نظام المدارس پاکستان کے زونل صدور اور ضلعی کوارڈینیٹرز کا اہم اجلاس نظام المدارس پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ میں صدر نظام المدارس پاکستان علامہ مفتی امداد اللہ قادری کی زیر صدارت منعقد ہوا ہے، اتفاق علماء نے مدارس کے ذمہ داران کی طرف سے رجسٹریشن اور نصاب پر نظرثانی پر متنازعہ وقف املاک ایکٹ پر نظر ثانی کا موقف منظور کروانے پر شکریہ ادا کیا ہے، مفتی امداد اللہ قادری، خرم نوازگنڈاپور،علامہ میر آصف اکبر،علامہ عین الحق بغدادی نے اجلاس سے خطاب کیا ہے، اس میں کہا فیا کہ مدارس دینیہ کے طلباء کو جدید سائنسی علوم بھی پڑھانا ہوں گی، مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صرف رجسٹرڈ مدارس اور بورڈز کو اسناد جاری کرنے کا اختیار ہونا چاہیے، اجلاس میں علمائے کرام نے متفقہ اعلامیہ منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ”مدارس دینیہ کی رجسٹریشن اور نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے ریاستی سطح پر بروئے کار آنے والے اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ مدارس کی رجسٹریشن کو 100 فیصد یقینی بنایا جائے کسی کو ضوابط کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ سیاست اور فرقہ واریت میں ملوث مدارس کے حوالے سے ریاست زیروٹالرینس کی پالیسی اختیار کرے، حکومت رجسٹرڈ مدارس کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اساتذہ کی جدید تدریسی خطوط پر کورسز میں مدد دے، مدارس دینیہ کے مختلف سطح کے تعلیمی پروگرامز کی تکمیل پر اسناد کے اجراء کا اختیار صرف قانونی تقاضے پورے کرنے والے بورڈز کو ہونا چاہئے“۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نظام المدارس پاکستان کے نائب صدر خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ مدارس دینیہ کے طلباء کو روایتی گردانیں رٹانے کی بجائے انہیں جدید سائنسی،معاشی، معاشرتی مسائل کا حل بھی دینا ہو گا تاکہ وہ اسلام اور پاکستان کے سفیر بن کر پوری دنیا میں اسلام کا پرامن اور علمی تشخص اجاگر کر سکیں۔ نیم خواندہ علماء اسلام کی غلط تعبیریں کر کے اسلام کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو دین سے دور کررہے ہیں۔ نظام المدارس پاکستان کے صدر علامہ مفتی امداد اللہ قادری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نصاب پر نظر ثانی کے تمام مراحل میں خصوصی سرپرستی کرنے پر ہم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مشکور ہیں۔مدارس دینیہ کا اڑھائی سو سالہ پرانا نظام ذہین طلباء کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کررہا ہے۔ نصاب پر نظر ثانی کے مخالفین نسلوں کے ساتھ ظلم کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں اور انہیں علم و ادب اور تعمیر و ترقی کے مرکزی دھارے سے کاٹ رہے ہیں۔ ایسے تمام علماء اپنے احوال پر نظر ثانی کریں اور امت پرترس کھائیں۔
نظام المدارس پاکستان کے ناظم اعلیٰ علامہ میر آصف اکبر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نظام المدارس پاکستان نے حکومت کو متنازعہ وقف ایکٹ پر نظر ثانی پر آمادہ کر کے علماء و مشائخ کا ایک اہم مطالبہ منوایا۔ انہوں نے کہا کہ نظام المدارس مدارس دینیہ کی ایک مضبوط آواز بن چکا ہے۔
نظام المدارس پاکستان کے کنٹرولر امتحانات علامہ عین الحق بغدادی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مدارس دینیہ کے نصاب پر نظر ثانی کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ان شاء اللہ اس میں کامیاب ہوں گے۔ نظام المدارس کی تعلیمی پالیسی مقابلہ نہیں موازنہ اور مکالمہ ہے۔ ہمارا مقصد ایک دین دار تعلیم یافتہ نسل پروان چڑھانا ہے۔ نظام المدارس کا نصاب عصری تقاضوں کے مطابق ہے۔ مدارس دینیہ کے ساتھ مشاورت کر کے آگے بڑھیں گے۔اجلاس میں علامہ محمد اشفاق علی چشتی، علامہ محمداسلم صابری، پروفیسر ثمر عباس، علامہ خلیل احمد قادری، مفتی غلام اصغر صدیقی، مفتی رفیق قادری رندھاوا، مفتی شہزاد احمد سجاد، علامہ پروفیسر آصف شہزاد جماعتی، علامہ محمد شہزاد تبسم، علامہ مفتی خلیل احمد حنفی، علامہ گل محمد چشتی، علامہ پروفیسر اشتیاق حبیب، قاری رحمت اللہ عصمت نے بھی اظہارخیال کیا ہے.
Category: بلاگ
-

نظام المدارس پاکستان نے دینی مدارس کے نصاب پر سوال اٹھا دئے؟
-

سائبان اُجڑ رہے ہیں! تحریر:عقیل احمد راجپوت
کراچی میں اس وقت نا جائز تجاوزات کے خلاف آپریشن بہت تیزی سے جاری ہے جس میں برساتی نالوں کے اطراف قبضہ کرکے یا کے ایم سی اور کے ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اصل یا جعلی کاغذات کے حصول کے بعد بنائے گئے سائبان کو گرایا جائے گا اور گرایا جا بھی رہا ہے دوسری جانب کراچی سرکلر ریلوے کی زمین پر بنائی گئی تعمیرات پر بھی ہر دن بلڈوزر پہنچ جاتے ہیں یہ سب کچھ ایک دم سے نہیں ہوگیا یہ سالوں کی عقل مندی اور ذہانت کا وہ پھل ہے جو کراچی کے عوام اب جا کر چکھ رہے ہیں کیونکہ کراچی میں ادارے تو بہر حال ہر وقت موجود ہی تھے ایسا تو کبھی بھی نہیں ہوا ہوگا کے کراچی کی تعمیراتی اور آبادکاری کرنے والے ادارے چھٹیوں پر گئے ہوئے ہو اور عوام نے ان کی ادوار میں ناجائز تعمیرات کرلی ہو ایسا بھی نہیں ہوسکتا کے کراچی شہر میں آپ ایک دیوار جائز زمین پر بنا رہے ہو اور آپ کو مٹھائی کا ہرجانہ نا بھرنا پڑا ہو کراچی والے یہ سب جانتے ہیں لیکن ایسا کیا ہوا جو ہزاروں گھروں کی تعمیرات ہوتی رہی اور کراچی سے ہر ماہ کروڑوں روپے تنخواہیں وصول کرنے والے ادارے سوتے رہے ہوا کچھ یوں کے ہر منسلک ادارے نے اپنے حصے کا مال غنیمت وصول کیا اور آنکھوں کو بند کئے رکھا کیونکہ ان کی سمجھ کے مطابق بنی گالا کو ریگولیشن کے لئے چھوٹ مل سکتی ہے تو یہ تو بچاری غریبوں کی بستیاں ہیں یہاں کس نے آجانا ہے لیکن ہوا کچھ الٹ بلکہ وہ ہوا جس کا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کراچی میں برسوں کی محکمہ جاتی نااہلی کا سارا بوجھ ان غریبوں پر ڈال دیا گیا جو پہلے ہی اپنے حصے سے زیادہ تاوان ادا کرچکے تھے اور کچھ تو ایسے بھی تھے جن کی قسمت میں ساری زندگی کی کمائی جمع کرنے کے بعد لینے والے اپنے آشیانے میں رہنے کا موقع چند دنوں پہلے ہی میسر آیا تھا اطلاعات کے مطابق لوگ خد کشیاں کر رہے ہیں پاگل دیوانے کی طرح اس ملک خداداد پاکستان کی ریاست جو کے ایک ماں کی طرح اپنے بچوں کو اپنی باہوں میں سمولے گی سوچ کر ادھر ادھر بھاگتے گرتے پڑتے کسی معجزے کی امید کا انتظار کررہے ہیں بچیوں کے رشتے ختم ہوگئے لوگ ایک ہی لمحے میں روڈ پر آگئے مگر نیا پاکستان ہے کے ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا ریاست مدینہ کے دعویدار ان غریبوں کے آشیانوں کو ایک آرڈیننس کے زریعے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ہر کام کی کوئی قیمت ہوتی ہے یہ غریب چیئرمین سینیٹ کے انتخابات تھوڑی ہیں جو تعداد پوری نا ہونے کے باوجود جیتا جاسکتا ہے یہ یوسف رضا گیلانی بھی نہیں جو سینیٹ میں معجزہ دکھا کر سینیٹر بن جائے یہ غریب جہانگیر ترین بھی نہیں جو اپنا علیحدہ گروپ بناکر اپنے حق میں حکومتوں کو جھکا سکیں یہ تو وہ غریب پاکستانی ہیں جو دودھ سے لیکر مرغی اور چینی سے لیکر پیٹرول تک ہر چیز میں اضافی رقم دیکر بھی اپنے حصے کا آئینی حق جو انہیں پاکستان کے آئین کے مطابق حاصل ہے وہ ہی حاصل کر لیں
چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ آبادکاری کا فزیکل ریویو کروا کر جس سن سے آبادکاری شروع ہوئی آج تک پوسٹ ہونے والے تمام ہی افسران سے عوام کے نقصانات کا حرجانہ وصول کیا جائے ہرجانہ ادا نا کرنے والے کی جائیدادوں کی نیلامی کرکے رقم وصول کی جائے این او سی جاری کرنے والے محکموں سے حاصل کردہ ریونیو غریبوں میں واپس تقسیم کیا جائے اگر انصاف کا عمل کراچی سے شروع ہو ہی گیا ہے تو اس کو پاکستان کے طول وعرض میں پہنچایا جائے آل آصف اسکوائر کے قبضے ہوئے الاٹیز کو ان کے آشیانے واپس کرائے جائے قابضین سے دہائیوں رہنے کا رینٹ الاٹیز کو دلوایا جائے .اور میں تو کہتا ہوں کے بس انصاف کیا جائے جو دنیا کے سامنے چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا اعلان کرے
-

مقبوضہ کشمیر اور پاکستان :تحریر: معین الدین بخاری
کشمیر کا جب بھی ذکر کریں تو دو باتیں ضرور ذہن میں آتی ہیں ایک تو ظلم و ستم کی نا ختم ہونے والی داستان اور دوسری بات قائد اعظم محمد علی جناح کا مشہور قول کہ "کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔” تقریباً 73 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی اہل کشمیر کے دکھ درد میں کمی واقع نہیں ہو سکی ہے بلکہ یہ ظلم و ستم کی داستان ہے کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔
کشمیر ایک ایسی بے بسی کی تصویر ہے کہ جہاں اقوام متحدہ کے 194 ممالک میں سے صرف پانچ ممالک (چین، ایران، ترکی اور ملائشیا ) مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے لائی گئی پاکستانی قرارداد کے حق میں ووٹ دیتے ہیں باقی پوری دنیا اہل کشمیر پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والے بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ یوں تو شروع ہی سے کشمیریوں پر بے شمار مظالم ڈھائے جاتے رہے ہیں جن میں غیر قانونی پولیس تشدد، پھر کشمیریوں کا encounter اور معصوم کشمیریوں کی عصمت دری سر فہرست ہیں لیکن مودی کے موجودہ دور حکومت میں تو یہ مظالم ہر حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔آرٹیکل 370 اور 35 میں ترمیم کے بعد ہی کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر کے 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں پر 9 لاکھ سے زائد فوج سے محاصرہ کر کے تمام کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے یہاں تک انکی فصلیں تباہ، ادویات ناپید اور اشیائے خور دنوش بھی چھین لی گئی ہیں۔ آئے روز درجنوں کشمیریوں کو پابند سلاسل کیا جانے لگا ہے۔ اسی طرح کئی کشمیریوں کو ناحق شہید کر دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ جو کشمیری کشمیر کے علاوہ رہائش پذیر ہیں انہیں بھی جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ہے ۔
ایسے سنگین حالات میں بھی کشمیری عوام نے پاکستان سے محبت کا دامن نہیں چھوڑا اور آج تک پر امید ہیں کہ پاکستان کی عظیم افواج اپنے خواب غفلت سے بیدار ہو کر آئیں گے اور انکی تمام مشکلات سے جان بخشی کروائیں گے ۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے کشمیر کے مسئلے کو دنیا کے اعوانوں تک پہنچانے میں کردار ادا کیا ہے اور دنیا سے مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے لیکن بندہ ناچیز کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ اقوام متحدہ تو اپنی پاس کردہ قرارداد کی حفاظت کیلئے بھی ایک لفظ تک نہیں بولا۔ادھر پاکستان میں حالات یہ ہیں کہ دیگر سیاستدانوں کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ صاحب نے بھی بیان دیا کہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے۔ ایسے وقت میں جب انڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی ہندوستان کا حصہ ہے اور انڈیا کسی بھی وقت فوجی کارروائی سے یہ حصہ واپس لے کر قبضہ کر سکتا ہے تو ہمارے سیاست دانوں اور آرمی چیف کا بیان حیران کن ہے ۔
آرٹیکل 370 کی ترمیم کے بعد بھارتی جنرل کانفرنس کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان خواتین کی عصمت دری جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے اور ہمارے حکمران صرف اس بات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ ہم کشمیر کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے ۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں ہم جب اپنے سیاستدانوں سے یہ سنتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ لوگ پاکستانی اور کشمیری قوم کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ جبکہ آج تیسرا سال خصوصی اور عمومی طور پر 73 سال سے زائد ہو گیا ہے اور پاکستان کشمیر آزاد کروانے کے درپے ہے پھر ہم ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکے جبکہ انڈیا پورے کشمیر پر قابض ہو گیا ہے تو حضرات میرا سوال صرف یہی ہے کہ کیا ہم واقعی اہل کشمیر سے مخلص ہیں اور کیا واقعی کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے؟ اگر جواب آپ کے پاس ہے تو ضرور دیجئے! -

سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم تحریر۔ مزمل مسعود دیو
شاہِ مرداں، شیرِ یزداں قوتِ پروردگار
لَا فَتٰي اِلَّا عَلِي لَا سَيْفَ اِلَّا ذُوالْفِقَارحضرت علی علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب مکّۃ المکرَّمہ میں پیدا ہوئے۔ آپکی والِدۂ ماجدہ حضرت فاطِمہ بنتِ اَسَد رضی اللہ عنہا نے آپکا نام’’حیدر ‘‘رکھا ، والد ابی طالب نے آپکا کا نام’’علی‘‘ رکھا ۔ حُضورِ پُرنور ، شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ’’ اَسَدُ اللہ ‘‘ کے لقب سے نوازا ، اس کے علاوہ ’’مُرتَضٰی ،کَرّار ، شیرِ خدا آپکے اَلقابات ہیں ۔ آپ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے چچا زاد بھائی ہیں ۔
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ علیہ السلام کا علمی مقام و مرتبہ اور فقہی صلاحیت تمام اولین و آخرین میں ممتاز و منفرد تھی۔ قدرت نے انہیں اس قدر اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا کہ جو مسائل دوسرے حضرات کے نزدیک پیچیدہ سمجھے جاتے تھے، انہی مسائل کو وہ آسانی سے حل کردیتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایسے وقت سے پناہ مانگتے تھے کہ جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آجائے اور اس کے حل کے لیے حضرت علی علیہ السلام موجود نہ ہوں۔
حضرت سعد بن ساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے غزہ خیبر کے دن فرمایا۔قلعہ خیبر کو فتح کرنے کے لیے میں اس شخص کو پرچم دے کر بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کبھی اس کو شرمندہ نہیں فرمائے گا۔‘‘
اس پرچم کو حاصل کرنے کے لیے لوگ للچانے لگے، لیکن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کہاں ہے؟ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بلایا حالانکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور تین دفعہ پرچم لہراکر انہیں سپرد فرمایا (بالآخر انہوں نے خیبر فتح کرلیا)۔ بخاری و مسلمشیرِ شمشِیر زَن شاہِ خیبر شِکَن
پَر تَوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلامحضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔
“علی ؓسے منافق محبت نہیں رکھتا اور مومن علیؓ سے بغض نہیں رکھتا” احمد و ترمذی!
حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔
“جس شخص نے نسب و نسل کے اعتبار سے علی کو برا کہا،اس نے حقیقت میں مجھے برا کہا” احمد!سیدنا سعد ابن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ
جب آیت،ترجمہ”’ہم اپنی اولاد لے آئیں اور تم اپنی اولاد لے آؤ(آل عمران،۱۶)نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے علی،فاطمہ،حسن حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا،اور فرمایا۔
“اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں”مسلم
نبی اکرم ﷺنے چادر کے نیچے علی،فاطمہ،حسن حسین کو داخل کرکے فرمایا۔
“اللہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے نجاست دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف کردے” مسلم۔آپ کو کوفہ کی ایک مسجد میں دوران نماز شہید کیا گیا۔
-

دوسری شادی، خانہ آبادی یا بربادی؟ .تحریر:نبیلہ شہزاد
دوسری شادی، خانہ آبادی یا بربادی؟ .تحریر:نبیلہ شہزاد
شیخ نوازش علی بالائی منزل کے اس کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھے اپنے ہم دکھ سکھ دوست سے خوش گپیوں میں مشغول تھے، جہاں سے گھر کے بیرونی گیٹ کی طرف جاتا راستہ صاف دکھائی دیتا تھا۔ با ذوق انسان، نوازش علی نے اس راستے کے اطراف پر پھولوں کے پودے لگا رکھے تھے، جن کی خوبصورتی اپنے جو بن پر تھی، لیکن اس بہار کے عین وسط میں کھڑی شیخ صاحب کی زوجین ایک دوسری کو بے مثال کلمات سنا رہی تھی۔ کھڑکی کھلی ہونے کی وجہ سے یہ سریلے نغمات شیخ صاحب کے بھی کانوں تک رسائی حاصل کر رہے تھے۔ اس نے اپنی دونوں بیگمات کو گھر ایک مگر الگ الگ پورشنز میں رکھا تھا۔ پھر بھی جب کبھی ان کا ٹاکرا ہوتا تو خوب ہوتا۔ اب اگلا مرحلہ دونوں کا شیخ صاحب کے پاس شکایت لے کر آنا تھا۔ اس لیے وہ ان کے آنے سے پہلے ہی گھر سے نکل جانا چاہتا تھا۔ اس نے حواس باختگی میں ہی جلدی سے گاڑی کی چابی پکڑی اور کمرے سے نکلنے لگا۔ مخلص دوست نے آگے بڑھ کر چابی اس کے ہاتھ سے پکڑی اور کہا، ”شیخ صاحب! آپ کی گاڑی گیراج میں کھڑی ہے، وہاں جائیں گے تو بیگمات کی بمباری کی زد میں آنے کا خدشہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے منہ سے نکلا کوئی گولا بارود آپ کی شہادت کا باعث بن جائے اور میں اپنے پیارے دوست سے محروم ہو جاؤں۔“ لہٰذا یہ میری گاڑی کی چابی پکڑیں، جو گھر کے پچھلی طرف کھڑی ہے۔ آپ پچھلے دروازے سے نکلیں۔ میں آپ کی گاڑی لے کر مین گیٹ سے نکلتا ہوں۔“ شیخ صاحب مشکور نظروں سے عزیز دوست کو دیکھتے ہوئے کمرے سے نکل گئے۔بیچارے شیخ نے دوسری شادی بڑے چاؤ سے کی تھی لیکن انسان کا برا وقت کب پوچھ کر آتا ہے۔ دوسری بیوی پہلی سے بھی چار ہاتھ تیز نکلی۔ کہتے ہیں کہ گیدڑ کا جب برا وقت آتا ہے تو وہ جنگل سے شہر کا رخ کر لیتا ہے۔ اسی طرح مرد اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہوئے دوسری شادی کی طرف رخ کر لیتا ہے۔ دوسری شادی ایک ایسا لڈو ہے جسے کھانے کی حسرت ہر مرد کے دل میں ہوتی ہے۔ اکثر بیچارے تو اس حسرت کو دل کے تہہ خانوں میں ہی چھپائے رکھتے ہیں اور کچھ ببانگ دہل اس کارخیر کو سر انجام دیتے ہیں۔ پھر چاہے یہ شادی خانہ بربادی کی ہی تصویر بنی رہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس مرد کی دوسری شادی ہو جائے، اس کی ماں کبھی نہیں مرتی۔ پوچھنے والوں نے پوچھا وہ کیسے؟ کہا جب وہ ایک بیوی کے گھر میں جاتا ہے تو دوسری کہتی ہے، ”آ گیا ہے اس ماں کے گھر سے“ اور جب وہ دوسری کی طرف جاتا ہے تو وہاں سے بھی یہی پیار بھرا جملہ سننے کو ملتا ہے، جس کی وجہ سے دونوں گھر اس کی ماں کے گھر بن جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں کچھ، ایک شادی والے مردوں کی خوش فہمی ہے کہ دو بیویوں والوں کی خدمت خوب ہوتی ہے۔ دونوں بیگمات اپنا نمبر بنانے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر شوہر کی خدمت کرنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب زیادہ خدمت والا فلسفہ بھی وقت کے دریا میں بہہ چکا ہے۔ اب تو جدید دور کی جدید بیویاں، اتنی خدمت کرتیں ہیں کہ نہ صرف شوہروں کے سر سے بال اڑ جاتے ہیں بلکہ انہیں نقدی کا بوجھ بھی نہیں اٹھانے دیتیں۔ ایک اگر ہزار روپے خرچ کرتی ہے تو دوسری اگلے لمحے دو ہزار کا شوہر کو ٹیکہ لگا کر سکون کا سانس لیتی ہے۔ پھر اس مسکین بچہ نما شوہر کو زیادہ تر اپنی آمدن ان سے چھپا کر رکھنی پڑتی ہے اور ان کے سامنے اپنی تنگدستی کا رونا رونے کے لیے الفاظ بھی ذہن نشین کرنے پڑتے ہیں۔
اگر کوئی دو بیویاں رکھنے والا آدمی مردوں کی محفل میں بیٹھ کر نہ صرف دوسری شادی کے فوائد بتا رہا ہو بلکہ انہیں دوسری شادی کرنے کی ترغیب بھی دے رہا ہو تو سمجھ لیں کہ وہ بیچارہ اپنے گھر میں جی بھر کر دکھی ہے اور اب انتقاماً دوسروں کو بھی اس کشت ویراں میں جھونکنا چاہتا ہے۔ کچھ کی بیگمات اتنی جابر ہوتیں ہیں کہ ان بیچاروں کی حسرت ہی رہتی ہے کہ یہ بنات حوا کبھی تو اکٹھی مل بیٹھ کر تھوڑی بہت گپ شپ بھی لگا لیں۔ کیونکہ حقیقت حال میں ان کی بیگمات غصے کی بندوق پکڑ کر ٹریگر پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہوتیں ہیں۔ کہ اگر کبھی آمنا سامنا ہوا تو یک لخت ایک دوسرے کو اڑا دیں گی۔ لیکن کچھ حضرات اس فیلڈ میں اتنے جینیئس ہوتے ہیں کہ اندر لے کھاتے۔ بے شک بیگمات کے سامنے ہاتھ جوڑ کر انہیں باہر سب اچھا دکھانے کی منتیں کریں لیکن باہر آ کر پر اعتماد انداز میں دعویٰ کرتے ہیں کہ انکی بیگمات کے درمیان مثالی محبت ہے اور بیگمات بھی اس شوق میں کہ شاید کوئی چینل والے ان کی آپس کی مثالی محبت دیکھ کر ان کا انٹرویو ہی لینے آ جائیں۔ پھر چاہے آپس میں منہ بسور کر دور دور ہی کیوں نہ بیٹھیں ہوں، لیکن کسی کی اپنے گھر میں آمد پر دکھاوے کے طور پر ایسے جڑ کر بیٹھ جائیں گی۔ جیسے یہ بیچاریاں پیدا ہی جڑواں ہوئی ہوں۔ مردوں کے دوسری شادی کروانے کے بھی اپنے اپنے انداز ہیں۔ کچھ دھوم دھڑکے سے مگر زیادہ تر بچارے لک چھپ کر ہی کرواتے ہیں۔ چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہمارے گھر سے چھٹے گھر میں رہنے والے زبیر صاحب نے تبلیغ کے بہانے گھر سے ایک ہفتہ چھٹی لی اور یار بیلیوں کے ساتھ برات لے کر دوسری شادی رچانے چلے گئے۔ یہ ایک ایسا تبلیغی سفر تھا، جس کا ثواب موصوف آج تک خوب کما رہے ہیں اور ڈھول کی طرح پٹ رہے ہیں۔ اب ہمیں اس مبلغ صاحب کی حالت زار کو دیکھ کر دکھ تو ہو گا نا، کیونکہ شریعت نے اسے ہمارا ہمسایہ کہا ہے۔ میں مردوں کی ایک سے زیادہ شادی کی مخالف نہیں۔ کروائیں ضرور کروائیں، مگر اپنی ہڈی پسلی دیکھ کر۔ بھئی! جنہوں نے کھائی گاجریں، ان کے پیٹ میں درد ہمیں اس سے کیا؟
-

سنیک ویڈیو اپیلیکیشن ،ایک نئی سازش،تحریر ۔ عمالقہ حیدر
سنیک ویڈیو اپیلیکیشن ،ایک نئی سازش،تحریر ۔ عمالقہ حیدر
ایک نئی سازش جسے مسلمان نوجوان کمائی کا زریعہ سمجھ رہے ہیں
🙏ایک مرتبہ یہ لازمی پڑھیں……………..
ہم میں سے کچھ لوگ پیسے کی محبت میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں۔۔ کہ جائز و نا جائز کی کوئی تمیز باقی نہیں رہی۔ ایک تازہ مثال snack video appہے ہر وقت اس کی تشہیر کی جا رہی ہے اور اب تو یہ آفر آگئی ہے کے ایپ انسٹال کریں اور پیسے حاصل کریں۔۔امت کے نوجوان بچے اور تقریبا ہر عمر کے افراد اسے ڈاؤنلوڈ کر رہے ہیں بات یہی پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ دوسروں کو invite کریں اور پیسے حاصل کریں۔۔جتنا ٹائم آپ بے حیائی کو دیکھیں گے آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے جمع ہوتے رہیں گے۔۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی ، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ( کا بوجھ ) ہو گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔
ہم اندھا دھند کس چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ایک لمحہ کیلیئے سوچیں تو سہی اگر ہم نے ایک بندے کو انوائیٹ کیا اور اس نے آگے 10 کو،ان 10 نے آگے 20 کو اور ایسے یہ سلسلہ چلتا رہا ہم اپنے کاندھوں پے کن کن کے گناہوں کا بوجھ لاد کر لے جائیں گے اور کس کس کے بوجھ کے حصہ دار بنیں گے خدارا اسے یہاں سٹاپ کریں اس ظلم سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو۔ بھی بچائیں سورہ نور میں اللہ رب العزت کا فرمان ہےاِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الۡفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۹﴾
جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے ۔
تو میرے آقا کے امتیوں خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاو اس پیغام کو اتنا زیادہ پھیلائیں جتنا یہ ایپ اور اس طرح کی دوسرے بےحیائی پھیلانے والی ایپس پھیل رہی ہیں کیا پتا کل روز قیامت آقاصلى الله عليه واله وسلم کے ان ساتھیوں میں نام آجاۓجو آپ کو محبوب ہیں اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین اور ایسے نادیدہ بوجھ سے ہمیں بچا لے۔۔۔ آمین -

بیگم صفدر اعوان کا فیٹف پر تنقید کرنا شرمناک بیان قرار فیاض الحسن چوہان
وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے فیٹف گرے لسٹ سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ 27 میں سے 26 شرائط پوری کرنے کے باوجود پاکستان کو فیٹف گرے لسٹ پر رکھنا حیرت انگیز بات ہے، اس سے بھی زیادہ شرمناک بات بیگم صفدر اعوان کا اس پر تنقید کرنا ہے، فیٹف کی پوری نہ ہونے والی واحد شرط منی لانڈرنگ اور اس سے جڑے قوانین سے متعلق ہے، آل شریف کی لازوال، بے مثال اور تابناک کرپشن اور منی لانڈرنگ نے پاکستان کو اس نہج پہ پہنچایا ہے، گزشتہ دس سال میں آل شریف و زرداری کے معاشی جرائم اور کوتاہیاں پاکستان کو لے ڈوبی ہیں، اپنے کالے دھن کو بچانے کے لیے دونوں گزشتہ جماعتوں نے منی لانڈرنگ قوانین نہ بنائے گئے، ملک کو دیمک کی طرح چاٹنے والوں سے آج ہماری معاشی ترقی ہضم نہیں ہو رہی ہے، آل شریف و زرداری کے خلاف کرپشن کیسز کو اب ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، دنیا کو دیکھنا ہوگا کہ فیٹف صرف معاشی واچ ڈاگ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور مقصد ہے، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں معاشی اور انتظامی ترقی کا سفر جاری رہے گا.
-

ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق حیران کن انکشافات
ماہرین آثار قدیمہ نے ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق نئے حیران کن انکشافات کر دیئے ہیں۔
باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چینی یونیورسٹی کے ماہرین نے 1930 میں چین سے ملنے والی انسانی کھوپڑی پر مزید تحقیق کی تھی۔
ماہرین کے مطابق زمانہ قدیم کے ڈریگن مین کی آنکھیں مربع شکل اور منہ بڑا تھا ڈریگن مین نامی اس دور کے انسان کا دماغ آج کے انسان سے ملتا جلتا ہے، تاہم اس کے آئی سوکٹ مربع شکل کے تھے جبکہ ڈیڑھ لاکھ سال پہلے زمین پر موجود انسان کے دانت بھی بڑے تھے۔
دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت
ماہرین کا کہنا ہے کہ راملہ شہر کے نزدیک دریافت کی جانے والی باقیات ایک انتہائی قدیم انسانوں کی نسل کے ’آخری بچ جانے والوں‘ کی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے نے سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ محققین کی ٹیم کے مطابق یہ انسان اس نسل سے تعلق رکھتا ہے جو اس خطے میں لاکھوں سال قبل پھیل گئی تھی اور انھی کی نسل سے یورپ میں نینڈرتھل آئے تھے سائنسدانوں نے اپنی اس دریافت کو ’نیشر رملاہ ہومو‘ کا نام دیا ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کی ڈاکٹر ہلا مے نے کہا کہ اس دریافت کے انسانی ارتقا کی کہانی بدل سکتی ہے، بالخصوص نینڈرتھل نسل کے انسانوں کے بارے میں نینڈرتھلز کے ارتقا کو عمومی طور پر یورپ سے جوڑا جاتا ہے یہ سلسلہ اسرائیل میں شروع ہوا ہمارا خیال ہے کہ یہاں کا ایک مقامی گروپ اس آبادی کا ذریعہ تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نیشر رملہ نسل کے لوگ مشرق وسطی سے پھر یورپ منتقل ہوتے چلے گئے۔‘
ماہرین کی اس ٹیم کا کہنا تھا کہ اس گروپ سے تعلق رکھنے والے پہلے ممبران کوئی چار لاکھ برس قبل موجود تھے محققین کو اس نسل میں اور یورپ میں ملنے والے نینڈرتھلز نسل سے بھی پہلے کے انسانوں میں کچھ مماثلت نظر آئی ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کی ڈاکٹر ریچل سارگ کہتی ہیں کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ہم نے لیوانت (بحیرۂ روم کا مشرقی علاقہ) میں رہنے والے ماضی کے انسانوں میں سے کوئی تعلق جوڑا ہوقاسم، زوتیاہ اور تبون کی غاروں سے ایسے کئی انسانی فوسلز ملے ہیں جنھیں ہم اس زمانے میں موجود ہیں انسانوں کے کسی مخصوص گروہ سے منسوب نہیں کر سکت۔ لیکن ان کی شکلوں کا نوشیر رملا سے ملنی والی نئی باقیات سے موازنہ کرنے سے (نئے انسانی) گروہ میں ان کی شمولیت کا جواز بنتا ہے ڈاکٹر مے کے مطابق یہ انسان نینڈرتھل نسل کے آباؤ اجداد تھے۔
’یورپی نینڈرتھل دراصل یہاں لیوانت سے شروع ہوئے تھے اور پھر یورپ ہجرت کر گئے، جبکہ انسانوں کے دوسرے گروہوں کے ساتھ ان کے جنسی تعلق سے بچے پیدا ہوتے رہے۔
پروفیسر اسرائیل ہرشکوٹز کہتے ہیں کہ باقی کچھ افراد مشرق میں انڈیا اور چین کی طرف نکل گئے۔ اس طرح وہ یورپ میں قدیم مشرقی ایشیائی انسان اور نینڈرتھلز کے درمیان تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہیں مشرقی ایشیا میں دریافت ہونے والے کچھ فوسلز کی خصوصیات نیشر راملہ کی طرح نینڈرتھل سے ملتی جلتی ہیں۔
محققین کہتے ہیں کہ ان کے دعوے اس بنیاد پر ہیں کہ اسرائیل میں ملنے والے فوسلز اور یورپ اور ایشیا سے ملنے والے فوسلز میں کئی خصوصیات مشترک ہیں، اگرچہ ان کا یہ دعویٰ متنازعہ ہے۔ لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے تعلق رکھنے والے پروفیسر کرس سٹرنگر حال ہی میں چینی انسانی باقیات کا مطالعہ کر رہے تھے۔
پروفیسر کرس سٹرنگرکہتے ہیں کہ نیشر رملہ اس لیے اہم ہے کہ یہ تصدیق کرتی ہے کہ زحتلف سپیشیز اُس وقت خطے میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتی تھیں اور اب ہمارے پاس مغربی ایشیا میں بھی یہی کہانی ہے تاہم، میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت اسرائیل کے کچھ پرانے فوسلز کو نینڈرتھلز سے جوڑنا ایک دور کی کوڑی ہے۔ میں نیشر رملہ اور چین کے فوسلز کے مابین کسی تعلق کی بات پر بھی حیران ہوں۔‘
نیشر رملہ کی باقیات ایک ایسی جگہ سے ملی تھیں جو کبھی ایک سنک ہول ہوا کرتا تھا، اور اس علاقے میں قدیم انسان آیا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ وہ علاقہ رہا ہو جہاں وہ جنگلی جانوروں، گھوڑوں اور ہرنوں کا شکار کرتے ہوں، جسکا اشارہ ہزاروں پتھر کے آلے اور شکار کیے گئے جانوروں کی ہڈیوں سے ملتا ہے۔
یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے ڈاکٹر یوسی زیدنر کے ایک تجزیے کے مطابق یہ اوزار بھی اسی انداز میں بنائے گئے تھے جس طرح اس وقت کے جدید انسان نے اپنے لیے بنائے تھے یہ حیران کن بات ہے کہ قدیم انسان بھی اسی طرح کے آلات استعمال کر رہے تھے جو عموماً ہومو سیپیئنز یا موجودہ نسل کے انسان استعمال کرتے تھے۔‘
’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف اسی طرح ممکن ہے کہ آلات کو (بنتا) دیکھ کر یا زبانی طریقے سے سیکھ کر ہی بنایا جا سکتا ہے۔ ہماری دریافتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی ارتقا بالکل سادہ نہیں ہے اور اس میں انسان کی مختلف سپیشیز کے درمیان بہت سا انتشار، روابط اور تعامل شامل ہے۔‘
یاد رہے کہ چند ماہ قبل مشرقی کینیا کے ایک غار میں چھوٹے بچے کی ہڈیاں ملی تھیں جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ افریقہ میں سب سے قدیم تدفین ہے۔
یہ قبر کینیا میں آثارِ قدیمہ کے حوالے سے مشہور مقام ’پنجہ یا سعیدی‘ میں ایک غار کے دہانے پر ملی ہے ماہرین نے ریڈیو کاربن تاریخ نگاری اور دیگر تکنیکوں کے استعمال سے اس قبر کے زمانے اور بچے کی عمر کے بارے میں تو اندازہ لگا لیا گیا تھا لیکن بچے کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ان سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ وہ لڑکا تھا یا لڑکی۔
اس بچے کی عمرعمر 2 ½ اور 3 سال کے درمیان تھی ایک اندازے کے مطابق باقیات 7 8ہزار سال پرانی ہیں۔
شواہد بتاتے ہیں کہ اس بچے ’مٹوٹو‘ کی موت قدرتی طور پر ہوئی تھی جبکہ اسے مرنے کے فوراً بعد ہی پورے اہتمام سے دفنا دیا گیا تھا ’مٹوٹو‘ کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے نرم چھال کے کفن میں لپیٹ کر قبر میں اتارنے کے بعد، اس کے ننھے سر کو کسی نرم تکیے جیسی کسی چیز پر رکھا گیا اور اسے سیدھی (دائیں) کروٹ سے لٹا کر دفن کیا گیا ٹانگیں جوڑ کر سینے کی طرف اکٹھی کی گئی تھیں۔
3 سالہ بچے کی 78 ہزار سال پرانی باقاعدہ قبر دریافت
-

فیس بُک کا اپنے "شی مینز بزنس” کو پاکستان میں توسیع دینے کا فیصلہ
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘فیس بک’ خواتین کو بااختیار بنانے پر مبنی اقدام ‘شی مینز بزنس’ کو پاکستان میں بھی بڑھا رہا ہے۔
باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ‘شی مینز بزنس’ اقدام دنیا بھر کے 21 ممالک میں کام کر رہا ہے اور فیس بک اور اس کے شراکت داروں نے دنیا بھر میں 10 لاکھ سے زائد خواتین کو ڈیجیٹل مہارت کی تربیت دی ہے۔
اسٹیٹ بینک اور امریکی ایڈ پروگرام کے نئے جزو ‘مالیاتی تعلیم کے ذریعے کاروباری لچک (بی آر ایف ای)’ کے ساتھ شراکت میں کام کیا گیا ہے، اس کا مقصد مالی انتظام کی مہارت کو بہتر بنانا ہے تاکہ خواتین کی زیر قیادت ملک میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار (ایس ایم ایز) میں ابھرنے کی قوت اور استحکام کو بڑھایا جاسکے۔
فیس بک کے بانی کا واٹس ایپ میں شاپنگ کو لانے کا اعلان
اپنے ویڈیو پیغام میں نائب گورنر اسٹیٹ بینک سیما کامل نے پاکستان میں خواتین کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے فیس بک اور دیگر شراکت داروں کی کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی زیرقیادت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں میں مہارت میں اضافہ اور مالی اعانت تک رسائی کے ذریعے استحکام اور ابھرنے کی قوت حاصل کرنا بہت ضروری ہے بی آر ایف ای جیسے اقدامات پاکستانی خواتین کو قومی تعمیر کے عمل میں اپنی شراکت کو بڑھانے کے قابل اور مستحکم بنائیں گے۔
شی مینز بزنس کی عالمی سربراہ بیتھ این لِم کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان اور دنیا بھر میں کہیں بھی خواتین کی زیر قیادت کاروبار کے استحکام کے لیے مالیاتی تعلیم بہت ضروری ہےشی مینز بزنس، ایشیا بحرالکاہل پیسفک خطے میں خواتین کی معاشی ترقی میں مدد کے لیے فیس بک کے عزم کی عکاسی ہے۔
امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی
امریکی ناظم الامور لیسیلی وگویری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی حکومت، پاکستان اور پوری دنیا میں خواتین کی معاشی بااختیاری کو ترقی کا اہم جزو سمجھتی ہے اور اس پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے میں سرمایہ کاری کرنے سے متحرک معیشتوں کو غربت کے خاتمے اور تعمیر میں مدد مل سکتی ہے۔
اس تقریب میں مہمانوں نے چیلنجز اور مواقع پر خصوصی توجہ کے ساتھ ‘شی مینز بزنس’ کے لیے خواتین کی مالیاتی انتظام میں مہارت کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا اور موجودہ رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے خواتین کی مالی شمولیت کے فروغ کے لیے خیالات کا تبادلہ کیا۔
درجنوں پاکستانی فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس مشکوک سرگرمیوں کے الزام میں بند کر…
-

دور حاضر میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش اور صارفین تحریر: محمد نعیم شہزاد
دور حاضر میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش اور صارفین
تحریر: محمد نعیم شہزاداکیسویں صدی کو یقینی طور پر سوشل میڈیا کے استعمال کے لحاظ سے انقلاب کی صدی کے طور پر تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد اپنی زندگی اور خیالات کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ جدید دور نے آزادی اظہار کو جنم دیا ہے لیکن بہت ساری سائٹس اور ایپس کچھ لابیزکے مکروہ ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں اور صارفین پر مختلف مبینہ پابندیاں عائد کرتی ہیں اور انہیں اپنی آزادانہ مرضی کے مطابق کام کرنے نہیں دیتی ہیں۔
معطل اور محدود کردہ صارفین کو اپیل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے لیکن جب وہ اپیل کرتے ہیں تو اس کا مناسب انداز میں جواب نہیں دیا جاتا ہے۔ متعدد بار درخواست کرنے کے بعد بھی صارف کو حکام کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملتا۔
جب میں اکاؤنٹ کی بندش کے لیے اپیل کرتا ہوں تو معاونتی ٹیم جواب نہیں دیتی ہے اور مجھے بے بس چھوڑ دیتی ہے۔ ایک صارف نے کئی ماہ کے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا۔ اس طرح کے سلوک کی مذمت کی جاتی ہے اور آج کے دور میں یہ سلوک صارفین کے لیے اذیت ناک ہے۔
یقیناً یہ انداز آزادی اظہار رائے کے منافی ہے لیکن صارفین ان تنگ ذہنوں کے ہاتھوں بے بس ہیں۔
مجھے ذاتی طور پر ایک ایسی سوشل سائٹ کی طرف سے اس طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے جس نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر ابھارا۔ میں اس سوشل سائٹ کو یہاں نامزد کرنا بہتر نہیں سمجھتا ہوں لیکن میں یہ خواہش ضرور کروں گا کہ اس پیغام کو اس سائٹ کے مالکان کی نظر میں قبولیت ملے اور کسی سازگار اقدام کی امید بھی کرتا ہوں ۔
دوم ، میں یہ ذکر کروں گا کہ قواعد و ضوابط کو کسی بھی قسم کی جانبداری اور حمایت کے بغیر پالیسی کے مطابق لاگو کیا جانا چاہئے۔ امید ہے کہ یہ الفاظ سائٹ کے مالکان پر اپنا اثر دکھا سکیں گے اور وہ صارفین کی تقریر کی آزادی کا احترام کریں گے اور انہیں اپنے میڈیا سے بیزار نہیں کریں گے۔
ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے میں صارفین کی مرضی کے خلاف سوشل سائٹوں کی اجارہ داری ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ صارفین پر صرف ان سائٹس کی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر پابندی لگانی چاہئے اور میل یا الگ نوٹیفیکیشن کے توسط سے اس کی خلاف ورزی کی وضاحت کرنی چاہئے۔ معطلی کے معاملے پر صارف اور سوشل سائٹ کے مابین کسی بھی چیز کو پوشیدہ یا نجی نہیں رکھا جانا چاہئے اور کسی بھی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے صارف کو واضح طور پر مطلع کیا جانا چاہئے۔ واضح اور قابل اعتراض خلاف ورزی کی اطلاع کے بغیر کسی صارف کا اکاؤنٹ معطل کرنا ایک جرم قرار دیا جانا چاہیے۔