Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کالے دل کے خوبصورت لوگ۔۔۔تحریر: وسیم اکرم

    کالے دل کے خوبصورت لوگ۔۔۔تحریر: وسیم اکرم

    ‏روز مرہ زندگی میں آپ کو بے شمار ایسے لوگوں سے پالا پڑے گا جو ظاہری طور پر عزت و اکرام کے حامل ہوں گے انہیں مرتبہ، مقام اور دولت بھی میسر ہوگی مگر ان کی ذات سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اگلے کا دل اور روح زخمی کر دیتے ہیں۔ لوگوں کے جذبات ان کا ایندھن ہوتے ہیں۔۔۔ چھوٹے دل والے یہ خوشامد پسند ہوتے ہیں انہیں اپنی تعریف کرتے اور کرواتے رہنا بے حد پسند ہوتا ہے۔ یہ خود نمائی کے شوقین ہوتے ہیں۔ انہیں اپنا آپ گھڑی گھڑی جتانے کی لت لگی ہوتی ہے۔ یہ ’ریکگنیشن اور وفاداریوں‘ کے بھوکے ہوتے ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ بزدل ہوتے ہیں۔ دلیری ان میں نام کی نہیں ہوتی۔ گالیاں دینے میں ماہر ہوتے ہیں۔۔۔ یہ مرد ہوں بھی تو ان میں مردانگی کا کوئی وصف نہیں ہوتا۔۔۔ یہ ہمیشہ ’پلے سیف‘ کی پالیسی کو اپنائے رکھتے ہیں۔ ان میں قربانی کا حوصلہ تو بالکل نہیں ہوتا اور یہ ہر معمولی خطرے سے بھی خود کو بچانے کی کوشش میں مصروف عمل رہتے ہیں، پھر چاہے ان کے ایک دلیرانا اقدام کی کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو۔۔۔۔

    ایسے بے چارے اپنی غلطی ماننے کو اپنی بے عزتی تصور کرتے ہیں اور خود کو ہر اس مقام اور حالت سے بچا کر رکھتے ہیں جہاں انہیں تنِ تنہا اپنا آپ یا اپنی کوئی قابلیت یا دعوٰی ثابت کرنا پڑجائے۔ یہ ایک خوبی بہرحال ان میں ہوتی ہے کہ وہ کمال کی ’پرسیپشن مینجمنٹ‘ کرتے ہیں۔ اپنا تراشیدہ چہرہ کبھی بے نقاب نہیں ہونے دیتے۔۔۔ انکی جھوٹی انا ہمیشہ بھوکی اور لالچی رہتی ہے۔ یہ آپ کا خون تک چوس کر ہضم کر جاتے ہیں اور ہمیشہ ’اور کی دوڑ‘ میں مصروف رہتے ہیں۔ اور یہ دوڑ صرف مادی چیزوں کی نہیں ہوتی بلکہ انسانی رویوں، جذبات اور خلوص، خدمت کی بھی ہوتی ہے۔ انہیں ہر وقت مزید خدمت، مزید قربانی، مزید خلوص اور مزید ’پروٹوکول‘ درکار ہوتا ہے۔۔۔ ایسے لوگ جس ٹیم یا گروہ میں ہوں اس گروہ سے وفاداریوں پر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں جب تک انکی منشاء کے مطابق سب کچھ ہوتا رہے تو ٹھیک ورنہ اپنے مخالف کو غداروں کی فہرست میں شامل کرلیتے ہیں۔۔۔ میں نے کمیونیکیشن اسٹڈیز کے نفیساتی پہلو پڑھتے وقت یہ سیکھا تھا کہ آپ جب بھی کسی سے ملتے ہیں تو آپ سے پہلے آپ دونوں کی ’اینرجیز‘ آپس میں ملتی ہیں اور آپ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی آپ کا ایک خاص تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ یہ تعلق آپ میں مخاصمت، تلخی، جھجک یا آسانی اور خلوص پیدا کرتا ہے۔ یہ آپ کے آئندہ تعلق کی نوعیت کی بنیاد بنتا ہے۔ مگر آپ جب بھی ایسے لوگوں سے ملیں گے آپ کو ان سے خوف، جھجک، مخاصمت یا تلخی محسوس ہوگی۔ کچھ لوگ کمال فنکار ہوتے ہیں، پہلی ملاقات میں شاید آپ کی ملاقات ایک چھلاوے سے ہو مگر وقت سے ساتھ یہ تحلیل ہوتا رہے گا۔۔۔

    ان لوگوں سے نفرت کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ تو ہمدردی کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے جذباتی وابستگی پیدا نہیں کرنی چاہیے اور انہیں کسی بھی طرح خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ یہ اعصاب پر سوار ہونے لگیں تو انہیں چیلنج کرنا چاہیے اور یقین جانیں ان کی جڑوں میں ایک خوف ہوتا ہے اور یہ خوف کبھی بھی آپ کی جرأت کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ آپ کی جیت ایسے لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے۔۔۔ ایسے لوگ ہر وقت دوسروں کو عزت پر لیکچر دیں گے لیکن یقین جانے کم ظرف اور گھٹیا انسان جتنی مرضی عزت کی باتیں کر لے کسی کیطرف سے ملنے والی عزت کا بوجھ کبھی نہیں اٌٹھا سکتا۔۔۔ یہ لوگ معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے ہوتے ہیں جہیں صرف سوشل میڈیا پر فلاسفر بننے کا موقع ملتا۔۔۔
    @PatrioticWsi

  • پڑوسیوں کے حقوق. ‏تحریر: طلعت کاشف سلام

    پڑوسیوں کے حقوق. ‏تحریر: طلعت کاشف سلام

    انسان کا اپنے والدین، اپنی اولاد اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ سب سے زیادہ واسطہ و تعلق بلکہ ہر وقت بھینٹ ملاقات، لین دین کا سابقہ ہمسایوں اور پڑوسیوں سے بھی ہوتا ہے اور اس کی خوشگواری و ناخوشگواری کا زندگی کے چین وسکون اور اخلاق کے اصلاح و فساد اور بناؤ بگاڑ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے
    اسلام اتنا پیارا مذہب ہے جس میں ہمیں اپنے گھر، خاندان، دوستوں عزیزوں کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بھی برابری اور بہترین تعلقات رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے

    جب اللہ تعالٰی نے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں اپنے محبوب، خاتم النبیین محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سوچ میں پڑ گئے اتنے حقوق دیے گئے ہیں تو کہیں وراثت میں بھی حقدار نا بنا دیا جائے

    حدیث شریف کا مفہوم ہے جب تم اپنے گھروں میں کچھ پکاو تو اگر زیادہ استطاعت نا ہو تو سالن میں پانی زیادہ ڈال دیا کرو تاکہ اس سالن کا شوربہ ہی اپنے پڑوسی کو دے سکو

    آج کل ہم اپنے پڑوسیوں کی مدد یا خیال تو دور کی بات ہے ہم جانتے بھی نہیں ہمارے بغل میں کون رہتا ہے
    کیسے حالات سے گزر رہا ہے
    ہمیں تو اپنے گھروں سے فرصت نہیں ملتی آج کل
    موجودہ دور میں ہم اپنے گھروں میں بھی کئی کئی دن اپنے گھر والوں سے نہیں مل پاتے
    دنیا کے پیچھے لگ کر ہم نے اپنی زندگی کو اتنا مصروف اور پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی ہم کیا کر رہے ہیں

    حضرت ابوشریح خزاعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جواللہ اورقیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اُسے چاہئے کہ وہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے
    (مسلم شریف )

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جوشخص اللہ اوراس کے رسول پر ایمان رکھتاہے اُسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے
    (مسلم شریف )

    عبدالرحمن بی ابی قراد نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کسی کو یہ بات پسند ہو کہ وہ اللہ اوراس کے رسول کا محبوب بنے تووہ اپنے پڑوس والوں کے ساتھ حسن سلوک کامعاملہ کرے

    پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار ہا اپنی محافل میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ذکر کیا اور پڑوسیوں کے حقوق پوری طرح پورے کرنے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے
    آج ہم اہنا محاسبہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے ہم کیا کھڑے ہیں
    ہمیں کیا کرنا چاہئے اور ہم کیا کر رہے ہیں

    آئیں آج سے سب مل کر اس بات کا اعادہ کریں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے پڑوسیوں کے حقوق پوری طرح ادا کر سکیں

  • بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی.تحریر :ماشا نور

    بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی.تحریر :ماشا نور

    ہمارے بہت سے گھروں میں بیٹیوں کو یہ بات بتائی جاتی ہے روٹی بنانا سیکھ لو ورنا سسرال جاکر مار کھاؤ گی شروع سے ہی بیٹیوں کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے انکو بات بات پر یہ سنے کو ملتا "پرائے گھر کی امانت ہو اپنے گھر جاکر کرنا جو کرنا ہے” جبکہ سسرال میں بہو بن کر اس سے زیادہ مشکل جمعلے سنے پڑتے "ماں نے کچھ سکھا کر نہیں بھیجا” کیوں ہم بیٹیوں سے یہ امید لگاتے ہیں کے وہ ہر کام چھوٹی سی عمر میں باخوبی سرانجام دیں ہم انکی تعلیم پر بات کیوں نہیں کرتے بیٹی کو پڑھانے اس کو بیٹے کے برابر کھڑا کیوں نہیں کرتے اس لیے کے وہ دوسرے گھر کی امانت ہے وہ ہمیں کماکر نہیں کھلائے گی بڑھاپے کا سہارا نہیں بنے گی تو معذرت کے ساتھ ان ماں باپ سے جن کی یہ سوچ ہے کے بیٹی بوجھ ہےاگر بیٹے بھی تو لاوارث چھوڑ دیتے ہیں ایسے ماں باپ کو پوچھتے نہیں جیسا آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے ہم روانہ ہی ایسے کتنے کیسز دیکھتے ہیں جس میں جوان جہاں اولاد ماں باپ کو مار پیٹ رہے ہوتے ہیں گالیاں دیتے ہیں "جن ماں باپ کو اف تک کرنے سے منہ فرمایا گیا” وہی مان باپ کو اولاد گندی گندی گالیاں دیتی ہے کیوں ؟کیوں کے ہم نے اولاد کی تربیت میں کمی رکھی ہم نے بیٹے کو راجا مہاراجا کی طرح ناز نخرے اٹھائے لیکن بیٹی کو بوجھ سمجھ کر گھر کی چار دیواری میں رکھا اسکی تعلیم روکی حالانکہ بیٹی وہ ہے جو والدین کی تکلیف پر ان سے زیادہ آنسو بہاتی ہے ہر ممکن کوشش کرتی کے کیا کروں ایسا کے ماں کی آنکھ میں آنسو ناائے ماں باپ کی عزت کا بوجھ اپنے نازک کندھوں پر رکھے وہ ہنستے مسکراتے سب سہہ جاتی ہے

    جن گھروں میں بیٹیاں ہوتی ہیں وہ گھر جنت ہے بیٹی کی ہنسی سے سارا گھر روشن ہوجاتا ہے اس کے نازک ہاتھوں میں کانج کی چوڑیاں دیکھ کر دل خوش ہوجاتا ہے اسکے معصوم سے چہرے کو دیکھ کر کام سے آئے باپ کی سارا دن کی تھکن اتر جاتی باپ کا غرور ہے بیٹی ماں کا مان ہے بیٹی
    بیٹی ماں باپ کے دکھ میں ہمسفر ہے مجھے یاد ہے آنکھوں دیکھا حال کے اک ماں ہسپتال میں بستر پر پڑی تھی اور بیٹی وہی نیچے اپنی چادر پھیلائے اللہ سے رو رو کر دعائیں کررہی تھی دل چیر دیا تھا اس لمحے نے کوئی انتہائی سخت دل ہوگا جس نے اس لمحے کو دیکھ کر آمین نا کہا ہوگا پھر بیٹی بوجھ کیسے ہوسکتی ہے بیٹی تو رحمت ہے

    اگلا مرحلہ سسرال میں اسکے لیے اور کھٹن ہوتا ہے سب کے دل جیتنا شوہر ساس سسر نند دیور سمیت پورے گھر کو ساتھ لے کر چلنا سب کی ضرورتوں کا خیال رکھنا چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنا گھر کی یاد آئے تو کچن میں جاکر آنسو بہا لینا یہ سب ایک بیٹی کرتی ہے قسمت اچھی ہو تو سسرال والے اچھے مل جاتے جو بہو نہیں بیٹی کی طرح رکھتے گھر کے فیصلوں میں بہو کی رائے لی جاتی اسکے جائز حقوق دیے جاتے ایسی لڑکی میں اعتماد پیدا ہوتا ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت اچھی کرتی ہے جہاں ذہنی سکون ہو وہاں عورت تنگی بھی ہنس کر برداشت کرلیتی ہے دوسری طرف پیسے کی بارش ہو مگر رشتوں میں اعتبار بھروسہ ایک دوسرے کی خوشی کی فکر نا ہو وہاں دم گھٹتا ہے ہم اپنی بیٹوں کو اگر یہ سیکھانے کے بجائے کے تم نے آگے جاکر سسرال سمنبھالنا ہے انکو تعلیم دلوائیں ان کو زندگی میں کیا کرنا ہے یہ پوچھیں تو بہت سی بیٹیاں سسرال جاکر ظلم سے بچ سکتی ہیں اس کے ساتھ ہی والدین کو چائیے اپنی اولاد کو مذہبی تعلیم ضرور دیں تاکہ انکو اچھے سے معلوم ہو کے ہمارے مذہب میں عورت مرد کے جائز حقوق کیا ہے اور حدود کیا ہے وہ خود اپنی زندگی میں بہتر فیصلے لیں اللہ پاک ہر بیٹی کا نصیب اچھا کرے اسکو ایسی ہمت دے کے وہ معاشرے کے لیے مثال بنے اور اپنی نسل کو بہترین انسان بنائے
    آمین

  • عوام کی محبت، پاک فوج کی طاقت. تحریر  عمالقہ حیدر

    عوام کی محبت، پاک فوج کی طاقت. تحریر عمالقہ حیدر

    عمران خان کی امریکی صدر جوبائیڈن کو منہ توڑ جواب نے امریکہ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور امریکہ کا تھنک ٹینک اب اس نتیجہ پہ پہنچا ہے کہ اب پاکستان ہاتھ سے نکل چکا ہے، جہاں ڈو مور کی صدا پاکستان کو لبیک کہنے پر مجبور کر دیتی تھی اب نو مور کی جوابی کڑک دار آواز امریکہ کو پورے دنیا میں رسوا کر رہی ہے، پوری دنیا اس بات پہ حیران ہے کہ امریکہ سپر پاور ہو کے بھی پاکستان سے ابھی بات منوانے میں ہر دن کمزور سے کمزور ہوتا جا رہا ہے، ادھر پاکستانی کی روس سے گہری دلچسپیاں افغانستان میں امریکہ کے لئے نے نئے انداز میں قبرستان بنا رہیں ہیں اس لئے روس پاکستان کا یہ اتحاد امریکہ کے لئے درد سر بن کے رہ گیا ہے، اور ساتھ چاینہ کی نوازشات امریکہ کے لئے اک عذاب سے کم نہیں ، خطہ کی لمحہ لمحہ بدلتی صورت اللہ کے فضل سے پاکستان کے حق میں جا رہی ہے۔ لیکن امریکہ پہلے بھی پاکستان کے نقصان میں تھا اور اب تو امریکہ نے سر گرمیاں اور تیز کر دی ہیں، امریکہ کی ہر بار کی ابلیسی مجلس پاک فوج کے امیج کو نقصان پہنچانے پہ ہوتی ہے لیکن ہر بار پاک فوج کا روشن چراغ امریکی ہواؤں سے نہیں بجھ سکا،

    اب امریکہ کی ساری سازشوں کا نچوڑ یہ نکلا ہے کہ امریکہ اپنی ایجنسیوں کے ذریعے پاکستان میں وہ مخصوص طبقہ خرید رہی ہے جن کی جڑیں پاکستان میں ہر سو پھیلی ہوئ ہیں ان کے ذریعے پاک فوج کے خلاف اربوں روپے کی لاگت سے تیار کمپین چلائی جا رہی ہے اور ہم آئے روز میڈیا اخبار اور خاص کر سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں، کئی عناصر پاک فوج کے خلاف اعلانیہ بھونک رہے ہیں اس کی مثال کراچی کا مگر مچھ سامنے ہے، اور سوشل میڈیا پر آئے روز شدت سے اپنا مکروح دھندہ جاری کئے ہوئے، جن کا مقصد پاک فوج کے خلاف مذموم سازشیں ہیں.

    آپ اس پر غور کر سکتے کہ اچانک منظور پشتیں کہیں سے نکل آتا ہے اور کہیں سے اچکزئی نظریہ انگڑائی لینا شروع کر دیتا ہے اور کبھی تو بلوچستان میں پاک فوج خلاف نعرہ بازی شروع ہو جاتی اور ماشاءاللہ کچھ سیاست دانوں کا تو ویسے بھی یہی اول و آخر مشن جاری ساری ہے،

    ہر ملک کی افواج کی طاقت اسکی عوام کی محبت سے ہے جب تک عوام الناس فوج کے ساتھ ہوں ہزار سپر پاور بھی اس فوج کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس لئے ہر صوبے میں پاک فوج کو کسی نہ کسی صورت ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے،

    یاد رہے ہر مسلم ملک جس کی فوج کمزور تھی اس کی حالت ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں وہاں عزتیں غارق ہو گئی ہیں، بھوک و افلاس نے ڈیرے جما رکھے ہیں، امن شانتی کا نام تک نہیں بچا، بچوں کا مستقبل تباہ کے رہ گیا ہے، اور ان مسلم ممالک کا قصور یہ تھا کہ وہ مسلمان تھے اور فوج کمزور رکھتے تھے،۔
    دوستوں بھائیوں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف اک جنگ جاری ہے آپکا اک کومنٹس اور آپکا اک لائیک بہت معنی رکھتا ہے، اسلئے ایسا کوئ پیج یا پکچر سامنے آ بھی جائے جو پاک فوج کے خلاف ہو تو اسے رد کریں اور اپنی پاک فوج کے ساتھ محبت کا اظہار کریں یہی وہ فوج جس کے حصہ میں غزوہ ہند آئے گی اور انشاء اللہ عوام کی محبت سے اور پاک فوج کی طاقت سے اسلام کا جھنڈا دنیا کے کونے کونے میں نظر آ ہے گا، اور پاک فوج کے دشمن پہلے بھی ذلیل و رسواء ہوئے ہیں اور اب بھی ہوں گے

  • انسان کیا ہے؟ :تحریر مبین خان

    انسان کیا ہے؟ :تحریر مبین خان

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​

    یاایہا الناس انتم الفقراءالی اللّٰہ واللّٰہ ھو الغنی الحمید (فاطر: ١٥)
    ”لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اللہ ہی ہے جو بے نیاز ہے اور آپ اپنی ذات میں حمد کے لائق“۔

    عزیز دوستوں!۔
    فقر بندگی کا ایک زبردست موضوع ہے۔ بلکہ فقر ہی بندگی ہے۔ انسان کیا ہے؟ محتاجیوں اور ضرورت مندیوں کا مجموعہ۔ اپنی یہ حقیقت پہچاننا، اس کا اعتراف اور احساس کرنا بندگی کا ایک زبردست عمل ہے۔ دوسری طرف اللہ کو ہر ضرورت سے بے نیاز اور ہر نقص سے مبرا جاننا اور یوں اللہ کو خود اس کی ذات میں قابل ستائش مان کر اس کی حمد کرنا عبادت کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔

    ان دونوں باتوں میں براہ راست تعلق ہے۔ جس قدر انسان اپنے فقر اور احتیاج کا احساس کرتا ہے اتنا ہی وہ اللہ کی بے نیازی کا معترف ہوتا اور اس کی مطلق حمد کا دم بھرتا ہے۔ جس قدر وہ اللہ کے غنی اور بے نیاز ہونے کی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے اتنا ہی وہ اپنی اور سب مخلوق کی اللہ کے آگے محتاجی اور ضرورت مندی کا معترف ہوتا ہے اور اسی قدر اس پر خالق اور مخلوق کی حقیقت کا یہ فرق واضح ہو جاتا ہے۔ نہ صرف خالق اور مخلوق کا یہ فرق ظاہر ہوتا ہے بلکہ خالق اور مخلوق کا یہ تعلق بھی واضح ہوتا ہے۔ ایک بے نیاز اور دوسرا اس کامحتاج۔ ایک غنی اور دوسرا اس کے در کا فقیر۔

    چنانچہ آدمی کا اپنے آپ کو فقیر اور محتاج جاننا اور اللہ کے غنی اور بے نیاز ہونے کا معترف ہونا ایک محنت طلب کام ہے اور دل کا ایک مسلسل عمل۔

    البتہ انسان بہت جلد بھول جانے والا ہے۔ اِس کی ضرورت پوری ہو تو یہ اپنا فقر بھول جاتا ہے۔ اس کی مراد برآئے تو یہ اپنی یہ حقیقت کہ یہ محتاجیوں کا مجموعہ ہے اس کی نگاہ سے ہی روپوش ہو جاتی ہے۔ ایک شکم سیر کو ’بھوک‘ کا تصور کرنا بہت ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ پیٹ بھرا نہیں کہ ضرورت مندی کا تصور ہی چلا گیا! اب جب تک دوبارہ بھوک نہیں لگتی یہ بھلا چنگا ہے! یہ لمحہء حاضر کا اسیر جاہل محظ ہے ظلوم اور جہول۔ تب اس میں تونگری اور بے نیازی آتی ہے جو کہ دراصل اللہ کی صفت ہے اور صفتِ بندگی کے سراسر منافی۔ انسان کا بے نیاز ہونا اور اپنے آپ کو غیر ضرورت مند جاننا دراصل اپنی اوقات بھول جانا ہے۔ یہ دہری جہالت ہے۔ ایک اس کا اپنے آپ کو محتاج نہ جاننا او دوسرا کسی مہربان کے ہاتھوں اپنی ضرورت پوری ہو جانے کو بے نیازی کے مترادف جان لینا۔ جو اپنی صفت سے ناآشنا رہے وہ اللہ کی معرفت بھی کبھی نہیں پاتا۔ اپنی ’بندگی‘ اور ’عاجزی‘ سے ناواقف اللہ کی ’خدائی‘ اور ’بے نیازی‘ کا کیونکر معترف ہوگا! ایسے آدمی کی نگاہ میں ’بندگی‘ اور ’خدائی‘ کے مابین بہت ہی تھوڑا فرق رہ جائے گا جو ممکن ہے کہ پلک جھپکنے میں جاتا رہے۔ شرک کر لینا بھی لوگوں کیلئے تبھی آسان ہو جاتا ہے۔

    اسلامی عبادات ساری کی ساری دراصل اسی فقر کا اظہار ہیں۔ مخلوق کی اسی صفت کا اقرار ہیں۔ بندگی کا ہر عمل اللہ کے غنی مطلق اور لائق حمد ہونے کا اعتراف ہے۔ نماز ہے تو تب دُعا ہے تو تب۔ تسبیح ہے تو تب اور ذکر ہے تو تب۔ سب اسی حقیقت کا اعادہ ہے۔ البتہ روزہ اس حقیقت کا ایک بہت ہی منفرد اظہار ہے۔ روزہ ایک موحد کی زبان پر اس کے اس فقر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روزہ کی صورت میں ایک موحد کا رواں رواں یہ بولتا ہے کہ وہ مجسم احتیاج ہے اور اس ذات کا سدا محتاج جو ہر عیب سے پاک، ہر ضرورت سے بے نیاز، غنی مطلق، لائق حمد اور احد اور صمد ہے اور جس کے آگے ہر مخلوق اپنی ضرورت کیلئے دست سوال درازکرتی اور ایک اسی کے فضل کے سہارے جیتی ہے اور جس کے در کا یوں محتاج ہونا کہ اس کی محتاجی اس کے ماسوا ہر ہستی سے اس کو بے نیاز کردے نہ صرف فضیلت کی بات ہے بلکہ انسان کی اصل دولت اور سرمایہء افتخار ہے۔ پس روزہ ایک انداز کی تسبیح ہے۔ یہ اپنے فقر کا بیان ہے اور خداکے بے عیب اور بے نیاز ہونے کا اقرار اور اس کے فضل کا اعتراف اور اس کی احسان مندی کا اظہار اور اس کی دین پر قناعت اور اس سے مانگنے کا ایک اسلوب۔

