Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 1 ارب 30 کروڑ روپے میں فروخت ہونے والی لکڑی کی کرسی

    1 ارب 30 کروڑ روپے میں فروخت ہونے والی لکڑی کی کرسی

    ہانگ کانگ: گزشتہ دنوں ہانگ کانگ میں لکڑی کی کرسی کی نیلامی 85 لاکھ ڈالر (تقریباً 130 کروڑ پاکستانی روپے) میں ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق، اس بیش قیمت لکڑی کی کرسی کا تعلق 17 ویں صدی عیسوی کے چین سے ہے جسے چینی ’’منگ شاہی خاندان‘‘ کے کسی بادشاہ کےلیے بنایا گیا تھا۔

    یہ کرسی ہلکی پھلکی لیکن مضبوط لکڑی سے بنائی گئی ہے جبکہ اسے فولڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔اس طرح کی کرسیاں ’’چائنیز ژیاؤیی‘‘ بھی کہلاتی ہیں جو آج بھی بنائی جاتی ہیں اور مہنگے داموں میں فروخت ہوتی ہیں۔

    تاہم آج سے سیکڑوں سال پہلے کے چینی بادشاہ اور شاہی خاندان کے افراد جب شکار پر جاتے تھے تو اسی قسم کی کرسیاں ان کے سامان میں لازماً شامل ہوتی تھیں چائنیز ژیاؤیی پر کندہ کاری کا باریک اور انتہائی نفیس کام کیا جاتا تھا شکار گاہ میں پہنچنے کے بعد یہ کرسیاں کھول دی جاتی تھیں مگر اِن پر صرف اور صرف بادشاہ یا شاہی خاندان کے افراد ہی بیٹھ سکتے تھے-

    اسی بناء پر یہ ’’شاہی شکاری کرسی‘‘ بھی کہلاتی تھی جسے شاہی خاندان سے وابستگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بیجنگ کے عجائب گھر سے دسمبر 2018 میں ایسی ہی ایک اور شاہی شکاری کرسی تقریباً 40 لاکھ ڈالر (تقریباً 62 کروڑ پاکستانی روپے) میں نیلام ہوئی تھی لیکن ہانگ کانگ کے ’’کرسٹیز‘‘ نیلام گھر سے چائنیز ژیاؤیی کی حالیہ نیلامی نے سابقہ ریکارڈ کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

  • اسلام فوبیا اور ہماری ذمہ داری   تحریر: ملک ضماد

    اسلام فوبیا اور ہماری ذمہ داری تحریر: ملک ضماد

    اسلام افوبیا اور ہماری ذمہ داری

    اسلام امن، پیار، محبت کا مذہب ہے اسلام نے تمام مذاہب کو ان کے حقوق دیے ہیں اور ان کو مذہبی آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی ہے=

    آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امن، پیار، محبت کا درس دیا ہے اسلام نے تمام مذاہب کو نا صرف مذہبی آزادی دی ہے بلکہ ان کے مذہب کا تحفظ بھی کیا ہے لیکن اس کے برعکس پوری دنیا میں غیر مسلم اسلام کے خلاف ہر قسم کی مہم جوئی کا حصہ بنتے نظر آتے ہیں-
    اسرائیل ہو یا فرانس
    انڈیا ہو یا امریکہ
    کینیڈا ہو انگلینڈ
    پوری دنیا کفر اس وقت اسلام کے خلاف کھڑے نظر آتے ہیں-

    دنیا میں کسی جگہ کوئی مسلہ ہو جائے اس کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہےاسی کے برعکس دنیا میں دہشت گردی پھیلانے میں اہم کردار ادا کرنے والے ممالک کا سرے سے کوئی نام ہی نہیں ہے جن مین سر فہرست انڈیا اور اسرائیل ہیں جو اسلام کے خلاف ہر محاذ پر پیش پیش نظر آتے ہیں-

    خود کش حملوں کا آغاز بھی انڈیا سے ہوا تھا جو کہ تامل ٹائیگرز نامی انڈین تنظیم نے انڈیا کی ریاست تامل ناڈو سے شروع کیے جو کہ سری لنکا اور پھر انڈیا سے ہوتے ہوئے پوری دنیا میں پھیل گئے لیکن آج تک پوری دنیا سے کسی نے ان کا نام تک لینا گوارا نہیں کیا اس کے برعکس انڈیا میں ہونے والی ممبئی حملوں میں بغیر کسی ثبوت کے مسلم کا مام استعمال کیا گیا جس کو پوری دنیا نے بریکنگ نیوز کے طور پر چلایا-

    ابھی حال ہی میں فرانس میں مسلم خواتین کو جو پردہ مین نظر آتی اس کا زبردستی پردہ ہٹایا جاتا اور پھر اس کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پے وائرل کی جاتی جس پر بھی دنیا خاموش رہی کشمیر میں انڈین افواج مسلم آبادی میں جا کر گھروں میں گھس کر مسلم خواتین کی عزتیں لوٹ رہے ہیں دنیا کفر خاموش ہے کینیڈا میں شر پسند یہودی نے مسلم کینیڈ ین نیشنل پاکستانی خاندان کو گاڑی کے نیچے کچل کر شہید کر دیا دنیا خاموش ہے-

    یہ تو صرف دو تین واقعات ہیں اس طرح کے کئی واقعات روزمرہ کی بنیاد پے ہوتے ہیں جو میڈیا رپورٹ بھی نہیں کرتا اور نا دنیا اس پے کوئی ایکشن لیتی ہے-

    جب وہ ہی مسلم اپنے دفاع میں کسی کا ہاتھ روکنے کی کوشش کر لیں تو دنیا میں واویلے مچ جاتا ہےدنیا کی دوہری پالیسی اور اسلام کے خلاف نفرت اس وقت پوری دنیا مین واضح نظر ا رہی ہے وقت کی ضرورت ہے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا ہو کر اس پے کان کرنا چاہئے
    ان سارے معاملات کو دیکھ کر مسلمان کو اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے-

    اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور نجی زندگی میں بھی ہمیں اپنا کردار ایسا بنانا ہو گا جس سے دنیا میں ہمارا میسج امن اور پیار کا جائے
    دنیا کو بتانا ہو گا اسلام امن کا پیغام دیتا ہےاسلام کا درس ہی پیار امن محبت ہے-

  • اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے بارے میں خفیہ امریکی رپورٹ کے کچھ حصے منظر عام پر آگئے

    اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے بارے میں خفیہ امریکی رپورٹ کے کچھ حصے منظر عام پر آگئے

    امریکی میڈیا نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مختلف اداروں کے تعاون سے مرتب کی گئی اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے بارے میں نئی خفیہ رپورٹ کے کچھ حصے عوام کے سامنے پیش کردیئے ہیں یہ رپورٹ رواں ماہ کے اختتام تک امریکی کانگریس میں پیش کی جائے گی۔

    باغیٹی وی :امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے گمنام سرکاری رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ اُڑن طشتریوں یا خلائی مخلوق کے درست ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے لیکن پھر بھی یہ امکان نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ایسی خبریں واقعتاً سچی ہوں آسان الفاظ میں کہا جائے تو یہ رپورٹ ’’بے نتیجہ‘‘ ہے!

    نیویارک ٹائمز نے گمنام سینئر انتظامی عہدیداران کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ 20 سال کے دوران ’نامعلوم اُڑن اشیاء‘یعنی’اُڑن طشتریوں‘ کے ایسے 120 واقعات ریکارڈ پر آچکے ہیں جن کا امریکی فوج کے کسی خفیہ منصوبے یا خفیہ ٹیکنالوجی سے کوئی تعلق نہیں تھا، جبکہ انہیں انتہائی بلندی پر چھوڑے گئے ہیلیئم غبارے بھی قرار نہیں دیا جاسکتا تھا۔

    ان میں بعض مشاہدات کی ویڈیوز امریکی فضائیہ اور بحریہ کے ذمہ داروں نے بھی بنائی ہیں۔

    نیویارک ٹائمز نے اپنی خبر میں لکھا کہ ان تمام مشاہدات سے خلائی مخلوق یا اُڑن طشتریوں کا وجود ثابت تو نہیں ہوتا لیکن ان کی تردید بھی نہیں کی جاسکتی-

    اڑن طشتریاں زمین پر، امریکہ نے فوٹیج جاری کر دی، سنیے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    ایسا ہی ایک منظر امریکی بحریہ کے پائلٹوں نے بھی ریکارڈ کیا جس میں کچھ نامعلوم اجسام ہائپر سونک (آواز سے کم از کم پانچ گنا زیادہ) رفتار سے پرواز کرتے دیکھے گئے تھے۔ یہ اجسام کسی اُڑتے ہوئے لٹو کی طرح اپنے محور پر گھوم رہے تھے اور پھر وہ غائب ہوگئے۔

    اس طرح کے تقریباً ایک درجن واقعات ریکارڈ پر بتائے گئے ہیں۔

    ان واقعات کے پسِ پشت کسی خلائی مخلوق کا ہونا تقریباً ناممکن ہے، لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات پر نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ امریکا کے دشمنوں، بالخصوص چین اور روس کے جدید ترین آلات ہوسکتے ہیں جو ممکنہ طور پر امریکی جاسوسی میں استعمال کیے گئے ہوں گے-

    امریکی میڈیا کی خبروں میں یہ خیال بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک مذکورہ رپورٹ شاید مکمل طور پر عوام کے سامنے پیش نہ کی جائے کیونکہ اس میں بعض نکات ’’انتہائی حساس نوعیت‘‘ کے ہیں۔

    فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں کے بارے میں امریکا کی سرکاری رپورٹ میں کیا پیش کیا جائے گا، البتہ ایک بات ضرور یقینی ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے نزدیک اُڑن طشتریوں کا دکھائی دینا اب نظر انداز کرنے کے قابل معاملہ نہیں رہا-

    امریکی پائلٹ نے بھی اڑن طشری دیکھ لی

  • برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

    برف میں ہزاروں سال سے دبا خردبینی جرثومہ پھر سے زندہ ہو گیا-

    باغی ٹی وی : روس میں فزیوکیمیکل اینڈ بائیلوجی پرابلمز کے سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق برف میں ہزاروں سال سے دبا خوردبیبی جرثومہ نہ صرف پھر سے زندہ ہوگیا بلکہ اپنی نسل بھی بڑھانے لگا ہے-

    جیسے ہی سائنس دانوں نے مستقل برف (پرمافروسٹ) میں دبے اس کثیرخلوی لیکن خردبینی جان دار کو برف سے الگ کیا تو وہ زندہ ہوگیا اور نسل بڑھانے لگا سائنسدانوں کے مطابق اس سے ہم برف میں خلوی تباہ کاری سے بچنے کی نئی راہ تلاش کرسکتے ہیں اور اس سے ہم انسان بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

    اس ادارے سے وابستہ حیاتیات داں اسٹاس مالاوِن کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق مشکل سے ملنے والا ثبوت پیش کرتی ہے کہ کس طرح کثیرخلوی جاندار سیکڑوں ہزاروں سال برف میں موت جیسی خوابیدگی کے باوجود زندہ رہتے ہیں اور ان میں استحالے (میٹابولزم) کا پورا نظام بھی شروع ہوجاتا ہے۔

    ’روٹیفائر‘ نہ صرف پھر سے زندہ ہوگیا بلکہ اپنی نسل بھی بڑھانے لگا ہے-

    اس جاندار کا نام ’روٹیفائر‘ ہے جو پوری دنیا کے تالاب اور جوہڑوں میں عام پائے جاتے ہیں اگرچہ ان کی یہ خاصیت سامنے آچکی تھی لیکن ہزاروں برس تک ان کے زندہ رہنے کے ثبوت پہلی مرتبہ ملے ہیں زیرِ تجربہ جان دار آرکٹک پرمافراسٹ سے ملا ہے جہاں پہلے ہی قدیم خرد نامے مل چکے ہیں، جن میں وائرس، پودے اور زردانے بھی شامل ہیں۔

    جس جگہ سے یہ روٹیفائر ملا ہے وہاں ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جانور کم سے کم 24 ہزار سال قدیم ہے۔ زندہ ہونے کے بعد اس جانور نے غیرجنسی کلوننگ سے اپنی نسل بھی بڑھانی شروع کردی جسے ’پارتھینوجنیسس‘ کہا جاتا ہے۔

  • ن لیگ مفاہمت کی طرف جا رہی؟ تحریر، نوید شیخ

    ن لیگ مفاہمت کی طرف جا رہی؟ تحریر، نوید شیخ

    ن لیگ مفاہمت کی طرف جا رہی؟ تحریر، نوید شیخ

    یہ تو سب جانتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی ہر حکمت عملی باہمی رضا مندی سے طے ہوتی ہے جب ڈرنے ڈرانے کا وقت آتا ہے تو نواز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں اور جب ڈیل کرنی ہو، لین دین یعنی آفر آئے تو پھر محمد شہباز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ۔ شہباز شریف کی رہائی کے پیچھے تو سب ہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی پلان ہے جس کی وہ تو رازداری کر ہی رہے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے کھلم کھلا عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم کے طور ان کا نام لینا شروع کر دیا ہے ۔ اس حوالے سے اصل کہانی آگے چل کر آپکو بتاتا ہوں ۔

    ۔ ابھی آپ سیاست کے رنگ دیکھیں کہ جیسے سب جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو گلے لگا لیا ہے جب کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے لئے پی ڈی ایم کے دروازے بند کر دئیے ہیں۔

    ۔ بلاول بھٹو زرداری بھی نواز شریف اور مریم کو طعنے دے رہے ہیں مگر انھوں نے ساتھ ببانگ دہل یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی شہباز شریف کے موقف کو ہی مسلم لیگ (ن) کا
    ’’بیانیہ‘‘ سمجھتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری نے عبوری مدت کے لئے شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ ۔ اس لیے یہ قابل غور چیز ہے کہ جب سے شہباز شریف متحرک ہوئے ہیں مسلم لیگ(ن) کے جارحانہ بیانات میں کمی آ گئی ہے۔ ۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اب عمران خان شکستہ حال پی ڈی ایم سے خوفزدہ نہیں بلکہ شہباز شریف کی ’’پھرتیوں‘‘ سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے مسلم لیگ ن سے قابل قبول شخصیت شہباز شریف ہیں۔ جب کہ مسلم لیگ ن کے اندر بھی طاقت ور عناصر جو خود وزارت عظمی کے منصب پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں شہباز شریف کی راہ میں کانٹے بچھا رہے ہیں انہیں ڈر ہے کہ اگر شہباز شریف ایک بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے اور قومی حکومت کے اس منصوبے کا چوہدری نثار علی خان بھی حصہ بن گئے تو پھر ان کو ہٹانا ممکن نہیں ہو گا۔

    ۔ اب یہ بات برملا کہی جارہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کے عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم بننے کی راہ میں حائل نہیں۔ اسی لیے وہ عبوری مدت کے لئے قومی حکومت کے قیام کی تجویز کی منظوری حاصل کرنے کے لئے لندن جانا چاہتے ہیں ۔

    ۔ کیونکہ اشارہ دینے والوں نے نہ صرف اشارہ دے دیا ہے بلکہ دو حرفی بات کہہ دی ہے کہ ملک کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی لیکن اگر تبدیلی کی خواہش ہے تو پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی لائیں۔ دوسری طرف سے جواب ملا ہے۔ ملک کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ حکومت کی جائے۔ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی نہیں لانی بلکہ باہر سڑکوں پر مظاہرے ریلیاں اور مناسب طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے لیکن ابھی الیکشن کرانے ہیں تو کرا لیں ہم تیار ہیں۔

    ۔ مگر شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ وقت ضائع نہ کیا جائے بلکہ اپنی شیڈو کابینہ بنائی جائے۔ سیاسی جلسے جلوسوں، ریلیوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

    ۔ جبکہ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے پہلے دس وزارء کی شیڈو کابینہ کی فہرست بنا کر ڈیوٹیاں بھی لگادی ہیں کہ دو سال میں ایسی پلاننگ کریں کہ ہم حکومت لیتے ہی ملک میں انقلابی اقدامات کر سکیں۔ ۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ سسٹم میں موجود بیوروکریسی کے لوگ روازنہ کی بنیاد پر رپورٹ اپنے سابق سینئر کو دے رہے ہیں۔
    ۔ ویسے یہ حقیقت تو خود عمران خان کی تسلیم کردہ ہے کہ پی ٹی آئی کو حکومت تو مل گئی لیکن ان کی سرے سے تیاری ہی نہیں تھی۔ لہٰذا یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جس کو حکومت دیں، ساتھ تیاری کا بھی کہیں۔ ۔ اب آپ کو سمجھ آئی کہ وزیراعظم عمران خان کیوں چینخ چلا رہے ہیں۔ وہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن فوج سے کہہ رہی ہے کہ وہ حکومت گرانے میں اُس کی مدد کرے۔ وہ یہ طعنے کیوں دے رہے ہیں کہ ایک طرف یہ لوگ خود کو جمہوری کہتے ہیں اور دوسری طرف منتخب حکومت کو گرانے کے لئے فوج کی مدد مانگتے ہیں۔ آپکو سمجھ آجانی چاہیئے ۔ جب شہباز شریف کہتے ہیں کہ نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے تو اس کے پیچھے کیا سوچ ہے ۔

    ۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک اور دلچسپ بات یہ کہی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد نظام بدلنے کی سب سے بڑی جدوجہد وہ کر رہے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کون سی جدوجہد ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ یا عملی اقدامات، یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سا نظام لانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں، کبھی چین یا امریکہ کی، کبھی وہ ترکی یا ملائیشیا کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اور کبھی سکنڈے نیوین ملکوں کی فلاحی ریاستوں کا ذکر کرتے ہیں۔ آخر وہ کون سا نظام ہے جو عمران خان لانا چاہتے ہیں۔ ان کی تان دو باتوں پر آکر ٹوٹتی ہے، ایک یہ کسی کو NRO نہیں دوں گا اور دوسری کسی مافیا کو نہیں چھوڑوں گا۔

    ۔ آئے دن سکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں اور ان کے کرداروں کو محفوظ راستہ بھی دیا جاتا ہے۔کچھ ابھی تک ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں اور کچھ پتلی گلی سے نکل گئے ہیں۔

    ۔ شہباز شریف کے ملک سے باہر جانے کی کوشش تو تحریک انصاف کی حکومت نے بھرپور کوشش کر کے ناکام بنا دی یا کم از کم التوا میں ضرورڈال دی ہے ۔ مگر شہباز شریف کی تھیوری یا ڈاکٹرائن نے بہت سوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    ۔ مسلم لیگ ن کے بیشتر لیڈروں کی طرح شہباز شریف کا بھی یہی خیال لگ رہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کو سپورٹ نہ کرے تو عمران خان الیکشن نہیں جیت سکتے۔ شہباز شریف اور ان کے ہم خیال لیڈروں کے خیال میں اگر ن لیگ کوانتخابی میدان میں کھیلنے کا برابر موقعہ ملا تو وہ تحریک انصاف سے بہت بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

    ۔ شہباز شریف ڈاکٹرائن ہے ہی یہی کہ مقتدرقوتوں کے ساتھ براہ راست ٹکرائو سے گریز کرتے ہوئے افہام وتفہیم کے ساتھ معاملات آگے بڑھائے جائیں اور کبھی دو قدم پیچھے ہٹ ، کبھی دائیں بائیں ہو کر ، ضرورت پڑنے پر دو قدم آگے بڑھ کرتخت وتاج حاصل کرنے کی سیاست کی جائے۔ ۔ یہ شہباز شریف کا پرانا نظریہ اور سٹائل ہے۔ مسلم لیگ ن پر سب سے مشکل اور سخت وقت جنرل مشرف کی وجہ سے آیا۔ اس وقت بھی ان کی یہ سیاست کام آئی اور بعد میں جب نواز شریف کی واپسی ہوئی تب بھی یہ سیاست کام آئی ۔

    ۔ مگر گیند پہلے بھی میاں نواز شریف کی کورٹ میں تھی، اب پھر انہوں نے ہی فیصلہ کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ کچھ عرصہ کے لئے پیچھے ہٹ کر خاموش رہنا پسند کریں گے؟ ۔ بہرحال نتیجہ جو بھی نکلے، پہلی بار عمران خان کی حکومت پریشان اور خوفزدہ نظر آئی ہے۔ شہباز شریف ڈاکٹرائن نے خان صاحب کو چکرا دیا ہے ۔ نواز شریف کے بیانات کے برعکس شہباز شریف کی مفاہمت انہیں اپنی حکومت اور سیاسی مستقبل کے لئے زیادہ خطرناک لگ رہی ہے۔ ۔ بہرحال اپوزیشن کے پاس اس وقت سب سے بہترین موقع یہ ہے کہ وہ بجٹ اجلاس میں حکومت کو سخت مقابلے سے دوچار کر دے،اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے پر مجبور ہو جائے گی، جس کی فی الوقت اشد ضرورت ہے،اس سے اپوزیشن کی عوام میں پذیرائی بھی بڑھ جائے گی۔

  • چین ابھرتی ہوئی طاقت نہیں بلکہ ایک قوت، تحریر، نوید شیخ

    چین ابھرتی ہوئی طاقت نہیں بلکہ ایک قوت، تحریر، نوید شیخ

    چین اب ابھرتی ہوئی طاقت نہیں رہا۔ بلکہ یہ ایک قوت بن چکا ہے جو کئی طریقوں سے امریکہ کو تمام معاملوں میں ٹکر دے رہا ہے۔

    ۔ تین چار چیزیں ایسی ہیں جو امریکہ کی جانب سے گزشتہ دنوں میں چین کے خطرے کو بھانپتے ہوئے کی گئیں ہیں ۔ اور منظر کافی واضح ہو گیا ہے ۔

    ۔ سب سے پہلے ایک تو ابھی کی خبر ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی قوت اور عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے جوبائیڈن انتظامیہ نے اسٹریٹجک مسابقتی ایکٹ
    2021 امریکی سینیٹ میں پیش کردیا ہے ۔ اب اس بل کے تحت اگلے چار سال تک ہر سال 300 ملین ڈالرز کا فنڈ مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔
    ایکٹ میں معیشت، ٹیکنالوجی، سیکورٹی سمیت متعدد شعبوں میں چین کو امریکا کا اسٹریٹجک حریف قرار دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایشیا بحرالکاہل میں طاقت کا توازن امریکا کے حق میں رہنا چاہیے۔ کیونکہ امریکا اور اُس کے اتحادی ممالک پورے ایشیا بحرالکاہل میں نیوی گیشن اور تجارتی آزادی کے لیے بِلا روک ٹوک رسائی برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔

    ۔ دوسری جانب اس بل سے چند روز قبل ہی جوبائیڈن کا ایک اور نیا حکم نامہ آیا تھا جو محسوس ہوتا ہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے دور کا تسلسل ہے ۔ جس میں 31چینی کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی تھی ۔ اب اس نئے حکم نامے کے بعد امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی چینی کمپنیوں کی تعداد 59 ہو گئی۔ ۔ پھر گزشتہ ہفتہ ہی جوبائیڈن نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ دیا ۔ جس کی مالیت 6ٹریلین ڈالرز تھی ۔ ریپبلکن سینیٹر Lindsey Graham نے اسے “انتہائی مہنگا” بجٹ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔۔ مگر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ بجٹ امریکی عوام میں براہ راست سرمایہ کاری ہے اور اس سے ہماری قوم کی معیشت مستحکم ہوگی اور طویل مدتی مالی صحت میں بہتری آئے گی۔

    ۔ دراصل امریکہ کی بھی اپنی مجبوریاں ہیں۔ کہ وہ اپنی چادر سے بڑھ کر پاؤں پھیلا رہا ہے آخر عالمی تھانیداری قائم رکھنے کے لیے اتنا تو کرنا ہی پڑتا ہے ۔

    ۔ اس بجٹ کی خاص بات یہ ہے کہ پینٹاگون کے لیے 1.5ٹریلین ڈالرز کی رقم مختص کی گئی۔ جوکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ڈبل ہے ۔ ۔ اب اگر عالمی فوجی اخراجات کو دیکھا جائے تو اس میں امریکا کا حصہ تقریبا چالیس فیصد ہے ۔ امریکا نے 2020ء میں فوجی مقاصد کے لیے 2019ء کے مقابلے میں 4.4 فیصد زیادہ رقوم خرچ کیں اور ان کی مالیت 778 بلین ڈالر رہی ۔ بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ جس تیزی سے امریکہ اسلحہ کی تیاری میں لگاہوا ہے یا جس طرح امریکہ دفاع پر پیسے خرچ کر رہا ہے اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی جا رہی ہے ۔ جیسے کوئی بڑی جنگ ہونے والی ہے ۔ جس کی امریکہ نے پہلےہی تیاری شروع کر دی ہے ۔

    ۔ کیونکہ یہ صرف جوبائیڈن ہی نہیں ان سے پہلے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی فوجی اخراجات میں مسلسل تین سال تک اضافہ ہی ہوتا رہا۔
    حالانکہ اس سے قبل جب باراک اوباما امریکا کے صدر تھے۔ تو ان کی صدارت کے مجموعی طور پر آٹھ سالہ دور میں امریکی فوجی بجٹ سات سال تک مسلسل کم ہوتا رہا تھا۔

    ۔ تو لوگوں کا یہ سوال کرنا بجا دیکھائی دے رہا ہے کہ کچھ تو ہے جو امریکہ اب خوب دفاع پر پیسہ لگا رہا ہے ۔ جبکہ آپ دنیا پر نظر دوڑائیں تو ہر جگہ مسائل ہی مسائل دیکھائی دیتی ہے ۔ اور امریکہ بہادر مشرق وسطی سے لے کر فارایسٹ ایشیاء ، جنوبی ایشیاء ، افریقہ اور پھریورپ تک میں مشکلات میں گھیرا دیکھائی دیتا ہے ۔

    ۔ عالمی منظر نامے پر کہیں چین امریکہ کے سامنے کھڑا ہے تو کہیں روس اس کو آنکھیں دیکھا رہا ہے ۔ یہاں تک کہ آپ اگر غور کریں تو دنیا بھر میں اب علاقائی طاقتیں امریکی اتھارٹی کو چیلنج کرتے دیکھائی دیتی ہیں ۔

    ۔ پر ایسا نہیں کہ امریکہ کو یہ سب معلوم نہیں ہے ۔ امریکہ کو بدلتے ہوئے حالات دیکھائی بھی دے رہے ہیں اور وہ اپنی پوری کوششوں میں بھی لگا ہوا ہے کہ کسی طرح یہ دنیا
    unipolar
    ہی رہے اور
    multi polar
    نہ بنے ۔

    ۔ آپ دیکھیں جیسے جیسے امریکہ کرونا سے
    recover
    کررہا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنا اصل رنگ و روپ دیکھانے لگا ہے ۔ ابھی اس کا حالیہ منظر دنیا اسرائیل اور فلسطین والے معاملے میں دنیا دیکھ چکی ہے ۔ اب آنے دنوں میں بھارت کو مکمل طور پر چین کے سامنے لانے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ اس حوالے سے جو بھارت کے ہمسایہ ممالک ہیں ان پر امریکہ اپنا اثر رسوخ جماتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے ۔ چاہے پھر وہ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش یا سری لنکا ۔ ان سب کو امریکہ نے اپنی
    stick
    دیکھانا شروع کر دی ہے ۔ جبکہ
    carrot
    وہ اب صرف بھارت کو ہی دے رہا ہے ۔

