Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نائجیریا: حکومت نے ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دیا

    نائجیریا: حکومت نے ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دیا

    نائیجیریا میں سماجی رابطے کی معروف و مقبول ویب سائٹ ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دیا گیا ہے –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نائیجیریا کے وزیرِ اطلاعات نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں ٹوئٹر کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی اس لیے لگائی گئی ہے کہ اس پلیٹ فارم کو بار بار ایسے کاموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے کہ جس سے نائیجیریا کی کارپوریٹ ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ حکومت نےاپنے بیان میں قومی براڈ کاسٹنگ کے نگراں ادارے این بی سی سے کہا ہے کہ وہ تمام او ٹی ٹی سروسز اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے لائسنسنگ کا عمل شروع کرے۔

    تاہم حکومت نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں کہ ٹوئٹر پر پابندی عملی طور پر کیسے کام کرے گی یا ٹوئٹر کو نائیجیریا کی کارپوریٹ ساکھ خراب کرنے کے لیے کیسے استعمال کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ٹوئٹرنے یہ اعلان انتہائی پریشان کن قرار دیا ہے کہا ہے کہ وہ نائیجیریا کی جانب سے پابندی کی تفتیش کی رہی ہے اور مزید معلومات ملنے پر لوگوں کو آگاہ کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل ہی ٹوئٹر نے صدر محمدو بوہاری کی ایک ٹوئٹ کو یہ کہہ کر حذف کر دیا تھا کہ اس ٹوئٹ نے ٹوئٹر کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔

    نائیجیریا کی حکومت کے پلیٹ فارم پر پابندی لگانے کے اعلان میں اس تنازع کا ذکر تو نہیں کیا گیا تاہم ماضی میں ملک کے وزیر اطلاعات لائی محمد نے امریکی سول میڈیا کمپنی پر تنقید کی اور ان پر دوہرے معیار کا الزام لگایا ہے۔

    ٹوئٹر نے یکم جون کو نائیجیریا کے 78 سالہ صدر کی ٹوئٹ ہٹائی تھی اس میں 1967 سے 1970 تک ہونے والی نائیجیرین خانہ جنگی کا حوالہ دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جو لوگ آج ٹھیک نہیں ہیں ان سے ایسی زبان میں بات کی جائے جو انھیں سمجھ آئے گی۔

    اس وقت ٹوئٹر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹ ٹوئٹر کے قواعد کے خلاف ہے۔

  • فائیوجی ٹیکنالوجی کیخلاف مقدمہ،عدالت نے جوہی چاولہ کو 20لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا

    فائیوجی ٹیکنالوجی کیخلاف مقدمہ،عدالت نے جوہی چاولہ کو 20لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا

    بھارتی معروف اداکارہ جوہی چاولہ نے اپنے ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا-

    باغی ٹی وی : ٹیکنالوجی کی ریس میں بھارت بھی دنیا کے ساتھ کھڑا ہونے کی کوشش کررہا ہے اور ایسے میں جہاں ترقی یافتہ ممالک میں فائیو جی کی ٹیسٹنگ شروع ہوگئی ہے وہیں بھارت نے بھی ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم بھارتی اداکارہ جوہی چاولہ اس فیصلے کے خلاف عدالت پہنچ گئیں۔

    ایک انٹرویو میں اداکارہ جوہی چاولہ نے کہا تھا کہ میں بھارت کی ترقی یا پھر ملک میں ٹیکنالوجی کے استعمال میں ترقی کے خلاف نہیں بلکہ میں تو خود جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے حق میں ہوں اور مجھ سمیت تمام لوگ اس سے استفادہ حاصل کرتے ہیں تاہم کچھ چیزوں پر اعتراض ہے۔

    اداکارہ نے کہا تھا کہ زیادہ تابکاری کے اخراج کے حوالے سے ہماری اپنی تحقیق یہ بتاتی ہیں کہ بغیر تار والے گیجٹس اور نیٹ ورک سیل ٹاور سے نکلنے والی تابکاری کی وسیع مقدار انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہیں، یہ نہ صرف انسانی صحت پر اثرانداز ہوں گی بلکہ لوگوں کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

    تاہم اب دہلی ہائی کورٹ نے اداکارہ پر 20 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا ہے-

    دہلی ہائیکورٹ نے اداکارہ کی بھارت میں 5 جی ٹیکنالوجی کے استعمال کیخلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے اسے سستی شہرت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ قرار دیا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اداکارہ نے سستی شہرت کیلئے مقدمے اور عدالتی کارروائی کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔عدالت نے اداکارہ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان پر 20 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔

    جوہی چاولہ نےفائیو جی ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف مقدمہ درج کروادیا

  • ہمایوں سعید بھی کرکٹر راشد خان کی آوازکے فین ہو گئے

    ہمایوں سعید بھی کرکٹر راشد خان کی آوازکے فین ہو گئے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامو ر اور معروف اداکار ہمایوں سعید بھی افغان کرکٹر راشد خان کی سُریلی آواز کے مداح ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں سوشل میڈیا پر راشد خان کی گانا گاتے ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ سُریلی آواز میں راحت فتح علی خان کا گانا گا رہے ہیں۔

    افغانستان کرکٹ ٹیم کے نوجوان کھلاڑی اور لیگ اسپنر راشد خان نے پاکستانی ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کا ٹائٹل سونگ گا کر پاکستانی مداحوں کو حیران کردیا تھا تاہم اب اداکار ہمایوں سعید کی جانب سے بھی راشد خان کی ویڈیو پر ردعمل سامنے آیا ہے-


    ہمایوں سعید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر راشد خان کی پاکستانی گانا گاتے ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’راشد آپ کی آواز سُریلی ہے۔

