Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ابو ظہبی لیگ کے لیے ایچ بی ایل، پی ایس ایل 6 کی ریپلیسمنٹ پک

    ابو ظہبی لیگ کے لیے ایچ بی ایل، پی ایس ایل 6 کی ریپلیسمنٹ پک

    ایچ بی ایل پی ایس ایل کی ریپلیسمنٹ اور اضافی کھلاڑیوں کے لیے پک آج ہوں گی۔ہر ٹیم کو 2 اضافی کھلاڑیوں کو پک کرکے مجموعی طور پر 20 رکنی اسکواڈ ابوظہبی لے جانے کی اجازت ہے. ان 2 اضافی کھلاڑیوں میں ایک غیرملکی کھلاڑی بھی شامل ہوسکتا ہے.

    کھلاڑیوں کی اسکواڈ میں شمولیت اور دستیابی سفری اور قرنطینہ کی شرائط کے مطابق ہوں گی۔اس حوالے سے تمام ترتفصیلات کچھ دیر بعد پاکستان میڈیا کے واٹس ایپ گروپس کے ذریعے شیئر کی جائیں گی۔

  • شاداب خان اور یاسر شاہ کے واپسی امکان بڑھنے لگے

    شاداب خان اور یاسر شاہ کے واپسی امکان بڑھنے لگے

    شاداب خان ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 کے بقیہ میچز میں شرکت کے لیے کلیئر قرار۔
    شاداب خان 8 ہفتے کا ری ہیب مکمل کرنے پر اسلام آباد یونائیٹڈ کو دستیاب ہوں گےوہ ان 8 میں سے 7 ہفتے کا ری ہیب کامیابی سے مکمل کرچکے ہیں۔وہ لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی قیادت کریں گے۔

    نوجوان آلراؤنڈر جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میچ کے دوران بائیں پاؤں کی انجری کا شکار ہوئے تھے۔لیگ اسپنر یاسر شاہ بھی باؤلنگ اور رننگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کے بعد یاسر شاہ نے نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں ری ہیب پروگرام میں شرکت کی تھی۔ان کے ری ہیب سے مکمل تفصیلات مناسب وقت پر جاری کردی جائیں گی۔

  • دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ  انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا

    دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا

    ہزاروں کلومیٹر پر پھیلا دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا-

    باغی ٹی وی :سپین کے جزیرے میجورکا کے سائز سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے منجمد کنارے سے الگ ہو کر ویڈیل کے سمندر میں داخل ہو گیا ہے سیٹلائٹ تصاویر نے تصدیق کی ہے کہ انٹارکٹیکا کی وسیع وعریض برفانی چادر سے برف کا اتنا بڑا ٹکڑا الگ ہوا ہے کہ اب اسے دنیا کے سب سے بڑے برفانی تودے (آئس برگ) میں شمار کیا گیا ہے۔

    انگلی کی شکل کے آئس برگ کی لمبائی 4350 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے لیکن اسے انسانی مداخلت سے رونما ہونے والے آب و ہوا میں تبدیلی کا شاخسانہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپین سپیس ایجنسی نے بدھ کو کہا ہے کہ پانی کی سطح پر تیرنے والا یہ دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ ہے انٹارکٹیکا کے منجمد کنارے سے الگ اس برفانی تودے کو سائنسدانوں کی جانب سے اے 76 کا نام دیا گیا ہے-

    یورپین سپیس ایجنسی کے مطابق کوپرنیکس سینٹیل ون مشن نے اس بڑے برفانی تودے کی تصاویر لی ہیں اس کی سطح کا رقبہ چار ہزار 320 مربع کلومیٹر ہے اور اس کی لمبائی 175 کلومیٹر جبکہ چوڑائی 25 کلومیٹر ہے۔

    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے مقابلے میں سپین کے مشہور سیاحتی جزیرے میجورکا رقبہ تین ہزار 640 مربع کلومیٹر ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ سپین کے جزیرے سے بھی بڑا ہےامریکہ کا رہوڈ آئی لینڈ اس سے بھی چھوٹا ہے جس کا رقبہ دو ہزار 678 مربع کلومیٹر ہے۔

    اے 76 نام کا دنیا کا سب سے بڑا یہ برف کا تودہ انٹارکٹیکا کے رونے آئس شیلف سے الگ ہوا ہے اور یہ کرہ ارض پر موجود سب سے بڑا برفانی تودہ ہے۔

    اس سے قبل بھی ایک تودہ ویڈیل کے سمندر میں تیر رہا ہے جس کا سائز تین ہزار 380 کلومیٹر ہے۔ اس کا نام اے 23 ہے۔

    یورپی خلائی تنظیم نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں قدرے گرم پانی داخل ہونے سے گلیشیئر اور تودے پگھل کر الگ ہورہے ہیں۔

    برطانیہ میں گلیشیئر کے ماہر ایلیکس برسبورن نے کہا کہ یہ قدرتی چکر ہے جو جاری رہتا ہے اور اس کا تعلق گلوبل وارمنگ سے نہیں ہے۔

    اے 76 جیسے آئس برگ پر افقی لکیریں اس پر دباؤ کو ظاہر کرتی ہیں جو ٹوٹنے کے عمل پر منتج ہوئی۔ اب یہ برفانی ڈھیر پانی پر تیررہا ہے اور توقع ہے کہ اس سے سمندری سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ان سب کے باوجود یہ انسانی معلومہ تاریخ کا سب سے بڑا آئس برگ ہے۔

    رون آئس شیلف اس وقت مستحکم حالت میں ہے اور وہ اتنی برف کھونے کے بعد مزید پھیلے گا۔ اس سے قبل 1986 میں یہاں سے کل 11 ہزار کلومیٹر کی برف ٹوٹ کر چھوٹے بڑے آئس برگ کی شکل میں الگ ہوئی تھی۔

    سائنسدانوں نے رواں برس کے آغاز میں بتایا تھا کہ انٹارکٹیکا کا ایک اور برفانی تودہ جس نے جنوبی امریکہ کے جنوبی حصے سے دور پنگوئن کے ایک جزیرے کو خطرے سے دوچار کیا تھا، اس کا زیادہ حصہ پگھل گیا ہے اور یہ کئی ٹکڑوں میں ٹوٹ گیا ہے۔

    فوٹو اے ایف پی

  • کتوں سے پھیلنے والے نئے کورونا وائرس کا انکشاف

    کتوں سے پھیلنے والے نئے کورونا وائرس کا انکشاف

    کتوں سے پھیلنے والے نئے کورونا وائرس کا انکشاف کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : کلینکل انفیکشیس ڈزیززجرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کتوں سے پھیلنے والے نئے کورونا وائرس کا انکشاف کیا گیا ہے

    تاہم سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق ملائیشیا کی ریاست ساراواک کے اسپتال سے نمونیا کے 301 مریضوں کے نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے 8 نمونوں میں کینائن کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ ان میں سے اکثریت پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔

    اس وائرس میں ساخت تبدیل ہونے والی جینیاتی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے جو اس سے قبل سامنے آنے والے کینائن وائرسوں میں سامنے نہیں آئی تھی۔ یہ قسم 2017 اور 2018 میں اسپتال میں زیر علاج نمونیا کے مریضوں میں سامنے آئی۔ اس نئی قسم کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ کورونا وبا کی آٹھویں قسم ہوگی۔

    اس متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کورونا وائرس انسانوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ابھی تک کورونا وائرس کی7 ایسی اقسام سامنے آ چکی ہیں جو انسانوں کو بیمار کرسکتی ہیں۔ جن میں چار بخار اور زکام کی وجہ بنتی ہیں جبکہ تین اقسام جان لیوا ہو سکتی ہیں جن میں سارس، مرس اورکووڈ 19 شامل ہیں۔

    دوسری جانب تاہم امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق مارچ 2020 کے اوائل میں ، عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا کہ COVID-19 نوول کورونا وائرس ایک عالمی وبائی بیماری ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ پر خوف و ہراس میں ، لوگ نہ صرف اپنی صحت بلکہ اپنے کتے ، بلیوں اور دوسرے پالتو جانوروں کی صحت کے بارے میں بھی پریشان ہیں۔

    ہلیتھ مراکز کے مطابق ، "اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ امریکہ میں وائرس پھیلانے میں پالتو جانور کردار ادا کرتے ہیں۔ لہذا ، ساتھی جانوروں کے خلاف اقدامات اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ہے جو ان کی فلاح و بہبود پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں۔

    ہم کئی دہائیوں سے جانتے ہیں کہ کتے کورونوا وائرس کا معاہدہ کرسکتے ہیں ، عام طور پر کینائن کے سانس لینے والے کورونا وائرس (COVID-19 نہیں)۔ خیال نہیں کیا جاتا ہے کہ نوول کورونا وائرس (COVID-19) کتوں کی صحت کے لئے خطرہ ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیاکہ اگرچہ کوویڈ 19 کتوں کے لئے خطرہ نہیں ہے ، لیکن کتے وائرس کے لئے مثبت ٹیسٹ کرسکتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ میں دو پالتو کتوں نے کوویڈ 19 کے لئے مثبت جانچ کی ، اور دونوں کتے کوویڈ 19 مثبت مالکان کے ساتھ گھروں میں رہتے تھے۔ مقامی صحت کے عہدیداروں نے ہانگ کانگ میں ان دونوں کتوں کے معاملات کی نشاندہی کی ہے جو "انسان سے جانوروں میں منتقل ہونے کا خدشہ ہے” اور نہ ہی کسی کتے نے وائرس سے بیماری کے آثار ظاہر کیے ہیں۔

    ہانگ کانگ کے صحت کے عہدیداروں نے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ملکیت والے کتوں اور بلیوں کی جانچ جاری رکھی ہے۔ وہاں کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ کتوں میں انفیکشن کے معاملات غیر معمولی دکھائی دیتے ہیں۔ 25 مارچ تک ، ہانگ کانگ کے زراعت ، ماہی گیری ، اور تحفظ محکمہ نے "تصدیق شدہ کوویڈ 19 کیسوں یا تصدیق شدہ مریضوں سے قریبی رابطے رکھنے والے افراد کے گھریلو گھروں کے 17 کتوں اور آٹھ بلیوں پر ٹیسٹ کیے ، اور صرف دو کتوں نےکوویڈ 19 کے لئے مثبت جانچ کی تھی –

