Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سکوٹیاں اور ٹریفک پولیس

    سکوٹیاں اور ٹریفک پولیس

    سکوٹیاں اور ٹریفک پولیس
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    یہ کالم سکوٹی استعمال کرنے والے بچوں اور خواتین میں ٹریفک قوانین کی آگاہی کی کمی اور حکومتی غفلت کو اجاگر کرتا ہے۔ مصنف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سکوٹی کی تقسیم سے پہلے تربیت اور لائسنس کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیے تھا، تاکہ بڑھتے ہوئے حادثات کی روک تھام کی جا سکے۔ ٹریفک پولیس اور متعلقہ اداروں کی فوری توجہ اس اہم مسئلے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی معاشرہ پہلے ہی بے راہ روی کا شکار ہے۔ سگنل توڑنا، بغیر کٹ کے گاڑی موڑ لینا اور دورانِ سفر اشارہ نہ دینا، ہماری روزمرہ ترجیحات میں شامل ہو چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مثبت پہلو کم جبکہ منفی کرداروں کی کوئی کمی نہیں۔

    ان ہی حالات میں آج کل گورنمنٹ کی سطح پر سکوٹیاں تقسیم کی جا رہی ہیں، جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی عورتیں اور بچے ان کے خریدار بن رہے ہیں۔ تاہم، سکوٹیاں تو فراہم کی جا رہی ہیں لیکن انہیں چلانے والے بچوں اور خواتین کے لیے کسی قسم کے مناسب حفاظتی یا تربیتی اقدامات نہیں کیے گئے۔

    ہم نے ہمیشہ عوامی منصوبوں کو بغیر کسی منظم منصوبہ بندی یا حکمت عملی کے نافذ کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا نتیجہ منفی اثرات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہی حال سکوٹی چلانے والوں کا ہے۔ شہروں اور گردونواح میں حادثات کی بڑی وجہ یہی ہے کہ بچوں اور خواتین کو ٹریفک قوانین اور ڈرائیونگ اصولوں سے آگاہی حاصل نہیں۔ نہ لائسنس، نہ تربیت اور نتیجتاً حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی سطح پر ان بچوں اور خواتین کی باقاعدہ تربیت اور آگاہی کے لیے پروگرامز ترتیب دیے جائیں، تاکہ حادثات میں کمی لائی جا سکے اور یہ عمل سست روی کا شکار نہ ہو۔

    کاش سکوٹیاں تقسیم کرنے سے قبل ٹریننگ سیشنز کا اہتمام کیا جاتا اور باقاعدہ لائسنس جاری کیے جاتے۔ نرمی اختیار کی جا سکتی تھی، لیکن مکمل غفلت اختیار کرنا موجودہ حالات میں شدید نقصان دہ ہے۔ مگر افسوس، حالات اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں ، وجہ وہی پرانی: ڈنگ ٹپاؤ پالیسی۔ سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا؟

    آئی جی پنجاب ٹریفک پولیس کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس جانب فوری توجہ دینی چاہیے۔ یقیناً وہ ایسا کریں گے۔ ممکن ہے کسی مصروفیت یا لاعلمی کے باعث تاحال اس مسئلے پر توجہ نہ دی جا سکی ہو، لیکن ہمیں امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔

  • سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    دریائے سوات میں پکنک منانے آئے سیاحوں کی ہولناک ہلاکتوں نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا ہے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 11 افراد میں سے 8 کی نماز جنازہ ڈسکہ میں ادا کر دی گئی جبکہ 2 افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ یہ اندوہناک واقعہ کئی سوالات چھوڑ گیا ہے جن کے جوابات لواحقین، عوام، اور سوسائٹی مانگ رہی ہے۔

    جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور عینی شاہدین نے الزام عائد کیا ہے کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں، اور جب پہنچیں تو ان کے پاس نہ کشتیاں تھیں، نہ جال۔ متاثرین بتاتے ہیں کہ ان کے عزیز دریا کے بیچ ایک ٹِیلے پر پھنسے رہے، چیختے رہے، مدد کے لیے پکارا، مگر موجیں سب کچھ بہا لے گئیں۔ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ سیاحوں کو خطرے سے خبردار کیا گیا تھا اور انہیں روکا بھی گیا، لیکن وہ نہ مانے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ فیملی صبح 8:30 پر ہوٹل کے کیفے میں ناشتے کے لیے پہنچی مگر ہوٹل بند تھا، جس کے بعد وہ پچھلے راستے سے دریا کے اندر چلے گئے۔ سیاحوں نے دریا کے اندر جا کر سیلفیاں لینا شروع کر دیں، مقامی لوگوں نے بار بار خبردار کیا کہ پانی کا ریلا آ سکتا ہے، مگر وہ باز نہ آئے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق 9:50 پر ریسکیو 1122 کو کال کی گئی، مگر حادثے کی نوعیت کا اندازہ نہ ہونے کے باعث ٹیمیں بغیر کشتی و جال کے پہنچیں۔ بعد ازاں 10 منٹ میں یہ سامان منگوایا گیا اور کارروائی شروع کی گئی۔ کارروائی کے دوران تین سیاحوں اور ایک مقامی شخص کو بچایا گیا۔

    واقعے کی سنگینی کے پیش نظر خیبر پختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر سوات سمیت متعدد افسران کو معطل کر دیا ہے اور ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات بار ایسوسی ایشن نے احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور سانحے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ سیاحتی پوائنٹس پر تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔ جس نجی ہوٹل سے سیاح دریا کی طرف گئے تھے، اسے سیل کر کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ دریائے سوات کے اندر اور اطراف غیر قانونی مائننگ پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ تھی، جس پر عملدرآمد پولیس کی ذمہ داری تھی۔ مگر حیرت انگیز طور پر پولیس جائے وقوعہ پر سب سے آخر میں پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ جب قانون لاگو تھا تو دریا کے اندر سیاح کیسے پہنچے؟ ہوٹل کا پچھلا راستہ کیوں کھلا تھا؟ پولیس اور انتظامیہ کہاں تھی؟

    اہم سوالات جو اب بھی جواب طلب ہیں ،اگر دفعہ 144 نافذ تھی تو سیاحوں کو دریا میں جانے سے کس نے روکا؟ریسکیو اہلکار بغیر سامان کیوں پہنچے؟حادثے کے وقت ہوٹل کھلا کیوں نہ تھا، اور پچھلا راستہ بند کیوں نہ تھا؟انتظامیہ اور پولیس موقع پر تاخیر سے کیوں پہنچے؟اگر سیاحوں نے مقامی لوگوں کی بات نہ مانی تو کیا سرکاری ادارے مزید سختی نہیں کر سکتے تھے؟

    سانحہ سوات صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک نظام کی ناکامی کی علامت بن گیا ہے۔ انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے، سب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسی غفلت انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب نہ بنے۔

  • کربلا: جہاں قافلۂ حق نے قیام کیا.مکہ سے کربلا تک سفر: 2 محرم

    کربلا: جہاں قافلۂ حق نے قیام کیا.مکہ سے کربلا تک سفر: 2 محرم

    کربلا: جہاں قافلۂ حق نے قیام کیا.مکہ سے کربلا تک سفر: 2 محرم
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    بعض سرزمینیں صرف مٹی کی چادر اوڑھے ویران نہیں ہوتیں، وہ وقت کے سینے میں دفن صداؤں کی گونج رکھتی ہیں۔ کربلا بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے: خاموش، مگر سچ بولتی ہوئی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ، تقدیر اور قربانی ایک دوسرے سے آ ملے۔

    جب امام حسینؑ کا قافلہ صحرا کی تپتی وسعتوں کو عبور کرتا ہوا فرات کے قریب پہنچا، تو حر بن یزید ریاحی نے مؤدب ہو کر عرض کی:
    "مولا! یہاں قیام کیجیے، فرات قریب ہے، پانی میسر ہے، زمین ہموار ہے۔”

    امام حسینؑ نے ایک لمحے کو قدم روکے، زمین کی طرف دیکھا، پھر سوال کیا:
    "اس جگہ کا نام کیا ہے؟”
    جواب ملا: "یہ کربلا ہے۔”

    نام سنتے ہی امامؑ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ گہری خاموشی چھا گئی۔ ایک آہ، جو صدیوں کے دکھ میں لپٹی ہوئی تھی، سینے سے نکلی۔ امامؑ نے فرمایا:
    "یہ کرب (غم) اور بلا (مصیبت) کا مقام ہے۔”

    یہ نام فقط ایک جغرافیائی پہچان نہ تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں حضرت علی صفین جاتے ہوئے ٹھہرے تھے، اور پوچھا تھا:
    "یہ جگہ کون سی ہے؟”
    جب نام سنا، تو فرمایا:
    "یہی وہ سرزمین ہے جہاں ان کا خون بہے گا، جہاں خاندانِ محمدؐ کا قافلہ اترے گا۔”

    اب وہ لمحہ آ چکا تھا۔ قافلہ اتر گیا، ساز و سامان کھولا گیا، خیمے نصب ہوئے۔ لیکن امامؑ کا دل اضطراب سے بھرا ہوا تھا۔ یہ دو محرم 61 ہجری کا دن تھا۔

    امام حسینؑ نے اپنے اہلِ خاندان کو جمع کیا۔ بیٹے، بھتیجے، بھائی، بھانجے سب سامنے موجود تھے۔ ایک نظر سب پر ڈالی، وہ نگاہ جو محبت سے لبریز اور آگاہی سے پر تھی۔ پھر آپؑ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور امامؑ نے آسمان کی طرف رخ کر کے وہ دعا مانگی جو رہتی دنیا تک مظلوموں کی زبان بن گئی:

    "اللهم انا عترة نبيك محمد، وقد اخرجنا وطردنا، وازعجنا عن حرم جدنا، وتعدت بنو امية علينا، اللهم فخذ لنا بحقنا، وانصرنا على القوم الظالمين”

    "اے اللہ! ہم تیرے نبیؐ کا خاندان ہیں، ہمیں ہمارے وطن سے نکالا گیا، ہمیں حرمِ نبویؐ سے ہراساں اور بے دخل کیا گیا، اور بنو امیہ نے ہم پر ظلم ڈھائے؛ اے اللہ! ان سے ہمارا حق لے لے اور ہمیں ان ظالموں پر نصرت عطا فرما!”

    یہ صرف ایک ذاتی فریاد نہ تھی، بلکہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے والے ہر حریت پسند کی زبان تھی۔ یہ پکار تھی ہر اس دل کی جو اقتدار کے ایوانوں میں بند سچائی کو آزاد دیکھنا چاہتا ہے۔

    اسی لمحے امامؑ نے اپنے باوفا ساتھیوں کی طرف رخ کیا اور وہ جملہ کہا جو صدیوں سے اہلِ حق کے لیے آئینہ اور اہلِ دنیا کے لیے تنبیہ ہے:

    "الناس عبيد الدنيا، والدين لعق على السنتهم، يحوطونه ما درت معايشهم، فإذا محصوا بالبلاء قل الديانون”
    "لوگ دنیا کے غلام ہیں، دین صرف ان کی زبانوں پر ہے، جب تک ان کے مفادات محفوظ رہیں، دین کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں؛ لیکن جب آزمائش آتی ہے تو سچے دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں۔”

    یہ ہے کربلا کی روح ، حق کی وہ کسوٹی جو ہر دور کے باطن کو بے نقاب کرتی ہے۔

    امام حسینؑ نے صرف روحانی تیاری پر اکتفا نہ کیا بلکہ عمل کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ آپؑ نے کربلا کی زمین کو نینوی اور غاضریہ کے باشندوں سے چھے ہزار درہم میں خریدا اور شرط رکھی کہ وہ آپ کی قبر کی طرف آنے والوں کی رہنمائی کریں گے اور کم از کم تین دن تک ان کی مہمانی کریں گے۔

    اس عمل نے یہ طے کر دیا کہ کربلا صرف ایک معرکہ نہیں، بلکہ یاد، شعور، زیارت، اور بیداری کا مرکز ہے۔ ایک سوال آج بھی زندہ ہے: کربلا آج بھی ہمیں بلاتی ہے۔

    پوچھتی ہے کہ:
    کیا تم دین کو زبان تک محدود رکھتے ہو؟ یا بلاء کی گھڑی میں بھی حسینؑ کے قافلے میں شامل ہو سکتے ہو؟

    یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں ، یہ ایک جاری سوال ہے، جو ہر دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے:

    حق کے ساتھ ہو؟ یا خاموش تماشائی؟

  • سانحہ سوات،ذمہ دارکون، تحریر:ملک سلمان

    سانحہ سوات،ذمہ دارکون، تحریر:ملک سلمان

    بہت کوشش کے باوجود ساری رات نیند کوسوں دور رہی۔ سوشل میڈیا پر درجنوں افراد کی طرف سے اپلوڈ کی گئی سانحہ سوات کی ویڈیو کو بار بار اور مختلف زاویوں سے دیکھتا رہا۔

    دریائی گزرگاہ پر مشتمل خیبر پختونخوا کے تمام تفریحی علاقوں میں انتظامی افسران کو منتھلی دے کر تو کچھ سیاسی پشت پناہی سے دریا کنارے غیرقانونی طور پر قائم ریور ویو ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کی بھرمار ہے ان غیر قانونی ہوٹلز میں سے ہی سوات کے ایک ریسٹورنٹ میں سیالکوٹ سے تفریح کی غرض سے آئے اس خاندان کے تمام چراغ بجھ گئے۔

    شروع میں جب دریا میں اچانک طغیانی آئی تو متاثرہ خاندان کے تمام افراد مطمئن تھے کہ انکو ریسکیو کرلیا جائے گا ننھے بچے اچانک آنے والے پانی کو ایڈوینچر سمجھ کر انتہائی پر امید انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے مدد کیلئے پکار رہے تھے۔ دریا میں طغیانی اور پانی کے بہاؤ میں شدت سے بدقسمت خاندان کے چہرے پر پریشانی نمایاں ہوئی لیکن وہ پھر بھی پرامید تھے کہ وہ بچ جائیں گے، کسی مسیحا کے انتظار میں صدائیں لگاتے خاندان کو موت کا احساس اس وقت ہوا جب اس پندرہ رکنی خاندان کے تین افراد پانی برد ہوئے۔ دریا میں گرنے والے بھی اس ناگہانی افتاد کو نہیں سمجھ پارہے تھے اور باقی بھی اس سب پر یقین نہیں کر پا رہے تھے، مدد کیلے پکارتی آوازیں آنہوں اور سسکیوں میں بدل گئیں تو کچھ کے حلق خشک ہوگئے۔ بچے ماں باپ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ ہمیشہ پچانے والے انہیں بچالیں گے جبکہ بزرگ والدین بچوں سے امید لگائے بیٹھے تھے کہ جوان بازو انکو موت کی آغوش میں نہیں جانے دیں گے۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا دریا برد ہونے والے اگلے کنارے پر بچ جائیں گے۔ تسلی کے الفاظ اور مسیحا کے منتظر باقی افراد بھی ایک ایک کرکے پانی میں بہتے جارہے تھے۔ قیمتی ترین انسانی جانوں کو اس طرح جاتے دیکھ کر آنکھیں پتھرا گئیں ہیں۔

    ہر وقت گاڑیاں اور وسائل مانگنے والے ڈپٹی کمشنر اور انتظامی ٹیم میں سے کسی نے بچانے کی کوشش نہیں کی۔ انتظامی اور سیاسی لیڈرشپ میں سے کسی نے کوشش نہیں کی کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے قیمتی جانوں کو بچا لیا جائے۔ یہ حادثہ نہیں قتل ہے، ایک خاندان کا نہیں، انسانیت کا قتل ہے، سوات، خیبر پختونخوا اور پاکستان میں سیاحت کا قتل ہے۔ ایسے بدترین حالات میں بیرونی سیاح تو دور مقامی افراد بھی سیاحت سے ڈر اور سہم کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی لیڈرشپ اور انتظامی افسران نے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر عمران خان کی فوٹو لگا کر عوام کو بیوقوف بنایا ہوا ہے اور دونوں عوام کو مسائل کے سپرد کرکے مل بانٹ کر وسائل لوٹ رہے ہیں۔ اس قتل کامقدمہ سیاسی لیڈرشپ اور انتظامی افسران دونوں کے خلاف ہونا چاہئے۔

    چند روز قبل ہم گلگت بلتستان سے واپس آرہے تھے تو مشہور سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ جو سطح سمندر سے اونچائی اور تیزسرد ہواؤں کی وجہ سے سیاحوں کا لازم والا سٹاپ ہوتا ہے وہاں غیرقانونی تجاوزات اور آدھ درجن کے قریب زپ لائنز نے اس کی قدرتی خوبصورتی کو بری طرح متاثر کیا ہوا تھا۔ بیچ سڑک پھل فروش سے پھل خریدتے وقت پوچھا کہ تم کتنا کرایہ دیتے ہو اس نے کہا کہ اس ریڑھی کا پچاس ہزار روپے ماہانہ، میں نے پوچھا کہ زپ لائن اور باقی بڑی شاپس کا کیا کرایہ ہوگا تو اس نے کہا کہ مختلف ہوتا ہے کوئی ماہانہ دیتا ہے تو کسی سے ڈپٹی کمشنر آفس والے سیزن کا ریٹ کرلیتے ہیں۔ ناران کاغان، مہاندری سے مانسہرہ تک سڑک کے دونوں اطراف سرکاری گزرگاہ پر غیرقانونی تعمیرات کی بھرمار۔ ایسا لگتا تھا کہ ڈپٹی کمشنر آفس کے انتظامی افسران اسی پوسٹنگ سے اتنی کمائی کرنا چاہتے ہیں کہ زندگی بھر کی محرومیاں ختم ہو جائیں۔ اپنی حرام کی کمائی سے معاشی محرومیاں ختم کرتے کرتے یہ بے رحم اور سفاک افسران بھول جاتے ہیں کہ ان کی حرام کمائی کے عوض قائم ہونے والی تجاوزات سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں جبکہ منتھلی کے عوض دریا کنارے غیر قانونی ریسٹورنٹس اچانک ہونے والی دریائی طغیانی میں ہر سال قیمتی جانی و مالی نقصاں کا باعث بنتے ہیں۔ اسی ہفتے 20جون کو تین سیاح ناران میں ہلاک ہوئے لیکن مانسہرہ اور خیبرپختونخوا کے انتظامی افسران اور سیاسی قیادت کی بے حسی میں ذرا برابر کمی نہ آئی۔ جیسی صوبائی سیاسی لیڈرشپ ہو گی ویسے ہی بے حس اور لٹیرے افسران۔ گذشتہ 12سال سے خیبرپختونخوا کرپشن اور بیڈ گوورننس کی بدترین تصویر بنا ہوا ہے۔ ہیلی کاپٹر کو پشاور سے سوات پہنچنے میں صرف 40منٹ درکار ہوتے ہیں لیکن 120منٹ میں نہ تو ہیلی کاپٹر آیا اور نہ ہی کسی سیاسی لیڈر اور انتظامی افسر نے پہنچنے کی زحمت کی۔ کیونکہ سیاسی و انتظامی گٹھ جوڑ تو صوبے بھر کے وسائل لوٹنے کیلئے متحد ہے دونوں مل کر کر اسمگلنگ، منرلز، معدنیات اور ٹمبرچور ی میں مصروف ہوتے ہیں۔ چند سال قبل جب گلگت بلتستان میں سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کا کار خاص بنا ایک افسر ڈپٹی کمشنر سکردو تھا مجھے وہاں کے ایک مقامی سوشل ایکٹیوسٹ نے کہا کہ ڈاؤن (پنجاب) سے آنے والے افسر تو بہت اچھے ہوتے ہیں لیکن یہ والا صاحب تو اتنا لٹیرا ہے کہ اس کا بس نہیں چلتا کہ پیسے کمانے کیلئے ساری زمین بیچ دے۔ انتظامی افسران کا عوام سے رویہ سیاسی لیڈرشب طے کرتی ہے بزدار دور سے پنجاب میں تعینات افسران کی اکثریت قانون شکن اور کرپٹ پریکٹس کی عادی تھے لیکن جب سے مریم نواز شریف وزیراعلیٰ بنی ہیں ان کرپٹ افسران کی وہ والی موجیں نہیں رہیں کیونکہ انکو اندازہ ہے کہ وزیراعلیٰ تک پہنچنے والی شکایت کے بعد معافی نہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • آج کا نوجوان اور تہذیب

