Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا پاکستان اخلاقی طور پر کمزور ہے ؟     تحریر: احسن ننکانوی

    کیا پاکستان اخلاقی طور پر کمزور ہے ؟ تحریر: احسن ننکانوی

    کیا پاکستان اخلاقی طور پر کمزور ہے ؟؟-

    اخلاق کسی بھی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔اخلاق دنیا کے تمام مذاہب کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں ۔ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل شئے اخلاق ہے۔اچھے اور عمدہ اوصاف و ہ کردار ہیں جس کی قوت اور درستی پر قوموں کے وجود، استحکام اور بقا کا انحصار ہوتا ہے۔

    معاشرہ کے بناؤ اور بگاڑ سے قوم براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قوی، صحت مند اور با صلاحیت قوم وجود میں آتی ہے اور اگر معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو تو اس کا فساد قوم کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔جس معاشرہ میں اخلاق ناپید ہو وہ کبھی مہذب نہیں بن سکتا، اس میں کبھی اجتماعی رواداری، مساوات،اخوت و باہمی بھائی چارہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔

    جس معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی عام ہوجائے وہاں کبھی امن و سکون نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیرہوجاتی ہے۔ یہ منظر آپ اِس وقت دنیا میں اپنے شرق و غرب میں نظر دوڑا کر دیکھ سکتے ہیں کہ عروج و ترقی کہا ں ہے اور ذلت و رسوائی کہاں ہے؟-

    اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف کیا پاکستان اخلاقی طور پر کمزور ہے –

    تو جی ہاں پاکستان اصل میں ہے ہی اخلاقی طور پر کمزور جدھر دیکھوں جھوٹ فریب دھوکہ بازی رشوت خوری جیسی لعنتوں سے یہ ملک بھرا پڑا ہے کل ایک آدمی سے ملاقات ہوئی تو حال احوال کے بعد جوب کا پوچھا تو جناب نے کہا ٹھیک چل رہی ہے اور تنخواہ کے علاوہ اوپر سے بھی پیسے آجاتے ہیں میں سوچ میں پڑ گیا شاید جناب کے لئے روپوں کی بارش ہوتی ہے وہ تو بعد میں اس نے یہ مسئلہ خود ہی حل کر دیا کہ لوگوں کے ناجائز کام کے تو روپے لیتے ہی ہیں جائز کام بھی پیسے کے بنا نہیں کرتے ہیں۔

    جب اس کو یہ کام چھوڑنے کا کہا گیا تو اس نے کہا اگر میں نہیں کرو گا تو کوئی اور لے گا اس حکومت نے یقین دلایا تھا کہ ایسے کام نہیں ہوں گے باقی کام تو چھوڑیں جب پاکستان پبلک سروس کمیشن جیسے ادارے میں بھی ہیرا پھیری ہونے لگی تو اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ۔
    بیوروکریسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے جب وہ ہی ایسے کام کرے گی تو بس اللہ اللہ ہم اخلاقی طور پر اتنے گرے ہوئے ہیں اگر کسی جگہ ایکسیڈنٹ ہو جائے تو ویڈیو بنانے لگ جاتے ہیں نا کہ لوگوں کی خدمت جب تک پاکستان اخلاقی طور پر ٹھیک نہیں ہو گا
    معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے-

    تحریر: احسن ننکانوی
    @Ahsannankanvi

  • کیا مسلمانوں کا خون سستا ہو چکا ہے؟  تحریر:احسن ننکانوی

    کیا مسلمانوں کا خون سستا ہو چکا ہے؟ تحریر:احسن ننکانوی

    اسلامی فوبیا!
    کینیڈا میں ایک پاکستانی مسلم فیملی کا قتل پوری دنیا کے لئے خاص طور پر پاکستان کہ منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے جسے ساری عمر سہلایا جائے تو پھر بھی درد نہ جائے ۔
    ‏کیا مسلمانوں کا خون سستا ہو چکا ہے؟

    حدیث شریف میں آتا ہے کہ زمانہ آخرت میں پوری دنیا مسلمانوں پر چڑھ دوڑے گی ایسے جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے…

    امت مسلمہ بدترین زوال کی زد میں ہے اور حکمران بے حسی کی زد میں
    اگر کوئی ہمارے حکمرانوں کو پکارے تو آگے سے آواز آتی ہے جی ہم تو امن کا درس دیتے ہیں۔
    اس سے پہلے بھی جرمنی میں مسلمانوں پر حملے ہوئے ہوئے
    اس کے علاوہ بہت سارے یورپی ممالک میں مسلمانوں پر تو حملے ہوتے ہی ہیں۔
    اس کے علاوہ اسلام پر بھی حملے ہوتے ہیں۔
    ہمارے پیارے آقا آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی ذات پر حملے کئے گئے اور مسلمان چپ سادھے بیٹھے رہے۔
    ‏‎سب سے بڑا حق تو رسول اللّٰہ ﷺ کا ہے
    جب حکمران نبی کریم ﷺ کی سرکاری سطح پر گستاخی ہونے کے باوجود فرانس سے سخت لہجے میں بات کرنے سے خوفزدہ ہیں کہ روزی روٹی کے لالے پڑ سکتے ہیں تو عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو پر خاک پہرہ دیں گے۔
    کیونکہ اسلام تو اب امن کا درس دیتا ہے۔
    ‏ہم مسلمانوں کا خون اتنا سستا ہے کہ کوئی بھی پوچھتا نہیں اگر یہی کسی چائنہ کے خاندان یا اسرائیلیوں پر حملہ ہوتا وہ ملک اینٹ سے اینٹ بجا دیتے یہاں بس مزمت ہے ۔
    ‏اپنے ملک میں نوکریاں روزگار ہوتا تو کینیڈا میں یہ پاکستانی آج اس طرح بے دردی سے قتل نا ہوتے۔سارے قابل ترین لوگ ملک چھوڑ کر چلے جاتے کیونکہ اپنے ملک میں انکو کوئی سہولت میسر نہیں ہوتی
    ‏کیا زندگی ہے پاکستانیوں کی
    اپنے ملک میں سہولت میرٹ نام کی چیز نہیں دھکے کھاتے اپنا ملک چھوڑ کر بیرون ملک جاتے نوکریاں کرتے محنت کرتے گھر بار وطن سب چھوڑتے پاکستان پیسے بھیجتے اور بدلے میں پردیس میں بھی انکو مار دیا جاتا۔
    اور یہاں پر مجھے علی زریون عہد حاضر کے ایک شاعر کا شعر یاد آگیا۔

