Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آہ …اظہر عباس بھی چل بسے،تحریر:راحت عائشہ

    آہ …اظہر عباس بھی چل بسے،تحریر:راحت عائشہ

    کچھ لوگوں کی حوصلہ افزائی انسان کو بہت تقویت دیتی ہے، آگے بڑھنے کی جستجو اور لگن کو تیز کرتی ہے۔ جب میں پہلی مرتبہ اظہر بھائی سے ملی ایک نو آموز رائٹر تھی جس کی اکا دکا تحریریں کسی میگزین میں شائع ہوئی تھیں۔ لیکن ان تحریروں پر تبصرہ کرنا، مختلف آئیڈیاز دینا کہ کن موضوعات پر بچوں کے لیے لکھنا چاہیے۔ یہ کہہ کر حوصلہ افزائی کرنا کہ میں چاہتا ہوں میری بیٹی آپ کی طرح بنے۔۔۔ یہ لفظ میری زندگی میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں جو اس شخص کے الفاظ تھے جو خود بہت بڑا ادیب، معاشرے میں ایک بہت اچھی حیثیت رکھتا تھا۔ مجھے جب ایوارڈ ملا تو انہوں نے مجھے اسلام آباد سے لاہور آنے کا حکم دیا کہ اتنی جلدی کوئی بڑا پروگرام تو ممکن نہیں لیکن کوئی چھوٹی موٹی تقریب کر لیں گے۔۔ قذافی اسٹیڈیم کی ای لائبریری میں ہونے والی وہ تقریب بھی کوئی چھوٹی سی نہ تھی۔۔ لاہور کے علاوہ دور دور سے بھی بہت سے ادیبوں نے شرکت کی تھی۔۔۔ اور انہوں نے مجھے اتنا بڑا گلدستہ دیا تھا کہ آج تک زندگی میں ویسا گلدستہ دوبارہ نہیں ملا۔۔۔۔

    پھر پچھلے سال جب میں آخری مرتبہ لاہور چلڈرن لٹریری سوسائٹی کی تقریب میں گئی تھی ۔۔ ایک حادثے کی وجہ سے (اس حادثہ ہی کہنا چاہیے) میں تقریب میں جب پہنچی جب تقریباً مہمان جاچکے تھے لیکن اظہر بھائی ابھی بھی تھے۔۔۔
    یا پھر کچھ عرصہ قبل جب ان کی علالت کا پتا چلا تو میں نے انہیں میسج کیا ۔۔ تب ہشاش بشاش آواز میں جواب دیا تھا کہ ارے کچھ نہیں! بیمار ہو گیا تھا اب تو آفس آنا بھی شروع کردیا۔۔ ابھی بھی آفس میں ہی ہوں۔۔۔
    آج صبح اچانک یہ خبر سنی تو پھر فیس بک کھولنے سے دل ڈر رہا تھا۔۔ کاش یہ سچ نہ ہو۔۔
    اتنی دور چلے گئے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کی بہترین میزبانی کرے، جیسے آپ دنیا میں سب کے لیے مہربان تھے خدائے ذوالجلال اس سے بڑھ کر آپ پر مہربان ہو۔۔
    خدا آپ کے بچوں اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
    آپ ہمیشہ ہماری دعاؤں میں رہیں گے۔۔
    اللہ آپ سے راضی ہو ۔۔
    خدا حافظ ۔۔۔
    دل غم سے بھرا ہوا ہے ہم بس یہی کہہ سکتے ہیں
    انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

  • محرم: قربانی، صبر اور امت کا سبق،تحریر: اقصیٰ جبار

    محرم: قربانی، صبر اور امت کا سبق،تحریر: اقصیٰ جبار

    اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام کے بابرکت مہینے سے ہوتا ہے، جو اپنی تاریخی عظمت، روحانی اہمیت اور قربانیوں کی یادگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ مہینہ مسلمانوں کے لیے صرف ایک مذہبی موقع نہیں بلکہ ایک لمحۂ فکر اور خود احتسابی کا موقع ہے۔ یہ ہمیں اپنے ماضی کو یاد دلانے، حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے عزم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

    محرم الحرام کی تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کربلا کے میدان میں حق اور باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ گئی جو رہتی دنیا تک حق پر ڈٹ جانے کا پیغام دیتی رہے گی۔ امام حسینؓ نے اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ اصولوں پر سمجھوتا کسی صورت قبول نہیں۔ ان کی شہادت ہمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور صبر و استقامت کے ساتھ حق کا ساتھ دینے کا درس دیتی ہے۔

    محرم کی عظمت میں حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کا واقعہ بھی شامل ہے۔ وہ خلیفہ راشد تھے جنہوں نے اسلام کے عادلانہ اصولوں پر مبنی ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جو آج بھی مثالی ہے۔ حضرت عمرؓ کی شہادت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قیادت صرف اقتدار کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری، انصاف اور رعایا کی خدمت کا ایک عظیم فریضہ ہے۔

    آج کی امت مسلمہ ماضی کی اس عظمت کو بھول چکی ہے۔ وہ امت جو کبھی دنیا کے لیے علم، عدل اور اخلاق کی مثال تھی، آج انتشار، فرقہ واریت، اور معاشرتی زبوں حالی کا شکار ہے۔ فرقہ واریت نے مسلمانوں کو تقسیم کر دیا ہے اور ہم نے اپنی توجہ ان باتوں پر مرکوز کر لی ہے جو ہمیں آپس میں دور کرتی ہیں۔ تعلیم کا فقدان، معیشت کی کمزوری اور قیادت کی کمی نے امت کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ اپنی پہچان کھو چکی ہے۔

    محرم الحرام کا پیغام امت مسلمہ کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں فرقہ واریت کو چھوڑ کر مشترکہ مقاصد پر توجہ دینی ہوگی، تاکہ ہم اپنے مسائل کو حل کر سکیں۔ تعلیم اور علم کا فروغ وقت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں انصاف کا فقدان ہو، وہاں ترقی ممکن نہیں۔ ہمیں اپنے عدالتی نظام اور قیادت میں وہی عدل و مساوات لانی ہوگی جو ہمارے اسلاف نے قائم کی تھی۔

    نیا اسلامی سال ہمیں خود احتسابی کا موقع دیتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیں، اپنی خامیوں کو سمجھیں اور ان کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہمیں اپنے ماضی سے سبق لینا ہوگا اور اپنے حال کو بہتر کرنے کی کوشش کرنی ہوگی تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہو۔

    محرم الحرام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم حق پر ثابت قدم رہیں، ظلم کے خلاف کھڑے ہوں اور اپنی زندگیوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔ آج امت مسلمہ کو اپنی عظمت بحال کرنے کے لیے ان اصولوں کو اپنانا ہوگا جو اسلام نے ہمیں دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نئے سال میں اپنی اصلاح کرنے اور امت مسلمہ کی ترقی کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

  • غریب کا جہاں اور امیر کا اور.تحریر:غنی محمود قصوری

    غریب کا جہاں اور امیر کا اور.تحریر:غنی محمود قصوری

    ویسے تو ارض پاکستان ایک انتہائی اعلیٰ اور متبرک نظریہ کے تحت بنایا گیا تھا اور الحمدللہ شروع میں یہ نظریہ چلتا بھی رہا اور پھر رفتہ رفتہ انگریز کی باقیات نے اپنا اثر بڑھانا شروع کیا اور اس نظریہ کو دبانا شروع کر دیا
    الحمدللہ میں مایوس نہیں نا ہی کبھی مایوسی کی باتیں کیں بلکہ جس قدر میں پاکستان سے باامید ہوں واللہ دنیا میں کسی ملک سے اتنا نہیں ہوں
    الحمدللہ قیام پاکستان کے بعد سے ابتک ترقی ہوئی ہے ضرور ہوئی ہے مگر رفتار بہت سست ہے جس کی وجہ دو قومی نظریہ اور اسلامی تعلیمات سے منہ موڑنا ہے
    ایک دو قومی نظریہ اقبال نے دیا تھا جسے قائد اعظم نے ان کی وفات کے بعد پیش کیا تھا جس کے تحت پاکستان معرض وجود میں آیا اور وہ دو قومی نظریہ قرآن و حدیث اور اسلام کے نظریہ کے تحت تھا
    مگر یہ والا دو قومی نظریہ جو آج ہم پر ہمارے حکمرانوں نے مسلط کیا ہوا ہے یہ غریب اور امیر والا ہے
    جو ہمارے حکمرانوں نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے کہ ہم یعنی وہ اشرافیہ الگ قوم ہے اور تم یعنی ان کے نزدیک ہم عوام ایک الگ قوم ہیں
    وہ صاحب عزت ہیں اور ہم اچھوت اور نیچ لوگ نہیں یقین تو ان کی مراعات اور تنخواہیں دیکھ لیں اور پھر ہماری تنخواہیں اور ہم پر لگا ٹیکس دیکھ لیں
    وہ خود ایک تو ایک اعلی و ارفع قوم ہے جسے ہر مراعات حاصل ہیں جبکہ عوام اچھوت ذات جسے کوئی مراعات میسر نہیں بلکہ سانسیں بھی پیسوں سے اپنے پلے سے خریدنی پڑتی ہیں

    ہمارے ہاں ترقی کی رفتار اس لئے سست ہے کہ غریب کا جہاں اور جبکہ امیر کا جہاں اور ہے
    ہم مسلمان ہیں الحمدللہ اسی بناء پر دو قومی نظریہ پیش کرکے آزادی حاصل کی گئی تھی
    اور پاکستان ایک ایسا ملک تھا کہ شاید بہت لمبے عرصے تک ماضی میں کسی ریاست کے قیام کیلئے اتنی قربانیاں نا پیش کی گئی ہونگی جتنی قیام پاکستان کیلئے پیش کی گئیں
    ویسے تو ہمارے ہاں ہر ادارہ موجود ہے جو کہنے کو بغیر غریب امیر کی تمیز کئے کام کرتا ہے مگر یہ بات بہت مشکل ہو چکی ہے

    ارشار باری تعالی ہے

    فَاحۡکُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الۡہَوٰی

    لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا
    یہ آیت ہماری عدالتوں میں لکھی ہوتی ہے مگر آپ اور میں بخوبی جانتے ہیں انصاف سستا اور فوری امیر کیلئے ہے جبکہ غریب کیلئے اللہ کسی جج کے دل میں رحم ڈال دے تو ٹھیک وگرنہ 50 سال تک عدالتوں کے چکر لگائے بھی نہیں ملتا

    اگر بات بنیادی سہولیات کی تو ملک چلانے والوں کیلئے تعلیم ،صحت، سیکیورٹی جیسی سہولیات سب مفت ہیں جبکہ عوام کو یہ سب پیسے سے لینا پڑتا ہے
    آپ بجلی کو ہی دیکھ لیں جو پہلے سے کئی لاکھ ماہانہ لیتے ہیں ان کو بجلی مفت دی جاتی ہے جبکہ ایک مزدور کو بجلی کی قیمت اس کی ماہانہ انکم سے بھی زیادہ قیمت کی لگائی جاتی ہے جس کے باعث وہ بیچارہ چوری ڈاکہ ڈالنے پر مجبور ہوتا ہے تو پھر وہی بات عدالتوں کی ،قانون فوری حرکت میں آتا ہے اور اسے پکڑ کر اندر کر دیا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس بڑے بڑے مقدموں میں نامزد لوگ ہم پر حکومت کر رہے ہوتے ہیں
    غریب عوام کو گورنمنٹ سے قرض لینے کے لئے لاکھوں جتن کرنے پڑتے ہیں جبکہ اشرفیہ کو گورنمنٹ نت نئے طریقوں سے قرض دیتی ہے اور اگر گورنمنٹ بدل جائے تو پھر وارے نیارے وہ قرض معاف بھی ہو جاتا ہے
    الغرض جتنا بھی لکھوں کم ہو گا غریب کیلئے صرف تسلیاں ہی ہیں جبکہ اشرافیہ کو اس قدر نوازہ جا رہا ہے کہ وہ پہلے سے پھلتا پھولتا جا رہا ہے
    آپ حالیہ بجٹ دیکھ لیں خود ہی اندازہ ہو جائے گا
    مگر اس سب کے باوجود میں مایوس نہیں اگر یہ حکمران انصاف نہیں کر رہے تو وہ عرش والا رب کریم تو ہے نا وہ ان شاءاللہ خوب انصاف کرنے والا ہے ہماری ساری امیدیں اسی رب تعالی سے ہیں ان شاءاللہ وہ اس دنیا میں بھی انصاف کرتا ہے اور اگلے جہاں میں بھی شاید ہماری عوام کی کچھ کمیاں کوتاہیاں ضرور ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے
    اللہ رب العزت ہماری کمیاں کوتاہیاں معاف کرکے ہمیں ایک اچھی قوم بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • پارلیمنٹ کی بالا دستی نہ آئین کی حکمرانی،ملک میں جمہوریت طوائف بن گئی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ کی بالا دستی نہ آئین کی حکمرانی،ملک میں جمہوریت طوائف بن گئی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بیانات ایسے ،سب شعلہ بیاں،عملی اقدامات صفر،عوام کوکب تک بے وقوف بنایا جائےگا
    دنیا ٹیکنالوجی میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ،ہماری ’’کل‘‘ بھی سیدھی نہ ہو سکی ،صرف نعرے رہ گئے
    بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی نہ عوام کو ترقی ملی ، ن لیگ کے سوا ہر جماعت صرف کاغذی منصوبے بناتی رہی
    تجزیہ، شہز ادقریشی
    ملکی سیاسی گلیاروں میں سیاستدانوں کے بیانات آ رہے ہیں، جمہوریت کو مستحکم کیا جائے گا، پارلیمنٹ کی بالادستی ، قانون کی حکمرانی ، اور آئین کو لے لر بیانات سامنے آرہے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت اورجمہوری روایات فروغ نہ پانے کی وجہ تعصب اور اقتدار کا حصول رہا ہے اور پھر اقتدار کے جام کو تھام کر عقل و شعور کی جگہ جاہ وجلال نے لے لی،سیاسی جماعتوں کو جمہوریت ،پارلیمنٹ کی بالادستی ،قانون کی حکمرانی اور آئین کے بارے بیانات دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں نے جمور کے لئے کیا کارنامے سرانجام دئیے، جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں تاہم جمہوریت کے دعویداروں سے خطرات لاحق ہیں، ہماری سیاسی جماعتوں کا جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کو خیرآباد کہنے والوں کو دوبارہ کسی دوسری جماعت میں شمولیت کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا ہے، ملکی جمہوریت کو کون سا نام دیا جائے، جمہوریت کی منڈی یا کاغذی جمہوریت ، مذہبی جماعتوں کی حالت بھی نازک ہے، سیاسی جماعتوں میں نظریات ، ضمیر ،اصول وغیرہ بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں، ایسی باتیں کرنے والوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے ، اب بھی وقت ہے سیاسی جماعتیں اپنا رُخ عوام کی طرف موڑ دیں ایمانداری اور دیانتداری سے عوام کی خدمت کریں، ذرا غور کریں ہم آج کی جدید ٹیکنالوجی کے زمانے میں بجلی اورگیس کے بحران سے گزر رہے ہیں،حالیہ برسوں میں عوام جن سنگین مسائل کا نشانہ بنے اُن میں سرفہرست دہشت گردی اور بجلی گیس کا بحران ،دہشت گردی کا مقابلہ پاک فوج ،جملہ اداروں اور پولیس نے کیا ، ہمارے افسران اور جوان شہید ہوئے، ملک وقوم کا دفاع کرتے ہوئے کئی سہاگنوں کے ساگ اُجڑ گئے،بچے یتیم ہو گئے، عوام 90 ء کی دہائی سے پہلے لوڈشیڈنگ سے آشنا نہیں تھے ایک ادارہ واپڈا بُرا بھلا جیسا بھی تھا پانی اوربجلی کے نظام کو بہتر انداز میں چلا رہا تھا ، واپڈا کے تربیت یافتہ انجنیئروں نے خلیجی ممالک بجلی کے نظام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، 1994 ء میں پیپلزپارٹی کی دوسری ٹرم کے دوران نئی توانائی پالیسی لائی گئی ۔ واپڈا کے ٹکڑے کرکے کمپنیاں تشکیل دی گئیں ، پیپلزپارٹی کی اس پالیسی کا یہ نتیجہ نکلا کہ آج تک اس پالیسی کا خمیازہ ملک وقوم بھگت رہے ہیں، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے جات اُس صور ت مل سکتی ہے جب ان پالیسیوں کو دفن کیا جائے گا ورنہ عوام کی نجات مشکل ہے

  • جب کوفہ میں ضمیر قید ہوا اور سچائی تنہا رہ گئی

    جب کوفہ میں ضمیر قید ہوا اور سچائی تنہا رہ گئی

    جب کوفہ میں ضمیر قید ہوا اور سچائی تنہا رہ گئی.مکہ سے کربلا تک کا سفر.چار محرم 61 ہجری
    تحریر: سیدریاض حسین جاذب

    اسلامی تاریخ کے سب سے دردناک سانحات میں سے ایک واقعۂ کربلا محض میدانِ نینوا کا واقعہ نہیں، بلکہ اس سے قبل کے سیاسی و سماجی حالات بھی گہرے تجزیے کے متقاضی ہیں۔ چار محرم الحرام 61 ہجری کو کوفہ میں پیش آنے والے چند اہم واقعات نے تاریخ کا رخ بدل دیا اور امام حسینؑ کی تنہائی کو یقینی بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ دن ایک دھمکی آمیز خطبے سے شروع ہوا اور ضمیر کے قیدیوں کے زخموں پر ختم۔

    کوفہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد، جسے یزید نے امام حسینؑ کی آمد روکنے کے لیے مقرر کیا تھا، نے اسی دن مسجدِ کوفہ میں ایسا خطبہ دیا جو جبر اور خوف کی علامت بن گیا۔ اس نے امام حسینؑ کا ساتھ دینے والوں کو قتل کی دھمکیاں دیں اور قاضی شریح کا فتویٰ سنایا، جس میں امامؑ کے خون کو مباح قرار دیا گیا۔ یہ فتویٰ اس کوشش کی علامت تھا کہ ظلم کو شرعی رنگ دے کر جائز ٹھہرایا جائے۔

    ابن زیاد نے کوفہ کے تمام راستے بند کرا دیے تاکہ کوئی بھی فرد یا قافلہ امام حسینؑ کی نصرت کو نہ پہنچ سکے۔ یہ اقدام محض ایک فوجی یا سیاسی چال نہیں، بلکہ سچائی سے کوفہ کو کاٹ دینے کی شعوری سازش تھی۔ ایک طرف عوام کو دھمکایا گیا، دوسری جانب مال و منصب کا لالچ دے کر خریدنے کی کوشش کی گئی۔ یوں بہت سے لوگ خوف یا مفاد کی بنیاد پر ابن زیاد کے ساتھ جا ملے۔

    جن لوگوں پر امام حسینؑ سے عقیدت یا حمایت کا شبہ تھا، انہیں قید کر دیا گیا۔ یہی قیدی بعد ازاں "توابین” کہلائے—وہ لوگ جنہیں اپنے جرمِ خاموشی پر ندامت تھی۔ ان کا ضمیر انہیں چین سے بیٹھنے نہ دیتا تھا، اور آخرکار انہوں نے توبہ کے طور پر بنو امیہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔

    توابین نے سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں امام حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے اور اپنی کوتاہی کا کفارہ ادا کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا اور یزیدی حکومت کے خلاف جنگ کی، یہاں تک کہ وہ بھی میدانِ شہادت میں اتر گئے۔ ان کی تحریک اس بات کی علامت بنی کہ تاریخ خاموش تماشائیوں کو معاف نہیں کرتی۔

    کوفہ کا قبیلوی نظام بھی امام حسینؑ کی تنہائی کا سبب بنا۔ بیشتر قبائل نے اپنے سرداروں کی اطاعت میں امام کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ سردار یا تو بنو امیہ سے قربت رکھتے تھے یا ابن زیاد کی طرف سے ملنے والے مفادات کے اسیر ہو چکے تھے۔ یوں ضمیر قبیلوی وفاداری کے نیچے دفن ہو گیا، اور عام قبائلی افراد بھی حق کا ساتھ نہ دے سکے۔

    چار محرم الحرام 61 ہجری کا دن محض تاریخ کا ایک صفحہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ابن زیاد کا خطبہ، قاضی شریح کا فتویٰ، اور کوفہ کی خاموشی.یہ سب مل کر امام حسینؑ کی تنہائی کا پس منظر بنے۔ مگر انہی اندھیروں میں سے "توابین” جیسی روشنی بھی نکلی، جو یاد دلاتی ہے کہ اگر ضمیر جاگ جائے تو توبہ بھی قربانی کا راستہ چن لیتی ہے۔

    کربلا کا پیغام صرف ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ خاموشی بھی جرم ہے۔ اور کبھی، تاخیر سے جاگا ہوا ضمیر بھی تاریخ میں جگہ پا لیتا ہے.اگر وہ سچائی کے لیے لڑ مرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

  • 20 ننھے جنازے، کوئی قاتل نہیں؟

    20 ننھے جنازے، کوئی قاتل نہیں؟

    20 ننھے جنازے، کوئی قاتل نہیں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    کمشنر ساہیوال نے پاکپتن کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو) میں 16 سے 22 جون 2025 کے دوران 20 بچوں کی اموات کا نوٹس لے کر ایک نئی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جو ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے تکنیکی عملے پر مشتمل ہے۔ یہ کمیٹی پانچ دن میں نئے سرے سے تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔ ذرائع کے مطابق ان چھ دنوں میں چلڈرن وارڈ میں 20 بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں جن میں 15 نومولود اور 5 ایک سال سے کم عمر بچے شامل تھے۔ خاص طور پر 19 جون کو 5 بچوں کی موت ہوئی۔ والدین نے الزام لگایا کہ عملے کی غفلت، آکسیجن کی کمی اور ادویات کی عدم دستیابی نے ان معصوم جانوں کو نگل لیا۔ ایک والد نے بتایا کہ ان کے نومولود کو آکسیجن کی ضرورت تھی لیکن وارڈ میں عملہ غیر حاضر تھا اور جب ڈاکٹر آیا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک ماں نے بیان کیا کہ ان کے بچے کو بخار کی دوا تک بروقت نہ دی گئی اور جب تک معائنہ ہوا، بچہ دم توڑ چکا تھا۔ یہ سانحہ نہ صرف پاکپتن بلکہ پورے ملک کے لیے ایک دردناک لمحہ ہے، جو نظام صحت کی زبوں حالی کو بے نقاب کرتا ہے۔

    حیران کن طور پر ابتدائی سرکاری انکوائری رپورٹ نے ڈاکٹرز اور نرسز کو کسی بھی قسم کی غفلت سے بری الذمہ قرار دیا اور کوئی ذمہ دار شناخت نہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عملے کی تربیت ناکافی تھی لیکن اسے جرم یا غفلت قرار نہ دیا گیا۔ اس کے بجائے صرف نچلے درجے کے ملازمین جیسے سویپرز اور وارڈ بوائز کو ہٹانے کی سفارش کی گئی۔ یہ رپورٹ انصاف کے بجائے ایک ایسی کوشش لگتی ہے جو ہسپتال کے اعلیٰ حکام اور انتظامیہ کی ناکامیوں پر پردہ ڈالتی ہے۔ اگر عملہ تربیت یافتہ نہیں تھا تو اسے حساس نیونیٹل وارڈ میں کس نے تعینات کیا؟ کیا تربیت کی کمی کو جواز بنا کر 20 بچوں کی اموات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش نہیں؟

    پاکپتن کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات جیسے آکسیجن، ادویات اور تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی رہی۔ والدین کے مطابق وارڈ میں اکثر اوقات ڈاکٹرز غیر حاضر ہوتے تھے اور نرسز کی تعداد بھی ناکافی تھی۔بے روزگاری ،غربت اور بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا۔ نجی ہسپتالوں کے اخراجات برداشت نہ کرنے کی وجہ سے غریب عوام سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن وہاں بدحالی اور سہولیات کی کمی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ صحت کا شعبہ براہ راست وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اگر سوات میں 12 افراد کے ڈوبنے پر کے پی حکومت اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورذمہ دار ہیں اور ان سے استعفےٰ کا مطالبہ جائز ہے تو پاکپتن میں 20 بچوں کی اموات پر پنجاب حکومت کی خاموشی کیوں؟کیا ان 20 معصوموں کی ہلاکت کی ذمہ دار مریم نواز نہیں ہیں ؟ کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟

    یہ سانحہ صرف ایک ہسپتال کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام صحت کی زبوں حالی کا ثبوت ہے۔ اگر 20 معصوم بچوں کی اموات کے بعد بھی کوئی جوابدہ نہیں تو یہ نظام غریب کے لیے موت کا پروانہ ہے۔ ہسپتال جو زندگی کی امید ہوتے ہیں، آج پاکستان میں موت کے گہوارے بن چکے ہیں۔ کمشنر ساہیوال کی نئی انکوائری کمیٹی سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ اس سانحے کی غیر جانبدارانہ چھان بین کرے گی ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمیٹی اصل ذمہ داروں کو بے نقاب کر پائے گی؟ اس سانحے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کے لیے ایک آزاد جوڈیشل انکوائری ناگزیر ہے۔ جنہوں نے غیر تربیت یافتہ عملے کو بھرتی کیا، جنہوں نے سہولیات کی فراہمی میں کوتاہی برتی اور جنہوں نے والدین کی چیخوں کو نظر انداز کیا، ان سب کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ صرف نچلے درجے کے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنانا انصاف نہیں بلکہ ناانصافی ہے۔

    حکومت کو چاہیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جائے، طبی عملے کی تربیت کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ہیلتھ کارڈ جیسے پروگراموں کو بحال کیا جائے تاکہ غریب عوام کو علاج کی سہولت مل سکے۔ پاکپتن کے 20 ننھے جنازوں نے ہر پاکستانی کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اس نظام کی عکاسی ہے جو طاقتور کو تحفظ دیتا ہے اور غریب کی جان کو معمولی سمجھتا ہے۔ کیا ہم اس نظام کو بدلنے کے لیے آواز اٹھائیں گے؟ کیا 20 معصوم جانوں کا خون رائیگاں جائے گا؟ کیا وزیراعلیٰ پنجاب اس سانحے کی ذمہ داری قبول کریں گی؟ کیا نئی انکوائری کمیٹی محض ایک رسمی کارروائی ثابت ہوگی یا انصاف کی طرف پہلا قدم؟ کیا ہمارے ہسپتال کبھی زندگی کی امید بن پائیں گے یا موت کے گہوارے ہی رہیں گے؟ یہ چبھتے سوالات ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہے ہیں اور ان کے جوابات ہی ہمارے معاشرے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

  • امت مسلمہ کا اتحاد،حقیقت کا چیلنج ،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ کا اتحاد،حقیقت کا چیلنج ،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ کا اتحاد وہ خواب ہے جس کی تعبیر آج تک حاصل نہ ہو سکی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمان، جو کبھی "امت واحدہ” کا عملی نمونہ تھے، آج انتشار اور تفریق کا شکار ہیں۔ دنیا کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود وہ عالمی سطح پر اپنی طاقت اور وقار کھو بیٹھے ہیں۔

    فرقہ واریت امت مسلمہ کی سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہے۔ اسلامی ممالک مختلف فرقوں اور مسالک کے تضادات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ شیعہ سنی اختلافات ہوں یا دیگر فقہی تنازعات، یہ تنازعات صرف مساجد اور مدارس تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاست، معیشت، اور سماجی تعلقات میں بھی سرایت کر چکے ہیں۔ ان اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی طاقتوں نے اسلامی دنیا کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔

    علاقائی سیاست اور خودغرضی بھی اتحاد کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر، افریقہ کے معدنی وسائل، اور ایشیا کے اسٹریٹجک محل وقوع نے اسلامی دنیا کو عالمی طاقتوں کے لیے ایک میدان جنگ بنا دیا ہے۔ اسلامی ممالک کے رہنما اپنی کرسی اور اقتدار کو بچانے کے لیے بیرونی طاقتوں کے زیر سایہ کام کر رہے ہیں۔ وہ امت کے اجتماعی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے ذاتی اور علاقائی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    تعلیم اور قیادت کی کمی نے مسلمانوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ امت مسلمہ نے اپنی علمی وراثت کو فراموش کر دیا ہے۔ جدید تعلیم اور تحقیق میں پیچھے رہ جانے کے باعث مسلمان نہ تو عالمی مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے مسائل کو حل کر پاتے ہیں۔ آج اسلامی دنیا کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو فرقہ واریت، تعصب، اور خودغرضی سے بالاتر ہو کر امت کے مشترکہ مفادات کے لیے کام کرے۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
    (ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔)
    یہ وہ اصول ہے جو امت کو زوال سے نکال سکتا ہے۔ لیکن اس اصول پر عمل کرنے کے لیے قربانی، ایثار اور خلوصِ نیت کی ضرورت ہے۔

    امت مسلمہ کا اتحاد ممکن ہے، لیکن اس کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب تک مسلمان اپنی ترجیحات کو درست نہیں کرتے، فرقہ واریت اور تعصب کو ختم نہیں کرتے، اور عالمی سیاست میں اپنی حیثیت کو مضبوط نہیں کرتے، اتحاد کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ وقت ہے کہ امت مسلمہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرے، ان سے سبق لے، اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرے۔

    یہ چیلنج مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ امت مسلمہ کا اتحاد صرف ایک خواب نہیں، بلکہ ایک ضرورت ہے، جو اگر حاصل ہو جائے تو مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

  • افسران کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جائے.تحریر:ملک سلمان

    افسران کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جائے.تحریر:ملک سلمان

    گذشتہ دنوں پنجاب میں اپنے ہی بیج میٹس کو جس طرح Disgrace کیا گیا یہ نہ تو پہلا واقع تھا اور نہ ہی آخری۔ اپنی سیٹ پکی کرنے کیلئے بیج میٹ اور سنئیرز کو فکس کروانا روٹین میٹر بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی دور میں رقم دو سیٹ لو کے تحت ہونے والی ٹرانسفر پوسٹنگ کے بعد بیوروکریسی میں شروع ہونی والی لوٹ مار اور عیاشی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ پیسوں کی عوض ہونے والی خلاف میرٹ ٹرانسفر پوسٹنگ اور تعیناتیوں نے افسران کے درمیان نفرت کی ایسی لکیر کھینچی کہ بیج میٹ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے۔

    بزدار کا سیاہ ترین اور شرمناک دور ختم ہوا تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کے مشن امپاسبل کو پاسیبل کر دکھایا۔ میڈم وزیراعلیٰ آپ کے جذبے اور ایمانداری کو سلوٹ لیکن چیف سیکرٹری اور آئی جی میرٹ کے”سپنوں“ کی دنیا دکھا کر ”پک اینڈ چوز“ کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ افسران جو اخلاقی اور مالی لحاظ سے بدنام زمانہ کرپٹ ترین ہیں، بزدار اور پرویز الٰہی دور کے بڑے بینیفشریز تھے انکو اہم ترین سیٹوں پر لگایا ہوا ہے۔اس وقت پنجاب میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے گریڈ 18سے گریڈ 22تک کے 59افسران OSD ہیں۔درجنوں افسران تعیناتی کی منتظر ہیں اور لاڈلوں کو پرموشن ٹریننگ کے باوجود بھی غیر قانونی طور پر سیٹوں پر رکھا ہوا ہے۔

    لاقانونیت اور فرعونیت کی انتہا دیکھیے کہ کچھ افسران 2022 اور 2023 سے اب تک OSD ہیں۔ جبکہ سنئیر سیٹوں پر جونئیر افسران تعینات ہیں۔ اپنے جونئیر کے ماتحت پوسٹنگ ملنے کی وجہ سے افسران کی اکثریت لاوارثوں والی زندگی گزار کر شدید پریشان ہیں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہر وقت key Posting والے احساس برتری کی وجہ سے اور OSD رہنے والے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر دونوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

    بیج میٹ، بیج میٹ کا دشمن بنا ہوا ہے جبکہ key posting والے جونئیرافسران سنئیرز کا احترام بھول چکے۔
    سرکاری ملازمین کی دنیا بہت چھوٹی ہے انڈرٹریننگ کے دور میں انکی غربت اور لاچاری کی کہانیاں ساتھی بیج میٹ بہت مزے سے سناتے ہیں کہ یہ جب ہمارے ساتھ ٹریننگ کیلئے آیا تو غربت کے کن حالات میں تھا۔ پھر کس پوسٹنگ میں کیا اندھیر نگری مچائی، کس شہر پوسٹنگ میں لوٹ مار کی وجہ سے عوام کے ہاتھوں گالیاں اور چپیڑیں تک پڑیں۔ ساتھی افسران سے ہر روز انکی نئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ چند افسران کے بارے مشہور ہے کہ اگر ایک وقت میں انکا سگا باپ کال کرے اور دوسری طرف سے رشوت کے پیسوں کی ڈیل کروانے والا ٹاؤٹ تو وہ ٹاؤٹ کی کال پہلے اٹھائیں گے۔ عوامی اعتماد اور کرپشن کے خاتمے کیلئے چند افسران کو پنجاب سے نکالنے اور بیوروکریسی کی ری شفلنگ ناگزیر ہے۔ماضی میں کمشنر کی مشاورت سے ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی رائے سے اسسٹنٹ کمشنر لگائے جاتے تھے جس سے ایک بہترین ٹیم اور کوارڈینیشن سے سسٹم چلتا تھا۔ ابھی مبینہ طور پر پنجاب میں چیف سیکرٹری کی صورت ون مین شو چل رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سارے اضلاع کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنر ایک دوسرے کے احکامات کے برخلاف گئے ہیں۔ کسی بھی صوبائی محکمے کی کامیابی کا دارومدار اسی بات پر ہوتا ہے کہ وزیر اور سیکرٹری اپنی مرضی کی ٹیم بنا کر کام کریں۔�

    نگران حکومت سے شروع ہونے والے ”گینگ آف سیون” کے بیوروکریٹک مارشل نے جہاں حکومت سے عوام کا اعتماد خراب کیا وہیں سینکڑوں افسران بھی شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ ابھی بھی مذکورہ ”گینگ آف سیون“ درجنوں سنئیر سیٹوں پر جونئیر افسران لگا کر حصے وصول کر رہا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پک اینڈ چوز کی وجہ سے پولیس سروس آف پاکستان، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں ہے سوائے ان کے جن کو آؤٹ دی وے جا کر نواز ا گیا۔

    وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ تمام ٹرانسفر پوسٹنگ کا ازسرنو جائزہ لیں۔ خاص طور پر بیرونی فنڈنگ والی تمام پوسٹوں پر افسران کی تبدیلی کی جائے بلکہ انکا آڈٹ بھی کروایا جائے کیونکہ زبان زد عام ہے کہ وہاں حصے بانٹے جاتے ہیں۔ ان پوسٹوں پر تعینات سفارشی جونئیر افسران نے اربوں روپے کی کرپشن کرکے بیرونی فنڈنگ والے اداروں کے سامنے پنجاب اور پاکستان کا ایمج خراب کیا ہے اس لیے یہ کسی صورت رعایت کے مستحق نہیں۔
    صوبائی سیکرٹری، ڈی جی، ایم ڈی، پراجیکٹ ڈائریکٹر، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسی طرح ایڈیشنل آئی جی، آر پی او، سی پی او اور ڈی پی او کی تقری کیلئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کی صورت فرد واحد کی حکمرانی ختم کرکے کم از کم چھے رکنی سلیکشن ٹیم بنائی جائے جس میں متناسب تعداد میں پارلیمینٹیرین اور افسران شامل کیے جائیں جو میرٹ پر افسران کی تقرری کیلئے سفارشات مرتب کر سکیں۔سندھ میں پیپلز پارٹی کے لگاتار کلین سویپ اور کامیابی کا ایک ہی راز ہے کہ وہاں بیوروکریسی نہیں پارلیمنٹ سپریم ہے۔ "کے پی آئی” کی وجہ سے افسران میں زیادہ سے زیادہ سروس ڈلیوری کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ "کے پی آئی” میں عوامی فیڈ بیک کو شامل کیے بن یہ کارگردگی رپورٹ ادھوری ہے کیونکہ "کے پی آئی” اسی صورت حقیقی اور میرٹ رپورٹ سمجھی جاسکتی ہے جب اس میں عوامی فیڈ بیک کے نمبر بھی شامل کیے جائیں۔ سٹیٹ لینڈ کی حفاظت اور تجاوزات کے خاتمے میں ناکام ہونے والوں کو آئندہ ہرگز فیلڈ پوسٹنگ نہ دی جائے۔ کے پی آئی کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ تین ماہ کی رپورٹ کے بعد ٹاپ فائیو کو انعام اور لاسٹ فائیو کو سزا دی جائے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • فرات پر پہرہ اور امام کا عزم:مکہ سے کربلا تک کا سفر ،3 محرم

    فرات پر پہرہ اور امام کا عزم:مکہ سے کربلا تک کا سفر ،3 محرم

    فرات پر پہرہ اور امام کا عزم:مکہ سے کربلا تک کا سفر ،3 محرم
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    محرم الحرام کی ہر تاریخ اپنے دامن میں قربانی، صبر، اور بیداری کا پیغام لیے ہوئے ہے، مگر جب ہم تین محرم کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو کربلا کی سرزمین پر جاری ظلم و ستم اور امام حسینؑ کی استقامت ہمیں بے اختیار رُلا دیتی ہے۔
    یہ وہ دن ہے، جب امام عالی مقامؑ، ان کے اہلِ بیتؑ اور وفادار اصحاب کو عملی طور پر دریائے فرات سے محروم کر دیا گیا اور مظالم کے پہاڑ توڑے جانے لگے۔

    امام حسینؑ کا قافلہ مکہ سے روانہ ہوا تو ان کا مقصد واضح تھا: یزید کی بیعت سے انکار، دینِ محمدی ﷺ کی بقا اور امت کو خوابِ غفلت سے جگانا۔
    یہ سفر اقتدار یا حکومت کے لیے نہیں بلکہ حق و صداقت کے لیے تھا۔ امامؑ کے ہمراہ اہلِ بیت کے علاوہ وہ جانثار اصحاب بھی تھے جو صبر، وفا، اور قربانی کا استعارہ بنے۔

    تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ قافلے کے ہمراہ دو سو سے زائد اونٹوں پر صرف پانی کے مشکیزے لادے گئے تھے تاکہ راستے میں قافلے کے افراد، دیگر مسافروں، جانوروں اور یہاں تک کہ دشمنوں کی پیاس بھی بجھائی جا سکے۔جب حر بن یزید کا لشکر قافلے کے قریب پہنچا تو امام حسینؑ نے نہ صرف انہیں پانی پلایا بلکہ ان کے جانوروں کو بھی سیراب کیا۔ یہ عمل امام کی اعلیٰ ظرفی اور انسان دوستی کو تاریخ میں امر کر گیا۔

    افسوس! تین محرم کو وہی امامؑ، جو دشمنوں کو بھی پانی پلاتے تھے، خود اور ان کا قافلہ فرات کے کنارے ہوتے ہوئے بھی پیاسا کر دیا گیا۔
    یزیدی لشکر نے دریا پر پہرہ بٹھا دیا تاکہ امامؑ کے خیموں تک ایک قطرہ بھی نہ پہنچ سکے۔
    خیموں میں بچوں کی سسکیاں، عورتوں کی بے قراری اور پیاس کی شدت نے قیامت کا منظر پیدا کر دیا، مگر امامؑ نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔

    اسی کٹھن گھڑی میں امام حسینؑ نے حضرت زینبؑ کے ہمراہ اپنے دیرینہ دوست اور صحابیٔ رسول ﷺ، حبیب بن مظاہر کو خط لکھا۔
    خط کا مضمون سادہ مگر پراثر تھا:

    "اے حبیب! میں کربلا میں ہوں، میرا ساتھ دو۔”

    حبیب نے خط پڑھتے ہی اپنے قبیلے اور اہلِ خانہ کو چھوڑا اور فوراً امامؑ کی مدد کو روانہ ہو گئے۔
    یہ واقعہ امام حسینؑ کی حکمت، روابط اور اعتماد کا مظہر ہے، اور حضرت زینبؑ کی شراکت نے اس لمحے کو روحانی عظمت عطا کی۔

    اسی روز امام حسینؑ نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
    "رات کی تاریکی ہے، تم جا سکتے ہو۔ دشمن صرف مجھے چاہتا ہے، تم پر کوئی جبر نہیں۔”

    مگر تمام جانثاروں نے یک زبان ہو کر کہا:

    "ہم آپ کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ ہم نے آپ کے ساتھ جینا ہے اور آپ کے ساتھ مرنا ہے۔”

    یہی وہ لمحہ تھا جب وفا اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔
    تین محرم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سچائی، صبر اور استقامت کی راہ پر چلتے ہوئے پیاس، تکلیف اور قربانی بھی سر بلندی کا باعث بنتی ہے۔

    امام حسینؑ نے فرمایا:

    "ہم نہ بیعت کریں گے، نہ ظلم تسلیم کریں گے۔ پیاسا مرنا قبول ہے، مگر ذلت کی زندگی ہرگز نہیں۔”

    یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ باطل کے سامنے جھکنا مومن کا شیوہ نہیں۔
    حق پر قائم رہنا مشکل ضرور ہے، مگر یہی قربانی تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔

    آج جب دنیا ظلم و ناانصافی سے بھری ہوئی ہے، تو تین محرم ہمیں حسینؑ کے راستے کی یاد دلاتی ہے — وہ راستہ جو صبر، قربانی، حق گوئی اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا راستہ ہے۔

  • سانحہ سوات: سیاح بہہ گئے، تبدیلی رہ گئی

    سانحہ سوات: سیاح بہہ گئے، تبدیلی رہ گئی

    سانحہ سوات: سیاح بہہ گئے، تبدیلی رہ گئی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    26 جون 2025 کو دریائے سوات کے کنارے ایک دلخراش سانحہ پیش آیا جب سیالکوٹ سے آئے ایک خاندان سمیت 17 سیاح اچانک آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ 11 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، 4 کو بچایا گیا جبکہ 2 کی تلاش جاری ہے۔ یہ واقعہ محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 12 سالہ حکمرانی کی انتظامی ناکامی کا عکاس ہے۔ پی ٹی آئی نے "تبدیلی” کا نعرہ لگایا لیکن سوات کا یہ المناک سانحہ بتاتا ہے کہ سیاحوں کی حفاظت، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور عوامی فلاح کے وعدے محض کاغذی نعروں تک محدود رہے۔

    خیبر پختونخوا سیاحت کا گہوارہ ہے، جہاں سوات اور چترال جیسے دلکش مقامات لاکھوں سیاحوں کو کھینچتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے 2013 سے اپنی حکمرانی میں سیاحت کے فروغ کے بلند بانگ دعوے کیے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ دریائے سوات کے کنارے غیر قانونی تجاوزات اور غیر محفوظ ناشتہ پوائنٹ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ 2 جون سے دفعہ 144 کے تحت دریا کے کنارے جانے پر پابندی تھی، لیکن نہ سیاحوں کو روکا گیا اور نہ ہی انتظامیہ نے اس پابندی کو نافذ کیا۔ انتباہی بورڈ تو لگے تھے مگر پولیس اور مقامی انتظامیہ کی غیر فعالیت نے انہیں بے اثر کر دیا۔ محکمہ موسمیات کی یکم جولائی تک موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کے باوجود سیلاب کی پیشگی اطلاع کا نظام یا موسمیاتی خطرات کے انتظام کا کوئی موثر طریقہ موجود نہ تھا، جس نے اس سانحے کی شدت کو بڑھایا۔

    ریسکیو 1122 اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) ہنگامی حالات سے نمٹنے کے کلیدی ادارے ہیں لیکن ان کی کارکردگی اس سانحے میں شرمناک حد تک ناکافی رہی۔ متاثرین نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بروقت نہ پہنچیں اور نہ ہی ان کے پاس ضروری سازوسامان جیسے کشتیاں یا جال تھے۔ مردان کے روح الامین جو خود توبچ گیا لیکن انہوں نے اپنی بیٹی اور کزن کو اس سانحے میں کھو دیا، نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں لیکن کوئی مدد نہ کر سکیں۔ پی ڈی ایم اے نے خوازہ خیلہ میں پانی کی بلند سطح پر ہائی الرٹ جاری کیا، لیکن پیشگی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ 120 سے زائد ریسکیو اہلکار تعینات تھے مگر خراب موسم اور پانی کے تیز بہاؤ نے امدادی کارروائیوں کو معطل کر دیا، جس کے باعث پاک فوج کو طلب کرنا پڑا۔ یہ صورتحال صوبائی اداروں کی محدود صلاحیت اورناکامی کو بے نقاب کرتی ہے۔

    سانحے کے بعد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سمیت چار افسران کو معطل کر کے تفتیشی کمیٹی بنائی، لیکن کیا صرف نچلے درجے کے افسران کو قربانی کا بکرا بنانا کافی ہے؟ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوتے ہوئے کیا علی امین گنڈاپور پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ اس سانحے نے 11 قیمتی جانیں چھین لیں، جن میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد شامل تھے۔ کیا ان اموات کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پر نہیں آتی؟ عوامی حلقوں میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ صوبائی قیادت نے سیاحوں کی حفاظت کے لیے بنیادی ڈھانچہ کیوں نہ بنایا؟ کیا وفاقی حکومت اس سانحے پر نوٹس لے کر گنڈاپور کی لاپرواہی اور غفلت کے باعث ہونے والے اس ناقابل تلافی نقصان پر انہیں ذمہ دار ٹھہرائے گی؟ پولیس کی تاخیر، غیر قانونی تجاوزات کی روک تھام میں ناکامی اور ہوٹل مالکان کی لاپروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار کیا، لیکن نہ وہ جاں بحق ہونے والوں کے جنازوں میں شریک ہوئے اور نہ ہی ورثاء سے ملے۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی قیادت کی ترجیحات عوامی مسائل سے زیادہ سیاسی مفادات ہیں۔ عوام پوچھ رہے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی کی قیادت صرف احتجاج اور سیاسی مہمات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟

    پی ٹی آئی کی 12 سالہ حکمرانی میں نہ صرف سیاحت بلکہ بنیادی ڈھانچے، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی۔ صوبے کی سڑکیں، ہسپتالوں کی ناقص سہولیات اور تعلیمی اداروں کی بدحالی اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ "تبدیلی” صرف نعروں کی زینت رہی۔ معاشی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں غربت اور بے روزگاری کی شرح میں کوئی خاص کمی نہ آئی۔ سوات جیسے سیاحتی مقامات پر ہسپتالوں کی خراب حالت اور ایمرجنسی سہولیات کی کمی نے اس سانحے کے اثرات کو اور سنگین کر دیا۔ عوام سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی نے صوبے کے وسائل کو عوامی فلاح کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا؟

    دریائے سوات کا سانحہ ایک دردناک آئینہ ہے جو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی ناکامیوں کو عیاں کرتا ہے۔ سیاح بہہ گئے، لیکن تبدیلی کہیں پیچھے رہ گئی۔ کیا صوبائی حکومت اس سانحے سے کوئی سبق سیکھے گی؟ کیا سیاحوں کی جانوں کی حفاظت کے لیے سیلاب کی پیشگی اطلاع کا نظام اور موثر ہنگامی خدمات قائم ہوں گی؟ کیا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اپنی توجہ سیاسی مہمات سے ہٹا کر عوام کے دکھوں کی طرف موڑیں گے؟ کیا پی ٹی آئی اپنے "تبدیلی” کے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے گی یا یہ سانحہ بھی ایک اور فراموش شدہ خبر بن کر رہ جائے گا؟ جب ایک ہی خاندان کے 10 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، کیا صوبائی قیادت کے ضمیر کو کوئی جھٹکا بھی لگا؟ یہ سوالات خیبر پختونخوا کے ہر شہری کے دل میں گونج رہے ہیں اور ان کے جوابات کا انتظار سوات کے کنارے بہہ جانے والے معصوم سیاحوں کے لواحقین کی چیخیں مانگ رہی ہیں۔ کیا صوبائی حکومت ان چیخوں کو سن پائے گی یا یہ خاموشی بدستور ان کی ترجیحات کو بیان کرتی رہے گی؟