  • حضرت محمدﷺ کا تجویز کردہ عمل حجامہ ، متعدد خطرناک بیماریوں کا علاج

    حضرت محمدﷺ کا تجویز کردہ عمل حجامہ ، متعدد خطرناک بیماریوں کا علاج

    بیماریاں پہلےقدیم زمانے میں بھی ہوا کرتی تھیں مگر اُس وقت اُن کی سمجھ بوجھ اور علاج کا شعور نہیں تھا، آ ج کل جہاں سائنس نے بے حد ترقی کر لی ہے وہیں صدیوں سے استعمال کیے جانے والا طریقہ حجامہ ’ کپنگ تھیراپی‘ نہ صرف آج بھی اپنی اہمیت اور افادیت رکھتا ہے بلکہ اب حجامہ بھی نئی جدت کے ساتھ کیا جاتا ہے حجامہ صدیوں سے استعمال کیے جانے والا سستا اور اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ علاج ہے-

    حجامہ کیا ہے؟

    حجامہ دنیا میں تیزی سے مقبول ہوتا ہوا اسلامی طریقہ علاج ہے جسے مغربی ممالک اور غیر اسلامی ممالک میں cupping therapyکے نام سے جانا جاتا ہے دراصل حجامہ عربی زبان کے لفظ حجم سے نکلا ہے‘‘ جس کے معنی کھینچنا/چوسنا ہے۔

    اِس عمل میں مختلف حصوں کی کھال سے تھوڑا سا خون نکالا جاتا ہے۔ انسانی صحت کا دار و مدار جسمانی خون پر ہے اگر خون صحیح ہے تو انسان صحت مند ہے ورنہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ بیماریاں اس فاسد خون کے ساتھ نکل جاتی ہیں۔

    حجامہ اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ:

    حجامہ ایک قدیم علاج ہے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ اور ملائکہ کا تجویز کردہ ہے اِس قدیم طریقہ علاج میں جسم کے 143 مقامات سے فاسد خون نکال کر مختلف بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔حضرت محمدﷺ نے حجامہ لگانے کو افضل عمل قرار دیا ہے۔

    حجامہ اور جدید میڈیکل سائنس:

    جدید میڈیکل سائنس اب تیزی سے حجامہ کی جانب متوجہ ہو رہی ہے۔ مغربی سائنس دان اور تحقیقاتی ادارے حجامہ پر مسلسل تحقیق میں مصروف ہیں،حجامہ سے علاج کا طریقہ 3000 سال قبل مسیح سے بھی پرانا ہےاس طریقہ علاج کا ذکر Ebers Papyrus(ریبس پائرس) نامی طبی کتاب میں بھی ہےجو 1550 قبل مسیح کی مشہور طبی کتاب ہے۔

    سائنس دان اس امر پر بھی حیران ہیں کہ ہزاروں سال قبل انسان نے میڈیکل کی اِس قدر پیچیدہ گتھی کس طرح سلجھائی تھی۔ اس کتاب کے علاوہ ماہرین آثار قدیمہ نے چائنیز تہذیب کی ایک قدیم کتاب بھی دریافت کر لی ہے۔

    اس کتاب کے مطابق چین میں حجامہ طریقہ علاج تین ہزار سال قبل مسیح سے رائج ہے۔ گریس کے مطابق تہذیب میں ہیپوکریٹس کے دریافت شدہ آثار میں ایسے کاغذات بھی دریافت ہوئے ہیں جو چار سو سال قبل مسیح میں تحریر کیے گئے تھے اور ان میں حجامہ طریقہ کار چار بنیادی نکات پیش کیے گئے تھے ان ہی چار نکات کو حضرت محمدﷺنے بہتر قرار دیا تھا۔ مشہور سائنس دان نے بھی اسی وجہ سے حجامہ کے بیان کردہ چار نکاتی فارمولے پر تحقیق کو آگے بڑھایا۔

    جدید سائنس میں حجامہ پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق حجامہ کروانے سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جمنے والا فاسد خون خارج ہو جاتا ہے، جسم سے زہریلا مواد نکل جاتا ہے-

    نہ صرف جدید سائنس بھی اس کی افادیت کی ناصرف قائل ہو گئی ہے بلکہ اب تو مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد اور معروف شخصیات بھی جسم کو ڈیٹاکس کرنے کے لیے حجامہ کرواتے ہیں۔

    حجامہ متعدد بیماریوں کا علاج:

    حجامہ سے بلڈ پریشر، ٹینشن، جوڑوں کا درد، پٹھوں کا درد، کمر کا درد، ہڈیوں کا درد، سر کا درد (درد شقیقہ) مائیگرین، یرقان، دمہ، قبض، بواسیر، فالج، موٹاپا، کولیسٹرول، مرگی، گنجاپن، الرجی، عرق النساء وغیرہ اور اس کے علاوہ 70 سے زائد روحانی وجسمانی دونوں بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

    یہ خون صاف کرتاہے اور حرام مغز کو فعال کرتا ہے، شریانوں پر اچھا اثر ہوتا ہے، پٹھوں کا اکڑاؤ ختم کرتا ہے، دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض اور انجائنا کے لیے مفید ہے، آنکھوں کی بیماریوں کو بھی ختم کرتاہے، رحم کی بیماری ماہواری کے بند ہو جانے کی تکالیف اور ترتیب سے آنے کے لیے مفید ہے، گٹھیا عرق النساء اور نقرس کے درد کو ختم کرتا ہے، فشار خون میں آرام دیتا ہے، زہر خورانی میں مفید ہے، مواد بھرے زخموں کے لیے فائدہ مند ہےالرجی جسم کے کسی حصے میں درد کو فوری ختم کرتا ہے۔

    کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح انسان جادو کے اثر سے بھی نکل جاتا ہے۔سب سے بڑھ کر مسنون طریقہ علاج ہونے کی وجہ سے اہل ایمان کو ایک روحانی سکون ملتا ہے۔

    حجامہ کیسے کیا جاتا ہے؟

    حجامہ سے قبل مطلوبہ جسم کے حصے پر زیتون یا کلونجی کا تیل لگا دیا جاتا ہے جس سے جلد پرسکون رہتی ہے پھر جسم کے مختلف مقامات پر ہلکی ہلکی خراشیں لگا کر مخصوص قسم کے ٹرانسپیرنٹ کپ لگا دئیے جاتے ہیں۔

     خراش لگی ہوئی جگہوں سے خون کی بوندیں نکل کر کپ میں جمع ہوتی ہیں جنہیں پھینک دیا جاتا ہے۔ اور مریض خود کو ہلکا پھلکا اور تر و تازہ محسوس کرنے لگتا ہے ساتھ ہی اس کا مرض بھی دور ہوجاتا ہے۔

    بہت سے افراد جو کہ کسی مرض کا شکار نہیں ہیں محض جسم کو ہلکا پھلکا بنانے اور تر و تازگی حاصل کرنے کے لئے بھی ہر ماہ حجامہ کرواتے ہیں ۔ویسے بھی مہینے میں ایک دفعہ حجامہ کروانا عین سنت ہے۔یہ سارا عمل دس سے پندرہ منٹ میں مکمل ہوجاتا ہے اور خراشیں لگانے کے دوران کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی ایسے میں جسم گندے خون سے پاک ہو جاتا ہے اور انسان موجودہ شکایت سمیت متعدد بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔

    عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہوگا جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے حجامہ عام طور پر پشت پر کیا جاتا ہے اور مریض کو اس وقت حیرت ہوتی ہے جب اسے پتا چلتا ہے کہ یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور اسے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوئی ۔

    چونکہ حجامہ ایک مکمل طریقہ علاج ہے اس لئے اس میں کسی طرح کی سخت پرہیز نہیں کرنی پڑتی جو کہ عام طور پر ایلو پیتھک ، ہومیو پیتھک ،یونانی یا دیگر علاج کے طریقوں میں کی جاتی ہیں۔ تاہم مکمل علاج کے لئے مریض کو سختی سے طب نبوی ﷺ میں دی گئی ہدایت کی پابندی کرنی چائیے۔

    حجامہ کے نتائج فوراً ہی ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔عام طور پر اگر کسی کو کوئی بیماری نہیں ہے اور وہ سنت نبوی ﷺ کے طور پر حجامہ کرواتا ہے تو حجامہ چند منٹوں میں ہی وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا ہے۔

    ہر صحت مند انسان کو مہینے میں ایک بار سنت کے طور پر گدی پر حجامہ ضرور کروانا چاہئیے جس سے 72 ایسی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے جن کا عام طور پر انسان کو خود بھی علم نہیں ہوتا۔

    خیال رہے کہ نیم حکیموں کی طرح حجامہ کے بھی جگہ جگہ کلینک کھولے گئے ہیں، حجامہ لگوانے کے لیے مستند اور تجربہ کارتھراپسٹ کا انتخاب ضروری ہے کیوں کہ ناتجربہ کار شخص صحیح حجامہ نہیں لگا سکتا جس وجہ سے علاج نہیں ہو پاتا اور مریض مایوس ہو جاتا ہے۔

    حجامہ کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں بلکہ کسی ایک مقام پر حجامہ کرنے سے دیگر بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ شوگر کے مریضوں کے زخم بھی 24 گھنٹوں میں بھر جاتے ہیں-

  • جوہی چاولہ نےفائیو جی ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف مقدمہ درج کروادیا

    جوہی چاولہ نےفائیو جی ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف مقدمہ درج کروادیا

    بالی ووڈ اداکارہ جوہی چاولہ نے اپنے ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف مقدمہ درج کروادیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیکنالوجی کی ریس میں بھارت بھی دنیا کے ساتھ کھڑا ہونے کی کوشش کررہا ہے اور ایسے میں جہاں ترقی یافتہ ممالک میں فائیو جی کی ٹیسٹنگ شروع ہوگئی ہے وہیں بھارت نے بھی ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم بھارتی اداکارہ جوہی چاولہ اس فیصلے کے خلاف عدالت پہنچ گئیں۔

    ایک انٹریو میں اداکارہ جوہی چاولہ نے کہا کہ میں بھارت کی ترقی یا پھر ملک میں ٹیکنالوجی کے استعمال میں ترقی کے خلاف نہیں بلکہ میں تو خود جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے حق میں ہوں اور مجھ سمیت تمام لوگ اس سے استفادہ حاصل کرتے ہیں تاہم کچھ چیزوں پر اعتراض ہے۔

    اداکارہ نے کہا کہ زیادہ تابکاری کے اخراج کے حوالے سے ہماری اپنی تحقیق یہ بتاتی ہیں کہ بغیر تار والے گیجٹس اور نیٹ ورک سیل ٹاور سے نکلنے والی تابکاری کی وسیع مقدار انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہیں، یہ نہ صرف انسانی صحت پر اثرانداز ہوں گی بلکہ لوگوں کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب بھارتی وزارت مواصلات کا کہنا ہے کہ ٹو جی، تھری جی، فور جی اور فائیو جی ٹیکنالوجی کے انسانوں، پرندوں اور درختوں پر اثرات کے حوالے سے اب تک کسی قسم کی تحقیق نہیں کی گئی ہے۔

  • سرفراز احمد سمیت 6 لوگ ابوظہبی روانہ

    سرفراز احمد سمیت 6 لوگ ابوظہبی روانہ

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد سمیت 6 لوگ براستہ بحرین ابوظہبی روانہ ہوگئے۔

    بای ٹی وی : ذرائع کے مطابق پی ایس ایل سیزن 6 کے بقیہ میچز میں شرکت کیلئے ذیشان اشرف اور زید عالم سمیت لاہور سے4 کھلاڑی کراچی پہنچے جبکہ کراچی سے سرفراز احمد اور میڈیا منیجر عماد حمید ابوظہبی روانہ ہوئے۔

    پاکستان میں موجود 13میں سے 6افراد کو گزشتہ روز ویزے جاری ہوئے،متعلقہ کھلاڑی اور آفیشل نجی ائیرلائن سے صبح 6 بجکر 40 منٹ پر کراچی سے روانہ ہوئے-

    پی سی بی آج باقی رہ جانیوالے 7 افراد کے ویزے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا،7افراد میں 3کرکٹرز عمر امین، آصف آفریدی اور محمد عمران بھی شامل ہیں-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی فلائٹ دستیاب نہ ہونے کے سبب سرفراز احمد کی روانگی میں ایک دن کی تاخیر کی گئی تھی۔

    نوجوان کرکٹرز ابوظہبی میں متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے پرعزم

    پی ایس ایل کا ایک اور کھلاڑی کرونا کی وجہ سے باہر ہوگیا

    قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس مزید التو کا شکار ، کب متوقع

    پی ایس ایل کے بقیہ میچز کی تیاریاں کون سے آفیشلز مقرر کیے جائیں گے

    سپورٹ سٹاف کا کورونا ٹیسٹ کرنے کا حکم جاری کردیا گیا

  • چرنوبل کی باقیات سے تابکاری کے اخراج میں اضافہ، 35 سال بعد کسی نئے ایٹمی حادثے کا خطرہ

    چرنوبل کی باقیات سے تابکاری کے اخراج میں اضافہ، 35 سال بعد کسی نئے ایٹمی حادثے کا خطرہ

    یوکرائن: سابق سوویت یونین کے جوہری بجلی گھر ’’چرنوبل‘‘ کے ملبے میں موجود تابکار مادوں سے 35 سال بعد ایک بار پھر تابکاری کے اخراج میں اضافہ ہونے لگا ہے جس سے کسی نئے تابکار حادثے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی :سابق سوویت یونین کی ریاست یوکرائن کے قصبے پریپیات میں 1986 میں چرنوبل کا تابکار حادثہ آج بھی دنیا بھر میں لوگوں کو یاد ہے۔ موجودہ یوکرائن میں قائم اس جوہری بجلی گھر میں حادثے کے بعد پھیلنے والی تابکاری نے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس حادثےنے سابق سوویت یونین کو نہ صرف مالی نقصان پہنچایا بلکہ اس تابکاری کےاثرات آئندہ کئی سال تک لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارتے رہے۔

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ایٹمی بجلی گھر کی باقیات میں موجود تابکار مادّوں سے تابکاری کا اخراج بتدریج کم ہوتا گیا لیکن اب یہ خبر ملی ہے کہ چرنوبل کی باقیات سے تابکاری کے اخراج میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا ہے۔

    امریکی تحقیقی جریدے ’’سائنس‘‘ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چرنوبل کے ملبے تلے دبے ہوئے ری ایکٹر ہال میں موجود یورینیم ایندھن کی باقیات سے تابکار نیوٹرونوں کے اخراج میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا ہے لیکن بظاہر اس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی۔ یہی نہیں بلکہ اس تابکاری کا اخراج رکنے کے بھی کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

    برطانیہ کی شفیلڈ یونیورسٹی میں جوہری مادوں کے کیمیا دان نیل حیات کے مطابق ’اب یہ تابکار فضلہ اسی طرح سلگ رہا ہے جس طرح باربی کیو کے گڑھے میں کوئلہ سلگتا ہے،‘ تاہم اگر طویل عرصے تک اسے یونہی چھوڑ دیا گیا تو اس ’سلگتے ہوئے مادے‘ کے مکمل طور پر بھڑکنے کے امکانات ہیں جس کا نتیجہ ایک اور ایٹمی حادثے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

    یوکرائن میں ، نیوکلیئر پاور پلانٹس (ISPNPP) کے اناطولی ڈوروشینکو ، ری ایکٹر کو ختم کرنے کے بارے میں بات چیت کے دوران گذشتہ ہفتے اطلاع دیے گئے سینسر ، ایک ناقابل فراموش کمرے سے بہتے ہوئے ، نیوٹران کی بڑھتی ہوئی تعداد کا پتہ لگارہے ہیں۔ آئی ایس پی این پی پی کے میکسم سولیو کا کہنا ہے کہ "بہت سی غیر یقینی صورتحال ہیں۔” "لیکن ہم کسی حادثے کے امکان کو رد نہیں کرسکتے ہیں۔

    اس پلانٹ کی مانیٹرنگ کرنے والے سائنس دانوں کا کہا ہے کہ پلانٹ کے زیر زمین کمرے سے (جسے 305/2 کے نام سے جانا جاتا ہے) نیوٹرونوں کے اخراج میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ یہ کمرہ اُس تابکار مادّے سے بھرا ہوا ہے جو چرنوبل حادثے کے دوران شدید گرمی کے باعث پگھل کر لاوے کی شکل میں آگیا تھا اور بعد ازاں ٹھوس شکل اختیار کرکے یہاں پرت در پرت جمع ہوگیا۔ یہ مادّہ تابکار یورینیم، گریفائٹ اور مٹی پر مشتمل ہے جسے مجموعی طور پر ’’ایندھن والا مواد‘‘ (فیول کنٹیننگ مٹیریلز) یا مختصراً ’’ایف سی ایم‘‘ بھی کہا جاتا ہے جو تقریبا 170 ٹن شعاع زدہ یورینیم — 95 فیصد اصلی ایندھن سے لیس ہیں۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نیوٹرونوں کا بڑھتا ہوا اخراج یہ اشارہ کر رہا ہے کہ اس ’’ایف سی ایم‘‘ کے یورینیم ایٹموں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل (فشن ری ایکشن) ایک بار پھر شروع ہوچکا ہے۔

    یوکرائن کے دارالحکومت کیو کے انسٹیٹیوٹ فار سیفٹی پرابلمز آف نیوکلیئر پاور پلانٹ کے سینئر ریسرچر، میکسم سولیو کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ اتنا تباہ کن نہیں ہوگا جیسا 1986 میں ہوا تھا؛ جس کا نتیجہ ہزاروں اموات کی صورت میں سامنے آیا تھا اور تابکار بادل پورے یورپ پر چھا گئے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ چار سال سے روم نمبر 305/02 میں نیوٹرونز کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کی سطح میں بغیر کسی حادثے کے اگلے کئی سال تک اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن اگر اس کی سطح ایسے ہی بڑھتی رہی تو پھر سائنس دانوں کو کسی حادثے سے بچنے کےلیے اس کا حل نکالنا پڑے گا۔

    اگر یہ تابکار مادے ایک بار پھر بھڑک گئے تو ان سے ہونے والے دھماکوں سے خصوصی فولاد اور کنکریٹ کے وہ مضبوط جنگلے تباہ ہوجائیں گے جنہیں حادثے کے ایک سال بعد ہی تباہ ہونے والے ری ایکٹر4 کے گرد لگادیا گیا تھا۔ یہ حفاظتی جنگلے اب پرانے ہوچکے ہیں اور بھاری ملبے اور تابکار مٹی سے بھرے علاقے میں یہ شدید دھماکے سے بہ آسانی تباہ ہوسکتے ہیں۔

    سولیو کہتے ہیں چرنوبائل کے رکھوالوں کو درپیش دوبارہ اٹھنے والے فیوژن رد عمل ہی چیلنج نہیں ہیں بلکہ شدید تابکاری اور تیز نمی کا سامنا کرتے ہوئے ، ایف سی ایمز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں – اس سے کہیں زیادہ تابکار مٹی پھیل رہی ہے جو شیلٹر کو ختم کرنے کے منصوبوں کو پیچیدہ بناتی ہے۔ ابتدائی طور پر ، یہ نہایت بھاری ہاتھی کا پاؤں نامی ایک ایف سی ایم تشکیل اتنا سخت تھا کہ سائنسدانوں کو تجزیہ کے لئے کلاشنیکوف رائفل کا استعمال کرنا پڑا۔ "اب اس میں کم و بیش ریت کی مستقل مزاجی ہے –

    یوکران کا طویل عرصہ سے FCMs کو ہٹانے اور انہیں ارضیاتی ذخیرے میں محفوظ کرنے کا ارادہ ہے۔ ستمبر تک ، تعمیر نو اور ترقی کے لئے یورپی بینک کی مدد سے ، اس کا مقصد ایسا کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بنانا ہے۔ لیکن ابھی بھی شیلٹر کے اندر زندگی چمکتی رہتی ہے ، ری ایکٹر کی باقیات کو دفن کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے-

  • فیس بک کا جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    فیس بک کا جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    کیلیفورنیا: سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بُک نے جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : فیس بُک نے اپنی حالیہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ جو سوشل میڈیا اکاؤنٹس باقاعدگی سے غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلاتے ہیں، ان کی پوسٹس کو ہٹانے کے بجائے ان پر لیبل لگا کر صارفین کو خبردار کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ فیس بُک سمیت، تقریباً تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے جھوٹی اور بے بنیاد معلومات کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے چاہے اس کا تعلق انتخابات سے ہو، ماحول کی تبدیلی سے ہو یا پھر پچھلے ڈیڑھ سال سے کورونا وبا اور حالیہ مہینوں میں کورونا ویکسین ہی سے کیوں نہ ہو۔

    فیس بک کے بانی سمیت 50 کروڑ صارفین کی تفصیلات آن لائن لیک

    فیس بُک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جھوٹ پر مبنی پوسٹس ڈیلیٹ کرنا اس مسئلے کا مؤثر حل ثابت نہیں ہوا، لہذا ماہرانہ مشوروں کے بعد نوٹیفکیشن تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    فیس بک نے نفرت اور نسل کی بنا پر نازیبا جملوں کو روکنے کا ایک اہم ٹول پیش کردیا

    مثلاً اب اگر آپ کسی ایسے فیس بُک اکاؤنٹ، پیج یا گروپ کا وزِٹ کریں گے جہاں غلط معلومات والی پوسٹس اکثر لگائی جاتی ہیں تو آپ کے سامنے ایک نوٹی فکیشن آجائے گا جس کے ذریعے آپ کو خبردار کیا جائے گا کہ یہ ’’اکاؤنٹ/ پیج/ گروپ باقاعدگی سے غلط معلومات پیش کرتا ہے۔‘‘

    اگرچہ فیس بُک کی مذکورہ پریس ریلیز میں یہ تو نہیں بتایا گیا کہ کسی پوسٹ میں دی گئی معلومات کو کن بنیادوں پر جھوٹی، غلط یا گمراہ کن قرار دیا جائے گا، تاہم اتنا ضرور واضح کیا گیا ہے کہ اس مقصد کےلیے معلومات کی تصدیق کرنے والے ’’قابلِ بھروسہ ذرائع‘‘ سے مدد لی گئی ہے۔

    جھوٹ پھیلانے والے انفرادی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ’’سزا دینے‘‘ کےلیے ان کا ’’آن لائن رُتبہ‘‘ کم کردیا جائے گا؛ یعنی دوسرے صارفین کو ان اکاؤنٹس کی پوسٹس بہت کم دکھائی دیا کریں گی۔

    فیس بک پلیٹ فارم اور انسٹاگرام پر بطورعطیہ جمع کی گئی رقم پانچ ارب ڈالرتک جا پہنچی

    کورونا ویکسین سے متعلق گمراہ کن معلومات :فیس بک نے وینزویلا کے صدر کا آفیشل پیج…

    فیس بک منفرد رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں اور لکھاریوں کو 50 لاکھ ڈالر دے گا

  • ہمارا اصل مقابل تو عالم کفر ہے مگر ہم نے اک دوسرے پربندوقیں کیوں تانی ہیں    تحریر کاشف علی ہاشمی  کشف الاسرار

    ہمارا اصل مقابل تو عالم کفر ہے مگر ہم نے اک دوسرے پربندوقیں کیوں تانی ہیں تحریر کاشف علی ہاشمی کشف الاسرار

    ہمارا اصل مقابل تو عالم کفر ہے مگر ہم نے اک دوسرے پربندوقیں کیوں تانی ہیں
    تحریر کاشف علی ہاشمی
    کشف الاسرار

    ہمارے ہاں مسلمانو کے مابین اختلافات کو قومیت کی سطح پر لے جایا جانے میں یقینًا درمے دامے سخنے غیرمسلم ایکسپرٹ سوشل ایکٹیویسٹ بھی شامل ہیں ان کے باقاعدہ ڈس انفارمیشن یونٹ اور مس انفارمیشن یونٹس قائم ہیں جہاں سے باقاعدہ اسلام کی تعلیم لیے خرانٹ شست باندھ کر نشانے لگانے والے شکاری لوگ بیٹھے ہیں جو مسلمان ملکوں کے مابین نفرت کو ہوا دینے کے لیے اکثر اہم شخصیات یا کسی خاص خبر کے نیچے اختلافات ظاہر فرما رہے ہوتے ہیں زہر انڈیل رہے ہوتے ہیں-

    عربوں ترکوں ایرانیوں پاکستانیوں کو آپس میں لڑوا رہے ہوتے ہیں اور خود کو کسی ملک سے وابسطہ کر کے خود کو فرشتے ثابت کر رہے ہوتے ہیں اور ایسی گفتگو چھیڑتے ہیں کہ خومخواہ سمجھدار سنجیدہ لوگوں کو بھی دونوں طرف سے مدمقابل لے آتے ہیں بعد میں یہ سمجھ دار اپنا دعوی ثابت کرنے کی چکر اس سوکھی لکڑی کی طرح جلتے ہیں جو اپنے ارد گرد دیگر کو بھی شامل کر لیتی ہے اور آگ مزید بھڑکتی ہے دشمن تیلی پھینک کر تماشا دیکھتے ہیں-

    ایسا میں نے کچھ انڈین پاکستانی مکس گروپس میں رہ کر دیکھا کہ وہ عربی ناموں اور تصاویر کے ساتھ جہاں بظاہر عربوں یا ترکوں کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں مگر درحقیقت وہ ہمیں اپس میں لڑا رہے ہوتے ہیں-

    ریاستوں کے مابین معاملات میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے مگر اب ان سیاسی نوعیت کے اختلافات کو بہت ہوا دی جاتی ہے اور عرب یوں ہیں ترک ایسے ہیں افغان نے یہ کر دیا-

    چنانچہ اردگان کی تمام طرح مثبت کوششوں اور کاوشوں کو کھوہ کھاتے میں ڈالنے کے بعد ہم اسے پلاسٹکی خلیفہ اور اسلام دشمن ثابت کرنے کے لیے دلائل کے انبار لگا رہے ہوتے ہیں کہ دیکھیں جی اس کے اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات ہیں اس نے سفیر کیوں نہیں نکالا یقینًا طیب اردگان کوئی فرشتہ نہیں اور نا ہی کسی خلافت کے منصب پر بیٹھا ہے البتہ اہل اسلام سے ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے اپکا مسلک جو بھی ہے مگر وہ دین سے محبت کرتا ہے اور ملک سے سیکولرازم کو آہستہ آہستہ دیس نکالا دے رہا ہے-

    البتہ جہاں اردگان سے متعلق کوئی مثبت بات ہوتی ہے وہیں اک بندہ آکر کہتا کہ اس کے تعلقات فلاں فلاں سے ہیں اور یہ امریکی یا یہودی ایجنٹ مسلمانوں کا مخالف ہے اس پر اک لمبی چوڑی تحریر بھی آتی ہے جس میں کسی نامعلوم دانشور نے اسے یہودی امریکی تیار کردہ ایجنٹ ثابت کیا ہوتا ہے
    اسی طرح معاملہ آپ سعودیہ اور آل سعود کا لگا لیں بلاجواز اور جھوٹ ہر مبنی پروپیگنڈا کے خلافت کو ان لوگوں نے ختم۔کیا جب کہ انکی قوت اس وقت بہت ہی چھوٹی سے علاقے میں تھی حجاز پر شریف مکہ کی حکومت تھی جو ہاشمی تھے
    پاکستان کی گرتی اکانومی کو پہلے بھی اور آج بھی سہارا دیا ساری دنیا میں مسلمانو کی سب سے زیادہ امداد بھی سعودی کرتے ہیں ہمارے ایٹم بم سے فوج تک میں ان کی انویسٹ منٹ ہے اور ریال لگا ہے-

    لیکن ہم تو فرشتے ہیں ان سے امداد بھی لیتے ہیں اور انکے خلاف مسلکی نفرت کی بنیاد پر سچ جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا بھی کرتے ہیں ہم احسان کا بدلہ بدنام کر کے دیتے ہیں اور جو خبر سعودیہ کے خلاف آتی ہے اسکو پھیلانا فرض ہے چاہے خبر تخیلاتی اور فرض پر مبنی ہو مگر ہمارا کیا ہم نے تو انکو اچھا سمجھنا ہی نہیں نا ان کے نقطہ نظر کو جاننا ہے اصل بات یہ ہے کہ ہمارے نزدیک وہ اسلام مخالف ہیں یہ الگ بات ہے کہ مسلہ بیچ میں مسلک کا ہو آپ لاکھ بتائیں سعودیہ نے اپ اور امت کے لیے یہ یہ کیا ہے مگر وہاں اک بات ہی دماغوں انڈیلی ہوئی ہے کہ اسرائیل ایجنٙٹ ہیں حالانکہ وہ سرکاری سطح پر بار بار اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر چکے ہیں مگر ہمارا کیا ہے ہم کیوں مانیں اور ہم نے تو بدگمانی ہے کرنی ہے فرضی اور تخیلاتی کہانیوں پر ہی یقین کرنا ہے-

