Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‎صنعتی میدان اور یونیورسٹی تعلیم میں باہمی تعاون بہت ضروری ،ڈاکٹر عتیق الرحمان

    ‎صنعتی میدان اور یونیورسٹی تعلیم میں باہمی تعاون بہت ضروری ،ڈاکٹر عتیق الرحمان

    ‎پاکستانی معاشرے کے لیے اہم وہ یونیورسٹیاں ہیں جو ملک کو دانشورانہ سرمایہ فراہم کر سکتی ہیں ، نیز اعلی تعلیم کو قومی ترجیحات کے ساتھ زیادہ قریب سے جوڑنے ، اساتذہ کے علم کو بڑھانے ، اداروں کے درمیان صحت مند موابلے کو فروغ دینے اور علم سے جڑی معیشت کی راہ ہموار کرنے میں مدد کر سکتی ہیں ۔ صنعت کاری کو فروغ دینے ، تکنیکی پارکس بنانے اور یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے حکومت کی پہل اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد کرے گی ۔ پیداوار میں اضافہ ، مسابقت اور معاشی ترقی معاشرے اور کاروبار کے تمام شعبوں میں ہنر مند مزدوروں کو تخلیقی صلاحیتوں اور توانائی کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد میں دو روزہ ٹیلنٹ ہنٹ گالا کے دوران ، ملک کی بڑی کاروباری کمپنیوں کے طلباء اور عہدیداروں کی شاندار بات چیت دیکھی گئی ۔ ملک کی تقریبا 80 معروف ترین کاروباری کمپنیوں نے نئی صلاحیتوں کو راغب کرنے اور اپنے اداروں کی تشہیر کے لیے اپنے بوتھ لگائے ۔ اوپن ہاؤس میں کارپوریٹ سیکٹر کی اتنی بڑی تعداد کی شرکت ادارے میں دی جانے والی تعلیم پر ان کے اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے ۔

    فاؤنڈیشن یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباۂ کی مارکیٹ میں روزگار کی شرح بہت بہتر ہے ۔ 2024 کی بی بی اے کلاس کے آن لائن بزنس مالک اجواد عرفان نے اس رپورٹر کو بتایا کہ ان کے تقریبا 11 ساتھی کل وقتی کام کر رہے ہیں اور 5 یا 6 اپنے کاروبار چلا رہے ہیں ۔ 2022 کے کمیونیکیشن سائنس گریجویٹ ، سید انیس ، جنہوں نے خود اپنی رائے شیئر کرتے ہوئے ایک ویگر اور انفلوئنسر کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے ، نے نوٹ کیا کہ ان کی کلاس کا 70% مناسب ملازمت حاصل کر سکے لیکن اس شعبے میں نہیں جس میں وہ تعلیم یافتہ تھے بلکہ دوسرے شعبوں میں۔ یونیورسٹی کے دیگر گریجویٹس نے بھی اسی طرح کے تبصرے کئے ۔ اس لیے اگر کوئی معاشی ترقی اور سماجی بہبود کو فروغ دینا چاہتا ہے تو تعلیم ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، مہارت اور پیداواری محنت میں سرمایہ کاری کرنا بہت ضروری ہے ۔ معاشی ترقی کئی عوامل سے نمایاں طور پر متاثر ہوتی ہے جن میں حکومتی پالیسی ، بیرون ملک تجارت ، سرمایہ کاری اور تکنیکی پیش رفت شامل ہیں ۔ حالیہ گریجویٹس تب ہی کام کر سکیں گے اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں گے جب ہائر ایجوکیشن کمیشن ، کالج اور وزارت صنعت تعاون کریں گے ۔ منافع پر مبنی کاروباروں کا اثر تحقیق میں یونیورسٹیوں کے روایتی کام پر سوال اٹھا رہا ہے ، اس لیے تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت ہے ۔ چونکہ یونیورسٹیوں نے انڈرگریجویٹ تعلیم سے آگے اپنی ذمہ داریاں بڑھا دی ہیں ، اس لیے طلباء کو روزگار کے بازار کے لیے بہتر طور پر لیس کرنے کے لیے یونیورسٹیوں اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہو گیا ہے ۔ اقتصادی تعاون اور معیار زندگی میں اضافہ کرکے ، یونیورسٹیوں کو اعلی تعلیم کے بدلتے ہوئے نمونے میں متعلقہ رہنا ہوگا ؛ یہ یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان تعاون کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے ۔ سمجھدار پالیسیاں جامع اور طویل مدتی ترقی کے لیے مواقع پیدا کر سکتی ہیں اگر وہ لوگوں کو مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تربیت دیں ، اس لیے کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ 30 سال سے کم عمر کا ہے ۔ پاکستانی صنعت انتہائی مسابقتی نہیں ہے ، اور کئی مطالعات نے اس کی بنیادی وجہ پرتیبھا کی عدم مطابقت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کی اکثریت اس سطح سے مطمئن نہیں ہے جس پر حالیہ کالج گریجویٹس کی مہارت کے سیٹ موجودہ ملازمت کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ۔

    عالمی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنیاں قابلیت سے زیادہ صلاحیتوں کو ترجیح دیتی ہیں ۔ ان حالات میں ، ایک یونیورسٹی کے لیے شاندار صلاحیتوں کے ساتھ گریجویٹس تیار کرنا قابل ستائش ہے ۔ اس مسئلے کو تین اہم شعبوں کو حل کر کے حل کیا جا سکتا ہے ۔ گریجویٹس کے درمیان مہارت کے فرق کو دور کرنے کے لیے پہلے انٹرن شپ پروگراموں کو نافذ کرنا ، مارکیٹ پر مبنی کورسز بنانا اور کبھی کبھار اپ ڈیٹ کرنا ، اور صنعتی کلسٹرز کے لیے مہارت میں بہتری کے تربیتی منصوبے قائم کرنا ضروری ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پیشہ ورانہ مہارتیں وہ شعبہ ہے جس میں لوگوں میں اپنی مہارتوں کی سب سے زیادہ کمی ہوتی ہے ۔ یونیورسٹی کے طلباء کو کئی شعبوں میں انٹرن شپ تک رسائی حاصل ہونی چاہیے اور اس خلا کو پر کرنے میں ان کی مدد کے لیے مقامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں ہنر مندی پیدا کرنے کے لیے مختصر سیمینار چلائے جانے چاہئیں ۔ ممکنہ کمپنیوں کا فی الحال کورسز کے ارتقاء پر کوئی اثر نہیں ہے ۔ اس کے مقابلے میں ، معاشیات ، کاروبار اور کامرس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء موجودہ دستیاب کورسز سے کم مطمئن ہیں ۔ پاکستان کا ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) وہاں کی یونیورسٹیوں کو سال میں ایک بار ہنر مندی کی ترقی ، بازار کی ضروریات کے ساتھ نصاب کی صف بندی ، اور جدت طرازی پر رپورٹ کرنے کا حکم دے سکتا ہے ۔ ایچ ای سی اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ یونیورسٹیاں صنعت کے ساتھ کافی بات چیت کریں اور ضرورت کے مطابق اپنے پروگراموں میں ترمیم کریں ۔ دوسرا ، اگر یونیورسٹیوں کا مقصد روزگار کے فرق کو کم کرنا ہے ، تو تعلیمی تربیت کو مہارت کی تشخیص پر بنایا جانا چاہیے ۔ اس مقصد تک پہنچنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ مہارت پر مبنی تعلیم پر بہت زیادہ وزن کا اندازہ لگانا ۔ موجودہ درجہ بندی کا نظام تخلیقی اور مہارت پر مبنی سیکھنے کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔ عملی مثالوں کے ذریعے اپنے علم کو ظاہر کرنے والے طلباء کے بجائے حفظ اور بازگشت پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے ۔ اس لیے وہ کام کے کافی تجربے اور قابل فروخت صلاحیتوں کی کمی کے باعث گریجویٹ ہوتے ہیں ۔ طلباء کی تحقیق اور حتمی منصوبوں میں حاصل کردہ چیزوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت کو زیادہ درست طریقے سے ظاہر کرنے کے لیے درجہ بندی اور تشخیصی نظام کو بتدریج تبدیل کرنے سے روزگار کے فرق کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔

    یونیورسٹیوں کو طلباء کی خدمت کے مراکز اور معیار میں بہتری کے خلیوں کے بارے میں اپنے خیالات کا تعین کرنے کے لیے طلباء کو باقاعدگی سے رائے شماری کرنی چاہیے اگر وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ طلباء یونیورسٹی کے نصاب کے ذریعے پیش کردہ ہنر مندی کے فروغ کے امکانات سے کتنے خوش ہیں ۔ تیسرا مسئلہ صنعت کے سلسلے میں تمام مہارتوں پر طلباء کی اوسط حد سے زیادہ زور دینے کے نتیجے میں منفی ادراک کا فرق ہے ۔ نوجوانوں کی ملازمت کی اہلیت ، پیداواری صلاحیت اور مہارت کی ترقی کو بہتر بنانے کے لیے تمام فریقوں کو مل کر مؤثر طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ پالیسی سازوں ، اسکالرز اور کاروباری اداروں سب کو رابطے کی کھلی لائن برقرار رکھنی چاہیے اور جان بوجھ کر تعاون کرنا چاہیے ۔ مطالعے کی تمام سطحوں پر طلباء کو کمپنیوں کی طرف سے قابل قدر مختلف قسم کی صلاحیتوں کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ، کیریئر کے مشورے کو یونیورسٹی کے کورسز میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ طلباء کے باقاعدہ پروگراموں بشمول کانفرنسوں ، سیمینارز ، ورکشاپس ، واقفیت ، اور مطالعاتی دوروں سے طلباء کو اپنے شعبے کے پیشہ ور افراد کے ساتھ نیٹ ورک کرنے کے مواقع فراہم ہونے چاہئیں ۔

  • نوجوانوں کو تمباکونوشی سے کیسے بچائیں؟

    نوجوانوں کو تمباکونوشی سے کیسے بچائیں؟

    نوجوانوں کو تمباکونوشی سے کیسے بچائیں؟
    تحریر: ریاض جاذب
    تمباکو نوشی پاکستان میں صحت عامہ کا ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے، خصوصاً نوجوانوں میں اس کی بڑھتی ہوئی شرح تشویشناک ہے۔ باوجود اس کے کہ تمباکو کے نقصانات سے متعلق آگاہی بھی عام ہے، مگر نوجوانوں میں اس کے استعمال میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 17.2 فیصد آبادی تمباکو نوشی کی عادی ہے، جن میں مردوں کی شرح 28.4 فیصد اور خواتین کی چھ فیصد ہے۔ 25 سے 44 سال کی عمر کے افراد اس کا سب سے زیادہ شکار ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اب کم عمر بچوں اور نوعمروں میں بھی تمباکو نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

    نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے پھیلاؤ کی متعدد وجوہات ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں دوستوں کا دباؤ، بڑوں کا بچوں کے سامنے تمباکو نوشی کرنا، تمباکو کی آسان دستیابی، سستی قیمت، اور تمباکو کمپنیوں کی پر کشش مارکیٹنگ شامل ہیں۔ اکثر نوجوان تمباکو نوشی کا آغاز محض وقتی تفریح کے طور پر کرتے ہیں، لیکن جلد ہی یہ ایک عادت بن جاتی ہے۔

    پاکستان میں تمباکو مصنوعات کی قانونی پابندیوں کے باوجود سکولوں، کالجوں اور عوامی مقامات کے آس پاس تمباکو کی فروخت عام ہے، جو نوجوانوں کو تمباکو کی طرف راغب کرتی ہے۔ قوانین تو موجود ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد کا فقدان اس سنگین مسئلے کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔

    تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے پاکستان کو ان ممالک سے سیکھنے کی ضرورت ہے جو اس میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ مثلاً نیوزی لینڈ نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے 2008 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نئی نسل کو تمباکو سے مکمل طور پر محفوظ رکھنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمباکو مصنوعات میں نکوٹین کی مقدار میں کمی، انہیں کم پرکشش بنانے، اور ملک بھر میں ریٹیل دکانوں کی تعداد 6,000 سے گھٹا کر 600 تک محدود کرنا بھی شامل ہے۔

    نوجوانوں کو ٹارگٹ بنزکر کی جانے والی تشہیر ان کی ذہنی ساخت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے، لہٰذا ایسی سرگرمیوں کو روکنا ناگزیر ہے۔

    تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں تعلیم اور آگاہی سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں تمباکو نوشی کے نقصانات سے متعلق معلومات کو شامل کرنا اور تمباکو سے متاثرہ افراد کی کہانیوں کو سچائی کے ساتھ پیش کرنا نوجوانوں پر دیرپا اثر ڈال سکتا ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، اور دیگر جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے آگاہی مہمات چلائی جا سکتی ہیں تاکہ نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے خطرات سے روشناس کرایا جا سکے۔

    سکولوں، یونیورسٹیوں، دفاتر، تفریحی مقامات اور کھیل کے میدانوں میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی ہونی چاہیے، اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ عوامی مقامات کو تمباکو سے پاک قرار دے کر ایک مثال قائم کی جا سکتی ہے۔

    پاکستان میں تمباکو چھوڑنے کے لیے مؤثر سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ ہر تمباکو نوش، کسی نہ کسی موقع پر یہ عادت چھوڑنے کا خواہش مند ہوتا ہے، لیکن اسے عملی مدد میسر نہیں آتی۔ لہٰذا، تمباکو نوشی ترک کرنے کے مراکز، مشاورت، نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی (NRT) جیسے علاج اور آن لائن رہنمائی پروگرام قائم کیے جانے چاہییں تاکہ نوجوانوں کو ان کی صحت مند زندگی کی طرف واپسی کا راستہ دیا جا سکےصحت کے موجودہ نظام میں تمباکو کنٹرول کو ایک مستقل ترجیح بنایا جائے۔ پالیسی سطح پر تمباکو پر بھاری ٹیکس، اشتہارات اور اسپانسرشپ پر مکمل پابندی، سادہ پیکیجنگ، اور تمباکو نوشی کی روک تھام کے سخت قوانین لاگو کیے جائیں۔ معاشرے کے تمام طبقات کو شامل کرکے ایک اجتماعی جدوجہد کی جائے، جس میں والدین، اساتذہ، علماء، میڈیا اور صحت کے شعبے کے ماہرین اپنا کردار ادا کریں۔

    اگر پاکستان نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ایک صحت مند، توانا اور ترقی یافتہ نسل کی بنیاد رکھے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم محض قوانین پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں، آگاہی عام کریں، صحت کی سہولیات کو وسعت دیں اور معاشرتی سطح پر ایک بھرپور مہم چلائیں۔ تمباکو سے پاک پاکستان ایک خواب نہیں، ایک حقیقت بن سکتا ہے ،بس ہمیں اجتماعی طور پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
    ،

  • آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں

    آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں

    آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں
    قلم و کتاب کی زبان سے ادب کی دعوت
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    تحریر کی نبض پر ہاتھ رکھ کے قلم کے مزاج کا پتا لگانا حقیقی لکھاری و قاری طبیب کا ہی خاصہ ہے جو دل و دماغ کی سواری پہ کتابوں کے جہانوں کے سفر پہ نکلے ہیں اور اپنے احساسات و محسوسات کی الہامی کیفیت سے شفا بخش ادبی بوٹیوں کی کھوج لگاتے ہیں، پھر اسے اپنے قلم کے حمام دستے میں پیس کر عام ذہنوں کے معدے تک پہنچاتے ہیں تو شعور کی بینائی بڑھنے لگتی ہے۔ خداداد صلاحیتوں کے ہنر سے لکھی تحریریں قارئین کے ذہنوں کو مسحور کرتی ہیں۔ قدرت کے جس جہان کی لکھاری سیر کرکے اسے اپنی تحریر کے اسلوب سے لطف اندوز بناتا ہے اُسے پڑھنے والے قاری کو لگنے لگتا ہے کہ وہ اُس دور اور جہان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ سحر نگار قلم کی لکھی کسی کتاب کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوتی۔ ذوق و شوق سے لبریز شغف قارئین ہی قلم کے نئے زاویے میں پوشیدہ منظروں کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ علم و شعور کی زمین لکھاری و قاری جیسے پھولوں سے سدا آباد رہتی ہے جس کی مہک نے ان گنت خوش نصیبوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔

    ادب کی مٹی میں قلم کا بیج نئی اور تازہ تحریروں کے پھل اُگاتے رہتے ہیں۔ سخن کے وطن میں پل کر پروان چڑھنے والے، اپنے سے پہلے دور میں جینے والے لکھاریوں سے ان کی کتاب و تحریر کے ذریعے ملاقاتیں کرتے ہیں جس سے لکھاری ذہن تربیت پاتے ہیں تاکہ اُن کی نشاندہی کرتے راستوں پہ سفر کرتے مطالعے کی مدد سے نئی منظر کشی کو تحریری وجود میں لایا جا سکے۔ قدرت کی خوبصورتیاں بیج کی طرح اپنے اندر اتنے وسیع درخت رکھتی ہیں جس کا ہر پتہ، ہر شاخ ان گنت معنی و منظر رکھتا ہے جیسے گنتی سے باہر ہوا کے جھونکے ہوتے ہیں۔ جب منظروں کی بوندیں ذہن کی پیاسی زمین پر ٹپک رہی ہوں تو بہار کی سیاہی سے قلم کو رنگین تذکرہ نگاری میں مدہوش کر دیجیے۔ یہ لطف اندوز لمحے اپنے وجود کی گرفت میں بھر کر محفوظ کر لیں تاکہ آپ کی تنہائی نایاب احساسات و محسوسات سے سجی رہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اپنے آپ میں اک محفل لیے جیتے ہیں۔

    یہ اعزاز لکھاری یا قاری کو ہی حاصل ہوتا ہے کہ ایک زندگی میں کئی زندگیوں کو جی رہا ہوتا ہے۔ کتابوں کی انگلی پکڑ کر تحریروں کے قدم سے اپنے شعور کے قدم ملا کر چلنے والوں کو ہی ایک انمول ہمسفر کا احساس ملتا ہے۔ آپ ادب کے ساتھ زندہ رہتے ہیں تو مبارک ہو، ادب اپنے زندہ رہنے کے لیے آپ کو چن چکا ہے۔ یہ سچائی و آگاہی کے کوہِ طور کا سرمہ آنکھوں میں لگا کر ہر جانب خدا کو دیکھنے اور دکھانے لگتے ہیں۔ یہ منفرد و نایاب لوگ اپنے چراغوں جیسے ذہنوں میں ادب کی روشنی لیے ویرانوں میں بیٹھے ہیں۔ انہیں ذہنی تصادم زدہ ہجوم کے اندھیروں میں رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کی قدردانی ہی ان کے جلتے رہنے کا تیل ہے۔ ادب ان کے ذریعے اپنے نت نئے رنگوں کی تبلیغ کرواتا ہے جو شرف والوں کے حصے میں آتی ہے۔

    جہاں شعور کی کایا پلٹنے والی تحریریں قبولیت کے ہاتھ اُٹھائے بیٹھی ہیں، وہاں ادب کے طالب علم بھی شوق کے دامن پھیلائے بیٹھے ہیں۔ یہ کیفیت دل و دماغ کی زمینوں پر بسیرا کرکے اپنے عطر سے انسانیت کے گلشن کو معطر رکھتی ہے۔ قابلِ تعریف ہیں وہ عقلیں جو لفظوں کے چہروں سے پردے ہٹا کر معنی کے اصلی جوہر تک پہنچ جاتی ہیں اور اپنی آنکھوں کو وضاحتوں کا سرمہ لگا کر حقیقتوں کے دلکش نظارے کرواتی ہیں۔ اس نتیجے سے دوچار کرنے والی تحریروں کے لکھاریوں کے دل کی شگفتگی کا سرور انہیں ایسا مدہوش کرتا ہے جس کی ترجمانی وہ خود بھی قلم کی زبان پر نہیں لا پاتے۔ یہ قدرت کی خاموش تحسین کے انعام میں رہتے ہیں۔

    زندگی کو آنکھ بھر کر سب دیکھنا چاہتے ہیں، مگر یہاں غیر معیاری حالات و معاملات زندگی کے رنگوں پر اپنی چادر ڈال کر میت کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ جہاں مصنوعی دُکھ ایجاد ہو جائیں، وہاں انسان غیر ضروری اُداس رہنے لگتے ہیں۔ پتھر کی عمارتوں میں سکون چاہنے والے جلتے جسموں کو کوئی بتا دے کہ چاندنی رات کے ستاروں کی چھاؤں میں خیمے لگا کر روح کی ٹھنڈک کا مزہ مفت میں لیا جا سکتا ہے۔ قدرت نے اپنی مہنگی تخلیق اپنے انسانوں کے لیے مفت میں رکھی ہے۔ انسانی وجود کی بڑی قیمت ہے۔ اس مٹی کے کوزے میں نور کا چراغ جلتا ہے، اُس کوزے کو بے قیمت نہ جانیں جس میں قدرت نے اپنا نور محفوظ کر رکھا ہے۔ انسانی دل خدا کا تخت ہے، جس کے تختِ دل پر خدا بیٹھا ہو، وہاں زندگی ہاتھ جوڑے کھڑی رہتی ہے کہ زندگی سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ ہر جینے والے کو ادب اسی مقام پر لانا چاہتا ہے کہ بے مقصد سفروں پر خود کو تھکانے والوں کو درست سمت دی جا سکے اور بکھرے ہوئے انسانوں کو سمیٹ کر انہیں ہی واپس لوٹا دیا جائے۔ یہ حوصلہ ادب ہی پیدا کر سکتا ہے کہ آپ کسی کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر کہیں کہ دیکھو تمہارا قد تو مجھ سے بھی بڑا ہو گیا ہے۔ اچھا پڑھنے سننے کی صلاحیت کو اتنا پکائیں کہ آپ کی گفتگو سحر طاری کرنے لگے اور لوگوں کو دنیا کے پیچیدہ راستوں پہ چلنے کا ہنر حاصل ہو جائے۔ اپنے بعد آنے والوں کے لیے راہ کے کانٹے ہٹانے کا ذریعہ بن کر آسانیوں، بھلائیوں، بہتریوں کے اسباب چھوڑ کر ان کے درمیان ہمیشہ کے لیے ٹھہرے رہیں۔

    جب دنیاوی مفاد کی حکمتِ عملی میں لوگ سیاست کی ہتھیلیوں سے فائدہ اُٹھانے کے لیے صاحبِ اختیار کے پاؤں پکڑنے کو تیار ہو جائیں، تب ادب کمزوروں کے ہاتھ پکڑنے والوں کو دلوں کا تخت پیش کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔ بے فیض سیاست کی نوک سے زندگی کے بخیے اُدھیڑنے والے ہر دور میں ادب انسانیت میں محبت کے ٹانکے لگاتا رہتا ہے اور اپنے چاہنے والوں کو یہ ہنر سکھاتا ہے کہ وہ کڑواہٹ پی کر مٹھاس کیسے بانٹ سکتے ہیں۔ دراصل قدرت کی تخلیق، احساسات، محسوسات، جذبات کی حسین عکاسی سے انسانی ذہنوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر جینے کے حقیقی لطف سے ہمکنار کروانے میں قلم کا ہاتھ ہے، اور عزت، محبت، نام اُس کا بھی پیدا ہو جاتا ہے جس کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے۔ جس طرح خواب بند آنکھوں سے اگلے پچھلے دور کی سیر کرواتے ہیں، اسی طرح کتاب کو یہ خاصیت حاصل ہے کہ یہ کھلی آنکھوں سے سیر کرواتی ہے۔ خدا کی طرف سے آنے والا ہر اچھا خیال سپردِ قلم کر دو کہ یہ وہ امانت ہے جو بے خبروں تک پہنچانی تمہارا فرض ہے۔

    انگریزی لالٹینوں کی روشنی دماغوں میں بھرنے والوں سے معاشرے کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے ہیں۔ ایسے میں مادری و قومی زبان کے سورج کو طلوع کرنے کے لیے ادب کے فروغ کو عام کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ایک ہی معاشرے میں زندگی بسر کرنے والوں کے مسائل بھی ایک ہی جیسے ہیں، اس کے لیے انفرادی طور پر پریشان رہنے کی بجائے اجتماعی طاقت سے خوشحالی لانے کے لیے ادب سے بہتر طاقت اور کہیں سے پیدا نہیں ہو سکتی۔ فرقہ و جماعت پرستی کے اس تقسیم شدہ معاشرے کو جوڑنے کے لیے اسلام کی بات ادب کی زبان سے کی جائے تو ہر کان خوشی سے قبول کر لے گا۔ کون سی بات کب، کہاں اور کیسے کہی جانی ہے، یہ سلیقہ اگر آ جائے تو ہر بات سنی جاتی ہے۔ اسی سلیقے کو سکھانے کے لیے ادب کی درسگاہوں کا قیام بہت ضروری ہے جہاں کتابوں کے حصار میں نئی سوچیں پروان چڑھیں۔ وہ لوگ جو انقلابِ زمانہ سے دل شکستہ ہو کر تصنیف کے راستے سے بھٹک گئے ہیں، ان کے اندر اعتماد و حوصلے بھرنے کے لیے سامعین اور اسٹیج کا ماحول مہیا کیا جائے۔

    دل کا درد لفظ و لہجے میں اتار کر کانوں میں انڈیل دیجئے، تحریک جنم لے لے گی۔ اس طرح لکھیں کہ لوگوں کی بولتی چالتی، چلتی پھرتی زندگیوں کی تصویریں سامنے آن کھڑی ہوں اور وہ اپنے عیب آپ دیکھ کر خود ہی اصلاح کر لیں۔

    برج بھاشا سے نکلی آٹھ سو سال سے زائد عمر کی یہ اردو زبان کتنے ذہن اور کتنے زمانے دیکھتی آ رہی ہے۔ اس کے پاس کیا کیا داستانیں، حالات و واقعات ہیں، انہیں بیان کرنے کے لیے اسے تذکرہ نگاروں کی ضرورت ہے جو گزرے اور آنے والے وقت کے عکس موجودہ دور میں دکھانے کی خاصیت رکھتے ہوں۔ آپس میں ہی ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے والے ذہنی غربت میں مبتلا معاشرے کے پتھر دلوں کو کھود کر حسنِ سلوک کے ہیرے، موتی، جواہرات نکالنے کے لیے ادب نے آسان طریقے بتا دیے ہیں۔ ادب کی ہر کتاب و تحریر وہ گٹھلی ہے جو روح میں مٹھاس بھرنے والے لذیذ میوے کی خبر دیتی ہے۔

    ادب روح پر پڑے بدبودار غرور و تکبر کے لباس اتروا کر فقیری و درویشی کے خوشبودار ٹاٹ پہناتا ہے۔ جہاں جہالت انسانی ذہن کو اپنی ہی ذات کی قید میں جکڑے رکھتی ہے، وہاں ادب شعور کی رہائی لے کر ضمیر کے جج کے سامنے ہر وقت حاضر رہتا ہے۔ ادب وہ زبانِ الٰہی ہے جسے بولنے والوں نے انسانیت کی معراج پائی۔ اسی لیے ہر اچھی بات کو صدقے کا مقام حاصل ہے۔ ادب کی پاکیزہ زبان، گفتگو کی مہک سے معاشرے کے ذہنوں کو معطر کرتی ہے۔ اسی لیے ہر انسان کی قیمت کو اس کی زبان تلے رکھ دیا گیا ہے۔ گنہگار سے گنہگار لوگوں نے بھی اپنی باتوں کو ادب کا آبِ حیات پلا کر اپنے بعد بھی اپنے تذکرے چھوڑ دیے۔ کسی کی بات کو اپنی بات بنا کر پیش کرنا غیر معمولی مقام تو نہیں ہے، انبیاء اکرام نے جس طرح آسمانی علوم پر مذہب کے چوکیدار بن کر اپنے عمل کے ذریعے ملاوٹ سے پاک رکھ کر آنے والی نسلوں کو سونپا، اس سے وہ انسانیت کے جہان میں ہمیشہ کے لیے باقی رہ گئے۔

    پھر جس طرح فقیری درویشی مزاج کے لکھاریوں نے آسمانی علوم کو زمین پر اس طرح بکھیرا کہ ہر مذہب کا انسان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ انسانیت کو جوڑنے کے لیے ادب کا یہ کرشمہ کسی دلیل کا محتاج نہیں۔ اسی لیے اسلام کے ترجمانوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے تاکہ تم حق سے متفق رہنے والوں میں شمار رہو۔ ادب آتش بیانی کی مخالفت کرکے اپنی بات دھیمے اور شیریں لہجے میں دلیل کی پلیٹ میں رکھ کر اس طرح پیش کرتا ہے کہ سننے والا تمہارا ہو جائے۔ خدا کی قدرت کہوں یا معاشرے کے حسن کی ذمہ داری نہ لینے والوں کی کمزوری، کہ یہاں جو لونڈی ہے وہ رانی بن بیٹھی ہے اور رانی منہ چھپائے کونے میں بیٹھی ہے۔ زبان کا اثر زبان پر دوڑنا شروع ہو جائے گا۔ آپ اپنی زبان میں ہی سہی، علوم ادب کے کتب خانے بڑھائیں، فنون کے کارخانے چلائیں، ایجاد کی ٹہنی پہ ظرافت کے پھول کھلائیں تاکہ نئی نسلیں باوقار انسانیت کا گلشن تشکیل دے سکیں۔

  • بھارت کے ایٹمی پروگرام پر پابندی کیوں ضروری؟

    بھارت کے ایٹمی پروگرام پر پابندی کیوں ضروری؟

    بھارت کے ایٹمی پروگرام پر پابندی کیوں ضروری؟
    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    15 مئی 2025 کو بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سری نگر میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت پر سوالات اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ انہیں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہیں اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں جو کہ بھارت کی جانب سے خطے میں کشیدگی بڑھانے کی ایک اور کوشش تھی۔ پاکستان نے اس بیان کی شدید مذمت کی اور اسے غیر ذمہ دارانہ اور بھارت کی ناکام دفاعی حکمت عملی اور عدم تحفظ کا مظہر قرار دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ ریمارکس حالیہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے موثر دفاع کے بعد نئی دہلی کی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے ایٹمی مواد کی مسلسل چوری اور سمگلنگ کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بھارت کی ایٹمی تنصیبات اور مواد کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جائے۔

    بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی پروگراموں پر تنازعات کی طویل تاریخ ہے، لیکن راج ناتھ سنگھ کا تازہ بیان سیاسی مقاصد اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ بھارت کا ایٹمی پروگرام بار بار حفاظتی خامیوں کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ مئی 2021 میں مہاراشٹر میں 21 کروڑ روپے مالیت کا تابکار یورینیم پکڑا گیا، جس کی تصدیق بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر نے کی۔ 1994 میں رومانیہ میں 4.55 کلوگرام یورینیم ٹیٹرا کلورائد اور 2.5 کلوگرام یلو کیک کے ساتھ ہندوستانی شہری گرفتار ہوئے۔ 1984 سے اب تک یورینیم کی چوری کے 153 کیس رجسٹر ہو چکے ہیں جو عالمی سطح پر ایک تشویشناک ریکارڈ ہے۔ 2021 میں دھرادون میں بھابھا سینٹر سے چوری شدہ ایک تابکار آلہ اور 10 کروڑ ڈالر مالیت کے کیلی فورنیم کی چوری کے تین واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ ہندوستان ٹائمز نے نیپال کی سرحد سے یورینیم سمگلنگ کی کوشش کو بے نقاب کیا جسے بھارتی حکام نے چھپانے کی کوشش کی۔

    بھارت کے ایٹمی ری ایکٹروں کی حالت بھی ناقص ہے۔ 1986 میں مدراس اٹامک پاور سٹیشن میں دراڑیں پڑیں، جنہیں آئی اے ای اے سے چھپایا گیا۔ 1988 میں بھاری پانی کے اخراج اور 1991 میں دھماکے سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ ناروڑا پلانٹ میں ناقص مواد کی وجہ سے آگ لگی، کاکڑا پور کا کنکریٹ گنبد گر گیا اور تری پور پلانٹ کے اردگرد 3,000 گاؤں تابکار پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ حیدرآباد کے نیوکلیئر فیول کمپلیکس میں دھماکے کے بعد بھارت نے آئی اے ای اے کے معائنوں سے انکار کیا، جس پر ایجنسی نے بھارت کے ایٹمی بجلی گھروں کو غیر محفوظ قرار دیا۔ بھارت میں انڈر ورلڈ کی مضبوط گرفت ایٹمی مواد کی چوری اور سائنسدانوں کے اغوا میں ملوث ہے۔ 2006 میں ممبئی کے قریب ایک ایٹمی کنٹینر غائب ہو گیا اور 18 ماہ تک 7 سے 8 کلوگرام یورینیم ایک سائنسدان کی تحویل میں رہا بغیر کسی کو خبر ہوئے۔

    اس کے برعکس پاکستان کا ایٹمی پروگرام عالمی معیارات کے مطابق محفوظ ہے۔ 2000 میں قائم نیشنل کمانڈ اتھارٹی، اسٹریٹجک پلان ڈویژن اور پاک فوج ایٹمی اثاثوں کی حفاظت یقینی بناتے ہیں۔ نیوکلیئر سیکیورٹی انڈیکس 2020 کے مطابق پاکستان نے ایٹمی مواد کی چوری کے خلاف اقدامات میں 25 پوائنٹس کی بہتری دکھائی جو عالمی سطح پر سب سے بڑی کامیابی ہے۔ آئی اے ای اے نے پاکستان کے ایٹمی مراکز سے تابکاری کے اخراج کی خبروں کی سختی سےتردید کی۔ پاکستان نے اپنی روایتی دفاعی صلاحیتوں سے بھارت کو روکنے کی صلاحیت ثابت کی ہے اور اسے بھارت کی ایٹمی بلیک میلنگ کی ضرورت نہیں۔

    راج ناتھ سنگھ کا بیان جموں و کشمیر کے تنازع اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے۔ 7 مئی 2025 کو بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پنجاب پر میزائل حملے کیے، جسے بھارت نے پہلگام حملے کا جواب قرار دیا۔ پاکستان نے ان حملوں کو شہری علاقوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔ اس تنازع کو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان پہلی ڈرون جنگ کہا جا رہا ہے۔ پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھارت کی جارحیت کی مذمت کا مطالبہ کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی لیکن بھارت کی پسپائی نے اس کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

    بھارت کے ایٹمی پروگرام کی خامیوں سے دہشت گردی کا خطرہ بڑھتا ہے کیونکہ چوری شدہ مواد سے "ڈرٹی بم” بنایا جا سکتا ہے۔ ہندو انتہا پسند گروہوں کی موجودگی اس خطرے کو مزید سنگین بناتی ہے۔ بھارت نے آئی اے ای اے کے معائنوں سے انکار اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، لیکن مغربی ممالک کی خاموشی سیاسی مفادات کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بھارت کے ایٹمی اثاثوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اس کی ایٹمی سپلائرز گروپ کی رکنیت معطل کی جائے۔ آئی اے ای اے کو بھارت کی تنصیبات کا معائنہ کرنا چاہیے.

    بھارت کے ایٹمی پروگرام کی مسلسل خامیوں، یورینیم کی چوری، تابکار مواد کی سمگلنگ اور غیر محفوظ ری ایکٹروں سے عالمی سلامتی کو سنگین خطرہ ہے۔ راج ناتھ سنگھ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان پر الزامات لگا کر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہیں، جبکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام نیوکلیئر سیکیورٹی انڈیکس 2020 اور آئی اے ای اے کی تصدیق کے مطابق محفوظ ہے۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیموں تک حساس مواد کی رسائی اور آئی اے ای اے کے معائنوں سے انکار عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مغربی ممالک کی خاموشی سیاسی مفادات کی عکاسی کرتی ہے لیکن انسانیت کے تحفظ کے لیے بھارت کے ایٹمی پروگرام پر فوری پابندی ناگزیر ہے۔ آئی اے ای اے کو شفاف تحقیقات اور ایٹمی سپلائرز گروپ کو بھارت کی رکنیت معطل کرنی چاہیے، ورنہ اس کی غیر ذمہ داری عالمی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

  • "پاک بھارت جنگ بندی ایک سازش” تحریر :  عائشہ اسحاق

    "پاک بھارت جنگ بندی ایک سازش” تحریر : عائشہ اسحاق

    کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان سیز فائر کے نام پر ایک سازش کا شکار ہوا۔ وہ مقاصد آج بھی ادھورے رہ گئے جن کے لیے کئی دہائیوں سے بارہا کوششیں کی گئیں۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ پاکستان اس سازش کا کس طرح سے شکار ہوا۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ 6 مئی 2025 کو بھارت پاکستان کے کئی شہروں میں حملہ آور ہو کر کھلی جارحیت دکھانے کے ساتھ ساتھ تمام تر جنگی قوانین اور بین الااقوامی حدود کی بھی خلاف ورزیاں کرتا رہا۔ بھارت نے پاکستان کی مساجد عام شہری بے گناہ مرد و خواتین اور معصوم بچے شہید کیے۔ پاکستان نہ صرف صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتا رہا بلکہ تمام عالمی برادری اور سلامتی کونسل کی توجہ بھی اس طرف دلانے کی کوشش کرتا رہا کہ بھارت کس طرح سے انسانی حقوق کی پامالی اور جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ نتیجہ ہم سب جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سمیت تمام امن کمیٹیاں مکمل طور پر خاموش رہیں ۔ بھارت کو کھلی جارحیت سے روکنا تو دور کی بات رہی کسی نے بھارت کے اس جارحانہ رویے پر مذمت تک نہ کی۔ سب سے بڑھ کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر لا تعلقی دکھاتے ہوئےبیان دیا ہے کہ یہ معاملہ بھارت اور پاکستان کا آپسی معاملہ ہے اور وہ دونوں ممالک کے اس معاملے سے دور رہیں گے۔ مگر جب 10 مئی 2025 کو پاکستان نے ریٹیلییٹ کرتے ہوئے آپریشن "بنیان مرصوس” کا آغاز کیا اور بھارت کے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ عظیم آپریشن محض چند گھنٹے جاری رہا جس کے نتیجے میں بھارتی فوجی تنصیبات اور جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔بلا شبہ بھارت پاکستانی شاہینوں کے پنجوں میں جکڑا گیا اور اپنے حواس کھو بیٹھا۔ بھارتی مکروہ عزائم خاک میں مل چکے تھے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا غرور چکنا چور ہو چکا تھا۔ پاکستانی جانباز مجاہدین غازی بن کر لوٹے اور اپنی قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ پاکستانی قوم اپنے شاہینوں اور غازیوں کو تہ دل سے سلام پیش کرتی ہے۔ اللہ عزوجل نے آپریشن "بنیان مرصوص” کو نصرت فرمائی اور یہ آپریشن اپنے نام کی طرح عظیم طاقت بن کر پوری دنیا کے دل و دماغ پر اپنا روعب و ہیبت طاری کرنے میں کامیاب رہا۔ بھارت پسپا ہو چکا تھا اور پاکستان اپنی طاقت ہمت ,شجاعت, زہانت اور دلیری کا لوہا پوری دنیا میں منوا چکا تھا۔

    یہی وہ وقت تھا جب ایک نئی سازش کی گئی۔ بھارت اپنی پسپائی اور مزید ہونے والی تباہی کو اپنی انکھوں سے دیکھ رہا تھا اسی وجہ سے مکار اور ہوشیار دشمن نے فورا جنگ بندی کی اپیل کرنا شروع کر دی اور بھارت کا ساتھی امریکہ فوری طور پر حرکت میں آگیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کل تک جو لا تعلقی کا بیان آرہا تھا وہ فورا تعلق میں بدل گیا اور دونوں ممالک کو مسئلح کاروائیوں سے روکنا شروع کر دیا۔ یہیں سے امریکہ کا منافقانہ طرز عمل واضح ہوتا ہے۔ جب تک بھارت پاکستان پر حملے کر رہا تھا اور جارحیت پھیلا رہا تھا ہمارے جوانوں اور معصوم سویلینز کو شہید کر رہا تھا تب تک امریکہ اس معاملے سے لا تعلق رہا اور جیسے ہی پاکستان نے ریٹیلییٹ کرنا شروع کیا اور بھارت پسپائی کی طرف گیا تو امریکہ فورا اس معاملے میں کود پڑا۔ یہ منافقانہ عمل واضح کرتا ہے کہ امریکہ ہمیشہ سے بھارت کا حمایتی رہا۔ پاکستان نے سیز فائر کی پیشکش کو فورا قبول کرتے ہوئے ایک سنہری موقع ہاتھ سے گنوایا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان باسانی کشمیر کو بھارت کے چنگل سے آزاد کروا سکتا تھا۔ وہ کشمیری مسلمان بہن بھائی جو کئی دہائیوں سے بھارتی ظلم تشدد اور بربریت کا شکار ہوتے رہے ہیں انہیں ان سے چھٹکارا دلایا جا سکتا تھا۔ سیز فائر کا سراسر فائدہ بھارت کو ہوا بھارت شروع سے ایک مکار دشمن رہا اس طرح سے بھارت کو دم سادھانے کا موقع ملا جو اوسان خطا ہو گئے تھے دوبارہ سے اپنا آپ سنبھالتے ہوئے بھارت ماضی کی طرح پھر سے کسی روز کوئی نئی چال چلے گا نیا وار کرے گا۔ اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدہ بھی ابھی تک معطل ہی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارت کشمیر کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ اسی لیے بھارت نے سیز فائر میں اپنی عافیت جانی۔ جب کہ پاکستان سیز فائر کی پیشکش کو جلد قبول کر کے بھارتی اور امریکی سازش کا شکار ہوا۔ بطور پاکستانی آج ہم سب خوشی منا رہے ہیں لیکن بطور مسلمان ہم بھارت اور امریکہ کی سازشی وار کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ ہمارے مسلمان کشمیری مظلوم بہن بھائی جو اس آپریشن سے آزادی کی امید جگا کر انتظار کر رہے تھے کہ وہ بھارتی ظلم و ستم سے نجات حاصل کر جائیں گے ۔نہایت دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ شکست خوردہ بھارت ان مظلوموں پر قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے۔ یہ وہ سنہرا موقع تھا جب پاکستان اپنے زور بازو پر کشمیر کو بھارت کے چنگل سے چھڑوا سکتا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیز فائر کی پیشکش پر یہ مطالبہ کیا جانا چاہیے تھا کہ کشمیر کو ایک آزادانہ ریاست قرار دیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات نہایت قابل غور ہے کہ اگر امریکہ کے کہنے پر پاک بھارت جنگ بندی ہو سکتی ہے تو اسرائیل کی فلسطین میں جنگ بندی کیوں نہیں ہو سکتی۔؟ آج جب پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کر کے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا چکا ہے تو بطور مسلمان گزارش ہے کہ پاکستان فلسطین کے حوالے سے اسرائیل کو تنبیہ کرے کہ وہ فلسطین میں کیے جانے والے مظالم بند کرے۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان امت محمدی اور پھر پاکستانی ہیں لہذا مسلمان ہونے کے ناطے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ اپنے دیگر مظلوم مسلمان بہن بھائیوں کے لیے بھی اسی طرح سے اپنی جرات اور طاقت کا مظاہرہ کریں جس دلیری اور شان کے ساتھ ہم نے اپنے وطن کے لیے کیا۔ یہ ان مظلوموں کا ہم پر حق ہے اور ہمارا فرض ہے۔ لہذا کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر پیش رفت ہونا بہت ضروری ہے۔ تعجب ہے کہ پاکستانی میمز بنا کر لطف اندوز ہونے میں مصروف ہیں اپنے کشمیری اور فلسطینی مسلمان بہن بھائیوں پر کیے جانے والے مظالم اور غم کو کس طرح سے فراموش کر سکتے ہیں۔ فلسطینی معصوم بچوں کی ہوا میں اڑتی لاشیں کس طرح سے بھول گئے ہیں وہ کشمیری بچے جو بھارتی ظلم و جبر کے وجہ سے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں انہیں کیسے فراموش کر دیا گیا ہے۔؟ جب کہ وہ مظلوم ہم سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ۔ غزہ انتہائی غذائی قلت کا شکار ہے اور ہزاروں بچے بھوک پیاس کی وجہ سے شہید ہو رہے ہیں یاد رہے ان مظلوموں کے حوالے سے روز محشر جب ہم سے باز پرسی کی گئی تو ہم کیا جواب دیں گے کہ ہم نے اتنی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی ان کے لیے کیوں کچھ نہ کیا۔ لہذا مسلمان ہونے کے ناطے پاکستانی حکومت اور افواج پاکستان سے کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر بہترین حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کریں۔

  • تم جنگ ہی نہیں دل بھی جیت چکے .تحریر:ملک سلمان

    تم جنگ ہی نہیں دل بھی جیت چکے .تحریر:ملک سلمان

    حالیہ پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے اپنے سے دس گنا بڑی فوج، دفائی بجٹ اور جدید جنگی سازوسامان والے بھارت کو شکست دے کر دنیا بھر میں بہادری کی انمٹ تاریخ رقم کردی۔

    پاکستانی عوام نے بھی اپنے محسنوں اور محافظوں کو سراہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گلیوں، بازاروں، مسجدوں، مدرسوں، امام بارگاہوں، تعلیمی اداروں سے لیکر ہر مکتبہ فکر کے افراد نے افواج پاکستان زندہ باد، شکریہ پاک فوج کی ریلیاں اور جلسے کیے، یوم تشکر اور جشن فتح کی کیک کاٹے جا رہے ہیں۔ کراچی سے خیبر، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہر جگہ سارا پاکستان اپنی بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کرتا نظر آرہا ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں موجود اوورسیز پاکستانی بہت عرصے بعد ناصرف متحد نظر آئے بلکہ انتہائی فخر سے دنیا کو بتاتے نظر آئے کہ ہم پاکستانی ہیں وہ بہادر پاکستانی جنہوں نے دشمن کے مزائلوں اور ڈرونز کو ناکارہ و ناکام کر دیا۔

    ناقابل تسخیر افواج پاکستان کی بدولت پاکستان صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں دنیا کی سب سے مضبوط طاقت بن کر ابھرا ہے۔
    جس ریسٹورنٹ، کیفے، شاپ پر دیکھیں افواج پاکستان کے افسران اور جوانوں کیلئے 30سے 50فیصد ڈسکاؤنٹ کے ویلکم بینر لگے ہوئے ہوئے ہیں، پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے فوجیوں کے بچوں کیلئے فری ایجوکیشن کے بورڈ لگادیے۔ معمولی ٹھیلے، کھوکھے سے لیکر مارٹ اور میگامالز ہر جگہ افواج پاکستان کیلئے خصوصی ڈسکاؤنٹس کا اعلان کردیا گیا ہے۔ تاجروں اور عوام کا کہنا تھا کہ آج ہم جس فخر اور تحفظ کے ساتھ زندگی انجوائے کررہے ہیں اس کا تمام تر کریڈٹ افواج پاکستان کو جاتا ہے جنہوں نے ہرمشکل گھڑی میں ہمارا تحفظ کیا۔ اس لیے ہم عوام اپنی خوشی اور یکجہتی کے اظہار کے طور پر افواج پاکستان کیلئے خصوصی ڈسکاؤنٹ آفر کر رہے ہیں۔

    دنیا میں چوتھے نمبر پر ملٹری فورسز اور دفاع کیلئے سب سے زیادہ 88ارب ڈالر سالانہ بجٹ استعمال کرنے والے ملک بھارت کو صرف ساڑھے سات ارب ڈالر بجٹ کے ساتھ چالیسویں نمبر پر کم ترین بجٹ رکھنے والے پاکستان نے ایسی عبرت ناک شکست دی کی دنیا بھر کے تمام جنگی ماہرین تعریف کیے بن نہ رہ سکے۔
    بھارت نے اسرائیل کے سب سے طاقتور اور جدید ترین جنگی ڈرونز کا استعمال کیا جسے افواج پاکستان نے فضاء میں ہی تباہ و برباد کردیا جبکہ کچھ ڈرونز کو حفاظت کے ساتھ فوجی تحویل میں لے لیا۔ جنگی جہازوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل فرانس کے تیارکردہ دنیا کے مہنگے ترین اور سب سے خطرناک جنگی طیارے رافیل کو فضاء میں مار گرانے کے کارنامے نے دنیا بھر کو حیران و پریشان کردیا کیونکہ یہ تاریخ کا پہلا واقع ہے کہ جنگی جہاز رافیل کو مار گرایا۔ افواج پاکستان کے ہاتھوں رافیل کی تباہی سے بین الاقوامی مارکیٹ میں فرانس کی اسلحہ ساز کمپنی کے شئیر گرچکے ہیں۔
    دنیا میں جنگی سازو سامان کیلئے بڑی انڈسٹری کے طور پر جانے والے روس کے سب سے پاورفل ائیر ڈیفینس سسٹم S-400کو چند منٹوں میں راخ کے ڈھیر میں بدل کر پاکستان نے نہ صرف دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ بھارت کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، بھارت نے امریکہ کے زریعے رحم اورجنگ بندی کے ترلے کرتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کی۔
    افواج پاکستان کے افسر اور جوان ہمہ وقت وطن عزیز کی سربلندی، دفاع اور استحکام کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، فوجی افسروں اور جوانوں نے ہرمشکل موقع پر وطن عزیز کیلئے جان قربان کرنا اعزاز جانا، ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اگلے مورچوں پر چوکس اور چوکنا افواج پاکستان کی بدولت ہی ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ نا گہانی صورت حال یا آفت میں فوج ہی حرکت میں آتی ہے اور اس کے جوان دور دراز اور کٹھن راستوں والے علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ افواج پاکستان ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی مدد اور خدمت کی ہے۔ زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت ومصیبت یا ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا اور کچلنا ہو، افواج پاکستان نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ کورونا کی وبا، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے اور مشکلات کا شکار لوگوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں ان کا فوری بروقت اور موثر کردار نمایاں ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے اس کردار کی معترف ہے اور اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔

  • جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی!

    جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی!

    جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی!
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    تاریخ گواہ ہے کہ پاک بھارت تعلقات تاریخی طور پر بھارت کی مکاری، دھوکے بازی اور بداعتمادی کی وجہ سے ایک اچھے ہمسائے کی طرح پروان نہ چڑھ سکے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے ثابت کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا پاکستان مخالف ایجنڈا نہ صرف جاری ہے بلکہ خطرناک حد تک شدت اختیار کر چکا ہے۔ پہلگام کا مبینہ فالس فلیگ آپریشن، مودی کا جھوٹ بھرا قوم سے خطاب اور اس جھوٹ کی آڑ میں پاکستان کے خلاف اوچھی چالیں ایک خوفناک منصوبے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ پاکستانی قوم کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ دشمن کی "بغل میں چھری” اب محض استعارہ نہیں بلکہ ایک واضح اور فوری خطرہ ہے۔

    سیزفائر کے پیچھے بھارت کی بوکھلاہٹ نمایاں ہے۔ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب بھارت نے پاکستانی سرزمین پر میزائل داغ کر اپنی جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ پاک فضائیہ نے اس حملے کو ناکام بناتے ہوئے بھارت کے پانچ طیاروں، جن میں تین قیمتی رافیل شامل تھے اور متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا۔ امریکی صحافی نک رابرٹسن کے مطابق (10مئی 2025 CNN International) سیزفائر کی درخواست بھارت نے امریکا کے ذریعے کی تھی لیکن مودی نے 13 مئی 2025 کو قوم سے خطاب میں بے شرمی سے جھوٹ بولا کہ یہ درخواست پاکستان کی طرف سے تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں واضح کردیا تھا کہ سیزفائر بھارت کی عسکری اور سیاسی شکست کا نتیجہ تھا، جسے پاکستان نے خطے میں امن کے لیے قبول کیا۔ یہ جھوٹ مودی کی کمزوری ہی نہیں بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔

    مودی کا 13 مئی کا خطاب جھوٹ اور پروپیگنڈے کا زہریلا جال تھا۔ انہوں نے پہلگام حملے کو پاکستان سے جوڑا لیکن کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کیا۔ بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں ثبوت مانگے (14مئی Indian National Congress Press Release, 2025 ) لیکن مودی نے محض دھونس اور دھمکیوں سے کام لیا۔ ان کا دعویٰ کہ "آدھا پاکستان تباہ کر دیا” بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کی شرمناک مثال ہے، جسے بھارتی صحافی سدھارتھ روی نے مسترد کیا (The Wire 13 مئی 2025)۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور عالمی تجزیہ کاروں نے مودی کے جھوٹ کو بے نقاب کیا لیکن خطرہ یہ ہے کہ یہ جھوٹ بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہا ہے جو ایک بڑے ان دیکھے خطرے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    پہلگام واقعہ بھارت کی فالس فلیگ حکمت عملی کا تسلسل ہے۔ پلوامہ، اڑی اور اب پہلگام ہر بار بھارت نے پاکستان پر الزامات لگائے لیکن ثبوت کبھی پیش نہ کیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل رپورٹ (12 مئی 2025) کے مطابق پہلگام میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ پاکستان نے غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی، لیکن بھارت نے اسے مسترد کر دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ حقیقت کو چھپانا چاہتا ہے۔ مودی کی یہ اوچھی چال پاکستان کو بدنام کرنے اور بھارت کے اندرونی سیاسی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ لیکن اصل خطرہ یہ ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف بڑی عسکری کارروائی کی تیاری کر رہا ہے جو خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جا سکتا ہے۔

    بی جے پی کا نظریہ چانکیہ کے فلسفے سے جڑا ہے، جو دھوکے، چالاکی اور طاقت کو سیاسی کامیابی کا زینہ سمجھتا ہے۔ چانکیہ کا مقولہ "دشمن کو تباہ کرنے کے لیے ہر حربہ جائز ہے” بی جے پی کی پاکستان پالیسی کا محور ہے۔ بابری مسجد کی شہادت، گجرات فسادات اور شہریت ترمیمی قانون (Human Rights Watch, 2020) کے ذریعے بی جے پی نے مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف نفرت کو ہوا دی۔ مودی نے ہندو قوم پرستی کو پاکستان دشمنی سے جوڑ کر زہریلا بیانیہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر "گوبھی کی کاشت” جیسے خفیہ کوڈز کے ذریعے تشدد کی کال دی جاتی ہے (Digital Hate Watch, 2025)۔ یہ بیانیہ بھارتی معاشرے کو تقسیم کر رہا ہے اور پاکستان کے خلاف بڑی سازش کا پیش خیمہ ہے۔

    سب سے بڑا خطرہ وہ ہے جو ابھی نظر نہیں آ رہا۔ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کے خلاف نفرت انگیز مواد میں اضافہ، سرحدوں پر بھارتی فوج کی غیر معمولی نقل و حرکت اور مودی کی خاموش سفارتی مہم پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ آر ایس ایس سے وابستہ رپورٹس (2025) میں پاکستان کو "دہشت گرد ریاست” قرار دینے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مودی ایک بڑی عسکری یا سفارتی چال کی تیاری کر رہے ہیں، جو خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ پاکستانی قوم کو اس ان دیکھے خطرے کے لیے تیار رہنا ہوگا کیونکہ مودی کا "منہ میں رام رام” ہمیشہ ایک زہریلی چھری کے ساتھ ہوتا ہے۔
    مودی اور بی جے پی کا پاکستان مخالف ایجنڈا واضح طور پر خطرے کی گھنٹی ہے۔ سیزفائر کی مسلسل خلاف ورزیاں، فالس فلیگ آپریشنز، اور چانکیہ کے نام پر رچی جانے والی سازشیں، یہ سب پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں۔ یہ وقت ہے کہ پاکستانی قوم متحد ہو کر اپنی مسلح افواج کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہو، اور بین الاقوامی برادری کو بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے آگاہ کرے۔ عالمی سطح پر بھارت کے ان مذموم ارادوں کو بے نقاب کرنا لازم ہے۔ دشمن کی ہر چال کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں ہوشیار اور تیار رہنا ہوگا۔ یاد رکھیں یہ محض ایک انتباہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

  • وسیم جتوئی: ترقی اور خدمت کا روشن نام

    وسیم جتوئی: ترقی اور خدمت کا روشن نام

    وسیم جتوئی: ترقی اور خدمت کا روشن نام
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    جنوبی پنجاب کا ڈیرہ غازی خان ڈویژن تاریخی طور پر ترقیاتی پسماندگی کی تصویر پیش کرتا رہا ہے۔ لیکن چند ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے اس خطے کے لیے امید کی شمع روشن کی ہے۔ انہی میں ایک نمایاں نام ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ وسیم جتوئی کا ہے، جنہوں نے سرکاری ملازمت کو خدمتِ خلق کا زینہ بنایا۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت اور عوامی رابطے نے انہیں نہ صرف ایک مثالی افسر بلکہ ایک سچا خدمت گزار ثابت کیا ہے۔

    وسیم جتوئی کی قیادت میں ڈیرہ غازی خان ڈویژن نے ترقیاتی منصوبوں میں نئی روح پائی ہے۔ انہوں نے متعدد فلاحی اسکیموں کی منظوری، فنڈز کی شفاف تقسیم اور پراجیکٹس کی کڑی نگرانی کو یقینی بنایا۔ ان کی نگرانی میں مکمل ہونے والے منصوبے چاہے وہ دیہی سڑکوں کی تعمیر ہو یا واٹر سپلائی اسکیمیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت صاف ہو تو سرکاری ڈھانچہ عوام کے لیے رحمت بن سکتا ہے۔ ان کی باریک بینی اور فرض شناسی نے نہ صرف وسائل کے ضیاع کو روکا بلکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو بھی ممکن بنایا۔

    ان کی شخصیت کا سب سے دلکش پہلو اُن کی خوش اخلاق اور عاجزی ہے۔ وہ ہر ملاقاتی کے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔ چاہے کوئی عام شہری ہو یا مقامی عہدیدار، وہ سب کے مسائل توجہ سے سنتے ہیں اور حل کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ انہیں ایک رسمی افسر سے بڑھ کر ایک عوامی خدمت گزار بناتا ہے۔ مقامی عمائدین اور سماجی کارکنوں سے ان کا گہرا رابطہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ دفتر کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ زمینی حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں۔

    وسیم جتوئی کا وژن محض وقتی اقدامات تک محدود نہیں۔ وہ تعلیم، صحت، صاف پانی اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں دیرپا بہتری کے خواہاں ہیں۔ مثال کے طور پران کی کاوشوں سے دیہی علاقوں میں سکولوں کی حالت بہتر ہوئی اور صحت کے مراکز کو جدید سہولیات میسر ہوئیں۔ ان کی یہ سوچ کہ ترقی صرف موجودہ مسائل کا حل نہیں بلکہ مستقبل کی ضروریات کا ادراک بھی ہے، ان کی یہی سوچ انہیں دیگر افسران سے ممتاز کرتی ہے۔

    ایک ایسے دور میں جب سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد کمزور پڑ رہا ہے، وسیم جتوئی جیسے افسران امید کی کرن ہیں۔ نہ صرف انتظامیہ بلکہ سیاسی و سماجی حلقوں میں بھی ان کی خدمات کی قدر کی جاتی ہے۔ وسیب کے عوام انہیں اپنا فخر سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے ثابت کیا کہ نیک نیتی اور جذبہ خدمت سے ترقی اور خوشحالی ممکن ہے۔

    وسیم جتوئی صرف ایک افسر نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک ہیں جو ثابت کرتی ہے کہ سرکاری ڈھانچہ عوام کی فلاح کے لیے کتنا موثر ہو سکتا ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، انسانی ہمدردی اور دوراندیشی نے ڈیرہ غازی خان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ وہ ایک ایسی مثال ہیں جو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آئیے، ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کریں اور امید رکھیں کہ ان جیسے مزید خدمت گزار اس خطے کی تقدیر بدلیں گے۔

  • ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ہمیشہ پاکستان زندہ باد،قومی اتحاد نے فتح کو مقدر بنادیا
    نواز شریف اورذوالفقار بھٹو کی محنت نے دفاع وطن کو ناقابل تسخیر بنا دیا
    فضائیہ کیلئے موٹرویز کی شکل لاتعداد رن ویز اور نوجوانوں کو جدیدٹیکنالوجی دی گئی

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پاکستان کی ایٹمی، صلاحیت پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، پاک چائنہ دوستی کے ثمرات اور دفاعی تعاون پاکستان میں سائبر ٹیکنالوجی کا فروغ ،ایسے عوامل ہیں جنکی بدولت بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیاگیا ، بھارت کی علاقے میں برتری کے خواب چکنا چور ہو گئے، قارئین گرامی! پاکستان کو میسر نصرت خداوندی کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی دستیابی میں کن شخصیات اور قومی محسنوں کا ہاتھ تھا یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے، ایٹمی صلاحیت کے حصول اور پاک چائنہ دوستی کی بنیاد میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت، پاک چائنہ دوستی کو آگے بڑھاتے ہوئے چین اور پاکستان کے مابین جے ایف تھنڈر کی پاکستان میں ہی تیاری کا کرشمہ اور ایٹمی دھماکوں سے لیکر پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر صلاحیت کا نوجوانوں میں فروغ، موٹروے کی صورت میں پاک فضائیہ کو لامحدود رن ویز کی دستیابی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول میں محمد نواز شریف کی بطور وزیر اعظم اوراس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی فنڈز کی فراخدلانہ فراہمی اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھروں اور غلیلوں کے بجائے لیب ٹاپس کے ذریعے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا فروغ کے نتائج آج سامنے آگئے،،اس میں میاں محمد نواز شریف کی سیاسی بصیرت کو داد دینا بنتی ہے، آج ہماری قوم کو فتح مبارک ہو اور ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ذہانت اور بے لوث خدمت، میاں نواز شریف کے جذبہ حب الوطنی سے پاکستان کے استحکام کے لئے اقدامات،بری ، بحری و فضائی افواج کی بہادری اور قربانیوں کو یاد رکھنا ہو گا، ہماری قوم کو یہ بھی عزم کرنا ہو گا کہ اپنے مکار دشمنوں کو نیچا دکھانے کے لئے میاں نواز شریف کے ویژن کے مطابق پاکستان کی ترقی کے لئے ہمہ تن مصروف مریم نوازشریف کی پاکستان میں تعلیم و ترقی کے لئے جاری کاوشوں کو تسلسل دینا ہو گا، کیونکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق لیب ٹاپس، سائبر تعلیم اور پاکستان میں انفراسٹرکچر کی جدت ہی استحکام پاکستان ہے، نوجوانوں کو کمپیوٹر ایجوکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے نہ کہ غلیلوں اور پتھروں کے بل بوتے پر اپنی ہی افواج اور ریاست پاکستان پر تنقید کے نشانے کی!نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے،،ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی،،افواج پاکستان زندہ باد ،،پاکستان پائندہ باد

  • آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص،بھارت "وڑ”گیا.تحریر:نور فاطمہ

    آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص،بھارت "وڑ”گیا.تحریر:نور فاطمہ

    10 مئی 2025 کو پاکستانی مسلح افواج نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ آپریشن بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب تھا، جس نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ پاکستانی فوج نے اس آپریشن کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور دنیا کو ثابت کر دیا کہ پاکستان پر میلی نظر رکھنے والے دشمنوں کو کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت نے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا کر ایک اور جارحیت کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور بھارتی فوج کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کا آغاز اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سالمیت کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    پاکستانی فوج کی بری، بحری، اور فضائی افواج نے اپنے بھرپور عزم، طاقت اور حکمت عملی کے ساتھ بھارتی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا۔ آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کی کامیابی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی افواج کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کو اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اس آپریشن نے نہ صرف پاکستانی عوام کا اعتماد جیتا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے دفاعی معیار اور عزم کو بلند کیا۔پاکستانی عوام نے افواجِ پاکستان کی اس بے مثال بہادری اور جوابی کارروائی کو سراہا۔ لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی قربانیوں کی قدر کی۔ عوام کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ کبھی بھی جنگ کی حمایت نہیں کرتے، لیکن جب بھی وطن کی سلامتی کے لیے ضرورت پڑی، وہ اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کر کے حملہ کیا، لیکن پاکستان نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے اس کی ساکھ کو دنیا بھر میں خاک میں ملا دیا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جس جنگ کی منصوبہ بندی کی تھی، وہ اس کے لیے ایک بدترین ناکامی ثابت ہوئی۔ پاکستان نے نہ صرف بھارتی عزائم کو ناکام بنایا بلکہ اپنی فوج کی طاقت کو عالمی سطح پر ثابت کیا۔پاکستان کی افواج کی اس کامیابی نے نہ صرف دشمن کو ناکامی سے دوچار کیا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کر دیا۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ یہ کامیابی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے مزید مضبوط اور معتبر بناتی ہے۔ پاکستانی عوام نے اس موقع پر یہ عہد کیا کہ وہ ہمیشہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ملک کے دفاع کے لیے ہر قیمت پر ان کا ساتھ دیں گے۔ یہ عہد پاکستان کی طاقت، عزم اور یکجہتی کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

    10 مئی 2025 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب افواجِ پاکستان نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے ذریعے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ آپریشن پاکستانی فوج کی بے مثال بہادری، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کی مثال ہے۔پاکستان کی مسلح افواج کو سلام، اور ہم سب کا عہد ہے کہ وطن کی دفاع میں ہم ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