نارووال (عارف راشد) قصبہ لوہارہ میں حلقہ ایل اے 37 جموں 4 امیدوار قانون ساز اسمبلی چوہدری صدیق بھٹلی ایڈووکیٹ کی حمایت کے حوالے سے وائس چیئرمین لوہارہ حاجی ریاض چوہدری ، حاجی ممتاز چوہدری ، حاجی فریاد چوہدری ، ناصر جمیل گورسی کی طرف سے مہاجرین جموں کشمیر کے اجتماع کا انعقاد، عشائیہ کا اہتمام جس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر و مرکزی رہنما مسلم لیگ ن دانیال عزیز ،سابق ایم پی اے اویس قاسم خاں ، امیدوار ایم ایل اے چوہدری صدیق بھٹلی ایڈووکیٹ اور دیگر مقررین نے عوام سے اپیل کی کہ ہمیں ووٹ دیکر کامیاب بنائیں تاکہ مہاجرین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرایا جائے. قبل ازیں معزز مہمانوں کا پہنچنے پر فقید المثال استقبال کیا گیا. کارکنان نے فلک شگاف نعرے لگائے.
Category: بلاگ
-

جہاد کی کتنی اقسام ہیں؟اسلام میں جہاد کے بارے کیا حکم ہے؟ تحریر :ملک عمان سرفراز
لفظ جہاد عربی زبان کے لفظ جہد سے نکلا ہے جس کے معنی کوشش اور مشق کے ہیں _
یوں تو جہاد کی کی بہت سی اقسام ہیں ہیں جہاد بالسیف، جہاد بالمال ،جہاد باالسان جہاد بالقلم وغیرہ
جہاد بالقلم سے مراد قلم کے ذریعے حق اور سچ کی اشاعت کرنا ہے
حق و حقیقت اور سچائی تک پہنچنے کے لئے کتابوقلم بہترین ذریعہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم کو قید کر لیا کرو
عرض ہواقید سے کیا مراد ہے؟؟
فرمایا:
یعنی علم کو لکھو۔
جہاد بالقلم کی فضیلت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے بڑے بادشاہوں کو قلم کے ذریعے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی
قلم کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کی ایک سورہ کا نام قلم رکھا اور اس کی قسم کھا کر اسے معتبر بنا دیا
ن والقلم وما یسطرونمدینہ منورہ کے بعد پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو اسلام کی بنیاد پر آزاد ہوا پاکستان کو وجود میں آئے تقریبا 74 برس گزر چکے ہیں مگر پاکستان اسلام دشمن ممالک کی نظر میں کھٹکتا ہے
زبان و مال کے علاوہ جہاد قلم سے بھی کیا جاتا ہے وہ لوگ جن کو اللہ تعالی نے اس صلاحیت سے نوازا ہے قلم کے ذریعے اس جہاد میں بھر پور حصہ لے رہے ہیں16 دسمبر سانحہ پشاور پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہے کہ بندوق اٹھائے دشمن کا مقابلہ کتاب و قلم اٹھانے والے معصوم بچوں سے تھا ۔ کیا دشمن کتابوں والے ہاتھوں سے اتنا خوف زدہ تھا؟؟
جہاں کچھ لوگ حق و سچ کے لیے اپنا قلم استعمال کر رہے ہیں وہی کچھ لوگ جو اپنے قلم کو بیچ رہے ہیں وہ لوگ اس بات کو بھول رہے ہیں کہ جب ضمیر بکتا ہے تو ایک گھر برباد ہوتا ہے ہے مگر جب ایک قلم بکتا ہے تو پورا معاشرہ برباد ہوتا ہے
یہ وہ لوگ ہیں جو جو اسلام کی تعلیمات کو بھول چکے ہیں ہیں ان کے قلم سے
سچ کی بجائے پیسے کے بول آنا شروع ہوگئے ہیں
ملت کی بجائے غفلت کے الفاظ آنا شروع ہو گئے ہیں
ان کے ہاتھوں میں قلم تو ہے مگر الفاظ غیروں کے ہیں یہ لوگ تو دشمن سے بھی بدتر ہیں کیونکہ دشمن تو سامنے سے وار کرتا ہے کہ لوگ اپنی صفوں میں میں رہ کر اپنی ہی ملت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔قلم کی روشنائی کر رہے ہیں صرفِ آرائش
صحافت کی دکانوں میں سیاست بیچنے والےتحریر :ملک عمان سرفراز
-

انسان کواشرف المخلوقات کیوں کہا جاتا ہے تحریر: فروا منیر
انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اور باقی تمام مخلوقات میں واضح فرق فہم و فراست کا ہے۔
دنیا میں کم و بیش 18 ہزار مخلوقات ہیں ان میں سے انسان کو سب سے افضل بنایا گیا ہے انسان کو اشرف المخلوقات (سب مخلوقات میں سب سے اعلی) کہا گیا ہے۔ انسان کو دنیا میں بھیج کر اللہ پاک نے فرشتوں سے کہا میں نے روح زمین پے اپنا خلیفہ بھیجا ہے اور پھر اللہ پاک نے فرشتوں سے انسان کو سجدہ کرایا۔ وہ انسان آج اللہ پاک کے ہر حکم ہر بات کا انکار کر رہا ہے جو انسان ایک سانس کا بھی محتاج ہے ایک سانس اندر لے تو اس کو یقین نہیں وہ باہر نکال سکے گا یا نہیں یوں تو جانوروں کو دیکھا جائے تو وہ بھی کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور سوتے ہیں مگر فرق شعور کا ہے وہ شعور جو انسان کے پاس موجود ہے-
سورۃا لتین کی چوتھی آیت میں ارشاد ہے-
لقد خلقنا السان فی احسن تقویم
"بلاشبہ انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا گیا ہے”-قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے خلیفہ کی اصطلاح انسان کیلئے عمومی طور پر استعمال کی ہے قرآن پاک کی آیت کا مفہوم ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے جا رہا ہوں، تو اس کا ایک مفہوم تو یہ ہوا کہ ہرانسان عمومی طور پر اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اور نمائندہ ہے۔ اسے لازمی طور پر اپنے اللہ کی عبادت اور اطاعت کرنی ہے اوراسکے احکام اپنے اوپر نافذ کرنے ہیں۔ پہلے احکامِ الٰہی خود اپنی ذات پر نافذ کرے، پھر اپنے زیر کفالت بیوی بچوں پر انہیں لاگو کرے، پھر اپنے اہل خانہ میں، پھر اپنے قرب و جوار میں دیکھے، اپنے علاقہ میں جہاں تک اس کی رسائی اور اثر ورسوخ ممکن ہو وہ اس کا پابند ہے کہ وہاں تک اپنے رب کے احکامات پہنچائے اور انہیں نافذ کروانے کی سعی کرے۔ عمومی خلیفہ اور خدا کا نمائندہ ہونے کے ناطے یہ فرداً فرداً ہر انسان کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہے۔
