Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کسان زبوں حالی کا شکار کیوں؟      تحریر: احسن ننکانوی

    کسان زبوں حالی کا شکار کیوں؟ تحریر: احسن ننکانوی

    کسان زبوں حالی کا شکار کیوں؟

    انسان ایک معاشرتی حیوان ہے انسان اکیلا نہیں رہ سکتا اگر انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کو جنگل میں چھوڑ آئیں تو وہ پہلی بات حالات کا مقابلہ نہیں کرسکے گا اگر وہ زندہ بچ بھی گیا تو وہ انسانوں کی طرح نہیں ہوگا نہ اس کو بولنا آتا ہوگا بہت سارے لوگ اکٹھے رہ کر ایک معاشرہ بناتے ہیں۔ اسی طرح ہر کامیاب کاروبار جو ملک کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ جو ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرتا ہے۔

    ایک ملک ایک چیز پر انحصار نہیں کر سکتا اس کو مختلف شعبوں میں ترقی کرنا ہوتی ہے میرے ملک پاکستان کا جو سب سے بڑا سیکٹر جس کو پاکستان کہا جاتا ہے وہ بہت ہی کمزور ہے اور کسان زبوں حالی کا شکار ہے حالانکہ پاکستان میں سب سے زیادہ جو ترقی ہوتی ہے اس میں زراعت کا بہت زیادہ ہاتھ ہے ۔

    پاکستان کی معیشت کو چلانے کے لیے زراعت کا بہت بڑا ہاتھ ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس پر توجہ نہیں دی جاتی نہ تو کوئی گورنمنٹ پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔

    کچھ گورنمنٹ ہے جو اس سیکٹر میں اس پیشے میں توجہ دیتی ہیں تو آئیے ہم بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں کسان زبوں حالی کا شکار کیوں ہیں اور ان کو کس کس مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے بھاگتے ہیں۔

    موجودہ حکومت نے تھوڑی بہت ہی اس پر توجہ دی ہے جس کی وجہ سے حالات کافی بہتر ہوگئے ہیں لیکن میں بہت زیادہ جو اہم معاملات ہیں اس پر گورنمنٹ کی توجہ کروانا چاہوں گا۔

    کچھ ایسے حالات ہیں جس کی وجہ سے کچھ سال زبوں حالی کا شکار ہیں بجلی والے ٹیوب ویل کی بات کر لیتے ہیں ابھی حالیہ دل میں بجلی والوں نے ضرورت سے زیادہ یونٹ ڈال دیے ہیں جس پر کسان پریشان ہیں اگر ان کے دفتر میں جائیں تو وہ آگے سے کوئی بات ہی نہیں سننے کو تیار نہیں کہ وہ تو افسر شاہی ہی عوام کی بات بلا کیوں سنیں گے۔

    حکومت نے جو بل کا نظام بنایا ہے کہ بل کے ساتھ تصویر بھی کھینچی جاتی ہے تاکہ بل زیادہ نہ آئے اور ساتھ عوام کو کوئی پریشانی نہ ہو۔
    لیکن واپڈا کے اہلکار بھی فراڈ میں بہت زیادہ آگے نکل چکے ہیں انہوں نے ایک ایسا طریقہ بنایا ہے کہ جو تصویر اصل ہوتی ہے اس کو بدل کے اپنی مرضی کی تصویر لگا دیتے ہیں اور اپنی من مانی کرتے ہیں کسانوں کو ان کے دفتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں جس کی وجہ سے یہ صحیح طریقے سے اپنی فصل کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔

    جتنی بجلی کسانوں نے استعمال کی ہوتی ہے اس سے زیادہ بل ڈالا جاتا ہے۔ آج چاچا جان سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے کل یا پرسوں کو واپڈا آفس جانا ہے جب وجہ پوچھی گئی تو یہی بتایا گیا کہ بل اس بار پھر زیادہ آگیا ہے ٹیوب ویل کا تو میں نے کہا کہ آپ ہیلپ لائن 118پر کال کریں مسئلہ حل ہوجائے گا انہوں نے آگے سے کہا (پتر اوہ وی اوناں دے نال رل گئے نے )
    مطلب کہ وہ بھی ان کے ساتھ مل گئی ہیں پتہ نہیں کتنی بار ان کو بھی کال کرکے دیکھی ہے پہلے تو وہ مسئلہ حل کر دیتے تھے لیکن اب وہ بھی بات نہیں سنتے ہیں۔

    اگر واپڈا آفس جائیں تو وہاں پر کرپٹ سے کرپٹ کرپٹ افسر بیٹھا ہوا ہے جو پیسے لئے بنا بات ہی نہیں سنتے۔

    پیسے دے دوں تو مسئلہ حل ہو جائے گا ان کا بھی یہی جواب ہوتا ہے ایک اور مزے کی بات بتاؤں شاید بہت سارے لوگوں کو نہ پتا ہو بلکہ پتا ہی نہیں ہوگا واپڈا کے جو کرپٹ افسر ہیں وہ دھان کی فصل کے موسم کے وقت کیونکہ ان دنوں میں ٹیوب ویل دن رات چلتے ہیں اور بل کافی زیادہ آتا ہے انہوں نے اپنی جعلی میٹر بنائے ہوتے ہیں وہ کسانوں کو کہتے ہیں کہ یہ میٹر لگا لو اور سیزن کے اتنے پیسے دے دینا۔

    اور آپ کو بل وغیرہ نہیں آئے گا جب سیزن گزر جائے گا تو آپ اپنا اصلی میٹر لگا لینا اگر ایسا کوئی نہ کرے تو اس کو پھر اپنی مرضی کے یونٹ ڈالتے ہیں اور اپنی مرضی کا بل بھیجا جاتا ہے۔

    اللہ اللہ یہ کیسے لوگ ہیں جو میرے ملک کو کھا رہے ہیں یہاں پر مجھے عہد حاضر کے ایک شاعر علی زریون صاحب کا شعر یاد آ گیا ہے۔

    ‘اے میرے وطن تیرے چہرے کو نوچنے والے۔۔
    یہ کون لوگ ہیں یہ گھرانے کہاں سے آگئے۔۔’

    حکومت پاکستان کو ایسے مسائل کا حل نکالنا ہوگا اگر کسان پریشان ہوں گے اور وہ فصل نہیں کاشت پائیں گے تو پاکستان کی جی ڈی پی کیسے بڑھے گی۔اور پاکستان ترقی کیسے کرے گا کیونکہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    کبھی تو واپڈا والوں کا خلاصہ ہی بیان کیا گیا ہے اگر ان پر پوری کہانی لکھنے بیٹھ جائیں اور ان کی کرپشن کے بارے میں بتانا شروع کر دیا جائے کہ یہ کن کن طریقوں سے کرپشن کرتے ہیں تو کاغذ کم پڑ جائیں گے اور سیاہی ختم ہو جائے گی۔

    کسانوں کو دوسرا سب سے بڑا مسئلہ پیسے کا ہے ان کے پاس پیسے بہت کم ہوتے ہیں اور ان کو فصل کی بوائی کاشت ہل چلانے کے لئے روپوں کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر وہ آڑھتیوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ ان کو سود پر قرضے دیتے ہیں اور بہت بھاری سود واپس ادا کرنا ہوتا ہے۔

    سود کے ساتھ ساتھ جب ان کی فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو ان کو مجبوری کے طور پر فصل بھی ان ساہو کاروں کو دینی پڑتی ہے اور وہ اپنی مرضی کا ریٹ لگاتے ہیں۔ ہیرا پھیری بھی کرتے ہیں۔ اسے کاٹ کر اور سود بھی کاٹ کر جب آخر میں حساب کیا جاتا ہے تو کسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور وہ افسردہ دل منڈیوں سے واپس آتا ہے۔

    جب انسان ہی افسردہ دل ہوگا تو پاکستان کی جی ڈی پی کیسے گروتھ کرے گی اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ کسانوں کو ایک سال یا چھ ماہ کے لیے فری قرضے دیں۔

    جب فصل پک کر تیار ہو جائے تو ان سے حکومت پاکستان ہی فصل خریدے اور خود اپنی مرضی سے ایک اچھا ریٹ تجویز کریں اس طرح کسان خوش ہوجائے گا جب کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔

    جب حکومت اس کے ساتھ اچھا تعاون کرے گی تو وہ تو میں دلجمعی سے کام کرے گا اور وہ بھی حکومت کے ساتھ اچھا تعاون کرے گا اور اس طرح سے ہماری فصلوں کی پیداوار بڑھے گی جب پیداوار بڑھے گی تو ہمارے ایکسپورٹ بھی بڑھے گی اس طرح عالمی منڈیوں میں پاکستان کے ساکھ بیٹھےگی۔

    ایک اور بڑا مسئلہ کسانوں کو بیج کھادیں اسپرے بھی بہت مہنگی ملتی ہیں اتنا زیادہ منافع نہیں ہوتا جتنا زیادہ فصل پر خرچہ ہو جاتا ہے اس طرح سے پھر لوگ بدل ہو جاتے کسانوں کو پوری سبسیڈی دینی چاہیے کسانوں کو زرعی آلات مشینری دینی چاہیے کہ وہ روایتی طریقے سے ہٹ کر کھیتی کریں اور زراعت میں جدت لانی چاہیے۔

    بہت سارے اہم مسائل کی طرح ایک اور بھی مسئلہ ہے ہمارے 80 پرسنٹ کسانوں کو کھیتی باڑی کے بارے میں علم نہیں ہے وہی پرانا روایتی طریقہ استعمال کرتے ہیں۔اس طرح فصل کی پیداوار بہت ہی زیادہ کم ہوتی ہے پاکستان میں زراعت کا محکمہ نام کی بھی ایک چیز ہے۔

    صاحب بہادر کی تنخواہ چل رہی ہے لیکن آج تک جب سے میں نے اپنی ہوش سنبھالی ہے کبھی بھی کسی زراعت کے افسر کو یا کسی ویسے زراعت کے بندے کو اپنے گاؤں یا علاقے میں نہیں دیکھا وہ بس سرکاری مال کھا کر خواب خرگوش کیے مزے لے رہے ہیں۔
    حالانکہ کے ان کا اصل کام گاؤں لوگوں کو جاکر شعور دینا لوگوں کو بتانا کی فصل کیسے کاشت کی جاتی ہے۔

    دھان کی فصل کیسے کاشت کی جاتی ہے اور گنے کی فصل کو کس کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے گندم کو کیسی زمین میں کاشت کرنا چاہیے اور کپاس کو کیا ادویات ڈالنی چاہیے۔

    لیکن وہ صاحب بہادر اپنے دفتروں سے نکلنا بھی گوارا نہیں کرتے ہان ان کی شان کے خلاف بھی ہے اگر کسی کو ان سے فائدہ ہو گیا تو ان کا نقصان ہو جائے گا۔

    مجھے یہاں پر تہذیب حافی کا ایک شعر یاد آ گیا
    ‘تم کو دور سے دیکھتے دیکھتے گزر رہی ہے۔۔
    مر جانا پر کسی غریب کے کام نہ آنا ۔’

    حالانکہ ہر تحصیل لیول پر لیباٹری ہونی چاہیے جہاں پر یہ دیکھا جائے کہ کس فصل کو کیسے کاشت کرنا ہے اور کون سی زمین کس فصل کے لیے موزوں ہے۔

    ایک سب سے بڑا مسئلہ اور پاکستان کے جسم کے ساتھ ناسور کرپٹ پٹواری بھی ہیں اگر زمین کی نشاندہی کروانی ہو یا کچھ اور ہو تو لاکھوں روپے مانگتے ہیں۔ اس پاکستان کو بہت سے ناسور لگے ہوئے ہیں ان کو الگ کرنا ہوگا ورنہ تب تک پاکستان ترقی نہیں کر پائے گا اور پٹواریوں کی شان میں پھر کسی دن لکھوں گا۔
    تحریر: احسن ننکانوی
    Ahsannankanvi@gmail.com

  • 50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    ماہرین کو قازقستان میں جھیلوں اور قدرتی حجری آثار پرمشتمل مشہور سیاحتی مقام پر ایک چوٹی ملی ہے جہاں ماضی کے 50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال معلوم کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : لیوزین یونیورسٹی کی ارضیات داں، شارلوٹ پروڈ کا کہنا ہے کہ چارِن گھاٹی (کینویئن) میں ایک مقام پر 80 میٹر طویل پتھریلا سلسلہ ہےجہاں کلائمٹ چینج کا پانچ کروڑ سالہ ریکارڈ موجود ہے۔ یوں یہ بہت نایاب جگہ ہے اور زمین پر ایسے آثار کم ہی ملتے ہیں۔

    ’یہاں مٹی اور گرد کے پرتیں ہیں جو یوریشیائی برِاعظم میں طویل عرصے کا موسمیاتی راز فاش کرتی ہیں اس عرصے میں یہاں کی زمین نے زمین، فضا اور سمندرکے موسمیاتی اتارچڑھاؤ میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ یعنی یہ جگہ ایک طرح کا لِٹمس ٹیسٹ ہے جو بحرِآرکٹک میں میٹھے پانی کے بہاؤ، اور نمی والی ہواؤں کی خشکی تک منتقلی جیسے معاملات کا پورا احوال اس جگہ محفوظ ہے۔

    شارلوٹ نے اپنی تحقیق کمیونکیشنز ارتھ اینڈ اینوائرمنٹ میں شائع کی ہیں 80 میٹر طویل زمینی ٹکڑے پر پلائیوسین اور پلائسٹوسین دور کی کہانی لکھی ہے، ان میں پلائیوسین کا دور 50 لاکھ سال سے 26 لاکھ سال پرانا ہے اوراسی زمانے میں انسانی سرگرمیاں موسم پراثرانداز ہوئی تھیں یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق سے ہم زمین پر آب و ہوا کی تبدیلی کا مستقبل بھی جان سکتے ہیں۔

    اس طرح پہلی مرتبہ وسط ایشیا کا آب و ہوا میں اہم کردارسامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ہم سمندری تحقیق سے ہی اس عمل کو سمجھ رہے تھے اور یوں قازقستان کا یہ علاقہ اب مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ تحقیق سے قدیم موسمیاتی پس منظر کی نقشہ سازی کرنے میں بہت مدد ملے گی یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق کو دیگر ماہرین نے بھی سراہا ہے۔

    چارِن گھاٹی کے سلسلے میں لگاتار مٹی کے انبارموجود ہیں اور اس کا سلسلہ کہیں بھی نہیں غائب نہیں۔ یہاں کی مٹی میں ماہرین نے مختلف معدنیات، عناصر اور آئسوٹوپس کا مطالعہ کیا ہے۔ قدیم مقناطیسی مطالعے اور یورینیئم ڈیٹنگ سے جمع شدہ ارضیاتی آثار کا ریکارڈ اور عمر معلوم کی گئی تو معلوم ہوا کہ گزشتہ پانچ ملین سال میں یہاں کی خشکی بتدریج بڑھی ہے-