    آج کا نوجوان اور تہذیب

    آج کا نوجوان اور تہذیب
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستانی معاشرے میں اگر آج کے نوجوان کی بات کی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آج کا نوجوان تعلیم یافتہ ہے، باخبر ہے، جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے، مگر جب بات تہذیب و اخلاق کی ہو، تو ایک نمایاں خلا دکھائی دیتا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ترقی کی اس دوڑ میں نوجوان نے علم تو حاصل کر لیا، مگر تہذیب کہیں پیچھے رہ گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم اور تہذیب الگ الگ چیزیں ہیں؟ اور اگر نہیں، تو پھر آج کا تعلیم یافتہ نوجوان بدتہذیبی کا شکار کیوں ہے؟

    تہذیب کا مطلب ہے: انسان کے ظاہر و باطن کو پاکیزہ اور متوازن بنانا، اخلاق، رویوں، اور معاملات کو نکھارنا۔ اسلامی تہذیب میں شائستہ گفتار، والدین کا ادب، بڑوں کا احترام، حقوق العباد، سچائی، دیانتداری، حیا اور صفائی جیسے اصول شامل ہیں۔

    نوجوان اور تہذیب میں فاصلے کی وجوہات کیا ہیں جو پاکستانی معاشرے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں؟ مغربی طرزِ زندگی کو "ترقی” سمجھا جانے لگا ہے، جس میں فیشن، آزاد خیالی، مادہ پرستی اور خود غرضی غالب ہیں۔ یہ یلغار میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہر گھر میں داخل ہو چکی ہے۔

    آج والدین بچوں کو موبائل، ٹی وی اور گیجٹس تو دے دیتے ہیں، مگر وقت اور تربیت نہیں دیتے۔ ماں باپ خود مصروف، اور بچے اکیلے — نتیجہ یہ کہ تہذیب سکھانے والا کوئی نہیں۔

    ہمارا تعلیمی نظام ڈگریاں دیتا ہے، لیکن کردار سازی نہیں کرتا۔ نہ نصاب میں اخلاقیات کی تربیت ہے، نہ اساتذہ کردار کے نمونے ہیں۔

    نوجوانوں کی زندگی کا بڑا حصہ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر گزرتا ہے، جہاں نام نہاد "ستارے” فحاشی، شہرت، اور شہوت کو "کامیابی” کی علامت بنا کر پیش کرتے ہیں، جو ہمارے معاشرے میں برائی کی جڑ ہے۔

    نماز، قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ، اور اسلامی تاریخ سے نابلد نوجوان، صرف دنیا کی چکا چوند کو جانتا ہے، مگر روحانی روشنی سے محروم ہے۔

    آج ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، اور افسر بھی جھوٹ بولتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، بڑوں سے بدتمیزی کرتے ہیں، فحاشی میں مبتلا ہوتے ہیں، جس کی کئی ایک مثالیں ہماری معاشرتی زندگی میں موجود ہیں تو کیا ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ ہے؟

    حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے:> "بدترین جاہل وہ ہے جو تعلیم یافتہ ہو کر بھی ادب سے خالی ہو۔”

    تہذیب سے محرومی کے نتائج

    * والدین اور اساتذہ کا احترام ختم
    * معاشرے میں بدتمیزی، جھوٹ، بے حسی
    * فحاشی، بے حیائی، اور اخلاقی زوال
    * خودغرضی، مادہ پرستی، اور بے سکونی
    * دین سے دوری اور دنیا پرستی

    حل کیا ہے؟ نوجوان کو مہذب کیسے بنائیں؟

    اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنایا جائے
    قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ، اور دینی تعلیم لازمی کی جائے۔

    خاندان میں تربیت کو ترجیح دی جائے

    والدین وقت دیں، کردار سے سکھائیں، دعاؤں پر نہ چھوڑیں۔

    اساتذہ اور ادارے تربیت کے مراکز بنیں
    صرف نصاب نہ پڑھائیں، اخلاقیات، کردار اور انسانیت بھی سکھائیں۔

    میڈیا کی اصلاح ہو
    ایسے کردار سامنے لائے جائیں جو اخلاق، حیا اور تہذیب کا نمونہ ہوں۔

    سوشل میڈیا پر نگرانی اور رہنمائی ہو
    نوجوانوں کو بامقصد استعمال کا شعور دیا جائے۔

    سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہے، مگر امید کا دامن کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہی۔

  • نیتن یاہو غزہ کے بچوں ، مودی کشمیریوں کا قاتل ،دنیا خاموش کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نیتن یاہو غزہ کے بچوں ، مودی کشمیریوں کا قاتل ،دنیا خاموش کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نیتن یاہو غزہ کے بچوں ، مودی کشمیریوں کا قاتل ،دنیا خاموش کیوں؟
    چین، روس، امریکہ اورعربوں سمیت دوسری عالمی قوتوں نے کیا کردار ادا کیا؟
    امریکہ یورپ میں مساجد موجود ،نمازیں ہوتی ہیں ،آج تک کسی حکومت نے پابندی نہیں لگائی
    دنیا بھر میں جھوٹ کے سہارے صرف عام آدمی کو گمراہ کیا جاتا ہے،سیاسی دکانیں چل رہی ہیں
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    چین کو مستقبل میں سپر پاور کہا جارہا ہے دنیا کے ترقی پذیر ممالک سے یہ سننے کو ملتا ہے سپر پاور وہ ہوتی ہے جو دنیا کے انتظام میں بڑا کردار ادا کرتی ہے جیسے امریکہ آج عالمی امور میں دخل دیتا ہے لوگوں کو پسند نہیں آتی امریکہ سے پہلے برطانیہ اس سے پہلے سلطنت عثمانیہ ماضی قدیم میں چنگیز خان اور سکندر اعظم جیسے فاتح رہے، آج سب کو ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے ایٹم بم یاد ہیں اس سے پہلے جاپانی کتنے ظالم تھے انہوں نے محکوم عوام پر کتنے ظلم کئے اپنی طاقت کے زعم میں کہاں کہاں حملے کئے وہ بھلایا جا چکا ہے، تاریخ کا مطالعہ کرنے پر انسان جس میں انسانیت ہو کانپ جاتا ہے، دوسری جنگ عظیم میں امریکہ ابتدا میں غیر جانبدار تھا جاپانیوں نے اس کی بندرگاہ پر حملہ کر کے ڈھائی ہزار امریکوں کو مار ڈالا امریکہ کو جنگ میں کودنا پڑا، آج امریکہ میں حقیقی جمہوریت ہے عوام احتجاج کر سکتے ہیں یہ ملک غلطیوں سے سیکھتا ہے ، آج امریکی قوانین اور امریکی معاشرہ ماضی کی بہت سی خامیوں سے پاک ہے ہر چار سال بعد الیکشن ہوتے ہیں بہت سے صدر آئے ہر صدر نے پہلے کی غلطیوں کو درست کیا آج بھی اگر امریکہ غلطی کرتا ہے تو فوراً اس کو احساس ہوتا ہے وہ دنیا سے معذرت کرتا ہے سپر پاور امریکہ ہو یا چین ورلڈ آرڈر برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہوتی ہے، مسلمانوں کی اکثریت کو کہا جاتا ہے کہ امریکہ مسلمانوں کے خلاف ہے اگر ایسا ہوتا تو امریکہ اپنے ملک میں مسلمانوں پر پابندیاں لگاتا ،امریکہ میں ہزاروں مساجد ہیں امام بارگاہیں ہیں جمعہ کے اجتماعات محرم کی مجالس نہ ہوتیں مغربی ممالک میں اسی طرح کے منظر دیکھے جا سکتے ہیں برطانیہ سمیت مغربی ممالک میں مساجد اور امام بارگاہ موجود ہیں، اسرائیل کو بھی امریکہ سے ویسی شکایات ہیں جیسی مسلمانوں کو وہ امریکہ کو دوست مانتے ہیں لیکن شکوہ بھی کرتے ہیں ، یاد رکھیئے عالمی دنیا کے ممالک میں سیاسی گلیاروں میں سیاستدان ہی تو ہیں جو عام آدمی کو گمراہ کرتے ہیں جھوٹ کا سہارا لے کر اپنی سیاسی دکان چلاتے ہیں آج دنیا بھر میں جھوٹ اور افواہ سازی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جاتا ہے، دنیا میں کہیں جمہوریت کے نام پر جھوٹ کہیں مذہبی لبادہ اوڑھ کر جھوٹ بولا جاتا ہے، امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے لئے چین یا روس سے فوجی تعاون حاصل کرتے ہیں اس کی چار گنا قیمت ادا کرتے ہیں، نیتن یاہو غزہ کے بچوں کا قاتل ہے مودی کشمیروں کا قاتل ہے، چین، روس، امریکہ اور دوسری عالمی قوتوں نے کیا کردار ادا کیا؟ عرب ممالک جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں انہوں نے کیا کردار ادا کیا؟ چین اور اسرائیل کے تعلقات کیسے ہیں ان دونوں کی تجارت کا حجم کتناہے؟ ترکی کی اسرائیل تجارت کا حجم کرتا ہے؟ سچ تو یہ ہے دنیا بھر میں جھوٹ کے سہارے عام آدمی کو گمراہ کیا جاتا ہے

  • واقعۂ کربلا صرف ایک جنگ یا سانحہ نہیں، بلکہ ایک عظیم پیغام ہے

    واقعۂ کربلا صرف ایک جنگ یا سانحہ نہیں، بلکہ ایک عظیم پیغام ہے

    واقعۂ کربلا صرف ایک جنگ یا سانحہ نہیں، بلکہ ایک عظیم پیغام ہے
    مکہ سے کربلا کا سفر – یک محرم
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    محرم الحرام کی آمد ہر سال صرف اسلامی کیلنڈر کا آغاز ہی نہیں لاتی بلکہ یہ مہینہ دلوں میں ایک گہری اداسی، روح میں ایک عجیب اضطراب اور تاریخ میں ایک عظیم جدوجہد کی یاد کو بھی تازہ کر دیتا ہے۔ یکم محرم الحرام کا دن مسلمانوں کے لیے نہ صرف نئے سال کی شروعات کا دن ہے بلکہ یہ وہ لمحہ ہے جب اہل بیتِ اطہارؑ کی عظیم قربانیوں کے ایک نئے اور کٹھن سفر کا آغاز ہوا۔ کربلا کی طرف جانے والا راستہ اسی دن سے ایک ایسی تاریخ کی بنیاد بن گیا جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی کہانی میں ڈھلنے جا رہا تھا۔

    یکم محرم وہ دن تھا جب امام حسینؑ، رسول کریم ﷺ کے نواسے ے اپنے خاندان اور رفقاء کے ہمراہ یزیدی حکومت کے ظلم اور جبر کے خلاف عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ امام حسینؑ نے یہ فیصلہ کسی ذاتی مفاد، اقتدار یا سیاسی مفاہمت کے لیے نہیں کیا، بلکہ یہ فیصلہ ایک اصول، ایک سچائی اور دینِ اسلام کے حقیقی چہرے کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایک مسلمان اگر حق پر ہو تو وہ تنہا ہو کر بھی باطل کے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے، چاہے دشمن کا لشکر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔

    امام حسینؑ کے ساتھ ان کے جانثار رفقاء، وفادار اصحاب اور اہل بیتؑ کے وہ افراد شامل تھے جنہوں نے نہ صرف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا بلکہ اپنی غیر متزلزل وفاداری، صبر، استقامت، اور قربانی سے تاریخِ انسانیت کو وہ باب عطا کیا جو رہتی دنیا تک مظلوموں کی ڈھارس اور ظالموں کے لیے ایک بے آواز احتساب بن کر گونجتا رہے گا۔ ان میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے جو پیاسے لبوں سے وفا کی شمع جلائے ہوئے تھے، نوجوان جو حسینؑ کے نام پر اپنی جوانیاں وار دینے کو تیار تھے، ضعیف اصحاب جو تھر تھراتے جسموں کے ساتھ بھی ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور باوقار خواتین جنہوں نے اسیری کے عالم میں بھی حوصلے، وقار اور پیغام رسانی کا کردار ادا کیا۔

    یکم محرم کو جب امام حسینؑ نے کربلا کی بے آب و گیاہ سرزمین پر قدم رکھا، تو یہ محض ایک قافلے کا پڑاؤ نہیں تھا بلکہ یہ تاریخ کی سب سے بڑی نظریاتی تحریک کا آغاز تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں حق و باطل کا فیصلہ تلوار سے نہیں بلکہ کردار سے ہونا تھا۔ کربلا صرف میدانِ جنگ نہ تھا بلکہ ایک درسگاہ بن چکا تھا جہاں ہر لمحہ، ہر قدم اور ہر سانس ایک پیغام تھا۔

    واقعۂ کربلا درحقیقت صرف ایک خونریز معرکہ یا سانحہ نہیں بلکہ ایک عالمی اور آفاقی پیغام ہے۔ یہ وہ صدا ہے جو وقت کے ہر یزید کے خلاف حسینؑ کے لہجے میں گونجتی ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حق اور انصاف کے لیے زندہ رہنا اور ضرورت پڑے تو اس پر قربان ہو جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی جان دی بلکہ اصولوں کی حفاظت کے لیے اپنے پیاروں کو قربان کیا اور تاریخ کو یہ سکھایا کہ مقصد جب عظیم ہو تو قربانی بھی عظیم ہونی چاہیے۔

    کربلا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عزت صرف طاقت سے نہیں بلکہ اصولوں سے آتی ہے۔ حسینؑ نے پیاسے رہ کر سیراب دلوں کو جلا بخشی، انہوں نے تنہا ہو کر انسانیت کو اجتماع کی اہمیت سکھائی اور انہوں نے مر کر بھی اسلام کو زندہ کر دیا۔ محرم کی ہر آمد کے ساتھ کربلا کا پیغام ایک نئی شدت سے دلوں کو جھنجھوڑتا ہے، ضمیروں کو جگاتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ باطل کتنے ہی وسائل سے لیس ہو، حق کی طاقت کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

    یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی قیمت پر سچائی سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ جب حالات ناسازگار ہوں، جب دشمن طاقتور ہو اور جب ظاہری دنیا حق سے منہ موڑ چکی ہو، تب بھی اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنے اصولوں پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔ امام حسینؑ کا پیغام نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک دائمی درس ہے کہ مظلوم اگر صاحبِ حق ہو تو وہ زمانے کے یزیدوں کو شکست دے سکتا ہے، وہ بھی میدانِ کربلا میں اور وہ بھی صرف کردار، صبر اور صداقت کے ہتھیاروں سے۔

    امام حسینؑ کا پیغام رہتی دنیا تک مظلوموں کے لیے امید اور ظالموں کے لیے ایک کھلا چیلنج بنا رہے گا۔ محرم ہمیں صرف آنسو نہیں دیتا، بلکہ حوصلہ بھی دیتا ہے . باطل کے خلاف کھڑا ہونے کا، سچ بولنے کااور عدل و انصاف کے لیے قربانی دینے کا۔

  • قانون سے کھلواڑ کرتے بیوروکریسی کے سپر ہیروز.تحریر:ملک سلمان

    قانون سے کھلواڑ کرتے بیوروکریسی کے سپر ہیروز.تحریر:ملک سلمان

    غنڈوں بدمعاشوں کو عام طور پر ”زندہ فرعون“ کے نام سے پکارا جاتا ہے لیکن بیوروکرویسی میں حکمرانوں کی جی حضوری اور اٹھائی گیری میں زمین و آسمان ایک کرکے خود کو قانون سے بالا تر اور ماورائی مخلوق بن کر کرپشن، قانون شکنی اور فاشزم کی انتہا کرنے والے یہ تگڑے افسر جو اپنے قبیل کے سنئیر افسران کو بھی خاطر میں نہیں لاتے ان کیلئے "سرکاری فرعون” اور "آن ڈیوٹی ڈریکولا” کی ٹرمز استعمال کی جاتی ہیں۔ ان زندہ و حاضر سروس فرعونوں کے سامنے کوئی نہیں بولتا لیکن جب یہ زمینی خدا ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو پھر ساتھی افسران ان کی ریکارڈ توڑ کرپشن، لاقانونیت اورفرعونیت کی داستانیں زبان زدعام کرتے ہیں اور کچھ کتابیں لکھ دیتے ہیں لیکن دوران سروس ان کی شر سے بچنے کیلئے کوئی بھی ایسا اقدام نہیں کرتے۔ دیر آید درست آید کے مترادف یہ سارے کردار تاریخ میں ایک بدنما داغ اور گالی بن کر رہ جاتے ہیں۔

    اگر میرٹ کی بات کی جائے تو سرکاری ملازم کسی سیاسی جماعت کا ورکر نہیں ہوتا جس کی مرضی حکومت آئے انہوں نے اپناکام کرنا ہے لیکن حقیقت اس کے متصادم ہے یہاں وہی افسر کامیاب ہے جو عوامی فلاح و بہبود کی بجائے سیاسی اور حکومتی نوکری کیلئے خود کو وقف کر دے۔
    سابق حکومت کے ساتھ کام کرنے والوں میں سے کچھ کو بزدار اور پی ٹی آئی سے نتھی کرکے کے کھدے لائن لگا دیا گیا ہے تو کچھ کو پرموشن سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ موجودہ سیٹ اپ میں اہم سیٹوں پر بیٹھے سارے بزداریے ہیں جو بزدار کے پی ایس او، سی ایس او، اسکے ہوم ٹاؤن کے مجاور خاص بن کرگئے تھے وہی افسران آج نئے دربار کی مجاوری کر رہے ہیں۔ ان کی واحد قابلیت اٹھائی گیری میں چیمپئن ہونا ہے، آٹھ سنئیر افسران کے سامنے ٹشو سے بزدار کے جوتے صاف کرنے والا بھی موجودہ حکومت میں فٹ ہوگیا تھا۔

    آج تک ہم سپر ہیروز کی کہانیاں سنتے تھے یا فلموں اور ڈراموں میں ہی دیکھتے تھے کیونکہ ان کرداروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بیوروکریسی کے کماؤ پتر اور لاڈلے افسران کو بھی سپر ہیروز بنا کر پیش کیا جاتا ہے کسی کو جونئیر گریڈ میں ڈی جی، ایم ڈی، سی ای او، پی ڈی اور سیکرٹری لگا دیا جاتا ہے تو کسی کو دو سے تین اضافی چارج دے کر سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا جاتا ہے۔
    گذشتہ دنوں حکومت پنجاب کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں مینشن تھا کہ صوبائی سروس کے دو افسران کو اس لیے عہدوں سے ہٹایا جارہا ہے کہ یہ این ایم سی کیلئے اہل ہوجائیں۔ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی باقی سارے افسران اہم ترین سیٹوں پر موجود ہیں اور این ایم سی کیلئے اہل بھی ہوگئے سارے قانون صرف صوبائی سروس کے افسران کیلئے؟

    گریڈ بیس سے گریڈ اکیس میں ترقی کیلئے ناگزیر کورس این ایم سی کرنے والے ہر افسر کیلئے بائیس لاکھ روپے کی خطیر رقم حکومتی خزانے سے ادا کی جاتی ہے۔
    گریڈ بیس سے گریڈ اکیس کیلئے نیشنل مینجمنٹ کورس، گریڈ انیس سے گریڈ بیس کیلئے سنئیر مینجمنٹ کورس اور گریڈ 18سے گریڈ 19 کیلئے مڈ کیرئیر مینجمنٹ کورس تقریباً چار ماہ پر مشتمل ٹریننگ کورسز ہیں۔
    اچھی پوسٹنگ حاصل کرنے والے افسران ٹریننگ کیلئے ہرگز راضی نہیں ہوتے۔ اچھی سیٹ پر موجود افسران ٹریننگ سے بچنے کیلئے زور لگا رہے ہوتے ہیں۔ شیر جنگل کا بادشاہ ہے انڈے دے یا بچے کے مترادف تین دفعہ ٹریننگ کورسز چھوڑنے کی گنجائش موجود ہے سونے پر سہاگہ کہ کمپیٹنٹ اٹھارٹی کی درخواست پر ٹریننگ سے جتنی دفعہ مرضی نام نکلواتے رہیں وہ چانس ضائع کرنا کنسڈر ہی نہیں ہوگا۔ ٹریننگ پر صرف وہی جانا چاہتا ہے جو ”اوایس ڈی” ہو یا پھر کسی کھڈے لائن پوسٹنگ تو وہ سوچتا ہے ویلا بیٹھا ٹریننگ ہی کر لوں۔

    لاقانونیت اور لاڈلے پن کی انتہا کا یہ لیول ہے کہ سفارشی اور تگڑے افسران صرف اس شرط پر ٹریننگ کرتے ہیں کہ انکی پوسٹنگ ساتھ رہے گی۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ بغیر ٹریننگ کہ تم سے کام ہو نہیں رہا ہوتا اور اتنے تیس مار خان رہے کہ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ پوسٹنگ بھی چاہئے۔ قابلیت کے دعویداروں کا حقیقی حال یہ ہے کہ بہت سارے افسران دوران ٹریننگ رپورٹس اور اسائمنمٹ تک بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، رپورٹس، اسائمنٹس اور ریسرچ پیپر پیسے دے کر ایکسپرٹس سے بنوائے جاتے ہیں۔

    دوران ٹریننگ پوسٹنگ ہولڈ کرنے والے لاڈلے تو خوش ہوجاتے ہیں لیکن عوامی فلاح و بہبود کے کام ٹھپ ہوجاتے ہیں۔ سینکڑوں افسران او ایس ڈی ذلیل ہو رہے ہیں لیکن یہ سفارشی افسران اتنے ناگزیر ہیں کہ ٹریننگ اور پوسٹنگ ایک ساتھ چاہئے نوابوں کو۔ دوران ٹریننگ سارے افسران وفاقی اسٹیبشمنٹ ڈویژن کی ڈسپوزل پر ہوتے ہیں اور ان چار ماہ کی اے سی آر بھی وہی لکھتے ہیں ایسے میں ان افسران کی کسی بھی صوبائی یا وفاقی عہدے پر موجودگی غیر قانونی اقدام ہے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ انہوں نے صرف افسران کے ناز نخرے، غیر قانونی اقدامات اور ناجائز خواہشات پوری کرنی ہیں یا عوام کو بھی ڈلیور کرنا ہے۔

    آرمی میں بہت اچھا سسٹم ہے کہ آپ ڈائریکٹ ٹریننگ پر نہیں چلے جاتے بلکہ ٹریننگ سے پہلے انٹرنس ایگزام لیا جاتا ہے اس امتحان میں پاس ہونے والے ہی ٹریننگ کیلئے شارٹ لسٹ ہوتے ہیں۔ آرمی، نیوی اور ائیرفورس سمیت افواج پاکستان میں پرموشن کورسز کے دوران پوسٹنگ کا تصور بھی نہیں۔
    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واضح پالیسی دینا ہوگی کہ دوران ٹریننگ کسی کو پوسٹنگ نہیں دی جائے گی۔ پرموشن کورس میں شرکت کیلئے پوسٹنگ پر نہ ہونا لازم کیا جائے۔ کیا پرموشن کے لیے ڈیزائن کیے گئے کورسز اتنے بیکار اور ناکارہ ہیں کہ افسران پوسٹنگ انجوائے کرتے ہوئے انہیں اوور ٹائم کی وقت گزاری سمجھتے ہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • تبصرہ کتب: تعلیمی تربیتی سنہری کہانیاں

    تبصرہ کتب: تعلیمی تربیتی سنہری کہانیاں

    مصنف : عبدالمالک مجاہد
    صفحات : 408
    قیمت : 1500روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹیریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ :37324034 042-
    زیر تبصرہ کتاب ” سنہری کہانیاں “ نوجوان بچوں ، بچیوں اور خصوصاََ آٹھویں ، نویں اور دسویں کے طلبہ وطالبات کے لیے لکھی گئی ہے ۔بچوں اور نوجوانوں کی تربیت واصلاح کے حوالے سے یہ بہت ہی شاندار ، لاجواب اور مفید کتاب ہے ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ جو نوجوان ایک بار یہ کتاب پڑھ لے ۔۔۔۔ممکن نہیں کہ وہ اپنے اندر مثبت اور مفید تبدیلی نہ پائے ۔ ہمارا معاشرہ جس تیزی سے تباہی کا شکار ہے ان حالات میں نوجوانوں کی تربیت واصلاح کی بے حد ضرورت ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ قوم کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔نوجوان ہی قوم کی تعمیر وترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔24کروڑ آبادی کے حامل ملک پاکستان کی مجموعی آبادی کا 64فیصد حصہ 30سال سے کم عمر کے جوانوں پر مشتمل ہے جبکہ ان میں 29فیصد 15سے 29سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔اس طرح 195ممالک میں سے پاکستان یوتھ پاپولیشن کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ کسی بھی قوم کی کامیابی وناکامی ، فتح وشکست ، ترقی وتنزلی اور عروج وزوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ باوجود اس بات کہ پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد دنیا کے تمام ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا ملک تعمیر وترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہے ۔ وجہ یہ کہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی نہیں کی جارہی ۔ آج بھی اگر نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کی جائے تو یقینا یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل بن سکتا ہے اور قوم کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے ۔اس وقت پاکستان بھر میں دارالسلام انٹر نیشنل بچوں اور نوجوانوں کی تربیت اور رہنمائی کے لیے سب سے زیادہ کتابیں شائع کررہا ہے ۔ پیش نظر کتاب ” سنہری کہانیاں “ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اس کتاب کے مصنف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ” جب بھی کوئی مصنف یا مو¿لف کوئی کتاب لکھتا یا تالیف کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ ” سنہری کہانیاں “ لکھنے کا سبب بھی ایک ایسے سکول ٹیچر ہیں جو ایک دفعہ مجھے سے ملے اور کہنے لگے ” مجاہد صاحب ! میرا معمول ہے کہ کلاس میں بچوں کو پڑھانے سے پہلے آپ کی کسی نہ کسی کتاب کا کوئی واقعہ اپنے شاگردوں کو سناتا ہوں۔ اس سے بچوں کے دل نرم اور دماغ فریش ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح میں بڑے اچھے انداز میں اپنے شاگردوں کو پڑھا لیتا ہوں“ ۔مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ قوم کا ایک معمار اورمعلم بچوں کی اصلاح و تربیت میں میری کتابوں سے مدد لیتا ہے ۔ اس ایک واقعہ سے بچوں کے لیے لکھی گئی کتابوں کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے ۔اس میں شک نہیں کہ کتابوں میں لکھے بعض واقعات بہت عمدہ اور دلچسپ ہوتے ہیںجو سامعین کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر واقعات سچے ہوں تو ان کے اثرات دیر پا ہوتے ہیں۔جبکہ اس کائنات میں سب سے سچی کتاب قرآن مجید ہے جس کا ایک ایک لفظ صحیح ہے یا پھر صحیح احادیث میں جو واقعات مذکور ہیں وہ بھی بالکل صحیح ہیں۔ پیش نظر کتاب ” سنہری کہانیاں “ کی تیاری میں قرآن مجید ، احادیث سیرت و تاریخ کی کتابوں میں موجود واقعات سے مدد لی گئی ہے ۔ اسی طرح بعض واقعات عصر حاضر میں پیش آتے ہیں، بعض معاصر کتابوں اور اخبارات میں جگہ پاتے ہیں ،بعض علماءکرام ، خطباءاور واعظین بیان کرتے ہیں ۔اس طرح کے ایک سو سبق آموز اور نصیحت آموز واقعات اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں ۔ کتاب میں موجود کہانیوں کا انتخاب عمدہ ، دلچسپ ، تربیتی اور اصلاحی ہے ۔جن کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل موضوعات سے کیا جاسکتا ہے : اپنے قاتل پر لطف وکرم ، جب بھی نواسہ رسول ﷺ کو دیکھا آنکھیں بھیگ گئیں ، لاالہ الا کی فضیلت وبرکت ، ایک ذہین جرنیل کی کہانی ، دماغ سے کام لو جیبوں کو بھر لو ، قریشی نوجوان کی ایمان افروز کہانی ، یہودی بچے کی عیادت ، عبرتناک موت کے واقعات ، طاقت کے باوجود معاف کرنے والا جنتی ، انگور کے گوشے نے وزارت دلا دی ، طلبہ کے ساتھ حکمت ، چرواہے کا تقویٰ حیران کرگیا ، بیت الخلا میں موت ، فضول خرچ آدمی شیطان کا بھائی ، احسان اور وفا کا دن ، سب سے زیادہ مہمان نواز مکی گھرانہ ، جھوٹی قسم کھانے والے کا عبرناک انجام ، سر قلم ہونے والا تھا کہ معاف کردیا ، امی فرشہ فرشتہ آگیا آگیا ، اللہ کی رضا پر راضی رہنے والی ماں ، نبی علیہ السلام کی خاص دعا خاص موقع کے لیے ، خیر اور بھلائی کی خصلتیں ، چھوٹے بچے بڑوں کے رہبر ، غریب بڑھیا کی دعا کا معجزہ ، سکول ٹیچر کی کہانی اس کی زبانی ، براءبن مالک نے تاریخ کا رخ موڑ دیا ، بھلائی بری موت سے بچاتی ہے ، میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا ، نبی ﷺ کا ایک خوش قسمت دیہاتی دوست ۔ کتاب میں شامل دیگر موضوعات بھی اسی طرح دلچسپ اور سبق آموز ہیں ۔ اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ کتاب ہر گھر کی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہئے کہ گھروں میں اپنے بچوں کو یہ واقعات سنائیں ، اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں میں یہ واقعات سنائیں ، دوست اپنی محفلوں اور مجالس میں اور واعظین اپنے خطبوں اور تقاریر میں یہ واقعات بیان کریں۔ ان شاءاللہ ان واقعات سے معاشرے میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی آئے گی ۔

  • زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو،تحریر:نور فاطمہ

    26 جون کو دنیا بھر میں انسداد منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد نہ صرف منشیات کے استعمال اور اسمگلنگ کی روک تھام ہے بلکہ معاشرے کو آگاہی دینا اور خاص طور پر نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانا بھی ہے جو ان کی زندگیوں، تعلیم، صحت، اور مستقبل کو نگل رہا ہے۔نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب انسان اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کے سفر پر نکلتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہی عمر منشیات جیسے مہلک جال میں سب سے زیادہ الجھتی ہے۔ سگریٹ، گٹکا، چرس، آئس، ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیاء آج ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

    منشیات صرف جسم کو تباہ نہیں کرتیں بلکہ ذہن، کردار، رشتے، اور مستقبل کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہیں۔تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء جب منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں تو ان کی تعلیمی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔منشیات کی لت جرائم، بے راہ روی اور ذہنی دباؤ کو جنم دیتی ہے، جس سے پورا معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔

    دوستوں کی غلط صحبت،ذہنی دباؤ، امتحانی ناکامیاں یا خاندانی تنازعات کی وجہ سے نوجوان منشیات کی طرف جاتے ہیں،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر منشیات کو "فیشن” کے طور پر دکھایا جاتا ہے اس وجہ سے بھی نوجوان منشیات کی طرف راغب ہوتے ہیں،آسانی سے دستیابی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت کی وجہ بھی منشیات کی طرف لے جاتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھے دوست چُنیں، وہ دوست بنائیں جو مثبت سوچ رکھتے ہوں، تعلیم میں دلچسپی لیتے ہوں اور آپ کو برے راستوں سے روکیں۔خاندانی رشتوں کو مضبوط کریں،والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ بہتر تعلق نوجوان کو تنہائی اور ذہنی دباؤ سے بچاتا ہے۔مذہب اور روحانیت سے رشتہ جوڑیں،اللہ تعالیٰ پر یقین، نماز، ذکر اور قرآن فہمی ایک مضبوط کردار کی بنیاد بنتی ہے۔

    حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف آگاہی مہم چلائی جائے۔کھیلوں، آرٹس اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان مثبت سرگرمیوں میں مشغول رہیں۔منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کیا جائے۔منشیات وقتی سکون دے سکتی ہیں، لیکن زندگی بھر کی پشیمانی اور تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ نوجوانو، تمہیں اس قوم کا معمار بننا ہے، تمہاری آنکھوں میں پاکستان کا مستقبل بسا ہوا ہے۔ آؤ آج یہ عہد کریں کہ نشے کو نہیں، علم، کردار، محنت اور عزت کو اپنائیں گے۔ کیونکہ "زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو!”