اللہ تعالی نےفرشتوں، جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا اگر بات کی جائے انسان کی کیا صرف انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد صرف اللہ تعالی کی عبادت ہے- ؟؟
اللہ تعالی نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا اور اس دنیا میں بھیجا اور قرآن مجید میں بھی کئی بار بغور مشاہدہ کرنے کی تلقین کی ہے
انسان کے پاس عقل و شعور ہونا اس کو باقی تمام مخلوقات میں سے افضل بناتا ہے ہے مگر آج کے انسان کی بات کی جائے آئے تو شاید وہ بھول گیا ہے کہ اس کا شماراشرف مخلوقات میں سے ہے۔آج کے اس دور میں انسان انسان کا دشمن ہے اس دور میں معصوم بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے انسان نے تو انسان بننا تھا تھا مگر افسوس وہ تو سب سے بڑا درندہ نکلا۔ بھائی بھائی کا دشمن ہے ۔ کہیں جائیداد کے نام پر قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے ہیں تو کہیں غیرت کے نام پر ۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت تو تماشا بن کر رہ گئی ہے ہم تو وہ لوگ ہیں جو اسلامی تعلیمات کو بھلا کر یہ توقع کر رہے ہیں ہمیں ریاست مدینہ ملے گی ۔ تفرقوں اور نفرتوں میں میں اس قدر تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں کہ اپنے مقصد کو بھول چکے ہیں-
جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں پر ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
اللہ تعالی نے انسان کی اصلاح کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اپنی کتاب قرآن مجید کا موضوع بھی انسان کو قرار دیا مگر شاید انسان اس دنیا میں آکر اس وعدے کو بھول چکا ہے جو اپنے رب سے کر کے آیا تھا-
اے انسان
تبدیلی چہرے سے نہیں رویوں سے آتی ہےتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا
عرش والوں پہ بھی کھُلتا نہیں یہ راز ہے کیا!
تا سرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا!
آگئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا!فروا منیر
Farwawrites1214@gmail.com
-

خدمت خلق اور ہمارا کردار تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی
خدمت خلق اور ہمارا کردار
خدمت خلق ایک جامع لفظ ہے ،یہ لفظ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے،خدمت خلق کے معنی مخلوق کے کام آنا ہے ،لیکن اسلام میں اس سے مراد اللہ تعالٰی کی رضا و خوش نودی کے لیے بلا کسی اُجرت اور صلے کے خلق خدا کے کام آنا اور امانت پر کمر بستہ رہنا ہے-
دنیا کے ہر مذہب نے انسانیت کی بلا امتیاز خدمت کی تلقین کی ہے۔ ضروت مند کی حاجت روائی ہر مذہب کی بنیادی تعلیم ہے۔لیکن خدمت انسانیت یہ اسلام کا طرئہ امتیاز اور مسلمانوں کا بنیادی وصف ہے۔ یہی ہماری شان اور ہمارا شعار ہے اور یہ امت خدمت انسانیت کے لیے ہی برپا کی گئی ہےاور اسلام کی حقوق العباد کی تعلیمات معاشرتی ذمےداریوں اور انسانی فلاح وبہبود کی مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں-
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کاوہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا
خلائق سے ہے جس کو رشتہ ولا کاکہا جاتا ہے کہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے وہ معاشرے میں رہنے پر مجبور ہے اسے قدم قدم پر دوسروں کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے،مال و دولت کی وسعتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے اور ایک دوسرے کے احتیاج کو دور کرنے کے لئے آپسی تعاون، ہمدردی، خیر خواہی اور محبت کا جذبہ سماجی ضرورت کا جزء لا ینفک ہے اورانسان وہی ہے جو دوسروں کا خیر خواہ اور ہمددر ہو-
جس معاشرہ میں کمزوروں کو سہارا دینے، گرتے کو تھامنے اور زندگی کی تلخ گھڑیوں میں افراد معاشرہ کے حوصلے بڑھانے کا رواج اور چلن ہو۔ وہ سماج کے کمزور طبقات کی خدمت و تعاون کو مختلف اندازاور حکیمانہ اسلوب میں پیش کرتا ہے-
اورایک دوسرے کے کام آنا ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کا آغاز ہے۔ اور بلاتفریق ایک دوسرے کی مدد کرنا تمام معاشروں کا خاصہ ہے-
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کےاسلام صرف چند عبادات کے مجموعہ کانام نہیں بلکہ زندگی گزارنے کے ہر پہلو کے بارے میں واضع ہدایات دیتا ہے ۔ ہم نے اسلام کی تعلیمات کو چھوڑ دیا ۔ خاص کر حقوق العباد کو تو ہم عبادت ہی خیال نہیں کرتے ۔اسی وجہ سے ہم میں اتحاد و اتفاق نہیں رہا .یکجہتی اور بھائی چارہ نہیں رہا،اخوت ،محبت، رواداری،اور ایک دوسرے کا احساس نہیں رہا۔ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنی ذات کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا ۔ یہ جو دنیا میں انسانیت سسک رہی ہے-
آج ضرورت ہے کہ ہم انسانیت کی فکر کریں، ہماری پہچان انسانیت کے بہی خواہ و خیر نواہ کی حیثیت سے ہو، ہمارے اندر خدمات انسانیت کی ایسی ترپ موجود ہو کہ سماج کا وہ فرد ہمیں اپنا مونس و غمخوار سمجھے، اگرہم نے انسانیت کی فکر چھوڑ دی تو ہم خیر امت کہلانے کے مستحق ہر گز نہیں ہوسکتے-
خود رسالت مآب ﷺ کی پوری زندگی خدمت خلق کا اعلیٰ نمونہ تھی، نبوت سے قبل آپ ﷺ سماج اور معاشرہ میں خدمت خلق ، محتاجوں ومسکینوں کی دادرسی، یتیموں سے ہمدردی، پریشاں حالوں کی مدد اور دیگر بہت سارے رفاہی کاموں کے حوالے سے معروف تھے، اور نبوت سے سرفرز کئے جانے کے بعد تو پوری انسانیت اور تمام نوع انسانی جسطرح آپ کے احسانات کے زیر بار ہے اس کو شمار ہی نہیں کیا جاسکتا اور رسول اقدس ﷺ نے اپنی ساری زندگی انسانیت کے لیے وقف کی تھی، آپ کی بعثت مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے ہوئی تھی، یہی وجہ ہے کہ آپ کی زندگی بے لوث محبتِ انسانیت، رحم و کرم، عفو و درگزر اور انسانوں کے دنیاوی واخروی نجات کے لیے انتھک جدوجہد اور مساعی پر مشتمل تھی۔اس بنیاد پر ہر مسلمان اور خاص طور پر وارثینِ نبوت کا یہ فرض ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر چلتے ہوئے اپنی زندگی کا نصب العین انسان اور انسانیت کی خدمت کو بنائیں-
قارئين کرام! خدمتِ مخلوقِ خدا کی ذریعہ دوسروں کو نفع پہنچانا اسلام کی روح اور ایمان کا تقاضا ہے۔ایک بہترین مسلمان کی یہ خوبی ہے کہ وہ ایسے کام کریں جو دوسرے انسانوں کیلئے مفید اور نفع بخش ہوں۔ اس نیکی کے ذریعے صرف لوگوں میں عزت واحترام ہی نہیں پاتابلکہ اللہ تبارک تعالیٰ کے ہاں بھی اہم رتبہ حاصل کرلیتا ہے۔ پس شفقت و محبت، رحم و کرم، خوش اخلاقی، غم خواری و غم گساری خیرو بھلائی، ہمدردی، عفو و درگزر، حسن سلوک، امداد و اعانت اور خدمت خلق ایک بہترین انسان کی وہ عظیم صفات ہیں کہ جن کی بدولت وہ دین و دنیا اور آخرت میں کامیاب اور سرخرو ہو سکتا ہے۔
اس لیے ہمیں اللہ نے جن نعمتوں سے نوازا ہے، ہمیں چاہیے ہم ان نعمتوں میں سے اللہ کی مخلوق کےلئے کچھ حصہ ضرور نکالیں، ڈاکٹر غریب مریضوں کا مفت یا کم فیس میں علاج کریں، استاد غریب بچوں کو مفت یا کم فیس میں تعلیم دیں،اگر آپ کا تعلق پولیس،عدالت یا سیاست سے ہے ، تو آپ اپنا کام ایمان داری سے کر کے خدمت خلق کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، آپ کا تعلق کسی بھی شعبےسے ہو ،اپنے کام کی نوعیت اور استطاعت کے مطابق خدمت خلق میں خود کو مصروف رکھیں۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب اور
پسندیدہ وہ آدمی ہے جو اس کے کنبے (مخلوق) کے ساتھ نیکی کرے۔لہذا ہمیں چاہیے اس فرقہ پرستی اوراخلاقی بحران کے اس دور میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ سماج کے بااثر افراد ، تنظیمیں اور ادارے خدمت خلق کے میدان میں آگے آئیں اور مضبوطی کے ساتھ اپنے قدم جمائیں ،دنیا کو اپنے عمل سے اسلام سکھائیں، لوگ اسلام کو کتابوں کے بجائے ہمارے اخلاق و کردار سے ہی سمجھناچاہتے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے کچھ ادارے بہتر کام کررہے ہیں ، لیکن مزید بہتری لانے کی شدید ضرورت ہے، اپنے نجی اسکولوں اور مدارس کے نصابوں میں اخلاقیات کو بنیادی اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ عملی مشق کرائیں، تاکہ نئی نسلوں میں بھی خدمت خلق کا جذبہ پروان چڑھے۔ہمیں یادرکھناچاہیے کہ خدمت خلق صرف دلوں کے فتح کرنے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اسلام کی ترویج واشاعت کا موثر ہتھیار بھی ہے-
اللہ تعالی ہمیں اپنے مخلوق کی خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین۔
-

اردو ہماری قومی زبان تحریر :اویس گیلانی
"اردو ہماری قومی زبان”
زبان زندگی کا ایک ضروری عنصر ہے زبان کے بغیر ابلاغ کی کوئ شکل نہیں ہوتی۔ انسانوں نے الفاظ کی مدد سے زبان تشکیل دی اور آج دنیا میں تقریبا 6500 طرح کی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جو اپنے ممالک اور قوم کی ترجمان اور ثقافت کی نمائندگی کرتی ہے۔
کوئ بھی زبان چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی یہ اس قوم پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنی قومی زبان کو کتنا اہمیت دیتے ہیں۔ آج دنیا میں کچھ ممالک ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زبان کو دنیا میں اہمیت کا حامل بنوایا۔ آج پوری دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں انگریزی اول درجے پر ہے۔
مگر آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے باوجود چائنہ اور ترکی نے آج تک انگریزی کو یہ اہمیت نہیں دی اور اپنی قومی زبان کو انگریزی پر اہمیت دی۔ آج چاہے دنیا کا سب سے بڑا ایوان جنرل اسمبلی ہو یا کسی ملک کا ایوان میں خطاب ہو یہ دونوں ممالک انگریزی کی بجائے اپنی قومی زبان کو ترجیح دیتے ہیں ۔
اسی طرح اردو زبان جسے پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔ اردو زبان کے فروغ کے لیے 1857 سے ہی اردو ہندی تنازہ کھڑا ہوگیا جہاں ہندی کو اول درجے کی زبان اور اردو کو دوئم درجہ دیا گیا۔ بات یہیں تک نا رکی یہاں تک کہ پاکستان بننے کے بعد اردو اور بنگالی زبان میں کھینچا تانی شروع ہو گئ۔ اور پاکستان کے پہلے دونوں آئین میں اردو اور بنگالی کو قومی زبان کا درجہ ملا۔ جبکہ مشرقی پاکستان الگ ہونے کے بعد 73 کے آئین کی شق 251 میں اردو کو حقیقی معنی میں قومی زبان کا درجہ ملا.
اردو زبان کو موجودہ دور میں مزید اہمیت تب ملی جب چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے 2015 میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے لیے حکومت کو ہدایات دیں ۔ مگر افسوس آج پانچ سال بعد بھی ہم اس پر عمل درامد کروانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
حال ہی میں موجودہ حکومت کو بھی شائد اردو کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور سرکاری پروانہ جاری کیا گیا کہ اب سے وزیراعظم، وزراء کی تقریر/بیانات انگریزی کی بجائے اردو میں عوام تک پہنچائیں مگر یہ بات بتانے کے لیے بھی حکمران جماعت کو انگریزی میں ہدایت نامہ جاری کرنا پڑا۔
خدارا اس سوچ سے باہر آئیں کہ انگریزی کے بغیر کوئ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ آج ترکی اور چائنہ انگریزی زبان کے بغیر بھی دنیا میں ترقی کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ موجودہ حکومت کا اردو زبان کے لیے یہ اقدام محض بیان تک ہی محدود نہیں ہو گا۔
اویس گیلانی
https://mobile.twitter.com/GillaniAwais -

5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر
کمبوڈیا میں 5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرکے ہزاروں انسانی جانیں بچانے والا ’ہیروچوہا‘ اس سال اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوجائے گا۔
باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کےمطابق کمبوڈیا نے 5 سال قبل میگاوانامی اس چوہے کی خدمات بیلجیم کے ایک فلاحی ادارے APOPO سے حاصل کی تھی۔ یہ ادارہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے چوہوں کو بارودی سرنگوں اور بموں کی شناخت کرنے کی تربیت دیتا ہے۔
اپنی پانچ سالہ ملازمت میں میگاوا نے2 لاکھ 25 ہزار اسکوائر میٹر سے زائد رقبے کو بارودی سرنگوں سے صاف کیا، 31 فٹ بال کے میدانوں جتنے اس رقبے میں میگاوا کی بدولت 71 بارودی سرنگیں اور 38 ایسے دھماکہ خیز مواد کی شناخت کی گئی جو کسی وجہ سے پھٹ نہیں سکے، میگاوا نے اپنی نوکری ایمان داری سے ادا کی اور ہزاروں افراد کی جان بچانے کا فریضہ سر انجام دیا۔

اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں یہ بارودی سرنگیں اور مواد کو سن 1970 اور 1980ء کی دہائیوں میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران پھیلایا گیا تھا۔میگاوا کی بے لوث خدمات کی بنیاد پر کمبوڈیا میں انہیں’ ہیرو چوہے‘ کا خطاب دیا گیا۔ گزشتہ سال میگاوا کو برطانیہ کے متعبر ترین اعزاز ’پی ڈی ایس اے‘ گولڈ میڈل نے بھی نوازا گیا تھا، جو کہ برطانوی شہریوں اور فوجیوں کو بہادری اور ہیروازم کا مظاہرہ کرنے والے ’ جارج کراس‘ کے برابر ہے۔

یہ ایوارڈ یا گولڈ میڈل برطانیہ کی جانوروں کی بہبود کی بین الاقوامی غیر حکومتی تنظیم پیپلز ڈسپینسری برائے سِک اینیملز (PDSA) نے زمین کے نیچے چھپائی گئی بارودی سرنگوں کو سونگھ کر انہیں امدادی ورکروں کے ہاتھوں تلف کرنے پر بھی دیا گیاتھا-میگاوتی چوہے کی عمر آٹھ سال ہے اور اس کو بارودی سُرنگ کی بُو سُونگھنے کی باقاعدہ تربیت دی گئی تھی۔ اب یہ بہادر اور ذہین چوہا اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب ہے اور اس کو خطرناک بارود کو تلاش کرنے کی ڈیوٹی سے جلد فارغ کر دیا جائے گا کیونکہ اب میگاوا اپنے فرائض سے سبکدوش ہوکر بقیہ زندگی چین و سکون سے گزارنا چاہتا ہے۔
-

واٹس ایپ کو ہیکرز کی رسائی سے کس طرح محفوظ رکھا جائے
جعل سازوں نے واٹس ایپ کے استعمال کنندگان کے اکاؤنٹس کو ہائی جیک کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اس ضمن میں واٹس ایپ اپنے صارفین کو او ٹی پی(ون ٹائم پاس ورڈ) کی آڑ میں ہونے والی اس دھوکا دہی سے متعدد بار آگاہ کرچکی ہے۔
باغی ٹی وی: اگر آپ کو پیغام موصول ہو کہ آپ کو او ٹی پی کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کرنا ضروری ہے، تصدیق نہ کرنے کی صورت میں آپ کے اکاؤنٹ کو ڈی ایکٹیویٹ کردیا جائے گا تو پھر یقیناً آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیکرز کے نشانے پر ہے اور استعمال کنندہ جیسے ہی او ٹی پی ہیکر کو بھیجتا ہے وہ اس کا اکاؤنٹ ہیک کرلیتے ہیں۔
اس روک تھام کے لیے واٹس ایپ نے گزشتہ ماہ ہی صارفین کے اکاؤنٹ کو مزید محفوظ بنانے کے لیے جلد ہی ایک زبردست فیچر’فلیش کال‘ متعارف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس نئے فیچر کی بدولت صارفین کو اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے 6 عدد پر مشتمل سیکیورٹی کوڈ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ یہ فیچر خود کار طریقے سے صارف کے فون نمبر کی تصدیق کردے گا۔ تاہم اس فیچر کے باضابطہ طور پر آنے میں ابھی وقت درکار ہے۔
واٹس ایپ کا جلد ہی زبردست فیچر متعارف کرانے کا اعلان
ہیکرز واٹس ایپ اکاؤنٹ کو ہیک کر کے آپ کے دوستوں، رشتے داروں کے فون نمبر، تصاویر، پیغامات تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں عموما وہ واٹس ایپ نمبر کو استعمال کرتے ہوئے آپ کے دوستوں کو پیغام بھیج کر آپ کے نام سے بھاری رقم بطورقرض مانگ سکتے ہیں۔ آپ کے کونٹیکٹ میں موجود نمبروں کو استعمال کرتے ہوئے ان کے اکاؤنٹ ہیک کر سکتے ہیں۔ جب کہ آپ کے اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کے بعد وہ تمام گروپ چیٹ میں رہتے ہوئے حساس معلومات دیکھ سکتے ہیں۔
او ٹی پی جعل سازی کے حوالے سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ’ اپنے صارفین کی معلومات اور پیغامات کی پرائیویسی اور حفاظت ہمارے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے-
تاہم کسی بھی جعل سازی سے بچنےکے لیے استعمال کنندہ کو چاہیئے کہ کسی بھی فرد کو چاہے وہ آپ کا دوست یا رشتے دار ہی کیوں نہ ہو،اپنا پاس ورڈ یا ایس ایم ایس پر آنے والا سیکیورٹی کوڈ کبھی نہیں دیں۔
محتاط رہیں اور اگر کبھی آپ سے میسج میں کوئی رقم کا مطالبہ کرے تو فورا اپنے اِس دوست کو فون کرکے اس بات کی تصدیق کریں کہ آیا کہ وہ اس واٹس ایپ اکاؤنٹ کو استعمال کر رہا ہے یا نہیں۔
واٹس ایپ انتظامیہ نے 100 فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بلاک کر دیئے
اگر آپ کو ملنے والے پیغام کی نوعیت اس طرح کی ہوں کہ موصول ہونےوالے پیغام میں گرائمر اور ہجے کی غلطیاں نظر آئیں، کسی لنک پر کلک کرنے کے کہا جا رہا ہوں،آپ کی نجی معلومات( کریڈٹ ، ڈیبٹ کارڈ انفارمیشن، بینک اکاؤنٹ نمبر، تاریخ پیدائش، پاس ورڈ وغیرہ) شیئر کرنے کا کہا جائے ،موصول ہونے والے پیغام کو آگے فارورڈ کرنے کا کہا جائے ،آپ سے کہا جائے کہ ’ نئے فیچر کوفعال ‘ کرنے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں تو اسے فوراً رپورٹ کریں۔
کچھ ہیکرز آپ کو واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے فیس کا مطالبہ کرتے ہیں تاہم واٹس ایپ ایک مفت ایپلی کیشن ہے جو کسی بھی مرحلے پر آپ سے کسی قسم کے کوئی سروس چارجز نہیں لیتی۔
واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی کو قبول نہ کرنیوالے صارفین کے اکاؤنٹس کیساتھ کیا ہوگا؟
-

میری افواج میرا فخر ازقلم: محمد عبداللہ گِل
میری افواج میرا فخر
ازقلم:-
محمد عبداللہ گِل
پاکستان اسلامی ممالک کی فہرست میں ایک خاص اہمیت رکھتا ھے بلکہ آپ اگر یہ کہ لے کی اسلامی ممالک کے دفاع کے لیے کوشاں ہے اور ہر اس ملک کا ساتھی ہے جو مظلوم ہو اور مسلمان ہو۔البتہ چند مشکلات کی بنا پر اس طرح مدد نہیں کر سکتے جس طرح حق ہے لیکن باقی ممالک سے بہتر طور پر نظریہ اسلام اور نظریہ جہاد کا داعی ہے۔پاکستان کا مسلم امہ کے حوالے سے مضبوط موقف صرف و صرف ہماری بہترین فوج اور اول درجہ کی دفاعی ایجنسی آئی ایس آئی کی بدولت ہیں۔اب اگر آپ تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لے تو ایک زمانہ تھا جب اسلامی ممالک میں طاقتور افواج مصر،شام،لیبیا،عراق،پاکستان اور ترکی تھی۔لیکن ہمارے دشمن نے حربہ إستعمال کرتے ہوئے مصر،شام، لیبیا اور عراق کی افواج کی افادیت کو ختم کروا دیا۔اس کی وجہ ایک ہی تھی جو کہ پروپیگنڈہ ہے۔اس کے بعد اب آج کی تاریخ میں اسلامی ممالک میں دو ہی فوجیں ہیں ایک ترکی کی اور دوسری پاکستان کی۔دشمن کی یہ چال ہے کہ کسی نہ کسی طرح افواج پاکستان اور عوام پاکستان کو ایک دوسرے کے مخالف کیا جائے کیونکہ ہمارے بزدل دشمن مغرب اور اسرائیل کو پتہ ہے کہ جب بھی جنگ ہوئی تو عوام پاکستان نے بغیر کوئی تاخیر کیے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جانا ہے جو کہ ملکوں کی فتح کا راز ہے۔
ہر ملک کو جنگ میں فتح ایک ہی صورت میں ہوتی جب عوام اس کے سپہ کے ساتھ ہوتی ہے۔قارئین کرام! ہمارے بنیادی دشمن امریکہ،اسرائیل،انڈیا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کا بھی نور نظر بھارت ہے۔بھارت کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل ہماری بنیادوں کو کمزور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔بھارت ہماری بنیادوں کو کمزور کیسے کر رہا تو اس کا جواب ایک ہی ہے وہ ہمارے ملک میں لوگوں کو پیسہ دے کر اپنے خبری اور کٹھ پتلی بنا رہا ہے۔بھارت نے اب جو حربہ إستعمال کیا وہ یہ ہے کہ حامد میر صاحب جیسے اینکرز کو پیسہ دئیے تاکہ افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرے اور عوام اور افواج کے درمیان ایک خلیج کو قائم کر دے۔
اب آپ کے ذہن میں آ رہا ہو گا کہ میرے پاس ثبوت کیا ہے تو جناب ثبوت تو بہت سارے ہیں لیکن بنیادی ثبوت یہ ہے کہ جب حامد میر کو جیو نیوز نے اپنے مفاد کے لئے نکالا کہ کہی ایسا نہ ہو کہ جیسے 2014 میں عوام نے افواج کے مخالف بیان دینے پر جیو کی گاڑیاں اخبارات کو جلا دیا تھا اب بھی نہ جلا دے تو انڈین میڈیا 24 گھنٹے حامد میر کا دفاع کر رہے۔اب آپ کہے گے کہ وہ صحافت کو بچا رہے تو پھر میرا سوال یہ ہے کہ کیا خاتون شفا یوسفزئی صحافی نہیں جسے ایک یوٹیوبر نے گالیاں دی اور الزامات لگائے اس کے لیے تو یہ بھارتی چینلز نہیں سامنے آئے۔میرے پاکستانیوں اپنے درمیان موجود غداروں کو پہچانو۔
دوسرا ثبوت وہ یہ ہے کہ جب مخدوم شہاب الدین نامی نامور یوٹیوبر اور صحافی نے حامد میر کے فیس بک پیج کو اپنے چینل کے ذریعے دکھایا کہ ان کا اکاؤنٹ بھی انڈیا سے مینج ہوتا ہے تو حامد میر صاحب کی طرف سے اس پیج خو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔لیکن اس کی سکرین ریکارڈنگ موجود جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حامد میر کو بھارت سے فنڈنگ ہوتی ھے۔
یہ تو میرے ملک کے خلاف دشمن کی چال ہے لیکن رب تعالی نے اس ثمر کا اعلان فرما دیا ھے کہ:-
"وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ”
"اورانہوں نے خفیہ تدبیرکی اوراللہ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیرکی اوراللہ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں میں سے بہترہے۔”بے شک یہ دشمن ممالک میرے ملک پاکستان میں بھلے کلبھوشن کے ذریعے بدامنی پیدا کرے تو اللہ تدبیر فرما کر میرے ملک کو بچا لیتا۔کبھی یہ اپنے اعلی سطحی اجلاسوں میں 24 مقامات پر حملے کی بات سوچتے ہیں تو اللہ تعالی میری ایجنسی کو خبر کر دیتا ہے اور ملک محفوظ رہتا ہے۔
بے شک اللہ خفیہ تدبیریں فرمانے والا ہے۔میں ادھر اس نوجوان صحافی مخدوم شہاب الدین کو بھی مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ جس کی بدولت آج پاکستانی عوام اس کالی بھیڑ کو پہچان سکے جس نے صحافت کو بھی بدنام کیا ہوا ہے اور ملک کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے تھے۔
میری آپ سب سے بھی ایک درخواست ہے کہ اپنے ملک کے دفاعی اداروں کا ساتھ دے اس ملک کا وجود اگر ہے تو وہ ان اداروں کی بدولت ہے۔یہ دفاعی ادارے وہی ہے جنھوں نے پاکستان کا دفاعی میدان میں اعلی سے اعلی میزائل سے لے کر ایٹمی قوت تک بنایا۔وہی ایٹمی طاقت جب پاکستان بنا تو فلسطینی ہاتھ میں پتھر پکڑ کر اسرائیلی یہودی کو للکار رہا تھا اور کہ رہا
"میرے ہاتھ میں اس پتھر کو نہ دیکھو پاکستان میں موجود ایٹم بم کو دیکھو”
اسی پاکستانی فوج کے خلاف یہ حامد میر جیسے دو ٹکے کے صحافی پروپیگنڈہ کرتے ہیں جس کے خلاف ہم سب نوجوانوں کو کھڑا ہونا ھے اور اپنے اداروں کا ساتھ دینا ھے۔
-

عالمی یوم ِماحولیات:’ ایکوسسٹم کی بحالی کا عالمی مقصد تحریر: علی باسط
عالمی یوم ِماحولیات:’ ایکوسسٹم کی بحالی کا عالمی مقصد
علی باسطاقوام متحدہ کے زیراہتمام ہر سال 5 جون عالمی یوم ماحولیات کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ عالمی سطح پرماحول کے تحفظ کا فروغ ہو اور ریاستوں کو عملی اقدامات کی ترغیب دی جا سکے۔ 1974 سے اس دن کو ہر سال باقاعدگی سے منایا جارہا ہے اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ترغیب میں ایک اہم مقام کا حامل ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے تحت دنیا بھر سے تقریبا 150 ممالک، اہم کارپوریشنز، غیر سرکاری تنظیمیں اور سول سوسائٹیز اس دن کو منانے میں حصہ لیتی ہیں تاکہ ماحولیاتی مسائل کے خاتمے کے لیے کام کیا جاسکے۔ رواں سال’ایکو سسٹم کی بحالی’ عالمی یوم ماحولیات کا عنوان ہے جس کا مقصد تنزلی کے شکار ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کو ہم آہنگ کر نے کے لیے اقدامات کرنا ہے۔
ماحولیاتی نظام کے انحطاطی عوامل سے پہلے اور یہ انسانی ماحول پر ان کے اثرات کو زیر بحث لانے سے پہلے، اس امر پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے کہ اصل میں ماحولیاتی نظام(ایکو سسٹم) کیا ہے۔ یہ اپنی قدرتی رہائش گاہ اور اپنے ماحول کے غیر جاندار اجزاء کے ساتھ جاندار اور غیر جاندار حیاتیات کی ایک کمیونٹی ہے۔ اس میں دو بڑے اجزاء شامل ہیں: جاندار اور غیرجاندار۔ غیر جاندار اشیاء میں ہوا، پانی، سورج کی روشنی، غذائی اجزاء اور درجہ حرارت شامل ہیں۔ جبکہ جاندار اجزاء نظام میں موجود تمام حیاتیات جیسے کہ پودے، جانور،کائی، مائکرو حیاتیات اور انسان شامل ہیں۔
ماحولیاتی نظام کا انحطاط ایک ماحولیاتی مسئلہ ہے جو مختلف انواع کے زندہ رہنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔ گزشتہ 50 سالوں میں ماحولیات اور ماحولیاتی تنزلی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر رہی ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب زمین کے قدرتی وسائل جیسا کہ پانی، ہوا اور مٹی، قدرتی عوامل (طوفان، سیلاب اور جنگل کی آگ)، جیو تنوع میں کمی، زراعت کے غلط طریقوں، زمین کا ناقص استعمال، اور انسانوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی آلودگی کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے ہمارے جنگلات کی زندگی، پودوں، جانوروں اور مائیکرو حیاتیات پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ غیر مؤثر بین الاقوامی پالیسیاں ماحول کے مستقبل کو ایک نازک صورتحال میں چھوڑ دیتی ہیں جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح قابو سے باہر ہوجاتی ہے۔ پیش گوئی کی گئی ہے کہ صدی کے آخر تک زمین کا درجہ حرارت میں 11 ° فار ن ہائیٹ تک بڑھ جائے گا۔
اگر ہم ایکو سسٹم کو اسی طرح آلودہ کرتے رہے تو نہ صرف جانور بلکہ انسان بھی جلد ہی ناپید ہوجائیں گے اور زمین کبھی بھی قابل رہائش ماحولیاتی نظام نہیں بن سکے گی۔ انسانی سرگرمیوں سے سمندری اور دیگر آبی ماحول سے حاصل ہونے والے فوائد کونظر انداز کرتے ہوئے ان کو تباہ کیا گیا ہے اور انحطاط کے ذریعے دنیا کا بیشتر ماحولیاتی نظام کو تبدیل ہو گیا ہے۔ لہذا، حیاتیاتی کمیونٹی اور لوگوں کے معاشی فوائد کے لئے ماحولیاتی نظام کی بحالی لازمی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو ماحولیاتی سالمیت کی بحالی (ماحولیاتی عمل اور ڈھانچے میں تغیر، پائیدار ثقافتی طریقوں اوربائیو ڈائیورسٹی)میں مدد کرتا ہے۔ ماحولیات کی بحالی کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقوں میں بازیافت (انحطاط کے عمل کو کم سے کم کرنا)، بحالی (تباہ شدہ ماحولیاتی نظام کو دوبارہ بہتر شکل میں لانا)، افزائش(گھاس لگانا، جھاڑیوں اور زوال پذیرجگہوں پر جڑی بوٹیوں کو اُگانا)اور ماحولیاتی انجینئرنگ (ماحول دوست طریقے استعمال کرتے ہوئے ماحولیاتی نظام کی دوبارہ تعمیر)شامل ہیں۔
بین الحکومتی سائنس پالیسی پلیٹ فارم برائے بایوڈائیورسٹی اینڈ ایکو سسٹم سروسز (IPBES) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق تقریباََ 10 لاکھ پودوں اور جانوروں کی انواع کو معدومیت کا سامنا ہے۔ اس معدومیت کے نتیجے میں حیاتیاتی تنوع میں ہونے والے نقصانات میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے متعدی بیماریوں اور وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (OECD) کی 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق” 2010 سے 2015 کے درمیان قدرتی جنگلات میں سالانہ 6.5 ملین ہیکٹر رقبہ (مجموعی طور پر برطانیہ سے بڑا علاقہ) تک کمی جبکہ 1970 سے 2015 تک قدرتی آبی علاقوں میں 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔”
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ” 30 فیصد سے زائد کورل کو بلیچنگ سے خطرہ ہے اور 1970 کے بعد سے ریڑھ کی ہڈی والے60 فیصد جاندار ختم ہو چکے ہیں”۔ ان اہم تبدیلیوں کی وجوہات میں زمینی استعمال سے اس کی ساخت میں تبدیلی، قدرتی وسائل بشمول پودوں اور جانوروں کا زیادہ استحصال، آلودگی، نامناسب انواع کی افزائش (مقامی پرجاتیوں کے ساتھ کراس بریڈنگ اور بیماریوں کے پھیلاؤ سے حیاتیاتی تنوع کو خطرہ) اور آب و ہوا میں تبدیلی کارفرما ہیں۔ OECD کے ایک اندازے کے مطابق، ایک سال میں حیاتیاتی تنوع کے فوائد 125تا140 ٹریلین امریکی ڈالر ہیں، جو عالمی جی ڈی پی کے حجم کے ڈیڑھ گنا سے بھی زیادہ ہیں۔ تاہم، ایکو سسٹم کے مستقل زوال کے باعث فطرت کی انسانی فلاح و بہبود میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔
رواں سال کے یوم ماحولیات پر، پاکستان نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی شراکت سے عالمی یوم ماحولیات 2021 کی میزبانی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رواں سال کے عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر اقوام متحدہ کی ماحولیاتی نظام کی بحالی کی دہائی 2021 – 2030 کا باضابطہ آغاز ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرِقیادت، حکومتِ پاکستان ملک میں جنگلات کی توسیع اور بحالی کے لیے5 سال کے عرصہ میں 10 بلین درخت کاشت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مہم میں مینگرووز اور جنگلات کی بحالی کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں شجرکاری بھی شامل ہے جس میں اسکول، کالج، عوامی پارکس اور گرین بیلٹس شامل ہیں۔ پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے قدرتی حل کی نشونما، جنگلات کی کٹائی سے بچاؤ اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ماحولیاتی نظام کی بحالی فنڈ کا آغاز کیا ہے۔ حال ہی میں، وزیراعظم پاکستان نے 5500 ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ملک بھر میں 15 ماڈل پروٹیکٹڈ علاقوں پر مشتمل 7300 مربع کلومیٹر زمینی علاقے کے تحفظ کے لیے پروٹیکٹڈ ایریا انیشیٹو کا آغاز کیا ہے۔ عالمی یوم ِماحولیات کے میزبان کی حیثیت سے پاکستان ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرے گا اور عالمی کوششوں میں اپنے اقدامات اور کردار کو پیش کرے گا۔
امید اس امکان پر قائم ہے کہ ہم قدرت کے ساتھ اپنے تعلق کی تشکیل نو اور ماحولیاتی انفراسٹرکچر کو تبدیل کرکے ماحولیاتی نظام کے بدلتے رجحانات کوپلٹ سکتے ہیں۔ اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر پاک بحریہ ماحولیاتی نظام کے انحطاط کو روکنے اور ملکی مستقبل کے لیے قدرت کے تحفظ میں اپنی کوششیں تیز کرکے مزیدسنگِ میل عبور کر رہی ہے۔ پاکستان بحریہ ہر سال عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پرملک میں ماحولیات کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے متعدد سرگرمیوں کا اہتمام کرتی ہے۔ ان سرگرمیوں میں عوامی آگاہی کو فروغ دینے کے لیے لیکچرز اور سیمینارز کا انعقاد، ہاربرز اور ساحلی پٹیوں میں صفائی مہم، ماحولیاتی آگاہی واک، سوشل میڈیا مہم اور مختلف عوامی مقامات پر ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بینرز آویزاں کرنا شامل ہے۔ وزیراعظم کے اقدام ’گرین پاکستان‘ کے تحت پاکستان بحریہ نے ماحولیات کے تحفظ اور بحالی کے لئے درختوں اور مینگروز کی شجرکاری مہم سمیت بیشتر اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔
-

درجنوں پاکستانی فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس مشکوک سرگرمیوں کے الزام میں بند کر دیئے گئے
دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے مشتبہ اکاؤنٹس کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے-
باغی ٹی وی : فیس بک کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق فیس بک نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے 40 فیس بک اکاؤنٹ، 25 فیس بک صفحات، چھ فیس بک گروپ اور 28 انسٹاگرام اکاؤنٹ ہٹا دیے گئے ہے-
ان اکاؤنٹس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ فیس بک پر ‘منظم اور غیر مصدقہ رویے’ اپنانے جیسی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
May 2021 Coordinated Inauthentic Behavior Report https://t.co/gZo5ur1rVf
— Meta Newsroom (@MetaNewsroom) June 3, 2021
تین جون کو شائع ہونے والی رپورٹ میں فیس بک نے کہا ہے کہ ہٹائے گئے نیٹ ورک میں ملوث افراد کا تعلق اسلام آباد اور راولپنڈی میں قائم ایک تعلقات عامہ یعنی پبلک ریلیشنز کمپنی ‘الفا پرو’ سے ہے۔فیس بک کا اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نیٹ ورک میں سے ’چند کا تعلق اُسی نیٹ ورک سے ہے جن کو فیس بک نے اپریل 2019 میں ہٹایا تھا’ اور اُس وقت الزام عائد کیا تھا کہ ‘ان صفحات اور اکاؤنٹ کا تعلق پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پر آر کے اہلکاروں سے پایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ فیس بک ‘کووآرڈینیٹڈ ان آتھینٹک بیہیوئر'(سی آئی بی) کی اصطلا ح کی تعریف ایسے اکاؤنٹس کے طور پر کرتا ہے جو منظم طریقے سے چلائے جاتے ہیں اور ایک حکمت عملی کے تحت غیر مصدقہ رویے اپنا کر عوامی بحث و مباحثے کا رخ ایک مخصوص بیانیے کی جانب موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق فیس بک نے جن مشتبہ اکاؤنٹس اور پیجز کی نشاندہی کی ہے ان کے درمیان روابط اور کوآرڈینیشن کے واضح اشارے ملے ہیں اور انھوں نے جعلی شناختوں اور عیاری سے صارفین کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔
