Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آسمانی شادی

    آسمانی شادی

    غربت کی رسی سے خودکشی کرنے والے باپ کی بیٹی کے نصیب
    ظفریات کتاب کا حقیقت پر مبنی دل سوز مضمون: آسمانی شادی
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    2020 مجھے ساری زندگی نہیں بھول سکتا۔ اس سال نے انسانیت کو کرونا وائرس جیسی وبا کے امتحان میں ڈالا، جو خود تو نظر نہیں آتی تھی مگر کئی واقعات دکھا کر گئی۔ جب ملک بھر میں لاک ڈاؤن لاگو کر دیا گیا، یہ کہانی ہے ایک ایسے مزدور کی جو روزانہ اپنا کنواں کھود کر پانی نکالتا تھا، یعنی روز کمایا تو کھایا ورنہ فاقہ۔ لاک ڈاؤن کو دوسرا ماہ تھا، عوام گھروں میں قید تھی۔ جن کے گھر وافر راشن اور رقم تھی، وہی بے فکر تھے۔ باقی سبھی خوراک کی خوراک بنتے جا رہے تھے۔

    مشکل میں مصیبت کو دُور کرنے والے انسانوں کے جہان کا تو پتہ نہیں، مگر پاکستان، پنجاب کے مسلمانوں نے اپنی دکانوں پر پڑی چیزیں مہنگی کر دی تھیں۔ دورِ حاضر میں یہ مجبوری کا فائدہ اٹھانے والے لوگ حیوانوں کو اشرف المخلوقات ہونے پر کبھی پچھتانے نہیں دیتے۔ نجانے کتنے لاچار، بے بس، غریب انسانوں کو کرونا وائرس کے دور میں موت کا خوف اپنی لپیٹ میں مبتلا کر چکا تھا، مگر یہ کہانی ایک ایسے غریب مزدور کی، جس نے اپنے بچوں کی بھوک مٹانے میں ناکامی کا یہ حادثہ پیش کیا کہ شہر کے بیچ میں ایک درخت پر پھندہ بنا کر جھول گیا۔

    اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر دیکھیں تو رُوح کانپ اُٹھی۔ قریبی شہر کا واقعہ تھا۔ میں بھی دو بچوں کا باپ ہوں، اور باپ کے حساس دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک دن اس خوفناک موت کا شکار ہونے والے باپ کے گھر پہنچا۔ایک چھوٹا سا گھر، جس کی کچی دیواریں اور چھت اس میں رہنے والوں کے حالات بیان کر رہی تھیں۔ بیوہ اپنی بچیوں کو آغوش میں لیے خون کے آنسو بہاتی ہوئی کہہ رہی تھی: بیٹی کا رشتہ طے کیا تھا، اس کے سسرالیوں کو گمان تھا کہ باپ جہیز میں کچھ نہ کچھ تو ضرور دے گا، مگر اب وہ بھی دامن چھڑواتے نظر آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کچھ روز میں شادی سے انکار کر دیں،مجھ سے کچھ بولا نہ گیا اور اگلے نقصان کا اعلان سن کر دُکھی سا لوٹ آیا۔

    کسی غیبی طاقت نے مجھے ان کے لیے کوشش کرنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے اپنے ایک بیرون ملک مقیم کزن سے مدد کی بات کی تو اس نے مجھے بیس ہزار روپے بھیجے۔ کچھ رقم میں نے اپنے شافعِ محشرؑ کے غلام مسیحا سے حاصل ہونے والی شامل کی اور مزید کے لیے بے قرار ہو گیا۔روز میرا دل مجھے کسی نیلام گھر جہیز والے کے پاس پہنچنے کو مجبور کرتا اور میں سوچتا کہ معمولی سی رقم سے جہیز کا سامان متاثرہ گھر میں کیسے پہنچ سکتا ہے، مگر مجھے چلانے والی طاقت نے جہیز مارکیٹ جانے پر مجبور کر دیا۔

    بندے کی جیب میں پچاس ہزار ہو اور دو، ڈھائی، تین لاکھ کا سامان لینے چلا جائے، ظاہری طور پر تو یہ بے وقوفانہ جرات ہے، جس کا نتیجہ شرمندگی کے سوا کچھ نہیں، مگر یہ جو صاحبِ حیثیت لوگ ہوتے ہیں، ان کو قدرت اپنے کسی بندے کی مدد کے لیے صاحبِ دل بھی کر لیتی ہے۔میں دکانوں کے آگے سے گزر رہا ہوں اور میری نظریں دکان میں سامان نہیں، انسان تلاش کر رہی تھیں۔ خدا کی حکمت سے واقفیت کا پہلو بھی سن لیجئے: مالک خوبصورت روحوں پر خوبصورت چہرے سجاتا ہے۔ ہمارا واسطہ کئی ایسے افراد سے پڑتا ہے جن کی شکل دیکھ کر عقل محبت کے احساس کا پتہ دیتی ہے، اور کئی ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ہمارا بگاڑا بھی کچھ نہیں ہوتا، اور وہ ہمیں اچھے بھی نہیں لگتے، یعنی نظریں کئی چہروں کو روح کے فیصلے پر چھوڑ دیتی ہیں اور کئی چہرے دل کے فیصلے میں آ جاتے ہیں۔

    ایسے ہی میں ایک دکان مالک بزرگ انسان، گورا چہرہ، سفید داڑھی، سفید لباس، ہونٹوں پہ تبسم، نگاہوں میں مہربانی — ہماری نظریں ملتے ہی توجہ کا جذبہ اجاگر ہوا۔
    میں ان کی طرف کھنچا چلا گیا، اور انہوں نے مجھے اپنی طرف آتے ہی ملازم کو کرسی لانے کا پیغام دیا۔میں قریب پہنچا تو کرسی مجھ سے پہلے پہنچ گئی۔ میں نے سلام کیا۔ جواب دیتے ہی "تشریف رکھیے” کا اشارہ زبان اور ہاتھ پر اتر آیا۔میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا کہ بات کیسے اور کہاں سے شروع کروں۔ وہ میرا چہرہ دیکھتے رہے۔ میں نے ہمت جمع کرکے کہا: محترم، میں گاہک نہیں، خدا کا پیغام ہوں جو آیا نہیں، بھیجا گیا ہوں۔

    پھر موبائل سے وہ غریب مزدور کی پھانسی لینے والی تصویر سامنے کرتے ہوئے واقعہ بیان کیا کہ میں حادثے کے بعد اس کے گھر گیا تھا۔ اس کی بیوی اور بچیاں اپنی زندگی کا خدا سے اس بات کا شکوہ کر رہی تھیں کہ اس دور میں کیوں پیدا کیا، جس میں انسان تو ہیں، مگر انسانیت نہیں بستی۔کاش ہمارے ہاں ہمسایوں کے حالات سے باخبر رہنے کی روایت زندہ ہوتی تو ہمارا باپ عزتِ نفس کی رسی کو اپنے گلے کا ہار بنا کر انسانوں کے جہاں سے روانہ نہ ہو جاتا، اور چوک میں پھندا لینا یعنی انسانوں میں انسانیت جگانے کی کوشش تھی، ورنہ مر تو وہ گھر کی چار دیواری میں بھی سکتا تھا۔

    اُس بزرگ بندے کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے شروع ہوئے، کہنے لگا: "ہمیں قدرت کا کیا کام کرنا ہے؟”میں نے کہا "اس کی ایک جوان بچی ہے جس کا رشتہ طے کر کے گیا تھا، اب وہ لوگ جہیز کے سامان کے نہ ملنے کی وجہ سے رشتہ توڑ سکتے ہیں۔ اگر کچھ سامان میسر آ جائے تو ہم مرنے والے کو تو نہیں بچا سکے، مگر گھٹ گھٹ کر زندگی اور حالات کو کوسنے والی ایک بچی کا گھر بسنے سے پہلے اُجڑ جانے سے بچا سکتے ہیں۔”
    اور وہ رقم جو میرے پاس تھی نکالتے ہوئے ان کی طرف بڑھا دی۔انہوں نے وہ رقم گنی بھی نہیں اور ملازموں کو بلا کر کہا: "جو سب سے اچھا جہیز کا سیٹ پڑا ہے وہ گاڑی میں لوڈ کرو اور چائے کے لیے آرڈر دو، کہ اللہ کا قاصد ہمارا مہمان بنا ہے۔”

    میں اپنی خود غرضی کی غلاظت سے بھری اوقات دیکھتے ہوئے رو پڑا کہ مالک نے کیسا کام لیا جس نے مجھے انسانیت کا ترجمان بنا دیا۔ بس ایک عیب چھپانے والی رحمت کی چادر تھی، جس نے میرے کردار کو انمول بنایا ہوا تھا۔سامان لوڈ ہوا تو اس بزرگ بندے نے گاڑی ڈرائیور کو کرایہ دیتے ہوئے کہاکہ "کسی سے کوئی پیسوں کا مطالبہ نہ کرنا اور ان صاحب کے ساتھ چلے جاؤ، جہاں یہ کہیں سامان چھوڑ آنا۔”

    میرے پاس اس بزرگ بندے کا شکریہ ادا کرنے کے الفاظ نہیں تھے، مگر اس کا جواب قدرت خود ہی اسے دے گی۔میں گاڑی والے کے ساتھ بیٹھا اور ہم متاثرہ گھر کی جانب روانہ ہو گئے۔ میں دل میں اُس بیوہ ماں کی کیفیت کو محسوس کرکے اشک بہا رہا تھا کہ جب اُس بچی اور ماں کو معلوم ہوگا کہ قدرت نے اُن کی رُوح کا ایک بڑا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، تو ان کی کیفیت کیا ہوگی۔

    مجھ سے یہ منظر دیکھا نہ جائے گا۔ مالک ہمت عطا کرے گا۔

    ہم دو گھنٹے بعد اس متاثرہ گھر کے دروازے پر پہنچے، دستک دی، اندر سے بچی کی آواز آئی: "کون؟”
    "بیٹی، اللہ کا بندہ ہوں، اپنی ماں کو کہو وہ جو بندہ دوسرے شہر سے تعزیت کے لیے آیا تھا وہ دوبارہ آیا ہے، ملنا چاہتا ہے۔”
    بچی نے اپنی ماں کو بتایا تو اُس نے اندر آنے کی اجازت دی۔
    میں اندر گیا، ٹوٹی ہوئی چارپائی پر بیٹھی عورت نے میرا دیکھا ہوا چہرہ پہچان لیا۔

    میں نے سلام کیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر کہاکہ "اللہ نے آپ کی بچی کے لیے سامان بھیجا ہے، اسے قبول کرکے مجھ پر احسان کریں۔”
    ان کے ذہن میں آیا کہ کوئی چھوٹی موٹی رقم یا چیز ہوگی جو ابھی میں جیب سے نکال کر ان کے حوالے کروں گا مگر میں نے ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں دروازے سے باہر گاڑی کے پاس لے آیا۔
    ڈرائیور سے کہا: "ترپال اُٹھائیں۔”

    جب جہیز کے سامان پر اس عورت اور بچی کی نظر پڑی تو وہ بے اختیار روتے ہوئے آپس میں گلے لگ گئیں۔

    بچی ماں کو کہنے لگی کہ "بابا نے خدا کے پاس جا کر خدا کو منا کر میری زندگی کے آباد ہونے کا سامان بھیجا ہے۔ بھلا ایسا بابا کسی بچی کو نصیب ہوا ہو گا جو مجھے ملا تھا۔”
    ہم نے سامان گاڑی سے نکال کر ان کے کمرے میں رکھنا شروع کیا۔

    گلی میں ہمسائے دیکھتے گزرتے تو وہ عورت کہتی کہ "میرے میاں نے اللہ کے پاس جا کر ہمارے زخم دکھائے تو رب نے مرہم بھیجا ہے۔”مکمل سامان حوالے کرنے کے بعد اس کی تصویریں بچی کے سسرال والوں کو بھیجیں تو انہوں نے فوری آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ان کے آنے سے پہلے میں وہاں سے بیوہ کو یہ کہہ کر روانہ ہو گیا کہ "یہ میرا نمبر ہے، شادی کی تاریخ طے کر کے بتا دیجئے گا اور اس کا شکریہ بھیجنے والے رب کو ادا کیجئے گا۔”

    اُس رات اُس گھر میں لاوارثی کا نہ صرف احساس ختم ہوا بلکہ دُکھ کے جسموں نے خوشی کا لباس بھی پہنا۔ افلاس کے ہاتھوں ننگے ہوتے انسان محفوظ ہو گئے۔
    دو روز بعد اُس عورت کا فون آیا کہ بچی کے سسرال والوں نے بچی کو آنکھوں پر بٹھا کر بسانے کا یقین دلایا ہے۔ہم نے ایک ماہ بعد شادی کی تاریخ مقرر کر لی ہے۔
    سو لوگ بارات میں آئیں گے۔

    مجھے طے شدہ تاریخ کا بتایا گیا تو میں کچھ روز بعد ہی اسی شہر کے ایک شادی ہال کے مالک کے پاس پہنچا اور اسے اپنا تعارف کروا کر سارا ماجرہ سنایا۔وہ شخص اس موت سے باخبر تھا مگر جب میری زبانی بات سنتا گیا تو اس کے دل پر قدرت کا احساس نازل ہوتا گیا۔

    وہ میرے جڑے ہاتھ، اشکوں میں بھیگے، منت سے لبریز الفاظ سنتے ہوئے اپنی خاموشی توڑ کر کہنے لگاکہ "بھائی، خدا کا کام ہے، میرے شادی ہال کا مجھ پر کوئی خرچہ نہیں، مگر بارات کا کھانا میری طرف سے ہوگا، ورنہ میں رب کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔””ساری زندگی پیسہ کمایا ہے، آج انسانیت کمانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا۔”ہم دونوں متاثرہ گھر میں گئے اور اُس بیوہ عورت کو بارات کے سارے انتظامات کے بارے میں بتایا۔

    بچی کے دلہن کے لباس سے لے کر عام پہننے کے کپڑے، جوتے اور باقی افراد کے شادی پر پہننے کے جوتے کپڑے جیسی تمام اشیاء سے بے فکر کرکے اُٹھے۔
    کچھ روز بعد یہ سامان شادی ہال کے مالک اور اس کی بیوی کے ہاتھوں پہنچ گیا۔
    مجھے بتایا اور ساتھ کہا کہ جہیز کے موجود سامان کے علاوہ کسی اور سامان کی ضرورت و فکر نہیں۔
    بچی کے سسرال والوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا ہے کہ لڑکے نے باقی انتظام کر لیا ہے۔

    شادی ہال کے مالک نے اپنے صاحبِ حیثیت دوستوں کو بتایا تو وقت آنے پر ان میں کسی نے مہندی کا سامان پہنچایا تو کسی نے کھانا۔ہمسایوں کے ساتھ بیوہ عورت کے اپنے اور خاوند کے قریبی عزیز و اقارب نے ان متاثرہ افراد کے سر پر چھوٹی چھوٹی مہربانیوں کی چھت بنا ڈالی۔اگلے دن شادی ہال میں بارات پہنچی، نکاح پڑھایا گیا، شاہی کھانا کھلایا گیا۔

    مجھے یقین ہے یہ شادی آسمان والے کے کیمرے میں ریکارڈ کی گئی، اور خودکشی کرنے والے باپ کی رُوح نے آسمان سے رب کی رحمت کے پھول اپنی بچی پر برسا کر رُخصت کیا ہوگا۔کیونکہ دلہن اس موقع پر اپنے بابل کے سینے لگ کر کندھے پہ سر رکھ کے رونے والے احساس میں جکڑی کہہ رہی تھی کہ "یہ وہی شادی ہے جس کا میرا بابل دلاسہ دیا کرتا تھا۔”

    میں اس موقع پر جان بوجھ کر شریک نہیں ہوا کہ بچی یا اس کی ماں کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔اُن کی نگاہوں میں اُس احسان کی تصویر نہ اتر آئے جو میں نے کیا ہی نہیں، بلکہ میں تو خود اپنی روح کا سجدہ خدا کے حضور پیش کر رہا تھا، جس نے مجھے آسمانی فیصلے کی تکمیل کا حصہ بنایا۔

    ہاں، میں اتنا ضرور کہوں گاکہ اس سوئے ہوئے احساسِ انسانیت کے معاشرے میں دردِ انسانیت کے شعور کو اجاگر کیا جائے، تو کوئی غریب لاچار، بے بس زندگی خودکشی نہ کرے۔
    انسان موت کو گلے تب لگاتا ہے، جب معاشرہ انسانیت کو گلے لگانا چھوڑ دیتا ہے۔

  • لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا چائنا ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو قومی وژن کا عکاس ہے

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا چائنا ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو قومی وژن کا عکاس ہے

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا چائنا ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو قومی وژن کا عکاس ہے
    تحریر:سیدریاض جاذب
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا یہ کہنا بجا ہے کہ ہم امن کے علمبردار ضرور ہیں، مگر دفاع سے غافل نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی آبادی، وسائل کی قلت اور علاقائی کشیدگیاں دنیا بھر کے لیے لمحۂ فکریہ بنی ہوئی ہیں۔ ایسے حالات میں دنیا کو امن اور استحکام کی ضرورت ہے، جس کے لیے ہمیں ترقی کو اپنا نصب العین بنانا ہوگا۔ پاکستان انہی اصولوں پر کاربند ہے، اور یہی پیغام لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے چینی نشریاتی ادارے CGTN کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں پوری دنیا کو دیا۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنے انٹرویو کا آغاز شہادت جیسے مقدس جذبے سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے”۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ پوری قوم کے جذبے کی عکاسی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ مادرِ وطن کے بیٹے اس کی حفاظت کے لیے اپنی جان نچھاور کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔ یہی جذبہ پاکستان کی ناقابلِ تسخیر طاقت ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے خود انحصاری اور غیرت کا پیغام دیتے ہوئے کہا: "نہ ہم پہلے جھکے تھے، نہ اب جھکیں گے”۔ یہ دنیا کو دیا گیا ایک واضح اور مضبوط پیغام ہے کہ پاکستان ایک خوددار اور خودمختار ملک ہے جو اللہ پر توکل کے بعد اپنے وسائل اور قوتِ ایمانی پر انحصار کرتا ہے۔ ہم کسی عالمی دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوتے۔ پاکستان کی تاریخ، حال اور مستقبل اسی نظریے کی بنیاد پر استوار ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے جھوٹے بیانیے کے خلاف دوٹوک مؤقف پیش کیا، جس سے پوری دنیا کو واضح پیغام گیا۔ انٹرویو میں بھارت کے جھوٹے بیانیے پر انہوں نے سخت ردِ عمل دیا۔ جنرل احمد شریف نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا: "کیا ایسے وقت میں جب دنیا کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، کوئی ملک کسی دوسرے پر جھوٹے بیانیے اور بغیر ثبوت کے حملہ کرے؟” یہ ایک نہایت اہم سوال ہے۔ عالمی برادری کو یہ سوچنا ہوگا کہ علاقائی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایسے جارحانہ رویے اور بے بنیاد الزامات ہیں، جو طاقت کے نشے میں چور ممالک دوسروں پر مسلط کرتے ہیں۔

    پاکستان اور چین کی دوستی وقت کی آزمائشوں میں ہمیشہ سرخرو رہی ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف اسٹریٹیجک اتحادی ہیں بلکہ عوامی فلاح، ترقی اور امن کے مشترکہ مقاصد رکھتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل نے کہا: "ہم ترقی اور امن چاہتے ہیں، نہ کہ تنازعہ”۔ انہوں نے چین کی تیز رفتار ترقی کو دنیا کے لیے ایک مثال قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان بھی اسی راہ پر گامزن ہوگا۔ دہشتگردی اس راہ میں رکاوٹ ہے، اور پاکستان اس ناسور کے خاتمے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل نے امن پسندی اور پاکستان کے قومی رویے کی بات کی، جو کہ ایک لاجواب گفتگو تھی۔ ان کے انٹرویو کا سب سے خوبصورت اور اثر انگیز حصہ وہ تھا جب انہوں نے کہا: "پاکستان کی گلیوں میں آپ کو فتح نہیں بلکہ امن کی خوشی مناتے لوگ نظر آئیں گے”۔ یہ جملہ پاکستان کے قومی کردار کا خلاصہ ہے۔ ہم ایک پُرامن، محبت کرنے والی قوم ہیں جو تنازعہ نہیں چاہتی بلکہ شراکت، بھائی چارہ اور ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ لیکن اگر کوئی ہم پر جنگ مسلط کرے تو ہم اسے پسپا کرنا بخوبی جانتے ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک قومی وژن، ایک عالمی پیغام دیا ہے۔ ان کا انٹرویو صرف ایک روایتی دفاعی بیان نہیں، بلکہ ایک جامع قومی وژن کا عکس ہے۔ ان کے الفاظ میں شہادت کا تقدس، خودداری کا عزم، امن کی خواہش اور ترقی کی تمنا یکجا ہو کر پاکستان کی سوچ کو واضح کرتے ہیں۔ پاکستان دنیا کو بتا چکا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں، لیکن کمزوری ہماری فطرت نہیں۔ ہم دہشتگردی، جھوٹے پراپیگنڈے اور غیرذمہ دارانہ بیانیے کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور پاکستان اپنی خودی، عزت، سلامتی اور نظریے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ہماری ترجیح امن، ترقی اور انسانی فلاح ہے، لیکن ہمارے صبر کو کمزوری سمجھنے والے یاد رکھیں کہ ہم امن کے علمبردار ضرور ہیں، مگر غیرت مند اور دلیر بھی ہیں۔

  • بجٹ 2025-26 ریونیو کے نام پر عوام کا معاشی قتل!

    بجٹ 2025-26 ریونیو کے نام پر عوام کا معاشی قتل!

    بجٹ 2025-26 ریونیو کے نام پر عوام کا معاشی قتل!
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    پاکستانی عوام کی معاشی حالت دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور توانائی کے بڑھتے نرخوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور اب آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی تیاریوں نے ان زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کا بندوبست کر لیا ہے۔ حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات کا مقصد 700 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز اکٹھا کرنا ہے اور یہ بوجھ براہ راست عوام کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ، پنشنرز، تمباکو اور مشروبات کے شعبے، ہر کوئی اس نئے ٹیکس کے طوفان کی زد میں ہے۔ اس کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات پر نئی لیوی، بجلی کے بلوں میں ڈیبٹ سروس سرچارج اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ عوام کے لیے ایک اور معاشی دھچکا ثابت ہوگا۔ دل دکھتا ہے یہ سوچ کر کہ جن بزرگ شہریوں نے اپنی زندگی ملک کی خدمت میں گزاری، ان کے منہ سے بھی اب نوالہ چھینا جا رہا ہے۔

    حکومت کی طرف سے پنشنرز پر انکم ٹیکس عائد کرنے کا عندیہ ظلم کی نئی داستان رقم کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں بزرگ شہریوں کو ٹیکس چھوٹ سمیت کئی مراعات دی جاتی ہیں، مگر پاکستان میں یہ طبقہ نہ صرف سہولیات سے محروم ہے بلکہ معمول کے ٹیکسز بھی اس سے پورے وصول کیے جاتے ہیں۔ اب ان کی محدود پنشن پر انکم ٹیکس لگانے کی بات ان کے لیے آخری سہارا چھیننے کے مترادف ہے۔ سرکاری ملازمین اپنی ملازمت کے دوران انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں جو حکومتی خزانے کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جب وہ عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں صحت اور مالی تحفظ ان کی بنیادی ضرورت ہے، ان پر مزید بوجھ ڈالا جائے؟ کاروباری طبقے کو تو سیلف اسسمنٹ سکیم کے تحت اخراجات منہا کرنے کی اجازت ہے لیکن ملازمین اور پنشنرز کے لیے ایسی کوئی رعایت نہیں۔ یہ طبقہ جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، کم از کم ٹیکس چھوٹ کا مستحق ہے۔ قابل ٹیکس آمدنی کی حد بڑھانے سے بھی ان پر کچھ بوجھ کم ہو سکتا ہے مگر کیا حکومت اس طرف سوچے گی؟

    اس بجٹ کی تیاری میں آئی ایم ایف کا دباؤ واضح ہے۔ 14307 ارب روپے کے ریونیو ہدف پر پاکستان اور آئی ایم ایف متفق نہیں ہو سکے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایف بی آر 13200 ارب روپے سے زیادہ نہیں اکٹھا کر سکتا، جس سے 300 ارب روپے کا فرق پیدا ہو گیا ہے۔ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے 700 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی حکومتی تجویز پر آئی ایم ایف نے اعتراض اٹھایا ہے جبکہ تمباکو اور مشروبات کے شعبوں پر نئے ٹیکسز لگانے کی تیاری ہے۔ خاص طور پر تمباکو کی اشیاء، بالخصوص سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگانے کی تجویز ہے، جس سے سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ یہ اقدام ایک طرف سے مثبت ہو سکتا ہے کیونکہ سگریٹ مہنگے ہونے سے لوگ خاص طور پر مزدور طبقہ جو سستے سگریٹ پیتا ہے، اسے کم خریدے گا۔ یہ طبقہ سب سے زیادہ تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کا شکار ہوتا ہے۔ سگریٹ کی قیمت بڑھنے سے ان کی قوت خرید متاثر ہوگی اور کم سگریٹ پینے سے وہ بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، جس سے صحت پر اٹھنے والے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ تمباکو کے شعبے میں کم از کم قانونی قیمت (ایم ایل پی) بڑھانے کی تجویز کے باوجود 80 فیصد سے زائد سگریٹ برانڈز اس سے کم یا قدرے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔ غیر عمل شدہ تمباکو پر ایڈوانس ٹیکس کی نگرانی سے ریونیو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی، مگر یہ اقدامات صحت کے مسائل حل کرنے کے بجائے سگریٹ کی سستی دستیابی کو بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے ایک لاکھ سے زائد اموات ہوتی ہیں۔ کیا یہ وقت نہیں کہ صحت عامہ کو ترجیح دی جائے؟

    توانائی کا شعبہ بھی عوام کے لیے کوئی خوشخبری نہیں لا رہا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی، بجلی کے بلوں میں 10 فیصد ڈیبٹ سروس سرچارج، اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک خبرکے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے اور آئندہ مالی سال میں فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 100 روپے سے زائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔ مزید برآں استعمال شدہ گاڑیوں کی ڈیوٹیز کی مجموعی شرح نئی گاڑیوں سے 40 فیصد زیادہ ہوگی، جو ہر سال 10 فیصد کم ہوگی اور 2030 تک مکمل خاتمہ متوقع ہے۔ آئی ایم ایف نے سابقہ فاٹا/پاٹا کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور کھاد پر جنرل سیلز ٹیکس کی عمومی شرح نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
    حکومت یہ فیصلے یکم جولائی 2025 سے نافذ ہوں گے۔ گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 1252 ارب روپے قرض لیا جائے گا، جو اگلے 6 سال میں بجلی صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ بھی عوام کے لیے ایک اور مالیاتی بوجھ ہے۔ کیا متوسط طبقہ جو پہلے ہی بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے قرض لے رہا ہے، اس اضافی سرچارج کو برداشت کر پائے گا؟ گردشی قرضوں کو 2031 تک صفر پر لانے کا ہدف تو طے کر لیا گیا مگر اس کی قیمت عوام سے وصول کی جا رہی ہے۔

    نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔ حکومت نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کرنے اور ان کے لیے گاڑیوں، جائیداد کی خریداری اور مالی لین دین پر پابندی لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاجر دوست اسکیم اپنے اہداف پورے نہ کر سکی، لیکن غیر رجسٹرڈ دکانداروں پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھانے سے فائلرز کی تعداد میں 51 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹیکس نظام کو موثر بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ڈیٹا کا تجزیہ اور کمپلائنس رسک منیجمنٹ سسٹم کو فعال کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات یقیناً ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھائیں گے مگر کیا یہ اس قیمت پر ہونا چاہیے کہ متوسط طبقے اور غریب عوام کی زندگی مزید مشکل ہو جائے؟

    یہ بجٹ عوام کے لیے ایک اور امتحان ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ میں اضافی ٹیکسز، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، اور پنشنرز پر انکم ٹیکس جیسے فیصلے متوسط طبقے کی کمر توڑ دیں گے۔ دل رنجیدہ ہوتا ہے یہ سوچ کر کہ ایک دیہاڑی دار مزدور جو بمشکل 700 روپے روزانہ کماتا ہے، جس نے اسی 700 روپے میں گھر چلانا ہوتا ہے، کیا حکومت نے یہ سوچا ہے کہ اس مزدور کا کیا ہوگا، اس کے بچے، بوڑھے والدین اور دیگر گھر والے کیسے زندہ رہ پائیں گے؟یا جن بزرگ شہریوں نے اپنی زندگی ملک کی خدمت میں گزاری، انہیں اب اپنی پنشن پر ٹیکس دینا پڑے گا۔ کیا یہ ان کی خدمات کا صلہ ہے؟ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں کمی، پنشنرز کے لیے ٹیکس چھوٹ اور قابل ٹیکس آمدنی کی حد بڑھانے جیسے اقدامات اس وقت کی ضرورت ہیں۔

    توانائی کے شعبے میں عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے گردشی قرضوں کو کم کرنے کے لیے موثر اصلاحات کی جانی چاہئیں۔ تمباکو پر بھاری ٹیکسز سے صحت عامہ کے تحفظ کی طرف قدم بڑھایا جا سکتا ہے، خاص طور پر مزدور طبقے کو بیماریوں سے بچانے کے لیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کی فلاح کو ترجیح دے۔ معاشی استحکام ضروری ہے مگر اس کی قیمت عوام کی زندگیوں کو مزید کٹھن بنا کر نہیں چکانا چاہیے۔ یہ بجٹ اگر صرف ریونیو کے نام پر عوام پر بوجھ ڈالتا رہا تو یہ محض ایک معاشی قتل ہی کہلائے گا۔ یہی وقت ہے کہ حکومت ایسی پالیسیاں اپنائے جن سے نہ صرف قومی خزانہ بھرجائے بلکہ عوام کے چہروں پر بھی مسکراہٹیں لانے کیلئے بھی اقدامات ضرورکئے جائیں ۔

  • اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ
    ادب ایک ایسا چراغ ہے جو معاشروں کی اندھیری راہوں میں روشنی بکھیرتا ہے۔ اور جب اس چراغ کو تھامنے والے اہلِ قلم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو وہ معاشرے کے فکری، تہذیبی اور تخلیقی منظرنامے کو نکھار دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک روشن اور پُراثر پلیٹ فارم کا نام ہے آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)، جو ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں کو نہ صرف جوڑنے بلکہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

    حال ہی میں لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں "آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کا اہتمام اپووا کے زیرِ اہتمام ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے معزز لکھاریوں، فنکاروں، اور ادب دوست شخصیات نے شرکت کی۔ اس پررونق محفل کی دعوت مجھے بانیِ اپووا ایم ایم علی بھائی کی جانب سے خصوصی طور پر دی گئی تھی، جن کی محبت، خلوص اور تنظیم کے لیے خدمات لائقِ تحسین ہیں۔ ان کی دعوت میرے لیے باعثِ اعزاز تھی، اور میں دل سے اس تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتی تھی۔بدقسمتی سے، میری والدہ کی طبیعت ناساز ہو گئی جس کے باعث میں اس شاندار تقریب میں شریک نہ ہو سکی۔دوران تقریب بھی علی بھائی کی مسلسل کالز آتی رہیں لیکن میں وقت پر جواب نہ دے سکی، میں دل کی گہرائیوں سے علی بھائی سے معذرت خواہ ہوں کہ میں ان کی محبت بھری دعوت کے باوجود شریک نہ ہو سکی۔ میری نیک تمنائیں اور دعائیں اس بابرکت محفل کے ساتھ تھیں،وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ ایسے مواقع پر ضرور شریک ہوں گی

    اپووا ایک ایسی تنظیم ہے جس نے بکھرے ہوئے ادیبوں اور شاعروں کو ایک مرکز، ایک سمت، اور ایک مقصد دیا۔ یہ تنظیم اُن پتیوں کی مانند ہے جنہیں چن کر ایک خوبصورت پھول بنایا گیا، اور پھر ان پھولوں سے ایک مہکتا ہوا گلدستہ تیار کیا گیا ایک ایسا گلدستہ جس کی خوشبو پورے پاکستان کے ادبی منظرنامے کو معطر کیے ہوئے ہے۔میری دعا ہے کہ یہ گلدستہ ہمیشہ مہکتا رہے، قلمکاروں کی آواز بلند ہوتی رہے، اور ایم ایم علی بھائی جیسے مخلص افراد ہمیشہ اس کارِ خیر میں پیش پیش رہیں۔ میں اپووا کی پوری ٹیم، تمام شرکاء اور خاص طور پر علی بھائی کو اس شاندار تقریب کے انعقاد پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ملک یعقوب اعوان کو اپووا کا سینئر وائس چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں، دلی دعائیں، نیک تمنائیں……

  • محکمہ تعلیم اور مُلا عاصی،تحریر؛ مبشر حسن شاہ

    محکمہ تعلیم اور مُلا عاصی،تحریر؛ مبشر حسن شاہ

    کس کی داستان پہلے کہیں مماثلت اتنی ہےکہ خدشہ ہے پہلے کی پڑھ کر دوسرے کی سمجھ جائیں گے سب۔ بہرحال شہرہ آفاق مزاح نگار مشتاق یوسفی کی کتاب آبِ گم کے صفحہ نمبر 269 ، باب شہر دو قصہ ذیلی باب پنجم میں ملا عبد الصمد عرف مُلا عاصی کا قصہ لکھتے ہیں جس میں ایک مقام پر ذکر ہے بی اے کے امتحانات سے قبل مُلا عاصی کی ریاضت کا جو انہوں نے کامیابی کے حصول کے لیے کی۔ کوشش ہے اپنے الفاظ میں بیان کروں مشابہت ہوگی چونکہ متاثرین مشتاق یوسفی سے ہوں لہذا قلم و اسلوب میں ان کا رنگ جھلکے گا کیونکر کہ مشتاق یوسفی کو جس نے بھی پڑھا سیکھالازمی یہ کمال صاحب کتاب کا ہے نہ کہ صاحب تحریر کا۔

    ملا عاصی نے امتحان کی تیاری شروع کرنے کا آغاز کیا سب سے پہلے بازار سے سونف اور دھنیا خشک لائے اور اس کو ملا کر سفوف تیار کیا۔ اس کے بعد تمام تصاویر جو ان کے کمرے میں تھیں(انڈین ایکٹریسسز کی) اتار کر خاندان کے بزرگوں کے فوٹو ٹانگے ۔ مثنوی زہر عشق اور اس نوع کی کتب صندوق میں بند کیں۔ ہر کام اور عیش و عشرت چھوڑنے کا تہیہ کیا کرسمس کے دن سے یوم امتحان تک اور دل ہی دل میں Both days inclusive کہہ کر مسکرا دیے کی تیاری کے دباو کے زیر اثر چہرہ دیکھنے سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے لہذا آئینے پر کپڑا ڈالا۔سر منڈایا کہ دماغ کو تراوٹ ملے اس پر سرسوں کے تیل کی مالش کرائی 7 بادام توڑ کر ان کو پانی میں بھگویا کہ تاروں کی چھاوں میں رات بھر بھیگے بادام حافظہ بڑھاتے۔ علی الصبح بادام نوش فرمائے اور پھر بازار سے پچھلے پانچ سالہ پر چے، خلاصے اور کتب خرید کر لے آئے اس ذخیرہ میں سابق طلبا نے قلم زد اہم حصوں کے علاوہ ان خطرناک مقامات کی بھی نشاندہی کی تھی جہاں اکثر طلباء فیل ہوئے بعض حصے تو مثل لائٹ ہاوس تھے جو علم کے سمندر میں بھٹکے مسافروں کو انتباہ کرتے تھے کہ یہاں کئی اداس نسلیں مدفون ہیں۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے سب سے لائق طالب علم کے پاس جاکر اس کی تمام کتب مستعار لیں محلے کے ایک لڑکے کو اجرت پر مقرر کیا کہ کہ ان کتب کو دیکھ کر اہم انڈر لائن حصے میری کتب پر بھی انڈر لائن کر دو اپنی کتب نے سائیکل پکڑی تمام تر درسی کتب معہ خلاصہ جات ایک پرانی کتابوں کی دکان سے خریدے اور پچھلے سال ٹاپ کرنے والے طالبعلم کے گھر جاکر اس کے اہم حصوں پر نشان لگوا لیے۔ واپسی پر کھڑے پیر پریس سے دو مہریں Important اور Most important بنوا کر ایک ٹاپر کی منت کی کہ بقدر اہمیت مہریں لگاتے جاو۔ اس کے بعد مُلا عاصی نے تمام کتب کے وہ حصے جو اہم نہ تھے قینچی سے کاٹ دیے کہ کتاب کی صخامت سے طبیعت پر بوجھ بڑھتا ہے۔ اس کے بعد ذاتی مطالعہ، تجربہ اور کشف کی بنیاد پر چند مزید اسباق بھی کتر دیے۔ اس کے بعد جب ملا عاصی کو لگا کہ ممتحن کے خلاف آدھی جنگ تو وہ جیت چکے لہذا اب پڑھ لینا چاہیے تو انہیں یاد آیا کہ سب کتابیں پڑھ کر امتحان دینا کہاں کی دانائی ہے انسان کو خود سے بھی کچھ پتا ہونا چاہیے لہذا فیصلہ کیا کہ زندگی اور بینائی نے اگر وفا کی تو امتحانات تک چیدہ چیدہ کتب کے اہم حصے ایک نظر دیکھ لیں گے کس واسطے کہ ہر کتاب کو عرق ریزی سے نہیں پڑھا جا سکتا۔ جب امتحان سر پہ پہنچا تو کمرہ نشیں ہو کر قریبی پڑوسی سے کہا کہ باہر سے تالا لگا دو تاکہ یکسو ہو کر پڑھائی ہو سکے لیکن شام تک دماغ کا تالا نہ کھلا۔ لہذا پڑھائی شروع نہ کی۔ ایک ہندو طالبعلم سے برہمچا رہنے کا گُر پوچھا تھا اس نے کہا تھا کہ سوئی پاس رکھو اور کسی بھی بری تمنا یا خیال کے آنے پر انگوٹھے میں چبھو لو خیر ایک گھنٹے میں دونوں انگوٹھے پن کُشن بن چکے تھے اب کی بار پاوں کے انگوٹھے میں پن چبھونی پڑی۔

    رات ڈھلے سائیکل لی اور صبح تک شہر کے تمام پرنٹنگ پریس کی ردی بوروں میں بھر کر گھر منتقل کی اور کاغذ کی کترنیں جوڑ کر اندازے قائم کیے جس جس استاد پر شبہہ تھا کہ پیپر سیٹر ہو سکتا اس کے گھر کے ملازمین بچوں تک کو کھنگال ڈالا۔ گھر کے دروازے پر رات گئے جاکر مراقبہ کیا۔ جب امتحان میں ایک ہفتہ رہ گیا تو تمام کاوشوں پر مبنی دس سوال کا ایک پرچہ آوٹ کیا اور پوری رات گھوم کر علم کے متلاشی طلباء میں بانٹا۔ ستم بالائے ستم کہ ان کے آوٹ کردہ دس میں سے آٹھ سوال پہلے پرچے میں آ گئے اور ملا عاصی نے امتحان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا کہ جس علم سے ذاتی فائدہ ہو رہا ہو وہ کشف باطل کر دیتا۔ غرض یہ کہ جتنی محنت انہوں نے کورس کے انتخاب اور پرچہ آوٹ کرنے میں کی اس کا ایک چوتھائی کر لیتے تو امتحان پاس ہوجاتا۔

    محکمہ تعلیم کے بارے سمجھ تو گئے ہوں گے مختصراً عرض کر دیتا ہائیر سیکنڈری، ہائی ، مڈل پرائمری، پی ایس ٹی ، ای ایس ٹی، ایس ایس ٹی، ایس ایس، ٹرپل ایس، ہیڈ ٹیچر، ایچ ایم ایس ایم، سب کا حال بیان ہے الگ الگ ذکر قارئین کو الجھائے گا۔ اسمبلی میں ناخن چیک، بال چیک، یونیفارم چیک، ٹائی، کیپ بیلٹ لازمی۔ بعد از اسمبلی ناظرہ قرآن و ترجمہ بلحاظ کلاس ۔ منتھلی سٹوڈنٹ رینکنگ پروفارما، ٹیچر رینکنگ، حاضری رجسٹر پر الگ ایپ پر الگ روزنامچہ ترتیب دینا۔ غیر حاضر طلباء کے گھروں میں رابطہ، داخلہ مہم اس کے ذیل میں کارنر میٹنگز، یوپی ای رجسٹر بنانا۔ داخلے اوپن تو ہیں ہی گھروں سے جاکر آوٹ آف سکول طلباء لانے داخلے کے ہر سال ٹارگٹ اکتوبر میں پھر نیا داخلہ ٹارگٹ، ڈی ورمنگ ہر سال، الیکشن، مردم شماری زراعت شماری، ووٹرز کا انراج، ویری فیکیشن، میٹرک نہم دہم۔ ایف اے امتحان، پیپر مارکنگ، پر یکٹیکل امتحان ڈیوٹی ، پولیو، کورونا چلو گزر گیا وہاں بھی رہی ڈیوٹی۔ گندم خریداری سرکاری طور پر جب ہو ٹیچرز کی ڈیوٹی کاکردگی ایپ پر زیبرا کراسنگ سکول کی ہر ہفتے پکچرز، سارا سال ڈینگی ایکٹوٹیز، سکول کے اندر شجر کاری، صفائی پنکھے تک صاف جالے ختم۔ پینے کا صاف پانی واش پوائنٹ واش کلب، سکول مینیجمنٹ کونسل اجلاس این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈ بینک کے چکر ایک ہیڈ چینج ہو تو سائن اپ ڈیٹ کرانے کے لیے دو رنگین تصاویر، شناختی کارڈ بائیو میٹرک ویری فیکیشن سیلری سلپ کوسگنیٹری کی پینشن بک یا زمین کا فرد معہ فزیکل حاضری بینک۔ سکول میں کوئی درخت جو کٹوانا ہو دیوار کے پاس ہو یا موٹر کے تو درخواست ہائر اتھارٹی کو ان کی جانب سے محکمہ جنگلات کو فارورڈ محکمہ جنگلات کا وزٹ درخت کی سرکاری قیمت کا تخمینہ اس کے بعد کم از، کم بولی کا ریٹ مقرر، منتھلی پیرنٹ ٹیچر میٹنگ کاروائیاں درج لگ۔ بزم ادب معہ رجسٹر کاروئی۔ Tablet پر اخراجات کا انراج الگ کیش بک پر مینوئل الگ ۔ باتھ روم صفائی، کریکٹر بلڈنگ کونسل اب سکول بیس ایمرجنسی پلان، سالانہ ایکشن پلان، ورک پلیس تحفظ جواتین کمیٹی، COT فارم، اے ای او وزٹ ایم ای اے وزٹ، ٹیچر ڈائری مکمل لیسن پلان بنے ہوں۔ دفتر سے روزانہ تقریباً ڈاک اس سب میں پڑھائی کا تعلق ملا عاصی کی پڑھائی جتنا رہ جاتا
    ۔ اوپر سے 2018 کے بعد بعدبھرتی بند۔ ریشنلائزیشن معطل، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

  • ٹریفک پولیس ،مسائل وہیں، ذمہ دار کون، تحریر:ملک سلمان

    ٹریفک پولیس ،مسائل وہیں، ذمہ دار کون، تحریر:ملک سلمان

    ایسا لگتا ہے ٹریفک پولیس نے سڑکوں کو تجاوزات مافیا اور ناجائز پارکنگ کے اڈے اور بنا نمبر پلیٹ سفر کرنے والے دہشت گردوں کی جنت بنا دیا ہے۔ ٹریفک پولیس افسران اپنی کمائی کے اڈے بند کرنے کی بجائے ٹک ٹاک ویڈیوز اور میڈیا والوں کے ترلے منتیں کرکے فرمائشی انٹرویوز کے زریعے عوام، حکمرانوں اور احتساب کے اداروں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں۔ فرمائشی انٹرویوز میں بلند وبانگ دعوے اور بھڑکیں مارنے کا مقصد اپنی کمائی کے اڈوں سے توجہ ہٹانا ہے۔

    ایکسپریس ٹربیون کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ساڑھے چھے لاکھ رکشے ہیں جن میں سے تین لاکھ کے قریب لاہور میں ہیں۔میں نے چند ماہ قبل بنا نمبر پلیٹ، مبہم اور غیرنمونہ نمبر پلیٹ رکشوں والوں کاسروے کیا تو ہر دوسرے رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ وہ سیف سٹی اٹھارٹی کے آن لائن چالان سے بچنے کیلئے ٹریفک پولیس کی ملی بھگت سے مبہم اور بنا نمبر رکشہ چلاتے ہیں اور اس کے عوض مختلف علاقوں کے حساب سے 500سے لیکر 2000روپے تک روزانہ دیتے ہیں۔ اگر تین لاکھ رکشہ ڈرائیور میں سے محض ایک لاکھ رکشہ والے 1000 روپیہ بھی دیں تو یہ رقم لگ بھگ دس کروڑ روپے روزانہ بنتی ہے۔ اگر رکشہ والوں کے الزامات جھوٹ ہیں تو پھر ان بنا نمبر پلیٹ رکشہ اور دیگر کمرشل گاڑیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی۔ آپ لاہور کی کسی بھی شاہراہ پر کھڑے ہوجائیں سو رکشوں کا جائزہ لیں، لوڈر 100میں سے 100بنا نمبر پلیٹ۔چنگ چی 100میں سے کم ازکم 90 کی بیک سائڈ پر نمبر پلیٹ نہیں ہوگی۔ رکشہ، ٹویٹا ہائی ایس، منی مزدہ, بس سمیت پبلک ٹرانسپورٹ میں سے شائد کسی ایک کی نمبر پلیٹ نمونہ کے مطابق ہو۔ موٹرسائیکل اور رکشہ سمیت بے شمار ٹرانسپورٹ والے فلیشر اور تیز لائٹ کا استعمال کررہے ہیں لیکن کسی کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی۔ گذشتہ دنوں ایک سنئیر آفیسر کے ساتھ رائیونڈ جانے کا اتفاق ہوا تو جاتی عمرہ چوک پٹرول پمپ کے بالکل سامنے کم از بیس بغیر نمبر پلیٹ لوڈر اور مسافر بردار رکشے کھڑے تھے۔ یہ تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے گھر کی طرف جانے والی سڑک کے چوک کا عالم ہے۔ کیا بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں سکیورٹی ٹھریٹ نہیں؟

    اسسٹنٹ کمشنر، اے ڈی سی آر پولیس اور ٹریفک پولیس کی اپنی گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہیں جن کی نمبر پلیٹ ہیں انہوں نے بھی نمبر کے آگے راڈ لگا کر نمبر کو چھپایا ہوتا ہے۔ کیا یہ سول ملازمین کوئی خفیہ ایجنسی ہیں جو نمبر پلیٹ نہیں لگا رہے؟ بغیرنمبر پلیٹ گاڑی چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری رکشہ ہو یا موٹر سائیکل سب کے خلاف ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔

    لاہور میں ہر طرح کی ٹریفک شامل کرکے کم وبیش روزانہ آٹھ لاکھ گاڑیاں ان اور آؤٹ ہوتی ہیں جبکہ میٹروپولیٹن ایریا میں 5لاکھ گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ ان13لاکھ میں سے کم از کم ایک تہائی موٹرسائیکل اور گاڑیاں کم از کم 5سے 7دفعہ مختلف جگہوں پر پارکنگ استعمال کرتی ہیں۔ اگر محض 100روپیہ پارکنگ فیس بھی رکھی جائے تو حکومت کو صرف لاہور سے چالیس کروڑ روزانہ، 12ارب ماہانہ 144ارب سالانہ صرف پارکنگ فیس کی مد میں آمدن ہوسکتی ہے۔ پنجاب کے 5446ارب کے سالانہ بجٹ کے برابر رقم 41اضلاع کی پارکنگ فیس سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

    ٹریفک پولیس کی مبینہ سرپرستی کی بدولت پرائیویٹ پارکنگ مافیا صرف لاہور سے اربوں روپے ماہانہ بطور پارکنگ فیس اکٹھی کررہا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں تو سرکاری پارکنگ کا کوئی نظام ہی نہیں ساری رقم ہی ٹریفک پولیس اور پرائیویٹ پارکنگ مالکان کی جیبوں میں جا رہی ہے۔ اس سے بڑی لاقانونیت کیا ہوگی کہ موجودہ سی ٹی او کے دور میں ٹریفک پولیس لاہور پارکنگ کمپنی کے ملازمین کو سرکاری پارکنگ فیس وصول کرنے پر زدوکوب کرتی ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آرز کرواتی رہی ہے جبکہ غیر قانونی پرائیویٹ پارکنگ فیس وصول کرنے والے آزاد ہیں۔ پولیس ناکوں پر تعینات اہلکار ایک ایک گاڑی کو روک کر سونگھتے ہیں اور ہر گزرنے والے کا ایکسرے کرتے ہیں انکو بلانمبر پلیٹ گاڑیاں کیوں نظر نہیں آتی۔

    مریم نواز حکومت کو چاہئے کہ سختی اور آہنی ہاتھوں سے ہر طرح کی غیرقانونی پارکنگ اور تجاوزات کا خاتمہ کروائیں۔ تمام چھوٹے بڑے شاپنگ مال اور پارکنگ سٹینڈ بغیر رجسٹریشن سو روپے سے لیکر پانچ سو روپے فی گھنٹہ کے حساب سے غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کررہے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی۔خطرناک پہلو یہ ہے کہ پرائیویٹ مافیا سرکاری جگہوں پر غیر قانونی پارکنگ فیس صول کررہا ہے۔ مین شاہراؤں اور رہائشی علاقوں میں قائم پرائیویٹ دفاتر نے غیر قانونی پارکنگ سے سڑکیں اور گلیاں بند کی ہوتی ہیں لیکن ان کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔ مبینہ طور پر ان تمام غیر قانونی پارکنگ سے بھی منتھلی لی جاتی ہے اگر منتھلی نہیں لیتے تو پھر کاروائی کیوں نہیں ہوتی۔

    ٹریفک پولیس کی کرم نوازی کا نتیجہ ہے کہ ہمیں پارکنگ کے لیے جگہ نہیں ملتی لیکن والٹ پارکنگ والے اسی جگہ گاڑی پارک کر لیتے ہیں اور ٹریفک پولیس کوئی کاروائی نہیں کرتی اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ٹریفک پولیس ناجائز پارکنگ مافیا کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ سڑک اور بازار کے دونوں اطراف روڈ پر موجود غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے سو فٹ چوڑی سڑک بامشکل 15فٹ باقی رہ جاتی ہے۔تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے بیس منٹ کا فاصلہ پچاس منٹ میں طے ہورہا ہے۔حکومت کو اپنی رٹ بحال کرنا ہوگی دکانداروں کو بتانا ہوگا کہ صرف دکان تمہاری ہے نہ کہ سامنے والا فٹ پاتھ اورسڑک۔ کسی کو بھی سرکاری پارکنگ فیس کے بغیر گاڑی پارک کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

  • بھارتی جارحیت، فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان کا ڈوزیئر

    بھارتی جارحیت، فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان کا ڈوزیئر

    بھارتی جارحیت، فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان کا ڈوزیئر
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان نے بھارتی جارحیت، منظم جھوٹی پروپیگنڈا مہم اور فالس فلیگ آپریشنز کے ناقابل تردید ثبوت پیش کرتے ہوئے ایک جامع ڈوزیئر جاری کیا ہے۔ یہ ڈوزئر آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی، پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے دفاع کی تفصیلات پر مشتمل ہے۔ اس دستاویز نے بھارت کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کرتے ہوئے پاکستان کی فوجی صلاحیت، سفارتی حکمت عملی اور عالمی پوزیشن کو اجاگر کیا۔

    22 اپریل 2025 کو بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے پہلگام میں ایک حملے میں 26 سیاح ہلاک ہوئے۔ بھارتی میڈیا نے بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کیا۔ ڈوزیئر کے مطابق یہ حملہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ریسرچ اینڈ انالسس ونگ (RAW) کا فالس فلیگ آپریشن تھا۔ ٹیلی گرام پر لیک ہونے والی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے "سائیکولوجیکل آپریشنز اور بیانیہ کنٹرول” کے ذریعے حملے کو پاکستان کی انٹرسروسز انٹیلی جنس (ISI) پر ڈالنے کی منصوبہ بندی کی۔ بھارت نے حملے کے 10 منٹ کے اندر پاکستان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جو بغیر تحقیق کے کیا گیا۔ پاکستان نے شفاف تحقیقات کی پیشکش کی مگر بھارت نے مسترد کر دیا۔ بین الاقوامی میڈیا، بھارتی سیاستدانوں اور سول سوسائٹی نے بھارتی بیانیے کو مشکوک قرار دیا۔ بھارت نے حقائق دبانے کے لیے یوٹیوب اور ٹوئٹر چینلز پر پابندی لگائی، جو اس کے سیاسی مقاصد کو عیاں کرتا ہے۔

    پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے 23 اپریل کو جارحانہ اقدامات اٹھائے، جن میں انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی، پاکستانی ویزوں کی منسوخی، واہگہ اٹاری بارڈر کی بندش، پاکستانی ہائی کمیشن کی بندش اور سفارتی عملے کی تعداد میں کمی شامل تھی۔ 7 مئی کو بھارت نے پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر کے چھ شہروں مریدکے، بہاولپور اور مظفرآباد پر میزائل حملے کیے، جن میں مساجد تباہ ہوئیں اور خواتین، بچوں سمیت درجنوں شہری شہید ہوئے۔ بھارت نے 100 سے زائد ڈرونز پاکستانی فضائی حدود میں داخل کیے، جبکہ پاکستانی فضائی حدود میں 57 کمرشل پروازیں موجود تھیں، جس سے ہزاروں شہریوں کی جان خطرے میں پڑی۔

    پاکستان نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بھارتی جنگی طیاروں، جن میں تین رافیل جیٹس، ایک MiG-29 اور ایک SU-30 شامل تھے کو مار گرایا۔ 10 مئی کو بھارت کے پاکستانی ایئر بیسز پر حملوں کے جواب میں پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا۔ یہ آپریشن اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت تھا۔ پاکستان نے بھارتی فوجی تنصیبات، جن میں میزائل اسٹوریج، ایئر بیسز اور اسٹریٹجک اہداف شامل تھے کو نشانہ بنایا۔ ڈوزئر کے مطابق پاکستان نے پانچ بھارتی طیاروں، 84 ڈرونز، S-400 بیٹری سسٹمز (آدم پور اور بھوج)، براہموس میزائل اسٹوریج (بیاس اور ناگروٹہ)، فیلڈ سپلائی ڈپو (اُڑی)، ریڈار اسٹیشن (پونچھ) اور فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹرز (10 اور 80 بریگیڈ) کو تباہ کیا۔ پاکستان نے فتح سیریز کے F1 اور F2 میزائلوں، درست ہتھیاروں اور آرٹلری کا استعمال کیا، صرف فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے شہری علاقوں کو محفوظ رکھا۔

    ڈوزیئر میں سیٹلائٹ تصاویر، فیلڈ انٹیلی جنس اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس شامل ہیں، جو بھارتی میڈیا اور RAW سے منسلک سوشل میڈیا کی جھوٹی مہم کو بے نقاب کرتی ہیں۔ بھارتی میڈیا نے پہلگام واقعے کے بعد جنگی ماحول بنایا، جسے بین الاقوامی میڈیا نے جھوٹا قرار دیا۔ بھارتی سول سوسائٹی نے اسے سیکیورٹی ناکامی قرار دیا۔ بھارت کی فوری الزام تراشی اس کے دعوؤں کی ساکھ کو مشکوک بناتی ہے۔ پاکستان نے شفاف تحقیقات کی پیشکش کی جو بھارت کے مقاصد کو بے نقاب کرتی ہے۔

    بھارت کا فالس فلیگ آپریشنز کا تاریخی پس منظر ہے، جیسے 1971 کی مشرقی پاکستان مداخلت، 1999 کا کارگل تنازعہ اور 2016-2019 کی نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے بھارت کی تخریبی سرگرمیوں کو عیاں کیا۔ ڈوزئر میں بتایا گیا کہ بھارت پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے، جس کے ثبوت پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے پیش کیے۔

    انڈیا اور پاکستان کے درمیان گذشتہ کئی دنوں سے جاری کشیدگی کے بعد 10 مئی 2025 کی شام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی کا اعلان ہوا، جس کی تصدیق پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بھارتی سیکرٹری خارجہ نے کی۔ سفارتی ماہرین کے مطابق ڈوزئر نے پاکستان کی عالمی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ عالمی میڈیا نے بھارتی بیانیے کی خامیوں کو اجاگر کیا اور بھارتی میڈیا کے جنگی جنون کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو جارحیت، شہریوں پر حملوں اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

    پاکستان نے واضح کیا کہ وہ امن کا حامی ہے لیکن اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرے گا۔ اس کی ردعمل بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھا جو اس کی پیشہ ورانہ فوجی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کی اس تاریخی فتح نے بھارتی جارحیت کو بے نقاب کیا اور عالمی برادری کو پیغام دیا کہ وہ امن کا خواہاں ہے مگر کوئی جارحیت برداشت نہیں کرے گا۔

    پاکستان زندہ باد
    پاک افواج پائندہ باد

  • اپووا اور ادیبوں کی افواج پاکستان سے یکجہتی.تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا اور ادیبوں کی افواج پاکستان سے یکجہتی.تحریر:طارق نوید سندھو

    گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاک بھارت تعلقات میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب بھارت نے پہلگام ڈرامے کا سارا الزام حسب روایت پاکستان پر لگا کر خطے میں ایک اور جنگی جنون کی لہر دوڑا دی۔ بھارت کی اس بے بنیاد الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کا جواب پاکستان نے نہایت دانشمندی اور سفارتی سوجھ بوجھ سے دیا۔ عالمی برادری کو باور کروایا گیا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے، تاہم اگر بھارت نے جارحیت کی تو بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔پھر وہ دن بھی آیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی، دس مئی کا دن، جب پاکستان نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں "آپریشن بنیان مرصوص” کا آغاز کیا۔ یہ آپریشن نہ صرف عسکری تاریخ میں ایک مثال بن گیا بلکہ دشمن کے تین ہفتوں پر محیط جنگی منصوبوں کو صرف تین گھنٹوں میں خاک میں ملا دیا۔ دنیا نے دیکھا کہ بھارتی حکومت، جس نے جنگ کا شعلہ بھڑکانے کی کوشش کی، وہی حکومت چند گھنٹوں بعد امریکہ کے سامنے جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی۔

    آپریشن بنیان مرصوص کی بے مثال کامیابی پر پاکستان بھر میں یوم تشکر منایا گیا۔ ہر طرف جذبہ حب الوطنی کی فضا قائم ہوئی اور افواج پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اسی مناسبت سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی جانب سے ایک پُروقار تقریب منعقد کی گئی ،اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے پر بلا تامل لاہور کا رخ کیا۔ میرے ہمراہ صحافی دوست عباس علی بھٹی تھے۔ ہم پریس کلب لاہور کے قریب واقع ہوٹل پاک ہیری ٹیج پہنچے جہاں ممتاز اعوان نے پرتپاک استقبال کیا۔

    تقریب کا آغاز پرتکلف ناشتے سے ہوا، جس کے بعد قلم کے سپاہیوں نے ایک زبان ہو کر افواج پاکستان سے یکجہتی کا اعلان کیا۔ تقریب میں شریک نمایاں شخصیات میں ناصر بشیر،اشفاق احمد،چوہدری غلام غوث،نوید شیخ،سید امجد حسین بخاری،ندیم انجم،عبدالصمد مظفر،حاجی لطیف کھوکھر،محمد نادر کھوکھر،امجد نذیر،محمد سعید،محمد دانش رانا،امان اللہ نیر شوکت،مہر اشتیاق احمد،ملک فیصل رمضان،سجاد علی بھنڈر،فہد نفیس،خرم شہزاد،محمد ابرار شریک ہوئے،اس کے علاوہ اپووا کے قائدین بانی و صدر ایم ایم علی،سینئر نائب صدر،حافظ محمد زاہد،نائب صدور: سفیان فاروقی، محمد اسلم سیال،جوائنٹ سیکرٹری، محمد بلال،ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن، نادر فہیمی بھی شریک ہوئے،مدیحہ کنول، نیلوفر سمیع، آصفہ مریم، نرگس نور، ثوبیہ خان نیازی، نادیہ وسیم، نیئر سلطانہ، یاسمین محمود،شاعرہ ثوبیہ راجپوت،قرۃ العین خالد،سونیا معراج، ماہ نور، سدرہ رحمت، عائزہ بتول بھی تقریب میں شریک ہوئیں.

    اپووا کی تقریب میں پرتکلف ناشتے کے بعد اس خوشی میں کیک کاٹا گیا کہ پاکستان نے نہ صرف دشمن کو پسپا کیا بلکہ امن و استحکام کا پیغام بھی دیا۔ اس موقع پر ملک یعقوب اعوان کو اپووا کا سینئر وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔ وہ ماضی میں ڈی ایس پی قصور بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں مبارکباد دی گئی اور اُن کے ادبی و انتظامی کردار کو سراہا گیا۔اپووا کی اس تقریب نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے اہلِ قلم صرف تخیل کی دنیا میں ہی نہیں جیتے، بلکہ جب وقت آئے تو وہ قلم چھوڑ کر بندوق اٹھانے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ اپووا نے ایک نئی مثال قائم کی کہ لکھنے والے بھی دفاع وطن کے محاذ پر پیچھے نہیں رہیں گے۔ پاکستان ایک نظریہ ہے، ایک خواب ہے جسے لاکھوں قربانیوں سے حاصل کیا گیا۔ جب بھی دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھا، افواج پاکستان اور پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ آج کے دن ہم اپنے محافظوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی، بقا اور خودمختاری کے لیے ہم سب ایک ہیں۔

    بانی صدر ایم ایم علی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس تاریخی لمحے کا حصہ بننے کا موقع دیا۔ تقریب کے اختتام پر ایک گروپ فوٹو لیا گیا اور اس وعدے کے ساتھ رخصت ہوئے کہ جلد ہی اپووا کا وفد قصور کا دورہ کرے گا۔

  • گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت، عالمی میڈیا نے پرخچے اُڑا دیئے!

    گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت، عالمی میڈیا نے پرخچے اُڑا دیئے!

    گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت، عالمی میڈیا نے پرخچے اُڑا دیئے!
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا جسے "گودی میڈیا” کہا جاتا ہے نے جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کی ایسی مہم چلائی کہ عالمی اداروں اور فیکٹ چیکرز کو اسے بے نقاب کرنا پڑا۔ دی نیویارک ٹائمز اور دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹس کی روشنی میں یہ واضح ہوا کہ بھارتی میڈیا نے غیر مصدقہ دعوؤں کو قومیت پرستی کے جوش میں نشر کیا، جس سے نہ صرف صحافتی معیار کو نقصان پہنچا بلکہ خطے میں تناؤ بھی بڑھا۔

    بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فورسز نے پاکستان کے جوہری اڈے پر حملہ کیا، دو پاکستانی جنگی طیاروں کو مار گرایاہے اور کراچی کی بندرگاہ جو پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے کو تباہ کردیا۔ یہ رپورٹس اتنی تفصیلی تھیں کہ عام ناظرین ان پر یقین کرنے پر مجبور ہوگئے۔ تاہم دی نیویارک ٹائمز نے واضح کیا کہ "ان دعوؤں میں سے کوئی بھی سچ نہیں تھا۔” اسی طرح دی نیوز انٹرنیشنل نے کراچی پر بھارتی بحریہ کے مبینہ حملے کی کہانی کو جھوٹ قرار دیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ بھارتی میڈیا کا یہ رویہ کوئی حادثاتی غلطی نہیں بلکہ ایک دانستہ کوشش تھی جو قومیت پرستی کے نام پر جھوٹ کو فروغ دے رہی تھی۔

    یہ جھوٹی خبریں سوشل میڈیا سے شروع ہوکر مین اسٹریم میڈیا تک پہنچیں، جہاں کبھی معتبر سمجھے جانے والے اداروں نے بھی انہیں بغیر تصدیق کے نشر کیا۔ امریکن یونیورسٹی کی پروفیسر سمیترا بدریناتھن نے کہا کہ "اس بار جو بات منفرد تھی وہ یہ کہ معتبر صحافیوں اور بڑے میڈیا ہاؤسز نے کھلم کھلا من گھڑت کہانیاں چلائیں۔” ان کا کہنا تھا کہ جب قابل اعتماد ذرائع ہی جھوٹ پھیلانے لگیں تو یہ ایک سنگین بحران ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ کی بھرمار پہلے بھی دیکھی گئی لیکن مین اسٹریم میڈیا کا اس طرح پروپیگنڈے کا آلہ بننا بھارتی صحافت کے زوال کی واضح علامت ہے۔

    بھارت میں صحافتی آزادی کا گراف 2014 سے مسلسل نیچے جا رہا ہے، جب سے نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا۔ دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق بہت سے میڈیا ہاؤسز پر حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی خبروں کو دبانے کا دباؤ ہے جبکہ بڑے ٹی وی چینلز حکومتی پالیسیوں کے ترجمان بن گئے ہیں۔ اس ماحول میں جنگ کے دوران قومیت پرستی کو ہوا دینا اور جھوٹی خبروں کو نشر کرنا معمول بن گیا۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینیئل سلورمین نے کہا کہ "غلط معلومات کو جان بوجھ کر پھیلایا جاتا ہے تاکہ جذبات ابھریں اور تنازعہ بڑھے۔” بھارت اور پاکستان کی تاریخی دشمنی نے اس جھوٹ کو پھیلانے کے لیے زرخیز زمین فراہم کی۔

    اس افراتفری میں بھارت کے معروف صحافی راجدیپ سردیسائی جو انڈیا ٹوڈے کے اینکر ہیں، کو اپنے چینل پر پاکستانی طیاروں کے مار گرائے جانے کی جھوٹی خبر نشر کرنے پر معافی مانگنی پڑی۔ دی نیویارک ٹائمز اور دی نیوز انٹرنیشنل دونوں نے اسے نمایاں کیا۔ سردیسائی نے اپنے یوٹیوب ویلاگ میں کہا کہ یہ جھوٹ "قومی مفاد کے نام پر دائیں بازو کی پروپیگنڈہ مشینری” کا حصہ تھا۔ ان کی معافی اس بات کی گواہی ہے کہ 24 گھنٹے کے نیوز سائیکل میں کس طرح میڈیا دباؤ کا شکار ہوکر جھوٹ کا آلہ بن جاتا ہے۔

    بھارت کی فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ آلٹ نیوز نے اس صورتحال میں روشنی کی کرن ثابت ہوئی۔ اس نے آج تک اور نیوز18 جیسے بڑے چینلز کی جھوٹی خبروں کو بے نقاب کیا، جن میں کراچی پر حملے کی من گھڑت کہانی بھی شامل تھی۔ دی نیویارک ٹائمز کے مطابق آلٹ نیوز کے بانی پراتیک سنہا نے کہا کہ "بھارت کا معلوماتی ماحول تباہ ہوچکا ہے۔” بدقسمتی سے فیکٹ چیکنگ کی یہ کوششیں مہنگی ثابت ہو رہی ہیں۔ آلٹ نیوز کو ہتک عزت کے مقدمات اور رپورٹرز کو ہراسانی کا سامنا ہے جو سچائی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا نے اس جھوٹ کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دی نیوز انٹرنیشنل نے بتایا کہ کراچی پر حملے کی جھوٹی خبروں کے ساتھ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر "کراچی” اور "کراچی پورٹ” ٹرینڈ کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر دھماکوں سے سیاہ بادل کی تصاویر گردش کر رہی تھیں جو بعد میں غزہ کی ثابت ہوئیں۔ بھارتی بحریہ نے تصادم کے بعد واضح کیا کہ اس نے کراچی پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کا گٹھ جوڑ کس طرح جھوٹ کو حقیقت کا رنگ دیتا ہے۔

    رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے مطابق بھارت میں 200 ملین سے زیادہ گھرانوں کے پاس ٹیلی ویژن ہے اور 450 نجی ٹی وی چینلز خبریں نشر کرتے ہیں۔ اس طاقت کے ساتھ میڈیا کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے لیکن حالیہ واقعات نے اسے نظرانداز کیا۔ دی نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ "بھارتی صحافت جو کبھی اپنی جرات کے لیے جانی جاتی تھی، اب پروپیگنڈے کا آلہ بن رہی ہے۔” یہ زوال نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت نے جہاں بھارت کے اندر سچائی کا گلا گھونٹا وہیں دنیا بھر کے عوام کو بھی جھوٹے بیانیے کے ذریعے گمراہ کیا۔ ایسے حالات میں گودی میڈیا کسی ایک ملک نہیں بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ بن چکا ہے۔ اگر یہ جھوٹ بے لگام رہا تو ایک دن یہ غلط معلومات جنگی تباہی کو جنم دے سکتی ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر عالمی اداروں کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ، انٹرنیشنل پریس کونسل اور عالمی عدالت انصاف کو چاہیے کہ وہ گودی میڈیا کے جھوٹے پراپیگنڈے پر باقاعدہ تحقیقات کریں، ذمہ داروں کا تعین کریں اور ان پر بین الاقوامی قوانین کے تحت مقدمات چلائیں۔ کیونکہ اب وقت آ چکا ہے کہ خونی صحافت کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دنیا سچائی، صحافتی آزادی اور امن کی طرف واپس لوٹ سکے۔

  • بھارت میں انسانیت کا قتل عام

    بھارت میں انسانیت کا قتل عام

    بھارت میں انسانیت کا قتل عام
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    ایک خبر کے مطابق بھارتی نیوی نے روہنگیا مہاجرین کو بحیرہ انڈمان میں پھینک دیا ہے، جس پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے نوٹس لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ کمیشن نے اسے "غیر انسانی”، "ناقابلِ قبول” اور بین الاقوامی قوانین کی "کھلی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت سے فوری وضاحت اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ واقعہ بھارت کی تاریخ میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ایک اور سیاہ باب ہے جو عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑرہا ہے۔ اب آئیے بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم کا تاریخی طور پر جائزہ لیتے ہیں جو ایک ایسی داستان ہے جو منظم تشدد، نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے بھری پڑی ہے۔

    بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے پر فخر کرتا ہے ایک ایسی سیاہ تاریخ کا حامل ملک ہے جو خونریزی اور ظلم کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ روہنگیا مہاجرین کے ساتھ حالیہ واقعہ کوئی ایک مثال نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں بھارت کی طویل تاریخ میں جُڑی ہوئی ہیں، جہاں مختلف مذہبی، نسلی اور علاقائی گروہوں کے خلاف منظم تشدد کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہر ٹام اینڈریوز نے روہنگیا واقعے کو ناقابلِ معافی قرار دیا اور ایکس (سابقہ ٹویٹر)پر پوسٹس کے مطابق اس میں عورتیں، بچے اور کمزور افراد شامل تھے۔ یہ الزامات اگرچہ ابھی تفتیش کے مراحل میں ہیں لیکن بھارت کے مظالم کی تاریخ گواہ ہے ۔

    بھارت کی انسانیت کے خلاف جرائم کی تاریخ 1947 کی تقسیم سے بھی پہلے کی ہے لیکن جدید بھارت میں یہ سلسلہ کئی اہم واقعات سے واضح ہوتا ہے۔ 1984 کا آپریشن بلیو سٹار اس کی ایک خوفناک مثال ہے۔ اس آپریشن کے تحت بھارتی فوج نے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل جو سکھوں کا مقدس ترین مقام ہے پر حملہ کیا تاکہ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور دیگر سکھ عسکریت پسندوں کو ہٹایا جا سکے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 493 شہری ہلاک ہوئے لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں کے مطابق 4,000 سے 8,000 سکھ زائرین جن میں عورتیں اور بچے شامل تھے، مارے گئے۔ فوج نے ٹینک، ہیلی کاپٹر اور بھاری ہتھیار استعمال کیے، جس سے گولڈن ٹیمپل اور اکال تخت کو شدید نقصان پہنچا۔ سکھ ریفرنس لائبریری جس میں نایاب مخطوطات اور تاریخی نوادرات تھے، نذر آتش کردی گئی ۔ اس واقعے نے سکھ برادری میں گہری دراڑ ڈالی اور اسے "سکھ نسل کشی” کا نام دیا گیا۔ اکال تخت نے اسے جینوسائیڈ تسلیم کیا لیکن بھارتی عدالتیں ذمہ داروں کو سزا دینے میں ناکام رہی ہیں۔

    آپریشن بلیو سٹار کے بعد اندرا گاندھی کے قتل نے دہلی اور دیگر شہروں میں سکھوں کے خلاف منظم فسادات کو جنم دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں 2,800 اور پورے بھارت میں 3,350 سکھ قتل کر دئے گئے جبکہ غیر سرکاری ذرائع 8,000 سے 17,000 ہلاکتوں کا تخمینہ لگاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان فسادات کو "ریاست کی سرپرستی میں قتل عام” قرار دیا کیونکہ کانگریس پارٹی کے رہنماؤں نے مبینہ طور پر ہجوم کو ہتھیار، کیروسین (مٹی کاتیل)اور سکھوں کے گھروں کی فہرستیں فراہم کیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی 2011 کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے ان فسادات کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی، جو انصاف کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس کے مظالم بھی انسانیت کے خلاف جرائم کی ایک واضح مثال ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے غیر آئینی قوانین جیسے ان لا فل ایکٹیویٹیز پرینشن ایکٹ (UAPA) کے ذریعے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں کو ہراساں کیا۔ 2011 میں بھارتی حکومت نے خود اعتراف کیا کہ کشمیر میں 2,000 افراد کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا، جن پر فوج اور پولیس پر ماورائے عدالت قتل کے الزامات ہیں۔ پیلٹ گنوں کااندھادھند استعمال کیا گیا، جس سے ہزاروں افراد نابینا ہوئے اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) نے سیکیورٹی فورسز کولامتناہی اختیارات دیے کہ وہ جومظالم وقتل گری کریں انہیں کوئی نہیں پوچھے گا۔ اقوام متحدہ کے کمشنر وولکر ترک نے عالمی توجہ دلائی، لیکن بھارت نے اسے "اندرونی معاملہ” قرار دے کر بین الاقوامی تفتیش سے انکار کیا۔

    بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں جنہیں سیون سسٹرز کہا جاتا ہے (آسام، منی پور، ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ، اروناچل پردیش، تریپورہ) میں آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے فوجی کارروائیاں کی گئیں۔ میزورم میں 1966 میں بھارتی فضائیہ نے اپنی سرزمین پر بمباری کی جو بھارت کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے اور "گروپنگ آف ولیجز” پالیسی کے تحت ہزاروں میزو باشندوں کو جبری نقل مکانی کروائی گئی، جس سے ان کی ثقافت اور معاشرے کو نقصان پہنچا۔ ناگالینڈ اور منی پور میں AFSPA کے تحت سیکیورٹی فورسز پر عصمت دری، تشدد اور جبری گمشدگیوں کے الزامات ہیں۔ آسام میں 1990 کی دہائی میں "خفیہ قتل” کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سیکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے رشتہ داروں کو ہلاک کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے AFSPA کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سبب قرار دیا لیکن بھارت نے اسے برقرار رکھاہوا ہے۔

    وسطی اور مشرقی بھارت میں نکسلائٹس کے خلاف آپریشنز جیسے آپریشن گرین ہنٹ (2009-2010)نے آدی واسی (قبائلی) آبادیوں کو نشانہ بنایا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ میں سیکیورٹی فورسز نے آدی واسی خواتین کے خلاف عصمت دری اور تشدد کے واقعات کو چھپایا اور ہزاروں قبائلی باشندوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے 2013 میں بھارت سے آدی واسیوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا لیکن دہشت گرد بھارت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔

    بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 2002 کے گجرات فسادات میں ہزاروں مسلمان ہلاک اور زخمی ہوئے، جنہیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے "ریاستی سرپرستی میں قتل عام” قرار دیا۔ سیٹزن شپ ایمنڈمنٹ ایکٹ (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) جیسے قوانین نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو بڑھاوا دیا۔ اقوام متحدہ کی 2022 کی رپورٹ نے اسے انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیالیکن بھارت کے خلاف کوئی عملی اقدام نہ کیا گیا۔

    سری لنکا میں لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم (LTTE) کے خلاف بھارت کی انڈین پیس کیپنگ فورس (IPKF) کی کارروائیاں (1987-1990) بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا باعث بنیں۔ IPKF پر تامل شہریوں کے خلاف تشدد، عصمت دری اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2011 کی رپورٹ نے سری لنکا میں تامل شہریوں کے خلاف مظالم کو جنگی جرائم قرار دیا لیکن بھارت کو اس کے سیاسی اور جغرافیائی اثر و رسوخ کی وجہ سے کلین چٹ دے دی گئی۔ سری لنکا ایک چھوٹا اور کمزور ملک ہونے کی وجہ سے، اس کے جرائم عالمی برادری کی نظروں میں زیادہ نمایاں ہوئے جبکہ بھارت کے مظالم پر پردہ ڈال دیا گیا۔

    ان تمام واقعات کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی حیران کن ہے۔ بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم پر عالمی طاقتوں کی خاموشی کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے بھارت کو چین کے مقابلے میں ایشیاءمیں ایک اہم اسٹریٹجک اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ، یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک بھارت کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی شراکت داری کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری وجہ بھارت کی معاشی طاقت ہے جو مغربی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ انسانی حقوق کے مسائل اٹھانے سے اقتصادی تعلقات خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ تیسرا مغربی میڈیا بھارت کو "جمہوری ملک” کے طور پر پیش کرتا ہے جو اس کے مظالم کو پردے میں رکھتا ہے۔ آخر میں اقوام متحدہ کے پاس بھارت جیسے طاقتور ممالک کے خلاف سخت ایکشن لینے کی صلاحیت محدود ہے کیونکہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی ویٹو طاقت اور سیاسی دباؤبھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دیتے ،جس سے بھارت نے بلاروک ٹوک انسانیت کاقتل عام جاری رکھا ہوا ہے ۔

    یہ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کے نتائج سنگین ہیں کہ بھارت کے مظالم نہ صرف متاثرین کے لیے تباہی کا باعث ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کوبھی پامال کرتے ہیں۔ اگر عالمی برادری نے اب بھی آواز نہ اٹھائی تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گی کہ طاقتور ممالک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بچ سکتے ہیں۔ روہنگیا مہاجرین کا حالیہ واقعہ اس سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑرہاہے۔

    بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم کی اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے، عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے سوئے ہوئے ضمیرکو جگائے اور انصاف کے لیے آواز بلند کرے۔ اقوام متحدہ کو روہنگیا واقعے کی آزادانہ اور شفاف تفتیش کرنی چاہیے اور ذمہ داروں کو سزا دینی چاہیے۔ بھارت کو آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور ان لا فل ایکٹیویٹیز پرینشن ایکٹ (UAPA) جیسے جابرانہ قوانین ختم کرنے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کیلئے پابندکیاجائے اگربھارت نہ مانے تو اس اقتصادی ،تجارتی ،فوجی اور سفارتی پابندیاں لگائی جائیں۔ AFSPA ایک متنازع قانون ہے جو سیکیورٹی فورسز کو شورش زدہ علاقوں(جیسے کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں)میں وسیع اختیارات دیتا ہے بشمول بغیر وارنٹ گرفتاری، گولی مارنے کی اجازت اور قانونی استثنی، جس کے نتیجے میں ماورائے عدالت قتل، تشدد اور جبری گمشدگیوں کی شکایات عام ہیں۔ اسی طرح UAPA ایک انسداد دہشت گردی قانون ہے جو مبہم تعریفات اور سخت سزائوں کے ذریعے صحافیوں، کارکنوں اور عام شہریوں کو "دہشت گرد” قرار دے کر ان کے بنیادی حقوق سلب کرتا ہے جیسے کہ طویل عرصے تک بغیر مقدمے کے حراست میں رکھنا شامل ہے۔

    اب وقت ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کے مظالم کو عالمی عدالت انصاف (ICC) میں لے جائیں تاکہ انسانیت کے خلاف جرائم کی قانونی کارروائی ہو۔ اگر آج بھی اقسام عالم اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ،روہنگیا، سکھ، کشمیری یا دیگر اقلیتوںکے ساتھ ہونے والے ظلم پر خاموشی رہیں تو کل کوئی اور نسلی گروہ یااقلیت ان کے ظلم کا شکار ہوں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کے انسانیت کے قتل عام پر اپنی خاموشی توڑے اور انصاف کا تقاضہ پورا کرے اور بھارت کا کڑامحاسبہ کیا جائے اور اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑاکیا جائے۔