    ہانگ کانگ کے عہدیداروں نے زور دیا کہ "ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتے اور بلیوں کو اس وائرس سے آسانی سے انفیکشن نہیں ہوتا ہے ، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔”

  • گوگل سرچ انجن میں مصنوعی ذہانت سے لیس نیا ٹول متعارف

    گوگل سرچ انجن میں مصنوعی ذہانت سے لیس نیا ٹول متعارف

    دنیا بھر میں مقبول ترین سرچ انجن گوگل نے مصنوعی ذہانت سے لیس جِلد، بالوں اور ناخنوں کی صحت جاننے کیلئے نیا اور جدید ٹول متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیکنالوجی جائنٹ گوگل نے جلد، بال، ناخن کے امراض کی تشخیص کے لیے’ ڈرماٹولوجی اسسٹ ٹول‘ بنا لیا ہے۔

    یہ ٹول آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے مریض کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی تصویر کی جانچ کرکے استعمال کنندہ کے جلدی امراض کی تشخیص میں مدد دیتا ہے۔ گوگل کی جانب سے اس ٹول کی آزمائش مکمل کی جاچکی ہے اور اس سال کے آخر میں ہونےوالی سالانہ ڈیولپر کانفرنس میں اسے لانچ کیا جائے گا۔

    گوگل کا کہنا ہے کہ ’ ڈرماٹولوجی اسسٹ ٹول‘ مصنوعی ذہانت کی بدولت جلد کی 288 کیفیت کی شناخت کرسکتا ہے۔ تاہم اسے طبی شناخت اور علاج کے متبادل کے طور پر ڈیزائن نہیں کیا گیا ہے۔ اس ٹول کو ڈویلپ کرنے میں تین سال کا عرصہ لگا اور تجرباتی طور پر جلدی کیفیت کی تتشخیص کے لیے 65 ہزار تصاویر کا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔ جس میں جلد کی ہرکیفیت، شیڈز اور ٹون والی تصاویر بھی شامل تھی۔

    تصویر اپ لوڈ کرنے کے ساتھ ساتھ مریض کو آن لائن سوالات کے جواب دینے بھی ضروری ہیں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ اس کے سرچ انجن پر سالانہ تقریبا 10 ارب لوگ جلد، بال اور ناخن کے مسائل کو سرچ کرتے ہیں۔

    گوگل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ صارفین اب باآسانی جان سکیں گے کہ ان کی جلد اور بالوں کو کسی قسم کی کوئی بیماری تو لاحق نہیں ہے۔

    اس کیلئے آپ کو اپنے موبائل کے کیمرے سے انفیکشن والی جگہ کی تین تصاویر لینی ہوں گی، مثال کے طور پر اگر آپ کے بازو پر ریش ہے تو گوگل آپ کو اس کی علامات اور بیماریوں سے متعلق آگاہ کرے گا۔

    جلدی کینسر کے ایک ماہر کا اس ٹول کے بارے میں کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں ہونے والی جدت ڈاکٹروں کو مریضوں کے زیادہ بہترعلاج کا اہل بنا رہی ہے۔

    امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اتھارٹی ( ایف ڈی اے) کی جانب سے ڈرماٹولوجی اسسٹ کو تاحال امریکا میں استعمال کی کلیرینس نہیں دی گئی ہے تاہم ایف ڈی اے نے پھیپھڑوں کے کینسر کی شناخت میں مدد دینے والے اسی نوعیت کے برطانوی ٹول کو استعمال کی منظوری دے دی ہے-

    گوگل سالانہ کانفرنس میں صارفین کے لئے نئے حیرت انگیز ٹولز پیش

  • پیارے بچوں سنو کہانی از قلم شمائلہ تنویر

    پیارے بچوں سنو کہانی از قلم شمائلہ تنویر

    اپنی جان نظر کروں، اپنی وفا پیش کروں، میرے پیارے وطن میں تجھے کیا پیش کروں
    پیارے بچو، سنو کہانی

    ٹیپو سلطان کو جس نے دھوکا دیا تھا وہ میر صادق تھا۔ تاریخ گواہ ہے، اس نے سلطان سے دغا کی اور انگریز سے وفا کی تھی انگریز نے انعام کے طور پر اسکی کئی پشتوں کو نوازا اور انہیں وظیفہ ملا کرتا تھا ۔مگر پتا ہے جب میر صادق کی اگلی نسلوں میں سے کوئی نا کوئی ماہانہ وظیفہ وصول کرنے عدالت آتا تو چپڑاسی صدا لگایا کرتا،

    ‘میر صادق غدار کے ورثا حاضر ہوں ” اور جب جب عرش پر شہدا کو پکارا جائے گا تو خاص و عام انسان اور فرشتے اس صدا پر رشک کریں گے۔ دنیا میں بھی ان کی شہادت کے بعد ملنے والے عزت و مقام کو دیکھ کر شہادت کی موت کی خواہش کریں گے ،بس اس فرق کو سمجھو ، میرے بیٹے میری بات یار رکھنا

    جیسے شہید قبر میں جا کر بھی سینکڑوں سال زندہ رہتا ایسے ہی غدار کی غداری بھی صدیوں یاد رکھی جاتی ہےزندگی کے اختتام پر فرق اس چیز سے پڑتا ہے کہ انسان صحیح سمت تھا یا غلط ،

    میری طرف سے یہ چھوٹا سا میسج ملک پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے ھے . اس پاکستان سے وفا کرو دنیاو آخرت میں کامیاب ھو جاؤ گے بہت ہی سستہ سودا ھے ایمان بچانے کا .بہت بشارتیں دی گئی ھیں اس پاکستان کے لئے…اپنا ایمان بچا لو…..پاکستان زندہ باد… جہاد کرو ، جیسے بھی کر سکو، زبان سے ، قلم سے ۔

  • گوگل سالانہ کانفرنس میں صارفین کے لئے نئے حیرت انگیز ٹولز  پیش

    گوگل سالانہ کانفرنس میں صارفین کے لئے نئے حیرت انگیز ٹولز پیش

    گوگل نے رواں برس اپنی سالانہ منعقدہ سادہ کانفرنس میں نصف درجن سے زائد حیرت انگیز اور انقلابی ٹولز کا اعلان کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : گوگل کی جانب سے پیش کردہ اہم ٹیکنالوجیز اور سہولیات کسی بھی وقت سامنے آ سکتی ہیں ان میں سے چند اہم سہولیات اور ٹیکنالوجی درج ذیل ہیں-

    تھری ڈی ورچوئل کانفرنس:
    گوگل نے سالانہ تقریب میں کہا ہے کہ وہ ایک نئے ویڈیو چیٹ سسٹم پر کام کررہا ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کو تھری ڈی انداز میں دیکھ سکیں گے اور گفتگو مزید حقیقی بن جائے گی اسے ’اسٹارلائن‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں ویڈیو چیٹ بہت حقیقی دکھائی دے گی لیکن اسٹارلائن کے لیے ایک سے زائد کیمرے درکار ہوں گے۔

    گوگل کا اپنے سرچ انجن کے لیے ایک نئے شارٹ کٹ کا اضافہ

    ریموٹ ورک کے نئے ٹولز:
    کورونا وبا کی وجہ سے گزشتہ 14 ماہ سے ریموٹ ورک اور گھر سے کام کیا گیا اس ضمن میں کئی ٹولز موجود ہیں لیکن اب بھی بہت سی سہولیات درکار ہیں اسی ضرورت کے تحت گوگل نے کئی ایک ٹولز پیش کئے ہیں جو کام کو آسان بناتے ہیں ان میں ایک اسمارٹ کینوس ہے جو ایک طرح کا پروجیکٹ میجنمنٹ پلیٹ فارم ہے اس پر ایک سے زائد افراد منسلک ہوکر ایک پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

    اسمارٹ کینوس کی مدد سے کسی پروجیکٹ پر کام کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے اور ہاتھوں ہاتھ پیشرفت سے بھی آگہی حاصل کی جاسکتی ہے اس کے علاوہ گوگل میٹ کو جلد ہی گوگل ڈاکیومنٹس سے جوڑا جائے اس طرح گفتگو کے ساتھ ساتھ دستاویز کا تبادلہ بھی کیا جاسکے گا علاوہ ازیں گفتگو کے ٹرانسکرپٹ اور تراجم بھی دیکھے جاسکتے ہیں جس کی سہولت گوگل پر پہلے سے ہی موجود ہے۔

    گوگل کی ویڈیو کانفرنسنگ سروس میں صارفین کے لئے اہم ترین اپ ڈیٹس

    اینڈروئڈ 12:
    گوگل نے اینڈروئڈ 12 آپریٹنگ سسٹم میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں اسے گوگل نے اپنی تاریخ میں سب سے بڑا ڈیزائن چینج کہا ہے اوپر ایک روشنی دی گئی ہے جو بتاتی ہے کہ کونسی ایپ کیمرہ اور مائیک استعمال کررہی ہے یعنی پرائیویسی کو بہت بہتر بنایا گیا ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی سوفیصد درست لوکیشن ظاہر نہ ہو بلکہ اطرافی موجودگی کا اظہار ہو تو اس کا آپشن بھی شامل کیا گیا ہے۔

    ’گوگل وائی فائی‘ ایپ کی وجہ سے اینڈرائیڈ صارفین کا ذاتی ڈیٹا غیرمحفوظ ،کمپنی نے…

    اے آئی اور جلد کا سرطان:
    اب گوگل اے آئی ایپ کی بدولت، ناخن، بالوں اور جلد کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ یہ کاسمیٹکس اور بناؤ سنگھار کے پس منظر میں بنائی گئی ہے۔ تاہم اس نے یورپ میں طبی ایپ کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرلیا ہے۔ یعنی اگر جلد کا سرطان لاحق ہوجائے تو بہت حد تک یہ ایپ اس کی پیشگوئی کرسکتی ہے۔

    اس کے علاوہ گوگل نے اپنے پلیٹ فارم سے مختلف زبانوں کی شمولیت اور بہتری، اے آئی فوٹو البم اور دیگر سہولیات بھی پیش کی ہیں۔

    گوگل کا کوکیز کی جگہ نیا ٹارگیٹڈ ایڈورٹائزمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ

  • ٹوئٹر نے صارفین کی تصدیق کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا

    ٹوئٹر نے صارفین کی تصدیق کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نے اپنے صارفین کی تصدیق کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا ہے-

    باغی ٹی وی :ٹوئٹر کی جانب سے اپنے صارفین کی تصدیق کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا گیا ہے اس سےقبل نومبر2017 ء میں اسےتنقید کےباعث بند کردیا گیا تھا۔


    ٹوئٹر ایپلیکشن پرتصدیقی عمل کا دائرہ آئندہ چند ہفتوں میں صارفین تک رفتہ رفتہ پھیلایا جائےگا، اس کےلیےصارف کو اکاؤنٹ سیٹنگ کےٹیب میں ہی سروس مہیا کی جائےگی۔

    ٹوئٹر کےمطابق چیک مارک کےساتھ تصدیق شدہ اکاؤنٹ، اکاؤنٹ کےدرست ہونے کو ظاہر کرے گا۔

    درست تصدیق کےلیےاکاؤنٹ ہولڈر کی پروفائل پکچر اورصحیح ای میل ایڈریس یا فون نمبر درکار ہوگا، ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ صارف اکاؤنٹ پر6 ماہ کے دوران، ایکٹو رہا ہو۔

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

    ٹوئٹر نے 600 سے زائد فالوورز والے اکاؤنٹ پر آڈیو اسپیس کھول دیا

    ٹوئٹر کا کوویڈ 19 ویکسینز فیکٹ باکس کو صارفین کی ٹائم لائن کا حصہ بنانے کا فیصلہ

  • اسرائیل کیسے بنا؟ کیوں اتنا طاقت ور ہے؟(تاریخی اور تلخ حقائق) از قلم۔۔۔۔۔۔۔ علی عمران شاھین

    اسرائیل کیسے بنا؟ کیوں اتنا طاقت ور ہے؟(تاریخی اور تلخ حقائق) از قلم۔۔۔۔۔۔۔ علی عمران شاھین

    1917 میں پہلی جنگ عظیم زوروں پر تھی اور اس میں برطانیہ تیزی سے فتح حاصل کررہا تھا۔برطانیہ اور اس کے اتحاد کے مقابل جرمنی تھا جس کے اتحادیوں میں سے بڑا کردار ترکی تھا تب موجودہ فلسطین ترکی کی خلافت کا حصہ تھا۔

    جرمنی کی پسپائی سے سب سے بڑی شکست ترکی کو ہوئی جس کی وسیع خلافت دیکھتے ہی دیکھتے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ ترک شکست و ریخت سے برطانیہ نے اس علاقے پر بھی قبضہ جمالیا ۔۔

    دنیا بھر کے مسلمانوں کی آخری امید یہی ترک خلافت تھی جس نے 1923میں جنگ عظیم اول کی شکست کے بعد خود ہی اپنے مکمل خاتمے اور اپنی سرحدیں موجودہ ترکی تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ موجودہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے کیا اور پھر ملک میں اسلام کی مکمل بیخ کنی اور اہل اسلام پر بدترین ظلم ڈھانے شروع کر دئیے۔

    پہلی جنگ عظیم میں اس محیر العقولکامیابی کے بعد دنیا میں انگریز کے مدمقابل کوئی نہیں تھا تو اسی عرصے میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنے ملکوں سے دھڑا دھڑ یہودی یہاں اس مقبوضہ علاقے یعنی فلسطین میں لانے اور آباد کرنے شروع کر دئیے،یہودیوں کو یہاں بسانے اور قابض بنانے کے لیے(فلسطینی جو پہلے ہی مظلوم تھے)سے جبراً اور بھاری معاوضہ دے کر دونوں طریقوں سے زمینیں خریدی گئیں اور انہیں یہاں سے تیزی سے نکالا گیا۔

    دوسری جنگ عظیم میں جب پھر سےجرمنی کو شکست ہوئی تو وہاں ہٹلر کی مار کا شکار بننے والے یہودی بھی مظلوم قرار دے کر یہاں لائے جاتے اور آباد کئے جاتے رہے کیونکہ ساری عالمی طاقت تو برطانیہ اور بڑے فاتح امریکا کے پاس تھی جنہوں نے اسی عرصے میں یو این بھی بنائی۔۔۔۔۔ اسی دوران میں یہودی یہاں آتے اور فلسطینی بے دخل ہوتے رہے۔

    یہاں آباد ہونے والے ان یہودی کے ساتھ ساری عالمی طاقتیں تھیں جو ایک طرف اپنے ملکوں میں فساد ڈالنے والی اس مغضوب قوم سے تنگ تھیں تو ساتھ ہی ان سے نجات کے لئے مقدس سرزمین فلسطین میں انہیں بسا کر مسلم دنیا کے عین سینے میں خنجر بھی گھونپ رہی تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا میں آزاد مسلم ممالک محض چند ایک تھے اور ان کی حیثیت بھی برائے نام تھی۔

    عرصہ 30سال میں جب یہاں یہودیوں کی ایک معقول تعداد جمع ہوگئی تو انہوں نے اپنے آزاد ملک کا اعلان کر دیا جسے امریکا وغیرہ کے بعد فوری طور پر مئی 1948 میں اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کرلیا۔یوں اسرائیل ایک باقاعدہ قانونی ریاست بن گیا جس پر حملہ عالمی جرم قرار پایا۔

    اس کے بعد سے اب تک یہی ساری عالمی صلیبی طاقتیں پوری قوت کے ساتھ اسرائیل کی ہر طرح سے مدد و حمایت میں کھڑی ہیں، عرب ممالک جن کی معاشی و عسکری قوت تب محض برائے نام تھی، نے اسرائیل کو ختم کرنے کے لیے باربار کئی جنگیں لڑیں لیکن عالمی طاقتوں خصوصاً امریکا کی مکمل آشیر باد اور تمام تر جنگی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی وجہ سے اسرائیل کو نہ شکست دی جاسکی اور نہ نکالا جا سکا۔یہی صورت حال آج تک قائم ہے

    اس سارے قضیے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جس القدس کی خاطر یورپی صلیبی ہمیشہ مسلمانوں سے جنگیں لڑتے رہے اور قتل عام کرتے اور اور اپنی افواج کا کرواتے رہے وہ اسی القدس سے اب یہود کے حق میں صرف دست بردار ہی نہیں ہوئے بلکہ ان کے محافظ بن گئے۔

    اسرائیل سے زیادہ اس کی پالنہار عالمی طاقتوں کے خوف اور مسلسل ہمہ جہت دباؤ کے باعث عرب بھی آہستہ اہستہ پسپا ہوئے، اس پسپائی دوسری بڑی وجہ یہ بنی کی فلسطینیوں کی قیادت حیران کن طور پر پہلے ایران اور پھر ترکی کے زیر اثر چلی جاتی گئئ،

    کمال حیرت یہ ہے کہ یہ دونوں ملک وہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کیا اور جب بھی عربوں نے اسرائیل سے جنگیں لڑیں یہ دونوں ملک ہی الگ تھلگ رہے، ان میں سے کبھی کسی نے کسی فلسطینی مہاجر کو پناہ تک نہ دی۔

    ایک زمانے سے آج تک حما س اور ساری فلسطینی قیادت کا ہیڈکوارٹرز قطر ہے۔ 70لاکھ فلسطینی یہیں خلیجی ملکوں میں پناہ گزین بلکہ اب عرب ملکوں کے شہری ہیں اور غزہ و مغربی کنارہ والوں کی زندگی اول دن سے عربوں ہی کے پیسے سے چلتی ہے۔ اس کے باوجود ان کی نجانے پینگیں کیوں ترکی اور ایران سے پڑی ہوئی ہیں جو انہیں صرف نعروں سے بہلاتے ہیں،

    ایران نے اگرچہ موجودہ مذہبی انقلاب کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ تو واپس لیا لیکن یہ قدم ایک دکھاوے سے زیادہ کچھ نہ رہا۔ترکی کی فلسطین سے ہمدردیاں بجا لیکن انہوں آج تک کبھی اسرائیل سے کسی قسم کے تعلقات منقطع نہیں کئے اور نہ آج تک ایران نے اسرائیل پر کبھی ایک گولی چلائی نہ کبھی دنیا میں اس کے مفاد کو کوئی معمولی گزند پہنچائی۔یہ سب دیکھتے ہوئے بھی حیران کن طور پر حما س کی قیادت کو یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ دنیا میں کون ان کا دوست ہے اور کون دشمن؟

    ان کی اسی لامتناہی خلیج مخالف اور غیر عرب ملکوں کی پراسرار دوستی سے تنگ آکر اور یورپ و امریکا کے جبر و دباؤ کے باعث اسرائیل سے آج یہی عرب بالآخر تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہوئے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ مسئلہ فلسطین روئے زمین کی اس بہادر ترین قوم کی وجہ سے ہی زندہ ہے کہ انہیں اسرائیل کبھی نہیں جھکا سکا۔ہمیں اللہ پر پورا یقین ہے کہ جب تک ایک بھی فلسطینی زندہ ہے اسرائیل کبھی نہ چین کی نیند سو سکتا ہے نہ القدس پر اس کا قبضہ مکمل ہوسکتا ہے اور نہ یہ قضیہ کبھی ختم ہوسکتا ہے ۔

    اسی کے ساتھ ان فلسطینیوں کی دوسری طرف غلطی یہ رہی کہ انہوں نے اپنے دوست و اتحادی کو پہچاننے اور اسی سے تعلق استوار کرنے میں ہمیشہ خطا کی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ آج بھی حما س جس ایران کو اپنا اتحادی اور سب سے بڑا ہمدرد سمجھتی ہے وہ ان کے لئے کوئی عملی قدم اٹھانے کو تیار نہیں بلکہ انہوں نے کبھی حما س کو اپنے ہاں ٹھکانا بھی بنانے کی اجازت نہیں دی۔

    اگر اس غلطی کی آج بھی اصلاح ہو جائے تو ضرور اس مسئلے کا فوری و پائیدار حل نکل آئے۔

    تحریر👇

    اسرائیل کیسے بنا؟
    کیوں اتنا طاقت ور ہے؟(تاریخی اور تلخ حقائق)
    از قلم۔۔۔۔۔۔۔ علی عمران شاھین

  • لبیک یا رب الکعبہ ہم بیٹے حرم کے حاضر ہیں  ازقلم غنی محمود قصوری

    لبیک یا رب الکعبہ ہم بیٹے حرم کے حاضر ہیں ازقلم غنی محمود قصوری

    2017 کا ماہ رمضان تھا صہیونی ناجائز ریاست اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں پر بلکل اسی رواں سال کی طرح عرصہ حیات تنگ کیا ہوا تھا ان پر بمباری کی جا رہی تھی ان کے کاروبار ،مکانات تباہ ہو چکے تھے اور وہ کھلے آسمان تلے پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے تھے۔تباہ حال فلسطینی اپنے گھروں کے ملبوں پر پریشان بیٹھے امت محمدیہ کے فرزندوں کو پکارتے تھے۔ایسے میں پاکستان میں ایک جماعت الدعوہ نامی تنظیم ہوتی تھی جس کا ذیلی ادارہ فلاح انسانیت ہوتا تھا جو کہ رنگ ،نسل،ذات برادری،مسلک حتیٰ کہ مذہب دیکھے بنا انسانوں کی مدد کرتا تھا انہوں نے اپنے فلسطینی مسلمان بھائیوں کی آواز پر لبیک کہا۔

    اور اپنا قافلہ فلسطین کے کیمپوں میں بیجھا جس میں کھانے پینے کی اشیا،ادویات وغیرہ شامل تھیں نا کہ کوئی بھی عسکری اشیاء
    انہوں نے اپنے فلسطینی بھائیوں کیلئے سحری و افطاری کا اہتمام کیا اور عید کے دن ان فلسطینی مسلمانوں کو تحفے تحائف کے ساتھ راشن دیا کہ جن کی خوشیاں یہودی بدمعاش نے چھین لی جیسے کشمیریوں کی ہندو پلید نے چھینی ہوئی ہیں۔ پوری دنیا شور مچاتی رہی کہ یہ تو دہشت گرد ہیں ان کو فلاحی کاموں کی اجازت نا دی جائے مگر وہ لوگ ساری باتیں سنتے دیکھتے ہوئے ڈٹے رہے۔

    اور عید الاضحیٰ پر فلسطینی مسلمانوں کیلئے قربانی کا اہتمام کیا تاکہ معاشی تباہ حال مسلمان عید کی خوشی محسوس کر سکیں
    وقت گزرتا گیا اور جماعت الدعوہ پاکستان و دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہر مذہب کے انسانوں کی مدد کرتی رہی کیونکہ انہوں نے منہج نبوی میں پڑھا تھا کہ آقا علیہ السلام ایک یہودی بچے کی عیادت کرنے خود تشریف لے گئے تھے اور اس حسن سلوک پر وہ یہودی مسلمان ہو کر دوزخ کا ایندھن بننے سے بچ گیا تھا

    اسی جماعت نے سندھ جہاں سارے پاکستان میں لاکھوں فلاحی کیمپ وہیں سندھ میں مسلمانوں و ہندوؤں کے لئے کنویں کھدوائے اور اور پیاس سے نڈھال ان گھرانوں کیلئے صفاف شفاف پینے کے پانی کا اہتمام کیا کہ جن گھروں کے افراد روزانہ صحراؤں،پہاڑوں میں کم و بیش 10 کلومیٹر تک پیدل اور غربت کے باعث اکثر ننگے پاؤں سفر کرکے پینے کیلئے بارش کا جمع شدہ گندہ پانی گڑھوں کھڈوں سے لاتے تھے کہ جن سے پرندے درندے بھی پانی پیتے تھے سو انہیں بھی مجبوراً اسی جگہ سے پانی بھرنا پڑتا تھا

    حالانکہ میڈیا تھر کی یہ صورتحال سینکڑوں بار دکھا چکا تھا مگر مجال کے لوکل و صوبائی و وفاقی گورنمنٹ کے نمائندوں نے انسانیت کیلئے پانی کا اہتمام کیا ہو مگر اللہ نے یہ شرف اسی فلاح انسانیت کو بخشا تو ہندوستان کے غلیظ ذہن سیاستدانوں نے شور ڈالنا شروع کر دیا کہ اس جماعت نے پاکستان کے ہندوؤں کو جبری مسلمان بنانا شروع کیا ہوا ہے بات تھر کے ہندوؤں تک پہنچی تو انہوں نے میڈیا پر آکر بتایا کہ نا تو ہمیں ہندو سے مسلمان بنایا جا رہا ہے اور نا ہی ہمیں کسی دیگر مذہبی کام کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے لہٰذہ ہندوستان پروپیگنڈا کرنے سے باز رہے

    جبکہ کچھ ہندوؤں نے تو باقاعدہ اس جماعت کے بانی و سربراہ حافظ محمد سعید کی تصویر پکڑ کر کہا کہ یہ ہمارا سب سے بڑا مسیحا ہے
    تاریخ گواہ ہے کہ ان غریبوں نے وڈیروں کے لاکھ ظلم و ستم سہہ کر ماریں کھا کر گولیاں کھا کر عزتیں تار تار کروا کر بھی ان کے سامنے سینہ تانے رکھا مگر نا کوئی ہندو سے مسلمان ہوا اور نا ہی کوئی مسلمان سے ہندو ہوا مگر منہج نبوی کا حسن سلوک انہیں مسلمان ہونے پر مجبور کر گیا اور یہی کام جماعت الدعوہ کا تھا کہ انسانیت کی خدمت کی جائے

    کچھ عرصہ بعد اس حسن سلوک مثل منہج نبوی کو دیکھ کر تھر کے ہندو اپنی مرضی سے ملسمان بھی ہوئے تھے جس پر پوری دنیا نے پروپیگنڈا کیا حتی کہ مسلمان ہونے والے سابق ہندوؤں کو عدالتوں میں وضاحت کرنا پڑی کہ ہم اپنی مرضی اور دعوت دین سے بغیر کسی خوف و لالچ کے مسلمان ہوئے ہیں

    یہ فلاح انسانیت والے اپنا کام کرتے گئے پاکستان میں مختلف موقعوں پر مختلف آفات میں انہوں نے اتنی جلدی اتنے بڑے پیمانوں پر کام کئے کہ گورنمنٹ آف پاکستان کے علاوہ امریکہ جیسی گورنمنٹ بھی کہنے پر مجبور ہو گئی کہ جہاں گورنمنٹ کے لوگ ،مشینری حتی کہ ہیلی کاپٹر تک نہیں پہنچ سکتے وہاں یہ لوگ پہنچتے ہیں اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور بغیر رنگ و نسل کے کرتے ہیں خاص کر 2005 کے زلزلے میں پوری دنیا نے ان کا فلاحی کام دیکھا اور یہ جماعت مقبول تر ہوتی گئی
    ماضی میں جب ان پر مقدمات بنے ان کو جیلیں ہوئیں تب کورٹ ٹرائل اور سزائیں لینے کے بعد بھی سلطان ایوبی کے یہ روحانی بیٹے بیت المقدس کی شعور و آگاہی کیلئے کانفرنسیں جلسیں کرتے رہے

    جن میں شرکت کرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ تک جا پہنچتی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی بہت سے لوگ جو بیت المقدس سے واقف نا تھے انہوں نے بھی کشمیر کی طرح بیت المقدس کے لئے نعرہ لگانا شروع کر دیا
    لبیک یا رب الکعبہ ہم بیٹے حرم کے حاضر ہیں
    یہ باتیں یہ کانفرنسیں یہ پروگرام انڈیا امریکہ اسرائیل کو ایک آنکھ پہلے ہی نا بھاتی تھیں سو اب ان کی جلن مذید تیز ہو گئی کیونکہ بلوچستان و سندھ کے پاکستان مخالف مسلح لوگ ہتھیار ڈال کر اس جماعت کے جھنڈے تلے جمع ہو کر نعرہ لگا رہے تھے کہ پاکستان زندہ باد
    یہ باتیں عالم کفر خاص کر امریکہ انڈیا اسرائیل کے لئے ناقابل برداشت تھیں سو انہوں نے اپنی لونڈی سلامتی کونسل کو استعمال کیا اور جولائی 2019 میں اس جماعت کو دہشت گرد قرار دلوا کر پابندیاں لگوا کر اس کے سربراہ و دیگر راہنماؤں کو نظر بند کروا دیا جس سے انسانیت کی بقاء کا کام بڑی حد تک رک گیا

    گورنمنٹ آف پاکستان نے اس کے تمام اداروں، مراکز کو اپنی تحویل میں لے لیا اور ان پر دہشت گردی کے مقدمات بنا کر سزائیں دی گئی ہیں جن کی صرف اور صرف وجہ غیر ملکی دباؤ ہے حالانکہ آج دن تک ثابت نہیں ہو سکا کہ اس جماعت نے کبھی پاکستان و بیرون پاکستان کسی عسکری کاروائیوں میں حصہ لیا ہو حتی کہ انڈیا ممبئی حملوں کا الزام بھی ثابت نا کر سکا تھا مگر پھر بھی کفار کو خوش کرنے کیلئے اور ایف اے ٹی ایف کا بہانہ بنا کر ان کو پابند سلاسل کیا گیا
    کاش کہ یہ جماعت آج پابند سلاسل نا ہوتی تو آج پھر یہ یقیناً فلسطینی مسلمانوں کی پکار پر مدد کو پہنچ کر کہتے

    لبیک یا رب الکعبہ ہم بیٹے حرم کے حاضر ہیں