Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آج کا نوجوان .‏تحریر:  محمد حنظلہ شاہد

    آج کا نوجوان .‏تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    جب بھی کسی ملک کے روشن مستقبل کا خیال آتا ہے تو نظم اس ملک و قوم کے نوجوان نسل پر لگ جاتی ہیں ان نسل کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ ہیں کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کا اندازہ اس قوم کے نوجوان نسل کی قابلیت سے لگایا جاتا ہے کہ جو ان کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتے ہیں ایسی بنیاد کی جس کے بغیر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی نوجوان طلباء کے قابل اعتماد کارکن ہیں تحریک پاکستان میں انہوں نے نے فرمایا کی خدمات سر انجام دی ہیں طلباء نے اپنے بے پناہ جوش و ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی علامہ اقبال کونوجوانوں سے بہت محبت تھی انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نوجوان نسل میں شعور اور ولولہ پیدا کیا علامہ اقبال ایک جگہ فرماتے ہیں
    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
    یا رب آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    مگر آج کے نوجوان کی بات کی جائے تو کیا یہ وہی نوجوان نسل ہے کہ جس کی بات قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال نے کی کیا یہ وہی نوجوان نسل ہے کہ جس کے جوش و ولولے سے کئی ممالک میں انقلاب رونما ہوئے آج کی نوجوان نسل بھلا چکی ہے کہ کس طرح ہمارے آباؤ جیتا نے بڑے بڑے محاذ فتح کیے تھے وہ علم کا محافظ ہو یا جنگ کا ہر ہر میدان. اس میں کامیابی و فتح حاصل کی
    کیسے بڑے بڑے طاقتور حکمرانوں کو اپنے ایمانی جذبے سے شکست دی

    آج کے نوجوانوں کے بارے میں مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا
    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا 
    فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو 
    اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

    آج کا نوجوان اگر انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے تو اس میں مسلہ نہیں لیکن اس کا استعمال اگر پازیٹو انداز میں کیا جائے تو اس سے نوجوانوں کو بھی اور ملک و قوم کو بھی فائدہ ہو گا
    جو کام جو ترقی نوجوان کر سکتے ہیں وہ کوئی اور نہیں کر سکتا
    نوجوانوں کو صرف اپنے اندر جذبہ ایمان جگانے کی ضرورت ہے

    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

    تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

    پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

    شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

    حضرت علامہ محمد اقبال رح

  • افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان میں اس وقت فیصلہ کن جنگ چھڑی ہوئی ہے اور سپرپاور ستمبر ۲۰۲۱ تک یہاں سے چلا جائے گا، لیکن اس سب میں ایک بات قابل غور ہے کہ امریکی فو جیں یہاں سے جارہی ہیں لیکن امریکہ یہاں ہی رہنا چاہتا ہے، عمران خان کو بیش بہا آفرز دی گئیں، لیکن پاکستان کی ریاست کی پالیسی یہ تھی اب کی بار کسی دوسرے ملک کی جنگ کو اپنے سر نہیں لینا، ہم نے اپنا بہت نقصان کرلیا ہے۔ یہ امریکہ کیلے بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہے، کیونکہ پہلے ادوار میں پاکستان ایک فون کال پر ڈھیر ہوتا آیا ہے، اور ہم چند ٹکوں کی خاطر بکتے آئے ہیں۔ اب امریکہ کا کیا پلان ہے؟ وہ پاکستان سے اس کا بدلہ تو لے گا، مگر کیسے؟
    افغان طالبان کابل کے قریب پہنچ گئے ہیں وہ کبھی بھی غنی حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں، تقریبا ۴۰ ڈسڑکٹ پر قابض ہوگئے ہیں، اس ساری صورتحال کے اندر تشویشناک مرحلہ پاکستان کے لئے ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان پر الزام لگا کر چھڑھ دوڑنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ دنیا یہ حقیقت جانتی ہے کہ افغان طالبان کو مزاکرات کی میز پر لانا کوئی آسان کام نہیں تھا، یہ سب کچھ پاکستان کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اس سارے عمل میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ پاکستان نے بھارت کو اس سارے عمل میں شامل نہیں ہونے دیااور پاکستان دنیا کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ بھارت افغانستان میں امن لانے کا خواں نہیں ہے۔ کیونکہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی ڈو مور کی پالیسی اور پاکستان سے ڈرون حملوں کیلے فوجی اڈے اور فضائی حدود مانگنا یہ بھارتی لابی کے زیر اثر آتی ہے جو کہ نہ تو افغانستان میں امن چاہتا ہے اور نہ پاکستان کو ترقی کرنا دیکھنا چاہتا ہے۔ روس سے افغان جنگ کے خاتمے کے بعد جیسے امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑدیا تھا اور افغانستان کی خانہ جنگی کے اثرات سارے پاکستان پر آئے تھے۔ امریکہ اب پھر یہی سب کرنا چاہتا ہے لیکن اب خطے کی صورتحال مختلف ہے کیونکہ اب خطے میں نئی عالمی طاقت چین کی شکل میں موجود ہے اور امریکہ اس لیے افغانستان کو چھوڑکر جارہا ہے کہ چین کو افغانیوں کے ہاتھ مشکل میں ڈالا جائے۔ یہ بات ساری دنیا جانتی ہے افغان سیکورٹی فورسز اور پولیس افغانستان میں امن قائم نہیں کرسکتی، خصوصا افغان طالبان ۷۰ فیصد علاقوں پر قابض ہیں۔ تو امریکہ ان کی ٹریننگ کیلے قطر سے فوجی اڈے مانگ رہا ہے اور وہاں امریکہ کی مشرق وسطی کی سب سے بڑی ائیر بیس موجود ہے۔ وقت آگیا ہے حکومت پاکستان، روس، چین اور ایران ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس سے خطے میں پائیدار امن قائم ہو ا۔ گو کہ اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے امریکی انخلا کے بعد یا اس سے پہلے اگر ضرورت پڑی تو چینی، روسی فورسز افغانستان جاسکتی ہیں، لیکن امریکہ ترکی کو یہاں لانے کی تیاریاں کر رہا ہے کیونکہ ترکی نیٹو کا حصہ ہے۔ چین خود کو بلاوجہ جنگ میں نہیں دھکیلے گا اور دوسری جانب افغان طالبان کسی غیر ملکی افواج کو اپنی سرزمین پر نہیں دیکھنا چاہتے