    میرے وطن تیرے چہرے کو نوچنے والے
    یہ کون ہیں یہ گھرانے کہاں سے آگئے ہیں ۔۔

    مطلب ہمارے ملک کا یہ حال ہو گیا ہے نہ ہم اسلام کا دفاع کر سکتے ہیں نہ ہم مسلمانوں کا دفاع کر سکتے ہیں
    اگر ہمارے ملک میں نوکریاں روزگار ہوتا تو کینیڈا میں یہ پاکستانی آج نہ مرتے
    ‏‎اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
    تحریر: احسن ننکانوی
    ahsannankanvi@gmail.com

  • آزادئ اظہارِ رائے یا کُچھ اور    تحریر: ماریہ ملک

    آزادئ اظہارِ رائے یا کُچھ اور تحریر: ماریہ ملک

    آزادئ اظہارِ رائے یا کُچھ اور

    کُچھ وقت سے پاکستان میں چند مخصوص اداروں کے چند لوگوں کی طرف سے تسلسل کے ساتھ پاکستان کے ایک انتہائی اہم عسکری ادارے کے خلاف مہم جوئی اور الزام تراشی پر مبنی بیانات، تقریریں اور سوشل میڈیا پر کمپین جاری کی گئی ہے کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یہاں تک کہ جب اس مہم کو بھارت کی طرف سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور اُن صحافیوں کو سپورٹ کیا جاتا ہے جو پاکستان کے اہم اداروں پر بغیر ثبوت کے الزام تراشی کرتے ہیں۔ تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ سب مہم باقائدہ بیرونی ایجنڈوں کے تحت عمل میں لائی گئی ہے

    بھارت پاکستان کے اندر ہر وہ حربہ استعمال کرتا ہے جس سے پاکستان میں سیاسی طور پر محاذ آرائی قائم رہے اور پھر معاشی طور پر پاکستان کو بحرانی صورت حال میں مبتلا رکھا جا سکے اس سلسلے میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” ہمیشہ کی طرح اپنے مشن پر کام کر رہی ہے پاکستان میں صحافت کے حوالے سے جو پروپیگنڈہ بھارتی میڈیا کر رہا ہے یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ ایک منظم سازش ہے جس کا جال اب بنُنا جا رہا ہے اس میں بھارت کا کردار کلیدی ہے۔

    پاکستان پوری مسلم امہ میں واحد ایٹمی قوت ہے اور پھر پاکستان چین کے ساتھ مل کر CPEC کے تحت جس معاشی ترقی کے سفر پر رواں دواں ہے اس سے خطے میں پاکستان کو منفرد حیثیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی سفارتی کامیابیاں ملی ہیں جس کی واضح مثال حالیہ دنوں میں ترکی، سعودی عرب اور دیگر مسلم ریاستوں کی مشترکہ سفارت کاری ہے جو کہ اقوام متحدہ میں دیکھی گئی ہے اس میں پاکستان کا کردار بڑا واضح ہے۔

    کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی سفارت کاری اقوام عالم میں اعلیٰ حیثیت سے ہمکنار ہوئی ہے پاکستان کا موقف تسلیم کیا جانے لگا ہے جو کہ بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ افواجِ پاکستان جس کو اب پوری دنیا میں قدر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستان مخالف قوتیں بھی یہ تسلیم کرتی ہیں کہ پاکستان نے جس طریقے سے دہشت گردی کے ناسور پر قابو پایا ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے جس طرح دہشت گردوں اور شدت پسند عناصر کا خاتمہ کیا ہے اس میں افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ مہارت ہی ہے جو کہ پاکستان کو محفوظ بنائے ہوئے ہے۔ برطانوی اور امریکی افواج کے اعلیٰ افسران بڑے واضح الفاظ میں افواج پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں۔

    چند مخصوص صحافیوں اور این جی اوز نے جس طریقے سے ایک حساس ادارے کے خلاف اپنی مہم شروع کر رکھی ہے یہ ریاست پاکستان کے خلاف گہری سازش ہے۔ جو یقینا غیر ملکی ایجنڈے کی کڑی ہے جو کہ دیگر مسلم ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں-

    آؤ ذرا تھوڑا ماضی میں جھانکیں کہ جب سرزمین پاکستان پر امریکی افواج نے رات کے اندھیرے میں آپریشن کر کے اسامہ بن لادن کو جان بحق کیا جہاں اس فوجی کارروائی کو پاکستان کی قومی سلامتی پر بڑا حملہ قرار دیا گیا وہیں یہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تھی لیکن اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس آپریشن پر امریکی صدر بارک حسین اوباما کو مبارکباد دی تھی۔

    بارک حسین اوباما اپنی کتاب A Promised Land کے صفحہ نمبر 696 پر اس آپریشن کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب میں نے پاکستان کی سرحدی حدود کی ہونے والی خلاف ورزی کے تحت ہونے والے اُسامک بن لادن کی ہلاکت والے اس آپریشن کے بعد جب صدر آصف علی زرداری کو فون کیا تو میرا خیال تھا کہ میری یہ فون کال انتہائی مشکل ہو گی اور مجھے تلخ الفاظ سننے کو ملیں گے مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ آصف علی زرداری نے ہمارے اس آپریشن پر ہمیں مبارکباد دی اور امریکی افواج کی تعریف کی۔

    میاں نواز شریف بطور وزیر اعظم پاکستان امریکی صدر بل کلنٹن سے پاکستان میں اپنی حکومت برقرار رکھنے کی غرض سے امریکی حمایت مانگتے رہے اور ساتھ ہی وزیر اعظم ہائوس میں امریکی فوجی کمانڈوز کی کمانڈ بھی حاصل کرنا چاہتے تھے تاکہ کسی بھی فوجی بغاوت کی صورت میں وہ امریکی کمانڈوز ان کی حفاظت کر سکیں اور فوجی مداخلت کو ناکام بنانے میں کارگر ثابت ہو سکیں۔

    یہ وہ حقائق ہیں جو کہ اب تاریخ کا حصہ ہیں اور عالمی سطح پر شائع ہونے والی کتابوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی قیادت بیرون الاقوامی دباؤ کے تحت اپنی پالیسی مرتب کرتی تھی لیکن اب پاکستان بدل رہا ہے۔ پاکستان نے ملکی مفاد میں پالیسی بنانا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ پاکستانی فلسطین/اسرائیل معاملے پر پاکستانی سفارتکاری نے اسرائیل کو حملے روکنے پر نہ صرف مجبور کیا بلکہ اقوامِ متحدہ کو اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیق کرنے پر مجبور کیا۔

    پاکستان کے اِن تمام اقدام کے ہیشِ نظر پاکستان دُشمن اقوام بلخصوص ہندوستان اور اسرائیل پاکستان میں اپنے ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں اور اداروں کو کمزور کرنے کی سازش پر کام کر رہے ہیں۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر پاکستان میں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے اور قومی اداروں پر بے جا کیچڑ نہ اچھالا جائے اور ساتھ ہی ابن الوقت اور بدعنوان حکمرانوں کی خاندانی اجارہ داریوں سے نجات حاصل کرکے حقیقی جمہوریت کی راہ ہموار کی جائے اور تمام کرپٹ عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ الله کریم پاکستان کو مضبوط، خودمختار اور ترقی یافتہ ملک بنائے۔ آمین

    تحریر: ماریہ ملک

  • نوکیا نے سستا ترین موبائل سی 1 پلس متعارف کرادیا

    نوکیا نے سستا ترین موبائل سی 1 پلس متعارف کرادیا

    ایچ ایم ڈی گلوبل نے سستا ترین نیا فون نوکیا سی 1 پلس متعارف کرادیا ہے –

    باغی ٹی وی: ٹیکنالوجی ویب سائٹ ڈاکٹر موبائل کے مطابق یہ فون کمپنی کے اینڈرائیڈ گو ایڈیسن کا حصہ ہے جس میں متعدد بہترین فیچرز جیسے ڈوئل سم سپورٹ اور اوکٹا کور پراسیسر موجود ہیں۔

    فون میں 5.45 انچ کا ڈسپلے ایچ ڈی پلس ریزولوشن کے ساتھ دیا گیا ہے فون کے اندر یونی ایس او سی ایس سی 9863 اے پراسیسر دیا گیا ہے۔

    فوٹو بشکریہ نوکیا

    سی 1 پلس فون میں ایک جی بی ریم اور 16 جی بی اسٹوریج ہے جس میں مائیکرو ایسس ڈی کارڈ سے 128 جی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    اینڈرائیڈ گو پروگرام کا حصہ ہونے کی وجہ سے بیشتر ایپس ڈیٹا کا استعمال کم کرتی ہیں اور سست انٹرنیٹ پر بھی ٹھیک کام کرتی ہیں۔

    فون میں فنگرپرنٹ سپورٹ تو نہیں مگر اس کا آپریٹنگ سسٹم چہرے کی شناخت کو سپورٹ کرتا ہے موبائل فون 2 رنگوں بلیو اور سرخ میں پیش کیا گیا ہے-

    سی 1 پلس میں 2500 ایم اے ایچ بیٹری موجود ہے اور بیٹری لائف کے بارے میں کچھ بتایا تو نہیں گیا مگر نوکیا کے فونز کی بیٹری لائف ہمیشہ ہی بہترین ہوتی ہے۔

