Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بجٹ میں سے کیا اچھا نکلا؟ِ تحریر: نوید شیخ

    بجٹ میں سے کیا اچھا نکلا؟ِ تحریر: نوید شیخ

    بجٹ میں سے کیا اچھا نکلا؟ِ تحریر: نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بجٹ غلط دعووں پر اور غلط اعدادوشمار پر مبنی ہے۔ البتہ اس میں عوام کے لیے کچھ ریلیف ہے۔ خامیوں کی تو ایک لمبی فہرست ہے اسکی مکمل تفصیل بھی بتاوں مگر کچھ اچھی چیزیں بھی ہیں وہ بتانا بھی ضروری ہے ۔

    ۔ سب سے پہلے آبی تحفظ کو بجٹ میں اہمیت دیتے ہوئے حکومت نے 91 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ جو گزشتہ سال کی نسبت 20 ارب زیادہ ہیں۔ اس سلسلے میں تین بڑے ڈیم داسو، دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ ایسے پروجیکٹس ہیں جو جب مکمل ہوگے تو یقیقناً اس کے ثمرات ملیں گے۔ ۔ متوقع امپورٹس 55 ارب ڈالرہیں جو پچھلی سال سے 6
    سے 7ارب ڈالرزیادہ ہیں۔ بینکوں پر کیش ود ہولڈنگ ختم کرنا بھی صحیح قدم ہے۔

    ۔ موجودہ بجٹ میں چار سے چھ ملین گھرانوں کو نچلے طبقے سے اٹھایا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہر شہری گھرانے کو پانچ لاکھ تک بغیر سود کے قرض دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہر کاشت کار گھرانے کو ہر فصل پر ڈیڑھ لاکھ روپے کا بغیر سود قرض فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ٹریکٹر اور مشینری کے لیے بھی دو لاکھ کا بلا سود قرض دیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے ان سب گھرانوں کو اپنا گھر بنانے کیلئے بیس لاکھ روپے تک کے سستے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ ہاؤسنگ شعبے کیلئے حکومت کم آمدنی والے گھروں کو اپنا گھر خریدنے یا بنانے کیلئے 3 لاکھ سبسڈی ادا کرنا جاری رکھے گی۔ اس مد میں حکومت نے 33 ارب روپے سبسڈی کی مد میں رکھے ہیں۔اسی طرح سبسڈیز کا تخمینہ430 ارب روپے سے بڑھا کر682
    ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

    ۔ یہ بھی اچھی چیز ہے کہ کل سے کافی تنقید کے بعد حکومت نے فون کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کر دیا ہے ۔۔ کم از کم اجرت بیس ہزار تک بڑھانے کا اقدام خوش آئند ہے حالانکہ مہنگائی کے حساب سے اس کو تقریباً ڈبل ہونا چاہیے تھا ۔ تاہم اس بیس ہزار اجرت پرعمل درآمد کس حد تک ہوتا ہے اسے دیکھنا پڑے گا۔۔ ابھی بھی بہت سارے غیر رسمی شعبے ہیں جو ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں اور شاید حکومت انہیں ٹیکس نیٹ میں لا کر اپنا ٹیکس زیادہ کرنا چاہتی ہے مگر ایسے اقدامات اس بجٹ میں دیکھائی نہیں دیے جس کے ذریعے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے۔ مگر دوسری جانب دیکھا جائے تو جس قدر ریلیف دینے کی بات کی گئی ہے اس سے زیادہ عوام کی جیب سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد ریویو ہوا کریں گی اور اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوگا جس کا اثر براہ راست عوام پر پڑے گا۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی ہے جسے ہم بھتہ کہتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اسے غلط قرار دیا تھا تو اس کا نام تبدیل کردیا گیا ہے ۔

    ۔ بنیادی طور پر یہ ٹیکس چوری کے حوالے سے لگایا جاتا ہے اور صوبوں کو اس میں حصہ نہیں ملتا۔ 2018میں یہ 150ارب روپے تھا جبکہ اس بجٹ میں آئندہ سال کے لیے 610ارب روپے کا پیٹرولیم لیوی کا ہدف رکھا گیا ہے جو عوام کے ساتھ کھلم کھلا زیادتی ہے اور جس سے واضح ہے کہ پیٹرول کے نرخ بڑھائے جائیں گے اور اس کے بعد اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ بجٹ بنیادی طور پر عمران خان صاحب کے دس نکاتی ایجنڈے کے بھی یکسر متضاد ہے۔ انھوں نے دعوی کیا تھا کہ سو دنوں میں عدل و انصاف پر مبنی ٹیکسوں کی پالیسی نافذ کردیں گے۔ پیٹرولیم لیویز صفر اور جی ایس ٹی 17سے 7فیصد پر لے آئیں گے۔ آج کے بجٹ میں ان نکات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومتی پالیسی کو دیکھا جائے تو صورتحال واضح ہوجاتی ہے۔ اس بجٹ میں 383 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں جن میں سے 70 فیصد ایسے ٹیکسز شامل ہیں جن کے نتیجے میں مہنگائی کے بڑھنے کے خدشات بھی ہیں۔ حالانکہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس بل پیش کرنے سے ایک روز قبل ہی کہہ دیا تھا کہ ٹیکس لگیں گے نہ بجلی مہنگی ہو گی ۔ قوم کو بتانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ کہ آئی ایم ایف کی بات نہیں مانی۔

    پر آپ دیکھیں ادارہ شماریات کے مطابق ہمارے ملک میں ”گدھوں“ کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود ”گدھے“ اور بھی ہیں۔ لیکن ابھی بہت لوگ بچ گئے اور وہ اب مزید گدھا بننے کو تیار نہیں ہیں ۔ اس لیے جو شروع میں کہا تھا کہ یہ سب اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ہے ۔ شوکت ترین صاحب بھی یہی کام کررہے ہیں ۔ اس وقت تقریبا تمام اشیائے پر نئے ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں یعنی چینی پر اب ریٹیل سطح پر نیا ٹیکس عائد کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں چینی کی قیمت میں فی کلو7 روپے اضافہ ہوگا جبکہ صنعت کاروں اور اسٹاک مارکیٹ سے وابستہ افراد پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اب جب سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ممبر اسمبلی اور سینیٹرز اپنے لیے کچھ نہ کرتے تو بڑی کفایت شعاری سے اس حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ میں 100کروڑ سے زائد اضافہ کردیا گیا ہے ۔ اب پارلیمنٹ ہاؤس کے لئے مجموعی طور پر9 ارب سے زائد کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ کاش جیسے ان کو اپنے مسائل کا ادراک ہے ایسے ہی عوام کے مسائل کا ادراک ہوتا تو چیزیں مختلف ہوتیں ۔ ہرحکومت یہی کہتی ہے کہ ہمیں تباہ شدہ معیشت ملی ۔ پھر آئی ایم ایف سے قرض لیتی ہے اور گروتھ ظاہر کرنا شروع کرتی ہے۔ مگر جب اگلی حکومت آتی ہے تو وہ پھر یہی راگ الاپتی ہے۔ یہ ساتویں حکومت ہے جو ایسا کررہی ہے۔ پاکستان کا المیہ ہے کہ حکمرانوں کے دعوؤں کے برعکس مہنگائی میں اضافہ اور افراط زر بھی بڑھا ہے ۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی تر قی کے اعداد وشمار اور جی ڈی پی کی گروتھ بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی تھی ۔

    ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری value added اور high techانڈسٹری میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ لے دے کر real state اور construction انڈسٹری پر زور ہے جس کی مدد سے چالیس انڈسٹریز میں انقلاب کا گمان ہے۔ دنیا بہت تیزی سے بدل گئی ہے اور بدل رہی ہے۔ ہم اپنی معیشت کو اگر دنیا کے value added اور high techتقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کریں گے۔ خود پسندی کے خول سے نہیں نکلیں گے تو ہمیں ہر سال آئی ایم ایف کی ضرورت پڑتی رہے گی اور ہم ہر بجٹ پر یہی سنتے رہیں گے کہ غریب اور تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور یہ کہ متبادل پلان دے دیا ہے۔ میرے حساب سے مسلم لیگ (ن) کے دور میں پیش ہونے والے بجٹ اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہ بجٹ بھی سیٹھوں کے لیے ہے اور غر یب آدمی مسلسل پٹے گا ۔ اس بجٹ میں بھی وہی مجبوریاں اور وعدے شامل ہیں جو سالہا سال سے پیش ہونے والے budgets کا حصہ رہے ہیں۔ ۔ عجیب قحط کا دور ہے، قحط محض یہ نہیں ہوتا کہ اناج نہ ہو،فصل نہ ہو ۔ دراصل قحط وہ ہے کہ اللہ کی تمام نعمتوں کی فراوانی ہو مگر انسانوں کی پہنچ میں نہ ہوں۔ آج ہرکھانے، پینے ، اوڑھنے والی چیزوں کے انبار لگے ہیں مگر لوگوں کی پہنچ سے دور ہی نہیں ناممکن ہیں۔ بجٹ دنیا بھر کے ملکوں میں سال میں ایک بار آتا ہے۔ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ کے بعد ماہانہ اور پھر روزانہ بجٹ آتا ہے۔ جتنے معاشی تجزیہ کار ہیں سب کے سب حقیقت کے برعکس تجزیے کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ تندرست ہی کیا جو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکے۔ وہ معاشی تیزی ہی کیا جس میں زندگی تو زندگی موت بھی مہنگی ہو جائے۔ دراصل پاکستان کے عوام ، وسائل اور اکثریت کو انتہائی اقلیت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ بس آزادی ہے تو قانون شکنوں اور بدعنوانوں کو ورنہ ہر طرف قحط کا راج ہے۔ قانون کی حکمرانی کا، اخلاقیات کا قحط ، انسانی اقدار کا قحط ، مثبت سوچ کا قحط حتیٰ کہ انسانیت کا قحط اور آزادی کا قحط ہے۔ جب پولیس کسی شخص سے پرسنل ہو، حکمران پرسنل ہوں جہاں انصاف کرتے ہوئے عدالت اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے وہاں معاشرت کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

  • گرمی اور پیاس کی شدت مگر ہمارے منفی رویے .تحریر:عمار احمد عباسی

    گرمی اور پیاس کی شدت مگر ہمارے منفی رویے .تحریر:عمار احمد عباسی

    پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں تقریباً پاکستان کے ہر صوبہ اس وقت گرمی کی شدید لپیٹ میں ہے اور انسان تو انسان جانور بھی اس گرمی سے بچنے کے لیے اللہ تعالٰی سے رحمت کی بارش کے طلب گار ہیں۔
    ایک تو گرمی کی شدت اور اوپر سے شدید لوڈ شیڈنگ امراء حضرات تو اپنا گز بسر لوڈ شیڈنگ میں بھی کر لیتے ہیں مگر بے چارے غربت کے مارے گرمی کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ سے بھی مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔
    بطور انسان اس گرمی کے موسم میں ہمیں اپنے رویے ٹھنڈے رکھنے ہونگے یعنی تحمل سے کام لینا ہوگا اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنی ہوگی جیسا کہ ڈلیوری بوائز وغیرہ جو اس گرمی کی شدت میں بھی حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی حلال روزی کمانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔شدید گرمی میں فوڈ پانڈا والے بھائی جب آپکا آرڈر لیکر آئیں تو انہیں ایک گلاس پانی اور تھوڑی سی ٹِپ ضروری دیں۔ اس سے آپکو تو فرق نہیں پڑے گا مگر ان کا دل ضرور خوش ہوگا اور آپ کی ٹپ سے وہ کوئی امیر بھی نہیں ہوگا مگر ہاں اس کی حوصلہ افزائی ضرور ہوگی۔فوڈ پانڈا وغیرہ کے ڈیلیوری بوائز موسم کی تمام شدتیں برداشت کر کے رزق حلال کماتے ہیں مگر ریسٹورانٹس کا ان سے رویہ درست نہیں ہوتا ۔۔ کچھ دن پہلے کی ہی بات ہے جب ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں لکھا تھا کہ رائڈرز یہاں سے پانی نہیں پی سکتے۔ اب ان دنوں گرمی کا حال دیکھیں اور یہ ریسٹورنٹ ان رائڈرز کو پانی پلانے کا روادار بھی نہیں اور کولر پر لکھ کر لگا رکھا ہے کہ رائڈرز اس سے پانی نہیں پی سکتے ۔۔۔ ان رائڈرز کے زریعہ اپنا کھانا بیچ کر کمانے والوں کے اس انسانیت سوز رویے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

    فوڈ پانڈا والا رائڈر , عید کے تینوں دن بغیر تھکے، بغیر رکے، بغیر نیند پوری کیے کس کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے؟
    یہ غیرت مند مرد عورت کو پاٶں کی جوتی نہیں سمجھتا ، نہ کپڑے دھونے والی مشین اور نہ ہی چائے گرم کرنے والی آیا….. یہ اسے اپنی زندگی کا حصہ سمجھتا ہے، کبھی ماں کے طور پر، کبھی بہن، کبھی بیوی اور کبھی بیٹی کے طور پر…. پھر بھی کسی کو ان رشتوں سے آزادی چاہیے تو لے لے آزادی۔۔۔
    انسان تو انسان اب جانور بھی گرمی کی شدت کی وجہ سے پیاسا پھر رہے ہیں جو کہ کچھ دن پہلے ایک پیاسا چیتا پیاس کی شدت برداشت نہیں کر سکا اور آبادی میں آ گیا کوٹلی آزادکشمیر میں گرمی کی شدت سے نڈھال چیتا آبادی میں گھس آیا۔بھوک پیاس سے نڈھال چیتے نے آبادی کا رخ کرلیا،چیتے کے آبادی میں گھسنے کی اطلاع آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا، شہریوں نے چیتے کو پکڑ کر پانی اور جوس پلایا، تصاویر بنائیں، شہریوں نے بعد میں چیتے کو محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کردیا۔

