Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میرا باپ کم نہیں میری ماں سے تحریر:اقصٰی یونس

    ایک ایسا شجر جو اپنے مکینوں کیلئے ایک ٹھنڈی چھاوءں ہے ۔ ایک ایسا شجر جو صرف میٹھا پھل دیتا ہے ۔ ایک ایسا شجر جس کی جڑیں اگر کمزور بھی ہو جائیں تو اپنے مکینوں کے لئے وہ ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے ۔ ایک ایسا شجر جو دھوپ ، گرمی اور سردی کی پرواہ کئے بغیر فقط اپنے مکینوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے۔ ایک ایسا شجر جو اپنی طاقت اور صحت کو اپنے مکینوں کیلئے صرف کرتا ہے۔

    بھلا کون میرے لئے اتنا اہم ہے؟ بے لوث ہے اور بے غرض میری ہر خواہش کو اپنی خواہش پر مقدم رکھنے والا اور مجھے اپنے سے بھی بلند مقام پر دیکھ کر خوش ہونے والا، میرا چہرہ دیکھ کر میرا احوال سمجھنے والا میری خوشی اور غم کا اندازہ درست لگانے والا بھلا کون ہو سکتا ہے؟ جی ہاں آپ نے صحیح پہچانا وہی تو میرا “عظیم باپ” ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج والد کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کا مقصد بچے کے لیے والد کی محبت اور تربیت میں ان کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔

    فادرز ڈے کو منانے کا آغاز 19 جون 1910 میں واشنگٹن میں ہوا۔ اس کا خیال ایک خاتون سنورا سمارٹ ڈوڈ نے اس وقت پیش کیا جب وہ ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر ایک خطاب سن رہی تھیں۔ماں کے مرنے کے بعد سنورا کی پرورش ان کے والد ولیم سمارٹ نے کی تھی اور وہ چاہتی تھیں کہ اپنے والد کو بتاسکیں کہ وہ ان کے لیے کتنے اہم ہیں۔چونکہ ولیم کی پیدائش جون میں ہوئی تھی، اس لیے سنورا نے 19 جون کو پہلا فادرز ڈے منایا۔

    میں اس خوبصورت شخص کا ذکر کر رہی ہوں جس کا آج دن ہے ۔ باپ جو ایک مہربان ساتھی ، ایک مخلص دوست ، ایک ختمی سہارا، ایک مکمل رہنما اور زندگی کی دھوپ چھاوء ں کا ساتھی ہوتا ہے۔ وہی باپ جو خود ۵۰۰ کی چپل پہن کر اپنی اولاد کو ۵۰۰۰ کا جوتا لا کر دیتا ہے۔ جو اپنی ہر ضرورت حتی کہ دوائی تک کو پس پشت ڈال کر اپنی اولاد کی ہر خواہش کا احترام کرتا ہے۔

    ہر باپ کیلئے اپنی اولاد اسکی کل جمع پونجی ہوتی ہے مگر جب بات بیٹی کی آۓ تو بیٹی تو باپ کی شہزادی ہوتی ہے۔ باپ اسکے پیدا ہونے سے لیکر ہی اسکے ناز نخرے ایسے اٹھاتا ہے جیسے وہُ کسی سلطنت کی شہزادی ہو۔ اور بیٹیاں بھی باپ سے فرمائشیں کرتے نہیں تھکتی۔

    باپ کی فضیلیت اور اہمیت پہ قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ اور اس بات سے ہم انکار نہیں کر سکتے مگر میرا آج قلم اٹھانے کا مقصد فقط وہ باپ ہیں جو اپنئ ساری زندگی کی جمع پونجی اپنی اولاد پہ لٹا کر اب اولڈ ہاوءس میں اپنی زندگی کے خری لمحات گن رہے ہیں – سات فیصد پاکستان اپنی زندگی کے آخری لمحات اولڈ ہومز میں گزار رہے ہیں – مگر یہ اولڈ ہوم کلچر نہ تو میرے ملک کا کلچر ہے نہ ہماری روایات ہی اس کلچر کو قبول کرنے کی روادار ہیں – ہم مغرب کی اندھا دھند تقلید میں اتنے مگن ہو گئے کہ ہمیں احساس ہی نہ ہوا کہ ہم اپنے کل کیلئے کتنا بڑا نقصان کا اور گھاٹے کا سودا کر رہے ہیں -لاکھوں والدین ہمارے منتظر ہیں جنہیں ہم نے آگے بڑہ کر گلے لگانا ہے۔

    مگر مکافات کی چکی پہ یقین رکھتے ہوئے ہمیں بھی اپنے بڑھاپے کے دنوں کیلئے کوئی اولڈ ہوم دیکھ لینا چاہیے- چلیں آج کے دن ایک قدم اچھائی اور محبت کا بڑھاتے ہوئے اپنے ان والدین سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہیں جو اولڈ ہومز میں ہیں اور اب سے عہد کرتے ہیں کہ والدین کی اس خوبصورت زمینداری اور اس نعمت کو نخوبی نبھائیں

    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • سیکس ایجوکیشن عیب کیوں؟؟؟ تحریر :عمار احمد عباسی

    سیکس ایجوکیشن عیب کیوں؟؟؟ تحریر :عمار احمد عباسی

    مولوی sex edeucation کے بارے میں سوشل میڈیا پہ کھلے عام لکھنے پہ فتوے جاری کر دیتے ہیں ۔ آج تک خود ان کی جانب سے کوui ویڈیو یا تحریری مواد تو سامنے آیا نہیں البتہ کرتوت کبھی کبھار منظر عام پہ آ جاتے ہیں ۔موٹیویشنل اسپیکرز دنیا کے ہر موضوع پہ پیسہ کمانے کی خاطر لیکچر دیتے نظر آتے ہیں مگر اس sex education کو حساس معاملہ سمجھتے ہوٸے لب کشاٸ سے گریزاں رہتے ہیں ۔

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کی اکثریت نے فیس بُکیے دانشوروں کو ایڈ کر رکھا ہوتا ہے جسے فیس بک کا منٹو کہا جاٸے تو غلط نہ ہو گا اور جو کسی بھی موضوع پہ کھل کر لکھ لیتا ہے مگر اس کے باوجود یہ سوشل میڈیا کے نامور لکھاری sex education کے بارے کھل کر اپنا مٶقف پیش نہیں کر سکتے کہ مولویوں کی تنقید کا سامنا ہو گا ، معاشرہ تنقید کرے گا ، ان کو خواتین کے سامنے بات کرنے میں مشکل کا سامنا ہو سکتا اور ممکن ہے تنقید کا نقطہ عروج ان کی فین فالونگ میں کمی کا سبب بن جاٸے ۔۔۔!!!

    ” مگر ” سوال یہ ہے کہہ کیا مسجد کے منبر پہ بیٹھے ذمہ دار مدرسین ، اسکول کے اساتذہ ، موٹیوشنل اسپیکرز ، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس ، میڈیا پرسنز اور سب سے بڑھ کر والدین کی ہزار مجبوریوں کے باوجود یہ ذمہ داری نہیں کہہ بچوں کو کم عمری میں ہی اتنا ایجوکیٹ کر دیں کہہ انہیں اٹھارہ بیس سال کی عمر تک پہنچ کر بھی شرماتے ہوٸے مسجد کے مولوی ، اسکول کے معلم ، بس ڈراٸیور یا بڑی عمر کے دوست کی لذت کو پورا کروانے میں مدد نہ کرنی پڑ جاٸے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ذمہ داری ان کی نہیں کہہ ان پڑھ والدین میں یہ آگاہی پیدا کی جاٸے کہ بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ سات آٹھ سال کی عمر میں ان کے بستر الگ کر دیں ، ماں بیٹا ، باپ بیٹی ، بہن بھائی ایک ساتھ نہ سوٸیں ۔۔۔۔؟؟؟ بچوں کو ہم عمر یا عمر سے بڑے خالہ زاد ، پھوپھو زاد ، ماموں زاد اور چچا زاد کے ساتھ سونے سے روکنا ہے ۔۔۔۔؟؟؟ کیا یہ ذمہ داری والدین کی نہیں کہ چھوٹی عمر کے بچوں کو مدرسہ یا ہاسٹل میں کسی پہ اعتبار کرتے ہوٸے مت چھوڑیں ، بچوں کو اسکول یا مدرسہ اپنی نگرانی میں لے کر آٸیں جاٸیں ۔۔۔؟؟ کس کے ساتھ ہاتھ ملانا ہے کس کے ساتھ نہیں ، کس کو چُمی لینے دینی ہے کس کو نہیں ، کسی کی گود میں نہیں بیٹھنا ، کسی سے کوئی شے گفٹ نہیں لینی ، کسی جنسی ہیجان رکھنے والے درندے کی ٹھرک پہ کیسے رسپانڈ کرنا ہے ، یہ سب کس نے بتانا اور سکھانا ہے ؟؟؟؟؟ بچوں کی دوستیوں ، گیدرنگز ، ٹیچر کے ساتھ ریلیشن ، پڑھائی کے اوقات کار ، ان سب پہ نظر کس نے رکھنی ہے ۔۔۔؟؟؟

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    جب تک ہم بطور معاشرہ مل کر بچوں کی تربیت کا خیال نہیں کریں گے ، ان کی تربیت اور نگرانی نہیں کریں گے تب تک لاہور اور سکھر جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے ۔ مسجد ، مدسہ ، اسکول ہو یا مفتی ، عالم اور اسکول و کالج کا پروفیسر ان سے عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ کل کلاں بے اعتمادی اس نہج پہ پہنچ جاٸے کہ ترقی کے اس دور میں بھی عوام بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے ہی انکار کر دیں ۔۔۔!!!

  • تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    پانی قدرت کے خزانوں میں سے انسان کے لئے ایک نعمت ہونے کے ساتھ کرہ ارض پر زندگی کے وجود کے لئے بھی لازمی ہے مگر بدقسمتی سے دنیا بھر پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔

    پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں جہاں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ماضی میں سیاسی اختلافات اور اس اہم ترین مسئلے پر قابو پانے کے لئے فنڈز مختص نہ کئے جانے کے باعث نئے ڈیمز تعمیر کرنے کا معاملہ ہمیشہ التوا کا شکار رہا اور یوں گلیشیرز کے تیزی سے پگھلائو کی وجہ سے پانی کی ایک بڑی مقدار ذخیرہ نہ ہونے کے باعث سمندر کی نظر ہو کر ضائع ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملک میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ سالہا سال سے چلا آرہا ہے مگر کسی بھی دور حکومت میں مستقل بنیادوں پر اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔کسی بھی حکومت نے اسے حل کرنے کی کوشش نہیں کی جبکہ صوبائی سطح پر منتخب عوامی نمائندوں کی طرف سے ایک دوسرے پر پانی چوری کا الزام لگانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ہاں کوئی مستقل پالیسی پانی کی تقسیم کے حوالے سے موجود نہیں اگر واٹر منیجمنٹ کے حوالے سےسائنسی بنیادوں پر کوئی طریقہ کار موجود ہوتا توصوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازعہ کبھی سر نہیں اٹھاتا مگر ماضی کی طرح کچھ دنوں سے سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے پر تنازعہ میں شدت آئی ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور پانی کے ذخائر بڑھانے کے لئے نہ صرف نئے ڈیمز کی تعمیر کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہےبلکہ وزیراعظم عمران خان صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے تنازعہ کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے بھی کمر بستہ ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم تمام صوبوں کو پانی کی تقسیم کے طریقہ کار کے حوالے سے ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں، وفاقی حکومت تمام صوبوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار ہے، وزیراعظم عمران خان ان دس سالوں کو نئے ڈیمز تعمیر کرنے کی دہائی قرار دے چکے ہیں اور حکومت اگلے دس سالوں میں 13 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے لئے پرعزم ہے۔
    حکومتی ذرائع کے مطابق گذشتہ ماہ اپریل کے دوران پنجاب میں پانی کی قلت45 فیصد اور سندھ میں 9 فیصد تھی جبکہ ان دنوں پنجاب کو 22 فیصد اور سندھ کو 17فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔پنجاب میں 2 فیصد پانی کوہ سلیمان سے شامل ہو کر بڑھا ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان حکومت نے ایک مرتبہ پھرپانی کی فراہمی کے حوالے سے سندھ حکومت کو شدیدتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ بلوچستان کو پٹ فیڈر کینال سے 7600 کیوسک پانی ملنا چاہئے مگر سندھ کی جانب سے تقریباً 6 ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے اسی طرح کیر تھر کینال سے 2400 کیوسک کے بجائے 1800 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے بلوچستان حکومت کے مطابق حالیہ دنوں سندھ کی جانب سے ان دونوں نہروں میں 55 فیصد پانی کم چھوڑا جارہا ہے۔حکومت بلوچستان ذرائع نے بتایا کہ پانی کی کمی کے باعث حالیہ صورتحال میں سندھ سے ملحق بلوچستان کے زرعی علاقوں میں 76 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں متاثر ہونے کا خطرہ ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے پانی چوری کا معاملہ سندھ حکومت اور مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پانی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ صوبوں کے درمیان پانی تقسیم کے فارمولے کو منصفانہ بنایا جائے، صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کے لئے جدید آلات نصب کئے جائیں تاکہ کسی بھی صوبے کی عوام کے حقوق پامال نہ ہوں پانی کی نگرانی کا نظام آن لائن کیا جانا چاہئے تاکہ حقائق پر مبنی ڈیٹا ہمیشہ دستیاب ہو جبکہ تمام صوبوں میں بڑے ڈیمز کی تعمیراور زیر تعمیر ڈیمز کی جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان میں زراعت کے شعبے میں ترقی آسکے۔ پانی کو بچانے اور اس نعمت خدا وندی کے بہترین استعمال کے لئے ہمیں پانی کے استعمال میں جدت لانے کی بھی ضرورت ہے، کچے نالوں،گڑھوں اور نہروں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے فصلوں کی آبپاشی میں پانی خاصی مقدار میں ضائع ہو جاتا ہے۔ ہمیں پانی کو ری سائیکل کرنے اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی ضرورت ہے تاکہ فیکٹریوں اور کارخانوں سے نکلنے والے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنائے جانے کے ساتھ سیوریج کا گندا پانی فصلوں میں شامل ہو کر انہیں آلودہ نہ بنائے۔ ہمیں اپنے کاشتکاروں کو جدید آبپاشی کے نظام سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کم پانی سے بہتر اور زیادہ فصلیں اگائیں۔ پانی کے ضیاع کو روکنےاور اس کی اہمیت اجاگر کرنے کے حوالے سے عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ضرورت سے زیادہ پانی استعمال نہ کریں۔ ہمیں اپنے پانی کے ذخیرہ میں اضافہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے پاس 190 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے ان حقائق کی بنیاد پر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر پانی ذخیرہ کرنے کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر پالیسی بنا کر عملدرآمد یقینی نہ بنایا گیا تو آنے والے سالوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں قحط کی تباہ کاریوں کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

  • "کوشش انسان کرتا ہے کامیابی اللّہ دیتا ہے” تحریر: ابر نساں

    "کوشش انسان کرتا ہے کامیابی اللّہ دیتا ہے” تحریر: ابر نساں

    "انسان صدف کے اس موتی کی مانند ہے”
    جس کی کوشش محنت لگن مل کر اسکو مکمل انسان بناتی ہے اسی طرح…
    بارش کی ایک بوند جب سیپ پہ پڑتی ہے تو موتی بن کر ابھرتی ہے
    کہتے ہیں نا زندگی ہمیشہ سے حسین نہیں ہوتی
    مسلسل جدو جہد اسکو حسین تر بنا دیتی ہے .
    بے شک کوشش خواہش کا دوسرا نام ہے اس پر چل کر وہ جیسے کو تیسا
    نا ممکن کو ممکن بنا دیتا ہے..

    بلکل اسی طرح زندگانی ہے صدَف، قطرۂ نیساں ہے خودی
    وہ صدَف کیا کہ جو قطرے کو گُہر کر نہ سکے.

    اللہ تعالی نے فرمایا ۔۔
    "کہ میں ایک مخفی خزانہ تھا تو میں نے چاہا کہ پہچانا جاوں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا”

    پہچانے گا نہیں جب تک تو خود کو اے انسان..
    تب تک اُس سیبپ کی کوئی حیثیت نہیں جو اس قطرے کو موتی نہ بنا سکے

    قطرے سے موتی بننے تک کے اس خوبصورت سفر کو لگن، محنت اور جستجو کے ساتھ ساتھ اخلاق، محبت، پیار، ایثار ، شکر گزاری کے ساتھ گزارئیے تاکہ آنے والوں کے لئے مثل موتی چمکتے دمکتے رہیں

  • سترہ جون، چودہ خون ،کہاں ہے قانون؟ تحریر: فروا منیر

    سترہ جون، چودہ خون ،کہاں ہے قانون؟ تحریر: فروا منیر

    کسی معاشرے میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون کی بالادستی لازم و ملزوم ہے ۔ اگر معاشرہ عدل و انصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ مہذب معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    اگر اسلامی قوانین کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ اسلام میں عدل و انصاف کا بہت اہم مقام ہے اگر ہم پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمیں عدل و انصاف کی بالادستی واضح نظر آئے گی۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر فرمایا
    خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹ دیتا ۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان عدل و انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے
    اب بات کرتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جس کے الگ مقام کا مقصد اسلامی قوانین کا نفاذ اور اسلامی قوانین کی بالادستی ہے
    لیکن افسوس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف برائے فروخت ہے
    17 جون 2014 لاہور ماڈل ٹاؤن کے مقام پر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ پر پنجاب پولیس کی جانب سے تجاوزات کے نام پر معصوم اور نہتے لوگوں کے خلاف آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے

    اگر بات صرف تجاویزات کی تھی تو چودہ معصوم لوگوں کا بے گناہ قتل کرنے کا کیا مقصد؟؟
    اس سانحہ کو تقریبا سات سال گزر چکے ہیں مگر آج تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے ورثا انصاف حاصل کرنے میں نا کام ہیں۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ کوئی بھی ریاستی ادارہ اپنے ہی معصوم لوگوں پر دشمنوں کی طرح اندھا دھند گولیاں نہیں برساتا یقینا اس عمل کے لیے لیے حکومت کی طرف سے احکامات کا ملنا واضح ہے ۔ یاد رہے 2014 میں وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت تھی

    کیا شریف برادران نہتے لوگوں سے اتنے ڈرگئے تھے کہ خادم اعلی کو قاتل اعلی بننا پڑا ۔ وزیر قانون پنجاب کو قانون کی دھجیاں اڑانی پڑیں اور وزیراعظم نواز شریف کی زبان کو تالے لگ گئے ۔
    پنجاب پولیس کی جانب سے بزرگوں خواتین اور بچوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور ان کو زخمی بھی کیا گیا مجھے یاد ہے تنزیلہ امجد کی والدہ جو کہ حاملہ تھیں وہ بھی پنجاب پولیس کی جانب سے کیے گئے مظالم میں شہید ہوئیں تنزیلہ امجد نے اپنی شہید ماں کے لیے انصاف کے حصول کے لیے عدل مہیا کرنے والے اداروں کا دروازہ کھٹکایا صرف ایک بار نہیں بار بار کھٹکایا گیا مگر خاموشی۔
    افسوس ہے اس نظام پہ کہ جہاں غریب کے لیے سزا اور امیر کے لیے معافی
    ایک تو انصاف فوری مہیا حاصل نہیں ہوتا اگر حاصل ہو بھی جائے تو غریب کی جیب کے برداشت سے باہر کی بات ہے جہاں سابقہ وزیر اعظم کی بیٹی کی درخواست پر چھٹی والے دن عدالت لگ جاتی ہے اور وہاں دوسری طرف قوم کی بیٹی تنزیلہ انصاف کی راہ دیکھتی رہ جاتی ہے اگر مریم نواز قوم کی بیٹی ہے تو کیا تنزیلہ قوم کی بیٹی نہیں ؟؟
    کیا قوم کی بیٹی کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے والد کا وزیراعظم اور چچا کا وزیراعلیٰ ہونا ضروری ہے

    یہاں انصاف بکتا ہے یہاں فرمان بکتے ہیں
    زرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    اگر کوئی سچ میں حقیقی تبدیلی چاہتا ہے تو اس کےلیے ضروری ہےکہ نظام عدل کو بہتر بنایا جائے ،فوری اور سستا انصاف مہیا کیا جائے۔

  • سیاسی آقاء اور ہماری بھولی عوام . تحریر:محمد محسن

    سیاسی آقاء اور ہماری بھولی عوام . تحریر:محمد محسن

    ھم روز اپنے ارد گرد لوگوں کو مختلف سیاسی جماعتوں کے بارے میں بحث کرتے ھوئے دیکھتے ہیں۔ کوئی پاکستان مسلم لیگ ن کا حامی ھے تو کوئی پاکستان پیپلز پارٹی کا جیالا ۔ کسی کے سامنے عمران خان اس ملک کے حالات بدلنے کی آخری امید ہے۔ اور کوئی مزہبی حمایت رکھنے والا جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے بارے میں سافٹ کارنر رکھتا ہے۔ جمہوری سیاسی نظام کی یہی خوبصورتی ھوتی ھے کہ اس میں ہر بندے کو کھل کر اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔ مختلف لوگوں کی مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی میں کوئی برائی نہیں بلکہ یہی تو جمہوریت کا حسن ھوتا ھے کہ جتنی اپوزیشن مضبوط ھو گی اتنا ہی سیاسی نظام ا چھا چلے گا۔ لیکن بدقسمتی سے ھمارے جیسے ممالک میں نہ ہی تو اصل جمہوری نظام پایا جاتا ھے اور نہ ہی عوام اس لائق ھوتے ھیں کہ جمھوری نظام کو سمجھ سکیں اور اسکو اپنے معاشرے میں رائج کر سکیں۔ دوسری طرف ھماری عوام مختلف سیاسی جماعتوں کو لیکر اتنی جزباتی ھو جاتی ھے کہ بعض اوقات نوبت لڑائی جھگڑے تک آجاتی ہے۔ ھمارے ملک میں اس وقت تقریباً 22 کروڑ کی آبادی ھے جو الحمدللہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ خیر اس آبادی کا اس وقت زیادہ تر حصہ نوجوان لوگوں پر مشتمل ھے جو کہ اس ملک کی گلی کوچوں میں دھکے کھا رھا ھے۔ یہ عوام جتنے ویلے ہو گے اتنے ہی اک دوسرے کے ساتھ زرا زرا سی بات پر جھگڑتے رہیں گے۔ خیر بات ھو رھی تھی سیاسی جماعتوں سے وابستگی کی تو جب ملک کی زیادہ تر آبادی ویلی بیٹھی ھو گی تو سیاسی جماعتوں کے نام پر لڑنا جھگڑنا تو ان کے لیے معمولی چیز ھو گی۔ حالانکہ ان معصوم لوگوں کو یہ پتہ نہیں ھو گا کہ یہ جن کے لیے دن رات اک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے ہیں ان کو ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہو گا اور وہ اکثر اک دوسرے سے ملتے جلتے ھوں گے اور خوش گپیاں لگاتے ھوں گے۔ ویسے بھی جیسا ھمارا سیاسی نظام ھو گا عوام بھی ویسے ہی ھوں گے۔

    اگر آپ پاکستان کے سیاسی نظام کی تاریخ میں جائیں تو ایسے ھی لگتا ہے جیسے آپ کسی اکھاڑے کی کشتی کے بارے میں پڑھ رھے ھیں جو کہ کبھی کبھی تو بھت جلد پچھاڑے جاتے ہیں تو بعض اوقات دوسروں کو ٹف ٹائم دیتے ہیں۔ اور کبھی کبھار ریفری خود یونیفارم پہنے ہوئے میدان میں کود پڑتے ہیں اور اس سیاسی اکھاڑے کا خود بیڑا اٹھا لیتے ہیں۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد اس ملک کا سب سے بڑا نقصان یہ ھوا کہ ھمارے قائد اللہ کو پیارے ہو گئے۔ بعض اوقات تو دل و دماغ میں یہی بات اٹک کر رہ جاتی ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے انکو اک فریضہ سونپا ھوا تھا جنکو پورا کرتے ھی اسکو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس بلا لیا۔ پہلے پانچ سات سال میں کئی وزیراعظم تبدیل ھونے کے اسکندر مرزا نے ملکی تاریخ میں پہلی بار مارشل لاء لگا کر آرمی کو اس ملک کے سیاسی نظام میں داخل کر دیا۔ اسکندر مرزا نے ایوب خان کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنایا تو بعد میں ایوب خان نے اسکندر مرزا کو چلتا کیا۔ ایوب خان نے ملکی تاریخ کا پہلا آئین ختم کر کے پانچ سال بعد 1962 میں دوسرا آئین متعارف کروایا۔ خیر عروج کو آخر زوال تو آنا ھی ھوتا ھے۔ تقریباً 10 سال اقتدار کے مزے لینے کے بعد بجائے جمھوری نظام کی راہ ہموار کرنے کے ایوب خان نے آگے پھر اقتدار اک اور ملٹری ڈکٹیٹر کو ٹرانسفر کر دیا جسکے ساتھ ہی یحییٰ خان نے ملکی تاریخ میں دوسرا مارشل لاء نافذ کر دیا۔ یہ مارشل لاء سب سے سنگین ثابت ھوا کیونکہ اس کے دوران ملک دولخت ہوگیا۔ اس طرف بھٹو کی حکومت آگئی اور دوسری طرف مجیب الرحمٰن کی۔ بیچ میں یحییٰ خان جو کہ صدارتی سیٹ پر براجمان رہنا چاھتا تھا اس نے ملک کا بیڑا غرق کیا نہ اس طرف کا رھا نہ اس طرف کا۔ اس کے بعد پاکستان کی باغ دوڑ بھٹو کے ھاتھوں میں آگئی اور ملک اپنی ڈگر پر چلنے لگا لیکن آخر کب تک چلتا۔۔۔۔۔بھٹو کے خلاف بھی پاکستان نیشنل الائنس بنا اور اک بار پھر سے ملک میں وھی شروع والی حالت آگئی۔ آخر نتیجہ جو بھی نکلا وہ آپ کے سامنے ہے کہ اسی جمھوری نظام کی ہی وجہ سے ملک اک بار پھر مارشل لاء کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اس کے بعد ضیاء الحق نے 3 ماہ میں الیکشن کروانے کا وعدہ کر کے تقریباً 11 سال اس ملک کی صدارتی کرسی پر گزارے۔ بعد میں جمھوریت کا اک ایسا دور شروع ہوا کہ ملک دن بدن اکانومی اور ڈیولپمنٹ کے لحاظ سے پیچھے ہی گیا جسکی بنیادی وجہ طاقت کی بھوک تھی۔ اس کے بعد اک بار پھر ملٹری ڈکٹیٹر نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھال لی اور تمام جمھوری سیاسی پارٹیوں کو چلتا کیا وہ الگ بات بعد میں کچھ مخصوص سیاسی جماعتیں اس کے ساتھ مل گئی جیسا کہ پہلے ھوتا آیا ھے۔ خیر اکیسویں صدی جمھوریت کے لحاظ سے پاکستان کے لیے سود مند ثابت ھوئی۔ پچھلے تقریباً 12 سال سے ملک میں جمہوریت کی فضا قائم ھو گئی ھے۔ اس پوری پاکستانی سیاسی تاریخ میں اک بات سامنے واضع ھوتی ھے کہ ھمارا سیاسی نظام اک اکھاڑے کی مانند ہے جسکا یہاں زور چلتا ہے وہ خوب چلاتا ہے۔ جس نے بھی اپنے مفاد کے لیے دوسرے کی راہ ہموار کی وہ اسی کا شکار بنا۔ اسکندر مرزا ایوب خان کو لے کر آیا تو ایوب خاں نے اسے چلتا کیا۔ ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستانی سیاست میں متعارف کروایا تو بھٹو نے ایوب اعلیٰ عہدوں کے مزے لینے کے بعد ایوب خان کے سامنے پاکستان پیپلز پارٹی کھڑی کر دی اور اسکو چلتا کیا۔ اسی طرح یحییٰ خان، بھٹو اور مجیب الرحمٰن نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس ملک کو ہی دولخت کر دیا۔ اسی طرح بعد میں جنرل ضیاء الحق نے اپنی حکومت کی طاقت بڑھانے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ جیسی پارٹیوں کے لیے راہ ہموار کی تو اس کے جانے کے فوراً بعد انہوں نے ملٹری سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور آج تک کر رہی ہیں۔