    امریکہ بھارتی لابی کے زیر اثر آرہا ہے وہ افغانستان کو کسی صورت کوری ڈور نہیں بنے دے سکتا اور اس کا براہ راست اثر پاک امریکہ تعلقات پر آئے گا اور بھارت پاکستان پر پابندیاں لگوانے کیلے سرگرم ہے اور وہ اقوام متحدہ سے چند ٹکوں کے عوض امریکہ کو استعمال کرکے پاکستان کے خلاف رپورٹ شائع کروارہا ہے کہ پاکستان، پاک افغان بارڈر پر دہشتگردوں کو پناہ دے رہا ہے اور انھیں افغانستان میں بھارتی انسٹالیشیز پر حملوں کیلے استعمال کر رہاہے لیکن ایسا کر کے بھارت خود اپنے پاوں پر کلہاڑی مار چکا ہے۔ اب بھارت افغان طالبان کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے پاکستان کے بھی پاوں پکڑنے کیلے بھی تیار ہے اور وہ کشمیر کی خصوصی حثیت بحال کرنے کیلے بھی تیار ہے لیکن یہ سب وہ اپنے مفاد کیلے کر رہا ہے کیونکہ مودھی کی ساری الیکشن کمپین کشمیر کے خلاف رہی ہے وہ ایسا کرکے ہندوں کو اپنا قاتل نہیں بنوانا جاہتا۔
    لیکن لب لباب یہ ہے کہ بھارت کی نہ صرف اب افغانستان سے چھٹی ہو رہی ہے اب وہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کرنے کیلے استعمال نہیں کرسکے گا اور یہی چیز مودھی سرکار کو کھائی جارہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی دنیا پاکستان کے کردار کو سراہے کہ پاکستان دنیا میں امن لانے کا خواہاں ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ ملکر لائحہ عمل طے کرے وگرنہ یہ افغانستان کی خانہ جنگی کس کس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اورعالمی قوتوں کا مرکز اس وقت پاکستان بنا ہوا ہے ۔

  • ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون

    ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون

    ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون
    ہم اپنے خوابوں کو پانے کے لئے بہت کوشش کرتے ہیں اسکے لئے در در کی ٹھوکریں بھی کھاتے ہیں.. کئی بار ہمیں ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور پھر کبھی قسمت مہربان ہوتو انسان کامیابی کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے.
    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ لوگ کامیابی کے مقام پہ پہنچ کر خود کو بڑا محسوس کرنے لگتے ہیں (سب نہیں مگر موسٹلی ایسا ہوتا ہے) وہ اپنے سے چھوٹے کو کمتر اور حقیر سمجھنے لگتے ہیں, وہ بھول جاتے ہیں جس خدا نے انکو کامیابی دی وہی خدا ان لوگوں کا بھی ہے جن کو وہ کمتر سمجھ رہے ہیں.
    کیونکہ انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو, کتنا ہی کامیاب اور مشہور کیوں نہ ہو آ خر اُس نے اُسی مٹی میں دفن ہونا ہے جس میں ایک عام انسان دفن ہوگا, خاک سے بنا جسم آ خر خاک میں ہی تو ملنا ہے کیونکہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور یہ ہم سب جانتے بھی ہیں لیکن وہ وقت کونسا ہے اس راز سے ہم ناواقف ہیں.

    موت ہی ایسی چیز ہے جسکے آ گے طاقتور سے طاقتور بےبس ہوجاتے ہیں. پھر نہ تو شہرت اور نہ روپیہ پیسہ اسکی موت ٹال سکتے ہیں اور نہ ہی ذندگی کے دن بڑھا سکتے ہیں.. اصل میں انسان اپنی عارضی خوشیوں کو پانے کے لئے اسقدر بہت آ گے نکل جاتا ہے کہ واپسی ممکن نہیں رہتی اور تب اُسے اللہ یاد آ تا ہے تب وہ سوچتا ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا.
    آ ج اپنے اردگرد دیکھ سکتے ہیں کونسا گناہ, کونسی ایسی بُرائی نہیں جس میں ہم کسی نہ کسی طرح جھکڑے ہوئے ہیں, کسی کے حق پہ ڈاکہ ڈالتے ہوئے, جھوٹ بولتے ہوئے, چوری, قتل , یا (یہ جو آ جکل معصوم بچوں کو نوچا جارہا) ہم اپنی موت کو کیوں بھول جاتے ہیں؟؟

    ہم اپنے اس رب کو کیوں بھول جاتے ہیں جو ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے ؟
    ہم کسی کی ذات پہ تہمت لگاتے زرا دیر نہیں لگاتے پر اپنے پہ بات آ تی تو ہزاروں دلیلیں لئے بیٹھے ہوتے خود کو بےگناہ ثابت کرنے کے لیے…
    اللہ کے بندوں.. یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے
    اللہ کے بندوں.. اللہ کے بندوں پہ ظلم کرتے کیوں بھول جاتے ہوکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے.
    آ ج اللہ نے اگر شہرت دی پیسہ دیا, عہدہ دیا تو اسکا صحیح استعمال کرنا سیکھو, غلط استعمال کروگے تو ایک نہ ایک دن منہ کے بل گر جاؤ گے, اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق کو حقیر مت جانو…
    تمھارا تکبر کہیں تمھیں رسوا نہ کردے کیونکہ تکبر اللہ کو پسند نہیں.
    کہیں کسی کی حق تلفی ہوتے دیکھو تو اسکو روکو
    کہیں ظلم ہوتے دیکھو تو ظلم کے خلاف اپنی طاقت استعمال کرو اپنی آ واز بلند کرو.
    اپنی غلطی کو تسلیم کرنا سیکھو, یہ دولت یہ شہرت آ پکو دنیا میں تا کام آ سکتی ہے پر آخرت میں تمھارے اعمال ہی تمھیں بچائیں گے..

