Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وفاقی وزارت پانی وبجلی نے چار بڑے سرکاری پاور ہاؤسز کو ناکارہ قراردیکر بند کر دیا

    وفاقی وزارت پانی وبجلی نے چار بڑے سرکاری پاور ہاؤسز کو ناکارہ قراردیکر بند کر دیا

    ملک کے چار بڑے سرکاری پاور ہاؤسز کو بند کردیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزارت پانی وبجلی کے فیصلوں کے باعث چار بڑے سرکاری پاور ہاؤسز کو بند کردیا گیا –

    پاکستان میں مختلف سیاسی ادوار میں بلین ڈالرز کے قرضوں سے بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبے بنائے گئے جن میں جامشورو، لاکھڑا، کوٹری، مظفر گڑھ، گڈو پاور ہاؤسز شامل ہیں جو 4 ہزار سے زائد میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے تاہم وفاقی وزارت پانی وبجلی نے پاور ہاؤسز کو فنی خرابی یا انہیں ناکارہ قرار دے کر بند کردیا ہے-

    جبکہ حکومت کے ریکارڈ میں پاور ہاؤسز کو فعال قرار دیا گیا ہے-

    تاہم ایک جانب تو پاور ہاؤسز کو بند کیا جارہا ہے تو دوسری جانب بند کیے گئے جامشورو پاور ہاؤس کے اندر ہی کئی بلین ڈالر کی لاگت سے کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے منصوبہ پر بھی کام جاری ہے۔

    جامشورو تھرمل پاور ہاؤس کے سی ای او نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن ایک سینئر افسر کا مؤقف ہے کہ پبلک سیکٹر کے پاور ہاؤسز کو بند کرکے نجی شعبے کو تیل گیس فراہم کرکے بجلی کیوں خریدی جارہی ہے سپریم کورٹ اس کا از خود نوٹس لے کر اصل حقائق معلوم کرے۔

    واضح رہے کہ ان میں ایسے پاور ہاؤسز بھی شامل ہیں جن کی استعداد بڑھانے کے لیے ملین ڈالرز کی ایڈ دی گئی ہیں-

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری

    کراچی کے مختلف علاقوں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری

    کراچی کے مختلف علاقوں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری

    باغی ٹی وی : مختلف علاقوں میں رات گئے بجلی کی فراہمی منقطع، :لوڈشیڈنگ سےمستثنیٰ علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی معطل، نیو کراچی،نارتھ کراچی، کورنگی گلشن اقبال میں کئی گھنٹوں سے بجلی بند ، محمود آباد ،گلشن معمار، ملیر اور گلستان جوہر میں بھی بجلی رہی-

    کورنگی ، ملیر ، اورنگی اور بلدیہ کے علاقوں میں دن کے اوقات میں بھی لوڈشیڈنگ جاری ہے-

    ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ شہر میں رات گئے کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی ، بجلی کی طلب زیادہ ہونے کے باعث تیکنیکی فالٹس کا سامنا ہے –

    ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ بجلی کی عدم فراہمی کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہیں،کوشش ہے کہ متاثرہ علاقوں میں جلد از جلد بجلی کی فراہمی شروع ہو جائے-

    ترجمان کا کہنا ہے کہ کراچی ،شہری بجلی کی فراہمی معطل ہونے پر 118 پر اشکایات درج کراسکتے ہیں ،مقامی سطح پر فالٹس آتے ہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں-

  • یوم تکبیر کے نامعلوم ہیرو…..جن کا ذکر کوئی نہیں کرتا  (مختصر تحریر،علی عمران شاہین )

    یوم تکبیر کے نامعلوم ہیرو…..جن کا ذکر کوئی نہیں کرتا (مختصر تحریر،علی عمران شاہین )

    یوم تکبیر کو آج 23سال مکمل ہوگئے،وہ 1998کے مئی کی 28تاریخ کی سہ پہر ہی تھی جب بلوچستان کے ضلع چاغی کا پہاڑی علاقہ 6 ایٹمی دھماکوں سے گونج اٹھا تھا،اس دن کو روکنے کے لئے ساری دنیا یکجان تھی ،ڈراوے اور دھمکاوے باربار آرہے تھےلیکن تب کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نےکوئی دھونس دباؤ قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور یوں وطن عزیز دنیاکی چھٹی اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا۔

    نواز شریف کے اس انکار اور استقامت کے پس پردہ کون سی قوت کارفرما تھی؟نجانےاس کا ذکر کوئی کیوں نہیں کرتا۔

    بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد ساری قوم تڑپ رہی تھی کہ نئی دہلی کو زناٹے دار جواب دیا جائے جب کہ نواز شریف دھماکوں سے پس و پیش کررہے تھے۔دن پہ دن گزر رہے تھے اور پھرجب میاں صاحب کو ان کے ایک بے لوث حامی و ساتھی جناب مجید نظامی ایڈیٹر نوائے وقت جو بالعموم یہ جملہ دھراتے رہتے تھے کہ "میں بھارت بھی جب جاؤں گا ٹینک پر بیٹھ کر جاؤں گا،”نے قومی میڈیا کے ایڈیٹرز کے ساتھ مجلس کے بعد نواز شریف سے یہ برملا کہا کہ "نواز شریف اگر تو نے دھماکا نہ کیا تو عوام تمھارا دھماکا کردیں گے”

    ان الفاظ کا انداز اور آواز اس قدر گرج دار تھے کہ نواز شریف کے حوصلے نے مہمیز پکڑی۔ انہی دنوں امیر جماعت اسلامی جناب قاضی حسین احمد بھی بھرپور متحرک تھے اور انہوں نے قومی سطح پر بڑی عوامی تحریک چھیڑ دی تھی کہ پاکستان جیسے بھی ہو فوری ایٹمی دھماکے کرے ۔ انہوں نے اسی حوالے سے بڑی قومی کانفرنس بھی بلائی تھی جس میں دھماکے نہ کرنے کی صورت میں پورے ملک کو سڑکوں پر لانے کا اعلان کیا گیا تھا۔جب ایٹمی دھماکے ہوئے تو سب سے زیادہ اظہار مسرت کرنے والوں میں قاضی حسین احمد اور ان کی جماعت پیش پیش تھی ۔

    دوسری طرف سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے اول دن سےساراسرمایا مہیا کرنے والے سعودی عرب اور تب کے فرماں روا شاہ فہد بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بھی پیغام دیا کہ”دھماکا کر گزرو،ہم تمھیں کوئی معاشی نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔”ساتھ ہی سعودی عرب نےپاکستان کے لئےفوری طور پر سارے قرضے معاف کرنے اور بھاری مالی امداد کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر 50ہزار بیرل تیل مفت دینے کا اعلان کر دیا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے 1974کی مسلم سربراہی کانفرنس کے بعد سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل تھے جنہوں نے بھٹو کو سارا سرمایا مہیا کرنے کا وعدہ کیا اور پھر اسے ایفا بھی کرکے دکھایا۔

    شاہ فیصل کے بعد سب سعودی حکمران اس پروگرام کی تکمیل و ترقی میں پیش پیش رہے اور آج تک وہ اپنی خدمات حاضر کئے ہوئے ہیں۔

    مسلم سربراہی کانفرنس میں پاکستان کی بھرپور حمایت تائید اور تعاون کا یقین دلانے والوں میں دو دیگر بہترین دوست لیبیا کے کرنل قذافی اور ایران کے رضا شاہ پہلوی بھی پیش پیش تھے۔ رضا شاہ پہلوی پاکستان کے انتہائی قریب اور بھارت کے خلاف جنگوں میں اپنا سب کچھ پیش کرنے میں ہمیشہ آگے رہے اور ایران و پاکستان ایک دوسرے کی ریاستیں محسوس ہوتی تھیں۔

    البتہ بہت بعد میں جب لیبیا پر ایٹم بم کی تیاری کا الزام لگا اور عالمی دباؤ آیا توکرنل قذافی کے پاکستان پر اس سلسلے میں تعاون کرنے کے "انکشافات "کے باعث پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا ہوا۔ اسی بنیاد پر ڈاکٹر عبد القدیر خان کو معافی مانگ کر قید بھی کاٹنا پڑی۔

    یہ تھے وہ بنیادی محرکات جو ہمارے ایٹمی قوت بننے کی اساس بنے لیکن آج ان سب کا کوئی کہیں تذکرہ نہیں کرتا کہ ہم ٹھہرے جو احسان فراموش قوم۔
    دھماکوں اور پھر بین الاقوامی پابندیوں کے بعدسعودی عرب نے ہمیں جو مفت تیل دینا شروع کیا تھا وہ پابندیاں ہٹنے کے باوجود بھی کئی سال تک ملتا رہا۔
    ملک کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد اگر ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تو یہ ان کا احسان نہیں ڈیوٹی تھی اور انہوں نے جمعے کی چھٹی،شراب پر پابندی،قادیانیت کے ک ف ر کے علاوہ یہی چوتھانیک کام کیا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ بھٹو خود ہوں یا ان کی پارٹی ، ا

    نہوں نے ان چاروں کاموں کا نہ کبھی ذکر کیا ہے اور نہ ان کا کبھی کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔ جی ہاں، وہی پیپلز پارٹی جو ایک ایک دن کا حساب کرکے مسلسل تقریبات منعقد کرتی اور ایک ایک ذرے کا کریڈٹ لینے کے لئے پوری قوت و صلاحیت صرف کرتی ہے یہاں ہمیشہ خاموش دکھائی دیتی ہے۔اسی پیپلز پارٹی کو جب چوتھی بار اقتدار ملا تو انہوں نے جمعے کی چھٹی بحال کرنے کا نام بھی نہیں لیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان سب کاموں کی وجہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ناراضی کا خطرہ ہوتا ہے جہاں سے ان سیاست دانوں کے بزعم اقتدار ملتا ہے۔

    بہرحال،ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے اپنا طے شدہ شان دار کردار ادا کیا،پروگرام کو سب سے زیادہ ترقی و ترویج جنرل ضیاءالحق شہید نے دی جس کا برملا اظہار و اعتراف ڈاکٹر عبدالقدیر خان بارہا کرتے رہتے ہیں کہ ان کے دور میں انہیں ایٹمی پروگرام پر کام کی مکمل آزادی اور تمام وسائل وسیع پیمانے پر مہیا تھے اور کوئی روک ٹوک بھی نہیں تھی اور یہ کہ پاکستان 1983 میں ہی ایٹمی قوت بن گیا تھا۔

    پروگرام کو مزید ترقی دینے میں صدر غلام اسحاق خان کا حصہ بہت نمایاں ہے جنہوں نے پوری تندہی اور اخلاص سے پروگرام کو آگے بڑھایا تھا اس پر انہیں بھی ضرور خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔…..

    یوم تکبیر کے نامعلوم ہیرو…..جن کا ذکر کوئی نہیں کرتا
    (مختصر تحریر،علی عمران شاہین )

  • انسٹاگرام نے صارفین کو ذہنی دباؤ سے بچانے کیلئے انوکھا فیچر متعارف کرادیا

    انسٹاگرام نے صارفین کو ذہنی دباؤ سے بچانے کیلئے انوکھا فیچر متعارف کرادیا

    سلیکان و یلی: انسٹاگرام نے سوشل میڈیا پریشرمیں کمی کے لیے لائیک چھپانے کا فیچر متعارف کروادیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ ماہ انسٹاگرام کے سی ای او ایڈم موسری نے صارفین کو ٹویٹر پر ایک نئی خصوصیت کے بارے میں آگاہ کیا تھا جو جلد ہی انسٹاگرام پر منظر عام پر آنے والا ہےاس نئے فیچر میں استعمال کنددہ اس بات کا انتخاب بھی کر سکیں گے کہ آیا وہ کسی دوسر کے صارف کی پوسٹ پر موجود لائیک کاؤنٹ کو دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    گزشتہ برس مارچ کے7 شروع میں صارفین کی ایک مختصر تعداد پر اس فیچر کی آزمائش کی گئی جو کہ کامیاب رہی تاہم اب کمپنی اسے اپنے تمام صارفین کے لئے متعارف کرا دیا ہے اس فیچر کی بدولت استعمال کنندہ پوسٹ کو لائیک کرنے والے افراد کا یوزر نیم تو دیکھ سکیں گے، لیکن لائیک کی مجموعی تعداد کو نہیں دیکھ پائیں گے۔

    انسٹاگرام کے سی ای او ایڈم موسری کا اس بارے میں کہنا ہےکہ اس نئے فیچر کو متعارف کرانے کا مقصد استعمال کنندہ کی تشویش اور شرمندگی کو کم کرنا ہے کیونکہ اکثر اور بیشتر استعمال کنندہ اپنی پوسٹ پر لائیک کی تعداد دیکھ کر ذہنی دباؤو کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح کے مسائل زیادہ تر نوجوان صارفین میں پائے جاتے ہیں۔

    انسٹاگرام پرغیراخلاقی پیغامات کی روک تھام کے لئے نئے فیچر کی آزمائش

    تاہم اب اس نئے ٹول کی بدولت صارفین اپنی پوسٹ پر لائیک کی تعداد کو چھپا سکیں گے۔ تاہم اس فیچر کے ساتھ استعمال کنددہ پوسٹ کو لائیک کرنے والے فالوور کے نمبر کے بجائےنام کو دیکھنے کا اہل ہوگا۔

    یاد رہے کہ 2019 میں بھی انسٹا گرام نے اپنے اس فیچر کی آزمائش شروع کی تھی، تاہم یہ تجربہ محدود صارفین اور منتخب خطوں میں کیا گیا تھا لیکن کورونا کے بعد کی بدلتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے کمپنی نے اپنی توجہ دیگر اہم فیچرز پر مرکوز کر دی تھی-

    حال ہی میں آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ہونے والے مطالعے میں نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے استعمال اور دماغی صحت کے درمیان تھوڑا ربط ظاہرہوا تھا تاہم اب اسے دنیا بھر میں فعال کردیا گیا ہے اس فیچر پر ہونے والے تجربے اورتحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ لائیک چھپانے سے صارفین کے طرز عمل میں تھوڑے اچھے اثرات مرتب ہوئے تھے۔

    اپنے صارفین کو ذہنی دباؤ سے بچانے کے لئے انسٹاگرام کی انوکھے اور حیرت انگیز فیچر کی آزمائش

    جبکہ ابتدا میں ہائیڈ لائیک صارف کو صرف اتنی اجازت دیتا تھا کہ وہ دوسرے صارف کے لائیک کاؤنٹ کو دیکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ لیکن اب کمپنی استعمال کنندہ کو یہ آپشن دے رہی ہے کہ وہ اپنے لائیک کاؤنٹ کو دیکھنا اور ظاہر کرنا چاہتا ہے یا نہیں ۔

    اس فیچرکوفعال کرنے کے لیے نئے پوسٹ کے سیکشن میں جا کر ’ہائیڈ لائیک‘ اور ’ویو کاؤنٹ‘ کو منتخب کریں۔ جب کہ صارف کسی مخصوص پوسٹ پر بھی لائیک چھپانے کے فیچر کو فعال یا غیر فعال کرسکتے ہیں۔

