Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر آگئی

    بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر آگئی

    بیجنگ: دنیا کی سب سے مہنگی سمجھی جانی والی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق کرپٹو کرنسی پر چین کی جانب سے عائد کی گئی، چین میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد اس کی قیمت میں تیزی سے کمی کا رجحان جاری ہے نئی پابندیوں کے بعد بٹ کوائن کی قیمت 40 ہزار ڈالر سے بھی نیچے آگئی ہے.

    چین نے کرپٹو کرنسی کی ٹرانزیکشن کی خدمات فراہم کرنے والی مالیاتی کمپنیوں پر پابندی عائد کردی تھی، جب کہ تین ریاستی اداروں ’ نیشنل انٹرنیٹ فنانس ایسوسی ایشن آف چائنا‘ ، ’چائنا بینکنگ ایسوسی ایشن‘ اور’پیمنٹ اینڈ کلیرنگ ایسوسی ایشن ‘ نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وارننگ جاری کی تھی اورکرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کو سٹہ قرار دیتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو تنبیہ بھی کی تھی۔

    چینی حکومت کے اس اقدام کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں 13 فیصد، جبکہ دیگر ڈیجیٹل کوائن ایتھریم، ڈوج کوائین کی قیمت میں 18 فیصد کمی ہوئی۔

    جبکہ گزشتہ ہفتے ٹیسلا کی جانب سے بٹ کوائن کووصول نہ کرنے کے اعلان سے اس کی قیمت میں 10 سے زائد کی کمی ہوگئی تھی۔

    یاد رہے کہ چین نےمنی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے 2019 سے بٹ کوائن کی تجارت کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے، لیکن لوگوں کی جانب سے بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسی کی ٹریڈ نے بیجنگ کی مشکلات میں اضافہ کررکھا ہے-

    بٹ کوئن کی قیمت میں کمی کے بعد سے مایئکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرپٹو کریش اور بٹ کوئن کریش ٹوئٹر ٹرینڈ فہرست پر نمبر ون پر ہیں-بٹ کوئن انویسٹرز پر مزاحیہ میمز شئیر کی جارہی ہیں-


    https://twitter.com/Zackrhea/status/1394997346044317699?s=20


    https://twitter.com/ParasharSpeaks/status/1395021102926032896?s=20


    https://twitter.com/Zackrhea/status/1395002362649923590?s=20
    https://twitter.com/NavitaB3/status/1395069916378771456?s=20
    https://twitter.com/readythefool/status/1395179161673637891?s=20

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

    ٹیسلا نے ماحولیاتی تحفظات کے تناظرمیں بٹ کوائن لینے سے انکار کر دیا

    وقار ذکاء خیبرپختونخواہ حکومت کیجانب سے کرپٹو کرنسی کے ایکسپرٹ مقرر

  • مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنے کے یہودی ہتھکنڈے   بقلم : عمران محمدی

    مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنے کے یہودی ہتھکنڈے بقلم : عمران محمدی

    یہود کا بھیانک چہرہ

    بقلم
    عمران محمدی
    ( عفا اللہ عنہ )

    ===========

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    لَـتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا‌ ۚ وَلَـتَجِدَنَّ اَ قۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ‏

    یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، سب لوگوں سے زیادہ سخت عداوت رکھنے والے یہود کو اور ان لوگوں کو پائے گا جنھوں نے شریک بنائے ہیں اور یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، ان میں سے دوستی میں سب سے قریب ان کو پائے گا جنھوں نے کہا بیشک ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ بیشک ان میں علماء اور راہب ہیں اور اس لیے کہ بیشک وہ تکبر نہیں کرتے۔
    المائدة – آیت 82

    ایک قوم جو ڈاکو، غاصب اور ظالم قوم ہے
    جن کی تاریخ وحشت و بربریت سے بھری پڑی ہے
    جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر بھی کیچڑ اچھالا، اللہ کو کبھی بخیل کہا تو کبھی فقیر
    وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ،المائدہ 64
    اور
    قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ، آل عمران 81

    جس نے حضراتِ انبیاء علیہم السلام تک کو معاف نہیں کیا
    کتنے ہی انبیاء کو قتل اور کتنوں کو تکلیفیں پہنچانے والی قوم

    ایک ایسی قوم کہ جن کے ہاتھ ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے خون سے رنگین ہیں

    جنہوں نے ہزاروں اولیاء، علماء ائمہ ومحدثین کو قتل کیا

    جو پہلے دن سے آج تک مسلمانوں کے خلاف مشرکین اور نصارٰی کو جنگوں پر ابھارتی چلی آ رہی ہے

    ایک ایسی قوم کہ جنہوں نے اپنی کتاب تک کو معاف نہ کیا اور اس میں من مانی تبدیلیاں کر ڈالیں

    آئیے اہل یہود کے اہل حق کے خلاف بھیانک تاریخی چہرے سے پردہ اٹھاتے ہیں

    یوسف علیہ السلام اور یہود

    قرآن نے یوسف علیہ السلام کے خلاف ان کے بھائیوں کی پلاننگ کا ذکر کیا ہے کہ
    یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا یقینا یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کے ہاں ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ ہم ایک قوی جماعت ہیں۔
    لہذا یا تو یوسف کو قتل کردو، یا اسے کسی زمین میں پھینک دو ، تاکہ تمہارے باپ کا چہرہ تمہارے لیے اکیلا رہ جائے گا اور اس کے بعد تم نیک لوگ بن جانا۔
    انہوں نے یوسف کے قتل کی پلاننگ بنائی اور اپنے باپ سے کہنے لگے کہ
    اے ابا جان ❗اسے کل ہمارے ساتھ بھیج کہ چرے چگے اور کھیلے کودے اور بیشک ہم ضرور اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
    باپ نے ان کی حرکات کو بھانپتے ہوئے کہا کہ یقینا مجھے یہ بات غمگین کرتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ
    بہرحال انہوں نے ضد کی اور بالآخر جب وہ اسے لے گئے تو انھوں نے طے کرلیا کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں اور یوں وہ اپنی طرف سے یوسف علیہ السلام کا کام تمام کرنے اور انہیں کنویں میں ڈالنے کے بعد اپنے باپ کے پاس اندھیرے میں روتے ہوئے آئے۔

    یہود کی اپنے محسن اور نبی، موسی علیہ السلام کو اذیتیں

    یہ بات زہن نشین کر لیں کہ موسیٰ علیہ السلام یہود کے لیے عظیم محسن کی حیثیت رکھتے ہیں انہوں نے یہود کی خاطر لمبی مدت تک فرعون سے تکلیفیں جھیلیں، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی غلامی سے نجات اور آزادی کی نعمت عطا فرمائی۔ جس کی دعا سے انھیں من و سلویٰ ملتا تھا، بادلوں کا سایہ میسر تھا اور ان کے لیے پانی کے بارہ چشمے جاری ہوئے اور پانی ہی میں راستے بنے
    مگر یہود، کہ جن کی فطرت میں شرارت، عناد اور مخالفت رچی بسی ہے، نے ہرموقع پر جناب موسی علیہ السلام کی مخالفت اور تکلیف کا خوب ساماں کیا
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا
    اے لوگو جوایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے اسے اس سے پاک ثابت کر دیا جو انھوں نے کہا تھا اور وہ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔
    الأحزاب : 69

    موسی علیہ السلام کے خلاف یہود کی خباثتوں کے چند نمونے

    یہود لوگوں کا شریر رویہ موسیٰ علیہ السلام کے لیے سخت تکلیف دہ تھا
    عموماً وہ موسی علیہ السلام کا حکم ماننے سے صاف انکار کر دیتے تھے
    مثلاً :

    1 موسی علیہ السلام نے انہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا تو کہنے لگے
    « لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً »
    [ البقرۃ : ۵۵ ]

    2 اور جہاد کرتے ہوئے بیت المقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا تو کہنے لگے
    : «لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا»
    [ المائدۃ : ۲۴ ]

    3 جب ان سے کہا گیا:
    « وَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ»
    ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور کہو بخش دے۔‘‘
    تو انھوں نے اسے بدل دیا اور اپنے سرینوں پر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کہنے لگے :
    [ حَبَّةٌ فِيْ شَعْرَةٍ ]
    ’’دانہ بالی میں۔‘‘
    [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، بابٌ : ۳۴۰۳۔ مسلم : ۳۰۱۵ ]

    4 گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو کہنے لگے
    ’’ اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا ‘‘
    پھر گائے کی کیفیت کے متعلق سوال پر سوال داغتے رہے۔

    5 موسی علیہ السلام کے بھائی ھارون علیہ السلام نے بچھڑے کی عبادت سے منع کیا تو کہنے لگے :
    « لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ حَتّٰى يَرْجِعَ اِلَيْنَا مُوْسٰى»
    [ طٰہٰ : ۹۱ ]
    ’’ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے، یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف واپس آئے۔‘‘

    6 ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا تو باز رہنے کی بجائے ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ مچھلیاں پکڑتے رہے
    تو اللہ تعالیٰ نے بندر بنا دیا
    فرمایا
    فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَا نُهُوا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ
    پھر جب وہ اس بات میں حد سے بڑھ گئے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہہ دیا کہ ذلیل بندر بن جاؤ۔
    الأعراف : 166

    7 چربی کھانے سے منع کیا تو پگھلا کر بیچنے لگے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا
    بخاری 2110

    8 اپنی آنکھوں سے دریا میں راستے بنتے دیکھے پھر ان راستوں پر چلے پھر انہیں راستوں پر فرعونی لشکر ڈوبتے ہوئے دیکھا
    مگر اتنے بڑے معجزے کے باوجود دریا کی دوسری جانب پہنچے تو ایسے لوگوں پر آئے جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے تو انہیں دیکھتے ہی کہنے لگے

    يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
    اے موسیٰ! ہمارے لیے کوئی معبود بنا دے، جیسے ان کے کچھ معبود ہیں؟ اس نے کہا بے شک تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کرتے ہو۔
    الأعراف : 138

    9 فرعون سے نجات پانے کے بعد جب صحرائے سینا میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو چالیس دن رات کے لیے طور پر بلایا تو انہوں نے موسی علیہ السلام کے جانے کے بعد ایک بچھڑا بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی

    وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَى أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ
    اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کی میعاد مقرر کی، پھر اس کے بعد تم نے بچھڑا بنا لیا اور تم ظالم تھے۔
    البقرة : 51

    10 کتاب اللہ میں تحریف کرتے ہوئے اپنی من مانی سے جو چاہتے جمع تفریق کردیتے

    مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ
    نساء :46

    11 بہت زیادہ جھوٹی اور حرام خور قوم
    فرمایا اللہ تعالیٰ نے
    سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ
    بہت سننے والے ہیں جھوٹ کو، بہت کھانے والے ہیں حرام کو
    المائدہ : 42

    12 لوگوں کے مال ناجائز کھانے والی قوم
    وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
    اور ان کے سود لینے کی وجہ سے، حالانکہ یقینا انھیں اس سے منع کیا گیا تھا اور ان کے لوگوں کے اموال باطل طریقے کے ساتھ کھانے کی وجہ سے اور ہم نے ان میں سے کفر کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
    النساء : 161

    13 ایسی ضدی اور عناد پرست قوم کہ ان کے سر پر کوہ طور کھڑا کر کے وعدہ لیا گیا مگر اس کے باوجود انہوں نے بعد میں اسے توڑ دیا

    وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    اور جب ہم نے تمھارا پختہ عہد لیا اور تمھارے اوپر پہاڑ کو بلند کیا۔ پکڑو قوت کے ساتھ جو ہم نے تمھیں دیا ہے اور جو اس میں ہے اسے یاد کرو، تاکہ تم بچ جاؤ۔
    البقرة : 63
    ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ
    پھر تم اس کے بعد پھر گئے تو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوتے۔
    البقرة : 64

    14 دعوت حق اور نبی آخر الزماں کو اپنے بیٹوں کی طرح بغیر شک و شبہ، پہچاننے کے باوجود محض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ماننے سے انکار کر دیا

    الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
    وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی وہ اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ وہ لوگ جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، سو وہ ایمان نہیں لاتے۔
    الأنعام : 20

    موسی علیہ السلام نے تنگ آکر یہود سے علیحدگی اختیار کرنے کی دعا کی

    قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ
    اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔
    المائدة : 25

    انبیاء کرام کو قتل کرنا اور تنگ کرنا یہود کی پرانی عادت ہے

    جیسا کہ قرآن میں موجود ہے
    قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡـــۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ
    اے نبی ❗آپ ان یہودیوں سے کہہ دیجئے کہ اس سے پہلے تم اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا کرتے تھے، اگر تم مومن تھے ؟
    البقرة أيت 91

    اور فرمایا
    وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ
    اور وه نبیوں کو حق کے بغیر قتل کرتے تھے
    البقرة :61

    عیسی علیہ السلام اور یہود

    عیسی علیہ السلام کے متعلق تو یہودی لوگ برملا علی الإعلان کہتے ہیں کہ ہم نے ہی عیسی کو قتل کیا ہے
    جیسا کہ ان کی یہ بات اللہ تعالٰی نے قرآن میں نقل کی ہے
    وَّقَوۡلِهِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِيۡحَ عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ رَسُوۡلَ اللّٰهِ‌ ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰـكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ‌ ؕ

    اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ بلاشبہ ہم نے ہی مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، جو اللہ کا رسول تھا، حالانکہ نہ انھوں نے اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی پر چڑھایا اور لیکن ان کے لیے اس (مسیح) کا شبیہ بنادیا گیا ۔

    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف یہود کی سازشیں

    زہریلے گوشت کے ذریعے آپ کو شہید کرنے کی کوشش

    ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہود کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی

    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
    أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ قَالَ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَاكِ قَالَ أَوْ قَالَ عَلَيَّ قَالَ قَالُوا أَلَا نَقْتُلُهَا قَالَ لَا قَالَ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود ( پکی ہوئی ) بکری لے کر آئی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ ( گوشت کھایا ) ( آپ کو اس کے زہر آلود ہونے کاپتہ چل گیا ) تو اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایاگیا ، آپ نے اس عورت سے اس ( زہر ) کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا : ( نعوذ باللہ! ) میں آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ تمھیں اس بات پر تسلط ( اختیار ) دے دے ۔ ” انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نےکہا : یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( تمھیں ) مجھ پر ( تسلط دے دے ۔ ) ” انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : ” نہیں ۔ ” انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےدہن مبارک کے اندرونی حصے میں اسکے اثرات کو پہچانتاہوں ۔
    مسلم 5705

    عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں جس میں فوت ہوئے فرماتے تھے :
    [ يَا عَائِشَةُ ! مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِيْ أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ فَهٰذَا أَوَانُ وَجَدْتُّ انْقِطَاعَ أَبْهَرِيْ مِنْ ذٰلِكَ السُّمِّ ]
    ’’میں ہمیشہ اس کھانے کی تکلیف محسوس کرتا رہا جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اور یہ وقت ہے کہ میں نے اس زہر سے اپنی دل کی رگ کا کٹ جانا محسوس کیا ہے۔ ‘‘
    [ بخاری، المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ : ۴۴۲۸ ]

    یہود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر پتھر گرا کر آپ کو شہید کرنے کی کوشش کی

    یہود کے بڑے قبیلے بنو نضیر کے قلعے مدینہ کے مشرق کی جانب کئی میل کے فاصلے پر تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دیت کے سلسلے میں تعاون حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا : ” ہاں، اے ابو القاسم ! جیسے آپ پسند فرمائیں گے ، ہم ہر طرح سے آپ کی مدد کریں گے “۔ ادھر آپ سے ہٹ کر انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس سے بہتر موقع کب ہاتھ لگے گا ، اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے قبضے میں ہیں ، آؤ کام تمام کر ڈالو ، چناچہ یہ مشورہ ہوا کہ جس دیوار سے آپ لگے بیٹھے ہیں اس گھر کی چھت پر کوئی چڑھ جائے اور وہاں سے بڑا سا پتھر آپ پر پھینک دے اور ہماری جان ان سے چھڑا دے۔
    عمرو بن جحاش بن کعب نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور چھت پر چڑھ گیا ۔ چاہتا تھا کہ پتھر لڑھکا دے ، اتنے میں اللہ تعالیٰ نے جبریل (علیہ السلام) کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اور حکم دیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں سے اٹھ کھڑے ہوں ۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوراً اٹھ گئے ، آپ کے ساتھ اس وقت آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی تھی ، جن میں ابوبکر و عمر اور علی (رض) بھی تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے فوراً مدینہ کی طرف چل پڑے۔ ادھر جو صحابہ آپ کے ساتھ نہیں تھے اور مدینہ میں آپ کے منتظر تھے ، وہ آپ کے دیر کردینے کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھونڈنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ اس دوران انہیں مدینہ سے آنے والے ایک آدمی نے بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ پہنچ گئے ہیں ، چناچہ وہ صحابہ واپس پلٹ آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اپنے ساتھ یہود کے غدر کی بات بتائی اور ان کے ساتھ جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا اور صحابہ کو لے کر ان کی طرف چل پڑے۔ یہود لشکروں کو دیکھ کر اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا محاصرہ کرلیا ، اور انہیں مدینہ منورہ سے جلا وطن کر دیا “۔ ( ابن کثیر) ۔

    یہود کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر جادو

    بنی زریق کے ایک شخص یہودی لبید بن اعصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔ ایک دن یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف رکھتے تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ سے جو بات میں پوچھ رہا تھا، اس نے اس کا جواب مجھے دے دیا۔ میرے پاس دو ( فرشتے جبرائیل و میکائیل علیہما السلام ) آئے۔ ایک میرے سر کی طرف کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔ ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔ پوچھا کس چیز میں؟ جواب دیا کہ کنگھے اور سر کے بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھے ہوئے ہیں۔ سوال کیا اور یہ جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ زروان کے کنویں میں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو فرمایا عائشہ! اس کا پانی ایسا ( سرخ ) تھا جیسے مہندی کا نچوڑ ہوتا ہے اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر ( اوپر کا حصہ ) شیطان کے سروں کی طرح تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت دے دی اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب میں خواہ مخواہ لوگوں میں اس برائی کو پھیلاؤں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جادو کا سامان کنگھی بال خرما کا غلاف ہوتے ہیں اسی میں دفن کرا دیا
    بخاری 5763

    یہود کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو مذاق کرنا

    مسلمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متوجہ کرنے کے لیے لفظ( راعنا)استعمال کرتے تھے جب یہودیوں نے دیکھا تو وہ بھی اس لفظ کے ساتھ آپ کو مخاطب کرنے لگے ، مگر زبان کو پیچ دے کر لفظ بدل دیتے، جس سے وہ لفظ گالی بن جاتا۔ یعنی وہ ” رَاعِنَا “ کی بجائے ” رَاعِیْنَا “ کہتے، جس کا معنی ” ہمارا چرواہا “ ہے۔
    یا وہ اسے رعونت سے اسم فاعل قرار دے کر ” رَاعِنًا “ کہتے جس کا معنی احمق ہے ، پھر آپس میں جا کر خوش ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آپ کے لیے یہ لفظ استعمال کرنے ہی سے منع فرما دیا اور ” انْظُرْنَا “ کہنے کا حکم دیا
    فرمایا
    يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَاسۡمَعُوۡا ‌ؕ وَلِلۡڪٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم رَاعِنَا (ہماری رعایت کر) مت کہو اور اُنْظُرْنَا (ہماری طرف دیکھ) کہو اور سنو۔ اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے

    یہود کا حمایت یافتہ ایجنٹ عبداللہ بن ابی اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں

    عبداللہ بن ابی رئیس المنافقين اور یہود کے باہمی روابط بہت زیادہ تھے اور دونوں اسلام اور اہلیان اسلام کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مشاورت کیا کرتے تھے اہل یہود نے بہت سے مواقع پر عبداللہ بن ابی کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا ہے
    حتی کہ قرآن میں اللہ تعالٰی نے دونوں کو بھائی قرار دیا ہے یعنی یہود اور منافقین آپس میں مسلمانوں کے خلاف بھائیوں کی طرح تعاون کرتے ہیں

    فرمایا
    اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ نَافَقُوۡا يَقُوۡلُوۡنَ لِاِخۡوَانِهِمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ

    کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے منافقت کی، وہ اپنے ان بھائیوں سے کہتے ہیں جنھوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا، ۔
    الحشر 11
    اس آئت میں بالاتفاق اہل کتاب سے مراد یہود اور( الذین نافقوا )سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کی جماعت کے لوگ ہیں

    ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت
    غزوہ احد کے موقعہ پر عین میدان جنگ سے اپنے لوگوں کو واپس لے جانا
    لیخرجن الاعز منھا الاذل جیسے جملے بولنا
    خیبر کے یہودیوں کو مسلمانوں کے حملہ آور ہونے کی ایڈوانس خبر دینا

    یہ سب کام یہود کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھنے والے اسی عبداللہ بن ابی کے ہی تھے

    منافقین اور یہود، دونوں کی مسلمانوں سے نفرت حسد کی وجہ سے تھی

    یہود کا حسد اس وجہ سے تھا کہ وہ اس انتظار میں تھے کہ آخری آنے والے رسول انہیں کے خاندان یعنی بنی اسرائیل سے ہونگے لیکن جب آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل سے آگئے تو وہ خاندانی رقابت اور حسد کا شکار ہو کر حق کا انکار کر بیٹھے
    جیسا کہ قرآن میں موجود ہے
    حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَـقُّ‌ ۚ
    اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان کے لیے حق خوب واضح ہوچکا۔
    اور
    عبداللہ بن ابی کا حسد اس وجہ سے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے مدینہ منورہ میں تشریف لانے سے پہلے اوس اور خزرج کے لوگ مشترکہ طور پر عبداللہ بن ابی کو اپنا لیڈر منتخب کر چکے تھے بس اعلان باقی تھا جس کے لیے تاج پوشی کی تاریخ مقرر کرنے والے ہی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے اور عبداللہ بن ابی کی سرداری کا خواب ادھورے کا ادھورا ہی رہ گیا اور یوں وہ مسلمانوں کے خلاف حسد کا شکار ہو گیا
    اب اس مشترکہ وصف کی بنیاد پر یہود اور منافقین مل کر مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہونے لگے

    یہود کی طرف سے ایک مسلمان عورت کو بے پردہ کرنے کی کوشش

    ابن ہشام نے ابوعون سے روایت کی ہے کہ ایک عرب عورت بنوقینقاع کے بازار میں کچھ سامان لے کر آئی اور بیچ کر (کسی ضرورت کے لیے)ایک سنار کے پاس ، جو یہودی تھا، بیٹھ گئی۔ یہودیوں نے اس کا چہرہ کھلوانا چاہا مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس سنار نے چپکے سے اس کے کپڑے کا نچلا کنارا اچھپلی طرف باندھ دیا اور اسے کچھ خبر نہ ہوئی۔ جب وہ اٹھی تو اس سے بے پردہ ہوگئی تو یہودیوں نے قہقہہ لگایا۔ اس پر اس عورت نے چیخ پکار مچائی جسے سن کر ایک مسلمان نے اس سنار پر حملہ کیا اور اسے مارڈالا۔ جوابا یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کرکے اسے مارڈالا۔ اس کے بعد مقتول مسلمان کے گھروالوں نے شور مچایا اور یہود کے خلاف مسلمانوں سے فریاد کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اور بنی قینقاع کے یہودیوں میں بلوہ ہوگیا۔
    (ابن ہشام 2/ 47 ، 48)
    بحوالہ الرحیق المختوم ص327

    مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنے کے یہودی ہتھکنڈے

    کمزور ایمان والے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے یہود مختلف سازشیں کرتے رہتے تھے، اس سلسلہ کی ان کی ایک سازش یہ بھی تھی کہ وہ اپنے خاص پڑھے لکھے نوجوانوں کو سپیشل اس کام کے لیے تیار کرتے تھے کہ صبح کے وقت قرآن اور پیغمبر پر ایمان کا اظہار کرو اور شام کو کفر و انحراف کا اعلان کر دو ، ممکن ہے یہ طریقہ اختیار کرنے سے بعض مسلمان بھی سوچنے لگیں کہ یہ پڑھے لکھے لوگ مسلمان ہونے کے بعد اس تحریک سے الگ ہوگئے ہیں تو آخر انھوں نے کوئی خرابی یا کمزور پہلو ضرور دیکھا ہوگا۔
    (ابن کثیر، شوکانی)
    ( تفسیر القرآن الکریم از استاذ گرامی حافظ عبد السلام بن محمد حفظہ اللہ تعالٰی )

    جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا
    وَقَالَتۡ طَّآٮِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِىۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‌‌ۚ‌ 

    اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کہا تم دن کے شروع میں اس چیز پر ایمان لاؤ جو ان لوگوں پر نازل کی گئی ہے جو ایمان لائے ہیں اور اس کے آخر میں انکار کردو، تاکہ وہ واپس لوٹ آئیں۔

    یہود تمام اہل اسلام کی ہلاکت کے خواہاں ہیں

    یہودیوں کی اسی طرح کی ایک اور کمینگی کا ذکر حدیث میں آیا ہے
     قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ

    کہ وہ ” السلام علیکم “ کے بجائے ” اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ “ کہتے، جس کا معنی ہے تم پر موت ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے جواب میں صرف ” عَلَیْکَ “ کہنے کا حکم دیا کہ وہ تمہیں پر ہو۔
    [ مسلم، السلام، باب النہی عن ابتداء ۔۔ : ٢١٦٤

    یہود کے نزدیک اہل اسلام دنیا کے بدترین لوگ ہیں

    عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ پہلے یہودی تھے بعد میں مسلمان ہو گئے انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہود انتہا کی جھوٹی قوم ہے۔ اگر آپ کے دریافت کرنے سے پہلے میرے اسلام قبول کرنے کے بارے میں انہیں علم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجھ پر ہر طرح کی تہمتیں دھرنی شروع کر دیں گے۔ چنانچہ کچھ یہودی آئے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ گھر کے اندر چھپ کر بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تم لوگوں میں عبداللہ بن سلام کون صاحب ہیں؟ سارے یہودی کہنے لگے وہ ہم میں سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحب زادے ہیں۔ ہم میں سب سے زیادہ بہتر اور ہم میں سب سے بہتر کے صاحب زادے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، اگر عبداللہ مسلمان ہو جائیں تو پھر تمہارا کیا خیال ہو گا؟ انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ انہیں اس سے محفوظ رکھے۔ اتنے میں عبداللہ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اب وہ سب ان کے متعلق کہنے لگے کہ ہم میں سب سے بدترین اور سب سے بدترین کا بیٹا ہے، وہیں وہ ان کی برائی کرنے لگے۔
    بخاری 3329

    مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش

    ابن ِ اسحاق کا بیان ہے کہ ایک بوڑھا یہودی شاش بن قیس، ایک بار صحابۂ کرام کی ایک مجلس کے پاس سے گذرا ، جس میں اوس و خزرج دونوں ہی قبیلے کے لوگ بیٹھے باہم گفتگو کررہے تھے۔ اسے یہ دیکھ کر سخت رنج ہوا۔ کہنے لگا : ”اوہ ! ا س دیار میں بنو قَیلہ کے اشراف متحد ہوگئے ہیں۔ واللہ ! ان اشراف کے اتحاد کے بعد تو ہمارا یہاں گذر نہیں۔” چنانچہ اس نے ایک نوجوان یہودی کو جو اس کے ساتھ تھا حکم دیا کہ ان کی مجلس میں جائے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر پھر جنگ بعاث اور اس کے پہلے کے حالات کا ذکر کرے۔ اور اس سلسلے میں دونوں جانب سے جو اشعار کہے گئے ہیں کچھ ان میں سنائے۔ اس یہودی نے ایساہی کیا۔ اس کے نتیجے میں اوس وخزرج میں تو تو میں میں شروع ہوگئی۔ لوگ جھگڑنے لگے اور ایک دوسرے پر فخر جتانے لگے حتی ٰ کہ دونوں قبیلوں کے ایک ایک آدمی نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ردّ وقدح شروع کردی ، پھر ایک نے اپنے مدّ ِ مقابل سے کہا : اگر چاہو تو ہم اس جنگ کو پھر جوان کرکے پلٹا دیں – مقصد یہ تھا کہ ہم اس باہمی جنگ کے لیے پھر تیار ہیں جو اس سے پہلے لڑی جاچکی ہے- اس پر دونوں فریقوں کو تاؤ آگیا اور بولے : چلو تیار ہیں، حَرہ میں مقابلہ ہوگا — ہتھیا ر … ! ہتھیار …!
    اب لوگ ہتھیار لے کر حرہ کی طرف نکل پڑے، قریب تھا کہ خونریز جنگ ہوجاتی لیکن رسول اللہﷺ کو اس کی خبر ہوگئی۔ آپﷺ اپنے مہاجرین صحابہ کو ہمراہ لے کر جھٹ ان کے پاس پہنچے اور فرمایا :”اے مسلمانوں کی جماعت ! اللہ۔ اللہ۔ کیا میرے رہتے ہوئے جاہلیت کی پکار ! اور وہ بھی اس کے بعد کہ اللہ تمہیں اسلام کی ہدایت سے سرفراز فرماچکا ہے اور اس کے ذریعے تم سے جاہلیت کا معاملہ کا ٹ کر اور تمہیں کفر سے نجات دے کر تمہارے دلو ں کو آپس میں جوڑ چکا ہے۔” آپﷺ کی نصیحت سن کر صحابہ کو احساس ہوا کہ ان کی حرکت شیطا ن کا ایک جھٹکا اور دشمن کی ایک چال تھی ، چنانچہ وہ رونے لگے اور اوس وخزرج کے لوگ ایک دوسرے سے گلے ملے۔ پھر رسول اللہﷺ کے ساتھ اطاعت شعار وفرمانبردار بن کر اس حالت میں واپس آئے کہ اللہ نے ان کے دشمن شاش بن قیس کی عیاری کی آگ بجھادی تھی
    الرحیق المختوم ص324

    کعب بن اشرف یہودی اور مسلمانوں کی تکالیف

    یہودیوں میں یہ وہ شخص تھا جسے اسلام اور اہل ِ اسلام سے نہایت سخت عداوت اور جلن تھی۔ یہ نبیﷺ کو اذیتیں پہنچایا کرتا تھا اور آپﷺ کے خلاف جنگ کی کھلم کھلا دعوت دیتا پھرتا تھا
    اللہ کا یہ دشمن ، رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کی ہجو اور دشمنانِ اسلام کی مدح سرائی بھی کیا کرتا تھا

    ایک دفعہ مسلمانوں کے خلاف جنگ بھڑکانے کے لیے قریش کے پاس پہنچا اور مطلب بن ابی وداعہ سہمی کا مہمان ہوا۔ پھر مشرکین کی غیرت بھڑکانے ، ان کی آتشِ انتقام تیز کرنے اور انہیں نبیﷺ کے خلاف آمادہ ٔ جنگ کرنے کے لیے اشعار کہہ کہہ کر ان سردارانِ قریش کا نوحہ وماتم شروع کردیا جنہیں میدان ِ بدر میں قتل کیے جانے کے بعد کنویں میں پھینک دیا گیا تھا

    اسی طرح وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عورتوں کے بارے میں واہیات اشعار بھی کہا کرتا تھا اور اپنی زبان درازی وبدگوئی کے ذریعے سخت اذیت پہنچاتا تھا

    یہی حالات تھے جن سے تنگ آکر رسول اللہﷺ نے فرمایا :”کون ہے جو کعب بن اشرف سے نمٹے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دی ہے

    یہود نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اور پاؤں توڑ دیے

     ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "”لَمَّا فَدَعَ أَهْلُ خَيْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَامَ عُمَرُ خَطِيبًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى مَالِهِ هُنَاكَ، ‏‏‏‏‏‏فَعُدِيَ عَلَيْهِ مِنَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَفُدِعَتْ يَدَاهُ وَرِجْلَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ لَنَا هُنَاكَ عَدُوٌّ غَيْرَهُمْ هُمْ عَدُوُّنَا وَتُهْمَتُنَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَأَيْتُ إِجْلَاءَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَجْمَعَ عُمَرُ عَلَى ذَلِكَ أَتَاهُ أَحَدُ بَنِي أَبِي الْحُقَيْقِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَتُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَامَلَنَا عَلَى الْأَمْوَالِ، ‏‏‏‏‏‏وَشَرَطَ ذَلِكَ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ أَظَنَنْتَ أَنِّي نَسِيتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ بِكَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَيْبَرَ تَعْدُو بِكَ قَلُوصُكَ لَيْلَةً بَعْدَ لَيْلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَانَتْ هَذِهِ هُزَيْلَةً مِنْ أَبِي الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَجْلَاهُمْ عُمَرُ وَأَعْطَاهُمْ قِيمَةَ مَا كَانَ لَهُمْ مِنَ الثَّمَرِ مَالًا وَإِبِلًا وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ””. رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَحْسِبُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَصَرَهُ.
    بخاری

     جب ان کے ہاتھ پاؤں خیبر والوں نے توڑ ڈالے تو عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کے یہودیوں سے ان کی جائیداد کا معاملہ کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں قائم رکھے ہم بھی قائم رکھیں گے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں اپنے اموال کے سلسلے میں گئے تو رات میں ان کے ساتھ مار پیٹ کا معاملہ کیا گیا جس سے ان کے پاؤں ٹوٹ گئے۔ خیبر میں ان کے سوا اور کوئی ہمارا دشمن نہیں ‘ وہی ہمارے دشمن ہیں اور انہیں پر ہمیں شبہ ہے اس لیے میں انہیں جلا وطن کر دینا ہی مناسب جانتا ہوں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنو ابی حقیق  ( ایک یہودی خاندان )  کا ایک شخص تھا ’ آیا اور کہا یا امیرالمؤمنین کیا آپ ہمیں جلا وطن کر دیں گے حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں باقی رکھا تھا اور ہم سے جائیداد کا ایک معاملہ بھی کیا تھا اور اس کی ہمیں خیبر میں رہنے دینے کی شرط بھی آپ نے لگائی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھول گیا ہوں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ تمہارا کیا حال ہو گا جب تم خیبر سے نکالے جاؤ گے اور تمہارے اونٹ تمہیں راتوں رات لیے پھریں گے۔ اس نے کہا یہ ابوالقاسم  ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم  )  کا ایک مذاق تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے دشمن! تم نے جھوٹی بات کہی۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں شہر بدر کر دیا اور ان کے پھلوں کی کچھ نقد قیمت کچھ مال اور اونٹ اور دوسرے سامان یعنی کجاوے اور رسیوں کی صورت میں ادا کر دی۔

    وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین

  • ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

    ایک ٹوئٹ نے کمرشل خلائی پروازیں شروع کرنے والی کمپنی اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا-

    باغی ٹی وی : رواں سال مارچ میں دنیا کے دوسرے امیر ترین فرد بننے والے ایلون مسک اپنی ٹوئٹس کی وجہ سے اس اعزاز سے محروم ہوگئے۔

    بلوم برگ کے مطابق ایلون مسک کی حال ہی میں بٹ کوائن وصول نہ کرنے کی ٹوئٹس سے جہاں ایک طرف بٹ کوائن کی قیمتوں میں تنزلی جاری ہے اسی رفتار سے ان کی دولت میں بھی کمی ہورہی ہے۔

    رواں سال مارچ میں ہی ایلون مسک کا اندراج ’ بلومبرگ بلینیئر انڈیکس‘ میں دنیا کے دوسرے امیر ترین فرد کے طور پرکیا گیا تھا۔ مارچ میں ان کی دولت کا تخمینہ 160 اعشاریہ 60 ارب ڈالر لگایا گیا تھا تاہم اب ان کی جگہ برقی کار بنانے والی کمپنی LVMH کے چیئرمین برنارڈ آرنلٹ نے لے لی ہے۔

    ارب پتی امریکیوں کی ٹریکنگ کرنے والے بلوم برگ ویلتھ انڈیکس کے مطابق اب تک ایلون مسک کی دولت میں 9 اعشاریہ 1 ارب ڈالر تک کی کمی ہوچکی ہے۔ جب کہ آرنالٹ کی دولت 47 ارب ڈالر اضافے کے بعد 161 اعشاریہ 2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    واضح رہے کہ 13 مئی کو ہی ٹیسلا کی جانب ٹویٹر پر ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق ٹیسلا نے ڈیجیٹل کرنسی کو ادائیگیوں کے لیے وصول نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پراس بات کا اعلان کیا تھا کہ ماحولیاتی تحفظات کے تناظرمیں ہم نے ادائیگیوں کے لیے بٹ کوائن کو وصول کرنا بند کردیا ہے اور اب صارفین بٹ کوائن کی مدد سے ٹیسلا نہیں خرید سکتے۔


    ایلون مسک نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ بٹ کوائن کی مائننگ اورٹرانزیکشن میں روایتی ایندھن ( فاسلز فیول) خصوصا کوئلے کے بڑھتے ہوئے استعمال پر ہمیں تحفظات ہیں۔ ’ کرپٹو کرنسی ایک اچھا آئیڈیا ہے، لیکن اسے ماحولیاتی نقصان کے ساتھ نہیں لایا جاسکتا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ٹیسلا اپنے بٹ کوائن فروخت نہیں کرے گی، اور ہمارا ارادہ انہیں اس وقت استعمال کرنے کا ہے، جب تک اس کی مائننگ زیادہ سسٹین ایبل انرجی پر منتقل نہیں ہوجاتی۔

    ایلون مسک کی اس ٹوئٹ کے بعد سے اب تک بٹ کوئن کی قیمت میں 15 فیصد تک کمی ہوچکی ہے جب کہ ان کے حصص کی قیمتیں بھی تنزلی کا شکار ہیں۔

    ٹیسلا نے ماحولیاتی تحفظات کے تناظرمیں بٹ کوائن لینے سے انکار کر دیا

  • وزیراعظم آزادکشمیر کی فلسطین کے مسئلے پر  میڈیا سے گفتگو

    وزیراعظم آزادکشمیر کی فلسطین کے مسئلے پر میڈیا سے گفتگو

    مظفرآباد: تمام اسلامی ممالک فلسطین کی حمایت میں اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کریں۔اسرائیل کے سپورٹر مغرب پر اقتصادی دباو بڑھایا جائے۔فلسطین اور کشمیر کا مسلہ جلد ہو گا۔وزیراعظم آزادکشمیر نے قائداعظم میموریل پارک کا سنگ بنیاد رکھا ۔

    آزادکشمیر میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے آمدہ بجٹ میں خطیر رقم مختص کر رہے ہیں ۔سیاحت کے مواقع فراہم کرنے سے بے روزگار ی کم ہو گی ۔ آزادکشمیر بھر میں سیاحت کے فروغ کے لیے پارک بنا رہے ہیں ۔راجہ فاروق حیدر ۔

  • سب سے زیادہ مزمت ترکی نے کی یا عربوں نے ؟ سوشل میڈیا پر نئی متوقع جنگ       تحریر کاشف علی ہاشمی

    سب سے زیادہ مزمت ترکی نے کی یا عربوں نے ؟ سوشل میڈیا پر نئی متوقع جنگ تحریر کاشف علی ہاشمی

    سب سے زیادہ مزمت ترکی نے کی یا عربوں نے ؟ سوشل میڈیا پر نئی متوقع جنگ
    تحریر کاشف علی ہاشمی
    کشف الاسرار

    سوشل میڈیا پر توپوں کا رخ اک دوسرے پر کئے اور سارا ملبہ دوسرے پر خود کو بری الذمہ قرار دیتے بزر جمہر اک دفعہ پھر متحرک ہوں گے-

    آپ OIC کی طرف سے اسرائیلی دہشت گردی نہایت بہادری دیدہ دلیری اور واشگاف الفاظ میں بھرپور مزمت پر کون سا تمغہ دینا پسند کریں گے ان کے بہادری پر عش عش کر اٹھیں یقینًا ترک حمائتیوں کے نزدیک سب سے بڑا بیان ترکی نے دیا اور طیب اردگان کے وزیر خارجہ نےاسٹیج کو ہلا دیا ہوگا البتہ دنیا اپنی جگہ قائم ہے تو اس کو معجزہ سمجھیں ورنہ ان-وں نے کوئی کثر نہیں چھوڑی اور دوسری طرف عرب حمائتوں کے نزدیک عربوں نے کانفرنس بلا کر کمال کر دیا اور اس سب کا کریڈٹ بمع طیب ارگان کے بیان اور پھر عربوں کے بھی بیان اس سب کا کریڈٹ عربوں کو جاتا ہے-

    یقینًا عرب ہی عالمی اسلامی قیادت کے حقدار ہیں جبکہ ساری جنگ لڑ ہی پاکستانی مارخور رہا ہے بقول پالشی برادران ۔ لہذا ہمارا دعوی ان سے بھی اوپر ہے البتہ بلوچستان میں میزائل نصب کرنے یا فوج بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں ویسے بھی ہمیں ان کی اخلاقی حمائت کرنی چاہیے البتہ باقی مسلمان ممالک بھی پیچھے نہیں رہے انہوں نے بھی ببانگ دہل اس قتل عام سرعام اک عالمی فورم پر مزمت کر کے تاریخی کارنامہ سر انجام دیا ہے-

    البتہ اب سوشل میڈیا پر متوقع طور یہ سب لوگ کچھ اس طرح کہتے نظر آئیں گے ترک تیار ہیں اور انہوں نے یلغار کا خفیہ منصوبہ بنایا ہے ارطغرل بے کی طرح جس کی بھنک بھی کسی کو نہیں ملے گی نا پتہ چلے گا کہ حملہ کب اور کہاں ہوا ہے یہ اک خفیہ منصوبہ ہے لہذا آپ جلد دیکھو گے البتہ عرب صرف باتیں بنائیں گے اور یہ تو ہیں ہی منافق اور عیاش لہذا ترکی زندہ بن سلمان یخودی ایجنٹ ہے ہو سکتا ہے کہ منصوبہ کو لیک کر دے جس کی وجہ سے یہ لشکر نا جاسکے-

    تمام جہادی تنظیمیں یا کوئی بھی مزاحمت ہو گی پیسہ اور جوان عرب کے ہی استعمال ہوں گے خلیفہ کہاں ہے خالی باتیں بنا رہا ہےاس نے کچھ نہیں کرنا اس کا بت ٹوٹ چکا ہے عرب زندہ باد اردگان پلاسٹک کا خلیفہ اب کہاں ہیں فوجیں خالی باتیں ہیں اور حزب اللہ یمن میں عرب پر حملے کرے گی لیکن اسرائیل نہیں جائے گی-

    ایران عرب و عجم کو چھوڑیں ایران اک اسلامی انقلاب لارہا ہے اور یہ انقلاب اسرائیل میں آپ دیکھیں گے اور حزب اللہ کے میزائل تیار ہیں عرب منافق اور عیاش ہیں جبکہ ایرانی گارڈز ہی فلسطین فتح کریں گے البتہ اس سے پہلے منافقین و عیاش عربوں کا خاتمہ ضروری ہے لہذا آپ دیکھ لو عرب عیاش ہیں کچھ نہیں کریں اور ہم تو ویسے ہی دور ہیں کیا کریں-

    پاکستان کیسے جنگ کرے ہم بہت دور ہیں ہماری تو سرحد ہی نہیں لگتی البتہ جنگ ساری کر ہی ہم رہے ہیں ورنہ عرب عیاش ہیں ایران کی طاقت نہیں ترک ویسے ہی اکیلے ہیں البتہ ہم مانیں گے نہیں البتہ پاکستان عمران خان ساری امت کو اکٹھا کر رہے ہیں اور باجوہ صاحب بھی فوج کی کمان کے لیے تیار ہیں-

    یوں یہاں مختلف طبقات اسرائیل سے زیادہ اک دوسرے پر میڈیائی حملہ اور توجہ دوسرے کی جانب مبذول کروا کر خود کو بری الذمہ سمجھتے مسلمانو ہم سب اس میں ملوث ہیں ہم سب کا قصور ہے بیانات سے بڑھ کر کسی نے بھی تیر نہیں مارا ہمارا کام اب پاکستانی ایرانی یا ترک یا عرب بننا نہیں بلکہ امت ملت وحدت اسلام کی بات کرنی ہے چاہے اس کے لیے اپنے پسندیدہ لیڈر سے اختلاف کر نا پڑے ہمیں شخصیت پرستی کے یہ بت اب توڑنے ہوں گے انکے اچھے کام پر تحسین اور ذمہ داری نا ادا کرنے پر غیرت دلانا اور مثبت تنقید کرنا ہوگی-

    لہذا آپسی طعن و تشنیع کی بجائے ہم مشترکہ طور پر اپنے حکمرانوں پر دباو ڈالیں اور ان کو غیرت دلائیں کسی تنظیم فرقے اور خاص ملک کو جوں ہی آپ ہٹ کریں گے تو اس کے حمائتی سامنے آئیں یوں اک بے نتیجہ اور موضوع سے ہٹ کر بحث شروع ہوجائے گی اور اصل مقصد پس پشت چلا جائے گا اور آپسی سر پھٹول شروع ہوجائے گی اور ہم ان حکمرانوں کو خود ہی ریلیکس کر دیں گے اس وقت شیعہ سنی ایران عرب ترکی اور پاکستان سے اوپر اٹھ کر امت ملت اسلام قوم کی طرح بات کریں کہ مسلمان اک جسد کی مانند ہیں یہیں سارے جذبات کا رخ کفار کی طرف اور غیرت دلانا مسلمانوں کے لیے ہو-

    اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے تعلق واسطہ مضبوط کریں اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اس سے توفیق طلب کریں کہ معاملات سارے اللہ کے اختیار میں ہیں-

  • اے غزنوی کے بیٹے تجھے اقصی ڈھونڈھ رہی ہے     بقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    اے غزنوی کے بیٹے تجھے اقصی ڈھونڈھ رہی ہے بقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    اے غزنوی کے بیٹے تجھے اقصی ڈھونڈھ رہی ہے-

    بقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    مسجد اقصی، مسلمانوں کا قبلہ اول، اسلام کی پہچان، مومنوں کی شان، دین کی عمارت آج بے حال و پریشان بے بسی کی دیوار بنے کھڑی اپنے حال زار پر رو رہی ہے۔۔۔اقصی کے سرخ آنسو مسجد کے صحن میں فلسطینی مسلمانوں کے خون کے قطروں کی صورت میں مسجد کے فرش کو لال کر رہے ہیں۔۔۔فلسطینیوں کے ساتھ مسجد اقصی کا جسم بھی چھلنی ہو رہا ہے۔۔۔۔اسکے درو دیوار بھی زخمی ہو رہے ہیں ۔۔اور زبان حال سے پکار رہے ہیں۔۔۔

    اے فلطینی مسلمان میں تمہیں اپنی بانہوں میں کب تک پناہ دے پائوں کی۔۔؟؟ آخر کار میں بھی شہید کر دی جائوں گی۔۔۔
    جائو۔۔۔! اٹھو۔۔۔! ہمت کرو۔۔۔! اپنے مسلمان بھائیوں کو مدد کیلئے پکارو۔۔۔کہ جنکا فرض اول انکے بیت المقدس کو محفوظ کرنا ہے۔۔۔
    جنکو اپنی تاریخ کو شرمندہ ہونے سے بچانا ہے۔۔۔۔اقصی کی فضاء کو اس داغ سے پاک کرنا ہے کہ امت محمدی اپنی مقدس عبادت گاہ کو یہودیوں سے محفوظ نہ کر سکی ۔۔۔۔ایک ایسی عبادت گاہ جو انکے آبائو اجداد کیلئے شان و شوکت عظمت اور بہادری کا ورثہ ہے۔۔۔جو اسلام کے رکھوالوں کی غیرت ہے۔۔۔جسے القدس فتح کر کے انہوں نے مسلمانوں کے نصیب میں لکھا تھا ۔۔

    جاؤ۔۔۔! کہ تلاش کرو آج بھی عمر جیسے خوددار، مسلمان جوان اسلام موجود ہوں گے۔۔۔جو میری آخری سانس سے پہلے میری زندگی کی ضنمانت بن کر آئیں گے ۔۔۔۔ پکارو ۔۔! کہ شاید کوئ طارق، کوئ قاسم، کوئ محمود غزنوی، کوئ خالد بن ولید آج بھی زندہ ہو۔۔۔جو شجاعت کے گھوڑے پر سوار ہو کر فتح مقدس کا پروانہ لے کر اقصی کے آنگن میں داخل ہو۔۔۔اور اقصی کے آنسوئوں کو بے بسی کے کشکول سے نکال کر نوید خوشی میں بدل دے۔۔۔

    _تم ڈھونڈھتی ہو آج بھی اے اقصی_
    _ماضی میں جو تھے صاحب ایمان کہاں ہیں_
    _مسجد ہی تھی جن کیلئے تسکین دل وجاں_
    _اس دور میں یارب وہ مسلمان کہاں ہیں_

    تلاشو تو سہی کوئ مسلمان کوئ ایمان والا کوئ نبی کی وراثت سے محبت کرنے والا شاید جاگ جائے۔۔۔۔ مسجد کی زینت نمازیوں کو شہید ہونے سے بچا لے۔۔۔

    دیکھو تو سہی میڈیا کی پاور کو آزما کر۔۔۔شاید کوئ میڈیا چینل تمہاری آواز کو مسلمان عوام تک پہنچا دے۔۔۔

    شاید کوئ کیمرہ کی آنکھ کسی مسلمانی آنکھ کو نم کرنے اور جذبہ جہاد ابھارنے میں کامیاب ہو جائے۔۔۔۔ اور یہودیوں کی اس سازش کو ناکام کر دیں ۔۔۔۔ جیسا کہ یہودیوں نے بیت المقدس پر حملہ کیا تا کہ مسلمانوں کے گہرے پرسکون اطمینان کے سمندر میں ایک ارتعاش کی لہر پیدا کر سکیں۔۔۔۔مسلمانوں کا سکوت توڑ سکیں۔۔۔

    لیکن افسوس۔۔۔!! کے پوری دنیا کے ستر اسلامی ممالک میں سے ایک بھی ایسا ملک نہیں جسکی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہو ۔۔۔
    __وہ جو سمجھے تھے تماشا ہو گا___
    __ہم نے چپ رہ کر پلٹ دی بازی__

    قارئین۔۔۔!!! مسجد اقصی میں مسلمانوں کا نہیں انسانیت کا خون ہو رہا ہے۔۔۔۔اخلاقیات کا خون ہو رہا ہے۔۔۔۔اسلام کا، ہمارے مذہب کا،ہمارے دین کا، ہمارے تہذیب و تمدن کا خون ہو رہا ہے۔۔۔۔

    ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔۔۔ہمیں اس مسجد کیلئے آہنی دیوار ڈھال بننا ہے۔۔۔ہمیں اس مسجد کی ایک ایک اینٹ کو محفوظ کرنا ہے۔۔۔۔
    اے مسلمان اسلام۔۔۔!!! ذرا ہوش کے ناخن لے۔۔۔القدس ہمارا وہ عظیم ورثہ ہے۔۔۔جسکی حفاظت کا منسب ہمیں خود خالق کائنات نے بخشا ہے۔۔۔۔خدا کا دیا ہوا تحفہ تم یوں اتنی آسانی سے تباہ ہونے نہیں دے سکتے۔۔۔۔

    تم اقصی کی پاک فضائوں کو یہودیوں کے آلودہ وجود اور شیلینگ سے گولہ بارود سے زہر آلود نہیں ہونے دے سکتے۔۔۔یہ مسجد ہمارے پاس امانت ہے اس دن سے جب صحابہ کرام نے اسے نصرت خداوندی سے فتح کیا تھا۔۔۔اور اسکی حفاظت کا ذمہ ہمیں سونپہ تھا۔۔۔یہ ہماری غیرت کا امتحان ہے۔۔۔

    ہمارے ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی ہے۔۔۔اسکے تحفظ میں ہماری بقا کا راز پوشیدہ ہے۔۔۔ا سکے تقدس پر حرف آیا تو ہم سے اسکی اجتنابیت کا منصب چھن جانے کا خطرہ ہے۔۔۔ہم یہ خطرہ امت مسلمہ کو لاحق ہونے نہیں دیں گے۔۔۔ہمیں دیکھنے سننے بولنے کی طاقتیں اللہ تعالی نے دی ہیں۔۔۔ہم ان نعمتوں کا استعمال کرتے ہو مسجد کی بے حرمتی اور فلسطینیوں کے خون کا بدلہ لیں گے۔۔۔۔ہم اقصی کے سب شکوے شکایتیں دور کریں گے۔۔۔

    ہم اقصی کی پکار سن رہے ہیں۔۔۔ہاں دیکھ رہے ہیں۔۔۔ہم گونگے، بہرے اندھے نہیں ہیں۔۔۔اے اقصی۔۔۔!!! ہم تیری مدد کو آئیں گے۔۔۔ ہم تیری ناراضگی دور کریں گے۔۔۔۔

    عام طور پر تحریر سیاہی سے لکھی جاتی ہے۔۔۔۔لیکن۔۔۔!!! اے بیت المقدس۔۔۔!!! میں یہ تحریر تیرے خون سے لکھ رہی ہوں۔۔۔تحریر کا یہ ٹکرہ جو آپ اس وقت پڑھ رہے ہیں ۔۔۔قلم کو سیاہی میں ڈبو کر نہیں بیت المقدس کے خون سے تر کر کے لکھا گیا ہے۔۔۔میں بیت المقدس کی پکار کو سنوانا اور دکھا نا چاہتی ہوں۔۔۔ ان تمام مسلمانوں کو جو قوت گویائ اور بینائ رکھتے ہیں۔۔۔ آئو سنو۔۔۔!!! آئو دیکھو۔۔۔!!! اقصی چیخ چیخ کر کیا کہ رہی ہے۔۔۔؟؟؟

    محبت کا یہ تحفہ بہت ہے۔۔۔
    میرے پہلو میں اک شعلہ بہت ہے۔۔۔
    امر کر لوں اگر آج میں اسکو۔۔۔
    صدی کے بیچ اک لمحہ بہت ہے۔۔۔
    ہزاروں کارواں ہیں راستے میں۔۔۔۔
    جو منزل پر ہیں وہ تنہا بہت ہیں۔۔۔
    ہوس رکھتی نہیں میں مال وذر کی۔۔۔
    مجھے درد و احساس کا اک سکہ بہت ہے۔۔۔

    قارئین۔۔۔!!! مسجد اقصی کے پچھلی صدی سے اس صدی تک کے سفر کو ہم نے محفوظ کرنا ہے۔۔۔ کہ اسکے زخموں کے گواہ ماہ و آفتاب سب ہیں۔۔۔ کہ اس صدی کے سفر میں اس نے کیا کیا نہی سہا ۔۔؟؟؟ لیکن تمام تر بے حرمتیوں کے باوجود اسکے ساتھ یقین کی فضاء جڑی ہے ۔۔کہ جب تک مسلمانوں میں مومن زندہ ہیں۔۔۔تب تک اسکے یقین کا سفر بھی ساتھ ساتھ جاری ہے ۔۔۔۔ یہ زمیں اور زماں یہ سورج اور جہاں۔۔۔گواہ ہیں کہ یہ مسجد آج بھی سوگوار ہے ۔۔۔۔ آج بھی نوحہ خواں ہے ۔۔اسکے درو دیوار جو کل بھی لہو میں تھے۔۔۔آج بھی خون میں ڈوبے ہوئے ہیں۔۔۔لیکن اسکے باوجود اسکے خواب آج بھی سانس لے رہے ہیں ۔۔۔۔۔کہ اسکی امید کا دیہ ابھی بجھا نہیں۔۔۔کہ مسجد ابھی تھکی نہیں۔۔۔اس صدی سے اگلی صدی تک کا سفر سکا جاری ہے۔۔۔اور اس سفر کو آرام دہ پرسکون بنانے والے نوجوان اسلام بھی ابھی زندہ ہیں۔۔۔
    لہذا میں مسجد اقصی اپنی خون کی روتی آنکھوں سے اس سر زمین کا ہر وہ کونہ تاک میں لئیے بیٹھی ہوں۔۔۔جہاں مسلم ممالک رہائش پذیر ہیں۔۔۔کہ اس رستے پر چل کر کوئیغزنوی کا بیٹا کوئی فاتح القدس آئے گا۔۔۔اور مجھے ان ظالموں کے پنجے سے آزاد کروائے گا۔۔۔
    _اے غزنوی کے بیٹے پھر فلسطیں میں آ_
    _کہ رستہ تکتی ہے مسجد اقصی تیرا___
    طالب دعا
    بنت نقاش

  • تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے  محل، لباس، ہیرے، جواہرات اور لذیز کھانے نہیں

    تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے محل، لباس، ہیرے، جواہرات اور لذیز کھانے نہیں

    تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے محل، لباس، ہیرے، جواہرات اور لذیز کھانے نہیں-

    یہ 1973ء کی بات ہے۔عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی ایسے میں ایک امریکی سنیٹر ایک اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم ”گولڈہ مائیر“ کے پاس لے جایا گیا۔ گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سنیٹر کا استقبال کیا اور اسے اپنے کچن میں لے گئی۔ یہاں اس نے امریکی سنیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر چولہے پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وہیں آ بیٹھی۔ اس کے ساتھ اس نے طیاروں، میزائلوں اور توپوں کا سودا شروع کر دیا۔

    ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی۔ ایک پیالی سنیٹر کے سامنے رکھ دی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی۔ پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سنیٹر سے محو کلام ہو گئی۔

    چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پا گئیں۔ اس دوران گولڈہ مائیر اٹھی، پیالیاں سمیٹیں اور انہیں دھو کر واپس سنیٹر کی طرف پلٹی اور بولی ”مجھے یہ سودا منظور ہے۔ آپ تحریری معاہدے کے لئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل اس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا، مگر گولڈہ مائیر نے کتنی ”سادگی“ سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کر دیا۔ اس کا موقف تھا، اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔

    گولڈہ مائیر نے ارکان کابینہ کا موقف سنا اور کہا :
    ”آپ کا خدشہ درست ہے، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے اور ہم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دیگی اور جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ہے، تو وہ بھول جاتی ہے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا۔ اسکے دستر خوان پر شہد، مکھن، جیم تھا یا نہیں اور ان کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا ان کی تلواروں کے نیام پھٹے پرانے تھے۔ فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔“

    گولڈہ مائیر کی دلیل میں وزن تھا، لہٰذا اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی منظوری دینا پڑی۔ آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا اور پھر دنیا نے دیکھا، اسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔ جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا: ”امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟“گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا وہ چونکا دینے والا تھا۔ وہ بولی :

    ”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ۔۔جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو یا سات تلواریں لٹک رہی تھیں۔

    میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“

    گولڈہ مائیر نے اس حقیقت سے تو پردہ اٹھایا، مگر ساتھ ہی انٹرویو نگار سے درخواست کی اسے ”آف دی ریکارڈ“ رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے۔ وجہ یہ تھی، مسلمانوں کے نبیﷺ کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ہو سکتی ہے، وہاں دنیا میں مسلمانوں کے موقف کو تقویت ملے گی۔ چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا۔ وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا، یہاں تک کہ گولڈہ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ہو گیا۔

    اس دوران ایک اور نامہ نگار، امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا۔ اس سلسلے میں وہ اسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں اس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بیان کر دیا، جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تھا۔ اس نے کہا کہ اب یہ واقعہ بیان کرنے میں اسے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی ہے۔

    گولڈہ مائیر کا انٹرویو کرنے والے نے مزید کہا: ”میں نے اس واقعے کے بعد جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا، کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر (جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا تھا، اس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاہدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا۔ وہ بہترّ بہترّ گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے۔ یہ وہ موقع تھا، جب گولڈہ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ہو گیا کہ۔۔

    ”تاریخ فتوحات گنتی ہے، دستر خوان پر پڑے انڈے، جیم اور مکھن نہیں۔

    گولڈہ مائیر کے انٹرویو نگار کا اپنا انٹرویو جب کتابی شکل میں شائع ہوا تو دنیا اس ساری داستان سے آگاہ ہوئی ۔ یہ حیرت انگیز واقعہ تاریخ کے دریچوں سے جھانک جھانک کر مسلمانان عالم کو جھنجھوڑ رہا ہے، بیداری کا درس دے رہا ہے، ہمیں سمجھا رہا ہے کہ ادھڑی عباؤں اور پھٹے جوتوں والے گلہ بان، چودہ سو برس قبل کس طرح جہاں بان بن گئے؟

    ان کی ننگی تلوار نے کس طرح چار براعظم فتح کر لئے؟ اگر پُرشکوہ محلات، عالی شان باغات، زرق برق لباس، ریشم و کمخواب سے آراستہ و پیراستہ آرام گاہیں، سونے، چاندی، ہیرے اور جواہرات سے بھری تجوریاں، خوش ذائقہ کھانوں کے انبار اور کھنکھناتے سکوں کی جھنکار ہمیں بچا سکتی تو تاتاریوں کی ٹڈی دل افواج بغداد کو روندتی ہوئی معتصم باللہ کے محل تک نہ پہنچتی۔

    آہ ! وہ تاریخِ اسلام کا کتنا عبرت ناک منظر تھا جب معتصم باللہ ، آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا ، چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا۔ کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن میں کھانا کھایا اور خلیفہ کے سامنے سونے کی طشتریوں میں ہیرے اور جواہرات رکھ دئیے۔ پھر معتصم سے کہا۔:
    ’’جو سونا چاندی تم جمع کرتے تھے اُسے کھاؤ!‘‘۔
    بغداد کا تاج دار بے چارگی و بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا، بولا:
    ’’میں سونا کیسے کھاؤں؟‘‘
    ہلاکو نے فوراً کہا
    ’’پھر تم نے یہ سونا چاندی جمع کیوں کیا تھا؟‘‘ ۔

    وہ مسلمان جسے اُسکا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کیلئے ترغیب دیتا تھا، کچھ جواب نہ دے سکا۔ ہلاکو خان نے نظریں گھما کر محل کی جالیاں اور مضبوط دروازے دیکھے اور سوال کیا: ’’تم نے اِن جالیوں کو پگھلا کر آہنی تیر کیوں نہ بنائے ؟ تم نے یہ جواہرات جمع کرنے کی بجائے اپنے سپاہیوں کو رقم کیوں نہ دی، تاکہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری افواج کا مقابلہ کرتے؟‘‘۔
    خلیفہ نے تاسف سے جواب دیا۔
    ’’اللہ کی یہی مرضی تھی‘‘۔
    ہلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا: ’’ پھر جو تمہارے ساتھ ہونیوالا ہے ، وہ بھی خدا کی مرضی ہوگی۔‘‘۔

    پھر ہلاکو خان نے معتصم باللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا، بغداد کو قبرستان بنا ڈالا۔ ہلاکو نے کہا ’’ آج میں نے بغداد کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور اَب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی۔‘‘۔

    تاریخ تو فتوحات گنتی ہے ۔ محل، لباس، ہیرے، جواہرات لذیز کھانے نہیں۔ اگر ہم ذرا سی بھی عقل و شعور سے کام لیتے تو برصغیر میں مغلیہ سلطنت کا آفتاب کبھی غروب نہ ہوتا۔ اندازہ کرو جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں اور تحقیقی مراکز قائم ہو رہے تھے۔ تب یہاں ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لیکر اپنی محبت کی یاد میں تاج محل تعمیر کروا رہا تھا۔ جب مغرب میں علوم و فنون کے بم پھٹ رہے تھے۔ تب یہاں تان سین جیسے گوئیے نئے نئے راگ ایجاد کر رہے تھے۔ جب انگریزوں، فرانسیسیوں اور پرتگالیوں کے بحری بیڑے برصغیر کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے، ہمارے اَرباب و اختیار شراب و کباب اور طاؤس و رباب سے مدہوش پڑے تھے۔ تن آسانی، عیش کوشی اور عیش پسندی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔

    ہمارا بوسیدہ اور دیمک زدہ نظام بکھر گیا، کیونکہ تاریخ کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں ہوئی کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ہیں یا خالی؟ شہنشاہوں کے تاج میں ہیرے جڑے ہیں یا نہیں ؟ درباروں میں خوشامدیوں، مراثیوں، طبلہ نوازوں اور وظیفہ خوار شاعروں کا جھرمٹ ہے یا نہیں ؟ یاد رکھیے! تاریخ کو صرف کامیابیوں سے غرض ہوتی ہے اور تاریخ عُذر قبول نہیں کرتی۔

    افسوس صد افسوس!
    سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یہودی عورت نے تو سبق حاصل کر لیا۔ مگر مسلمان اِس پہلو سے نا آشنا رہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی، علوم و فنون پر دسترس رکھنے کی بجائے لاحاصل بحثوں اور غیر ضرروی کام میں مگن رہے۔ چنانچہ زوال ہمارا مقدر ٹھہرا۔ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے..

    ماخوذ: سوشل میڈیا وائرل پوسٹ

  • واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی کو قبول نہ کرنیوالے صارفین کے اکاؤنٹس کیساتھ کیا ہوگا؟

    واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی کو قبول نہ کرنیوالے صارفین کے اکاؤنٹس کیساتھ کیا ہوگا؟

    واٹس ایپ نے اپنی متنازعہ پرائیویسی پالیسی کو 15 مئی سےلاگو کردیا ہے-

    باغی ٹی وی :رواں سال 4 جنوری کو واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کرائی جس میں کچھ شرائط متنازع تھی، ان شرائط کے سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں واٹس ایپ کے لاکھوں صارفین اس کے حریف میسجنگ پلیٹ فارمز ٹیلی گرام، سنگل وغیرہ کو استعمال کرنے لگے۔

    بعد ازاں واٹس ایپ نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا جس میں اس نئی پالیسی کے متعلق پھیلنے والی افواہوں کی تردید کی گئی تاہم صارفین کی تمام تر مخالفت اور تنقید کے باوجود بالآخرواٹس ایپ نے تین دن قبل اس پالیسی کودنیا بھرمیں موجود صارفین پرلاگو کردیا ہے۔

    واٹس ایپ کا صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کا موقع

    جن صارفین نے اب تک اس پالیسی کو قبول نہیں کیا ہے ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کے ساتھ کیا ہوگا یہ بات ابھی تک غیر یقینی تھی تاہم واٹس ایپ نے اپنے حالیہ بیان میں نئی شرائط کو قبول نہ کرنے والے اکاؤنٹس کے بارے میں تفصیلی بیان جاری کردیا ہے۔ جس کے مطابق صارفین کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہیں ہوگا-

    واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی:صارفین کے رد عمل نے واٹس ایپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر…

    کمپنی کا کہنا ہے کہ 15 مئی کے بعد بھی پالیسی قبول نہ کرنے والے صارفین کے اکاؤنٹس نہ ہی ختم کیے جائیں اورنہ ہی واٹس ایپ کی کارکردگی میں فرق پڑے گا۔

    اگر چہ کمپنی شرائط قبول نہ کرنے والے اکاؤنٹس کو ختم نہیں کر رہی لیکن، صارفین کو ایک مخصوص مدت کے بعد یاد دہانی کا نوٹیفیکیشن اس وقت تک ملتا رہے گا جب تک صارف نئی شرائط کو قبول نہیں کرلیتا۔

    پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

    جب تک آپ نئی اپ ڈیٹس کو قبول نہیں کر لیتے اس وقت تک آپ کو واٹس ایپ کے افعال محدود ہونے کا سامنا کرنا پڑے گا استعمال کنندگان اپنی چیٹ لسٹ تک رسائی کے اہل نہیں ہوں گے، تاہم وہ وائس اورویڈیو کالز کا جواب دے سکتے ہیں۔

    تاہم ایسے صارفین جنہوں نے نوٹیفیکیشن کےفیچر کو موثر رکھا ہوا ہےوہ نوٹیفیکیشن میں آنے والے پیغامات کو پڑھنے، جواب دینے کے ساتھ مِسڈ کالز کا جواب بھی دے سکتے ہیں۔

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    کمپنی کی نئی شرائط کے حوالے سے وضح کردہ FAQ(زیادہ پوچھے جانے والے سوالات) میں واضح لکھا ہوا ہے کہ کمپنی کچھ ہفتوں بعد ایسے صارفین کو کال اور پیغامات بھیجنے کا سلسلہ بھی بند کردے گی۔

    ایسے صارفین جو نئی پرائیویسی اپ ڈیٹ کو قبول نہیں کرنا چاہتے تو وہ اینڈرائیڈ یا آئی فون پر موجود اپنی چیٹ ہسٹری کو ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ اگر آپ نے واٹس ایپ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا تو پھرآپ اپنی چیٹ ہسٹری اور بیک اپ کو دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے۔

    واٹس ایپ نے اپنی نئی پرائیویسی پالیسی کے نوٹیفیکشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا

    واٹس ایپ چیٹ کو محفوظ بنانے کے چار طریقے

  • پاکستان میں کھیلنے والے آسٹریلوی کرکٹر ایرون سمرز پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام

    پاکستان میں کھیلنے والے آسٹریلوی کرکٹر ایرون سمرز پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام

    25 سالہ آسٹریلوی کرکٹر ایرون سمرز کو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں عدالت نے طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی : ایرون سمرز کو آج یعنی پیر کے روز عدالت میں پیش کیا گیا جس میں ان کے مبینہ سلوک کے بعد کرکٹ حکام کی توجہ دلائے جانے کے بعد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور کم عمر لڑکی کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کیا گیا-

    25 سالہ ایرون سمرز ڈارون لوکل کورٹ کے سامنے پیش ہوئے ، پولیس نے الزام لگایا کہ اس کے موبائل فون میں بچوں کے ساتھ بد فعلی کی ویڈیوز ہیں۔

    سمرز نے 2017 کے آخر میں ہوبارٹ کے لئے ایک کھیل کھیلا اور ساتھ ہی تسمانیہ کے ساتھ تین ون ڈے میچ کھیلے ، جس کے لئے انہوں نے 2018 میں شروعات کی تھی۔

    سمرز ، جو اصل میں پرتھ سے تعلق رکھنے والے باؤلر ہیں ، اس موسم سرما کے این ٹی کرکٹ 365 ٹورنامنٹ میں کھیلنا تھا ، کرکٹ آسٹریلیا کے زیر انتظام ایک ایونٹ جس میں موجودہ اور سابقہ ​​ریاستی اور بی بی ایل کھلاڑی شامل ہیں۔

    سی اے نے پیر کو دی ایج اور سڈنی مارننگ ہیرالڈ کو ایک بیان جاری کیا۔

    جس میں کہا گیا کہ “ایک معاملہ این ٹی کرکٹ کے دھیان میں لایا گیا تھا اور فوری طور پر ہماری ممبر تحفظ پالیسی کے مطابق کارروائی کی گئی تھی۔ اس پالیسی کے مطابق معاملہ متعلقہ حکام کے پاس بھیجا گیا تھا اور اب پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے-

    این ٹی پولیس نے معاملے کے سلسلے میں ایک بیان جاری کیا کہ جمعہ کی سہ پہر مشترکہ اینٹی چائلڈ ریسپولیشن ٹیم (جے اے سی ای ٹی) کے جاسوسوں نے فینی بے میں 25 سالہ شخص کو بچوں سے زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ پولیس نے اس شخص پر دفعہ 3 ای کرائم ایکٹ 1914 (سی ٹی) کے سرچ وارنٹ پر عمل درآمد کیا اور ایک موبائل فون ضبط کرلیا۔

    "پولیس نے الزام لگایا کہ اس شخص کے موبائل میں بچوں کے ساتھ بد فعالی کے مواد پر مشتمل متعدد ویڈیوز موجود ہیں۔ اس بات کے بھی شواہد موجود تھے کہ مذکورہ شخص نے مزید 10 غیر قانونی تصاویر لینے کی کوشش کرنے کے لئے 10 بچوں سے رابطہ کیا تھا۔

    "14 مئی 2021 کو ، شمالی علاقہ جات اور آسٹریلوی فیڈرل پولیس نے ڈارون سی بی ڈی میں اس شخص پر مزید دفعہ 3 ای جرائم ایکٹ 1914 (سی ٹی) کی تلاشی کا وارنٹ جاری کیا۔ پولیس کو ایک موبائل ڈیوائس ملا جس میں بچوں سے بدسلوکی کا مواد موجود تھا-

    "اس شخص پر درج ذیل جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے:

    فوجداری ضابطہ 1995 (Cth) کے سیکشن 474.22 کے تحت ، کیریج سروس کے ذریعہ بچوں سے بدسلوکی کے مواد حاصل کرنے یا ان تک رسائی حاصل کرنے کا الزام

    فوجداری ضابطہ 1995 (Cth) کے سیکشن 474.27 کے برعکس 16 سال سے کم عمر کے کسی فرد کو شادی کرنے کیلئے استعمال کرنے کا الزام

    ” آسٹریلوی کرکٹر کو پیر کو ، 17 مئی 2021 کو ڈارون لوکل کورٹ میں پیش ہونے کے لئے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔”

    واضح رہے کہ ایرون سمر ، پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیلنے والے پہلے آسٹریلوی کھلاڑی ہیں انہوں نے جنوبی پنجاب کی جانب سے رواں سال کے شروع میں  آٹھ جنوری کو ہونے والے نیشنل ون ڈے کپ میں حصہ لیا-

    اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ جنوبی پنجاب کی جیت میں اپنی کارکردگی سے حصہ ڈالنے کی کوشش کروں گا، آسٹریلیا  میں مجھے کوچز نے کہا کہ نئی اسکلز سیکھنے کی کوشش کرو، اس لیے پاکستان آیا ہوں، میرا یہاں آنے کا مقصد یہی ہے کہ میں سیکھوں اور پھرڈومیسٹک کرکٹ اور   بی بی ایل  میں پرفارم کرکے ٹیم میں جگہ بناؤں۔

    ایرون نے پاکستان کے فاسٹ بولر شعیب اختر کو آل ٹائم فیورٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بریٹ لی اور شعیب اختر کی تیز بولنگ  کو دیکھ کر ہمیشہ اچھا لگا-

  • پی سی بی نے پہلی خاتون ڈائریکٹر ہیومین ریسورس کا تقرر کردیا

    پی سی بی نے پہلی خاتون ڈائریکٹر ہیومین ریسورس کا تقرر کردیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلی خاتون ڈائریکٹر ہیومین ریسورس کا تقرر کردیا-

    باغی ٹی وی : سیرینا آغا 20 مئی سے پی سی بی ہیڈ کوارٹرزر میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی-

    سیرینا آغا نے برک بیک کالج، یونیورسٹی آف لندن سے ہیومین ریسورس منیجمنٹ میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی وہ پاکستان، مڈل ایسٹ اور افریقہ میں ایچ آر کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں-

    وہ اس سے قبل ایک مقامی مینوفیکچرنگ کمپنی کی گروپ ہیڈ آف ایچ آر اور کینیا کی دو کمپنیوں میں بحیثیت کنسلٹنٹ کام کرچکی ہیں-

    سیرینا آغا مجموعی طور پر15 سال سے زائد کا تجربہ رکھتی ہیں-