    اس سارے سیاسی منظر نامے کو بیان کرنے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ یہ پہلی پاکستانی عوام نہیں جو اپنے اپنے سیاسی لیڈروں کی خاطر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ یقین جانو آپ سے پہلے بھی یہاں کئی نسلیں گزر چکی ہیں جن میں سیاسی انتہا پسندی آپ سے کہیں زیادہ تھی اور یقین جانو ان بے چاروں کو بھی یہاں کچھ حاصل نہ ہوا۔ ان سیاسی آقاؤں کے سامنے آپکی اوقات اک کیڑے مکوڑے کی سی ہے جسکو جب چاھے استعمال کیا جاتا ہے اور جب چاہے تو مسل کر رکھ دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ہر گفتگو کا شرف حاصل کرنے والے عزیر بلوچ کی ہی مثال لے لو کہ جب اک خاص جماعت کو اسکی ضرورت تھی تو اسکو کس کس چیز سے نوازا نہیں گیا۔ اس کو استعمال کر کے کتنے ھی جائز ناجائز لوگوں کو قتل کروایا گیا۔ یہاں تک کہ اسکی مزید ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اسکو امن کا انعام بھی دیا گیا تو دیکھ لو آج اسکا کیا حال ہے۔ وہ جو دن رات پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کرتا تھا آج اس سے کوئی ملاقات کرنے والا نہیں۔ وہ جسکا اک دن لیاری میں ڈنکا بجتا تھا آج اس کے گھر میں فاقے ہیں۔ لیکن جن سیاسی آقاؤں کے لیے اس نے اتنے خون کیے آج وہ اس کو پہچاننے سے بھی انکاری ہیں۔ دوسری طرف انہی سیاسی آقاؤں کی خاطر جیلیں کاٹنے کے لیے جاوید ہاشمی جیسے باغی ھوتے ہیں اور یہ خود مشکل وقت بھانپتے ہی فوراً ملک سے رفو چکر ہو جاتے ہیں لیکن جب اقتدار کی باری آتی ہے تو وزارتیں ان کے گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی۔ اب جتنی سیاسی محنتیں چودھری نثار خاں، جاوید ہاشمی، قمر الزماں کائرہ اور امین فہیم جیسے لوگوں نے کی کیا ان لوگوں کو ان کے مطابق نوازا گیا؟ کیا قمر الزماں کائرہ اور امین فہیم کا حق نہیں بنتا کہ انہیں وزیراعظم بنایا جاتا؟ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت اور چیرمین اعتزاز احسن سے زیادہ زہین ہے؟ کیا جاوید ہاشمی اور چودھری نثار خاں جتنے منجے ھوئے سیاستدان اس شریف خاندان میں ہیں؟ لیکن جب بھی یہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں تو وزیراعظم نواز شریف ھی بنا۔ وزیراعلی کی کرسی شہباز شریف ہی کے حصے میں آئی۔ ادھر بھی وزیراعظم اور صدارت کی کرسی بھٹو، اور زرداری خاندان میں رہتی ہے اور اگر کسی اور بنایا جاتا ہے تو وہ کٹھ پُتلی ہی ھوتا ھے بیچارہ۔ آئندہ بھی بلاول بھٹو، مریم نواز، حمزہ شہباز، سلمان شھباز اور یہاں تک کہ جنید صفدر ان سیاسی پارٹیوں کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اور قربان جائیں اس عام اور بھولی بھالی عوام کی معصومیت پر کہ انہوں نے ابھی سے ہی بلاول، مریم اور جنید وغیرہ کو اپنا لیڈر مان لیا ہے۔ خدارا ان سیاسی آقاؤں کی خاطر اپنے پیاروں سے لڑائی جھگڑے میں مت پڑیں انکو پتا بھی نہیں کہ آپ کون ہیں۔ آپ کے ھونے نہ ھونے سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپنے پیاروں سے پیار کریں انکی اصلاح کریں اور مل جل کر ہنسی خوشی سے رہیں۔ جہاں قمر الزماں کائرہ، اعتزاز احسن، نثار خاں، اور جاوید ہاشمی جیسے لوگوں کی کوئی وقت نہیں وہاں آپ اور میں کیا چیز ۔۔۔ ؟؟؟

  • 3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا      سیکرٹری ٹورازم

    3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا سیکرٹری ٹورازم

    سیکرٹری ٹورازم کا کہنا ہے کہ 3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق سیکرٹری ٹورازم کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر بحالی کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے

    سیکرٹری ٹورازم کیپٹن مشتاق احمد کا فورٹ منرو کا اچانک دورہ، ریزارٹ پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیاغفلت پر ٹورازم آفیسرمعطل، ریجنل جنرل منیجر ملتان و دیگر کیخلاف انکوائری کا حکم دے دیا-

    سیکرٹری ٹورازم نے کہا کہ فورٹ منرو پر سیاحوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیئے، ریزارٹ کی گزرگاہوں اور ٹریکس کی بھی مرمت کی جائے-

    انہوں نے کہا کہ نوتعمیرشدہ ریزراٹ میں استقبالیہ، لابی اور بالکونی کا اضافہ کیا گیا بالکونی سے فورٹ منرو کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوا جا سکے گا-

    کیپٹن مشتاق احمد سیکرٹری نے دربار سخی سرور پر جاری ترقیاتی منصوبے کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے سکیم بروقت مکمل کی جائے-

  • نئے خلائی اسٹیشن کی تعمیر،چین نے اپنا خلائی مشن روانہ کردیا

    نئے خلائی اسٹیشن کی تعمیر،چین نے اپنا خلائی مشن روانہ کردیا

    بیجنگ: نئے خلائی اسٹیشن کی تعمیر ، چین نے اپنا خلائی مشن روانہ کردیا-

    باغی ٹی وی : https://www.xinhuanet.com/english/2021-06/17/c_1310012945.htm#:~:text=JIUQUAN%2C June 17 (Xinhua),for a three-month mission. خلائی مشن صحرائے گوبی سے 3 خلا نوردوں کو لیے کرروانہ ہوا ،چینی خلانورد تین ماہ میں اپنا مشن مکمل کریں گے-

    اس سے قبل چائنہ انسان بردار خلائی ایجنسی(سی ایم ایس اے) کے ڈائریکٹر اسسٹنٹ جی چھی مِنگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چین کے خلائی اسٹیشن کی تعمیر کے دوران پہلا انسان بردار مشن روانہ ہوگا جو مدار میں تین ماہ کیلئے قیام کرے گا۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ چینی خلاباز نے ہائی شینگ اس مشن کی قیادت کریں گے جبکہ لیو بومِنگ اور ٹانگ ہونگ بوشین ژو-12 کے اس مشن میں شامل ہوں گے، ان تینوں خلابازوں میں ہائی شینگ سب سے زیادہ تجربہ کار ہیں جوکہ 2005 میں شین ژو-6 اور 2013 میں شین ژو-10مشن کا حصہ تھے۔

    چین مریخ پر کامیابی سے خلائی جہاز لینڈ کرنے والا امریکہ کے بعد دوسرا ملک بن گیا

    جبکہ لیو بومِنگ کی کی خلا میں یہ دوسری پروازہوگی، اس سے قبل انہوں نے 2008 میں شین ژو-7مشن میں حصہ لیاتھا جس کی خصوصیت خلا میں نمایاں چہل قدمی تھی۔

    مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر ’انجینیٹی‘ کی تیسری کامیاب پرواز

    تاہم ٹانگ ہونگ پہلی مر تبہ خلا میں جا ئیں گے،وہ 2010 میں چینی خلا بازوں کے دوسرے دستے کے رکن بنے تھے جبکہ ژائی ژی گانگ،وانگ یاپھِنگ اور یے گوانگ فو متبادل عملہ ہوں گے۔

    واضح رہے کہ خلا میں اس وقت ‘انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن’ قائم ہے جس میں چین کا کوئی حصہ نہیں ہے، یہ اسٹیشن امریکا، جاپان، کینیڈا، روس، اور یورپ کی خلائی ایجنسیوں نے مل کر تیار کیا ہے۔ ممکنہ طور پر چین کا نیا خلائی اسٹیشن خلا میں انٹرنیشنل اسٹیشن کی اجارہ داری ختم کرسکتا ہے۔

    چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

  • شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ، تحریر:ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ، تحریر:ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ،
    اِس پہ ہر شہر جو لُوٹا بیٹھا ہوں

    پنجاب کی سرزمین برصغیر کی تاریخ کا جھومرہے، اور اس جھومر کی پیشانی ہے "شہرِ لاہورہے” پاکستان میں لاہور شہر ایک تاریخی،تجارتی ، صوبائی سیاسی، ثقافتی، تعلیمی اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔

    لاہور صرف ایک شہر نہیں ہے لاہور ایک کیف ہے، جو طاری ہو جائے تو ہو جائے۔ مغربی جانب بہنے والے دریائے راوی نے اس کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔اس شہر کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے اور ساتھ ہی میں لاہور اپنے باغات اور قدرتی حسن کے باعث اسے عروس البلاد کہا جاتا رہا ہے

    لاکھوں ہیں شہر لیکن کب اور تیرے جیسا
    ڈھونڈے نہ ملا ہم کو لاہور تیرے جیسا

    شہرِ لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور ساتھ ہی میں لاہور دنیا کا پندرہواں بڑا شہر ہے، لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ اس میں 460 تاریخی عمارتیں ہیں ،اس تاریخی شہر کے بارہ دروازے ہیں ، ایک چھوٹا دروازہ بھی ہے جیسے موری دروازہ کہا جاتا ہے

    شہر لاہور دنیا کے ان گنے چنے خوش نصیب شہروں میں سے ہے جو اپنی تاسیس کے بعد مسلسل آباد چلے آرہے ہیں اس شہر لاہور میں ایک محلہ مولیاں ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ یہاں
    کبھی مہاتما بدھ آکر ٹھہرے تھے۔شہرِلاہور کا قدیم نام "لوپور” ہے اور لاہور دو الفاظوں کا مرکب ہے "لوہ "یا "لاہ "جس کا مطلب "لَو” اور "آور” جس کا مطلب "قلعہ” ہے، اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر "لوہ آور” لفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا

    روایت کے مطابق راجہ رام کے بیٹے راجہ لوہ نے شہر لاہور کی بنیاد رکھی اور یہاں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا۔ پھر اس کے بعد دسویں صدی عیسوی تک یہ شہر ہندو راجائوں کے زیرنگیں رہا۔ گیارہویں صدی میں یہ علاقہ اسلام کی روشنی سے منور ہوا جب سلطان محمود غزنوی نے پنجاب فتح کرکے ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا۔

    لاہور کو بیس سال تک مغل دارالحکومت رہنے کا بھی شرف حاصل ہوا ، لیکن اگر یہ مغلیہ سلطنت کا دارالحکومت نہ بھی بنتا تو اس کی اہمیت و فضیلت میں کوئی کمی نہ ہوتی ۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نور جہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا”لاہور رابجان برابر خریدہ ایمجاں دارایم و جنت دیگر خریدہ ایم”

    سترھویں صدی میں لاہور کی شہرت یورپ تک جا پہنچی تھی اور اس کے ڈنکے سات سمندر پار بھی بجنے لگے تھے

    حسن کی بزم میں اگر ذکر لاہور کا نہ آئے
    توہینِ حُسن ہو جاۓ توہینِ بزم ہو جاۓ

    لاہور شہر کی فضاکا اپنا ایک طلسم ایک جادوہے اور علامہ اقبال، پطرس بخاری، فیض احمد فیض ، اشفاق احمد، احمد ندیم قاسمی اور انتظار حسین جیسے دانشور بھی اس کے طلسم سے محفوظ نہ رہ سکے۔

    طلسمِ ہوش رُبا جیسا شہر ہے لاہور
    جو اِس دیار میں جائے لاپتہ ھو جائے

    لاہور پاکستان کا پہلا شہر ہے جس کو یونیسکو کیجانب سے "شہر ادب”کا خطاب ملا ہے
    شہر لاہور کو ایک دن شہر ادب کا خطاب ملنا ہی تھا۔ آج نہیں تو کل پاکستان نے یہ دن دیکھنا ہی تھا کہ، شہرِلاہورصدیوں سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے،شہر لاہور دنیا بھر میں امن کی شناخت ہے، محبت کی پہچان ہے۔ یعنی ادب، عشق ادب، آداب ادب اور اب "شہر ادب ”

    شہر لاہور عاشقوں کا شہر ہے، بھلے وہ عاشق مجازی ہوں یا حقیقی اور عشق ایسی نامراد شے ہے کہ اس کا نفرت سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہو سکتا ہے۔ عشق میں صرف عشق ہی جائز رہ جاتا ہے شہر لاہور کی بھی یہی تاثیر ہے، جو آنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، عاشق بنا دیتی ہے۔

    اس شہر کی ہواؤں میں اِک اپناںٔیت سی ہے
    اس کی گلیوں،کوچوں میں اِک عجب چاہت سی ہے

    گزرے لمحوں کی حسین یادوں کا یہاں ٹھکانہ ہے
    جو اِک بار لاہور آ جائے پھر اُس نے واپس کہاں جانا ہے

    تاریخ گواہ ہے صدیوں سے لاہور بہت سی حکومتوں کا دارالخلافہ رہا اور جو شہر دارالحکومت رہا ہو، وہاں ملازمت کی غرض سے لوگ نہیں آتے بلکہ وہ ثقافتیں آتی ہیں بلکہ بلائی جاتیں ہیں۔نوکری تو ایک بہانہ ہوتا ہے، فطرت اس شہر پہ مہربان ہوتی ہے اور اس شہر کو رنگوں سے بھر دیتی ہے۔

    شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد
    تیری گلیوں کی ہَوا کھینچ کے لائی مجھ کو

    شہر لاہور کے خوبصورت باغات کا حُسن آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے تو کبھی اسکی پُرتعیش عمارات دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ لاہور میں کھانے پینے کی اشیا میں ذائقے کا دُنیا بھر میں کوئی نعم البدل نہیں ہے شہر لاہور کی رونقیں دیکھ کر دل باغ باغ ہوتا ہے لاہور شہر میں بسنے والے باشندے زندہ دِل،کھلے ذہن ہر قسم کے تعصبات سے پاک دوسروں کو آگے کرنے،درد مشترک قدر مشترک تہذیبی، ثقافتی، معاشرتی، اخلاقی اقدار کے دلدارہ ہیں۔

    خدمت خلق اور ہمارا کردار تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ان فضاؤں سے ہے مجھے نسبت خاص
    شہر لاہور پہ سب شہر لٹا بیٹھا

    لاہور بقا کی ایک مثال ہے۔ لاہور کا حال اس کے ماضی کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کے مستقبل نے ابھی شکل اختیار کرنی ہے۔ لاہور ہمیشہ لاہور رہے گا، اسے کچھ اور بننے کی خواہش نہیں ہے

    کہ اِس سے منسلک ہونا بھی اک سعادت ہے
    لاہور شہر نہیں ہے، لاہور عادت ہے

    ‏ہماری پہچان اخلاق حسنہ . تحریر، ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

  • مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ .تحریر: نوید شیخ

    مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ .تحریر: نوید شیخ

    ابھی ایک دن گزارا نہیں تھا کہ مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ کر دیا گیا ہے ۔ G7 بارے تو میں آپکو گزشتہ ویڈیو میں بتا چکا ہوں ۔ اب نیٹو کے سربراہ اجلاس کے دوران بھی چین کو مستقل سکیورٹی چیلنج قراردیا گیا ہے ۔ اب نیٹو نے پہلی بار چین کے فوجی مقاصد کے بھرپور مقابلے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔

    ۔ اس وقت لگ ایسا رہا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف میڈیا وار تو آغاز کر دیا ہے کیونکہ جیسے وہ ہر فورم پر اپنے ہم خیال ممالک کے ساتھ چین کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے ۔ جیسے ہر فورم پر امریکہ یہ نہیں بھولتا کہ وباء ، انسانی حقوق ، سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تائیوان کا ذکر لازمی ہو ۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے ۔ تو میرے حساب سے اس وقت چین کو میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر ایک جارحیت کا سامنا ہے ۔ اب وہ اس کو counter کیسے کرتا ہے یہ دیکھنا ہے ۔ کیونکہ یاد رکھیں مغربی ذرائع ابلاغ اس وقت بڑے طریقے سے ایک مقصد کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اور چین کو ایک نیا دشمن ایک نیا خطرہ بنا کر دنیا کو پیش کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی عوامی رائے کو اس حوالے سے mouldکیا جاسکے ۔ ایسا ہی یہ ممالک سب سے پہلے روس کے ساتھ پھر افغانستان ، لیبیا ، شام اور عراق کے معاملے میں کرچکے ہیں ۔

    ۔ امریکی صدر جو بائیڈن کا یہ کہنا بھی بڑا معنی خیز ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی دوبارہ متحرک ہوچکے ہیں۔ جمہوریتیں اور آمریتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔۔ جمہوریت اور آمریت والا تو ایک منجن ہی ہے حقیقت میں یہ ممالک کسی بھی اور ملک کو اتنا مضبوط اور مستحکم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے کہ وہ ان کے اثر و رسوخ سے باہر نکل جائے۔ چین اور روس اس وقت بالعموم دنیا کے تمام ملکوں اور بالخصوص جنوبی ایشیا کے ممالک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنارہے ہیں جس سے ان کے بین الاقوامی اثر و رسوخ میں اضافہ ہورہا ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو چین اور روس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ کسی بھی طور قبول نہیں۔

    ۔ اس تمام صورتحال میں دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے بھی مسائل میں اضافے روز بروز بڑھتے دیکھائی دے رہے ہیں کیونکہ جس طرح چین کو لے کر دنیا میں polarizationبڑھتی جارہی ہے ۔ اور جو پاکستان کے چین اور روس کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہورہے ہیں۔ اگر امریکا اور اس کے اتحادی چین اور روس کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہیں تو پاکستان بھی ان کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ کیونکہ ہم چین کے اہم اتحادی ہیں تو اس حوالے سے پاکستان پر پریشر کے ساتھ ساتھ سازشوں میں بھی اضافے کا اندیشہ ہے ۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ۔ کیونکہ سی پیک one belt one roadمنصوبے کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ جس تیزی سے گزشتہ کئی ماہ سے امریکی اور مغربی ممالک کے highest dignitaries پاکستان کے دورے کرر ہے ہیں اس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ چین بھی یقینی طور پر زیر بحث آیا ہوگا۔

    ۔ دیکھا جائے تو معاشی اور دفاعی دونوں جانب سے پاکستان پھنسا ہوا ہے ۔ ایک جانب بھارتی جارحیت تو دوسری جانب افغانستان کی روز بروز بگڑتی صورتحال ہمارے سامنے پھن پھیلائے کھڑی ہے ۔ سونے ہر سہاگہ معاشی مبجوریوں کی وجہ سے ہم آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک ، یورپی یونین اور امریکہ کے محتاج بھی ہیں ۔ آئی ایم ایف کی قسط نہ ملی تو ملک نے چلنا نہیں اور یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ ہماری تجارت رکی تو تب بھی ہم کو بڑا دھچکہ لگ سکتا ہے تو آنے والے دنوں میں خوفناک منظر دیکھائی دے رہا ہے ۔ پاکستان کو ایک بار پھر سخت فیصلے کرنے پڑیں گے ۔ اس میں بھی کوئی بحث نہیں ہے کہ چین ہمارا ہمسایہ اور دوست ملک ہے اور ہمارے سرد و گرم کاساتھی بھی ہے ۔ ہر عالمی فورم اور معاملے میں چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ۔ پاکستان کی جغرافیائی صورت حال کو دیکھا جائے تو بھارت جیسے مکار دشمن کے ہوتے ہوئے چین کی ہمسائیگی نعمت سے کم نہیں۔ چین جب تنہا تھا تو اس وقت پاکستان نے اس کا کھل کے ساتھ دیا تھا ۔

    ۔ ساتھ ہی سی پیک ایسا منصوبہ ہے جس پر تقریباً قومی اتفاق رائے ہے اس کے لئے چین نے جو پیکج دیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اور یہ آج کا نہیں بلکہ گزشتہ کئی حکومتوں کے دور میں تسلسل سے چلتا آرہا ہے ۔ اب آنے والے دنوں میں خصوصی طور پر امریکہ کی جانب سے پریشر بڑھتا دیکھائی دے رہا ہے کہ with us or against us
    تو پاکستان کے لیے صورتحال کافی tricky ہوچکی ہے ۔ یقینی طور پر پاکستان اس وقت کسی کی بھی مخالفت مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اگر تفصیل میں جائیں تو چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے نیٹو رہنماؤں کا کہنا تھا کہ چین اپنی جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے خفیہ طور پر کام کر رہا ہے اور روس کے ساتھ عسکری تعاون کر رہا ہے۔ بیجنگ کے تیزی کے ساتھ جوہری میزائل بنانے پر بھی تشویش کا اظہار کیاگیا ۔ ۔ نیٹو کے سربراہ jens stoltenbergجینس سٹولٹنبرگ نے توتنیہہ کی ہے کہ چین نیٹو کی عسکری اور تیکنیکی صلاحیتوں کے ’قریب‘ پہنچ رہا ہے۔ ۔ جبکہ امریکی صدر جوبائیڈن نے نیٹو اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چین اور روس کی جانب سے لاحق نئے چیلنجوں کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ روس اور چین ہماری توقعات کے مطابق نہیں چل رہے ۔ جوبائیڈن نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چین کو کورونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کو بھرپور رسائی دینی چاہیے۔ کیونکہ شفافیت کے بغیر ایک اور وبا پھیل سکتی ہے۔

    ۔ جرمن چانسلر anglina merkhal نے چین کو حریف قرار دے دیا۔ تو فرانسیسی صدر mackron کا کہنا تھا کہ نیٹو فوجی اتحاد ہے، جبکہ چین سے تعلقات صرف فوجی نہیں۔ دوسری جانب چین نے نیٹو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ چین کی امن ترقی پر بہتان لگا رہے ہیں۔ اور زور دیا کہ چین کسی کے لیے چیلنج نہیں پیش کرے گا لیکن اگر کوئی چیلنج ہمارے قریب آیا تو ہم ہاتھ باندھ کر بیٹھے بھی نہیں رہیں گے۔ درحقیقت چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے امریکہ کی وقت کے ساتھ ساتھ پریشانی بڑھتی جا رہی ہے اور نیٹو کو خدشہ ہے کہ چین یورپی ممالک کی سکیورٹی اور ان کے جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ نیٹو چین کے افریقہ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے بھی پریشان ہے۔ اصل میں چاہے یہ نیٹو ہو یا جی سیون ممالک یا
    quadگروپ ان سب کے پیچھے تو امریکہ ہی ہے ۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ جی سیون کی طرح نیٹو 30 یورپی اور شمالی امریکی ممالک کا ایک انتہائی اہم اور طاقتور سیاسی اور عسکری اتحاد ہے جو امریکی عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے۔ اب سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا نیٹو کا ایجنڈا 2030 روس اور چین کو سامنے رکھ کر بنایا جا رہا ہے؟

    ۔ اس حوالے سے نیٹو سیکٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روس کے اپنے پڑوسیوں یوکرین اور جارجیا سے تعلقات ٹھیک نہیں، وہ سائبر اور ہائبرڈ حملے کر رہا ہے، یہ وہ چیز ہے جس نے ہمارے اور روس کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے، ہم اسے دیکھ رہے اور اس کے ساتھ ہی اپنے آپ کو تبدیل بھی کر رہے ہیں۔ ہم علاقے میں اپنی فوجی موجودگی اور اپنے دفاعی اخراجات میں
    2014 سے مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، یہ ہمارے 2030initiative کا اہم حصہ ہے۔۔ دوسری جانب چین کے بارے میں نیٹو سیکٹری جنرل نے کہا کہ وہ ہمارے دروازے پر آچکا ہے، ہم اسے سائبر اسپیس، افریقا اور سرد علاقوں میں دیکھ سکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی وہ ہمارے انفرااسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین نئے نیوکلیئر اور جدید ہتھیار بنارہا ہے، اس کا بھی رویہ جنوبی چین سمندر میں زبردستی والا ہے۔ اس نے ہانگ کانگ میں جمہوری process پر کریک ڈاؤن کیا ہے اور اس کا رویہ اپنی اقلیتوں کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں، وہ نئی artifical intelligence کا استعمال کرتے ہوئے انہیں دبا رہا ہے۔

    دراصل امریکا سمیت چند ملکوں کے مذموم مقاصد بے نقاب ہو چکے ہیں۔ حالانکہ عالمی وبا کے باعث دنیا کو جس معاشی بحران کا سامنا ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے تمام ملکوں کو اتحاد اور تعاون کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی مگر اس کے بجائے امریکہ اپنی سیاست کے ذریعے دنیا کو تقسیم کر رہا ہے ۔ اس مصنوعی محاذ آرائی اور کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے عالمی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے تھی ۔ مگر ایسا نہ ہورہا ہے نہ ہونے کی امید ہے ۔