    انسٹاگرام اسٹوریز پر ردعمل کے اظہار کے لیے اسٹیکرز کی آزمائش

  • خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    ہر سال امریکہ اور کینیڈا میں پیدا ہونے والی لاکھوں تتلیاں اڑ کر میکسیکو جاتی ہیں جہاں وہ ایک موسم سرما گزار کر واپس آ جاتی ہیں۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہر گزرتے برس کے ساتھ ان تتلیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہر ماحولیات سارہ ڈائیکمین تتلیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد کے حوالے سے کچھ کرنے کے لیے نکل پڑی ہیں۔ وہ بھی تتلیوں کے ہمراہ میکسیکو سے شمالی امریکہ اور کینیڈا اور پھر واپس میکسیکو تک سائیکل پر سفر کیا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین ماہر ماحولیات کے ساتھ ایک استاد بھی ہیں سارہ وہ پہلی شخص ہیں جنھوں نے ’بادشاہ تتلیوں‘ کے امریکہ سے میکسیکو تک نقل مکانی کو دیکھنے کے لیے اپنے سائیکل پر 16,417 کلومیٹر کا لمبا سفر طے کیا ہے۔

    بی بی سی کو انٹر ویو میں سارہ نے بتایا کہ ا نہوں نے اپنے طویل سفر کا آغاز مرکزی میکسیکو سے کیا۔ انھوں نے بلند و بالا پہاڑوں پر دیکھا کہ ہزاروں تتلیاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر کود رہی ہیں، میکسیکو کے وہ پہاڑ جہاں یہ تتلیاں سردیاں گزارتی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق ان پہاڑوں کا موسم اُن کے لیے بہت مناسب ہے۔ دس ہزار فٹ کی بلندی پر موسم نہ تو بہت گرم اور نہ ہی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے شمال کی جانب سیرا مادرے پہاڑی سلسلے کی جانب سفر کرتی ہیں جب وہ امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ ایک وسیع علاقے پر پھیل جاتی ہیں۔ اور انہیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے گوگل نقشوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور کئی دفعہ انھیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے سائیکل کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے بتایا کہ تتلیاں کسی ایک کھیت سے راستہ نہیں بناتیں بلکہ رات کو ایک کسی کونے سے اگلے سفر پر روانہ ہوتی ہیں۔ کبھی تو ان کا سفر شروع کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن بعض اوقات بہت ہی مشکل۔‘

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کا کہنا تھا کہ ایک مادہ تتلی 500 انڈے دیتی جس میں تقریباً ایک فیصد اپنی بلوغت تک پہنچ پاتے ہیں۔ بقیہ 495 انڈے دوسرے حشرات کے لیے خوراک کا ذریعہ ہیں۔

    ایسی تتلیاں جو بلوغت کو پہنچ جاتی ہی اور امریکہ کی شمالی ریاستوں اور کینیڈا تک پہنج جاتی ہیں وہ میکسییکو میں اپنے قیام کے برعکس کسی اجتماع کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ وہ کھلے علاقے میں پھیل جاتی ہیں –

    ڈائیکمین تتلیوں کے ساتھ اپنے سفر کے دوران ہر روز سائیکل پر نوے میل کا سفر طے کرتی ہیں۔ وہ اپنے جسم کو آرام دینے کے لیے ہر دس روز بعد ایک چھٹی کرتی ہیں لیکن تتلیاں کوئی چھٹی نہیں کرتیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بادشاہ تتلیوں کے رینگنے کے لیے بہترین درجہ حررارت پانچ سینٹی گریڈ جبکہ اڑنے کے لیے تیرہ سینٹی گریڈ ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں تتلیوں کے لیے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ چونکہ ان کے جسم کا درجہ حرارت ماحول کے درجہ حرارت کے برابر ہوتا ہے اور اگر عالمی حدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے تتلیوں کے وجود کے لیے خطرات ہو سکتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق وہ تتلیاں جو میکسیکو سے اپنا سفر شروع کرتی ہیں وہ جب امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ مرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ تتلیوں کی اگلی نسل دو سے پانچ ہفتوں تک زندہ رہتی ہیں۔ کینیڈا اور شمالی امریکہ تک پہنچتے پہنچتے تتلیوں کی چوتھی نسل تیار ہو چکی ہوتی ہے۔

    سارہ نے بتای کہ لیکن کینیڈا میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیوں کی نسل کا جسمانی حجم قدرے بڑا ہوتا ہے اور ان کی زندگی کا دورانیہ آٹھ مہینے ہے، جو بہت بہت طویل ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے مزید کہا کہ کینیڈا اور شمالی امریکہ کے موسم خزاں میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیاں ہی ہیں جو سردیوں کے موسم میں میکسیکو کی طرف ہجرت کر جاتی ہیں اور پھر موسم بہار میں واپس امریکہ لوٹ کر انڈے دیتی ہیں.

    انہوں نے بتایا کہ موسم بہار میں کینیڈا کی طرف سفر کے دوان ان کی توجہ انڈے دینے پر مرکوز ہوتی ہے لیکن موسم خزاں کی ہجرت کے دوران ان کی زیادہ توجہ پھولوں سے رس چوسنے پر ہوتی ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے تتلیوں کے ساتھ دونوں جانب ہجرت کی ہے، میکسیکو سے امریکہ اور پھر امریکہ سے میکسیکو تک 264 دن سفر کیا-

  • چیونٹیوں سے متعلق حیران کن معلومات       بقلم :شمائلہ تنویر

    چیونٹیوں سے متعلق حیران کن معلومات بقلم :شمائلہ تنویر

    آؤ بچو سنو کہانی
    میں چیونٹیوں سے متعلق معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔

    بچپن میں ہم نے ایک سبق پڑھا تھا قطار بنائیں
    اس میں چیونٹیوں کے ٹیم ورک اور منظم ہو کر قطار بنانے کا ذکر تھا ، اور بھر کسی اور کتاب کے مطالعہ کے دوران معلومات میں اور اضافہ ہوا کہ جب چیونٹیوں کےکام کے دوران کوئی ایسا دشوار راستہ آ جائے تو ٹیم کی راہنمائی کرنے والی سردار چیونٹی انھیں خطرے کا سگنل دیتی ہےاور بعض اوقات تو وہ ایک دوسرے کا سہارا لیتے ہوئے ایک پل بنا لیتی ہیں اور ساتھی چیونٹیاں ان کے اوپر سے گزر کر دشوار راستہ عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ان تمام معلومات سے ہمیں نظم و ضبط ، محنت اور ٹیم ورک یعنی مل جل کر کام کرنے کا درس ملتا ہے
    میرے بچو!

    معلومات میں تھوڑا اور اضافہ کرتے ہیں
    سائنس دانوں نے
    دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد!ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے ہرا ہوجاتا…

    اس سے بھی زیادہ حیرت اس بات پر کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے،

    اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں….
    زرا غور کیجئے قرآن مجید میں باربار ان تمام مشاہدات پر غور وفکر کا حکم دیا گیا ہے۔
    سوچنے کی بات..!
    ان سب کو یہ کس نے سکھایا…؟
    یقیناً ہمارے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے۔ میرے پیارے بچو یہ دعا کیجئے اے رب ہمارے علم میں اضافہ فرما، ہر وقت علم میں اضافہ کی دعا کیجئے اور اس ذات پاک کی پاکی بیان کیجیے….
    سبحان الله وَ بِحَمدہ
    سبحان اللہ العظیم…
    دعاؤں کی طالب
    شمائلہ تنویر

  • اے غزنوی کے بیٹے تجھے اقصی ڈھونڈھ رہی ہے    بقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    اے غزنوی کے بیٹے تجھے اقصی ڈھونڈھ رہی ہے بقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    اے غزنوی کے بیٹے تجھے اقصی ڈھونڈھ رہی ہے
    بقلم:ڈاکٹر ماریہ نقاش
    مسجد اقصی، مسلمانوں کا قبلہ اول، اسلام کی پہچان، مومنوں کی شان، دین کی عمارت آج بے حال و پریشان بے بسی کی دیوار بنے کھڑی اپنے حال زار پر رو رہی ہے۔۔۔اقصی کے سرخ آنسو مسجد کے صحن میں فلسطینی مسلمانوں کے خون کے قطروں کی صورت میں مسجد کے فرش کو لال کر رہے ہیں۔۔۔فلسطینیوں کے ساتھ مسجد اقصی کا جسم بھی چھلنی ہو رہا ہے۔۔۔۔اسکے درو دیوار بھی زخمی ہو رہے ہیں ۔۔اور زبان حال سے پکار رہے ہیں۔۔۔
    اے فلطینی مسلمان میں تمہیں اپنی بانہوں میں کب تک پناہ دے پائوں کی۔۔؟؟ آخر کار میں بھی شہید کر دی جائوں گی۔۔۔
    جائو۔۔۔! اٹھو۔۔۔! ہمت کرو۔۔۔! اپنے مسلمان بھائیوں کو مدد کیلئے پکارو۔۔۔کہ جنکا فرض اول انکے بیت المقدس کو محفوظ کرنا ہے۔۔۔
    جنکو اپنی تاریخ کو شرمندہ ہونے سے بچانا ہے۔۔۔۔اقصی کی فضاء کو اس داغ سے پاک کرنا ہے کہ امت محمدی اپنی مقدس عبادت گاہ کو یہودیوں سے محفوظ نہ کر سکی ۔۔۔۔ایک ایسی عبادت گاہ جو انکے آبائو اجداد کیلئے شان و شوکت عظمت اور بہادری کا ورثہ ہے۔۔۔جو اسلام کے رکھوالوں کی غیرت ہے۔۔۔جسے القدس فتح کر کے انہوں نے مسلمانوں کے نصیب میں لکھا تھا ۔۔
    جائو۔۔۔! کہ تلاش کرو آج بھی عمر جیسے خوددار، مسلمان جوان اسلام موجود ہوں گے۔۔۔جو میری آخری سانس سے پہلے میری زندگی کی ضنمانت بن کر آئیں گے ۔۔۔۔ پکارو ۔۔! کہ شاید کوئ طارق، کوئ قاسم، کوئ محمود غزنوی، کوئ خالد بن ولید آج بھی زندہ ہو۔۔۔جو شجاعت کے گھوڑے پر سوار ہو کر فتح مقدس کا پروانہ لے کر اقصی کے آنگن میں داخل ہو۔۔۔اور اقصی کے آنسوئوں کو بے بسی کے کشکول سے نکال کر نوید خوشی میں بدل دے۔۔۔
    _تم ڈھونڈھتی ہو آج بھی اے اقصی_
    _ماضی میں جو تھے صاحب ایمان کہاں ہیں_
    _مسجد ہی تھی جن کیلئے تسکین دل وجاں_
    _اس دور میں یارب وہ مسلمان کہاں ہیں_

    تلاشو تو سہی کوئ مسلمان کوئ ایمان والا کوئ نبی کی وراثت سے محبت کرنے والا شاید جاگ جائے۔۔۔۔ مسجد کی زینت نمازیوں کو شہید ہونے سے بچا لے۔۔۔
    دیکھو تو سہی میڈیا کی پاور کو آزما کر۔۔۔شاید کوئ میڈیا چینل تمہاری آواز کو مسلمان عوام تک پہنچا دے۔۔۔
    شاید کوئ کیمرہ کی آنکھ کسی مسلمانی آنکھ کو نم کرنے اور جذبہ جہاد ابھارنے میں کامیاب ہو جائے۔۔۔۔ اور یہودیوں کی اس سازش کو ناکام کر دیں ۔۔۔۔ جیسا کہ یہودیوں نے بیت المقدس پر حملہ کیا تا کہ مسلمانوں کے گہرے پرسکون اطمینان کے سمندر میں ایک ارتعاش کی لہر پیدا کر سکیں۔۔۔۔مسلمانوں کا سکوت توڑ سکیں۔۔۔
    لیکن افسوس۔۔۔!! کے پوری دنیا کے ستر اسلامی ممالک میں سے ایک بھی ایسا ملک نہیں جسکی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہو ۔۔۔
    __وہ جو سمجھے تھے تماشا ہو گا___
    __ہم نے چپ رہ کر پلٹ دی بازی__

    قارئین۔۔۔!!! مسجد اقصی میں مسلمانوں کا نہیں انسانیت کا خون ہو رہا ہے۔۔۔۔اخلاقیات کا خون ہو رہا ہے۔۔۔۔اسلام کا، ہمارے مذہب کا،ہمارے دین کا، ہمارے تہذیب و تمدن کا خون ہو رہا ہے۔۔۔۔
    ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔۔۔ہمیں اس مسجد کیلئے آہنی دیوار ڈھال بننا ہے۔۔۔ہمیں اس مسجد کی ایک ایک اینٹ کو محفوظ کرنا ہے۔۔۔۔
    اے مسلمان اسلام۔۔۔!!! ذرا ہوش کے ناخن لے۔۔۔القدس ہمارا وہ عظیم ورثہ ہے۔۔۔جسکی حفاظت کا منسب ہمیں خود خالق کائنات نے بخشا ہے۔۔۔۔خدا کا دیا ہوا تحفہ تم یوں اتنی آسانی سے تباہ ہونے نہیں دے سکتے۔۔۔۔
    تم اقصی کی پاک فضائوں کو یہودیوں کے آلودہ وجود اور شیلینگ سے گولہ بارود سے زہر آلود نہیں ہونے دے سکتے۔۔۔یہ مسجد ہمارے پاس امانت ہے اس دن سے جب صحابہ کرام نے اسے نصرت خداوندی سے فتح کیا تھا۔۔۔اور اسکی حفاظت کا ذمہ ہمیں سونپہ تھا۔۔۔یہ ہماری غیرت کا امتحان ہے۔۔۔ہمارے ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی ہے۔۔۔اسکے تحفظ میں ہماری بقا کا راز پوشیدہ ہے۔۔۔ا سکے تقدس پر حرف آیا تو ہم سے اسکی اجتنابیت کا منصب چھن جانے کا خطرہ ہے۔۔۔ہم یہ خطرہ امت مسلمہ کو لاحق ہونے نہیں دیں گے۔۔۔ہمیں دیکھنے سننے بولنے کی طاقتیں اللہ تعالی نے دی ہیں۔۔۔ہم ان نعمتوں کا استعمال کرتے ہو مسجد کی بے حرمتی اور فلسطینیوں کے خون کا بدلہ لیں گے۔۔۔۔ہم اقصی کے سب شکوے شکایتیں دور کریں گے۔۔۔
    ہم اقصی کی پکار سن رہے ہیں۔۔۔ہاں دیکھ رہے ہیں۔۔۔ہم گونگے، بہرے اندھے نہیں ہیں۔۔۔اے اقصی۔۔۔!!! ہم تیری مدد کو آئیں گے۔۔۔ ہم تیری ناراضگی دور کریں گے۔۔۔۔
    عام طور پر تحریر سیاہی سے لکھی جاتی ہے۔۔۔۔لیکن۔۔۔!!! اے بیت المقدس۔۔۔!!! میں یہ تحریر تیرے خون سے لکھ رہی ہوں۔۔۔تحریر کا یہ ٹکرہ جو آپ اس وقت پڑھ رہے ہیں ۔۔۔قلم کو سیاہی میں ڈبو کر نہیں بیت المقدس کے خون سے تر کر کے لکھا گیا ہے۔۔۔میں بیت المقدس کی پکار کو سنوانا اور دکھا نا چاہتی ہوں۔۔۔ ان تمام مسلمانوں کو جو قوت گویائ اور بینائ رکھتے ہیں۔۔۔ آئو سنو۔۔۔!!! آئو دیکھو۔۔۔!!! اقصی چیخ چیخ کر کیا کہ رہی ہے۔۔۔؟؟؟
    محبت کا یہ تحفہ بہت ہے۔۔۔
    میرے پہلو میں اک شعلہ بہت ہے۔۔۔
    امر کر لوں اگر آج میں اسکو۔۔۔
    صدی کے بیچ اک لمحہ بہت ہے۔۔۔
    ہزاروں کارواں ہیں راستے میں۔۔۔۔
    جو منزل پر ہیں وہ تنہا بہت ہیں۔۔۔
    ہوس رکھتی نہیں میں مال وذر کی۔۔۔
    مجھے درد و احساس کا اک سکہ بہت ہے۔۔۔
    قارئین۔۔۔!!! مسجد اقصی کے پچھلی صدی سے اس صدی تک کے سفر کو ہم نے محفوظ کرنا ہے۔۔۔ کہ اسکے زخموں کے گواہ ماہ و آفتاب سب ہیں۔۔۔ کہ اس صدی کے سفر میں اس نے کیا کیا نہی سہا ۔۔؟؟؟ لیکن تمام تر بے حرمتیوں کے باوجود اسکے ساتھ یقین کی فضاء جڑی ہے ۔۔کہ جب تک مسلمانوں میں مومن زندہ ہیں۔۔۔تب تک اسکے یقین کا سفر بھی ساتھ ساتھ جاری ہے ۔۔۔۔ یہ زمیں اور زماں یہ سورج اور جہاں۔۔۔گواہ ہیں کہ یہ مسجد آج بھی سوگوار ہے ۔۔۔۔ آج بھی نوحہ خواں ہے ۔۔اسکے درو دیوار جو کل بھی لہو میں تھے۔۔۔آج بھی خون میں ڈوبے ہوئے ہیں۔۔۔لیکن اسکے باوجود اسکے خواب آج بھی سانس لے رہے ہیں ۔۔۔۔۔کہ اسکی امید کا دیہ ابھی بجھا نہیں۔۔۔کہ مسجد ابھی تھکی نہیں۔۔۔اس صدی سے اگلی صدی تک کا سفر سکا جاری ہے۔۔۔اور اس سفر کو آرام دہ پرسکون بنانے والے نوجوان اسلام بھی ابھی زندہ ہیں۔۔۔
    لہذا میں مسجد اقصی اپنی خون کی روتی آنکھوں سے اس سر زمین کا ہر وہ کونہ تاک میں لئیے بیٹھی ہوں۔۔۔جہاں مسلم ممالک رہائش پذیر ہیں۔۔۔کہ اس رستے پر چل کر کوئیغزنوی کا بیٹا کوئی فاتح القدس آئے گا۔۔۔اور مجھے ان ظالموں کے پنجے سے آزاد کروائے گا۔۔۔
    _اے غزنوی کے بیٹے پھر فلسطیں میں آ_
    _کہ رستہ تکتی ہے مسجد اقصی تیرا___
    طالب دعا
    بنت نقاش

  • واٹس ایپ انتظامیہ نے 100 فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    واٹس ایپ انتظامیہ نے 100 فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت کی کوریج کے بعد واٹس ایپ نے فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بلاک کردیئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ سے تعلق رکھنے والے الجزیرہ اور اے ایف پی ایجنسی کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں واٹس ایپ کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں جس میں کہا گیاہے کہ ان کے اکاؤنٹس کو معاشرتی معیار کی خلاف ورزی پر بلاک کردیا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےفلسطینی صحافی نے بتایاکہ تقریباً100 فلسطینی صحافیوں کے واٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک کردیئے گئے ہیں۔

    غزہ کی پٹی پر تعینات الجزیرہ کے بیوروچیف کا کہنا تھا کہ ان کا واٹس ایپ اکاؤنٹ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد 3 روز کے لیے بلاک کردیا گیا تھا –

    تاہم اتوار کے روز سلیکون ویلی میں مقیم واٹس ایپ کے ہیڈکوارٹرز میں شکایت درج کیے جانے کے بعد ان کا اکاؤنٹ بحال کردیا گیا لیکن بحال کیے جانے کے بعد واٹس ایپ ایپلی کیشن سے ان کے تمام پیغامات اور ڈیٹا( بشمول نمبرز) کو بھی ڈیلیٹ کردیا گیا۔

    عرب میڈیا کے ’سینٹر آف ڈویلپمنٹ آف سوشل میڈیا‘ کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ کو بلاک کرنا کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا، رواں ماہ ( 6 سے 19 مئی کے دوران) فلسطینوں کے ڈیجیٹل حقوق کی500 سے زائد بار خلاف ورزیوں کے واقعات سامنے آئے ہیں جس کے باعث فلسطینیوں کے اکاؤنٹس کو بلاک کرنا، انٹرنیٹ پر موجود مواد اور ہیش ٹیگز کو حذف کرنا یا چھپانا، پرانے مواد کو ڈیلیٹ کرنا اور انٹرنیٹ ایکٹیویٹی کم یا معطل کرنا شامل ہے۔

    دوسری جانب اے ایف نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل اور غزہ کی جنگ کے بعد ان کے 2 صحافیوں کے اکاؤنٹس کو بھی واٹس ایپ کی جانب سے بلاک کیا جاچکا ہے ۔

    فلسطین کے حامیوں کا احتجاج، ون اسٹار ریویوز پر فیس بک کا ردعمل

  • جنت مرزا، ہانیہ عامر اور احد مرزا سے متعلق قومی کرکٹ ٹیم کے دلچسپ تبصرے، مداح قہقہے لگانے پر مجبور

    جنت مرزا، ہانیہ عامر اور احد مرزا سے متعلق قومی کرکٹ ٹیم کے دلچسپ تبصرے، مداح قہقہے لگانے پر مجبور

    پاکستانی ٹک ٹاک اسٹار جنت مرزا، اداکارہ ہانیہ عامر اور احد مرزا سے متعلق قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے دلچسپ تبصرے کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اپنی فیلڈ کے علاوہ شوبز فنکاروں اور سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک اسٹار کے بارے میں کتناجانتے ہیں اور ان کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے اس حوالے سے پاکستان سپر لیگ کے آفیشل یوٹیوب اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں قومی کرکٹرز کو پاکستانی ٹک ٹاک اسٹارز اور شوبز اسٹارز کی تصاویر دکھائی گئیں اور ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ان مشہور شخصیات کو جانتے ہیں؟ ان تصاویر کو دیکھ کر ہمارے معصوم کرکٹرز نے نہایت دلچسپ تبصرے کیے۔

    ویڈیو کے آغاز میں جب کرکٹ اسٹارز کو وائرل ہونے والی ایک آنٹی سحر کامران کی کی تصویر دکھائی گئی تو کسی نے انہیں فردوس عاشق اعوان کہا تو کسی نے مریم نواز لیکن کوئی بھی ان وائرل خاتون کو پہچان نہیں پایا حسن علی نے کہا کوئی رپورٹر ہے جبکہ بابر اعظم نے انہیں ان کی ایک ویڈیو سے پہچانا لیکن نام نہیں بتا پائے سرفراز نے کہا کلاس ٹیچر لگ رہی ہیں-

    ٹک ٹاک پر اپنی ایڈیٹنگ کے لیے وائرل شخص جام صفدر کو تو تقریباً تمام کرکٹرز پہچان گئے لیکن کوئی بھی ان کا نام نہ بتاسکا سب نے یہی کہا کہ ہم نے ان کی ویڈیو دیکھی ہے جس میں وہ کبھی جہاز پر اڑ رہے ہوتے ہیں اور کبھی ٹرین پر چڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔

    کرکٹرز کو جب ٹک ٹاک اسٹار جنت مرز کی تصویر دکھائی گئی تو حسن علی فوراً پہچان گئے اور کہا کہ یہ ٹک ٹاک اسٹار جنت مرزا ہیں جس پر شاداب نے حسن علی طرف دیکھتے ہوئے کہا ہاں تجھے توپتہ ہوگا ٹک ٹاکر۔

    جس پر حسن علی نے کہا ہاں ہم تو ہیں ٹک ٹاکر ان دونوں کے علاوہ تقریباً تمام کھلاڑیوں نے جنت مرزا کو نہ صرف پہچان لیا بلکہ ان کا نام بھی بالکل صحیح بتایا تاہم فخرزمان، شاہین آفریدی، سرفراز احمد اور وہاب ریاض جنت مرزا کو نہیں پہچان پائے۔

    جبکہ احد رضا میر کو تمام کرکٹرز نے ان کے ڈرامے ’’عہد وفا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان کا ڈراما دیکھا ہے تاہم کچھ کرکٹرز ان کا نام صحیح لے سکے اور کچھ ان کا نام نہیں بتاسکے۔

    کرکٹرز کو جب ہانیہ عامر کی تصویر دکھائی گئی تو تقریباً تمام اداکار ہانیہ عامر کو پہچان گئے اور کہا ان کو کون نہیں جانتا۔

    سرفراز نے بتایا کہ ڈراماسیریل ’’عشقیہ‘‘ میں ہانیہ نے بہت زبردست اداکاری کی ہے تاہم شاہین آفریدی نے کہا کہ یہ ماہرہ خان ہیں جب کہ فخر زمان نے کہا یہ ماہرہ خان کی چھوٹی بہن ہیں۔

  • سورج 27 مئی کو خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا     عرب میڈیا

    سورج 27 مئی کو خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا عرب میڈیا

    جدہ: سورج 27 مئی کو خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا اور اس وقت ہی قبلہ رخ کا صحیح تعین کا جاسکے گا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق 27 مئی جمعرات کو مکہ مکرمہ کے ٹائم کے مطابق سورج دوپہر 12 بج کر 18 منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا جس سے دنیا بھر میں قبلہ رخ کا صحیح تعین کیا جاسکے گا جب کہ اس وقت بیت اللہ کا سایہ بھی نہیں ہوگا۔

    سعودی ادارہ فلکیات کے مطابق سورج خانہ کعبہ کے اوپر تقریباً 90 ڈگری کے زاویہ پر ہوگا جب کہ یہ سال 2021 کا پہلا واقعہ ہے۔

    جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ ماجد ابو زہرا نے کہا کہ لوگ لکڑی کی چھڑی کو زمین میں عمودی طور پر رکھ کر کعبہ کی صحیح سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔ قبلہ کی سمت چھڑی کے سائے کے عین مطابق ہوگی۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق زمین کے محور کے جھکاؤ کی وجہ سے ، سورج آسمانی خط استوا کے شمال اور جنوب میں 23.5 ڈگری پر سفر کرتا ہے۔ خطوط کے دوران خط استوا پر پڑا مقامات پر سورج براہ راست اوپر گرتا ہے۔

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام…