Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مصنف و مزاح نگار مشتاق یوسفی کی آج تیسری برس منائی جا رہی ہے

    مصنف و مزاح نگار مشتاق یوسفی کی آج تیسری برس منائی جا رہی ہے

    مصنف و مزاح نگار مشتاق یوسفی کی آج تیسری برس منائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : مشتاق احمد یوسفی 4 سمتبر 1923ء کو جے پور بھارت میں پیدا ہوئے، انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی، بعدازاں اپنی اہل خانہ کے ساتھ پاکستان ہجرت کرنے کے بعد وہ مختلف بینکوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

    مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں انشائیے، خاکے، آپ بیتی سب کچھ شامل ہے اور ان سب میں طنز و مزاح کی وہ پرلطف روانی موجود رہی جسے پڑھ کر اردو زبان اور مزاحیہ ادب کا ہر قاری مشتاق احمد یوسفی کا گرویدہ نظر آتا ہے۔

    ادب سے وابستہ افراد کے مطابق مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کی تحریروں میں ماضی کی حسین یادوں کے ساتھ سماجی، سیاسی، تہذیبی اور ادبی ہررنگ کی جھلک ملتی ہے۔

    مشتاق احمد یوسفی کے کل پانچ مجموعے شائع ہوئے، جن میں چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت، آب گم اورشام شعر یاراں شامل ہیں۔

    ادب میں نمایاں خدمات پر حکومت پاکستان نے انھیں 1999ء میں ستارہ امتیاز جبکہ 2002ء میں ہلال امتیاز سے نوازا۔ اردو کے صف اول کے مزاح نگاروں میں شمار ہونے والے ہر دلعزیز مصنف علالت کے باعث 20 جون 2018ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے-

  • ‏”پاکستان کا لوکل گورنمنٹ سسٹم اور معاشرتی ترقی”. تحریر:محمد محسن رفیق

    ‏”پاکستان کا لوکل گورنمنٹ سسٹم اور معاشرتی ترقی”. تحریر:محمد محسن رفیق

    پوری دنیا اس وقت سات بڑے براعظموں میں تقسیم ہے۔ ہر براعظم بلکہ ھر ریجن اور ملک اپنی اپنی ضروریات کے مطابق اپنے نظام کو چلا رھا ھے۔ ھر ملک کا اک الگ طور طریقہ اور الگ قسم کی ثقافت ہے۔ ان تمام عوامل کے ساتھ ساتھ تقریباً ہر ملک کا سیاسی اور انتظامی نظام بھی الگ الگ قسم کا ہے۔ اگر آپ تاریخ میں نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں جسکی لاٹھی اسکی بھینس والا قانون تھا۔ جس کے ھاتھ میں طاقت ھوتی تھی وہ اسکو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا تھا۔ تب یہ دنیا اتنے ملکوں نہیں بلکہ بڑی بڑی امپائرز میں تقسیم تھی مثلاً رومن امپائر، پرشین امپائر اور اوٹمان امپائر وغیرہ وغیرہ۔ ان امپائرز میں بادشاہ جو کہتا تھا وہی ٹھیک ھوتا تھا۔ مجال ہے کہ کوئی اس کے سامنے بولنے کی جراءت بھی کرتا چاھے بادشاہ پرلے درجے کا ان پڑھ اور ناسمجھ ھوتا۔ اس زمانے میں چاپلوسی بھی بھت اعلیٰ درجے کی ھوتی تھی۔ خیر یہ تمام خوبیاں تو آج بھی ھمارے نظام میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کا سیاسی اور انتظامی نظام بدلنے لگا۔ لوگ بادشاہت کے خلاف بولنے لگے۔ لوگوں نے غلامی کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ جمھوریت کا نعرہ گونجنے لگا۔ پوری دنیا میں لوگوں نے آزادی اور جمہوریت کی جدوجھد کے لیے اپنی لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس طرح جمھوری نظام نے بادشاہی نظام کی جگہ لے لی۔

    جمھوری نظام کا مطلب کہ تمام شھری قانونی اور آئینی لحاظ سے برابر ہیں۔ کسی کو کسی دوسرے پر ذات، رنگ، نسل اور مزھب کے لحاظ سے کوئی برتری حاصل نھیں۔ اس نظام میں بادشاہت کے نظام کے بر خلاف ھر شھری کو ائینی، قانونی اور سیاسی نظام میں شرکت کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ لھذا جمھوریت میں انتظامی اور سیاسی نظام میں عام عوام نے بھی کھل کر حصہ لینا شروع کر دیا جسکی بدولت اک نیا انتظامی سسٹم معرضِ وجود میں آیا جسکو ھم عام طور پر لوکل گورنمنٹ سسٹم کے نام سے جانتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ چلنے والا جمھوری نظام ہے اور ہر جمھوری ملک میں اک لوکل گورنمنٹ سسٹم پایا جاتا ہے جو کہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس ملک میں سیاسی طاقت کو عام عوام تک پہنچایا گیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ سسٹم کے بنیادی کاموں میں تعلیم، صحت، پارکس، لوکل فنکشنز، سینیٹیشن، صاف پانی اور گلیاں وغیرہ شامل ہیں۔ ہر ملک کا لوکل گورنمنٹ سسٹم دوسرے ملک سے مختلف ھوتا ھے کیونکہ انکی ضروریات اور ریسورسز اک جیسے نہیں ہوتے۔ باقی تمام اچھے اچھے کام کرنے میں اچھے نمبرز لینے والے ممالک لوکل گورنمنٹ سسٹم میں بھی پہلے نمبروں پر براجمان ہیں۔ لوکل گورنمنٹ سسٹم میں پہلا نمبر سوئٹزرلینڈ کا ھے۔ دوسرا نیوزی لینڈ، تیسرا ڈنمارک اور چوتھا سویڈن کا ھے۔ بلکل دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم موجود ہے جو کہ مختلف ادوار کے داؤ پیچ کھاتا ہوا اور کچھوے کی چال چلتا چلتا ھمارے سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ براجمان ہے۔ اگر آپ پاکستان کے لوکل گورنمنٹ سسٹم کی تاریخ دیکھیں تو کوئی خاطر خواہ سکوں نھیں ملتا کیونکہ کسی بھی گورنمنٹ نے اسکو اس کے اختیارات سے ھمکنار ہی نہیں کیا سوائے جنرل پرویز مشرف کے ڈیولیوشن پلان کے جس کے تحت پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کو خاطر خواہ اختیارات اور فنڈز مہیا کیے گئے۔ پاکستان میں سب سے پہلے ایوب خان نے چار درجوں پر مشتمل لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کروایا جس میں ڈویثرنل، ڈسٹرکٹ، تحصیل/تلکہ، اور یونین کونسل شامل تھی۔ مشرف کی طرح یہ لوکل باڈی سسٹم کی کارکردگی بھی جمھوری حکومتوں کی نسبت ٹھیک تھی۔ ان دونوں آمروں نے نئے لوکل گورنمنٹ سسٹمز متعارف کروائے تا کہ سیاسی پاور کو گراس روٹ لیول تک تقسیم کیا جائے۔ اس علاؤہ جمھوری حکومتوں نے انہیں کو توڑ مروڑ کر اپنی چلتی گاڑی کو دھکا دیا۔ خیر مختصراً یہ کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم برائے نام ھی ھے کسی بھی حکومت نے اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش نھیں کی۔ اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ھر گلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، گندا پانی سڑکوں پر نکل رھا ھے، صاف پانی دور دور تک نظر نھیں آتا، دیھاتی علاقوں میں صحت اور تعلیم کا نظام درھم برہم ھے۔ لوکل فنکشنز نہ کروانے کی وجہ سے ھماری آنے والی نسلیں اپنے کلچر سے دور ھوتی جا رھی ھیں وغیرہ وغیرہ۔۔

    موجودہ دور میں بھی لوکل گورنمنٹ سسٹم کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ جب عمران خان کی حکومت آئی تو جناب وزیراعظم صاحب نے پاکستان کے لوکل گورنمنٹ سسٹم پر بھرپور محنت کی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اب بس چٹکی میں پاکستان کے حالات ٹھیک ھو جانے ھیں۔ عمران خان آمروں کی طرح پاکستان میں اک نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کروانے جا رھا تھا یھاں تک کہ نئے سسٹم کی ڈرافٹنگ بھی مکمل ہو گئی تھی لیکن پھر پتہ نہیں کیا بنا سب کچھ اک دم سے جیسے منظرنامہ سے غائب ہو گیا۔ پاکستان کے لوکل گورنمنٹ سسٹم کے فلاپ ھونے کی ویسے تو بہت سی وجوہات ہیں لیکن چند اک بہت نمایاں ہیں۔ سب سے پہلے تو یھاں لوکل باڈیز کے الیکشن وقت پر نھیں ھوتے۔ ہر حکومت ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ھوے آخری اک ڈیڑھ سال میں الیکشن منعقد کرواتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ برادری سسٹم ھے کہ لوگ اپنی برادری کو ھی ووٹ ڈالتے ہیں چاھے وہ بلکل ان پڑھ ھو اور اسکو معاشرے کی خاص طور پر نئی ضروریات کے بارے کؤی علم نہیں ھوتا۔ تیسری وجہ ان لوکل باڈیز کے منتخب نمائندوں کو کوئی ٹریننگ نہیں کروائی جاتی جسکی وجہ سے یہ سسٹم تقریباً ناکارہ ہو جاتاہے۔ آخری اور سب سے اہم وجہ فنڈز کی کمی ہے۔ اگر عمران خان واقع ملک میں تبدیلی لانا چاہتا ہے تو وہ ڈیویلپمنٹ فنڈز کو سیدھا یونین کونسل کے حوالے کرے اور اک نھایت سخت قسم کا اکاؤنٹیبلٹی سسٹم بھی متعارف کروائے تا کہ یہ پیسے بجائے ایم۔پی۔اے یا ایم۔این۔اے کی جیبوں میں جانے کے سیدھا عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ھوں۔ اور اگر ایسا ھو جائے اور 2,3سال جو بچے ہیں ان میں ڈیویلپمنٹ کا فنڈ لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت ایمانداری کے ساتھ لگا دیا جائے تو نہ تو ھمارا کوئی تعلیم کا مسلہ رہے، نہ صحت کا، نہ صاف پانی کا، نہ گلیوں نالیوں کا اور نہ ھی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کا۔ اور اگر خان نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کروانے میں ناکام رہا تو پھر ھمارہ ھمیشہ کی طرح اللہ ہی حافظ۔۔۔۔۔

  • تعلیم، تعلیمی نظام اور طالب علم. تحریر: فضل عباس

    تعلیم، تعلیمی نظام اور طالب علم. تحریر: فضل عباس

    علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب

    انسان جنت سے زمین کا مسافر ہوا تو زندگی کی شروعات انتہائی سادگی سے کی
    جوں جوں وقت گزرتا گیا انسان اپنے اردگرد کی چیزوں کے بارے میں کھوج لگاتا رہا اور ان کے بارے میں جاننے لگا انسان کی اس کھوج لگانے اور اردگرد کے بارے میں جاننے کی کوشش کو علم کہتے ہیں اور علم حاصل کرنے کو تعلیم کہتے ہیں

    اگر ہم تعلیم کے حوالے سے اسلام کی بات کریں تو اسلام دین فطرت ہے اسلام تعلیم کی طرف بلاتا ہے اسلام دعوت دیتا ہے کہ زمین میں جو کچھ ہے اسے تلاش کرو جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
    "اے ایمان والو زمین کی سیر کرو اور اس میں جو کچھ ہے اس کی تلاش کرو”

    تعلیم کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار احادیث بیان فرمائی ہیں ان میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:
    "علم حاصل کرو ماں کی گود سے لے کر قبر تک”

    "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے”

    ہمارے ہاں تعلیم کے بنیادی طور دو نظام رائج ہیں ایک دینی تعلیم ایک دنیاوی تعلیم
    دینی تعلیم میں قرآن پاک،احادیث اور فقہ کی تعلیم دی جاتی ہے جبکہ دنیاوی تعلیم میں سائنس آرٹس اور دیگر علوم کی تعلیم دی جاتی ہے

    دنیاوی تعلیم کی بات کریں تو اس کے مختلف نظام ہیں سرکاری اسکولوں میں اردو میڈیم پرائیویٹ اسکولوں میں انگلش میڈیم اور اس کے علاوہ کیمبرج آکسفورڈ وغیرہ کے نظام ہیں

    اس تقسیم نے پاکستان کے طلباء کے درمیان تفریق پیدا کر دی ہے پاکستانی طلباء کی سوچ بٹ چکی ہے اردو میڈیم والے طلباء کو انگلش میڈیم والے طلباء اچھے نہیں لگتے انگلش میڈیم والے طلباء کو اردو میڈیم والے طلباء گوار لگتے ہیں آکسفورڈ اور کیمبرج والے طلباء خود کو اعلیٰ مانتے ہیں

    اس کے علاوہ جو تعلیم ان سب ذرائع سے مل رہی ہے اس سے کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچ رہا کوئی تعلیم حاصل کر کے مغرور بن رہا ہے تو کوئی بے راہ روی کا شکار ہو رہا ہے کوئی پیسہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے تو کوئی اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہا ہے
    بقول شاعر
    جس قوم کے بچے نہیں خود دار و ہنر مند
    اس قوم سے تاریخ کے معمار نہ مانگو

    اس سے آگے چلیں تو امتحان کا نظام آتا ہے جو شروع سے بہت کمزور رہا ہے اس نظام میں کئی خامیاں موجود ہیں یہاں طالب علم کی قابلیت، محنت ممتحن کی مرہون منت ہوتی ہے اگر اس کا مزاج اچھا ہو تو طالب علم کی محنت وصول ہو جاتی ہے اگر وہ غصے میں ہو تو طالب علم کی محنت ضائع ہو جاتی ہے

    اس کے علاوہ امتحان کے نظام میں رشوت خوری عام ہو چکی ہے امیر طلباء بغیر محنت کے پاس ہو جاتے ہیں جبکہ غریب طلباء محنت کر کے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں یہ نظام طلباء کے لیے باعث مایوسی ہے

    اور اوپر سے ستم یہ کہ کورونا وائرس آ گیا کورونا وائرس نے تعلیمی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے نہ طالب علم کو پتا ہوتا ہے کہ اسکول کب کھلیں گے نہ یہ پتا ہوتا ہے کہ کب اسکول بند ہوں گے اس کی تازہ مثال پچھلے سال ہونے والا ایم ڈی کیٹ کا امتحان ہے جہاں لاکھوں طلباء میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے امتحان دے رہے تھے لیکن آخری وقت تک تاریخ بدلتی رہی جس کی وجہ سے مجھ سمیت لاکھوں طلباء ذہنی اذیت میں مبتلا رہے

    اب آتے ہیں طالب علموں پر دنیا بھر میں کئی طرح کے طالب علم ہوتے ہیں محنتی بھی ہوتے ہیں کام چور بھی اسی طرح پاکستان میں بھی طالب علموں کا امتزاج ہے لیکن کورونا وبا نے طلباء کی اکثریت کو پڑھائی سے بیزار کر دیا ہے اب طالب علم ہر وقت تعلیم سے راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر چند نام نہاد راہنماؤں کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں ہر وقت امتحان منسوخ کروانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں یہ صورت حال پاکستان کے لیے بہت افسوس ناک ہے

    لیکن اس کے باوجود گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہم سب مل کر اس نظام میں بہتری لا سکتے ہیں بطور طالب علم ہمیں اپنے اندر ولولہ پیدا کرنا ہے اور یک نصابی کتب کے حوالے سے موجودہ حکومت کی کوششیں قابل تعریف ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں تعلیم کے میدان میں کامیابی عطاء فرمائے آمین ♥️
    تحریر: فضل عباس

  • تعلیم کیوں ضروری ہے. تحریر: ملک ضماد

    تعلیم کیوں ضروری ہے. تحریر: ملک ضماد

    حدیث شریف کا مفہوم ہے
    طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ
    عِلم کا حاصل کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت)پرفرض ہے۔
    (سنن ابن ماجہ)
    اب تعلیم کے مختلف مراحل اور شعبے ہیں جن میں انسان کو پہلے مرحلے میں وہ تعلیم حاصل کرنی جس سے وہ ایمان کو سمجھ بوجھ سکے
    پھر اس کو اتنا علم حاصل کرنا چاہیے جس سے وہ پاکی، ناپاکی، حلال، حرام، کا فرق کر سکے
    پھر ارکان اسلام کے بارے میں اتنا علم ضروری ہے جس سے وہ اسلام کے بنیادی ارکان کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے والا بن جائے
    پھر اس کو معاشرے، ماحول کے بارے میں بھی اتنا علم ہونا چاہئے تاکہ اس کو پتہ چل سکے اس وقت ہمارے معاشرے میں کیا اور کیسے چل رہا ہے سب
    معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار اپنے علم کی بنیاد پے ادا کر سکے
    دور حاضر میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے جس سے انسان کو نا صرف اپنے ادر گرد بلکہ ضلع، صوبہ، ملکی سطح پر حالات و واقعات سے واقف ہو سکے اور دنیا میں چلنے والی ٹیکنالوجی کو بھی سمجھ سکتا ہو اور اس کے مطابق معاشرے میں چلنے اور اس پے عمل کرنے کی صلاحیت رکھنا بھی آج کے دور میں ضروری ہے
    تاکہ انسان اگر دین کا کام بھی کرے تو اس کے لیے بھی اس کو مشکل نا ہو وہ آسانی سے ہر علاقے، گلی، محلے  میں جا کر دیں اسلام کی تبلیغ کر سکے

    اسی طرح اگر اس نے کوئی کام کاروبار کرنا ہے تو اس کے لیے بھی ضروری ہے اس کو اتنا علم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے کاروبار کو حلال طریقے سے چلا سکے
    اپنے ماتحت لوگوں کے حقوق کا اس طرح خیال رکھے جیسے شریعت اس کو اجازت دیتی ہے اور شریعت اس کو بتاتی ہے
    دنیاوی علم اتنا ضروری ہے اس دور جدید میں ہم دنیا سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں
    علم حاصل کرنے کا مقصد صرف نوکری حاصل کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کا ایک اہم فرد بننے کے لیے ضروری ہے اتنا علم ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے میں اپنی روز مرہ کی زندگی عزت و احترام سے گزارے اور اپنے ارد گرد لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچائے
    علم کا مقصد صرف حاصل کرنا ہی نہیں بلکہ اس علم سے دوسروں کو سیراب کرنا بھی ضروری ہے
    ہم علم حاصل کر کے اپنے آپ کو تو فائدہ دے سکتے ہیں لیکن اس سے وہ علم جہاں تک ہے وہاں ہی رک جائے گا لیکن اگر ہم اسی علم کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اور اس سے باقی لوگوں کو فائدہ پہنچائیں گے تو وہ علم بڑھتا رہے گا اور اس میں ہمارا حصہ بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    ایک اور حدیث شریف کا مفہوم ہے
    ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: علم حاصل کرو، گو تمہیں چین میں جانا پڑے”
    اس حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم حاصل کرنے کی اہمیت کے بارے میں بتایا علم حاصل کرنے کے لیے آپ کو کتنا بھی دور جانا پڑے آپ جاو اور علم حاصل کرو
    تعلیم کے بعد اگر کوئی انسان کوئی چھوٹا موٹا کام یا نوکری بھی کرتا ہے تو اس میں اور جو بغیر تعلیم کے بڑے سے بڑا کاروبار بھی کر لے اس میں واضح فرق دیکھنے کو ملتا ہے
    بڑھا لکھا آدمی چھوٹا کام، کاروبار کر کے بھی بڑا بن سکتا ہے لیکن تعلیم کے بغیر شروع کیا گیا کام، کاروبار جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں ہی رہتا ہے اکثر دیکھا گیا ہے پڑھے لکھے لوگ نیچے سے اوپر جانے پر یقین رکھتے ہیں جب اس کے برعکس جو لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے وہ ڈائریکٹ اوپر جانا چاہتے ہیں جس سے وہ اکثر منہ کے بل گرتے ہیں اور اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں
    تعلیم کا اتنا ہونا ضروری ہے انسان اپنے معاشرے میں روزمرہ کی زندگی عزت و احترام اور دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ساتھ گزار سکے اور دور جدید میں دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہو

  • ڈو مور سے نو مور تک کا سفر.تحریر: ملک ضماد

    ڈو مور سے نو مور تک کا سفر.تحریر: ملک ضماد

    پاکستان کو آزاد ہوئے 74 سال ہو گئے لیکن ابھی تک ہم انگریزوں کے غلام بنے ہوئے تھے
    کبھی امریکہ تو کبھی یورپ کے آگے ہم جھکے رہتے تھے
    امریکہ امداد اور فنڈز کے نام پے ہمیں پیشہ تو دیتا رہا لیکن ہم سے اپنی مرضی کے کام بھی لیتا رہا
    کبھی روس کے خلاف جنگ میں مدد تو کبھی افغان جنگ میں پاکستان کی سرزمین استعمال کی جاتی رہی
    کبھی پاکستان کے اندر اسامہ کے لیے آپریشن پاکستان ملٹری اکیڈمی کے ساتھ کر کے چلے جاتے تھے تو کبھی بغیر کسی اجازت یا پیشگی اطلاع کے پاکستان کے جس شہر میں دل کرتا تھا ڈرون اٹیک کر کے پاکستانیوں کو شہید کر کے چلا جاتا تھا اور ہم بات بھی نا کر سکتے تھے کیوں کہ امریکہ ہمیں امداد دے رہا تھا
    ہم بولنے کی ہمت بھی کرتے تو ہمیں مختلف پروگرامز جو آئی ایم ایف یا امریکہ کے تعاون سے چل رہے ہوتے تھے ان کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی تھی یا پھر پاکستان پر پابندیاں لگانے کی دھمکیان دی جاتی
    جس سے پاکستان کے حکمران اپنی غلامی اور خوف کا پورا حق ادا کرتے اور جو جو کچھ امریکہ کہتا پاکستان وہ پورا کرتا بھلے اس مین پاکستان کا نقصان ہی کیوں نا ہو رہا ہوتا

    میرے ملک کے بچے عورتیں ہی کیوں نا ڈرون حملوں میں شہید ہو رہے ہوتے
    ہمیں تو ڈالرز مل رہے تھے نا
    اس طرح پاکستان کا نام پوری دنیا میں ڈرپوک اور غلام کی طرح مشہور ہوا
    پاکستان کے سابقہ کرکٹر، موجودہ وزیراعظم عمران خان جب سے سیاست میں آیا اس کا پہلے دن سے مطالبہ رہا کہ امریکہ کی غلامی چھوڑو اور اپنے پاوں پے کھڑا ہونے کی کوشش کرو لیکن کسی نے اس کی نا سنی الٹا اسی پے باتیں شروع کر دی
    جب پاکستانی حکمرانوں نے نا سنی تو اس نے خود عوام کے ساتھ مل کر امریکہ کو جواب دینے کے لیے وزیرستان کی طرف لانگ مارچ کیا، عوام کے ساتھ مل کر نیٹو کی سپلائی جو پاکستان سے افغانستان جاتی ہے کو روکے رکھا
    اس کے بعد عمران خان کے خلاف بیرونی طاقتیں متحرک ہوئی اس کو چپ کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ پاکستان کا درد رکھنے والا لیڈر تھا وہ نا ڈرا اور نا چپ ہوا اپنی آواز بلند کرتا رہا
    اس نے ایک ہی بات کو ذہن میں بٹھائے رکھا ہر ملک سے دوستی رکھی جائے گی لیکن وہ دوستی برابری کی سطح پر ہو گی نا کہ ابتری کمتری کی سطح پر

    اس طرح جب اس نے اقتدار سنبھالا تو اس نے سب ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن وہ تعلقات برابری کی سطح پر
    اس نے اسلامی ممالک کو اکٹھا کرنے اور مغرب اور یورپ کے پریشر سے نکلنے کے لیے کوششیں کی
    اس نے یورپ کے بجائے سعودیہ، ایران، ملیشیاء، ترکی، یو اے ای، قطر اور باقی بھی اسلامی ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کیا
    امریکہ کو ہر دفعہ منہ توڑ جواب دیا اور بتایا ہم اتحادی اور دوست تو ہیں لیکن یہ بات کبھی نہیں مانی جائے گی آپ اوپر اور ہم نیچے ہیں
    ہم برابری کی سطح پر کام کریں گے
    اگر امریکہ مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے تو اس کو میرے برابر کے بندے کو میرے پاس بھیجنا ہو گا
    میں سیکنڈ ٹیئر لیڈر شپ سے بات نہیں کروں گا
    پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی دفعہ دیکھنے کو ملا کہ کسی پاکستانی حکمران نے امریکہ کی سی آئی اے کے چیف سے ملنے سے انکار کیا
    اس سے پہلے امریکی چپڑاسی کے آگے ہمارے لیڈرز ایسے سر جھکائے کھڑے ہوتے تھے جیسے وہ ہی سب سے بڑے لیڈر ہیں
    عمران خان نے انٹرنیشنل میڈیا کو انٹرویو میں واضح کیا جو چہہ میگوئیاں چل رہی ہیں پاکستان دوبارہ افغانستان آپریشن کے لیے اپنے اڈے امریکہ کو دے رہا ہے وہ سب جھوٹ ہے پاکستان کبھی بھی اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کے لیے کسی کو نہیں دے گا
    اس بیان کے بعد پورے پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہو گئے کہ کسی نے تو امریکہ کو منہ توڑ جواب دیا

    "”یہ ہے ڈو مور سے نو مور تک کا سفر””

  • روس اور چین کو لڑاو ، امریکہ نے نئی سازش تیار کر لی ۔۔تحریر: نوید شیخ

    روس اور چین کو لڑاو ، امریکہ نے نئی سازش تیار کر لی ۔۔تحریر: نوید شیخ

    جو موجودہ حالات چل رہے ہیں قدرتی امر ہے کہ چین اور روس کے درمیان تعلقات اب مزید مضبوط ہوں گے اور ان کے زیر اثر جو ممالک ہیں ۔ عنقریب انکا ایک نیا بلاک بنتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ اس سے دنیا میں کافی تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہوں گی ۔

    ۔ جب بھی ایسا ہوا تو یقینی بات ہے کہ اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل اپنا دائرہ اثر کھو دیں گے ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ اس وقت بڑی تیزی سے دنیا ایک نئی دنیا بننے جا رہی ہے ۔ جہاں طاقت کا منبہ دو طاقتیں یا تین یا چار بھی ہو سکتی ہیں ۔ ہر خطے اور ہر علاقے کی اپنی ترجیحات ہوں گی ۔ مفادات ہوں گے ۔ ہر کسی کا اپنا انٹرنیٹ ، اپنی ٹیکنالوجی ، اپنی زبان ، اپنے قانون اور اپنے ہی اصول ہونگے ۔

    ۔ اس لیے فی الوقت تو امریکہ اور مغربی طاقت کا سورج بڑی تیزی سے غروب ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ پر ایک چیز جس کے بارے ہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ مغرب جیسی سازش شاید ہی کوئی کرسکتا ہو ۔ اس میں یہ ماہر ہیں ۔ اور آج اس وی لاگ میں ۔ اس ہی بارے میں آپکو بتاوں گا ۔

    ۔ کہ کیسے امریکہ واقعتا چین اور روس کے مابین پائے جانے والے اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن نے ایک فون کال کے دوران ، دونوں ممالک کے مابین جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد رکھی گئی ۔

    ۔ لگ ایسا رہا ہے کہ بائیڈن کی نئی انتظامیہ نے روس فوبیا کو چھوڑ دیا ہے اور ماسکو سے اتحاد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ چین کی طاقت میں اضافہ کو امریکہ چین کے ہمسایہ میں بڑے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کو قائم کرکے زائل کیا جا سکتا ہے ۔

    ۔ حالیہ جوبائیڈن اور پیوٹن کی ملاقات میں بھی امریکہ یہ ہی کرنے کی کوشش کرے گا ۔ کہ روس کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیا جائے اور بدلے میں روس کم ازکم چین والے میں معاملے میں نیوٹرل ہوجائے ۔ چپ ہو جائے ۔ کیونکہ اکیلے اکیلے چین یا روس کا مقابلہ کرنا امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے لیے زیادہ آسان ہے ۔ یہ وہی برسوں سے آزمودہ فارمولا ہے ۔ divide and rule والا۔ ابھی تک تو امریکہ اس سلسلے میں کامیاب ہوتا دیکھائی نہیں دیتا ہے ۔

    ۔ مگر یاد رکھیں طاقت کے اپنے اصول ہیں ۔ روس کا یہ خوف کہ وہ چین کے مقابلے میں کمتر حیثیت کا ہے ۔ مستقبل میں چین کے ساتھ تعاون کو روک سکتا ہے۔ روس میں واقعی کچھ لوگوں کو خوف لاحق ہے کہ چینی معیشت پر زیادہ انحصار ماسکو کو مراعات دینے پر مجبور کردے گا جس پر اب تک تو روس نے مزاحمت کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر روس کو لگا کہ اسے غیر منظم طور پر کسی محکوم مقام پر رکھا گیا ہے ۔ یا اگر چین کو لگتا ہے کہ اسے مغرب کے ساتھ کسی ناپسندیدہ تصادم میں گھسیٹا جارہا ہے۔ اور روس ساتھ نہیں دے رہا ۔تو یہ مفاہمت ختم بھی ہوسکتی ہے ۔

    ۔ پھر آپ دیکھیں ہیں تو یہ دونوں ممالک ہی بڑے gaints اور شاید ٹیکنالوجی میں روس چین سے آگے ہی ہے ۔ مگر دوسری جانب چین کاروبار میں کافی آگے ہے ۔ یوں دیکھا جائے تو مستقبل قریب میں اگر کوئی ایسا بندوبست ہوجاتا ہے کہ اس خطے میں چین اور روس کی اجارہ داری ہوگی تو اس کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہی ہوگا کہ جنوبی ایشیا ہو ، فار ایسٹ ایشیا ہو ، یوریشیا ہو ۔ اس میں کس ملک کی کمپنی کیا کام کرے گی ۔ کس کو کیا ٹھیکہ ملے گا ۔ تو یہ ایک ایسی چیز اور معاملہ ہے جس کو وقت سے پہلے امریکہ expliot کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اور یوں امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کی امیدیں لگائے بیٹھا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب روس کے اندر موجود بہت سے سکالرز کا خیال یہ ہے کہ یہ بندوبست چین اور روس میں پہلے طے ہوچکا ہے کہ نئی دنیا میں روس تحفظ فراہم کرے گا یعنی سیکورٹی۔۔۔۔

    ۔ اور اسکے ذریعے اپنی طاقت اور پیسے میں اضافہ کرے گا جبکہ چین کاروبار کرے گا ۔ اور بنیادی طور پر چین کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا روس کے اپنے مفاد میں ہے۔ جبکہ Carnegie Moscow Centerکے ڈائریکٹر Dmitri Trenin
    کے الفاظ میں چین کے ساتھ دوستی کا متبادل روس کے لئے تباہی ہوگی۔۔ یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کیونکہ ایک دفعہ مغرب نے چین والا معاملہ حل کرلیا تو اس کا اگلاٹارگٹ یقینی طور پر روس ہی ہوگا ۔۔ اسی لیے پچھلے کئی سالوں میں ماسکو اور بیجنگ اپنے تعلقات کو ایک اعلی سطح پر لے گئے ہیں ۔ روس اپنا جدید ترین ہتھیار جیسے سکھوئی 35 جیٹ لڑاکا۔ ایس 400 میزائل سسٹم چین کو فروخت کررہا ہے۔ یہ چین اور روس کے تعلقات کی قربت کا علامتی ڈسپلے ہے۔ مزید یہ کہ دونوں نئے محاذوں میں داخل ہو رہے ہیں ۔ جن میں مشترکہ ہائی ٹیک منصوبے شامل ہیں ۔ اس میں Tianwan میں روسی فرم Rosatom کے ذریعہ ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر اور Xudapu
    جوہری بجلی گھر شامل ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایک نیا مسافر طیارہ ، CR929 بھی تیار کریں گے اور قمری خلائی اسٹیشن بنانے کا ہدف رکھیں گے۔ ان پیش رفتوں کے اچانک الٹ جانے کا تصور کرنا مشکل ہے ، جس کو حاصل کرنے میں برسوں لگے۔

    ۔ پر سازش اور مغرب ان دوںوں کا پرانا ساتھ ہے ۔ میرے حساب سے امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے سازشوں کا جال بننا شروع کر دیا ہوگا ۔ اور جیسے کواڈ گروپ ، جی سیون اور اب نیٹو کے ذریعے چین پر پریشر بڑھا رہا ہے اس سے تو لگتا کیا ہے بلکہ صاف دیکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ کا اگلا وار یہ ہو گا کہ کسی طرح عالمی سطح پر چین پر sanctions لگوائی جائیں چاہے ۔ پھر چاہے شکنکیانگ والا معاملہ ہو ، تائیوان والا معاملہ ہو ، وباء والا معاملہ یا انسانی حقوق والا معاملہ ہے ۔ کسی بھی ایشو کا اٹھایا جاسکتا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس زور اور شد ومد سے جوبائیڈن اس پر توجہ دے رہے ہیں کہ یہ وائرس کہاں سے اور کیسے شروع ہوا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جلد دنیا کو بتایا جائے کہ یہ انسان کا بنایا ہوا وائرس ہے اور اسکے پیچھے چین تھا یا اسکی لیبارٹری تھی ۔ اور اس کو بنیاد بنا کر چین کھڈے لائن لگایا جا ئے ۔ پر جو بھی اقدام چین کے خلاف اٹھایا گیا اس پر اگر روس خاموش رہا ہے یا چین کے دوست ممالک خاموش رہے تو چین سے نبٹانا آسان نظر آتا ہے ۔ کیونکہ آپ دیکھیں ابھی تک نیٹو ، جی سیون یا کواڈ گروپ کی طرف سے جو بھی بیانات آئے ہیں اس پر چین کے حق میں ابھی تک کسی بھی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے ۔ امریکہ کا پلان بھی یہ ہی دیکھائی دیتا ہے کہ اتنا گرد اور جھوٹ پھیلاؤ ۔ ساتھ ہی سب کو چپ رکھو ۔ پھر جو چاہے ۔ جیسے مرضی چین سے ڈیل کرو ۔ اس پر پابندیاں لگاؤ یا اس کے خلاف اقدامات کرو ۔ تو اس تمام صورتحال میں امریکہ اور مغرب کے ساتھ ساتھ چین اور روس کے تعلقات پر بھی بڑی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔

  • درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ تحریر: رانا عزیر

    درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ تحریر: رانا عزیر

    لاہور کے ایک مدرسے میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ، کیا ہماری تہذیب پر مغرب اور امریکہ کاحملہ ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال تو یہی معلوم ہوتا ہے۔

    17 جون کو وفاق المدارس کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس بورڈ کے ساتھ وابستہ ملک بھر سے تیرہ سو علما جمع ہوئے۔ ان میں شیخ التفسیر تھے اور شیخ الحدیث بھی، مفتی بھی اور مناظر بھی۔ خیال یہی تھاکہ اس واقعے پر بورڈ کا متفقہ موقف سامنے آئے گا اور وفاق کم ازکم ایک قرارداد کی صورت میں اپنی اس تشویش کا اظہار ضرور کرے گا تاکہ معاشرے کو یہ پیغام ملے کہ ادارہ اسے ایک حساس واقعہ سمجھتا ہے۔ یہ توقع پوری نہیں ہو سکی۔
    وگ جب اپنے بچے مدارس کے سپرد کرتے ہیں تو یہ ان کے پاس امانت ہوتے ہیں۔ مدرسہ عام سکول یا کالج نہیں ہے۔ یہ ایک طرح سے ایک طالب علم کی پوری زندگی اور معاملات کا محافظ ہے، ایک کیڈٹ کالج کی طرح۔ وہ بچے کی تعلیم، رہائش اور کھانے ہی کے لیے مسئول نہیں، اس کے اخلاق، کردار اور عزت و ناموس کی حفاظت کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔ معاشرہ اگر وسائل کے ساتھ اپنے بچے بھی ان کے حوالے کرتا ہے تو اس بھروسے پرکہ ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جا ئے گا اور اس کے ساتھ بچے کی معصومیت اور عزتِ نفس کا بھی لحاظ رکھا جائے گا۔

    مدرسے اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا یہ رشتہ کسی صورت مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک مدرسے کے مہتمم کی ذمہ داری ہے کہ اگر کہیں کوئی افسوسناک واقعہ ہو تو اس کی نیند حرام ہوجائے، اس کا سکون برباد ہو جائے۔ وہ اس وقت تک چین کی نیند نہ سوئے جب تک اس بات کو یقینی نہ بنالے کہ اس طرح کا واقعہ دہرایا نہیں جائے گا۔

    یہ اسی وقت ہوگا جب مہتمم کو یہ معلوم ہوکہ وہ اس دنیا میں کسی کے سامنے جواب دہ ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اگرچہ یہ احساس کافی ہونا چاہیے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے اور وہ اس کے حضور میں مسئول ہے لیکن انسان کمزور ہے اور ہمیشہ حضوری کے اس احساس میں نہیں رہتا۔ اس لیے قانون اور ایک حاکم قوت کی ضرورت رہتی ہے جو اس کی کمزوری پر نظر رکھے۔ مدرسے کے معاملے میں یہ کام وفاق المدارس کا ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وفاق نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔

    وفاق یا علما یہ دلیل نہیں دے سکتے کہ باقی مقامات پر بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ پہلی بات کہ اگر اسے درست مان لیا جائے تو بھی یہ ایسے حادثوں کے لیے جواز نہیں بن سکتا۔ ہر آدمی اور ہر ادارہ اپنے افعال کا ذمہ دار ہے۔ وہ یہ دلیل نہیں پیش کر سکتاکہ جب دوسرے یہ کام کررہے ہیں تو وہ کیوں نہ کرے؟ دوسرا یہ کہ جو دین کے نام پر معاشرے میں کھڑا ہے… وہ کوئی عالم ہو یا سیاستدان، کالم نگار ہو یا استاد… اس کی اخلاقی ذمہ داری دوسروں سے سوا ہے۔ مذہب تو نام ہی اخلاقی وجود کی تطہیر کا ہے۔ جو مذہب کا علمبردار ہے، اس کے لیے بدرجہ اتم لازم ہے کہ وہ اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں سنجیدہ ہو اور اسے ہر لمحہ اپنی فکر لگی رہے۔ وہ دوسروں سے زیادہ اپنا محتسب ہو۔

    ممکن ہے یہ کہا جائے کہ بند کمرے کے کسی اجلاس میں اس پر تشویش کا اظہار ہوا۔ ممکن ہے ایسا ہواہو لیکن جب ایک معاملہ عوام میں زیرِ بحث آجائے اور اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہو جائے تو پھر بند کمرے کا کوئی اجلاس اس کا مداوا نہیں کر سکتا۔ پھر لازم ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی موقف ہو اور وہ عوام کے سامنے آئے۔ گناہ کی خبر چند افراد تک محدود ہوتو اس کی تشہیر مناسب نہیں لیکن جب سماج میں پھیل جائے تو اس سے صرفِ نظر اس گناہ کو سماجی قدر کے طور پر قبول کرنا ہے۔ لازم تھا کہ جب خبر پھیل گئی تھی تو وفاق کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس بلا کر اس پر اپنا موقف دیا جاتا۔ کسی اہتمام کے بغیر ایک سنہری موقع وفاق کے ہاتھ آگیا تھاکہ عہدے داروں کے انتخابات کے لیے، اس کے ذمہ داران پہلے سے طے شدہ اجلاس میں جمع تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر عوام کو اعتماد میں لیا جاسکتا تھا۔ افسوس کہ یہ توقع پوری نہیں ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن اپنے خطاب میں ایران توران کی خبرلائے۔ مغرب اور امریکہ کی تہہ زمین سازشوں کا انکشاف کیا۔ اگر ذکر نہیں کیا تو لاہور کے اس واقعے کا۔ یہ باور کرنا ممکن نہیں کہ ان جیسا باخبر آدمی ایک ایسے واقعے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا جو اس وقت ہر اس آدمی کے علم میں ہے جو سوشل میڈیا سے کوئی مس رکھتا ہے۔ اس واقعے سے ان کی یہ بے اعتنائی بتاتی ہے کہ وہ اسے کتنا اہم سمجھتے ہیں اور خود احتسابی کے معاملے میں کتنے حساس ہیں۔

    برادرم مولانا محمد حنیف جالندھری پندرہ سال سے وفاق کے ناظم اعلیٰ چلے آرہے ہیں۔ اب مزید پانچ سال کے لیے انہیں ایک بارپھر اس ذمہ داری کا اہل سمجھا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں عمرِ خضر دے اور ہم انہیں ہمیشہ اس منصب پر متمکن دیکھیں، انہوں نے بھی اس کی ضرورت نہیں محسوس کی حالانکہ وہ سب سے زیادہ اور براہ راست اس واقعے کے بارے میں مسئول ہیں۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس پر اپنی تشویش کا نہ صرف اعلانیہ اظہار کرتے بلکہ یہ بھی بتاتے کہ مدارس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے وفاق نے کیا حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

    میں اس حادثے کو عموم کا رنگ دینے کے حق میں نہیں۔ میں اسے ایک منفرد واقعہ کے طور پردیکھ رہاہوں۔ میں مدرسے سے وابستہ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اجلے کردار کی شہرت رکھتے ہیں۔ بعض سے میں شخصی طور پر واقف ہوں۔ مولانا عبدالرؤف ملک کو کم و بیش تیس سال سے جانتا ہو۔ میں نے انہیں وسیع القلب اورایک صاف ستھرا انسان پایا ہے۔ کئی سال ہو گئے، مولانا زاہدالراشدی سے ایک تعلق قائم ہوئے۔ ان سے مل کرہمیشہ ایک پاکیزہ آدمی کا تاثر ملا۔ ذاتی تعلق رکھنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جن کا تعلق مدرسے سے ہے، اس لیے میں اس واقعے کو عمومی رنگ دینے کے حق میں نہیں۔

    تاہم اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس بار سوشل میڈیا نے اس پر مٹی ڈالنے کو ممکن نہیں رہنے دیا۔ اس کے بعد لازم ہو گیا ہے کہ وفاق المدارس اسے بنیاد بنا کر مدرسوں کی اخلاقی تطہیر کا ایک منظم منصوبہ بنائے۔ پہلے تجزیہ اور پھر روک تھام کے لیے حکمتِ عملی۔ اس میں مدرسے سے باہر کے لوگوں کوبھی شامل کرے جن میں ماہرینِ نفسیات ہوں اور سکالر بھی۔ وہ اس بات کو کھوج لگائیں کہ درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ ان کا کتنا تعلق ہماری تفہیمِ دین اور سماجی روایت سے ہے؟ وہ کون سے نفسیاتی عوامل ہیں جن کے زیرِ اثر عمر رسیدہ لوگ بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ جدید علمِ نفسیات میں اس پر بہت تحقیق ہو چکی۔

    یہ واقعات صرف وفاق المدارس کا مسئلہ نہیں، مدارس کے تمام بورڈز کو اس معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاہم چونکہ یہ وفاق کے حوالے سے موضوع بناہے، اس لیے اصلاحِ احوال کے لیے بھی وفاق ہی کو پہل کرنی چاہیے۔ مولانا صاحب کے خطاب سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بھی جیسے امریکہ اور مغرب کی کوئی سازش ہے کیونکہ اس وقت جس نے مدرسے کی ناموس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے، وہ یہی واقعہ ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ سازش کا یہ بیانیہ اب زیادہ بکنے والا نہیں۔ معاشرہ ان باتوں سے آگے بڑھ چکا ہے

  • نوجوان صحافی. تحریر:رانا عزیر

    نوجوان صحافی. تحریر:رانا عزیر

    ونود مہتا نامور بھارتی صحافی اور مشہور میگزین آئوٹ لک کے بانی ایڈیٹر تھے۔ ان کی خودنوشت "لکھنو بوائے "نے بڑی پزیرائی حاصل کی۔ ونود مہتاکا شمار دلیر، بااصول اورڈٹ جانے والے ایڈیٹروں میں کیا جاتا ہے۔ اپنے چالیس سالہ صحافتی تجربے کی روشنی میں انہوں نے نوجوان صحافیوں کے لئے چند مشورے تحریر کئے۔ ونود مہتا سوال اٹھاتے ہیں: "کیا صحافی کو انقلابی ہونا چاہیے؟ ونود کے خیال میں یہ خیال رومانوی ہونے کے باوجود غیر عملی ہے۔ آپ کسی بڑے کاز کے لئے کام کرنے والے انقلابی ہیں یا کسی خاص ایجنڈے کے بغیر انقلابی مزاج رکھتے ہیں، دونوں صورتوں میں ایسی انقلابی رومانویت سے دور رہیں۔ ریڈیکل ازم کا بھی ٹکٹیں جمع کرنے کی طرح خاص وقت اور جگہ ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ نوجوانی میں کسی نے کوئی انقلابی پمفلٹ لکھا ہو، مگر وقت کے ساتھ اسے آگے بڑھ جانا چاہیے۔ جرنلزم میں ایسے شوریدہ سروں یا سر پھروں کے لئے جگہ نہیں۔ ایک بات البتہ سمجھناضروری ہے کہ چی گویرا ٹائپ ہٹ اینڈ رن قسم کی صحافت کی ضرورت نہیں، مگر اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ آپ روایتی گھسی پٹی سوچ کے غلام بن جائیں۔ اہم طاقتور لوگ جب صبح اٹھتے اور اخبار پڑھتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ ان کے موقف کی تصدیق ہو، اسے چیلنج نہیں کیا جائے۔ آپ کو مگر یہ چیلنج کرنا چاہیے۔ صحافیوں میں بھیڑ چال کا رواج (Herd Mentality)ہے، کوئی ایک کچھ کرے تو سب پیروی کرتے ہیں۔ ایک اچھے صحافی کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس نے کب ان کا حصہ بننا ہے اور کب اکیلا شکار کرنا ہے۔

    ونود مہتا آگے چل کر دو ممتاز مغربی لکھاریوں کی کوٹیشن دیتا ہے، پہلی کے مطابق، جس موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں، اس پر روایتی نقطہ نظر جان لیں اور پھراپنی تحریر میں اس کے خلاف دلائل دیں۔ دوسری کوٹیشن دلچسپ ہے، "جب شک میں ہوں تب حملہ آور ہوں۔”
    کیا سیاستدان اور صحافی دوست ہوسکتے ہیں؟ ونود مہتا کا جواب نفی میں ہے، مگر ان کے مطابق جارج اورویل (اینمل فارم ناول کے مصنف)بننے کی ضرورت نہیں، وہ جب ٹربیون اخبار کے بک ایڈیٹر تھے تو کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک نہیں ہوتے تھے کہ مصنف سے ملاقات دیانت دارانہ تبصرے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ ونود مہتا آگے جا کر نکتہ اٹھاتے ہیں کہ سیاستدانوں اور صحافیوں دونوں کا ایجنڈا ایک دوسرے سے نہایت مختلف بلکہ متضاد ہے۔ سیاستدان بیشتر اوقات حقائق یا سچ کو توڑموڑ کر، کچھ خفی کچھ جلی انداز میں پیش کرتے ہیں جبکہ صحافی کا کام ہے جہاں تک ممکن ہو سچ سامنے آئے۔ اس لئے سیاستدانوں سے قربت کے بجائے اہم یہ ہے کہ آپ سچ کے کتنے قریب ہیں؟

    کیا ایک صحافی کو اپنا استعفاجیب میں ڈال کر پھرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں یہ بہت مشکل سوال ہے، آپ کی ایک فیملی ہے جس کے اخراجات برداشت کرنے ہیں، گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز، بنک کی قسطیں وغیرہ وغیرہ۔ تاہم ایک دیانت دار صحافی کی زندگی میں کم از کم ایک موقعہ ایسا آتا ہے جب وہ ایسا کرنے کا سوچتا ہے۔ ونود مہتا یہاں پر مشورہ دیتا ہے کہ آپ سب ایڈیٹر، فیچر رائٹر، رپورٹر، فوٹوگرافر، اسٹنٹ ایڈیٹر یا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، آپ کو اپنے کام میں بہترین ہونا چاہیے۔ میڈیا کے تمام تر مسائل اور نئے آنے والے بے تہاشا نوجوانوں کے باوجود آج بھی کوالٹی ایک نایاب صفت ہے۔ اپنے آپ کو بہتر کرنے کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ آج بھی میں کوئی اچھی تحریر دیکھوں تو اسے دو بار پڑھتا ہوں۔ پہلی بار اس کی کوالٹی جانچنے جبکہ دوسری بار اس کے انداز تحریر اور مہارت کو بغور دیکھنے کے لئے۔ اس لئے یقین رکھیں کہ اگر آپ ایک بہترین صحافی ہیں تو آپ بے روزگار ہوسکتے ہیں، مگر یہ مدت مختصر ہوگی کیونکہ مارکیٹ میں اچھے صحافی کی شہرت بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور کوئی نہ کوئی ضرور آپ کی مہارت سے استفادہ کرنا چاہے گا۔
    گر غلطی ہو جائے تب صحافی کو کیا کرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں بعض اوقات صحافی خود کو بے عیب اور پرفیکٹ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس رفتار سے خبریں آتی ہیں، ان پر کام ہوتا، فائنل ٹچ دیا جاتا ہے، اتنے مختصر وقت میں پرفیکٹ کام کرنا ممکن ہی نہیں۔ اخبار ہے ہی نامکمل، عجلت میں کئے گئے کام کی پراڈکٹ۔ حتیٰ کہ مضامین، تجزیے، کالم، اداریے وغیرہ بھی بہت بار نہایت عجلت میں، ڈیڈ لائن پریشر کے تحت لکھے جاتے ہیں۔ آپ کے پاس مکمل ڈیٹا نہیں، اعداد وشمار چیک کرنے کا وقت نہیں مل پاتا، حتیٰ کہ لفظوں کی املا درست کرنا بھی مسئلہ ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ کرشمہ ہی ہے کہ فائنل پراڈکٹ (اخبار یا ٹی وی نیوزبلیٹن)کا تاثر اتنا برا نہیں، وہ خاصا موثر ہوتا ہے۔ کوئی صحافی مکمل اور خامیوں سے پاک نہیں، اس حقیقت کو سب سے پہلے ذہن میں لے کر چلیں۔ نیویارک ٹائمز جیسا اخبار جو اپنی خبر کی تحقیق کے لئے کئی مراحل پر مشتمل پراسیس اختیار کرتا ہے، اس نے بھی عراق جنگ کے حوالے سے بالکل غلط اور بے بنیاد معلومات فراہم کیں،۔ وہ صدر بش کے وائٹ ہائوس ٹیم کے ہاتھوں استعمال ہوگئے اور اس پر نیویارک ٹائمز کو بعد میں اپنے قارئین سے معذرت کرنا پڑی۔ اصول یہ ہے کہ غلطی ہو تو اسے تسلیم کریں۔ چھپانے یا کمزور عذر تراشنے کے بجائے مانیں۔ اپنے قارئین سے واضح الفاظ میں معذرت کریں۔ البتہ صحافی کو غلطیاں دہرانی نہیں چاہیں۔ میرے حساب سے تین سال میں ایک آدھ غلطی کی گنجائش بن سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

    صحافی کو اپنی انا کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں اسے تالے میں بند کرکے رکھ دینا چاہیے۔ صحافیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غلطیوں کی نشاندہی کریں اور اسے کیسے ٹھیک کیا جائے، اسی وجہ سے کچھ صحافی مستقل قسم کے ناصح بن جاتے ہیں۔ بعض ایڈیٹر سمجھتے ہیں کہ وہ ملک چلارہے ہیں یاقوم کے لئے ایجنڈا سیٹ کر سکتے ہیں۔ ایڈیٹر(اور کالم نگار) بھول جاتے ہیں کہ ان کے دھماکہ خیز ادارئیے اور دھواں دھار کالم زیادہ سے زیادہ تیس منٹ کی زندگی رکھتے ہیں۔ اس کے بعد اخبارکھڑکیوں کے ٹوٹے شیشوں کو ڈھانپنے کے کام آتے ہیں۔ یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم صحافیوں کا سماج میں کچھ اثرہے مگر اس سے کہیں کم جتنا ہم تصور کرتے ہیں۔ ایک بڑے مغربی صحافی نے کہا تھا، "صحافی شراب سے زیادہ خودپسندی کے ہاتھوں برباد ہوتے ہیں۔” ہم صحافی میچ میں بہترین سیٹ حاصل کرتے ہیں، یہی کافی ہے، جمہوریت کے کھیل میں ہم کھلاڑی نہیں، اپنا کردار سمجھ لینا چاہیے، اسے مکس کرنا مصیبت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔
    کیا صحافی کو اپنا سٹائل بہتر کرنے پر وقت اور پیسہ صرف کرنا چاہیے؟ ونود مہتا لکھتے ہیں کہ ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ آپ کسی بھی زبا ن میں لکھتے ہوں، اس میں مہارت حاصل کرنا لازم ہے۔ ایک زمانے میں سب ایڈیٹر اپنے رپورٹر کی خبر میں اس کے اسلوب کی دلکشی کا جائزہ ضرور لیتے تھے۔ اب حالات بدل گئے ہیں، مگر آج بھی ایک اچھی سٹوری اگر بہترین طریقے سے لکھی گئی ہو تو اس کا تاثر بہت بڑھ جاتا ہے جبکہ ایک بڑی سٹوری کمزور اسلوب کی وجہ سے غیر موثر ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی بڑے ناول نگار کا اسلوب اپنا لیں یا بڑی مرصع نثر لکھیں جس میں مشکل مترادفات ہوں۔ نہیں اس کے بجائے مشہور ادیب ہیمنگوئے کے الفاظ یاد رکھیں کہ سیدھے سادے الفاظ ہی بہترین ہوتے ہیں۔ آپ کی زبان سادہ اوردلچسپ ہونی چاہیے۔ خوش ونت سنگھ اس پر خاص توجہ دیتا تھا کہ اس کی تحریر زیادہ سے زیادہ رواں اور قابل مطالعہ ہو۔ اسی وجہ سے خوشونت کو ناپسند کرنے والے بھی اسے پڑھتے ضرور تھے۔ ادب میں ممکن ہے کوئی مشکل اور ثقیل نثر کے باوجوداپنا کام چلا لے، مگر مین سٹریم صحافت میں یہ عیاشی ممکن نہیں۔ لکھنے والے کو اپنے پہلے فقرے سے قاری کو انوالو کر لینا چاہیے۔ اس لئے تحریرکا آغاز بہت توجہ اور محنت سے اچھا بنا کر لکھنا چاہیے۔ اگر اپنے پہلے پیرے میں قاری کو گنوا بیٹھے تو سب کچھ ضائع ہوگیا۔
    ونود مہتا نے معروف برطانوی صحافی، مصنف جارج اورویل کا دلچسپ اقتباس نقل کیا، اورویل لکھتے ہیں ” دو باتیں ایسی ہیں جو کسی لکھنے والے کے لئے قاتل ہیں۔ کٹر روایتی پن لکھنے والے کے لئے تباہ کن ہے، چاہے رائٹ ونگ یا لیفٹ ونگ دونوں انتہائوں کا سخت روایتی پن تحریر کو بے رنگ اور بے کشش، مصنوعی بنا دیتا ہے۔ تحریر کی دوسری سب سے بڑی خامی اس میں دیانت داری کا فقدان ہے۔ اگر کسی کی اصل سوچ اور جس کا وہ پرچار کرنے لگا ہے، اس میں فرق ہے تب مصنف اپنی تحریر میں گھسی پٹی اصطلاحات اور بلند بانگ الفاظ استعمال کر کے اسے مصنوعی بنا دے گا۔ جیسے کسی کتاب پر فرمائشی تبصرہ یا کالم لکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، ایسی تحریر کمزور ہی ہوتی ہے۔
    ونود مہتا کے مطابق اچھا لکھنا کسی سکول میں نہیں سیکھا جا سکتا، بہت بار اپنے وجدان پر بھروسا کرنا پڑتا ہے، تاہم جارج اورویل نے لکھنے والے کے لئے چند اصول وضع کئے، ان میں سے سب سے اہم یہ کہ اگر آپ کے پاس اپنی بات کہنے کے لئے مختصر جملہ ہے تو اس کی جگہ کبھی طویل جملہ استعمال نہ کریں۔ لکھنے کے بعد اگر کسی لفظ کو کاٹا جا سکتا ہے تو اسے ضرور کاٹ دیں۔ پامال الفاظ اور جملے استعمال نہ کریں۔

  • آزادی افکار. تحریر:تحریر حسن ساجد

    آزادی افکار. تحریر:تحریر حسن ساجد

    اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
    جب کوئی شخص ایمان کی نیت سے اس کلمہ طیبہ کو صدق دل سے پڑهتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اسے ہم مسلمان کہتے ہیں۔ ایک مسلمان کے نزدیک اس کلمہ طیبہ کا دل و زبان سے اقرار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام تر معاملات اور اپنی سوچ کو اللہ اور رسول پاک حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکامات کے تابع کر چکا ہے۔ یعنی وہ اپنے آپکو انکی بیعیت میں دیتے ہوئے اللہ رب العزت کے حضور اپنی بندگی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل اطاعت کا اظہار کر رہا ہے. جب ایک شخص دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا ہو تو اس کے بعد ایک مسلمان کو یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے معاملات زندگی میں "میرے نزدیک” ، "میری سوچ کے مطابق” یا "میری رائے یہ ہے کہ” جیسے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے کسی مسئلے کا حل تلاش کرے یا کسی چیز کی وضاحت پیش کرے۔ یہ اصول بالخصوص ایسے معاملات و امور کے لیے اٹل اور ابدی ہے جن معاملات یا امور کے بارے میں اللہ اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالصراحت اپنے احکامات جاری کر چکے ہوں. ایسی صورتحال میں بحیثیت مسلمان احکامات الہی و رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تبدیلی یا ان میں اپنی مرضی کے مطابق گنجائش نکالنا یا ان کی نافرمانی کی کوشش ایک مجرمانہ اور صریح نافرنانی پر مشتمل عمل ہے۔ عقائد و ایمانیات سے روگردانی کا عمل اس سے کہیں بڑا، سنگین اور قابل اعتراض جرم ہے کہ کسی ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کی جائے یا ان میں ترمیم کی کوشش کی جائے ۔ یعنی اس سے مراد ہے کہ جس طرح آپ کو کسی ملک کے قوانین میں ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر تبدیلی یا ترمیم کی اجازت نہیں بلکل اسی طرح دینی امور یا قوانین کی ذاتی رائے پر نفی کی قطعی طور پر اجازت نہیں۔

    بات کو سمجھنے کے لیے ایک مثال کا سہارا لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ امریکی شہریت کے حامل شخص ہیں تو آپ کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالائے طاق ہوکر ان تمام قوانین کی پیروی کرنی ہوگی جو امریکہ میں نافذ العمل ہیں ان قوانین کے سامنے آپکی ذاتی رائے کی مہمل حیثیت ہے اور اگر آپ ان قوانین سے منحرف ہوکر ذاتی رائے کو فوقیت دیں گے تو آپکا یہ عمل ریاستی قوانین سے انحراف اور غداری کے زمرے میں آئے گا جس کی بنیاد پر آپکو ریاستی قوانین کے مطابق جزاوسزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بالکل یہی معاملہ ایک دین کے پیروکار کے لیے ہے کہ جب متعلقہ شخص اپنے دینی احکامات کی روگردانی یا نفی کرے گا یا صریح دینی احکامات پر ذاتی رائے کو فوقیت دے گا تو اسکا یہ عمل گناہ اور قابل جرم گردانا جائے گا۔
    گزشتہ چند دہائیوں سے آزادی افکار اور فریڈم آف سپیچ کے نام پر الہامی ادیان بالخصوص اسلام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ نظریہ اسلام پر قائم وطن عزیز خاص طور پر اسلام دشمن قوتوں کے نشانے پر ہے جس کے عوام کو لبرل ازم، سیکولرازم اور ایتھزم (لادینیت) جیسے جھانسوں میں پھنسا کر اسلامی تعلیمات اور احیائے دین سے دور کیا جارہا ہے۔ چونکہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی مسلمان ہے اور یہاں اسلامی حکومت قائم ہے جسکی بدولت یہاں کھلے عام دین دشمنی کی تبلیغ ممکن نہیں اس لیے دین دشمن قوتیں ماڈریٹ مسلمان اور سیکولر طبقہ پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کوشاں ہیں۔

    سیکولرازم کے قائل حضرات "مذہبی” اور "لبرل” لوگوں کے بین بین ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ منافقانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہوتے ہیں. اگر مزید وضاحت سے کہا جائے تو اردو زبان کا محاورہ ” آدها تیتر آدها بٹیر ” انکی فلاسفی کی مکمل ترجمانی کرتا ہے. یہ لوگ مذہب پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار بھی ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ آزادی رائے کے تحت مختلف مقامات پہ احکامات شریعت پر "اپنی سوچ” اور "اپنی فکر” کو فوقیت دیتے ہوئے معاملات زندگی میں اسلام کے قوانین سے روگردانی کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس فتنہ کا سامنا ہمیں ملالہ یوسفزائی کے ایک انتہائی متنازعہ بیان کی صورت میں کرنا پڑا۔ ملالہ یوسفزائی نے اپنے بیان میں نکاح جیسے متبرک اور معتبر عمل کا ناصرف انکار کیا گیا بلکہ ہماری نوجوان نسل کو بے راہ روی کی طرف راغب کرنے کی مکروہ کوشش بھی کی۔ ملالہ یوسفزائی کی جانب سے صریح اسلامی احکامات کا انکار اور حضور نبی کریم کی سنت سے روگردانی قابل سزا جرم ہے جس پر حکومت پاکستان، اسلامی نظریاتی کونسل اور عدلیہ کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملالہ کو اپنی حیثیت واضح کرنے کے لیے کسی مناسب پلیٹ فارم پر بلانا چاہیے تھا۔

    نظریات کی اس جنگ میں نشانے پر ہماری نوجوان نسل ہے جسے اپنے نصب العین سے ہٹانے اور بے راہ روی کا شکار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ میں نوجوان نسل سے مخاطب ہوں اور ان کو یہ واضح کردینا چاہتا ہوں اگر اللہ پاک نے آپ کو ایک مسلمان پیدا کیا ہے تو سجدہ شکر بجا لاو کہ تمہیں زندگی بسر کرنے کے لیے ایک جامع اور مکمل نصب العین ملا ہے۔ کیونکہ اسلام محض عبادات و ایمانیات سے جڑا مذہب ہی نہیں بلکہ ایک کامل و اکمل دین اور ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو عقائد، عبادات، معاشرت، معاشیات، اخلاقیات اور معاملات سمیت زندگی کے تمام پہلووں سے متعلق انسان کو مکمل اور بہترین راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کی پیروی کے دعویدار اور ایک مسلمان شخص کو زیب نہیں دینا کہ وہ ان معاملات کہ بارے میں "اپنی سوچ” یا "اپنی رائے” کو معیار قرار دے جن سے متعلق شریعت محمدی میں تصریح پائی جاتی ہے. میری مسلم نوجوانوں سے درخواست ہے کہ دور حاضر کے تمام دھوکوں اور فتنوں سے بچنے کے لیے "ادخلو فی السلمہ کافته” پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوجائیں اور شریعت محمدی کو معیار سمجهتے ہوئے اپنی سوچ کو اسکے تابع کر لیں اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے.
    اور دوسری جانب مادر پدر آزاد خیالات کے حامل وہ لوگ جو حکامات شریعت کو ترک کرنے کا جواز ” مگر میرے نزدیک ایسا ہے کہ” کہہ کر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنے اوپر اسلام کی جعلی ملمع کاری کرنے کی بجائے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اور اپنی سوچ کو معیار قرار دیتے ہوئے سیکولر یا لبرل یا ماڈریٹ مسلمان کہلوانے کی بجائے لادین یا ایتھیسٹ کہلوانا شروع کر دیں۔ اس دوغلی صورتحال میں آپکا حساب ایسا ہی ہے کہ "دهوبی کا کتا گهر کا نہ گهاٹ کا”۔ اور رہی بات تمہاری فریڈم آف سپیچ، آزاد سوچ یا آزادی رائے کی تو ایسی فریڈم آف سپیچ یا آزادی رائے جو دین اور اپنی روایات سے دور کرے وہ ہمارے نزدیک ایک شیطانی عمل ہے۔ الحمدللہ پاکستان کا نوجوان طبقہ بیدار مغز اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہے وہ تمہاری اصلیت سے واقف ہوچکا ہے اور اب تمہارے جھانسوں میں بلکل بھی نہیں آئے گا۔
    ایسے سرخوں اور ضمیر فروش خود ساختہ دانشوروں کی نظر حضرت اقبال کے ایک شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔ حضرت اقبال نے فرماتے ہیں کہ

    اس قوم ميں ہے شوخي انديشہ خطرناک
    جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
    گو فکر خدا داد سے روشن ہے زمانہ
    آزادئ افکار ہے ابليس کی ايجاد

  • ہم کٹتے رہے اور تھے خاموش مسلمان ۔۔۔   تحریر: جام جازم

    ہم کٹتے رہے اور تھے خاموش مسلمان ۔۔۔ تحریر: جام جازم

    ‏ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
    شکوہ نہیں کافر سے کہ وہ ٹھہرا جو کافر ۔۔۔
    تم لوگ تو اپنے تھے مسلمان تھے آخر ۔۔۔
    کچھ کرنے سے کچھ کہنے سے کیوں تم رہے قاصر ۔۔۔

    مظلوم سے تھا بغض یا ظالم کے محبان ۔۔۔
    درجات کی سیڑھی پر ہم جب چڑھیں گے ۔۔۔
    بارگاہ رب میں ایک عرض کریں گے ۔۔۔

    ہم کٹتے رہے اور تھے خاموش مسلمان ۔۔۔
    رمضان المبارک کا الواعی جمعہ اور شب قدر کی بابرکت رات ہر طرف اپنے پر پھیلائے ہوئے تھے ۔ ہر طرف  عبادت کے پرنور اور روح پرور مناظر تھے ۔ مسلمان عقیدت و محبت کے ساتھ مسجدوں میں ایک خدا مطلق کے سامنے اپنے دامن کو پھیلائے بیٹھے تھے۔ اور اللہ سے مغفرت کی بھیک مانگنے میں مصروف تھے ۔ ایسے میں اچانک بیت المقدس میں دنیا کے سب سے بڑی دہشت گرد اسرائیلی افواج دھاوا بولتی ہیں۔ جس میں نہ صرف مسجد کی بے حرمتی کی گئی۔ بلکہ عورتوں بچوں اور بزرگوں کی پروا کئے بغیر ان پہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ے گئے ۔ دہشت گردی کی اس واردات میں ربڑ کی گولیاں اور اسٹین گرینیڈ سے نہتے فلسطینوں کو نہ صرف زخمی کیا گیا بلکہ 17 نہتے فلسطینی بشمول معصوم بچے دہشت گردی کی اس واردات میں جام شہادت نوش کر گئے ۔
    بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت مریم کو انکی والدہ بی بی حنہ نے اس مسجد کیلئے وقف کر دیا تھا ۔پھر اسی شہر میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش ہوئی اور ادھر سے  انہوں نے تبلیغ کا آغاز کیا ۔ معراج میں نماز کی فرضیت سے  لے کر تقریباً 17 ماہ تک مسلمانوں نے اسی قبلہ کی طرف نماز ادا کی ۔ یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ یہ فلسطین انبیا کرام علیہ سلام کا مسکن ہے ۔

    کسی غیر مسلم کا کتا بھی مر جائے تو یورپی یونین انسانیت کا سبق سکھانے اس مسئلے میں کود جاتی ہے ۔ مسئلہ کسی امریکی سیاہ فام کا ہو یا کسی یہودی کا یورپی یونین انسانیت کا چارٹر اٹھائے آ جاتی ہے مگر چھوڑیں – فلسطین تو ایک  پسماندہ ملک ہے جس کی آبادی مسلمان ہے یہ کوئی سیاہ فام نہیں جن کی ایک پکار پہ یورپی یونین کے در و دیوار تک لرز جائیں یہ تو نہتے فلسطینیوں کی فریاد اور آہ و زاریاں ہیں ۔ جن سے یورپی یونین کا کوئی واسطہ نہیں ۔ انسانیت کے علمبردار اور انسانی حقوق کے جھوٹے دعویداروں کیلئے فلسطینی تو شاید انسان ہی نہیں ۔ صرف فلسطینی ہی کیوں جہاں بھی معاملہ مسلمانوں کی زندگی اور عزت کا ہو ۔ وہاں یورپی یونین غفلت کی میٹھی نیند سوتی نظر آتی ہے ۔ شاید عالمی ضمیر بے حسی کی چادر اوڑھے منافقت کی اس دوڑ میں اتنا مگن ہے کہ اسے مسلمانوں کا لہو نظر نہیں آ رہا ۔ اور مسلمانوں کا لہو اس قدر بے توقیر ہے کہ اس پہ نہ تو کوئی آواز اٹھے گی نہ مہم چلائی جائے گی ۔
    گزشتہ سال ایک سیاہ فام کی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں امریکن پولیس افسر سیاہ فام کی گردن پہ اپنے پنجے گاڑے کھڑا تھا ۔ اس تصویر پہ انسانی حقوق کے عالمی ادارہ کی چیخیں نکل گئی تھی۔ نہ صرف یہ بلکہ ٹوئٹر پہ دو دن تک سیاہ فارم طبقے کے حق میں مہم چلائی گئی جس میں بیت سے ممالک کی شخصیات نے  حصہ لیا۔
    جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیا پہ ایک تصویر زیر گردش ہے جس میں یہ واضح طور پہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مریم عساف نامی فلسطینی لڑکی کی گردن میں ایک اسرائیلی فوجی اپنا گھٹنا گاڑے کھڑا ہے ۔ مگر عالمی ارادہ برائے انسانی حقوق کی طرف سے ایک بیان بھی جاری نہ ہو سکا تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یورپی یونین انسانیت کے حقوق کی علمبرداد نہیں بلکہ صرف غیر مسلموں کے حقوق کی محافظ ہے ۔ خیر ان سے کیا گلہ انکے لئے مسلمانوں کی زندگی اور عزت کی کوئی اہمیت ہی نہیں ۔
    مگر اسرائیلی فوجی کا گھٹنا مریم عساف کی گردن پہ نہیں بلکہ 57 مسلمان ممالک کی غیرت اور عزت پہ ہے ۔ مگر اس گھٹنے کا دباؤ محسوس کرنے کیلئے ضمیر کا زندہ ہونا شرط ہے ۔ یہی رویہ اگر کسی مسلمان ملک نے کسی غیر مسلم لڑکی کے ساتھ کیا ہوتا تو اب تک عالمی سطح پہ کہرام مچ جاتا ۔ اور یورپی یونین کے دو و دیوار تک ہلا کر رکھ دیئے جاتے۔ لیکن یہ ایک فلسطینی لڑکی ہے جس سے کسی ملک کا کوئی تجارتی فائدہ منسلک نہیں اور نہ ہی کسی قسم کے کوئی فنڈز ملنے کی امید ہے ۔ لہذا اس پہ ظلم و جبر کرنے کا سرٹیفیکیٹ اسرائیل کو یورپی یونین نے خود دیا ہے ۔

    یہی وقت ہے جب حق و باطل میں ایک پختہ لکیر کھینچ دی جائے ۔ یہی وقت ہے جب مومن اور برائے نام مسلمان کی راہیں الگ ہوجانی چاہیئے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہم اپنے قبلہ اول کی پامالی پہ بھی خاموش رہے تو پھر تو شاید کبھی ہم بول ہی نہ سکیں گے ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس ظلم پہ خاموش رہنے پر ہماری قوت گویائی سلب نہ کر لی جائے۔
    مگر بحیثت مسلمان کیا ہم اس پاک سر زمیں اور قبلہ اول کے لئے کبھی متحد نہیں ہو سکتے ؟  کیا ہم پہ اب بھی جہاد فرض نہیں ہوا ؟ کیا ہماری افواج اور ہماری  ایٹمی طاقت بس دکھاوا ہے نہ ہم کشمیر کیلئے لڑے نہ فلسطین کیلئے لڑیں گے ۔ اگر ہم آج بھی خاموش رہے اور اسی بات پہ قائم رہے کہ “جنگ کسی مسلئےکا حل نہیں” تو پھر انتظار کریں اس وقت کا جب ہمارا حال فلسطینیوں سے بھی بدتر ہوگا کیونکہ پھر سب کی باری آئے گی ۔ اور ہم بھی اپنے ہاتھ پاھں باندہ کر اس تماشے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی خاموش رہیں گے اور یہی کہیں گے کہ “جنگ تو کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی”۔
    اس مشکل وقت میں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ تمام مسلمان ممالک متحد ہو کر سب سے بڑی دہشت گرد ریاست کے خلاف نہ صرف جہاد کا علم بلند کریں بلکہ انہیں انکے منتقی انجام پہ پہنچا کر پوری دنیا کو یہ پیغام دیں کہ جب بات انسانیت کی ہو اور جب بات قبلہ اول کی ہو تو ہم مسلمان اپنے وسائل اور فائدے اور نقصان کی پروا کیے بغیر جہاد کا علم بلند کریں گے ۔