدت آ گئی۔

    کچھ روز قبل کُچھ سٹوڈنٹس نے فیض آباد احتجاج کرتے ہوئے سرینگر ہائی وے کو نہ صرف بند کر دیا بلکہ وہاں موجود نجی گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچایا۔ جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے درجنوں گرفتاریاں کیں۔

    سٹوڈنٹس کے تحفظات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اعلان کیا کہ اس سال امتحانات صرف آدھے اختیاری مضامین کے ہوں گے اور اُن 4-3 مضامین کا سلیبس بھی کم کر دیا گیا ہے۔

    کچھ طالبِ علموں کا مطالبہ ہے کہ امتحانات کو منسوخ کر کے ان کو پروموٹ کر دیا جائے۔ اس کے لیے وہ پہلی توجیح یہ دیتے ہیں کہ ہمیں امتحانات کی تیاری کا وقت نہیں دیا گیا۔ دوسری توجیح کرونا کی دی جاتی ہے کہ ہماری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک سال کا عرصہ 3 یا 4 مضامین کی تیاری کے لیے کم تھے؟ کیا انہوں نے پورا سال اِس اُمید میں تیاری نہیں کی کہ اگلے سال بھی امتحان کینسل ہو جائیں گے؟ اور اگر کرونا کی بات کی جائے تو اِسکی تیسری ویو تقریباً ختم ہو چُکی ہے، ویکسینیشن کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ اور اگر ہمیں شاپنگ کرتے وقت کرونا کی فکر نہیں ہوئی، احتجاج کرتے وقت کرونا کا خطرہ نہیں ہوتا تو امتحانات میں بھی کرونا کُچھ نہیں کہے گا۔

    سٹوڈنٹس کے ایک دوسرے گروپ کا مطالبہ ہے کہ چونکہ ہماری کلاسز آن لائن ہوئی ہیں اِس لیے امتحانات بھی آن لائن لیے جائیں۔ یہ گروپ بھی آن لائن امتحانات کے لیے کرونا کی توجیح پیش کرتے ہیں۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ کی تیاری اچھی ہے تو اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ امتحان فزیکل ہوتے ہیں یا آن لائن۔ کرونا کی پیک میں کلاسز آن لائن ہوئی تھی، لیکن اس وقت اسکول اور کالج کھولے جا چُکے ہیں، اگر اس وقت بھی تعلیمی ادارے بند ہوتے تو یہ مطالبہ شاید قابلِ قبول ہوتا۔ اور ویسے بھی اگر روز مرہ زندگی کے لیے ہم کرونا کو خاطر میں نہیں لاتے تو امتحانات کے لیے یہ توجیح کچھ مضحکہ خیز ہے۔

    آنلائن امتحانات کے لیے توجیح پیش کی جاتی ہے کہ چونکہ آنلائن کلاسز ٹھیک طرح سے نہیں ہوئیں اور بہت سارے لوگ انٹرنیٹ ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے کلاسز بھی نہیں لے سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پڑھائی تو کتابوں کی مدد سے خود بھی کی جا سکتی ہے لیکن ایسے سٹوڈنٹس جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں وہ آن لائن امتحان کیسے دیں گے؟

    کچھ بچے مطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ اُنکو تیاری کے لیے مناسب وقت نہیں ملا اس لیے اُنکے امتحانات کو ملتوی کیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ ایک سال میں تیاری نہ کر سکے تو مزید کتنا وقت چاہیے؟
    اور اس سب میں کچھ لوگوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے طالب علموں کو بڑھاوا بھی دیا۔ ان معصوم بچوں کے درمیان موجود کُچھ شر پسند عناصر نے تو امتحانات منسوخ نا ہونے کی صورت میں املاک کو آگ لگانے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔

    کُچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سٹوڈنٹس کو بغیر امتحان پاس کر دیا گیا تو یہ نہ صرف اُن کے لیے بلکہ مُلک کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گا۔ سٹوڈنٹس کے رویے سے لگتا ہے کہ انہوں نے تیاری نہیں کی۔ آج انکو امتحان کے بغیر ڈگری دی دی گئی تو کل کو یہ لوگ بغیر محنت نوکری کا مطالبہ بھی کریں گے۔ اور نوکری مل بھی گئی تو یہ پرفارم کیا کریں گے۔
    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طالب علم آن لائن امتحانات کا مطالبہ اس لیے کر رہے ہیں کہ اِن میں نقل کرنا آسان ہے۔ لوگ اپنی جگہ کسی اور سے پیپر حل کروا سکیں گے یا کسی سے مدد لے سکیں گے۔

    بالفرض اگر امتحان منسوخ ہو جاتے ہیں تو مستقبل کی پڑھائی کے لیے میرٹ کیسے بنیں گے؟ اور اگر اس سال بغیر امتحان ڈگری لینے والوں کو انڈسٹری نے قبول نہ کیا تو انکا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یہ لوگ پھر سڑکوں پر آئیں گے؟

    ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جو لوگ امتحان دینا چاہتے ہیں اُنکی اِس خواہش کا احترام کون کرے گا؟ ایسے سٹوڈنٹس تو اکثریت میں ہیں جو مطالبہ کرتے ہیں کہ اِن کے امتحان جلد سے جلد لیے جائیں۔ یہ طبقہ امتحان منسوخ ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والے میرٹ اور نوکری کے مسائل کی وجہ سے بھی پریشانی کا شکار ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر فزیکل امتحانات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے لئے 29 جون کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جبکہ بین الصوبائی وزیر تعلیم کانفرنس (آئی پی ای ایم سی) میں لیے گئے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس سال بغیر امتحان کسی بھی طالب علم کو اگلی کلاس میں ترقی نہیں دی جائے گی۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں حکومت کو چاہیے کہ امتحانات میں بچوں کی صحت کے لیے خصوصی اقدامات کرے وہیں والدین کو بھی اپنے بچوں کو امتحانات کے لیے قائل کرنا چاہئے۔ طالب علموں کو بھی اپنی پڑھائی پر توجہ دینی ہوگی کیوں کہ امتحانات کا منسوخ ہونا مسائل کا حل نہیں ہے۔ بغیر امتحان ترقی کا سب سے زیادہ نقصان سٹوڈنٹس کا ہی ہوگا۔اس سے نہ صرف مزید مسائل پیدا ہوں گے بلکہ زندگی کے دوسرے امتحانات زیادہ مُشکِل ہو جائیں گے۔

  • منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    ہمارے معاشرے میں منشیات کا استعمال دن بدن زور پکڑتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ لوگوں کی ذہنی سکون کا نا ہونا ہے لوگ ذہنی سکون کے لیے نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتے ہیں جس پر وقتی طور پر تو ان کو کچھ تھقعا اعام مل جاتا ہے لیکن اس سے ان کی صحت دن بدن بگڑنا شروع ہو جاتی ہے آخر وہ اسی نشہ کی عادت کو لے کر کسی نا کسی جگہ مردہ حالت ملتے ہیں کوئی کسی نالہ میں تو کوئی کسی کھیت ہیں
    منشیات کے عادی لوگ نا صرف اپنا جانی مالی نقصان کر رہے ہوتے ہیان بلکہ وہ اپنے خاندان، معاشرے میں بھی یہ بیماری پھیلا رہے ہوتے ہیں  جس سے معاشرے میں دوسرے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں منشیات کے عادی لوگ جب کسی کام کے قابل نہیں رہتے یا منشیات خریدنے کے لئے پیسہ نہیں ہوتا تو وہ لوگ پھر چوری، ڈاکہ، وغیرہ مار کر اپنے نشے کے پیسے پورے کرتے ہیں

    جس سے وہ رفتہ رفتہ ایک اور جرم میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس جرم کے بھی عادی مجرم بن جاتے ہیں ایسے لوگ جن پکڑے جاتے ہیں تو جیل میں بھی ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا تو وہاں بھی ایسے ہی پڑے پڑے اپنی سزا پوری کرنے کے بعد باہر آ جاتے ہیں یا پھر کچھ لوگ نشہ نا ملنے کی صورت میں وہاں ہی انتقال کر جاتے ہیں منشیات فروشوں کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں وہ نا صرف ملک کے اندر بلکہ ملک سے باہر سے بھی غیر قانونی طریقے سے منشیات ملک میں منگواتے ہیں اور پورے ملک میں اس کو بیچنے کے لیے نیٹ ورک بناتے ہیں جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں شامل ہوتے ہیں

    خاص طور پر سکول، کالجز پر ان کی نظر ہوتی ہے منشیات فروش ملک سے باہر سے جب غیر قانونی طریقے سے پیسہ منگواتے ہیں تو اس سے ملک کا نقصان بھی ہوتا ہے سمگلنگ کی صورت میں پیسہ باہر جا رہا ہوتا ہے نا کوئی ٹیکس نا کوئی فیس دیتے ہیں بدلے میں ملک میں موت (منشیات) لے کر آتے ہیں کچھ عرصے میں افغانستان کا بارڈر بند ہونے کی وجہ سے منشیات کی اسمگلنگ میں کمی دیکھنے کو ملی ہے لیکن پھر بھی اس طرح کنٹرول نہیں ہو سکا جس طرح ہونا چاہئے تھا ابھی بھی مختلف غیر قانونی عادت اسمگلروں کے زیر استعمال ہیں جن کے زریعے وہ منشیات کا کاروبار کر رہے ہیں ابھی بھی وقت کی ضرورت ہے ایسے لوگوں کو جتنی جلدی ہو سکے پکڑ کر کیفرکردار تک پہنچایا جائے تاکہ نشے جیسی لعنت سے ہم چھٹکارا حاصل کر سکیں حکومتی اور متعلقہ اداروں کو سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے

  • "طبقاتی نظام میں فرق” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    "طبقاتی نظام میں فرق” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    بد قسمتی سے ہمارا طبقاتی نظام معاشرے کا بہت اہم مسئلہ بن چکا ہے اس مسئلے کے پسِ آئینہ جو عوامل کارفرما ہیں اُن سے ہر باشعور اِنسان آگاہ ہے مگر ایسی آگہی اور ادراک کا کیا کرنا جس میں ان مسائل کا حل ہی نہ ہو نہ ان کے تدارک کے لئے کوئی کارگر حکمت عملی تیار کی جا سکے اور تفریق کو کم کرنے کے لئے ہم سب کو انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ایسے حالات میں
    ہر شخص اپنے وسائل سے بڑھ کر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کوشاں رہتا ہے تا کہ اس کے بچے نہ صرف اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکیں بلکہ معاشرے میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کے قابل بھی ہوں اور زندگی کو بہترین طریقے سے گزار سکیں
    لیکن دن رات کی تگ و دو اسے غریبی اور مفلسی کی زنجیروں میں جکڑ کر زہنی بیمار کر دیتے ہیں
    ایسے میں امیر طبقے کے لئے بہترین سہولیات ان کے بچوں کے لئے اچھے تعلیمی ادارے

    پروٹوکول، غریب رکشہ ڈرائیور کے لئے چالان کی ادائیگی لازم ہے جب کہ کسی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر قانون کی دھجیاں بکھیرتے امیر زادے کے لئے نہیں کیوں کہ وہ صاحب حیثیت کی اولاد ہے اس کے ماموں چاچو کی فون کال ہمارے نظام سے ماورا ہے دن رات اسی طبقاتی تفریق کی الجھن مڈل کلاس بچوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے
    سکولز کالجز میں امیروں کے بچوں کے لئے الگ رولز دیکھ کر مڈل کلاس بچے رات کو اپنے والدین سے بہت سے سوال کرتے ہیں ایسے میں ان کے والدین انکو کیا بتائیں کہ ان کے سوال غلط نہیں مگر جواب بھی نہیں ہے

    پھر بھی غریب والدین اپنے بچوں کو سنہرے مستقبل کے حوالے سے خوب صورت خواب دیکھا کر آنے والے کل کے لئے مضبوط کرتے ہیں
    اور پھر وہی بچے پڑھ لکھ کر جب کسی اچھی نوکری پر مامور ہوتے ہیں تو ان میں سے بیشتر اپنا ماضی بھول کر خود کو وی آئی پی کیٹیگری میں رکھ کر باقی سب کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں تو فرق کہاں اور کیسے کم ہو سکتا جب کہ انفرادی طور پر کوئی عمل پیرا نہیں ہوتا
    اس طبقاتی تفریق میں کمی کے لئے حکومتی پالیسیز پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تا کہ تعلیم علاج اور روزگار کے لئے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں ورنہ یہ فرق کبھی نہ ختم ہونے والی ایسی لکیر ہے جسے کوئی کبھی بھی نہیں مٹا سکتا۔

  • نجومی اور قسمت، ‏تحریر ۔ عمالقہ حیدر

    نجومی اور قسمت، ‏تحریر ۔ عمالقہ حیدر

    عجیب بات تو یہ ہے چھ فٹ کا وجود اور کائنات سے وسیع دماغ ،پہاڑوں سے مضبوط ارادہ، سمندروں سے گہری سوچ رکھنے والا شخص جب اپنا توانائی سے بھرا ہوا ہاتھ نجومی کے ہاتھ پہ رکھ کر قسمت بارے پوچھتا ہے تو اچھی قسمت نحوست کی چادر اوڑھ کر اک مدت کے لئے سو جاتی ہے، یوں اچھی قسمت والا دوسری کی زبان سے نکلی ہوئئ قسمت کا شکار ہو جاتا ہے، آدھی قسمت دوسرے کے ہاتھ میں ہوتی،

    پرانے زمانے کی طرح آج بھی فٹ پہ بیٹھے نجومی کے پاس نوجوان ہاتھ دکھا کر اپنے مستقبل کے حالات سن رہے ہوتے ہیں، نجومی کی بہت سی پیش گوئیاں کے بعد محبوبہ سے شادی بھی ہونے کے قوی امکان ظاہر ہوتے ہیں،یوں ایسی باتیں سن کر دل کی تسکین بڑھتی چلی جاتی ہے

    نجومی کے کہے ہوئے الفاظ ذہنی تخیلات بدلنے میں دیر نہیں کرتے، عام ذہن سب سے زیادہ قسمت پر انحصار کرتا ہے، خاص ذہن نجومی کے لفظوں کو گورکھ دھندہ سمجھ کر بچ جاتے ہیں، قسمت پر انحصار کرنے والے دراصل زمہ داریوں سے بچتے ہیں،
    جو حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتا وہ دفاع کے لئے قسمت کی ڈھال استعمال کر جاتا ہے،
    ہم جس قسمت کو نجومی کے حوالے سوچتے ہیں وہ نجومی خود قسمت کے ہاتھوں ذلیل ہو کر ہمیں اپنا جیسا بناتا ہے،
    نجومی ہمیں بتاتا ہے کہ ہاتھ کی فلاں لکیر تمہارے لئے اچھی نہیں ہے اگلے سال آپ اک حادثہ کا شکار ہو جائیں گے، کاروباری ترقی ابھی تک تو رکی ہوئ ہے لیکن جب آپ چھپن سال کے ہو جائیں گے تب کہیں بہتری ہو گی کیونکہ اجکل آپکا ستارہ بھی آپکے حق میں نہیں ہے زحل کی چھاؤں پڑنے سے زندگی اچانک رخ موڑ ے گی اور یوں تم اک چھوٹے سے کام میں شہرت یافتہ ہو جاؤ گے،لوگ آپ کے آٹو گراف کو ترسیں گے،ایسی بات سن کر دل تو بہلے گا۔

    اک حکایت نجومی بارے معروف ہے کہ نجومی آسمانوں کی خبریں گلی گلی سناتا تھا، مستقبل کا وہ خاکہ بیان کرتا کہ سننے والے کے پاس سوائے ایمان لانے کہ کچھ نہ بچتا تھا، اک دن نجومی ہر آدمی کو مطمئن کیے جا رہا تھا، کہ آدمی نے کہا، آنے والے زمانے کی خبریں سنانے والی یہ بھی آج بتا دے کہ تیری بیوی کے آشنا کا نام کیا ہے، یہ سن کر اس کے وجود کی ساری طنابیں ایسی ٹوٹی کی وہ دوبارہ نہ بن سکی،اور ہمیشہ کے لئے نجومی آسمان کی خبروں کی طرح غیب ہو گیا،

    لوگوں کو غیب کی خبریں بتانے والہ اپنی بیوی کے آشنا سے لاعلم ہے،

    اس لئے اک زمانہ تھا جب علم نہیں تھا شعور نہیں تھا، انسان کی اڑان نجومی تک تھی اب ہمیں سوچنا چاہئے کہ کائنات اک اصول پر چل رہی ہے عمل کا رد عمل ہو رہا ہے سستی اور کاہلی کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مسلسل محنت کا پھل مل کر رہتا ہے، زمہ داریوں سے بچنے کے کتنے بڑے حادثات جنم لیتے ہیں، ہم آج کام نہیں کریں گے تو کل دوستوں سے پیچھے رہ جائیں گے، کار کی خواہش رکھنے والہ محنت بغیر نہیں خرید سکتا،
    خدا نہ چھپر پھاڑ کر دیتا ہے اور نہ ہمیں مزید انتظار کرنا چاہئے، نہ ہمیں زندگی کو قسمت کے حوالے کریں نہ کسی نجومی کے رحم و کرم پر کریں ہم اپنے مدد گار آپ ہیں،

    ،برے زمانے میں سب سے پہلے بھای چھوڑتا ہے اور بعد میں بہترین دوست،

    اس لئے دوسروں پر توقع نجومی کے خوبصورت لفظوں جیسی ہے،
    اس لئے ہر جوان کے پاس ٹوٹل پندرہ سے بیس سال ہوتے ہیں بعد میں سب مایا لگتا ہے،
    ہم محدود اور ہماری خواہشات لا محدود ہیں،فطرت اپنے اصولوں سے انحراف نہیں کرتی، سردیوں کی طویل رات بیمار اور صحت مند کے لئے یکساں ہے،
    ہم جو پھینکیں گے وہی لوٹے گا، اس لئے ہم نے اپنے اہداف خود آپ نے بنانے ہیں اور خود ہی مکمل کرنے ہیں، نہ کوئ ساتھ دیتا ہے اور نہ کوئ ساتھ کھڑا ہوتا ہے، ہاں اگر کوئ ساتھ ہوتا بھی ہے تو ذاتی مفاد کی خاطر،

    اللہ ہم سب کے ایمان پختہ کرے اور ہر اس چیز سے دور کرے جو ہمارے ایمان کو متزلزل کرتی ہے، اور ایسے ہستی سے ضرور آشنائی دے جو ہمارے انگلی صراط مستقیم تک لے جائے۔ آمین ثم آمین

  • خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    صدر عارف علوی سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے وفد کی چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی قیادت میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی، زونل رویت ہلال کمیٹی کے ممبران اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی ہے.
    صدر پاکستان کا کہنا ہے کہ علماء مساجد کے ذریعے لوگوں میں اہم سماجی موضوعات پر اسلام کی تعلیمات واضح کریں، اسلام نے سب سے پہلے خواتین کو وراثت کا حق دیا ہے، علماء وراثت میں خواتین کے حقوق پر مساجد کے ذریعے لوگوں میں آگاہی پیدا کریں، علماء بڑھتی ہوئی آبادی اور صحت کے مسائل کے متعلق لوگوں کو تعلیم دیں، علماء معاشرتی اصلاح اور اخلاقی اقدار کے فروغ کیلئے کام کریں، علماء منبر و محراب کے ذریعے بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیں، علماء نےکورونا کے دوران لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے ،ایس او پیز پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کیا، تمام رویت ہلال کمیٹیوں کو فعال بنانے پر چیئرمین، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے کردار کو سراہا ہے.

  • انگلینڈ سے جیتنے کیلئے پر عزم شاداب

    انگلینڈ سے جیتنے کیلئے پر عزم شاداب

    قومی وائیٹ بال کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے بہت پر جوش ہوں، جلد از جلد کنڈیشنز سے ہم آہنگی کی کوشش کررہے ہیں، انگلینڈ میں موسم تبدیل ہو جائے تو گیند سیم ہونے لگتا ہے، سورج نکل آئے تو یہاں کا موسم ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کے لیے موزوں ہوتا ہے، مثبت سوچ کے ساتھ انگلینڈ آئے ہیں، پہلا ٹریننگ سیشن شاندار رہا ہے، انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ چیمپئن ہے اور وائیٹ بال کرکٹ کی بہت اچھی ٹیم ہے، گزشتہ دورہ انگلینڈ میں اچھی پرفارمنس رہی ہے، اس مرتبہ بھی بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے، ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے پہلے انگلینڈ کے خلاف سیریز تیاری کا اچھا موقع ہے، مکمل فٹ ہوچکا ہوں، باؤلنگ پر خاص توجہ دے رہا ہوں، پی ایس ایل میں اچھی باؤلنگ کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا، میری پہلی ترجیح باؤلنگ ہی ہے، کوشش ہے کہ پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ آؤٹ کر سکوں، اگلے چند ماہ ہمیں مسلسل کرکٹ کھیلنی ہے اس لیے ٹرینر نے ابھی فٹنس ٹیسٹ کا بھی اہتمام کیا ہے، پریکٹس سیشنز میں فزیکل ٹریننگ پر توجہ مرکوز ہے تاکہ فٹنس ٹیسٹ کی بھی تیاری ہوسکے.