    کسی شہنشاہ کسی شہزادے یا کسی صدر کی میت کو کسی نے سجا کے نہیں رکھا… اور نہ کوئی رکھے گا. جانا اسی مٹی میں ہے جس میں ایک غریب ایک عام انسان جائے گا.
    آ ج کسی عہدے دار کو دیکھ لیں لوگ اپنی درخواستیں لیے انکے انتظار میں گھنٹوں بیٹھے رہے ہونگے مگر وہ جب آ ئے گا تو ٹھاٹ سے اور انکو ٹھیک سے سنے گا بھی نہیں اور خود کو اپنے مقام (جو اللہ نے دیا ہوا) پر فخر کرتا گزر جائے گا.. کیا اس لئے اللہ نے تمھیں طاقت, عہدہ, مقام دیا ؟

    دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگنے والوں یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں
    بہتر ہے اپنی اپنی جگہ درست کرلیں کیونکہ یہ ذندگی تو عارضی ہے اسے ایک سفر سمجھ کے گزاریں. لوگوں کے دکھ درد میں کام آنا ہی ایک انسان کا کام ہے. دنیا کے لالچ میں اندھے ہوکے اپنی آ خرت نہ بگاڑیں.

  • ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے،  پیٹیشز پر41000 دستخط

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000 دستخط

    واشنگٹن: لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ایمازون کےسربراہ جیف بیزوس کے خلاء میں جانے کے بعد ان کی زمین پر واپسی روکی جائے-

    باغی ٹی وی: بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کےمطابق ایمازون سربراہ کاخلائی سفر ایک ایسے وقت میں ہونے جارہاہے جب خلائی پرواز کےحوالے سے جوش اور دلچسپی کہیں زیادہ دیکھی جارہی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

    خلائی ایکسپلوریشن فرم بلیو اوریجن کے بانی ، بیزوس نے 7 جون کو کہا تھا کہ وہ اور اس کے بھائی مارک بیزوس 20 جولائی کو نیو شیپر راکٹ پر سوار خلا میں پرواز کریں گے۔ یہ کمپنی کی پہلی انسانی پرواز ہے۔

    بیزوس کے اعلان کے تین دن بعد ، ارب پتیوں کے دوبارہ زمین میں داخلے کی کوشش اور روک تھام کے لئے دو درخواستیں شروع کی گئیں۔ انھوں نے صرف 10 دن میں ہزاروں فالورز کو اکٹھا کیا 23،000 سے زائد افراد نے ایک چینج ڈاٹ آرجنٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس کا عنوان ہے: "جیف بیزوس کو زمین پر واپس جانے کی اجازت نہیں ہے۔”

    آئندہ ماہ 20جولائی کو شیڈول خلائی سفر کے آغاز کے بعد جیف بیزوس کو واپس زمین میں داخل ہونے دینے سے روکنے کیلئے آن لائن پٹیشن پر 41ہزار سے زائد افراد نے دستخط کردیے ہیں، یہ درخواست 10 روز قبل شروع ہوئی تھی اور اب تیزی سے اس کے دستخط کنندگان کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

    ایمیزون پرائم کے ملازمین کا کہنا ہے کہ خواتین کو کچھ ترقی ملتی ہے اور اس میں مردانہ نظم و نسق کا جارحانہ انتظام شامل ہےدرخواست کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ ، "ارب پتی افراد کا وجود زمین پر یا خلا میں نہیں ہونا چاہئے ، لیکن کیا انہیں یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ انہیں وہاں ہی رہنا چاہئے۔”

    کچھ دستخط کنندگان نے درخواست پر دستخط کرنے کی ایک وجہ بتائی ، جس میں ایسے تبصرے شامل تھے جیسے "زمین میں واپس جانے کا اعزاز ہے – ایک حق نہیں ،” اور "زمین جیف ، بل گیٹس، ایلون مسک اور ایسے دوسرے ارب پتی لوگوں کو نہیں چاہتے ہیں۔

    ایمیزون کا آئندہ چند روز میں پاکستان کو سیلر لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان

    ایک اور درخواست ، "جیف بیزوس کو دوبارہ زمین میں دوبارہ داخلے کی اجازت نہیں دینے کے نام سے درخواست کی گئی ہے ،” جس میں 18،000 سے زیادہ دستخط جمع ہوچکے ہیں اور تیزی سے اس کی نشاندہی ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب امریکی میڈیا کو ایک انٹرویو میں ناسا کے سرابرہ بل نیلسن کا کہنا ہےکہ ان کے پاس خلاء کی دوڑ میں حصہ لینے والے ارب پتی افراد کے لئے ایک پیغام ہے،جو لوگ وہاں سفر کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے خلاء ’’وائلڈ ویسٹ ‘‘نہیں بننے والی،میں اس پر نگاہ رکھے ہوئے ہوں، کسی دوسرے پیشہ ور خلاباز کی طرح انہیں بھی اسی طرح کے سخت جسمانی اور نفسیاتی امتحان سے گزرناہوگا۔

    نئے خلائی اسٹیشن کی تعمیر،چین نے اپنا خلائی مشن روانہ کردیا

  • باپ کم نہیں میری ماں سے.تحریر: ملک ضماد

    باپ کم نہیں میری ماں سے.تحریر: ملک ضماد

    آج دنیا میں لوگ "”فادر ڈے”” کے نام سے والد کا دن منا رہی ہے
    کیا والد کی عزت پیار صرف دن منانے تک محدود ہے یا اس کے کچھ حقوق و فرائض بھی ہیں
    ہم بطور معاشرہ مغرب کے پیچھے چل رہے ہیں تو معاشرے مین بہت سی باتوں کو ہم نا سمجھتے ہیں نا ہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
    وہ باپ جو گرمی، سردی
    دھوپ، بارش
    دن، رات
    جمعہ، اتوار محنت کر کے اپنے بچوں کو پالتا ہے
    وہ اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی ضروریات پوری کرتا ہے
    وہ خود بھوکا رہتا ہے لیکن بچوں ہو پیٹ بھر کر کھلاتا ہے
    خود کبھی کئی کئی سال تک ایک ہی جوتوں کے جوڑے میں ٹائم گزار دیتا ہے لیکن بچوں کو ہر سال نئے جوتے لے کر دیتا ہے
    خود کپڑے نہیں لیتا لیکن بچوں کے لیے ہر سال، ہر عید، ہر نئی کلاس کے لیے نئے کپڑے لیتا ہے
    پھر کبھی محسوس بھی نہیں ہونے دیتا اپنی اولاد کو کہ وہ بھوکا ہے یا اس کو کسی چیز کی ضرورت ہے
    اس کا بھی دل کرتا ہے وہ نئے کپڑے پہنے لیکن یہ سوچ کر اپنی خواہشات کو دفنا دیتا ہے کہ میں پھر لے لوں گا بچوں کے لیے لازمی لینے ہیں

    باپ بھلے غریب ہو لیکن اپنی اولاد کو وہ شہنشاہوں کے بچوں کی طرح رکھتا ہے
    باپ خود کھانا نہیں کھاتا لیکن بچوں کو کبھی بھی بھوکا نہیں سونے دیتا
    خود پھٹے پرانے کپڑے پہن لیتا ہے لیکن بچوں کو کبھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہونے دیتا
    آخر وہ باپ جب کما کما کر بچوں کو کھلاتا ہے
    وہ باپ جب خود بچوں کا محتاج ہوتا ہے تو بچے پھر اس کو یہ ہی کہتے نظر آتے ہیں
    "”آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے””
    یہ وہ الفاظ ہیں جو ہمارے معاشرے میں عام ہو چکے ہیں
    بچے یہ نہیں سوچتے آج ہم جس مقام پے ہیں اس میں میرے باپ کی کتنی محنت ہے
    اس میں باپ کا کتنا خون پسینہ نکلا ہے
    میرا باپ کتنا بھوکا رہا
    وہ یہ سوچتے ہیں باپ کماتا رہا اور کھاتا رہا ہے بس
    اس نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا

    اس کے متعلق اﷲ تبارک وتعالیٰ نے والدین کے حق کو مقدم کیا ہے۔
    ارشاد ہورہا ہے:’’ہم نے آدمی کو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے‘‘
    (سورۃ الاحقاف آیۃ 15)

    باپ کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے جب یہ دروازہ کھلے گا تو ہی انسان جنت میں داخل ہو سکے گا
    اللہ نا کرے یہ دروازہ بند رہتا ہے تو ہم بھلے نیکی کے کام کرتے رہیں آخر میں جا کر دروازہ ہی نے ہو گا تو کیسے ہم جنت میں داخل ہوں گے

    خدارا اپنے والدین کی قدر کریں
    حقوق العباد میں سب سے پہلے والدین کے حقوق بیان کیے گئے ہیں

    حدیث شریف کا مفہوم ہے امام طبرانی نے اس حدیث پاک کو نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں’’نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    والد کی اطاعت میں اﷲ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ والدین کی نافرمانی اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی ہے””

    والد کی نافرمانی کو اللہ پاک کی نافرمانی کہا گیا ہے تو کیا کوئی شخص اللہ پاک کی نافرمانی کر کے جنت میں جا سکتا ہے
    حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    حسن سلوک کرنے والی اولاد جب بھی محبت کی نظر سے والدین کو دیکھے تو ہر نظر کے بدلے اﷲ تعالیٰ مقبول حج کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ صحابہ رضی اﷲ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! اگر کوئی اپنے والدین کی زیارت دن میں سومرتبہ کرے تو ؟  حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اﷲاکبر اطیب ﷲ تعالیٰ بہت بڑا، نہایت ہی تقدس والا ہے‘‘

    والدین کو دیکھنے کا اتنا بڑا ثواب ہے تو ان کی خدمت کرنے کی کیا فضیلت ہو گی

    مذہب اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے، جس نے والدین کے متعلق کہا ہے کہ:
    ٭  جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔
    ٭  باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔
    ٭  رب کی رضامندی والدین کی رضامندی پرہے۔
    ٭  رب کی ناراضگی والدین کی ناراضگی پر ہے۔
    ٭  والدین کی فرمابرداری میں اﷲتعالیٰ کی فرمابرداری ہے۔
    ٭  والدین کی نافرمانی میں اﷲتعالیٰ کی نافرمانی ہے۔
    ماں باپ کی نافرمانی تو کجا ، ناراضگی وناپسندید گی کے اظہار اور جھڑکنے سے بھی روکا گیا ہے اور ادب کے ساتھ نرم گفتگو کا حکم دیا گیا ہے
    ’’ وَلَاَ تْنہَرْ ہُمَا وقُلْ لَّہُما قَوْلًا کَرِیْمَا‘‘
    ساتھ ہی ساتھ بازوئے ذلت پست کرتے ہوئے تواضع وانکساری اور شفقت کے ساتھ برتاؤ کا حکم ہوتا ہے
    ’’ واخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمۃِ‘‘
    اور پوری زندگی والدین کے لئے دعا کرنے کا حکم ان کی اہمیت کو دوبالا کرتا ہے
    وقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہماکَما رَبّیَانِی صَغِیْرًا
    * اور تم سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو
    سورہ النساء ۳۶
    * ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے
    سورہ العنکبوت ۸

    اپنے والدین کے ساتھ ایسے حسن سلوک کے ساتھ پیش جیسے وہ بچپن میں آپ کے ساتھ آتے رہے

    اللہ پاک ہمیں اپنے والدین کی نافرمانی سے بچائیں اور ان حقوق کو صحیح معنوں میں ادا کرنے اور ان کی خدمت کرنے کی توفیق دیں
    آمین

  • باپ  ، خلوص و ایثار کا سرچشمہ .تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    باپ ، خلوص و ایثار کا سرچشمہ .تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    ان کا اٹھنا نہیں ہے حشر سے کم
    گھر کی دیوار باپ کا سایا

    باپ صرف ایک لفظ ہی نہیں بلکہ احساس محبت، شفقت، پیار اور وفا جیسے ایک جذبے کا نام ہے،
    باپ کی شفقت اور دعاٶں کی حدت خاموش سمندر کی مانند ہے جس کی لہروں میں شدت پنہاں ہوتی ہے،باپ خلوص و مہر کا پیکر ، محبت کا ضمیر، باپ خدا کا دیا ہوا انمول خرانہ ہے، باپ اللہ تعالیٰ کی نعمتِ عظیم ، وہ دُنیا میں اپنے اہل و عیال کا ساٸبان ہوتاہے، باپ شفقت ، خلوص ، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے باپ ایک ٹھنڈک کا احساس ہے جو چلچلاتی دھوپ میں اپنے بچوں کو پیار اور سکون کا احساس دلاتا ہے۔