    چنانچہ روزہ اس صفت بندگی کا اقرار ہے۔ یہ انسان کے فقر کا بیان ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ بندہ بھوکا ہے _ اور بھوک بندے کی صفت ہے _ جب تک کہ اللہ اس کو نہ کھلائے اور یہ کہ پاکی اور تعریف اس کی جو اس کی اس بھوک کا علاج اپنے پاکیزہ رزق سے کرتا ہے اور یہ کہ تعریف اس کی تب بھی جب بندہ بھوکا ہو اور تعریف اس کی تب بھی جب بندہ اس کا رزق کھائے اور اس رزق سے اپنی بھوک اور پیاس بجھائے۔ سو یہ ایک بے لوث تعلق ہے۔ گو یہ ایک محتاج اور ایک غنی کا تعلق ہے اور گو یہ اس کے فضل کا ہر دم سوالی ہے مگر اس کو یہ ظرف بھی نصیب ہوا ہے کہ اِس کیلئے اُس کی تعریف کرنا کچھ پیٹ بھرنے پر موقوف نہیں! سبحان اللہ روزہ کیسی خوبصورت عبادت ہے! اللہ کی تسبیح، اللہ کی بندگی، اللہ کی حمد اور اللہ کی فرمانبرداری کچھ اِس کی شکم سیری پر منحصرنہیں۔ یہ بھوکا رہ کر بھی اس کی ویسی ہی حمد اور تعریف کرے گا جیسی کہ شکم سیر ہو کر۔

  • فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    بھارت میں 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق چند دن قبل ایک بھارتی لڑکی کے بھائی اور ان کی سہیلی نے ان کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر اخبارات میں رشتے کے لیے ایک اشتہار شائع کروایا۔

    رپورٹ کے مطابق مذکورہ اشتہار مزاحیہ تھا اور مذاق میں ہی دیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کو شادی کے لیے 25 سے 28 سال کے امیر لڑکے کی تلاش ہے۔

    مذکورہ اشتہار بھارت کے متعدد چھوٹے اخبارات میں شائع کروایا گیا اور یہ اشتہار انگریزی زبان میں شائع کروایا گیا اشتہار میں بتایا گیا کہ سوشل سیکٹر میں ملازمت کرنے والی 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کو جس کے بال چھوٹے ہیں اور ناک بھی چھیدی ہوئی ہے، اسے شادی کے لیے 25 یا پھر زیادہ سے زیادہ 28 سال کی عمر کے لڑکے کی تلاش ہے۔

    اشتہار میں دولہے کی دیگر شرائط میں لکھا گیا تھا کہ اس کے پاس پیسہ ہونا چاہیے، کم از کم 20 ایکڑ رقبے پر فارم ہاؤس ہونا چاہیے اور یہ کہ اسے زیادہ سے زیادہ ایک بیٹا ہے جس کا اچھا کاروبار بھی ہونا چاہیے ساتھ ہی اشتہار میں ایک ای میل ایڈریس دیا گیا تھا کہ جس پر امیدواروں کو رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
    https://twitter.com/awryaditi/status/1404665961718841347
    مذکورہ اشتہار اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جب کہ ایک کامیڈین اداکارہ نے اسے ٹوئٹ کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے اسے ری ٹوئٹ کرنا شروع کردیا بہت سارے دیگر لوگوں کی طرح اس اشتہار پر بالی وڈ کی اداکارہ رچا چڈھا نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا تاہم اس اشتہار کے پیچھے کون لوگ ہیں اس متعلق انڈیا میں خاصی چہ میگوئیاں ہوئیں اور یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا یہ اشتہار درست بھی تھا۔
    https://twitter.com/RichaChadha/status/1404693333599920130?s=20
    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اشتہار شائع کروانے والی لڑکی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے بھائی نے ان کی 30 ویں سالگرہ پر مذاق کے طور پر مذکورہ اشتہار شائع کروایا، کیوں کہ بھارت میں عام طور پر جب کسی لڑکی کی عمر 30 سال ہوجاتی ہے تو اس پر شادی کے لیے دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ انہیں ای میل پر کم از کم 60 ای میل موصول ہوئے ہیں، جن میں انہیں جہاں شادی کی پیش کش کی گئی، وہیں ان پر سخت تنقید بھی کی گئی کہ خود زیادہ عمر کی ہیں مگر انہیں لڑکا کم عمر چاہیے۔

    ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق حیران کن انکشافات

    مذکورہ لڑکی کے مطابق بعض افراد نے انہیں’سونے کی متمنی‘ اور ’منافق‘ تک کہا کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہیں مگر پھر بھی ایک امیر خاوند کی تلاش میں ہیں ورامیر لڑکے سےشادی کرنے کے بجائے خود پیسے کمانے کے مشورے بھی دیئے جب کہ بعض خواتین نے انہیں فیمنسٹ ہونے کی وجہ سے بھی غصے سے بھرپور ای میل کیے-

    کچھ لوگوں نے اس کے اشتہار کو ’زہریلا‘ قرار دیا اور یہ کہ وہ خود تو فربہ لگتی ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ تمام فیمنسٹس بے وقوف ہوتے ہیں۔ ایک خاتون تو اس قدر ناراض ہوئیں کہ انھوں نے دھمکی دی کہ میرا بھائی مذکورہ لڑکی کو 78 ویں منزل سے نیچے پھینک دے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں جہاں اب بھی 90 فیصد شادیاں ارینجڈ یعنی بغیر پسند کے ہوتی ہیں تو ایسے میں ہر کوئی ایک امیر دولہا چاہتا ہے اس اشتہار میں یہ دیکھنے کے لیے بہت سے لوگوں کو مشتعل کیا گیا اور وہ مشتعل ہو بھی گئے۔

    مزکورہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس اشتہار نے بہت سے لوگوں کی انا کو نقصان پہنچایا ہے ن کے مطابق آپ ایسی باتیں اونچی آواز میں نہیں کہہ سکتے۔ مرد ہر وقت ایک دراز، سمارٹ اور خوبصورت دلہنیں مانگتے ہیں۔ وہ اپنی دولت کے بارے میں شیخیاں بھگارتے ہیں۔ مگر جب صورتحال بدلتی ہے تو پھر وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ ایک عورت اس طرح کا معیار کیسے طے کر سکتی ہے۔

    لڑکی کا کہنا ہے کہ یہ اشتہار اس صورتحال پر ایک طنز تھا اور میرے خیال میں اس اشتہار پر وہی لوگ خفا ہوئے ہیں جنھیں ایسے اشتہارات میں ایسی سمارٹ، خوبصورت بیگمات کی تلاش ہوتی ہے۔

    اور جو اس طنز پر بھی مشتعل ہوئے ہیں ان سے لڑکی کا ایک سوال ہے کیا آپ روزانہ اخبارات میں ایسے اشتہارات پڑھنے کے بعد ایسی ای میلز تمام ایسی مطلوبہ دلہنوں کو بھی بھیجتے ہیں جو انتہائی پرکشش اور امیر ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ کو یہ پدرشاہی ختم کرنی ہو گی۔

  • دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس

    دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں دلہن نے شادی سے انکار کردیا کیونکہ اس کے ہونے والے شوہر کی نظر اتنی زیادہ کمزور تھی کہ وہ چشمے کے بغیر اخبار بھی نہیں پڑھ سکتا تھا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق خبروں کے مطابق، اتر پردیش کے علاقے صدر کوتوالی میں قصبہ جمال پور ے ارجن سنگھ نے اپنی بیٹی ’ارچنا‘ کی شادی اور قصبہ بنشی کے ’شیوم‘ سے طے کی تھی اور دونوں کے گھر والے تیاریوں میں مصروف تھے۔

    رشتہ طے کرتے وقت لڑکے کی تعلیم کو اولیت دی گئی۔ شِیوم مقررہ وقت پر بارات لے کر پہنچا تو اس کی عینک اس کی شادی میں رکاوٹ بن گئی۔

    شادی کی تقریبات میں دلہن کے گھر کی عورتوں نے دیکھا کہ دولہا نے زیادہ تر وقت چشمہ لگایا ہوا تھا جس پر انہیں اندازہ ہوا کہ شاید وہ چشمے کے بغیر ٹھیک سے نہیں دیکھ سکتا۔

    رشتہ طے کرتے وقت لڑکے والوں نے یہ بات نہیں بتائی تھی، لہذا ان عورتوں نے عین شادی والے دن دولہا کا ’’امتحان‘‘ لینے کا فیصلہ کیا۔

    تاہم دلہن نے بھی دولہا کو عینک میں دیکھا تو کہا کہ وہ کمزور نظر کے آدمی کے ساتھ شادی نہیں کرسکتی۔ دلہن نے شرط رکھی کہ اگر دولہا بنا عینک کے اخبار پڑھ دے تو وہ شادی کرلے گی۔

    شِیوم نے دلہن کی شرط پوری کرنے کی پوری کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام ہوگیا۔دلہن کے اس طرح انکار پر باراتیوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو دلہن کے گھر والوں نے بارات کو ہی خالی ہاتھ واپس لوٹادیا۔

    اس کے بعد انہوں نے مقامی تھانے میں دولہا کے گھر والوں کے خلاف شکایت بھی درج کروا دی جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں دولہا کی اس ’’خرابی‘‘ کے بارے میں نہ بتا کر دھوکا دیا گیا جبکہ دولہا والے شادی کے انتظامات پر دلہن والوں کے اخراجات کی رقم، جہیز میں دی گئی بھاری نقدی اور دولہا کےلیے موٹر سائیکل سمیت دوسرا تمام ساز و سامان واپس کرنے سے انکاری ہیں۔

    شکایت درج کرنے سے پہلے مقامی پولیس نے یہ مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن دولہا والوں کے تعاون نہ کرنے پر پولیس میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

    لڑکی کے والد ارجن سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ لڑکے کی نظر اتنی کمزور ہوگی۔ جب میری بیٹی کو اس بارے میں پتا چلا تو اس نے فوراً شادی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا اور ہم نے بھی اس کا ساتھ دیا-

    بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

  • نیوز اینکر نے براہ راست نشریات کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا

    نیوز اینکر نے براہ راست نشریات کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا

    لیوکاسا : نیوز اینکر نے براہ راست نیوز بلیٹن کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرقی افریقا کے ملک زمبیا میں نجی ٹی وی چینل (کے بی این ) ٹی وی سے تعلق رکھنے والے نیوز اینکر کلیمینا کبیندا نے براہ راست نشریات میں تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا۔

    اینکر نے بلیٹن کے اختتام پر کہا ہم انسان ہیں، ہمیں تنخواہ دی جانی چاہیے، بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے، مجھے اور میرے کچھ ساتھیوں کو تنخواہ نہیں دی جا رہی، ہمیں تنخواہ ملنی چاہیے۔


    بعد ازاں کلیمینا کبیندا نے نیوز بلیٹن کا ویڈیو کلپ اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کردیا اور لکھا کہ ہاں میں نے لائیو ٹی وی پر ایسا کیا، کیونکہ بہت سے صحافی اس بارے میں بات کرنے سے گھبراتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں آواز نہیں اٹھانا چاہیے۔

    نیوز ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اپنےبیان میں اینکر کے الزامات کا جواب نہیں دیا سی ای او کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اینکر کلیمینا نشے کی حالت میں تھے-

    انہوں نے کہا کہ کے بی این نے ملازمین کی شکایات کے لیے ایک بہترین نظام بنا رکھا ہے جہاں کوئی بھی ملازم اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے، لیکن اینکر نے براہ راست بلیٹن میں ایسا کیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کی مزید تحقیقات کرائیں گے کہ اینکر کو نشے کی حالت میں نیوز بلیٹن کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔

  • یہ سائنسدان مینڈکوں کی آواز کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں

    یہ سائنسدان مینڈکوں کی آواز کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں

    سڈنی: آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل میں ایک 70 سالہ سینئر سائنسدان پروفیسر مائیکل ماہونی ہیں جو مینڈکوں سے باتیں کرنے کےلیے انہی کی طرح ’’ٹر ٹر‘‘ کرتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے "رائٹرز” کے مطابق آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل میں ایک 70 سالہ سینئر سائنسدان پروفیسر مائیکل ماہونی نے مینڈکوں کی طرح ٹرانےمیں مہارت حاصل کی ہے وہ مینڈکوں کی آوازوں کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں اور ٹرّا کر انہیں جواب دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور جب مینڈک ٹرّا کر انہیں جواب دیتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔

    پروفیسرمائیکل ماہونی نے”رائٹرز” کو بتایا کہ جب وہ مینڈکوں کو پکارتے ہیں اور انہیں جواب ملتا ہے تو انہیں خوشی ہوتی ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ مینڈک خاموش نہ ہوجائیں-

    5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر

    ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں مینڈکوں کی 240 انواع پائی جاتی ہیں مگر ان میں سے تقریباً 30 فیصد کی بقاء کو ماحولیاتی تبدیلیوں، بیماریوں، قدرتی پناہ گاہوں کی تباہی،سائٹرائڈ فنگس اور پانی کی بھیانک آلودگی سے شدید خطرہ لاحق ہے ماہونی نے کہا کہ عالمی سطح پر تمام خطوں میں ورٹیبریٹس میں سب سے زیادہ خطرہ مینڈکوں کو ہے۔

    70 سالہ پروفیسر ماہونی اپنے طویل کیریئر میں مینڈکوں کی 15 انواع بھی دریافت کرچکے ہیں۔ جبکہ انہوں نے مینڈکوں کی کچھ انواع کو ناپید ہوتے بھی دیکھا ہے-

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    ماہونی نے کہا ، "شاید میرے کیریئر کا سب سے افسوسناک حصہ یہ ہے کہ ایک نوجوان کی حیثیت سے ، میں نے ایک مینڈک کو دریافت کیا اور اس کے دو سال کے اندر ہی پتہ چلا کہ مینڈک ناپید ہو گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ "میں نے اپنے کیریئر کے شروع میں ہی اس سے آگاہی حاصل کرلی کہ ہمارے کچھ مینڈک کتنے کمزور ہیں۔ ہمیں اپنے رہائش گاہوں کو دیکھ کر یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا غلط ہے۔”

    انہوں نے کہا ، "ہم نے ان کے تباہ کن نقصان کے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے جو کچھ کیا وہ آسٹریلیائی مینڈکوں کے لئے پہلا جینوم بینک قائم کرنا ہے۔”

    ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے دریافت کیا کہ 2019 اور 2020 میں آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے تقریباً تین ارب جانور ہلاک ہوئے تھے جن میں کم از کم پانچ کروڑ مینڈک بھی شامل تھے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    اس عمر رسیدگی میں بھی ماہونی اپنے شاگردوں کو مینڈکوں سے بات کرنے کے طریقے اور انہیں آواز لگانا سکھاتے ہیں۔ البتہ ماہونی یا ان کے شاگردوں میں سے کوئی بھی مینڈکوں کی زبان سمجھنے کا دعویدار نہیں۔

    ماہونی کے تحفظ کے اس جذبے نے ان کے طلباء کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ ان میں سے ایک ، سائمن کلو نے ، 2016 میں ماہونی کے اعزاز میں ایک نئے دریافت مینڈک کا نام "ماہونی ٹاڈلیٹ” رکھا تھا۔

  • مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل  ایریا میں 2 دھماکے

    مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2 دھماکے

    مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2دھماکے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2دھماکے ہوئے دھماکہ کےباعث عمارت کی چھت تباہ ہوگئی جبکہ جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے-

    بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکےکےوقت ایئرپورٹ پرایک اعلیٰ سطح اجلاس جاری تھا-