    اسی طرح اخوان کے لوگوں کا سیسی سے اختلاف ہے جوں جنرل سیسی کی کوئی مثبت خبر آئے گی فورًا نیچے کمنٹ آتا جنرل سیسی یہودی ایجنٹ ہے اس نے یہ کر دیاں ایسے کر دیا لہذا یہ سب ڈرامہ ہے اصل میں اسرائیل کا ساتھی ہے وغیرہ-

    آپ افغان قوم کو دیکھ لیں اکثر ان کےخلاف نفرت انگیز گفتگو ہورہی ہوتی ہے جبکہ افغان وہ قوم جس نے روس کے بعد امریکہ کو روند دیا ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا مرد قسم کی قوم ہے مگر تھوڑا سامسلہ ہوجائے جیسے یہاں سب فرشتے آباد افغانو کو گالیاں دیتے کف اڑاتے غصے سے بھرے ہم اپس میں اختلافات کو بڑھاوا دے رہے ہوتے ہیں-

    ماشاءاللہ سے ہم مسلمان دنیا کے لوگ اک دوسرے ک برا بھلا کہہ کبھی ایرانیوں کو لتاڑ کر کبھی ترکوں اور کبھی افغان قوم کی صرف برائی ہی ظاہر کرتے ہیں اور عربوں کو لعن طعن کرتے کبھی پاکستانیوں کو طعنے دیتے آپسی لڑائی کا شکار ہیں یقینًا مڈل ایسٹ کی لڑائی میں اکیلے ایران کو الزام نہیں دیا جاسکتا اس میں۔دیگر لوگ بھی شامل ہوں گے لیکن اپ ایران کی تاریخ پر اک لمبا چوڑا مضمون پائیں گے کہ انہوں نے یہ یہ کیا لہذا اب کوئی بھی اچھائی انکی تسلیم ہی نہیں کی جائے گی-

    کبھی عمران خان کو یخودی ایجنٹ قرار دے رہے ہوتے پاکستان پر سوالیہ نشان اٹھائے جارہے ہوتے ہیں حالانکہ پاکستان عالم اسلام کی نمبر ون فوج اور ایٹمی طاقت ہے جہاں بھی مسلمانو پر ظلم ہوا یا جنگی معاملات ہوے پاکستانی چاہے چپ چاپ سہی ٹانگ اڑا کر دشمن کو گرانے سے باز نہیں آتے وہ الگ بات کہتے ہیں ہم تو اپنے معاملے میں مصروف تھے ہمیں نہیں پتہ رو س ہو یا امریکہ یا بوسنیاء کا معاملہ پاکستان ہمیشہ ہر جگہ نظر آئے گا آزربائیجان کا معاملہ ہو یا فلسطین آپ یاد رکھو اسلامی دنیا کی جنگ میں پاکستان بیس کیمپ ہے-

    جہاں پاکستان کی مثبت قسم کی خبروں پر فیک اکاونٹس سے عرب افغانی بن کر زہر اگلا جارہا ہوتا ہے وہیں کچھ دیگر عام لوگ اور بزر جمہر بھی جو کسی کو معاف نہیں کرتے اور بڑے سخت قسم کے اصولی ہوتے ہیں آن ٹپکتے ہیں یوں کسی جگہ آگ دکھائی جاتی ہے اور سوکھی لکڑیاں دھڑا اس کو پکڑ کر جلنے لگتی ہیں اور دھواں پھیلانے لگتی ہے-

    اگرچہ اس میں ہندوستان سے بہت زیادہ مصالحہ آرہا ہے جو فیک اکاونٹ کے ساتھ عالم اسلام کو آپس میں لڑواتے ہیں تو انکی لڑائی سے عام آدمی بھی لڑنے لگتا ان جیسے بزر جمہر صرف پاکستان میں نہیں سعودیہ ایران اور ترکی میں بھی وافر مقدار میں پائے جاتے جو منفی قسم کی تحریروں کو پوری شد و مد سے پھیلا کر یقینًا مسلمانو کو بہت بڑے فتنے سے بچانے کے چکر میں اک نئے فتنے میں مبتلاء کر رہے ہوتے ہیں انکا کام مسلمانو کے آپسی اختلافات کو ہوا دینا اور بلاجواز اک قوم کو پکڑ خود کو اور اپنے پسندیدہ لیڈر اور ملک کو فرشتہ ثابت کرنا ہے-

    آپ کسی اک ملک کے حوالے سے مثبت پوسٹ کریں مثلاً سعودیہ یا ایران یا مصر فورًا نیچے اک لمبی چوڑی تحریر یا کوئی قلت وقت کی بناء پر یہودی ایجنٹ کو فتوی لگا کر اس کے اس مثبت کام کو بھی یہودیوں کی کوئی چھپی ہو سازش ہی قرار دے رہے ہوتے ہیں
    جبکہ غلطیاں کمیاں کوتاہیاں سب میں ہوتی ہیں اختلافات بھی ہو تے ہیں اور مثبت کام بھی ہوتے ہیں-

    مطلب ہمارا مزاج منفی گفتگو زیادہ پھیلانا بن چکا ہے جبکہ مثبت گفتگو کو کم پھیلاتے مثال جیو نیوز کی اک خبر کہ کرونا سے آج 50 لوگ مارے گئے چند منٹوں میں اس کو بہت زیادہ ری ٹویٹ کیا جاتا ہے اب اک خبر ہم نے دیکھی کہ کہ آج اتنے ہزاروں لوگ کرونا سے صحت یاب ہوگئے مگر گھنٹوں میں چند ری ٹویٹ یوں ہم نے منفی خبر کو خبر سمجھتے ہیں جبکہ مثبت خبر کو بس ٹھیک ہے-

    ہمیں حتی الامکان مسلمان ملکوں کے مابین اختلافات سے بچنا ہوگا سوشل میڈیا سے دنیا اب گلوبل ویلج بن چکی ہے لہذا میں نے ہمیشہ کہا کہ آپ یہ مت سمجھیں کہ آپ عام آدمی ہیں اپ کی بات اثر نہیں ہے بلکہ آپ اچھی طرح سمجھ لو آگ ہمیشہ چھوٹی لکڑیوں سے شروع کی جاتی ہے قوموں کے درمیان نفرت انکو مدمقابل لے آتی ہے-

    ہمارا اصل ٹارگٹ کفار ہیں ہمارا سارا زور حماس الفتح میں سے کسی اک کو اہم یا مجاہد جبکہ دوسرے کو یہودی ایجنٹ ثابت کرنے پر نہیں بلکہ اسرائیل کو دہشت گرد لکھنے پر ہونا چاہیے ہم ہر دفعہ اصل بیانیے سے ہٹ کر اختلافات کی جنگ شروع کر دیتے ہیں اور اسلام اور کفر کی جنگ کی جگہ مسالک کی جنگ چھیڑ دیتے ہیں-

    یقینًا ہمیں تھوڑا صبر کرنا ہوگا اپ اپنے پسندیدہ لیڈر کی مثبت خبر کو ضرور پھیلائیں مگر بے کار لوگوں سے بحث سے بچیں کیوں کہ وہ آپ کو اکسا کر پھر اختلافات کا شکار کر دیں گے وہ اپکے لیڈر پر تنقید کریں گے اب لازمی نہیں جوابی طور پر اپ بھی کسی دوسرے ملک یا لیڈر کو یہودی ایجنٹ ثابت کریں کیوں کہ اس سے نیچے تو ہم رکتے ہی نہیں-

    بلکہ ہم تحمل سے مثبت خبروں کو پھیلاتے رہیں اور مثبت بات کرتے رہیں یقینًا یہ بھاری کام ہے مگر اہل ایمان کا یہی شیوہ ہے کہ وہ فضول اور لایعنی باتوں سے بچتے ہیں-

  • تندور سے اوون      بقلم: محمد عتیق گورائیہ

    تندور سے اوون بقلم: محمد عتیق گورائیہ

    تندور سے اوون

    محمد عتیق گورائیہ

    ‏‎اردو کا لفظ ‎تندور سنسکرت کے دو لفظوں کو ملا کر بنا ہے "تن” اور "دور” کو ۔ اگر تندور کو دیکھا جاے تو محسوس ہوگا کہ یہ لفظ عین صادق آتا ہے یعنی جسم کو ایک خاص حد سے آگے بڑھانا نقصان پہنچانے کے مترادف ہوتا ہے۔بڑی بوڑھیاں روٹی اتارتے وقت بازو پر کپڑا لپیٹ لیا کرتی تھیں کہ مبادا تندور کی گرمی سے بازو جھلس نہ جاے ۔ اسی لفظ تندور کو تنور بھی بولا جاتا ہے ۔ اب اس پر اہل زباں و اہل علم ہی روشنی ڈال سکتے ہیں کہ پہلے لفظ کون سا اردو زبان میں آیا ۔ لفظ تنور عربی زبان سے آیا ہے جو غالباً نار سے نکلا ہے ۔ دیوان آبرو کے قلمی نسخے میں یہ لفظ موجود ہے ۔ فرہنگ آنند راج میں درج ہے "وہ حوض جس میں کاغذ بنانے کے لیے مسالہ تیار کیا جاتا ہے۔” اسی سے لفظ تنور چڑیا ، تنورچی اور تنور خانہ ہے ۔ کوثر سیوانی کا شعر پڑھیے

    تنور وقت کی حدت سے ڈر گئے ہم بھی
    مگر تپش میں تپے تو نکھر گئے ہم بھی

    معدوم سامی زبان کی بات کی جاے تو اس میں لفظ تن tin کا مطلب کیچڑ، پانی والی مٹی ہوتا ہے اور Nuri/nura کا مطلب آگ ہوتا ہے ۔ اگر یوں بات کی جاے تو مطلب ہوا کہ ایسی مٹی جسے آگ دکھائی جاے ۔تندورکو تیاری کے آخری مراحل میں بھی آگ دکھائی جاتی ہے اور بعد ازاں بھی آگ لازمی جزو ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے بھی لفظ تندور ہی بنتا ہے ۔ ‏لفظ ‎تندور آرمینیا میں جاکر t’onir (Թոնիր) ، آذربائیجان میں təndir، کردش میں tenûr، تاجک میں tanur (танур) ، ترکمانستان میں tamdyr ، ازبک میں tandir اور عبرانی زبان میں tanúr (תנור) کہتے ہیں ۔

    ‏اگر میں کہوں کہ Oven کو ‎تندور سے خاص نسبت ہے تو شاید آپ ماننے سے انکاری ہو جائیں ۔لیکن اگر آپ دیکھیں کہ آج بھی بزرگ عورتیں تندور کو Baking کے لیے استعمال کرتی ہیں تو میرا مدعا باآسانی سمجھ جائیں گے۔ جب یہ تندور اوون والوں کے پاس پہنچا ہوگا تو انھوں نے بدلتے حالات کے ساتھ اس کی شکل بھی بدل دی ہوگی۔ بدلتے حالات کے ساتھ تندور بھی بدلتا بدلتا جدید ترین شکل میں آگیا ہوگا ۔ یہ تندور مختلف شکلوں میں ایشیا کے مختلف علاقوں میں پرانے وقتوں سے ہی مستعمل ہے اور آج بھی دیکھنے کو مل جاتا ہے ۔

    ‏جلتا ہے کہ خورشید کی اک روٹی ہو تیار
    لے شام سے تا صبح تنور شب مہتاب
    ولی اللہ محب