    اس لیے اللہ نے اگر انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے تو اس درجے کا پاس رکھیں اور مخلوق خدا کو بھی یاد رکھیں اور اپنی چھتوں پر پانی ضرور رکھیں تاکہ بطورِ انسان آپ کو اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر فخر ہوسکے۔

  • ‏کہانی دو دوستوں کی .تحریر: ملک ضماد

    ‏کہانی دو دوستوں کی .تحریر: ملک ضماد

    کہا جاتا ہے ایک دور میں دو لڑکی لڑکے تھے جو ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے
    کوئی خبر نہیں تھی ایک کہاں سے اور دوسرا کہاں سے تھا
    سوشل میڈیا کا دور تھا دونوں سوشل میڈیا پے رہتے تھے لیکن دونوں کو کوئی خبر نہیں تھی کب کیسے ایک دوسرے سے دعا سلام ہوئی
    کب کیسے ایک دوسرے سے قریب ہوتے گئے
    پہلے صرف دعا سلام تھی پھر وہ دعا سلام دوستی میں بدلی
    پھر دوستی اتنی گہری ہوئی کہ دونوں ایک دوسرے سے 24 گھنٹے رابطے میں رہنے کے خواہش مند رہنے لگے
    آخر کچھ ایسے ہوا دونو کی دوستی ایک سٹیپ اور آگے نکل پڑی اور دونوں ایک دوسرے کے اور قریب ہو گئے
    دونوں کو پیار ہو گیا لیکن اظہار دونوں کرنے سے ڈرتے تھے
    دونوں کو اس بات کا با خوبی اندازہ تھا دونوں کا ملنا ممکن نہیں
    دونوں ایک دوسرے سے بہت دور تھے
    ایک پاکستان کے ایک کونے تو دوسرے دوسرے کونے میں تھا
    دونوں کے کلچر الگ
    زبان الگ
    رہن سہن الگ
    پھر بھی دونو کے دل ایک تھے
    دونو ایک دوسرے کو چاہتے تو بہت تھے لیکن حالات و واقعات سے مجبور دونو ایک دوسرے کو مایوس ہو کر دیکھتے اور سنتے تھے
    دونوں اپنی اپنی جگہ پریشان تو ضرور تھے لیکن حوصلہ بھی بڑھاتے تھے ایک دوسرے کا
    درد ایک کو ہوتا تو پریشان دونوں ہوتے تھے
    پھر ایک دن ایسا بھی آیا لڑکے کے خاندان والوں نے لڑکے کی منگنی اس کی امنگوں کے خلاف کر دی پھر کیا تھا جو بچی کچی امید تھی وہ بھی دم توڑ گئی
    پھر تو دونو کو اس بات کی فکر کھانے لگا کیا بنے گا دوسرے کا
    لڑکی ہر وقت لڑکے کو سمجھانے کی کوشش کرتی لیکن لڑکا پھر بھی سمجھ نہیں سکتا تھا اس نے بس ہر بات کو دل پے لے رکھا تھا
    ایسا وقت بھی آیا دونوں بیمار بھی رہنے لگے
    آخر وہ وقت بھی آیا لڑکے کی شادی کا وقت قریب آیا لیکن وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کو اپنے خاندان کے سامنے جھکنا پڑا اور خاموشی سے اپنا پیار اپنے دل میں رکھ کر وہ شادی کے لیے تیار ہو گیا
    لڑکی نے بار ہا کوشش کی لڑکے کو سمجھانے کی لیکن لڑکا پاگلوں کی طرح بس ایک ہی بات پے اٹکا تھا لیکن اس کو یہ بھی معلوم تھا وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا

    پھر دنیا کہتی ہے لڑکیاں بیوفا ہوتی ہیں لیکن یہاں ساری کہانی ہی الٹی ہو گئی

    (کہانی کا تعلق رائٹر سے نہیں ہے بلکہ کسی کی سنی ہوئی بات کو کہانی کی شکل دے دی)

  • خواتین۔۔۔ ذہنی اور جذباتی زیادتی، تحریر: طلعت کاشف سلام

    خواتین۔۔۔ ذہنی اور جذباتی زیادتی، تحریر: طلعت کاشف سلام

    اکثر دیکھا گیا ہے کے جب کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کے ان کے ساتھ زیادتی ہوئی یے۔

    کیونکہ وہ سمجھ ہی نہیں پاتی کے دوسرے آپ کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ ذیادتی کس کس طرح کی ہوتی ہے اس پر ان کا دماغ جاتا ہی نہیں۔
    ذیادتی کا مطلب یہ نہیں کے کسی کی عزت ہی لوٹی جائے تو وہ ذیادتی کہلاتی ہے۔

    زیادتی بہت طرح سے ہوتی ہے۔ اور یہ ھماری زمداری ہے کے ھم اپنے بچوں کو سمجھائیں کے ذیادتی کے اصل معنی کیا ہیں۔

    بہت سے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کے کونسا سلوک یا انداز اچھا ہے اور کون سا انداز غنڈاگردی یا نامناسب ہے اور تہذیب کے دائرے میں نہیں آتا۔

    کیونکہ ہمارا معاشرہ ایسا ہے کے اپنے ہی گھر میں بعض لڑکیوں کو کھل کے سانس تک لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اگر وہ کسی رشتہ دار کی شکایت کرتی ہے، کے اس نے مجھے غلط انداز میں چھوا، تو بجائے اس پر یقین کرنے کے یا تو ھم اسے چپ کروا دیتے ہیں یا ڈانٹ دیتے ہیں۔ یاد رکھیں ھماری آج کی خاموشی ھمارے بچوں کو ساری زندگی کے لیے احساس محرومی میں ڈال سکتی ہے۔

    ایسی بچی کل جب شادی ھو کے خاوند کے گھر جائے گی تو اسے خود کے ساتھ ہونے والی ذیادتی کا اندازہ ہی نہیں ھو پائے گا۔ کیونکہ وہ اپنے ہی گھر سے ایک ذھنی تناو والے انداز میں پروان چڑھی۔

