Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اچانک سے سستے دانشور،عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ تحریر:رانا عزیز

    اچانک سے سستے دانشور،عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ تحریر:رانا عزیز

    وزیراعظم عمران خان نے حالیہ ایک انٹرویو دیا جس نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا اور اس انٹرویو کو توڑ مروڑ کرایسے پیش کیا گیا کہ عمران خان کے کچھ کلپس کو کاٹ دیا جس میں اینکر نے خواتین اور جنسی زیادتی کے حوالے سے سوالات پوچھے اور عمران خان نے پھر ہندتوا اور مغرب کے کلچر کو بوچھاڑ کر رکھ دیا
    وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پر انہیں اپوزیشن سمیت کئی خواتین نے بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے یہ بات کہہ کر ہماری دل آزاری کی ہے، انہوں نے جنسی ہوس کو خوتاین کے کپڑوں سے منسوب کر دیا ہے جبکہ ملک میں کم سن بچیوں کے ساتھ بھی جنسی استحصال کے واقعات ہو رہے ہیں، ایسے میں کیا بچیاں بھی مختصر کپڑے پہنتی ہیں؟ تاہم اب وزیراعظم عمران خان کے اس انٹرویو کا وہ حصہ سامنے آ گیا ہے جو غیر ملکی ٹی وی نے نشر ہی نہیں کیا۔
    سیاست ڈاٹ پی کے نامی ویب سائٹ نے وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کے سیاق و سباق پر مبنی غیر ایڈٹ شدہ ایک ویڈیو کلپ شئیر کیا جس میں اینکر نے وزیراعظم عمران خان سے سوال کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ اگر آپ عریانیت کو فروغ دیں گے تو اس سے اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہو گا، آپ نے جو گفتگو کی اس پر بڑا رد عمل آیا، اس کا جواب کیسے دیں گے ؟ جس پر وزیراعظم عمران خان نے جواباً کہا کہ یہ بالکل غلط ہے۔

    میں جو کہنا چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ یہ جُرم بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جب میں وزیراعظم بنا تو میں نے پولیس سربراہوں کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کون سا جُرم سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے ؟انہوں نے مجھے بتایا کہ جنسی تشدد سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جنسی تشدد میں صرف ریپ شامل نہیں ہے۔ اس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی بھی شامل ہے۔
    بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا سُن کر مجھے بے حد دُکھ ہوا۔ اس میں تکلیف دہ امر یہ تھا کہ صرف ایک فیصد ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔جب کسی بچے کے ساتھ ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے یعنی کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ان کی فیملی شرم کی وجہ سے ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں کرتی۔ لہٰذا میں جو کہہ رہا تھا وہ یہ تھا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف ایک فیصد مجرموں تک پہنچ پاتے ہیں۔

    ایسی صورتحال میں ایسے جرائم کا سامنا پورے معاشرے نے کرنا ہوتا ہے۔ سوسائٹی ایسے جرائم کا مقابلہ آگاہی سے کر سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے کبھی حجاب کا نہیں کہا، میں نے پردے کے تصور کی بات کی تھی، میں نے مزید کہا کہ نائٹ کلبز جیسی چیزیں ہمارے ہاں نہیں ہیں،مغربی معاشرے کی طرح ہمارے ہاں ایسے مقامات نہیں ہیں جہاں لڑکے لڑکیاں آپس میں میل جول کر سکیں،اسی لیے ہمارا معاشرہ اور طرز زندگی مغرب سے بالکل مختلف ہے۔
    ایسے معاشرے میں اگر آپ عریانیت کو فروغ دیں گےاور پھر نوجوان لڑکوں کے پاس کوئی ایسی جگہ بھی نہ ہو جہاں جا کر وہ اپنے جذبات کا اظہار کر سکیں تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ اس سے معاشرے میں جرائم میں اضافہ ہو گا جو ہمارے کرائم چارٹ سے بھی واضح ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنسی تشدد کے واقعات کو روکنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ قانون نافذ کر کے ان کو روکا جائے۔
    لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر واقعات، زیادہ تر سے میری مراد ہے کہ پولیس کے مطابق جنسی تشدد کے 99 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے اسی لیے پورے معاشرے کے یعنی عوام ، اسکولز ، اُساتذہ ، میڈیا وغیرہ سب کو اس میں کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ اسی طرح ہم عوام میں آگاہی پیدا کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے میں نے پردے کے تصور کی بات کی تھی۔

    اور مجھے یاد ہے کہ میں نے کیا کہا تھا۔ میں نے پردے کی تصور کی بات کی تھی،پردے کا مطلب ہے کہ ہوس سے بچا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پردہ صرف منہ ڈھانپنا نہیں بلکہ معاشرے میں عریانیت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ اینکر نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ پاکستان میں آپ کے خیال میں عریانیت کی کون کون سے قسمیں ہیں جو ختم کرنے کی ضرورت ہے؟ جس پر وزیراعظم عمران خان نے جواب دیا کہ اس کا ایک اہم ذریعہ تو موبائل فونز ہیں، آج کل موبائل فونز پر جو مواد دستیاب ہے، نو عمر بچوں یا لڑکیوں کو انسانی تاریخ میں اس قسم کے مواد تک کبھی رسائی حاصل نہیں تھی
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آ خر یہ اچانک سے سستے دانشور، نام نہاد صحافی ، عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ اس کی وجہ کیا ہے ؟ پاکستان کو کیسے اب مزید کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گا ؟ یہ وہ سوال ہیں جس کا جواب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے
    عمران خان سے امریکا نے اڈے مانگے افغانستان میں حملے کرنے کیلے اور اس خطے کی نگرانی کرنے کیلیے عمران خان نے صاف صاف انکار کردیا اور کہا ( absolutely not) تو اس کے بعد اس بیان سے دنیا کی توجہ اٹھانے کے لئے اور پاکستان میں پوری قوم جو عمران خان کی نظریاتی مخالف بھی تو وہ بھی کپتان کے ساتھ کھڑے ہوگیئے، تو امریکا نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہویے عمران خان کے کلپس کو مسخ کر کے اور کلپس کاٹ کر چلا دیا جس سے دنیا میں نئی بحث چڑھ گئی، اسی کو ہماری قوم کو سوچنا ہوگا کہ دشمن ہم پر مسلط ہونے کی کوشش کر رہا ہے. عمران خان نے کہا ہم پہلے ہی بھاری قیمت ادا کرچکے ہیں، اگر امریکا 20 سال بعد بھی تاریخ کی سب سے طاقتور فوجی مشین کے ساتھ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکا تو یہ امریکا ہمارے ملک کے اڈوں سے کیا کرسکے گا؟
    عمران خان نے امریکا کے خلاف بیان دے کر جان خطرے میں ڈال دی ہے. ۔ یا تو ان کی زندگی کو خطرہ ہے یا ان کی حکومت کو. وگ کہہ رہے ہیں کہ امریکا نے تو لیاقت علی خان کو بھی قتل کرا دیا تھا کیونکہ انہوں نے ایران میں مداخلت سے انکار کیا تھا اور اب عمران خان کے خلاف بھی پراپیگنڈہ شروع ہو گیا،این جی اوز نے بھی کام شروع کر دیا ہے،بڑے پیمانے پر فنڈ ملتے ہیں اور حکومت کو اس کی بھی تحقیقات کرنی چاہئیے۔

  • تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

    تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

    بنکاک: تھائی لینڈ میں کھانےکی تلاش میں بھوکا ہاتھی ایک گھر کی دیوار توڑ کر باورچی خانے میں گھس گیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار دی گارجیئن کے مطابق یہ واقعی مغربی تھائی لینڈ کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ شور شرابے اور دیوار ٹوٹنے کی آواز سن کے رٹچر وان نامی ایک رہائشی کی آنکھ کھل گئی، جب وہ اصل ماجرا دیکھنے کے لیے اپنے باورچی خانے میں گئے تو سامنے موجود منظر انہیں حیران کرنے کے لیے کافی تھا کیوںکہ ایک ہاتھی ان کے باورچی خانے کی دیوار توڑ کر بن بلائے مہمان کی طرح اپنی سونڈ سے درازوں میں کچھ تلا ش کر رہا تھا۔

    رٹچر کا کہنا ہے کہ بون چوائے نامی یہ ہاتھی شاید کچھ کھانے کے لیے تلاش کر رہا تھا کیوں کہ وہ باورچی خانے کی درازوں سے چیزیں باہر نکال کر پھینک رہا تھا، اس نے برتن اور دیگر سامان کو بھی درازوں سے نکال کر فرش پر پھینک دیا تھا۔ اور آخر میں نے اس پلاسٹک کی تھیلیوں کو چبانا شروع کردیا۔ رٹچر نے اس سارے واقعے کی ویڈیو بنا لی۔

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    اس واقعے کے بارے میں کائینگ کراچین نیشنل پارک کےمنتظم اتھیپون تھائی مونکول کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نینشل پارک میں رہنے والے ہاتھی بون چوائے نے کھانے کی تلاش میں قریبی دیہات کا رخ کیا ہو، اس سے قبل بھی وہ رٹچر کے گاؤں میں گھس چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق بون چوائے کا رٹچر کے باورچی خانے کا دورہ انہیں کافی مہنگا پڑا ہے اور تقریبا 50 ہزار بھات کا نقصان ہوا ہے۔

    تھائی لینڈ میں ہاتھیوں پر تحقیق کرنے والے محقق ڈاکٹر جوشوا پلاٹنک کا کہنا ہے کہ نیشنل پارک میں رہنے والے ہاتھیوں کے لیے قریبی دیہاتوں میں گنے اور بھٹے کی فصلوں پر حملہ بہت عام بات ہے اور یہ زیادہ تر رات میں کھیتوں پر حملہ کرتے ہیں،کسانوں اور ہاتھیوں دونوں کے لئے یہ واقعی ایک مشکل مسئلہ ہے-

    پلاٹنک کا کہنا ہے بہت سے دیہاتی ہاتھیوں کے لیے عقیدت اور ہمدردی رکھنے کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہتے وہ عام طور پر ہاتھیوں پر الزام نہیں لگاتے ہیں لیکن وہ اس مسلئے کا دیرپا حل چاہتے ہیں۔

    مقامی کمیونٹی کے رضاکار اور نیشنل پارک کے افسر مل کر ہاتھیوں کی نگرانی کرتے ہیں ، عموماً انہیں جنگلوں میں واپس بھیجنے کے لیے تیز شور اور رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ چین میں بھی حال ہی میں ہاتھیوں کا ایک جھنڈ سامنے آیا ہے جو کہ گزشتہ 15 ماہ سے کسی نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہے اور اپنے راستے میں آنے والی گنے اور بھٹے کی فصلوں کو تباہ کرچکا ہے، جب کہ حکام اس جھنڈ کے سفر کو ٹریک کرنے کے لیے ڈرون اور مقامی لوگوں کی مدد سے نگرانی کر رہے ہیں تاہم اس جھنڈ کے مستقل سفر کرنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔

    چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    بہت سے لوگوں نے سوال کیا کہ ہاتھیوں نے اب تک کیوں سفر کیا ہے پلاٹنک نے کہا ، "ایشیاء میں یہ واقعات بڑھ رہے ہیں ، اور یہ ہاتھیوں کے رہائش گاہ میں دستیاب وسائل میں کمی اور انسانی پریشانی میں اضافے کی وجہ سے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جسمانی رکاوٹوں یا ہاتھیوں کو منتقل کرنے جیسے طریقوں سے صرف ایک قلیل مدتی اثر پڑے گا۔

    اگر آپ ہاتھیوں کو ان کے قدرتی رہائش گاہ میں خوراک ، پانی اور دیگر وسائل کی ضرورت کو پورا نہیں کرتے ہیں (یا اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پاس وہ کہیں اور موجود ہیں) ، تو وہ ان وسائل کی تلاش میں رکاوٹوں اور دیہاتوں یا فصلوں کے میدانوں تک رسائی حاصل کریں گے۔

  • چین کیجانب سے کریک ڈاؤن میں توسیع کیوجہ سے بٹ کوائن پھر گراوٹ کا شکار

    چین کیجانب سے کریک ڈاؤن میں توسیع کیوجہ سے بٹ کوائن پھر گراوٹ کا شکار

    چین کی جانب سے بٹ کوائن کے حوالے سے کریک ڈاؤن میں توسیع کی وجہ سے اس کی قیمت میں بھی پھر کمی آگئی۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ ہفتے ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کی ٹوئٹس کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں اضافہ سامنے آیا تھا لیکن ایک بار پھر اس کی قیمت میں کمی آگئی ہے برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں پیر کے روز بٹ کوائن کی قیمت میں 9 فیصد کمی دیکھی گئی۔

    بٹ کوائن کی قیمت پیر کے دن 12 روز کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی اور یہ اب 32،288 ڈالرز میں فروخت ہورہا ہے اگر بٹ کوائن کی قیمت میں یہ کمی برقرار رہتی ہے تو یہ رواں ماہ میں کرپٹو کرنسی کی قدر میں سب سے زیادہ کمی ہوگی۔

    18 جون کو چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں حکام نے کریپٹوکرنسی مائننگ کے پروجیکٹس کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

    گزشتہ ماہ چین کی کابینہ، ریاستی کونسل نے مالی خطرات پر قابو پانے کے اقدامات کے تحت بٹ کوائن کی مائننگ اور تجارت پر پابندی عائد کرنے کا عزم کیا تھا۔

    لندن میں مقیم کرپٹو فرم بی سی بی گروپ کے بین سیبلی نے کہا کہ چینی مائنرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کوائن کا ذخیرہ کم کررہے ہیں اور ہمیں نچلی سطح پر لے کرجارہے ہیں۔

    بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر آگئی

    یاد رہے کہ گزشتہ 6 روز میں بٹ کوائن کی قیمت پانچویں بار کم ہوئی ہے اور اپریل میں 65 ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد اس کی قیمت نصف ہوگئی ہے۔

    اس کے باوجود رواں برس بٹ کوائن کی قیمت میں مجموعی طور پر 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے دوسری جانب بٹ کوائن کی حریف دوسری بڑی کرپٹوکرنسی ایتھر کی قدر میں 12 فیصد کمی آئی ہے۔

    خیال رہے کہ چین میں بٹ کوائن کی پیداوار، بٹ کوائن کی عالمی پیداوار کے نصف حصے سے زیادہ ہے یونیورسٹی آف کیمبرج کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بٹ کوائن مائننگ کے لحاظ سے سیچوان چین کا دوسرا بڑا صوبہ ہے۔

    برسات کے موسم میں کچھ مائنرز اس کی پیداوار کو سیچوان منتقل کرتے ہیں تاکہ پن بجلی کے وسائل سے مستفید ہوسکیں وہ کمپنیاں جو بٹ کوائن کی مائننگ کرتی ہیں عام طور پر کرپٹوکرنسی کی بڑی فہرست کی حامل ہوتی ہیں اور ان کا کوئی بھی قدم قیمتوں میں بڑی کمی کا باعث بنتا ہے-

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا
  • گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    شمشال جھیل ، گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل، اس خوبصورت جھیل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں دل جیسی منفرد شکل والی جھیلیں بہت کم تعداد میں ہیں لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ ان میں سب سے خوبصورت قرار دی جانے والی جھیل ’’شمشال‘‘ پاکستان میں واقع ہے۔

    گلگت بلتستان کی وسیع و عریض شمشال وادی میں پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ خوبصورت جھیل سیاحوں کےلیے ایک خوبصورت تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔

    وکی پیڈیا کے مطابق، وادی شمشال تک پہنچنے کا راستہ بہت مشکل ہوا کرتا تھا لیکن یہاں کے رہنے والوں نے کئی سال محنت کرکے ایک سڑک تعمیر کرلی جس کے بعد یہاں پہنچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

    وادی شمشال ایک انتہائی وسیع و عریض علاقہ ہے جس کی سرحدیں چین اور بلتستان سے ملتی ہیں۔ وادی شمشال میں پامیر کا علاقہ بھی شامل ہے۔ وادی شمشال ایک دشوار گزار وادی میں واقع ہے اس کی وجہ سے باقی دنیاسے سے کٹاہواتھا۔ تاہم، تقریباً دس سال پہلے اس خوبصورت وادی اور جفاکش کوہ پیماؤں کی سرزمین تک آخر کار سڑک بن گئی۔ سڑک کی تعمیر میں یہاں کے مقامی ہنرمندوں اور جفاکشوں نے انتہائی اہم قربانیاں دیں۔

    شمشال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے لیکن دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی اور انفرادیت اجاگر کرنے کےلیے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک غیر ملکی سیاحوں اور فوٹوگرافروں نے ہی اس منفرد جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے سے قید کیا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

    واضح رہے کہ شمشال کی ایک انتہائی اہم وجہ شہرت یہاں پر جنم لینے والی کم عمر کوہ پیما ثمینہ بیگ ہے، جس نے دنیا کی بلند ترین چوٹی سرکرکے یہ کارنامہ سر انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے علاوہ، وادی شمشال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما رجب شاہ اور مہربان شاہ نے پاکستان کی بلند ترین چوٹی پر چڑھنے کا اعزاز حاصل کیاہے۔ کوہ پیمائی سے منسلک نامور اور تجربہ کار افراد کی ایک بہت بڑی تعداد شمشال سے تعلق رکھتی ہے۔

  • شعیب اختر پاکستان موٹر وے پولیس کے سفیر مقرر

    شعیب اختر پاکستان موٹر وے پولیس کے سفیر مقرر

    سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کو پاکستان موٹروے پولیس کا سفیر مقرر کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہورسابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کو پاکستان موٹروے پولیس کا سفیر مقرر کر دیا گیا شعیب اختر نے سماجی رابطے کی وہب سائٹ ٹوئٹر پر یہ خوزخبری مداحوں کو سنائی-

    اپنے ٹوئٹ میں سابق فاسٹ باؤلر کا کہنا ہے کہ موٹروے پولیس کا بطور سفیر مقرر ہونے پر فخر ہے-

    شعیب اختر نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی آگاہی سے متعلق اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا-

    انہوں نے کہا کہ تمام شہریوں کو ٹریفک قوانین پر عمل کر کے مثال بننا چاہیے-

    شعیب اختر کی اس پوسٹ پر مداحوں کی جانب سے خوشی اور نیک تمناؤںکا اظہار کیا جا رہا ہے اور مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے-

  • افغانستان میں ترکی کا کھیل بے نقاب۔ ایسے نہیں چلے گا، تحریر:راؤ اویس مہتاب

    افغانستان میں ترکی کا کھیل بے نقاب۔ ایسے نہیں چلے گا، تحریر:راؤ اویس مہتاب

    ترکی کابل ائیر پورٹ کا کنٹرول حاصل کر کے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں سے کیا مراعات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ترکی کیوں سمجھتا ہے کہ وہ طالبان کی مخالفت کے باوجود ایسا کر لے گا۔ اس کے پاس امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان میں کس قسم کی طاقت بچ جائے گی اور طالبان اس وقت افغانستان میں کیا اور کس طرح پیش رفت کر رہے ہیں۔ اور امریکہ اس وقت افغانستان میں کس حد تک بے بس ہو چکا ہے۔
    افغانستان میں بدلتے ھالات نے اس وقت امریکہ سے لے کر چین تک اور بھارت سے لے کر روس تک سب کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔
    امریکہ معاہدے کے باوجود پریشان ہے کہ اگر طالبان نے ان کے جانے کے فورا بعد کابل پر قبضہ کر لیا تو دنیا بھر میں ان کی بڑی سبکی ہو گی۔ جب روس نے افغانستان پر قبضہ ختم کیا تو انہوں نے کابل کی لوکل حکومت کو تین سال تک اقتدار قائم رکھنے کے لیئے سپورٹ کیا کیونکہ یہ روس کی عزت کا معاملہ تھا کہ اس کی حمایت یافتہ حکومت کچھ عرصہ بھی نہ چل سکی۔ لیکن جیسے ہی روس نے اس حکومت کی سپورٹ کم کی اس کا تختہ پلٹ دیا گیا۔لیکن آج امریکہ کے لیئے اس سے بھی زیادہ سنگین صورتحال ہے۔ امریکہ کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر کابل پر طالبان نے فوری قبضہ کر لیا تو شائد یورپ اور امریکہ کو اپنے سفارت خانے چلانا بھی مشکل ہو جائے اور اس کے ہاتھ سے سب کچھ نکل جائے۔

    امریکہ اپنے سفارت خانے کی حفاظت کے لیئے چھ سو فوجی چھوڑ رہا ہے جس کو ایک جنرل لیڈ کرے گا جو امریکی سفیر کے ماتحت ہو گا۔لیکن اگر کابل ائیر پورٹ پر قبضہ ہو جاتا ہے تو امریکی نہ افغانستان سے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی آ سکتے ہیں ایسی صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیئے صورٹھال بہت خراب ہو جائے گی۔ ترکی پر امریکہ کی پابندیوں کا بہت پریشر ہے اور ترکی اپنے تعلقات امریکہ سے ٹھیک کرنا چاہتا ہے۔ اس لیئے ترکی کی طرف سے ایک پروپوزل آیا ہے کہ اس کی افواج کابل ائیر پورٹ کو کنٹرول سنبھالیں گی تاکہ افغانستان کی Air space میں امریکہ کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ترکی دوہزر تین سے افغانستان میں موجود ہے لیکن اس نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا بلکہ اس کے بدلے وہاں Administration Education Health اور پولیس ٹریننگ میں کام کیا اسی لیئے طالبان نے بھی ترکی کی افواج پر حملہ نہیں کیا۔

    لیکن اب صورتحال اس لیئے گھمبیر ہو گئی ہے کہ طالبان کی مرضی کے بغیر ترکی کابل ائیر پورٹ کا کنٹرول سنبھالنا چاہتا ہے۔ تاکہ افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ، یورپ اور امریکہ کو مدد فراہم کرے ان سے دیگر مراعات حاصل کی جا سکیں۔
    ایک تو امریکہ نے ترکی کے خلاف ہیومن رائٹ کے معاملے میں میدان گرم کیا ہو اہے۔دوسرا روس سے لیئے گئے S400 پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ تیسرا Mediterranean sea میں Greace سے تنازعات کی صورت میں یورپ سے تعلقات خراب ہیں۔ ان سب معاملات کو حل کرنے کے لیئے ترکی یورپ اور امریکہ کی افغانستان میں مدد کرنا چاہتا ہے۔اگر یورپ اور امریکہ کے افغانستان میں Diplomatic presence ترکی کی محتاج ہو جائے تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ ترکی کو کیا فائدہ ہو گا۔ جبکہ افغانستان میں نیٹو کے زیر اثر گزشتہ بیس سال مین افیم کی گاشت میں بیس گنا اضافہ ہو چکا ہے اور دنیا میں افیم کی تجارت کا 80% افغانستان سے جا رہا ہے۔ امریکہ کے اس منڈی میں مفادات کا تحفظ افغانستان کی Air space پر کنٹرول حاصل کیئے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترکی یہ سب کیسے کرے گا۔ ترکی نے گزشتہ کئی سالوں میں اٖفغانستان میں مسجدیں تعمیر کی ہیں اور وہاں سکول بنائے ہیں اور وہاں ترکی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے۔ ترکی نے افغانستان میں اپنا Soft image بنانے میں کافی انویسٹ منٹ کی ہے۔ ساتھ میں ترکی کا قطر میں فوجی اڈا ہے اور قطر کو سعودی عرب کے خلاف ترکی نے کافی مدد فراہم کی ہے۔ قطر میں طالبان کا آفس ہی نہیں بلکہ قطر نے ایک Pro Qatar Taliban group بھی تشکیل دیا ہے، جس کی سربراہی Gen rasheed dostum کر رہا ہے اور یہ Uzbak origion کے افغان طالبان ہیں۔ ترکی قطر کے اثرو رسوخ کو بھی اس مقصد کے لیئے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جبکہ طالبان کو خدشہ ہے کہ اگر ائیر پورٹ ترکی کے کنٹرول میں ہو گا تو بغیر کسی زمینی سفر کے امریکہ اور اس کے اتحادی۔۔ فوج اور دیگر ایکسپرٹ کی صورت میں Infiltrate کر سکتے ہیں۔

    اس وقت افغانستان کے حوالے سے جھوٹ اور افواوں کا بازار بھی گرم ہیں اور کئی مفاد پرست ٹولے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پراپیگنڈا کر رہے ہیں اور اس میں سب سے برا ٹارگٹ سچ اور حقیقت ہے جس کو برے طریقے سے مسخ کیا جا رہا ہے۔ وہ لوگ جو افغان میں امریکی قبضہ کے بڑے Banificiary ہیں کبھی عورت کی آزادی پر شور مچا رہے ہیں تو کبھی اقلیتوں کے حقوق کا تو کبھی امریکی سلامتی کا۔۔ لیکن پس پردہ ان کے اپنے مفادات ہیں۔ لیکن افغانستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف وہاں کے زمینی حقائق دیکھ کر وہاں کے لوگ ہی حل کر سکتے ہیں۔ پہلے پاکستان پر پریشر ڈالا گیا کہ وہ طالبان کو امریکی شرائط پر امن معاہدہ کرنے پر راضی کر یں تو پھر اشرف غنی جیدے دیگر مفاد پرست ٹولے نے پاکستان کے خلاف ہی ہرزہ سرائی کرنا شروع کر دی۔ اشرف غنی نے یہاں تک کہہ دیا کہ امریکہ کے جانے کے بعد امریکہ کا کردار بہت محدود ہو جائے گا لیکن افغانستان مین امن اور جنگ پاکستان کے ہاتھ میں ہو گا۔ آپ افغانستان کی تاریخ پر نظر ڈال کر دیکھ لیں یہاں کبھی بھی ائینی طور پر ایک سینٹرل حکومت صرف آئین کی بنیاد پر نہیں قائم ہو سکتی اس سے پہلے اگر سو سال سے زیادہ Ahmadzai/Muhammadzai monarchy نے حکومت قائم کی تو وہ بھی confederation of tribesتھی جس میں پشتونوں نے انہیں طاقت فراہم کی۔ طالبان ایک بہت بڑی فورس ہے اور اس کے بغیر نہ تو افغانستان میں مفاہمت ہو سکتی ہے اور نہ ہی امن۔۔

    افغانستان میں عورتوں کے حقوق پر بہت شور مچایا جاتا ہے۔۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ افغان سوسائٹی میں ایک عورت کو بحثیت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی نہ صرف عزت دی جاتی ہے بلکے ان کی حفاظت بھی کی جاتی ہے اور ہر کوئی اپنا ایک مخصوص مقام رکھتا ہے۔
    امریکہ بظاہر اپنی فوجین افغانستان سے نکال رہا ہے لیکن Academi جس کا پرانا نام بلیک واٹر ہو ۔۔ افغانستان میں مسلحہ افراد کی بھرتی کر رہا ہے۔ امریکہ، فرانس اور جرمنی احمد شاہ مسعود کے بیٹے کی ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں تاکہ اس کے نیٹ ورک سے
    intelligence-gathering کا کام لیا جائے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ کابل ہی حفاظت اشرف غنی کے اقتدار کو بچانے کے لیئے کرنا چاہتا ہے اور اشرف غنی جو پاکستان کا دشمن ہے اسے بچانے کے لیئے امریکہ کو اڈے دینا کون سی عقل مندی ہو گی۔ اس وقت طالبان کو چیلن کرنے والون میں امریکہ کے حمایت یافتہ کچھ طاقتور قبائل، ISIS, RAW, NDS ہیں جن کا حشر بھی وہی ہو گا جو نیٹو افواج کا ہوا اور افغانستان میں اس وقت اگر کوئی امن قائم کر سکتا ہے یا متحد کر سکتا ہے تو وہ صرف طالبان ہیں۔ اور ایسے وقت میں طالبان کو دھوکہ دینے کا مطلب ہے کہ پاکستان میں دوبارہ سے تحریک طالبان جیسے گروپوں کی پرورش جس کا صرف اور صرف فائدہ بھارت کو ہی ہو گا۔. جبکہ طالبان نے کہا ہے کہ جب آقا ہار گئے تو غلام کیا جنگ لڑیں گے۔ یعنی امریکہ کو ہرا دیا تو اس کی حمایت یافتہ افغان فورسس کیا لڑیں کی ۔ آئے روز خبریں آ رہی ہیں کہ افغان فورسسز پوری پوری فوجی چھاونیاں بمہ اسلحہ چھوڑ کے بھاگ رہے ہیں ہیں اور یہ سب چیزیں طالبان کے کنٹرول میں آرہی ہیں۔غیر ملکی افواج کے انخلاء اور امریکی فضائی تعاون سے جلد ہی محروم ہو جانے کے نتیجے میں افغان حکومتی فورسز کی ناکامی کا خدشہ بڑھ گیا ہے جبکہ طالبان کمانڈر ملک پر جلد ہی مکمل کنٹرول کر لینے اور اپنے نظریے کے مطابق اسلامی ریاست دوبارہ قائم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔

    امریکی افواج کے مئی میں حتمی انخلا کے آغاز کے بعد سے اب تک انہوں نے تقریباً تیس اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔ غزنی صوبے کے ایک طالبان کمانڈر ملّا مصباح کا کہنا ہے کہ مغرور امریکیوں کا خیال تھا کہ وہ دھرتی سے طالبان کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ لیکن طالبان نے امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو شکست دے دی جب امریکی یہاں سے چلے جائیں گے تو وہ (حکومتی فورسز) پانچ دن بھی ٹک نہیں پائیں گی۔ جب آقاوں کو شکست ہو چکی ہے تو غلام اسلامی امارت کے خلاف جنگ نہیں کر سکتے۔ طالبان نے حالیہ ہفتوں کے دور ان غزنی کے دو اہم اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ اہم صوبہ طالبان کے سابقہ مضبوط گڑھ قندھار کو ایک شاہراہ کے ذریعہ دارالحکومت کابل سے ملاتا ہے طالبان کی فوجی کامیابیوں نے ان خدشات کو تقویت فراہم کی ہے کہ امریکی اور ان کے دیگر اتحادیوں کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد وہ ملک کے تمام شہروں پر بھر پور حملے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ افغانستان کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے تھامس نکلسن نے افغانستان میں کشیدگی میں اضافے سے متنبہ کرتے ہوئے دوحہ مذاکرات میں جلد از جلد پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ آنے والے چند ہفتوں اور مہینوں میں ہم بد قسمتی سے کشیدگی میں اضافہ دیکھ سکتے ہیں اس سے نہ صرف میدان میں بلکہ مذاکرات میں بھی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو گا۔

  • منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان

    منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان

    منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان
    پاکستان کی سیاسی تاریخ کا خلاصہ یہ ہے کہ سیاست اور جمہوریت وہ ”منّی“ ہے ۔ جو بار بار بدنام ہوتی ہے۔ پھر چاہے الیکشن ہوں ۔ اس کے بعد رزلٹ ہوں ۔ بجٹ ہو ۔ یا پھر کسی بل کو پاس کرنے کا موقع ۔ ہمیشہ اسمبلی سیشن شروع ہوتے ایک نئی طرح کی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ مزے کی بات ہے کہ اسمبلی چاہے صوبائی ہو یا وفاقی ۔ گالم گلوچ ، مارکٹائی trade mark بن گیا ہے ۔ یعنی ممبران اسمبلی کا زبان اور کردار ایک ہی رہتا ہے ۔ اب تو اتنی بار ایوان مچھلی منڈی بن گیا کہ مچھلی منڈی والوں کو شرم آنا شروع ہوگئی ہے ۔ مگر ہمارے ممبران اسمبلی کا رویہ نہیں بدلا ۔

    ۔ میرے نزدیک مسلسل ان واقعات سے جمہوریت، پارلیمان، پارلیمانی نظام اور سیاست دان مکمل طور پر ڈس کریڈٹ ہو چکے ہیں ۔ کیونکہ حالیہ دنوں میں قومی اور بلوچستان اسمبلی میں جو کچھ ہوا ہے اُس پر پاکستانی جمہوریت برسوں شرمسار رہے گی۔ ۔ ساتھ ہی جو کچھ ہوا، اُس کا سہرا کسی ایک جماعت کے سر نہیں باندھا جا سکتا۔ سرکاری اور اپوزیشن بنچ برابر کے شریک سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں تو جو ہوا سو ہوا مگر بلوچستان اسمبلی میں تو یوں لگا جیسے کسی ایکشن فلم کی شوٹنگ چل رہی ہو ۔ وہاں اپوزیشن کا اعلان تھا کہ سرکاری ارکان کو ایوان میں جانے دیں گے نہ بجٹ پیش کرنے دیں گے اس لیے دروازوں کو تالے لگا دیئے ۔ وزیراعلیٰ جام کمال کا راستہ بھی روکا گیا،لیکن پولیس نے بکتر بند گاڑی کے استعمال سے دروازہ توڑ کر راستہ نکالا۔ جوتے بھی چلے ۔ ممبر اسمبلی زخمی بھی ہوئے ۔ یہ اپنی طرز کا انوکھا احتجاج تھا۔اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہماری پارلیمانی روایات کتنے خطرے میں ہیں۔ مگر اپوزیشن کی منہ زوری یقینا یک طرفہ نہیں ہے، حکومت کی منہ زوری اس کا سبب بنتی ہے۔ اگر مخالفوں کو دیوار سے لگانے کا رویہ اپنایا جائے گا، تو پھر ہنگامے ہوں گے،آگ بھڑکے گی اور اس آگ میں بہت کچھ بھسم بھی ہو گا۔

    ۔ پہلے بھی کئی بارعرض کر چکا ہوں کہ قوم اب ان مہنگی ترین اسمبلیوں اور عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے عوامی نمائندوں کا بوجھ اُٹھاتے اٹھاتے ہلکان ہوچکے ہیں۔ اب تو بے زار بھی دیکھائی دیتے ہیں۔ اب یہ عالم ہے کہ عوام اس طرزِ حکمرانی کے برے اثراتِ سہتے سہتے حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ لگتا ہے نہ حالات بدلیں گے نہ عوام کی حالتِ زار بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ یہ رونا تو اب عوام کا مقدر بن گیا ہے ۔ کیونکہ ہر نیا دور اور آنے والا حکمران کچھ کرے نہ کرے عوام کی ذلت اور دھوکوں میں ضرور اضافہ کر جاتا ہے۔ جس معاشرے میں عوام زندہ درگور اور اچھی خبر کو ہی ترس جائیں وہاں کیسی گورننس اور کہاں کا میرٹ؟

    ۔ پی ٹی آئی پر بھی تعجب ہے آدھی مدت گزارنے کے باوجود بھی طرزِ حکمرانی کے لیے کبھی ریاست مدینہ کا ماڈل پیش کیا جاتا ہے
    تو کبھی چین کا ، کبھی ملائیشیا کا ، تو کبھی یورپ کا جبکہ عوام کہتے ہیں کہ ہمیں نہ کوئی بیرونی ماڈل چاہیے اور نہ ہی کوئی نیا پاکستان ہمیں تو بس پرانا پاکستان لوٹا دیں۔ ہم پرانی ذلتوں اور مشکلات پر ہی گزارہ کر لیں گے۔ ہمیں نئے پاکستان کی وہ ذلتِ نہیں چاہیے جس کا کوئی اختتام ہی نہ ہو۔ ساتھ ہی اپوزیشن کو این آر او ملے گا یا نہیں ملے گا اس کا فیصلہ خدا جانے کس نے کرنا ہے؟ مگر جس نے کرنا ہے وقت آنے پر یہ پتہ چل جائے گا۔

    ۔ مگر اس تمام شور شرابے میں عوام کے لیے آٹا ، چینی ، گھی ، دالیں اور پیڑول مہنگا ہوچکا ہے ۔ اصل واردات یہ ہے جو عوام کے ساتھ یہ حکومت ڈال چکی ہے ۔ پتہ نہیں اب وہ فلاسفر کہاں ہیں جو اس بجٹ کے عوامی ہونے اور ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے دار تھے ۔ اب ان کو گزشتہ ایک ہفتے میں آٹا کی قیمت 27 روپے بڑھی ہوئی دیکھائی نہیں دیتی۔ اور تو اور پرندوں کو جو ۔۔۔ باجرہ ۔۔۔ بطور دانہ ڈالا جاتا ہے۔ رمضان سے پہلے یہ 65روپے کلو تھا آج 95 روپے ہے۔ مجھے نہیں معلوم اس برس قربانی کے جانوروں کی قیمت کیا ہو گی۔ مجھے بتائیے ان حالات میں کیسے یقین کیا جائے کہ ملک کی معیشت سنبھل گئی ہے۔ اور یہ دو تین چیزوں کی مثال میں نے ایسے ہی سمجھنے کے لئے دے دی ہے ۔ وگرنہ زندگی کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہیں ہے بلکہ اس نے بڑے بڑے عزت داروں کی چینخیں نکوادی ہیں۔

    ۔ حالت یہ ہوچکی ہے کہ لوگ بچے سکول سے اٹھا رہے ہیں ۔ چند دن پہلے جو تفصیل آئی اس کے مطابق گندم ، چینی ، دودھ ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے ۔ آپ ذرا بازار جا ئیے ہر ضرورت کی چیز کو آگ لگی ہوئی ہے۔ ضرورت کی کوئی چیز ایسی نہیں جو مہنگی نہ ہوئی ہو۔ دراصل معیشت تباہ نہیں ہو رہی ۔ ملک تباہ ہو رہا ہے۔ مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔ مہنگائی صرف غربت کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی ایک پوری نسل کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیسی قوم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ کیا پناہ گاہوں میں پلنے والے ملک چلا سکیں گے یا ملک چلانا صرف ایک طبقے کا کام رہے گا۔ آج بھی کسی سے پوچھ لیجیے۔ کسی کو حکومت کی کسی بات کا یقین نہیں۔ نہ آنے والے انتخابات سے غرض ہے ۔ صرف پوری قوم عمران خان سے یہ فریاد کرتی دیکھائی دیتی ہے کہ آپ اپوزیشن کو این آر او دیں نہ دیں لیکن ہمیں ضرور این آر او دے دیں۔ ہماری زندگیاں آسان کر دیں۔

    ۔ انتہائی معذرت کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنوں کو اپنے سیاسی بیانیے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ یہ بیانیہ پاکستان کے جمہوری اور سیاسی عمل کو نئے خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے ابتدا سے ہی سیاست دانوں کو کرپٹ ، چور اور ڈاکو قرار دینے والا بیانیہ اختیار کیا۔ جس کا فائدہ کم الٹا نقصان زیادہ ہوا ہے ۔ کیونکہ اب تک نہ تو نیب نہ ہی حکومت کسی چور ، ڈاکو یا کرپٹ کو سزا دلوا سکی ہے یا کم ازکم ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس حاصل کر پائی ہے ۔ تحریک انصاف کے اس سیاسی بیانیہ کے لئےمیں کوئی اور الفاظ استعمال نہیں کروں گا بلکہ صرف اتنا کہوں گا کہ یہ بیانیہ جمہوری اقدار اور رویوں کے منافی ہے۔ اس بیانیے نے سیاست اور سیاست دانوں کو گالی بنا دیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سیاست اور سیاست دانوں پر عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ نہ صرف سارے سیاست دان ایک جیسے ہوتے ہیں بلکہ ساری سیاسی جماعتیں بھی ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔

    ۔ اس وقت پاکستان سیاسی قیادت کے بحران میں ہے اور قومی اسمبلی کے حالیہ واقعات سے اس بحران کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت حکمران جماعت تحریک انصاف مبینہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈلز کی وجہ سے بحیثیت سیاسی جماعت اندرونی لڑائیوں کا شکار اور کمزور ہو چکی ہے ۔اس کی حکومت کو اپنے اندرونی مسائل اور ناراض دھڑوں سے ہر وقت خطرہ ہے۔ دوسری جانب حکومت آئندہ عام انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام یکطرفہ طور پر نافذ کرنے پر بضد ہے لیکن اسے الیکشن کمیشن بھی مسترد کر چکا ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان کی اپنی پسند نا پسند قوم پر مسلط کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے اور ظاہر ہے عدلیہ میں بھی یہ معاملات چیلنج ہونگے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کوئی باہمی ڈائیلاگ نہ ہونے کے ساتھ ساتھ آئینی اداروں کو بھی معاف نہیں کیا جا رہا۔ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ یا دیگر ادارے انہیں حکومتی حلقے رگڑا لگانے سے باز نہیں آتے۔ یوں لگتا ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

    ۔ بدقسمتی سے پاکستان کی صورتحال کوبعض تجزیہ نگار 1991ء میں سابق سوویت یونین کی صورتحال سے پر تشبیہ دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر سابق سوویت یونین امریکہ کے مقابلے میں فوج، میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ لیس ہونے کے باوجود اپنے اندرونی معاملات کی وجہ سے شکست سے دوچار ہو سکتا ہے تو پاکستان کو کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں۔ اس لئے اسے اپنے اندرونی حالات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ عمران خان بظاہر ایک کامیاب جمہوری لیڈرکے طور پر اپنا نام پیدا کرتے ہیں یا پھر سوویت یونین کے آخری صدورگورباچوف ثابت ہوتے ہیں۔

  • بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    اللہ رب العزت کی بنائی ہوئی یہ کائنات بے حد حسین ہے۔ یہ زمین اپنے دیدہ زیب رنگوں، دلنشیں نظاروں، بل کھاتے دریاوں، دلفریب وادیوں، فلک بوس پہاڑوں اور اس میں بسنے والے مختلف انواع و اقسام کےجانداروں کی موجودگی کے باعث باقی کائنات کی نسبت زیادہ حسین، خوبصورت اور دلکش معلوم ہوتی ہے۔ مگر جس طرح ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی، جس طرح ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا بالکل اسی طرح تمام خوبصورت نظر آنے والی چیزیں حقیقت میں بھی خوبصورت نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم اس کائنات کی اشرف المخلوقات سمجھی جانے والی تخلیق کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ تمام انسان خوبصورت نہیں ہوتے بلکہ کچھ انسان انتہائی بدصورت اور بہیودہ بھی ہوتے ہیں۔
    میں یہ بات اس لیے نہیں کہہ رہا کہ وہ ظاہری طور پر سیاہ رنگ یا برے خدوخال والے ہوتے ہیں بلکہ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان کے دل تاریک ہوتے ہیں، ان کا لہو بظاہر تو سرخ نظر آتا ہے مگر وہ سیاہ ہوتا ہے۔ ان کے اعمال بد ہوتے ہیں، ان کے افعال برے ہوتے ہیں۔ جی ہاں! جناب وہ لوگ اپنے کردار کی سیاہی اور بدصورتی کی وجہ سے بدصورت کہلاتے ہیں۔ مگر ایسے بدصورت لوگوں کو پہچاننا انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ ان کی بدصورتی ان کے اعمال، ان کی سوچ اور ان کے کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جو ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ یہ بدصورتی کی انتہائی خطرناک قسم ہے کیوں کہ یہ بدصورتی معاشرے کے حسین چہرے پر بدنما داغ یا ناسور بن کر ابھرتی ہے۔
    کردار کے بدصورت لوگوں کی ویسے تو کئی اقسام ہیں مگر آج کی تحریر بیمار ذہنیت، جنون ،معاشرتی پسماندگی اور جہالت سے بھرپور ایسے بدصورت لوگوں کے گرد گھومتی ہے جن کا نشانہ ہمارے بچے، ہماری قوم کا مستقبل یعنی ہماری آنے والی نسل ہے۔ یہ تحریر پاکستان میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی جانب توجہ دلانے کی ایک کاوش ہے۔ کیونکہ آج ہمارے مدرسوں، سکولوں اور کالجوں میں جانے والے بچے اور بچیاں انتہائی غیرمحفوظ حالات سے دوچار ہیں۔ والدین نہیں جانتے کہ مسجد کے مولوی، سکول کے استاد یا کالج یونیورسٹی کے پروفیسر انکے بچوں کے لیے روحانی باپ ثابت ہوں گے یا ایک خونخوار درندہ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ 6 ماہ میں 1500 سے زائد بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ڈان نیوز کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے 10 سے زائد واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو رہے ہیں مگر حقیقت میں پیش آنیوالے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی بچے اور ان کے والدین اپنی عزت کو تماشہ بننے سے بچانے کی غرض سے یا مجرم کے سیاسی و سماجی اثرورسوخ کی وجہ سے مصلحت کے تحت رو دھو کر چپ ہو جاتے ہیں کہ اپنا مقدمہ کل قیامت کو خدا لم یزل کی بارگاہ میں پیش کریں گے جہاں ہر تفریق سے ماورا سب کو انصاف ملتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مثال سے بات سمجھانا یا کسی کے درد کو محسوس کرنا آسان ہو جاتا ہے لیکن مثال کے طور واقعہ پیش کرنے کے لیے میرا قلم فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کس دلخراش واقعہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کس کے والدین کا دکھ بیان کروں یا کس بچے یا بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم اور سفاکیت کا تذکرہ اپنی تحریر میں کروں تاکہ آپکو معاملات کی سنجیدگی کا اندازہ ہوسکے۔ میں یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ میں آپ کے سامنے تین سالہ معصومہ، مقتولہ فریال پر ہونے والی زیادتی اور سفاکیت کا تذکرہ کروں یا حیوانیت اور درندگی کا نشانہ بننے والی آٹھ سالہ کم سن مقتولہ ہوض نور کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کا تذکرہ کروں۔ میں پنجاب کے پسماندہ گاؤں میں کسی بگڑے رئیس زادے کی وحشت کی نظر ہونے والے طلحہ نور کا ذکر کروں جس کے والدین کی آواز کو دبا دیا گیا یا پھر کسی شہر میں زیادتی کے بعد مار دیے جانے والے کسی اور معصوم فرشتے کا جس کی مسخ شدہ لاش کئی روز بعد والدین کو ملی۔
    سمجھ میں نہیں آتا کہ میں معصوم و مقتول زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کا تذکرہ کروں یا پھر خیبر پختونخواہ سے ذہنی طور پر معذور گوشی کے والدین کا دکھ بیان کروں یا پھر 14 سالہ اس بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم کا تذکرہ کیا جائے جسے راولپنڈی کے باریش نام نہاد معززین اور جواں سالہ لونڈوں نے مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ایسی اولاد کا تحفہ دیا جسے یہ نام نہاد حلالی معاشرہ “حرامی” کا لقب دے گا اور اس کی 14 سالہ معصوم و بے قصور والدہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی فحاشہ کے درجے پر فائز ہونا پڑے گا۔
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زمانے کی سفاکیت اور بربریت کی ایسی داستانیں اگر قلم کی نوک سے قرطاس کے سینے میں پیوست بھی کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ بھی حضرت انسان کے ایسے سیاہ کرتوتوں کو دیکھ کر کانپ اٹھے اور پناہ مانگے۔ مگر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسے دلخراش واقعات اور انسانیت سوز داستانوں کو اور ایسی داستانیں جنم لینے کی وجوہات کو جب تک زیر بحث نہیں لایا جائے گا معاشرہ لاشعور رہے گا اور یونہی ہمارا ناقابل تلافی نقصان ہوتا رہے گا۔ یہ آگ ہمارے گھروں کو جلاتی رہے گی اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ ایسے واقعات سے اگر ہم یونہی لاتعلق رہے تو یقین جانیے ہم بھی شریک جرم سمجھے جائیں گے اور اس بڑھتی ہوئی معاشرتی برائی کے پھیلنے میں برابر کے قصوروار سمجھے جائیں گے۔

    بہت افسوسناک بات ہے کہ ان واقعات سے متعلق آگاہی دینے اور ان کو روکنے کے لیے ہمارے ملک میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے اور یہ برائی ایک کے بعد دوسرا گھر جلا رہی ہے ۔ ہم اور ہماری گورنمنٹ کمیشنز بنانے، کمیٹیاں تشکیل دینے، فرضی قوانین پاس کرنے، ایوان میں جوڈو کراٹے کی مشق کرنے، ایسے واقعات پر سیاست کرنے اور والدین کو جھوٹے دلاسے دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہی۔ ہم بحثیت قوم بڑی ہمت کر کے صرف واقعات کی مذمت کرتے ہیں دو چار دن تحریک چلاتے ہیں اور اس کے بعد خاموشی سے اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں۔ ملزم چار دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہیں اور پھر ضمانت پر رہا ہو کر اپنی معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔ جیل سے باہر آکر انکی مثال ویسے درندے سی ہوجاتی ہے جس کا منہ خون آلود ہو جاتا ہے یعنی وہ اپنے ایک غلیظ دھندے کو مزید دیدہ دلیری سے انجام دیتے ہیں اور انکی دیکھا دیکھی کئی اور لومڑ شہہ پکڑتے ہیں اور ہم پہ در پہ ایسے واقعات پر مذمتوں اور کمیشنوں سے فارغ ہوکر اپنی معمول کی زندگی کی جانب لوٹ آتے ہیں۔ ہماری قومی بے حسی کو اگر ایک شعر میں بیان کروں تو ایسا کہوں گا کہ:
    افسوس یہ نہیں کہ بے حس ہیں ہم
    افسوس یہ ہے کہ احساس بے حسی بھی نہیں
    پاکستان میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات ایک تشویشناک صورتحال کو جنم دے رہے ہیں۔ یہاں آج کسی صورت کوئی بچہ یا بچی بھی مکمل محفوظ نظر نہیں آتا۔ ہر آئے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہم قوانین اور سزاوں کے ہوتے ہوئے بھی ایسے واقعات کو روکنے سے قاصر ہیں۔ اگر ہم نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ اٹھائے اور ان واقعات سے متعلق آگاہی اور شعور معاشرے میں نہ پھیلایا تو مستقبل میں یہ سماجی برائی ہمارے لئے سنگین حالات کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ آگ ایک گھر سے دوسرے اور پھر دوسرے سے تیسرے تک آئے گی اور عین ممکن ہے کہ اگلا ہدف میرا یا آپکا بچہ ہو۔ کیوں کہ ایک ایسا معاشرہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا جہاں پر ان کا مستقبل یعنی ان کے بچے محفوظ نہ ہوں

  • قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    "میری اوقات کہاں تم سے ہم کلام ہونا
    تیرے لہجے سے امیری کی مہک آتی ہے”

    آپ کا سٹیٹس نہیں انسان کا اخلاق کردار رویہ ہی آپ کی اصل تعلیم ہے آج کل ہم کہیں بھی نظر دہرا لیں ہمیں اخلاق میں کمی نظر آتی ہے بڑے بڑے جاگیردار وڈیرے ہمارے گزشتہ سب حکمران اسمبلی میں بیٹھے ہمارے نمائندے اپنے مطلب کے لئے اپنے رویہ اور بداخلاقی سے دنیا میں ہمارا کیا تاثر ڈالتے ہیں.
    آپ کا کردار اخلاق اور زبان کی نرمی ہی آپ کو اونچا کرتی ہے.
    دیکھا اور سوچا جائے تو ہماری موت کے وقت کسی کو آپ کے نمبر ڈگریاں اور عہدے یاد نہیں ہوں گے لوگ آپ کو آپ کے کام رویہ اور اخلاق سے یاد کریں گے.
    ایک خوبصورت اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ جو بدصورتی ہمیں دوسروں میں نظر آتی ہے دراصل وہ ہماری اپنی فطرت کا عکس ظاہر کرتی ہے. دراصل یہ تلخ حقیقت ہے کہ خالص خوراک اور مٌخلص لوگ اس قدر ناپید ہو گئے ہیں کہ اگر غلطی سے مل بھی جائیں تو ہمارا ہاضمہ اٌنہیـں ہضم نہیں کر پاتا. جب ہم کسی سے اپنا موازنہ کرتے ہیں تو ظاہر سے کرتے ہیں، یعنی کہ دکھائی دینے والی چیزوں سے۔ اس میں تعلیم، شکل، کامیابی سے، گھر، اور آسائشوں وغیرہ سے، اگر ہم یہ سوچ ختم کر کے یہ سوچیں کہ ہمیں تکبر ختم کر کے عاجزی اپنانی ہے مجھے فلاں کی طرح خوش اخلاق اور با کردار کامیاب و کامران ہونا ہے.

    جو اللّٰه پہ یقین نہیں کرتا تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. بے شک بادشاہت، دہشت، وحشت، طاقت، اور اکڑ ہمیشہ نہیں رہتی.
    جہاں امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں کردار کی خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے وہاں نا امیدی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے.
    جہاں منزل دھندلی پڑ جاتی ہے،
    جہاں اسباب نظر آنا بند ہو جاتے ہیں. جہاں آنسو آنکھوں کا مسکن بن جاتے ہیں آزمائشیں گھیر لیتی ہیں، جہاں راستے پتھر کی مانند لگتے ہیں.
    جہاں صبر ٹوٹ جاتا ہیں.
    وہیں سے اللہ پر یقین کا سفر شروع ہوتا ہے.
    دنیا کے کھوکھلے سہاروں سے
    نجات کا سفر،
    بندے اور اللّٰه کے تعلق کا سفر
    انسان کی اصل حقیقت ہے.
    جب تک ہمیں اخلاق اور زبان کی پختگی اور سچائی نہیں آتی ہم کبھی اپنی زبان سے کسی کو قائل نہیں کر سکتے.
    "جب آنکھیں نفس کی پسندیدہ چیزیں دیکھنے لگیں
    تو دل انجام سے اندھا ہو جاتاہے”

    سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا..
    شکریہ

  • ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎پاکستان کو جہاں خطے کے اعتبار سے اہم مقام حاصل ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات کی بھی فراوانی ہے. کئی ممالک میں سیاحت کو معیشت کے استحکام میں ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے
    ‎پاکستان میں سیاحت کی استعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2018 میں برطانیہ کی مہم جوئی کے حوالے سے معروف سوسائٹی "بیک پیکر” نے پوری دنیا میں مہم جوئی کے حوالے سے پاکستان کا شمار اول نمبر پر کیا اس کے علاوہ "فوربز” نے 2019 میں ایک شائع کردہ آرٹیکل میں پاکستان کا شمار دنیا
    ‎کی حسین ترین جگہوں میں کیا
    پاکستان اپنے اونچے اونچے برف پوش پہاڑوں سے بہت مشہور ہے کیونکہ دنیا کی 7 ہزار میٹر سے اونچی 10 چوٹیاں پاکستان میں ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان نے دنیا کے مختلف ملکوں سے آئس اسکیٹنگ کے کھلاڑیوں کو دعوت دی جنہوں نے پاکستان کے برف پوش پہاڑوں کو دنیا کے بہترین برفانی کھیلوں کے پہاڑ کہا۔ فروری 2019 میں پاکستان ائیرفورس نے 13 ملکوں کے 40 کھلاڑیوں کی چیمپئن شپ کروائی۔ اختتام پر تمام کھلاڑیوں نے پاکستانی حکومت کے اقدامات کو سراہا اور دوبارہ یہاں آنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

    ‎پاکستان کی حالیہ حکومت نے سیاحت کے فروغ کیلئے کوششیں کیں ہیں جن کے نتائج متاثر کن ہیں. شمالی علاقہ جات کے انفراسٹکچر کو بہتر بنایا جارہا ہے اور بہت سی نئی جگہیں سیاحتی مراکز کے طور پر متعارف کروائی جارہی ہیں۔
    ‎ سیاحتی ویزوں کے حصول میں آسانی کیلئے متعدد اقدامات کیے گئےجس میں 50 ملکوں بشمول امریکہ سے آنے والوں سیاحوں کو پاکستان پہنچنے پر ویزہ کے اجراء کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا، دوسرے175 ممالک کیلئے ویزہ کی درخواستوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے سیاحوں کی مشکلات میں کافی کمی آئی ہے
    ‎اس کے علاوہ سیاحت کیلئے کی جانے والی دیگر کوششوں میں کرتارپور راہداری کی فعالیت اور اس سے ملحقہ کمپلیکس کی تعمیر اور حال ہی میں جہلم میں افتتاح کئے جانے والے "البیرونی ریڈیس” جیسے مقامات قابل ذکر ہیں
    ‎حالیہ کرونا وبا کے باعث عالمی سطح پر سیاحت کے شعبہ میں کمی دیکھی گئی ہے جس میں سیاحوں کو مختلف ممالک کی طرف سے سفری پابندیوں جیسی مشکلات کا سامنا ہے
    ‎امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وبا کے خلاف کامیابیوں میں اضافہ ہو گا اور غیر ملکی سیاح ترجیحا پاکستان کا رخ کریں گے ۔سیاحت کے شعبے سے بہت سے لوگ روزگار سے وابستہ ہوں گے، جس سے ملکی زرمبادلہ میں سیاحت ایک اہم کردار کرے گی اور آنے والے کل میں پاکستان دنیا بھر میں سیاحتی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہوگا۔ ان شاءاللہ
    پاکستان زندہ باد
    ‏@warrior1pak