وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ بلاول زرداری گلگت بلتستان کے بعد اب کشمیر انتخابات میں ہارنے کی تیاریاں کر رہے ہیں، ایک دفعہ پھر سے بلاول زرداری نے ہارنے سے پہلے ہی دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیا ہے، 45 سیٹوں پر 8 امیدوار کھڑے کر کے پیپلز پارٹی جیتنے کے سہانے خواب سجا رہی ہے، وزیراعظم عمران خان نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر میں ایک نئی روح پھونکی ہے، بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں راجیو گاندھی کا 1989 کا دورہ پاکستان سب کو یاد ہے۔ اس وقت راجیو گاندھی کو خوش کرنے کے لیے کشمیر کے بورڈز اتروا لیے گئے تھے۔ وزیراعظم عمران خان ڈنکے کی چوٹ پر بغیر کسی مصلحت کے کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کو منہ کی کھانی پڑے گی.
Category: بلاگ
-

ندا ڈار اعزاز پانے کے قریب
ندا ڈار ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 وکٹوں کا سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہے، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین 3 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز 30 جون سے ہوگا، سر ویون رچرڈز اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے ان میچز میں شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز ندا ڈار ہوں گی، جنہیں ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 وکٹیں مکمل کرنے کے لیے صرف ایک وکٹ درکار ہے، گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ کرکٹر پہلی پاکستانی اور دنیا کی پانچویں خاتون کرکٹر ہوں گی جو یہ اعزاز کریں گی، اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی انیسہ محمد (120)، آسٹریلیا کی ایلیسا پیری (115)، جنوبی افریقہ کی شبنم اسماعیل (110) اور انگلینڈ کی آنیا شرب سول (102)، ہی یہ سنگ میل عبور کرسکی ہیں، ٹی ٹونٹی کرکٹ میں پاکستان کی سب سے کامیاب باؤلر ندا ڈار اب تک 18.35 رنز فی وکٹ کے اعتبار سے 99 وکٹیں حاصل کرچکی ہیں، ندا ڈار مینز یا ویمنز دونوں قسم کی کرکٹ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر ہوں گی.
ندا ڈار کا کہنا ہے کہ کرکٹ ایک دلچسپ کھیل ہے، جو آپ کو اچھے اور برے دونوں طرح کی دن دکھاتا ہے، مگر اس سے وابستگی کبھی ختم نہیں ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ یقیناََ 100 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل وکٹوں کاسنگ میل عبور کرنا ان کے لیے خوشی کا باعث ہوگا تاہم اگر اس روز میچ میں ان کی پرفارمنس سے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو فائدہ ہوگا تو یہ خوشی دوبالا ہوجائے گی، ایک سینئر کھلاڑی اور آلراؤنڈر کی حیثیت سے اپنی ذمہ دایاں بخوبی جانتی ہیں اور کوشش کروں گی کہ اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کی فتوحات میں اضافہ کرسکوں.
ندا ڈار نے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2010 میں سری لنکا کے خلاف میچ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا، گو کہ اس سنسنی خیز میچ میں سری لنکا نے ایک رن سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم ندا ڈار نے اس میچ میں محض 10 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کی تھیں، آلراؤنڈر اپنے ٹی ٹونٹی کرکٹ کیرئیر میں 1152 رنز بناچکی ہیں، وہ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی پاکستان کی تیسری بہترین بیٹسمین بھی ہیں، اب تک پاکستان کے لیے 105 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکی ہیں، ان 110 میں سے 43 میچز میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے، انہوں نے ان 43 میچز میں 52 وکٹیں حاصل کیں ہیں. -

کنٹریکٹ خواتین کھلاڑیوں کا اعلان کردیا گیا
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 کا اعلان کردیا گیا ہے، سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں 12 خواتین کرکٹرزکو شامل کیا گیا ہے، تمام کٹیگریز کے ماہوار وظیفے میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جویریہ خان اور بسمہ معروف اے کٹیگری میں برقرار ہیں، ندا ڈار کی بی کٹیگری میں ترقی کی گئ ہے، پی سی بی ویمنز کرکٹر آف دی ایئر 2020 فاطمہ ثناء کو کٹیگری سی میں جگہ مل گئی ہے، کائنات امتیاز نشرہ سندھو، انعم امین، فاطمہ ثنا، کائنات امتیاز، ناہیدہ خان، عمیمہ سہیل اور سدرہ نوازبھی کٹیگری سی کا حصہ بن گئی ہے، فاطمہ ثناء کے علاوہ گزشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کرکٹرز رواں سال بھی ایمرجنگ کٹیگری میں شامل ہیں، رواں سال 12 خواتین کرکٹرز کو کنٹریکٹ سے نوازا گیا ہے، گزشتہ سال یہ تعداد 9 تھی، ان تمام کھلاڑیوں کے لیے اعلان کردہ کنٹریکٹ یکم جولائی سے لاگو ہوں گے، ان 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ کی اے، بی اور سی کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایمرجنگ کنٹریکٹ کی لسٹ میں بھی 8 کھلاڑی شامل ہیں،ایمرجنگ ویمنز کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 میں عائشہ نسیم، کائنات حفیظ، منیبہ علی صدیقی، نجیہہ علوی،رامین شمیم، صباء نذیر ،سعدیہ اقبال اور سیدہ عروب شاہ شامل ہیں، انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ میں گزشتہ ایک سالہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دئیے گئے ہیں، اس سلسلے میں آئندہ ڈومیسٹک کرکٹ اور مستقبل میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی مصروفیات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے، قومی خواتین کرکٹ کودورہ ویسٹ انڈیز کے بعد اب 2 ٹی ٹونٹی اور 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے لیے اکتوبر میں انگلینڈ کی میزبانی کرنی ہے، قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو دسمبر میں آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ کوالیفائر میں شرکت کرنی ہے، آئندہ سال پاکستان کو آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈکپ اور کامن ویلتھ گیمز میں بھی شرکت کرنی ہے، قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے جنوری 2021 میں جنوبی افریقہ کا دورہ کیا تھا، جہاں سےاسکواڈ زمبابوے روانہ ہوا تھا تاہم کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث وہ دورہ مکمل نہ کیا جاسکا تھا،علاوہ ازیں، سیزن 21-2020 میں پی سی بی نے قومی سہ فریقی ٹی ٹونٹی ویمنز چیمپئن شپ کا بھی انعقاد کیا تھا، جنوبی افریقہ کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز میں دو نصف سنچریاں اسکور کرنے والی واحد کرکٹر ندا ڈار کو سینٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری سی سے بی میں ترقی دی گئی ہے، وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی دوسری کھلاڑی تھیں،
گذشتہ سال پی سی بی ویمنز ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والی فاطمہ ثنا ءکو سی کٹیگری میں ترقی مل گئی ہے، وہ اس سے قبل ایمرجنگ کٹیگری کا حصہ تھیں، 19 سالہ کرکٹر نے ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتےہوئے تین میچوں میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں، اس دوران انہوں نے تین اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 95 رنز بھی بنائے تھے، اس ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی قرار پانے والی کائنات امتیاز کو بھی موجودہ کنٹریکٹ کی سی کٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کی چار اننگز میں 111 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ تین کھلاڑیوں کو بھی پویلین کی راہ دکھائی تھی، نشرہ سندھو کو بھی کٹیگری سی کا کنٹریکٹ پیش کیا گیا ہے، انہوں نےڈیانا بیگ (9 وکٹیں ) کے بعد گزشتہ سیزن میں پاکستان کی جانب سے ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ (6 وکٹیں) حاصل کی تھیں، جنوبی افریقہ میں پاکستان کی قیادت کرنے والی جویریہ خان ویسٹ انڈیز کے خلاف 30 جون سے شروع ہونے والی سیریز میں بھی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کریں گی، تین ٹی ٹونٹی اور پانچ ون ڈےانٹرنیشنل میچز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والی جویریہ خان کو سینٹرل کنٹریکٹ کی ٹاپ(اے) کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے، ان کے ساتھ بسمہ معروف بھی اسی کٹیگری کا حصہ ہیں، فاطمہ ثناء کے علاوہ گزشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کھلاڑیوں کو اس کٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے، اُدھر وکٹ کیپر سدرہ نواز کی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی ہوگئی ہے.
چیئرآف نیشنل ویمنز سلیکشن کمیٹی عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ وہ سیزن 22-2021 کے لیے ویمنز کنٹریکٹ پانے والی تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں، رواں سال 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے، گزشتہ سال یہ تعداد 9 تھی، عمدہ کارکردگی کی بدولت فاطمہ ثناء کو ایمرجنگ سے ترقی دے کر سی کٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے، تاہم ایمرجنگ کٹیگری میں شامل باقی آٹھوں کھلاڑیوں کو رواں سال بھی ایمرجنگ کنٹریکٹ دیا گیا ہے، وہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہیں۔ عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے گزشتہ سال دنیا کے لیے ایک چیلنج تھا مگر پی سی بی نےاس دوران بھی خواتین کرکٹرز کے لیے انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کا اہتمام کیے رکھا ہے، ندا ڈار نے جنوبی افریقہ میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث انہیں سی سے بی کٹیگری میں ترقی دی گئی ہے، وہ پرامید ہیں کہ ندا ڈار ایک سینئر ممبر کی حیثیت سے یہ ذمہ داری نبھاتی رہیں گی اور اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کو میچز جتوانے کی کوشش کرتی رہیں گی، وہ کائنات امتیاز اور نشرہ سندھو کو بھی مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں کہ جو بین الاقوامی اور ڈومیسٹک دونوں طرز کی کرکٹ میں اپنی کارکردگی سے سلیکٹرز کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی ہیں، جہاں ہم نے چند کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں سینٹرل کنٹریکٹ میں ترقی دی ہے تو وہیں ہم نے غیرتسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر سدرہ نوازکی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی کردی ہے،
سلیکشن کمیٹی چھ ماہ بعد کنٹریکٹ کی اس فہرست کا دوبارہ جائزہ لے گی اور اگر ضرورت پڑی تو اس پر نظرثانی بھی کی جائے گی تاہم ہمیں یقین ہے کہ یہ تمام کھلاڑی ہمارے اعتماد پر پورا اتریں گی. -

فاسٹ بولر نے کیا اپنے آبائی گھر کا رخ
قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہنواز ڈاہانی کی اپنے آبائی گاؤں لاڑکانہ میں آمد ہوئی ہے، پیپلز یوتھ آرگنائزیشن ضلع لاڑکانہ کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری عبدالغفار ملانو کی پیپلز یوتھ آرگنائزیشن سٹی لاڑکانہ کے عہدیداران کے ہمراہ قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہنواز ڈاہانی سے ملاقات کی ہے،ملاقات کے دوران پیپلز یوتھ آرگنائزیشن سٹی لاڑکانہ کے سیکریٹری اطلاعات منیر احمد ملغانی، نائب صدر صدام حسین لاشاری، نائب صدر غلام مصطفیٰ گوپانگ، ڈپٹی جنرل سیکریٹری وزيرعلی تونیو، ریکارڈ اینڈ ایونٹ سیکریٹری عرفان علی جتوئی بھی عبدالغفار ملانو کے ہمراہ موجود تھے، عہدیداران نے شاہنواز ڈاہانی کو بہترین کارکردگی پر مبارکباد دیگئ اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے، عہدیداران نے شاہنواز ڈاہانی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے.
-

امریکہ میں چوروں کے لئے نیا قانون نافذ ،چوروں کے وارے نیارے ہوگئے، پولیس بےبس عوام پریشان
سان فرانسسکو: ریاست کیلیفورنیا میں نیا قانون منظور ہوا کہ اگر کوئی 950 ڈالر کے نیچے کوئی چیز چوری کرتا ہے تو پولیس چور کو روک نہیں یا اسے گرفتار نہیں کر سکتی –
باغی ٹی وی : امریکہ میں کمیونزم اور سرمایہ داری ناکام ہوگئی ، اب جمہوریت کے ناکام ہونے کی باری ہے غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کیلی فورنیا میں 950 ڈالر سے کم کی چیزیں چوری کرنے پر پولیس چور کو نہ تو پکڑ سکتی یے اور نہ ہی روک سکتی ہے کیونکہ یہ غربت کو مجرم قرار دے رہا ہے کیلیفورنیا میں بہت سے دکانیں اس احمقانہ قانون کی وجہ سے بند ہورہی ہیں
سان فرانسسکو میں وال گرین پرچون چین اسٹور سے سامان چوری کرتے ہوئے ایک شخص پکڑا گیا جب اسٹور پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے دیکھا اور اسے جانے دیا۔ ویڈیو میں ایک شخص دکھایا گیا ہے جس کا چہرہ چھپا ہوا ہے اور وہ ایک بڑے تھیلے میں سامان اٹھا رہا ہے اور اپنے سائیکل پر بھاگ رہا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے ، اور اس قانون کے غلط استعمال پر مباحثہ شروع ہوا ہے جس نے شمالی کیلیفورنیا کے شہر میں اس طرح کے واقعات کو جنم دیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں چوری کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ، خاص طور پر 2014 کے بعد جب اس شہر نے پروپوزیشن 47 نامی ایک متنازعہ قانون پاس کیا۔
تجویز 47 کے تحت 950 ڈالر سے کم مالیت کا سامان چوری کرنا جرم نہیں بلکہ بدانتظامی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سان فرانسسکو میں یہ ایک عام سی نظر بن گئی ہے ، کیونکہ نئے قانون نے جرائم پیشہ افراد کو عام لوگوں کے لئے محفوظ بنانے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
پولیس اہلکاروں کے مطابق ، اگر کوئی 950 ڈالر سے کم مالیت کی چیزیں چوری کرتا ہے تو ، پولیس کے پاس حوالے کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوتا ہے اور ملزم وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ اگر ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوتا ہے تو ، شاید اسے بینچ کا وارنٹ مل جائے گا۔
چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے بڑی تعداد میں اسٹور بند ہوگئے ہیں۔ اے بی سی نیوز کی خبر کے مطابق ، "شہر کے نگران اہشا صفائے نے کہا ،” پچھلے پانچ سالوں میں سترہ وال گرینز ، تقریبا ہر گیپ کے خوردہ فروشوں کی دکان ختم ہوچکی ہے ، سی وی ایس پر حملہ آور ہے۔
وال گرین کے عہدے داروں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ سان فرانسسکو اسٹورز میں شاپ لفٹنگ کے واقعات میں دوسرے شہروں کے اسٹوروں کے مقابلے میں چوری کے چار گنا زیادہ واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔
صافائی نے کہا کہ بہت سارے واقعات میں ، یہ کیمروں کے ذریعے دیکھا گیا ہے کہ چور ایک دن میں متعدد مقامات پر حملہ کرتے ہیں۔ شہر میں اسٹورز بھی امریکہ کی جگہوں پر سیکیورٹی پر 35 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ سان فرانسسکو میں نہ صرف اسٹور کرائم بلکہ پراپرٹی کے جرائم بھی سب سے زیادہ ہیں۔ صورتحال اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اب منظم گروپس شاپ لفٹنگ کا دھندہ چلا رہے ہیں۔
دی نیویارک پوسٹکے مطابق شہر کے پولیس نے استغاثہ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ اٹارنی چیسہ بیوڈین نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اعدادوشمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پروجیکشن 47 منظور ہونے کے بعد سے گرفتاریوں کی تعداد پر مربوط قوانین کا مجموعی اثر پڑتا ہے۔ گرفتاری کے لئے صاف ہونے والے لاریسی کیسز کی تعداد 2018 میں 4.5 فیصد سے گھٹ کر 2020 میں 2.8 فیصد ہوگئی۔ تاہم ، نیویارک پولیس نے ، معاملات میں چار گنا زیادہ گرفتاری عمل میں لائی۔ سن 2018 میں ، سان فرانسسکو میں لارسی کیسز کی تعداد 18،363 رہی ، جبکہ 2020 میں یہ تعداد 11،062 ہوگئی۔
https://www.youtube.com/watch?v=S6GcJ7sj7IY -

کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامیصورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی
کراچی کے شعیب احمد نے موٹر وے کے لیے موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی-
باغی ٹی وی : ایپ سے مسافر کسی ہنگامی حالت میں اپنی لوکیشن اسپتال یا سکیورٹی اداروں تک پہنچا سکیں گے شعیب احمد نے جامعہ کراچی سے کمپیوٹر سائنس میں ڈگری حاصل کی اور آج کل دیگر ساتھیوں کے ساتھ ایک خاص موبائل ایپلی کیشن تیار کرنے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

شعیب احمد اور ان کی ٹیم نے پاکستان میں موٹر وے کی مناسبت سے ایک خاص موبائل ایپلی کیشن بنائی ہے جو ناصرف ٹول پلازہ کے جھنجٹ سے نجات دلا سکتی ہے بلکہ کسی بھی ہنگامی حالت میں مسافروں کی لوکیشن متعلقہ اداروں تک پہنچا سکتی ہے۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب احمد نے بتایا کہ اس ایپ میں صرف ایک بٹن ہوگا جو کسی ایمر جنسی پر کلک کرنے پر فوراً نوٹیفیکیشن میری یا صارف کی لوکیشن کے ساتھ اتھارٹیز کو چلی جائے گی اتھارٹی سے آٹومیٹکلی قریبی پولیس موبائل گاڑیوں گو نزدیکی ایمبولینسز کو چلی جائے گی تو ایمرجنسی کے مقام کے نزدیک ترین اہلکار جا سکے گے-

شعیب کے مطابق اسمارٹ موٹروے ایپ کے تحت آپ کو اپنے راستے میں ادا کرنے والے ٹول ٹیکس کا بھی علم ہو سکے گا اور لمبی لمبی قطاروں سے بھی چھٹکارا ممکن ہو جائے گا۔

شعیب احمد اور ان کی ٹیم اس وقت امریکا میں موٹر وے کے لیے کام کر رہی ہے اور پاکستان میں اپنی اس ایپ کو سرکاری سطح پر متعارف کروانے اور عام شہریوں کو فراہم کرنے کی خواہاں ہے-

-

سندھ رینجرز کی محمڈن فٹبال گراؤنڈ پنجاب کالونی میں ٹورنامنٹ
سندھ رینجرز کی محمڈن فٹبال گراؤنڈ پنجاب کالونی میں ٹورنامنٹ ، 32ٹیموں نے حصہ لیا-
باغی ٹی وی : ترجمان رینجرز کے مطابق شاہد آفریدی، معین خان، جاوید شیخ اورڈی آئی جی ساؤتھ تقریب کے مہمان خصوصی تھے، ڈی جی رینجرز جنرل افتخار حسن چودھری کی ٹورنا منٹ کے فائنل مقابلے میں شرکت کی-
ترجمان رینجرز کا کہنا تھا کہ فٹبال گراؤنڈعرصہ دراز سے ایک کوڑے دان کی شکل اختیار کرچکا تھا-فروری کو بحال کر کے اسپورٹس کمیونٹی کے حوالے کر دیا گیا تھا-
شاہد آفریدی نے گراؤنڈ کے ایک حصے میں کر کٹ نیٹس تیار کرنے کا اعلان کیا-
اس حوالے سے ڈی جی رینجرز کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ شہر کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں =
-

مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کر لیں.تحریر: فاطمہ بلوچ
دنیا میں آنے والی ہر ذی روح چیز کو واپس جانا ہے
چاہے وہ انسان ہو
چرند پرند ہو
جانور ہو
یا کچھ بھی
سب کو واپس اپنے اللہ پاک کی طرھ لوٹ کر جانا ہے
پھر وہاں جا کر انسان اور جنات نے اپنے اعمال کا سامنا کرنا ہے ہر ایک نے حساب دینا ہے
دنیا میں کیا کر کے آئے اور کیا کچھ کمایا
کمانے سے مراد پیسہ ہی نہیں بلکہ اپنے کمائے ہوئے عمل بھی ہیں
ہر وہ عمل جو انسان اٹھتے، بیٹھے، چلتے، پھرتے ہر لمحے کرتا ہے اس کا حساب دینا ہو گا
اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں بار ہا انسان کو اس کی تخلیق کے بارے میں بتایاارشادِ ربانی ہے:
اور میں نے جن اور انسان اسی لئے پیدا کیے ہیں کہ وہ میری عبادت کریں
سورۃ الذاریات،آیت56ارشادِ الٰہی ہے:اے آدم کی اولاد! ہم نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا (اس کی عبادت نہ کرنا) وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے
سورہ یٰسین (آیت60،61)قرآن مجید میں بہت سی آیات میں انسانوں اور جنوں کو ان کی تخلیق کا بتایا گیا ہے
انسان کو اللہ پاک نے عبادت کرنے لے لیے بھیجا تو ساتھ مخن نفسانی خواہشات بھی رکھ دی
جس سے انسانوں اور فرشتوں میں فرق پیدا ہوا
انسان کو فرشتوں سے اعلی کہا گیا ہے کیونکہ فرشتے صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کوئی خواہش نہیں ہے ان کی جب کہ انسان کی خواہشات بھی ہیں ساتھ ان خواہشات کے باوجود وہ اگر اللہ پاک حکم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر اپنی زندگی گزارنے کی فکر کرتا ہے تو وہ فرشتوں سے اعلی ہو جاتا ہے
انسان کی 24 گھنٹے کی زندگی عبادت ہے اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر گزارے تو
مسلمان کا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا سونا جاگنا اگر سنت کے مطابق ہو جائے تو اس کی ساری زندگی عبادت میں گزر جاتی ہے
آج کا انسان اتنا غافل ہو چکا ہے اس کو پرواہ نہیں عبادات کی
فرائض کی
سنتوں کی
نوافل تو دور کی بات
انسان اپنے کام کاروبار نوکری میں اتنا مصروف ہو چکا ہے اس کو پرواہ ہی نہیں وہ کیسے گزار رہا ہے زندگی
انسان کو کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کاروبار بھی ضروری ہے لیکن وہ ہی کام کاروبار اگر سنت کے مطابق ہو جائیں تو وہ بھی عبادت میں شامل ہو جائیں
انسان کو مرنے کے بعد کی زندگی کی تیاری بلوغت کی عمر سے شروع کرنی پڑتی ہے
لیکن اس سے پہلے والدین کی ذمہ داریوں میں شامل ہے وہ بچے کی تربیت ایسی کریں کہ وہ بلوغت کو پہنچنے تک ساری عبادات کا عادی ہو چکا ہو
وہ اولاد اپنے اور اپنے والدین کے لیے بھی ذریعہ مغفرت بنے
ہمیں اپنی باقی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنی عبادات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے
دنیاوی کام کاج ضروریات تو یہاں ہی رہ جانی ہیں ہمیں اصل کام آنے والی جو چیز ہے وہ ہمارے اعمال ہیں جو ہمارے ساتھ قبر میں جائیں گے
اس لیے ہمیں مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنی چاہیے
تاکہ ہم جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والے بن جائیں -

بلوچستان، ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن .تحریر:محمد مستنصر
بلوچستان معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے ساتھ پاکستان کی معاشی ترقی اور تجارت کا مرکز بھی ہے۔ بلوچستان کو قدرت نے محنتی اور جفاکش شہریوں سے بھی نوازا ہے جو پاکستان کا اثاثہ ہیں۔
مقامی بلوچ رہنمائوں، منتخب حکومت اور افواج پاکستان بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے خوشحالی لا کر بلوچستان کے عام شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ موجودہ حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مربوط حکمت عملی کے ساتھ بلوچستان کے لئے ترقیاتی پیکیج تیار کیا ہے اور اس امر کو یقینی بنیایا گیا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد تک اس ترقیاتی پیکیج کے ثمرات پہنچیں۔
حکومت بلوچستان کے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لئے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لئے 16 ڈیم تعمیر کرے گی جبکہ زیتون کا ایک پروسیسنگ یونٹ اور تین پروسیسنگ یونٹ کھجور کے لئے بنائے جائیں گے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ مقامی کاشتکاروں کو زیتون اور کھجور کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔
کسی بھی معاشرے کی تعمیر وترقی اور قیام امن تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اور بلوچستان کے بچوں کو حصول تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے چھ لاکھ چالیس ہزار بچوں کو فاصلاتی تعلیم دی جائے گی اور وہ بڑے شہروں میں اساتذہ سے منسلک ہوں گے۔ وسیلہ التلیم پروگرام کے تحت 83،000 بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی جبکہ حکومت کی طرف سے لڑکوں کے لئے ماہانہ وظیفہ 1500 روپے اور لڑکیوں کے لئے 2 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔جبکہ مختلف تربیتی ورکشاپس کے ذریعے بلوچستان کے 35 ہزار نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کرکے معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے ساتھ انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج کوئٹہ میں تمام جدید سہولیات سے آراستہ ڈیجیٹل لائبریری قائم کی گئی ہے جس کے لئے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال میں پانچ ڈیجیٹل لائبریریوں کا دوسرا مرحلہ قائم کیا جائے گا۔
بلوچستان کے لئے اعلان کردہ ترقیاتی پیکیج کے مطابق علاقے کی 57 فیصد آبادی کو بجلی فراہم کی جائے گی جبکہ اب تک صرف 12 فیصد شہریوں کو بجلی کی سہولت میسر ہے۔ شہریوں کو سفر کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لئے 3،083 کلومیٹر طویل سڑک کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے جن پر کام کا آغاز موجودہ مالی سال کے دوران کیا جائے گا۔عوام کو صحت کی بہترین اور معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لئے بلوچستان بھر میں 200 صحت مراکز کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ حاملہ ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو صحت نشونما پروگرام کے تحت صحت بخش خوراک مہیا کی جارہی ہے۔
نہ صرف بلوچستان بلکہ خطے کی معاشی خوشحالی کا مرکز سمجھے جانے والے گوادر کی ترقی ایک جامع حکمت عملی کے تحت کی جارہی ہے جس کے لئے اولڈ سٹی ٹاؤن میں طویل مدتی نکاسی آب کے نظام، پانی کی فراہمی اور طویل مدتی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاکہ مقامی آبادی کے دیرینہ مسائل کا خاتمہ ہونے کے ساتھ انہیں دور جدید کی تمام تر سہولیات میسر آ سکیں۔ صحت مند معاشرے کو فروغ دینے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لئے صوبائی محکمہ کھیل اور ثقافت صوبہ بھر میں 33 اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔بلاشبہ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کی تعمیر وترقی کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جس کی وجہ سے نہ صرف بلوچستان کے شہریوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا رہا بلکہ بلوچستان ترقی کی دوڑ میں بھی خاصا پیچھے رہا مگر دیر آید درست آید کے مصداق موجودہ حکومت کی طرف سے بلوچستان کے دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنا کر عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی سنجیدہ کوششیں قابل تعریف ہیں۔ -

موجودہ کراچی کے حالات. تحریر:سید عمیر شیرازی
کراچی ،وہ شہر تھا جسے روشنیوں اور ستاروں کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا بدقسمتی سے اب کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے میرا کراچی
پاکستان بھر سے ہر قوم و ذات کے لوگ میرے کراچی میں روزگار کمانے آتے تھے یہ وہ شہر تھا جس کو بہترین دنیا کے شہروں میں چوتھا نمبر حاصل تھا پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی میرے شہر قائد کو،کراچی میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد سابقہ سٹی ناظم سید مصطفیٰ کمال کے دور نظامت میں ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کراچی پیرس کا منظر پیش کرنے لگا جی ہاں وہ مصطفیٰ کمال جس نے اپنے نظامت کے پانچ سال دن رات ایک کر کے کراچی کی خوب خدمت کی جب لوگ راتوں کو سوتے تھے مصطفیٰ کمال انکی صبح بہتر بنانے کے لئے مصروف عمل رہے 2005 سے 2010 کا یہ دورانیہ کراچی والوں کیلئے تاریخ کا سب سے بہترین وقت رہا ہے یہ وہ وقت تھا جب مصطفیٰ کمال میئر کراچی بنے اور دل و جان سے کراچی والوں کی خدمت کی کیا لیاری ایکسپریس وے جہاں چھتیس ہزار گھر نالوں پر بنے ہوئے تھے وہاں کے رہائشیوں کو مختلف آبادیوں میں آباد کیا یہاں بات ختم نہیں ہوتی کٹی پہاڑی جو پختون بھائیوں کا گڑھ تھا وہاں لوگ جانے سے ڈرتے تھے وہاں پہاڑی توڑ کر راستہ بنانے والے بھی یہی مصطفیٰ کمال ہی تھی آج کراچی والوں کو مصطفیٰ کمال کی یاد تو آتی ہوگی..
بہرحال یہ وقت تھا جب کراچی شہر دنیا کے پانچ بہترین شہروں میں شمار ہوتا تھا اور آج دنیا کے بدترین شہروں میں کراچی کا 16 واں نمبر ہے کراچی کے نام نہاد سیاستدانوں نے اپنے سیاست کو چمکانے کے واسطے کراچی کو لاوارث بنا دیا استعمال کرکے اللّه پاک میرے کراچی کو مصطفیٰ کمال جیسی باکردار قیادت اور باصلاحیت کردار سے نوازے آمین۔
