Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیاری زہد اور پرتعیش زندگی سے کنارہ کشی

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیاری زہد اور پرتعیش زندگی سے کنارہ کشی

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیاری زہد اور پرتعیش زندگی سے کنارہ کشی

    بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    1️⃣ مکے کی انتہائی مالدار خاتون خدیجہ رضی اللہ عنھا آپکی زوجہ محترمہ تھیں اور ایسی جانثار، وفادار تھیں کہ انہوں نے اپنا سارا کاروبار، ساری تجارتی انویسٹمنٹ اور ساری دولت اشاعت و تبلیغ اسلام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دی

    2️⃣ مکے کے سب سے زیادہ مالدار شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ نہ صرف یہ کہ آپ کے خاص دوست تھے بلکہ ان کی بیٹی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ کی زوجہ محترمہ تھی
    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایسے سخی اور فراخ دل تھے کہ آپ نے ایک موقع پر اپنا سارا مال حاضرِ خدمت کردیا۔ اور بال بچوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے سواکچھ نہ چھوڑا۔ اس وقت ان کے صدقے کی مقدار چار ہزار درہم تھی

    3️⃣ مکے کے بہت ہی مالدار شخص عثمان رضی اللہ عنہ آپ کے داماد تھے
    صرف تبوک کے موقع پر حضرت عثمان بن عفانؓ نے جو صدقہ کیا اس صدقے کی مقدار
    ساڑھے پانچ کلو سونا
    ساڑھے انتیس کلو چاندی
    نوسو اونٹ
    اور ایک سو گھوڑے تک جاپہنچی
    (الرحیق المختوم)

    اگر آج کے حساب سے اسے کیلکولیٹ کیا جائے تو ساڑھے پانچ کلو سونا 550 تولے بنتا ہے اور ایک تولہ کم و بیش ایک لاکھ کا ہے اور یوں نقد رقم جو عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تھی ساڑھے پانچ کروڑ روپے بنتی ہے
    یہ صرف سونے کا حساب ہے
    اونٹ، گھوڑے اور چاندی کی قیمت اس سے الگ ہے

    4️⃣ لاکھوں، کروڑوں اور اربوں روپے کی مالیت کے برابر ملنے والے مال غنیمت میں سے خمس، پانچواں حصہ آپ کی ملکیت ہوتا تھا

    اور مال فے پورے کا پورا آپ کا ہوتا تھا

    5️⃣ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں :
    ’’جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خمس میں سے ہر بیوی کو اسّی (۸۰) وسق (دو سو چالیس من) کھجوریں اور بیس (۲۰) وسق (ساٹھ من) جو دیا کرتے تھے (اور یہ وظیفہ آپ کی وفات کے بعد بھی جاری رہا)۔‘‘
    [ أبو داوٗد، الخراج، باب ما جاء في حکم أرض خیبر : ۳۰۰۶، و قال الألباني حسن الإسناد ]

    کھجور اچھی بھی ہوتی ہے درمیانی بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی
    اگر ہم اوسط ریٹ فی کلو 500 کے مطابق بھی حساب کریں تو 80 وسق یعنی 240 من کھجور (جوکہ 9600 کلو بنتی ہے) 48 لاکھ روپے مالیت ہے

    اور 20 وسق یعنی 60 من جو (جوکہ 2400 کلو بنتے ہیں)
    فی کلو جو کا اوسط ریٹ 80 روپے ہے
    60 من جو تقریباً 2 لاکھ روپے کے بنتے ہیں

    گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر زوجہ محترمہ کو ٹوٹل 50 لاکھ روپے سالانہ دیا کرتے تھے

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیک وقت 9 ازواج مطہرات موجود رہی ہیں

    اس حساب سے 9 بیویوں کا سالانہ خرچ ساڑے چار کروڑ روپے بنتا ہے

    کیا دنیا میں کوئی شخص اتنا مالدار پایا گیا ہے جو اپنی بیویوں کو اتنی بھاری رقم سالانہ جیب خرچ کے طور پر دیتا ہو ❓

    خلفائے راشدین کے زمانے میں روم و شام، مصر اور فارس فتح ہوئے، تو امہات المومنین میں سے ہر ایک کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم مقرر ہو گیا، جو تقریباً ایک ہزار دینار (ساڑھے چار کلو یعنی 450 تولہ سونے) کے برابر تھا۔ جوکہ ساڑھے چار کروڑ روپے مالیت کے برابر ہے یہ الگ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے ان کی ایسی تربیت ہوئی تھی کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتی تھیں
    اور اسی زندگی پر قناعت کرتیں جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے اختیار کی تھی

    6️⃣ بڑے بڑے مالدار صحابہ جان نچھاور کرنے اور مال پیش کرنے کے لئے آپ کے اشارہ ابرو کے منتظر رہتے تھے
    کہ اگر آپ اظہار خواہش کرتے تو دنیا جہاں کی دولت آپ کے قدموں میں ہوتی

    7️⃣ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار غلام تھے جو روزانہ شام کو آپ کے پاس پیسے کما کر لایا کرتے تھے

    8️⃣ آپ کے انتہائی قریبی دوست عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار انٹرنیشنل تاجروں میں ہوتا تھا

    تبوک کے موقع پر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ دوسو اوقیہ (تقریباً ساڑھے ۲۹ کلو ) چاندی لے آئے

    9️⃣ تبوک کے موقع پر حضرت عاصم بن عدیؓ نوے وسق (یعنی ساڑھے تیرہ ہزار کلو ،ساڑھے ۱۳ ٹن ) کھجور لے کر آئے۔
    جو کہ تقریباً اڑسٹھ(68) لاکھ روپے کی مالیت ہے

    🔟 دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں ایک ہی شخص کو دے دیں

    انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
    آپ فرماتے ہیں
    ” مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ ”
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6020)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام (لا نے) پر جوبھی چیز طلب کی جا تی آپ وہ عطا فر ما دیتے ،کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں ،وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا : میری قوم !مسلمان ہو جاؤ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔

    1️⃣1️⃣ اکیلے صفوان کو تین سو اونٹ دے دیئے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی
    وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً
    اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ،پھر سواونٹ پھر سواونٹ۔

    صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :
    «وَاللهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6022)
    اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ،مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے

    2️⃣1️⃣ مقروض میت کا قرض اپنے ذمے لیتے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر رکھا تھا
    فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ
    (بخاری ،كِتَابُ فِي الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ،بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ تَرَكَ دَيْنًا،2399)
    جو مومن بھی انتقال کر جائے اور مال چھوڑ جائے تو اس کے ورثاءاس کے مالک ہوں۔ وہ جو بھی ہوں
    اور جو شخص قرض چھوڑ جائے یا اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آجائیں کہ ان کا ولی میں ہوں۔

    اس سب مال و دولت کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں میں اکڑ، تکبر یا غرور نہیں تھا

    حضرت ابو مسعود (عقبہ بن عمرو انصاری)ؓ سے روایت ہے‘انھوں نے فرمایا:
    أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَكَلَّمَهُ، فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ
    ایک آدمی نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور آ پ سے بات کرنے لگا۔(رسول اللہﷺ کے رعب کی وجہ سے )اس کے کندھے کانپنے لگے(اس پر کپکپی طاری ہو گئی)
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    «هَوِّنْ عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ، إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ»
    (ابن ماجة، كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ،بَابُ الْقَدِيدِ،3312صحیح
    سلسلة الأحاديث الصحيحة للألبانى رقم :1876)
    ’’گھبراؤ مت‘میں بادشاہ نہیں ہوں۔میں تو ایک ایسی(عام سی غریب)عورت کا بیٹا ہوں جو خشک کیا ہوا گوشت کھایا کرتی تھی۔‘‘

    میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سائل کو نفی میں جواب نہیں دیا

    حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
    «مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا»
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6018)
    : ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے (ناں یا نہیں ) فرمایا ہو۔

    دنیا سے بے تعلقی اور انفاق فی سبیل اللہ کا عزم ایسا کہ اگر احد پہاڑ برابر بھی سونا ہوتا تو اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا يَسُرُّنِي أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ
    (بخاری ،كِتَابُ فِي الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ،بَابُ أَدَاءِ الدَّيْنِ،2389)
    اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تب بھی مجھے یہ پسند نہیں کہ تین دن گزر جائیں اور اس ( سونے ) کا کوئی حصہ میرے پاس رہ جائے۔ سوا اس کے جو میں کسی قرض کے دینے کے لیے رکھ چھوڑوں۔

    ضرورت کے باوجود مانگنے والے کو چادر دے دی
    سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” بردہ “ (یعنی وہ لنگی جس میں حاشیہ بنا ہوا ہوتا ہے) لے کر آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں یہ لنگی آپ کے پہننے کے لئے لائی ہوں ۔
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لنگی ان سے قبول کر لی ۔ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ نے پہن لیا ۔
    صحابہ میں سے ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پروہ لنگی دیکھی تو عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بڑی عمدہ لنگی ہے ، آپ یہ مجھے عنایت فرما دیجئے ۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لو ، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے تو اندر جا کروہ لنگی بدل کرتہہ کرکے عبدالرحمن کو بھیج دی
    (بخاري، كِتَابُ الأَدَبِ، بَابُ حُسْنِ الخُلُقِ وَالسَّخَاءِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ البُخْلِ،6036)

    خریدا ہوا اونٹ لوٹا دیا اور رقم بھی واپس نہ لی

    جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ( ایک غزوہ کے موقع پر ) اپنے اونٹ پر سوار آ رہے تھے ، اونٹ تھک گیا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو ایک ضرب لگائی اور اس کے حق میں دعا فرمائی ، چنانچہ اونٹ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ کبھی اس طرح نہیں چلا تھا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اسے ایک اوق یہ میں مجھے بیچ دو ۔ میں نے انکار کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر پھر میں نے آپ کے ہاتھ بیچ دیا ، لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرالیا ۔ پھر جب ہم ( مدینہ ) پہنچ گئے ، تو میں نے اونٹ آپ کو پیش کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت بھی ادا کردی ، لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو میرے پیچھے ایک صاحب کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا ( میں حاضر ہوا تو ) آپ نے فرمایا کہ میں تمہارا اونٹ کوئی لے تھوڑا ہی رہا تھا ، اپنا اونٹ لے جاو، یہ تمہارا ہی مال ہے ۔ ( اور قیمت واپس نہیں لی )
    (صحيح البخاري كِتَابُ الشُّرُوطِ، بَابُ إِذَا اشْتَرَطَ البَائِعُ ظَهْرَ الدَّابَّةِ إِلَى مَكَانٍ مُسَمًّى جَازَ،2718)

    اور مسلم کی ایک روایت میں ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا
    خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ
    (مسلم، بَاب بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ،715)
    اپنا اونٹ بھی لے لے اور اپنے درہم بھی لے لے یہ تیرا مال ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فقر اختیاری تھا

    لطف یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال پر خوش تھے اور آپ نے اسے اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لیا تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا ]
    ’’اے اللہ! آل محمد کا رزق گزارے کے برابر کر دے۔‘‘
    [ مسلم، الزکاۃ، باب في الکفاف و القناعۃ : ۱۰۵۵ ]

    انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِيْ مِسْكِيْنًا وَ أَمِتْنِيْ مِسْكِيْنًا وَاحْشُرْنِيْ فِيْ زُمْرَةِ الْمَسَاكِيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ إِنَّهُمْ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِيْنَ خَرِيْفًا ]
    ’’اے اللہ! مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھنا، مسکین ہونے کی حالت میں موت دے اور مسکینوں کی جماعت سے اٹھا۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنھا نے پوچھا : ’’یا رسول اللہ! یہ کیوں؟‘‘ آپ نے فرمایا : ’’وہ جنت میں اپنے اغنیاء سے چالیس (۴۰) سال پہلے جائیں گے۔‘‘
    [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء أن فقراء المھاجرین… : ۲۳۵۲ ]

    ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ (رسول اللہﷺ نے دعا فرمائی)
    اللهمّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحشرنِي فِي زَمْرَة الْمَسَاكِين.
    اے اللہ مجھے مسكینی كی حالت میں زندہ ركھ ، اور مسكینی كی حالت میں فوت كر ، اور مجھےمساكین كے گروہ میں جمع كر۔
    [سلسلہ صحیحہ:1331]
    [عبد بن حمید فی المنتخب من المسند:2/110]

    آپ نے کبھی ٹیک لگا کر شاہانہ طور طریقے سے کھانا نہیں کھایا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    لَا آکُلُ مُتَّکِئًا
    ’’میں ٹیک لگاکر نہیں کھاتا‘‘
    (صحیح بخاری: 5398)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی کبھی میدہ نہیں کھایا

    ابو حازم نے بیان کیاکہ
    میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا
    هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ؟
    ، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدہ کھایا تھا ؟
    انہوں نے کہاکہ
    «مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ، مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ»
    جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے وفات تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ دیکھا بھی نہیں تھا ۔
    میں نے پوچھا
    هَلْ كَانَتْ لَكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَاخِلُ؟
    کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے پاس چھلنیاں تھیں
    انہوں نے کہا کہ
    «مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا، مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ»
    جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے آپ کی وفات تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھلنی دیکھی بھی نہیں ۔

    انہوں نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا
    كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟
    آپ لوگ پھر بغیر چھنا ہوا جو کس طرح کھاتے تھے ؟
    انہوں نے بتلایا
    كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ، فَيَطِيرُ مَا طَارَ، وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ
    ہم اسے پیس لیتے تھے پھر اسے پھونکتے تھے جو کچھ اڑنا ہوتا اڑجاتا اورجو باقی رہ جاتا اسے گوندھ لیتے ( اور پکاکر ) کھالیتے تھے
    (بخاری، كِتَابُ الأَطْعِمَةِ، بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ ﷺ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ،5413)

    آپ کے گھر والوں نے کبھی مسلسل تین راتیں پیٹ بھر کر کھانہ نہیں کھایا

    عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں :
    [ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِيْنَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتّٰی قُبِضَ ]

    ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے، جب سے آپ مدینہ میں آئے، تین دن پے در پے گندم کا کھانا سیر ہو کر نہیں کھایا، یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئے۔‘‘
    [ بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلی اللہ علیہ وسلم و أصحابہ… : ۶۴۵۴ ]

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پتلی روٹی یا سٹیم روسٹڈ بکری نہیں کھائی

    حضرت انس رضی اللہ عنہ لوگو ں سے کہتے کہ
    «كُلُوا، فَمَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ، وَلاَ رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ»
    کھاؤ ، میں نے کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتلی روٹی کھاتے نہیں دیکھا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھ سے بھنی ہوئی بکری دیکھی ۔ یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہوگیا ( صلی اللہ علیہ وسلم )

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ،گھر میں، کوئی چیز کل کے لیےذخیرہ نہیں کیا کرتے تھے

    انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ»
    (ترمذي،أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ،بَاب مَا جَاءَ فِي مَعِيشَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَهْلِهِ​2362صحيح)
    نبی اکرمﷺ آنے والے کل کے لیے کچھ نہیں رکھ چھوڑتے تھے

    مسافر مہمان کو کھانہ کھلانے کے لیے میرے نبی کے گھر میں کچھ بھی نہیں تھا

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس پیغام بھیجا، ان کی طرف سے جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ مَنْ يَضُمُّ أَوْ يُضِيْفُ هٰذَا؟ ]
    ’’اس مہمان کو اپنے ساتھ کون لے جائے گا؟‘‘
    انصار میں سے ایک آدمی (جن کا نام ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تھا :صحیح مسلم) نے کہا:
    ’’میں لے جاؤں گا۔‘‘
    چنانچہ وہ اسے لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے کہا :
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کرو۔‘‘
    اس نے کہا:
    ’’ہمارے پاس بچوں کے کھانے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
    اس نے کہا:
    ’’کھانا تیار کر لو، چراغ جلا لو اور بچے جب کھانا مانگیں تو انھیں سلا دو۔‘‘
    اس نے کھانا تیار کر لیا، چراغ جلا دیا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر وہ اس طرح اٹھی جیسے چراغ درست کرنے لگی ہے اور اس نے چراغ بجھا دیا۔ میاں بیوی دونوں اس کے سامنے یہی ظاہر کرتے رہے کہ وہ کھا رہے ہیں، مگر انھوں نے وہ رات خالی پیٹ گزار دی۔ جب صبح ہوئی اور وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا
    تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ ضَحِكَ اللّٰهُ اللَّيْلَةَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فَعَالِكُمَا ]
    ’’آج رات تم دونوں میاں بیوی کے کام پر اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا فرمایا کہ اس نے تعجب کیا۔‘‘
    تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
    « وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ »
    [ الحشر: ۹ ]
    ’’اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔‘‘
    [ بخاري، مناقب الأنصار، باب قول اللّٰہ عزوجل: «و یؤثرون علی أنفسہم …» : ۳۷۹۸۔ مسلم : ۲۰۵۴ ]

    مانگنے والی عورت کو دینے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں صرف ایک کھجور

    امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان فرمایا: ’’میرے پاس ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ آئی۔ اس نے مجھ سے سوال کیا، لیکن اس نے میرے پاس سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہ پایا۔ میں نے اس کو وہی دے دی۔ اس نے اس کو لے کر ان دونوں میں تقسیم کردیا اور خود اس میں سے کچھ نہ کھایا۔ پھر وہ اٹھی اور اپنی دونوں بیٹیوں کے ہمراہ چلی گئی۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا واقعہ سنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’مَنْ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْئٍ، فأَحْسَنَ إِلَیْھِنَّ، کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ۔
    [جس شخص کو ان بیٹیوں میں سے کسی چیز کے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے ان کے ساتھ احسان کیا، تو وہ اس کے لیے [جہنم کی] آگ کے مقابلے میں رکاوٹ ہوں گی۔‘‘]

    متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الأدب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ ومعانقتہ، رقم الحدیث ۵۹۹۵، ۱۰/۴۲۶؛ وصحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الإحسان إلی البنات، رقم الحدیث ۱۴۷۔(۲۶۲۹)، ۳/۲۰۲۷۔ الفاظ حدیث صحیح مسلم کے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے جب لگزری زندگی گزارنے کی خواہش کی تو آپ ان سے ناراض ہو گئے

    بنوقریظہ کے اموال اور دوسری فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت کچھ بہتر ہو گئی تو انصار و مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے بھی نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی صورت اپنی زہد و قناعت کی زندگی ترک کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بیویوں کے اصرار پر آپ کو سخت رنج اور صدمہ ہوا اور آپ نے قسم کھا لی کہ میں ایک ماہ تک تمھارے پاس نہیں آؤں گا۔

    يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا
    اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آئو میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اورتمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔
    الأحزاب : 28

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر،حجرات

    ’’یہ نو حجرے تھے، ہر بیوی کے پاس ایک حجرہ تھا اور یہ کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، ان کے دروازوں پر سیاہ بالوں کے ٹاٹ کے پردے تھے۔

    داؤد بن قیس رحمہ اللہ نے فرمایا:
    ’’میں نے وہ حجرے دیکھے ہیں، کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، جنھیں باہر کی جانب سے بالوں کے ٹاٹوں سے ڈھانپا ہوا تھا اور میرا گمان ہے کہ صحن کے دروازے سے کمرے کے دروازے تک چھ یا سات ہاتھ (نو یا ساڑھے دس فٹ) کا فاصلہ تھا اور کمرے کا اندرونی حصہ دس ہاتھ (پندرہ فٹ) تھا اور میرا گمان ہے کہ گھر کی چوڑائی سات آٹھ ہاتھ (ساڑھے دس بارہ فٹ) کے درمیان تھی۔‘‘
    بخاری نے ’’الادب المفرد‘‘ میں اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے اسے روایت کیا ہے

    اور حسن سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا :
    ’’میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے کمروں میں جایا کرتا تھا تو ان کی چھت کو ہاتھ لگا لیتا تھا۔ ولید بن عبد الملک رحمہ اللہ کے عہد میں ان کے حکم سے ان گھروں کو مسجد نبوی میں شامل کر دیا گیا جس پر لوگ بہت روئے۔‘‘

    اور سعید بن مسیب نے فرمایا :
    ’’اللہ کی قسم! مجھے پسند تھا کہ ان حجروں کو ان کی حالت پر رہنے دیا جاتا، تاکہ اہلِ مدینہ کے بچے بڑے ہوتے اور تمام دنیا سے آنے والے آتے تو دیکھتے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیسے گھروں پر اکتفا کیا ہے۔ اس سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی حرص اور اس پر فخر کے بجائے زہد اور دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوتی۔‘‘

    بوقت وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی کیفیت

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
    «لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ، حَتَّى طَالَ عَلَيَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ»
    (بخاری ،كِتَابُ الرِّقَاقِ،بَابُ فَضْلِ الفَقْرِ،6451)
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے توشہ خانہ میں کوئی غلہ نہ تھاجو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا، سوائے تھوڑے سے جو کے جو میرے توشہ خانہ میں تھے، میں ان میں سے ہی کھاتی رہی آخر جب بہت دن ہوگئے تو میں نے انہیں ناپا تو وہ ختم ہوگئے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت یا ترکہ

    عمر وبن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
    مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ صَدَقَةً
    (بخاري ،كِتَابُ المَغَازِي،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ ﷺ وَوَفَاتِهِ،4461)
    کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑے تھے ، نہ دینا ر ، نہ کوئی غلام نہ باندی ، سوااپنے سفید خچر کے جس پر آپ سوار ہواکرتے تھے اور آپ کا ہتھیار اور کچھ وہ زمین جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں مجاہدوں اور مسافروں کے لیے وقف کررکھی تھی

    میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں اللہ کا شکر ادا کرنے والے تھے

    جب پیدا ہوئے تو باپ فوت ہو چکا تھا
    کچھ وقت گزرا تو ماں بھی دنیا سے چلی گئی
    تھوڑی ہی مدت گزری کہ چچا بھی وفات پا گئے
    اس کے ساتھ ہی وفادار بیوی داغ مفارقت دے گئی
    پھر ایک وقت آیا کہ قوم نے تنگ کرنا شروع کر دیا نوبت یہاں تک پہنچی کہ بائیکاٹ کر دیا گیا
    کچھ امید لے کر طائف میں تشریف لے گئے لیکن وہاں سے بھی پتھر کھانے پڑے
    پھر واپس آئے تو اپنی ہی قوم قتل کے منصوبے بنا رہی تھی
    مجبور ہو کر آبائی شہر چھوڑ دیا
    دیار غیر میں پناہ گزیں ہوئے لیکن دشمن نے وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا
    الغرض اتنی ساری تکالیف کے باوجود اپنے رب کی بہت عبادت کیا کرتے تھے ایک دن عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھ ہی لیا کہ اتنی عبادت
    تو فرمانے لگے
    أفلا اکون عبدا شکورا
    کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں

  • دانش تیمور فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کے شکر گزار کیوں؟

    دانش تیمور فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کے شکر گزار کیوں؟

    پاکستان کے معروف اداکار دانش تیمورنے پرتگالی اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کی جانب سے انسٹاگرام ویڈیو میں شامل اپنا نام دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی:حال ہی میں رونالڈو کے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر فالوورز کی تعداد 300 ملین سے زائد ہوئی ہے جس کے بعد وہ دُنیا کی وہ واحد شخصیت بن گئے ہیں جنہیں انسٹاگرام پر 300 ملین سے زائد صارفین نے فالو کیا ہوا ہے-

    کامیابی کے اس موقع پر رونالڈو نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے انسٹاگرام پر ایک خصوصی ویڈیو پوسٹ کی جو اُنہوں نے دُنیا بھر میں موجود اپنے مداحوں کے محبت بھرے پیغامات کو جوڑ کر بنائی جن میں پاکستانی اداکار دانش تیمور کا پیغام بھی شامل تھا –

    رونالڈو کی ویڈیو میں اپنا نام دیکھ کر دانش تیمور ناصرف خوش ہوئے بلکہ فٹبالر کے لیے انسٹاگرام پر پوسٹ بھی شیئر کردی۔

    دانش تیمور نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ میں پہلے دن سے ہی رونالڈو کا ایک بہت بڑا مداح رہا ہوں میں نے آج صبح دیکھا انسٹاگرام پر رونالڈو کو 300 ملین صارفین نے فالو کرلیا ہے تو بہت خوشی ہوئی اور پھر میں رونالڈو کی ویڈیو میں اپنا نام دیکھ کر چونک گیا۔

    اُنہوں نے لکھا کہ میں ابھی بھی اس بات پر یقین نہیں کرسکتا کہ رونالڈو نے اپنی ویڈیو میں میرا نام اور پیغام شامل کیا ہے۔

    دانش تیمور نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ واقعی ایک اعزاز کی بات ہے اور میں کبھی بھی نہیں بھولوں گا، یہ میری پوری زندگی کا ایک بہترین دن ہوسکتا ہے۔دانش تیمور

    آخر میں اُنہوں نے پرتگالی اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    کرسٹیانو رونالڈو انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت بن گئے

    اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے ایک اور گول کر کے اہم سنگ میل عبور کر لیا

    رونالڈو نے کوک کی بوتلیں پریس کانفرنس کے میز سے ہٹائیں تو کمپنی کو کتنے اربوں کا نقصان ہوگیا

  • خیبرپختونخوا حکومت نے ٹیکنالوجی کے لئے 14 بلین روپے مختص کئے ہیں   عاطف خان

    خیبرپختونخوا حکومت نے ٹیکنالوجی کے لئے 14 بلین روپے مختص کئے ہیں عاطف خان

    خیبر پختونخواہ (کے پی) کے وزیر برائے سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایس ٹی اینڈ آئی ٹی) اور فوڈ عاطف خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے شہریوں کو خدمات کی فراہمی میں بہتری کے لئے ڈیجیٹل معیشت ، شفافیت اور فروغ کے مقصد کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں 14 ارب روپے کے میگا پروجیکٹس کو شامل کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیر آئی ٹی نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت معاشی ترقی ، معاشرتی کو تیز کرنے اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مہارتوں سے نوجوانوں سے آشنا کرنے کے لئے ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے گہری دلچسپی لے رہی ہے۔

    منصوبوں کی تفصیلات دیتے ہوئے ، عاطف خان نے بتایا کہ 2.70 ارب روپے کی لاگت سے شہری سہولت مراکز (سی ایف سی) قائم کیے جائیں گے ، جن میں نئے ضم شدہ اضلاع سمیت تمام اضلاع میں عوام کو ڈومیسائل ، پیدائش ، جیسی بنیادی سہولیات تک آسان رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ موت ، شادی اور طلاق نامہ اسلحہ اور ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے اندراج بھی ہوں گے-


    عاطف خان نے بتایا کہ مردان میں 742 ملین روپے کی لاگت سے ڈیجیٹل اکانومی اور اسکل سنٹر کے قیام کو بھی نوجوانوں کو مہارت اور جدید ترین مہارت سے آراستہ کرنے کے لئے میگا پروجیکٹس میں شامل کیا گیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مردان میں 2 ہزار کنال پر پھیلے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (ایس ٹی زیڈز) کو خصوصی ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے قیام کے لئے بھی مختص کیا گیا ہے۔

    مزید برآں ، ڈیجیٹل سٹی ہری پور 1 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے جلد قائم ہوجائے گی جبکہ اس منصوبے سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا اور اس علاقے میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

    پشاور اور سوات میں گندھارا ڈیجیٹل کمپلیکس کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ان منصوبوں کے لئے 4.06 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس کے تحت آئی ٹی پارکس ، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (بی پی او) ، اور انکیوبیشن مراکز جلد عمل میں آئیں گے۔

    عاطف خان نے کہا کہ تمام مرجع اضلاع میں ڈیجیٹل ہنر اور نوجوانوں کی صلاحیت سازی کے لئے ایک ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مربوط علاقوں میں ایس ٹی آئی کو فروغ دینے کے لئے اے ڈی پی اسکیم بھی شروع کی ہے جس کی کل لاگت 300 ملین روپے ہے۔

    مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل کے لئے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں صلاحیت پیدا کرنے اور بائیوٹیکنالوجی ، نینو ٹیکنالوجی ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) ، بگ ڈیٹا اور ڈیٹا مائننگ ، روبوٹکس ، اور میٹریل سائنس میں تحقیق کے لئے ماحول کو قابل بنانے کے لئے 450 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ، "اس کے علاوہ ، ایس ایم ایز کو تکنیکی مدد کے لئے صنعتی مسابقت اور جدت طرازی میں اضافہ ، ٹیکنالوجی انکیوبیشن مراکز کا قیام ، ٹیکنالوجی کے ضوابط ، اصل سند ، اور لیبر کی HR ترقی ترقیاتی منصوبے ہیں جن کو اس سال 450 ملین روپے کی لاگت میں شامل کیا گیا ہے۔”

  • پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ نکل کیوں نہ سکا ؟ کیا کوئی سازش ہورہی ہے؟ تحریر:نوید شیخ

    پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ نکل کیوں نہ سکا ؟ کیا کوئی سازش ہورہی ہے؟ تحریر:نوید شیخ

    آج ایک بار پھر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کوگرے لسٹ میں ہی رکھا ہے ۔ اور کہا ہے کہ پاکستان بہت اچھا کام کررہا ہے ۔ مزید کرتا رہے ۔ اس حوالے سے حماد اظہر نے ایک پریس کانفرنس بھی کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 27 سے 26 نکات پر عمل کرچکا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ایف اے ٹی ایف کے صدر Dr. Marcus Pleyer نے کہا کہ اب بھی پاکستان کو دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی بھارت کی حوالے سے دونمبری تو آگے چل کر بتاتا ہوں ۔ پراس حوالے سے حماد اظہر نے کہا ہے کہ جلد اس پر بھی عمل درآمد کر لیا جائے گا ۔

    ۔ پر اس حوالے سے کچھ چیزوں اور معاملات کو دیکھنا بہت ضروری ہے ۔ اگر آپ غور کریں تو جب بھی ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہونے والا ہوتا ہے تو کچھ اہم واقعات اور چیزیں رونما ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جاتا ہے ۔ ۔ سب جانتے ہیں کہ انڈیا کی سازشوں کے نتیجے میں حافظ سعید کو اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے عالمی شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جبکہ امریکہ نے ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت بھی ہیں جن کا نام ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں متعدد بار لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں ہونے والے دھماکے کے بعد ہر قسم کے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ جبکہ پاکستان نے حافظ سعید کو 2019 میں گرفتار کیا جبکہ اس سے پہلے انھیں ان کے گھر میں نظر بند اور واچ لسٹ پر بھی ڈالا ہوا ہے۔

    ۔ توعین اجلاس سے پہلے لاہور میں ایک دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے اور یہ خاص حافظ سعید کے گھر کے پاس ہوتا ہے ۔ یہ بڑا معنی خیز واقعہ تھا ۔ اس کے پیچھے کون ہے اس کا سراغ تو یقینی طور پر ایجنسیاں لگا رہی ہوں گے ۔ عنقریب اس میں ملوث کردار کیفر کردار تک بھی پہنچ ہی جائیں گے ۔ پر اس واقعہ سے واضح ہوگیا ہے کہ کوئی ہے جو چاہتا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف میں پھنسا رہے ۔ کوئی ہے جو چاہتا ہے کہ پاکستان معاشی طور پر خود کفیل نہ ہوسکے ۔ کوئی ہے جو مسلسل پاکستان کے خلاف اندرونی اور بیرونی طور پر سازشیں جاری رکھے ہوئے ۔ اس ہی بارے چند روز قبل وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بغیر کسی لگی لپٹی نام لے کر کہا تھا کہ انڈیا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اور انڈیا کو اس فورم کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ اس حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے جسے سیاسی معاملات کو نمٹانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ تو وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جو بیان دیا تھا اس سے واضح ہو گیا تھا کہ معاملات پیچیدہ نظر آرہے ہیں۔ اور پہلے سے معلوم تھا کہ اس بار کوئی ریلیف نہیں ملنا ۔

    ۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایف اے ٹی ایف میں انڈیا کو قانونی طور پر نہیں روکا جا سکتا۔ ساتھ ہی اس وقت جو ماحول بنا ہوا ہے۔ وہ پاکستان کے خلاف جاتا ہوا ہی نظر آ رہاتھا۔ کیونکہ لاہور میں ہونے والے دھماکے کو ایک سائیڈ پر بھی رکھ دیں تو دوسری جانب افغانستان والا معاملہ بھی آپ کے سامنے ہے ۔ ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے پاکستان بڑھتا ہوا پریشر بھی آپ کے سامنے ہے ۔ تو افغان صورتحال کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کے فورم کو امریکہ کی جانب سے پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جانا آپ رد نہیں کر سکتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں کئی حکومتی نمائندے جیسے کہ معید یوسف، شاہ محمود قریشی اور یہاں تک کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے خود ایسے بیانات دیے گئے ہیں کہ اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا الزام پاکستان پر عائد نہ کیا جائے۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ انھیں کہیں نہ کہیں سے یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ ایسا کیا جا سکتا ہے اور پاکستان کے خلاف اس طرح کا بیانیہ بنایا جا سکتا ہے۔ جس کے بعد ایف اے ٹی ایف اور اس جیسے دیگر فورمز کو پاکستان کے خلاف استعمال کیاجانا مقصود ہے ۔

    ۔ دوسری جانب جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ایف اے ٹی ایف جیسے عالمی فورمز تکنیکی ہوتے ہیں۔ اور انھیں ویسے ہی رہنے دینا چاہیے۔ کیونکہ ایسا نہ ہونا ایف اے ٹی ایف کی اپنی ساکھ کے لیے صحیح نہیں ہے۔ ورنہ ایسے فورمز پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے جو کہ ہو رہا ہے کیونکہ سیاست استعمال ہو رہی ہے۔ مگر طاقت کا اپنا اصول ہوتا ہے ۔ اس چیز کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ جس کو استعمال کرکے بڑے ممالک چھوٹوں کو سرنگوں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

    ۔ اس حوالے سے پاکستان کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا اور اپنا house in order کرنا بھی ضروری ہے ۔ سازشوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنی بے وقوفیوں پر بھی نظر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ ایف اے ٹی ایف کے لیے ایک نمائندہ یا ترجمان ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر غور کیا جائے تو ایک ہی وقت کئی حکومتی وزرا اس حساس موضوع پر اپنی رائے دیتے رہتے ہیں۔ یہاں تک فردوس عاشق اعوان بھی اس پر اپنی ماہرانہ رائے دیتی رہتی ہیں ۔ اس وقت یہ ہو رہا ہے کہ کئی ترجمان اور وزراء اپنے اپنے نمبر ٹانگنے کی چکروں میں ایف اے ٹی ایف پر سیاسی بیانات کا جواب دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کو نیچا دیکھانے کے لیے بلاوجہ کے گڑھے مردے اکھاڑے جاتے ہیں ۔ جس سے ہمارا کیس عالمی برادری کے سامنے کمزور ہو جاتا ہے اور جو مخالفین ہیں ان کو فائدہ پہنچتا ہے۔

    ۔ کیونکہ انڈین میڈیا میں خبریں اور تجزیے دیکھ کر اور پڑھ لیں آپکو واضح تصویر پتہ چل جائے گی کہ انڈیا کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے۔ اس وقت بھی کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا گیا ہے تو وہاں پرخوب خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کیا جا رہے ہیں ۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے ادارے اور قیادت بھارت کی اس کوشش کو ناکام بنا چکے ہیں کہ پاکستان بلیک لسٹ میں رہے لیکن اب بھارت چاہتا ہے کہ مزید سوالات اور اعتراضات ہوں۔ اور پاکستان پھر سے پیچھے کے طرف جائے اور گرے سے نکل کر کسی طرح بلیک لسٹ میں شامل ہو ۔ یوں ہم ایف اے ٹی ایف کے گھن چکر میں پھنسے رہیں ۔

    ۔ کیونکہ آپ گذشتہ تین برسوں سے انڈیا کے ذرائع ابلاغ اور اعلیٰ حکام کے بیانات دیکھ لیں ۔ ساتھ ہی انڈین سفارتکار ایشیا پیسیفک گروپ اور ایف اے ٹی ایف دونوں جگہ پاکستان کے خلاف لابینگ کرتے رہے ہیں ۔ پاکستان ایشیا پیسیفک گروپ کا تو رکن ہے لیکن وہ 40 رکنی ایف اے ٹی ایف کا رکن نہیں جہاں حتمی فیصلہ ہوتا ہے۔ انڈیا اس کا ایک رکن ہے۔ جس کا وہ اس صورتحال میں فائدہ اٹھاتا ہے ۔ ۔ دوسرا سازشی تھیوریوں پر بھی کم دھیان دینا چاہیئے جیسے ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انڈیا کے علاوہ فرانس بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاہم بعد میں پاکستانی وزارت خزانہ نے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ انٹرنیشنل ۔۔۔ کوآپریشن ریویو گروپ ۔۔۔کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے فرانس پاکستان کا ایک فعال پارٹنر ہے جو تکنیکی معاونت اور ہدایات فراہم کرتا رہتا ہے۔ اسی کے پس منظر میں وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ افواہوں پر مبنی یا سسنی خیز خبریں شائع کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے ہمارے بین الاقوامی تعاون اور ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔۔ دیکھا جائے تو ایف اے ٹی ایف کی اس وقت رہ جانے والی سفارشات پر پاکستان نے بھرپور کام کیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو اعتراضات آتے رہے ہیں ۔ ان کا بھی پاکستان جواب دیتا رہا ہے اور آگے بھی دیتا رہے گا۔ اس لیے پاکستان کا یہ خیال تھا کہ پاکستان سے مزید کام کرنے یا ’ڈو مور‘ کی تلوار ہٹا دینی چاہیے۔ بالکل جائز خواہش تھی ۔

    ۔ مگر دنیا میں معاملات ایسے نہیں چلتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی شفارشات پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے بڑی شدید لابنگ اور بہترین سفارت کاری کی ضرورت بھی ہے۔ اور اس حوالے سے ایک فوکل پرسن کا ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔ ۔ کیونکہ جب ایف اے ٹی ایف کے سربراہ
    Dr. Marcus Pleyer سے سوال پوچھا گیا کہ کیا باقی ماندہ ایک آئٹم پورا کرنے کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا یا منی لانڈرنگ کے حوالے سے ایکشن پلان پر بھی عمل در آمد گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ضروری ہو گا۔ تو انہوں نے کہا کہ ایک آئٹم جو کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سزاؤں سے متعلق ہے اس کے مکمل ہونے کے بعد ایک ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے گا جو زمینی حقائق کا جائزہ لے گی۔ ۔ دوسری جانب اس موقع پر اردو نیوز کے نامہ نگار وسیم عباسی نے بھارت میں یورینیم کے لیک اور بھارت کے جائزے پر سوال کیا جس پر ایف اے ٹی ایف کے سربراہ کا کہنا تھا۔ میں یورینیم سے متعلق میڈیا رپورٹس سے آگاہ ہوں مگر جب تک ہم ان کا جائزہ نہ لے لیں تب تک اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ تو اس سے آپ اس فورم کی baisness
    کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔

    ۔ اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح ایک بلیک لسٹ بھی ہے جس میں اس وقت دنیا کے دو ممالک ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ ۔ گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر روکا جا سکتا ہے۔ تو ہم کو vigilant رہنے کی بھی ضرورت ہے اور عقل وفہم کا استعمال کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ جوش کی نہیں ہوش کی ضرورت ہے ۔ ۔ ہم کو یاد رکھنا چاہیے اس بارے میں جہاں انڈیا کی تمام تر توجہ کا مرکز آنے والے دنوں میں ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ ہے۔ وہیں امریکہ بھی اس تمام تر صورتحال کو بغور دیکھ رہا ہے۔ اور افغانستان کا غصہ پاکستان پر نکالنے کی راہ تلاش کر رہا ہے ۔