    ۔ ابھی فی الحال سفارتی محاذ پر چین کو امریکہ ہر جگہ
    engage
    کرنے کی کوششوں میں ہے مگر کچھ بعید نہیں کہ جلد کوئی
    diaster
    رونما ہوجائے ۔ کیونکہ حادثے رونما ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔

    ۔ میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں چین بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھا ہوا ہے ۔ جس طرح امریکہ چین پر وار کر رہا ہے اب چین کی زبان میں بھی تلخی آنا شروع ہوچکی ہے ۔ ابھی حالیہ جوبائیڈن کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق دوبارہ تحقیقات کا حکم دینے پر چین نے سخت موقف اپنایا کہ امریکا کو نہ ہی سچ کی پرواہ ہے اور نہ ہی وائرس کے وجود میں آنے سے متعلق سنجیدہ سائنسی تحقیقات میں دلچسپی ہے۔

    ۔ یہاں تک کہ امریکہ کی تحقیقات کے جواب میں الٹا چینی وزارت خارجہ نے میری لینڈ میں واقع امریکی تحقیقاتی لیب میں وائرس بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ
    Fort Detrick
    تجربہ گاہ سمیت پوری دنیا میں موجود امریکا کی
    200
    سے زیادہ لیبز میں ایسے کونسے خفیہ راز پوشیدہ ہیں، اس حوالے سے امریکا پوری دنیا کو جواب دہ ہے۔

    ۔ اب جب سے جوبائیڈن نے انکوئری والا اعلان کیا ہے ۔ حالیہ ہفتوں میں دنیا میں اس پراپیگنڈہ کو دوبارہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس ایک چینی لیب سے نکلا ہے۔

    ۔ دوسرا امریکہ کواڈ گروپ کو چین کے خلاف بطور ہیتھیار استعمال کرنے کے چکروں میں ہے جبکہ اس کواڈ گروپ کی وجہ سے چین اور آسٹریلیا کے تعلقات کشیدگی کی جانب گامزن ہیں ۔

    ۔ straits of malacka
    کے حوالے سے تفصیلی وی لاگز میں کر چکا ہوں ۔ بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند میں بھی چین کے مشکات پیدا کرنے کی مکمل تیاری ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان پر بھی ہم نے دیکھا ہے کہ کافی پریشر کو بڑھایا جارہا ہے ۔ اس کی ایک کڑی تو یہ ہے کہ ابھی تک امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر اعظم عمران خان سے باضابطہ کوئی بات نہیں کی ہے ۔ جب کہ اس سے پہلے روایت تھی کہ جو بھی امریکہ صدر ہوتا وہ ٹیلی فون پر کم ازکم اپنے اتحادی سے بات کرتا تھا ۔

    ۔ جہاں امریکہ خطے میں اپنے نئے اتحادی تلاش کررہا ہے تودوسری جانب چین ایشیاء میں
    strong
    معاشی سٹریٹیجک پارٹنرشپ قائم کررہا ہے ۔ سی پیک میں چین ایران اورافغانستان کو شامل کرنا چاہتاہے ۔

    ۔ اگر آپ معاشی لحاظ سے دیکھتے ہیں۔ ورلڈ بنک کے مطابق قوت خرید کے اعتبار سے چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ جبکہ
    nominal GDP
    کے اعتبار سے دیکھیں تو چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ لیکن دوسری بڑی ہونے کے باوجود بھی چین اور امریکی معیشت میں سات ٹریلین ڈالر کا فرق ہے۔ حالانکہ امریکہ میں یہی جی ڈی پی صرف پنتیس کروڑ آبادی کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے جبکہ چین کی آبادی ڈیڑھ ارب کے قریب پہنچ چکی ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکہ کے قریب ترین اگر کسی ملک کی معیشت ہے تو وہ چین ہی ہے اور اگر کوئی ملک یہ فرق تیزی سے کم کرتا جا رہا ہے تو وہ بھی چین ہی ہے۔ کیونکہ دیکھائی دے رہا مزید چند سالوں کی بات ہے کہ چین امریکہ کو پچھاڑ دے گا ۔

    ۔ کیونکہ ایک طرح سے دیکھیں تو چین امریکہ سے بہت بڑی معاشی طاقت ہے۔ وہ یوں کہ امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے جو اپنے جی ڈی پی کا 97 فیصد قرضے کی شکل میں ادا کرتا ہے۔ جبکہ چین اپنے جی ڈی پی کا صرف تیرہ فیصد بیرونی قرض کی مد میں ادا کرتا ہے۔ چین کے پاس foreign reserves3.3 ٹرلین ڈالر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

    ۔ چین کا دفاعی بجٹ دو سو پندرہ ارب ڈالر ہے جو امریکہ کے مقابلے بہت کم ہے۔ لیکن اس کے باوجود چین امریکی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں اپنے ہتھیاروں کو اپنی صلاحیت سے تیار کرتا ہے۔

    ۔ چین کے نئے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ اور اس منصوبے سے جڑے سی پیک جیسے دوسرے پراجیکٹس نے امریکہ کے سپرپاور سٹیٹس کیلئے ایک چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ گو کہ چین ایسا تاثر نہیں دیتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو چین کی معاشی اور دفاعی ترقی کو روکنا ناممکن ہو گا۔ کیونکہ اس منصوبے کی حفاظت کیلئے چین کو عالمی طور فوجی اڈوں کا جال بچھانا پڑے گا جس کی ایک مثال افریقہ ملک جبوتی میں چین کا پہلا فوجی اڈا ہے۔ ایسا ہی وہ بنگلہ دیش ۔ سری لنکا ، میانمار ، پاکستان اور ایران میں بھی کرنا چاہتا ہے ۔

    ۔ سیاسی لحاظ سے دیکھیں تو چین اقوام متحدہ کی سب سے طاقتور باڈی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور عالمی سطح بڑا فیصلہ چین کی مرضی کے بغیر پاس نہیں کیا جا سکتا۔ چین کے اپنے شمالی اور مغربی ہمسایوں سے اچھے تعلقات اس کی طاقت ہیں۔ جبکہ جنوب میں بھارت سے خراب تعلقات اور مشرقی سمندر میں جزائر کی ملکیت پر کئی ممالک سے تنازعات چین کی کمزوری ہیں۔ لیکن چین اپنی فوجی اور معاشی طاقت سے سمندر میں نئے جزائر اور فوجی اڈے بنا رہا ہے۔ یہ ہی وہ چیزیں ہیں جو امریکہ کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں ۔
    ۔ دراصل امریکہ اس وقت دنیا میں say کو ٹھیک کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے اور اپنے پرانے کردار کو بحال کروانے کے لیے وہ تڑیاں بھی لگا رہا ہے ۔ دھونس بھی استعمال کر رہا ہے اور پریشر بھی بڑھا رہا ہے ۔ پر دیکھتے ہیں کہ امریکہ اپنا پرانا وقار اور قد کاٹھ بحال کروا پاتا ہے یا نہیں ۔ کیونکہ چین ، روس اور دیگر علاقائی طاقتوں کی شکل میں اس وقت کئی قوتیں امریکہ کے ساتھ سینگ پھسانے کو تیار دیکھائی دیتی ہیں ۔

  • افغانستان کا مستقبل. تحریر، نوید شیخ

    افغانستان کا مستقبل. تحریر، نوید شیخ

    افغانستان کا مستقبل ایک مرتبہ پھر انتہائی غیریقینی صورت حال سے دوچار نظرآتاہے۔ بین الافغان مذاکرات پچھلے دومہینوں سے تعطل کاشکار ہیں جس کاسب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ فریقین کے درمیان پرتشدد کاروائیوں میں بے پنا اضافہ ہورہا ہے ۔ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو مارنے کی اطلاعات آرہی ہیں ۔ طالبان نے توحالیہ ہفتوں کے دوران اپنی کاروائیوں میں اتنی شدت لائی ہے کہ ملک کے کئی صوبوں میں انہوں نے زمینی اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

    ۔ دیکھا جائے توپچھلے بیس برسوں کے دوران افغانستان پہلی مرتبہ ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

    ۔ اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کے حوالے سے پاکستان کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں شیخ رشید نے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاک افغان باڈر پر باڑ مکمل کر لی جائے گی ۔ کیونکہ افغان گروہوں کے درمیان مفاہمت کے پہلے سے ہی کم امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مدھم ہوتے جا رہے ہیں۔

    ۔ آئندہ چند روز میں بین الافغان مذاکرات کا ایک اور دور ہونے والا ہے لیکن پاکستانی حکام کسی بریک تھرو کے حوالے سے زیادہ پرامید نظر نہیں آتے۔

    ۔ اس سے پہلے پاکستان نے دیگر چیزوں کے علاوہ عبوری حکومت پر زور دیا تھا لیکن افغان صدر اشرف غنی کی سخت مخالفت کی وجہ سے یہ خیال زور نہ پکڑ سکا۔

    ۔ دوسری جانب طالبان بھی اس امید پر امن معاہدے کے زیادہ خواہشمند نہیں کہ وہ میدان جنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    ۔ پاکستان کا اندازہ یہ ہے کہ امریکا کے انخلا کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز میں ملک سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

    ۔ یہ بات اب عیاں ہوچکی ہے کہ عیارامریکہ کوافغان حکومت اورنہ ہی طالبان عزیز ہیں بلکہ اپنے مفادات اس کی اولین ترجیح ہیں ۔ کیونکہ دوحہ قطر مذاکرات کی کوئی منزل نہیں ملی اس لیے امریکا نے اس بات چیت سے خود کو الگ کرتے ہوئے انخلا کا یکطرفہ فیصلہ کرکے خطے میں ایک عظیم کنفیوژن پیدا کردی ہے ۔

    ۔ افغانستان میں سب سے خوفناک منظرنامہ خانہ جنگی کا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ امریکا خود بھی خانہ جنگی چاہتا تھا یا پھر اسے فرار کی اس قدر جلدی تھی کہ اس نے کئی پہلوؤں پر غور ہی نہیں کیا۔

    ۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کی تاریخ ایسے وقت پر دی جب افغان فریقوں کے درمیان استنبول میں مذاکرات ہونے والے تھے۔ اس کانفرنس میں عبوری حکومت کے قیام پر بات ہونا تھی اور امن کے لیے یہی سب سے اہم نکتہ تھا لیکن بائیڈن انتظامیہ کے اعلان کے بعد افغان طالبان نے استنبول نہ جانے کا اعلان کیا۔

    ۔ بائیڈن کے غیر مشروط انخلا کے اعلان کے بعد طالبان قیادت نے فیصلہ کیا کہ مکمل فوجی انخلا تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ دراصل اس فیصلے کے پس پردہ یہ سوچ تھی کہ غیر ملکی افواج کے نکلنے کے بعد کابل پر قبضہ مشکل نہیں ہوگا۔ بائیڈن انتظامیہ کے بغیر سوچے سمجھے اعلان نے خانہ جنگی کا امکان بڑھا دیا ہے۔ اس لیے اب نئے مسائل سر اٹھا سکتے ہیں۔

    ۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ واشنگٹن افغانستان میں نئی خانہ جنگی کا خواہاں ہو کیونکہ اس خانہ جنگی سے روس اور چین کو نئے محاذ پر توجہ دینا پڑے گی اور امریکا خطے میں اپنے عزائم کو پروان چڑھانے اور چین کی فوجی و اقتصادی ترقی روکنے کے لیے نئی منصوبہ بندی کے قابل ہوجائے گا۔

    ۔ ایک اور منظرنامہ یہ ہے کہ کابل ایئرپورٹ طالبان کے قبضے میں جانے کی صورت میں افغانستان میں تمام سفارتی مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں، آسٹریلیا پہلے ہی سفارت خانہ عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کرچکا ہے جبکہ امریکا سمیت تمام اہم ملکوں کے سفارتی عملے میں کمی کی جاچکی ہے۔ اگر سفارتی مشن بند ہوگئے تو افغان مسئلے کے حل کی کوششوں کو ناقابلِ تلافی دھچکا لگے گا۔

    ۔ افغان فورسز کو اب تک امریکی افواج کی فضائی مدد حاصل تھی جو طالبان کو پیش قدمی سے روکے ہوئے تھی۔
    11
    ستمبر کو جب انخلا مکمل ہوجائے گا تو یہ مدد بھی ختم ہوجائے گی جبکہ افغان فضائیہ کا امریکی اور نیٹو مددگاروں کے بغیر قابل پرواز رہنا بھی محال نظر آتا ہے۔

    ۔ ایسی صورتحال میں افغان فوجیوں کا وفاداری بدلنا اور جنگی سرداروں یا طالبان کی اطاعت قبول کرنا ممکنہ منظرناموں میں شامل ہے۔

    ۔ امریکا فوجیوں کے انخلا کا
    44
    فیصد عمل مکمل کر چکا ہے۔ دراصل جس رفتار سے انخلا کا عمل جاری ہے اس نے بھی پاکستان کے خدشات کو ہوا دی ہے۔

    ۔ افغانستان میں اہم ہوائی اڈے بگرام ایئر بیس پر امریکی فوج اور رسد کا سب سے زیادہ دارومدار تھا وہ بھی خالی کیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ پندرہ سے بیس دنوں تک بگرام بیس افغان فورسز کے حوالے کردی جائے گی۔

    ۔ امریکا شاید جولائی یا اگست تک انخلا کا عمل مکمل کرلے اور کابل میں صرف اپنے سفارتخانے کی حفاظت کے لیے تھوڑی سے فوج چھوڑ جائے۔

    ۔ اسکے بعد نظر آرہا ہے کہ طالبان کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کریں اور کابل کی طرف دبائو بڑھائیں۔ دوسری طرف پاکستان میں اندرونی اور سرحدوں پر سیکورٹی خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس سے مزید پناہ گزین پاکستان کی جانب آنے کا امکان ہے ۔ اور ہماری معیشت تو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔

    ۔ حقائق یہ ہیں کہ افغانستان سیکیورٹی کا ڈراؤنا خواب بھی ثابت ہو سکتا ہے، افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی دہشت گرد بھی صورتحال خراب کر سکتے ہیں۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ پاکستان میں حملوں کے لیے شرپسند عناصر گٹھ جوڑ کر لیں۔

    ۔ افغان حکومت کی ہچکچاہٹ، داخلی کمزوریوں، مخاصمت، وژن کی کمی اور جنگجو دھڑوں کے دباؤ نے فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے ۔ اسی لیے طالبان کے تیور بھی بدلے ہوئے ہیں ۔ اب وہ فرنٹ فٹ پر نظر آتے ہیں ۔

    ۔ اس وقت افغانستان میں
    30
    فیصد سے زیادہ علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے اور یہ سلسلہ مزید بڑھ رہا ہے۔ افغان حکومت کا عمل دخل
    40/45
    فیصد علاقے تک محدود ہے۔

    ۔ اس لیے کہتا ہوں کہ اس وقت اشرف غنی کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں۔ وہ مغربی بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں ہیں امریکیوں کے نکلتے ہی اگلے دن کابل حکومت گِرے نہ لیکن آخر کارہونی تو ہو کر رہے گی۔

    ۔ اس وقت مغربی افواج کی مدد کرنے والے بہت سے افغانی مغربی ویزوں کے متلاشی نظر آتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندانوں کوطالبان حکومت سے بچا کر یورپ اور امریکا میں آباد کر سکیں۔

    ۔ اس میں اب کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان سے حیران کر دینے والی خبریں آ سکتی ہیں۔

    ۔ اس لیے افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے لئے نہایت اہم اور ضروری ہے۔

    ۔ ایسے لگتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کی گزشتہ تاریخ دہرانے کا ارادہ کیا ہے جس کے بعد افغانستان میں خون خرابے کا بازار گرم ہواتھا۔

    ۔ اس بار پھر امریکہ افغانستان کو آگ میں جھونک کرجارہا ہے اور یہ ایسے وقت اور حالات میں کیا جارہا ہے کہ نہ تو امن معاہدے پر فریقین کی جانب سے عمل ہورہا ہے اور نہ حالات میں بہتری کی کوئی کرن نظر آرہی ہے۔

    ۔ کیونکہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان نئی تلخیاں جنم لے چکی ہیں اور خطے میں امریکا کے نئے فوجی اڈوں کے امکانات پر طالبان بھی کسی ملک کا نام لیے بغیر دھمکی آمیز بیانات جاری کر رہے ہیں۔ یہ ایسا منظرنامہ ہے جو عدم استحکام کو مزید گہرا کرسکتا ہے اور اس سے پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔

    ۔ کابل انتظامیہ میں بھی پاکستان کے دشمنوں کی بڑی تعداد بیٹھی ہے جن میں ایک اشرف غنی کے قومی سلامتی مشیر حمداللہ محب بھی ہیں۔ پچھلے دنوں حمد اللہ محب نے پاکستان سے متعلق ایک گھٹیا تبصرہ کیا اور پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ اس پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ ایک اطلاع یہ ہے کہ پاکستان نے افغان قومی سلامتی مشیر کے ساتھ رابطوں اور کام کرنے سے بھی معذرت کرلی ہے۔ اس کے علاوہ امراللہ صالح اور اس جیسے کئی عہدے دار ہیں جو اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے رہتے ہیں۔

    ۔ دراصل یہ بھارت نواز سیاستدان اور سیکیورٹی عہدے دار ہیں۔ بھارت کابل انتظامیہ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے تاکہ پاکستان اپنی پوری توجہ اور فوجی صلاحیت افغان بارڈر پر لگائے رکھے۔

    ۔ اس لیے بدلتی ہوئی صورتحال میں نئے اتحادوں میں پاکستان کو اپنی جگہ بنانی اور مضبوط کرنی چاہیے تاکہ علاقائی سیکیورٹی کا جو نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اس میں نہ صرف پاکستان شراکت دار ہو بلکہ اپنے مفادات کا بہتر تحفظ بھی کرسکے۔

    ۔ کیونکہ امریکا افغانستان سے انخلا کے بعد جاپان اور بھارت کو افغانستان میں اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ ان دونوں ملکوں کی ماضی میں افغانستان کے ساتھ کوئی مخالفت یا دشمنی نہیں رہی، کابل کی موجودہ انتظامیہ کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے بیرونی مالی اور فوجی مدد پر انحصار کرنا پڑے گا اور امریکا خطے میں نئے چار فریقی اتحاد کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔

    ۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں پاکستانی قیادت کو بہت سوچ سمجھ اور غیر معمولی مہارت سے قدم اٹھانے ہوں گے۔ دور اندیش قیادت ایسے ہی موقعوں پر بہترین فیصلے کرکے قومی قیادت کی اہل کہلا سکتی ہے۔ چیلنجز بہت ہیں۔خطرات منہ کھولے کھڑے ہیں،خدا کرے پاکستان سُر خرو ہو۔

  • کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ؟   تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ؟ تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    سوشل میڈیا پر علیزے شاہ کے بعد ہانیہ عامر کی ویڈیوز واٸرل ہوٸیں۔ سوشل میڈیا صارفين کی طرف سے خاصی تنقید ہوٸی۔ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے ان ویڈیوز اور تصاویر کو روایت کے مطابق "”Is this Islamic Republic of Pakistan?”” کے ساتھ پوسٹ کیا۔

    اس جملے پر اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یا تو تنقید پاکستان پر ہو رہی ہے یا اسلام پر یا پھر اسلام کے نام پر بنے والے ملک پاکستان پر۔

    پاکستان میں ہر شہری آزاد ہے، تو اس لحاظ سے اس طرح کی ویڈیوز اور تصاویر بنا کر شیٸر کرنے والے شہری حقوق کے لحاظ آزاد ہیں۔ یہ ویڈیوز اور تصاویر بنانا اور پوسٹ کرنا ان کا ذاتی فعل ہے، اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانا ہرگز مناسب عمل نہیں ہے۔

    ستر کی دہائی میں قومی اسمبلی میں ایک خاتون نے سوال کیا کہ مرد اگر چار شادیاں کر سکتا تو عورت کیوں نہیں؟ اس پر ردعمل دیتے ہوٸے مفتی محمود صاحب نے تاریخی جملہ کہا ”آپ کے لیے تو کوٸی رکاوٹ نہیں، رکاوٹ تو قرآن کا حکم ماننے والوں پر ہے““۔

    اس بات سے یہ تو ثابت ہوا کہ یہ سب حدیں اور رکاوٹيں صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو اسلام کا حکم ماننا فرض سمجھتے ہیں، اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کو ترجيح دیتے ہیں۔ ناکہ ان لوگوں پر جو اسلام پر عمل کرنے کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ تو اس لحاظ سے اگر تنقيد کرنے وانے والوں کا مقصد اسلام پر تنقید ہے یا اسلام کے ماننے والوں پر تنقید ہے تو یہ بھی ہرگز ہرگز مناسب نہیں ہے۔

    اسلام کے نام پر بننے والی ریاستوں کے شہریوں پر اسلام زور زبردستی سے ٹھونسا نہیں جاتا بلکہ نیکی کرنا آسان اور بدی کے لیے رکاوٹ ہوتی ہے۔ تو اگر پھر بھی کوٸی برائی اختيار کرتا ہے تو وہ اس کا ذاتی فعل ہوتا ہے جس پر ریاست کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاتا۔

    سوشل میڈیا پر بہت سارے پاکستانی Activist ایسے موجود ہیں جو کسی بھی ایسے اشو پر اپنی توپوں کا رُخ سیدھا پاکستان، ریاستِ مدینہ یا اسلام پر کر دیتے ہیں جوکہ نہایت غیر اخلاقی حرکت ہے۔

    صرف علیزے شاہ یا ہانیہ عامر ہی نہیں، اس سے پہلے بھی جو کوٸی بھی ایسی حرکت کرتا رہا ہے، سوشل میڈیا صارفين اس پر تنقید کے نام پر پروموٹ کرتے رہے ہیں، جس سے ان کے واٸرل ہونے کا مقصد بآسانی حاصل ہو جاتا ہے۔

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر کوٸی اس قابل نہیں ہوتا کہ آپ اس کو اہمیت دیں۔ خاص طور پر وہ لوگ اخلاق باختہ حرکات کر کے ”ہٹ“ ہونے کی کاوشیں کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایکٹیوسٹس ایک بہت اچھا مقصد لے کر چل رہے ہیں، اور پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں اور انہیں اسی پر کاربند رہنا چاہیے۔
    خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

  • خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش

    خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش

    جنوبی افریقا : خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی افریقا کی رہائشی 37 سالہ سیتھول نامی خاتون نے بیک وقت 10 بچوں کو جنم دیا جن میں 7 بیٹے اور 3 بیٹیاں شامل ہیں۔

    ڈاکٹرز نے بتایا کہ تمام بچے زندہ ہیں مگر قبل از وقت پیدائش کی وجہ سے اُن کا وزن کم ہے تاہم ان کی صحت خطرے سے باہر ہے –

    ڈاکٹر کے مطابق ان بچوں کو چند ماہ کے لیے انکیبیوٹر پر رکھا جائے گا تاکہ وہ صحت مند ہوسکیں-

    اگر افریقی خاتون کے بچے زندہ بچ گئے تو وہ ایک نیا ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی-

    واضح رہے کہ اس سے قبل افریقی ملک مالی کی 25 سالہ خاتون حلیمہ سیسی نے 5 مئی کو افریقی ملک مراکش میں بیک وقت 9 بچوں کو جنم دیا تھا، ان کے ہاں 5 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہوئی تھیں جبکہ ان سے قبل 2009 میں امریکی خاتون نادیہ سلیمان کے ہاں پیدا ہونے والے 8 ہی بچے زندہ ہیں۔

  • دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات    تحریر:سمیع اللہ

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات تحریر:سمیع اللہ

    موضوع دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات

    تحریر سمیع اللہ

    انسان کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبردار کرنا شروع کردیتا ہے۔بس ان علامات یا نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ صحت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

    یہاں ایسی علامات کے بارے میں جانیں، جو دل میں خرابیوں کی جانب کئی ہفتے پہلے اشارہ کرنے لگتی ہیں۔

    تھکاوٹ

    یہ ایسی علامت ہے جو 70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے سامنے آئی، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ کرتی ہے اور مرد و خواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔ اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اور دن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ ضرور مرکوز کی جانی چاہیے۔

    پیٹ میں درد

    50 فیصد ہارٹ اٹیک کے واقعات میں یہ علامت کچھ عرصے پہلے سامنے آئی، معدے میں درد، دل متلانا، پیٹ پھولنے یا موشن وغیرہ متعدد عام علامات ہیں، ہارٹ اٹیک سے قبل پیٹ یا معدے میں درد کچھ عجیب سا ہوتا ہے، یعنی کبھی ہوتا ہے اور پھر آرام محسوس ہونے لگتا ہے، مگر کچھ وقت بعد پھر لوٹ آتا ہے۔

    بے خوابی

    یہ علامت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نظر آتی ہے، ویسے طبی ماہرین اس علامت کو ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔ رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔

    سانس گھٹنا

    چالیس فیصد کیسز میں یہ علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل اور یہ احساس کہ گہرا سانس لینا ممکن نہیں، یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

    بال گرنا

    بالوں کا تیزی سے گرنا بھی امراض قلب کی ایک واضح علامت ہے، عام طور پر یہ پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں میں زیادہ نظر آتی ہے مگر کچھ خواتین میں بھی یہ سامنے آتی ہے۔

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اکثر پینک اٹیک اور ذہنی بے چینی کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے، خاص طور پر خواتین میں، یہ اچانک حملہ کرتی ہے۔ اگر دل کی دھڑکن میں تیزی ایک سے دو منٹ تک برقرار رہے اور اس میں کمی نہ آئے، اس کے علاوہ دھڑکن کی رفتار میں کمی بیشی سے غشی اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

    بہت زیادہ پسینہ آنا

    غیرمعمولی یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی ہارٹ اٹیک کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے، جو کہ دن یا رات کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے۔ یہ علامت عام طورپر خواتین میں زیادہ سامنے آتی ہے، تاہم وہ اسے نظر انداز کردیتی ہیں۔ تاہم اگر اس کے ساتھ فلو جیسی علامات ہوں، جلد پر چپچپا پن یا خوشگوار موسم کے باوجود پسینہ آئے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔

    سینے میں درد

    مردوں اور خواتین دونوں میں سینے میں درد مختلف شدت اور طریقے سے سامنے آتا ہے۔ مردوں میں یہ علامت انتہائی اہم ابتدائی علامات میں سے ایک ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ خواتین کے 30 فیصد واقعات میں یہ سامنے آتی ہے۔ سینے میں درد ایک یا دونوں ہاتھوں میں (اکثر بائیں ہاتھ میں)، نچلے جبڑے میں، گرد، کندھوں یا معدے میں شدید نوعیت کی بے اطمینانی کی شکل میں پھیل جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرلیا جانا چاہیے۔