Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کرونا ویکسین اور عوام کی ہچکچاہٹ .تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    کرونا ویکسین اور عوام کی ہچکچاہٹ .تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    کرونا وائرس آغاز سے ہی مختلف قسم کے شک شبہات کا شکار رہا ہے۔ ماہرین آج تک اس کے اسٹارٹنگ پوائنٹ کا تعین نہیں کر سکے۔ امریکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا آغاز ووہان کی ایک لیبارٹری سے ہوا، کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ کرونا ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ سے پھیلنا شروع ہوا، اور کچھ تحقیقات بتاتی ہیں کہ جب چائنہ میں یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا اُس وقت امریکہ میں بھی اِس کے مریض تھے۔

    پاکستان میں اِس وبا کو بھی ایک سازش کے طور دیکھا گیا۔ عوام کی اکثریت نے اس بیماری کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔اور طرح طرح کی تاویلیں پیش کی گئی۔

    زہر کے ٹیکے:
    کچھ لوگوں نے ہیلتھ کیئر ورکرز پر الزام لگایا کہ حقیقت میں کرونا کچھ نہیں ہے، پیسوں کی لالچ میں یہ ڈاکٹرز جان بوجھ کر ہر مریض کو کرونا میں ڈال رہے ہیں۔ اور چونکہ ڈاکٹروں کو مریض مارنے کے عوض امریکہ سے ڈالرز ملتے ہیں اس لیے لوگوں کو زہر کے ٹیکے لگا کر اُنکے اعضاء نکالے جا رہے ہیں، اسی وجہ سے میت کو دیکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ بُہت سارے ڈاکٹرز، نرسز اور اُنکے گھر والے خود اس بیماری کا شکار ہو گئے۔ اور میت کی تدفین کے لیے ڈبلیو ایچ او کی ہدایات پر عمل کیا جا رہا تھا۔

    مساجد بند کرانے کی سازش:
    بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جب لاک ڈاؤن لگایا گیا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ مساجد بند کرانے کی سازش ہے۔ حالانکہ وبا کی صورت میں اسلام نے نہ صرف بیمار اور صحت مند کے اکٹھا ہونے سے منع کیا ہے بلکہ دیگر ضروری اقدامات کا بھی حکم دیا ہے۔

    سلام نے ہمیں سنی سُنائی باتوں کو بغیر تصدیق آگے پھیلانے سے منع فرمایا ہے لیکن ہم نے کرونا وبا میں اس نصیحت پر عمل کرنے کی بجائے سنی سنائی باتوں کو مرچ مسالا لگا کر آگے پھیلایا۔

    وہ لوگ جنہوں نے وبا کے عروج کے وقت حفاظتی تدابیر پر یہ کہہ کر عمل نہیں کیا کہ "موت کا جو وقت معین ہے اس سے پہلے نہیں آ سکتی” اور کرونا وائرس ہمیں کچھ نہیں کہتا” وہ لوگ بھی اس وقت ویکسین سے خوفزدہ ہیں۔

    اپساس سروے:
    بین الاقوامی مارکیٹ ریسرچ ادارے ’اپساس‘ کے پاکستان میں ہوئے ایک حالیہ سروے کے مطابق 39 فی صد افراد تاحال کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کو تیار نہیں ہیں۔
    اس سروے میں پوچھا گیا کہ کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے پر کیا آپ اسے لگوائیں گے؟ جس کے جواب میں 61 فی صد افراد نے ہاں جب کہ 39 فی صد نے نفی میں جواب دیا۔

    اس انکار کی وجہ ویکسین کا نئی ہونا نہیں، کیوں کہ کئی سالوں سے حفاظتی ویکسینز استعمال کی جا رہی ہیں اور ویکسین کو کسی بھی نا قابل علاج بیماری سے بچنے کا محفوظ ترین اور موثر ترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
    کرونا وائرس سے جڑے شک شبہات کی طرح اسکی ویکسین کے متعلق موجود بہت سارے ابہام، شک شبہات اور غلط فہمیاں لوگوں کے انکار کی وجہ ہیں۔

    ویکسین کے متعلق غلط فہمیاں:
    ویکسین کے متعلق پہلے افواہ یہ پھیلائی گئی کہ اِس میں ایک چپ موجود ہے جس کے ذریعے نہ صرف لوگوں کی جاسوسی کی جائے گی بلکہ اس سے اُنکا دماغ بھی کنٹرول کیا جائے گا۔ اس افواہ کو تقویت اس طرح ملی کہ کچھ لوگوں نے ویکسین لگنے کی جگہ پر میگنیٹ چپکانے کی ویڈیو شیئر کیں۔ لیکن حقیقت میں اُس ویڈیو کو بنانے کے لیے بغل کے نیچے بھی میگنیٹ چھپایا گیا تھا۔ بہرحال بُہت سارے لوگ ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ویکسین بھی ایک یہودی سازش ہے اور اس میں چپ موجود ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کا ذہن کنٹرول کیا جائے گا۔

    میگنیٹ والی تھیوری کے بعد ایک نئی تھیوری پیش کی گئی کہ ویکسین لگوانے والے دو سال میں وفات پا جائیں گے، اور اس کو تقویت دینے کے لیے ایک نوبل انعام یافتہ سائنس دان کی تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا۔ حقیقت میں اُس تحقیق میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی وجہ سے وائرس کے زیادہ مضبوط ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن یہاں کچھ لوگوں نے اُسکو بالکل تبدیل کر کے پھیلایا۔

    ویکسین سے متعلق اس خوف و ہراس کی وجہ غیر تصدیق شدہ باتوں کا پھیلاؤ ہے۔ ہم لوگ اپنی مشہوری کے لیے نہ صرف خود سے کہانیاں گھڑ لیتے ہیں بلکہ مرچ مسالا لگا کر دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہیں۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہم متعلقہ ماہرین کی تحقیق اور ہدایات پر غیر متعلقہ لوگوں کی ذاتی رائے کو فوقیت دیتے ہیں۔

    ویکسین کے سائڈ ایفیکٹس:

    ویکسینز عموماً بُہت زیادہ محفوظ ہوتی ہیں لیکن ہر ویکسین کے کچھ معمولی سے مضر اثرات ہوتے ہیں۔ جو کہ دراصل ہمارے جِسم کے دفاعی نظام کے فعال ہونے کی نشانی ہوتے ہیں۔ ویکسین لگنے کے بعد عمومی طور پر ہلکا پھلکا بخار، جسم درد، جوڑوں میں درد، ٹیکہ لگنے کی جگہ پر اکڑاؤ اور درد وغیرہ ہو سکتا ہے جو کہ ایک دو دن میں ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن یہ ایک دن کی تکلیف ہمیں جان لیوا بیماری سے بچا لیتی ہے۔

