Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    انسان کو جب تک دکھ, تکلیفیں نہیں ملتیں اُسے خوشیوں کا احساس نہیں ہوتا اور بعض دفعہ ایسا دکھ ملتا ہے کہ وہ گزرے لمحات کو یاد کرکے روتا ہے کہ وہ وقت کتنا اچھا تھا…
    پھر چاہ کر بھی وہ وقت انسان واپس نہیں لا سکتا, وہ ایک یاد بن کر ہمیں اس چیز کا احساس بھی دلاتا رہتا ہے کہ تب ہم اتنے لاعلم, اتنے لاپروا کیوں تھے, تب ہم نے ایسا کیوں سوچا کہ تھا کہ یہ وقت ہمیشہ ہی رہے گا…
    اپنی زندگی میں مشغول ایسے تھے کہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک پل میں سب کی زندگی بدل جائے گی کہ پھر ہنسنے کا دل کریگا بھی تو ….. آ نکھوں میں آ نسو آ جائیں گے.
    میرا خاموش رہنا صرف میری ماں ہی محسوس کرتیں تھیں, میرے چہرے کو اداس دیکھ کر وہ سمجھ جاتیں تھیں کہ آ ج میرا دل اداس ہے.
    زندگی پُرسکون رواں دواں تھیں کہ ایک صبح 4:30 پہ سوات کے پولیس اسٹیشن سے کال آ ئی کہ ایک گاڑی نے ہماری گاڑی کو پیچھے سے ہٹ کیا ( جس کا ڈرائیور سو گیا تھا) اور اس ایکسیڈنٹ میں میرے بھائی کی موت ہوگئی ہے یہ خبر کسی قیامت سے کم نہیں تھیں بھائی کے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوگئے
    اُس لمحے کسی کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے .
    سبھی دُکھی تھے پر میری ماں کو کسی طرح صبر نہیں آ رہا تھا وہ بس ایک ہی بات کہہ جارہی تھیں میری زندگی کا وسیلہ میرا بیٹا مجھے کیسے چھوڑ کے جاسکتا ہے. سب انکو تسلیاں دے رہے تھے بھائی کی میت شام کو گھر پہنچی ایک کہرام برپا تھا ہر آ نکھ اشک بار تھی میری ماں بار بار بے ہوش ہوجاتیں تھیں آ دھی آ دھی رات اٹھ کے بھائی کی قبر پہ چلی جاتیں پھر شاید میری ماں کی تڑپ ہی تھی کہ بھائی کے چالیسویں کی رات میری ماں مجھے چھوڑ کر بھائی کے پاس چلی گئیں بھائی کا ایکسیڈنٹ رات 1:30 کے قریب ہوا اور یہی وقت میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا اور 10 منٹ میں ہی میری ماں مجھے چھوڑ کے بھائی کے پاس چلی گئیں…

    اُس رات میرے ساتھ رات 12:15 تک بیٹھیں باتیں کرتیں رہیں, باتوں باتوں میں کچھ نصیحتیں کرتیں رہیں مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ اُنکی آ خری باتیں ہونگیں اور جن کا احساس اُنکی موت کے بعد ہُوا… انکی کہی یہ بات کہ بیٹا بڑا وہی ہوتا ہے جس کا دل بڑا ہوتا ہے تم سب سے چھوٹی ہو کوئی بات کہہ بھی جائے تو دل بڑا کرلیا کرو…
    میں اب کس سے کہوں کہ ماں میرا دل اتنا بڑا نہیں ہے میری آ نکھوں کے آ گے سے آ پکا چہرہ ہٹتا ہی نہیں ہے..
    میرے کانوں میں آ پکی آ واز گونجتی رہتی ہے, میں کسی محفل میں بھی جاتی ہوں تو میری آ نکھوں میں آ نسو آ جاتے ہیں.
    میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ماں آ پ اسطرح اچانک سے مجھے چھوڑ جائیں گی.. کیا آ پ کے لئے بھائی ہی سب کچھ تھا..
    ماں آ پ کے ہوتے میں نے کبھی خود خیال نہیں کیا کہ اب میں بڑی ہوگئی ہوں میری آ پ سے ضد کرکے بات منوانا ویسے ہی رہا جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے ضد کرکے منواتا ہے..
    میں نے کئی لوگوں کی موت دیکھی میں نے کبھی ان لوگوں کے درد کو محسوس نہیں کیا جو کسی اپنے کی موت دے کے جاتی ہے…
    میں سوچتی تھی کہ ماں باپ جب بوڑھے ہوجاتے ہیں تو انکی خدمت کی جاتی ہے جب بیمار ہوتے ہیں اُنکی خدمت کی جاتی ہے..
    پر مجھ بدنصیب کو کیا معلوم تھا کہ ماں کی خدمت میرے نصیب میں ہے ہی نہیں,
    میری ماں تو آخری دن تک میرا خیال کرتیں رہیں…
    میری چیزیں سنبھال کے رکھنا اور پھر اُنکا یہ کہنا کہ میں کب تک تیری چیزوں کو سنبھالو گی..
    پھر ماں سے کسی بات پہ ناراض ہوجانا اور انکا پھر میری پسند کی چیزیں ابو سے منگوانا…
    ماں مجھے احساس ہوگیا ہے پر اب میرے پاس آپ نہیں ہو,
    میں خود کو بہت ٹوٹا ہوا بہت ادھورا محسوس کرتی ہوں…
    اب تو میں نے ناز نخرے کرنا بھی چھوڑ دیا ہے
    ماں اب تو میں نے روٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے…
    ماں سب کا مقام اپنی اپنی جگہ خاص ہے پر ماں آ پکے گلے لگ کے خوشی یا غم کا رونا کسی اور کے ساتھ ممکن نہیں…
    ایسا کوئی نہیں جو بنا پوچھے سمجھ جائے.. میری وہ بے فکر زندگی صرف آ پکے بدولت تھی ماں
    میرے دل کی حالت بیان کرنے کو سمجھ نہیں آ تا الفاظ کہاں سے لاؤں بس اتنا ہی کہ

    افسانہِ دلِ برباد کیا سناؤں ماں
    اجڑ گئ میری دنیا کہاں میں جاؤں ماں
    کہاں تلاش کروں ہائے اب متاعِ سکوں
    کہاں گئی میری جنت ، کہاں سے لاؤں ” ماں "