    فوٹو بشکریہ نوکیا

    سی 1 پلس میں فرنٹ پر 5 میگا پکسل کیمرا اور ایل ای ڈی فلیش موجود ہے جو کم روشنی میں بھی کافی بہتر تصاویر فراہم کرتی ہے اس کے بیک پر ایک ہی کیمرا ہے جو کہ 5 میگا پکسل کا ہے جس کے ساتھ بھی ایل ای ڈی فلیش موجود ہے۔

    یہ فون سب سے پہلے روس میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے جس کی قیمت 6490 روبل (تقریباً 14 ہزار 270 پاکستانی روپے) رکھی گئی ہے۔

  • ہیکرزناکام، ایف بی آئی نے 2.3 ملین ڈالرزکے بٹ کوائنز کی تاوان کی رقم واپس ضبط کر لی

    ہیکرزناکام، ایف بی آئی نے 2.3 ملین ڈالرزکے بٹ کوائنز کی تاوان کی رقم واپس ضبط کر لی

    واشنگٹن: امریکا میں ایک گیس پائپ لائن کو تاوان کے لیے کمپیوٹر کے ذریعے ہیک کرنے والے ہیکرز سے تاوان کی بٹ کوائنز رقم واپس لے لی گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے ہیکرز سے 2.3 ملین ڈالرز مالیت کی کرپٹو کرنسی کی تاوانی رقم واپس حاصل کر لی ہے، یہ رقم کالونیل پائپ لائن نامی کمپنی نے ہیکرز کو ادا کی تھی۔

    ہیکرز نے ایک سائبر اٹیک کے ذریعے گزشتہ ماہ مذکورہ کمپنی کی ایسٹ کوسٹ پائپ لائن کو بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ایسٹ کوسٹ میں گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ، وفاقی قانون نافذ کرنے والے اعلی عہدیداروں نے وضاحت کی کہ یہ رقم حال ہی میں شروع کی جانے والی رینسم ویئر اور ڈیجیٹل ایکسٹوریشن ٹاسک فورس نے حاصل کی ہے ، جو سائبرٹیکس کے اضافے پر حکومت کے ردعمل کے حصے کے طور پر تشکیل دی گئی ہے۔

    کالونیل پائپ لائن پر حملے کو حل کرنے کے لئے ، کمپنی نے 8 مئی کو مشرقی ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اس کے تیل اور گیس پائپ لائنوں کو تاوان کے سامان کے ذریعے معذور کرنے کے بعد اپنے کمپیوٹر سسٹم تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لئے تقریبا$ 4.4 ملین ڈالر ادا کیے۔

    ان حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کو یہ مخصوص ہدایات دی گئیں کہ وہ رقم کب اور کہاں بھیجنی ہے ، لہذا تفتیش کاروں کے لئے بھتہ خوری کے پیچھے مجرمانہ تنظیموں کے ذریعہ قائم کردہ کریپٹوکرنسی اکاؤنٹس ، عام طور پر بٹ کوائن کی ادائیگی کی رقم کا سراغ لگانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ غیر معمولی بات یہ ہے کہ فنڈز کی بازیابی کے لئےان اکاؤنٹس کو غیر مقفل کرنا ہو۔

    کالونیل پائپ لائن کیس میں عدالت کے دستاویزات جاری کی گئیں کہ ایف بی آئی نے بٹ کوائن اکاؤنٹ سے منسلک انکرپشن کی بٹن استعمال کی جس میں تاوان کی رقم فراہم کی گئی تھی۔ تاہم ، عہدیداروں نے یہ انکشاف نہیں کیا ہے کہ انہیں یہ چابی کیسے ملی۔ مجرموں نے بٹ کوائن اور دیگر کریپٹو کارنسیس کو استعمال کرنا پسند کیا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ سارے نظام کی شناخت نہیں ہے ، اسی طرح یہ خیال بھی ہے کہ کسی بھی کریپٹو کرینسی والیٹ میں فنڈز صرف ایک پیچیدہ ڈیجیٹل کلید کے ذریعے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

    جارج ٹاؤن لا میں انسٹی ٹیوٹ برائے ٹکنالوجی قانون اور پالیسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپریل فالکن ڈاس نے کہا ، نجی کلید ، ایک ٹیکنالوجی کے نقطہ نظر سے ، وہ چیز ہے جس نے ان فنڈز کو ضبط کرنا ممکن بنایا تھا۔

    تاہم اب امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ انھوں نے پائپ لائن بند کرنے کے بعد تاوان کی صورت میں دی جانے والی رقم واپس حاصل کر لی ہے، ہیکرز کو رقم بٹ کوائن میں دی گئی تھی جسے اب ایف بی آئی نے ایک ورچوئل کرنسی ویلٹ سے ضبط کر لیا ہے۔

    امریکی حکام نے 63.7 بٹ کوائنز واپس لیے ہیں جن کی قیمت 2.3 ملین ڈالرز ہے، یہ رقم پائپ لائن کمپنی نے گزشتہ ماہ سائبر اٹیک کے بعد ہیکرز کو ادا کی تھی، امریکی حکام نے مشتبہ افراد کے ذریعے استعمال شدہ ورچوئل والٹ کی نشان دہی کی تھی۔

    کالونیل پائپ لائن کے مالکان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہیک ہوئی پائپ لائن تک دوبارہ رسائی کے لیے ہیکرز کو تقریباً 5 ملین ڈالرز ادا کیے تھے، لیکن حالیہ ہفتوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے، جو اپریل میں 63 ہزار ڈالر تھی وہ اب 36 ہزار ڈالر ہو چکی ہے۔

    سائبر حملے کا علم ہونے کے بعد کالونیل پائپ لائن نے اپنے سسٹم بند کر دیے تھے تاکہ حملے کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے، کمپنی کا کہنا تھا کہ سائبر حملے سے کچھ سرگرمیاں روکنا پڑیں اور چند آئی ٹی سسٹم متاثر ہوئے۔

    بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر…

    ٹیسلا نے ماحولیاتی تحفظات کے تناظرمیں بٹ کوائن لینے سے انکار کر دیا

  • دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات، تحریر : سمیع اللہ

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات، تحریر : سمیع اللہ

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات،تحریر : سمیع اللہ

    انسان کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبردار کرنا شروع کردیتا ہے۔بس ان علامات یا نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ صحت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

    یہاں ایسی علامات کے بارے میں جانیں، جو دل میں خرابیوں کی جانب کئی ہفتے پہلے اشارہ کرنے لگتی ہیں۔

    تھکاوٹ

    یہ ایسی علامت ہے جو 70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے سامنے آئی، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ کرتی ہے اور مرد و خواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔ اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اور دن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ ضرور مرکوز کی جانی چاہیے۔

    پیٹ میں درد

    50 فیصد ہارٹ اٹیک کے واقعات میں یہ علامت کچھ عرصے پہلے سامنے آئی، معدے میں درد، دل متلانا، پیٹ پھولنے یا موشن وغیرہ متعدد عام علامات ہیں، ہارٹ اٹیک سے قبل پیٹ یا معدے میں درد کچھ عجیب سا ہوتا ہے، یعنی کبھی ہوتا ہے اور پھر آرام محسوس ہونے لگتا ہے، مگر کچھ وقت بعد پھر لوٹ آتا ہے۔

    بے خوابی

    یہ علامت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نظر آتی ہے، ویسے طبی ماہرین اس علامت کو ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔ رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔

    سانس گھٹنا

    چالیس فیصد کیسز میں یہ علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل اور یہ احساس کہ گہرا سانس لینا ممکن نہیں، یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

    بال گرنا

    بالوں کا تیزی سے گرنا بھی امراض قلب کی ایک واضح علامت ہے، عام طور پر یہ پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں میں زیادہ نظر آتی ہے مگر کچھ خواتین میں بھی یہ سامنے آتی ہے۔

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اکثر پینک اٹیک اور ذہنی بے چینی کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے، خاص طور پر خواتین میں، یہ اچانک حملہ کرتی ہے۔ اگر دل کی دھڑکن میں تیزی ایک سے دو منٹ تک برقرار رہے اور اس میں کمی نہ آئے، اس کے علاوہ دھڑکن کی رفتار میں کمی بیشی سے غشی اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

    بہت زیادہ پسینہ آنا

    غیرمعمولی یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی ہارٹ اٹیک کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے، جو کہ دن یا رات کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے۔ یہ علامت عام طورپر خواتین میں زیادہ سامنے آتی ہے، تاہم وہ اسے نظر انداز کردیتی ہیں۔ تاہم اگر اس کے ساتھ فلو جیسی علامات ہوں، جلد پر چپچپا پن یا خوشگوار موسم کے باوجود پسینہ آئے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔

    سینے میں درد

    مردوں اور خواتین دونوں میں سینے میں درد مختلف شدت اور طریقے سے سامنے آتا ہے۔ مردوں میں یہ علامت انتہائی اہم ابتدائی علامات میں سے ایک ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ خواتین کے 30 فیصد واقعات میں یہ سامنے آتی ہے۔ سینے میں درد ایک یا دونوں ہاتھوں میں (اکثر بائیں ہاتھ میں)، نچلے جبڑے میں، گرد، کندھوں یا معدے میں شدید نوعیت کی بے اطمینانی کی شکل میں پھیل جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرلیا جانا چاہیے۔

  • نیوکلیئر ہتھیار غیر محفوظ . تحریر، فروا منیر

    نیوکلیئر ہتھیار غیر محفوظ . تحریر، فروا منیر

    نیوکلیئر ہتھیار غیر محفوظ . تحریر، فروا منیر

    پوری دنیا میں ایٹم بنانے والے ملکوں پے مخصوص قسم کی پابندیاں ہیں جن میں ایٹم میں استعمال ہونے والی دھات یورینیم کا عام استعمال اور اس کی عام عوام تک رسائی سب سے اہم پابندی ہے
    دنیا میں یورینیم کو 2 کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جن میں انرجی (بجلی بنانے) اور ایٹم بنانا ہے شامل ہیں
    دنیا پوری میں بہت کم ممالک ہیں جہاں یارینیم  سی بجلی بنائی جاتی ہے  اور پھر ان ممالک میں بھی مخصوص مقدار میں بجلی بنائی جاتی ہے  باقی پوری دنیا میں جہاں بھی یورینیم استعمال ہو رہی ہے اس کا استعمال صرف ایٹم کے لیے ہو رہا ہے
    اس طرح اگر یہ دھات عام عوام یا کسی مخصوص گروہ کے ہاتھ لگ جائے تو اس کو دنیا کے امن کو خواب کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
    دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ نے جاپان ہے صرف 2 بم گرائے تھے اور دونوں الگ الگ مقامات پر گرائے تھے جس کا اثر آج تک دنیا محسوس کر رہی ہے
    جاپان میں آج بھی ہیرو شیما اور ناگا ساکی شہروں میں سبزہ نہیں اگتا اور نا ہی وہ انسان سکون کا سانس لے رہے ہیں
    آج بھی پیدا ہونے والے بچوں میں جسمانی کمزوری اور بہت سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں
    80 سال بعد بھی اگر ایٹم بم کا اثر ہے تو اگر زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو کیا ہو گا
    دنیا کو اس پے سوچنا ہو گا

    گزشتہ ایک مہینے کے دوران بل ترتیب انڈیا میں 2 دفعہ یورینیم پکڑی گئی ہے جس کی مقدار جاپان میں استعمال ہونے والے ایٹم بم سے زیادہ یا اس کے برابر بتائی جاتی ہے
    انڈیا میں پکڑی جانے والی یورینیم کوئی خاص لوگوں سے نہیں بلکہ انڈین حکمران جماعت کے زیر اثر چلنے والی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے کچھ لوگوں سے پکڑی گئی ہے جو دنیا کے لیے الارمنگ سیچوایشن ہے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو اس پے سختی سے نوٹس لینا ہو گا اور انڈیا پے سخت پابندیاں لگانی ہوں گی تاکہ دنیا کا امن قائم رہ سکے اور دنیا اٹیمی ہتھیاروں کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکے

    یاد رہے انڈیا میں پکڑی جانے والی یورینیم میں ابھی تک کی انڈین رپورٹس کے مطابق کوئی بھی مسلمان ملوث ہونے کا کوئی شواہد نہیں ملے
    پکڑے جانے والوں میں زیادہ ہندو اور پھر آر ایس ایس کے لوگ شامل ہیں
    پوری دنیا خصوصی طور پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس پر سختی سے نوٹس لینا ہو گا

  • ‏ہماری پہچان اخلاق حسنہ . تحریر، ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ‏ہماری پہچان اخلاق حسنہ . تحریر، ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ‏ہماری پہچان اخلاق حسنہ . تحریر، ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    اخلاق ’’خلق‘‘ کی جمع ہے، جس کے معنیٰ خصلت، عادت اور طبیعت کے ہیں۔ اصطلاح میں اخلاق سے مراد وہ خصائل و عادات ہیں جو انسان سے روز مرہ اور مسلسل سرزد ہوتے رہتے ہیں اور یہی عادات و خصائل رفتہ رفتہ انسانی طبیعت کا جزو بن کر رہ جاتے ہیں اور اخلاق انسانی رویے کا نام ہے، دنیا کا کوئی ایک مذہب ایسا نہیں جو اخلاقی قدروں کی تعلیم نہ دیتا ہو۔

    اسلام ایک عالم گیر مذہب ہے اور تمام بنی نوع انسان کی فلاح اور کامرانی کا علم بردار ہےاور اسلام میں اخلاق سے مراد وہ "اخلاق حسنہ "ہیں جو بنی نوع انسان کی فلاح اور اصلاح کے لیے انسانیت کو عطا کیے گئے۔

    قرآن حکیم میں بیشتر مقامات پر اخلاق کا درس دیا گیا ہے جو اس قدر حکیمانہ اور فلسفیانہ ہے جو دنیا کے کسی مذہبی کتاب میں نہیں ملتا۔

    ’’اور جب تم کو کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر لفظوں سے دعا دوبے شک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔‘‘ (سورہ النساء آیت 86)

    دنیا میں انسان کی اولین حیثیت ایک فرد کی سی ہے اور افراد کے مجموعے سے معاشرہ تکمیل پاتا ہے۔ اگر دنیا میں موجود تمام انسان اپنی اصلاح کرلیں، یعنی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں تو وہ معاشرہ یقیناً درست اور صالح کہلائے گا،یا یوں کہہ لیجیے کہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ کہلائے گا

    شریعت اسلامیہ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اخلاق نفس کی وہ حالات ِ راسخہ ہیں جن سے اچھے یا برے افعال صادر ہوں بغیر کسی غورو فکر کے۔اسلام کی اخلاقی تعلیمات اعلیٰ ترین ہیں۔اعلیٰ اخلاق کے بغیر انسان نا مکمل ہے،جس طرح پھول رنگ و بو کے بغیر بے کار ہے ، اسی طرح انسان بغیر اخلاق کے بت کے سوا کچھ نہیں۔ اسلیے اچھائی یا برائی کی وہ عادت جو انسان کے اندرراسخ ہو چکی ہو اور قصط و بلا صادر ہوتے رہتے ہوں، یا یوں کہہ لیں کہ آدمی کی طبیعت میں جو بات بیٹھ چکی ہو بلا تکلف اس کا صدور ہوتا ہو وہ اخلاق ہے۔

    نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو
    رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز

    جو خوش خلق ہو اس سے خوش خلقی صادر ہوگی۔ ایسے ہی جو بدخلق ہوگا اس سے بدخلقی صادر ہو گی۔ مگر یہ کہ اسے اخلاق حسنہ کے اظہار کے لیے تکلیف اٹھانی پڑے تب اچھی بات کہہ سکے۔
    حضرت آدم ؑ سے لے حضور نبی کریمﷺ تک جتنے بھی نبی اور پیغمبر تشریف لائے، جتنے بھی پیشوا، ہادی اور مبلغ ہوئے، وہ سب اخلاقیات کی تبلیغ کرتے رہے ہیں مگر اخلاق کا جو ہمہ گیر درس اسلام نے دیاہے دیگر مذاہب اس سے خالی ہیں۔انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اخلاقی قدروں کی کارفرمائی نظر آتی ہے

    حدیث مبارکہ میں اخلاق حسنہ کا ذکر کچھ ان الفاظ میں آیا ہے کہ قیامت کے دن مومن کے میزان میں سب سے بھاری جو چیز رکھی جائے گی وہ خلق حسنہ ہے

    کچھ اخلاق ایسے ہیں جو میزان میں بھاری ہوتے ہیں اور بہت سارے برے اخلاق ایسے ہیں جونیکیوں کاثواب بھی دوسروں کو دلوادیں گے ۔سچائی اور دیانتداری ،عدل وانصاف ، تواضع انکساری ،غصے پر قابوپانا،لوگوں کو معاف کرنا،دل کوکینہ اور بغض سے پاک رکھنا اور زبان کو بری باتوں سے روکنا ضروری ہے۔ ہمارے کردار اوراخلاق میں وہ مقناطیسیت اور شیرینی ہونا چاہیے کہ لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح ہمارے گرد جمع ہوجائیں

    اخلاقی قدروں سے عاری شخص صحیح معنوں میں انسان ہی نہیں ہے، یہ نہ ہو تو دنیا کا پر امن رہنا نا ممکن ہے، بد اخلاقی ہر سماجی برائی کی جڑ ہے، اسی سے گھروں کا سکون برباد ہوتاہے ، اور اس کی بدترین شکل قوموں کو لے ڈوبتی ہے ۔بدترین اخلاق کے باعث قوم حضرت لوطؑ او رقوم حضرت نوح ؑ کو عذاب الہٰی سہنا پڑا، آج ان کا نام و نشان باقی نہیں ۔ اخلاق انسانیت کی روح ہے۔  

    اخلاقیات ہی انسان کو جانوروں سے الگ کرتی ہیں ۔اگر اخلاق اچھے نہیں تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں ۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کی جماعت انسان نہیں بلکہ حیوانوں کا ریوڑ کہلائے گی یہ ہمارے لیے اخلاق کی تربیت کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے اگر ہمارا معاشرہ اس پر عمل کرے تو معاشرہ سے تمام اخلاقی خرابیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں اور معاشرہ امن، اخوت، بھائی چارہ کا گہوارہ بن سکتا ہے

     ابو داؤد کی  روایت میں ارشاد ِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم و اللیل اور صائم النہار کا درجہ پا جاتا ہے (ابو داؤد)

    اگر کوئی تمہیں گالی دیتا ہے اور تم اس کے جواب میں اسے دعا دو گالی کا جواب گالی سے نہ دیں اگر کوئی تمہیں برا کہتا ہے اور تم اسے اچھا کہتے ہو تو ایک دن وہ تمہیں اچھا کہنے لگ جائے گا۔اگر کوئی تم سے زیادتی کرتا ہے اور تم اسے معاف کر دیتے ہو تو اس کے دل میں تمہاری قدر اور خلوص بڑھے گا۔ اگر کوئی تمہارے حقوق تلف کرنے کا موجد بنتا ہے تو تم اس کے حقوق کے محافظ بن جاؤ تو یقیناًایک دن ضرور اسے بھی شرم آئے ہی جائے گی اور اس طرح معاشرہ خود بخود سدھرتا چلا جائے گا۔

     آپﷺ نے اخلاق حسنہ کے لئے اتنی دعائیں اور اتنی تاکید اس لئے فرمائی ہے کہ انسان اخلاق ہی سے بڑا بنتا ہے اور عمدہ سیرت سب سے بڑی سفارش ہوتی ہے اور انسان کی پہچان بھی اخلاق سے ہوتی ہے۔

    اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے پیارے نبی خاتم النبیین ﷺجیسے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کی جملہ تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

    خدمت خلق اور ہمارا کردار تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

  • گوگل اور ہارورڈ نے انسانی دماغی گوشے کا تفصیلی نقشہ تیار کر لیا

    گوگل اور ہارورڈ نے انسانی دماغی گوشے کا تفصیلی نقشہ تیار کر لیا

    گوگل نے انسانی دماغ کے ایک چھوٹے سے حصے کا اب تک سب سے تفصیلی نقشہ تیار کیا ہے اس میں عصبی خلیات(نیورون) اور ان کے درمیان رابطوں کو انتہائی مفصل انداز میں دیکھا جاسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق نقشے میں فی الحال 50 ہزار خلیات کو شامل کیا گیا ہے۔ تمام خلیات کو تھری ڈی انداز میں دیکھا جاسکتا ہے جن پر مکڑی کے جالے کے طرح لاتعداد ابھار ہیں اور مجموعی طور پر 13 کروڑ رابطوں یا تاروں سے منسلک ہیں۔

    واضح رہے کہ صرف 50 ہزار دماغی خلیات کا یہ ڈیٹا 1.4 پیٹابائٹس کے برابر ہے یعنی جدید ترین کمپیوٹرکی گنجائش سے بھی 700 گنا جگہ گھیرتا ہے۔

    اس کا ڈیٹا اتنا بڑا ہے کہ اب تک سائنسدانوں نے اسے تفصیل سے نہیں دیکھا ہے۔ اس کے ماہر ویرن جین کہتے ہیں کہ یہ پہلا قدم ہے اور یہ انسانی جینوم کے مطالعے جیسا ہے جس پر 20 سال بعد اب بھی تحقیق جاری ہے۔ اسی طرح دماغی نقشہ سازی کا یہ سفر بھی جاری رہے گا۔

    ہارورڈ یونیورسٹی کی ماہر کیتھرین ڈیولیک کہتی ہیں کہ ہم پہلی مرتبہ انسانی دماغ کے اتنے بڑے حصے کی اصل ساخت دیکھ رہے ہیں اور یہ جان کر میں بہت جذباتی ہورہی ہوں کہ دماغ کا اتنا تفصیلی نقشہ بنایا گیا ہے۔

    یہ کام ہارورڈ یونیورسٹی کے ہی ایک سائنسداں جیف لٹمان نے اس وقت شروع کیا تھا جب انہوں نے کسی دوا سے ٹھیک نہ ہونے والی لاعلاج 45 سالہ مرگی کی مریضہ کے دماغ کا ایک ٹکڑاحاصل کیا تھا۔ یہ گوشہ ہیپوکیمپس کے بائیں جانب واقع تھا اور یہی سے مرگی پیدا ہورہی تھی۔ اس دوران دماغ کے بعض تندرست خلیات بھی باہر نکالے گئے تھے۔

    دماغ سے نکالے جانے کے فوری بعد مختلف کیمیکل میں دماغی حصے کو محفوظ کیا گیا۔ اس کے بعد اسے بھاری دھات مثلاً اوسمیئم میں ڈبویا گیا۔ اس سے دماغی گوشے کی بیرونی سطح صاف ہوگئی اورالیکٹرون خردبین سے ہر خلیہ واضح اور صاف نظر آنے لگا۔ اس کے بعد ایک طرح کی شفاف گوند میں دماغ کو ڈبوکر اسے سخت کیا گیا۔ اس کے بعد دماغی گوشے کی 30 نینومیٹر پتلے ٹکڑوں (سلائس) میں کاٹا گیا جو انسانی بال سے ہزار درجے باریک ہیں ۔ اس کے بعد ہر گوشے کی تصویر الیکٹران مائیکرواسکوپ سے کھینچی گئی اور اسے مزید بہتر بنایا گیا۔

    اس کے بعد مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت سے اس حصے کا تھری ڈی نقشہ بنایا گیا اور مختلف طرح کے خلیات کی واضح نشاندہی بھی کی گئی۔ دیگر ماہرین نے بھی اس ڈیٹا سیٹ کو ایک بڑا خزانہ قرار دیا ہے ۔ توقع ہے کہ اس کی بدولت مزید کئی دریافتیں ہوسکیں گی۔

  • پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کے اعزاز میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں الوداعی تقریب

    پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کے اعزاز میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں الوداعی تقریب

    ایبٹ آباد میں پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کے اعزاز میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں الوداعی تقریب کا انعقادعوام کی خدمت میرا اخلاقی اور قومی فرض تھا جو میں نے اپنی دل و جان سے کیا،پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کا الوداعی تقریب سے خطاب ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کے اعزاز میں آئی ٹی ڈائریکٹر ایوب ٹیچنگ ہسپتال انجینئر شہریار علی نے الوداعی تقریب کا اہتمام کیا جس میں ڈین ایوب میڈیکل کالج و سی ای او ایوب ٹیچنگ ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم اختر نرسنگ ڈائریکٹر ایوب ٹیچنگ ہسپتال شمس الہدیٰ فائنس ڈائریکٹر اے ٹی ایچ عبدالقدیر ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل اکبر میڈیا مینیجر ملک سیف اللہ نے شرکت کی۔ تقریب کے میزبان انجینئر شہریار علی نے پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کی عوامی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی کمی کو شدت سے محسوس کیاجائیگا۔ ہسپتال کمیونٹی آپ کی اس خدمت اور جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب نے انجینئر شہریار علی اور دیگر ایڈمنسٹریشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں نے الحمدللہ اپنی زندگی کا کافی عرصہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں گزارا جو میری زندگی کا اثاثہ ہے ۔ بس یہاں کی یادیں زندگی کی سنہری یادیں ہیں جہاں تک عوامی خدمات کا ذکر کیا گیا وہ میرا اخلاقی اور قومی فرض تھا ۔ عوام کی خدمت پر خوشی اور فخر محسوس ہوتاہے۔ جہاں تک ممکن ہوتا تھا میں ہر ایک کے کام آنے کی کوشش کرتا تھا انہوں نے کہاکہ ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹرز ایڈمنسٹریشن اور تمام تر ورکرز کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیشہ محبت اور شفقت کی نگاہ سے دیکھا آپ سب سے یہی اپیل کرونگا کہ ہم سب ایک فیملی کی طرح ہیں ۔ ہم نے ایک دوسرے کے کام آنا ہے۔ میں آپ تمام کا شکر گزار ہوں ۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو.
    تقریب کے آخر میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن کی طرف سے پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا.