Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 26 جون: منشیات کے خلاف عالمی دن

    26 جون: منشیات کے خلاف عالمی دن

    26 جون: منشیات کے خلاف عالمی دن
    تحریر: ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    📧 ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    26 جون کا دن منشیات کے استعمال اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ منشیات کے استعمال کی تاریخ بھی انسانی تاریخ کی طرح قدیم ہے۔ انسان اس کا استعمال شاید ازل سے ہی کرتا آ رہا ہے۔ دنیا کے تمام خطوں میں ایسی قدرتی اور خودرو جڑی بوٹیاں موجود ہیں جن کے استعمال سے نشہ ہوتا ہے۔

    منشیات کا استعمال صدیوں سے جاری ہے۔ قدیم مذاہب اور تہذیبوں میں اس کی کوئی ممانعت نہیں تھی، البتہ اسلام نے ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دے کر مسلمانوں کو اس سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ لیکن آج دنیا کے دیگر ممالک کی مانند اسلامی ممالک میں بھی اس کا استعمال عام ہے۔

    افغانستان کا شمار ان ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں دنیا کی سب سے زیادہ مقدار میں منشیات کی پیداوار ہوتی ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقے منشیات کی اسمگلنگ کے لیے مشہور ہیں۔ اس کا استعمال خیبر سے کراچی تک ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ نشے کے عادی افراد کے بوجھ نے پاکستان میں صحت عامہ کے نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ چھ لاکھ سے زائد پاکستانی نشہ کرنے والوں کو منشیات نہ ملے تو اس وجہ سے ان کی موت بھی ہوسکتی ہے۔ اے این ایف نے صرف پاکستان کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کا عزم مصمم کر رکھا ہے، جس میں اب تک اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) نے حوصلہ افزا کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

    اے این ایف نے ریکارڈ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس دوران لاکھوں کلو گرام منشیات پکڑی گئی ہیں، جو اے این ایف کی بہترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کا کریڈٹ اے این ایف کے میجر جنرل عبدالمعید اور کمانڈنٹ پشاور اے این ایف بریگیڈیئر مظہر حسین کو جاتا ہے۔

    دیگر سرکاری ایجنسیوں کے علاوہ ایف بی آر کے محکمے اور ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ پشاور آپریزمنٹ اور کسٹم انفورسمنٹ کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ ان محکموں نے بھی منشیات پکڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس کا سہرا چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، ممبر کسٹم آپریشن محمد جنید جلیل خان، چیف کلکٹر کسٹم آپریزمنٹ نارتھ پشاور خواجہ خرم نعیم، کلکٹر کسٹم آپریزمنٹ پشاور اظہر المہدی، چیف کلکٹر کسٹم انفورسمنٹ باسط عباس اور کلکٹر کسٹم انفورسمنٹ ضیاء اللہ شمس کو جاتا ہے۔

    محکمہ کسٹمز پشاور نے بڑی تعداد میں منشیات، شراب، جعلی سگریٹ، زائدالمیعاد ادویات (جو کہ استعمال کے لیے نہایت ہی مضر صحت ہیں) پکڑی ہیں جن میں ہیروئن پاوڈر، چرس، افیون، میتھیمفیٹامین (آئس ڈرگ)، کوکین وغیرہ شامل ہیں، جن کی مالیت 30 ملین روپے بنتی ہے۔ کسٹم جنرل آرڈرز کے تحت ان تمام اشیاء کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔

    اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس کو آگاہی دینا ہوتا ہے کہ منشیات کا استعمال معاشرے کے لیے ناسور ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس پاکستان میں یہ دن بھرپور طریقے سے مناتی ہے اور منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ اے این ایف اپنی ذمہ داریاں مکمل دلجوئی اور پختہ عزم کے ساتھ بخوبی سر انجام دے رہا ہے۔

    اے این ایف منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر برسرپیکار ہے۔ عوامی شعور بیدار کرنے کی غرض سے سال 2024-2025 کے دوران اب تک صوبے بھر میں 100 سے زائد آگاہی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا ہے، جبکہ تعلیمی اداروں میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

    اس ضمن میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU) کی اینٹی ڈرگ اینڈ ٹوبیکو کمیٹی ہر سال یہ دن بڑے اہتمام سے مناتی ہے، جس کے روح رواں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق ہیں۔ راقم (ضیاء الحق سرحدی) بھی اس کمیٹی کے رکن ہیں۔

    آگاہی سرگرمیوں میں سیمینار، واک، کھیلوں کی سرگرمیاں، میڈیا اشتہارات، اور عوامی حلقوں میں آگاہی مواد کی تقسیم شامل ہیں۔ عالمی دن کی مناسبت سے 26 جون 2025 کو پشاور میں خصوصی آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا ہے، جس میں نوجوانوں اور سول سوسائٹی کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔

    اینٹی نارکوٹکس فورس نے منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے کراچی، کوئٹہ، اور اسلام آباد میں تین مراکز قائم کیے ہیں، جہاں اب تک 15000 سے زائد افراد کا مفت علاج کیا جا چکا ہے۔

    اس وقت 90 فیصد منشیات افغانستان میں پیدا ہو رہی ہے، جس میں سے 40 فیصد پاکستان اسمگل کی جاتی ہے اور پھر آگے مختلف ممالک کو منتقل ہوتی ہے۔ باقی 50 فیصد منشیات افغانستان سے وسطی ایشیائی ممالک کو ایران کے راستے سے سمگل کی جاتی ہے۔

    چار دہائیوں پر محیط افغان بدامنی نے جہاں پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے، وہیں نوجوان نسل میں بگاڑ پیدا کیا۔ بدامنی اور دہشت گردی نے کاروبار زندگی کو متاثر کر کے نوجوانوں کو بے روزگار کیا، جنہیں بعد ازاں نشہ کی طرف راغب کیا گیا۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں 20 کروڑ سے زائد افراد منشیات کے عادی ہیں۔ سب سے زیادہ استعمال براعظم امریکا میں ہوتا ہے، جب کہ ہیروئن کے استعمال میں ایشیا سرفہرست ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ مانگ یورپ میں ہے، جہاں 75 فیصد لوگ ذہنی دباؤ اور دیگر مسائل کے حل کے لیے منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔

    پاکستان میں تقریباً 2 ملین لوگ صرف ہیروئن کے عادی ہیں۔ افغانستان کے 34 میں سے 17 صوبوں میں 24,700 سے 59,300 ایکڑ رقبے پر بھنگ (Marijuana) کاشت کی جاتی ہے، جس سے سالانہ 1500 سے 3500 ٹن چرس حاصل ہوتی ہے، اور اس کی آمدنی 115 ملین ڈالر بنتی ہے، جو افیون کی آمدنی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہے۔

    پاکستان میں منشیات کے خاتمے کے لیے صرف سخت اقدامات ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے اسباب کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے انسداد منشیات پالیسی کے تحت تمام نوجوانوں کو اس کے مضر اثرات سے آگاہ کیا جائے، اسکولوں، کالجوں میں سوشل ٹریننگ اور علاج کے پروگرامز متعارف کرائے جائیں، ڈرگ ٹریفکنگ کو مؤثر طریقے سے روکا جائے۔

    نشے کے عادی افراد کو مجرم سمجھنے کے بجائے ان کی بحالی میں مدد دی جائے، جب کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ تمام سیاسی جماعتوں، لیبر یونینز، میڈیا، مذہبی اداروں، اور این جی اوز کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔

    وزارت نارکوٹکس کنٹرول، وزارت مذہبی امور کے ساتھ مل کر آگاہی پروگرام تشکیل دے، جب کہ وفاقی و صوبائی سطح پر مزید بحالی مراکز قائم کیے جائیں۔ جیلوں میں موجود قیدیوں میں 40 فیصد منشیات کے عادی ہوتے ہیں، ان کے علاج کا آغاز جیلوں سے ہونا چاہئے۔

    خواتین کے لیے بھی بڑے شہروں میں بحالی کے علیحدہ مراکز قائم کیے جائیں تاکہ ہم منشیات سے پاک اور صحت مند قوم بن سکیں۔

  • امن کی قیمت چکاتے میجر معیز شہید کے معصوم بچے

    امن کی قیمت چکاتے میجر معیز شہید کے معصوم بچے

    وطن کی حفاظت کی راہ میں جان قربان کرنے والے میجر معیز شہید کے معصوم بچے آج بھی اُن لمحوں سے بے خبر ہیں، جنہوں نے ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ وہ ننھی آنکھیں، جن میں ابھی خواب سجنے تھے، وہ معصوم چہروں پر ہنسی کے رنگ ابھی مکمل نہ ہوئے تھے، مگر قسمت نے انہیں ایک ایسی حقیقت سے آشنا کر دیا ہے، جو عمر بھر کا دُکھ بن گئی۔

    میجر معیز شہید نے دشمن کے ساتھ ساتھ وقت کے بے رحم تیروں کا بھی سامنا کیا۔ انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر نہ صرف سرزمین پاکستان کو محفوظ بنایا، بلکہ اپنی آنے والی نسل کو بھی یہ سبق دیا کہ قوم کی حفاظت سب سے مقدم ہے۔یہ بچے اب سایہ باپ کے بغیر پلیں گے، لیکن ان کا باپ شہیدوں کے اس قافلے کا حصہ بن چکا ہے جنہیں کبھی مرنا نصیب نہیں ہوتا۔ قوم کے اس بہادر بیٹے نے آنے والے کل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا آج قربان کیا، اور ان کے بچوں کا بچپن، لڑکپن اور جوانی، سب اب قوم کی امانت بن چکے ہیں۔

    میجر معیز شہید کی شہادت ایک پیغام ہے — کہ پاکستان کا ہر سپاہی، ہر محافظ، اور ہر بیٹا مادرِ وطن کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ شہید کے لہو سے لکھی گئی یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امن مفت نہیں ملتا، اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے — اور وہ قیمت بعض اوقات بچوں کا مسکراتا بچپن بھی ہوتی ہے۔قوم میجر معیز شہید کے اہلِ خانہ کو سلام پیش کرتی ہے، اور ان کے معصوم بچوں سے یہ وعدہ کرتی ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں — یہ پوری قوم ان کی محافظ ہے۔اِن شاء اللہ، ہر سپاہی شہید میجر معیز کے نقش قدم پر چلتا رہے گا، اور پاکستان ہمیشہ سربلند رہے گا۔

  • وادیٔ کشمیر جنت نظیر میں چار دن.تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وادیٔ کشمیر جنت نظیر میں چار دن.تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ہر سال کی طرح، سال 2025 کے جون میں بھی فیصل آباد پریس کلب نے اپنے صحافی ساتھیوں کو جنت نظیر وادی کشمیر کی سیر کرانے کا عزم کیا۔ اس سفر کا خواب صدر پریس کلب شاہد علی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ترتیب دیا۔ ہر انتظام، ہر مقام، ہر لمحہ اُن کی پیشہ ورانہ سوچ اور محبت کی جھلک لیے ہوئے تھا۔ مگر قدرت نے ایک آزمائش لکھ دی۔ والدہ کی طبیعت ناساز ہوئی اور شاہد علی ٹرپ پر نہ جا سکے۔ لیکن ان کی عدم موجودگی میں بھی پروگرام کی روانی اور شاندار تنظیم نے ثابت کیا کہ ایک اچھے قائد کی تربیت صرف موجودگی سے نہیں، جذبے سے جھلکتی ہے۔ اُن کی ٹیم نے جس انداز سے ہر مرحلے کو نبھایا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وادی کے ہر نظارے میں لیڈر کی دعائیں اور شفقت شامل ہو۔

    یہ کوئی عام دن نہ تھا۔ سورج اپنی پہلی کرنوں کے ساتھ فیصل آباد پریس کلب کی عمارت پر نرمی سے پڑ رہا تھا۔ فضا میں ایک خوشی اور تجسس کی مہک تھی۔ یہ کوئی عام ٹور بھی نہ تھا۔ یہ ایک خواب کی تعبیر، ایک جنت نظیر وادی کی گواہی بننے کا سفر تھا۔ چار خواتین کی موجودگی نے قافلے کو اور بھی متوازن، شائستہ اور جاندار بنا دیا تھا۔19 جون کی رات جب ہم 72 صحافی، دو کوسٹرز اور ایک ہائی ایس گاڑی میں سوار ہو کر موٹر وے کے ذریعے مظفرآباد روانہ ہوئے، تو کسی کے چہرے پر نیند کے آثار تھے، تو کسی کی آنکھوں میں وادیٔ کشمیر کے خواب۔ لیکن ایک چیز سب میں مشترک تھی: جنت نظیر وادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی تڑپ۔موٹر وے کی ہموار سڑک پر گاڑیوں کے پہیے سرپٹ دوڑ رہے تھے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دلوں میں وادی کی دلفریب مناظر دیکھنے کی آرزو بڑھتی جا رہی تھی

    مظفرآباد پہنچتے ہی سنٹرل پریس کلب کی جانب سے پرتپاک استقبال ہوا۔ ناشتہ جیسے جشن کا آغاز تھا۔ پھر ہم پیر چناسی کی بلندیوں کی طرف روانہ ہوئے۔ 9500 فٹ کی بلندی، چار گھنٹے کا سفر، اور بل کھاتی سڑکیں۔ ہر موڑ پر قدرت نے جیسے اپنی نئی تصویر بنائی ہو۔ درختوں سے ڈھکے پہاڑ، بادلوں کی اوٹ میں چھپتا سورج، اور دُور دُور تک پھیلا سبزہ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم کسی خیالی دنیا میں داخل ہو چکے ہوں۔
    ہماری اگلی منزل پیر چناسی تھی،
    پیر چناسی ایک سیاحتی مرکز ہے جو مظفر آباد آزاد کشمیر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر ہےپیر چناسی سید حسین شاہ بخاری کو کہتے ہیں ان کا مزار پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔مقامی روایت کے مطابق یہ بزرگ بلوچستان کے علاقے سے 350 سال پہلے ہجرت کر کے تبلیغ کے سلسلے میں یہاں آ کر بس گئے تھے۔ یہ مقام سطح سمندر سے 9500 فٹ بلند ہے۔ نزدیکی آبادی بھی خاصی نیچے پائی جاتی ہے۔ اس کے ایک طرف پیر سہار کو راستہ جاتا ہے، جہاں پیدل جانا پڑتا ہے دوسری طرف نیلم کا خوبصورت پہاڑی سلسلہ اور وادی کاغان۔کے پہاڑ مکڑا کا نظارا ہوتا ہے۔ایک ایسا مقام جو اپنی بلندی اور قدرتی حسن کے لیے مشہور ہے۔9500 فٹ کی بلندی پر واقع اس حسین چوٹی تک پہنچنے کے لیے ہمیں چارگھنٹے کا مشکل مگر حسین سفر طے کرنا پڑا۔ بل کھاتی چڑھائیاں اور درختوں سے ڈھکے سرسبز پہاڑ، ہر منظر دل کو موہ لینے والا تھا۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے فضا میں ایک سحر طاری تھا۔پیر چناسی کی چوٹی پر پہنچ کر ہم نے جو نظارہ دیکھا، اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ چاروں طرف پھیلی وسیع و عریض وادی، بادلوں کے جھرمٹ اور پرسکون ماحول نے ایسا جادو کیا کہ ہم مبہوت رہ گئے.پیر چناسی پہنچنے پر الفاظ کم پڑ گئے۔ اُس اونچائی پر مزارِ پیر چناسی ایک روحانی سکون کا مرکز تھا۔ لنگر کی خوشبو، زائرین کا ہجوم، اور دھمال ڈالنے والے ڈھولچی۔ وہ لمحہ ناقابلِ بیان تھا جب ہمارے کچھ ساتھیوں نے دھمال میں شرکت کی اور پورے منظر میں ایک ماورائی کیفیت پیدا ہو گئی۔نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد، ہمارے سپورٹنگ سٹاف نے چوٹی پر قالین بچھا کر کھانا پیش کیا۔ نان، گوشت، سلاد، چٹنیاں، سب کچھ ساتھ لایا گیا تھا۔ جیسے قدرت کی گود میں دعوت کا اہتمام ہو۔پھر شام ڈھلے ہم شاردا وادی کی جانب روانہ ہوئے شارد پاکستان  کی ریاست آزاد کشمیر  کا ایک قصبہ جو ضلع نیلم  کی تحصیل ہے ۔ مظفرآباد سے 136 کلومیٹر (85 میل) کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ تحصیل شاردا کا صدر مقام ہے۔ یہ قصبہ ایشیائی تاریخ میں قدیم علمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ قریباً تین ہزار سال قبل مسیح میں وسطی ایشیائی قبائل یہاں وارد ہوئے جو بدھ مت اور شیومتکے پیروکار معلوم ہوئے نے یہ بستی قائم کی۔ ان قبائل میں سے کشن قبیلے نے اپنے واسطے ایک نئی دیوی کی تخلیق کی جسے شاردہ دیوی کہا جاتا تھا۔ اسی دیوی کے نام سے یہ قصبہ آج بھی آباد ہے۔ دریاۓ نیلم کا قدیمی نام کشن گنگا بھی اسی خاندان سے منسوب ہے۔ یہ لوگ علم و فن سے روشناس تھے تاہم انھوں یہاں ایک علمی مرکز قائم کیا۔ تاریخ نویسوں کے مطابق زمانۂِ قدیم میں چین، وسطی ایشیا اور موجودہ پاکستان اور ہندوستان کے باسی حصولِ علم کی خاطر یہاں کا رخ کیا کرتے تھے۔ اس علمی مرکز کے آثار اب بھی  کھنڈر کی شکل میں شاردہ میں موجود ہیں جنھیں  شاردہ یونیورسٹی  کہا جاتا ہے۔ رات کے سناٹے میں چھ گھنٹے کا سفر، اور پھر نیلم کے کنارے دریا پار کرتے ہوٹلوں تک پہنچنا۔ سگنلز کا نہ ہونا ہمیں ماضی کی سیر پر لے گیا۔ ہوٹل نیا تھا، تھانہ شاردا کے پاس۔ رات کے کھانے کے بعد، کمرے میں راقم شاہد نسیم کے علاوہ ساتھیوں عامر بٹ،ملک غلام مصطفے،حافظ احمد نومان،ظفران سرور اور نعیم شاکرنے ایک دوسرے سے یوں باتیں کیں جیسے برسوں کا تعلق ہو۔ نیند نے دھیرے سے اپنی بانہوں میں لیا اور فجر کی اذان نے جگایا۔ہم نے اپنے کمرے میں ہی نماز ادا کی اور بستر پر لیٹ گئے۔ کمرے میں کوئی پنکھا یا اے سی نہیں تھا، لیکن ہلکے لحاف رکھے گئے تھے اور ہلکی ہلکی ٹھنڈک کا احساس تھا۔ دریائے نیلم کے کنارے ہوٹل میں ہم سب جلد ہی گہری نیند کی وادیوں میں کھو گئے۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے آنکھ اس وقت کھلی جب سیکریٹری عزادار حسین عابدی نے دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا کہ جلدی اٹھو، ناشتہ تیار ہے اور ہمیں ساڑھے نو بجے وادی کیل کے لیے روانہ ہونا ہے ہمیں ناشتے کے قالین تک پہنچایا۔ مرغ چنے، نان، جیم، کیچپ، مایونیز، اور پھر اولپرز چائے۔ ایسا ناشتہ شاید کسی پانچ ستارہ ہوٹل میں بھی نہ ملے۔شاندار چائے نے جسم میں نئی جان ڈال دی۔

    تقریباً دس بجے ہماری تینوں گاڑیاں وادی کیل کے لیے روانہ ہو گئیں۔ کیل  پاکستان  کی ریاست آزاد کشمیر کا ایک قصبہ جو ضلع نیلم  میں مظفرآباد سے 155 کلومیٹر (96 میل) کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ]کیل ریاست آزاد کشمیر کا ڈسٹرک نیلم کی تحصیل شاردا کا ایک قصبہ ہے، جو آزاد کشمیر کے کیپیٹل مظفر آباد سے 155 کلومیٹر اور تحصیل شاردا سے 19 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہاں پر 19000 فٹ بلند سارا والی کیل کی چوٹی واقع ہے، جو پہاڑی چوٹیوں اور بڑے گلیشئروں کی جانب جانے والے کوہ پیماؤں کا بیس کیمپ بھی ہے، یہ ایک جدید تفریح گاہ ہے جہاں تک آنے کے لیے بسیں چلتی ہیں، میلوں تک وسیع و عریض سبزہ زاروں میں جولائی کے مہینا میں رنگ برنگے پھول کھلتے ہیں، یہ بھی چھ گھنٹے کا سفر تھا، جو اپنے اندر کئی خوبصورت مناظر سموئے ہوئے تھا۔ کیل پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ دریا پار کرنے کے لیے چیئر لفٹ استعمال کرنی پڑتی ہے، لیکن رش اتنا زیادہ تھا کہ ہماری باری تین گھنٹے بعد آتی۔ چیئر لفٹ میں صرف بارہ افراد کی گنجائش ہوتی ہے، اس لیے انتظار کرنا پڑتا۔ بہرحال، ہم میں سے کچھ دوستوں، جن میں رانا زاہد، ڈاکٹر سعید طاہر، عزیز بٹ، ڈاکٹر جمیل ملک، ابرار حبیبی، ملک غلام مصطفٰی، اشرف، ملک ظہور ،منیبہ اوررفعت وغیرہ شامل تھے، نے نیچے دریا کی طرف پیدل جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے وہاں دکانوں سے بزرگوں والی اسٹک کرائے پر حاصل کی، اور جاتے ہوئے اسٹک کی مدد سے ہم آرام سے اترتے گئے، تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے بعد ہم دریا کی موجوں کے سامنے تھے۔ پانی میں سب نے خوب انجوائے کیا، ٹھنڈے پانی میں پیر ڈال کر دل کو سکون ملا۔ دو بجے واپسی کا اعلان ہوا تو ڈیڑھ کلومیٹر کی چڑھائی چڑھتے وقت میرے سمیت جن دوستوں کی حالت ہوئی، وہ وہی جانتے ہیں یا خدا جانتا ہے۔ عزیز بٹ نے ہمارا بہت ساتھ دیا اور اوپر تک پہنچنے میں حوصلہ بڑھاتے رہے۔ ہماری ساتھی منیبہ کو تو گھوڑے پر بٹھا کر اوپر پہنچایا گیا۔ گرمی اور دھوپ بھی بہت سخت تھی، لیکن گرتے پڑتے ہم بھی بالآخر اوپر پہنچ گئے۔ واپسی پہاڑ کا دوسرا نام تھی۔ چڑھائی کے ہر قدم پر سانس پھولتی، لیکن عزیز بٹ کی ہمت افزائی ہمیں اوپر لے آئی۔
    سب نے کرائے کی اسٹک واپس کیں اور کھانے کے لیے تیار ہو گئے۔ کھانے میں چاول تھے جو تھکن کے بعد بہت لذیذ محسوس ہوئے۔

    کھانے کے بعد ہم LOC کی طرف روانہ ہوئے۔ دریائے نیلم کی دوسری طرف مقبوضہ کشمیر تھا۔ ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ پاکستانی جھنڈا فخر سے لہرا رہا تھا اور دوسری جانب زبردستی تھوپا گیا جھنڈا۔ فضا میں عجیب کشمکش کا احساس تھا۔پھر وہ منظر… جب دریا کے اس پار مقبوضہ کشمیر پر قابض ہندوستان کا جھنڈا، اور اِس طرف کشمیر و پاکستان کا پرچم لہرا رہا تھا۔ آنکھوں نے جو دیکھا، دل نے اسے صرف محسوس کیا۔ اس منظر کے آگے کوئی زبان بےبس ہے۔

    کشمیر کی وادی کیرن میں برفیلے پانی اور تیز بہاوٴ والے دریائے نیلم کی ایک جانب جب سیاح گانے گاتے ہیں تو دوسری جانب سیاح ان کے لیے تالیاں بجاتے ہیں۔ دو ملکوں میں بٹے اس مقام پر سرحد یہی دریا ہے۔
    ایسے میں دریا کے ایک جانب موجود پاکستانی سیاح گیت گائیں تو دوسری جانب انڈین شہری انھیں سن کر داد دے سکتے ہیں۔ لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔

    واپسی پر ہم ایک اور جنت نظیر وادی میں رکے، جہاں دریا کے اوپر رسوں اور لکڑی کے پھٹوں کا پل پار کیا۔ اس پل پر ایک وارننگ لکھی ہوئی تھی کہ ایک وقت میں صرف دو لوگ ہی پل پر سے گزر سکتے ہیں۔ پل پار کر کے وہاں پر موجود پاک آرمی کے سپاہی شعیب سے ملاقات ہوئی جو اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ اتنے خوبصورت نظارے تھے کہ انہیں الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ ہر طرف سبزہ، صاف شفاف پانی اور بلند و بالا پہاڑ، قدرت کی کاریگری کا حسین امتزاج تھا۔ پاک آرمی کے سپاہی شعیب سے ملاقات، جو اپنے فرض کی ادائیگی میں مصروف تھا۔ قدرت، وطن، اور ذمہ داری کا حسین امتزاج۔رات کو دریا کنارے موٹر بوٹ کا مزہ، شاردا بازار کی رونقیں، اور کچھ ضروری خریداری کی۔

    اگلی صبح، چھ بجے سب کو اٹھا دیا گیا، ناشتےکے بعد ہم نے واٹر فال، انسانی شکل نما پہاڑ ،کنڈل شاہی اور دو مزید خوبصورت مقامات کی سیر کی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان مقامات میں تقریباً 25-30 کلومیٹر اس طرف آزاد کشمیر تھا اور دوسری طرف مقبوضہ کشمیر، اور بیچ میں دریا بہہ رہا تھا۔ یہ سرحد کی تقسیم اور قدرت کی بے پناہ خوبصورتی کا ایک عجیب و غریب امتزاج تھا۔ وہاں سے ہم واپس مظفر آباد آئے اور مظفر آباد سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر کوہالہ کے مقام پر دریائے کنارے کھانا کھایا۔ مغرب کی نماز ادا کر کے ہم وہاں سے مری کے لیے روانہ ہو گئے۔ مری ہمارے ٹرپ میں شامل نہیں تھا، لیکن دوستوں کے مشورے سے اسے شامل کر لیا گیا۔ رات 11 بجے ہم مری پہنچے جہاں مال روڈ کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں۔ رنگا رنگ روشنیوں، سیاحوں کے ہجوم اور ٹھنڈی ہوا نے دل کو مزید شاد کر دیا۔ مال روڈ کی رونقیں، سردی کی خوشبو، اور رات کا حسن۔۔۔ سب کچھ جیسے فلمی سین کا حصہ ہو۔

    ہمیں دو گھنٹے کا وقت دیا گیا جس میں ہم نے مال روڈ کی سیر کی اور خریداری کی۔ اس کے بعد سارے ساتھی اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر واپس فیصل آباد کی طرف روانہ ہو گئے۔ فیصل آباد پہنچے تو ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، جو اس یادگار سفر کا ایک خوشگوار اختتام تھا۔ جہاں بارش ہماری واپسی پر اشک بار تھی۔ شاید قدرت بھی ہمیں رخصت کرتے ہوئے اداس تھی۔

    یہ سفر صرف ایک ٹور نہ تھا، یہ ایک خواب، ایک افسانہ، ایک روحانی تجربہ تھا۔ وادیٔ کشمیر جنت نظیر ہے، نہ صرف قدرتی حسن کی وجہ سے بلکہ ان جذبات، احساسات، اور لمحوں کی بدولت جو انسان کو اپنے اندر نرمی، شکر، اور محبت سے بھر دیتے ہیں۔

    بلاشبہ اس سارے سفر کے دوران محمدعقیل،میاں رمضان،رومان رومی، سجاد اور کاشف کی خدمات ہر لحاظ خالصتا ناشتےا،کھانے کے بندوبست کے حوالے سے قابل تعریف ہیں۔ جنکی بناء پر تمام صحافیوں کو شاندار انتظامات میسر آئے۔ سیکریٹری عزادار عابدی،طاہر نجفی نے بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں سے مکمل انصاف کیا۔۔۔۔
    یہ سفر صرف ایک تفریحی دورہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے ہمیں قدرت کے حسین شاہکاروں سے متعارف کرایا، باہمی بھائی چارے اور دوستی کے رشتے کو مضبوط کیا اور وطن عزیز کے حسین گوشوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ وادی کشمیر، بلاشبہ جنت نظیر ہے، اور فیصل آباد پریس کلب کی یہ کاوش قابل تحسین ہے جس نے صحافیوں کو اس حسین وادی کی سیر کا موقع فراہم کیا۔ یہ سفر ہماری یادوں میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔کشمیر کا یہ ٹور صرف ایک سفر نہ تھا، یہ دلوں کا بدل جانا، احساسات کا نیا جنم اور وطن سے جڑت کا نیا روپ تھا۔ ہر صحافی اب صرف قلم نہیں، کشمیر کا سفیر بھی بن چکا ہے۔ اگر کسی نے اس ٹور کی ایک تصویر کھینچی ہو، تو وہ صرف منظر نہ ہو گا، وہ ایک جذبہ ہو گا… ایک وعدہ ہو گا کہ ہم اس جنت نظیر خطے کی محبت، اس کی خوبصورتی، اس کے سچ کو دنیا کے سامنے لاتے رہیں گے۔

  • سمت کی تلاش. مگر کب تک؟

    سمت کی تلاش. مگر کب تک؟

    سمت کی تلاش. مگر کب تک؟
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان کی 75 سالہ تاریخ اگر کسی ایک مقام پر کھڑی دکھائی دیتی ہے تو وہ ہے "چوراہا”ایک ایسا چوراہا جہاں سے کئی راستے نکلتے ہیں، مگر ہم نہ کبھی سمت کا تعین کر پائے، نہ منزل کی طرف بڑھ سکے۔ ہر چند سال بعد ایک نیا نعرہ، نیا خواب، نئی امید اور پھر وہی پرانا دھوکہ۔ ہم بطور قوم ہر دور میں چوراہے پر ہی کھڑے رہے جمہوریت ہو یا آمریت، سیکولرزم ہو یا مذہبی سیاست، معیشت ہو یا نظریاتی شناخت،ہر موڑ پر سوال وہی رہا: اب کیا ہوگا؟ مگر ہم نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ بار بار ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

    ہماری سب سے بڑی ناکامی یہ نہیں کہ ہم منزل تک نہیں پہنچے، بلکہ یہ ہے کہ ہمیں کبھی یہ معلوم ہی نہیں رہا کہ منزل ہے کیا؟ تعلیمی پالیسی ہو یا خارجہ حکمتِ عملی، صنعتی وژن ہو یا زرعی منصوبہ بندی،ہماری تمام پالیسیاں وقتی، سطحی اور سیاسی فائدے کے تابع رہی ہیں۔ ہر نئی حکومت پرانی پالیسیوں کو لپیٹ کر نئی زبان میں پیک کر دیتی ہے، مگر عملی میدان میں صفر۔ وژن 2025 ہو یا وژن 2030، یہ سب خواب کاغذوں پر تو خوبصورت لگتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد کی نیت کہیں نظر نہیں آتی۔

    ملک میں ترقی کے دعوے تو ہوتے ہیں مگر یہ صرف رپورٹوں اور پریس کانفرنسز کی زینت بنتے ہیں۔ حقیقت میں ہم آج بھی صاف پانی، بنیادی تعلیم، صحت، بجلی اور گیس جیسے بنیادی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ کسان زبوں حالی کا شکار ہے، نوجوان بے روزگار ہیں اور متوسط طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ مگر سیاست دانوں کے پاس ہر بار ایک نیا بیانیہ، ایک نیا خواب ضرور ہوتا ہےجس کا اختتام صرف نعروں، ٹوئٹس اور اشتہارات پر ہوتا ہے۔

    ہر آنے والا حکمران "نیا پاکستان”، "ریاست مدینہ” یا "ترقی کے سنہرے دور” کے نعرے لے کر آتا ہے، مگر یہ نعرے صرف ماضی کے خوابوں کی طرح دم توڑ دیتے ہیں۔ اصل قیادت وہ ہوتی ہے جو سمت کا تعین کرے، ادارے مضبوط بنائے، طویل المدتی منصوبہ بندی کرے،نہ کہ صرف تقاریر اور تصویری مہمات پر گزارا کرے۔

    یہ کہنا بھی درست ہے کہ صرف حکمران طبقہ ہی نہیں بلکہ ہم عوام بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ہم ووٹ جذبات کی بنیاد پر دیتے ہیں، فیصلے سوشل میڈیا کی افواہوں سے کرتے ہیں اور جب نتائج برآمد ہوتے ہیں تو شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ ہم نے کبھی سنجیدہ اجتماعی سوچ کو فروغ نہیں دیا، نہ ہی طویل المدتی استحکام کو ترجیح دی۔

    کب تک؟
    یہ سوال اب صبر کا نہیں، بیداری کا ہے:
    ہم کب تک غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارتے رہیں گے؟
    کب ہم بحیثیت قوم اپنی سمت کا تعین کریں گے؟
    کب ہم اجتماعی روڈ میپ تشکیل دیں گے؟
    کب ہم نعرے بازی سے نکل کر منصوبہ بندی، ادارہ سازی اور قانون کی حکمرانی کو اپنا شعار بنائیں گے؟

    اب بھی وقت ہے…
    اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو وقت کا بہاؤ ہمیں پیچھے چھوڑ دے گا۔ دنیا آگے بڑھ چکی ہے، ہم اب بھی اسی چوراہے پر کھڑے ہیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، اپنی منزل خود متعین کرنا ہوگا۔ وگرنہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو صرف سوالات، خالی وعدے اور مایوسیوں کا ورثہ دے کر جائیں گے۔

    مگر… کب تک؟

  • اپووا — قلم کا کارواں .ملک یعقوب اعوان

    اپووا — قلم کا کارواں .ملک یعقوب اعوان

    قلم کی لو سے روشن ہے، یہ بزمِ بیداری
    لفظوں میں ہے طاقت، اور فن میں دل‌داری
    ادب کے قافلے کی ہے، یہ شانِ نیازی
    اپووا ہے وہ تنظیم، ہے سب پر یہ بھاری
    ادیبوں کی پکار ہے، لکھاریوں کی شان
    خیالوں کا یہ قافلہ، نہیں کوئی عام کاروان
    جو حرف میں بغاوت ہو، جو نظم میں ہو جان
    اپووا کے ہر رکن کا، ادب سے جڑا ہے ایمان
    یہ بزمِ علم ہے ایسی، جو سوچ جگاتی ہے
    اندھیر دل میں بھی کچھ خواب ٹانک جاتی ہے
    جو خامشی میں بولے، جو چپ توڑ جاتی ہے
    اپووا وہ امید ہے، جو حوصلہ بڑھاتی ہے۔
    مشاعرے ہوں یا اجلاس، ہو کوئی تخلیق کا باب
    یہ کارواں ادب کا ہے، نرالا، بے حساب
    قلم سے انقلاب آئے، سچائی ہو کامیاب،
    اپووا ہے وہ محاذ، جہاں لفظ ہو جواب۔
    تو آؤ، ارادوں سے ہم روشن چراغ جلائیں
    اپووا کی چھاؤں میں، نئی دُنیائیں بسائیں
    ادب کا پیغام لے کر، ہم سب کو ساتھ لائیں
    یہ بزمِ فن کہتی ہے — چلو، دلوں کو ملائیں
    یعقوب اعوان

  • مسرت کلانچوی کے اعزاز میں شام، تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    مسرت کلانچوی کے اعزاز میں شام، تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    26 مئی پیر کے دن کاسمو پلیٹن کلب میں مسرت کلانچوی صاحبہ کے اعزاز میں ایک شام منانے کا اہتمام کیا گیا یہ اہتمام انجن ترقی پسند مصنفین اور پاک میڈیا فاؤنڈیشن طرف سے تھا بہت خوبصورت شام تھی جس میں مصنفین، صحافیوں اور پی ٹی وی سے وابستہ افراد اور مسرت صاحبہ کے دوستوں نے بھر پور شرکت کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا .

    مسرت کلانچوی جو تغمہ امتیاز سمیت بہت سے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں انہوں نے ادب کی ہر صنف میں لکھا اور بہت خوب لکھا ان کی صلاحیتوں کو بہت پذیرائی ملی ان کے لکھے ڈرامے ہوں یا افسانے ناول ہوں یا بچوں کا ادب اور پھر سیرت نبوی پر بھی لکھا اردو میں بھی اور سرائیکی میں بھی لکھا بلکہ وہ سرائیکی کی پہلی افسانہ نگار ہیں نام و نمود سے دور وہ ایک جینوئن تخلیق کار کی طرح بچپن سے اب تک فن کی آبیاری کرتی رہیں
    اس پروگرام میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی، پروگرام کی نظامت جاوید صاحب نے کی مہمانان خصوصی میں پروین ملک صاحبہ، بلقیس ریاض صاحبہ، حفیظ طاہر صاحب، ڈاکٹر ایوب ندیم ، آ غا قیصر عباس، ڈاکٹر امجد طفیل شامل تھے جبکہ مسرت کلانچوی صاحبہ نے کمال مہربانی سے اپنی دوستوں کو بھی مہمانان خصوصی کا درجہ دیا اور ہم سب کو باقاعدہ اسٹیج پر بلوا کر بٹھایا اور گفتگو کا موقع دیا دوستوں میں دعا عظیمی، ثمینہ سید ، کنول بہزاد ، رقیہ اکبر ، شاہین اشرف علی ، فاطمہ شیروانی اور دیگر شامل تھیں .

    بلقیس ریاض صاحبہ نے کہا کہ میں نے جب مسرت کلانچوی کا سارا تخلیقی کام دیکھا تو بہت حیران اور متاثر ہوئی کہ اتنا بہترین تخلیقی کام ان کے کریڈٹ پر ہے ثمینہ سید اور کنول بہزاد نے بھی مسرت صاحبہ کے تخلیقی کام پر عمدہ گفتگو کی ڈاکٹر ایوب ندیم ، پروین ملک ، کامریڈ تنویر صاحب اور تمام گیسٹ سپیکرز نے مسرت صاحبہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا

    میں نے کہا کہ مسرت صاحبہ بھاگوان یعنی نصیب والی ،خوش قسمت ہیں کہ ان کو ساز گار جہان ملا ان کے والد نے ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی ان کو اچھا ماحول دیا اور پھر ان کی شادی بھی ایسے شخص سے ہوئی جہاں ان کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ مزید جلا ملی علامہ اقبال نے ایک شعر میں کہا تھا
    گفند جہان ما آ یا بہ تو می سازد؟
    گفتم کہ نمی سازد گفند کہ برہم زن
    (کیا تمہیں میرا جہان ساز گار ہے ؟
    کہا ، نہیں، کہا، تو پھر اسے درہم برہم کردو)
    اس دنیا میں بہت سے لوگوں کو جہان ساز گار نہیں ملتا لیکن وہ اسے درہم برہم نہیں کر سکتے بلکہ بہت سے لوگوں کی زندگی ایسے گزرتی ہے کہ
    زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    مسرت کلانچوی صاحبہ نے آخر میں بہت خوبصورت گفتگو کی اور اپنے لکھے پہلے ڈرامے ،، ایک منٹ، ، کا پس منظر بیان کیا ان کا پہلا ڈرامہ ہی نصرت ٹھاکر اور پی ٹی وی کے ارباب اختیار کو بہت پسند آیا اور آن ایئر ہونے پر عوام کو بھی پسند آیا ، مسرت کلانچوی صاحبہ نے میری اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ واقعی خوش قسمت ہیں ان کے والد اور شوہر اسلم ملک صاحب نے بھر پور تعاون کیا،مسرت کلانچوی صاحبہ کے اس مقام تک پہنچنے میں قسمت کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی محنت اور فن سے ان کی گہری وابستگی، کمٹمنٹ کا بھی ہاتھ ہے، ایسے لگتا ہے وہ پیدائشی تخلیق کار ہیں بچپن میں ہی کہانیاں لکھنا مصوری کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ ننھی مصورہ آج بہت عروج پا چکی ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ،پروگرام کے منتظمین کو اتنا اچھا پروگرام ترتیب دینے پر بہت مبارکباد

  • وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    دنیا میں قوموں کی شناخت ان کے اصولوں اور اقدار سے ہوتی ہے۔ اسلام نے ہمیں ایک امت کی شکل میں جینے کا درس دیا، اور یہی اتحاد مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت تھا۔ قرآن کہتا ہے:
    "تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقہ بندی میں نہ پڑو۔”
    مگر آج، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ اس رسی کو چھوڑ چکی ہے، اور اس کے نتیجے میں ہماری طاقت منتشر ہو گئی ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان متحد تھے، دنیا ان کے قدموں میں جھکتی تھی۔ خلافت راشدہ کے دور میں مسلمانوں نے نہ صرف دنیا کو بہترین عدل و انصاف دیا بلکہ علم، حکمت، اور ثقافت کا چراغ بھی روشن کیا۔ سلطنت عثمانیہ کا زوال ہماری وحدت کے خاتمے کی داستان سناتا ہے، اور آج کی حالت تو یہ ہے کہ ہم قوموں کی صف میں اپنے وقار سے محروم ہو چکے ہیں۔

    ہماری وحدت کا خاتمہ کیسے ہوا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہمیں اپنی اجتماعی ناکامیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وطن پرستی نے ہمیں ایک قوم کے بجائے مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ ہر ملک، ہر قوم اپنی سرحدوں کے اندر محدود ہو کر رہ گئی ہے، اور اس محدود سوچ نے امت کے تصور کو دھندلا کر دیا ہے۔

    اقبال نے اسی حقیقت کو بڑے زور دار الفاظ میں بیان کیا تھا:
    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے، وہ ملت کا کفن ہے

    وطن سے محبت فطری ہے، اور اسلام اسے روکتا بھی نہیں، لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ محبت ہماری اصل شناخت، یعنی امت مسلمہ، پر غالب آ جاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک تھے۔ آج ہم ان حدود کے قیدی بن چکے ہیں جو ہم نے خود کھینچی ہیں۔

    ہماری سیاسی قیادت، جو امت کی رہنمائی کی ذمہ دار تھی، اب خود مفادات کی سیاست کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف ہمارے اندرونی اختلافات نے ہمیں کمزور کر دیا ہے، اور دوسری طرف بیرونی طاقتیں ہمیں تقسیم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مسلمان کبھی ایک پلیٹ فارم پر نہ آئیں، کیونکہ ہمارا اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے۔

    اقبال نے ہمیں بار بار یاد دلایا کہ مسلمانوں کی اصل طاقت ان کا ایک امت ہونا ہے:
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