  • کراچی روشنیوں سے کچرے کا سفر. تحریر: عقیل احمد راجپوت

    کراچی روشنیوں سے کچرے کا سفر. تحریر: عقیل احمد راجپوت

    کراچی دنیا کے چھٹے بدترین رہائشی شہروں میں شامل ہوگیا جس پر کراچی کے شہری مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ پورے پاکستان کو ٪67 ریونیو اور سندھ کا ٪90 پرسنٹ ریونیو اکھٹا کرکے دینے پر کراچی کے شہری کچرے گٹر ملے پانی سیوریج کے ناکارہ نظام اور ٹوٹی سڑکوں کے ساتھ صحت کی سہولیات کے فقدان کے حقدار ہیں اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ یہ ہر سال ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ خیرات کرتے ہیں مگر مستحق تک کتنی پہنچتی ہے کوئی نہیں جانتا کیونکہ کراچی کا فقیر مقامی نہیں ہے سفید پوش لوگوں کا حق مارنے کی طرح سندھ اور وفاق بھی کراچی کا حق ہمیشہ سے مارتا آیا ہے کوٹہ سسٹم سے لیکر مردم شماریوں تک ہر چیز میں کراچی کی حق تلفی کی گئی مگر کراچی موجودہ اور سابق حکمرانوں نے ان کی امیدوں کو پورا کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دی ماسوائے پرویز مشرف کے دور حکومت نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال کی نظامت میں کراچی نے عروس البلاد کراچی کا کچھ فیصد ہی حسن دیکھا مگر پیپلز پارٹی کی 13 سالوں کی محنت اور لگن نے کراچی کو کچراچی میں ایسا تبدیل کیا کے لوگ موئن جو دڑو کو بھول کر کراچی کی مثالیں پیش کرنے لگے ہیں احوال یہ ہے کے کراچی سی پورٹ اور ریونیو کی بہتات کے باوجود اپنے حصے کا آئینی حق مانگ تو رہا ہے مگر حکمرانوں میں دم خم نظر نہیں آتا موجودہ حکمرانوں کو دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کراچی کے حکمرانی کے دعویدار کہلاتے ہیں مگر سندھ وفاق پر اور وفاق سندھ پر کراچی سے تعصب کی بناء پر سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہا ہے کا الزام عائد کرتے ہیں رہی ایم کیو ایم تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا وزارت لو سائٹ میں بیٹھ کر کبھی وفاق پر کبھی سندھ حکومت پر لسانی صوبے کے نعرے کے نام پر بلیک میل کرو کی سیاست پر عمل پیرا ہے کیونکہ شائد وہ اس بات کا یقین کرچکے ہیں کے کراچی والے اتنے بھولے ہیں کے ہماری کسی بھی کارکردگی کو پس پشت ڈال کر صرف مہاجر نعرے پر انہیں تاقیامت ووٹ ملتے رہیں گے حالانکہ 2018 کے الیکشن کا رزلٹ جیسا بھی رہا ہے ایم کیو ایم کو اس کے ووٹرز نے متنبہ کیا ہے کے سمبھل جاؤ حد تو یہ کے 2021 کے بلدیہ ٹاؤن کے حلقہ این اے 249 میں ایم کیو ایم ٹاپ فور میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی

    بہرحال کراچی کا موسم اور کراچی والوں کا دماغ کب بدل جائے کوئی نہیں جانتا 2023 کے جنرل الیکشن سے پہلے شائد بلدیاتی انتخابات ہوجائے مشکل ہے مگر ناممکن نہیں اگر ایسا ہوا تو کراچی والوں کا انتخاب کیا ہوگا
    دو بڑے کانٹے دار مقابلے کی امید کی جارہی ہیں اگر بلدیاتی انتخابات سیدھا ناظم کے لئے ہوئے تو کراچی کی پہلی پسند سید مصطفیٰ کمال ہی ہونگے یہ بات کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنوں سے بھی پوچھ لی جائے تو وہ انکاری نہیں ہوسکتا دوسرا مقابلہ یونین کونسل کی سطح پر ہونے والے انتخابات کی صورت میں اس وقت مشکل اختیار کر سکتا ہے جب کراچی کو ضلعی سطح پر مزید تقسیم کرنے کی پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے روک دیا جائے یا کورٹ سے ان پر حکم امتناعی جاری ہوجائیں تو کراچی میں اس بار مقابلہ پاک سر زمین پارٹی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مشترکہ طور پر ہوسکتا ہے کیونکہ بلدیہ ٹاؤن کے ضمنی انتخابات میں پاک سر زمین پارٹی نے پورے پاکستان کے سامنے اپنی کامیاب انتخابی مہم کے زریعے منوا لیا ہے اور لوگوں نے انہیں ناقابل یقین پزیرائی سے بھی نوازا ہے جو بھی ہے مصطفیٰ کمال اپنے ماضی کے کاموں کے حوالے سے اپنی مہم کو کامیاب طور پر عوام کے سامنے رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو کراچی اور حیدرآباد کے شہری علاقوں سے ان کی جیت کا تناسب بہت بھاری اکثریت سے نکلنے کا امکان ہے مصطفیٰ کمال اپنی روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی کانر میٹنگ کو مستقل جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی انتخابی مہم این اے 249 کے بعد رکی نہیں بلکہ جاری وساری ہے وہ کراچی حیدرآباد میرپور خاص کے دوروں کے دوران اپنے ذمے داران کو مستقل طور پر لوگوں کے درمیان تعلقات کو بحال رکھنے اور عوامی رابطوں کو فعال رکھنے کی تاکید کر رہے ہیں مصطفیٰ کمال خود بھی پارٹی کے دیگر ارکان کے ساتھ روز کسی نا کسی گلی محلے میں چھوٹے اور بڑے جلسے اور کارنر میٹنگ سے خطاب کرکے کراچی کے لوگوں تک ان کی محرومی ختم کرنے کا کیا فارمولا ہے بتا بھی رہے ہیں اور لوگوں میں موجود بے چینی کو اپنی سیاسی قوت کے طور پر اپنی رائے سے ملانے کی کامیاب انتخابی مہم پر کامیابی سے عمل پیرا بھی ہیں

  • نگر اور صحت .تحریر: یاور عباس

    نگر اور صحت .تحریر: یاور عباس

    نگر قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ یہاں کے خوبصورت مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں لیکن ان دونوں نگر کے نوجوانوں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی انسانی حقوق کو لیکر سڑکوں پر ہیں آج ہم صحت کے مسائل پر بات کریں گے کہ آخر نگر میں صحت کے اتنے گھمبیر صورتحال کیسے پیدا ہوئے اور ان کا حل کیسے ممکن ہیں سب سے پہلے نگر میں موجود ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کا جائزہ لینگے اور سرکاری اعداد شمار پر ہی بات کریں گے۔
    ضلع نگر میں اس وقت دو 30 بیڈ ہسپتال ہیں ایک حلقہ پانچ نگر خاص اور ایک حلقہ چار سکندر آباد میں، نگر خاص کے ہسپتال میں کل 149 آسامیاں ہیں جن میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف سمیت گریڈ 1 تک کے ملازمین شامل ہے لیکن سرکاری کاغذات اور زمینی حقائق میں بہت بڑا تضاد ہے 30 بیڈ ہسپتال کے لئے 149 ملازمین کی ضرورت ہے جبکہ سرکار نے اب تک صرف 53 آسامیاں پر ملازمین بھرتی کی ہے اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کیا ہم 53 ملازمین سے دن رات بھی کام لئے تو 96 ملازمین کی کمی کو پوری کر سکتے ہیں اس سے بھی سنگین صورتحال 30 بیڈ سکندر آباد ہسپتال کے ہیں جہاں کل آسامیاں 149 ہیں اور بھرتی ملازمین کی تعداد صرف 27 ہے جبکہ اس ہسپتال میں ہنزہ نگر سمیت شاہراہ قراقرم پر ہونے والے تمام حادثات کے زخمی اور مریضوں کو فوری یہاں منتقل کیا جاتا ہے لیکن یہاں کے صورتحال آپ کے سامنے ہیں ایسے میں کیسے 27 ملازمین 122 ملازمین کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں، افسوس علاقے کی عوامی نمائندے غفلت کے نیند سو رہیں۔
    نگر کے مصائب ابھی ختم نہیں ہوئے اسکرداس 10 بیڈ ہسپتال میں کے لئے 39 ملازمین بھرتی ہونے تھے لیکن ابھی تک کسی ایک کو بھی بھرتی نہیں کیا گیا ہے، میاچھر میں موجود ضلع نگر کی واحد مادر اینڈ چائلڈ ہسپتال جس کو چلانے کے لئے سرکاری کاغذ میں 7 ملازمین کی ضرورت ہے کسی ایک کو بھی بھرتی نہیں کیا جاسکا۔

    اس کے علاوہ ڈاڈیمل نگر، اور سونی کوٹ چھلت نگر کے فرسٹ ایڈ سنٹرز کی بلڈنگز تو تعمیر ہوئے لیکن 7 میں سے کسی ایک ملازم کو بھرتی نہیں کیا گیاہے یہ صرف چند علاقوں کے کے تفصیلات ہیں باقی علاقوں میں اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔
    نگر کے مصائب بہت زیادہ ہیں جن کو ایک کالم میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے یہاں کے عوام اکیسویں صدی میں بھی صحت جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے گزشتہ 30 سالوں سے عوام کے درمیان اتنے نفرتیں پیدا کی ہے جس کے بدولت یہاں بھائی بھائی کا دشمن بنا ہے عوام تقسیم در تقسیم ہیں سیاسی و مذہبی لوگ اپنے ذاتی مفادات میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ ان کو مشترکہ مفاد کا خیال ہی نہیں لیکن ہم سلام پیش کرتے ہیں نگر کے نوجوانوں کو چاہئے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی، مذہبی، طلبہ یا علاقے جماعت سے ہے اس وقت نگر کے حقوق کے لئے ایک ہونے کی بھرپور کوشش کر رہیں اور کسی حد تک اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوچکے ہیں جن میں محکمہ تعلیم، محکمہ صحت کے ملازمین کی نوٹیفکیشن سمیت باب نگر کے ایشوز کو بہت ہی احسن طریقے سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہیں۔
    نگر کی ضلعی انتظامیہ خصوصآ ڈپٹی کمشنر نگر جناب ذوالقرنین حیدر خان اور ڈی ایچ او نگر، ایس پی نگر کی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور تعاون بھی قابل ذکر اور خوش آئند بات ہیں گلگت بلتستان خصوصآ نگر میں ایسا پہلے بار ہو رہا نوجوان اور ضلعی انتظامیہ مل کر مسائل کو حل کرنے مصروف ہیں۔
    ہماری دعا ہیں اللہ تعالٰی ان تمام لوگوں کی توقعات میں اضافہ فرمائیں جو خالق خدا کے لئے آسانیاں پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ آمین

  • سقوطِ ڈھاکہ، پاکستان کے لئے ففتھ جنریشن وار فیئر کا  آغاز.تحریر: امان الرحمٰن

    سقوطِ ڈھاکہ، پاکستان کے لئے ففتھ جنریشن وار فیئر کا آغاز.تحریر: امان الرحمٰن

    جو قومیں اپنی تاریخ سے سبق نہیں لیتی ہیں وہ خود تاریخ بن جاتی ہیں
    16 اور 17 دسمبر 1971 کی درمیانی شب، جب ریڈیو ڈھاکہ نے بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کیا ، یہ اعلان قیامت کے دن کی طرح دونوں اطراف کے مسلم پاکستانیوں کےدلوں پر پڑ گیا۔ پاک سرزمین کا ایک بڑا حصہ ہم سے الگ ہوچکا ہے۔ ایک بازو ٹوٹ گیا تھا۔ بہت سے لوگوں کی چیخیں اور ہچکیاں بند ہوگئیں اور بہت سے دلوں نے دھڑکنا بند کردیا۔ سقوط ڈھاکہ بھی جنگ کے متاثرین اور اس کے نتیجے میں کہکشاں طاقت کے طور پر سامنے آنے کے لئے قیامت کا دن تھا۔ آج تک ہم یہ تعین نہیں کرسکے ہیں کہ سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دار کون تھا۔
    سقوط ڈھاکہ شروع ہوتا ہے
    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد وہ سوچ تھی جو ملک کے دونوں حصوں میں پیدا ہوئی۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ مغربی پاکستان کی ایک ذیلی کالونی ہیں اور مغربی پاکستان ریشم کیڑا اور چائے کھا رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مرکز میں ان کی نمائندگی کا فقدان ہے۔ اسی طرح مغربی پاکستان میں یہ خیال بھی پھیل گیا تھا کہ مشرقی پاکستان میں آج سیلاب کی وجہ سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ بنگالی ایک بیکار قوم ہیں اور علم و عقل سے محروم ہیں۔ یہ پاکستان میں پانچویں نسل کی جنگ کا آغاز تھا۔
    1958 سے ، مغربی اور مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے علاقوں میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اور ایک مخلوط حکومت تشکیل دی گئی ہے۔ لیکن دسمبر 1970 میں ، یحییٰ خان کے ماتحت ملک کے سب سے پرامن اور پہلے بالغ ریفرنڈم کے انتخابات کے نتائج ایک جھٹکے کے طور پر سامنے آئے۔
    جب مجیب الرحمٰن نے مغربی پاکستان میں اپنی غیر مقبولیت کو دیکھا تو انہوں نے اندرا گاندھی کے ساتھ سازش کی ، جسے اگرتلا سازش کہا جاتا ہے۔ لیکن جلد ہی مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں مغربی شہریوں کا بے دردی سے قتل عام کرنا شروع کردیا۔ اگر صرف کوئی سازش ہوتی جس کے لئے مجیب نے اپنی جان دے کر قیمت ادا کی۔
    1970 کے انتخابات کے بعد ، مشرقی پاکستان کے وزیر اعظم بننا ان کا حق تھا۔ تب بھٹو صاحب نے اس وقت کے حالات کی نزاکت کو نہ سمجھے ، اور کہا کہ صدر مشرقی پاکستان سے ہوں گے ، ورنہ آپ یہاں ہیں اور ہم یہاں ہیں۔ اس نعرے کے معنی بنگالیوں نے پہلے ہی ہی پلٹ دیئے تھے جو پہلے ہی ہندوستانی پروپیگنڈے کے زیر اثر تھے اور ہندوستان کی مالی اعانت سے چلنے والی مکتی باہنی کو زیادہ کھل کر اپنا کھیل کھیلنے کا موقع ملا۔
    ہندوستانی حکومت 1965 کی جنگ میں پاکستانی فوج پر ڈھائے جانے والے بدترین ذلت کا بدلہ لینے کے لئے بے چین تھی کیونکہ ہندوستان کی فوج کو پہلے ہی 1962 میں چین کے ہاتھوں ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
    ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تذلیل محسوس کرتے ہوئے ، ہندوستانی فوج نے پاکستان کے خلاف پراکسی وار کا آغاز کیا۔ کیونکہ جنگ کا براہ راست نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ پاکستانی ، بحیثیت قوم ، دشمن کو کس طرح رد .عمل دیتے ہیں۔ لہذا ہندوستان نے اپنے پیسوں کا استعمال دونوں طرف تقریر کرنے اور ریڈیو پروگرام نشر کرنے کے لئے کیا جس سے فاصلے پیدا ہوئے۔ پھر اس نے مکتی باہنی کی بنیاد رکھی جس نے بنگالیوں کے حقوق کے نعرے لگائے اور احساس محرومی میں اضافہ کیا۔
    ایک طرف اندرا گاندھی مکتی باہنی کے توسط سے مسلمان بھائیوں کا قتل کررہی تھیں ، دوسری طرف وہ کہہ رہی تھیں کہ … آج ہم نے خلیج بنگال میں نظریہ پاکستان کو ڈبو دیا ہے۔
    سقوط ڈھاکہ
    جب مکتی باہنی نچلی سطح پر اپنا زہر پھیلارہا تھا تب بھی اقتدار کے ایوان میں حکومت سازی کی جدوجہد جاری تھی۔ ماننے کو تیار نہیں۔ اور بھارت کے دانت تیز تھے
    آخر کار ، پاکستان کی تاریخ میں ، تکلیف دہ دن وہ آیا جب دنیا نے حیرت سے دیکھا کہ 1965 میں ہندوستانی فوج کو کچلنے والی فوج صرف چھ سال بعد ہتھیار ڈال رہی ہے۔
    پاکستانی فوج نے ہائی کمان کے حکم کی تعمیل کی کیونکہ اسے اپنے ادارے پر اعتماد تھا۔ آرمی چیف جانتے تھے کہ سپلائی لائن ٹوٹی ہے۔ ہندوستانی فوج کی سپلائی بحال ہوگئی۔ غدار بنگالی پاکستانی فوج کو آگاہ کرکے ہندوستانی فوج کی خبریں پھیلا رہے تھے۔ مکتی باہنی نے فوجی بیرکوں کو کھانے پینے اور ایندھن کی فراہمی کے تمام راستے بند کردیئے تھے۔ تو پاک فوج کس کے لئے لڑے گی؟ سیاست کے لئے اور مکتی باہنی اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں یا غدار بنگالیوں کے لئے؟
    آج تک یہ بحث ختم نہیں ہوئی کہ سیاست دان ذمہ دار تھے یا فوج۔
    یاد رکھیں جب کلکتہ کے بازاروں میں مکتی باہنی کے بنگالیوں نے مغربی پاکستانی اساتذہ ، ڈاکٹروں ، انکم ٹیکس افسران اور دیگر طبقاتی ملازمین اور عام لوگوں کے قتل عام کے بعد اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور بہنوں کو کچھ پیسوں میں فروخت کیا تھا۔ یہ نہ تو فوج کا کام تھا اور نہ ہی کسی سیاستدان کا۔ یہ مسلمان بنگالیوں کا کام تھا جو دشمن پروپیگنڈے کا نشانہ بنے۔
    مکتی باہنی نے لاکھوں غیر بنگالی مسلمانوں کو قتل کیا اور اپنی تقریبا Muslim 1.5 ملین مسلمان بہنوں کو کولکتہ میں ہندوؤں کو فروخت کیا۔ وجہ پروپیگنڈا تھا جس نے بھائی کو بھائی کی عزت اور زندگی کا دشمن بنا دیا۔

    موجودہ صورت حال
    مکتی باہنی بنگالیوں کے حقوق کے نعرے کے تحت تشکیل دی گئی تھی اور مسلمانوں کا خون بہانے سے ملک کو فنا کردیا گیا اور جب مقصد حاصل ہوا تو ہندوستان نے مکتی بہنی اور مجیب کو بھی ختم کردیا۔
    کراچی میں ایم کیو ایم نے مہاجروں کے حقوق کے نام پر اپنے آپ کو قائم کیا اور کراچی کو خون میں نہلایا۔
    اب پی ٹی ایم پختون حقوق کے نام پر قائم کیا گیا ہے اور پختونوں کی لاشوں پر گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے۔
    ان تمام تنظیموں کا ایک ہی طریقہ ہے اور ایک ہی مقصد تمام پاکستانیوں کو ختم کرنا ہے۔ یہ پانچواں نسل کی جنگ ہے جس سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بار بار پاکستان کی موجودہ نوجوان نسل کو آگاہ کیا ہے۔
    ہمارا دشمن چالاک ہے ، وہ رات کے اندھیرے میں چپکے سے حملہ کرتا ہے اور اندھیرے میں غداروں کو خریدتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ہم سب سے پہلے اور سب سے اہم پاکستانی ہیں ، یہی ہماری شناخت ہے۔ آج بنگالیوں کے آلو … چائے اور چاول بین الاقوامی مارکیٹ میں ہندوستانی لیبل کے تحت فروخت ہوتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ہونے کے بجائے بنگلہ دیش ایک سیکولر جمہوریہ بن گیا ہے جہاں مسلمان علماء کو پھانسی دی جارہی ہے۔ مودی کہتے ہیں کہ یہ اپنا دوسرا گھر ہے۔
    اندرا گاندھی ، شیخ مجیب اور بھٹو اپنی خواہشات اور سازشوں سے اپنے انجام کو پہنچے۔ لیکن یہ پراکسی جنگ آج بھی جاری ہے۔ دشمن اب بھی وہی سازشیں کر رہا ہے۔ آج بھی غدار ہیں۔ لیکن اب جب ہم واقف ہیں ، تو آئیے مل کر جواب دیں دُشمن کے اُن تمام حربوں کو ناکام بنائیں اور جس کے لئے ہمارا سب سے بڑا اور مضبوط ہتھیار ہمارا اتحاد، اتفاق ہے اور ہم نے ہر حال میں اپنا اتحاد قائم رکھنا ہے اِن شاء اللہ
    اللہ کریم پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین
    پاکستان پائندہ باد

  • امن و محبت کی علمبردار۔۔۔۔ ایف سی فورس پاکستان ! تحریر:ذیشان ہوتی

    امن و محبت کی علمبردار۔۔۔۔ ایف سی فورس پاکستان ! تحریر:ذیشان ہوتی

    فرنٹیئر کور (ایف سی) ایک پیرا ملٹری فورس ہے جو پاک-افغان اور پاک-ایران بارڈر سے منسلک حساس علاقوں اور قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی کے فرائض ادا کر رہی ہے۔
    سال2001 کے بعد خیبرپختونخواہ کے قبائلی اضلاع سمیت پورا صوبہ پڑوسی ملک افغانستان کے قریب تر ہونے کی وجہ سے دہشتگردی جیسی آگ کی لپیٹ میں آگیا جس کی وجہ سے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ہزاروں لوگوں نے بھی اپنی جانیں قربان کیں اور کئی لاکھ خاندان بھی متاثر ہوئے۔ ان مشکل حالات میں ایف سی اور دیگر سیکیورٹی ادارے جہاں قبائلی علاقوں کی سرحدوں کا دفاع کر رہے تھے وہیں پختون روایات سے باخبر فرنٹیئرکور نے قبائلی علاقوں میں دہشتگردی سے متاثرہ لوگوں کے سروں پر دست شفقت رکھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران عوام کی خدمت اور ان کے جان و مال کے تحفظ میں آئی جی ایف سی سے لیکر فرنٹیر کور کے جوان تک ہر شخص بہ نفس نفیس شامل رہا جس نے ملک کے دفاع اور عوام کے تحظ کی قسم کھائی ہے۔

    خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع سمیت پورے پاکستان کو مستقل طور پر دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کیلئے ایف سی نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا آغاز کیا جسکو انتہائی مہارت اور خوش اسلوبی کیساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔
    ایف سی کے افسران بشمول جوانوں نے ارض مقدس کی سرحدوں کا نہ صرف جوانمردی سے دفاع کیا بلکہ دہشتگردی کے ناسور سے متاثرہ عوام کے ساتھ اپنا رابطہ بھی برقرار رکھا تاکہ عوام میں احساس محرومی پیدا نہ ہو جو ایک انتہائی شفیق اور بہترین عمل تھا۔ ایف سی نے عوام سے سناشائی کو بڑھایا اور ان میں گھل ملنے کے لئے ان کی ہر غمی خوشی میں شرکت کی۔ اس کی ایک بڑی مثال حالیہ ضلع مہمند کے زیارت ماربل کا حادثہ تھا جب فرنٹیر کور نے عوام کے دکھ کو اپنا سمجھتے ہوئے ان کے آنسؤں کو پونچھنے اورانہیں دلاسہ دینے کے لئے نہ صرف اپنا کندھا پیش کیا بلکہ ان کے خاندان کی مالی مدد بھی کی اور ساتھ ساتھ ان کے گھر کے ایک فرد کو ایف سی میں بھرتی کرنے کا اعلان بھی کیا۔
    فرنٹیر کور کی عوامی خدمت کا سلسلہ یہی پر نہیں رکتا بلکہ ایف سی نے قبائلی علاقوں میں بے شمار ترقیاتی اور خوشحالی کے منصوبے بھی شروع کیے۔ فرنٹیئر کور نے دہشتگردی سے متاثر ان علاقوں کے سکولوں اور کالجوں از سر نو تعمیر اور بحال کیا جن کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا تاکہ قبائلی بچے تعلیم جیسی نعمت سے محروم رہیں۔ ایف سی نے دہشت گردوں کی اس سازش کو ہر بچے کے لیے مفت اور آسان تعلیمی رسائی سے ناکام بنایا۔ کیونکہ فرنٹیئر کور کو معلوم ہے کہ قبائل محب وطن پاکستانی ہیں اور انکے بچے پاکستان کا روشن مستقبل۔ اور کل کو یہ تعلیم یافتہ بچے بھی اس ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار کریں گے۔ اسی لیے قبائلی بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے فریضہ کو اہم اور ترجیحاتی بنیادوں پر لیتے ہوئے پاک فوج، ایف سی اور حکومتی مشران کی بدولت قبائلی علاقوں میں سینکڑوں نئے معیاری تعلیمی ادارے بنائے گئے اور بیسیوں جزوی یا مکمل طور پر تباہ شدہ اداروں کو از سر نو تعمیر کروایا تاکہ ان بچوں کو جو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جاسکے۔ اعلی تعلیم کے کیے قائم کیے جانے والے اداروں میں سے ایک مثال مامد گٹ کیڈٹ کالج ضلع مہمند کی ہے۔ جس میں قبائلی بچے بین الاقوامی معیار کی تعلیم سے مستفید ہورہے ہیں اور اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
    قبائلی علاقوں میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ چند قدم کا فاصلہ خراب سڑکوں کی وجہ سے گھنٹوں میں طے کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کو آمدو رفت میں دقت کا سامنا تھا بلکہ دہشتگردی کی وجہ سے لوگوں کے متاثرہ کاروبار کو سہارا دینے کی بھی اشد ضرورت تھی اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے ایف سی کے مشران نے لوکل کنٹریکٹرز اور حکومت کی مدد سے امتیازی مواصلاتی نظام کا جال بچھانا شروع کردیا۔ سینکڑوں کلومیٹر طویل قومی سطح کی بہترین کشادہ سڑکیں بنائی گئیں اور ساتھ ساتھ تباہ شدہ مارکیٹوں کو ایک نئی شکل دے دی جو جدید سہولیات سے آراستہ ہیں۔ اب جس کی بدولت لوگوں کے کاربار میں بھی بہتری آئی ہے اور مقامی لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو رہا ہے۔

    قبائلی علاقوں میں امن بحالی کے بعد حکومت اور سیکورٹی اداروں کی اولین ترجیح میں تباہ شدہ مکانات کا معاوضہ دینا تھا تاکہ یہ لوگ اپنے گھروں کو آباد کرکے نئی زندگی شروع کرسکیں ۔ اس مقصد کیلئے ایف سی کی نگرانی میں شفاف سی ایل سی پی سروے کا آغاز کیا گیا جس میں دو علاقائی مشران، ایک ڈیٹا انٹری آفیسر، ایک انجنئیر اور ایک ایف سی کیپٹن شامل تھا۔ پانچ افراد پر مشتمل اس کمیٹی نے متاثرہ خاندانوں کا شفاف ڈیٹا اکھٹا کیا جسکی بنیاد پر پی ڈی ایم اے کیجانب سے جزوی طور پر تباہ شدہ مکان کے مالکان کو فی خاندان ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے اور مکمل تباہ شدہ مکان والے کو چار لاکھ روپے کا امدادی معاوضہ دیا جاچکا ہے۔ اگر کسی گھر میں ایک سے زائد خاندان مقیم تھے تو انکو فی خاندان کے حساب سے مندرجہ بالا معاوضہ مل چکا ہے اور یہ عمل تاحال جاری ہے۔
    قبائلی عوام کو صاف پانی کی فراہمی ایک خواب تھا جسکو شرمندہ تعبیر کرتے ہوئے ایف سی نے ہر قبائلی ضلع میں صاف پانی کے سینکڑوں پلانٹس لگائے تاکہ لوگوں کو گھر کی دہلیز پر صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    چونکہ ان علاقوں میں جدید طبی و حفظان صحت کی سہولیات اور ہسپتالوں کا فقدان تھا تو یہاں کے عوام کو علاج معالجے کے لیے مجبوراً پشاور اور صوبے کے دیگر بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا تھا۔ اب ہر تحصیل میں بی ایچ یو اور ہر ضلع میں دور جدید کا ہیڈکوارٹر ہسپتال موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف سی کیجانب سے فری میڈیکل کیمپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے تحت فرنٹیئر کور جدید ترین میڈیکل کیمپس کا انعقاد کرتی ہے اور دور پار کے دیہاتی علاقوں تک ضروری اور اہم علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔

    قبائلی علاقوں میں اکثر قوموں کے مابین تصادم اور دشمنیوں کا طویل سلسلہ چلا آ رہا تھا جس سے علاقائی لوگوں کو شدید مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ اس شیطانی روایت کو توڑنے اور قبائلی عوام کو متحد رکھنے کیلئے ایف سی مشران اور علاقائی ملکان پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن کی بدولت آج تک سینکڑوں تنازعات قبائلی روایات کے مطابق امن و عافیت سے حل کروائے گئے ہیں۔
    خیبرپختونخواہ کے قبائلی اضلاع میں اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور مویشی پالنے سے وابستہ ہے جنکی ضروریات کو دیکھتے ہوئے قبائلی اضلاع کے ہر تحصیل میں ویٹرنری ہاسپٹل اور زرعی مراکز بنائے گئے ہیں۔

    دہشت اور خوف کی فضا میں جوان ہوتی ہوئی قبائلی نسل کی ذہنی نشوونما کے لیے ایف سی مشران نے نہ صرف کھیلوں کے میدان بنائے بلکہ ان نوجوانوں کو مالی معاونت بھی فراہم کی گئی تاکہ انکو سپورٹس کٹس خریدنے میں آسانی ہو۔قبائلی علاقوں میں جاری ترقیاتی سفر کی داستان بڑی طویل ہے جسکو ایک آرٹیکل میں سمیٹنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے کیونکہ جاری اعدادوشمار کے مطابق امن بحالی کے بعد تقریبا 2900 ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے جن میں ایف سی کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ ان شاء اللہ فرنٹیئرکور ایسے ہی عوام کی خدمت جاری رکھے گی اور میں ایف سی کے ناقابل فراموش کردار پر انکو دل سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں
    پاکستان زندہ باد

  • میڈیا کے نوجوانوں پر اثرات .تحریر :فضل عباس

    میڈیا کے نوجوانوں پر اثرات .تحریر :فضل عباس

    آج کے دور میں نوجوان نسل سب سے زیادہ میڈیا سے متاثر ہے اس پر کچھ لکھنے سے پہلے میڈیا کی اقسام بیان کر لیتے ہیں

    میڈیا کی تین بڑی اقسام ہیں
    1: ذرائع ابلاغ
    2: اخبارات
    3: سوشل میڈیا
    سب سے پہلے ذرائع ابلاغ کی بات کرتے ہیں

    ذرائع ابلاغ میں تمام ٹیلی ویژن چینل اور ریڈیو کے چینلز شامل ہیں ٹیلی ویژن انسانی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈال رہا ہے یہ اثر مثبت بھی ہے منفی بھی،کیوں کہ ہر چیز کا مثبت پہلو پہلے دیکھنا چاہیے اس لیے سب سے پہلے ہم ذرائع ابلاغ کے مثبت پہلو کو نمایاں کرتے ہیں ہم ذرائع ابلاغ کے ذریعے تازہ ترین خبروں سے آگاہ رہتے ہیں جو واقعہ ہو جہاں پر ہو ہم میں سے ہر ایک کو اسی وقت پتہ چل جاتا ہے اس طرح ہم پوری دنیا سے جڑے رہتے ہیں اس کے علاوہ مختلف پروگراموں میں مختلف ماہرین کی رائے جان سکتے ہیں جس سے ہمیں جھوٹ سچ کا اندازہ ہو سکتا ہے اور اس سے ہم اپنا نظریہ بنا سکتے ہیں

    نیوز چینلز نے سیاست کے میدان میں انقلاب برپا کردیا ہے اب ہر ایک لیڈر قوم کو جواب دہ ہے اب کسی لیڈر کا غلط کام نہیں چھپ سکتا ہے اب عوام لیڈرز کی اصلیت دیکھ کر منتخب کرتے ہیں اس کے علاوہ ان چینلز پر ماضی کی حکومت اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کا موازنہ کیا جاتا ہے جس سے لوگوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ کونسی حکومت کتنی اچھی ہے اور کس حکومت نے عوام کے لیے کیا کیا ہے

    آگاہی پھیلانے میں ذرائع ابلاغ کا اہم کردار ہے مختلف وقت میں مختلف مقاصد کے لیے ذرائع ابلاغ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے خاص کر ابھی کورونا وباء کے دوران ذرائع ابلاغ نے عوام میں بھرپور آگاہی پھیلائی ہے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے جو احتیاط لازم ہے اس کی آگاہی کے لیے مختلف اشتہارات اور ڈاکیومنٹریز چلائی ہیں

    اس کے بعد آتی ہے ڈرامہ انڈسٹری
    ذرائع ابلاغ میں ڈرامہ انڈسٹری کے ذریعے انقلاب لایا جا سکتا ہے نوجوان نسل کو تعلیم،جہاد اور اچھائی کی ترغیب دی جا سکتی ہے بچوں کو اخلاقیات کا درس دیا جا سکتا ہے برائیوں کے خاتمے کی مہم چلائی جا سکتی ہے اور یہ سب ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی ممکن ہے لیکن افسوس کی بات ایسا نہیں ہو رہا

    آج کے دور میں کھیل اور ذرائع ابلاغ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چکے ہیں اب ذرائع ابلاغ کے بغیر کھیل منعقد کروانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا دنیا میں ہونے والے تمام کھیلوں کے بین الاقوامی میچز کسی نہ کسی چینل پر براہِ راست نشر ہو رہے ہوتے ہیں کھلاڑی کھیل کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والے اشتہارات سے کروڑوں روپے کماتے ہیں اس طرح کھیل اور ذرائع ابلاغ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چکے ہیں

    اب بات کرتے ہیں اخبارات کی
    اخبار پر انسان کی اپنی مرضی چلتی ہے جب انسان کو وقت ملے اخبار اٹھائے اور پڑھ لے
    اخبارات میں انسان کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ جہاں سے پڑھنا چاہے پڑھ لے جبکہ ذرائع ابلاغ پر آپ اپنی مرضی نہیں چلا سکتے
    اخبارات میں آپ کو سیاست انٹرٹینمنٹ اور کھیل کی خبریں میسر ہوتی ہیں اس کے علاوہ مختلف کالم نگاروں کے لکھے گئے کالم بھی پڑھنے کو ملتے ہیں

    اس کے بعد آتا ہے تیزی سے پھیلتا سوشل میڈیا
    تقریباً ہر ایک نوجوان آج سوشل میڈیا سے منسلک ہے اور اس کے بے شمار فوائد ہیں آپ آسانی سے اپنی رائے دے سکتے ہیں کوئی بھی موضوع ہو آپ اس پر اپنی رائے دے سکتے ہیں اس پر تبصرہ کر سکتے ہیں آپ اس میں مکمل آزاد ہیں

    اب دوسرے پہلو کا جائزہ لیتے ہیں اور میڈیا کے نقصانات کو بیان کرتے ہیں
    میڈیا میں ہونے والے ٹاک شوز میں سیاستدانوں کی گرتی ہوئی اخلاقی اقدار نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کر رہی ہیں نوجوان صحیح راہ سے بھٹک کر اخلاق کی نچلی منزلیں طے کر ریے ہیں وہ بھی سیاست دانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں ،اس کے بعد آتی ہے ڈرامہ انڈسٹری جو اس وقت بے راہ روی کا شکار ہے اور بے حیائی کو فروغ دے رہی ہے ڈرامہ انڈسٹری سے نوجوان نسل بری طرح متاثر ہے نوجوان نسل جہاد اور تعلیم کے بجائے بے حیائ کی جانب راغب ہے جو کہ افسوس ناک امر ہے

    جہاں تک بات ہے کھیل کی تو کھیل کھیلنا دیکھنے سے نسبتاً بہتر ہے لیکن نوجوان کھیل کھیلنے کو نظر انداز کر رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کھیل کھیلنے کو فروغ دیا جائے اس کے بعد اخبارات کی بات کریں تو اس کے نقصانات قدرے کم ہیں لیکن آج کی نوجوان نسل اخبارات سے دور ہو چکی ہے سوشل میڈیا کے جس طرح سب سے زیادہ فوائد ہیں اسی طرح نقصانات بھی سب سے زیادہ ہیں نوجوان ہر کام چھوڑ کر سارا دن سوشل میڈیا پر رہتے ہیں اور اکثر اوقات غلط سرگرمیوں میں مشغول ہو جاتے ہیں جو کہ ان کے مستقبل کے لیے قدرے افسوس ناک ہے

    اس سب کے باوجود نوجوان نسل کو چاہیے کہ میڈیا سے جس قدر فوائد حاصل کر سکیں اس قدر حاصل کریں اور نقصانات کو کم سے کم کیا جائے حکومت وقت کو چاہئے کہ میڈیا میں آ کر گفتگو کرنے والے سیاستدانوں کو اچھی زبان استعمال کرنے کا پابند بنائے اور بے حیائ پر مبنی ڈراموں پر پابندی لگائے تا کہ نوجوان ایسی سرگرمیاں دیکھیں جن سے انہیں فائدہ ہو

    سوشل میڈیا کو ایک ضابطہ میں لا کر بہتر سے بہتر تر بنایا جا سکتا ہےاور یہ نوجوان نسل کے لیے ایک رحمت ثابت ہو سکتا ہے

  • نشہ بیماری بھی جرم بھی .تحریر: ملک ضماد

    نشہ بیماری بھی جرم بھی .تحریر: ملک ضماد

    پاکستان میں منشیات کا استعمال دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے
    ہر زور کئی لوگ پولیس کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوتے ہیں اور کئی لوگ مر بھی جاتے ہیں نشہ کا استعمال میں اس وقت نوجوان نسل زیادہ ہے جو سکول کالجز میں پڑھتے ہیں اس کے بعد پھر کاروباری شخصیات کو بھی منشیات کے استعمال ریکارڈ کیا گیا ہے منشیات کا استعمال پہلے تو لوگ ذہنی و جسمانی سکون کے کیے کرتے ہیں لیکن بعد میں وہ ہی سکون برباد کو جاتا ہے اور لوگ نشے کی حالت میں کبھی درد بدر کی ٹھوکریں اور کبھی کہیں سڑک کنارے یا کسی ندی نالے میں پڑے ملتے ہیں اسلام میں بھی نشہ آور چیزوں کے استعمال سے منع کیا گیا ہے
    اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مقدس میں ارشادفرماتاہے:

    (1)(اے محبوبﷺ)تم سے شراب اورجوئے کاحکم پوچھتے ہیں ۔تم فرمادوکہ ان دونوں میں بڑاگناہ ہے۔اورلوگوں کاکچھ دنیوی نفع بھی،لیکن ان دونوں کاگناہ ان کے نفع سے بڑاہے۔(سورۂ بقرہ:آیت219،پ2)

    ترجمہ: ائے ایمان والوں !نشہ کی حالت میں نمازکے پاس نہ جاؤ جب تک اتناہوش نہ ہوکہ جوکہواسے سمجھو۔(کنزالایمان،النساء4؍43،پ5)

    رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔شراب پیتے وقت شرابی کا ایمان زائل ہوجاتاہے۔ایک اورجگہ ارشادفرمایاکہ :جوزناکرے یاشراب پیئے اللہ تعالیٰ اس سے ایمان کھینچ لیتاہے جیسے آدمی اپنے سرسے کرتاکھینچ لے۔(فتاویٰ رضویہ،ج۱۱)

    حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔قسم ہے میرے عزت کی جوبندہ شراب ایک گھونٹ بھی پیئے گامیں اس کواتنی ہی پیپ پلاؤں گا۔اورجوبندہ میرے خوف سے اُسے چھوڑے گامیں اس کومقدس حوض سے پلاؤ ں گا۔(امام احمد)

    منشیات فروش معاشرے کے لیے بربادی کا سبب بنتے ہیں اور اپنی ذات کا نقصان بھی کرتے ہیں منشیات کے استعمال سے معاشرے میں بڑھتی برائیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو کہ اداروں کے لیے سوچنے کا مقام ہے ہم سب کا فرض ہم مل کر معاشرے سے اس لعنت کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں متعلقہ اداروں ساتھ بھی مکمل تعاون کریں