Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مودی سرکار طالبان سے بات کرسکتی ہے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان سے کیوں نہیں؟

    مودی سرکار طالبان سے بات کرسکتی ہے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان سے کیوں نہیں؟

    کشمیری رہنما محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بھارت کومسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان سے بھی مذاکرات کرنے چاہیے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کشمیری رہنما محبوبہ مفتی نے سوال کیا ہے کہ اگر مودی سرکار طالبان سے بات کرسکتی ہے تو پاکستان سے کیوں نہیں؟ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے پاکستان سے بھی بات کرنی چاہیے اور خطے میں امن لانا چاہیے۔

    حریت کانفرنس میں کہا کہ حقیقی نمائندوں کےبغیرمسئلہ کشمیرپربات چیت بےمعنی ہے، اےپی سی عالمی برادری کوگمراہ کرنےکی کوشش ہے-

    جبکہ ترک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی حکام نے افغان طالبان سے دوحہ میں خفیہ ملاقات کی ہے تاکہ افغانستان میں اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی یقین دہانی حاصل کی جاسکے۔

    دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے ملاقات کریں گے اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پی چدم برم نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا اسٹیٹس بحال کرے۔

    کانگریس کا کہنا ہے کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی اقدام کو ختم نہیں کیا جاسکتا، کشمیر کا اسٹیٹس 5 اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن پر لایا جائے۔

    مقبوضہ کشمیر پر آج بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر قیادت آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔ مودی حکومت کی جانب سے اہم کشمیری سیاسی جماعتوں کی قیادت کو دہلی میں آل پارٹی کانفرنس کی دعوت دی گئی ہے۔

  • اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی جان میکافی کی جیل میں مبینہ خودکشی

    اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی جان میکافی کی جیل میں مبینہ خودکشی

    اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی جان میکافی نے اسپین کی جیل میں مبینہ خودکشی کر کے موت کو گلے لگا لیا-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپین کی جیل میں قید جان میکافی اپنے سیل میں مردہ پائے گئے غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسپین کے شہر بارسلونا کی عدالت نے جان میکافی کو امریکا کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

    علاقائی کاتالان حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی ، لیکن جیل کی میڈیکل ٹیم نے آخر کار اس کی موت کی تصدیق کردی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ "عدالتی وفد موت کی وجوہات کی تحقیقات کرنے پہنچا ہے ،” انہوں نے مزید کہا کہ "ہر چیز خودکشی سے موت کی نشاندہی کرتی ہے۔”

    غیر ملکی خبر ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جان میکافی کو امریکا میں ٹیکس چھپانے کے الزام میں اکتوبر 2020ء میں اسپین میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    جان میکافی پر 2014ء سے 2018ء تک ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کرانے کا الزام تھا، ان پر اثاثے چھپانے کا بھی الزام تھا، انہوں نے اپنی آمدنی دوسروں کے نام پر اکاؤنٹس میں جمع کی تھی-

  • پاکستانی امن چاہتے ہیں اور مہمان نواز ہیں غیر ملکی سیاح کا تبصرہ   تحریر: میاں عبدالقدیر

    پاکستانی امن چاہتے ہیں اور مہمان نواز ہیں غیر ملکی سیاح کا تبصرہ تحریر: میاں عبدالقدیر

    تحریر میرے پیارے دوست عبدل حافظ علی کے نام!!!

    آج سے تقریباً 2 ماہ قبل سر ریحان اللہ والا نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور اسلام آباد میں موجود دوستوں کو دعوت دی کہ اگر کوئی شخص اسلا م آباد میں عبدل حافظ کی مہمان نوازی کرنا چاہتا ہے تو رابطہ کریں، جو دنیا کے 42 ممالک گھوم کر پاکستان پہنچے ہیں اور اس وقت BBC News کے ساتھ کام کر رہے ہیں!

    میرے دوست ارجمند بھائی نے ان کی یہ پیشکش قبول کی اور یوں سوشل میڈیا پر عبدل حافظ سے رابطہ کرلیا!

    عبدل حافظ کا تعلق سپین سے ہے اور یہ ایک سیاح(Blogger,Vloger ,Tourist) ہیں جو پچھلے تین ماہ سے پاکستان اسلام آباد میں موجود ہیں.

    شروع کے دنوں میں میں نے عبدل حافظ کو پارلیمنٹ آف پاکستان ،ہری پور ہزارہ امبریلا واٹر فال وغیرہ کا وزٹ کروایا.

    نہایت خوشی کی بات یہ ہے کہ میں کاشف بھائی اور عبدل حافظ پچھلے تین دن اکٹھے تھے جس میں ہم نے لاہور ،اوکاڑہ ،پاکپتن شریف ،بہاولنگر،فیصل آباد ،ہارون آباد اور ساہیوال کا وزٹ کیا.

    حافظ نے پنجابیوں کے ہاتھوں کے بنے ہوئے وہ وہ کھانے کھاے جو شاید انہوں نے کبھی زندگی میں دیکھے بھی نہیں تھے اور ذاتی طور پر عبدل حافظ مہمان نوازی کے معاملے میں پنجاب والوں کے شکر گزار ہیں.

    نہائت خوشی کی بات یہ ہے کہ پچھلے تین دن مسلسل سفر میں عبدل حافظ کے ساتھ بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا اور ساتھ ساتھ اوکاڑہ میں عبدل حافظ نے TEDx Talks میں جو سپیچ دی کمال تھی۔

    عبدل حافظ 5 جولائی کو اسلام آباد سے ترکی اور ترکی سے آگے ایتھوپیا سفر کرکے سپین پہنچے گے۔

    میں نے حافظ سے پوچھا پاکستان آپ کو کیسا لگا اور یہاں کے لوگوں کو آپ نے کیسا پایا؟

    ان کا بہت پیارا جواب تھا کہ سب سے پہلے تو میں آپ سب کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس طرح پنجاب اور خیبر پختون خواہ نے مجھے پیار اور محبت دی اس کے لیے الفاظ نہیں ہیں.

