Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈوراورڈومور.تحریر : محمد ناصراقبال خان

    ڈوراورڈومور.تحریر : محمد ناصراقبال خان

    قادروکارساز اللہ رب العزت نے قرآن مجید فرقان حمیدکی سورة المائدة میںاِرشاد فرمایا ” کسی ایک اِنسان کاناحق قتل پوری انسانیت کاقتل جبکہ ایک انسان کی جان بچاناپوری انسانیت کوبچانے کے مترداف ہے”۔نام نہا د روزگار یاشوق کیلئے دوسروں کی زندگی سے کھیلنے والے معاشرے کے مٹھی بھر گمراہ لوگ زندگیاں بچانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانیوالے پولیس اہلکاروں کوگالیاں دیتے ہیں ۔اے کاش پتنگ سازی اورپتنگ بازی کے” عادی” اور”فسادی” اِس فرمان الٰہی پرغور کرتے ہوئے اپنا ا پنا گھناﺅناکاروباربند اورمذموم شوق ترک کردیں کیونکہ پتنگ بازی ایک ایسا”جنون” ہے جس نے اب تک ہزاروں انسانوںکوان کے اپنے "خون” میں ڈبودیا ہے۔پتنگ ساز اورپتنگ بازیادرکھیں اللہ ربّ العزت کے حقوق کی معافی بھی کافی ہے لیکن حقوق العباد میں معافی کے ساتھ ساتھ تلافی بھی از بس ضروری ہے ۔ معافی اورتلافی کے بغیر والے معاملات میں فیصلہ روزِمحشر ہوگا۔اپنے ناپسندیدہ معاملات کے فیصلے دنیا میں ہی کرواکے جانابہتر ہے کیونکہ حشر کے معاملات بہت نازک ترین ہوں گے۔پتنگ ساز اورپتنگ باز یادرکھیں وہ جانے انجانے میں ہرچندروز بعد کسی نہ کسی بیگناہ انسان کی زندگی کی ڈور کاٹ رہے ہیں اوریہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ قتل عمد ہے لہٰذاءاگر قانون کی کمزوری ،بیچارگی،عدم دلچسپی یاناقص ترجیحات کے سبب انہیں اِس جہان میں ا پنے ہاتھوں کسی بیگناہ کے قتل کی سزانہ ملی تواُس جہان میں مخصوص”گناہ” کابھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔دھاتی ڈور سے بیگناہوں کادلخراش قتل وہ” درندگی” ہے جس پرقاتل کو”شرمندگی "تک نہیں کیونکہ وہ درندے اپنے گناہ اورانجام سے انجان ہوتے ہیں۔ہماری "زندگی” معبود کی” بندگی” کیلئے ہے لہٰذاء”درندگی” کامظاہرہ کرنیوالے عناصرقابل گرفت اورناقابل رحم ہیں۔پتنگ سازوں اور پتنگ بازوں کی دھاتی ڈورہرگزکسی شہری کی قاتل نہیں کیونکہ وہ عناصر خود ان بیگناہوں کے قتل میں براہ راست ملوث اور زیردفعہ 302 سپیڈی ٹرائل کے مستحق ہیں ۔پتنگ ساز اورپتنگ باز وہ بدنصیب ہیں جوخودتوایک دن مرجاتے ہیں لیکن ان کاگناہ زندہ رہتاہے ۔اب ہمارے ہاں ہرشب برات کو سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے معافی طلب کی جاتی ہے اورپھر سال بھر ہم دوسروں کوپریشان اوران کے حقوق پامال کرتے ہیں۔گردن پرڈورپھرنے سے مارے جانیوالے کاکوئی نہ کوئی قاتل ضرورہوتا ہے لیکن اسے اپنے اس گھناﺅنے فعل کی اطلاع نہیں ہوتی اوروہ مزے کی نیندسوتاہے لیکن جب اُس کی موت کے بعدرشتہ داراسے اندھیری قبر میں اتاردیں گے توپھر وہاں وہ یقیناعذاب کاسامناکرے گا۔اپنے ہاتھوںکسی بیگناہ کی ناحق موت کے بعد کوئی قاتل مرقد میں چین سے نہیں رہ سکتا ۔

    جومحکمہ پولیس سے نفرت کرتے اوراہلکاروںکو گالیاں دیتے ہیں وہ یادرکھیں ہماری اورہمارے پیاروں کی زندگی کی حفاظت ان کافرض منصبی ہے اوراپنا فرض اداکرتے ہوئے اب تک پندرہ سوسے زائد پولیس آفیسر اوراہلکاروں نے جام شہادت نوش کیاہے جبکہ جوہرٹاﺅن بم دھماکے میں زخمی باوردی پولیس اہلکار کا پراعتماد چہرہ بھی سب نے دیکھا ہے لہٰذاءکسی آفیسراوراہلکار کاناپسندیدہ انفرادی فعل دیکھتے ہوئے محکمہ پولیس کی قابل رشک اجتماعی خدمات سے انکار اورقربانیوں کوفراموش نہ کریں۔یادرکھیں ون ویلنگ اورپتنگ بازی "خون” اور”جنون” کاتاریک راستہ اورقیمتی انسانی جانوں کیلئے مہلک ہے۔ ہمارے پیاروں کی زندگی کوون ویلنگ اورپتنگ بازی کی صورت میں انتہائی مہلک خطرات سے بچانے کیلئے ہمارے وردی پوش سرفروش اپنی زندگیاں تک داﺅپرلگادیتے ہیں اسلئے ان کی قدر،عزت اوران پراعتماد کے ساتھ ساتھ ان سے بھرپورتعاون کریں۔ ہماری خدمت اورحفاظت پولیس اہلکاروں کافرض جبکہ ان کی مدد کرناشہریوں پرقرض ہے ۔ ڈور سے ہونیوالے قتل عام کے بعد کوئی زندہ ضمیر پتنگ سازی اورپتنگ بازی کاتصور بھی نہیں کرسکتا۔مختلف واقعات میںشاہراہو ں پر جاتے ہوئے شہ رگ پرڈور پھرنے سے کئی معصوم بچوں سمیت مردوزن تڑپ تڑپ کرموت کی گھاٹ اترے اورباری باری ان کاجنازہ اٹھالہٰذاءاس کے باوجود پتنگ سازی اورپتنگ بازی سے باز نہ آنیوالے” لوگ” یقینامردہ ضمیراورانسانیت کیلئے "روگ” ہیں۔پتنگ بازی کاحامی مٹھی بھر طبقہ اس نام نہاد ثقافت کوزندہ رکھنا چاہتا ہے جبکہ اس سے بیزار لوگ غالب اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی خاموش ہیں جبکہ ا ن کی اس مجرمانہ خاموشی نے انہیں قاتل بنادیا ہے کیونکہ جہاں کسی مقتول کا قاتل بے نام ونشاں ہووہاں معاشرے کو قتل میں ملوث سمجھاجاتاہے لہٰذاءمعاشرے کاہرفرد اورطبقہ ون ویلنگ ،پتنگ سازی ،پتنگ بازی،جعلی ادویات کی تیاری وتجارت،بچوں سمیت خواتین پرجنسی تشدد ،منشیات کی فروخت اوراس کا استعمال روکنے کیلئے اپنااپناکلیدی کرداراداکرے۔جس چاردیواری میں پتنگ سازی اورجس چھت پرپتنگ بازی ہوتی ہے وہاں آس پاس پڑوسی توہوتے ہیں توپھروہ کیوں پولیس کواطلاع نہیں کرتے،میں ان شہریوں کو پتنگ سازوں ،پتنگ بازو ں کاسہولت کار اورشریک مجرم سمجھتاہوں ،انہیں بھی قتل عمد کے مقدمات میں نامزد کیاجائے،خدانخواستہ آئندہ ڈور سے قتل ہونیوالے بچے یا شہری کاتعلق ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے سواس وقت سے ڈریں اورایک معاون کی طرح اپنی محافظ پولیس کی مددکریں ۔

    ہمارے ہاںڈورکوقاتل کہاجاتا ہے توپھریقینامرنیوالے مقتول ہیں لہٰذاءانہیں جاںبحق کہنا انصاف نہیں۔ہر وہ تھانہ جس کی حدودمیں ڈور سے کسی شہری کاقتل ہووہ نامعلوم قاتل کیخلاف قتل عمد کی دفعات کے تحت مقدمات درج اوربعدازاں وہاں سے گرفتارہونیوالے شرپسند پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کوان مقدمات میں نامزد اورچالان کرے ۔آئے روزدھاتی ڈور پھرنے سے قیمتی انسانی جانوں کاضیاع قومی المیہ ہے ،اگر دھاتی ڈور سے اموات محض ایک حادثہ ہیں توپھر ایس ایچ اوزکومعطل کیوں کیاجاتا ہے،یہ معطلی کوئی راہ حل نہیں۔پولیس حکام اپنے کس کس ماتحت ایس ایچ او کومعطل کریں گے جبکہ ا یس ایچ او کی معطلی کے باوجود پتنگ بازی کاسلسلہ معطل نہیں ہوتا۔ پولیس تنہا پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کا ناطقہ بند نہیںکرسکتی ، اپنے پیاروں کو” ڈور” سے بچانے کیلئے شہریوں کی طرف سے” ڈومور” ناگزیر ہے۔ شاہراہوں پررواں دواں بیگناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے درندے تختہ دار کے مستحق ہیں ۔ راقم کی تجویز کی روشنی میں پولیس نے پتنگ بازوں کیخلاف کریک ڈاﺅن کیلئے ڈرون کیمروں کا استعمال شروع کردیا ہے ، میرے پاس مزید انتہائی موثر تجاویزہیں لیکن آئی جی پنجاب سمیت کوئی سننے کیلئے تیار نہیں کیونکہ کسی مقتول سے ان کاخونی رشتہ نہیں ہے ۔ حکمران اور پولیس حکام خون کی ہولی روکنے کیلئے مختلف طبقات کی نمائندہ شخصیات کے ساتھ مکالمے کااہتمام کریں ۔پتنگ بازی ،منشیات اورجنسی درندگی سمیت مختلف سماجی اورمعاشرتی برائیوں سے نجات کیلئے تعلیمی نصاب ،اساتذہ اورعلماءحضرات سے بھرپور مدد لی جاسکتی ہے ۔پتنگ سازو ں اورپتنگ بازوں کیخلاف منظم اورموثر کریک ڈاﺅن کیلئے” ابابیل سکواڈ” بنایا جبکہ باشعور شہری رضامند ہوں تو ان سے رضاکارانہ کام لیاجائے اورحکام ان کانام صیغہ رازمیں رکھیں۔پولیس پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کامحاصرہ اورمحاسبہ کرنے کیلئے اپنے پرائیویٹ انفارمرز کومتحرک کرے۔

    لاہور کے پروفیشنل اورجہاندیدہ سی سی پی او ایڈیشنل آئی جی غلام محمودڈوگر جبکہ لاہورکے نیک نیت اورزیرک ڈ ی آئی جی آپریشنز ساجدکیانی کی انتھک قیادت میں ان کے مستعد ٹیم ممبرز پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کے تعاقب کرتے ہوئے ان کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں۔غلام محمودڈوگر اورساجدکیانی تھانہ کلچر کی تبدیلی کیلئے کوشاں اوراس نیت سے مختلف تھانوںکادورہ کرتے ہیں ،وہ تھانہ فیکٹری ایریا ،کوٹ لکھپت اورنواب ٹاﺅن کی عمارتوں کامعائنہ کرنے کیلئے وہاں کاسپیشل وزٹ کریں۔تھانہ” نواب ٹاﺅن” کانام سن کرلگتا ہے یہ تھانوںکا”نواب” ہوگالیکن تھانہ” نواب” ٹاﺅن کی عمارت کسی جھونپڑی اورجھگی سے بدتر ہے جبکہ اس کے اطراف میں جھاڑیاں خطرے سے خالی نہیں ۔ تھانہ فیکٹری ایریا کو ایک کھنڈر نمابوسیدہ عمارت میں منتقل کرنااور اہلکاروں کی زندگی داﺅپرلگاناانصاف نہیں، یقینا کوئی ایس پی دوگھنٹوں تک اس عمارت میں نہیں بیٹھ سکتا،اسے فوری کسی جدید اورمحفوظ عمارت میں شفٹ کیاجائے ۔ لاہورپولیس بیک وقت کئی محاذوں پرسربکف ہے تاہم غلام محمودڈوگر اور ساجدکیانی کے سخت،درست اوردوررس اقدامات سے پتنگ بازی پر کافی حدتک قابوپالیا گیا ہے لیکن ابھی انہیں مزید کام کرنا ہوگا ۔روزانہ بنیادوں پرلاہور کے مختلف تھانوں کی حدود سے پتنگ ساز اورپتنگ باز گرفتار ہورہے ہیں لیکن قوانین میں سقم کے نتیجہ میں انہیں فوری ضمانت ملنا ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔چندگھنٹوں کی گرفتاری کے بعد رہائی اورپولیس کی جگ ہنسائی سے معاشرے کو پتنگ سازی اورپتنگ بازی کے نتیجہ میں ہونیوالے کشت وخون سے نجات نہیں ملے گی ۔پتنگ ساز اورپتنگ بازدرندے اورقاتل ہیں لہٰذاءان کے شر سے بیگناہ شہریوں کی حفاظت کیلئے ان درندوں کو زندانوں میں رکھیں،یادرہے ہرقاتل کی طرح ڈور سے شہریوں کوقتل کرنیوالے بھی تختہ دار کے مستحق ہیں۔ سی سی پی او ایڈیشنل آئی جی غلام محمودڈوگر اور ڈ ی آئی جی آپریشنز لاہور ساجدکیانی پنجاب کی منتخب سیاسی قیادت سے ملاقات کریں اور اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میںانہیں تعمیری تجاویز دیں کیونکہ کوئی معاشرہ سخت "قانون "بنائے بغیر” قانون شکنی” نہیں روک سکتا ۔ منتخب ایوان معاشرے کودرپیش چیلنجز کودیکھتے ہوئے قانون سازی کریں ،پتنگ سازی اورپتنگ بازی کاراستہ صرف© "قانون سازی” سے روکاجاسکتا ہے۔

  • گالی کوئی کلچر نہیں .تحریر: ملک ضماد 

    گالی کوئی کلچر نہیں .تحریر: ملک ضماد 

    اسلام سمیت دنیا کے تمام مذاہب میں اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے سب سے زیادہ اسلام میں اخلاقیات کا درس دیا گیا ہے

    خود ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ساری زندگی لوگوں کو اخلاقیات کا درس دیا اور خود اس پر پہلے عمل کیا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار گالیاں دیتے، مختلف القابات سے بلاتے، جادوگر اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے لیکن کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کا جواب نہیں دیا بلکہ ان کے لئے ہدایت کی دعا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی وجہ سے وہ لوگ جو گالیاں دیتے تھے وہ مسلمان ہوئے پھر خود وہ لوگ داعی بنے پھر وہ خود اخلاقیات کا درس دیتے دیتے پوری دنیا میں پھل گئے

    طائف کی گلیوں میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوت و تبلغ شروع کی تو طائف کے لوگوں نے نبی اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم کو طائف سے باہر نکال دیا اور ان کے پیچھے نوجون لڑکوں کو لگا دیا جو ان کو پتھر مارتے رہے پتھر لگنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک سے اتنا خون بہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے مبارک خون سے بھر گئے

    طائف سے باہر نکل کر جب کسی جگہ آرام کرنے بیٹھے تو جبرائیل علیہ السلام آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ میں طائف والوں کو تباہ کر دوں تو نبی کریم ص نے کہا نہیں اللہ پاک ان طائف والوں کی آنے والی نسلوں سے دین کا کام لیں گے

    پھر دنیا نے دیکھا طائف سے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ نکلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالی دینے والے کو بھی دعا دیتے تھے پتھر مارنے والے کو بھی دعا دیتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو بھی درس صبر و تحمل سے رہنا کوئی برا کہے درگزر کروکوئی گالی دے برداشت کروایک حدیث شریف کا مفہوم ہے

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا “گناہ کبیرہ میں یہ بھی ہے کہ انسان اپنے والدین کو گالی دے”۔ صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، “یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دے سکتا ہے؟” آپﷺ نے فرمایا کہ “ہاں ! وہ اس طرح کہ یہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ جواب میں  اس کے باپ کو گالی دے ، یہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ جواب میں اسکی ماں کو گالی دے”

    ( بخاری ، مسلم )

    آج کل ہمارے معاشرے میں گالی کو فیشن سمجھا جا رہا ہے ایک دوسرے کو اگر مخاطب بھی کرنا ہے تو گالی دے کر کیا جا رہا ہے حالانکہ اسلام میں کسی نام بگاڑنے یا گالی دینے والے کے لیے سخت وعید بتائی گئی ہے ہماری عام عوام ہو یا ہمارے ارباب اختیار ہواسمبلی میں بیٹھے ممبران ہوں یا اسمبلی سے باہر سیاسی لوگ دفاتر میں بیٹھے افسران ہوں یا سڑکوں پے کام کرنے والے جس کو بھی دیکھو آج کل اس کے زبان پے گالی عام ہو چکی ہے

    پھر اکثر لوگ گالیاں بھی ماں بہن کی دیتے ہیں جن کو پتہ نہیں ہوتا ان کے بیٹے، بھائی باہر کیا گل کھلا رہے ہیں جو ان ہو اتنے اچھے طریقے سے یاد کیا جا رہا ہے سب سے پہلے ہم انسان ہیں پھر مسلمان ہیں ہمیں بطور معاشرہ یہ سوچنا ہو گا کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے ہم کسی کو گالی دیں اور وہ ہمیں گالی دے گالی دینا اخلاقی، مذہبی، معاشرتی، قانونی، کسی بھی طور پے جائز یا قابل برداشت نہیں اکثر دیکھا گیا ہے دوست ایک دوسرے کو مذاق میں گالیاں دیتے دیتے لڑ پڑتے ہیں اور بات قتل و غارت گری تک پہنچ جاتی ہے پھر وہ دوست جو ایک دوسرے کے بغیر سانس نا لیتے تھے ان کی چھوٹی سی غلطی سے بات خاندانی دشمنی تک پہنچ جاتی ہے ،

    آئیں مل کر اپنے آپ سے شروع کریں اور پھر پورے معاشرے کو اس کی ترغیب دیں گالی نہیں پیار دو پیار محبت کا کلچر عام کرو پیار دو پیار لو کو اپناو

  • پاکستان میں جنسی تشدد کی اہم وجوہات اور انکا سد باب .تحریر : حسن ساجد

    پاکستان میں جنسی تشدد کی اہم وجوہات اور انکا سد باب .تحریر : حسن ساجد

    باغی ٹی وی ویب سائٹ کے توسط سے راقم الحروف نے اپنی گزشتہ تحریر کے ذریعے پاکستان میں بچوں کے ساتھ ہونیوالے جنسی تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ کی طرف ارباب اختیار اور عوام الناس کی توجہ دلانے کی کوشش کی۔ میں باغی ٹی کی انتظامیہ کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک اہم اور توجہ طلب مسئلہ پر میری تحریر کو شائع کیا۔ بڑھتا ہوا جنسی تشدد ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور کسی بھی مسئلہ کو حل کرنے سے پہلے اس کی ممکنہ وجوہات کو تلاش کرنا اہم ہوتا ہے۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے چند اہم وجوہات اور ان کا ممکنہ میری حل آج کی تحریر کا حصہ ہے۔

    1- ماحول، معاشرہ اور شعور:
    کسی بھی جاندار کی طبیعت، مزاج، کردار اور اوصاف پر اس کے ماحول اور معاشرہ کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ انسان پیدائشی طور پر سلیم الفطرت اور معصوم ہوتا ہے۔ انسان خیر اور شر دونوں چیزیں اپنے معاشرے اور اردگرد کے ماحول سے سیکھتا ہے۔ انسان پیدائشی طور پر نیکوکار یا بدکار نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف ایک انسان ہوتا ہے، معاشرہ ہی اس کو اچھائی یا برائی کی جانب راغب کرتا ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں منفی سوچ اور منفی روایات فروغ پا رہی ہیں جن کو سیکھ کر ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ میرے نزدیک جب بری صحبت کا شکار یہ نوجوان اپنے جذبات کی تسکین کے لیے خیر اور شر کی تمیز بھول جاتے ہیں تو ایسے واقعات جنم لیتے ہیں۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو باکردار بنانے اور اس لعنت سے چھٹکارہ پانے کے لیے ان کے ذہنوں سے منفی سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا اور تربیت کے اس فقدان کا خلا پر کرنا ہوگا جس کی بدولت وہ ایک انسان کی بجائے وحشی درندے کا روپ دھار لیتے ہیں۔ کیونکہ ہم معاشرے سے منفی سوچ اور منفی رویوں کو ختم کیے بغیر اس برائی اور اس جیسی دیگر برائیوں سے نہیں بچ سکتے ۔

    اس معاملے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی برائی کو ختم کرنے سے پہلے اس برائی کے متعلق شعور اور اس سے متعلق آگہی کا ہونا ضروری ہے مگر ہمارے نوجوان میں شعور اور آگہی کی کمی ہے ۔ جس کے باعث ہم ایک صحت مند اور باشعور معاشرہ تشکیل دینے سے قاصر ہیں۔ معاشرتی برائیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مثبت روایات کا امین اور تہذیب و اخلاقیات کا پاسدار ایک صحت مند، مہذب، باشعور اور پڑھا لکھا معاشرہ تشکیل دیں جو مثبت سوچ کی حامل ایک ایسی نوجوان نسل تیار کرے جن میں ایسی خرافات بالکل موجود نہ ہوں۔ اور اس طرز کے صحت مند اور تہذیب یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کے سامنے گندی اور فحش گفتگو سے پرہیز کریں۔ ان کے سامنے اخلاقیات سے گری ہوئی گفتگو نہ تو خود کریں اور نہ ہی کسی دوسرے کو کرنے دیں۔ ہم ان کے اندر مثبت سوچوں کو پروان چڑھائیں اور ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں معاشرے کا ایک ذمہ دار اور باشعور شہری بننے میں مدد فراہم کریں۔

    2- والدین اور بچوں کے تعلقات میں کھچاؤ:-

    بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں والدین اور بچوں کے تعلقات اکثر خاندانوں میں کھچاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ والدین اور بچوں کے تعلقات میں اعتماد کی جگہ سختی اور ڈر پایا جاتا ہے۔ جس کے باعث نہ تو بچے کھل کر اپنے مسائل کا اظہار اپنے والدین سے کر سکتے ہیں اور نہ ہی والدین بچوں کو دوستانہ ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں مسائل کو سن کر اس کا مؤثر حل نکالا جائے۔
    یہاں اس بات کا تذکرہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے کہ میری نظر سے چند ایسے واقعات بھی گزرے ہیں جن میں بچوں نے جب والدین سے اپنے ساتھ ہونے والے اس بدترین سلوک کا تذکرہ کیا تو والدین نے ان کو اعتماد دینے اور ان کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے الٹا ان کو ڈانٹ دیا کہ وہ متعلقہ شخص پر الزام تراشی کر رہے ہیں جس کی بدولت بظاہر شرافت کا لبادہ اوڑھے معاشرے کے مکروہ کرداروں کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی اور بہت سے دیگر بچے انکی وحشت کا شکار ہوتے رہے۔ جب تک والدین ایسے مسائل پر اپنے بچوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان پر مؤثر انداز سے کوئی ایکشن نہیں لیں گے یا اپنے بچوں کی شکایات کو محبت سے دوستانہ ماحول میں سن کر ان کے مسائل اور شکایات کو دور کرنے کی مخلص کوشش نہیں کریں گے ہمارے معاشرے میں ایسے مسائل جنم لیتے رہیں گے۔
    ایسے دلخراش واقعات سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ اعتماد کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات قائم کریں جس میں وہ بچوں کو ایسی پیش آنے والی اور دیگر تمام شکایات کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں اور جب بچوں کو ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو وہ بچوں کو ڈرانے یا دھمکانے کے بجائے ان کے ساتھ بہتر اور مثبت رویہ رکھتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کریں۔

    3- غربت، بے روزگاری اور معاشی اضطراب:-
    حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک مبارک حدیث کا مفہوم ہے کہ “قریب ہے کہ تمہاری غربت تمہیں کفر تک لے جائے”۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرتی خرافات کے پیش آنے میں ایک بڑی وجہ غربت اور بے روزگاری بھی ہے۔ میرے نزدیک ایسے واقعات کے بڑھنے کی ایک وجہ غربت، بے روزگاری اور معاشی اضطراب ہے کیوں کہ غربت کے باعث والدین اپنے بچوں کا پیٹ پالنے میں بے حد مصروف ہیں۔ ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچے کی حرکات پر توجہ دیں یا اس سے ملنے جلنے والے افراد پر نظر رکھیں۔
    اب اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو بڑھتی ہوئی بے روزگاری نوجوانوں کو ٹینشن، ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل، معاشی اضطراب اور محرومیاں دے رہی ہے اور نوجوان اس ہیجانی کیفیت سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ فحش بینی، نشہ اور دیگر سماجی برائیوں کی نظر ہوجاتے ہیں۔ ایسے کام کرنے سے ان کے اندر منفی سوچوں کا رجحان بڑھتا ہے جو ان کو سماجی برائیوں مثلاً کرپشن بدعنوانی اور جنسی تشدد جیسے واقعات کی طرف ابھارتا ہے۔
    ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ہنگامی بنیادوں پر اپنے معاشی مسائل کو حل کریں۔ بالخصوص نوجوان طبقہ کی کریئر کونسلنگ پر توجہ دی جائے تا کہ ہمارا نوجوان معاشی بدحالی کا شکار ہو کر سماجی خرافات کی نظر نہ ہو جائے۔

    4- کمزور قوانین اور سماجی بے حسی :-
    کمزور عدالتوں اور ناقص قانون سازی کے حوالہ سے ہم جہاں کرپشن اور بدعنوانی سمیت بہت سے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں وہیں جنسی تشدد کے واقعات کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں کے قوانین اور عدالتی کاروائیاں بہت کمزور ہیں۔ سیاسی دباؤ، اثر و رسوخ رشوت اور دیگر افعال کے ذریعے ہم انصاف کو مظلوم کی پہنچ سے دور کر دیتے ہیں۔ اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا معاشرہ اجتماعی سماجی بے حسی کا شکار ہے۔ کیونکہ ہمیں صرف اپنا ہی درد محسوس ہوتا ہے دوسرے کے درد کو محسوس کرنے کا جذبہ ہم میں ناپید ہوچکا ہے۔ ہم دوسروں کی تکلیف کو محسوس کر کے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے اپنے اوپر اس مصیبت کے نازل ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
    ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم معاشرے میں احساس ذمہ داری، باہمی اخوت اور ایثار کا جذبہ پیدا کریں تاکہ ہم دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے مسائل پر ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ ہمیں اپنے عدالتی نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا اور ہمارے پولیس اور تھانہ کلچر کو بھی ہمیں ٹھیک کرنا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کے رونما ہونے پر ملزمان کو فورا پکڑا جائے اور مناسب سزا دی جائے تاکہ معاشرے میں برائیوں کے خاتمے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    5- علاقائی تہذیب و ثقافت سے انحراف :
    مثل مشہور ہے کہ “جیسا دیس ویسا بھیس”۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارا لباس اور ہمارا طرز زندگی ویسا ہونا چاہیے جیسا اس معاشرے اور کمیونٹی کے باقی تمام لوگوں کا ہے جس میں ہم رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں مغربی طرز زندگی پر کاربند ہونا اور مغربی لباس زیب تن کر کے مکمل طور پر معمول کے مطابق زندگی گزارنا مشکل کام ہے۔ مغربی طرز کا لباس زیب تن کر کے جب بچے اور بچیاں باہر نکلتے ہیں تو خون سونگھنے والے ان درندوں کی نگاہیں ان بچوں کا تعاقب کرتی ہیں جو موقعہ ملتے ہی اپنی تسکین کا سامان پیدا کرلیتی ہیں۔
    ایسے واقعات کو مناسب انداز سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں اور بالخصوص بچیوں کو ایشیائی طرز کا لباس پہنائیں جو ہماری روایات اور ہمارے اردگرد کے ماحول کے متصادم نہ ہو۔ میں وزیراعظم پاکستان کے مختصر لباس کی ممانعت پر دیئے گئے بیانہ کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ کیونکہ مختصر لباس زیب تن کرنا ہماری تہذیب و ثقافت اور ہمارے کلچر کا حصہ نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے خواتین اور بچیوں کا مختصر لباس مردوں میں درندگی ابھارنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے لہذا ہمیں بطور قوم اس کلچر اور اس رواج کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے شعار اور روایات کی پاسداری کرتے ہوئے خود بھی اسلامی لباس زیب تن کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسکی عادت ڈالیں۔

    6- ریاستی اداروں کا کردار:-
    مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کسی بھی ریاست کے چار اہم ستون ہیں۔ معاشرتی و اخلاقی تعمیر میں ان اداروں کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ یہ ادارے اپنے لوگوں کے مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بےشمار واقعات کے ہو جانے کے بعد بھی ریاستی اداروں میں بھی اس مسئلہ کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جانے کے نام پر سیاست تو ہوئی ہے مگر کوئی ٹھوس اقدامات ہمیں نظر نہیں آئے جس کے ذریعے ہم اپنے مستقبل اپنے بچوں اور بچیوں کو اس آگ سے محفوظ رکھ سکیں۔ میڈیا پر بھی محض ٹی وی ریٹنگ بڑھانے اور واقعات کو اچھالنے کا کام ہوتا ہے واقعات کو حل کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روکتھام کے حوالے سے میڈیا بھی اپنا تعمیری کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ میری ان تمام ریاستی اداروں میں بیٹھے ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ “بچے محفوظ مستقبل محفوظ” کے اصول پر عمل پیرا ہو کر مقننہ، عدلیہ اور میڈیا میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ قانون سازی کے عمل کو یقینی بنائیں تاکہ مجرموں کے لیے مؤثر سزاؤں اور قانونی حدود و قیود کا تعین کرتے ہوئے ان واقعات کو روکا جا سکے۔ بحیثیت پاکستانی میری اپنی قوم سے بھی گزارش ہے کہ ہمارے بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں۔ اگر ہم نے یوں ہی بے حسی دکھائی تو کل کو یہ آگ پھیل کر ہمارے گھر تک پہنچ جائے گی اور پھر ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
    لہذا ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ہمیں مل کر آج ہی اس برائی کو روکنا ہوگا تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہو۔ اللہ پاک پاکستان کے ہر بچے اور ہر بیٹی کو محفوظ مستقبل عطا فرمائے اور اسے اس ملک کا وفادار اور باعزت شہری بنائے۔
    آمین

  • حکومت کا اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم

    حکومت کا اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے پنجاب اسمبلی میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے ملاقات کی ہے. صوبائی وزراء راجہ بشارت اور چودھری ظہیر الدین بھی اس موقع پر موجود تھے، باہمی دلچسپی کے امور، بجٹ اجلاس، ورکنگ ریلیشن اور سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی ہے.

    وزیراعلی نے بجٹ اجلاس کے دوران اسمبلی کی کارروائی احسن طریقے سے چلانے پر چودھری پرویز الہی کی تعریف کی ہے،
    وزیر اعلیٰ کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار 560 ارب روپے کا ریکارڈ ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے، اپوزیشن عوام دوست بجٹ پر تنقید کر کے عوام سے دشمنی کر رہی ہے، سیاسی تماشا لگانے کی ہر سازش کو ملکر ناکام بنایا جائے گا، عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اتحادی جماعت سے مل کر کام کر رہےہیں اور کرتے رہیں گے، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے، اتحادی جماعت کو ہر موقع پر ساتھ لیکر چل رہے ہیں، پی ڈی ایم کا اکٹھ بکھر چکا، ہم ایک پیج پر ہیں اور ایک رہیں گے، اپوزیشن جماعتوں نے صرف سازشیں کیں اور ان عناصر کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، سازشیں کرنیوالے پیچھے رہ گئے اور ہمارا اتحاد آگے کی جانب بڑھ رہا ہے،

    چودھری پرویز الہی نے کہا کہ عوام دوست پر وزیراعلی عثمان بزدار کے اقدامات کو سراہا گیا، تحریک انصاف کے اتحادی ہیں، موجودہ حالات میں انتشار کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ہمارا نصب العین صرف عوام کی خدمت ہے.

  • وزیراعظم کی  ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت

    وزیرِ اعظم عمران خان سے ارکانِ قومی اسمبلی نے ملاقات کی.

    ملاقات میں مشیرِ تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد، معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور ملک عامر ڈوگر، ارکانِ قومی اسمبلی عاصم نذیر، رضا نصر اللّہ گھمن، خرم شہزاد اور صنعت کار شاہد نذیر نے ملاقات ٰکی ہے، ملکی سیاسی صورتحال، بجٹ میں عوام کے ریلیف اور صنعتوں کی سہولت و ترقی کیلئے کیے گے اقدامات پر گفتگو کی ہے، عاصم نذیر نے وزیرِ اعظم کو ٹیکسائل شعبے سے متعلقہ معاملات خصوصا موجودہ حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں ٹیکسٹائل کے شعبہ جات کا فروغ اور ترقی برآمدات میں شعبے کے کردار سے متعلق تفصیلی بریف کیا ہے. شعبے کی مزید بہتری و فروغ کے حوالے سے حل طلب معاملات اور تجاویز بھی پیش کی ہیں.

  • فیس بک کے بانی کا واٹس ایپ میں شاپنگ کو لانے کا اعلان

    فیس بک کے بانی کا واٹس ایپ میں شاپنگ کو لانے کا اعلان

    فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے 4 نئے فیچر کا اعلان کیا ہے جن میں واٹس ایپ اور مارکیٹ پلیس میں شاپس، انسٹاگرام ویژول سرچ اور شاپ ایڈز شامل ہیں جس سے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے ذریعے شاپنگ کرنا آسان ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ میں شاپس سے صارفین کو کاروباری اداروں سے کچھ خریدنے سے قبل بات چیت کا موقع ملے گا مارکیٹ پلیس میں شاپس کا فیچر فی الحال صرف امریکا میں دستیاب ہوگا۔

    مارک زکربرگ نے کہا کہ مارکیٹ پلیس میں یہ فیچر لوگوں کو فیس بک پر آن لائن دکان تشکیل دینے میں مدد فراہم کرے گا اور ایک بار شاپ سیٹنگ ان ایبل کرنے پر اسے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر استعمال کیا جاسکے گا۔

    فیس بک کے بانی نے کہا کہ انسٹاگرام ویژول سرچ سے صارفین کو تصاویر پر مبنی مصنوعات کو تلاش کرنے میں مدد ملے سکے گی جبکہ شاپ ایڈز شاپنگ تجربات کو پرسنلائز بنائے گا۔

    اس کے برعکس واٹس ایپ میں شاپس کا فیچر متعدد ممالک میں پیش کیا جارہا ہے جبکہ شاپ ایڈز امریکا، یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں متعارف کرایا جائے گا۔

    واٹس ایپ کو ہیکرز کی رسائی سے کس طرح محفوظ رکھا جائے

    انسٹاگرام اور فیس بک مارکیٹ پلیس میں تو پہلے ہی ایپس میں شاپس کا آپشن نمایاں ہے مگر واٹس ایپ شاپس ان میں نمایاں فیچر ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل رواں ہفتے فیس بک کی جانب سے کلب ہاؤس کی نقل پر مبنی لائیو آڈیو فیچر کو بھی سوشل میڈیا سائٹ کا حصہ بنایا گیا تھا مارک زکربرگ نے ان نئے ای کامرس فیچرز کا اعلان لائیو آڈیو روم میں بات چیت کے دوران ہی کیا۔

    واٹس ایپ انتظامیہ نے 100 فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    ان کا کہنا تھا کہ ہر ماہ ایک ارب سے زیادہ افراد مارکیٹ پلیس کو استعمال کرتے ہیں تو ہم کارباری اداروں کے لیے وہاں پر اپنی دکانوں کی تشکیل کے عمل کو زیادہ آسان بنارہے ہیں تاکہ زیادہ افراد کو رسائی مل سکے۔

    رواں ماہ کے شروع میں فیس بک کی ایف 8 کانفرنس کے دوران کمپنی نے واٹس ایپ فار بزنس میں اپ ڈیٹس کے بارے میں بتایا تھا اس سے قبل ایک بزنس اکاؤنٹ کو تشکیل دینے میں کئی ہفتے درکار ہوتے تھے مگر اب یہ چند منٹوں میں ممکن ہوسکے گا۔

    واٹس ایپ شاپ کا فیچر آنے والے ہفتوں میں دستیاب ہو سکے گا-

    واٹس ایپ کا جلد ہی زبردست فیچر متعارف کرانے کا اعلان

  • مکار مودی کی نئی چال . تحریر:نوید شیخ

    مکار مودی کی نئی چال . تحریر:نوید شیخ

    مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو ہفتے سے مختلف افواہوں اور قیاس آرائیوں کے درمیان مودی نے اچانک مقبوضہ کشمیر کی سبھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا ہے جو کل دلی میں ہو گا۔
    ۔ بھارت نواز پیپلز الائنز میں شامل سبھی جماعتوں نے طے کیا ہے کہ وہ اس اجلاس میں شریک ہوں گے ۔ اس اجلاس کا اصل مقصد کیا ہے ۔اس کی تشہیر نہیں کی جا رہی ہے۔ مگر جان بوجھ کر حریت پسندوں کو اس اجلاس سے دور رکھا گیا ہے ۔

    ۔ یہ درست ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارت نے کبھی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پر اگر دیکھا جائے تو چند روز پہلے انڈیا پاکستان کے درمیان اچانک جنگ بندی ہوئی۔ متحدہ عرب امارات نے بھی کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت میں مدد کر رہا ہے۔ اب انڈیا اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر بھی تاجکستان میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی میٹنگ میں ایک ساتھ ہوں گے۔

    ۔ اس لیے بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کشمیر کے بارے میں پس پردہ کچھ ہو رہا ہے۔ ابھی اس مرحلے پر اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے۔ اسے ریاست سے مرکزی علاقہ بنانے اور دوسرے سبھی معاملات میں کشمیر کی قیادت یا عوام کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ جس کے سبب بین الاقوامی سطح پر انڈیا پر تنقید بھی ہوئی اور پریشر بھی بڑھا ۔ خاص طور پر ابھی بھی انٹرنیشل فورمز پر جو بھارتی سفارت کاروں سے جو سب سے پہلا سوال ہوتا ہے وہ مقبوضہ کشمیر بارے ہی ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے بھارت کو اکثر موقعوں پر سبکی کا سامنا بھی رہا ہے ۔

    ۔ اس لیے اس آپشن کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مودی بات چیت کا راستہ کھول کر شاید اب دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ کشمیر میں صورتحال معمول پر ہے۔ سیاسی عمل شروع ہو چکا ہے اور سیاسی جماعتوں کے اشتراک سے ریاست میں انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ تو اس طرح کے اقدامات سے بھارت کو نکتہ چینی کا جواب دینے میں آسانی ہو گی۔

    ۔ دوسری جانب مودی حکومت نے کشمیر کے منظر نامے سے حریت پسندوں کو کامیابی کے ساتھ سائیڈ پر کر دیا ہے۔ یاد رکھنے کی چیز ہے کہ اب بات چیت حریت پسندوں سے نہیں بلکہ ہند نواز جماعتوں سے ہو رہی ہے اور یہ جماعتیں زیادہ خود مختاری اور دوسرے سوالات کے بجائے کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے جیسے سوالات اٹھائیں گی۔۔ جیسا کہ محبوبہ مفتی نے پہلے تو نہ کی کہ وہ نہیں جائیں پھر ہاں کردی کہ وہ جائیں ۔ اور میڈیا ٹاک میں یہ بھی کہا کہ ہمیں آئین نے جو حق دیا اور جو ہم سے لے لیا گیا۔ اس کی بحالی کا ہم مطالبہ کریں گے۔ ۔ فاروق عبداللہ نے بھی کشمیر کی 5 اگست 2019 سے پہلے والی پوزیشن بحال کرنے کی بات کی ہے ۔۔ کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کو بھی کشمیر کے سابق وزیر اعلی کے طور پر اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس پر انھوں نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ریاست کے طور پر بحالی اس اجلاس کا سب سے اہم موضوع ہو گا ۔

    ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نریندر مودی لداخ سے کاٹے ہوئے ’’جموں وکشمیر‘‘ کا ’’ریاستی تشخص‘‘ بحال کرنے کا عندیہ دے۔ مگر اس تشخص کی ’’بحالی‘‘ کا اصل مقصد مگر یہ ہوگا کہ لداخ سے کاٹے مقبوضہ جموں وکشمیر کی ’’صوبائی‘‘ حیثیت بحال کی جائے۔ ایسی بحالی کے لئے ’’ریاستی‘‘ یعنی صوبائی اسمبلی کے انتخاب ہوں ۔ مقبوضہ کشمیر میں محصور ہوئے بے بس ولاچار بنائے شہری ان میں حصہ لیں۔
    ’’اپنے نمائندے‘‘ چنیں تاکہ لداخ سے طاقت کے زور پر الگ کئے مقبوضہ جموں وکشمیر کے ’’مقامی اور صوبائی‘‘ معاملات کو براہ راست دہلی سے چلانے کی ضرورت نہ رہے۔ اور نام نہاد ’’منتخب صوبائی حکومت‘‘ ہی یہ فریضہ سرانجام دے۔ تو اس حوالے سے پاکستان کو گہری نظر بھی رکھنا ہوگی اورہوشیار بھی رہنا ہوگا ۔ کیونکہ مودی ایک نئی ’’گیم‘‘ کھیلنے کی تیاری میں ہے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی تیاری میں ۔ اس لیے اس گیم کا حقیقت پسندی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ویسے بھارت اپنا پورا زور لگا چکا ہے کہ کشمیر کے مسئلے وہ اپنا ذاتی مسئلہ قرار دے کر دنیا کے سامنے پیش کرے۔ تاہم بھارت سے وابستہ دنیا کے تمام تر کاروباری مفادات کے باوجود عالمی سطح پر کشمیر کو ایک تنازع ہی تسلیم کیا جاتا ہے اور اب تو مقبوضہ وادی میں بھارتی دہشت گردی کا معاملہ تصویری خاکوں ہی نہیں بلکہ میڈیا کی رپورٹ کے ذریعے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دیکھنے کا موقع مل رہا ہے کشمیری اپنے حق کے حصول کے لئے لازوال جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ۔ اگر جائزہ لیا جائے تو مودی سرکار نے اپنی تمام تر قوت اقلیتوں کی نسل کشی میں لگا دیں اس سلسلے میں مقبوضہ وادی پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہزار سے زائد لوگ غائب کئے گئے اس سلسلے میں بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے گرفتار کرکے غائب کر دیئے گئے ۔

    ۔ بے بسی اور خوف کے سائے میں جیتی کشمیری خواتین کسی ایسے مسیحا کی منتظر ہیں جو آئے اور انہیں اس خوف سے باہر نکالے کہ اب انکا سہاگ بھارتی فوج کی گولیوں سے محفوظ ہے۔ ۔ مقبوضہ کشمیر کی مجبور اور لاچار خواتین دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی خواتین سے انصاف مانگ رہی ہیں۔وہ دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی خواتین کو چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں۔سہاگ اجڑ جانے کے بعد انکی مشکالات اور تکالیف کو سمجھا جائے اور بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری خواتین کے ساتھ جو ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں اقوام متحدہ میں بیٹھی خواتین اس پر خاموشی کیوں ہیں۔۔ بھارت نے 74 سال سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے ، کشمیری جان و مال اور عزت کی قربانیاں دے کر الحاق پاکستان کے لیے وفاداری کی تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔ عالمی طاقتیں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سمیت بین الاقوامی ادارے ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بدترین کرفیو سے پوری طرح باخبر ہیں لیکن صرف معمولی مذمت جیسے بیانات کے سوا کچھ نہیں۔۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ مغرب ویسے تو دنیا بھر میں ہونے والے چھوٹے سے چھوٹے واقعے پر شور مچاتا ہے لیکن بھارت نے تقریباً سات سو روز سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے پوری وادی کو ایک جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکنے کے باوجود یہ مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔ پاکستان کے لیے جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے بھول کر پاکستان آگے بڑھ جائے گا۔ یہ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور پورے خطے میں امن کا قیام اس مسئلے کے حل سے جڑا ہوا ہے۔

    ۔ بھارت کی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا ہی ایک حصہ یہ بھی ہے کہ اس نے اب تک جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ جمایا ہوا ہے ۔ مگر بھارت کے ہتھکنڈوں سے نہ تو کشمیری اپنے حق سے دستبردار ہوئے ہیں اور نہ ہی پاکستان نے ان کے حق میں آواز بلند کرنا چھوڑا ہے۔۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے 1947 ء سے لے کر اب تک ہمارا واضح اور دو ٹوک موقف رہا ہے۔ اور آج بھی یہ ہی ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں اس مسئلے کو حل کیا جائے ۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو قابو کرنے اور پورے خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر حل کروائے کیونکہ جتنی مرضی تجارت شروع ہوجائے ۔ جتنی مرضی امن کی آشائیں آپ چلا لیں ۔ جتنے مرضی ثقافتی طائفے یہاں وہاں کربھیج دیں ۔ کشمیر مسئلے کے حل ہوئے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستانہ اور پر امن تعلقات ہرگز قائم نہیں ہوسکتے۔

  • اسٹرابیری مون کیا ہے ؟ جون2021 کا سٹرابیری مون سال کا آخری سُپرمون ہے؟

    اسٹرابیری مون کیا ہے ؟ جون2021 کا سٹرابیری مون سال کا آخری سُپرمون ہے؟

    ناسا کے مطابق ہمارے سیارے کا قدرتی مصنوعی سیارہ – جسے چاند کے نام سے جانا جاتا ہے – سورج کے برخلاف ظاہر ہوگا اور 24 جون 2021 کو 1:40 بجے مکمل طور پر روشن ہوگا ، یہ پورا چاند دو وجوہات کی بناء پر خاص ہے: یہ ایک اسٹرابیری مون ہے اور سال کا آخری سپرمون ہے!

    باغی ٹی وی : “بلیو مون” اور “سپرمون” کی اصطلاحات آج نسبتا عام ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی اسٹرابیری مون ، تھنڈر مون ، یا بیور مون کے بارے میں سنا ہے؟-

    ہر سال جون میں ہونے والا پورا چاند اسٹرابیری مون کو اپنے رنگ کی وجہ سے نہیں کہا جاتا ہے ، بلکہ اس نام کی کنونشن کی وجہ سے ابتدائی مقامی امریکیوں نے تشکیل دیا ہے۔ گریگوریئن اور جولیئن تقویم ان قبائل کو معلوم نہیں تھے ، لہذا ، اس کے بجائے ، وہ چاند کے مراحل کی گنتی کرکے وقت گزرنے کو چارٹ کرتے تھے۔


    چونکہ نام اس موسم کے دوران پیش آنے والے واقعات پر مبنی تھے ، لہذا یہ اصطلاحات قبائل کے مابین ہم آہنگ نہیں رہتیں۔ مثال کے طور پر جون کے چاند کو اسٹرابیری مون کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اسٹرابیری چننے کے موسم کا آغاز تھا ، اس لئے نہیں کہ چاند گلابی ہے۔ چاند کے لئے گلابی یا سرخ رنگت کا ہونا ممکن ہے ، لیکن یہ ایک بے ترتیب واقعہ ہے جس کی وجہ سے گلابی رنگ کے بادل اس کو ڈھکتے ہیں یا طوفان ، آلودگی ، یا آتش فشاں پھٹنے سے دھول یا دھوئیں کی وجہ سے آسمان میں چھلک پڑتی ہے۔ .

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام…

    جولائی کے چاند کو تھنڈر مون کہا جاتا ہے کیونکہ سال کے اس وقت کچھ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تھی۔ لیکن اس کو فل بک مون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ جولائی ہے جب ہرن کے پیسے پوری طرح پختہ ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک اصطلاح کو دوسرے کی ترجیح میں استعمال کرتے ہیں یہ ہے کہ نوآبادیاتی امریکیوں نے اپنے کیلنڈر کے لئے مخصوص نام اپنایا ، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کچھ نام محفوظ ہیں جبکہ دوسرے تاریخ سے محروم ہیں۔

    مارچ میں پورا چاند کرم مون کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ ایسا ہی ہوتا ہے جب کیچڑ کی ذاتیں نمودار ہونے لگتی ہیں اور پرندے کھانا لینا شروع کردیتے ہیں۔ اسے سیپ مون ، کرو مون اور لینٹین مون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ آخری نام اس حقیقت سے متاثر ہے کہ مارچ کے پورے چاند کو ایسٹر کی تاریخ طے کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

    “سپرمون” کی اصطلاح چاند کو بیان کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے جب وہ زمین کے اتنا قریب ہوتا ہے کہ وہ معمول سے بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اپریل 2021 میں سپرمون اوسط سے 6٪ بڑا تھا۔ یہ وہ اصطلاح نہیں ہے جو ماہرین فلکیات کے ذریعہ استعمال کی جاتی ہے ، جو اس طرح کے چاند کو “پیریجی فل مون” کہتے ہیں۔ لفظ “پیریجی” سے مراد اس وقت ہوتا ہے جب چاند کا بیضوی مدار اسے زمین کے قریب لاتا ہے۔ جب یہ زمین سے بہت دور ہوتا ہے ، تو اسے “آپجی مون” یا “مائکرو مون” کہا جاتا ہے۔

    زمین کے گرد ہر 27 دن کے مدار میں ، چاند زمین سے تقریبا 2 لاکھ 26 ہزار میل دور ، اور اس کی سب سے دوری ، یا اپوجی ، زمین سے 2 لاکھ 51 ہزار میل دور پر پہنچ جاتا ہے۔

    اگر آپ سپر اسٹرابیری مون کے وقت دن کی روشنی میں ہیں تو ، اس کے طلوع آفتاب کے دوران ایک بہتر نظارہ تلاش کریں ، جو مقامی وقت کے مطابق ، غروب آفتاب کے 20 منٹ بعد ہوتا ہے۔

    سپر اسٹرابیری مون 2021 کے لئے چار سپر مونز میں آخری ہوگا۔ سوپرمونز سال میں صرف تین سے چار بار ہوتا ہے ، اور ہمیشہ لگاتار ظاہر ہوتا ہے۔ آخری تین سپرمونز 26 مئی ، 27 اپریل ، اور 28 مارچ کو واقع ہوئی تھیں۔

    ناسا کے مطابق مغرب میں غروب آفتاب سے لطف اندوز ہوں ، اور اگر آپ مشرق کی طرف دیکھیں تو آپ کو ہمارے سپر اسٹرابیری مون کا ٹھیک ٹھیک گلابی رنگ نظر آئے گا!

  • مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے       کانگرس رہنما

    مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے کانگرس رہنما

    بھارتی اپوزیشن جماعت کانگرس کے رہنما پی چدم برم نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق پوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پی چدم برم نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے۔

    کانگریس کا کہنا ہے کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی اقدام کو ختم نہیں کیا جاسکتا، کشمیر کا اسٹیٹس 5 اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن پر لایا جائے۔

    واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج نئی دہلی میں مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے،وزیرِ اعظم نریندر مودی من پسند افراد سے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر بات کریں گے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد فاروق عبد اللّٰہ اور محبوبہ مفتی سے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی یہ پہلی ملاقات ہو گی۔

    مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

  • مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

    مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوششیں شروع، مودی سرکار نے محبوبہ مفتی سمیت 14 کشمیریوں کو نئی دہلی بلالیا

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے،وزیرِ اعظم نریندر مودی من پسند افراد سے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر بات کریں گے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر پر آج بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر قیادت آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔ مودی حکومت کی جانب سے اہم کشمیری سیاسی جماعتوں کی قیادت کو دہلی میں آل پارٹی کانفرنس کی دعوت دی گئی ہے-

    ذرائع کے مطابق مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈرامے کی کوشش شروع کر دی ہے سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی کے ساتھ میٹنگ کے لیے وفاقی داخلہ سکریٹری نے کشمیر اور ہندو اکثریتی خطہ جموں سے تعلق رکھنے والے 14 سیاسی رہنماؤں کو میٹنگ کے لیے مدعو کیا ہے۔ انہیں میٹنگ میں شرکت سے قبل کرونا (کورونا) ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔

    جن سیاسی رہنماؤں کو میٹنگ میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے، نیشنل کانفرنس سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے فرزند عمر عبداللہ، پی ڈی پی سے محبوبہ مفتی، کانگریس سے غلام نبی آزاد، تارا چند اور غلام احمد میر، پیپلز کانفرنس سے سجاد غنی لون اور مظفر حسین بیگ، اپنی پارٹی سے الطاف بخاری، بی جے پی سے رویندر رینہ، نرمل سنگھ اور کویندر گپتا، سی پی آئی (ایم) سے محمد یوسف تاریگامی اور نیشنل پنتھرس پارٹی سے پروفیسر بھیم سنگھ شامل ہیں۔

    بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی نمائندہ کل جماعتی حریت کانفرنس کو نظر انداز کر دیا، نام نہاد اے پی سی میں شرکت کرنے والوں کو ایجنڈہ تک نہیں دیا گیا –

    مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد فاروق عبد اللّٰہ اور محبوبہ مفتی سے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی یہ پہلی ملاقات ہو گی۔

    ادھر مقبوضہ کشمیر میں 48 گھنٹوں کے لیے اچانک انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔

    انڈیپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق فاروق عبداللہ کا کہنا تھا: ’وزیراعظم نے 24 جون کو دوپہر تین بجے نئی دہلی میں میٹنگ رکھی ہے جس میں ہمیں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ہم نے اس میٹنگ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہم اپنے موقف کو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے سامنے رکھیں گے۔‘

    فاروق عبداللہ نے کہا: ’ان کی طرف سے کوئی بھی ایجنڈا فکس نہیں ہے۔ وہاں ہم ہر معاملے پر بات کرسکتے ہیں۔‘

    اس موقعے پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: ’ان کا جو بھی ایجنڈا ہو، ہم اپنا ایجنڈا ان کے سامنے رکھیں گے۔ ہم کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں بند سیاسی اور دیگر قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں گے اور جن کی رہائی ممکن نہ ہو، ان کی کشمیر منتقلی کا مطالبہ کریں گے۔‘

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ملاقات میں مودی سے کہیں گے کہ 5 اگست کا اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے مقبوضہ کشمیر میں امن اسی وقت بحال ہو گا جب یک طرفہ فیصلہ واپس لیا جائے گا خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کے بغیر جموں و کشمیر اور اس پورے خطے میں امن کی بحالی نا ممکن ہے۔‘

    کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنما اور پی اے جی ڈی کے ترجمان محمد یوسف تاریگامی کا کہنا تھا کہ’ہم بھارتی حکومت کے ایجنڈے پر دستخط کرنے نہیں جا رہے ہیں۔ اگر ان کی تجویز ہمارے حق میں ہوگی تو ہم حمایت کریں گے اور اگر حق میں نہیں ہوگی تو ہم برملا مخالفت کریں گے۔‘

    تاریگامی کا مزید کہنا تھا کہ ’بھارتی حکومت نے میٹنگ کا کوئی ایجنڈا مقرر کیا ہے یا نہیں، ہمیں اس کی کوئی اطلاع نہیں۔ ہم میٹنگ میں اپنے موقف کو دہرائیں گے۔ آپ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم آسمان کے تارے نہیں مانگیں گے بلکہ وہی مانگیں گے جو ہمارا تھا۔ ہمیں وہاں اپنے عوام کا وکالت نامہ لے کر جانا ہے۔‘