    جبکہ پلائیوسین کے ابتدائی عہد میں یہاں کی مٹی خاصہ پانی موجود تھا۔ تاہم بعد میں وسط طول البلد کی مغربی ہواؤں اور سائبیریا کے بلند دباؤ والے موسمیاتی سسٹم سے یہاں کئی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔

    بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ اس جگہ پر مزید تحقیق سے زمین کی موسمیاتی آب بیتی کے کئی راز کھلیں گے۔

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

  • فلسطینی و پاکستانی نوجوان صحافیوں کا کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام خصوصی نشست کا انعقاد

    فلسطینی و پاکستانی نوجوان صحافیوں کا کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام خصوصی نشست کا انعقاد

    مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے آزادی کیلئے جدوجہد میں مصروف عمل ہیں، اسرائیلی وبھارتی بربریت کا سامنا کرنے والے فلسطینی و کشمیری منزل کے حصول کیلئے پرامید ہیں، لاکھوں قربانیاں دینے کے باوجود جذبہ حریت زندہ ہے، ان خیالات کا اظہارکشمیری ، فلسطینی و پاکستانی نوجوان صحافیوں نے کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام خصوصی نشست میں کیا-

    غزہ، فلسطین سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی بلال ایلاستال ، جو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے ٹھہرے ہیں کا کہنا تھا کہ فلسطین میں کم از کم دو دہائیوں سے کٹھ پتلی انتظامیہ نے اسرائیلی مفادات کا تحفظ کیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ اسرائیلی کو بربریت کرنے کی آزادی مل گئی-

    بلال ایلاستال کا کہنا تھا کہ فلسطینی مایوس نہیں ہیں بلکہ اپنے بچوں کو آزادی دلانے اور اسرائیل سے اپنی زمینیں واپس لینے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، اسرائیل دہشتگرد ملک ہے جو انسانی حقوق کو بھی روندتے ہوئے بربریت سے باز نہیں آتا،-

    پاکستان سے متعلق فلسطینی کیا سوچتے ہیں اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فلسطینی سمجھتے ہیں کہ پاکستان ان کی پشت پر ہے، وہ پاکستان سے محبت رکھتے ہیں اور انہیں علم ہے کہ پاکستان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا ہے-

    مقبوضہ جموں کشمیر سے جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے نوجوان عمر بٹ کا کہنا تھا کہ کشمیرکے اندر بھارتی غاصبانہ قبضے کے بعد سے آج تک ہر گھر کی ایک نہیں بے شمار درد بھری کہانیاں ہیں، ہزاروں آدھی بیوائیں اپنی شوہروں کی خبر تک جاننے سے محروم ہیں، پیلٹ گن سے ہزاروں بچے ، جوان اور بوڑھے بینائی کھوچکے ہیں، مگر جذبہ حریت سرد نہیں ہوا-

    سیدہ آسیہ اندرابی کے بھانجے ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی جدوجہد حق خودارادیت کیلئے ہے، پاکستان کا نام لے کر کشمیری اپنی جان دے رہے ہیں، پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی واضح کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کیلئے عملی اقدامات کی جانب آنا ہوگا-

    نوجوان صحافی رضی طاہر کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کشمیر و فلسطین کیلئے بے چین ہیں ، وہ ہمیشہ اپنے حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں-

    ڈاکٹر عبداللہ خلیل کا کہنا تھا کہ مسلم امہ کے اتحاد کے بغیر مقبوضہ فلسطین و کشمیر کا حل ممکن نہیں ہے، میڈیا فورم سے محمد عدنان اسحاق، شمس حسین فاروقی، محمد ابوبکر صدیق، محمد آصف سیف نے بھی گفتگو کی اور امید ظاہر کی کہ امت مسلمہ کے نوجوان فلسطین اور کشمیر کیلئے سفارت کاری کریں گے اور مظلوموں کی آواز بنیں گے۔

  • بجٹ ..قوم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    بجٹ ..قوم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    بجٹ ..قوم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    بجٹ پاکستان تحریک انصاف کا تو امتحان ہے ہی ۔ مگر اس قوم کے لیے بھی ایک امتحان ہے ۔

    ۔ یہ تو کل قومی اسمبلی کے ایوان سے معلوم ہوجائے گا کہ غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں مزید کتنا اضافہ ہوگا ۔ کل 22کروڑ پاکستانیوں کو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ اس
    8000ارب روپے کے بجٹ میں امراء کی ناز برداری کے لئے مزید کیا کیا کچھ ہے۔کیونکہ عوام تو پہلے سے ہی مشکل حالات کا شکار تھے آئندہ بھی اچھے کی کوئی امید نہیں ہے۔۔ کیونکہ جب وزیر خزانہ شوکت ترین یہ کہتے ہیں کہ چینی کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 58 فیصد بڑھی اور پاکستان میں 20 فیصد قیمت میں اضافہ ہوا، تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ وہ شوگر مافیا کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں نہ کہ عوام کا ۔

    ۔ شوکت ترین نے توآج یہ بڑھک مار دی ہے کہ آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے کہ ہم تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ ہم اور ذرائع سے ریونیو بڑھائیں گے۔ پر میں آپکو بڑی تسلی سے اور تصدیق سے بتا رہا ہوں یہ بیان دل کو بہلانے کے لیے تو بہت اچھا ہے ۔ مگر اصل حقیقت یہ نہیں ہے ۔ ۔ کیسا عجیب نظام ہے کہ حکومت نئی آٹو پالیسی متعارف کرنے سے پہلے تو آٹو انڈسٹری کے تمام مافیاز سے مشاورت کرتی ہے ۔ ایسا ہی شوگر مافیا کے ساتھ کرتی ہے ۔ آٹا مافیا ، ادویات مافیا ۔ جس بھی مافیا کا نام لیں اس کی مرضی کے بغیر نہ تو کوئی پالیسی آتی ہے نہ ہی کوئی قانون بنتا ہے ۔ مگر جن کے ووٹ لے کر یہ آج پروٹوکرل والی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے اور اتراتے پھرتے ہیں ۔ ان ووٹروں کے مفادات کا بالکل خیال نہیں رکھتے ۔ نہ ہی ان کے مستقبل کے فیصلے کرتے ہوئے ان سے مشاورت کرتے ہیں ۔ ۔ اربوں روپے مالیت کا بلاواسطہ ٹیکس ایک بار پھر غریب عوام پر عائد کیا جائے گا۔ تباہی سرکار مہنگائی، بےروزگاری، غربت کاذمہ دار آئی ایم ایف کو ٹھہرا رہی ہے۔ پر یہ سب کچھ بدترین گورننس کو چھپانے کا ڈرامہ ہے ۔ 90 دن میں نیا پاکستان بنانے والوں کو 1000 دن ہو گئے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان۔۔ سرکار اب بجٹ اجلاس میں مشکوک اعداد و شمار پیش کرےگی۔۔ کیونکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی منتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ بجٹ ہم اپنی مرضی سے پیش کریں گے۔ دراصل وزیر خزانہ شوکت ترین اور آئی ایم ایف کے نمائندوں کے مابین مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے بجٹ تقریباً مسترد کر دیا گیا ہے۔ اب وزیراعظم صاحب اگلے ہفتے آئی ایم ایف کے صدر سے میٹنگ کریں گے۔

    ۔ حقیقت میں حکومت نے عوام کو دکھ کے علاوہ کچھ نہیں دیا ہے ۔ ملک میں بجلی ہے نہیں ہے ۔ ریٹ بڑھا دیئے گئے ہیں ۔ فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس ڈیزل پر چلائے جا رہے ہیں۔
    سعودی عرب اور کویت بھی ڈیزل کے پلانٹ نہیں چلاتے لیکن پاکستان میں چل رہے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں اتنی مہنگی بجلی بنائی جا رہی ہے ۔ گردشی قرضہ 150 فیصد بڑھ گیا ہے ۔ عوام آج بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں۔ سکولوں میں بچے بے ہوش ہو رہے ہیں۔ وزارت توانائی میں ساتویں وزیر مقرر کئے جاچکے ہیں۔ اب اس حکومت کو نااہل نہ کہیں تو کیا کہیں ۔۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی منظوری کے بغیر پیش کر کے عوام کی نظروں میں ہیرو بننے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن یاد رہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کی اقساط کے حصول کے لیے پاکستان کو منی بجٹ پیش کرنا پڑسکتا ہے۔ پھر عوام کو بتایا جائے گا کہ ہم تو آپ کی بہتری چاہتے ہیں، سارا قصور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کا ہے۔ وہی ملک میں مہنگائی کا ذمہ دار ہے۔۔ اس وقت فرٹیلائزر پر سیلز ٹیکس دو فیصد ہے۔ اسے بڑھا کر دس فیصد کر دیا جائے جس سے 32 ارب روپے اضافی ٹیکس اکٹھا ہو گا لیکن اس سے عام آدمی کے لیے خوراک مزید مہنگی ہو جائے گی یعنی حکومت جو اگلے سال مہنگائی کی شرح آٹھ فیصد تک لانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ سب ڈھکوسلا ہے ۔اس کے علاوہ rude oil کی در آمد پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔ جس سے ایک اندازے کے مطابق 85 بلین روپے ٹیکس اکٹھا ہو سکے گا۔ اس سے ہوگا کیا تیل مہنگا ہوگا ۔ اور تیل مہنگا ہونے سے سب کو پتہ ہے کہ مہنگائی مزید بڑھے گی ۔

    ۔ ایک اور غریبوں کے لیے جو فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے تجویز دی ہے کہ بینکوں سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی جائے جس سے تقریباً دو ارب روپے اضافی ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے گا۔ اس سے ہوگا یہ کہ جو غریب ، بزرگ ، بیوائیں ۔ قومی بچت کے بینکوں سے کچھ منافع کما کر گزر بسر کر رہے ہیں۔ ان کے حالات مزید تنگ ہوجائیں گے ۔

    ۔ پھر ایک نیپرا آرڈیننس ہے جس کو پارلیمنٹ سے پاس کرانے کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے زور دیا جا رہا ہے ۔ اس آرڈیننس کے تحت اپریل 2021ء سے جون 2023ء تک پانچ اعشاریہ پینسٹھ روپے فی یونٹ ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا جس سے 884 بلین روپے صارفین کی جیبوں سے نکالنے کا پلان ہے ۔ ۔ حکومت کا اس سلسلے میں موقف ہے کہ یہ اضافہ اس صورت میں کیا جائے گا جب حکومت سستی بجلی پیدا کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام ہو جائے گی۔ پر یہاں پر ایک سوال ہے کہ جب یہ حکومت کسی بھی سیکٹر میں کوئی کارکردگی نہیں دیکھا پائی تو یہاں کیا تیر مار لینا ہے ۔ تو سمجھیں یہ آپکو دینا ہی ہوگا ۔ ۔ وزارتِ خزانہ اور آئی ایم ایف کی چھٹی رِیویو میٹنگ ہونی ہے جس میں پاکستان کو مزید ایک بلین ڈالر قسط دینے پر غور کیا جائے گا۔ تو یاد رہے کہ نیپرا آرڈیننس کی منظوری، قرضوں کے حجم میں کمی اور ٹیکسز میں اضافے کے وعدوں کی تکمیل کے بغیر ایک ارب ڈالر قسط ملنا ناممکن ہے۔

    ۔ حکومت 4000 ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا بڑا کارنامہ انجام دینے کا اعلان تو کرچکی ہے۔ جب کہ ٹیکس کا 80 فیصد indirect taxation سے وصول کیا جاتا ہے اور direct taxation 20 فیصد سے بھی کم وصول ہوتی ہے۔ جاگیرداروں، بڑے سرمایہ داروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں سے دولت ٹیکس اور ان کے منافع پر ٹیکس نہیں وصولا جاتا۔ بلکہ عوام کی ہر ضرورت اور خورونوش کی اشیا پر ٹیکس عائد کردیا جاتا ہے۔۔ جب اشیا ضرورت کی فیکٹریوں کی پیداوار پر ٹیکس لگے گا تو فیکٹری مالکان اشیا کی قیمت بڑھا دیں گے۔ پھر ہول سیلرز بھی اس کی قیمت بڑھائے گا اور پرچون فروش بھی قیمت میں اضافہ کرے گا۔ آخر کار ان ٹیکسوں کا تمام تر بوجھ عوام کے کاندھوں پر آئے گا۔ اس طرح سے حکومت کا یہ کہنا کہ عوام کے استعمال کی اشیا پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے۔ سب جھوٹ ، سب دھوکہ ، سب ایک فراڈ ہے ۔۔ اب سب پی ٹی آئی والے مجھے طعنے دیں گے ۔ ٹویٹر ، فیس بک ، یوٹیوب پر برا بھلا کہیں گے ۔ مگر میں بتاؤں کہ دور چاہے پیپلز پارٹی کا ہو یا ن لیگ یا پی ٹی آئی کا میرا کام ہے اپنےviewers کو حق وسچ بتانا ۔ ہاں جب جب یہ حکومت اچھا کام کرے گی وہ بھی بتاؤں گا مگر جب یہ کام ٹھیک نہیں کریں گے تو میں ان کو بھی exposeکروں گا کیونکہ مجھے ہے ۔۔۔ حکم اذان ۔۔۔

  • مر جائیں ..پر گھبرانا نہیں، تحریر: نوید شیخ

    مر جائیں ..پر گھبرانا نہیں، تحریر: نوید شیخ

    مر جائیں ..پر گھبرانا نہیں، تحریر: نوید شیخ

    ثابت ہوچکا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کو کسی طرح بھی عوامی اور انقلابی نہیں کہا جاسکتا ۔

    ۔ خان صاحب اقتدار میں آنے سے پہلے ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ right person for the right job مگر اب ہر جگہ صرف ایک مافیا ہی کو مواقعدیا جا رہا ہے ۔ ایک مافیا کو ہٹا کر دوبارہ پھر موقع ہی مافیا کو ملتا ہے ۔ ۔ دراصل اس ملک میں اشرافیہ کا ایک چھوٹا سا طبقہ سیاست اور حکومت میں آتا ہے اور اربوں روپوں کی لوٹ مار کرتا رہتا ہے۔۔ سب جانتے ہیں ۔ کہ اس حکومت میں سب اچھا نہیں ہے اور عوام سے کرپشن کے خاتمے کے جووعدے کیے تھے ابھی تک یہ حکومت ان پر پورا اترنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو وزیر اعظم پہلے بھی کہا کرتے تھے اب بھی روزانہ کسی نہ کسی انداز میں کہتے ہیں کہ حکمران کرپٹ ہوں تو ملک دیوالیہ ہوجاتے ہیں۔ سربراہان ریاست اور ان کے وزراء بدعنوان ہوتے ہیں تو ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ جب نچلی سطح کے حکام رشوت لیتے ہیں تو اس سے عام شہریوں کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ عمران خان تو اس سلسلے میں امریکی صدر کے ایک اقتباس کا حوالہ بھی دے چکے ہیں کہ اسلوب حکمرانی میں اور کرپشن کے تدارک کے لیے بد عنوان عناصر کو کٹہرے میں لانا پڑتا ہے۔ بڑی اچھی بات ہے مگر صورتحال یہ ہے کہ ان تین سالوں میں اس معاملے میں بہتری نہیں ہوئی پر اس سلسلے میں مزید ابتری جاری ہے ۔

    ۔ دیکھا جائے تو موجودہ حکومتی سیٹ اپ کا تعلق بھی اشرافیہ سے ہے اور ایک مافیا لوٹ مار کر رہا ہے۔ کبھی چینی مافیا ، آٹا مافیا اور کبھی پلاٹوں کی خرید و فروخت کی آڑ میں عوام کا پیسہ ہڑپ کرنے والا مافیا عوام پر مسلط ہو چکا ہے۔ راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل سب کے سامنے ہے اور ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ دیکھا جائے تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ سرکاری محکموں میں کرپشن اور رشوت میں اضافہ ہوا ہے۔

    ۔ اب وزیراعظم کے لاشعور میں یہ بات چپک گئی ہے کہ حکمرانوں کی کرپشن ملک کی بدحالی کا اصل سبب بنتی ہے۔ مگر جب بھی کبھی ان کے کسی وزیر یا مشیر پر الزام لگتا ہے تو بس دیکھاوا کے لیے ان کی وزارت بدل دیتے ہیں ۔

    ۔ مولانا مودودی کا مشہور جملہ ہے ۔ غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں۔ درست بات ہے ۔ کیونکہ ایک غلطی دوسری کو جنم دیتی ہے اور اس سے تیسری غلطی پھوٹتی ہے۔ اسی لئے سیانوں نے یہ جملہ تخلیق کیا کہ غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔ پر آپ دیکھیں عمران خان ایک کے بعد ایک موقع دے دیتے ہیں اپنی ٹیم کو ۔ اب اگر ایک وزیر ایک وزارت میں پرفارم نہیں کرسکا تو کیسے ممکن ہے دوسری میں پرفارمنس دے ۔

    ۔ اس وقت عوامی میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے اور پڑھے لکھے لوگ موجودہ سیٹ اپ کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں کہ نہ ان کے پاس نوکری ہے نہ ہی ان کو اپنا مستقبل تابناک دیکھائی دیتا ہے ۔

    ۔ پر وزیر اعظم تواپنی موجودہ طرز حکمرانی کے باوجود اس قدر پر امید ہیں کہ اگلی حکومت بنا کر پاکستان کو تیزی سے اوپر لے جانے کی بات کر رہے ہیں ۔

    ۔ عمران خان نے ایک اور دلچسپ بات کہی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد نظام بدلنے کی سب سے بڑی جدوجہد وہ کر رہے ہیں۔ یہ کون سی جدوجہد ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ ۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سا نظام لانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ کبھی چین یا امریکہ کی۔ کبھی وہ ترکی یا ملائیشیا کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اور کبھی scandinavian ملکوں کی فلاحی ریاستوں کا ذکر کرتے ہیں۔

    ۔ ریاستِ مدینہ کی بات کی جائے تو اس میں امیرالمومنین حضرت عمرؓ نے اپنے کندھے پر اناج کی بوری رکھ کر اُس بیوہ کے گھر پہنچائی جس کے بچے بھوکے تھے لیکن پاکستانی ریاستِ مدینہ کے سربراہ کے پاس اناج کی بجائے صرف ایک جملہ ہے ۔
    ’’گھبرانا نہیں‘‘

    ۔ 100 دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے کرنے والوں نے ہزار دِن گزار دیئے لیکن سبق پھر وہی ہے ’’گھبرانا نہیں‘‘۔ مفلسوں کی معیشت پیٹ سے شروع ہو کر پیٹ پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ آپ اُنہیں growth rate جیسے چکر دینے کی بجائے روٹی دے دیں وہ آپ کا گُن گانے لگیں گے۔ اِس وقت مزدور سڑکوں پر، کسان سڑکوں پر، کلرک سڑکوں پر، اُستاد سڑکوں پر،
    پینشنر سڑکوں پر، ڈاکٹر سڑکوں پر اور آپ اُنہیں growth rate کا سبق رٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا آپ کو خود بھی ’’ککھ‘‘ پتہ نہیں۔

    ۔ زمینی سفر پر آگے پیچھے پروٹوکول گاڑیوں کی طویل قطاریں اب بھی نظر آتی ہیں ۔ چاہے وزیر اعظم ہوں ، وزیر ہوں یا مشیر ۔ ابھی تازہ تازہ وزیر مملکت فرخ حبیب کے پروٹوکول کی ٹک ٹاک ویڈیو وائرل ہوئی ہے ۔ یاد کروادوں عمران خان نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے فرمایا تھا کہ ہالینڈ کا وزیرِاعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے۔ وہ بھی سائیکل پر ہی وزیرِاعظم ہاؤس جایا کریں گے لیکن گزشتہ ہزار دنوں میں اِس کی نوبت نہیں آسکی ہے ۔

    ۔ اب حکومت گیارہ جون کو بجٹ پیش کر رہی ہے۔ اِس بجٹ کے بعد سیاسی جماعتیں 2023ء کے عام انتخابات میں مصروف ہو جائیںگی۔ اگر حکومت نے عوام کی اشک شوئی کے لیے کوئی حربہ استعمال کرنا ہے تو اِسی بجٹ میں کر سکتی ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف کہاں سے اور کیسے دے گی۔ خزانہ خالی ہے ۔ آئی ایم ایف کا دباؤ الگ ہے اور کہیں سے بھی پیسے ملنے کے امکانات معدوم ہیں ۔ ایسے میں اگر تحریکِ انصاف کے چوتھے وزیرِ خزانہ اُلٹے بھی لٹک جائیں تو ’’عوامی بجٹ‘‘ نہیں بنا سکتے۔ اِس لیے اُمید ہے کہ بجٹ کے بعد وزیرِخزانہ شوکت ترین کی بھی چھُٹی ہو جائے گی۔ اور ملبہ ان پر ڈالا جائے گا کہ یہ معیشت کو نہیں چلا سکے ۔ مہنگائی کی وجہ شوکت ترین ہیں ۔۔ تحریک انصاف نے اپنے تین سالہ دَورِحکومت میں اتنے منجن بیچے ہیں کہ اُن کا نام گینیزبُک میں آنا چاہیے۔۔ پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کا منجن، بجلی دو روپے یونٹ اور پٹرول 45
    روپے لٹر کرنے کا منجن، باہر پڑے 200 ارب ڈالر واپس لا کر قرض داروں کے مُنہ پر مارنے اور بھیک نہ مانگنے کا منجن، آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر خودکُشی کرنے ، پروٹوکول نہ لینے، چھوٹی کابینہ رکھنے، گورنر ہاؤسز پر بلڈوزر چلانے اور وزیرِاعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا منجن، نئی فیکٹریاں لگانے اور نیا پاکستان بنانے کا منجن، غریب کو روزگار فراہم کرنے اور فری علاج کا منجن۔ سب سے بڑھ کر این آر او نہیں دوںگا اور چوروں کو نہیں چھوڑوں گا کا منجن جس نے قوم کے مُنہ میں ’’چھالے‘‘ ڈال دیئے ہیں۔ کیونکہ اب کرپشن کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ چکی ہے۔

    ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘
    کے دَورِحکومت میں ہر روز کرپشن کا کوئی نیا سکینڈل۔ مالم جبّہ اور بی آر ٹی سکینڈلز ماضی کے دھندلکوں میں گُم ہو چکے ہیں ۔ ایک ارب درخت لگانے کے دعوے پر چیف جسٹس آف
    پاکستان جسٹس گلزار احمدنے فرمایا تھا کہ اُنہیں تو پشاور میں درخت نہیں صرف گردوغبار نظر آیا۔

    ۔ بات اب اس حکومت کے کَٹوں، وَچھوں، انڈوں اور مُرغیوں جیسے منصوبوں سے کہیں آگے نکل چکی ہے ۔ اب اس حکومت کے گرد گھیرا ڈالے منصوبہ ساز اربوں کھربوں کے ٹیکے لگا رہے ہیں ۔

    ۔ سبھی جانتے ہیں کہ بجٹ کے بعد عام انتخابات کی گہماگہمی شروع ہو جائے گی۔ اگر تحریکِ انصاف کی حکومت عام انتخابات تک قائم بھی رہتی ہے تو سوال یہ ہے کہ اب عمران خان کون سا
    ’’منجن‘‘بیچیں گے

  • نازک لڑکیاں       تحریر: ماریہ ملک

    نازک لڑکیاں تحریر: ماریہ ملک

    موضوع: نازک لڑکیاں

    اسلام سے پہلے زمانۂ جہالیت میں لڑکی کی پیدائش اس قدر قبیح عیب سمجھا جاتا تھا کہ الله کی پناہ۔ لڑکیوں کو زندہ حالت میں درگور کر دیا جاتا تھا۔ لیکن اسلام نے لڑکی کو وہ عزت و تکریم عطا کی جِس کی مثال نہی ملتی۔ اسلام نے لڑکی چاہے وہ ماں ہو یا بیٹی، بیوی ہو یا بہن، کو اہمیت اور تکریم کی جگہہ پر بٹھایا۔

    والدین کے لئے بیٹی کو رحمت، شوہر کے لئے بیوی کو عزت کا لباس، بھائیوں کے لئے بہن دعاؤں کا سایہ اور اولاد کے لئے ماں الله کی رِضا اور جنت میں داخلے کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے علاوہ کسی مذہب میں خواتین کو اس طرح کے مقامات اور شرف سے نہی نوازا گیا۔

    لڑکیوں کو لے کر مختلف لوگوں کی مختلف سوچ ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ لڑکیاں خود غرض اور لالچی ہوتی ہیں۔ لڑکیوں کے بارے میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ وہ باتونی ہوتی ہیں اور اپنا سارا وقت گاسپ میں ضائع کر دیتی ہیں
    یوں لڑکیوں کے حوالے سے مختلف تاثرات قائم کیے جاتے ہیں اِن تاثرات میں کسی حد تک سچائی ہو بھی سکتی ہے لیکن یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سب لڑکیاں ایسی نہی ہوتیں۔ بلکل اُسی طرح جیسے سب مرد سخت طبیعت اور خواتین پر ظلم کرنے والے نہی ہوتے۔

    ایک کامیاب شادی شدہ زندگی کے لئے ضروری ہے کہ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کی خصوصیات اور کمزوریوں سے واقف ہوں اور خصوصیات و کمزوریوں پر مشتمل ان دونوں عوامل کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کی خصوصیات سے فائدہ اور کمزوریوں پر پردہ ڈالتے ہوئے اپنی زندگی کو حسین اور راحت و محبت سے گزاریں۔ دنیا میں کوئی بھی انسان حتمی طور پر کامل و اکمل نہی۔ انسان خوبیوں اور خامیوں کا مرکب ہے۔ چنانچہ مرد و زن کو چاہئیے کہ خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ ایک دوسرے کے لئیے محبت کا ہاتھ بڑھاتے رہیں اور خامیوں کو اس نظریے کے ساتھ در گزر کرتے رہیں کہ ہماری خامیاں بھی تو قابلِ گرفت ہو سکتی ہیں لیکن اِس کے باوجود ہم لوگوں سے توقع کرتے ہیں کہ ہماری غلطیوں سے درگزر کیا جائے۔

    آئیے اب لڑکیوں کی چند اُن خصوصیات کا ذکر کرتے ہیں جو بڑی حد تک لڑکیوں کی عادات میں شامل ہوتی ہیں۔

    معصومیت
    لڑکی قدرتی طور پر موصومیت جیسے خوبصورت وصف سے مزین ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو دِل پر لے لیتی ہے اور ذرا برابر خوف، درد یا خوشی اُس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سبب بن جایا کرتی ہیں۔ لال بیگ جیسے چھوٹے کیڑے سے ڈر کر آسمان سر پہ اُٹھا لینا بھی لڑکی کی معصومیت کی ایک نشانی ہے۔

    حساسیت
    لڑکیاں کافی چیزیں جلدی دل پے لے لیتی ہیں۔ حساس ہونے کی وجہ سے کسی بھی بھلی چیز سے انہیں لگاؤ بھی جلدی ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جلدی مایوس ہو جانا، جلد ناراض ہو جانا اور پھر جلد مان بھی جانا لڑکیوں کے حساس دل کی ایک بہترین مثال ہے۔

    چِٹ چاٹ
    گاسپنگ اور طویل گفتگو کی نشستیں بھی لڑکیوں کا ایک قدرتی خاصہ ہے۔ (یقیناً اس گفتگو میں غیبت، چغلی اور بہتان تراشی جیسے قبیح افعال سے جس حد تک ممکن ہو بچنا چاہئیے۔) لڑکیوں کو یہ بات پسند ہوتی ہے کہ ان کا کوئی دوست یا محبت کرنے والا بغیر کسی وجہ کے ان سے لمبی اور پیاری بات کرے۔ اور اُن کی کہی بات کو پوری دلچسپی سےسنے اور اُس کو اہم جانے۔

    تعریف سننا
    بلا شُبہ یہ بات ہر شخص بلا تفریقِ مرد و زن پاند کرتا ہے اُس کی تعریف کی جائے۔ لیکن لڑکیوں میں یہ خصوصیت کثرت سے پائی جاتی ہے۔ اِس کی اصل وجہ لڑکیوں میں اس بات کا خوبصورت احساس ہے کہ وہ آپ کے لئے ایک خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ اور وہ آپکی توجہ کی حامل ہے۔

    بناؤ سنگھار
    لڑکیوں کو یہ بات پسند ہے کہ وہ بن سنور کر رہیں۔ اِس کے لئے ضروری نہی کہ ہر لڑکی اجکل کے مروجہ میک اپ کی ہی شوقین ہو بلکہ ایک بہت بڑی تعداد سادگی میں بھی خود کا بنا سنوار کے رکھنے کا ہُنر جانتی ہیں۔ لیکن اِس بات پر کوئی دو رائے نہیں کہ ہر لڑکی کو اچھا لگنے کا شوق ہوتا ہے۔

    قوت برداشت
    جہاں لڑکیاں نازک اور حساس دِل رکھنے والی ہوتی ہیں وہیں پر کڑے سے کڑا وقت پڑنے پر پورے برداشت اور صبر کا مظاہرہ بھی کرتی ہیں بلکہ کئی موقعوں پر جہاں مرد کا صبر جواب دے جاتا ہے وہاں خواتین صبر و استقلال کا استعارہ ثابت ہوتی ہیں۔

    اچھائیاں اور برائیاں ہر کسی میں ہوتی ہیں۔ لیکن ایک اسلامی معاشرے میں مرد اور عورت کو اپنی اپنی جگہہ ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ دونوں ایک اچھے اور صحت مند معاشرے کی اہم ترین اکائیاں ہیں۔ اگر دونوں ایک دوسرے کی عادات اور قدرتی خواص کو سمجھنے اور خامیوں خوبیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کریں تو یقیناً اس کے نتیجے میں ایک مضبوط اور صحتمند معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔

  • حادثے کا اصل ذمہ دار کون ؟    تحریر: احسن ننکانوی

    حادثے کا اصل ذمہ دار کون ؟ تحریر: احسن ننکانوی

    حادثے کا اصل ذمہ دار کون ؟؟-

    سندھ میں پیر کے روز ایک ٹرین حادثہ ہوا ملت ایکسپریس اور سر سید ایکسپریس کا تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا ٹرین کی 3 بوگیاں ٹرین سے الگ ہو کر دوسرے ٹریک پر گر گئیں۔ جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا اب میرا پہلا سوال یہ ہے کہ اس جدید دور میں بھی ایسے حادثات روز کا معمول بن گئے ہیں جب ٹرین سے اس کی بوگیاں الگ ہو کر گریں تو کیا ڈرائیور کو معلوم نہیں ہوا ڈرائیور یا کوئی دوسرا فرد کال کرکے نہیں بتا سکتا تھا کہ ٹرین کی بوگیاں الگ ہو کر دوسرے ٹریک پر گر گئی ہیں اور دوسری طرف سے آنے والی ٹرین کو مطلع کیا جا سکتا پھر کیوں ایسا ہوا حالانکہ جب اتنی بوگیاں الگ ہو کر گریں تو کوئی جھٹکا سا لگا ہوگا یا کوئی اور چیز تو محسوس ہوئی ہو گی اور دوسری طرف سے آنے والی ٹرین کو مطلع کر دیا جاتا تو شاید اتنے بڑے سانحے سے بچا جاتا موجودہ حکومت جب اپوزیشن میں تھی تو وہ پچھلی حکومت کو اکثر کہا کرتی تھی کہ جب کوئی ٹرین حادثہ ہو تو وزیر کو استعفی دینا چاہیے یا کوئی اور حادثہ ہو جائے تو ان کا بس یہی مقصد ہوتا تھا کہ ان کو استعفی دینا چاہیے اب جب یہ خود اقتدار میں آگئے ہیں تو ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کیا ہماری عوام کا خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں ایک صاحب فرما رہے تھے کہ اس حادثے کا ذمہ دار پچھلی حکومت ہے مجھے اس کی یہ بات بڑی مضحکہ خیز لگی کے حکومت کو تین سال ہو گئے ہیں لیکن اب بھی وہ ہر کام پچھلی حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کو چاہئے کہ اگر ان کی حکومت میں کوئی کمی ہے تو اس کو دیکھیں اور درست کریں کب تک وہ پچھلی حکومتوں پر الزام لگاتے رہیں گے۔ اور محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ فرما رہی تھی کہ اللہ کے فضل سے یہ سال میں پہلا واقعہ ہے۔ ریلوے حکام ایک دوسرے کو ذمہ ٹھہرا رہے ہیں چیف انجینئر کا 4 جون کو جو انہوں نے ڈپٹی سپریڈنٹ کو خط لکھا وہ بھی سامنے آ گیا جس میں انھوں نے لکھا کہ آپ کو بجٹ سے زیادہ تمام وسائل اور مشینری فراہم کر دی گئی ہے اس کا کام جلد از جلد شروع کرے کیونکہ یہ بہت ہی بری حالت میں ہے اگر کام جلد از جلد نہ شروع کیا گیا تو کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا ہے تو جی بڑا حادثہ ہو گیا کام بھی شروع ہو جائے گا لیکن جو لوگ مر گئے ہیں ان کا ذمہ دار کون جو بچے یتیم ہو گئے ہیں ان کا کیا ریلوے حکام ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں حکومت پچھلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے میرے خیال سے ان کو مل کر انگریز جس نے یہ منصوبہ بنایا جس نے یہ پروجیکٹ شروع کیا اس کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے کیونکہ وہ ایک اچھا کام کر گیا

    ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮔﻠﺴﺘﺎﮞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺍﻟﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ
    ﮨﺮ ﺷﺎﺥ ﭘﮧ ﺍُﻟﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡِ ﮔﻠﺴﺘﺎﮞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ
    ﺷﻮﻕ ﺑﮩﺮﺍﺋﭽﯽ

    تحریر: احسن ننکانوی
    Ahsannankanvi@gmail.com

  • ناسا 20 سال سے زائد عرصہ میں پہلی بار سب سے بڑے چاند گینیمڈ کی انتہائی قریبی تصویر لینے میں کامیاب

    ناسا 20 سال سے زائد عرصہ میں پہلی بار سب سے بڑے چاند گینیمڈ کی انتہائی قریبی تصویر لینے میں کامیاب

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے جونو مشن نے جوپیٹر (مشتری) کے چار چاندوں میں سے ایک گینیمیڈ کی تصاویر بھیجی ہیں۔

    باغی ٹی وی : مشتری نظام شمسی کا سب سے بڑا قدرتی سیارچہ اور سب سے بڑا چاند ہے یہ تصاویر تقریباً ایک ہزار کلو میٹر کے فاصلے سے لی گئی ہیں گذشتہ 20 سال سے زیادہ عرصے کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی خلائی جہاز گینیمیڈ کے اتنا قریب پہنچ پایا ہے۔


    جونو مشن کے لیے یہ ایک بہترین موقع تھا اس کے مقاصد میں مشتری پر تحقیق شامل ہےجوپیٹر آئسی مون ایکسپلورر یا جوس مشتری کے دو گیلیلیئن چاند (كاليستو اور یوروپا) کے قریب سے گزرے گا اس کے بعد یہ گینیمیڈ کے مدار میں داخل ہوجائے گا۔ یہ مشن سنہ 2032 میں متوقع ہے۔

    جونو سے موصول ہونے والی تصاویر میں انتہائی باریکی سے اس بڑے چاند کو دکھایا گیا ہے۔ ان تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گینیمیڈ کی سطح پر شگاف ہیں۔

    ان تصاویر کا موازنہ ناسا کے مشن گلیلیو (1995 سے 2003) اور وائجر (1979) کی تصاویر سے کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ وقت کے ساتھ گینیمیڈ میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

    سان انٹونیو میں واقع ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے جونو کے مرکزی محقق سکاٹ بولٹن کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ ایک نسل کے دوران یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی خلائی جہاز اس عظیم چاند کے اتنا قریب پہنچا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم سائنسی نتائج اخذ کرنے سے قبل اپنا وقت لیں گے۔ لیکن تب تک ہم خلا میں موجود اس چیز پر تعجب کرسکتے ہیں

    گینیمیڈ، کالستو اور یوروپا کے متعلق حیران کُن بات یہ ہے کہ ان سب میں ممکنہ طور پر اپنی برفیلی سطح کے نیچے پانی کے سمندر ہیں۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ وہ جونو کی جانب سے لی گئی گینیمیڈ کی رنگین تصاویر جلد جاری کریں گے۔

  • چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    چین میں ہاتھیوں کا ایک گروہ گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب چلے جا رہا ہے ہاتھیوں کے گشت کرتے اس جھنڈ نے پورے چین میں شہرت حاصل کر لی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق ہاتھیوں کے اس جھنڈ کو ژیانگ کے قصبے کے قریب چین میںایک جنگل میں سوتے ہوئے دیکھے گئے کیونکہ اس علاقے میں تیز بارشیں ہوئی تھیں اور ان بارشوں کی وجہ سے ان کے سفر کرنے کی رفتار سست پڑ گئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق یہ ہاتھی گذشتہ 15 ماہ سے سفر کر رہے ہیں اور اپنے مخصوص علاقے سے 500 کلومیٹر کا سفر طے کر چکے ہیں۔

    ادھر چین کے حکام ان ہاتھیوں کے سفر پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جو بہت سے جنگلات، کھیتوں،شہروں اور دیہاتوں سے گزرتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ بی بی سی

    بی بی سی نے سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کے غوالے سے بتایا کہ حکومت نے ان ہاتھیوں پر نظر رکھنے کے لیے 14 ڈرون اور 500 افراد تعینات کیے ہیں تاکہ ان ہاتھوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے یہاں تک کہ ان ہاتھیوں کو جنوب مغرب کی طرف جانے دینے کے لیے سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ بی بی سی

    ماضی میں ان ہاتھیوں کا رخ موڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں لیکن لگتا ہے کہ اب یہ ہاتھی واپس اپنے علاقے کی جانب رخ کر رہے ہیں جو کہ چین کے جنوب مغربی یونان صوبےمیں مینگیانگزی کے نیچر ریزور میں قائم ہے۔

    اس جھنڈ میں بچوں سمیت 15 ہاتھی ہیں یونان صوبے کے آگ بجھانے والے ادارے کے اہلکاروں کے مطابق ایک نر ہاتھی جھنڈ سے الگ ہو کر چار کلو میٹر دور موجود ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ان جانوروں نے لاکھوں ڈالر کی مالیت کی کھڑی فصلیں اپنی خوراک بنا لی ہیں۔ اُنھوں نے اپنے راستے میں عمارتوں کو نقصان بھی پہنچایا اور کئی جگہوں پر گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں میں اپنی سونڈیں ڈالیں۔

    یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان ہاتھیوں نے اپنے علاقے کو چھوڑ کر سفر کیوں اختیار کیا ہے اور اس معاملے میں پوری دنیا نے دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔

    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی ناتجربہ کار ہاتھی اس پورے جھنڈ کو لے کر نکل پڑا ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہاتھی اب نیا علاقہ ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ سائنسدانوں کا کہنا ہے اس سے پہلے ہاتھیوں نے کبھی اتنا طویل سفر طے نہیں کیا ہے۔

  • سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    رومانیہ: سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ آج سے تقریباً ایک کروڑ سال پہلے زمین پرایک اتنی بڑی جھیل بھی تھی جس کا رقبہ موجودہ بحیرہ احمر زیادہ تھا۔

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق سائنسدان اس جھیل کو ’’پیراٹیتھیس سی میگا لیک‘‘ کے نام سے جانتے ہیں جو غالباً زمین کی تاریخ میں سب سے بڑی جھیل رہی ہوگی۔

    تازہ تحقیق میں برازیل، روس، رومانیہ، ہالینڈ اور جرمنی کے ماہرینِ ارضیات پر مشتمل ایک ٹیم نے پیراٹیتھیس (Paratethys) جھیل میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ارضیاتی شہادتیں یک جا کیں تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جھیل کے رقبے میں کمی بیشی کا اندازہ لگایا جاسکے۔

    دو نئی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ پانی کا قدیم جسم کس طرح شکل پایا اور آس پاس کی تبدیلیوں نے کس طرح ہاتھیوں ، جرافوں اور دیگر بڑے جانروں کو جنم دیا جو آج سیارے میں گھومتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سائنس میگزین

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پیراٹیتھیس جھیل کے بارے میں ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ کسی زمانے میں یہ ایک سمندر تھا جو ارضیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث باقی سمندر سے بتدریج الگ ہوگیا اور اس کے ارد گرد خشکی آگئی۔

    رپورٹ کے مطابق مرکزی کیمپس میں ساو پالو یونیورسٹی کے پیالو بحر سائنس دان ڈین پالکو اور ان کے ساتھیوں نے شہادتیں جمع کیے تمام شواہد کی روشنی میں انہیں معلوم ہوا کہ آج سے ایک کروڑ سال پہلے اس جھیل کا رقبہ سب سے زیادہ، یعنی 28 لاکھ مربع کلومیٹر تھا اور یہ (حالیہ زمانے کے) اٹلی میں ایلپس پہاڑی سلسلے سے لے کر وسط ایشیا میں قازقستان تک پھیلی ہوئی تھی۔

    دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا

    یہ وہ خطہ ہے جو آج کے بحیرہ روم سے بڑا ہے ، وہ اس ہفتے سائنسی رپورٹس میں لکھتے ہیں۔ ان کے تجزیوں میں مزید تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اس جھیل میں ایک بار 1.77 ملین مکعب کلومیٹر سے زیادہ پانی موجود تھا ، جو آج کے سب سے تازہ اور نمکین پانی کی جھیلوں کو ملا کر حجم کے 10 گنا سے بھی زیادہ ہے۔

    لیکن آب و ہوا میں ردوبدل کی وجہ سے اس جھیل نے کم سے کم چار مرتبہ اپنے 5 لاکھ سال کی زندگی میں کم سے کم چار مرتبہ سکڑنا شروع کیا اور اس سے پہلے پانی کی سطح 7 کروڑ 55 لاکھ سے 7.9 ملین سال پہلے کے درمیان 250 میٹر تک خشک گئی تھی نتیجتاً اس سے کئی چھوٹی بڑی جھیلیں بن گئیں جن کے درمیان وسیع اور خشک علاقہ موجود تھا۔ اس طرح پیراٹیتھیس جھیل کا خاتمہ ہوا۔

    اس سب سے بڑے واقعہ کے دوران ، اس جھیل نے اپنے پانی کا ایک تہائی پانی اور اس کی سطح کے دو تہائی حصے سے زیادہ کھو دیا اس نے جھیل کے وسطی طاس میں پانی کی نمکینی تہہ چھوڑی جو آج کے بحیرہ اسود کے خاکہ کو قریب سے مماثلت دیتی ہے ، اس میں تقریبا ایک تہائی نمک موجود ہے ، جو آج کے سمندر میں سمندری پانی کے برابر کی سطح پر ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ بات اس لیے بھی معقول لگتی ہے کیونکہ پیراٹیتھیس جھیل کی جگہ سے کئی طرح کی سمندری جانوروں کے رکازات (فوسلز) ملے ہیں جن میں وہیل بھی شامل ہے بعد ازاں اس کے رقبے میں (ایک جھیل کی حیثیت سے) کمی بیشی ہوتی رہی جو آج سے ایک کروڑ سال پہلے سب سے زیادہ ہوگیا۔

    فوٹو بشکریہ سائنس میگزین

    اگر آج زمین پر موجود تمام جھیلوں کا پانی یکجا کرلیا جائے، تب بھی پیراٹیتھیس جھیل کا پانی اس سے بھی دس گنا زیادہ رہا ہوگا-

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا