Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "کوشش انسان کرتا ہے کامیابی اللّہ دیتا ہے” تحریر: ابر نساں

    "کوشش انسان کرتا ہے کامیابی اللّہ دیتا ہے” تحریر: ابر نساں

    "انسان صدف کے اس موتی کی مانند ہے”
    جس کی کوشش محنت لگن مل کر اسکو مکمل انسان بناتی ہے اسی طرح…
    بارش کی ایک بوند جب سیپ پہ پڑتی ہے تو موتی بن کر ابھرتی ہے
    کہتے ہیں نا زندگی ہمیشہ سے حسین نہیں ہوتی
    مسلسل جدو جہد اسکو حسین تر بنا دیتی ہے .
    بے شک کوشش خواہش کا دوسرا نام ہے اس پر چل کر وہ جیسے کو تیسا
    نا ممکن کو ممکن بنا دیتا ہے..

    بلکل اسی طرح زندگانی ہے صدَف، قطرۂ نیساں ہے خودی
    وہ صدَف کیا کہ جو قطرے کو گُہر کر نہ سکے.

    اللہ تعالی نے فرمایا ۔۔
    "کہ میں ایک مخفی خزانہ تھا تو میں نے چاہا کہ پہچانا جاوں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا”

    پہچانے گا نہیں جب تک تو خود کو اے انسان..
    تب تک اُس سیبپ کی کوئی حیثیت نہیں جو اس قطرے کو موتی نہ بنا سکے

    قطرے سے موتی بننے تک کے اس خوبصورت سفر کو لگن، محنت اور جستجو کے ساتھ ساتھ اخلاق، محبت، پیار، ایثار ، شکر گزاری کے ساتھ گزارئیے تاکہ آنے والوں کے لئے مثل موتی چمکتے دمکتے رہیں

  • سترہ جون، چودہ خون ،کہاں ہے قانون؟ تحریر: فروا منیر

    سترہ جون، چودہ خون ،کہاں ہے قانون؟ تحریر: فروا منیر

    کسی معاشرے میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون کی بالادستی لازم و ملزوم ہے ۔ اگر معاشرہ عدل و انصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ مہذب معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    اگر اسلامی قوانین کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ اسلام میں عدل و انصاف کا بہت اہم مقام ہے اگر ہم پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمیں عدل و انصاف کی بالادستی واضح نظر آئے گی۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر فرمایا
    خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹ دیتا ۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان عدل و انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے
    اب بات کرتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جس کے الگ مقام کا مقصد اسلامی قوانین کا نفاذ اور اسلامی قوانین کی بالادستی ہے
    لیکن افسوس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف برائے فروخت ہے
    17 جون 2014 لاہور ماڈل ٹاؤن کے مقام پر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ پر پنجاب پولیس کی جانب سے تجاوزات کے نام پر معصوم اور نہتے لوگوں کے خلاف آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے

    اگر بات صرف تجاویزات کی تھی تو چودہ معصوم لوگوں کا بے گناہ قتل کرنے کا کیا مقصد؟؟
    اس سانحہ کو تقریبا سات سال گزر چکے ہیں مگر آج تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے ورثا انصاف حاصل کرنے میں نا کام ہیں۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ کوئی بھی ریاستی ادارہ اپنے ہی معصوم لوگوں پر دشمنوں کی طرح اندھا دھند گولیاں نہیں برساتا یقینا اس عمل کے لیے لیے حکومت کی طرف سے احکامات کا ملنا واضح ہے ۔ یاد رہے 2014 میں وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت تھی

    کیا شریف برادران نہتے لوگوں سے اتنے ڈرگئے تھے کہ خادم اعلی کو قاتل اعلی بننا پڑا ۔ وزیر قانون پنجاب کو قانون کی دھجیاں اڑانی پڑیں اور وزیراعظم نواز شریف کی زبان کو تالے لگ گئے ۔
    پنجاب پولیس کی جانب سے بزرگوں خواتین اور بچوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور ان کو زخمی بھی کیا گیا مجھے یاد ہے تنزیلہ امجد کی والدہ جو کہ حاملہ تھیں وہ بھی پنجاب پولیس کی جانب سے کیے گئے مظالم میں شہید ہوئیں تنزیلہ امجد نے اپنی شہید ماں کے لیے انصاف کے حصول کے لیے عدل مہیا کرنے والے اداروں کا دروازہ کھٹکایا صرف ایک بار نہیں بار بار کھٹکایا گیا مگر خاموشی۔
    افسوس ہے اس نظام پہ کہ جہاں غریب کے لیے سزا اور امیر کے لیے معافی
    ایک تو انصاف فوری مہیا حاصل نہیں ہوتا اگر حاصل ہو بھی جائے تو غریب کی جیب کے برداشت سے باہر کی بات ہے جہاں سابقہ وزیر اعظم کی بیٹی کی درخواست پر چھٹی والے دن عدالت لگ جاتی ہے اور وہاں دوسری طرف قوم کی بیٹی تنزیلہ انصاف کی راہ دیکھتی رہ جاتی ہے اگر مریم نواز قوم کی بیٹی ہے تو کیا تنزیلہ قوم کی بیٹی نہیں ؟؟
    کیا قوم کی بیٹی کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے والد کا وزیراعظم اور چچا کا وزیراعلیٰ ہونا ضروری ہے

    یہاں انصاف بکتا ہے یہاں فرمان بکتے ہیں
    زرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    اگر کوئی سچ میں حقیقی تبدیلی چاہتا ہے تو اس کےلیے ضروری ہےکہ نظام عدل کو بہتر بنایا جائے ،فوری اور سستا انصاف مہیا کیا جائے۔

  • سیاسی آقاء اور ہماری بھولی عوام . تحریر:محمد محسن

    سیاسی آقاء اور ہماری بھولی عوام . تحریر:محمد محسن

    ھم روز اپنے ارد گرد لوگوں کو مختلف سیاسی جماعتوں کے بارے میں بحث کرتے ھوئے دیکھتے ہیں۔ کوئی پاکستان مسلم لیگ ن کا حامی ھے تو کوئی پاکستان پیپلز پارٹی کا جیالا ۔ کسی کے سامنے عمران خان اس ملک کے حالات بدلنے کی آخری امید ہے۔ اور کوئی مزہبی حمایت رکھنے والا جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے بارے میں سافٹ کارنر رکھتا ہے۔ جمہوری سیاسی نظام کی یہی خوبصورتی ھوتی ھے کہ اس میں ہر بندے کو کھل کر اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔ مختلف لوگوں کی مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی میں کوئی برائی نہیں بلکہ یہی تو جمہوریت کا حسن ھوتا ھے کہ جتنی اپوزیشن مضبوط ھو گی اتنا ہی سیاسی نظام ا چھا چلے گا۔ لیکن بدقسمتی سے ھمارے جیسے ممالک میں نہ ہی تو اصل جمہوری نظام پایا جاتا ھے اور نہ ہی عوام اس لائق ھوتے ھیں کہ جمھوری نظام کو سمجھ سکیں اور اسکو اپنے معاشرے میں رائج کر سکیں۔ دوسری طرف ھماری عوام مختلف سیاسی جماعتوں کو لیکر اتنی جزباتی ھو جاتی ھے کہ بعض اوقات نوبت لڑائی جھگڑے تک آجاتی ہے۔ ھمارے ملک میں اس وقت تقریباً 22 کروڑ کی آبادی ھے جو الحمدللہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ خیر اس آبادی کا اس وقت زیادہ تر حصہ نوجوان لوگوں پر مشتمل ھے جو کہ اس ملک کی گلی کوچوں میں دھکے کھا رھا ھے۔ یہ عوام جتنے ویلے ہو گے اتنے ہی اک دوسرے کے ساتھ زرا زرا سی بات پر جھگڑتے رہیں گے۔ خیر بات ھو رھی تھی سیاسی جماعتوں سے وابستگی کی تو جب ملک کی زیادہ تر آبادی ویلی بیٹھی ھو گی تو سیاسی جماعتوں کے نام پر لڑنا جھگڑنا تو ان کے لیے معمولی چیز ھو گی۔ حالانکہ ان معصوم لوگوں کو یہ پتہ نہیں ھو گا کہ یہ جن کے لیے دن رات اک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے ہیں ان کو ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہو گا اور وہ اکثر اک دوسرے سے ملتے جلتے ھوں گے اور خوش گپیاں لگاتے ھوں گے۔ ویسے بھی جیسا ھمارا سیاسی نظام ھو گا عوام بھی ویسے ہی ھوں گے۔

    اگر آپ پاکستان کے سیاسی نظام کی تاریخ میں جائیں تو ایسے ھی لگتا ہے جیسے آپ کسی اکھاڑے کی کشتی کے بارے میں پڑھ رھے ھیں جو کہ کبھی کبھی تو بھت جلد پچھاڑے جاتے ہیں تو بعض اوقات دوسروں کو ٹف ٹائم دیتے ہیں۔ اور کبھی کبھار ریفری خود یونیفارم پہنے ہوئے میدان میں کود پڑتے ہیں اور اس سیاسی اکھاڑے کا خود بیڑا اٹھا لیتے ہیں۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد اس ملک کا سب سے بڑا نقصان یہ ھوا کہ ھمارے قائد اللہ کو پیارے ہو گئے۔ بعض اوقات تو دل و دماغ میں یہی بات اٹک کر رہ جاتی ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے انکو اک فریضہ سونپا ھوا تھا جنکو پورا کرتے ھی اسکو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس بلا لیا۔ پہلے پانچ سات سال میں کئی وزیراعظم تبدیل ھونے کے اسکندر مرزا نے ملکی تاریخ میں پہلی بار مارشل لاء لگا کر آرمی کو اس ملک کے سیاسی نظام میں داخل کر دیا۔ اسکندر مرزا نے ایوب خان کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنایا تو بعد میں ایوب خان نے اسکندر مرزا کو چلتا کیا۔ ایوب خان نے ملکی تاریخ کا پہلا آئین ختم کر کے پانچ سال بعد 1962 میں دوسرا آئین متعارف کروایا۔ خیر عروج کو آخر زوال تو آنا ھی ھوتا ھے۔ تقریباً 10 سال اقتدار کے مزے لینے کے بعد بجائے جمھوری نظام کی راہ ہموار کرنے کے ایوب خان نے آگے پھر اقتدار اک اور ملٹری ڈکٹیٹر کو ٹرانسفر کر دیا جسکے ساتھ ہی یحییٰ خان نے ملکی تاریخ میں دوسرا مارشل لاء نافذ کر دیا۔ یہ مارشل لاء سب سے سنگین ثابت ھوا کیونکہ اس کے دوران ملک دولخت ہوگیا۔ اس طرف بھٹو کی حکومت آگئی اور دوسری طرف مجیب الرحمٰن کی۔ بیچ میں یحییٰ خان جو کہ صدارتی سیٹ پر براجمان رہنا چاھتا تھا اس نے ملک کا بیڑا غرق کیا نہ اس طرف کا رھا نہ اس طرف کا۔ اس کے بعد پاکستان کی باغ دوڑ بھٹو کے ھاتھوں میں آگئی اور ملک اپنی ڈگر پر چلنے لگا لیکن آخر کب تک چلتا۔۔۔۔۔بھٹو کے خلاف بھی پاکستان نیشنل الائنس بنا اور اک بار پھر سے ملک میں وھی شروع والی حالت آگئی۔ آخر نتیجہ جو بھی نکلا وہ آپ کے سامنے ہے کہ اسی جمھوری نظام کی ہی وجہ سے ملک اک بار پھر مارشل لاء کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اس کے بعد ضیاء الحق نے 3 ماہ میں الیکشن کروانے کا وعدہ کر کے تقریباً 11 سال اس ملک کی صدارتی کرسی پر گزارے۔ بعد میں جمھوریت کا اک ایسا دور شروع ہوا کہ ملک دن بدن اکانومی اور ڈیولپمنٹ کے لحاظ سے پیچھے ہی گیا جسکی بنیادی وجہ طاقت کی بھوک تھی۔ اس کے بعد اک بار پھر ملٹری ڈکٹیٹر نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھال لی اور تمام جمھوری سیاسی پارٹیوں کو چلتا کیا وہ الگ بات بعد میں کچھ مخصوص سیاسی جماعتیں اس کے ساتھ مل گئی جیسا کہ پہلے ھوتا آیا ھے۔ خیر اکیسویں صدی جمھوریت کے لحاظ سے پاکستان کے لیے سود مند ثابت ھوئی۔ پچھلے تقریباً 12 سال سے ملک میں جمہوریت کی فضا قائم ھو گئی ھے۔ اس پوری پاکستانی سیاسی تاریخ میں اک بات سامنے واضع ھوتی ھے کہ ھمارا سیاسی نظام اک اکھاڑے کی مانند ہے جسکا یہاں زور چلتا ہے وہ خوب چلاتا ہے۔ جس نے بھی اپنے مفاد کے لیے دوسرے کی راہ ہموار کی وہ اسی کا شکار بنا۔ اسکندر مرزا ایوب خان کو لے کر آیا تو ایوب خاں نے اسے چلتا کیا۔ ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستانی سیاست میں متعارف کروایا تو بھٹو نے ایوب اعلیٰ عہدوں کے مزے لینے کے بعد ایوب خان کے سامنے پاکستان پیپلز پارٹی کھڑی کر دی اور اسکو چلتا کیا۔ اسی طرح یحییٰ خان، بھٹو اور مجیب الرحمٰن نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس ملک کو ہی دولخت کر دیا۔ اسی طرح بعد میں جنرل ضیاء الحق نے اپنی حکومت کی طاقت بڑھانے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ جیسی پارٹیوں کے لیے راہ ہموار کی تو اس کے جانے کے فوراً بعد انہوں نے ملٹری سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور آج تک کر رہی ہیں۔