    عبدل حافظ نے بتایا کہ میں انڈیا بھی گھوما ہوں لیکن میں نے پاکستان میں جو وقت گزارا ہے وہ واقعی میں سکون سے بھرپور تھا یہاں کے لوگ سادہ لوح ہیں۔

    عبدل حافظ میں مجھے جو ایک بات خاص لگی وہ یہ تھی ان کی ٹایم مینجمنٹ اور اس معاملے میں پاکستانیوں کے بارے ان کی جو راۓ تھی وہ یہ تھی کہ پاکستانی اگر کہے گے کہ میں 30 منٹ میں آ رہا ہوں تو وہ 30 منٹ نہیں بلکے 3 گھنٹے ہوں گے 😃 یہی عادت انہوں نے میرے اندر دیکھی جس پر میں شرمندہ ہوں.

    اب اس وقت عبدل حافظ گلوبل یوتھ ایسوسی ایشن Global Youth Association کے ایک اہم عہدے پر فائز ہو چکے ہیں جس کااعلان جلد ہم آنے والے دنوں میں کریں گے. عبدل حافظ سے جلد ملاقات یا تو ترکی میں ہوگی یا عبدل حافظ دوبارہ اگلے سال پاکستان کا دورہ کریں گے انشااللہ.

    میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا کہ ایک انٹرنیشل سیاح جن کی میں نے مہمان نوازی کی وہ پہلے ہی 42 ممالک گھوم چکا ہے.

    مجھے امید ہے میری اور میرے دوستوں کی یہ مہمان نوازی یاد رکھی جائے گی اور عبدل حافظ پوری دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ پاکستان کا جو چہرہ دنیا میں سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے ویسا نہیں ہے اور پاکستانی تو بالکل اس کے برعکس ہیں ،پاکستانی تو امن چاہتے ہیں پاکستانی تو مہمان نواز ہیں اور پوری دنیا سے لوگوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں

    خدا حافظ شہزادے ❤️

    تحریر میاں عبدالقدیر

  • ٹک ٹاک صارفین کے لئے کون سا نیا فیچر لارہا ہے؟

    ٹک ٹاک صارفین کے لئے کون سا نیا فیچر لارہا ہے؟

    چینی ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے اپنے صارفین کے لئے نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے-

    باغی ٹی وی :اکثر ٹک ٹاک پر کھانے پکانے کی کوئی ویڈیو دیکھتے ہوئے اس وقت کافی جھنجھلاہٹ ہوتی ہے جب ترکیب کو لکھنا پڑتا ہے یا کریٹیر کے بائیو لنک پر جاکر اسے دیکھنا پڑتا ہے تاہم اب ٹک تاک انتظامیہ نے ایک نئے فیچر کو متعارف کراکے اس مسئلے کو حل کردیا۔

    ٹک ٹاک نے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے کہ کہ ہم اس فیچر کے لئے بہت پُرجوش ہیں جو صارفین کو اپنی ویڈیو میں منی ایپس ایمبیڈ کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

    اس فیچر کو جمپس کا نام دیا گیا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی صارف کھانا پکانے کی ویڈیو بناتا ہے تو وہ ریسیپی ایپ ویشک کے لنک کو اس میں ایمبیڈ کرسکتا ہے، جس سے ناظرین ایک بٹن کلک کرکے اس ترکیب کو ٹک ٹاک کے اندر ہی دیکھ سکیں گے۔

    امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی

    یہ فیچر اس وقت آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے اور مخصوص ٹک ٹاکرز کو ہی دستیاب ہے، مگر ٹک ٹاک کہنا ہے کہ اس فیچر کو مزید افراد کو ٹیسٹنگ کے لیے فراہم کیا جائے گا۔

    جب جمپ فیچر سے لیس کسی ویڈیو کو دیکھا جائے گا تو ناظرین کو اسکرین کے نیچے ایک بٹن نظر آئے گا جو ٹک ٹاک کے اندر ایک نئی اسکرین میں مواد کو اوپن کرے گا اس کی ایک جھلک ٹک ٹاک کی جانب سے ایک ویڈیو میں بھی جاری کی گئی کہ اسے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    ٹک ٹاک کے مطابق اس وقت ویشک، وکی پیڈیا اور ٹیبیلوگ کو اس فیچر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ جلد بزفیڈ اور دیگر کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔

    ویشک کے سربراہ نک ہولزہر نے کہا ، "ہم ٹک ٹاک جمپ میں ایک نمایاں شراکت دار بن کر خوش ہیں ،” رواں سال کے شروع میں ایک محدود بیٹا شروع کرنے کے بعد سے ، ٹِک ٹاک اور ویشک نے ایک طویل عرصے سے دشواری کے خاتمے میں مدد کی ہے جو صارفین کو درپیش ہے کہ کیسے ٹک ٹا ک کے صارفین کو مکمل نسخہ والا مواد دیکھنے اور وقت بچانے کی اجازت دیں۔ اس سے قبل آن لائن شائع شدہ ترکیبیں شامل کرنے کے لئے نہ صرف ٹِک ٹاک کے تخلیق کارویشک استعمال کررہے ہیں بلکہ وہ ٹک ٹاک ک کی انوکھی ترکیبیں بھی شیئر کر رہے ہیں جو کہیں اور موجود نہیں ہیں۔

    خیال رہے کہ ٹک ٹاک پہلی کمپنی نہیں جو اس طرح کے فیچر کو ویڈیوز میں استعمال کررہی ہے، اسنیپ چیٹ میں بھی اس سے ملتا جلتا فیچر منیز کے نام سے موجود ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی اے کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے پشاور ہائیکورٹ کو بتایا تھا کہ شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلکیشن ٹک ٹاک سے 98 لاکھ غیراخلاقی ویڈیوز ہٹادی گئی ہیں۔

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان کی سربراہی میں عدالتی بینچ نے ٹک ٹاک پر اپ لوڈ ہونے والے مواد سے متعلق درخواست پر سماعت کی تھی سماعت کے دوران پی ٹی اے کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور وکیل جہانزیب محسود عدالت میں پیش ہوئے تھے-

    دورانِ سماعت ڈائریکٹر ٹیکنیکل پی ٹی اے نے بتایا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد اب تک ٹک ٹاک سے 98 لاکھ غیر اخلاقی ویڈیوز کو ہٹادیا گیا ہے جبکہ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اب تک غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرنے والے 7 لاکھ 20 ہزار ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو بلاک کردیا گیا ہے اور پاکستان کے لیے ٹک ٹاک کانٹینٹ ماڈریٹر کی تعداد بڑھائی گئی ہے۔

    موبائل آپریٹر ویلیو ایڈڈ خدمات کو فعال کرنے سے پہلے صارفین کی رضامندی حاصل کریں…

    علاوہ ازیں پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود ایڈووکیٹ نے بتایا تھا کہ عدالتی حکم کے بعد ٹک ٹاک نے پہلی مرتبہ پاکستان کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا ہے پی ٹی اے نے غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ ہونے سے پہلے سنسر کرنے کے لیے مختلف ممالک سے رابطے کیے لیکن ٹک ٹاک ویڈیو سنسر کرنے کے لیے کوئی ڈیوائس موجود نہیں ہے۔

    اس پر چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو کام آپ کررہے ہیں اس کو جاری رکھیں، ہم نہیں چاہتے کہ تفریح کے لیے ٹک ٹاک کو بند کیا جائے جو غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ ہوتا ہے اس کے ہمارے معاشرے پر برے اثرات پڑتے ہیں ہمیں صرف اس کی فکر ہے۔

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ جو غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں، اس کو فلٹر کیا جائےبعدازاں عدالت نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 22 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    پی ٹی اے کی ‘ٹوئٹر’ کو اعلی عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مواد ہٹانے کی…

  • بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    بھارت کی شمالی ریاست میزورام میں زیادہ بچوں والے والدین کے لیے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق یوں تو کئی ریاستیں آبادی میں کمی کے لیے خصوصی مہم چلا رہی ہیں تاہم ایک ریاست ایسی بھی ہے جہاں معاملہ اس کے برعکس ہے اور زیادہ بچے پیدا کرنے والے والدین کے لیے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

    شمالی ریاست میزورام کے کھیل کے وزیر رابرٹ روماویا نے اپنے حلقے میں زیادہ بچوں والے والدین کے لیے ایک لاکھ بھارتی روپے، ٹرافی اور تعریفی سند دینے کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے بچے ہونے پر یہ انعام دیا جائے گا۔

    اس موقع پر رابرٹ روماویا نے مزید کہا کہ زیادہ بچوں والے والدین کو انعام سرکاری خزانے سے نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کے بیٹے کی ایک تعمیراتی کنسلٹنسی فرم ینگ میزو ایسوسی ایشن انعامات کے لیے رقم فراہم کرے گی۔

    وزیر کھیل نے اپنے موقف کی تائید میں کہا کہ ریاست میں بانجھ پن میں اضافے اور آبادی میں مسلسل کمی تشویشناک ہے جس سے مختلف قبائل اور برادریوں کی بقا خطے میں پڑ گئی جب کہ کئی شعبوں میں ترقی کے لیے ریاست کی آبادی میں اضافہ ناگزیر ہوگیا۔

    واضح رہے کہ 2011 کی مردم شماری میں میزورام کی آبادی 10 لاکھ 91 ہزار 14 تھی یعنی 21 ہزار 87 اسکوائر کلومیٹر کے رقبے پر محیط اس ریاست میں فی اسکوائر کلومیٹر 52 افراد رہتے ہیں۔ میزورام بھارت میں آروناچل پردیش کے بعد سب سے کم آبادی والی ریاست ہے۔

    ان کا یہ اعلان ایک متعدد عیسائی مذہبی گروہ کے رہنما صیہون چنا کی موت کے ایک ہفتہ بعد سامنے آیا ہے جس کی 39 بیویاں اور 94 بچے تھے جن کے علاوہ کئی پوتے پوتیاں ہیں۔

    ایوارڈ اسکیم آسام حکومت کے سرکاری ملازمتوں کے لئے دو بچوں کی پالیسی پر عمل درآمد کے بالکل برعکس تھی اور کہا ہے کہ سرکاری اسکیموں کے لئے بھی آہستہ آہستہ اسی طرح کے اصولوں کا اطلاق کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق مسٹر روئٹے شمال مشرق میں پہلے رہنما نہیں ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ بچوں والے جوڑوں یا خواتین کو نقد ایوارڈ دینے کا اعلان کیا یا دیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ "بیرونی افراد” اور تارکین وطن کی تعداد میں کمی ہونے کے خدشے کے مطابق وہ کام کر رہے ہیں۔

    میگھالیہ کی کھاسی پہاڑیوں کی خودمختار ضلعی کونسل نے جنوری 2017 میں امیلیا سوہتن کو 17 بچوں کو جنم دینے کے لئے 16،000 ڈالر دیئے تھے جبکہ ڈوروتھیا خارانی اور فیلومینا سوہلنگپیا کو 15 بچوں کو جنم دینے پر 15،000 ڈالر دیئے گئے تھے۔ کونسل نے کہا ، یہ انعام دوسروں کے لئے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب تھا۔

    تقریبا ایک دہائی کے بعد ، منی پور میں غیر سرکاری تنظیموں نے زیادہ تر بچوں والی ماؤں کے لئے مقابلہ جات کا انعقاد شروع کیا۔ ایسے ہی ایک گروپ ، ارمدام کنبہ اپنبا لپ ، نے جولائی 2016 میں 10 اور 15 بچے پیدا کرنے والی 13 خواتین کو انعام سے نوازا تھا-

    جون 2018 میں ، وائی ایم اے کے صدر وانلالرواتا نے کہا کہ میزورم کو "بیبی بوم” کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ میزوز نے "ہزاروں تارکین وطن مزدوروں کو ایک جگہ پر اکٹھا کیا-

    جبکہ این ڈی ٹی وی کے مطابق آسام کے وزیر اعلی ہمانتا بِسوا سرما نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت ریاست کی مالی معاونت سے چلنے والی کچھ اسکیموں کے تحت فائدہ اٹھانے کے لئے دو بچوں کی پالیسی پر آہستہ آہستہ عمل درآمد کرے گی۔

    2019 میں ، ریاستی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ جنوری 2021 سے دو سے زیادہ بچے ہوں گے وہ سرکاری ملازمت کے اہل نہیں ہوں گے آسام میں اس وقت پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے دوسری ضروریات کے ساتھ دو بچوں کا معمول ہے۔

    چند روز قبل ، اتر پردیش لاء کمیشن کے چیئرمین آدتیہ ناتھ متل نے کہا کہ بڑھتی آبادی پر ایک نظر رکھنی چاہئے کیونکہ اس سے ریاست میں مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

    ایک غیر سرکاری تنظیم ، پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا (پی ایف آئی) نے کہا ہے کہ بھارت کو چین کے اس دو بچوں کی پالیسی پر نظر ثانی سے سبق حاصل کرنا چاہئے جس کا یہ دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا زبردستی آبادی کی پالیسیوں سے بہتر کام کرتا ہے۔

    گذشتہ سال دسمبر میں ، مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ہندوستان میں خاندانی بہبود کا پروگرام رضاکارانہ ہے۔

  • امریکا نے ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی سمیت 3 نیوز ویب سائٹس بند کر دیں

    امریکا نے ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی سمیت 3 نیوز ویب سائٹس بند کر دیں

    امریکا نے ایک طرف چین کی ایپلیکیشنز سے پابدنی اٹھالی تو دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی سمیت 3 اداروں کی ویب سائٹس بند کردیں۔

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا کے مطابق ایران کی بڑی نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ بند کیا جانا پہلی بار ہوا ہے ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ معاملے پر محکمہ انصاف سے پوچھا جائے۔

    واضح رہے کہ ویب سائٹس ایران میں قدامت پسند ابراہیم رئیسی کے صدر بننے کے بعد بند کی گئیں۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی ایپلیکیشنز پر لگائی پابندی ہٹا دی گئی ہے امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹک ٹاک اور وئی چیٹ پر پابندی لگانے سے متعلق ٹرمپ کا فیصلہ واپس لے لیا ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک اور وئی چیٹ پر پابندی لگائی تھی-

    دوسری جانب چین کی جانب سے جوبائیڈن کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیا چینی حکام کا کہنا ہے کہ ک ٹاک پر عائد پابندی ختم کرنےکا فیصلہ خوش آئیند اور درست جانب قدم ہے-

    امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی
  • امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی

    امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی

    امریکی صدر جو بائیڈن نے چینی موبائل ایپ ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر عائد پابندی اٹھا لی، خبر ایجنسی

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی ایپلیکیشنز پر لگائی پابندی ہٹا دی گئی ہے-

    خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹک ٹاک اور وئی چیٹ پر پابندی لگانے سے متعلق ٹرمپ کا فیصلہ واپس لے لیا ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک اور وئی چیٹ پر پابندی لگائی تھی-

    دوسری جانب چین کی جانب سے جوبائیڈن کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیا چینی حکام کا کہنا ہے کہ ک ٹاک پر عائد پابندی ختم کرنےکا فیصلہ خوش آئیند اور درست جانب قدم ہے-

    واضح رہے کہ رواں سال کے پہلے مہینے کے شروع میں ہی مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے آٹھ سافٹ ویئر ایپلی کیشنز کے ساتھ ٹرانزیکشن پر پابندی عائد کرنے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ، جس میں علی پے، سمیت 7 اور دیگر ایپس شامل ہیں-

    ڈیجیٹل ادائیگیاں کوویڈ19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیےتھے جس کے تحت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے-ایگزیکٹیو آرڈر کا مقصد چینی حکومت کو امریکی صارفین کے ڈیٹا اکٹھا کرنے سے روکنا ہے۔

    اس دستاویز میں زور دیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے چینی سافٹ ویئر اپلیکشنز سے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جارحانہ اقدامات کیے جائیں اب یہ محکمہ تجارت کی جانب سے تعین کیا جائے گا کہ اس حکم نامے کے تحت 45 دن کے اندر کونسی ٹرانزیکشنز پر پابندی عائد ہوتی ہے۔

    چینی کمپنیوں علی پے، وی چیٹ پے، کیم اسکینر، شیئر ایٹ، ٹینسینٹ کیو کیو، وی میٹ اور ڈبلیو پی ایس آفیس ایپس پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ حکم نامہ ان کی صدارت کی مدت کے ختم ہونے 14 دن پہلے جاری کیا گیاتھا۔

    دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بدھ کو معمول کی بریفننگ کے دوران کہا تھا کہ چین کی جانب سے کمپنیوں کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

    ترجمان نے کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا جارہا ہے اور بلاوجہ غیرملکی کمپنیوں کو دبایا جارہا ہے۔

    وزارت نے مزید کہا تھا کہ اس سے چینی کمپنیوں اور ان کے صارفین کے مفادات کو بھی نقصان پہنچا ہے ، جن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہے ، جنہوں نے وبائی امراض کے دوران ایپلی کیشن کو بغیر رابطے کی ادائیگی کے اختیارات کے طور پر "وسیع پیمانے پر استعمال” کیا تھا۔

    تاہم اس وقت جیو بائیڈن کی ٹرانزیکشن ٹیم اور SHAREit نے اس پر کوئی تبصرہ دہنے سے انکار کیا تھا-

    امریکا میں شئیرایٹ اور علی پے سمیت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد
  • کیا ایران کے صدر کے پاس اختیارات ہوتے؟   "تحریر :فصیح حیدر”

    کیا ایران کے صدر کے پاس اختیارات ہوتے؟ "تحریر :فصیح حیدر”

    1979کے انقلاب کے بعد ایران میں 12 بار صدارتی انتخابات ہو چکے ہیں اور 18 جون 2021 کو ایران میں تیرہویں صدر کے لیے الیکشن ہوئے جس میں ایران کے چیف جسٹس جناب ابراہیم رئیسی نے واضح اکثریت حاصل کرلی۔ ایران کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ، ایران کا صدر کوئی چیف جسٹس ہو۔ ایران میں کئی سالوں سے الیکشن ہو رہے ہیں اور مختلف لوگ صدر کی حیثیت سے منتخب بھی ہو تے چلے آرہے ہیں لیکن اصل مدعے بحث یہ نہیں ہے کہ کون ایران کا صدر بنتا ہے، بنیادی بات تو ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنا ہے۔ اگر ہم ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ آیا صدر کے پاس واقع ہی عملی و حقیقی طور پر اختیارات ہوتے ہیں یا ایران کو کوئی دوسری شخصیت چلاتی ہے۔
    تو دوستو! یہاں پر ایک بات واضح کر لیں گے ایران کا صدر چاہے کوئی بھی بن جائے واحد، حتمی اور آخری اختیار ایران کے سپریم لیڈر جناب آیت اللہ خامنائی کے پاس ہوتا ہے۔ یہ ایران کے ہیڈ آف اسٹیٹ کہلاتے ہیں، ایران کی اسٹیبلشمنٹ جوڈیشری اور ٹیوی یہ سب اہم ادارہ ان کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایران کی خارجہ پالیسی خود ایران کے سپریم لیڈر طے کرتے ہیں۔ملک کی معاشی اور معاشرتی پالیسیاں ان کے دستخط کے بغیر لاگو نہیں کی جاسکتی۔ آپ اس کو آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اگر صدر کے پاس اپنی کابینہ چننے کا اختیار ہے تو سپریم لیڈر کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی کابینہ کے ممبر کو عہدے سے فارغ کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ ملک کا صدر بھی اگر ملکی مفادات کے خلاف جا کر کوئی کام کرتا ہے تو وہ چاہے تو اس کو بھی ہٹا سکتے ہیں۔ تو جو کوئی بھی ایران کا صدر ہوں یا اس صدارتی دوڑ میں شامل ہوں ، اس کے ذہن میں ایک چیز بالکل واضح ہوتی ہے ،کہ اقتدار میں آکر آپ کسی بھی قسم کی کوئی پارٹی بندی ،کوئی مونوپولی(monopoly) ، کسی قسم کے اختیارات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں،صدر کے پاس چاہے جتنے مرضی اختیارات هو وہ پھر بھی سپریم لیڈر سے نیچے ہی رہے گا۔
    مختصر یہ کہ صدر صرف ایران میں پارلیمانی(parliamentary ) و سیکریٹیریل(secretarial) ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔ ایران کا ہر صدر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے اور وہ مسلسل دو بار الیکشن میں کھڑا ہونے کا اہل رہتا ہے لیکن تیسری مرتبہ اسے اپنی جگہ کسی اور کو بطور صدر کھڑا کرنا پڑتا ہے۔ اس بار منتخب ہونے والے صدر ابراہیم رئیسی کا تعلق ہارڈ لائنر گروپ سے ہے۔ بنیادی طور پر ایران میں تین قسم کی سیاسی سوچ پائی جاتی ہے۔
    1:ہارڈ لائنر (hardliner )
    2:ماڈریٹ(moderate ) 3ریفورم سٹ (reformist)
    ہارٹ لائنر وہ ہوتے ہیں جو ولایت فقہ پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی فقہ کے مطابق چلنااور قانون سازی کرنا ان کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ماڈریٹ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ اعتدال پسند ہوتے ہیں، حسن روحانی جو کہ ابراہیم رئیسی سے پہلے صدر تھے ماڈریٹ گروپ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی سوچ ملکی معیشت اور ترقی کے ساتھ ساتھ ولایت فقہ یعنی ہارڈ لائنر جیسی ہوتی ہے، ریفارمیسٹ وہ ہوتے ہیں جو ہارٹ لائنر کے بالکل مخالف سوچتے ہیں، ان کی پہلی ترجیح ملکی معیشت اور ترقی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہوتی ہے، ابراہیم رئیسی جیسا کہ ہم پہلے اوپر بتا چکے ہیں کہ ان کا تعلق ہارڈ لائنر گروپ سے ہے۔ انہوں نے اپنا کیرئیر بطور پروینشل پراسیکیوٹرجنرل(provincial prosecutor general) شروع کیا تھا، پھر ان کے پاس بہت اہم اداروں کے عہدے بھی رہے، جن میں ہیڈ آف جوڈیشری ڈپٹی چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل ہیں۔

    پھر انہوں نے جوڈیشری کو چھوڑ دیا اور القدس رضوی فاؤنڈیشن کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات دے کر سپریم لیڈر نے انہیں 2019 میں چیف جسٹس آف ایران لگا دیا۔ بطور چیف جسٹس کام کرتے ہوئے انہوں نے کرپشن کے خلاف اعلان جنگ کیے رکھا۔ ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات کی وجہ سے یہ بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں کھٹکنا شروع ہوں گے، انہوں نے 2017 کے الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا، لیکن حسن روحانی کے مقابلے میں یہ دوسرے زیادہ اکثریت لینے والے امیدوار تھے۔ 2021 کے الیکشن میں واضح نظر آرہا تھا کہ ایران کے خاص ادارے اور سپریم لیڈر خود یہ چاہتے ہیں کہ ایران کا اگلا صدر ابراہیم ریسی ہو، ابراہیم رئیسی کے مقابلے میں گارڈین کونسل نے ان امیدواروں کا انتخاب کیا جن کا کوئی بہت زیادہ اثر و رسوخ نہیں تھااور بڑے بڑے نام جیسا کہ تین بار اسپیکر رہنے والے علی لارے جانی اور دو بار صدر رہنے والے 1979کہ انقلاب کے بعد ایران میں 12 بار صدارتی انتخابات ہو چکے ہیں اور 18 جون 2021 کو ایران میں تیرہویں صدر کے لیے الیکشن ہوئے جس میں ایران کے چیف جسٹس جناب ابراہیم رئیسی نے واضح اکثریت حاصل کرلی۔ ایران کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ، ایران کا صدر کوئی چیف جسٹس ہو۔ ایران میں کئی سالوں سے الیکشن ہو رہے ہیں اور مختلف لوگ صدر کی حیثیت سے منتخب بھی ہو تے چلے آرہے ہیں لیکن اصل مدعے بحث یہ نہیں ہے کہ کون ایران کا صدر بنتا ہے، بنیادی بات تو ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنا ہے۔ اگر ہم ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ آیا صدر کے پاس واقع ہی عملی و حقیقی طور پر اختیارات ہوتے ہیں یا ایران کو کوئی دوسری شخصیت چلاتی ہے۔
    تو دوستو! یہاں پر ایک بات واضح کر لیں گے ایران کا صدر چاہے کوئی بھی بن جائے واحد، حتمی اور آخری اختیار ایران کے سپریم لیڈر جناب آیت اللہ خامنائی کے پاس ہوتا ہے۔ یہ ایران کے ہیڈ آف اسٹیٹ کہلاتے ہیں، ایران کی اسٹیبلشمنٹ جوڈیشری اور ٹیوی یہ سب اہم ادارہ ان کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایران کی خارجہ پالیسی خود ایران کے سپریم لیڈر طے کرتے ہیں۔ملک کی معاشی اور معاشرتی پالیسیاں ان کے دستخط کے بغیر لاگو نہیں کی جاسکتی۔ آپ اس کو آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اگر صدر کے پاس اپنی کابینہ چننے کا اختیار ہے تو سپریم لیڈر کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی کابینہ کے ممبر کو عہدے سے فارغ کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ ملک کا صدر بھی اگر ملکی مفادات کے خلاف جا کر کوئی کام کرتا ہے تو وہ چاہے تو اس کو بھی ہٹا سکتے ہیں۔ تو جو کوئی بھی ایران کا صدر ہوں یا اس صدارتی دوڑ میں شامل ہوں ، اس کے ذہن میں ایک چیز بالکل واضح ہوتی ہے ،کہ اقتدار میں آکر آپ کسی بھی قسم کی کوئی پارٹی بندی ،کوئی مونوپولی(monopoly) ، کسی قسم کے اختیارات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں،صدر کے پاس چاہے جتنے مرضی اختیارات هو وہ پھر بھی سپریم لیڈر سے نیچے ہی رہے گا۔

    مختصر یہ کہ صدر صرف ایران میں پارلیمانی(parliamentary ) و سیکریٹیریل(secretarial) ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔ ایران کا ہر صدر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے اور وہ مسلسل دو بار الیکشن میں کھڑا ہونے کا اہل رہتا ہے لیکن تیسری مرتبہ اسے اپنی جگہ کسی اور کو بطور صدر کھڑا کرنا پڑتا ہے۔ اس بار منتخب ہونے والے صدر ابراہیم رئیسی کا تعلق ہارڈ لائنر گروپ سے ہے۔ بنیادی طور پر ایران میں تین قسم کی سیاسی سوچ پائی جاتی ہے۔
    1:ہارڈ لائنر (hardliner )
    2:ماڈریٹ(moderate ) 3ریفورم سٹ (reformist)
    ہارڈ لائنر وہ ہوتے ہیں جو ولایت فقہ پر یقین رکھتے ہیں اور ہر صورت میں شریعت خداوندی نافذ کرنا ان کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ماڈریٹ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اعتدال پسند ہوتے ہیں، حسن روحانی جو کہ ابراہیم رئیسی سے پہلے صدر تھے ماڈریٹ گروپ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی سوچ ملکی معیشت اور ترقی کے ساتھ ساتھ ولایت فقہ یعنی ہارڈ لائنر جیسی ہوتی ہے، ریفارمیسٹ وہ ہوتے ہیں جو ہارٹ لائنر کے بالکل مخالف سوچتے ہیں، ان کی پہلی ترجیح ملکی معیشت اور ترقی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہوتی ہے، ابراہیم رئیسی جیسا کہ ہم پہلے اوپر بتا چکے ہیں کہ ان کا تعلق ہارٹ لائنر گروپ سے ہے۔ انہوں نے اپنا کیرئیر بطور پروینشل پراسیکیوٹرجنرل(provincial prosecutor general) شروع کیا تھا، پھر ان کے پاس بہت اہم اداروں کے عہدے بھی رہے، جن میں ہیڈ آف جوڈیشری ڈپٹی چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل ہیں۔
    پھر انہوں نے جوڈیشری کو چھوڑ دیا اور القدس رضوی فاؤنڈیشن کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات دے کر سپریم لیڈر نے انہیں 2019 میں چیف جسٹس آف ایران لگا دیا۔ بطور چیف جسٹس کام کرتے ہوئے انہوں نے کرپشن کے خلاف اعلان جنگ کیے رکھا۔ ان کی کرپشن کے خلاف اقدامات کی وجہ سے یہ بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں کھٹکنا شروع ہوں گے، انہوں نے 2017 کے الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا، لیکن حسن روحانی کے مقابلے میں یہ دوسرے زیادہ اکثریت لینے والے امیدوار تھے۔ 2021 کے الیکشن میں واضح نظر آرہا تھا کہ ایران کے خاص ادارے اور سپریم لیڈر خود یہ چاہتے ہیں کہ ایران کا اگلا صدر ابراہیم ریسی ہو، ابراہیم رئیسی کے مقابلے میں گارڈین کونسل نے ان امیدواروں کا انتخاب کیا جن کا کوئی بہت زیادہ اثر و رسوخ نہیں تھااور بڑے بڑے نام جیسا کہ تین بار اسپیکر رہنے والے علی لارے جان اور دو بار صدر رہنے والے محموداحمدی نجات کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ خود سپریم لیڈر کا جھکاؤ بھی ابراہیم رئیسی کی طرف تھا اس بات کا اشارہ ان کے ادارے کی جانب سے کیے گئے ٹیلیگرام میسج سے ملتا ہے جس میں انھوں نے لکھا تھا:” pursue justice and fight against corruption ” اور یہی خاصیت ابراہیم رئیسی کی تھی، ان کی وجہ شہرت بھی یہی تھی کہ وہ انصاف پسند اور کرپشن کے خلاف تھے، لہذا یہ بات واضح تھی کے ابراہیم رئیسی ہی صدر منتخب ہوں گے۔
    بہرحال ایران کا صدر کوئی بھی بنے ایرانیوں کو اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پچھلی ایک دہائی سے ایران کے معاشی حالات بہت برے ہو چکے ہیں لوگوں کے پاس کام نہیں ہیں امریکہ کی سنکشنز (sanction) کی وجہ سے آئے دن مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور جو کمی بیشی رہ گئی تھی وہ ایک سال پہلے پھیلے کرونا وائرس نے پوری کر دی۔
    ایران کے شہریوں سے الیکشن کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تو اکثر کا کہنا تھا کہ ہمیں ان الیکشن کا کیا فائدہ جب کہ ہمارے گھروں میں کھانے پینے کے لئے اور کمانے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ نجات کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ خود سپریم لیڈر کا جھکاؤ بھی ابراہیم رئیسی کی طرف تھا اس بات کا اشارہ ان کے ادارے کی جانب سے کیے گئے ٹیلیگرام میسج سے ملتا ہے جس میں انھوں نے لکھا تھا:” pursue justice and fight against corruption ” اور یہی خاصیت ابراہیم رئیسی کی تھی، ان کی وجہ شہرت بھی یہی تھی کہ وہ انصاف پسند اور کرپشن کے خلاف تھے، لہذا یہ بات واضح تھی کے ابراہیم رئیسی ہی صدر منتخب ہوں گے۔
    بہرال ایران کا صدر کوئی بھی بنے ایرانیوں کو اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پچھلی ایک دہائی سے ایران کے معاشی حالات بہت برے ہو چکے ہیں لوگوں کے پاس کام نہیں ہیں امریکہ کی سنکشنز (sanction) کی وجہ سے آئے دن مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور جو کمی بیشی رہ گئی تھی وہ ایک سال پہلے پھیلے کرونا وائرس نے پوری کر دی۔
    ایران کے شہریوں سے الیکشن کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تو اکثر کا کہنا تھا کہ ہمیں ان الیکشن کا کیا فائدہ جب کہ ہمارے گھروں میں کھانے پینے کے لئے اور کمانے کے لئے کچھ بھی نہیں۔

  • ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    وطن سے الفت و محبت اور اس سے متعلق ہر چیزسے حد درجہ قلبی تعلق بلا قید مذہب وملت ہرانسان بلکہ ہر ذی روح کے اندر قدرت کی طرف سے کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔اس کے لیے آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے ہی آس پاس نظر دوڑائیں توآپ کو بے شمار مخلوق آپ کو زمین وآسمان میں ایسی مل جائیں گی جو صبح اپنے رزق کی تلاش میں نکلتی ہیں اور شام ہوتے ہی اپنے محبوب گھر کی طرف واپس لوٹ جاتی ہیں

    انسان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جس سر زمین پریہ اپنی آنکھیں کھولتا ہے،پرورش پاتا ہے،عنفوان شباب کو پہنچتا ہے،شادی بیاہ کرتا ہے،ملازمت وتجارت کرتاہے اور آخر میں اسی کی سرزمین کو اپنی آرام گاہ کے لیے پسند کرتا ہے ،اس کی یادیں اور اس سے متعلق ہر چیز کی محبت اس قداس کے رگ وریشہ میں سرایت کر جاتی ہیں کہ وہ وطن کی آن بان اور شان کے لیے جان تک کی بازی لگانے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا

    کسی بھی ملک میں رہنے والے لوگ اس ملک، ریاست سے محبت کرتے ہیں
    اس ملک کی مٹی کی خوشبو سے پیار کرتے ہیں
    ملک کی مٹی کو دھرتی ماں کہتے ہیں
    ملک کوئی بھی ہو اسلامی ہو یا غیر اسلامی ملک سے محبت وہاں کے شہری کرتے ہیں
    بھلے ملک کی حکمرانی ان کی مرضی کے لوگوں کی ہو یا مخالفین کی ان کی ملک سے محبت کا اپنا انداز ہوتا ہے
    وہ ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں

    ملک کے اندر کے معاملات جیسے بھی ہوں لیکن ملک سے باہر سے اگر کوئی بات کرے تو اس کو سب مل کر جواب دیتے ہیں
    وطن سے محبت ایک فطری امر ہے ، بہت سی احادیث سے وطن کی محبت پر راہنمائی ملتی ہے ، ہجرت کرتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:مَا أَطْیَبَکِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّکِ إِلَیَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِی أَخْرَجُوْنِی مِنْکِ مَا سَکَنْتُ غَیْرَکِ۔تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے ! اگر میری قوم تجھ سے نکلنے پر مجھے مجبور نہ کرتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آبائی وطن مکہ مکرمہ سے محبت کا ذکر فرمایا ہے

    اسلام بھی ہمیں اپنے ملک، وطن، سرزمین سے محبت کا درس دیتا ہے
    ملک خداداد پاکستان میں کچھ سیاسی جماعتوں کے لوگ، کچھ مفاد پرست نام نہاد عوامی نمائندے ملک دشمنی میں اس قدر گر چکے ہیں جو نا تو شرعی حدود کا خیال کرتے ہیں اور نا ہی ملکی قانون کا وہ ہر موقع ملنے پر ملکی اداروں اور پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ بنتے نظر آتے ہیں

    ملک کو اندرونی و بیرونی دشمنوں کے ساتھ مل کر کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں
    شرعی اعتبار سے بھی وطن سے محبت کرنا سنت انبیاء ہے

    اللہ تعالیٰ قرآن پاک میںاپنی جان کی محبت کے ساتھ اپنے وطن سے محبت وتعلق کو ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔

              ’’ اور اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرلو اور اپنے گھروں سے نکل جاؤتو وہ ہرگز نہ کرتے سوائے چند افراد کے‘‘۔(سورہ نساء)۔

              اور دوسری جگہ پر وطن کی محبت کو دین و مذہب سے جوڑ کر فرماتا ہے: اللہ نے تم کو ان کے ساتھ نیکی اور انصاف سے منع نہیں کیا،جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ ہی تم کو تمہارے گھروں سے نکالا  ‘‘
    (سورہ ممتحنہ)

              جب نبی رحمتﷺ نے مدینہ منورہ کو وطن بنا لیا تو دعا میں فرما یا کرتے تھے:اے اللہ ہمارے اندر مدینہ کی اتنی محبت پیدا کر دے،جتنی تونے مکہ کی محبت دی ہے،مدینہ کی آب وہوا درست فرمادے اور ہمارے لیے اس شہر کو برکت والا بنادے۔مدینہ جو یثرب ہے اس سے بخار کو دوسری طرف منتقل فرمادے‘‘
    (بخاری)

    سیاسی اختلافات کو بھول کر ایک پیج پے آئیں اور ملک و قوم کی سلامتی و خوشحالی کے لئے ایک ہو کر ملک کے لیے کام کریں

    Talat K Salam
    @alwaystalat

  • سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت کے آخری طاقتور بادشاہ محمد شاہ کے انتقال کے بعد سلجوق سلطنت آہستہ آہستہ اپنے زوال کی جانب جانے لگی۔ ملک شاہ جب فوت ہوا تو اس نے اپنے پیچھے چار بیٹے چھوڑے۔ برکیاق، محمد ، سنجر اور محمود۔ محمود جو کہ بعد میں ناصر الدین محمود کے نام سے پہچانا گیا بچہ تھا۔ اسکے ہاتھ پر بحث کی گئی۔ کیونکہ اس کی ماں ترکان خاتون کو ملک شاہ کے دور حکومت میں بڑی قدر ومنزلت حاصل تھی۔ محمود تقریبا دو سال 485ھ بمطابق 1092 ء تا 487ھ بمطابق 1094ء تک حکمران رہا۔ کیونکہ انکا اور انکی والدہ کا وصال ہو گیا۔ ان کے بعد رکن الدین ابو المظفر برکیاق بن ملک شاہ آیا۔ اور 498ھ بمطابق 1105ء تک حکمراں رہا۔ پھر رکن الدین ملک شاہ ثانی کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ اور اسی سال اقتدار غیاث الدین ابو شجاع محمد کے ہاتھ لگا اور وہ 511ھ بمطابق 1118ء تک حکمراں رہا۔
    عظیم دولت سلجوقیہ کا آخری حکمراں غیاث الدین ابو شجاع محمد تھا۔ جس کا پایہ تخت مارواء النہر کا علاقہ تھا خراسان، ایران اور عراق کے علاقوں پر بھی اس کی حکمرانی تھی۔ بالآخر 511ھ بمطابق 1118ء کو شاہنات خوارزم کے ہاتھوں اسکا خاتمہ ہوا۔
    ماوراءالنہر سے سلجوقیوں کی سلطنت کے خاتمے کے ساتھ ہی سلاجقہ افتراق و انتشار کا شکار ہو گئے۔ اور ان کی وحدت پارہ پارہ ہو گئی۔ انکی طاقت اس قدر کمزور ہو گئی کہ سلجوقی متعدد گروہوں اور باہم متصادم لشکروں میں تبدیل ہو گئے جو تخت و تاج حاصل کرنے کے لئے باہم دست و گریباں رہتے تھے۔ عظیم سلجوقی سلطنت چھوٹی چھوٹی امارات اور دول میں تبدیل ہو گئی۔ اور یہ امارات اور سلطنتیں کسی ایک سلطان کے اقتدار کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوئی جیسا کہ طغرل بیگ سلطان الپ ارسلان ، ملک شاہ اور اسکے اسلاف کے دور میں متحد تھی۔ ہر ایک علاقہ خود مختار تھا۔ ہر ایک کا اپنا فرمانروا تھا اور ان میں کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں تھا۔
    اس افتراق و انتشار کے نتیجے میں مارواءالنہر میں ایک اور طاقت ابھر کر سامنے آئی۔ یہ خوارزمی سلطنت تھی جو ایک عرصہ تک منگولی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی۔ خوارزمی سلطنت کے ساتھ سلجوقی امارات، عراق اور شام کے شمال میں قائم ہوئیں۔ جو اتابک امارات کے نام سے پہچانی جاتی تھی۔ اسی عرصہ میں سلاجقہ روم کی سلطنت سامنے آئی۔ یہ وہ سلطنت تھی جس نے صلیبی حملوں کو روکا اور ایشیائے کوچک کا شمال مغربی کونا دشمن کے دست وبرد سے محفوظ رکھا۔ لیکن یہ سلطنت منگولوں کے تابڑ توڑ حملوں کا مقابلہ نہ کر سکی اور بالآخر ان غارت گروں نے ان علاقوں میں تباہی مچا دی۔
    سلجوقی سلطنت کے سقوط میں چند عوامل کار فرما تھے اور یہی عوامل عباسی خلافت کے سقوط کا پیش خیمہ ثابت ہوئے
    ان عوامل میں چند ایک یہ ہیں

    1) سلجوقی گھر کے اندر بھائیوں، چچاؤں، بیٹوں اور پوتوں کے درمیان تخت و تاج کے لئے چپقلش۔
    2) بغص امراء، وزراء اور اتابکوں کی طرف سے سلجوقی حکمرانوں کے درمیان فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانا۔
    3) حکومتی امور میں خواتین کا عمل دخل۔
    4) عباسی خلفاء کا سلجوقی فوجی قیادت کے سامنے کمزور اور بے بس ہونا اور ہر طاقتور سلجوق تاجور کی حکومت کو تسلیم کر کے خطبہ میں اس کے نام کو شریک کرنے کی اجازت دے دینا اور اس سلسلے کی طرف احتیاط نہ کرنا۔
    5) سلجوقی سلطنت کا شام ، مصر اور عراق کو عباسی خلافت کے جھنڈے کے نیچے متحد کرنے میں ناکام ہونا۔
    6) سلجوقیوں کا مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہنا۔ اسی چیز نے انکی قوت کا خاتمہ کیا اور عراق میں انکی سلطنت ختم ہو گئی۔
    7) سلجوقی سلطنت کے خلاف باطینیوں کی مذموم سازشیں اور سلجوقی سلاطین ان کے قائدین، زعماء کو دھوکے سے قتل کرنے کی انکی مسلسل کوششیں اور خونی حملے۔
    8) سمندر پار سے آنے والے صلیبی جنگجو اور سلجوقی سلطنت کا یورپ سے آنے والے وحشی لشکروں کے ساتھ ٹکراؤ ۔
    اسکے علاؤہ کئی دوسرے اسباب بھی تھے۔
    لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کہ اپنے دور حکومت میں انہوں نے عظیم کارنامے انجام دیے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ۔
    1) سلجوقی سلطنت کی بدولت عباسی خلافت کا زوال دو صدیاں مؤخر ہو گیا۔ اگر سلجوقی نہ ہوتے تو شیعہ رافضیوں کے ہاتھوں بہت پہلے عباسی خلافت کا وجود مٹ جاتا۔
    مصریوں کی سلطنت عبیدی فاطمی سلجوقیوں کی طاقت کہ وجہ سے مشرق کے عرب مسلمانوں کو باطینی عبیدی رافضی سلطنت کے جھنڈے تلے جمع نہ کر سکی اور انکے مذموم مقاصد پورے نہ ہوئے۔
    3) دولت سلجوقی کی کوشیش اسلامی مشرق کے اتحاد کی تمہید اور پیش خیمہ تھی اور یہ اتحاد سنی سلطنت عباسی کے جھنڈے کے نیچے سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں مکمل ہوا۔
    4) سلجوقیوں نے اپنے زیر نگیں خطے میں علمی اور انتظامی ترقی کے حوالے سے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اور اس علاقے میں امن و امان قائم کیا۔
    5) بیزنطینی شہنشاہیت کی طرف سے ہونے والے صلیبی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کافی حد تک منگولی خطرے سے نمٹنے کی کوشش کی۔
    6) ان علاقوں میں سنی مذہب کی ترویج کی اور سنی علماء کی قدرومنزلت کو بڑھایا۔