    ہمت شفقت چاہت قربانی
    یکجا لکھوں تو بابا جانی

    باپ ایک ایسا رشتہ ہے جو اپنی پوری زندگی اپنوں کیلئے وقف کردیتا ہے، اس کے صبر اور خلوص کی کوئی مثال نہیں ، باپ ایک ہستی جس کی تعریف بیان کرنے کیلئے لفظوں کا ذخیرہ بھی کم پڑ جائے۔ ہمارے معاشرے میں ماں کا مقام ومرتبہ تو ہرلحاظ سے اجاگر کیا جاتا ہے لیکن باپ کا مقام کسی حدتک نظرانداز کردیا جاتا ہے باپ وہ سایہ بے مثل ہے جس کی مثال اس دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے ،باپ جیسی عظیم ہستی سے پیار ، خلوص اور عقیدت کا نام ہے ہر مہذب اور تہذیب میں باپ کو عظیم اور مقدس قرار دیا ہے۔

    باپ اک چھت کی مانند ہوتا ہے جس طرح اک چھت گھر کے مکین کو موسم کے سرد گرم ماحول سے محفوظ رکھتی ہیں، باپ جیسا بھی ہو باپ ہوتا ہے۔ اک گھنا سایہ دار درخت جو خود تو دھوپ طوفان بارش میں کھڑا رہتا ہے پر اپنے سائے میں رہنے والوں کو تحفظ دیتا ہے۔ اس کی شاخوں پہ کتنے ہی پرندے پلتے پھولتے ہیں۔ باپ کا وجود بے پناہ عزیز اور ضروری ہوتا ہے۔ باپ جیسا کوئی نہ ہوتا ہے اور نا ہوسکتا ہے

    ان کے سائے میں بخت ہوتے ہیں
    باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں

    باپ وہ ہستی ہے جو دن کو دن نہیں سمجھتا۔ راتوں کو بھی فکر معاش میں بے چین رہتاہے۔ باپ کبھی ہمیں اپنی پریشانی یا الجھن نہیں بتاتا بلکہ خود سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہر مشکل اور دشواری کا سامنا کرتا ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لے دن رات جتا رہتا ہے۔ نہ اس کو اپنے آرام کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے صحت کی۔ وہ اپنے دن رات صرف اس جہد میں صرف کرتا ہے کہ کچھ اور محنت کرلوں تو اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرلوں۔اپنی اولاد کی ہر اس خواہش کو پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے جو وہ اپنے بچپن میں پوری نہیں کرپایا

    مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
    میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

    باپ دنیا کی وہ عظیم ترین ہستی ہے جو اپنے بچوں کی بہترین پرورش اور ان کی راحت کے لیے ہمہ وقت کوشش کرتا ہے، کاوش اور مشقت میں پڑ کر زندگی گزارتا اور ضرورت پڑنے پر اپنے بچوں کے لیے جان تک کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔

    باپ وہ عظیم ہستی ہے جو اپنی اولاد کے لئے ساری جہاں سے لڑ سکتا ہے۔ باپ اپنی خوشی کی پروا کیے بغیر اولاد کی ہر خواہشات کو پورا کرتا ہے، ویسے تو مرد مضبوط ہوتا ہے مگر فولادی اعصاب کا مالک مرد بھی جب باپ بن جائے تو بچے کی معمولی سی تکلیف پر ٹوٹ جاتا ہے باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہے جس کے پاس بیلنس نہ بھی ہو پھر بھی وہ اولاد کی خواہشات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اولاد کو کبھی نہ نہیں کر سکتا چاہے حالات کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں ،باپ دنیا جہاں کے دکھوں اور غموں کو اپنے سینے کے اندر سمیٹے رواں دواں رہتا ہے۔ آندھی آئے یا طوفان اسکی محبت میں کمی نہیں آتی، خلوص و ایثار کے اس سرچشمے کی حدود کا اندازاہ لگانا ممکن نہیں۔

    جیب خالی ہو تب بھی نہ نہیں کرتا
    اپنے باپ سے امیر شخص میں نے دیکھا نہیں کوئی

    والد کی قدر کرنی چاہیے۔ باپ کی کمائی اور ورثے کی تو اولاد حق دار بنتی ہے، مگر اس کے دیگر تجربات اور اصولوں سے کم ہی فائدہ اٹھاتی ہے۔ حالاں کہ باپ تجربات کا ایسا خزانہ ہوتا ہے۔ ہر لمحے زندگی کے نت نئے تجربے سے گزر کر اولاد کی بہترین پرورش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سمجھدار اولاد اس خزانے سے سبق لے کر اپنی زندگی کو احسن طریقے سے گزارتی ہے جبکہ بد قسمت اولاد اپنی زندگی کو بے جا خواہشات کے حصول کیلئے تباہ کر ڈالتی ہے اور باپ ایک ایسی کتاب ہے جس پر تجربات تحریر ہوتے ہیں۔ اپنے باپ کو خود سے دور مت کریں بلکہ اس کے تجربات سے سیکھیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ نئی نسل والدین سے خود کو زیادہ عقل مند خیال کرتی ہے جب یہ جاہلیت کے سوا کچھ نہیں ہے

    باپ ہی سرمایہ اولاد ہے
    باپ ہی اجداد کی بنیاد ہے
    گود ماں کی ،درسگاہ اولین
    باپ ہے ،روح جمال دلنشین

    باپ ایک عظیم تحفہ خداوندی ہے ،جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ باپ محبت و چاہت ،صبرو خلوص،ایثارو بردباری کا پیکر ہے۔ ہم جس طرح دریا کو کوزے میں قید نہیں کر سکتے اس طرح والد کی محبت و شفقت ٍ، عنایات و خدمات ،محنت،حوصلہ وہمت کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے ۔یہ حقیقت ہے کہ باپ کی محبت ایک بحر بیکراں کی طرح ہے ۔ باپ کی بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پُرویا جا سکتا اس لیے کچھ وقت اپنے باپ کے پاس بیٹھا کرو اس طرح وہ بوڑھا جوان رہتا ہے۔ اس کی خدمت کر کے اپنے لیے کامیابی کی راہیں ہموار کر لوں۔ دنیا میں جب بھی کوئی پریشانی آئے اپنے باپ سے مشورہ لو کیونکہ باپ سے بہتر کوئی استاد نہیں، اس سے بہتر کوئی ہمدرد نہیں، اس سے بہتر کوئی غمخوار نہیں اور اس سے بہتر کوئی دردمند نہیں