    اس سارے سیاسی منظر نامے کو بیان کرنے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ یہ پہلی پاکستانی عوام نہیں جو اپنے اپنے سیاسی لیڈروں کی خاطر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ یقین جانو آپ سے پہلے بھی یہاں کئی نسلیں گزر چکی ہیں جن میں سیاسی انتہا پسندی آپ سے کہیں زیادہ تھی اور یقین جانو ان بے چاروں کو بھی یہاں کچھ حاصل نہ ہوا۔ ان سیاسی آقاؤں کے سامنے آپکی اوقات اک کیڑے مکوڑے کی سی ہے جسکو جب چاھے استعمال کیا جاتا ہے اور جب چاہے تو مسل کر رکھ دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ہر گفتگو کا شرف حاصل کرنے والے عزیر بلوچ کی ہی مثال لے لو کہ جب اک خاص جماعت کو اسکی ضرورت تھی تو اسکو کس کس چیز سے نوازا نہیں گیا۔ اس کو استعمال کر کے کتنے ھی جائز ناجائز لوگوں کو قتل کروایا گیا۔ یہاں تک کہ اسکی مزید ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اسکو امن کا انعام بھی دیا گیا تو دیکھ لو آج اسکا کیا حال ہے۔ وہ جو دن رات پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کرتا تھا آج اس سے کوئی ملاقات کرنے والا نہیں۔ وہ جسکا اک دن لیاری میں ڈنکا بجتا تھا آج اس کے گھر میں فاقے ہیں۔ لیکن جن سیاسی آقاؤں کے لیے اس نے اتنے خون کیے آج وہ اس کو پہچاننے سے بھی انکاری ہیں۔ دوسری طرف انہی سیاسی آقاؤں کی خاطر جیلیں کاٹنے کے لیے جاوید ہاشمی جیسے باغی ھوتے ہیں اور یہ خود مشکل وقت بھانپتے ہی فوراً ملک سے رفو چکر ہو جاتے ہیں لیکن جب اقتدار کی باری آتی ہے تو وزارتیں ان کے گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی۔ اب جتنی سیاسی محنتیں چودھری نثار خاں، جاوید ہاشمی، قمر الزماں کائرہ اور امین فہیم جیسے لوگوں نے کی کیا ان لوگوں کو ان کے مطابق نوازا گیا؟ کیا قمر الزماں کائرہ اور امین فہیم کا حق نہیں بنتا کہ انہیں وزیراعظم بنایا جاتا؟ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت اور چیرمین اعتزاز احسن سے زیادہ زہین ہے؟ کیا جاوید ہاشمی اور چودھری نثار خاں جتنے منجے ھوئے سیاستدان اس شریف خاندان میں ہیں؟ لیکن جب بھی یہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں تو وزیراعظم نواز شریف ھی بنا۔ وزیراعلی کی کرسی شہباز شریف ہی کے حصے میں آئی۔ ادھر بھی وزیراعظم اور صدارت کی کرسی بھٹو، اور زرداری خاندان میں رہتی ہے اور اگر کسی اور بنایا جاتا ہے تو وہ کٹھ پُتلی ہی ھوتا ھے بیچارہ۔ آئندہ بھی بلاول بھٹو، مریم نواز، حمزہ شہباز، سلمان شھباز اور یہاں تک کہ جنید صفدر ان سیاسی پارٹیوں کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اور قربان جائیں اس عام اور بھولی بھالی عوام کی معصومیت پر کہ انہوں نے ابھی سے ہی بلاول، مریم اور جنید وغیرہ کو اپنا لیڈر مان لیا ہے۔ خدارا ان سیاسی آقاؤں کی خاطر اپنے پیاروں سے لڑائی جھگڑے میں مت پڑیں انکو پتا بھی نہیں کہ آپ کون ہیں۔ آپ کے ھونے نہ ھونے سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپنے پیاروں سے پیار کریں انکی اصلاح کریں اور مل جل کر ہنسی خوشی سے رہیں۔ جہاں قمر الزماں کائرہ، اعتزاز احسن، نثار خاں، اور جاوید ہاشمی جیسے لوگوں کی کوئی وقت نہیں وہاں آپ اور میں کیا چیز ۔۔۔ ؟؟؟

  • 3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا      سیکرٹری ٹورازم

    3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا سیکرٹری ٹورازم

    سیکرٹری ٹورازم کا کہنا ہے کہ 3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق سیکرٹری ٹورازم کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر بحالی کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے

    سیکرٹری ٹورازم کیپٹن مشتاق احمد کا فورٹ منرو کا اچانک دورہ، ریزارٹ پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیاغفلت پر ٹورازم آفیسرمعطل، ریجنل جنرل منیجر ملتان و دیگر کیخلاف انکوائری کا حکم دے دیا-

    سیکرٹری ٹورازم نے کہا کہ فورٹ منرو پر سیاحوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیئے، ریزارٹ کی گزرگاہوں اور ٹریکس کی بھی مرمت کی جائے-

    انہوں نے کہا کہ نوتعمیرشدہ ریزراٹ میں استقبالیہ، لابی اور بالکونی کا اضافہ کیا گیا بالکونی سے فورٹ منرو کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوا جا سکے گا-

    کیپٹن مشتاق احمد سیکرٹری نے دربار سخی سرور پر جاری ترقیاتی منصوبے کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے سکیم بروقت مکمل کی جائے-

  • نئے خلائی اسٹیشن کی تعمیر،چین نے اپنا خلائی مشن روانہ کردیا

    نئے خلائی اسٹیشن کی تعمیر،چین نے اپنا خلائی مشن روانہ کردیا

    بیجنگ: نئے خلائی اسٹیشن کی تعمیر ، چین نے اپنا خلائی مشن روانہ کردیا-

    باغی ٹی وی : https://www.xinhuanet.com/english/2021-06/17/c_1310012945.htm#:~:text=JIUQUAN%2C June 17 (Xinhua),for a three-month mission. خلائی مشن صحرائے گوبی سے 3 خلا نوردوں کو لیے کرروانہ ہوا ،چینی خلانورد تین ماہ میں اپنا مشن مکمل کریں گے-

    اس سے قبل چائنہ انسان بردار خلائی ایجنسی(سی ایم ایس اے) کے ڈائریکٹر اسسٹنٹ جی چھی مِنگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چین کے خلائی اسٹیشن کی تعمیر کے دوران پہلا انسان بردار مشن روانہ ہوگا جو مدار میں تین ماہ کیلئے قیام کرے گا۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ چینی خلاباز نے ہائی شینگ اس مشن کی قیادت کریں گے جبکہ لیو بومِنگ اور ٹانگ ہونگ بوشین ژو-12 کے اس مشن میں شامل ہوں گے، ان تینوں خلابازوں میں ہائی شینگ سب سے زیادہ تجربہ کار ہیں جوکہ 2005 میں شین ژو-6 اور 2013 میں شین ژو-10مشن کا حصہ تھے۔

    چین مریخ پر کامیابی سے خلائی جہاز لینڈ کرنے والا امریکہ کے بعد دوسرا ملک بن گیا

    جبکہ لیو بومِنگ کی کی خلا میں یہ دوسری پروازہوگی، اس سے قبل انہوں نے 2008 میں شین ژو-7مشن میں حصہ لیاتھا جس کی خصوصیت خلا میں نمایاں چہل قدمی تھی۔

    مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر ’انجینیٹی‘ کی تیسری کامیاب پرواز

    تاہم ٹانگ ہونگ پہلی مر تبہ خلا میں جا ئیں گے،وہ 2010 میں چینی خلا بازوں کے دوسرے دستے کے رکن بنے تھے جبکہ ژائی ژی گانگ،وانگ یاپھِنگ اور یے گوانگ فو متبادل عملہ ہوں گے۔

    واضح رہے کہ خلا میں اس وقت ‘انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن’ قائم ہے جس میں چین کا کوئی حصہ نہیں ہے، یہ اسٹیشن امریکا، جاپان، کینیڈا، روس، اور یورپ کی خلائی ایجنسیوں نے مل کر تیار کیا ہے۔ ممکنہ طور پر چین کا نیا خلائی اسٹیشن خلا میں انٹرنیشنل اسٹیشن کی اجارہ داری ختم کرسکتا ہے۔

    چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

  • شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ، تحریر:ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ، تحریر:ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ،
    اِس پہ ہر شہر جو لُوٹا بیٹھا ہوں

    پنجاب کی سرزمین برصغیر کی تاریخ کا جھومرہے، اور اس جھومر کی پیشانی ہے "شہرِ لاہورہے” پاکستان میں لاہور شہر ایک تاریخی،تجارتی ، صوبائی سیاسی، ثقافتی، تعلیمی اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔

    لاہور صرف ایک شہر نہیں ہے لاہور ایک کیف ہے، جو طاری ہو جائے تو ہو جائے۔ مغربی جانب بہنے والے دریائے راوی نے اس کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔اس شہر کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے اور ساتھ ہی میں لاہور اپنے باغات اور قدرتی حسن کے باعث اسے عروس البلاد کہا جاتا رہا ہے

    لاکھوں ہیں شہر لیکن کب اور تیرے جیسا
    ڈھونڈے نہ ملا ہم کو لاہور تیرے جیسا

    شہرِ لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور ساتھ ہی میں لاہور دنیا کا پندرہواں بڑا شہر ہے، لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ اس میں 460 تاریخی عمارتیں ہیں ،اس تاریخی شہر کے بارہ دروازے ہیں ، ایک چھوٹا دروازہ بھی ہے جیسے موری دروازہ کہا جاتا ہے

    شہر لاہور دنیا کے ان گنے چنے خوش نصیب شہروں میں سے ہے جو اپنی تاسیس کے بعد مسلسل آباد چلے آرہے ہیں اس شہر لاہور میں ایک محلہ مولیاں ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ یہاں
    کبھی مہاتما بدھ آکر ٹھہرے تھے۔شہرِلاہور کا قدیم نام "لوپور” ہے اور لاہور دو الفاظوں کا مرکب ہے "لوہ "یا "لاہ "جس کا مطلب "لَو” اور "آور” جس کا مطلب "قلعہ” ہے، اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر "لوہ آور” لفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا

    روایت کے مطابق راجہ رام کے بیٹے راجہ لوہ نے شہر لاہور کی بنیاد رکھی اور یہاں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا۔ پھر اس کے بعد دسویں صدی عیسوی تک یہ شہر ہندو راجائوں کے زیرنگیں رہا۔ گیارہویں صدی میں یہ علاقہ اسلام کی روشنی سے منور ہوا جب سلطان محمود غزنوی نے پنجاب فتح کرکے ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا۔

    لاہور کو بیس سال تک مغل دارالحکومت رہنے کا بھی شرف حاصل ہوا ، لیکن اگر یہ مغلیہ سلطنت کا دارالحکومت نہ بھی بنتا تو اس کی اہمیت و فضیلت میں کوئی کمی نہ ہوتی ۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نور جہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا”لاہور رابجان برابر خریدہ ایمجاں دارایم و جنت دیگر خریدہ ایم”

    سترھویں صدی میں لاہور کی شہرت یورپ تک جا پہنچی تھی اور اس کے ڈنکے سات سمندر پار بھی بجنے لگے تھے

    حسن کی بزم میں اگر ذکر لاہور کا نہ آئے
    توہینِ حُسن ہو جاۓ توہینِ بزم ہو جاۓ

    لاہور شہر کی فضاکا اپنا ایک طلسم ایک جادوہے اور علامہ اقبال، پطرس بخاری، فیض احمد فیض ، اشفاق احمد، احمد ندیم قاسمی اور انتظار حسین جیسے دانشور بھی اس کے طلسم سے محفوظ نہ رہ سکے۔

    طلسمِ ہوش رُبا جیسا شہر ہے لاہور
    جو اِس دیار میں جائے لاپتہ ھو جائے

    لاہور پاکستان کا پہلا شہر ہے جس کو یونیسکو کیجانب سے "شہر ادب”کا خطاب ملا ہے
    شہر لاہور کو ایک دن شہر ادب کا خطاب ملنا ہی تھا۔ آج نہیں تو کل پاکستان نے یہ دن دیکھنا ہی تھا کہ، شہرِلاہورصدیوں سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے،شہر لاہور دنیا بھر میں امن کی شناخت ہے، محبت کی پہچان ہے۔ یعنی ادب، عشق ادب، آداب ادب اور اب "شہر ادب ”

    شہر لاہور عاشقوں کا شہر ہے، بھلے وہ عاشق مجازی ہوں یا حقیقی اور عشق ایسی نامراد شے ہے کہ اس کا نفرت سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہو سکتا ہے۔ عشق میں صرف عشق ہی جائز رہ جاتا ہے شہر لاہور کی بھی یہی تاثیر ہے، جو آنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، عاشق بنا دیتی ہے۔

    اس شہر کی ہواؤں میں اِک اپناںٔیت سی ہے
    اس کی گلیوں،کوچوں میں اِک عجب چاہت سی ہے

    گزرے لمحوں کی حسین یادوں کا یہاں ٹھکانہ ہے
    جو اِک بار لاہور آ جائے پھر اُس نے واپس کہاں جانا ہے

    تاریخ گواہ ہے صدیوں سے لاہور بہت سی حکومتوں کا دارالخلافہ رہا اور جو شہر دارالحکومت رہا ہو، وہاں ملازمت کی غرض سے لوگ نہیں آتے بلکہ وہ ثقافتیں آتی ہیں بلکہ بلائی جاتیں ہیں۔نوکری تو ایک بہانہ ہوتا ہے، فطرت اس شہر پہ مہربان ہوتی ہے اور اس شہر کو رنگوں سے بھر دیتی ہے۔

    شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد
    تیری گلیوں کی ہَوا کھینچ کے لائی مجھ کو

    شہر لاہور کے خوبصورت باغات کا حُسن آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے تو کبھی اسکی پُرتعیش عمارات دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ لاہور میں کھانے پینے کی اشیا میں ذائقے کا دُنیا بھر میں کوئی نعم البدل نہیں ہے شہر لاہور کی رونقیں دیکھ کر دل باغ باغ ہوتا ہے لاہور شہر میں بسنے والے باشندے زندہ دِل،کھلے ذہن ہر قسم کے تعصبات سے پاک دوسروں کو آگے کرنے،درد مشترک قدر مشترک تہذیبی، ثقافتی، معاشرتی، اخلاقی اقدار کے دلدارہ ہیں۔

    خدمت خلق اور ہمارا کردار تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ان فضاؤں سے ہے مجھے نسبت خاص
    شہر لاہور پہ سب شہر لٹا بیٹھا

    لاہور بقا کی ایک مثال ہے۔ لاہور کا حال اس کے ماضی کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کے مستقبل نے ابھی شکل اختیار کرنی ہے۔ لاہور ہمیشہ لاہور رہے گا، اسے کچھ اور بننے کی خواہش نہیں ہے

    کہ اِس سے منسلک ہونا بھی اک سعادت ہے
    لاہور شہر نہیں ہے، لاہور عادت ہے

    ‏ہماری پہچان اخلاق حسنہ . تحریر، ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

  • مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ .تحریر: نوید شیخ

    مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ .تحریر: نوید شیخ

    ابھی ایک دن گزارا نہیں تھا کہ مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ کر دیا گیا ہے ۔ G7 بارے تو میں آپکو گزشتہ ویڈیو میں بتا چکا ہوں ۔ اب نیٹو کے سربراہ اجلاس کے دوران بھی چین کو مستقل سکیورٹی چیلنج قراردیا گیا ہے ۔ اب نیٹو نے پہلی بار چین کے فوجی مقاصد کے بھرپور مقابلے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔

    ۔ اس وقت لگ ایسا رہا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف میڈیا وار تو آغاز کر دیا ہے کیونکہ جیسے وہ ہر فورم پر اپنے ہم خیال ممالک کے ساتھ چین کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے ۔ جیسے ہر فورم پر امریکہ یہ نہیں بھولتا کہ وباء ، انسانی حقوق ، سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تائیوان کا ذکر لازمی ہو ۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے ۔ تو میرے حساب سے اس وقت چین کو میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر ایک جارحیت کا سامنا ہے ۔ اب وہ اس کو counter کیسے کرتا ہے یہ دیکھنا ہے ۔ کیونکہ یاد رکھیں مغربی ذرائع ابلاغ اس وقت بڑے طریقے سے ایک مقصد کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اور چین کو ایک نیا دشمن ایک نیا خطرہ بنا کر دنیا کو پیش کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی عوامی رائے کو اس حوالے سے mouldکیا جاسکے ۔ ایسا ہی یہ ممالک سب سے پہلے روس کے ساتھ پھر افغانستان ، لیبیا ، شام اور عراق کے معاملے میں کرچکے ہیں ۔

    ۔ امریکی صدر جو بائیڈن کا یہ کہنا بھی بڑا معنی خیز ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی دوبارہ متحرک ہوچکے ہیں۔ جمہوریتیں اور آمریتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔۔ جمہوریت اور آمریت والا تو ایک منجن ہی ہے حقیقت میں یہ ممالک کسی بھی اور ملک کو اتنا مضبوط اور مستحکم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے کہ وہ ان کے اثر و رسوخ سے باہر نکل جائے۔ چین اور روس اس وقت بالعموم دنیا کے تمام ملکوں اور بالخصوص جنوبی ایشیا کے ممالک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنارہے ہیں جس سے ان کے بین الاقوامی اثر و رسوخ میں اضافہ ہورہا ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو چین اور روس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ کسی بھی طور قبول نہیں۔

    ۔ اس تمام صورتحال میں دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے بھی مسائل میں اضافے روز بروز بڑھتے دیکھائی دے رہے ہیں کیونکہ جس طرح چین کو لے کر دنیا میں polarizationبڑھتی جارہی ہے ۔ اور جو پاکستان کے چین اور روس کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہورہے ہیں۔ اگر امریکا اور اس کے اتحادی چین اور روس کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہیں تو پاکستان بھی ان کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ کیونکہ ہم چین کے اہم اتحادی ہیں تو اس حوالے سے پاکستان پر پریشر کے ساتھ ساتھ سازشوں میں بھی اضافے کا اندیشہ ہے ۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ۔ کیونکہ سی پیک one belt one roadمنصوبے کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ جس تیزی سے گزشتہ کئی ماہ سے امریکی اور مغربی ممالک کے highest dignitaries پاکستان کے دورے کرر ہے ہیں اس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ چین بھی یقینی طور پر زیر بحث آیا ہوگا۔

    ۔ دیکھا جائے تو معاشی اور دفاعی دونوں جانب سے پاکستان پھنسا ہوا ہے ۔ ایک جانب بھارتی جارحیت تو دوسری جانب افغانستان کی روز بروز بگڑتی صورتحال ہمارے سامنے پھن پھیلائے کھڑی ہے ۔ سونے ہر سہاگہ معاشی مبجوریوں کی وجہ سے ہم آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک ، یورپی یونین اور امریکہ کے محتاج بھی ہیں ۔ آئی ایم ایف کی قسط نہ ملی تو ملک نے چلنا نہیں اور یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ ہماری تجارت رکی تو تب بھی ہم کو بڑا دھچکہ لگ سکتا ہے تو آنے والے دنوں میں خوفناک منظر دیکھائی دے رہا ہے ۔ پاکستان کو ایک بار پھر سخت فیصلے کرنے پڑیں گے ۔ اس میں بھی کوئی بحث نہیں ہے کہ چین ہمارا ہمسایہ اور دوست ملک ہے اور ہمارے سرد و گرم کاساتھی بھی ہے ۔ ہر عالمی فورم اور معاملے میں چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ۔ پاکستان کی جغرافیائی صورت حال کو دیکھا جائے تو بھارت جیسے مکار دشمن کے ہوتے ہوئے چین کی ہمسائیگی نعمت سے کم نہیں۔ چین جب تنہا تھا تو اس وقت پاکستان نے اس کا کھل کے ساتھ دیا تھا ۔

    ۔ ساتھ ہی سی پیک ایسا منصوبہ ہے جس پر تقریباً قومی اتفاق رائے ہے اس کے لئے چین نے جو پیکج دیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اور یہ آج کا نہیں بلکہ گزشتہ کئی حکومتوں کے دور میں تسلسل سے چلتا آرہا ہے ۔ اب آنے والے دنوں میں خصوصی طور پر امریکہ کی جانب سے پریشر بڑھتا دیکھائی دے رہا ہے کہ with us or against us
    تو پاکستان کے لیے صورتحال کافی tricky ہوچکی ہے ۔ یقینی طور پر پاکستان اس وقت کسی کی بھی مخالفت مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اگر تفصیل میں جائیں تو چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے نیٹو رہنماؤں کا کہنا تھا کہ چین اپنی جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے خفیہ طور پر کام کر رہا ہے اور روس کے ساتھ عسکری تعاون کر رہا ہے۔ بیجنگ کے تیزی کے ساتھ جوہری میزائل بنانے پر بھی تشویش کا اظہار کیاگیا ۔ ۔ نیٹو کے سربراہ jens stoltenbergجینس سٹولٹنبرگ نے توتنیہہ کی ہے کہ چین نیٹو کی عسکری اور تیکنیکی صلاحیتوں کے ’قریب‘ پہنچ رہا ہے۔ ۔ جبکہ امریکی صدر جوبائیڈن نے نیٹو اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چین اور روس کی جانب سے لاحق نئے چیلنجوں کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ روس اور چین ہماری توقعات کے مطابق نہیں چل رہے ۔ جوبائیڈن نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چین کو کورونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کو بھرپور رسائی دینی چاہیے۔ کیونکہ شفافیت کے بغیر ایک اور وبا پھیل سکتی ہے۔

    ۔ جرمن چانسلر anglina merkhal نے چین کو حریف قرار دے دیا۔ تو فرانسیسی صدر mackron کا کہنا تھا کہ نیٹو فوجی اتحاد ہے، جبکہ چین سے تعلقات صرف فوجی نہیں۔ دوسری جانب چین نے نیٹو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ چین کی امن ترقی پر بہتان لگا رہے ہیں۔ اور زور دیا کہ چین کسی کے لیے چیلنج نہیں پیش کرے گا لیکن اگر کوئی چیلنج ہمارے قریب آیا تو ہم ہاتھ باندھ کر بیٹھے بھی نہیں رہیں گے۔ درحقیقت چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے امریکہ کی وقت کے ساتھ ساتھ پریشانی بڑھتی جا رہی ہے اور نیٹو کو خدشہ ہے کہ چین یورپی ممالک کی سکیورٹی اور ان کے جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ نیٹو چین کے افریقہ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے بھی پریشان ہے۔ اصل میں چاہے یہ نیٹو ہو یا جی سیون ممالک یا
    quadگروپ ان سب کے پیچھے تو امریکہ ہی ہے ۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ جی سیون کی طرح نیٹو 30 یورپی اور شمالی امریکی ممالک کا ایک انتہائی اہم اور طاقتور سیاسی اور عسکری اتحاد ہے جو امریکی عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے۔ اب سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا نیٹو کا ایجنڈا 2030 روس اور چین کو سامنے رکھ کر بنایا جا رہا ہے؟

    ۔ اس حوالے سے نیٹو سیکٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روس کے اپنے پڑوسیوں یوکرین اور جارجیا سے تعلقات ٹھیک نہیں، وہ سائبر اور ہائبرڈ حملے کر رہا ہے، یہ وہ چیز ہے جس نے ہمارے اور روس کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے، ہم اسے دیکھ رہے اور اس کے ساتھ ہی اپنے آپ کو تبدیل بھی کر رہے ہیں۔ ہم علاقے میں اپنی فوجی موجودگی اور اپنے دفاعی اخراجات میں
    2014 سے مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، یہ ہمارے 2030initiative کا اہم حصہ ہے۔۔ دوسری جانب چین کے بارے میں نیٹو سیکٹری جنرل نے کہا کہ وہ ہمارے دروازے پر آچکا ہے، ہم اسے سائبر اسپیس، افریقا اور سرد علاقوں میں دیکھ سکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی وہ ہمارے انفرااسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین نئے نیوکلیئر اور جدید ہتھیار بنارہا ہے، اس کا بھی رویہ جنوبی چین سمندر میں زبردستی والا ہے۔ اس نے ہانگ کانگ میں جمہوری process پر کریک ڈاؤن کیا ہے اور اس کا رویہ اپنی اقلیتوں کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں، وہ نئی artifical intelligence کا استعمال کرتے ہوئے انہیں دبا رہا ہے۔

    دراصل امریکا سمیت چند ملکوں کے مذموم مقاصد بے نقاب ہو چکے ہیں۔ حالانکہ عالمی وبا کے باعث دنیا کو جس معاشی بحران کا سامنا ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے تمام ملکوں کو اتحاد اور تعاون کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی مگر اس کے بجائے امریکہ اپنی سیاست کے ذریعے دنیا کو تقسیم کر رہا ہے ۔ اس مصنوعی محاذ آرائی اور کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے عالمی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے تھی ۔ مگر ایسا نہ ہورہا ہے نہ ہونے کی امید ہے ۔

  • انتشاری گروہ اور بلوچ طلبا، تحریر: حنا

    انتشاری گروہ اور بلوچ طلبا، تحریر: حنا

    بلوچستان میں سب سے بڑی دہشتگرد تنظمیں دو ہیں۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف۔ دونوں کے کمانڈروں سے لے کر نیچے لڑنے والوں تک سب کو افرادی قوت بی ایس او فراہم کرتی ہے جو بلوچ طلباء کی تنظیم ہے اور تمام سرخے ہیں۔ یعنی مارکسسٹ۔۔ آپ نے دیکھا ہوگا ۔۔ BLA گروہ کا کوئی مرتا ہے یا سیکورٹی فورسز پر حملہ کرتے ہوئے یا ایف سی جوانوں کے ہاتھوں جہنم واصل ہونے والا دہشتگرد جب مارا جاتا ہے تو پچھلے کچھ عرصے سے بعد تحقیقات کے پتہ چلا کہ ان دہشتگردوں کا تعلق ہماری ہی کچھ یونیورسٹیوں سے ہوتا ہے جن میں خاص کر ایک اہم یونیورسٹی کے ذہین طلباء شامل ہوتے ہیں ۔وہ یونیورسٹی اس وقت مارکسزم کی نمبر ون پرچارک بلکہ آماجگاہ بن چکی ہے۔ یوں کہ لیں۔ کسی دن یہ یونیورسٹی دوسری لال مسجد بن جائے گی.اسی یونیورسٹی کے پچاس اساتذہ کو پکڑا جائے تحقیقات کی جاے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یونیورسٹی میں طلبہ کے دماغوں میں جو زہر بھرا جارہا ہے وہ کیسے اور کون بھرتا ہے ۔۔

    PTM TTP یہ سب نام کے conservative ہیں اصل میں یہ بھی اسی ایجنڈا کو پروموٹ کرتے ہیں جس کو لبریز پروموٹ کرتے ہیں وہ واحد ایجنڈا پاکستان مخالف اسلام مخالف ایجنڈا ہے۔پاکستانی وراثت روایت مخالف ایجنڈا ہے ۔ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ بھی اسی تنظیم سے نکلا تھا ۔پاکستان میں بڑی یونیورسٹیوں اور طلباء تنظمیوں پر انہی سرخوں کا کنٹرول ہے جو طلباٰء کی بڑی تعداد کو اسلام اور پاکستان سے متنفر کر چکے ہیں۔۔جب تک ان یونیورسٹیوں کی اصلاح نہیں کی جاتی یہ جنگ ختم نہیں ہوسکتی

    بی ایل اے اور بی ایس او اب تک بلوچستان سے میں چار ہزار سے زائد دہشتگردانہ حملے کر چکی ہے۔۔۔کریمہ بلوچ اسی بی ایس او کی چئیرمین تھیں اور بی ایس او کو پاکستان کلعدم قرار دے چکا ہے۔۔۔کل بھوشن نے بھی یہی کہا تھا کہ وہ طلباء تنظیموں کی مدد سے اپنی دہشتگردی کے نیٹورکس چلاتا رہا۔۔بلوچستان میں 1972/1973 میں جن کے خلاف آپریشن ہوا تھا وہ لوگ یعنی مری اور مینگل یہ سب مارکسزم اور کیمونزم کے حامی تھے۔ یہ لوگ خود پڑھے لکھے ہوتے لیکن اپنے نیچے کسی کو پڑھنے نہیں دیتے اور انکو پھر ریاست کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔۔۔محرومی کے مارے طلباء کو پیسوں کا بہت پیسوں کا لالچ دے کر ۔اور کچھ کرنے کا جذبہ رکھنے والے ذہین طلباء کو ہی یہ اکساتے ہیں ۔اساتذہ کے زریعے ایسے بچوں کا برین واش کرتے ہیں ۔

    سننے میں آیا ہے کہ یونیورسٹی میں اساتذہ جان بوجھ کر ایسے موضوعات پر بحث کرتے ہیں جو شدت پسندی انتشار پسندی کی طرف جاے ۔۔ہر انتشار پسندی ہر لبرزم کا کیڑہ اسی یونیورسٹی سے کیوں نکلتا ہے ۔۔وہ طلباء یکجہتی ہو یا نقیب اللہ کے قتل پر طلباء کو ملا کر ساتھ احتجاج کر کہ بننے والی جماعت پی ٹی ایم ہی ہو یا لال لال لہراے گا نعرے والے سرخے ہوں ۔۔سب کا تعلق اسی گروہ سے نکلتا ہے ۔۔۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ریاست ان کی چال بازوں سے واقف نہیں ۔لیکن یہ ان کی بھول ہے ۔۔ریاست اگر ان کو کھلا چھوڑتی ہے تو اس لیے نہیں کہ ریاست ان کی سازشوں سے انجان ہو ۔۔بلکہ اس لیے کہ یہ اپنی موت اپنے مرتے ہیں ۔

    ۔دنیا کے سامنے یہ ملک دشمنوں سے فنڈ لیکر ریاست کو بدنام کرتے کرتے خود بے نقاب بھی ہوتے ہیں۔اور ننگا بھی کہ دنیا ان کی اصلیت جان جانتی ہے کہ یہ پیسے پہ بکنے والا گروہ جو اپنے ملک کا وفادار نہیں ۔وہ ہمارا کیسے ہو سکتا ۔۔تبھی ان کا حال کریمہ بلوچ کی طرح ہوتا ہے دنیا کے کسی کونے چلے جائیں یہ لوگ ۔۔ان کو استعمال کرنے والے خود ہی ان کا سر کچل دیتے ہیں
    حناء سرور
    ۔

    Article Writer Name

    Hina 

     

  • ہمارا عزم باشعور پاکستان .تحریر : فیصل خان

    ہمارا عزم باشعور پاکستان .تحریر : فیصل خان

    میت کاندھوں پہ بعد میں اٹھتی ہے۔ دیگ میں چمچے پہلے کھڑک جاتے ہیں
    لواحقین کی دھاڑیں کم نہیں ہوتیں کہ "مصالحہ پھڑا اوئے” کی صدائیں پہلے بلند ہو جاتی ہیں
    قبر پر پھول سجتے نہیں کہ کھانے کے برتن پہلے سج جاتے ہیں
    آنکھوں میں آنسو خشک نہیں ہو پاتے کہ عزیز و اقارب کے لہجے پہلے ہی خشک ہو جاتے ہیں:-
    "چاولوں میں بوٹیاں بہت کم ہیں۔ فلاں نے روٹی دی تھی تو کیا غریب تھے جو دو کلو گوشت اور ڈال دیتے۔”

    مرنے والا تو چلا جاتا ہے۔ لیکن یہ کیسا رواج ہے کہ جنازہ پڑھنے کے لیے آنے والے اس کی یاد میں بوٹیوں کو چَک مارتے دیگی کھانے کی لذت کے منتظر ہوتے ہیں؟

    فرسودہ روایات کو بدلو۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ جنازے پر بھی جاؤ تو "روٹی کھا کے آنا؟” قرب و جوار کی تو بات ہی نہ کریں دور سے آئے ہوؤں کو بھی چاہیے کہ زیادہ بھوک لگی ہے تو کسی ہوٹل سے کھا لیا کریں

    تہیہ کر لیں کہ آئندہ اگر کبھی کسی جنازے میں شرکت کرنا پڑی تو خواہ ہزار کلومیٹر کر کے کیوں نہ جائیں۔اور عزیز و اقارب ہی کیوں نہ پکائیں۔ میت والے گھر سے کھانا نہیں کھانا۔ خوشی، غمی ہر انسان کے ساتھ ہے۔ لیکن روایات کو بدلیں۔ اس سے پہلے کہ معاشرتی نظام ہی لپیٹ میں آ جائے

  • تعلیم نسواں معاشرے کی اہم ضرورت .تحریر: ملک ضماد

    تعلیم نسواں معاشرے کی اہم ضرورت .تحریر: ملک ضماد

    عورت کا تعلیم یافتہ ہونا معاشرے کے لیے انتہائی ضروری ہے
    ایک عورت اگر پڑھی لکھی یے تو اس سے کا پورا گھر، پورا خاندان پڑھ لکھ سکتا ہے لیکن اگر عورت پڑھی لکھی نہیں تو اس کو کوئی پرواہ و دلچسپی نہیں ہوتی اس کے گھر میں کوئی پڑھا لکھا ہے یا نہیں اس کو بس اپنی زندگی گزارنے کی فکر ہوتی ہے باقی اس کے ارد گرد کیا ہوتا ہے اس کو پرواہ نہیں ہوتی عورت کے لیے تعلیم یافتہ ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا مرد کے لیے
    اس دور جدید میں عورت کے لئے دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے جس سے وہ دور جدید کے تقاضوں کو پورا کر سکے اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقفیت ہو سکے اگر ایک عورت پرھی لکھی ہوتی ہے تو وہ اپنی اولاد کو بھی پڑھا لکھا بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود کو کہا گیا ہے جہاں سے بچہ سب سے پہلے جو لفظ بھی سکتا ہے وہ بھی ماں ہی ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کی زندگی میں جو بھی آتا ہے بھلے وہ اچھا ہے یا برا اس کے پیچھے تربیت کا اثر ہوتا ہے وہ تربیت اس کو بادشاہ بھی بناتی ہے اور گداگر بھی

    "”کہتے ہیں نا ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے””
    وہ عورت اس کی ماں ہی ہوتی ہے جو اس کی تربیت ایسی کرتی ہے جس سے وہ دنیا کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہتا ہے اگر ماں بچے کو شروع سے اچھا راستہ دیکھاتی ہے تو وہ ماں اس بچے کی بہترین خیر خواہ اور بہترین معلمہ ہوتی ہے اگر ہم تاریخ انسانیت کو دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے جس معاشرے جو بھی پڑھا لکھا ہوتا ہے بھلے وہ مرد ہو یا عورت اس کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کو معاشرے میں اہم مقام دیا جاتا ہے

    تعلیم نسواں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث شریف کا مفہوم ہےجو شخص اپنی بیٹی کی خوب اچھی طرح تعلیم وتربیت کرے اور اس پر دل کھول کر خرچ کرے تو (بیٹی) اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہوگی(المعجم الکبیر للطبرانی ۱۰۴۴۷)
    ایک بیٹی، رحمت اسی وقت بن سکتی ہے، جب کہ اس کا قلب اسلامی تعلیمات کی روشنی سے منور ہو، وہ فاطمی کردار و گفتار کا پیکر ہو

    آج تعلیم گاہوں اور دینی تعلیمات کے متعدد ذرائع کے موجود ہونے کے باوجود، دینی تعلیم سے بے رغبتی اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے، جس مذہب نے دینی تعلیم کو تمام مردوں عورتوں کے لیے فرض قرار دیا ہو اور جس مذہب میں علم وحکمت سے پُرقرآن جیسی عظیم کتاب ہو اور جس مذہب کی شروعات ہی ”اقرأ“ یعنی تعلیم سے ہوتی ہو، اسی مذہب کے ماننے والے دینی تعلیم کے میدان میں سب سے پیچھے ہیں اور اگر بات عورتوں کی مذہبی تعلیم کی، کی جائے (نہ کہ محض عصری ومغربی تعلیم کی) تو معاملہ حد سے تجاوز ہوتا ہوا نظر آتا ہے، کہتے ہیں کہ ماں کی گود بچوں کے لیے پہلا مکتب ہوتا ہے

    تعلیم نسواں معاشرے کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی مرد کے لیے مرد اگر گھر سے باہر رہ کر گھر کو سنبھالنے میں لگا رہتا ہے تو عورت گھر کی چاردیواری کے اندر اپنا فرض نبھا رہی ہوتی ہے مرد اگر پیشہ کماتا ہے تو عورت اس کے خاندان کی خدمت کر کے اس کا ساتھ دیتی ہے مرد اگر گرمی سردی میں باہر رہ کر کام کرتا ہے تو عورت گرمی کی تپتی دوپہر ہو یا سردی کی ٹھٹرتی رات ہو اس کے بچوں کو سنبھال رہی ہوتی ہے مرد گھر سے باہر اگر اپنے بچوں پر فخر کر رہا ہوتا ہے تو عورت انہی بچوں کی تربیت کر کے قابل فخر بنا رہی ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں اس دور میں تعلیم کا رحجان تو بہت ہے لیکن دینی تعلیم سے ہم دور ہوتے جا رہے ہیں جس کی ہمیں زیادہ ضرورت ہے