Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہراسمنٹ کا نشانہ صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی ہیں ،تحریر:طلعت کاشف سلام

    ہراسمنٹ کا نشانہ صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی ہیں ،تحریر:طلعت کاشف سلام

    پاکستان اسلامی ملک ہے لیکن آج تک پاکستان میں نا تو کسی کو شرعی سزا دی گئی اور نا ہی کسی شرعی قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ہراسمنٹ کا شکار صرف عورت کو ہی سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا شکار عورتوں کے ساتھ مرد بھی ہیں۔

    بہت سے کیسز ایسے رپورٹ ہوتے ہیں جہاں سکول کالجز میں جوان لڑکوں، آفسز میں مردوں کو بھی ہراس کیا جاتا ہے

    مدارس میں طالب علموں کو بھی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    کبھی ان کو نمبروں کے بہانے تو کبھی سیلیری کے بہانے
    کبھی سکول کالجز میں چھٹی کے بہانے تو

    کبھی آفس میں ڈیوٹی میں نرمی کے بہانے ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے تو کبھی ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ تک بنایا جاتا ہے۔

    لیکن مرد بیچارہ عزت کی خاطر کسی سے بات نہیں کر سکتا اور چپ ہو کر ہراسمنٹ کا شکار بنتا رہتا ہے
    ہمارے ہر ادارے میں ایسے درندے موجود ہیں جو مردوں پے بھی عورتوں کی طرح کی نظر رکھتے ہیں
    موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کیسے ان کو موقع ملے وہ اپنا کام پورا کریں

    اور مرد کو بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنائیں۔

    اسلام میں زانی کے لیے سخت سزا کا حکم دیا گیا ہے
     زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ ایسی سزا کو حدود اللہ کہا جاتا ہے جس کا جاری کرنا حاکم اسلام کا کام اور ذمہ داری ہے

    حضرت لوط علیہ سلام کی قوم پر عذاب بھی اسی وجہ سے آیا تھا وہ نوجوان لڑکوں کے ساتھ زناء کیا کرتے تھے
    اللہ پاک نے قرآن پاک میں کہی مقام پر لوط علیہ سلام کی قوم کا ذکر کیا ہے

    قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اور لوطؑ کو یاد کرو،

    جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ’’ تم بے حیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو؟ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذّت (حاصل کرنے) کے لیے مَردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔‘‘
    (سورۃ النمل54,55)

    اج بھی ہم اگر اپنے ارد گرد معاشرے میں دیکھیں تو ہمیں بہت سے مرد ایسے ملیں گے جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہوتی لیکن وہ مرد ہونے کے ناطے کسی سے ذکر کرنے کے بجائے یا تو اس زیادتی کا شکار بنتے رہتے ہیں یا پھر وہ ادارہ، سکول کالج چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ایک اور جگہ اللہ پاک نے فرمایا

    "اور قومِ لوط ؑ نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا ۔ جب اُن سے اُن کے بھائی، لوطؑ نے کہا کہ’’ تم کیوں نہیں ڈرتے، مَیں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور مَیں تم سے اِس (کام )کا بدلہ نہیں مانگتا، میرا بدلہ (اللہ) ربّ العالمین کے ذمّے ہے۔ کیا تم اہلِ عالَم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں، اُن کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔‘‘
    (سورۂ الشعرا 160-166)

    ہمیں اپنے ارد گرد کے معاشرے میں اپنی بہن بیٹیوں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی بے نقاب کرنے، ان کو سزائیں دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا

    ہمارے اداروں کو بھی ایسے لوگوں پر نظر رکھنی ہو گی جہاں پر ایسے درندے موجود ہیں جو عورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں
    @alwaystalat

  • معاشرتی ناسور (دہشتگردی).تحریر محمد طلحہ بغدادی

    معاشرتی ناسور (دہشتگردی).تحریر محمد طلحہ بغدادی

    دہشت گردی معاشرے کا وہ واحد مسئلہ ہے جو کسی بھی قوم اور ملک کے لیے بدنامی کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی تنزلی کا سبب بنتی ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، دہشت گردی ایک برائی ہے یہ ایک بڑا گناہ ہے دہشت گردی کے لفظ سے ہی اسکا مطلب لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے مکروہ اور ناپاک مقاصد کے لیے خوف و ہراس پیدا کر کے لوگوں پر رعب طاری کر کے اپنا اثر و رسوخ قائم کیا جاسکے
    دہشت گردوں کے دل مردہ، دماغ اور صلاحیت عقل سے عاری ہوتی ہے یہ انسانی روپ میں چٔھپے وہشی بھیڑیے ہوتے ہیں دہشتگردی کا مسئلہ پوری دنیا کے لیے مشترک ہے
    بدقسمتی سے پاکستان کو بھی اس ناسور، برائی، ( دہشت گردی) سے سامنا رہا ہے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان دہشت گردی کی جنگ سے نبردآزما ہے، پاکستان ملک میں امن کی خاطر دہشتگردوں سے جنگ کررہا ہے
    پاکستان اور پاکستانی قوم کو دہشت گردوں نے بدنام کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی، دہشت گردوں نے اپنی ناکام، اور ناپاک کاروائیوں کی بدولت بازاروں، دینی درسگاہوں، حتیٰ کہ مساجد تک نہیں چھوڑی، حالانکہ ہمارے قرآن پاک میں ارشاد ہے
    ترجمہ:
    کہ جس نے ایک انسان کا قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا
    اگر دینِ اسلام اسکی مکمل نفی کررہا ہے تو ناجانے دہشت گرد اس اہم فرمان کو جھٹلا کر کیوں اس میں کود پڑتے ہیں
    ہر مذہب میں دہشت گردی کو حرام قرار دیا گیا ہے
    جتنے بھی صحیفے اتارے گئے چاروں آسمانی کتابوں ( تورات، انجیل، زبور، قرآن پاک) کسی میں بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ محبت، امن اور بھائی چارے کا سبق اور پیغام دیا گیا
    میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ دہشت گرد کونسی مخلوق یا پھر کونسے جہان سے ہیں جو آئے روز اپنے ناپاک عزائم کرتے ہیں لوگوں کی زندگی اجبیران کرتے ہیں معاشرے میں نفرت کی ہوا کو بھڑکاتے ہیں

    گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں دہشت گردی عروج پر رہی دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے باعث پاکستان کو بدنام کیا جاتا رہا، جان بوجھ کر اور سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو دہشتگردی کی جنگ میں دھکیلا گیا جس کی وجہ پاکستان کو اسکی بھاری قیمت چکانا پڑی
    یہ وہ دہشت گردی ہی تھی جس کے لیے پاکستانی فورسز نے دن رات ایک کر کے پاکستان کو اندرونی و بیرونی چیلنجوں سے نمٹانے کے لیے بلا خوف نڈر ، بہادر اور بے باک بن کر بے پناہ قربانیاں دی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ملک کی خاطر شہید ہونے کو ترجیح دی تاکہ پاکستان کو امن و امان کا گہوارہ بنا سکیں، ملک کو امن کی جانب گامزن کرسکیں ، تاکہ ملک کو ترقی کی جانب پروان چڑھا سکیں، تاکہ پاکستان کا مستقبل نیک شگون ثابت کرسکیں
    تاکہ پاکستانی قوم سکون، سٔکھ، اور چین کی زندگی بسر کر سکیں
    الحمدللہ سکیورٹی فورسز کی کامیاب کوششوں کے باعث
    آج پاکستان میں امن و امان کی صورتحال ہے مساجد، عبادت گاہیں دہشت گردی سے پاک ہیں ہر پاکستانی سکون و اطمینان کی زندگی بسر کررہا ہے کھیلوں کے میدان آباد ہیں، دنیا بھر کی ٹیمیں پاکستان میں کھیلنے کو ترجیح دے رہی ہیں، بلوچستان امن کا گہوارہ بن چکا، کراچی کے لوگ قربانیوں کی بدولت سکون کی فضاء میں جی رہے ہیں، خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کا جڑ سے خاتمہ کردیا گیا

    دہشتگردوں کے ناپاک عزائم مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث دہشتگرد اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں عالمی برادری پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف کوششوں اور قربانیوں کو سراہ رہی ہے، پاکستان کو امن کی جگہ قرار دیا جارہا ہے،
    دہشت گردی کی جنگ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز جن میں پولیس، ایف سی، رینجرز، اور افواجِ پاکستان نے دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے مکمل حکمتِ عملی کے ساتھ پروگرام تشکیل دیا اور اسکی بدولت ملک امن و امان، سلامتی، اور سکون کا مرکز بنا، انکی لازوال قربانیاں قوم پر احسان ہیں پاکستان کو اس دہشتگردی سے پاک کرنے کے لیے جتنی بھی قربانیاں دی گئی قوم اپنے شہداء کی مقروض ہے

    بے شک شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ایک سپاہی شہید ہوکر ہی قوم کو امن کی زندگی میسر کرتا ہے قربانی دے کر ہی ملک کا سہارا بنتا ہے

    ایک ایک قربانی قوم شہیدوں کی یاد رکھی ہوئی ہے شہید اس ملک کا سرمایہ ہیں، فخر ہیں، ہمارے سروں کے تاج ہیں،

    دعا ہے کہ اللّٰهُ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائے اور ہمارے جوانوں کی غیبی امداد فرمائے آمین

  • یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

    بیجنگ: ڈجیٹل یوٹیوبر اور خبرنامہ پڑھنے والے ورچول نیوزکاسٹر کے بعد چین نے تاریخ میں پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت سے ایک ڈیجیٹل طالبہ تخلیق کر لی ہے جو چین ہی میں تیار کیے گئے وسیع سطح کے مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام سے چلتی ہےاس طالبہ کا نام ’ہُوا ژائی بِنگ‘ رکھا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : چینی میڈیا کے مطابق اس سسٹم کی نقاب کشانی یکم جون کو بیجنگ اکیڈمی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس 2021 میں کی گئی تھی اس طالبہ کو سنگہوا یونیورسٹی میں داخل کیا گیا ہے-

    گزشتہ دنوں ہُوا ژائی بِنگ نے چین کی مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ویبو پر اپنی زندگی کی پہلی پوسٹ کی، اور اس میں اس نے اعلان کیا کہ وہ سنگہوا یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں پڑھنے جا رہی ہے، تو لوگ سائنس دانوں کی اس تخلیق پر حیران رہ گئے۔

    ویبو پر اپنے پہلے ولاگ میں ہُوا ژائی بِنگ نے کہا کہ جب سے میں ’پیدا‘ ہوئی ہوں، تب سے میں ادب اور فن کی رسیا ہوں س ویڈیو میں ہُوا ژائی بِنگ کی آمد، آواز اور پس پردہ موسیقی، حتیٰ کہ اس کی بنائی پینٹنگز بھی، سب کچھ ایک ریکارڈ بریکنگ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلنگ سسٹم Wudao 2.0 پر تیار کیا گیا تھا۔

    ہُوا ژائی بِنگ اس وقت کمپیوٹر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پڑھ رہی ہے جدید ترین الگورتھم اور سافٹ ویئر ہے جو اسے مسلسل سیکھنے میں مدد دیتے ہیں 15 جون منگل کو اس نے پہلی کلاس لی ہے اور ان کا پہلا سیمسٹر ڈیٹا ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے۔ انہیں پڑھانے کےلیے ماہر پروفیسر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

    چین مریخ پر کامیابی سے خلائی جہاز لینڈ کرنے والا امریکہ کے بعد دوسرا ملک بن گیا

    اساتذہ کے مطابق ایک سال میں اس کا شعور 12 سالہ بچے جتنا ہوجائے گا اس طرح وہ لوگوں سے گھل مل کر ان سے سیکھے گی اور دن بدن انسان نما ہوتی چلی جائے گی اور انسانوں کے ساتھ مزید تخلیقی امور انجام دے سکے گی۔
    https://www.youtube.com/watch?v=iE3sGOod0lo
    اس سے پہلے بیجنگ اکادمی برائے مصنوعی ذہانت اور ایک کمپنی زائپو اے آئی نے اس ڈجیٹل طالبہ کی تربیت کی ہے لیکن اسے پڑھانے اور اتنی رقم خرچ کرنے کی اصل وجہ اب بھی سامنے نہیں آسکی ہے۔

    ایک پریس ریلیز کے مطابق چین اے آئی شعبے کو بڑھانا چاہتا ہے 2025 تک وہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) میں ’غیرمعمولی اہم سنگِ میل‘ حاصل کرنا چاہتا ہے چین کا خیال ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجینس ملک کی معاشی ترقی اور صنعتی فروغ کے لیے بہت ضروری ہے۔

    چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

    کمپیوٹرسائنس کے پروفیسر ٹانگ جائی نے کہا کہ ہوا اب لکھ سکتی ہیں، وہ پینٹنگ اور شاعری کرتی ہیں اور موسیقی کا رحجان رکھتی ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ سسٹم گفتگو کی نقل کرنے، نظمیں لکھنے اور تصاویر کو سمجھنے کے لیے 17 کھرب 50 ارب پیرامیٹرز استعمال کرتا ہے۔ اور اس نے گوگل سوئچ ٹرانسفر کے ترتیب دیے 16 کھرب پیرامیٹرز کا ریکارڈ توڑا تھا۔

    تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ طالبہ کچھ سادے جذبات رکھتی ہیں اور منطقی فکر بھی پیش کرتی ہیں۔ اس طرح یہ دیگر ورچول کرداروں سے بہت مختلف ہے۔ اس کی تیاری میں پہلے سے ہی دیگر کمپیوٹرماڈلوں سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔

    نئے خلائی اسٹیشن کی تعمیر،چین نے اپنا خلائی مشن روانہ کردیا

     

  • کرسٹیانو رونالڈو انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت بن گئے

    کرسٹیانو رونالڈو انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت بن گئے

    پرتگال کے نامور فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جن کے فالوورز کی تعداد 300ملین سے زائد ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے نا صرف فٹ بال کی دنیا میں اپنا نام بنایا بلکہ اب انہوں نے انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت کا اعزاز بھی حاصل کر لیا ہے جن کے فالوورز کی تعداد 301 ملین ہو گئی ہے۔

    امریکی جریدے فوربز کے مطابق فٹ بال سٹار کرسٹیانو رونالڈ انسٹاگرام پر ایک سپانسر پوسٹ شیئر کرنے کا 10 لاکھ امریکی ڈالر معاوضہ لیتے ہیں۔ انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت میں کرسٹیانو رونالڈو کے بعد دوسرے نمبر پر گلوکارہ آریانا گرانڈے آتی ہیں جن کے 214 ملین فالوورز ہیں۔ علاوہ ازیں انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی تیسری شخصیت ڈوین جانسن ہیں جنہیں انسٹاگرام پر 210 ملین صارفین نے فالو کیا ہوا ہے۔

    اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے ایک اور گول کر کے اہم سنگ میل عبور کر لیا

    اس سے قبل فٹ بالر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 250 ملین فلاوورز ہونے پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’کیا حیرت انگیز نمبر ہے، آپ سب کا بہت شکریہ، آپ لوگ میرے اس سفر کا حصہ ہیں‘۔

    واضح رہے کہ ہنگری کے دارالحکومت بوداپست میں یورو کپ فٹبال ٹورنامنٹ کے ہنگری کیخلاف میچ سے قبل پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو جب پریس کانفرنس کرنے کیلئے آئے تو ان کے سامنے کاربونیٹڈ ڈرنگ کوکاکولا کی دو بوتلیں رکھی ہوئی تھیں۔


    رونالڈو نے کچھ لمحے ان بوتلوں کو دیکھا اور پھر دونوں کو اٹھاکر ایک طرف رکھ دیا۔ پھر فٹبالر نے نیچے سے پانی کی بوتل اٹھائی اور سامنے رکھ لی اور یہ بھی کہا کہ ’کوکا کولا نہیں پانی‘۔

    اس پریس کانفرنس می رونالڈو کے معمولی سے عمل سےکوکا کولا کے شیئرز کی قیمت گر گئی اور کمپنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا-

    رونالڈو نے کوک کی بوتلیں پریس کانفرنس کے میز سے ہٹائیں تو کمپنی کو کتنے اربوں کا نقصان ہوگیا

    کوکاکولا یورو کپ 2020 کا آفیشل اسپانسر پارٹنر ہے اور فٹبال کے تقریباً تمام ٹورنامنٹس میں بڑا اسپانسر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے یورو کپ 2020 کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو پریس کانفرنس کے موقع پر کوکا کولا اور پانی دونوں فراہم کیے جاتے ہیں اب یہ کھلاڑیوں کی مرضی ہے کہ وہ کسے پسند کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ کرسٹیانو رونالڈو کے اس عمل کے بعد فرانسیسی مسلم فٹبالر پال پوگبا نے بھی یوروکپ فٹبال ٹورنامنٹ کے میچ کی پریس کانفرنس میں بئیر کی بوتل کو کیمرے کے سامنے سے ہٹا دیا تھا۔

  • گالی پنجاب کا کلچر نہیں ہوسکتی . تحریر: احسن ننکانوی

    گالی پنجاب کا کلچر نہیں ہوسکتی . تحریر: احسن ننکانوی

    شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ گالی پنجاب کا کلچر ہے گالی پنجاب کا کلچر نہیں ہوسکتی کیونکہ پنجاب کا کلچر بہت ہی سوبر اور مہذبانہ ہے ۔
    جہاں حضرت بلھے شاہ جیسے صوفی بزرگ ہو اس کا کلچر گالی کیسے ہو سکتا ہے۔

    بلھے شاہ زہر دیکھ کے پیتا تے کی پیتا
    عشق سوچ كے کیتا تے کی کیتا
    دِل دے كے دِل لین دی آس رکھی
    وی بلھیا پیار اہو جیا کیتا تے کی کیتا..
    مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے
    ڈھیندا جو کچھ ڈھا دے
    اک بندے دا دِل ناں ڈھاویں
    رب دلاں وچ رھیندا..

    جس دھرتی میں حضرت وارث شاہ جیسے بزرگ سو رہے ہو تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

    کئی بول گئے شاخ عمر دی تے،ایتھے آہلھناکسے نہ پایا ای

    کئی حکم تے ظلم کما چلے،کس نے ساتھ لدایا ای

     وڈی عمر اولاد والا ،جس نوح  طوفان منگایا ای

    ایہہ روح قلبوت دا ذکر سارا،نال عقل دے میل ملایا ای

    اَگے ہیر نہ کسے نے کہی ایسی، شعر بہت مرغوب بنایا ای

    وارث شاہ میاں لوکاں کملیاں نوں،قصہ جوڑ ہشیار سنایا ای

    جہاں پر حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ ہستیاں ہوں صوفی شاعر ہوں تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

    الف اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ہو
    نفی اثبات دا پانی ملیا ہر رگے ہر جائی ہو
    اند بوٹی مشک مچایا جاں پُھلن تے آئی ہو
    جیوے مرشد کامل باہو جیں ایہ بوٹی لائی ہو​
    الف اللہ پڑھیوں پڑھ حافظ ہویوں ناں گیا حجابوں پردا ہُو
    پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویوں بھی طالب ہویوں زر دا ہُو
    سئے ہزار کتاباں پڑھیاں پر ظالم نفس نا مردا ہُو
    باہجھ فقیراں کسے نا ماریا باُہو ایہ چور اندر دا ہُو..
    جواب الف اللہ چنبے دی بوٹی
    عشق دریا محبت وچ تھی مردانہ تریئے ہو
    جتھے لہر غضب دیاں ٹھاٹھاں قدم اتھائیں دھرئیے ہو
    اوجھڑ جھنگ بلائیں بیلے ویکھو ویکھ نا ڈریئے ہو
    نام فقیر تد تھیندا باہو جد وچ طلب دے مریئے ہو
    ایہ تن رب سچے دا حجرہ وچ پا فقیرا جھاتی ہو
    ناں کر منت خواج خضر دی تیرے اندر آب حیاتی ہو
    شوق دا دیوا بال ہنیرے متاں لبھے وست کھڑاتی ہو
    مرن تھیں اگے مر رہے باہو جنہاں حق دی رمز پچھاتی ہو۔۔

    جہاں پر حضرت بابا فرید شکر گنج جیسے بزرگ صوفی شاعر ہوں تو وہ کلچر گالی کیسے ہو سکتا ہے۔

    فریدا،، خاک نہ نندیئے خاکو جیڈ نہ کوئ
    جیوندیاں پیراں تھلے مویاں اوپر ہوئ
    اٹھ فریدا وضو ساج صبح نماز گزار
    جو سر سائیں نہ نیویں سو سر کپ اتار

    جہاں پر حضرت میاں محمد بخش جیسے صوفیانہ شاعر ہوں تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔۔

    آدردا وچ خالی خانے پا وچ دخل مکاناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبوباں نوں وداع کریندیاں مشکل بچدیاں جاناں
    ؂بے شرمی دے حلوے نالوں ساگ جماں دا چنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے وفاسجن دے نالوں سنگ چُوہڑے دا چنگا
    ؂پاٹا چولا لیرولیر ، سی لیندا اے درزی۔۔۔۔۔۔ دل دا محرم کوئی نہ ملیا جو ملیا سو غرضی
    ؂ٹہا دے مسجد مندر ٹہادے جو کجھ ٹہیندا۔۔۔۔۔۔اک بندیاں دا دل نہ ٹہاویں ربّ دلاں وچ رہندا
    ؂حرص طمع دے گھوڑے چڑھیوں، ڈھلیاں چھڈ لگاماں۔۔۔۔۔۔ گھرنوں واگاں موڑ اسوارا ، سر تے پے گئیاں شاماں
    ؂گئی جوانی آیا بڑھاپا پیاں سب پیڑاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہن کس کم محمد بخشاؔ سونف جوائن ہریڑاں

    جہاں پر باباگرونانک جیسے لوگ ہیں تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

    گرو نانک کی تعلیمات سے متعلق دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک کی بنیاد، بقول کول اور سامبھی، مقدس جنم سکھی پر ہے جس کے مطابق سکھ مت 15ویں صدی میں اسلام اور ہندو مت کی ہم آہنگی کی کوشش یا معاشرتی احتجاج کی تحریک نہیں، بلکہ نانک کی تعلیمات اور سکھ مت خدا کی طرف سے الہام تھا۔ دوسرا نظریہ، بقول سنگھا، کہتا ہے کہ ’’سکھ مت اوتار کا نظریہ یا پیغمبری کا تصور پیش نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا محور گرو کا تصور ہے جو خدا کا مظہر نہیں ہوتا اور نہ ہی پیغمبر ہوتا ہے۔ وہ تو بس ایک روشن روح ہوتا ہے۔‘‘
    مقدس جنم سکھیاں نانک نے خود نہیں لکھی تھیں، بلکہ بعد ازاں ان کے پیروکاروں نے تحریر کی تھیں جن میں تاریخی صحت کا خیال نہیں رکھا گیا اور نانک کی شخصیت کو محترم بناکر پیش کرنے کی غرض سے متعدد داستانیں اور قصے تخلیق کیے گئے۔ کول اور سامبھی واضح کرتے ہیں کہ سکھ مت میں ’مکاشفہ‘ کی اصطلاح صرف نانک کی تعلیمات سے مخصوص نہیں، بلکہ اس میں تمام سکھ گروؤں کے علاوہ ماضی، حال اور مستقبل کے مرد و عورتوں کے اقوال بھی شامل ہیں، جنھیں مراقبے اور غور و فکر کے ذریعے الہامی طور پر علم حاصل ہوا۔ سکھ مکاشفات میں غیر سکھ بھگتوں کے اقوال بھی شامل ہیں، جو نانک سے کی پیدائش سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے اور ان کی تعلیمات سکھ صحیفوں میں شامل ہیں۔ منڈیر کے مطابق، ادی گرنتھ اور جانشین سکھ گرووؤں نے مسلسل اس بات پر زور دیا کہ سکھ مت ’’خدا کی طرف سے آوازیں سننے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ یہ انسانی دماغ کی خاصیت تبدیل کرنے سے متعلق ہے اور کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت براہ راست مشاہدہ اور روحانی کاملیت مل سکتی ہے۔‘‘ گرو نانک نے تاکید کی کہ تمام انسان بغیر کسی رسوم یا مذہبی پیشواؤں کے، خدا تک براہ راست رسائی پاسکتا ہے۔

    جہاں پر شاہ حسین جیسے بزرگ صوفی ہو تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔
     ہوویں تاں عشق کماویں راہ عشق سوئی دا ٹکا،دھاگہ ہویں تاں ہی جاویں باہر پاک اندر آلودہ، کیہا توں شیخ کہاویں کہے حسین جے فارغ تھیویں،تاں خاص مراتبہ پاویں عاشق بننا ہے تو عشق حقیقی اختیار کر عشق کا راستہ سوئی کے سوراخ کی مانند ہے ، دھاگے کی۔۔

    خواجہ غلام فرید جیسے بزرگوں کا کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

     والیاں، ربّ لائے نیں ساون،
    کائی مینہہ میہر دے وسّ گئے ۔

    ٹر گئے یار دناں دے،
    ن کوئی پتہ نشانی دسّ گئے ۔

    اونہا ویلے سانوں چیتے آون،
    جدوں نال اساں دے ہسّ گئے ۔

    غلام فرید اوہ سجن ناہ نیں،
    جہڑے چھوڑ ستی نوں نسّ گئے

    جہاں پر ایسے بزرگ اور صوفی بستے ہو میری نظر میں اس زمین کا کلچر گالی نہیں ہوسکتا ۔ شیخ روحیل اصغر کو اس کا جواب دینا ہو گا یا اس کو معافی مانگنی چاہیے کیونکہ
    پنجاب کے تمام پنجابیوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
    پنجابی لوگوں کی مادری زبان پنجابی ہے جو ایک ہند یورپی زبان ہے جو باشندگان پنجاب میں مروج ہے۔ پنجابی بولنے والوں میں ہندومت، سکھ مت، اسلام اور مسیحیت کے پیروکار شامل ہیں۔ اول الذکر مذہب کے علاوہ باقی تینوں مذاہب میں اس زبان کو خاص حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں کیے گئے مردم شماریوں کے مطابق دنیا میں پنجابی بولنے والوں کی تعدا 14-15کروڑ سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ اردو،ہندی اور انگریزی بطور دوسری زبان استعمال کرتے ہیں۔
    سرسوں کا ساگ مکھن اور مکئی کی روٹی سب سے مقبول پنجابی کھانا ہے اس کے علاوہ ساون میں مسی تندوری روٹی بھی شوق سے پکائی اور کھائی جاتی ہے
    اس کے علاوہ یہاں کا لباس پگڑی اور شلوار قمیض ہے۔
    پنجاب کے لوگ ہنس مکھ اور خوش مزاج اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرنے والے ہیں اس بیان کے بعد شیخ روحیل اصغر کافی وقت تک سوشل میڈیا پر بھی تنقید کا نشانہ بنے رہے لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو ہماری ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لے لیں اور تمام لوگوں سے معافی مانگیں جن جن کے جذبات مجروح ہوئے ہیں

    تحریر: احسن ننکانوی

  • نوجوان نسل اور ملک و قوم کی ترقی۔ ‏تحریر: ایمان تیمور

    نوجوان نسل اور ملک و قوم کی ترقی۔ ‏تحریر: ایمان تیمور

    کسی بھی قوم کی باگ ڈور اس کی نئی نسل کے ہاتھ میں ہوتی ہے،جس طرح ایک عمارت کی تعمیر میں اینٹ ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ اینٹ سے اینٹ مل کر عمارت وجود میں آتی ہے،اسی طرح ملک کی تعمیر میں ہر نوجوان کی اپنی الگ اہمیت ہوتی ہے، جس سے انکار ممکن نہیں،لیکن ہماری نوجوان نسل کو بھی اپنی اہمیت اور زمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیئے۔نوجوانوں کو بھی بڑھ چڑھ کر ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ
    کسی بھی ملک، قوم یا معاشرے میں حقیقی اور مثبت تبدیلی نوجوان ہی لاسکتے ہیں، جب نوجوان مخلص ہوکر اپنے ملک و قوم کے لیے محنت اور جدوجہد کرنے لگتے ہیں تو مثبت تبدیلی، ترقی اور بہتری کو کوئی نہیں روک سکتا، کامیابی ان کے قدموں کی دھول ضرور بنتی ہے۔ نوجوان ہی وہ قوت ہیں، جو اگر ارادہ کرلیں تو ملک کی باگ ڈور سنبھال کر ملک کو اوج ثریا پر پہنچا کر دم لیتے ہیں۔کامیابی اور کامرانی ان اقوام کی قدم بوسی کرتی ہے جن کے نوجوان مشکلات سے لڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔ خوش حالی ان اقوام کا مقدر بنتی ہیں جن کے نوجوانوں کے عزائم آسمان کو چھوتے ہیں۔

    ترقی ان اقوام کی منزل بنتی ہیں جن کے نوجوان خوددار، اور اپنی مدد آپ کے تحت دن رات محنت، لگن اور جانفشانی سے آگے بڑھنے کی لگن رکھتے ہوں ۔
    ہمیں اپنی نوجوان نسل پہ پورا بھروسہ ہے ایک دن ہم ایک مضبوط قوم کے طور ضرور ابھریں گے

    شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے
    یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے.

    انشاللہ۔۔
    پاکستان ذندہ باد۔

  • سلجوق سلطنت اور اسکا قیام .تحریر: سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت اور اسکا قیام .تحریر: سمیع اللہ

    دوسرا حصہ
    سلطان محمد الپ ارسلان (بہادر شیر)

    طغرل بیگ کی وفات کے بعد اسکے بھتیجے الپ ارسلان سلطان کے مسند پر فائز ہوا وہ بھی طغرل بیگ کی طرح ایک نہایت مدبر، تجربہ کار لیڈر اور جرات مند شخصیت کا مالک ایک مخلص قائد تھا اس نے ملکی سرحدوں کو وسیع کرنے کے لئے ایک نہایت ہی دانشمندانہ پالیسی اختیار کی جو علاقے سلجوقی سلطنت کے زیر نگیں تھے پہلے انکے استحکام کو یقینی بنایا اسکے بعد بیرونی دنیا کی طرف پیش قدمی کی۔ سلطان الپ ارسلان ہمیشہ جہاد فی سبیل اللہ اور اپنی پڑوسی میسحی سلطنتوں میں اسلام کی اشاعت کے لیے بے قرار رہتا تھا اسکی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ ارمن اور روم کے علاقے اسلامی قلم رو میں شامل ہوں دراصل وہ ایک مخلص مجاہد تھا اور اسلامی جہاد کی روح ہی وہ واحد عامل ہے جسکی بدولت الپ ارسلان کو شاندار کامیابیاں ملی اور اسکی جہادی سرگرمیوں نے دینی رنگ اختیار کیا
    سلجوقی سلطنت کا یہ عظیم مجاہد ایک مخلص جہادی شخصیت اور میسحی علاقوں میں اسلام کی اشاعت کے لے بے حد حریض انسان کی شکل میں نمودار ہوا اور سلطنت بیزنطینیہ کے بہت سارے علاقوں پر اسلام کا علم لہرا دیا
    الپ ارسلان اپنی مملکت کی سرحدوں کو وسیع کرنے سے پہلے سات سال کے عرصہ تک اپنی مملکت کے دوردراز کے علاقوں کے حالات کا جائزہ لیتا رہا اور جب ان علاقوں میں امن وامان کی صورت حال سے مطمئن ہو گیا تو اپنے عظیم مقاصد کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لئے پلاننگ شروع کر دی۔ ان کے سامنے ایک ہی ہدف تھا سلجوقی سلطنت کے پڑوس میں واقع مسیحی علاقوں کو فتح کرنا ، مصر میں فاطمی بدولت کے اقتدار کو ختم کرنا اور تمام اسلامی دنیا کو عباسی خلفاء اور سلجوقی اقتدار کے جھنڈے کے نیچے متحد کرنا۔ الپ ارسلان نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا اور اس لشکر کی قیادت کرتا ہوا ارمن اور جوجیا کی طرف روانہ ہوا۔ یہ علاقے بہت جلد انکے ہاتھوں فتح ہوئے۔ الپ ارسلان آگے بڑھا اور شام کے شمالی علاقے پر یورش حلب مرداسی حاکم تھا۔ اس سلطنت کی بنیاد 414ھ بمطابق 1023ء میں صالح بن مرداس نے رکھی تھی۔ یہ شیعہ سلطنت تھی۔ الپ ارسلان نے مرداسی سلطنت کا محاصرہ کیا اور اس سلطنت کے فرمانروا محمود بن صالح بن مرداس جو مجبور کیا کہ وہ مصر کی فاطمی خلیفہ کی بجائے عباسی خلیفہ کی حکومت کو تسلیم کرے اور لوگوں کو اس حکومت کی احکام کا پابند کیا اسکے بعد الپ ارسلان نے ایک ترکی نژاد قائد اتنسز بن اوق خوارزمی کو جنوبی شام پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا خوارزمی نے فاطمیوں سے رملہ اور بیت المقدس چھین لئے لیکن عسقلان پر قبضہ نہ کر سکا جسے مصری حدود میں داخلہ کے لئے ایک بہت بڑے دروازے کی حیثیت حاصل تھی اس طرح سلجوقی بیت المقدس کے اندر خلیفہ عباسی اور سلجوقی سلطان کے مرکز کے قریب ہو گئے۔

    426ھ میں مکہ مکرمہ کے گورنر محمد بن ہاشم کا قاصد سلطان الپ ارسلان کے دربار پہنچا۔ قاصد نے اطلاع دی کہ شریف مکہ خلیفہ القائم پاشا اور سلطان الپ ارسلان کے نام کا خطبہ دے رہا ہے اور آئندہ سے وہ عبیدی سلطنت کی بجائے عباسی خلافت کے احکامات کی پابندی کرے گا۔ قاصد نے یہ بھی بتایا کہ مکہ شریف میں آئندہ حئی علی خیرالعمل کے الفاظ اور دوسرے شیعی الفاظ اذان میں نہیں دہرائے جائے گئے سلطان نے شریف مکہ کے قاصد کی بڑی عزت افزائی کی۔ تیس ہزار دینار گورنر مکہ کی خدمت میں ارسال کئے۔ اور کہلا بھیجا کہ اگر گورنر مدینہ ایسا کرے گا تو اسکی خدمت میں بیس ہزار دینار پیش کئے جائے گئے ۔
    الپ ارسلان کی ان فتوحات نے رومی شہنشاہ ڈومانوس ڈیوجیس کو آتش زیر پا کر دیااور اس نے پختہ ارادہ کیا کہ وہ ہر قیمت پر اپنی شہنشاہیت کا دفاع کرے گا۔ سو اس مقصد کی خاطر اس نے اپنی پوری فوج سلجوقیوں کے خلاف جنگ میں جھونک دی۔ رومی اور سلجوقی فوجوں میں کئی خونریز معرکے ہوئے۔ "ملاذکرد” کا معرکہ ان سب میں زیادہ اہم ہے جو 463ھ بمطابق اگست 1070 ء کو برپا ہوا

    اس معرکے میں روم کا بادشاہ ڈومانوس پہاڑ کی مانند لشکروں کو لیکر روانہ ہوا۔ ان لشکروں میں روم، روس، برطانیہ، اور کئی دوسرے ملکوں کے سپاہی شریک تھے۔ ڈومانوس کی جنگی تیاریاں بھی خوب تھی اس لشکر میں 35 بطریق بھی شریک تھے۔ اور ہر بطریق کے ساتھ دو دو لاکھ گھوڑ سوار تھے۔ 35ہزار فرنگی اور 15 ہزار دوسرے جنگ جو اسکے علاؤہ تھے جو قسطنطنیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اسکے علاؤہ ایک لاکھ نقب لگانے والے، ایک لاکھ کھدائی کرنے والے، ایک ہزار روز جاری، چار سو بیل گاڑیوں جن پر فوجوں کی وردیاں، اسلحہ، گھوڑوں کی زینیں، منجنیقیں، قلعہ شکن آلات لدے ہوئے تھے۔ ان منجنیقیوں میں ایی منجنیق ایسی بھی تھی جس کو ایک ہزار دو سو آدمی چلاتے تھے ڈومانوس یہ سب لاؤ لشکر لیکر اسلام اور اہل اسلام کو مٹانے کا مقصد لیکر آگے بڑھا تھا۔ اسکو اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ تھا کہ فتح سے پہلے ہی اسلامی علاقے اس نے بطریقوں کو جاگیر میں دینے کا اعلان کیا حتیٰ کہ بغداد بھی ایک بطریق کے نام کر دیا۔ انکا پروگرام یہ تھا کہ جب عراق اور خراسان کے علاقے فتح ہو جائیں گئے تو وہ یکبارگی حملہ کر کے شام کے علاقے مسلمانوں سے واپس لے لیں گئے۔ وہ یہ سوچ رہے تھے اور تقدیر ہنس رہی تھی ۔ سلطان الپ ارسلان اور رومی فوجوں کا آمنا سامنا الزھوہ کے مقام پر بدھ کو ہوا۔ ذیقعد کے اس مہینے کے ابھی پانچ دن باقی تھے۔ رومی فوج کی کثرت دیکھ کر الپ ارسلان کچھ پریشان ہوا۔ لیکن فقیہیہ ابو نصر محمد بن عبدالماک بخاری نے انکو حوصلہ دیا اور کہا: سلطان محترم! جمعہ شریف کے روز جب خطباء جمعہ کے خطبے پڑھ رہے ہوں اور مجاہدین کے لئے دعائیں مانگ رہے ہوں عین اس وقت دشمن پر حملہ کر دیں۔ اللہ کریم مسلمانوں کی دعاؤں کے طفیل سلطان کو فتح عطا فرمائے گا۔

    جب وہ وقت آیا اور دونوں لشکر میدان میں اترے تو الپ ارسلان گھوڑے سے اترا۔ زمین پر سر رکھ کر اور اپنی پیشانی کو خاک کو آلود کر کے بارگاہ خداوندی میں فتح و نصرت کے لئے ملتجی ہوا۔ اللہ کریم نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ اور نصرانیوں کے سروں کو جھکا دیا۔ مسلم سپاہ نے کشتوں کے پشتے لگا دئیے رومی بادشاہ اور سپہ سالار فوج ڈومانوس گرفتار ہوا۔ اسے ایک رومی غلام نے گرفتار کیا۔ جب بادشاہ کو سلطان کے حضور پیش کیا گیا تو سلطان نے اپنے ہاتھ سے اسے تین کوڑے مارے اور پوچھا: اگر میں گرفتار ہو کر تیرے سامنے پیش ہوتا تو تو میرے ساتھ کیسا سلوک کرتا؟ ڈومانوس نے کہا: میں تم سے انتہائی برا سلوک کرتا۔ الپ ارسلان نے کہا: میرے بارے میں تیرا کیا گمان ہے ؟ ڈومانوس بولا۔ تو یا تو مجھے قتل کر دے گا یا اپنے ملک میں میری تشہیر کرے گا یا معاف کر دے گا یا فدیہ لیکر رہا کر دے گا۔ الپ ارسلان چنے کہا: میرا ارادہ یہ ہے کہ تجھ کو معاف کر دوں اور فدیہ لیکر چھوڑ دوں۔ لہذاسلطان نے پندرہ لاکھ اشرفیاں لیکر اسے آزاد کر دیا۔ جب ڈومانوس روانہ ہونے لگا تو سلطان نے اسے پینے کے لئے مشروب دیا۔ وہ سلطان کے اس نیک سلوک سے بہت متاثر ہوا۔زمین بوس ہوا۔ تعظیم بجا لایا۔ سلطان نے ازراہِ عنایت دس ہزار دینار فدیے سے چھوڑ دئیے۔خود اس کی پیشوائی کے لئے دور تک چلا قید بطریقوں میں سے ایک کو آزاد کر کے اسکے ساتھ کر دیا۔ اسکے علاؤہ ایک محافظ دستہ ساتھ دیا تاکہ کوئی گزند نہ پہنچائے۔سلطان الپ ارسلان کا ایک مختصر سا لشکر جسکی تعداد پندرہ ہزار تھی ڈومانوس کے ایک لاکھ سے زائد کے لشکر کو شکست فاش کرنا کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ اس واقعے نے رومیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
    الپ ارسلان ایک متقی اور پرہیز گار انسان تھا۔ فتح کے مادی اور معنوی ہر دو اسباب سے استفادہ کرتا تھا۔ علماء اکرام کی ہم نشینی سے بہرہ ور ہوتا۔ ان کی نصیحتوں کو گوش ہوش سے سنتا اور ان پر عمل پیرا ہوتا تھا۔ اسلام کا یہ بطل جلیل اور عظیم سپہ سالار ایک باغی کے ہاتھوں شہید ہوا۔اس باغی کا نام یوسف خوارزمی تھا
    ۔ آپ کا سن وفات 10 ربیع الاول 465ھ بمطابق 1072 ء ہے۔ آپ مروکے شہر میں اپنے باپ کے پہلو میں دفن ہوئے اور ملک شاہ کو اپنا جانشین چھوڑا۔

  • شور اور شعور .تحریر:فروا منیر

    شور اور شعور .تحریر:فروا منیر

    شور اور شعور .تحریر:فروا منیر
    شور اور شعورمیں واضح فرق "ع” کا ہے جس کا مطلب ہے علم۔ ہر وہ بات جو بغیر علم کے ہو شور کہلاتی ہے۔
    ہر اونچی آواز کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حق کی ہی آواز ہو بغیر دلیل اور بغیر علم کے کی جانے والی آواز اس خالی برتن کی مانند ہے جو کہ صرف شور مچاتا ہے۔
    بات کرتے ہیں اس ملک کے مقدس ایوان اور عوامی نمائیندوں کی جو اس عوام کا اعتماد ووٹ کے نام پر اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ وہ عوام کی نمائیندگی کریں گے اور عوام کے مسائل کو  نیشنل اسمبلی کے ایوان میں پیش کریں گے ۔
    نیشنل اسمبلی وہ ایوان کےجس میں اس ملک کے پڑھے لکھے افراد عوام کی نمائیندگی کرتے ہیں

    مگر ٹھرئیے!
    یہاں تو منظر ہی کچھ اور ہے عوام کی مسائل کی بجائے ہر کوئی اپنے مسائل حل کرنے میں لگا ہے۔
    کہیں سے سیٹیاں گونج رہی ہیں ،کہیں سے تالیاں
    عوامی نمائیندے عوامی مسائل سے گتھم گتھا ہونے کی بجائے آپس میں گتھم گتھا ہیں
    ہر کوئی ایک دوسرے کو چور کہہ رہا ہے۔ اگر سب ہی چور ہیں تو چوروں کا یہاں کیا کام؟؟
    جناب شعور سے "ع” غائب ہو چکا ہے "ع” سے علم جاتے ہی "ع” سے عقل بھی جانے لگی اور بس شور شور رہ گیا۔
    پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائیندے عوامی نمائیندگی کر رہے ہیں
    تو کیا دنیا سوچنے پرمجبور نہ ہو گی کہ اگر نمائیندے ایسے تو عوام کیسی ہوگی؟

    اسلاف کی میراث بچانے والے مال بچانے میں مصروف ہیں
    خدارا اپنے  مفادات سے باہر نکل کر اس ملک کے مفادکا سوچئے۔
    اگر یہی حال اس ملک کے حکمرانوں کا ہے تو اس عوام کا اللہ ہی خافظ۔

  • بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز.تحریر: طلعت کاشف سلام

    بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز.تحریر: طلعت کاشف سلام

    بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز.تحریر: طلعت کاشف سلام

    پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جو کہ اسلامی ممالک میں واحد ایٹمی قوت ہے۔

    اسلامی ملک میں اسلامی قانون اور شرعی حدود کے ہوتے ہوئے بھی بہت سے کام ایسے ہو رہے ہیں جو غیر مسلم ممالک میں بھی نہیں ہوتے وہاں بھی ایسے کاموں پے پابندی اور سخت ترین سزائیں ہیں۔

    پاکستان میں آئے روز بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

    ہر روز ہر صوبے ہر شہر سے کوئی نا کوئی خبر رپورٹ ہو رہی ہوتی ہے
    زیادتی کا شکار ہونے والوں میں اکثریت بچوں کی ہے جو ابھی سمجھ بوجھ بھی نہیں رکھتے لیکن درندہ صفت لوگ ان کو بہلا پھسلا کر ادھر ادھر لے جاتے ہیں اور پھر وہاں پہلے ان کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں پھر ان کو قتل کر کے کسی ویرانے میں پھینک دیتے ہیں۔
    تو اس طرح کیسز میں اگر دیکھا جائے تو 3 طرح کی ایف آئی آر بنتی ہیں
    پہلی بچوں کو اغواء کرنی کی
    دوسری زیادتی کی
    تیسری قتل کی
    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہ کیسز بنائے گا کون؟

    https://twitter.com/AlwaysTalat/status/1405573144602107904?s=19

    کون دے گا ایسے درندوں کو سزائیں
    کون کرے گا ایسے کیسز کی پیروی
    اکثر ایسا بھی رپورٹ ہوا ہے کچھ لڑکے جوان لڑکیوں کے ساتھ دوستی کرتے ہیں پھر ان کے ساتھ جسمانی تعلق بناتے ہیں اور خفیاء طور پر ویڈیو بنا کر ان کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں
    جس میں کبھی پیسوں تو کبھی جنسی حوس کا نشانہ بناتے رہنے کا مطالبہ ہوتا ۔

    جب لڑکی اپنی عزت بچانے میں ناکام ہو جاتی ہے تو اس کے پاس آخری آپشن خود کشی ہوتا ہے وہ غیرت کے مارے خود کشی کو ترجیح دیتی ہے اور بلیک میلنگ سے بچنے کے لئے وہ آپ جان دے دیتی ہے۔

    پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے
    پاکستان کی قومی اسمبلی میں زینب الرٹ بل کے نام سے ایک بل تو پاس کر لیا گیا لیکن ابھی تک اس بل پر نا تو عمل ہوا اور نا ہی دوبارہ اس بل کو دیکھا گیا۔

    صرف پاس کی حد تک وہ اسمبلی سے پاس ہو کر اسمبلی تک ہی رہ گیا
    آج پاکستان کے ہر ادارے میں جنسی ہراساں کرنے لے کیسز سامنے آرہے ہیں
    کبھی پشاور کی لڑکیاں بینر اٹھائے احتجاج کرتی نظر آتی ہیں تو کبھی سرکاری محکموں کی خواتین شکایت کرتی نظر آتی ہیں.
    کبھی مدارس سے زیادتی کے کیسز سامنے ا رہے ہوتے ہیں تو کبھی یونیورسٹیز سے۔

    آخر کب تک اسلامی ملک میں ایسے ہی چلتا رہے گا؟
    کب تک ہماری بہنیں بیٹیاں جنسی زیادتی، ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی رہیں گی؟
    کب تک زینب، فروا، جیسی معصوم کلیوں کو نوچا جاتا رہے گا
    اسلام میں بھی زانی کے لیے سزا متعین کی گئی ہے لیکن آج تک پاکستان میں میں زانی کو کوئی سزا نہیں ہوئی.

    اسلام میں زانی کی سزا کچھ یوں ہے
    "”زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے””

    اگر صرف دو یا چار کیسز کو نشان عبرت بنایا جائے تو پھر باقی خود بخود زیادتی کے کیسز میں کمی دیکھنے کو ملے گی.

    اس وقت پاکستان میں زیادتی کے کیسز میں بہت حد تک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے

    اس پر حکومت وقت، متعلقہ اداروں کا کام ہے وہ اسلامی قانون کے مطابق ان درندوں کو سزائیں دیں تاکہ آئندہ ایسے کیسز کا سامنا نا کرنا پڑے.
    ہماری آنے والی نسلیں ان درندوں سے محفوظ رہ سکیں.

    ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں …… !

    ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں..

    تحریر::: طلعت کاشف سلام

  • "عمیرہ احمد، دھوپ کی دیوار، ISPR” ایشو کیا ہے؟؟ محمد عبداللہ

    "عمیرہ احمد، دھوپ کی دیوار، ISPR” ایشو کیا ہے؟؟ محمد عبداللہ

    "عمیرہ احمد، دھوپ کی دیوار، ISPR” ایشو کیا ہے؟؟؟
    "کشمیر ہماری شہ رگ ہے” بانی پاکستان محمد علی جناح کے یہ الفاظ عوام پاکستان کے کشمیر موقف کی ترجمانی کرتے ہیں. کشمیریوں اور پاکستانیوں کے دل ساتھ دھڑکتے ہیں. پاکستان اور پاکستان اور پاکستانیوں سے کشمیر اور اہل کشمیر کے لیے جانوں کے نذرانے تک پیش کیے ہیں. قربانیوں کی ایک لمبی داستان ہے جس کو ہندو بنیے کی دوستی کی خاطر فراموش نہیں کیا جاسکتا.
    کوئی بھول سکتا ہے کشمیر میں بھارتی مظالم کو تو بھول جائے، کوئی بھول سکتا ہے افواج پاکستان کے ہزاروں شہداء کو تو بھول جائے، کوئی ہندو بنیئے کے ہاتھوں قیام پاکستان سے لے کر اب تک لاکھوں پاکستانیوں کی شہادتوں کو بھول سکتا ہے تو بھول جائے لیکن خدارا اس قوم کو بھولنے کو نہ کہے… یہ کشمیر کاز سے جڑے ہر انسان کی برداشت کی آخری حد ہے.
    ہر تھوڑے وقفے بعد عوام پاکستان کا نظریہ پاکستان اور کشمیر کاز پر ٹمپریچر چیک کرنے کو نئے نئے حربے و ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں. واللہ پاکستان کی عوام کشمیر پر کسی کمپرومائزنگ پالیسی، کسی ڈاکٹرائن یا فارمولے پر راضی نہیں ہوگی. کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہ محمد علی جناح نے طے کیا تھا کشمیر پاکستان کی بقاء کا ضامن ہے. کشمیر کو بھارت کو دینا پاکستان کی گردن بھارت کے ہاتھ میں دے دینا ہے.
    یہ ڈرامے یا ویب سیریز یہ امن کی آشائیں کس کی اجازت کے ساتھ لکھی اور ترتیب دی جاتی ہیں. کیوں ان کو روکا نہیں جاتا اور مستزاد یہ کہ موجود وجہ تنازعہ پاکستانی رائٹر عمیرہ احمد کی اسٹوری "دھوپ کی دیوار” جس میں نظریہ پاکستان کی دھجیاں اڑائی گئیں، کشمیر کاز کو یکسر فراموش کرکے بھارت سے دوستی اور امن کی پینگیں بڑھانے کی تلقین کی گئی، گندے پلید ہندو کو افواج پاکستان کے جوانوں کے برابر کا شہید کہا گیا یہ کس کی اجازت سے ہورہا ہے؟ کس نے اس کو لاجسٹک سپورٹ دی ہے. کس نے کراچی، لاہور، سوات اور کشمیر کے علاقوں میں اس سیریز کی شوٹنگ کی اجازت دی اور سپورٹ فراہم کی ہے.
    کشمیر کاز اور نظریہ پاکستان سے جڑے لوگوں کے دل حد سے دکھی اس وقت ہوئے جب عمیرہ احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اس نے 2019 میں افواج پاکستان کے ادارے ISPR کو اپنی اس کہانی کا مسودہ بھیجا تھا کہ آیا اس میں کہیں ترمیم کی ضرورت تو نہیں تو ادارے کی طرف سے اس کو بلا کر شاباش دی گئی اور مسودے کو من و عن اپروو کیا گیا اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں.
    اس پر عوامی پریشر آیا محب وطن حلقوں سے آوازیں اٹھیں تو نیوز کو ایڈٹ کردیا گیا، عمیرہ کا ٹویٹر اکاؤنٹ بلاک کردیا گیا اور اس نے بیان بدل لیا یا بدلوا دیا گیا کہ یہ اس کی ذاتی تخلیق ہے وہ خود اس کی اچھے برے ہونی کی ذمہ دار ہے کسی نے اس کو نہ سپورٹ کیا نہ کسی نے اس کو قائل کیا یہ لکھنے کے لیے….
    اداروں کو شفاف تحقیقات کرنی چاہیں کہ ان کا نام کیوں اورکس مقصد کے لیے استعمال ہوا کیونکہ کشمیر کاز اور نظریہ پاکستان پر سستی کے ساتھ اگر افواج پاکستان کا نام جڑتا نظر آتا ہے تو محب وطن حلقے اس پر شدید دکھی ہوتے ہیں. کشمیر کاز فقط کوئی چند رٹے رٹائے جملے یا نعرے نہیں یہ ایک تحریک ہے ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں اور کشمیریوں کا خون اس میں شامل ہے. کشمیر پاکستان کا مستقبل و بقاء ہے ہم ہرگز بھی اس ایشو پر کسی ذرا سی بھی سستی کے متحمل نہیں ہوسکتے.
    محمد عبداللہ