    اب سوال یہ ہے کہ اس زوال کا علاج کیا ہے؟ کیا ہم اپنی تاریخ سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی نئی نسل کو یہ سبق دے سکتے ہیں کہ اسلام کے پیروکار ہونے کا مطلب صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمیں ایک امت بن کر جینے کا درس دیتا ہے؟ یہ کام مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو بدلیں۔ مدارس اور جامعات میں ایسا نصاب متعارف کرائیں جو امت کے تصور کو زندہ کرے۔ علماء اپنے خطبوں میں اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد کا درس دیں۔ میڈیا، جو آج زیادہ تر نفرت کے بیج بوتا ہے، اسے ایک مثبت پیغام کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے۔ اور سب سے اہم، ہر مسلمان اپنے دل میں یہ عزم کرے کہ وہ امت مسلمہ کا حصہ ہے اور اس کا کردار اسی وحدت کو مضبوط کرنے میں ہے۔

    یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر آج بھی ہم اپنی سمت درست کر لیں اور اللہ کی رسی کو تھام لیں، تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ یہ امت ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنی عظمت کا لوہا منوا سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنے درمیان کی دیواریں گرا دیں اور ایک جسم بن جائیں، جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا:
    "مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں؛ اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔”

    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو پہچانیں اور ان نظریاتی دیواروں کو گرا دیں جو ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ تب ہی ہم اس امت کی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

  • امت مسلمہ اور اخلاقی زوال،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ اور اخلاقی زوال،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    Email;jabbaraqsa2@gmail.com

    دنیا بھر میں امت مسلمہ کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، مگر ان میں ایک سب سے بڑا چیلنج ہے اخلاقی زوال۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر نہ صرف میڈیا کم توجہ دے رہا ہے بلکہ ادب اور معاشرتی مباحث میں بھی اس کی گونج بہت کم سنائی دیتی ہے۔

    اخلاقیات، کسی بھی قوم کی بنیاد اور اس کی پہچان ہوتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں اخلاق کو اعلیٰ مقام دیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "مجھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔” مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ امت مسلمہ مجموعی طور پر ان تعلیمات سے دور ہوتی جارہی ہے۔ جھوٹ، بددیانتی، رشوت، حسد، اور خود غرضی جیسے عیوب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

    اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اخلاقی اقدار کے ذریعے ہی دنیا کو متاثر کیا۔ مسلمانوں کی سچائی اور امانت داری کی مثالیں آج بھی تاریخ کے اوراق میں جگمگا رہی ہیں۔ مگر موجودہ دور میں، ہم اپنی اس میراث کو فراموش کر چکے ہیں۔

    معاشرتی سطح پر، اخلاقی زوال کی سب سے بڑی مثال ہمارے رویے ہیں۔ ہم اپنے ذاتی مفادات کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ محلے کی سطح سے لے کر عالمی تعلقات تک، ہم اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ نتیجتاً، امت مسلمہ دنیا میں اپنی عظمت اور مقام کھو رہی ہے۔

    میڈیا اور ادب کو چاہیے کہ اس مسئلے کو اجاگر کریں اور عوام میں شعور بیدار کریں۔ ایسے موضوعات پر ڈرامے، مضامین، اور کالم لکھے جائیں جو لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں۔ تعلیمی نظام میں اخلاقیات کے مضامین کو شامل کیا جائے اور والدین کو بھی بچوں کی تربیت میں اخلاقی اقدار کو ترجیح دینی چاہیے۔

    یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور ان میں بہتری لائیں۔ امت مسلمہ کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو اخلاقی اقدار کے ذریعے دوبارہ حاصل کرے۔

    اگر ہم اپنی اخلاقیات کو درست کر لیں، تو دنیا میں ہماری پہچان دوبارہ قائم ہو سکتی ہے اور ہم دنیا کے لیے ایک مثالی قوم بن سکتے ہیں۔

  • اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) نے حال ہی میں پشاور چکوال اور تلہ گنگ کا ایک انتہائی کامیاب اور یادگار دورہ مکمل کیا، جس نے ادبی، صحافتی اور معاشرتی میدان میں نئے افق روشن کیے۔ یہ دورہ قلمکاروں کے باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے اور خاص طور پر دور دراز علاقوں کی باصلاحیت مرد و خواتین لکھاریوں کو قومی دھارے میں لانے کے اپووا کے غیر متزلزل عزم کی عملی مثال بنا۔

    اپووا کے وفد نے پشاور پہنچنے پر سب سے پہلے گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات کی، جو اس دورے کا سب سے اہم اور بنیادی حصہ تھا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ، صحافیوں کو درپیش چیلنجز اور معاشرتی ترقی میں قلمکاروں کے کلیدی کردار پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات نے اپووا کے مقاصد اور کوششوں کو حکومتی سطح پر نہ صرف پذیرائی دلائی بلکہ مستقبل کے لیے نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے۔

    گورنر ہاؤس سے ملاقات کے بعد، اپووا کے وفد نے ” چائنہ ونڈو” کا دورہ کیا، جو چین کی ثقافت اور اقدار کو پاکستانی عوام سے متعارف کرانے کا ایک منفرد اور دلکش پلیٹ فارم ہے۔ یہیں اپووا کے پہلے ضلعی دفتر کا شاندار افتتاح کیا گیا، جو خطے میں قلمکاروں کے لیے ایک نئے مرکز کی حیثیت اختیار کرے گا۔ اپووا کی جنرل سیکرٹری خیبر پختونخوا، ناز پروین نے اس موقع پر وفد کے اعزاز میں ایک پرتکلف لنچ کا اہتمام کیا جس میں مقامی کھانوں کی لذت اور روایتی پشاوری قہوے کی مہمان نوازی نے وفد کے دل موہ لیے۔
    apwwa


    پشاور میں اگلا پڑاؤ حیات آباد تھا، جہاں باہمی رشتوں کے احترام کی ایک مثال قائم کی گئی۔ اپووا کے پی کے وومن ونگ کی صدر فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر ان کے شوہر کے انتقال پر تعزیتی ملاقات کی گئی اور حیات آباد میں ہی اپووا کے ریجنل آفس کا بھی افتتاح عمل میں آیا۔ ڈاکٹر عمر شہزاد اور اپووا کی ہیلتھ ایڈوائزر ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کی جانب سے وفد کے لیے ایک مزیدار ہائی ٹی کا انتظام کیا گیا۔ اور کیک کاٹا گیا ۔اس موقع پر نئے عہدوں کا بھی اعلان کیا گیا اور نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔


    مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی، رانی عندلیب کو بھی اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ان کے تاثرات اس دورے کا سب سے متاثر کن اور عزم سے بھرپور حصہ تھے: "میں اپووا کی انتہائی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ایک دور دراز علاقے میں رہنے والی خاتون کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے اور اس کو اپنے وفد میں شامل کر کے گورنر ہاؤس تک لائے جو میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں خواتین کے فیلڈ میں کام کرنا کو برا سمجھا جاتا ہے، مجھ پر اس سے پہلے تو دو تین حملے ہو چکے ہیں لیکن میں اپنے شوق اور لگن کی وجہ سے کام کر رہی ہوں۔ انتہائی مشکور ہوں کہ اپووا نے مجھے اپنی ٹیم میں شامل کیا اور اس وفد میں شامل کیا”۔ رانی عندلیب کی کہانی عزم، ہمت اور قلم کی طاقت کی ایک زندہ مثال ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ اپووا کس طرح پسماندہ علاقوں کے باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔


    پشاور کے بعد، اپووا کا وفد "شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین” تلہ گنگ پہنچا، جو اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی، سینیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، اور متحرک رکن ممتاز اعوان کا آبائی علاقہ بھی ہے۔ یہاں بھی اپووا کے ضلعی آفس کا پروقار افتتاح کیا گیا، جس میں ضلع بھر کے صحافی اور لکھاری شریک ہوئے۔ یہ بھرپور شرکت اپووا کی علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس موقع پر شیخ فیضان کو اپووا کوارڈینیٹر تلہ گنگ اور چکوال مقرر کیا گیا۔ اس تقریب میں ناشتے کا بھی اہتمام کیا گیا، جو علاقے کے ادبی حلقوں کے لیے ایک خوشگوار آغاز ثابت ہوا۔ یہ دورہ صرف دفاتر کے افتتاح یا ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ قلمکاروں کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون، اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اپووا کے غیر متزلزل عزم کا عملی مظہر تھا۔ اس تاریخ ساز دورے نے پاکستان میں ادبی اور صحافتی تحریک کو نئی جہتیں دی ہیں اور نئی نسل کو قلم کے ذریعے مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دی ہے۔

  • اوکاڑہ: جنگلات کی بربادی. قدرتی خزانے کے ضیاع کی داستان

    اوکاڑہ: جنگلات کی بربادی. قدرتی خزانے کے ضیاع کی داستان

    اوکاڑہ: جنگلات کی بربادی ، قدرتی خزانے کے ضیاع کی داستان
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہم بحیثیت قوم وقت کا ضیاع اور وسائل کا صحیح استعمال نہ کرنا ہماری رگوں میں خون کی طرح شامل ہے۔ سرکاری اداروں کے ساتھ پبلک ریلیشن شپ نہ ہونے کی وجہ سے آج ہماری قوم نہ صرف مقروض ہے بلکہ آنے والی نسلیں بھی مقروض پیدا ہوتی رہیں گی۔

    آج ہم آپ کو اوکاڑہ کی سطح پر وسائل ہونے کے باوجود منصوبہ بندی نہ کرنے کے حوالہ سے محکمہ جنگلات پر بات چیت کرتے ہوئے یہ بتائیں گے کہ کس طرح ہم درختوں کے حوالہ سے فوائد حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ضلع اوکاڑہ قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ زرخیز زمین، وسیع نہری نظام، سازگار موسمی حالات اور بہترین آبی وسائل اس بات کے گواہ ہیں کہ یہاں جنگلات کے فروغ کی بے پناہ گنجائش موجود ہے، مگر افسوس کہ نہ حکومتی سطح پر سنجیدگی دکھائی گئی اور نہ ہی عوامی سطح پر شعور پیدا کیا جا سکا۔

    آج دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیاں تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ درخت اور جنگلات ہی وہ قدرتی ذریعہ ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے ماحول کو متوازن رکھتے ہیں، زمین کو بنجر ہونے سے بچاتے ہیں اور ہزاروں مخلوقات کے لیے مسکن مہیا کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اوکاڑہ جیسے زرعی ضلع میں جنگلات کے فروغ کو کبھی حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں کیا گیا۔

    سال 2019/20 میں محکمہ جنگلات کی جانب سے اوکاڑہ میں ایک نئی امید کا چراغ روشن ہوا۔ اس وقت کے ایس ڈی او افتخار احمد جنجوعہ کی قیادت میں نہروں اور راجباہوں کے کناروں پر درخت لگانے کا ایک شاندار منصوبہ شروع ہوا۔ ان کی ٹیم نے لاکھوں درخت لگائے۔ یہ نہ صرف محکمانہ کارکردگی کی ایک مثال تھی بلکہ ایک عزم اور جذبے کی داستان بھی تھی۔ افتخار احمد جنجوعہ اور ان کی ٹیم کو بجا طور پر خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے کہ انہوں نے نہ صرف منصوبے کو عملی جامہ پہنایا بلکہ ایک نئی راہ بھی دکھائی۔

    مگر بدقسمتی سے افتخار احمد جنجوعہ کی ٹرانسفر کے بعد یہ منصوبہ بھی روایتی بدانتظامی اور کرپشن کی نذر ہو گیا۔ نہ صرف نئے درخت لگانے کا عمل رک گیا بلکہ پہلے سے لگے درختوں کی دیکھ بھال بھی چھوڑ دی گئی۔ نتیجتاً مقامی بااثر افراد اور زمینداروں نے محکمانہ ملی بھگت سے اربوں روپے مالیت کے درخت چوری کر کے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا۔

    تحصیل دیپالپور کے مقام پپلی پہاڑ پر جنگلات کی کٹائی آج بھی جاری ہے۔ سرکاری اہلکاروں کی چشم پوشی اور بدعنوان عناصر کی سرپرستی میں سرسبز درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ یہ قومی اثاثہ ضائع ہو رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

    حیران کن بات یہ ہے کہ اوکاڑہ میں وسیع نہریں، راجباہ اور کھالوں کا جال موجود ہے، جو سارا سال پانی مہیا کرتے ہیں۔ پانی کی دستیابی کے باوجود درخت لگانا حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں۔ یہ وہ قیمتی سرمایہ ہے جسے درست منصوبہ بندی اور نیک نیتی سے بروئے کار لایا جائے تو اوکاڑہ پورے پنجاب میں جنگلات کا ماڈل ضلع بن سکتا ہے۔

    اگر حکومت سنجیدہ ہے تو فوری طور پر درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:

    * درختوں کی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
    * محکمہ جنگلات کو فعال کیا جائے اور مستقل نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔
    * سرمایہ کاروں کو سہولیات دے کر جنگلات کے فروغ میں شریک کیا جائے۔
    * عوام میں درختوں اور جنگلات کی اہمیت پر شعور اجاگر کیا جائے۔
    * مقامی نوجوانوں کو جنگلات کی حفاظت اور نگہداشت کے لیے بھرتی کیا جائے تاکہ غربت اور بے روزگاری میں کمی آئے۔

    اوکاڑہ میں جنگلات کی بربادی صرف سرکاری نااہلی کی ایک مثال نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔ افتخار احمد جنجوعہ جیسے دیانتدار اور فرض شناس افسران کی محنت اور لگن ضائع نہ ہونے دی جائے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ جنگلات کے فروغ کو صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ معاشی استحکام کے مضبوط ستون کے طور پر لیا جائے۔ اگر ہم نے آج بھی آنکھیں نہ کھولیں تو کل ہمیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

    عوامی آگاہی کے لیے آج ہی اپنا کام شروع کرنا ہوگا۔ ہر پڑھے لکھے شخص کا یہ قومی فریضہ ہونا چاہئے کہ وہ درخت لگانے کی مہم میں صدقہ جاریہ سمجھ کر شامل ہو اور لوگوں کو آگاہ کرے کہ درخت کتنے ضروری ہیں۔

    برسات کا موسم جولائی میں شروع ہو جاتا ہے، جو کہ درخت لگانے کا ایک اچھا موسم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فروری مارچ بھی درخت لگانے کا اچھا موسم ہے۔ علاقائی آب و ہوا میں پلنے والے درخت لگانے چاہئیں۔ اوکاڑہ میں نیم، پیپل، بکین، شریں، جامن، بیری، شیشم، کیکر، آم، لسوڈا اور اس طرح کے کئی ایک درخت لگائے جا سکتے ہیں۔