    آج میں اک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جن کے باپ حیات ہیں ان کی قدر کیجئے۔ کیونکہ باپ سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی ،آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی ۔ وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتا ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتاہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت اولاد پر نچھاورکرتا رہتا ہے، یہ ہستی اک بار کھو گئی تو کبھی اور کسی قیمت واپس نہیں ملتی باپ شفقت محبت اور ایثار کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

    یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
    اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا

    اللہ رب العزتﷻ سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں اپنے والد محترم کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے اور جن کے والد محترم اس دنیا سے چلے گئے ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اللہ تعالیٰﷻ ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

  • عورت اور معاشرہ . تحریر: ریحانہ جدون

    عورت اور معاشرہ . تحریر: ریحانہ جدون

    ایک معاشرے کی تعمیر میں عورت کا اہم کردار ہے.. عورت ہی ہے جو ایک اچھا اور مکمل معاشرہ بنا سکتی ہے, وہ بحیثیت ایک ماں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرے کہ وہ آ گے چل کے ایک اچھے معاشرے کو تشکیل دے سکے اور ہر ماں یہ کوشش بھی کرتی ہے کہ اسکے بچے ایک اعلیٰ مقام تک پہنچ سکیں, اسکے لئے وہ اپنی بھرپور کوشش کرتی ہے. میں نے ایسی کئی ماؤں کو دیکھا ہے جو بیوہ یا طلاق یافتہ ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور حالات کا ڈٹ کے مقابلہ کررہی ہوتیں ہیں, محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کو پال رہی ہوتی ہیں.. افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر کسی عورت کو طلاق ہوجائے تو اس پہ انگلی اٹھانے والی ہی عورتیں ہوتیں ہیں کہ اس میں ہی کوئی قصور ہوگا تبھی اسے طلاق ہوئی ہوگی. میں نے کسی مرد کو ایسی گفتگو کرتے نہیں دیکھا لیکن ہمارے معاشرے میں ایک طلاق یافتہ عورت کو کھلی تجوری کی طرح دیکھا ضرور جاتا ہے کہ اس تک رسائی آ سان ہے اور ہر کوئی بآسانی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے. ایک طلاق یافتہ عورت سے کم ہی کوئی کنوارا شادی کرتا ہے کیونکہ طلاق کا دھبہ اسکے کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے چاہے وہ کتنی ہے بےگناہ یا بےقصور ہو.

    اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب لڑکی جوان ہوتی ہے تو یہی معاشرہ اسکے والدین میں یہ خوف بھی ڈال دیتا ہے کہ اگر ابھی اسکی شادی نہ ہوئی تو کبھی نہیں ہوگی کوئی اچھا رشتہ نہیں ملے گا. بیشک وہ اپنی ذندگی میں خوش ہو ایک کامیاب ذندگی گزار رہی ہو لیکن معاشرہ اسکو یہ بات بار بار یاد کراتا ہے آ پ خود بھی کسی نہ کسی طرح یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ شاید ہم میں کوئی کمی رہ گئی ہے اور بہت سے لوگ یہ چاہتے بھی ہیں کہ آ پ اس کمی کو محسوس کریں. بعض اوقات ایسی ہی وجوہات ایک عورت کے لیے مشکلات کھڑی کردیتے ہیں.
    ایک عورت کو جب ایک فُل سپورٹ ملتی ہے ( جو اسکے خاوند کی یا والدین کی) تو وہ نہ صرف ایک اچھی ماں بلکہ ایک اچھی بیوی بیٹی بہن بن کر دکھاتی ہے.
    جس گھر میں عورت کی عزت نہ کی جاتی ہو اسکو کوئی اہمیت نہ دی جاتی ہو تو وہ احساس محرومی کا شکار ہوجاتی ہے, وہ اپنی ہی ذات میں الجھ کر رہ جاتی ہے تو وہ کیا ایک اچھا معاشرہ تشکیل دے پائے گی جہاں اسکے اپنے بچے اسکا اپنا خاوند اسکی عزت نہ کرے…
    ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایک عورت کا مقام کیا ہے اسکی ضرویات کیا ہیں..
    جب اس کا جواب ملے گا اور اس پہ عمل ہوگا تو آنے والی نسلوں کو ایک اچھا معاشرہ خوش آمدید کہےگا

  • بوٹسوانہ میں دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا دریافت

    بوٹسوانہ میں دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا دریافت

    افریقہ میں ہیروں کے لیے مشہور ملک بوٹسوانہ میں دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا دریافت ہوا ہے جس کا وزن 1098 قیراط ہے۔

    باغی ٹی وی : لاس اینجلس ٹائم کے مطابق ایک ہزار قیراط سے زیادہ وزن کا ایک بہت بڑا ہیرا ، جو تاریخ کا تیسرا سب سے بڑا ہیرا ہو سکتا ہے جنوبی افریقہ کے ملک بوٹسوانہ میں دریافت ہوا ہے۔

    دی گارڈئین کے مطابق بوٹسوانہ حکومت اور ڈی بیئر گروپ کی مشترکہ طور پر کان کنی کی ڈیبوسوانہ کمپنی ، نے کان میں اس ماہ کے شروع میں 1،098.3 قیراط وزن کا اعلی معیار کا قیمتی پتھر نکالا گیا تھا۔

    بوٹسوانہ ہیروں کی وجہ سے ایک مشہور ملک ہے جہاں ڈیسوانہ کمپنی ایک عرصے سے ہیرے نکال رہی ہے۔ اس کمپنی کی تاریخ میں سب سے بڑا ہیرا ملا ہے جسے دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا کہا جارہا ہے۔

    اس سال یکم جون کو یہ ہیرا ملا ہے جسے فوری طور پر کمپنی کے قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر ، لینیٹ آرمسٹرونگ نے صدر موگویتسی ماسیسی کےسامنےبھی پیش کیا گیا۔

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    ڈیبوسوانہ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر لینیٹ آرمسٹرونگ نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا ہے،یہ ڈیبسوانا کی جانب سے 50 سال سے زیادہ کی اپنی تاریخ میں بازیافت کرنے والا سب سے بڑا ہیرا ہے۔”

    انہوں نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا ہیرا 1905 میں جنوبی افریقہ سے ملا تھا جو 3106 قیراط کا تھا اسے ’کلینن‘ کا نام دیا گیا تھا۔ دوسرا بڑا ہیرا بھی بوٹسوانہ سے ملا ہے۔ یہ ہیرا ٹینس بال کے برابر ہے اور 1،109قیراط کا ہے جو 2015 میں ہاتھ آیا تھا۔

    لینیٹ آرمسٹرونگ نے کہا کہ ہمارے ابتدائی تجزیے سے یہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جوہر معیار والا پتھر ہوسکتا ہے۔ ہم ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکے کہ اسے ڈی بیئرز چینل کے ذریعہ فروخت کرنا ہے یا سرکاری اوکاوانگو ڈائمنڈ کمپنی کے توسط سے۔ یہ بہت غیرمعمولی اور نایاب ہے اور پوری قوم کے لئے ایک پرامید خبر بھی ہے-

    معدنیات کے وزیر ، لیفوکو موگی نے کہا ،ابھی تک اس ہیرے کا نام نہیں رکھا گیا ہے جس کی لمبائی 73 ملی میٹر، چوڑائی 52 ملی میٹر اور موٹائی 27 ملی میٹر ہے۔

    واضح رہے کہ دیبسوانا اینگلو امریکن ڈی بیئر اور بوٹسوان حکومت کے درمیان مشترکہ منصوبہ ہے جس کمپنی نے اسے دریافت کیا ہے وہ ہیروں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ادارے ’ڈی بیئرز‘ کا ہی حصہ ہے بوٹسوانہ افریقہ بھر میں ہیروں کے ذخائر کی وجہ سے مشہور ہے اور ڈیبسوانہ کمپنی جو بھی ہیرا فروخت کرتی ہے اس کی 80 فیصد رقم حکومت کو ملتی ہے۔ تاہم کووڈ 19 کی وجہ سے سال 2020 سے اب تک وہاں کے ہیروں کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    طالبعلم نے کاٹھ کباڑ سے شمسی کار بنالی

  • طالبعلم نے کاٹھ کباڑ سے شمسی کار بنالی

    طالبعلم نے کاٹھ کباڑ سے شمسی کار بنالی

    جنوبی افریقہ کے ملک سیرا لیون کے 24 سالہ موجد امانوئیل آلیو منسارے نے فالتو کاٹھ کباڑ استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد کار بنا لی –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ کار تقریباً 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتی ہےامانوئیل نے اپنی اس ایجاد کو ’’تصوراتی کار‘‘ (امیجی نیشن کار) کا نام دیا ہے جس میں واحد نئی چیز شمسی پینل ہے جو کار کی چھت پر لگا ہوا ہے۔

    کار بہت چھوٹی سی ہے جس میں اوسط جسامت کے صرف ایک فرد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس کے دروازے اور پہیے تک کباڑیئے کی دکان سے خریدے ہوئے سستے سامان پر مشتمل ہیں۔

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    کار کا انجن بنانے کےلیے امانوئیل نے پرانی اور استعمال شدہ چیزوں کو مرمت کرکے نہ صرف مہارت سے آپس میں جوڑا بلکہ اس انجن کے ساتھ کلچ، بریک، ایکسلریٹر اور گیئر باکس تک کا اضافہ کردیا تاکہ ضرورت پڑنے پر کار کی رفتار تبدیل کرنے کے علاوہ اسے ’’ریورس گیئر‘‘ میں بھی ڈالا جاسکے۔

    علاوہ معذور افراد بھی یہ کار بہ آسانی خود ڈرائیو کرسکتے ہیں یعنی انہیں اس کےلیے کسی دوسرے ڈرائیور کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    امانوئیل کا کہنا ہے کہ یہ کار ایجاد کرنے میں انہیں کئی سال لگ گئے جبکہ اس پر 500 ڈالر کی مجموعی لاگت آئی ہے لیکن اب وہ باقاعدگی سے شہر کے آس پاس گاڑی چلاتے ہیں۔

    مستقبل میں وہ اسے مزید بہتر بناتے ہوئے اپنے ملک میں صاف ستھری اور کم خرچ ٹرانسپورٹ کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں۔

    "ونڈ کیچر” ونڈ ٹربائن سے سالانہ 5 گنا زیادہ بجلی بنانے والا گرڈ سسٹم

    امانوئیل نے کہا کہ اب پہلے سے کہیں زیادہ قابل تجدید ذرائع نقل و حمل کی ضرورت ہے تاکہ اپنے باشندوں کے لئے صاف ستھری ہوا کو یقینی بنایا جاسکے۔ فضائی آلودگی کی بات کی جائے تو افریقہ کو دنیا کا 17 واں انتہائی کمزور ملک قرار دیا گیا ہے –

    امانوئیل نے کہا کہ لوگوں کا خیال تھا "تصوراتی کار” کے خود تعلیم یافتہ انجینئر اور موجد کو ان کے خیال کی زیادہ حمایت حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ میں نے گھر سے دی گئی پاکٹ منی جمع کی اور اس پر خرچ کی-

    رپورٹ کے مطابق امانوئیل نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا تھا کہ جب لوگوں نے انہیں کاٹھ کباڑ کے ڈھیر پر اس کے لئے کار آمد اشیاء ڈھونڈتے دیکھتے تو چتے تھے کہ میں۔ تاہم ، وہ اپنے جدید منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے اور مذاق کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا-

    ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ سے اپنی مرمت خود کرنے والا کنکریٹ

  • افغان امن معاہدہ      ازقلم:  محمد عبداللہ گِل

    افغان امن معاہدہ ازقلم: محمد عبداللہ گِل

    افغان امن معاہدہ
    ازقلم محمد عبداللہ گِل
    افغانستان وہ سر زمین ہے کہ جس نے وقت کے فرعونوں کا مقابلہ کیا ھے۔چاہے وہ تقسیم ہند کے بعد متحدہ روس ہو یا تقسیم برصغیر سے پہلے برطانوی راج ہو ان اللہ کے شیروں نے جہاد کے علم کو بلند رکھا اور دشمن کو پیغام دیا کہ اسلام زندہ ھے اور اسلام تلوار والا دین ھے۔روس کی جنگ جب ختم ہوئی اور روس شکست خوردہ ہوا تو ہر کسی نے کہا کہ امریکہ نے مدد کی افغان مجاہدین کی۔اس کے بعد جب جارج بش جو کہ امریکی صدر تھا اس نے جنگی جنون میں اور اپنی طاقت پر ناز کرتے ہوئے افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دی پھر اپنی مدد کے لیے نیٹو فورسز کو بھی بنا لیا۔ادھر آپ غور فرمائے کہ 35 ممالک کا اتحاد افغان مجاہدین سے جنگ لڑنے کے لیے آیا اور افغان مجاہدین تن تنہا ان کا مقابلہ کر رہے تھے۔وقت گزرتا گیا ایک وقت تھا کہ بش انتظامیہ کہتی تھی کہ ہم ان کو واپس پتھر کے دور میں بھیج دے گے اس 20 سالہ جنگ میں امریکہ کو وہاں کی کٹھ پتلی حکومت نے مدد کی۔لیکن افغان مجاہدین نے رب تعالی سے مدد طلب کی اور اللہ پر یقین و توکل کیا۔
    فرمان الہی ہے:-
    مَنۡ  یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ  فَہُوَ حَسۡبُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ  بَالِغُ  اَمۡرِہٖ ؕ قَدۡ جَعَلَ اللّٰہُ  لِکُلِّ شَیۡءٍ  قَدۡرًا ﴿۳﴾
    "اورجو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تووہی اُس کوکافی ہے،بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپناکام پوراکرکے رہنے والا ہے یقیناًاللہ تعالیٰ نے ہرچیزکے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔”
    امریکہ ہو ناز تھا تو اپنی طاقت پر ناز تھا اپنے راکٹ اور مزائل ٹیکنالوجی پر ناز تھا۔امریکہ متکبر تھا کہ میں سپر پاور ہوں لیکن افغان مجاہدین نے اللہ پر  بھروسہ رکھتے ہوئے وقت کے فرعون کا مقابلہ کیا۔پھر وقت نے پلٹا کھایا کہ آج وہی امریکہ ہے 2020 میں ٹرمپ انتظامیہ میرے وطن پاکستان کی منت سماجت کر رہی کہ افغانستان سے ہمیں  فوجیں نکالنا کا راستہ لے دے۔امریکہ شکست خوردہ ہو گیا۔
    پھر معاہدات ہونے لگے۔چونکہ افغان مجاہدین سنت اور قرآن‌ کو ماننے والے تھے اس لیے جیسا کہ اسلام کا حکم ھے جنگ کے بعد امن معاہدہ لازم ہوتا ھے۔اس لیے آج میں ان لبرل مافیہ اور سیکولرازم کے ماننے والوں اور پجاریوں سے پوچھتا ہوں کہ افغانستان میں داخل تو امریکہ ہوا تھا ہنی طاقت کے ذوق میں لیکن افغان مجاہدین نے جب مار گرائے تو امریکہ امن کی طرف آیا تو ان افغان طالبان نے امن کا بھی خیر آمد کیا۔دراصل میں اس امن معاہدے کی طرف نشاندہی کرنا چاہ رہا ہوں جو کہ ہفتہ کے روز 12 جون کو سعودی عرب کی سربراہی میں ہوا جس میں پاکستان کے کبار علمائے کرام علامہ ساجد میر،ساجد نقوی صاحب،حافظ ظاہر اشرفی اور وزیر مذہبی امور نے شرکت کی۔اس امن معاہدے پر پاکستان اور افغان مجاہدین کے نمائندگان نے دستخط کیے۔دراصل اس معاہدے کا مقصد افغانستان میں امن کے لیے کوشش کرنا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑنے سے بچانا ھے۔جیسا کہ آپکو پتہ ہے کہ عنقریب افغانستان کا کنٹرول افغان طالبان سنبھال لے گے اور خلافت راشدہ کے طرز پر حکومت قائم کرنے والے ہیں یہ معاہدہ دراصل او آئی سی کی طرف سے ایک پیش قدمی معاہدے کے طور پر بھی ثابت ہو سکتا کہ سعودی عرب اور پاکستان افغان مجاہدین کی مستقبل میں بننے والی حکومت کی پیشگی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں۔کیونکہ اس وقت بھی افغانستان کے بیشتر حصہ پر افغان مجاہدین کا کنٹرول ہے اور وہ اب کابل کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔دوسری طرف اب امریکہ نواز  اشرف غنی بھی اپنے آقاوں کے پاس یعنی کہ امریکہ جانے کی تیاری میں ھے۔یہ معاہدہ دراصل پاکستان کی اہمیت کو بھی واضح کرتا ھے کہ کیونکہ پاکستان کو اہمیت دی گئی پاکستان کے علماء سے مشاورت لی گئی ھے۔اس بات کو تو دنیا جانتی ہے کہ افغان طالبان کی مدد پاکستان نے کی ھے۔اگرچہ اس معاہدے کے بعد پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی جو کہ وہاں موجود را کے نیٹ ورک کے ذریعے کی جاتی ھے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔کیونکہ افغان مجاہدین کا اور ہمارے شیر صفت افواج کا رخ اب ان داعش کے نیٹورک کی طرف ہے جس کی مالی معاونت امریکہ کرتا ھے اور وہ اس لیے کہ جہاد کو بدنام کیا جا سکے۔لیکن جہاد تو جاری رہنا ہے تا قیامت جاری رہنا ھے۔
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
    حضرت اقبال کے اس شعر کا عملی نمونہ افواج پاکستان اور آپکی خفیہ ایجنسی نے پیش کیا ھے۔جنرل حمید گل رحمہ اللہ کی ایک بات یاد آ گی؛-
    "ایک وقت آئے کا جب دنیا کہے گی کہ پاکستان نے امریکہ کی مدد سے امریکہ کو ہی شکست دے دی”
    افغان مجاہدین کی حکومت قائم ہونے کے بعد افغانستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا بلکہ ہر شعبے میں آگے بڑھے گا کیونکہ انہوں نے خون شہیداں کی کھاد لگائی ھے۔
    افغان باقی کہسار باقی
    الملک للہ الحکم ل