  • ابلیس کا دربار . تحریر:عمالقہ حیدر

    ابلیس کا دربار . تحریر:عمالقہ حیدر

    شیاطین کی انٹر نیشنل کانفرنس کچھ دیر تک شروع ہونے والی ہے دور دراز سے اور ہر ملک سے جنات جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں اس انٹر نیشنل کانفرس کی سب سے بڑی حیرانی یہ ہے کہ جنات کا سب سے بڑا امیر اس کانفرنس سے خطاب کرے گا یہ امیر ہر سو سال بعد ایک بڑے اجتماع سے مخاطب ہوتا ہے اور خطابت کے بعد پھر سو سال نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اس لیے آج کا اجتماع شیاطین کے لیے بہت اہم ہے کروڑوں شیاطین اپنے محبوب کی جھلک دیکھنے کے لیے بےتابی سے اجتماع کیطرف رواں دواں ہیں پھر اپنے امیر کی وعظ و نصیحت کو اپنے پلو باندھ کر اس پر عمل ہر صورت کرتے ہیں چاہیے اس کی خاطر خون کی ندیاں بھی بہانی پڑ جائیں اس لیے کچھ انسانوں کی دنیا میں بھی گروپ اس بڑے اجتماع میں شریک ہو رہے ہیں ۔ جو اس ابلیسی خطاب سے اپنی سماعتوں کو تسکین دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آئیے شیاطین کے امیر کی بارعب اور گرج دار آواز میں اس کا خطاب سنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    *میرے کارندوں آپ جانتے ہیں کہ پچھلہ سو سالہ ہدف جسطرح نے کامیابی سے طے کیا ہے اس کی کارکردگی پر میری آتما بہت خوش ہے۔ جسطرح آپ نے اسلام میں فرقہ پرستی کو ہوا دی اور مسلمان کو مسلمان سے دور کیا اس کی اب مثال نہیں ملتی اور اس کی اور کامیابی کیا ہو۔ ایک ہی اللہ اور ایک رسول اور ایک قرآن رکھنے والے ایک دوسرے کے دشمن ہیں وجہ صرف آپکی بھڑ کائ ہوئ فرقہ پرستی کی آگ ہے ۔ہمیں اگر ڈر ہے تو صرف اسلام سے ہے اور یہی وہ اسلام ہے جو ہماری ابلیسی پالیسی میں رکاوٹ ہے۔ اس لیے اس آگ کو مزید تیز کر کے اسلام کو منتشر کر دو لیکن آج کے اس بڑے اجتماع سے خطاب کرنے کا مقصد یہ لے کر آیا ہوں کہ اب آپ نےمزید اسلام کو کیسے کمزور کرنا ہے تاکہ اس کا نام بھی مٹ جائے کیونکہ ہماری فرقہ پرستی کا مشن مکمل ہو چکا ہے اور اسلام کی نئ نسل ہماری اس پالیسی سے خوب واقف ہو گئ ہے ۔نئے نوجوان دوسرے کے مسلک کو ادب سے دیکھتے ہیں اس لیے مجھے نئ پالیسی کا اعلان کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ہم نے اگلے سو سالہ کا سوچنا ہے کہ اسلام کے مقلدین کی کیسے دھجیاں آڑانی ہیں یہی وہ دین ہے جو مضبوط ہو گیا تو ہماری دھجیاں اڑا دے گا۔ کیونکہ دوسرے مذاہب کو ہم نے جسطرح بے منزل راہوں کا مسافر بنایا ہے اس کی مثال دینا مشکل ہے___

    سنو میرے پیرکارو ۔۔۔۔۔۔۔

    اسلام کے سینے میں مضبوط ترین اگر کوئ چیز محفوظ ہے تو وہ شرم و حیا اگر آج اسلامی تہزیب زندہ ہے تو اسی خوبی کی وجہ سے ہے۔ پچھلی صدی میں ہم نے یورپ میں عورت کا استعمال کر کے یورپ کا خاندانی اور معاشرتی نظام تباہ کیا اب دیکھو وہاں ماں بہن اور بھائ میں شرم و حیا ختم ہو گئ ہے بھائ کی بہن دوستوں کے ساتھ جہاں جائے کوئ روک تھام نہیں عورت کو ہم نے پورن انڈسٹری میں پہنچا کر اسے آزادی نسواں دی ۔اب دیکھو عورت یورپ میں اپنی من چاہی زندگی گزار کر ہماری پالیسی کی آئینہ دار ہے اور یہی ہماری کامیابی ہے اور یہی ہمارا مشن ہے جو ہر دن مزید سے مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے___

    آج کی اگلی سو سالہ پالیسی یہ ہے کہ اب آپ نے اہل مسلم خواتین کے دماغوں میں تحریک آزادی کا تخیل دینا ہے تاکہ وہ حدود و قیود اور حجاب جیسی گھٹیا اور روایتی انداز کو توڑ دے تاکہ مسلم خواتین سب سے پہلے ایک خاوند کی بیوی کہلانے سے نکلے اور اسے یہ حق دینے کی تقویت دینی ہے کہ۔۔۔۔ میرا جسم میری مرضی۔۔۔ اور اس جیسے شاندار نعرے اس کی روح تک اتار دینے ہیں۔ اور کچھ میرے پیروکار نے مزید Tikokاور BIGO LIV جیسے نئے راستوں سے مزید روشناس کرانا ہے کیونکہ ہم جب تک بے حیائ اور برہنہ تراکیب کو عام نہیں کریں گے اسلام کی بنیاد کمزور نہیں ہو گی اس کے لیے مزید پورن گرافی کو عام کرو۔یہی وہ راستہ جس کے ذریعے اس اسلام کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔
    تاکہ یہ جنسی تحریک دماغوں میں رچ بس جائے۔ خاندانی رشتوں کی تمیز ختم ہو ۔اس مشن کی پہلی کامیابی یہ ہو گی کہ جب بہن بھائ میں جنسی
    گفتگو میں کوئ ہچکچاہٹ نہ ہو تو سمجھو کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں ۔ہمارا یہ مشن اس صدی میں مقبول ترین ہو گا کیونکہ میری آنکھیں آنے والے زمانے میں بہت کامیابیاں دیکھ رہی ہیں آپس میں اتفاق میں رینا اہل مسلم کی طرح تفرقوں سے دور رہنا اور اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹنا کیونکہ اگر اسلام مضبوط ہو گیا تو ہمارا نام و نشان مٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آج کافی دنوں بعد بڑی خبریں ہیں ۔ آج تمام چیزیں کھول کر آپ سامنے رکھوں گا کہ زرداری کا مشن لاہور کیا ہے ۔ کیسے جنوبی پنجاب محاذ دوبارہ سرگرم ہونے والا ہے ۔ پی ٹی آئی نے اگلے الیکشن کے لیے کن چالیس لاکھ ووٹروں سے امید باندھ لی ہیں ۔ اور دو سال پہلے ہی جنرل الیکشن کی تیاری کیوں شروع ہوگی ہے ۔

    ۔ مگر ان سب چیزوں پر بات کرنے سے پہلے چند آج کی خبریں ہیں ۔ آئل ٹینکر والے احتجا ج رہے ہیں جس سے کئی شہروں میں پیٹرول کی قلت ہوسکتی ہے ۔ فلور ملز والے احتجاج کررہے ہیں ۔ اس حوالے سے بھی کہا جا رہا ہے کہ لاہور اور فیصل آباد میں آٹے کی قلت ہوسکتی ہے اور ریٹ اوپر جا سکتا ہے ۔ پھر سندھ میں گیس کی قلت کی وجہ سے صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو سپلائی معطل کر دی گئی ہے ۔ لاہور میں واسا نے پانی کے بلوں میں
    45
    فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے ۔ یہ آئل ٹینکر والے اور فلور مل والے بھی اضافی ٹیکسوں کی ہی وجہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ حالانکہ بجٹ دیتے وقت کہا گیا تھا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے ۔ یہ ٹیکس فری بجٹ ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ابھی بجٹ نے پاس ہونا ہے مگر اس کے ثمرات عوام تک پہنچانا شروع ہوگئے ہیں ۔

    ۔ سیاست کی بات کریں تو کچھ ہفتے پہلے اپوزیشن میں جو جوش و خروش پیدا ہوا تھا۔ اب وہ سرد پڑ گیا ہے ۔ لے دے کر شہباز شریف ہی دیکھائی دیتے ہیں ۔ مریم نواز کی گھن گرج بھی اب ختم ہوگئی ہے ۔ وہ بھی تب ہی میڈیا کو اپنا درشن کرواتی ہیں جب کوئی پیشی ہو ۔ ورنہ سب سے سستی شائد خاموشی ہی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کبھی کبھی میڈیا پراپنا چہرہ دکھاتے ہیں لیکن ہیں وہ بھی خاموش ہی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب لوگوں کو دیکھانے کے لیے ہو اور اندر کھاتے ایک بڑی پلاننگ چل رہی ہے ۔

    ۔ مگر ن لیگ اور پی ٹی آئی سے ہٹ کر ملک میں ایک تیسری سیاسی قوت بھی ہے۔ یعنی پیپلز پارٹی ۔۔۔ ۔ اس تمام منظر میں مفاہمت کے بادشاہ اور سیاست کے جادوگر سابق صدر آصف زرداری آئندہ انتخابات میں سرپرائز دینے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ ۔ زرداری کی پرویز الٰہی سے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو ان کے عزائم اور مستقبل کے سیاسی نقشے کا پتہ دیتی ہے۔ میڈیا پر ذرائع کے حوالے سے شائع شدہ اندرونی کہانی کے مطابق دوران ملاقات آصف زرداری نے پرویز الٰہی کو مخاطب کرکے کہا ۔۔۔ آپ ہمارے بھی اتحادی تھے اور اس حکومت کے بھی ہیں۔ فرق تو پتا چل گیا ہوگا؟ عمران خان کبھی سیاستدان نہیں تھے، خان کو لانے والے بھی اب پچھتا رہے ہیں، اگلے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی سب کو سرپرائز دے گی۔ جلد جنوبی پنجاب کی اہم شخصیات پیپلز پارٹی میں شامل ہوں گی۔ ۔ اس موقع پر پرویز الٰہی نے بھی بلاول بھٹو کی تعریف کی اور کہا کہ قومی اسمبلی میں متعدد مرتبہ بلاول بھٹو کی تقریر سنی بہت میچور بات کرتے ہیں۔۔ اس گفتگو سے حساب لگائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری اگلے الیکشن کی تیاری میں کمر کس چکے ہیں۔

    ۔ اب یہاں زرا رک جائیں ایسا نہیں ہے کہ عمران خان یا پی ٹی آئی اس پلاننگ سے غافل ہے یا ان کو پریشانی نہیں ہے ۔ یہ جو تارکین وطن کو ووٹ کا حق اور ای ووٹنگ کا شور ہے اس کے بڑے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ کیونکہ 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 88 لاکھ کے قریب پاکستانی آباد ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں ان میں اضافہ بھی ہوا ہو گا ۔ اور کمی بھی ہوئی ہو گی ۔ ان میں چند لاکھ پاکستانی وہ بھی ہوں گے جن کے کاغذات کا مسئلہ ہو گا ۔ جو بطور ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ نہ کر سکیں۔ اب آپ اندازہ لگائیں تو کم و بیش چالیس سے پچاس لاکھ نئے ووٹر تو ہوں گے جو بیرون ملک مقیم ہیں۔ ۔ اب گزشتہ الیکشن میں کُل ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ اکیاون ہزار ووٹ پاکستان تحریک انصاف نے حاصل کئے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ چھیانوے ہزار ووٹ حاصل کیے تھے ۔ اسی طرح سے پاکستان پیپلز پارٹی نے انہتر لاکھ ایک ہزار ووٹ حاصل کئے تھے ۔۔ یوں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے ووٹ میں چالیس لاکھ کا فرق ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) سے اٹھاون لاکھ جبکہ پی ٹی آئی سے ننانوے لاکھ ووٹ پیچھے ہے۔ ۔ اب اگر مقبولیت میں کمی بیشی کا حساب سامنے رکھیں تو شہروں میں مہنگائی کے باعث تحریک انصاف کا ووٹ بینک ضرور متاثر ہوا ہے۔ ۔ تو اس جمع تفریق کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی تمام تر اُمیدوں کا محور سمندر پار پاکستانی ہیں۔ اس لیے یہ حکومت ہر حال میں جائز ناجائز طریقے سے ان کو ووٹ کا حق اور سسٹم میں شامل کرنا چاہتی ہے ۔ کیونکہ صرف یہ ہی ایک واحد صورت باقی رہ گئی ہے جس کے بدولت وہ دوبارہ حکومت بنا سکتے ہیں ورنہ تو جو کارکردگی ہے اس بنیاد پر تو شاید اس بار پی ٹی آئی کے پی کے میں بھی حکومت نہ بنا سکے ۔ ۔ اسی لیے اپوزیشن جماعتیں بھی ہر قیمت پر انتخابی اصلاحات میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ یہ ووٹ بینک کہاں جانا ہے اور یہ فیصلہ کس کے مفاد میں ہوگا ۔ ۔ اب جو بات زرداری کررہے ہیں کہ وہ جنوبی پنجاب میں نقب لگائیں گے ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تین سالوں میں محض سیکرٹریٹ کا لالی پاپ دیا گیا ہے ۔

    ۔ اگرآپ کو یاد ہو تو جس وقت جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنا کر جنوبی پنجاب کے سیاستدان تحریکِ انصاف سے بالواسطہ طور پر منسلک ہوئے تھے تو تحریکِ انصاف کی ایک لہر موجود تھی۔ لوگ ایک نئی سیاسی جماعت کو آزمانے کے موڈ میں تھے۔ تبدیلی کا نعرہ اپنا اثر دکھا رہا تھا۔ اس پر جنوبی پنجاب سے تحریکِ انصاف کو ایک بڑی فتح ملی تھی۔ پر اب صورتحال یہ ہے کہ شاید تحریک انصاف جنوبی پنجاب سے اپنی جیتی ہوئی نشستیں حاصل نہ کر سکے۔

    ۔ زرداری نے اس چیز کو پڑھ لیا ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان مجبوری میں اس حکومت کی طرف سے وعدے وفا نہ ہونے پر نئی منزلوں کی طرف اڑان بھریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان کی بڑی تعداد ان کے ساتھ آسکتی ہے۔ ۔ اس کا اشارہ جہانگیر ترین نے بھی صحافیوں کے گروپ کے ساتھ ملاقات میں دیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو آپشن نہیں کہا تھا لیکن مسلم لیگ ن سمیت تمام آپشنز کھلی رکھنے کا اعتراف کیا تھا۔۔ یہاں آپکو یاد کروا دوں کہ جنوبی میں زیادہ تر electables ہیں ۔ جن کو الیکشن جیتنے کے لیے کسی پارٹی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ ہی electables جب ن لیگ میں گئے تھے تو ان کی حکومت بن گئی تھی اور جب یہ ہی گزشتہ الیکشن میں ہجرت کرکے پی ٹی آئی میں گئے تو ان کی حکومت بن گئ تھی ۔۔ شاید اسی لئے زردری کو یہ امکان نظر آتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب سے صوبائی اسمبلی میں نقب لگائی جا سکتی ہے۔ ایسا ہوگیا تو یہ ایک بہت بڑا کرشمہ ہوگا۔۔ سندھ کی نشستوں کے ساتھ پنجاب اور کے پی سے کچھ نشستیں اگر پیپلز پارٹی کو مل گئیں تو اگلے الیکشن میں مرکز میں پیپپلز پارٹی کی پوزیشن بہتر ہوسکتی ہے۔ پنجاب میں ان کی توجہ کا مرکز جنوبی پنجاب ہے۔ جہاں تک ۔۔۔ کے پی کے ۔۔۔ کی بات ہے تو ماضی بتاتا ہے کہ کے پی کے عوام کسی بھی حکومت کو زیادہ عرصہ تک مسلط نہیں رہنے دیتے۔۔ یوں جنوبی پنجاب اور کے پی کے سے اگر آصف زرداری کی توقعات پوری ہو جائیں تو اگلے الیکشن میں وفاق پر کنٹرول کا خواب پورا کرنا آصف علی زرداری صاحب کی سیاسی جادوگری کیلئے مشکل مہم نہیں ہوگی۔ یوں اگر پیپپلز پارٹی اگلے الیکشن میں 90کے قریب سیٹیں لینے میں کامیاب ہوجائے تو وہ جوڑ توڑ کرکے ، ق لیگ ، جے یو آئی دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر بآسانی وفاق میں حکومت بنا سکتی ہے ۔

    ۔ اس لیے فی الحال جنوبی پنجاب کے امیدواروں پر ’’باریک بینی سے کام‘‘ شروع کئے جانے کی اطلاعات نے حکومتی کیمپوں میں تھرتھلی مچائی ہوئی ہے ۔ اب لگتا ہے کہ وہ بات جو عمران خان نے چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں سوچی مگر دبا لی۔ اس نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے عمران خان کی جماعت اندر خانے کام کرنے میں مصروف ہے ۔ یوں تحریک انصاف کو وعدے پورے نہ کرنے پر جنوبی پنجاب میں جو نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس کا جو ووٹ بینک متاثر ہوگا۔ اس کا اندازہ اگلے الیکشن میں ہوجائے گا ۔

  • پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کو بچھڑے سال بھی بیت گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(علی عمران شاھین)

    پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کو بچھڑے سال بھی بیت گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(علی عمران شاھین)

    سال گزشتہ کےماہ جون میں زیست فانی کے ایک سے بڑھ کر ایک پیارے کے فراق کا دکھ سہنا پڑا۔ ان میں سے ایک ہمارے استاد صحافت پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی تھے جن کے نام اور تصور سے ہی تن بدن میں سکون و طمانیت کی لہر دوڑ جاتی تھی ۔۔۔۔

    یہ چند سطریں اسی وقت لکھ گئی تھیں ۔۔۔۔۔۔ دوبارہ پیش ہیں ۔۔۔۔۔۔

    زمانہ تلمیذی سے عالی جامعات کے نمونہ عمل اور ہم سب کے مشفق و مربی استاذِ کبیر پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی چل دئیے۔
    سچ یہ ہے کہ ہر سو عجب ضیاپاشیاں بکھیرتی اک شمع بچ چلی تھی اور آج وہ بھی بجھ گئی۔۔۔۔

    کل ہی کی تو بات ہے آپ یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے سکول آف میڈیا کے ڈین پروفیسر کی حیثیت سے فیکلٹی ممبرز سے آن لائن مجلس میں خوش گوار موڈ کےساتھ تبادلہ خیال اور ہدایات عطافرمارہے تھے۔

    دل ودماغ کے ہر نہاں خانے کی کہی یہ ہے کہ میدان صحافت کے شعبہ تدریس میں ہی آپ کی خدمات و مساعی لاتعداد و بےحساب ہیں۔تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اس سے بھی بالا 50 سال قبل 1972ء میں جب ملک بھر کے نوعمر متلاشیان علم، اسلامی جمعیت طلبہ کے پرچم تلے”بنگلہ دیش نامنظور تحریک”چلا رہے تھے تو وہ لاہور سے نکلنے والے ہر جلوس میں شرکت کرتے اور مختلف تعلیمی اداروں میں منعقدہ جلسوں سے”قاری مغیث الدین شیخ”کی حیثیت سے خوب رنگ جما اور جذبوں کو جگا کر خطاب کرتے۔

    ان سے ہم سب کے سیکھنے اور انہیں دیکھنے کی عمر برسوں پر محیط ہے۔ وہ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان، ان کے شاگرد و صحافت کے بطل جلیل آغا شورش کاشمیری اور حمید نظامی جیسے مرحومین کے ممتاز مداحین میں سے تھے۔اس پر مستزاد،اتنی پرشکوہ شان پانے کے باوجود متانت و عاجزی ایسی کہ آخری دنوں تک اپنے استاد ڈاکٹر مسکین حجازی کا ذکر غایت حددرجہ عقیدت و احترام سے کرتے۔

    ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بانی ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ماس میڈیا کمیونیکیشن پنجاب یونیورسٹی کی وفات حسرت آیات فرد واحد کا سانحہ ارتحال نہیں بلکہ ایک ادارے کی ہی جیسے موت ہے۔ سب گواہ ہیں کہ وہ عہد ساز نظریاتی معلم اورنابغہ روزگار شخصیت تھے۔ اسلامیت اور پاکستانیت کے فقیدالثال مبلغ تھے۔ شعبہ صحافت میں انہیں استاذ الاساتذہ، شیخ الاساتذہ بلکہ رئیس الاساتذہ کا عالی مقام و مرتبہ حاصل تھا اور ان کا یہ منسب تادیر ان کے سب تلامذہ کے اذہان و قلوب میں نسل در نسل جاگزیں رہے گا ۔

    ہمیں یقین محکم ہے کہ صدیوں آپ کا شمار محسنین صحافت و دردمندان ملک و ملت میں ہوگا۔

    وہ ایک جوہر ومردم شناس عبقری شخصیت تھے۔جیسے ہی ان کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی تو جسم و جاں جیسے بے جاں سے ہوگئے، ان کے یوں اور اتنے جلد فراق پر ملال اور وفات حسرت آیات سے جگر پاش پاش ہے، آپ کے اٹھ جانے سے ایک شخصیت کی ہی کمی واقع نہیں بلکہ فروغ علم صحافت و وطنیت و متانت کا ایک عظیم عہد تمام ہوا۔۔۔

    تن بدن کا رواں رواں ان کی یاد میں پکار رہا ہے کہ
    اک روشن دماغ تھا کہ نہ رہا۔۔۔
    اک جلتاچراغ تھا کہ نہ رہا۔

    رب کریم آپ کی بخشش کاملہ اور مغفرت تامہ فرماکر ان کی روح پر فتوح کو اعلیٰ علیین کا مکین و مقیم بنائیں۔
    الھم اغفرلہ و الرحمہ ۔۔۔۔۔۔۔
    آمین یا خیر الغافرین

    پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کو بچھڑے سال بھی بیت گیا
    تحریر:
    (علی عمران شاھین)

  • ‏ماڈرن شیر . تحریر:عمالقہ حیدر

    ‏ماڈرن شیر . تحریر:عمالقہ حیدر

    ایک بار شیر اور لومڑی میں کسی بات پہ ٹھن گئی.
    لومڑی نے کہا کہ کچھ بھی ہو وہ شیر سے بدلا ضرور لے گی،،
    لومڑی نے جنگل میں ایک بیوٹی پارلر کھولا اور جنگل کے بادشاہ شیر سے عاجزی سے استدعا کی.
    کہ حضور عالی مقام آپ اپنے مبارک قدم ہمارے بیوٹی پارلر میں رکھیں اور اسکا افتتاح کیجیے ،،
    شیر ہنسا اور کہا کہ اے نادان لومڑی میں تو شیر ہوں مجھے بناؤ سنگھار سے کیا لینا دینا ہے.
    ،، یہ کام تم کسی اور سے کراو ،،
    لومڑی نے کہا اے خوبصورتی کے پیکر میرے رحمدل عالیجاہ میں آپکی ریپوٹیشن بہتر بنانا چاہتی ہوں آپکو علم ہی نہیں ہے بادشاہ عالی مرتبت کہ آپکے مخالفوں نے آپکے بارے میں کئی جھوٹے دعوے مشہور کیے ہیں.
    ،، نت نئی افواہوں کا بازار گرم ہے ،،
    آپ کو جنگل میں قدامت پسند اور تنگ نظر بادشاہ کہا جارہا ہے ،،
    اور آپکو روشن خیالی کا دشمن سمجھا جا رہا ہے ،،
    آپ بیوٹی پارلر کا افتتاح کریں گے تو آپکے متعلق یہ افواہیں دم توڑ دیں گی،،

    شیر نے ایک لمحہ لومڑی کی باتوں پہ سوچا اور پھر افتتاح میں آنے کی حامی بھر لی ،،

    شیر نے بیوٹی پارلر کا فیتہ کاٹا ،، ریچھ ،، لگڑ بگڑ ،، بھینسے ،، گائے ،، زیبرا ،،ہرن ،، وغیرہ نے خوب تالیاں بجائیں ،،
    اسٹیج سیکرٹری بندر تھا پہلے اس نے خوب اچھل اچھل کر داد دی ،،
    پھر مائک پہ آ کر اعلان کیا ،،
    ” شہنشاہ دوراں
    آج آپ نے اس محفل میں آکر ثابت کر دیا ھے.
    کہ آپ ایک روشن خیال بادشاہ ہیں ،،
    بناؤ سنگھار کی اس محفل کی سرپرستی سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ احساس جمال سے بہرور ہیں ،،
    یوں آپکے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈہ جو یک طرفہ تھا زائل ہو گیا ہے ،،
    شیر کو یہ سب باتیں بڑی عجیب لگ رہی تھی لیکن جب سب نے تالیاں بجانی شروع کیں تو شیر کو بھی اچھا لگنے لگا ،،

    تقریب کے بعد لومڑی لہنگا پہن کر سٹیج پہ آئی اور پورے سات بار جھک کر بادشاہ کو سلامی دی ،، اور کہا
    ” یہ باندی آپکی آمد کا شکریہ ادا کرتی ہے ،،
    اب آپکی آمد کی خوشی میں یہ باندی ایک مجرہ پیش کرتی ہے ،،
    پھر لومڑی نے جی بھر کر مجرا پیش کیا.
    مجرا ایسا تھا کہ لومڑی نے میدان سے دھوئیں اٹھا دئیے ،،
    شیر پہلے تو حیرانگی سے یہ سب کچھ دیکھتا رہا پھر اسکو بھی لطف آنے لگا ،،
    یہ تقریب صبح تک جاری رہی ،،

    دوسرے دن لومڑی ایک ایک جانور کے پاس گئی..
    اور کہا کہ اب تو شیر کی چیرہ دستیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ،،
    شیر سے کوئی شریف جانور نہیں محفوظ ،،
    وہ شریف جانورں سے بھی مجرہ کراتا ہے ، پہلے تو اس کمبخت کے ہاتھوں کسی کی جان محفوظ نہ تھیں اب عزتیں بھی نہیں محفوظ ،،
    اس طرح کئی جانوروں کے ساتھ میٹنگز طے کرتے کرتے لومڑی نے ایک مشترکہ اتحاد تشکیل دے دیا اس اتحاد میں چیتا بھڑیا سانپ بندر ریچھ سب شامل تھے ،

    ایک دن شیر کے غار میں لومڑی حاضر ہوئی.
    اور عرض کی ظلِ الہی اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ،،

    ظللِ الہی اس وقت ایک ہرن نوش جاں فرمانے کے بعد اونگھ رہا تھا بادشاہ دوراں نے غنودگی کے عالم میں کہا بولو ،،
    لومڑی نے دست بستہ کہا.
    کہ شہنشاہ ہر دلعزیز کی روشن خیالی کی دھوم تو ہر طرف ہی ہے ،
    لیکن چیتے ریچھ ہاتھی وغیرہ نے آپکے خلاف ایک کولیشن تشکیل دی یے ،
    خود اس میں آپکے قریبی دوست شامل ہیں.. آپ جانتے ہیں یہ کافی ظالم جانور ہیں ،،
    آپکا ان سے بیک وقت ٹکرانا مصلحت نہیں ہے.
    میرے پاس ایک ترکیب ہے.
    جس پہ عمل کرنے سے انکے غبارے سے ہوا نکالی جا سکتی ہے ،،
    شیر نے غصے سے دھاڑتے ہویے کہا تجویذ پیش کیجائے ،

    ،لومڑی خوشامدی انداز سے بولی..
    بادشاہ سلامت آپکے خلاف سارہ پروپیگنڈہ آپکے دانتوں اور ناخن کی وجہ سے ہے ،،
    اس پہ شیر غصے سے داڑھا اور کہا تو کیا میں یہ نکلوا دوں ،،
    لومڑی بولی..
    خدا نہ کرے بادشاہ سلامت.
    لیکن اگر آپ صرف پنجوں کے ناخن کٹوا دیں اور سامنے والے تھوڑے سے دانت نکلوا دیں..
    تو آپکی طاقت بھی بحال رہے گی اور دشمن کا پروپیگنڈہ بھی مکمل خاک میں مل جایے گا ،

    ،، شیر نے سوچا کہ کہیں سارے جنگل کے اتحادی ملکر مجھ پہ حملہ نہ کر دیں..

    اس نے نہ چاہتے ہویے بھی لومڑی کی یہ تجویز مان لی.
    وہ بھول گیا کہ وہ ایک شیر ہے وہ بس ڈانس اور دوسرے محفلوں تک رہنے کا عادی ہو چکا تھا ،،

    ایک روز شیر شکار کرنے اپنی غار سے نکلا اور ایک ہرن کے پیچھے کئی کلومیٹر بھاگنے کے بعد اسکو قابو کیا ،،
    لیکن جب اسکے جسم میں اپنے ناخن گاڑھنا چاہے تو پنجے میں ناخن نہ ہونے کی وجہ سے پنجہ پھسل گیا..
    اس نے جلدی سے دانت ہرن کے گلے میں گاڑھنے کی کوشش کی لیکن یہ حربہ بھی ناکام ہؤا ،،

    اس جدوجہد کے دوران ہرنی کو بھی علم ہو گیا…
    کہ شیر فارغ ہے یہ بس نام کا شیر ہے..
    تو ہرنی نے شیر کو چار پانچ لاتیں اچھی رسید کر لیں اور وہاں سے بھاگ نکلی ،،

    شیر نے کئی جانوروں پہ قسمت آزمائی کی لیکن ایک بھی جانور پہ داؤ نہ چلا شام تک بھوک سے برا حال ہو گیا تھا ،،

    نڈھال شیر گرتے پڑتے اپنے کچھار پہنچا اور اس وقت امید کی کرن دکھائی دی.
    جب اسکو دور سے لومڑی غار میں داخل ہوتی ہوئی نظر آئی…

    لومڑی نے بادشاہ سلامت کے آگے نہ سلام پیش کیا نہ عزت دی نہ اسکو ظل الہی یا عالی جاہ کہا نہ ہی شیر کو شہنشاہ دوراں کہا…
    ،، لومڑی نے طنزیہ انداز سے کہا بھوک تو بہت لگی ہو گی،
    شیر نے نقاہت سے کہا.
    ہاں بہت زیادہ تم میرے لیے خوراک کا انتظام کر دو،
    میں نے تمہارے ہی مشورے پہ ناخن نکلوائے ہیں اور تمہارے ہی کہنے پہ سامنے کے دانت نکلوائے.
    اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے.
    کہ میرے لیے خوراک کا انتظام کر دو ،،

    لومڑی نے یہ سنا تو ایک لمبا قہقہ لگایا اور شیر کو ایک لات رسید کر کے کہا..

    او بیوقوف چوپائے

    کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں کرتا ،،،،،،
    ہاں تمہارے ساتھ چونکہ ایک تعلق ہے ،،
    لہذا میں تیرے لیے گوشت تو نہیں لیکن گھاس کا انتظام کر سکتی ہوں ،،

    یہ سن کر شیر کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا ، اس نے لومڑی پہ اچانک حملہ کیا لیکن لومڑی پہلے سے تیار تھی وہ وہاں سے ہٹی اور شیر جو نڈھال تھا اسی جگہ گر پڑا ،،
    کچھ دن بعد لومڑی شیر کے پاس پھر آئی..
    شیر بے ہوشی کے عالم سے دو چار تھا.
    اس نے لومڑی کو دور سے دیکھا تو چلا کر کہا.

    مجھے گھاس کھانا بھی منظور ہے.
    اللہ کے لیے کہیں سے میرے لیے گھاس کا انتظام ہی کر دو..
    اب تو میں گھاس کے لیے گھومنے کے بھی قابل نہیں رہا ۔۔
    لومڑی نے شیر کی یہ بے بسی دیکھی تو لومڑی کی آنکھوں میں جیت کی چمک واضح دکھائی دی لومڑی نے شیر کو طنزیہ کہا..

    "گھاس بھی تب ہی مل سکتی ہے جب تم منہ سے میاؤں کی آواز نکالو ”

    یہ سن کر شیر کا جی چاہا کہ…
    زمین پھٹ جایے اور وہ اس میں دھنس جائے.
    لیکن جس کو اپنے وقار سے زیادہ اپنی جان عزیز ہو اسکی زمین میں دھنس جانے کی خواہش پوری نہیں ہؤا کرتی…

    چنانچہ شیر نے اپنا جی کڑا کر کے اپنے منہ سے میاؤں کی آواز نکالی اور پھر رحم طلب نظروں سے لومڑی کی طرف دیکھنے لگا ،،

    لومڑی نے حقارت سے اسے دیکھا اور کہا یہ میاؤں کی آواز تم نے ٹھیک نہیں نکالی تم کچھ دن ریاضیت کرو پریکٹس کرو جس دن سے تم میاؤں کی صیحح آواز نکالنے میں کامیاب ہو جاؤ تو اس دن سے تم کو گھاس باقاعدگی سے ملنا شروع ہو جائے گی ،،

    آخری اطلاعات آنے تک شیر ابھی تک میاؤں میاؤں کی آواز نکالنے میں مصروف ہے…
    شیر اب تک میاؤں میاؤں کی اواز نکالنے میں کافی دسترس حاصل کر چکا ہے ،،۔۔

    یہ چالاک لومڑی یہود و ہنود ہیں اور شیر مسلم ممالک اور امت مسلمہ ہے.

    ان گنت کوتاہیوں اور مختلف ہتھکنڈوں میں پھنس کر امتِ مسلمہ بھول بیٹھی ہے کہ وہ ایک شیر ہے.
    سائنس و ٹیکنالوجی, پروڈکشن اور دفاعی امور میں ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیا گیا اور ہم نے بھی عقل و دانش کو سلائے رکھا اور مسلسل سوئے ہوے ہیں.

    آج یہ شیر بس میاؤں میاؤں کر رہا ہے ،،….
    بقول علامہ اقبال

    تھے تو آباء تمہارے ہی مگر تم کیا ہو,
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو,

  • جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر

    جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر

    جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر
    لاہور میں آج خوفناک دھماکہ ہوا جس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا اور ہر طرف قیاس آراییاں شروع ہوگئی کہ یہ دھماکہ آخر کس نے کروایا ؟ اور اس دھماکے کا ٹارگٹ حافظ سعید بتایا جا رہا ہے، لیکن حافظ سعید ابھی تک کہاں پر ہیں؟ اور اس دھماکے کے تانے بانے کس کے ساتھ جڑ رہے ہیں ؟
    جس جگہ پر دھماکا ہوا وہ کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہیں تاہم حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔اردو پوائنٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شہری نے تصدیق کی ہے کہ دھماکا حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہوا ہے،انہیں گھر میں نظر بند کیا گیا ہے،حافظ سعید کے گھر کے باہر سیکیورٹی موجود ہوتی ہے اور اسی کے سامنے آج دھماکا ہوا ہے۔
    حافظ سعید کی سیکورٹی کے لیے ایک گاڑی ہر وقت موجود رہتی ہے جبکہ پولیس بھی ہر وقت ان کی رہائش گاہ کے قریب ہوتی ہے۔

    شہری کے مطابق گھروں میں لوہے کے پیس بھی گرے ہیں،میڈیا میں بتایا جا رہا ہے کہ دھماکا گھر کے اندر ہو اہے لیکن دھماکا گاڑی کے اندر ہوا ہے اور بظاہر یہ گیس پائپ لائن پٹھنے کا دھماکا نہیں ہے۔دھماکے کے بعد آگ بھی لگ گئی اور دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا. دھماکا اتنا زوردار تھا کہ ہمارے گھر میں ہل گئے.

    اگر پولیس پکٹ نہ ہوتی تو گاڑی ہائی ویلیو ٹارگٹ تک پہنچ سکتی تھی ، ہمیں 65 تھریٹ الرٹس موصول ہوئے ، دھماکوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوتے ہیں ، قیاس آرائیاں نہ کریں تو بہتر ہے.

    لیکن ایک چیز نے سوچنے پر مجبور کردیا کہ ایک طرف امریکا پاکستان کو اڈے نہ دینے کی سزا دے رہا ہے تو امریکا پاکستان میں افغانستان کی خانہ جنگی منتقل کرنا چاہتا ہے، اور وہ پاکستان پر حملے کرکے اکیلا چھوڑنا چاہتا ہے ، ایک تو لاہور جوہر ٹاؤن حملے میں غیر ملکی مواد استمال ہوا اور اس سے ایک چیز واضح ہوگئی یہ امریکا اور بھارت کا ٹریلر ہے کہ اب امریکا اسامہ طرز پر آپریشن کرنے جارہا ہے اور یہ اسی چیز کی کڑی ہے ، کہ اب پاکستان میں دہستگردی کرواکے پاکستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. اور جب سے عمران خان نے امریکا کو absolute not کہا ہے تو عمران خان نے اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، تو لاہور جوہر ٹاؤن دھماکہ حافظ سعید کو ٹارگٹ کرنا یہ اشارہ ہے کہ امریکا بڑے آپریشن کی تیاری کررہا ہے. اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیز اس وقت مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں

  • پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی
    پاکستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ایک حسین ترین ملک ہے، جیسے اللہ سبحانہ و تعالی نے برف سے ڈھکی چوٹیاں، سرسبز سبزہ زار، بنجر چٹانیں اور چکردار پہاڑیاں، جنگلات، سمندر، زرخیر میدان، دریا، صحرا اور ساحلی علاقے، غرض ہمارا ملک کسی جنت سے کم نہیں ہے، لیکن یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارا ملکِ پاکستان بدترین عالمی حدت کا شکار ہے،ماحولیاتی مطالعات سروے  کے مطابق پاکستان  عالمی حدت سے متاثرہ دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ پاکستان میں عالمی حدت کے حوالے سے بہت کم لوگ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں..

    زمین کے اوسط درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کا نام عالمی حدت ہے۔ ہماری زمین کے ماحول میں کچھ ایسی گیسز پائی جاتی ہیں جو نیم مستقل لیکن دیرپا رہتی ہیں یہ گیسز قدرتی طور پر نہیں بلکہ زمین پر انسانی تجربات کے باعث مثلاً صنعتی ترقی ، آبادی میں اضافے ، جنگلات کی کٹائی اور انتہائی آلودگی پھیلانے والے فوسیل ایندھن کے استعمال سے ہم آہنگ ہے۔ جس کی وجہ سے قدرتی ماحول متاثر ہوتا ہے اور یہی عالمی حدت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔۔

     سائنسدانوں کے مطابق عالمی حدت میں بنیادی طور پر جوچھ گیسیں اضافہ کررہی ہیں ان میں سب سے بڑاحصہ کاربن ڈائی اکسائیڈکاہے۔ جبکہ میتھین، نائٹڑس آکسائیڈ، ہائیڈرو فلورو کاربن اورسلفر اکسا فلورائیڈ با الترتیب دوسرے تیسرے چوتھے پانچویں اور چھٹے نمبرپرہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ ایک مرکب سالمہ ہے جس جو کاربن کے ایک اور آکسیجن کے دو عددایٹموں سے ملکر تشکیل پاتا ہے یوں یہ تین ایٹمی سالمہ سورج کی توانائی کوجذب کرکے اس کے اخراج کے نتیجے میں تپش میں اضافہ کرتاہے۔

    مکرمی! پاکستان میں اگر عالمی حدت سے پیدا ہونے والے اثرات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کوئلے کو توانائی حاصل کرنے کے لئے جلایا جاتا ہے اور یہ عالمی حدت اور دیگر ماحولیاتی مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے۔کوئلے اور تیل سے بجلی پیدا کرنے کے باعث بھی گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوا ہے۔کوئلہ جلنے کے بعد کاربن گیس کا اخراج کرتا ہے جو ماحول میں حد درجہ آلودگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فضا میں کاربن کی مقدار بڑھا دیتا ہے اور یوں درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث کرہ ارض پرقائم حفاظتی غلاف جسے اوزون لیئر کا نام دیا جاتا ہے اس میں سوراخ پیدا ہوگیا ہے جس کے باعث سورج کی مضر شعائیں زمین کی سطح تک پہنچ کر درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔ انسان ترقی کے نام پر اپنی تباہی کا انتظام خود کرتا آ رہا ہے اور آج اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اسے کوئی راستہ نہیں دکھائی دیتا۔ کاربن ڈائی اکسائیڈ اور میتھین، دونوں گلوبل وارمنگ کا سبب ہیں۔ یہ گیسیں ہماری زمین کے اوپر فضا میں ایک ایسا دائرہ کھینچ دیتی ہیں جو سورج سے حرارت کو زمین پر آنے تو دیتا ہے، لیکن واپس نہیں جانے دیتا، جس کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔درجہ حرارت بڑھنے سے زمین کے قدرتی نظام میں خلل پڑتا ہے۔

    عالمی حدت کے باعث انسان کو مختلف مسائل کا سامنا ہے مثلاً زمین کے درجہ حرارت کے باعث برفانی تودوں کا تیزی سے پگھلنے سیلاب کے خطرات پیدا ہورہے ہیں ،اس کی وجہ سے سمندروں کا پانی گرم سے گرم تر ہو رہا ہے، اس کے اثرات پاکستان میں بسنے والی ہر مخلوق پر پڑیں گے عالمی حدت پانی کے چکر کو متاثر کرتی ہے ، اور اس کے ساتھ پینے کے پانی تک رسائی ہوتی ہے تو ، بیماریوں خصوصا سانس اور جلد کی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر عالمی حدت کو روکا نہیں گیا توو وہ مقام آ سکتا ہے کہ کہ زمین پر انسانوں کی بود و باش مشکل ہو جائے گی ،اس کا حل صرف اور صرف درخت لگانا ہے۔

    عالمی حدت پر کنٹرول کا ایک نسخہ اب ہماری دسترس میں ہے وہ ہے "درخت لگانا” ۔ درخت نہ صرف صدقہ جاریہ ہیں بلکہ اس وقت پاکستان اوردنیا کی سب سے بڑی ضرورت ہیں،درخت دن کے وقت کاربن گیس جذب کر کے آکسیجن گیس خارج کرتے ہیں درخت انسانوں کے دوست اور زمین کا زیور ہیں ۔درخت انسانوں کو نہ صرف آکسیجن، سایہ، پھل ،میوہ جات اور ایندھن مہیا کرتے ہیں بلکہ یہ ماحول کو آلودگی سے بھی بچاتے ہیں، زمین کو زرخیز کرتے ہیں، جنگلی حیات کا مسکن ہیں، زمینی کٹائو میں کمی لاتے ہیں ،سیلاب کو روکتے ہیں اور درجہ حرارت کو کم رکھتے ہیں،درخت دن کے وقت کاربن گیس جذب کر کے آکسیجن گیس خارج کرتے ہیں ۔ درخت ماحولیات کو سازگار اور موسم کو اعتدال پر رکھنے میں معاون ہوتے ہیں.

    درخت ہمارے قدرتی ماحول کو آلودگی اور عالمی حدت سے بچاتے ہیں۔ مگربدقسمتی سے پاکستان میں شب و روز درختوں کو بے دردی کے ساتھ کاٹے جارہا ہے، جس سے فضا میں آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا توازن یقینی طور پر بگڑ سکتاہے اور یہ عالمی حدت میں اضافہ کا اہم سبب بن جائے گا کیونکہ جس حساب سے درختوں کی کٹائی ہوگی، اس تناسب سے پیڑ پودے نہیں لگائے جائیں گے۔ ہم روزانہ اپنے آس پاس میں بھی یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ آبادی میں اضافہ کے سبب جس بے دردی کے ساتھ درختوں کو کاٹا جاتا ہے، اس کے مقابلے نئے پیڑ پودے نہیں لگائے جاتے۔ بہرحال یہ بات قطعاً فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آج پاکستان میں عالمی حدت کے لیے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کو بھی اہم سبب مانا جاتا ہے۔ 

    پاکستان کو عالمی حدت کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے۔آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ نے شجر کاری کی بہت زیادہ تاکید کی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے”اگر قیامت قائم ہو جائے، اور تم میں سے کسی شخص کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو، اور اسے قیامت قائم ہونے سے پہلے پودا لگانے کی مہلت مل جائے تو وہ اس پودے کو لگا دے” اگر کوئی شخص ایک پودا لگائے تو اس کو قیامت تک اس کا اجر ملتا رہے گا لہٰذا ضروری ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے مشن میں حکومت کی مکمل معاونت کریں اورجہاں بھی وزیر اعظم عمران کے بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت دس بلین درخت لگانے کا پروگرام منعقد ہو بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔اس سے ثواب بھی ملے گا آکسجن بھی ملے گی سایہ بھی ملے گا۔نہ صرف درخت لگا کر جان چھڑانی ہے بلکہ اس کی حفاظت بھی کرنی ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔اس لیے ہر فرد ایک درخت لازمی لگاٸیں ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا عمل پاکستان کو عالمی حدت کے تباہ کن اثرات سے بچانے کا سبب ہوگا۔ اور یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے کہ جس کا فاٸدہ ہماری آنے والی نسلوں کو ہوگا۔

    اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
    جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

    اللہ پاک ﷻہمارے ملک پاکستان کو سر سبز و شاداب رکھے ۔آمین!!

  • آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں عمران خان کے نقش قدم پر چلنے لگیں

    آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں عمران خان کے نقش قدم پر چلنے لگیں

    آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں
    پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چلنے اور
    جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی خواہشمند ہیں، عام انتخابات میں کامیابی کے لیے سیاسی پارٹیاں اور وزارت عظمیٰ کے نامزد امید وار ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ اسی ضمن میں کئی سیاسی پارٹیاں اور امیدوار 2021 کے انتخابات میں اپنے کارکنوں اور انتخابی ٹیموں کو منظم کرنے اور ووٹروں کو پولنگ کے لیے متحرک کر کے اپنے حق میں نتائج حاصل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں جیسا کہ 2018 کے عام انتخابات میں وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا۔ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد کا تعلق بیرون ملک سے ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقف بھی ہیں اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے خواہشمند بھی ہیں. لہٰذا اطلاعات کے مطابق کئی سیاسی پارٹیوں نے اس سلسلے میں مختلف ذرائع سے winelection.ai کی اس ٹیم کے ساتھ رابطہ کیا ہے جنہوں نے 2018 میں پی ٹی آئی کے لیےکانسٹچوینسی مینجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس ) بنایا اور اس پر عملدرآمد کرایا تھا۔ پی ٹی آئی کی مرکزی لیڈر شپ کی جانب سے اس سسٹم کی افادیت کے بھرپور اعتراف کے ساتھ ساتھ نیوز ایجنسی رائٹرز اور معروف بین الاقوامی اخبارات نے انتخابات کے بعد اپنی رپورٹ میں، پی ٹی آئی کی کامیابی میں سی ایم ایس کے نمایاں کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اسے پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی میں ایک کلیدی ہتھیار قرار دیا تھا. جس کے ذریعے پی ٹی آئی نے انتخابات سے قبل الیکشن ڈے مینجمنٹ کی مکمل تیاری کے علاوہ اپنے تمام ووٹروں کی نشاندہی، پولنگ کے دن تمام ووٹروں سے رابطہ، پولنگ اسٹیشن ٹیموں کے ذریعے ہر ووٹ کی کاسٹنگ اور پولنگ اسٹیشنوں سے بروقت نتائج کا حصول یقینی بنایا تھا. پی ٹی آئی کے انتخابی امیدواروں کی اکثریت نے عمران خان کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تاکید پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے حلقوں میں سی ایم ایس پر عملدرآمد کرایا تھا. جس کی بدولت ان علاقوں میں بھی جہاں رابطے کے دیگر ذرائع ناقص تھے، وہ اپنے ہر ووٹ کے حصول میں کامیاب رہے جبکہ دیگر پارٹیاں ہاتھ پاؤں مارتی رہ گئیں تھیں.

  • اسامہ بن لادن فریڈم فائٹر یا دہشتگرد .تحریر: عمار احمد عباسی

    اسامہ بن لادن فریڈم فائٹر یا دہشتگرد .تحریر: عمار احمد عباسی

    وزیراعظم عمران خان کا بین الاقوامی میڈیا کو دیا گیا انٹرویو اور پھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا افغان میڈیا کو دیا گیا انٹرویو دونوں میں ایک چیز کی مماثلت ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ بین الاقوامی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو جائے مگر اس تناظر میں طالبان کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب افغان صحافی نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اسامہ بن لادن کا پوچھا کہ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اسامہ بن لادن کو شہید کہا تھا تو کیا آپ بھی اسامہ کو شہید سمجھتے ہیں؟؟ جس کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے اسامہ ماضی بن چکا ہے مگر صحافی کے اسرار کرنے پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسامہ بن لادن نے افغان عوام کے لیے کوئی تشدد کا راستہ نہیں اپنایا جس کا مطلب کہ انہوں نے اِسے دہشتگرد ماننے سے انکار کر دیا ۔ چلیں ماضی کے کچھ حصوں کا زکر کرتے ہیں جس کی بنیاد پر آپ اسامہ بن لادن کو فریڈم فائٹر یا دہشتگرد کہا جائے۔

    جب نائن الیون کا واقعہ ہؤا تو القاعدہ نے اس کی زمہ داری قبول کی جس کے نتیجے میں امریکی افواج نے افغانستان میں چڑھائی کر دی مگر اُس وقت میں دنیا کی بہترین اور موجودہ دور میں بھی دنیا کی بہترین ٹاپ تین خبرایجنسی میں سے ایک "Reuters” ہے جس نے نائن الیون حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کو دہشتگرد لکھنے سے انکار کر دیا جس پر پوری دنیا کو تشویش ہوئی اور امریکہ نے بھی اس پر بھرپور احتجاج کیا مگر "Reuters” انتظامیہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن مسلم دنیا کے لیے فریڈم فائٹر ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے موٹیویشن ہے اِس لیے ہم اُسے دہشتگرد نہیں لکھیں گے۔

    مگر سچ تو یہ ہے کہ سویت یونین کی افغان چڑھائی کے دوران اسامہ بن لادن کو سعودی عرب سے بلایا گیا اور امریکہ نے اسلحہ فراہم کیا اور پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ساتھیوں کو افغان جہاد میں امریکہ کے کہنے پر استعمال کیا اور امریکہ نے ہر سہولت فراہم کی اور یوں امریکہ کی مدد سے سویت یونین کو شکست ہو گئی مگر پھر اس افغان جہاد کے بعد اسامہ بن لادن کو بطور فریڈم فائٹر متعارف کرایا گیا مگر جب اس عرصے میں امریکی اسلحہ جو پاکستان نے محفوظ کر لیا تھا اس کو اجڑی کیمپ میں اسلحہ ڈپو میں ہی تباہ اور ناکارہ کر دیا گیا۔

    سوال یہ ہے کہ اگر اسامہ بن لادن دہشتگرد تھا تو اس وقت دہشتگرد کیوں نہیں کہا گیا کہ جب اس نے افغان جہاد میں سویت یونین کے خلاف جہاد کیا اور کئی لوگوں کو مارا تو کیا یہ سب درست تھا؟؟ اگر آپ کے نزدیک دہشتگردی کی تعریف یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے مخالف قوتوں کے خلاف لڑنا بہادری اور امریکہ اور اس کی حامی قوتوں کے خلاف لڑنا دہشتگردی ہے تو آپ کو اپنی اس دہشتگردی کی تعریف پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔۔ جب ایبٹ آباد آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کو قتل کر دیا گیا تو بہت سے سوالات اٹھائے گئے مگر سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کا علمبردار امریکہ اسامہ کے معاملے میں انسانی حقوق کیوں نہیں برقرار رکھ پایا؟؟ بن لادن کو قتل کرنے کے بجائے اسے صدام حسین کی طرح پروسیکیوشن کا حق کیوں نہیں دیا گیا؟؟ کیا مہذب معاشرے میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کو سراہا جاتا ہے؟؟حقیقت تو یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کو اس طرح قتل کر کے مسلم دنیا میں ہیرو بنا دیا جس کی وجہ سے مسلم دنیا میں لوگ اسے آج بھی ہیرو اور فریڈم فائٹر مانتے ہیں۔کسی معصوم اور بے گناہ کی جان لینا دہشتگردی ہے اس کا تعلق کسی رنگ و نسل سے نہیں ہوتا مگر افغان جہاد کے بعد اور نائن الیون کے بعد اس دوران کچھ لوگوں کو یہ چیز نظر کیوں نہیں آئی کہ داڑھی سے انکار پر لوگوں کی گردنیں اُڑا دی گئی اور ان کے ساتھ فٹبال کھیلا گیا یہ سب چیزیں نائن الیون کے بعد ہی کیوں نظر آئیں؟؟
    امریکی مفادات میں کسی کو فریڈم فائٹر یا دہشتگرد کہنا زوال کی نشانی ہے۔

  • خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    سیدہ طیبہ طاہرہ عابدہ .یعنی خاتون جنت پہ لاکھوں سلام

    اس نیلے آسمان کے نیچے اور زمین کے اس سینے پر محسن انسانیت کو سب سے عزیز ترین اگر کوئی شخصیت تھی تو وہ آپ کی لخت جگر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا تھیں۔آپ نے اپنی اس جگرگوشہ کوجنت میں عورتوں کی سردار قرار دیا۔ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی خوشبو سونگھ کرفرماتے کہ ان میں سے مجھے بہشت کی خوشبوآتی ہے کیونکہ یہ اس میوۂ جنت سے پیداہوئی ہیں جو شب معراج جبرائیل نے مجھے کھلایاتھا۔

    حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی پیدائش مبارکہ بعثت نبوی کے پانچویں سال ہوئی۔یہ صبح صادق کاوقت تھا،جمعۃ المبارک کادن اور21ربیع الثانی کی متبرک تاریخ تھی۔آپ خاص قریش،آل بنی ہاشم،بنی عبدالمطلب اور اہل بیت نبوی میں سے تھیں۔امت مسلمہ کے ہاں آپکی عقیدت کسی بھی اور خاتون سے کہیں زیادہ ہے ۔ آپکی پہچان صرف آپکی ذات مبارکہ یا آپکاحسب و نسب ہی نہیں بلکہ آپکی آل و اولاد اورآپکی نسل بھی عالم انسانیت میں قابل فخروقابل ستائش ہے۔

    سیدہ فاطمہ کے مشہور القابات ’’زہرا‘‘اور’’سیدۃ النساء العالمین‘‘ہیں اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپکو دنیا و جنت کی خواتین کی سردارقراردیاتھا۔آپکی مشہور کنیت ’’ام الائمہ‘‘ہے ، آپکے 2 فرزندان حضرت امام حسن علیہ السلام اورحضرت امام حسین علیہ السلام کے باعث آپکو’’ام السبطین‘‘اور’’ام الحسنین‘‘بھی کہاجاتاہے۔آپ کو خاتون جنت،الطاہرہ،السیدہ وغیرہ سے بھی یاد کیاجاتاہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو بلاکر فرمایا:مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے کہ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی آپ سے کروں ۔یکم ذوالحجہ 2 ہجری کو 500درہم حق مہر کے عوض یہ نکاح عمل میں آیا۔

    جب بھی بیمارہوتیں تو حضرت علی علیہ السلام کچھ لانے کاپوچھتے توفرماتیں: میرے والد محترم  نے مجھے منع کیا ہے کہ میں آپ سے کچھ مانگوں۔اگر کوئی صبر وقناعت کی زندہ تصویرکودیکھنا چاہے تو آپکی زندگی کامطالعہ کرے۔

    فاقوں پر فاقے گزرجاتے تھے لیکن آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس گھرانے کی چوکھٹ سے کوئی سوالی خالی نہ جاتاتھا۔یہ وہ گھرانا ہے جس پر درودپڑھے بغیرمسلمانوں کی نماز ہی مکمل نہیں ہوتی ۔صبرواستقامت کا پہاڑ یہ خاتونِ جنت وصال نبوی کے کچھ ہی ماہ بعد 3 جمادی الثانی 11 ہجری کو اس دارفانی سے کوچ فرماگئیں۔ ان ہستیوں سے تعلق و عقیدت ایمان کی نشانی ہے۔
    آؤ در زہراء پر پھیلائے ہوئے دامن
    ہے نسل کریموں کی لجپال گھرانہ ہے