    کچھ لوگوں میں کسی جینیاتی مسئلے کی وجہ سے کچھ شدید سائڈ ایفیکٹس بھی آئے ہیں جن میں خون کا جمنا (آسٹرا زنيكا) اور دل کے مسلز کا ہلکی نوعیت کا انفیکشن (فائزر) شامل ہیں۔ لیکن ان کی شرح تقریباً 0.0004٪ ہے (1000000 افراد میں 4 کیسز) لیکن بیماری کی وجہ سے انہی مسائل کی شرح 16.5٪ ہے(1000000 افراد میں 165000 کیسز)۔

    شرح اموات میں کمی:
    گزشتہ ایک مہینے کے ریکارڈ کے مطابق، امریکہ میں کرونا کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح اُن لوگوں میں زیادہ ہے جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی۔ 99.2 فیصد اموات ویکسین نا لگوانے والوں کی ہوئی ہیں۔(18150 میں سے 18000 اموات ویکسین نا لگوانے والوں کی ہوئی ہیں)

    دُنیا میں ویکسینیشن کی شرح:
    اسرائیل 60٪، بحرین 55٪، انگلینڈ 47٪، امریکہ 45٪
    جرمنی 34٪، ڈنمارک 30٪، فرانس 26٪، کینیڈا 23٪،
    چائنا 16٪، انڈیا 14٪، روس 11٪، پاکستان 2٪
    مندرجہ بالا شرح ویکسین کی دونوں خوراکوں کے حساب سے ہے۔ یہ واضح ہے کہ ویکسین کو جن یہودیوں کی سازش کہا جا رہا ہے اُنہوں نے سب سے زیادہ ویکسینز لگوائی ہیں۔ یاد رہے بیماری ایک سازش ہو سکتی ہے علاج نہیں۔ کیوں کہ علاج کی ضرورت سازش کرنے والوں کو بھی پڑتی ہے۔

    عمومی شک و شبہات اور اُنکے جوابات

    1) کیا واقعی ویکسین میں چپ موجود ہے؟
    بالکل بھی نہیں۔ ویکسین عام طور پر مردہ وائرس یا نقلی وائرس (بیماری پھیلانے والے وائرس کا ہم شکل) سے بنائی جاتی ہے۔ اس میں کسی چپ کی موجودگی ممکن نہیں۔
    بالفرض اگر چپ موجود ہو بھی تو وہ انجکشن میں تیرتی نظر آنی چاہئے جو کہ نہیں آتی، اور چپ کا سرنج سے گزرنا ممکن نہیں۔ اور ایسی چپ بنائی ہی نہیں جا سکی جو عام آنکھ سے نظر نہ آئے۔

    2) کیا ویکسین لگوانے والے 2 سال میں مر جائیں گے؟
    اس سوال کا جواب بھی نہیں میں ہے۔ ویکسینز جان بچانے کیلئے بنائی جاتی ہیں۔ اور آج تک کسی بھی شخص کی موت واقع نہیں ہوئی۔ زندگی اور موت کا اختیار اور علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

    3) کیا ویکسین سے بانجھ پن کا خطرہ ہوگا؟
    کوئی بھی زندہ وائرس صرف متعلقہ بیماری پھیلا سکتا ہے، اور مُردہ وائرس صرف متعلقہ بیماری سے بچا سکتا ہے۔ ویکسین سے کسی اور بیماری کا امکان نہیں ہوتا۔ اور بحثیت مسلمان ہمارا ایمان یہ ہے کہ اولاد دینے کا اختیار بھی صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

    4) زبردستی ویکسین کیوں؟
    انفرادی طور پر کسی بھی شخص کو زبردستی ویکسین نہیں لگائی جاتی۔ لیکن بحثیت معاشرہ ہماری زمہ داری ہے کہ ویکسین لگوا کر اپنے آپ کو محفوظ بنائیں۔ کچھ ادارے اپنی ملازموں کی حفاظت کے لیے ویکسین لگوانے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں کیوں کہ وہاں آپ کے ساتھ کئی دیگر لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ آپ کی وجہ سے کس دوسرے کو بیماری ہو جائے تو زمہ دار آپ ہی ہوں گے۔
    5) جن میں وائرس نہیں اُن میں وائرس کیوں داخل کریں؟
    ویکسینز میں صحتمند وائرس نہیں ہوتا۔ یا تو وائرس کو کیمیکل سے مار دیا جاتا ہے یا اپاہج کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ بیماری نہیں پھیلا سکتے۔ کچھ ویکسینز میں وائرس کی خاص پروٹین (آسان الفاظ میں شکل) کسی دوسرے وائرس میں لگا دی جاتی ہے، جس سے ہمارا جِسم ہوشیار ہو جاتا ہے لیکن بیمار نہیں ہوتا۔

    6) آسٹرا زینیکا ویکسین اور 40 سال سے کم عمر افراد؟
    حال ہی میں لوگوں کی ڈیمانڈ پر پاکستان میں 40 سال سے کم عمر افراد کو آسٹرا زینیکا ویکسین لگانے کا آغاز کیا گیا ہے۔ عام حالات میں ‌‌‌‎آسٹرا زنیکا ویکسین 40 سال سے کم عمر افراد کے لیے نہیں ہے۔ ان کے لیے دیگر ویکسینز موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود 40سال سے کم عمر والا کوئی شخص یہ ویکسین لگوانا چاہتا ہے تو وہ اپنی زمہ داری پر ہی لگوائے گا۔ (گورنمنٹ اس کا مشورہ نہیں دیتی) ۔

    ضرورت اس امر کی ہے ہمیں اپنے اللّٰہ پر کامل یقین رکھتے ہوئے ان افواہوں پر توجہ نہیں دینی چاہئے اور متعلقہ ماہرین کی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے۔

  • امریکہ کا خطرناک منصوبہ. تحریر: رانا عزیر

    امریکہ کا خطرناک منصوبہ. تحریر: رانا عزیر

    ایک علاقے کا چودھری جو عام لوگوں کو کمی سمجھتا تھا، وہ ان سے من چاہے کام اور ان کو پیسوں کے عوض خرید کر ان سے مشکل کام لیتا تھا اور وہ کمی بیچارے زائدہ پسیوں کی خاطر بساط سے بڑھ کر چودھری کا کام کرتے تھے ، لیکن کمیوں کا ایک لڑکا پڑھ لکھ کر جوان ہوا اور وہ بڑا انسان بنتا ہے، اور ایک دن وہ پاکستان کا وزیراعظم بن جاتا ہے، امریکا چونکے پہلے چودھری تھا تو وہ پاکستان کو حقیر نظروں سے دیکھتا ہے. ایسا کیوں ؟ جب نواز شریف نے ایمل کانسی کو امریکا کے ہاتھوں دیا تو ایک امریکی عہدیدار نے کہا پاکستان پیسوں کے لئے اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں، زرداری نے حسین حقانی کے زریعے امریکا کو کہا مجھے پاکستانی فوج سے بچا لیں، مشرف نے ایک کال پر فوجی اڈے دیا. تو امریکا اس دور کا عادی تھا جب پاکستان ایک فون کال پر ڈھیر ہوجاتا تھا. تو اب ایک وزیراعظم آیا ہے جس نے پاکستان کی تاریخ بدل کر رکھ دی ہے.

    لیکن یہ سب اک طرف لیکن جوبائیڈن اب کس طرح اس چیز کو ہنڈل کرے گا؟ ظاہر ہے وہ اس طرح سے ہار ماننے والا نہیں ، کیونکہ وہ ایک چودھری ہے تو چودھری کی شان میں فرق ہے. اب امریکا کا پلان کیا ہے ؟ وہ افغانستان میں کیا کرنے والا ہے ؟ دراصل امریکا پاکستان کو ایران ، عراق اور دیگر واسطی اشیائی مملک کے ساتھ توانائی کا کوریڈور تباہ کرنا چاہتا ہے. یہ ایک بہت بڑی پائپ لائن ہے جوعراق سے شروع ہوتی ہے ، پاکستان کے زریعے ہوتی ہوئی، ہمالیہ اور کشمیر سی چین تک جائے گی، اس سے تیل چین جائے گا اور چائنیز انویسٹمنٹ مشرق وسطیٰ تک جائے گی جس سے چین مزید مظبوط ہوگا اور امریکا کا پتا ہمیشہ کے لئے صاف ہوجاے گا اور جب اس پورے خطے سے امیرکا جائے گا تو CPEC افغانستان تک جائے گا اور یہ یہ کوریڈور بن جائے گا، تو امریکا اس چیز کو روکنا چاہتا ہے. اب امریکا پاکستان کی کیسے تباہی کرسکتا ہے ؟ ایک یہ ڈائریکٹ حملہ کرے گا، لیکن وہ نہیں کر سکتا ایک تو پاکستان بہت بڑا ہے دوسرا پاکستان ایٹمی ملک ہے، اس کے پاس اب ایک راستہ ہے جسے پاکستان کو روکنا ہوگا،

    امریکا کا پلان یہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی پشتون آبادی اور بلوچ کارڈکھیل کر پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے تاکہ پاکستان کو توڑ دیا جائے، اس امریکا PTM اور BLA جیسی اپنی proxies کا سہارا لے گا. اس کے لئے ہماری پاک فوج بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سینکڑوں دہشتگردوں کو پکڑ چکا ہے جو اس طرح کی ہوا دینے کے منصوبے سے آئے تھے.

    تو امریکا اس طرح کی صورتحال پیدا کرنے کی منصوبہ بندیاں کر رہا ہے، لیکن اگر امریکا قطر میں اڈے لیتا ہے تو وہ پھر بھی پاکستان کے زمینی راستے کا محتاج ہے کیوںکہ اس کی ہیوی مشینری افغانستان میں مجود ہے جو وہ چاہتا ہے کہ وہ افغان طالبان اور پاکستان اور چین کے ہاتھ نہ لگ جائے. تو جوبڈن کیلئے عمران خان کو کال کرنا اسکی مجبوری ہے.

  • ,”ڈو مور سے نو مور تک” تحریر:محمد محسن

    ,”ڈو مور سے نو مور تک” تحریر:محمد محسن

    چند دن پہلے آپ نے Absolutely Not کی تو خوب دھوم سنی ہو گی۔ عمران خان کے امریکی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں جب پاکستان سے فضائی اڈوں کا مطالبہ کیا گیا تو بدلے میں ملنے والے بیان نے اینکر پرسن کو حیرانی میں مبتلا کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ پاکستانی حکمران ٹی وی پر بیٹھا جب لائیو انٹرویو دے رہا ہو گا تو تاریخی معمول کے مطابق ہاں بولے گا یا پھر شاید بات کو گھما پھرا دے گا۔ لیکن اس کو کیا معلوم تھا کہ اس بار تو ساری گیم ہی الٹ جائے گی۔ اس واضح نا نے تو عالمی منظر نامے پر اک کھلبلی مچا کر رکھ دی۔ کھلبلی مچتی بھی کیوں نہ کیونکہ ہمیشہ سے ہمارا یہ معمول رہا کہ جب بھی امریکہ مدد کے لیے ہمارے پاس آیا تو ہم نے ان کے لیے دل و جان سے انکی خوب آہ و بھگت کی اور ان کو ہر ممکن بلکہ نا ممکن مدد بھی فراہم کی سوائے چند اک مواقعوں کے۔ دل میں یہی تمنا لیے اس دفعہ بھی پہلے امریکی انٹیلیجنس کا ڈائریکٹر اور بعد میں ٹی وی اینکر آئے لیکن دونوں کو کوئی خاص لفٹ نہیں کروائی گئی۔ ماضی میں کیا کیا ہوتا رہا آئیے پہلے اک نظر اس پہ ڈال لیتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد اس وقت کی دونوں سپر پاورز کے انویٹیشنز پاکستان کو موصول ہوئے۔ سوویت یونین کے تعلقات پہلے سے ہی انڈیا خاص طور پر نہرو فیملی سے اچھے ہونے کی بنا پر اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نے امریکہ کو منتخب کیا۔ جس پر تب سے لیکر آج تک تنقید ہوتی آئی ہے۔ خیر تب کے حالات کے مطابق جو ان کو بہتر لگا انہوں نے کیا۔ ہمیں انڈیا کے مقابلے میں اک ایسا طاقتور حلیف چاہیئے تھا جو مشکل میں ہماری مدد کر سکتا ۔ دوسری جانب امریکہ کو ساؤتھ ایشیاء میں اک ایسا حامی ملک چاہیئے تھا جو اس خطہ میں سوویت یونین کا پھیلاؤ روکنے میں اسکا مددگار ثابت ہو۔ لہٰذا لیاقت علی خان کے دور میں پہلی بار امریکہ نے پاکستانی سر زمین میں اڈے مانگے لیکن لیاقت علی خان نے انکار کردیا۔ یہ انکار دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں سرد مہری کا باعث نہ بنا جیسا کہ عموماً ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایوب خان کے دور تک پاکستان مختلف امریکی فوجی اتحادوں میں ان کے ساتھ شامل ہوا جسکی بدولت پاکستان کو فوجی اور معاشی امداد ملتی رہی۔ اسی دوران میں حسین شہید سہروردی وہ پہلا پاکستانی وزیر اعظم تھا جس نے 1956 میں پشاور کا ائیر سٹیشن امریکہ کو لیز پر دیا تاکہ وہ سوویت یونین کی جنوبی ایشیاء میں بڑھوتری پر اک نظر رکھ سکے۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے اک ایسا سلسلہ شروع ہو جو کہ اکیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہا۔ ایوب خان کے دور میں تو باہمی تعلقات نقطہء عروج تک جا پہنچے وہ تو پاکستان- انڈیا کی 1965 کی جنگ شروع ہو گئی جس نے امریکی عیاری کو ظاہر کر دیا نہیں تو شاید وہ اک وقفہ جو اس جنگ کے بعد رونما ہوا کبھی نہ ہوتا۔ اسی اک مختصر وقفہ کے دوران پاکستان نے امریکہ کے علاؤہ دوسرے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے شروع کر دئیے۔

    پاکستان-انڈیا کی 1965 اور 1971 کی یکے بعد دیگرے جنگوں نے امریکی دوستی کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔ جسکی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آتے ہی سوویت یونین اور چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے شروع کر دئیے تھے۔ بھٹو کو بہرحال یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس وقت بھٹو نے پہلے والی غلطی نہ دہرائی۔ بھٹو نے چین اور سوویت یونین کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات بحال رکھے جسکی وجہ سے اس نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے امریکہ اور چین کے تعلقات کی راہ ہموار کی۔ بھٹو سوویت یونین سے انویسٹمنٹ لے کر آیا جسکی بدولت پاکستان میں سٹیل مل لگی۔ اس دوران میں چین ابھی اتنا طاقتور اور اہم نہیں تھا کہ اس پر مکمل انحصار کیا جاتا۔ دوسرا بھٹو کیپیٹل ازم کی بجائے سوشلزم کو زیادہ اہمیت دیتا تھا۔ اگرچہ اس دورانیہ میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی لیکن پھر بھی امریکہ نے بھٹو کو اپنے پیش نظر رکھا جسکی سب سے بڑی وجہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا۔ ایوب خان کے دور کے بعد تعلقات جس سرد مہری کا شکار ہوئے تھے وہ ضیاء الحق کے آنے کے بعد گرمجوشی میں بدل گئے۔ ضیاء الحق پاکستان کا شاید پہلا حکمران تھا جس کو امریکہ میں فرسٹ کلاس پروٹوکول دیا گیا۔ وہ ڈیمانڈز جو ہوائی اڈوں پر منحصر ہوتی تھی اب کی بار بہت آگے چلی گئیں۔ قصہ مختصر یہ کہ پاکستان اک پرائ جنگ میں کود پڑا جس میں نہ صرف اڈے دئے گئے بلکہ انٹیلیجنس، ٹریننگ کے ساتھ ساتھ لڑنے کے لیے مجاہدین بھی فراہم کیے گئے۔ اس کے بدلے میں خوب امداد بھی ملی۔ سوویت یونین کی فوجوں کے انخلاء کے ساتھ ہی پاکستان پر شدید معاشی پانبدیاں لگا دی گئیں جو کہ اکیسویں صدی تک جاری رہیں۔ مجاہدین کی سوویت یونین کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد وہی امریکہ جس کو پتہ تھا کہ پاکستان ایٹمی پروگرام پر کام کر رہا ہے نے فوراً پاکستان پر شدید قسم کی معاشی پانبدیاں لگا دیں۔ جنگ کے بدلے میں ملنے والی فوجی اور معاشی امداد کو فوراً بند کر دیا گیا۔ مختصر یہ کہ بیسویں صدی کا آخری عشرہ پاکستان کے لیے بہت تنگدستی والا عشرہ تھا۔ وہ تو بھلا ہو چین اور سعودی عرب کا جنہوں نے اس مشکل ترین صورتحال میں بھی پاکستان کا ساتھ دیا۔ 9/11 کے بعد افغانستان میں وار آن ٹیرر شروع کی گئی اور وہی امریکہ جو 1989 کے بعد ہمرے طرف سے منہ فیر گیا تھا اک بار پھر بھاگا بھاگا پاکستان کے پاس آیا اور مدد طلب کی جس میں فوجی اڈے سرفہرست تھے۔ اس بار انکا خیال تھا کہ پاکستان یا تو فوجی اڈے نہیں دے گا یا پھر سخت شرائط منوائے گا جس کہ لیے وہ پہلے سے ہی تیار تھے۔ لیکن قربان جائیں اپنے جنرل پرویز مشرف سے جنہوں نے سب کی سب امریکی شرائط کو من و عن یہ کہہ کر قبول کر لیا کہ پاکستان کے پاس اس کے علاؤہ اور کوئی آپشن ہی نہیں تھی۔ وہ امریکہ جو اپنی شرائط میں سے کچھ کے مانے جانے پر مرکوز تھا اسکی سب شرائط کو تسلیم کر لیا گیا۔ اس بات پر امریکی خود بھی شسدر رہ گئے کہ وہ پاکستان جس کو ہمیشہ ہم نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا اس نے پھر ان کا بھرپور ساتھ دینے کی حامی بھر لی۔ خیر یہاں سے نا تو امریکی پھولے نہ سما رہے تھے اور نہ ہی مشرف کی کابینہ۔ یہاں سے پاکستان میں ڈرون حملوں اور ڈو مور کا اک ایسا سلسلہ شروع ہو جو کہ عمران خان کے آنے تک جاری رہا۔

    یہ ڈرون حملے اور ڈو مور کا تانا بانا مشرف دور سے شروع ہوا اور پیپلز پارٹی کے دور میں اپنے عروج پر پہنچا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اک طرف تو ڈرون حملوں کی اجازت دیتی رہی تو دوسری طرف انکو تنقید کا نشانہ بھی بناتی رہی۔ وہ تو بعد میں وکی لیکس کے دوران یہ واضح ہوا کہ پیپلز پارٹی نے تو ان ڈرون حملوں کے بارے میں ڈبل سٹینڈرڈز پالیسی اختیار ہوئی تھی۔ ہماری جنریشن کو جب تھوڑی بہت سیاست کی سمجھ آنے لگی تب سے ہم تو امریکہ کی جانب سے اک ہی آرڈر سنتے آئے ہیں "ڈو مور”. یہ ڈو مور کا سلسلہ بش جونیئر سے شروع ہوا اور اب شاید اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ جارج بش، کی دو ٹرمز اور اس کے بعد باراک اوباما کی دونوں ٹرمز تک یہ اپنے فل آب و تاب سے جاری رہا۔ ہمارے جیسے بچے تب سوچتے تھے کہ کیا مجبوری ہے کہ اک امریکی صدر یا کوئی امریکی حکومت کا نمائندہ جب بھی پاکستان آتا ہے یا یہاں سے ہمارے حکمران وہاں جاتے ہیں تو ڈو مور کی ہی آواز آتی ہے۔ ویسے کیسی پالیسی تھی کہ پاکستان نے اپنے ہی اڈے دیئے اور اپنے ہی لوگ ان کے ہاتھوں سے مروا رہے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ جو دہشت گرد تھے ان کے خلاف آپریشن کیا جاتا لیکن کسی نے سوچا کہ اب تک تقریباً اسی ہزار مرنے والے پاکستانیوں میں سے کتنے دہشت گرد تھے اور کتنے معصوم۔ عمران خان نے ہماری جنریشن کو اسی لی ہی فیسینیٹ کیا کہ یہ بندہ واحد تھا جس نے ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کی مخالفت کی۔ اسی لیے پاکستانیوں خاص طور پر یوتھ نے اسکا ساتھ دیا کہ یہ بندہ کچھ کرے گا۔ ہاں اگرچہ حکومت میں آنے کے بعد عمران خان نے اپنے کئی وعدے پورے نہیں کیے لیکن اک بات پر قائم رہا کہ امریکہ کے ساتھ برابری کے تعلقات ہوں گے اگر ہوئے تو۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آیا تو اس نے آتے ہی پاکستان کے متعلق اپنے پہلے ٹویٹ میں کچھ ایسی زبان استعمال کی جسکا عرف عام میں مطلب ڈو مور تھا۔ لیکن جوابی ٹویٹ میں عمران خان نے بھی وہی لہجہ استعمال کیا ۔ جب عمران خان امریکی دورے پر گیا تو معمول سے ہٹ کر پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس نے روایتی حکمرانوں کی طرح امداد کی بھیک نہیں مانگی یہاں تک کہ امداد کا لفظ تک استعمال نہیں کیا۔ پچھلے ہفتہ میں امریکی ٹی وی دئیے جانے والے انٹرویو میں عمران خان نے امریکہ کے متعلق وہی رویہ، وہی پالیسی اختیار کی جسکا ذکر پچھلے بیس سالوں سے کرتا آرہا تھا۔ خیر عمران خان نے absolutely not تو کہہ دیا اب امریکہ اور ایورپ کی جانب سے اسکا ری ایکشن بھی آسکتا ہے جس کے لیے پاکستان کو تیار رہنا ہوگا۔ عمران خان نے لیاقت علی خان کی طرح جو پالیسی آج اختیار کی اگر یہ پالیسی پاکستانی حکمران شروع سے اختیار کرتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ آج پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہو چکا ہوتا۔ آج پاکستان آئی۔ایم۔ایف، ورلڈ بینک اور فیٹیف پر انحصار نہ کر رہا ہوتا کیونکہ انہی اداروں اور امریکہ نے شروع سے پاکستان کو اپنی امداد پر لگا دیا جسکی وجہ سے ہم آج تک معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہو سکے اور نہ ہی ہم نے اس کے لیے تگ و دو کی۔

  • ظلمت کے راستے .تحریر : ریحانہ جدون

    ظلمت کے راستے .تحریر : ریحانہ جدون

    ظلمت اور نور کے دو راستے ہیں جب ھم اللہ تعالٰی کی باتیں مانتے ھیں تو نور کا راستہ اختیار ھو جاتا ھے اور جب ھم شیطان کا راستہ اختیار کرتے ھیں تو ظلمت کا راستہ بن جاتا ھے اللہ تعالیٰ نے جتنی باتیں کہی ھیں اور جتنا فرمان الٰہی ھے اس کے کرنے سے ھم نور کے راستے میں آجا تے ہیں اور اگر شیطان کی باتوں میں آجاتے ھیں تو ظلمت میں آجاتے ہیں
    اور جس طرح جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے اسی طرح جب کسی قوم میں انصاف کا نظام سہی نہ ہو وہ قومیں تباہ ہوجاتیں ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے یہاں ہر چیز خواہ وہ زندگی ہو, موت ہو, عزت ہو , غیرت ہو یا انصاف ہو سب بک جاتا ہے.
    سچ کے نام پہ جھوٹ بِکتا ہے قابلیت کے نام پہ جہالت بکتی ہے, پیسے کے نام پر یہاں سب کچھ بِکتا ہے.
    ایک غریب سے اگر چھوٹا سا جرم ہوجائے تو اُسکی ساری زندگی یا تو پیشیاں بھگتنے میں یا پھر جیل میں گزر جاتی ہے , ہاں اگر آ پکے پاس پیسہ ہے تو اتوار کو بھی عدالت آ پکا کیس سننے کے لئے لگائی جاسکتی ہے.
    افسوس کئی بےگناہ جیل میں ہی وفات پا گئے اور اُنکی وفات کے بعد عدالت نے اُنکو بےگناہ قرار دیا جی ہاں یہ ہے غریب کے لئے انصاف کی رفتار

    کیا انصاف کی فراہمی ہر پاکستانی کا بنیادی حق نہیں ہے, اگر انصاف کی فراہمی ہر پاکستانی کا حق ہے تو چھوٹے موٹے مقدمات کی سماعت میں 5 سے 7 سال کیوں لگ جاتے ہیں ؟؟
    کیوں غریب انسان عدالتی نظام کو بددعائیں دیتا نظر آ تا ہے؟

    جواب اسکا آ سان ہے غریب کی درخواست ہزاروں فائلوں کے نیچے دب جاتی ہے. اس مفلوج نظام سے ملک وقوم کو انصاف کی امیدیں وابستہ ہیں لفظ آ یا ہے قوم تو ایک سوا ل اور پوچھنا چاہتی ہوں وہ یہ کہ کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟؟
    افسوس اس معاشرے میں اتنا بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اس میں رہنے کے لئے اپنے ضمیر کو مارنا ہوگا جو سچ بولتے ہیں ان کو چپ کروانا ہوگا…..
    انصاف کے لئے عدل کے ترازو میں رشوت اور اپنے حق کے لئے سفارشی کلچر اپنانا ہوگا کیونکہ یہاں انسانی جان تک کی کوئی قدر و قیمت نہیں, یہاں انسانی خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ سڑک پہ کوئی انسان ایڑیاں رگڑ کر مر رہا ہو تو لوگ اُسکو دیکھ کے رکیں گے ضرور ( ویڈیو بنانےکے لئے)
    مگر اُسکی مدد نہیں کریں گے.
    حقیقت میں ہم ایک قوم ہے ہی نہیں بلکہ لوگوں کا ہجوم ہیں جو اپنے اپنے مفادات کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے اور زلت اسکا مقدر بنتی جارہی ہے .
    دیکھا جائے تو یہاں نفرت بیچنے والے بھی جا بجا دکھائی دیتے ہیں جو محبت کی بجائے فرقہ پرستی کی تجارت کرتے ہیں
    یہاں سستے داموں اپنی مرضی کےفتوے مُفتی سے
    آ سانی سے مل جاتے ہیں …..
    ہمیں اس ظلمت کے راستے سے واپس اُجالوں کی طرف لوٹنا ہوگا, خوشحالی ہماری منزل ہے ترقی کی راہیں ہماری منتظر ہیں, ہمیں اندھیروں سے پیچھا چھڑانا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہر ایک اپنے حصے کی زمہ داری پوری ایمانداری سے نبھا ئے گا

  • ٹیم کی سلیکشن میں میرٹ کو نظر انداز کردیا

    ٹیم کی سلیکشن میں میرٹ کو نظر انداز کردیا

    لاہور کی چھ ٹیموں کی سلیکشن میں میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئیں، کرکٹ آرگنائزرز سلیکشن کے طریقہ کار اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے پر حیران ہیں، سابق کپتان رمیز راجہ، انضمام الحق ،اکرم رضا،منصور راناکے بیٹوں کو باصلاحیت کِھلاڑیوں پر فوقیت دینے کا انکشاف ہوا ہے، ویسٹ زون میں کھیلنے والے رمیز راجہ کے بیٹے حیدر رمیز راجہ کو نارتھ زون میں شامل کرلیا گیا ہے، اکرم رضا کے بیٹے ذیشان اکرم اور انضمام الحق کے بیٹے ابتسام الحق ایسٹ زون کی ٹیموں میں شامل کیا گیا ہے، منصور رانا کے بیٹے دانیال رانا کو ایسٹ زون کی ایک ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، ایسٹ زون کی ٹیم میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے معظم حیات کو شامل کردیا گیا ہے، آصف گوندل، آصف غفور، زبیر ملک کی سلیکشن پر بھی تحفظات سامنے آرہے ہیں، ٹیموں نے سلیکشن کے معاملے پر اہم کرکٹ آرگنائزرز کے بورڈ سے رابطے کرلیا ہے، آرگنائزرز نے سلیکشن میں سامنے آنے والی من مانیوں کی نشاندہی کردی ہے.
    آرگنائزرز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل میچ کروانا ضروری تھا تو تمام کھلاڑیوں کو طلب کیا جانا چاہیے تھا، ٹرائل میچ میں صرف 75 کھلاڑیوں کو طلب کیا جانا ٹرائلز کے پورے عمل کو مشکوک بناتا ہے.

  • آرچری کے مقابلوں کی  تاریخ کا اعلان کردیا گیا

    آرچری کے مقابلوں کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا

    ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے سپورٹس بورڈ پنجاب آرچری اکیڈمی کا دورہ کیا ہے، ڈائریکٹر سپورٹس محمد حفیظ بھٹی نے سپورٹس بورڈ پنجاب آرچری اکیڈمی کے امور بارے بریفنگ دی گئی، اکیڈمی میں کھلاڑیوں کا پریکٹس میچ بھی دیکھا، مسائل سُنے اور موقع پر احکامات جاری کِے، انہوں نے خود بھی تیر اندازی کر کے اپنی مہارت دکھائی ہے،اس موقع پر انہوں نے کھلاڑیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 9 اور 10 جولائی کو بھوربن میں آرچری چیمپئن شپ کروا رہے ہیں، مختلف شہروں میں آرچری سنٹرز بنائیں جائیں گے، سپورٹس بورڈ تیراندازی کے فروغ کیلئے کام کررہا ہے.
    سپورٹس بورڈ پنجاب آرچری اکیڈمی میں کوچ تیمور اور ٹرینر دانش عباس نے ڈی جی سپورٹس پنجاب کو ٹیکنیکل معاملات پر بریفنگ دی گئی.

  • حُسنِ اَخلاق .تحریر:مبین خان

    حُسنِ اَخلاق .تحریر:مبین خان

    حسن اَخلاق کی ایک پہلو کے اعتبار سے تعریف:‏
    ’’حسن‘‘ اچھائی اور خوبصورتی کو کہتے ہیں، ’’اَخلاق‘‘ جمع ہے ’’خلق‘‘ کی جس کا معنی ہے ’’رویہ، برتاؤ، عادت‘‘۔یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے رویے یا اچھے برتاؤ یا اچھی عادات کو حسن اَخلاق کہا جاتا ہے۔امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:

    ’’اگر نفس میں موجود کیفیت ایسی ہو کہ اس کے باعث عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ اچھے اَفعال ادا ہوں تو اسے حسن اَخلاق کہتے ہیں اور اگر عقلی اور شرعی طور پر ناپسندیدہ برے اَفعال ادا ہوں تو اسے بداَخلاقی سے تعبیر کیاجاتا ہے۔‘‘
    حسن اَخلاق میں شامل نیک اعمال:

    حقیقت میں حسن اَخلاق کا مفہوم بہت وسیع ہے، اس میں کئی نیک اعمال شامل ہیں چند اعمال یہ ہیں:معافی کو اختیار کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا،جاہلوں سے اعراض کرنا، قطع تعلق کرنے والے سے صلہ رحمی کرنا،محروم کرنے والے کو عطا کرنا،ظلم کرنے والے کو معاف کردینا،خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا،کسی کو تکلیف نہ دینا،نرم مزاجی، بردباری، غصے کے وقت خود پر قابو پالینا، غصہ پی جانا، عفو ودرگزر سے کام لینا، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا، مسلمان بھائی کے لیے مسکرانا، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا، لوگوں میں صلح کروانا، حقوق العباد کی ادائیگی کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا، دعائے مغفرت کرنا، کسی کی پریشانی دور کرنا، کمزوروں کی کفالت کرنا، لاوارث بچوں کی تربیت کرنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا، بڑوں کا احترام کرنا، علماء کا ادب کرنا، مسلمانوں کو کھانا کھلانا، مسلمانوں کو لباس پہنانا، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا ، مشقتوں کو برداشت کرنا، حرام سے بچنا، حلال حاصل کرنا، اہل وعیال پر خرچ میں کشادگی کرنا۔ وغیرہ:
    آیت مبارکہ:‏

    اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:( وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴))(پ۲۹، القلم: ۴)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے ۔‘‘اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے:حضرت اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سیّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خُلْق قرآن ہے ۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی نے مجھے مَکارِمِ اَخلاق و محاسنِ افعال کی تکمیل وتتمیم (مکمل وپورا کرنے)کے لئے مبعوث فرمایا ۔

    ترے خُلْق کو حق نے عظیم کہا

    تر ی خِلْق کو حق نے جمیل کیا
    کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا!

    (حدیث مبارکہ) میزان عمل میں سب سے وزنی شے:

    حضرتِ سیِّدُناابودَرْداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ باقرینہ ہے: ’’ قیامت کے دن مؤمن کے میزان میں حسنِ اَخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں ہو گی۔‘‘

    حسن اَخلاق کا حکم:
    حسن اخلاق کے مختلف پہلو ہیں اسی وجہ سے بعض صورتوں میں حسن اخلاق واجب، بعض میں سنت اور بعض صورتوں میں مستحب ہے۔
    حسن اَخلاق اپنانے کے دس(10)طریقے:
    (1)اچھی صحبت اِختیار کیجئے:
    (2) حسن اَخلاق کے فضائل کا مطالعہ کیجئے:
    (3)بداَخلاقی کی دُنیوی واُخروی برائیوں پر غور کیجئے:
    (4)حسن اَخلاق میں شامل نیک اَعمال کی معلومات حاصل کیجئے:
    (5)دِل میں احترامِ مسلم پیدا کیجئے:
    (6)نفسانی خواہشات سےپرہیز کیجیے:‏
    (7)حسن اَخلاق کی بارگاہِ اِلٰہی میں دعا کیجئے:
    (8)بُرائی کا جواب اچھائی سے دیجیے:
    (9)بد اَخلاقی کے اَسباب کو دُور کیجئے:
    (10)بلا وجہ غصہ چھوڑ دیجیے:

    تحریر مبین خان

  • صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    دنیا کی ایک تحقیق بھی یہ ثابت نہیں کرسکی کہ کھانے کے بعد Cold Drink پینے سے کھانا ہضم ہوجاتا ہے۔کھانے کے بعد ڈکار (Burp) آنے کو ہم کھانا ہضم ہونے کی علامت سمجھتے ہیں ، جو کہ غلط ہے۔
    دراصل ڈکار آنا کھانا ہضم ہونے کی علامت نہیں بلکہ جب ہم کھانا تیزی سے کھاتے ہیں تو ہمارے پیٹ میں کھانے کے ساتھ ساتھ ہوا (air) بھی چلی جاتی ہے۔ پھر جب ہم کھانے سے فراغت حاصل کر لیتے ہیں تو ہمارے پیٹ میں داخل ہوا (air) منہ کے راستہ سے باہر آتی ہے جس کی وجہ سے ایک آواز پیدا ہوتی ہے جسے ہم ڈکار (burp) کہتے ہیں۔
    کوشش کریں کہ کھانے کے آخر میں پانی نہ پیا جائے کیونکہ کھانے کے آخر میں پانی پینا کھانے کو ہضم کرنے میں رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔

    کیونکہ جب کھانا انسانی پیٹ میں جاتا ہے تو چھوٹے چھوٹے ذرّات کی صورت میں ہوتا ہے مگر جب کھانے کے اوپر سے پانی پی لیا جائے یاں کوئی بھی liquid پی لیا جائے تو کھانے کے ذرّات بڑے بڑے ہوجاتے ہیں جو کھانا ہضم کرنے میں رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔
    انسانی زندگی کے بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب Cold Drink کا استعمال بہت زیادہ ہوجاتا ہے مثلاً شادی بیاہ ، پارٹیز اور عید جیسی تقریبات کے موقع پر۔

    تو یاد رکھیں صرف ایک Cold Drink کا can جو 330 ملی لیٹر پر مشتمل ہوتا ہے اُس میں 9.75 چائے کے چمچ کے برابر چینی (sugar) شامل ہوتی ہے یعنی 330 ملی لیٹر کولڈ ڈرنک کا can جب انسان کے پیٹ میں جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ کہ liquid کے ساتھ ساتھ 39 گرام چینی (sugar) بھی انسان کے پیٹ میں جارہی ہوتی ہے
    جس کی وجہ سے انسان کے جسم میں diabetes ، bloodpressure ، وزن میں اضافہ اور جگر کے امراض جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں تو کوشش کریں کولڈ ڈرنکس کی جگہ تازہ پھلوں سے تیار کردہ juice کا استعمال کریں جس کے حقیقتاً فوائد ہیں۔

    اللہ پاک ہمیں طرح طرح کی بیماریوں سے محفوظ فرمائے۔
    اپنی صحت کا خیال رکھیں کیونکہ ” صحت عظیم نعمت ہے۔”

  • گمان  تحریر:   سیف اللہ عمران

    گمان تحریر: سیف اللہ عمران

    گمان ۔۔۔۔تحریر:: عمران علی

    یقین کچے گھڑے کو پکا رنگ دیتا ہے اور گمان محلات میں رہ کر لرزتا ہے، خوفزدہ ہوتا ہے زرا سہمہ رہتا ہے

    آپ کے گمان پر آپ کی زندگی کا تسلسل ہے

    مطلب کہ آپ جس چیز کا گمان زیادہ کر لیں کہ یہ ایسی ہے. تو آگے چل کر آپ کو وہی کچھ ملے گا جیسا آپ نے گمان کیا

    اللہ پاک فرماتے ہیں اے میرے بندے تومجھ سے جیسا گمان کرے گا میں تجھ سے تیرےگمان کے مطابق معاملہ کرتا رہوں گا پختہ یقین منزل کو قدموں کی دھول بنا دیتا ہے اللہ پر یقین مثبت سوچ اور مضبوط ارادہ جس کے کردار اور شخصیت ہوں وہ ماحول میں نہیں ماحول خود ان میں ڈھلتا ہے کیوں کہ انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی نہیں مانتا

    عبرت اور مقدر میں بڑا فرق ہے
    کچھ لوگ عبرت حاصل کرکے مقدر سنوار لیتے ہیں.
    اور کچھ لوگ مقدر پر چھوڑ کر عبرت بن جاتے ہیں.

    تمھیں پتہ ہے تمہارا مسئلہ کیا ہے ۔۔۔؟
    تم نے اپنے فیصلے اللہ پر چھوڑ تو دیے ہیں مگر دل سے نہیں چھوڑے تم اب بھی چاہتے ہو کہ کاش فیصلہ وہی ہو جو تمہاری خواہش ہے

    یہ کیسا اعتبار ہے بھلا ۔۔۔؟
    سمندر کے بیچ کھڑے شخص کو اس بات سے کیا غرض کشتی آر لگے یہ پار اسے تو بس یہ یقین ہونا چاہیے٬
    میں ڈوب بھی گیا تو یہ میرے لیے آر پار جانے سے بہتر ہوگا
    یہی تو اعتبار امتحان ہے
    اللہ جتنی محبت اپنے بندے سے کرتا ہے آپ کے گمان سے بھی آگے ہے ہم صرف دیکھتے ہیں جو ظاہری خوبصورتی ہے جب کے اللہ یہ بھی جانتا ہے آپ کے لیے کیاخوب صورت ہے
    یقین کرو جس دن اس اعتبار پے فیصلہ اللہ پے چھوڑو گے کہ جو بھی ہوا میرے لیے وہی بہترین ہوگا اس دن نہ صرف آپ بےچینی سے نکل آئیں گے بلکہ فیصلہ آپ کے یقین سے ذیادہ بہترین ہوگا کیوں کہ اللہ ساری دنیا اور لوگوں کے دلوں سمیت ان کی سوچ کے رخ تک بدلنے پے قادر ہے۔

  • کیڈٹ کالج کی فیسوں میں 10 فیصد اضافہ پر وزیر اعلیٰ نے بڑا حکم سنا دیا

    کیڈٹ کالج کی فیسوں میں 10 فیصد اضافہ پر وزیر اعلیٰ نے بڑا حکم سنا دیا

    کیڈٹ کالج سوات کے بورڈ آف گورنرز کا چھٹا اجلاس وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کیڈٹ کالج میں باقی ماندہ تعمیراتی کاموں کیلئے نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان کی منظوری دے دی گئی ہے، پلان کے تحت چھ مختلف مرحلوں میں تعمیراتی کاموں کا عمل مکمل کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں رہائشی ہاسٹل، مسجد، کثیر المقاصد ہال اور ٹراما سنٹر تعمیر کئے جائیں گے، دوسرے مرحلے میں سیوریج، لانڈری، گریڈ 1تا6 ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس ، تیسرے مرحلے میں گریڈ 7تا16 ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس، اسپورٹس کمپلیکس، چوتھے مرحلے میں گریڈ17 سے اوپر کے ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس، اسٹاف بیرک، پانچویں مرحلے میں سکواش کورٹ، سوئمنگ پول اور رائیڈنگ کلب جبکہ چھٹے مرحلے میں پرنسپل ہاﺅس، لنک روڈز اور دیگر انفراسٹرکچر تعمیر کئے جائیں گے.
    جنرل آفیسر کمانڈنگ 21 آرٹلری ڈویژن، سیکرٹری ابتدائی و ثانونی تعلیم، سیکرٹری منصوبہ بندی، سیکرٹری خزانہ، کمشنر ملاکنڈ، چیئرمین بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سوات، پرنسپل کیڈٹ کالج سوات کے علاوہ بورڈ آف گورنر کے دیگر ممبران نے بھی اجلاس میں شرکت کی ہے، اجلاس کے شرکاء کو بورڈ آف گورنر کے سابقہ اجلاس میں کئے گے فیصلوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں پیشرفت کے علاوہ ادارے میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں، ادارے کی مجموعی کارکردگی، مالی و انتظامی اُمور میں درپیش مسائل اور دیگر اُمور پر بریفینگ دی گئی ہے، بورڈ آف گورنرز نے مالی سال 2020-21 کے لئے ادارے کے اخراجات کی توثیق کے علاوہ مالی سال 2021-22 کیلئے بجٹ کی بھی منظوری دے دی ہے، اجلاس میں ادارے کی فنانس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے طریقہ کار کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، وزیراعلیٰ نے کیڈٹ کالج سوات کی فیسوں میں 10 فیصد سالانہ اضافے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں طلباء اور اُن کے والدین پر کسی صورت بھی اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا ہے، اُنہوں نے کہا کہ اضافی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے حکومت اداروں کو خصوصی گرانٹ دینے پر غور کرے گی، اس موقع پر وزیراعلیٰ نے رحمتہ اللعالمین سکالر شپ پروگرام کے تحت کیڈٹ کالجوں کے مستحق طلباء کو بھی سکالرشپ دینے کا اعلان کیا ہے، کیڈٹ کالج کیلئے فیس پالیسی کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، تاہم وزیراعلیٰ نے ادارے کے حکام کو فیس چارجز کو حقیقت پسندانہ بنانے اور چھٹیوں کے دوران طلباء سے میس چارجز کی مد میں وصولیاں نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، بورڈ آف گورنر نے ادارے میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے بطور پائلٹ پراجیکٹ اکیڈمک بلاک کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، اسی طرح اجلاس میں کیڈٹ کالج سوات میںگیارہویں کلاس میں داخلوں کیلئے میرٹ فارمولے میں چند ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، کیڈٹ کالج سوات کو پورے ملاکنڈ ڈویژن میں معیاری تعلیم کی فراہمی کا ایک اہم ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ اس ادارے سے اب تک 637 کیڈٹ فارغ التحصیل ہو کر آرمی، میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس ادارے کی مزید تعمیر و ترقی اور اس کے مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، اُنہوں نے کالج انتظامیہ کو نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان کے مطابق انفراسٹرکچر کی تعمیر پر جلد کام شروع کرنے اور اگلے دو سالوں کے اندر اس کی تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے.