Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ سے اپنی مرمت خود کرنے والا کنکریٹ

    ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ سے اپنی مرمت خود کرنے والا کنکریٹ

    امریکی سائنسدانوں نے ایسا کنکریٹ ایجاد کرلیا ہے جو ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے اپنی ان دراڑوں کی خود ہی مرمت کرلیتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑی ہوتی جاتی ہیں اور بالآخر کسی بڑی تباہی کی وجہ بن سکتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: ’اپلائیڈ مٹیریلز ٹوڈے‘‘ نامی ریسرچ جرنل میں شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق کنکریٹ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مواد ہے اور یہ 8٪ عالمی کاربن کے اخراج کے لئے ذمہ دار ہے۔

    یہ فطری طور پر آسانی سے ٹوٹنے والا ہے ، اور اس کے لئے بار بار مرمت یا متبادل کی ضرورت ہوتی ہے ، جو مہنگا ہوتا ہے اور بڑی مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔ مارٹر اور ایپوکسیز جیسے ایجنٹوں کی مرمت کے موجودہ طریقوں کے نتیجے میں مادی عدم مطابقت کی وجہ سے کم طاقت اور لچک پیدا ہونے والی ڈھانچے کا نتیجہ ہوتا ہے ، لہذا ، اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے ایک ماحول دوست سیمنٹ پیسٹ ایجاد کیا گیا ہے-

    رپورٹ کے مطابق وورسیسٹر پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر نیما راہبر اور ان کے ساتھیوں نے یہ کنکریٹ انسانی خون میں پائے جانے والا ایک انزائم)استعمال کرتے ہوئے ایجاد کیا ہے-

    تجربات کے دوران اس کنکریٹ نے فضائی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہوئے اپنی دراڑیں اور چھوٹے موٹے سوراخ 24 گھنٹے میں خودبخود بند کردیئے۔

    پروفیسر راہبر کے مطابق، بہتر کنکریٹ بنانے کی کوششوں میں انہیں انسانی خون میں پائے جانے والے ایک عام انزائم ’’کاربونک اینہائیڈریز‘‘ (سی اے) کے بارے میں معلوم ہوا جو خلیوں میں جمع ہوجانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بہت تیزی سے نکال باہر کرتے ہوئے خون کے بہاؤ میں شامل کردیتا ہے، تاکہ وہ سہولت سے خارج ہوسکے۔

    فوٹو بشکریہ سائنس ڈائریکٹ

    یہی انزائم کنکریٹ کے سفوف میں شامل کیا گیا، جسے بعد ازاں پانی اور دوسرے اجزاء شامل کرکے حتمی شکل دی گئی۔ تجربات کے دوران ’’سی اے‘‘ انزائم نے کنکریٹ سے بنی اینٹوں میں ایک ملی میٹر جسامت والی دراڑوں اور سوراخوں کو 24 گھنٹے میں مکمل طور پر بند کردیا جبکہ اینٹوں کی مضبوطی بھی برقرار رہی۔

    اس سے پہلے کنکریٹ کو خودکار طور پر اپنی مرمت کرنے کے قابل بنانے کےلیے خاص طرح کے جرثوموں (بیکٹیریا) استعمال کیے جاچکے ہیں لیکن ایسے طریقوں میں کسی چھوٹی دراڑ کے پُر ہونے میں بھی ایک مہینہ لگ جاتا تھا جبکہ یہ طریقے بہت مہنگے بھی ثابت ہوئے۔

    ’’سی اے‘‘ انزائم والے کنکریٹ میں جب کوئی دراڑ پڑتی ہے تو یہ انزائم ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کیمیائی عمل کرکے کیلشیم کاربونیٹ (چونے) کی قلمیں بناتا ہے جو کنکریٹ جیسی ہی مضبوط ہوتی ہیں۔

    یہ قلمیں سوراخ یا دراڑ کو تیزی سے پُر کرتے ہوئے وہاں مضبوطی سے جم جاتی ہیں اور یوں کنکریٹ کی پائیداری بھی متاثر نہیں ہوتی۔

    پروفیسر راہبر نے اندازہ لگایا ہے کہ ان کی وضع کردہ ٹیکنالوجی سے تعمیرات میں استعمال ہونے والے کنکریٹ کی پائیداری میں 20 سے 80 سال تک کا اضافہ کیا جاسکے گا؛ جبکہ کنکریٹ کی صنعت سے وسیع مقدار میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی (دوبارہ جذب کرتے ہوئے) مناسب حد تک کم کی جاسکے گی۔

    فی الحال یہ ٹیکنالوجی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے لہذا یہ بتایا نہیں جاسکتا ہے کہ اسے صنعتی پیمانے تک پہنچنے میں کتنے سال لگیں گے، اور اس طرح بننے والے کنکریٹ کی لاگت کتنی ہوگی۔

  • چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مغربی ممالک ، تحریر: نوید شیخ

    چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مغربی ممالک ، تحریر: نوید شیخ

    کل امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، جاپان اور اٹلی نے جی سیون کے پلیٹ فارم سے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ جس کے بعد ایک بار پھر مغرب اور مشرق آمنے سامنے آچکے ہیں کیونکہ اس میں واضح ٹارگٹ چین اور روس تھا ۔ جبکہ چین پر تو ایک طرح سے مغرب نے charge sheet لگانے کی کوشش کی ۔ کہ چین سے وائرس کیسے شروع ہوا ۔

    چین میں ایغور مسلمانوں پر ظلم کیوں ہورہا ہے ۔تائیوان اور بھارت کے حوالے سے چین کا رویہ جارحانہ ہے ۔چین کے نظام میں شفافیت نہیں ہے ۔ اور سب سے اہم چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو بڑے کھلے الفاظ میں نشانہ بنایا ہے ۔ اب انھوں نے چین کے مقابلے میں ایک نیا منصوبہ لانے کا اعلان کیا اور اس OBOR (One Belt One Road)منصوبے کے مقابلے میں بڑے جارحانہ انداز میں پیش کیا جارہا ہے ۔ اس پر چین کی جانب سے تو بہت ہی سخت درعمل سامنے آیا ہے ۔ دراصل جی سیون ممالک نے ترقی پذیر ممالک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے سرمایہ کاری کے ایک ایسے منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے جس کا مقصد چین کے بڑھتے عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر رہنماؤں نے چین کے خلاف سٹریٹیجک مقابلے کے موضوع پر بات چیت کی ہے جس کے بعدbuilt back better world ya B3W یعنی عالمی سطح پر تعمیر نو کے ایک نئے منصوبے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔

    ۔ اب جی سیون کے ترقی یافتہ جمہوری ممالک 400 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ترقی پذیر دنیا میں انفراسٹرکچر تعمیر کریں گے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ بیجنگ نے دنیا کے کئی ممالک میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے مغرب کا ماننا ہے کہ چین نے ترقی پذیر اور غریب ممالک کو مقروض کیا ہے اور وہ یہ قرض واپس نہیں کر سکیں گے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی چین پر سنکیانگ صوبے میں جبری مشقت اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی الزام عائد کرتے ہیں۔اس جی سیون کے اعلامیہ میں بھی اس جانب اشارہ کیا گیا ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو اس سال کے آغاز میں امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا نے چین کے خلاف مل کر مختلف پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ان میں سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے افسران کے خلاف سفری پابندیاں، اور ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنا شامل تھا ۔ چند ہفتے قبل بھی امریکہ نے مزید چینی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا تھا ۔ اور کئی چینی کاروباری حضرات پر مختلف نوعیت کی پابندیاں لگائی تھیں ۔ جبکہ چین نے اپنے خلاف لگنے والی پابندیوں کے جواب میں یورپی حکام پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

    ۔ چین نے حالیہ اعلامیہ کے بعد جی سیون کے عالمی رہنماؤں کو ورننگ دی ہے کہ وہ دن گئے جب چھوٹے ممالک کے گروہ دنیا کی قسمت کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چھوٹے، بڑے، مضبوط، کمزور، امیر اور غریب ہر طرح کے ملک برابر ہیں۔ اور یہ کہ عالمی امور پر تمام ممالک کی مشاورت کے بعد فیصلے ہونے چاہئیں۔

    ۔ یہ درحقیقت ایک پلان کا حصہ ہے کیونکہ امریکی صدر جوبائیڈن اپنے پیش رو ٹرمپ کی طرح سمجھتے ہیں کہ مغربی طاقتوں کو فوری طور پر چین کے خلاف اتحاد مضبوط کرنا ہوگا۔ مگر جوبائیڈن کا طریقہ واردات ٹرمپ سے مختلف ہے ۔ جوبائیڈن اچھی اچھی باتیں کریں گے ۔ امیج اپنا اچھا رکھیں گے ۔ مگر چین کے خلاف سازش کرنے کا کوئی موقع نہیں جانے دیں گے ۔ سیاسی ، معاشی اور دفاعی ہر جانب سے چین کو کاری ضرب لگانے کی کوشش کریں گے ۔۔ مغرب کے خیال میں صدر بائیڈن کا build back better world منصوبہ چین کی ایک ایسی سکیم کا حریف بنے گا جس کی مدد سے کئی ملکوں میں ٹرین، سڑکیں اور بندرگاہیں بنائی گئی ہیں۔ میرے خیال سے امریکہ بڑی ہوشیاری اور تیزی سے چین کا راستہ بند کرنے پر لگا ہوا ہے ۔ اگر آپ دیکھیں تو اس کی ابتداء وباء کے پھوٹنے کے بعد چین پر لگنے والے الزامات تھے ۔ امریکہ کی چین کے خلاف ٹریڈ وار تھی ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ کیسے امریکہ نے چین کے خلاف QUADگروپ کو منظم کیا ۔ بہت سے ایسے ممالک جہاں چین اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت بندگاہیں تعمیر کر چکا ہے یا کررہا ہے ۔ ان سب کو امریکہ نے کسی نہ کسی طرح engage کر لیا ہے یا کرنے کی کوشش میں ہے ۔ اس کی واضح مثال پاکستان ہے ۔ ایران ہے ، سری لنکا ہے اور بنگلہ دیش ہے ۔ جن پر اس وقت امریکہ کا سخت پریشر ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ چین کے منصوبے سے الگ ہوجائیں ۔

    ۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ مختلف محاذوں پر ناکامی کے بعد امریکہ اپنے اصل ازلی اتحادیوں کے ساتھ چین کے سامنے کھل کر آچکا ہے کہ اب اس کا مقابلہ کیا جائے گا ۔ کہ کسی طرح مشرق کے غلبے کو روکا جائے ۔۔ اس وقت مغرب اور مشرق کی ٹکراؤ کی کیفیت اتنی شدید ہوچکی ہے کہ آپ دیکھیں ویکسین کو بھی بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے ۔ کہ مغرب یعنی یورپ اور امریکہ میں چینی اور روسی ویکسین لگانے والوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔ جس نے وہاں آنا ہو pizferلگوائے یا پھر astrazenca ۔ یعنی اب اس ویکسین پر نیا ڈرامہ شروع ہوگیا ہے۔
    مالی منافع اور کمپنیوں کے جھگڑے نے دنیا تقسیم کردی ہے۔۔ اس تمام معاملے کو تجارتی اور عالمی تھانیداری سے ہٹ کر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ وہ جس کو کہتے نا clash of civilizations اس وقت دنیا واضح طور پر دوحصوں میں بٹی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ابھی تک تو معاملہ زبانی کلامی اور اقدامات تک ہی محدود ہیں ۔ پر آگے چل کر یہ محسوس ہورہا ہے کہ ایک بہت بڑا war theatre تیار کیا جا رہا ہے ۔ اور کسی بھی جنگ سے پہلے جو صف بندیاں ہوتی ہیں وہ کی جا رہی ہیں ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو امریکہ چین والے معاملے پر جو میں نے گزشتہ ویڈیو کی تھی اس میں بڑی تفصیل سے بتایا تھا کہ اس سال کے لیے امریکہ تاریخی بجٹ 6 ٹریلین ڈالرز کا رکھا ہے ۔ جس میں
    1.5 ٹریلین ڈالر صرف پینٹاگون یعنی دفاع پر خرچ ہوگا ۔ جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے ۔ دراصل امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مغربی اقدار غالب ہیں۔ اور دنیا پر ان کو ہی حکمرانی کاحق ہے ۔ کیونکہ یہ پاک صاف جمہوریت سے لبریز اور اعلی انسانی اقدار کی حامل ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب دنیا کو چینی سرمایہ کی بہت زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔ کہ جو سنکیانگ میں ہو رہا ہے جو تائیوان سے چین برتاؤ کر رہا ہے ۔ جس طرح چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے ۔ جو چین میں جبری مشقت لی جاتی ہے ۔ اس لیے چین کا معاشی غلبہ کسی طور پر ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ مساویانہ مقابلے سے روکتا ہے۔۔ سننے میں مغرب کا یہ پراپیگنڈہ بہت اچھا لگاتا ہے ۔ پر اگر دیکھا جائے جس کی جانب چین بھی اشارہ کرتا ہے ۔ کہ مغرب کا دوغلا پن جب کشمیر ہویا فلسطین یا شام یا لیبیا یا افغانستان یا عراق وہاں پر آکر عیاں ہوجاتا ہے ۔ اور دنیا میں گزشتہ صدی اور اس صدی میں جتنا بھی خون خرابہ اور جنگیں برپا کی گئی ہیں بلکہ تھوپی کئی گئی ہیں وہ سب مغرب کی پیدا کردہ ہیں ۔ اس لیے امریکہ یا جی سیون ممالک جو کہہ رہے ہیں وہ صرف چین کے مقابلے کی بات نہیں بلکہ دنیا کے سامنے ایک مثبت متبادل پیش کرنا ہے۔ اور دنیا کو یہ باور کروانے کی ایک ناکام سی کوشش دیکھائی دیتی ہے کہ مغرب ہے تو ایک بھڑیا مگر انصاف پسند بھڑیا ہے ۔ جو بھیڑ بکریوں کو مارتا ضرور ہے مگر کسی قانون کے تحت ۔ پھر چاہے وہ آئی ایم ایف ہو ورلڈ بینک ہو یا اقوام متحدہ یا پھر سیکورٹی کونسل ہو ۔ جس سے اجازت لو ، قرارداد پاس کرواو اور بغیر کسی ثبوت کے کسی بھی ملک پر weapons of mass destructionکا الزام لگا کر اس کو برباد کر دو ۔

    ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی واضح نہیں کہ عالمی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے مغرب کیسے رقم خرچ کرے گا ۔ کیونکہ جمہوریت میں کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی عوام کا دیا ہوا ٹیکس دوسرے مملکوں میں انفراسٹکچر پر خرچ کرے ۔ ابھی تک صرف یہ ہی بات واضح ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مقابلے کے لیے مغربی طاقتوں کے اندر ایک نیا عزم پیدا ہو گیا ہے۔ اور یہ تمام مغربی ممالک چین کا راستہ روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔

  • افغانستان میں مستقل قیام امن پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل

    افغانستان میں مستقل قیام امن پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل

    افغانستان میں سالہا سال سے جاری خانہ جنگی کے باعث جب بھی افغانستان کا ذکر ہوتا ہے تو عام آدمی کے ذہن میں خونریزی،فوجی دستوں کی موجودگی،افغان طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں، کئی سالوں سے جاری جنگ کے باعث تباہ کن بنیادی ڈھانچے، تعلیم و صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی جیسے خیالات جنم لیتے ہیں۔ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے افغانستان میں امن وامان کی صورتحال اور عدم استحکام کے سنگین اثرات پاکستان پر مرتب ہونا فطری عمل ہے۔ ایک ہمسایہ ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان ہمیشہ سے ہی نا صرف افغانستان میں امن عمل کا سب سے بڑا حامی رہا ہے بلکہ پاکستان نے ہمیشہ افغان امن عمل میں کلیدی کردار بھی ادا کیا ہے کیونکہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پرامن افغانستان کا مطلب پرامن پاکستان ہے۔ ایک ہمسایہ ملک کی حیثیت سے پاکستان نے افغانستان میں خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہو کر نقل مکانی کرنے والے 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے جو کہ یقینی طور پر ایک قابل تحسین عمل ہےجبکہ افغانستان میں مستقل قیام امن کے لئے گذشتہ برسوں کے دوران پاکستان نے افغان حکومت اور دیگر فریقین کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے طالبان کو قائل کرنے کا انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق حکومت پاکستان کی مکمل حمایت اور کوشش کے بغیر افغان امن مذاکرات کبھی ممکن نہ ہو پاتے۔ دسمبر 2018 میں پاکستان نےامریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا عمل شروع کرنے میں مدد کی جس کے نتیجے میں دوحہ میں امریکا اور افغانستان کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا۔ اس سے قبل پاکستان کی مدد سے جولائی 2015 میں افغان حکومت اور طالبان کے مابین پہلی بار براہ راست مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے مگر یہ امن عمل اس وقت رک گیا جب طالبان نے اپنے رہنما ملا عمر کی موت کا اعلان کیا۔
    افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کے مثبت اور کلیدی کردار کو عالمی سطح پر ہمیشہ سراہا جاتا رہا ہے کئی موقعوں پر امریکی حکام نے بھی افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔
    دوسری طرف بھارت خطے کے امن کو سبوتاز کرنے کے لئے ناصرف افغانستان میں خانہ جنگی کو فروغ دے رہا ہے بلکہ افغانستان کی سرزمین کو استعمال میں لاتے ہوئے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے پر امن ماحول کو تباہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا پاکستان کی طرف سے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگا کر دہشتگردوں کی نقل وحمل روک کر سرحدی علاقوں میں دہشتگردی کی کاروائیوں کو روکنے کے اقدامات کو عالمی سطح پر بھی خاصی پذیرائی ملی، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی شب وروز محنتوں کے نتیجے میں پاک افغان بارڈر پر باڑ کی تنصیب کا80 فیصد کامکمل کر لیا گیا ہے جبکہ حکام باقی ماندہ کام کی جلد از جلد تکمیل کے لئے پرعزم ہیں۔افغان امن عمل کی اہمیت کے پیش نظر پاکستانی حکام کی کوشش ہے کہ چار دہائیوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں مستقل امن کے لئے جاری کوششوں کو برقرار رکھا جائے اور مزید کامیابیاں حاصل کی جائیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہمارے مفاد میں ہے۔ ہم افغانستان میں امن اور استحکام قائم کرنے کے لئے بین الاقوامی برداری کے ساتھ کام جاری رکھیں گے تاہم تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے کچھ خدشات بھی ضرور ہیں اور پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری ان خدشات پر غور کرے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ خطے میں قیام امن کے لئے بھارت کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان میں چار دہائیوں سے موجود افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلے کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

  • شہر لاہور کی سڑکیں خون سے رنگ گئیں، تحریر ارسلان تیموری

    شہر لاہور کی سڑکیں خون سے رنگ گئیں، تحریر ارسلان تیموری

    باغی ٹی وی :

    شہر لاہور کی سڑکیں خون سے رنگ گئیں، تحریر ارسلان تیموری

    کہیں قاتل ڈور معصوم بچوں کے گلے کاٹنے لگی تو کہیں ڈاکو شہریوں کو خون سے نہلانے لگے

    تھانہ موچی گیٹ کیمیکل ڈور پتنگ بازی کا سامان بیچنے اور امپورٹ کرنے والے تاجروں کا گڑھ

    مقامی پولیس اور راشی ایس ایچ اوذ تاجروں سے منتھلیاں لے کر انہیں موت بانٹنے کا لائسنس دے چکے

    لاہور پولیس پرچون پتنگ اور کیمیکل ڈور کے دوکانداروں کو پکڑ کر خانہ پری کر دیتی ہے
    جبکہ ایک اندازہ کے مطابق لاہور میں کیمیکل ڈور کی خرید کا بجٹ ماہانہ ایک ارب ہو چکا

    تاجر چائنہ سے کنٹینر منگوا کر گوداموں میں محفوظ کرتے ہیں اور ان کے ٹاؤٹ تھانہ موچی گیٹ اور رنگ محل کے سامنے سڑک پر آوازیں لگا کر کیمیکل ڈور فروخت کرتے ہیں

    کیا ان کیمیکل ڈور کے امپورٹروں سے موٹی منتھلی وصول ہوتی ہے جہاں کرپشن پر معطل اور ڈس مس ہونے کے قریب ڈی ایس پی کے بیٹے کو تعینات کیا گیا اور میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں

    سپیشل برانچ ان امپورٹروں کی فہرست تیار کر کے پبلک کرے تاکہ ہر بچے،نوجوان اور بوڑھے کے ڈور سے گلہ کٹنے کا مقدمہ امپورٹر اور متعلقہ ایس ایچ او پر درج ہو

    کیمیکل ڈور نے پتنگ بازی جیسے فیسٹیول کو برباد کر کے رکھ دیا اس کے باوجود اس کی امپورٹ اور خریدو فروخت نہ رک سکی

    کیا لاہور پولیس اس تاجر مافیا سے ڈرتی ہے

    شہر کی سڑکوں پر ڈاکوؤں کی سر عام لوٹ مار لاہور پولیس کی جرائم پر گرفت ڈھیلی ہونے کا منہ بولتا ثبوت

    حالات آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کے قابو سے باہر نظر آتے ہیں پنجاب ڈاکو سٹیٹ بنا نظر آ رہا ہے آئی جی پنجاب صرف پی آر او تک محدود ہو کر رہ گئے جو پی آر او نے بتایا اس پر نوٹس لے لیا جناب باہر نکل کر دیکھیں پنجاب کی حالت کیا ہو گئی ہے

    پولیس اہلکار شہادتوں پر شہادتیں دے رہے ہیں اے ٹی ایس کورس کے بغیر جوانوں کو ڈاکوؤں کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے

    رواں سال میں اتنے ڈاکو نہیں مار گرائے جتنے پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں

    تحریر ارسلان تیموری

    ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایک اور معصوم اپنے شہر کی پر امن سڑک پر والدین کے ہمراہ تحفظ محسوس کرتا موٹر سائیکل کے آگے ٹینکی پر بیٹھا ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک ایک قاتل کیمیکل ڈور کسی پتنگ کے کٹ جانے کے بعد سڑک پر آ گری اور ننھے 3 سالہ معصوم کی شہ رگ کاٹ گئی چند لمحے قبل وہ اپنے والدین کے ہمراہ خوشی سے ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں کو محسوس کر رہا تھا اور اگلے ہی لمحے اس کی سانسیں اس کے والدین کے سامنے رک گئیں اور سڑک خون سے بھر گئی ایک ماں کے لئے وہ کیسا وقت ہو گا جس کا ننھا بچہ اس کے سامنے اپنے خون سے نہایا تڑپ کر جان لے رہا ہو گا اگر انسانیت باقی ہے تو ڈوگر صاحب سب سے پہلے ایس ایچ او موچی گیٹ کو معطل کریں اور شاہ عالمی مارکیٹ و گردونواح میں امپورٹر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کریں اور ان امپورٹرز کو حوالات میں بند کریں تاکہ یہ معاملات جڑ سے ختم ہوں مقامی تھانے ان امپورٹروں کے یار ہیں اور انہی کی سفارشوں سے تعیناتیاں ہیں یہ وہ مافیا ہے جو شہر کی سڑکوں پر خون بہانے کا ذمہ دار ہے جنہیں عوام کے سامنے بے نقاب ہونا چاہیئے تاکہ ہر وہ والدین جس کے بچے کے قاتل آج تک نہیں ملے انہیں معلوم ہو کہ ان کے بچوں کے قاتل کون ہی میں آئی جی صاحب اگر کسی کے بچے کے قاتل کو سزا نہ ہو بلکہ یہ ہی نہ پتا چلے کہ کس کی ڈور سے اس کا گلہ کٹا تو وہ ساری ذندگی اس کا ذمہ دار کسے سمجھیں اگر کوئی جواب ہو تو پی آر او کے ذریعے کیمیکل ڈور سے قتل ہونے والوں کے قاتلوں کے نام بتائیں یا بتائیں یہ قتل کے ذمہ دار کون ہیں کیا پولیس؟ یا امپورٹرز؟

  • مائنڈ پروگرامنگ، ایک خطرناک ہتھیار!! تحریر: سیدہ

    مائنڈ پروگرامنگ، ایک خطرناک ہتھیار!! تحریر: سیدہ

    مائنڈ پروگرامنگ، ایک خطرناک ہتھیار!! تحریر: سیدہ

    وہ زمانے گئے جب جنگیں محاذوں پر آمنے سامنے لڑی جاتی تھیں، دور جدید میں جنگ کی اصطلاح ہی بدل چکی ہے اب مقابلہ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معاشی و فکری میدان میں بھی ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم کو بغیر جنگ کیئے غلام بنانے کے کچھ مخصوص طریقے ہوتے ہیں۔۔۔۔ ایسی قوم کو بیرونی حملوں سے نہیں بلکہ اندرونی سازشوں سے توڑا جا سکتا ہے۔ اس طرح نہ تو خون خرابہ ہوتا ہے نہ جائیدادوں کا نقصان، بس یہ طریقہ سست اور صبر آزما ہے۔ اس مقصد کے لیئے میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے کے علاوہ تعلیمی اداروں اور نصاب کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ انگریزی کہاوت ہے کہ تاریخ ایک ہتھیار ہے (history is a weapon)۔ ایک قوم کو اس کی اساس سے دور کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ اسے نہتا کر دیا جائے مثال کے طور پر پاکستان دو قومی نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آیا،

    آج کچھ لوگ اس پر ہی سوال اٹھاتے بلکہ اس کو سرے سے رد کرتے نظر آتے ہیں، اب آپ سوچیں کہ پاکستان کی بنیادی اساس پر ہی سوالیہ نشان لگادیا جائے تو پاکستان کے وجود اور اسکی بقا کی کیا ضمانت ہوگی؟ ایک ڈیزائنڈ لٹریچر لوگوں کو با آسانی تاریخ سے دور کر کے ملکی دفاع کو کمزور کرسکتا ہے، بچوں/نوجوانوں کو ایجوکیشن کے نام پر mis-education دی جاتی ہے، تاریخ مسخ کر کے پڑھائی جاتی ہے اور انہیں آہستہ آہستہ وہ اصول سکھائے جاتے ہیں جو دشمن کو دوست دکھاتے ہیں، ایک مخصوص مائنڈ سیٹ پروان چڑھایا جاتا ہے جو ریاست/مذھب سے مخالفت اور بغاوت کا تصور ذہنوں میں راسخ کردیتا ہے، ظلم و استحصال کی داستانیں دہرا دہرا کر ایک پراگندہ biased ذہن بنادیا جاتا ہے جو اپنی عقل سے فیصلہ کرنے سے قاصر ہوتا ہے اور اپنے رہبر/استاد کی بتائی باتوں پر ہی من و عن یقین رکھتا ہے، عدم برداشت کا انتہا پسندانہ رویہ انہیں اس حد تک لے جاتا ہے کہ پھر وہ اپنے نظریئے سے اختلاف کرنے والے کو بدترین دشمن گردانتے ہیں اور اس طرح کے لوگ پھر قومی دھارے میں شامل ہو کر ریاست کی جڑیں کھوکھلی کرتے ہیں

    ہم دیکھتے ہیں پاکستان میں کئی ایسے "گروہ” سرگرم ہیں جو اپنے مذموم عزائم اور بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے نئی نسل کی مائنڈ پروگرامنگ کر رہے ہیں جس کے ثمرات و اثرات ہمیں اپنے اردگرد دکھائی بھی دیتے ہیں کہ لوگ یا تو مذھب بیزار نظر آتے ہیں یا ریاست مخالف۔۔۔۔

    ابھی کا واقعہ لیجیئے تیس سال سے دس غیر قانونی ایرانی اسکولز چل رہے تھے بلوچستان میں جہاں اساتذہ بھی غیر ملکی تھے اور نصاب بھی۔۔۔ ان تیس سالوں میں کتنے بچے وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے ہونگے؟ وہ بچے ایران کے وفادار ہونگے یا پاکستان کے؟ اسی طرح یونیورسٹیز میں سیکولرازم کی ترویج و اشاعت جاری ہے، سعودی فنڈڈ مدارس بھی چل رہے ہیں اور دیگر سیاسی، مذھبی و لسانی قوم پرستی کے پروپیگنڈے کا سلسلہ بھی جاری ہے

    اب وہ وقت ہے پاکستانیوں کو اس برین واشنگ کا شکار ہونے سے روکا جائے!!
    یکساں تعلیمی نصاب لاگو ہونے کے بعد دیگر کسی بھی قسم کے لٹریچر کو سرکاری منظوری کے بغیر ہرگز نہ پڑھایا جائے، بصورت دیگر یہ فرقوں اور قومیتوں میں بٹی قوم آپس میں ہی لڑ لڑ کے مر جائے گی اور دشمن فقط تماش بین ہونگے!!!

    از قلم: سیدہ
    ‎@SyedaSays__

  • زندگی کی رنگینیاں، تحریر: وسیم اکرم

    زندگی کی رنگینیاں، تحریر: وسیم اکرم

    زندگی کے کئی رنگ ہیں انہی رنگوں میں ایک رنگ موت ہے۔۔۔ موت کو ویسے ہمیشہ ہی کالی رات سا کہا جاتا ہے۔ اور ایسا رنگ جس کو ہم اوڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ مگر موت کا رنگ بھی ہمارے لئے ہی ہے۔ اور ہم پیدا ہوتے ہی اوڑھ چکے ہوتے ہیں۔۔۔ بس جب وقت آتا ہے اس وقت یہ رنگ ہمارے مکمل وجود پر چڑھ جاتا ہے اور پھر زندگی کے دوسرے رنگوں کو نگل جاتا ہے۔۔ کبھی لگتا ہے موت کا رنگ نیلا یا کالا ہے۔ مر جانے والوں کے ہونٹ اکثر نیلے یا کالے ہو جاتے ہیں۔ مگر مرنے والوں کے رنگ تو اکثر لال بھی ہو جاتے ہیں۔کبھی سفید بھی اور کبھی مکمل سپاٹ چہرے لیے ہوتے ہیں۔گو کہ موت بھی کئی رنگ رکھتی ہے۔اور اس موت کو دیکھنے والوں کے پاس صرف ایک رنگ بچتا ہے سفید رنگ جو مایوسی اور اداسی کے رنگ کو ساتھ ملا کر مسلسل آنسوؤں کی صورت میں بہتا رہتا ہے۔اور یہ رنگ پھر ختم ہی نہیں ہوتا۔ یوں تو مر جانے والے خاموش ہو جاتے ہیں۔مگر جاتے جاتے وہ لوگ ہمیں بھی ساکت کر جاتے ہیں۔۔۔ منجمند کر جاتے ہیں میرے الفاظ کھو گئے۔ میری سوچ ختم ہو گئی۔میری باتیں ختم ہوگئی۔۔

    میرا دل خالی سا ہو گیا۔مجھے موت سے انکار نہیں مگر موت کے بعد جو سناٹا چھا جاتا ہے اس سے وحشت ضرور ہے وہ سناٹا جو ہمیں بولنے نہیں دیتا۔سننے نہیں دیتا کچھ کہنے نہیں دیتا کچھ کرنے نہیں دیتا، مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے زندگی تھم سی گئی  ہے۔ کچھ نہیں ہے کرنے کو نہ ہی کچھ کرنا اہم ہے۔ کتنی گھٹن ہوتی ہے جب سانس چل رہی ہو مگر ہم اسکے چلنے سے خود رُک سے گئے ہوں۔میں بھی ٹھہر سا گیا ہوں۔رک گیا ہوں۔۔۔ مجھے اس سرکس میں اب اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عجیب سی الجھن ہوتی ہے۔کہتے ہیں انسان کٹھ پتلی ہے۔اسکی ڈور اللہ کے پاس ہے وہ ہمیں جیسے چاہے چلا رہا ہے۔۔۔ مگر یہ دنیا تو واقعی قدرت کی سرکس ہے۔

    ایسی سرکس جہاں ایک یا دو نہیں سب کے سب جوکر ہیں۔مگر جب ایک مکمل جوکر بن کر اپنا کردار نبھا رہا ہوتا ہے تو باقی جوکروں کا کردار قہقہے لگانا ہے۔۔۔ پھر ان قہقہے لگانے والوں میں سے کوئی جوکر اپنا کردار نبھائے گا اور باقی جوکر تالیاں بجائیں  گے۔۔۔ اور یہ سرکس یونہی آباد رہتی ہے۔اور جوکر آتے جاتے رہتے ہیں۔ دنیا کا میلہ انہی جوکروں سے آباد ہے۔ دنیا کے رنگ انہی جوکروں سے قائم ہیں۔۔ یہ زندگی کی سرکس بھی بڑی ہی عجیب ہے دیکھا جائے تو تماشے ہزار اور محسوس کیا جائے تو غم ہزار۔۔۔

  • جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیرکو کب ملے گی آزادی، تحریر:جام جازم

    جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیرکو کب ملے گی آزادی، تحریر:جام جازم

    جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیرکو کب ملے گی آزادی، تحریر:جام جازم

    ‏انڈیا کی جہاں اپنی معاشی صورتحال خراب ہے وہی اس کے کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں یہ الگ بات ہے ساری دنیا اس پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھی ہے۔دنیا میں ہی جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیر پر انڈیا نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور ساتھ ہی اس کے رہنے والوں پر سانس لینے کے لیے جگہ تنگ کر رکھی ہے۔پوری دنیا کو اس وقت کورونا سامنا ہے لیکن بدقسمتی سے کشمیر کو کورونا کے ساتھ ساتھ کرفیو اور بھارتی جارحیت کا بھی سامنا ہے۔تقسیم ھند کے وقت پانچ سو باسٹھ ریاستیں تھیں جن میں ایک سو چالیس ریاستیں خود مختیار تھیں اور انکو مکمل آزادی تھی وہ انڈیا یا بھارت میں سے کسی کے ساتھ الحاق کر سکتی ہیں لیکن تین ایسی ریاستیں تھیں جو کسی کے ساتھ الحاق نہیں چاہتی تھیں ان میں سے ایک کشمیر بھی تھا جس پر بعد میں بھارت نے ناجائز قبضہ کر لیا اور وہاں کے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی رہی۔گزشتہ سالوں میں کرفیو لگا کر کشمریوں کی داخلی خودمختاری کی آئینی شق ہٹا دی گئی اور کشمیریوں کی مزاحمت پر ان پر توڑے گئے ظلم کے پہاڑ سے دنیا کا ہر شخص واقف ہے۔ کشمیر پچھلے کئی سالوں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔آج بھی کشمیر کی دیواروں پر "وی وانٹ فریڈم” کے الفاظ درج ہیں جو چیخ چیخ کر کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کی ترجمانی کرتے ہیں۔

    برہان وانی کی شہادت کے بعد اس تحریک نے زور پکڑا اور کشمیری اپنی آزادی اور خود مختاری کی جنگ لڑنے باہر آئے لیکن ان پر کے جانے والے ظلم کا سوچ کر انسان کی روح کپکپاتی ہیں۔کس طرح سے نہتے کشمیریوں پر آزادی کی آواز بلند کرنے پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گئے۔انکو انہی کے گھروں میں محصور کیا گیا اور انکو اشیاء خوردنوش اور چھوٹے بچوں کو دودھ تک سے محروم رکھا گیا مزید ظلم یہ کہ بیماروں کو ادویات کی سہولیات تک بند کر دی گئی۔حریت پسند راہنماؤں کو قید کر لیا گیا اور کس طرح سے آنسو گیس لاٹھی چارج اور پلٹ گن کا استعمال کیا گیا ۔کشمیری عورتوں کی عزتیں پامال کی جاتی رہی۔ان سب کے باوجود بھارت کشمیریوں سے نہ تو آزادی کی تمنا کم کر سکا ہے نہ ہی ان کے دلوں سے یہ نعرا مٹا سکا ہے "کشمیر بنے پاکستان”۔کیوں کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔آخر میں میں جام جازم بحثیت ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کرتا ہوں کے کشمیریوں کو ان کی خواہش کے آزادی ملنی چاہیے جو کہ انکا بنیادی حق ہے-

    تحریر: جام جازم

  • ہم جنس پرستی ناسور ہے ، تحریر: حنا

    ہم جنس پرستی ناسور ہے ، تحریر: حنا

    ہم جنس پرستی ناسور ہے ، تحریر: حنا سرور

    ہم جنس پرستی ایک معاشرتی لعنت ہے جس کے خلاف حال ہی میں وزیراعظم نے ہم جنس پرستی کی جتنی این جی او ہے ان کے خلاف کاروائ کا حکم دیا تھا ۔۔جی ہاں یہ حکم تب دیا تھا جب عورت مارچ کے چاہنے والے سڑکوں پر نکل کر اسلام کے خلاف گستاخانہ بینر لگا رہے تھے ۔۔یہ حکم تب دیا تھا جب ان عورت مارچ والیوں کے خلاف جنرل حمید گل صاحب کے بیٹے عبداللہ اور شاہیر سیاہلوی نے دھرنے کا اعلان کیا تھا ۔۔۔اس کاروائ کے حکم کو کافی مہینے ہو گے ہیں ۔۔لیکن اللہ جانے کاروائی ہوتے ہوتے کیوں رہ گئی ۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی ہزار بار مختلف سوشل میڈیا ٹیمز نے ۔ٹک ٹاکر کے گھٹیا عمل پر ٹرینڈز چلا کر حکومت وقت کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ۔۔۔ ہم جنس پرستی ایک لعنت ایک گھٹیا عمل ہے

    جس کی تمام آسمانی مذاہب میں یکساں طور پر مذمت کی گئی ہے اور قرآن و سنت کی طرح بائبل میں بھی اسے لعنتیوں کا کام اور قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسی جرم پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو اس سنگین سزا اور عذاب کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کی نشانی آج بھی بحیرۂ مردار کی صورت میں سطح زمین پر موجود ہے مگر آسمانی تعلیمات سے انحراف نے انسانی سوسائٹی کو ذلت کے اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اقوام عالم کی ایک اچھی خاصی تعداد اس لعنتی عمل کو انسانی حقوق میں شامل کرنے کے لیے بے چین ہے۔۔۔۔ان میں سے ہی کچھ شیطانی طاقتوں نے ٹک ٹاک سنیک ایپ بنائ ۔انھوں نے مسلمانوں کو اس طرح اپنے جال میں جھکڑ لیا.کہ مسلمان کو اس سے منافع بھی ملے اور ان کی شیطانی چال بھی چلتی رہے ۔۔ان شیطانی قوتوں نے اسلام بیزار مسلمانوں کو یہ دکھایا کہ یہ ایپ بزنس ہے وڈیو بناو ۔پیسے کماو ۔وڈیو لگاو پیسے کماو ۔۔وڈیو دیکھو پیسے کماو ۔۔۔پیسہ ہی پیسہ ۔شہرت راتوں رات..

    بے حیائی کا ایسا شرمناک مظاہرہ کہ کوئی باحیاء انسان دیکھ کر اس کا سر شرم سے جھک جائے ۔۔
    قوم کی وہ بیٹیاں جنہیں اسلام نے گھر سے باھر مجبوری نکلتے وقت زیب و زینت کرنے سے روکا تھا وہی خوب بن سنور کر اس فحاشی اور بے حیائی میں لڑکوں سے آگے نکل چکی ہیں ۔۔
    وہ نوجوان جن کو قوم کا اثاثہ قرار دیا جاتا ہے
    جنہیں قوم کے معمار تصور کیا جاتا ہے
    جن کو اقبال نے شاہین اور قوم رسول ہاشمی قرار دیا تھا وہی معمار اخلاقیات سے عاری قوم کو مسمار کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔
    وہ بوڑھے جن کی سفید داڑھی سے حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق خدا کو بھی حیاء آتی ہے وہ خود اس قدر بے حیاء ہوچکے ہیں کہ نہ تو اپنے بڑھاپے کا بھرم رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی عمر کا خیال کرتے ہیں ۔۔
    وہ بچے اور بچیاں جن سے قوم کو امید تھی کہ امت کی خستہ حالی یہی نسل اپنے کردار سے بدل دے گی لیکن ان کو والدین نے با کردار بنانے کی بجائے اسی روش پر لگا دیا جس سے امت میں مثبت نہیں بلکہ منفی اثر پڑتا ہے ۔۔

    الغرض عمر کی کسی بھی سٹیج سے تعلق رکھنے والے اس لعنت سے محفوظ نہیں ۔۔
    ٹک ٹاک کا بے حیاء دریا اس قدر روانی سے آگے بڑھ رہاہے کہ خطرہ محسوس ہوتاہے اگر بروقت اس دریا کے آگے بند نہ باندھا گیا تو آنے والی نسل ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی ۔۔
    اس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اس امت اور اس قوم کے معماروں سے دردمندوں سے انتہائی مودبانہ گذارش ہے کہ ہر کوئی حسب استطاعت اپنا کردار ادا کرے۔۔۔حناء سرور

    ٹک ٹاک ہم جنس پرستی کوپروموٹ کررہا ہے حکومت اس شیطانی ایپ پر پابندی لگائے ، پاکستانی عوام کا مطالبہ

     بھارت میں ہم جنس پرست خواتین کو عدالت نے سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے

    سرائے عالمگیر کے رہائشی محمد علی کی طرف سے ہائی کورٹ میں درخواست دی گئی کہ وہ ہم جنس پرست ہے

    ہم جنس پرستی اور شریعت کے احکام

    بلاول ہم جنس پرست ،فواد چودھری مینٹل، ایسا کس نے کہا؟

    ۔

    Article Writer Name

    Hina 

     

  • جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    جنوبی افریقہ کے ایک گاؤں میں کھدائی کے دوران ایک شخص کوایک پتھر ملا تھا،جس کے بارے میں مقامی افراد کادعوی ہے کہ یہ ہیرا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق 12 جون سے علاقے میں کھدائی کی جارہی ہے اور پیر کو ایک ہزار سے زیادہ ملک بھر سے لوگ اپنی قسمت آزمانے کیلئے جنوبی افریقہ کے کوزاولو – نٹل صوبے کے کوہلاٹھی گاؤں کا رخ کرچکے ہیں جہاں اس علاقے میں نامعلوم پتھروں کی دریافت کے بعد انہیں ہیرے ہونے کا یقین تھا۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    12 جون کو ملک بھر سے لوگ اس گاؤں میں کھدائی کے لئے گئے جہاں ایک آدمی کو کھلے میدان میں پہلا پتھر ملا ، جسے کچھ لوگ کوارٹج کرسٹل سمجھتے ہیں –

    ایک کھودنے والے شخص منڈو سبیلو نے بتایا کہ اس نے دریافت ایک زندگی بدلنے والا تھا ، جب اس نے ایک مٹھی بھر چھوٹے پتھر دیکھے تھے-

    مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک…

    دو بچوں کے 27 سالہ والد نے کہا”اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگی بدل جائے گی کیونکہ کسی کے پاس مناسب ملازمت نہیں تھی ، میں عجیب و غریب ملازمتیں کرتا ہوں۔ جب میں ان کے ساتھ گھر واپس آیا تو ، (کنبہ) واقعی بہت خوش ہوا ،”

    بے روزگار سکھموبو مابھل نے اتفاق کیا ، انہوں نے مزید کہا: "میں نے اپنی زندگی میں کسی ہیرے کو نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی چھوا تھا۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    محکمہ بارودی سرنگوں نے پیر کے روز بتایا کہ وہ نمونے جمع کرنے اور تجزیہ کرنے کے لئے ارضیاتی اور کان کنی کے ماہرین پر مشتمل ٹیم سائٹ پر بھیج رہی ہےمحکمہ نے بتایا کہ باقاعدہ تکنیکی رپورٹ مقررہ وقت پر جاری کی جائے گی تاحال حکام کی جانب سے ان پتھروں کے ہیرے ہونے کی ابھی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    گرم لاوے پر پکایا جانے والا آتش فشانی پیزا

    رائٹرز کے مطابق جنوبی افریقہ کی معیشت طویل عرصے سے بے روزگاری کی انتہائی کشمکش میں مبتلا ہے ، لاکھوں افراد غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اور 1994 میں فرقہ واریت کے خاتمے کے بعد تقریبا تین دہائیوں تک قائم سخت عدم مساوات میں کردار ادا کیا ہے۔ کورونا وائرس وبا نے اسے مزید خراب کردیا ہے۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    کچھ لوگوں نے پتھر فروخت کرنا شروع کردیئے ہیں ، جس کی ابتدائی قیمت 100 رینڈ (.2 7.29) سے 300 رینڈ تک یعنی 1100 پاکستانی روپے سے ساڑھے تین ہزار تک فروخت بھی کئے جارہے ہیں۔

    صوبائی حکومت نے اس کے بعد سے ان تمام لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس مقام کو چھوڑ دیں تاکہ حکام کو مناسب معائنہ کرنے کی اجازت دی جا ئے ، خدشہ ہے کہ اس جگہ پر کھودنے والے افراد ممکنہ طور پر کورونا وائرس پھیلارہے ہیں۔

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

  • معاف کیجیے گا! تحریر: ماریہ ملک

    معاف کیجیے گا! تحریر: ماریہ ملک

    معاف کیجیے گا! تحریر: ماریہ ملک

    فروری 2016 کی شام 8 گھنٹے کے لمبے ہوائی سفر کے بعد جب میں اپنے ہوسٹل میں پہنچی تو سفری تھکاوٹ اور گرد و نواح کے ماحول کا بیگانہ پن جسم و دماغ پر حاوی تھا۔ لیکن اس کے باوجود اُس رات دِل میں اپنی آرزو بر آنے کی خوشی اور نئی صبح کے انتظار میں دِل پُر جوش تھا جس کی وجہ سے نیند تھی کہ جیسے روٹھ سی گئی ہو۔۔۔۔۔ طرح طرح کے خیالات وسوالات زہن و قلب کو عجیب کیفیت میں مبتلا کیے ہوئے تھے۔۔۔۔

    اس دیارِ غیر کی ایک بہت بڑی یونیورسٹی میں پہلا دِن کیسا ہو گا؟
    ساتھی طلبا کیسے ہوں گے؟ اُن کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی ہو سکے گی یا نہیں؟
    میرے لیکچرار کیسے ہوں گے؟ اُن کا انداز تکلم اور اندازِ تعلیم و تربیت کیسا ہو گا؟
    مجھے اچھے انداز میں ویلکم کیا جائے گا یا ایک نئی طالبہ ہونے کے ناطے میرا مزاق اُڑایا جائے گا؟

    غرضیکہ اس طرح کے بیشُمار سوالات دِل و دماغ کو گھیرے ہوئے تھے۔ انہیں خیالات میں گُم کب آنکھ لگی کُچھ پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔۔۔

    میری اور میرے والد کی یہ خواہش تھی کہ میں بیرونِ ملک اپنی ڈگری مکمل کروں۔ گو امی جان کو یہ بات زیادہ پسند نہی تھی لیکن اُنہوں نے بھی میری خواہش کے سامنے زیادہ رکاوٹ کھڑی نہی کی۔
    بالا خر وہ صبحِ نو آگئی جِس کا شدت سے انتظار تھا۔ یونیورسٹی کے پہلےدِن کے جوش و خروش میں نہ بھوک تھی نا کسی اور چیز کی تمنا۔ جلدی جلدی تیار ہوئی اور وقت سے پہلے ہی یونیورسٹی کے لئے نکل پڑی۔ ہوسٹل میں مقیم دیگر طلبا کی رائنمائی، مدد، شفقت اور برتاؤ نے بہت متاثر کیا۔
    یونیورسٹی میں بھی محسوس کیا کہ ہر کوئی بہت نرمی اور محبت بھرے انداز میں ہمکلام ہوتا ہے۔ بات بات پر ہر کسی کے Excuse me, Please, Sorry جیسے الفاظ کے ساتھ ساتھ ہلکی سی مسکراہٹ زیرِ لب تھی
    میری کلاس میں تمام طلبا نے بہت اچھے انداز میں مجھے ویلکم کیا۔ لیکچرار اور طلبا کی اس دیے جانے والی خصوصی توجہ اور دوستانہ ماحول نے میرے اعتماد کو سہارا دیا۔ یقیناً یہی وہ حسنِ اخلاق ہوتا ہے جو دِلوں کو ایک دوسرے کے قریب اور کدورتوں کو رفع کرتا ہے۔
    جہاں اچھے اخلاق ہوں وہاں بغض، کینہ اور نفرت جیسے دلی امراض نہی پنپتے۔ برطانیہ میں میرے 2 برس کے دورِ طالبعلمی میں جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہی اچھے اخلاق تھے۔
    دوکاندار ہو یا گاہک، بس ڈرائیور ہو یا مسافر، طالبعلم ہو یا استاد، شوہر ہو یا بیوی، عام راہ گُزر ہو یا ہمسایہ، کاروباری شخص ہو یا ملازم، بڑا ہو یاچھوٹا غرضیکہ راہ چلتے، سفر کرتے، خریداری کرتے ہر قسم کے افعال و عوامل میں آپ کو یہ مشاہدہ کرنے کو ملتا ہے کہ ہر کسی کی تربیت میں یہ چند خصوصیات ہر کسی کی طبیعت میں گویا کہ نقش کر دی گئی ہیں

    // نرمی
    // مسکراہٹ
    // خوش کلامی
    // عفو و درگز کا جزبہ
    // جزبہِ مدد و ہمدردی

    یقیناً یہ سب خصوصیات حسنِ اخلاق کی بہترین مثالیں ہیں۔ یہی وہ عادات و خصوصیاتِ ہیں جو ایک فرد کو معاشرے میں پسندیدہ و جازبِ نظر بناتی ہیں۔
    اور چونکہ فرد سے معاشرہ بنتا ہے، تو افراد کے حسنِ اخلاق جیسا وصف ہی معاشرہ کو خوبصورت اور لطف و کرم کا منبع بنا سکتا ہے۔
    یقیناً مغرب میں بھی برائی اور بد سلوکی کی مثالیں موجود ہیں لیکن مغرب کا عمومی تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ وہ لوگ مہذب اور سُلجھے ہوئے ہیں۔ اور یہی تاثر اصل میں اچھے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔
    ہماری ایک تعداد ہے جو مغرب کی طرح ترقی یافتہ اور ماڈرن بننے کی خواہشمند ہے۔ اعلٰی تعلیم، فیشن اور چال ڈھال میں مغربی تہزیب کےدلدادہ افراد بھی اخلاقی پستی کا شکار نظر آتے ہیں۔ تھوڑی سی دولت یا بڑا عہدہ ملنے کی دیر ہوتی ہے کہ وہ دولت و عہدہ میں اپنے سے کم کو انسان سمجھنے سے بھی عاری نظر آتے ہیں۔ غرور و تکبر کی یہ چلتی پھرتی مورتیں غریب و پسماندہ افراد سے اچھے انداز میں بات کرنے، ہاتھ ملانے اور مسکرا کر بات کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔
    یہ عادات صرف امیر لوگوں میں ہی نہی بلکہ تقریباً معاشرہ کے ہرفرد میں مشاہدہ کی جا سکتی ہیں گویا کہ ہم مسکرا کر نرمی اور شفقت سے بات کرنے کو کوئی عیب سمجھتے ہیں۔
    میرے 2 سال کے تعلیمی دور میں مغربی معاشرے میں اخلاقیات و مساوات کا مشاہدہ بکثرت ہوا لیکن بطورِ مسلمان میں یہ فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ مغربی معاشرے میں پائی جانے والی یہ تمام خصوصیات اسلامی تعلیم و تربیت میں مذکور حسنِ اخلاق کا عشرِ عشیر بھی نہی۔
    اسلام ایک مکمل ظابطۂ حیات ہے اور بقول قرآن نبی کریم ‎ﷺ کی زندگی ایک بہترین نمونہ۔ لیکن جوں جوں ہم اسلامی تعلمات سے دور ہوتے چلے گئے توں توں ہمارے اخلاقیات پستی و جہالت کا شکار ہوتے گئے۔
    اسلام ہمیں ہر ایک سے حسنِ اخلاق سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے۔ غرور، تکبر، غیبت، جھوٹ، بہتان، گالی گلوچ، چغلی، بے حیائی، فریب ودھوکہ، ناپ تول میں کمی، والدین و پڑوسی کے حقوق، بہن بھائی و رشتہ داروں کے حقوق، مالک و ملازم، دوکاندار و گاہک، مسافر و مقیم کے حقوق و فرائض غرضیکہ ہر ہر شعبہ و مقام و مرتبہ کے بارے میں حقوق و فرائض اور حلال و حرام کی واضح تعلیمات دینِ اسلام میں مذکور ہیں۔
    حسنِ اخلاق یقیناً بہت وسیع عادات و خصوصیات پر محیط ہے۔ اور ہمارے ہیارے مذہب میں حسنِ اخلاق کی اہمیت اس سے بڑھ کر اور کیا بتائی جا سکتی ہے:

    چنانچہ فرمانِ مصطفٰے ﷺ ہے کہ

    “ أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا۔”
    ترجمہ: سب سے کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے

    گویا اگر ہم کامل (مکمل) ایمان کے وصف سے متصف ہونا چاہتے ہیں تو اپنی اخلاقیات کو تعلیماتِ اسلام کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔

    نبی کریم ‎ﷺ کے حسن اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے الله تبارک و تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

    وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ
    ترجمہ:
    “اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو ۔”

    تیرے خُلق کو حق نے عظیم کہا
    تِری خِلق کو حق نے جمیل کیا
    کوئی تُجھ سا ہُوا ہے نہ ہو گا شہا
    تیرے خالِقِ حسن و ادا کی قسم

    قارئین ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ااِن تعلیمات کو حاصل کریں اور پھر اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے اخلاقیات کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔ والدین چھوٹی عمر سے اولاد کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ سکول و کالجز کی سطح پر دیگر شعبوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ہر خاص و عام معاشرے میں حسنِ اخلاق کی چلتی پھرتی تصویر بن جائے تو یقیناً ہمارا معاشرہ حسنِ اخلاق کا نمونہ بن کر ابھرے گا۔
    تحریر: ماریہ ملک