    کیا ایسی عورت جو خود اپنے گھر میں جہاں اسے ذرا ذرا سی بات پر لڑکی ھونے کا طعنہ دیا گیا ھو۔ یا جس پر ھم نے کبھی یقین نہ کیا ھو یا اسکی شکایت پر کان نہ دھرا ھو، وہ اپنے بچوں کی صحیح انداز میں پرورش کر پائے گی؟؟؟
    نہیں کبھی نہیں۔۔۔
    کیونکہ اس کا ذہن اب ایک ہی انداز پر چلنے کا عادی ھو چکا ہے۔
    نہ وہ ایک اچھی ماں ثابت ھو گی اور نہ اچھی بیوی، کیونکہ اس کی خود کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ وہ عادی ہو چکی ہے کے دوسرے اس کو انگلی پکڑ کر چلائیں۔ وہ عادی ہو چکی ہے کے لوگ اس پر اعتماد نہیں کرتے۔۔۔
    کبھی سوچا ہے کے کس قسم کے لڑکے ایسی لڑکی کی گود سے نکل کر مرد بنیں گے؟ وہ اپنے بچوں کو بھی اپنے جیسا ایک کمزور اور بزدل انداز میں پروان چڑھائے گی۔ اسی طرح بیٹی بھی ماں کی طرح اپنے سسرال میں سب زیادتیاں برداشت کرتی رہے گی۔

    جب ھم اپنے بچوں کو اپنے گھر میں ایک بھرپور زندگی جینے نہیں دے سکتے تو سمجھ لیں ھم نے اپنی آنے والی کئی نسلوں کا اعتماد ختم کردیا، انہیں اچھے برے کی تمیز نہیں دی۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا نہیں سکھائی۔

    ماں باپ کا فرض ہے کے اپنے بچوں سے کھل کے بات کی جائے انہیں زمانے میں چلنا، اٹھنا بیٹھا، اچھے برے، صحیح غلط اور ذہنی اور جسمانی زیادتی کے بارے میں سیکھایا جائے۔

    پرورش گھر سے شروع ھوتی ہے۔ بچوں میں اتنا شعور ھونا چاہیے کے غلط انداز اور اچھے انداز سے ہاتھ لگانے کا فرق سمجھ سکیں۔
    بچوں کو اتنا اعتماد دیں کے اگر کبھی انکے ساتھ گھر سے باہر کوئی زیادتی ہوئی ہے، تو اسے سمجھ سکیں اور اس پر آواز بلند کر سکیں، نہ کے شرما کے چپ ہوجائیں۔ خاموشی ہر بات کا علاج نہیں ہوتی۔ خاموش رہنے سے ھم معاشرے میں مزید غنڈاگردی کو عام کریں۔

    ھمارے بچے ھمارا سرمایہ ہیں۔ آئیں عہد کریں کے اپنے گھر سے شروعات کرتے ہیں۔ اپنی بچوں کو اتنا مظبوط بناتے ہیں کے وہ اپنے بچوں کی سہی پرورش کر سکیں، انہیں اعتماد دے سکے۔

    تحریر۔
    طلعت کاشف سلام
    @AlwaysTalat

  • "ونڈ کیچر” ونڈ ٹربائن سے سالانہ 5 گنا زیادہ بجلی بنانے والا گرڈ سسٹم

    "ونڈ کیچر” ونڈ ٹربائن سے سالانہ 5 گنا زیادہ بجلی بنانے والا گرڈ سسٹم

    ناروے کی ایک گرین ٹیک کمپنی نے حال ہی میں ونڈ ٹربائن کی تیرتی ہوئی 1000، فٹ (324 میٹر) لمبی دیو قامت جالی پر مشتمل سسٹم متعارف کرایا جسے "ونڈ کیچر” کے نام سے پکارا جاتا ہے اور یہ ہوا سے بجلی بنانے والا ایک ایسا نظام ہے جو سالانہ بنیادوں پر موجودہ ونڈ ٹربائنز کے مقابلے میں بجلی کی 5 گنا زیادہ پیداوار دے سکے گا۔

    باغی ٹی وی : ایک ٹیکنالوجی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں ایک وِنڈ کیچر سسٹم سے اتنی بجلی بنائی جاسکتی ہے جو یورپ کے 80 ہزار گھروں کےلیے کافی ہوگی۔

    اس نظام کو ناروے میں واقع ونڈ کیچنگ سسٹم (ڈبلیو سی ایس) نے تیار کیا ہے ، جنہوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کا نیا ونڈ ٹربائن سیٹ اپ دنیا کی سب سے بڑی اسٹینڈ ونڈ ٹربائنوں سے سالانہ توانائی سے پانچ گنا زیادہ پیدا کرسکتا ہے۔ نہ صرف یہ ، بلکہ اگر پیمائش کی گئی تو ، اس سے روایتی گرڈ سے فراہم کی جانے والی بجلی سے مسابقت پذیر ہوا کی توانائی کے اخراجات کم ہوسکتے ہیں۔

    وفاقی وزارت پانی وبجلی نے چار بڑے سرکاری پاور ہاؤسز کو ناکارہ قراردیکر بند کر دیا

    یعنی اس ونڈ کیچر سسٹم میں چھوٹی اور مختلف سمتوں میں لگی ہوئی پنکھڑیوں کے باعث ونڈ کیچر سے تب بھی بجلی بنائی جاسکتی ہے کہ جب ہوا کی رفتار خاصی کم ہو۔

    "ونڈ کیچر” میں ایک بڑے دھات کے فریم پر مشتمل ہے جس میں ایک سے زیادہ چھوٹے ٹربائن لگے ہوئے ہیں جالی کی اونچائی 1000 میٹر سے زیادہ ہے جبکہ پہلے ڈیزائن میں قدرے چھوٹی جسامت والی تقریباً 120 ہلکی پنکھڑیاں چاروں طرف نصب ہیں۔ ونڈ کیچر سسٹمز کے آئندہ ڈیزائن سمندر میں ٹھوس پلیٹ فارم کے علاوہ زمین پر بھی نصب کیے جاسکیں گے۔

    رپورٹ نے ایک ڈبلیو سی ایس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس کے صرف ایک "ونڈ کیچر” سسٹم میں دنیا کی سب سے بڑی ونڈ ٹربائن ، 15 میگاواٹ کا 236 کا بہہ جانے والا رقبہ ڈبل (2.5 گنا) سے زیادہ ہوگا۔ اس کے چھوٹے ٹربائن بلیڈوں کی وجہ سے ، ڈبلیو سی ایس کے نظام کو 25 میل فی گھنٹہ (11-12 میٹر / s) سے زیادہ تیز ہوا میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔

    کائی سے مضبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار

    علاوہ ازیں ونڈ کیچر سسٹمز کا یہ بھی کہنا ہے کہ چھوٹے چھوٹے حصے ہونے کی وجہ سے اس نظام کو تیار کرنا بھی بہت آسان ہے جبکہ تنصیب کے بعد یہ تقریباً 50 سال تک مؤثر طور پر بجلی بناتا رہے گا-

    اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے بارے میں خفیہ امریکی رپورٹ کے کچھ حصے منظر عام پر آگئے

    گوگل اور ہارورڈ نے انسانی دماغی گوشے کا تفصیلی نقشہ تیار کر لیا

  • خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    بیجنگ: چینی خاتون کی 8 انچ لمبی پلکیں جن کا وہ بھرپور خیال رکھتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ یو ٹیوب پر گنیز ورلڈ بک کے اکاؤنٹ سے 6 منٹس 19 سیکنڈ کی ایک ویڈیو شئیر کی جس میں چینی خاتون نے اپنی پلکوں کے بارے میں بتایا-

    انہوں نے بتا یا کہ ان کا نام یون جیانژیا ہے اور ان کا تعلق چین سے ہے انہوں نے لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز ورلڈ بک میں ریکارڈ اپنے نام کیا –

    انہوں نے بتایا اب ان کی پلکوں کی لمبائی 20 سینٹی میٹر ہے یو کے مطابق مجھے 2015 میں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ میری پلکیں بڑھ رہی ہیں۔

    خاتون کے مطابق اگرچہ شروع میں ان کے بڑھنے کی رفتار سست تھی لیکن وہ طویل سے طویل تر ہوتی گئیں میں اکثر سوچتی تھی کہ میری پلکیں آخر اتنی لمبی کیوں ہیں پھر مجھے یاد آیا کہ میں کچھ سال پہلے اپنی زندگی کے 480 دن پہاڑوں میں گزارے تھےتو میں نے خود سے نتیجہ اخذ کیا کہ مجھے یہ پلکیں بدھا کی جانب سے تحفے میں دی گئیں ہیں-

    پھر میں نے یہ جاننے کے لئے کہ میری پلکیں دوسرے لوگوں کی پلکوں سے زیادہ لمبی کیوں ہیں ڈاکٹرز کے پاس گئی اور میں نے کئی ڈاکٹروں سے اس غیرمعمولی اضافے کی وجہ پوچھی تو وہ اس کی تسلی بخش جواب نہ دے سکے لیکن مجھے لگا وہ یہ دیکھ کر بہت حیران تھے-

    ڈاکٹروں کے مطابق انہوں نے اس کی جینیاتی وجہ جاننے کی بھی کوشش کی ہے لیکن ان کے خاندان میں کوئی ایسا نہیں جس کی پلکیں اتنی بڑی ہوں، اس لیے وراثتی طبی عوامل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو وہ مجھے تسلی بخش جواب نہیں دے سکے کیونکہ میری پلکیں قدرتی تھیں-

    میں روزانہ منہ دھونے کا کوئی آسان طریقہ اختیار کرتی تھی اور میری زندگی کی روٹین جاری تھی لیکن یہ گر کر دوبارہ سے بڑھ جاتی تھیں بعض اوقات تو بے احتیاطی سے کھینچنے سے گر جاتی ہیں-

    یو کے مطابق سب سے پہلے انہوں نے جون 2016 میں اپنا ریکارڈ قائم کیا تھا اور اس وقت ان کی پلکوں کی اوسط لمبائی 4.88 انچ تھی۔ جب وہ ڈاکٹروں کے پاس گئی تو بہت غور کے بعد اس کے پلکوں میں غیرمعمولی اضافہ تو نوٹ کیا گیا لیکن ڈاکٹر بہت تحقیق کے باوجود بھی اس کی وجہ بیان کرنے سے قاصرہیں تب میں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے افسران کو بتایا۔

    یو کے مطابق ان کی الٹی آنکھ کے اوپر کی پلک کو جب ناپا گیا ہے تو وہ 8 انچ طویل نکلی اور یوں انہوں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔

     

    چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    1 ارب 30 کروڑ روپے میں فروخت ہونے والی لکڑی کی کرسی

  • ‏معاشرے میں ہماری ذمہ داریاں        تحریر: ملک ضماد

    ‏معاشرے میں ہماری ذمہ داریاں تحریر: ملک ضماد

    تحریر: ملک ضماد

    عنوان: ‏معاشرے میں ہماری ذمہ داریاں

    پوری دنیا میں بسنے والے انسان کسی معاشرے میں رہتا یے تو اس کے اوپر اس معاشرے سے متعلق بہت سی ذمہ داریاں لاگو ہوتی ہیں جو کچھ تو اخلاقی، تو کچھ قانونی ہوتی، کچھ مذہبی ہوتی ہیں
    جن کو احسن طریقے سے پورا کرنے سے انسان نا صرف خود بلکہ اس کے ارد گرد کے لوگ بھی خوش رہتے ہیں اس طرح معاشرے کو پروان چڑھنے میں مدد ملتی ہے اور ہر انسان اپنی جگہ خوش رہتا ہے
    اسلام ہمیں پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں بتاتا ہے اگر ہمارا کوئی پڑوسی کمزور ہے باقی معاشرے کی نسبت تو ہمارا یہ اخلاقی و مذہبی فرق بنتا ہے ہم اس کے ضروریات زندگی کا خیال رکھیں اور اس کو باقی معاشرے کے برابر لانے میں کردار ادا کریں
    "”رسول اللہ ﷺکاارشاد ہے کہ جبرئیل نے مجھ کو پڑوسی کے حقوق کی اتنی تاکید کی کہ مجھے خدشہ ہوگیاکہ پڑوسیوں کوبھی وراثت میں حقدار قراردیدیاجائے””

    حضرت ابوشریح خزاعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
    جواللہ اورقیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اُسے چاہئے کہ وہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے۔
    (مسلم شریف )

    ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو ہم کتنا خیال کرتے ہیں پڑوسیوں کا
    ہم ان کے حقوق کتنے ادا کر رہے
    کیا ہمارے پڑوسیوں ہماری وجہ سے تنگ تو نہیں

    یہ سب دیکھ کر پھر اہنا محاسبہ کیا جائے پھر اگر کوئی کمی کوتائی یے تو اللہ پاک سے معافی مانگ کر آئندہ ایسا کچھ نا ہونے کا اعادہ کیا جائے

    بطور معاشرہ جب ہم کسی کے ساتھ کوئی معاملہ کریں یا کوئی بات کرین تو اس کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس سے بہتر ہیں بلکہ اس کو اس انداز میں بیان کیا جائے جیسے وہ ہم سے بہتر ہے اور ہم سیکھ رہے ہیں
    اس طرح معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائیوں کو روکنے اور ان اچھے کاموں کو پروموٹ کرنے میں ہمارے بہت سی ذمہ داریاں ہیں جو ہم نا صرف پوری نہیں کر رہے بلکہ ہم ان کو اپنے پاوں تلے روند کر ہم کر خود ان برائیوں کا حصہ بن رہے ہوتے ہیں
    اور پھر دوسروں پر تنقید ایسے کر رہے ہوتے ہیں جیسے ہم فرشتے ہیں

    اقبال رح نے کہا تھا

    اپنے کردار پہ ڈال کہ پردہ اقبال
    ہر شخص کہ رہا ہے زمانہ خراب ہے

    ہم اگر کسی کی طرف ایک انگلی کر کے تنقید کرتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا چاہئے اسی ہاتھ کی 4 انگلیاں ہماری اپنی طرف بھی ہیں
    کیا جس بات پے ہم تنقید کر رہے ہیں وہ برائی یا خامی ہمارے اندر بھی ہے یا ہم پاک صاف ہیں

    "”رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے میں ہے
    بے عیب انسان تلاش کرو گے تو اکیلے رہ جاؤ گے””

    ہمارے معاشرے میں صرف ہر انسان اپنی اصلاح کر لے تو ایک ایک کر کے سارا معاشرہ بدل سکتا ہے

    ہم جب تنقید بھی کر رہے ہون تو ایک چیز کا خیال رکھنا چاہیے
    "”تنقید برائے اصلاح ہونی چاہئے نا کہ تنقید برائے تنقید””

    ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہو گا ہم کتنے پانی میں ہیں اور کیا کچھ کر رہے ہیں جو نہیں کرنا چاہیے

  • سلجوق سلطنت اور اس کا قیام ،تحریر: سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت اور اس کا قیام ،تحریر: سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت اور اس کا قیام ،تحریر: سمیع اللہ

    پانچویں صدی ہجری بمطابق گیارہویں صدی عیسوی میں سلجوق سردار طغرل بیگ نے اس عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ سلطنت خراسان مارواءالنہر بلاد شام ایران عراق اور ایشیائے کوچک کے علاقوں پر مشتمل تھی اس سلطنت کا پہلا دارالحکومت ایران کا قدیم شہر رے تھا بعد ازاں عراق کا شہر بغداد میں منتقل کر دیا گیا

    اسی دوران خراسان مارواءالنہر بلاد شام اور ایشیائے کوچک میں چھوٹی چھوٹی سلجوق سلطنتیں وجود میں آئی جو ایران اور عراق میں سلجوقی سلطان کے تابع تھی

    سلجوقیوں نے بغداد کی عباسی خلافت اور اسکے مذہب اہل السنت والجماعت کی بھرپور مدد کی۔ یہ سلطنت ایک طرف ایران وعراق میں شیعہ بوہیمی اور دوسری طرف مصروشام میں عبیدی اثرونفوذ کے درمیان گھری زوال کے قریب پہنچ چکی تھی۔ سلجوقی سردار طغرل بیگ نے 447ھ میں بغداد کے اندر بوہیمی سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور تمام شورشوں پر قابو پا لیا اور رافضیوں کے شیخ ابو عبداللہ الجلاب کو رفض میں غلو کی وجہ سے قتل کر دیا ۔

    طغرل بیگ جب ایک فاتح کی حیثیت سے عباسی خلافت کے دارالحکومت میں داخل ہوا تو خلیفہ قائم بامر اللہ نے اسکا شاندار استقبال کیا اسکو بےشمار قیمتی تحائف دئیے اسکے نام کا سکہ جاری کیا اسکو بےشمار القابات سے نوازا جا میں سلطان رکن الدین طغرل بیگ بھی شامل تھا اسکے نام کا خطبہ مسجدوں میں پڑھنے کا حکم دیا۔ خلیفہ کی اس قدر عزت افزائی کی وجہ سے سلجوقیوں کو پوری دنیا میں بےشمار قدر ومنزلت حاصل ہوئی اب وہ بغداد میں بوہیمیوں کی جگہ پر سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ خلیفہ انکے ہر مشورے کو بطیب خاطر قبول کرتا تھا اور انکی عزت کرتا تھا

    8 رمضان المبارک 454 ھ بمطابق 1062 ء کو 70 سال کی عمر میں طغرل بیگ کا انتقال ہو گیا۔ اپنی وفات سے پہلے طغرل بیگ نے خراسان ، ایران اور عراق کے شمال مشرقی علاقوں میں اپنے ہاتھ سے سلجوقی اقتدار اور غلبہ کا کام مکمل کر چکے تھے۔

    جاری ہے…..

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات، تحریر : سمیع اللہ

  • ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ
    یوں تو ہم سب پلاسٹک اور کاربن کے اخاراج کے خطرات سے آگاہ ہیں اور دنیا بھر میں اس کی آلودگی کو کم کرنے پر کام بھی کیا جارہا ہے۔ تا ہم ماحول کو نقصان پہنچانے والی ایک چیز ایسی ہے جس سے ہم سب بے خبر ہیں۔ ماحول کے لیے نقصان دہ اس شے کا ہم بے دریغ استعمال کر رہے ہیں یہ جانے بغیر کہ ان کی تیاری کے لیے قیمتی درختوں کو کاٹا جاتا ہے۔ وہ چیز ہے پیپر اور ٹشو پیپر ۔

    ۔ دراصل جب نوے کی دہائی میں کمپیوٹر کا دور شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سوچا کہ اب کاغذ کا استعمال بہت کم ہوجائے گا کیوں کہ خط و کتابت اور دستاویزات الیکٹرانک شکل میں ہوں گی ۔ لیکن یہ اندازے غلط ثابت ہوئے ۔ ہمارے دفاتر اور گھروں میں جتنا کاغذ اور ٹشو استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پر ماحول کے ماہرین کو شدید تشویش لاحق ہے۔۔ چلیں کچھ اعداد وشمار دے دوں کہ دنیا میں رہنے والے دوسروں لوگوں کے مقابلے میں امریکی سات گُنا زیادہ کاغذ استعمال کرتے ہیں ۔ کمپیوٹر پر ٹائپ کیے ہوئے کاغذات کے پرنٹ نکالنا تو محض ابتدا ہے۔ پیکنگ میں، سگریٹ میں، ٹشو پیپر اور ٹوائلٹ پیپر میں، غرض بے تحاشا کاغذ استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں جس کام کے لیے لوگ لوٹا اور پانی استعمال کرتے ہیں۔ مغربی معاشروں میں کاغذ یعنی ٹوائلٹ پیپر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے کاغذ اور ٹشو پیپر کی اتنی زیادہ مانگ سے تباہی آ رہی ہے۔ دس ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم جنگلات کو کاٹ کر ان کے درختوں سے ٹوائلٹ پیپر بنا رہے ہیں۔

    ۔ جنگلات کا اس طرح صفایا کرنے سے دنیا میں جتنی گرمی بڑھتی ہے اور آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے تمام ٹرکوں، بسوں، ہوائی اور بحری جہازوں سے پیدا ہونے والی آلودگی سے زیادہ ہے۔ یورپ اور ایشیا میں بیشتر ٹوائلٹ پیپر استعمال شدہ کاغذ سے بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے امریکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ انہیں تین پلائی والا ٹائلٹ پیپر چاہیئے۔ چاہے اس کے لیے دنیا کے قدیم جنگلات ختم کیوں نہ ہو جائیں۔۔ ہم جو ٹِشوز خریدتے ہیں بھلے وہ تازہ کاغذ کے گُودے سے بنیں یا recycle گُودے سے وہ حاصل ان درختوں سے ہی کیا جاتا ہے جنہیں بڑھنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ درخت کاٹنے کا عمل جنگلات کو ختم کرسکتا ہے جس کے سبب گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جانور اور پودے اپنی جنگلی حیاتیات کھوسکتے ہیں اور پانی آلودہ ہوسکتا ہے۔

    ۔ دوسری جانب ٹشو پیپر بنانے والے پلانٹس کو انتہائی کثیر مقدار میں پانی اور بجلی درکار ہوتی ہے۔ یہ فضاء کو آلودہ کرتے ہیں اور زہرآلود فضلا دریا یا پانی میں بہاتے ہیں۔ ٹِشوز سے ماحول کو لاحق خطرات سیکڑوں گُنا تب بڑھتےہیں جب انہیں سفید بلیچ کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی چیز جیسے کہ لوشن وغیرہ کا اضافہ کیا جاتا ہے اور کارڈ بورڈ اور پلاسٹک میں پیک کیا جاتا ہے۔ ۔ آپ دیکھیں امریکا میں ٹوائلٹ پیپرز کے بے تحاشہ استعمال نے کینیڈا کے جنگلات کو خاتمے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ کیونکہ امریکا میں استعمال ہونے والے ٹشو پیپرز کے لیے کینیڈا میں موجود جنگلات کاٹے جاتے ہیں۔ کینیڈا کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں جو سالانہ2 کروڑ 80 لاکھ کاروں سے خارج ہونے والے دھوئیں کے برابر کاربن جذب کرتے ہیں۔ تاہم امریکا میں ٹشوز کی بے تحاشہ مانگ کی وجہ سے ان جنگلات کو بے دریغ کاٹا جارہا ہے۔ 1996 سے اب تک 2 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ رقبے پر موجود درختوں کو کاٹا جا چکا ہے۔ پوری دنیا میں استعمال ہونے والے ٹشو پیپرز کے 20 فیصد صرف امریکا میں استعمال ہورہے ہیں، دوسری جانب امریکیوں کو نرم ملائم ٹشوز بھی درکار ہیں جن کے لیے ٹشوز بناتے ہوئے اس میں دیگر مٹیریل استعمال کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں نے ٹشو بنانے کے لیے ماحول دوست اقدامات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وجہ ایک ہی ہے نرم ٹشوز کی مانگ میں اضافہ۔

    ۔ امریکی ہر سال 255ارب36کروڑ ڈِسپوزایبل ٹشوز استعمال کرتے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ عالمی سطح پر ٹِشوز کی سالانہ مانگ میں 2021 تک4 فیصدتک اضافہ ہوجائےگا۔ ان میں فیشل ٹِشوز، ٹوائلٹ پیپر، پیپر ٹاول اور نیپکنز شامل ہیں۔ جس کے حساب سے چین کی مانگ میں 40فیصد، لاطینی امریکا کی مانگ میں 15فیصد اورمغربی یورپ کی مانگ میں11سے12فیصد اضافہ متوقع ہے۔۔ ماہرین کے مطابق ٹشوز بناتے ہوئے اگر اس میں استعمال شدہ recycle مٹیریل کی آمیزش کی جائے تو یہ عمل درختوں کی کٹائی میں کمی کرے گا تاہم ایسے ٹشوز سخت اور کھردرے ہوتے ہیں۔۔درخت جو کئی کئی برس بعد جوان ہوتے ہیں دراصل ہم انہیں ٹشو پیپر کی شکل میں ایک لمحے میں کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔ جیب میں رومال جیسی معمولی چیزنہ رکھنے کے بجائے ٹِشو پیپرکا استعمال ہمارے ماحول کوبے دردی کے ساتھ اجاڑ رہا ہےجس کا ہمیں قطعی کوئی ادراک نہیں ہے ۔ پیپرز اور ٹشو پیپرز کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ماحول دوست ذرائع اپنانے ہوں گے ورنہ ہماری زمین پر موجود تمام درخت ٹشو پیپرز میں بدل جائیں گے۔

  • مغرب میں پنپتے الحادی رجحانات ایک جائزہ        تحریر: نعیم اللہ

    مغرب میں پنپتے الحادی رجحانات ایک جائزہ تحریر: نعیم اللہ

    تحریر: نعیم اللہ
    "مغرب میں پنپتے الحادی رجحانات ایک جائزہ”
    لفظ "الحاد” عربی زبان میں مادہ "لحد” سے ماخوذ ہے،جو "راہ راست،میانہ روی سے ہٹنے اور منحرف ہونے”کی معنی میں استعمال ہوتا ہے،اور مذہب بیزار روش کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اس(مذہب و دین) میں طعن کشی کرنا الحاد فی الدین کہلاتا ہے۔
    (المعجم الوسیط مادہ -لحد)
    اور اصطلاحاً "الحاد”کا مفہوم انکار اعتقاد وجود الہ پر مبنی ہے یعنی آسان الفاظ میں یہ کہ اس کون کل کا کوئی موجد و مدبر ہے ہی نہیں۔
    مغرب میں الحاد کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی ؟
    یہ ایک اہم سوال ہے، جب ہم اسے منصب نگاہ رکھتے ہوۓ اس تاریخی لمحے کے کو تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں،جس میں فکر مغرب کے اندر الحاد کی آمیزش اور اسے نمو حاصل ہوا تو اٹھارویں صدی ہمیں مغربی الحاد کی تاریخ کا سنگ میل ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔
    یہ صدی نہ صرف اہل مغرب کے لیے الحادی اور دینی افکار کے مابین تصادم کی صدی ثابت ہوئی،بلکہ اس میں بے دینی اور الحاد کی ایک ایسی زبردست یلغار مشاہدہ کرنے کو ملی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مغربی تہذیب و ثقافت کو پوری طرح اپنے لپیٹ میں لے لیا۔
    الحاد کے ظہور کے وقت مغربی حالات کا جائزہ لیتے ہوۓ معلوم ہوتاہے کہ عین اسی وقت فلسفہ اپنے انحطاط و انحسار کے دور میں قدم رکھ چکا تھا،ایک جانب الحاد اپنی پوری تابناکیوں کے ساتھ انسانی عقل کو جذب کر رہا تھا ،تو دوسری جانب فلسفہ اپنی بقا کے لیے معرکہ آرائی کے آخری مراحل میں داخل ہونے کی استعداد میں تھا۔
    ایک جانب جس دور میں سقراط اور افلاطون جیسے فلاسفرز نے نشو و نما پائی وہ دور ایمانیات و اعتقادات کا دور تھا(چاہے پھر ان ایمانیات و اعتقادات کی نوعیت مختلف ہی کیوں نہ ہو )،تو دوسری جانب ایپکورس جیسے(یونانی فلاسفر)نے اپنے دور میں دنیا کے اندر پاۓ جانے والے شر کے وجود پر بہت سے ایسے ایسے مشہور الحادی سوالات و اشکالات کو فروغ دیا جس نے آگے چل کر انکار الہ کے اعتقاد کو خوب تقویت بخشی۔

    مغرب پر فلسفیانہ فکر کے غلبے کا دور:
    مصادر و مراجع کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ میں سترہویں صدی اپنے ساتھ فلسفیانہ افکار کی بہتات لائی یہ ایک ایسا دور تھا،جس میں فلسفیانہ افکار نے مغرب کو اپنی غالبیت کے شکنجے میں جکڑے رکھا ہوا تھا،جس میں رینے ڈیکارٹ(رینے ڈیکارٹ فرانسیسی ریاضی دان اور جدید فلسفے کا بانی تھا۔ تورین میں پیدا ہوا۔ پیرس میں ریاضی، طبعیات اور الہیات کی تعلیم حاصل کی۔)
    نکولس مالبرانش
    (نکولس مالبرانش -6 اگست 1638 – 13 اکتوبر 1715- فرانسیسی عقلی فلسفی تھا)
    اور باروخ اسپینوزا (1632–1677)( سترہویں صدی کا ایک ممتاز ولندیزی فلسفی تھا۔ اس کا پورا نام بارخ سپینوزا ہے۔اس کے آباؤ اجداد اصلا یہودی تھے وہ اندلس سے ترک وطن کر کے ہالینڈ آکر آباد ہوگئےتھے۔اسپینوزا عقلیت پسند تھا۔ اس کے نزدیک خدا اور فطرت کے قوانین ایک ہی چیز ہیں،اخلاقیات اس کی اہم تصنیف ہے)
    جیسے بڑے بڑے فلاسفرز پیدا ہوۓ جنہوں نے مغربی تہذیب و معاشرے میں نہایت گہرے اثرات مرتب کیے یہ فلاسفرز اپنی نوعیت کی ایمانیات اور اعتقادات سے متصف تھے حتی کہ اسپینوزا جیسے بڑے فلاسفر کے فکری رجحانات کی بنیادیں بھی دینی اعتقاد سے متصف ہوتی نظر آتی ہیں۔

    الحاد کے ابتدائی آثار:
    اصولی طور پہ تو الحادی افکار اتنے ہی قدیم ہیں جتنی کے انسانی ذات قدیم ہے،البتہ مصادر و مراجع کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ الحاد کے ابتدائی آثار آج سے ایک ہزار سال قبل مسیح میں ہندکے اندر ”رگ ویدا”کے نص مکتوب میں شکوک و شبہات کی صورت میں ظاہر ہوچکے تھے،اور تقریباً 500 سال قبل مسیح کے دورانیے میں گوتم بدھ(گوتم بدھ کو بدھا اور بدھ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام سدھارتھ تھا۔ یہ563قبل مسیح یا 480 قبل مسیح میں پیدا ہوئے۔ ان کا باپ ایک ریاست، جو علاقہ اب موجودہ نیپال میں شامل ہے، کا راجا تھا اس ریاست کو کپل وستو کہا جاتا تھا۔ گوتم بدھ، بدھ مت مذہب کے بانی ہیں)نے انسانی فکر کو الاہیات کے بجاے انسانی تکالیف کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی۔

    دوسری جانب یونانی فلسفانیہ فکر میں مادیت کی اتنی آمیزش ظاہر ہوچکی تھی کہ دیموقراطیس
    یونانی فلسفی جسے بابائے طبیعیات بھی کہا جاتا ہے۔ تھریس کے شہر ابدیرا میں پیدا ہوا۔)

    جیسے فلاسفر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اجزا یا مادہ ازل سے موجود ہے اور غیر فانی ہے۔ جسامت اور شکل و صورت میں تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ماہیت کے لحاظ سے یہ ایک ہی ہیں اور اس نے پتھر سے تراشے گئے خدا کی حقیقت کو سرے سے لغو قرار دے ڈالا۔

    اور چوتھی صدی قبل مسیح کے حلول کے ساتھ ہی ایپکورس نے دنیا میں پاۓ جانے والے”وجود شر”کی بحث کو چھیڑ کر الہ کے وجود پر طرح طرح کے اعتراضات اٹھاۓ جس نے آگے چل کر قرون وسطی میں ایمان پر حملہ آوری کی صورت اختیار کر لی اور ذات باری تعالی خالق کون کل کے وجودی فکر پر عقلی اعتراضات لگاۓ گئے حتی کہ "ولیم اوکامی”(ولیم اوکامی مسیحی علم عقائد کے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ منطقی،طبیعیات دان اور فلاسفر بھی تھے)نے صراحتا "امکان وجود الہ” کا انکار کیا، پھر آگے چل کر عقلیت،فطرت پسندی اور امپیرزم کے فلسفے نے الحادی فلسفے کے فروغ میں تعمیری و اساسی کردار ادا کیا۔ اور جہاں تک روشن خیالی کے زمانے کی بات کا تعلق ہے،تو اس دور کی موجودہ خصوصیت مذہب پر کڑی تنقید تھی جو آج تک چلی آ رہی ہے،دوسری جانب اگر موجودہ دور کے فلسفے کی بات کی جاۓ تو الحاد اپنے وجود میں ایک نیا منظرنامہ پیش کر رہا ہے،جس نے سائنس کو غالبیت عطا کرکے کائنات و انسان کو اس کا ما تحت بناکر رکھ دیا ہے اور یوں کہا جاۓ کہ مادہ پرستانہ افکار اور الحاد کے ما بین ایک بہت بڑا گہرا ربط و تعلق ہے تو اس میں کسی بھی نوعیت کے شک کا شائبہ نہ ہوگا۔

    مغرب کے اندر الحادی لہر اور دین مسیح کے ما بین پیدا ہونے والی معارضت نے ایک ایسی صورتحال اختیار کردی ہے کہ بہت سے لوگ دین مسیح پر عقل و سائنس کو فوقیت دینے لگے ہیں۔

    مغرب میں اس وقت سائنسدانوں کے دو گروہ ہیں ایک گروہ تو وہ ہے جو الحادی فکر سے متاثر اور انکار وجود الہ کا قائل ہے لیکن اس کے مد مقابل ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے،جو ملحدانہ فکر کی شدید تنقید کرتے نظر آتا ہے تاکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ الحاد کا یہ طوفان مغرب کا پیداوار نہیں ہے،بلکہ خود بخود وجود میں آ گیا ہے،جو وقت کے ساتھ انسانی فکر میں کھپ چکا ہے،بہر حال اس کی درست حقیقت اب دنیا کے سامنے آشکار ہوچکی ہے،اس لیے اس بحث میں ہم نہیں پڑتے۔