Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امن، ترقی و خوشحالی کا واحد راستہ، ہمسایہ بدلو

    امن، ترقی و خوشحالی کا واحد راستہ، ہمسایہ بدلو

    امن، ترقی و خوشحالی کا واحد راستہ ، ہمسایہ بدلو
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    قیام پاکستان سے لے کر آج تک بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات دشمنی، سازش اور جارحیت کی تلخ داستان ہیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے وقت سے بھارت نے دشمنی کی بنیاد رکھ دی۔ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ، 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بلوچستان و خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی پشت پناہی،یہ سب بھارت کی ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں۔ پاکستان نے بارہا امن کی کوشش کی، لیکن ہر بار جنگ، الزامات یا عالمی سطح پر بدنامی کی سازشیں ملیں۔ آج جب بھارت نے کشمیر کو جیل بنا دیا اور کھلی جارحیت کا راستہ اپنایا تو سوال یہ ہےکہ کیا اس ہمسائے کے ساتھ امن، ترقی اور خوشحالی ممکن ہے؟ جس کاجواب واضح ہے کہ نہیں۔کشمیر کی آزادی ، پاکستان اور خطے کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا صرف ایک ہے راستہ بچتا ہے کہ ہمسایہ بدلو۔

    بھارت کی پاکستان دشمنی کوئی راز نہیں۔ 1971ء میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” نے مُکتی باہنی کے روپ میں بھارتی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کیں،وہاں پاکستان کے خلاف منظم سازش کرکے پاکستان کو دولخت کیا۔ اس کے بعد بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور خیبر پختونخوا میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) جیسے دہشت گرد گروہوں کو بھارتی حمایت کے ثبوت مسلسل سامنے آئے۔ 2016ء میں گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافات نے بھارت کی بلوچستان میں تخریب کاری کو بے نقاب کیا۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، جہاں بھارت پاکستان کی ترقی اور استحکام کو کمزور کرنے کے لیے ہر حربہ آزما رہا ہے۔

    جموں و کشمیر بھارت کے مظالم کی سب سے بڑی گواہی ہے۔ 1947ء سے اب تک، بھارتی فورسز نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو کچلنے کے لیے تشدد کی انتہا کی۔ 2019ء میں آرٹیکل 370 کی منسوخی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے پولیس اسٹیٹ میں بدل دیا۔ پیلٹ گنوں سے بچوں کی آنکھیں چھین لی گئیں، ماورائے عدالت قتل عام کرایا اور جبری گمشدگیوں نے گھر اجاڑ دیے۔ بھارت نے کشمیری مزاحمت کو دہشت گردی کا لیبل لگا کر دبانے کی کوشش کی، لیکن کشمیریوں کا عزم ناقابل تسخیر ہے۔ 2025ء میں پہلگام میں سیاحوں پر حملہ بھارت کا ایک اور ڈرامہ تھا جسے بغیر ثبوت پاکستان پر تھوپ کر جارحیت کا جواز بنایا گیا۔ یہ حملہ بھارت کی داخلی ناکامیوں کو چھپانے اور کشمیری جدوجہد کو بدنام کرنے کی سازش تھی۔

    اس سازش کا نقطہ عروج 7 مئی 2025ء کو دیکھنے میں آیا، جب بھارت نے "آپریشن سندور” کے نام سے پاکستان اور آزاد کشمیر پر میزائل حملے شروع کیے۔ یہ کھلی جنگ تھی، جس کا پاکستان نے عظیم صبر کے بعد جواب دیا۔ 9 مئی کو "آپریشن بنیان مرصوص” کا آغاز ہوا، اور 10 مئی کو صرف پانچ گھنٹوں کی جنگ نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھارت کے جدید رافال طیاروں، ڈرونز اور ڈیرھ ارب ڈالر سے زائد مالیت کے S-400 دفاعی نظام کو تباہ کر دیا۔ پاکستانی فوج کی بے مثال کارکردگی اور قوم کی یکجہتی نے بھارت کو عبرتناک شکست کی ذلت سے دوچار کیا۔ امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد بھارت کو اپنی ہار ماننا پڑی اور پاکستانی عوام نے اسے "یوم فتح” کے طور پر منایا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کا نقصان نہ ہونے کے برابر تھا جبکہ بھارت کا مورال چکناچور ہوا۔ بی بی سی کے تجزیہ کار اینبرسن اتھرجان سمیت انٹرنیشنل میڈیا نے بھی پاکستانی فضائیہ کی برتری کو تسلیم کیا جو بھارت کے اربوں ڈالر کے اسلحے پر بھاری پڑی۔

    یہ فتح پاکستان کی قوت اور عزم کی علامت ہے، لیکن بھارت کی جارحیت سے امن، ترقی اور خوشحالی کا خواب ادھورا ہے۔ سات دہائیوں سے وہ ہمسایہ جو دشمنی، سازش اور تخریب کاری پر آمادہ رہا، اس کے ساتھ پرامن مستقبل ناممکن ہے۔ بھارت کی شر انگیزیوں سے نجات اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کو ایک نئے ہمسائے کی ضرورت ہے اور وہ ہمسایہ صرف خالصتان ہو سکتا ہے۔

    خالصتان کی تحریک سکھ برادری کی آزادی کی جائز جدوجہد ہے جو بھارت میں امتیازی سلوک، استحصال اور نسل کشی کا شکار رہی ہے۔ حالیہ جنگ میں سکھ نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر پاکستان کی حمایت کی، بھارتی پالیسیوں کی مذمت کی اور خالصتان کو اپنی منزل قرار دیا۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ سکھ اور پاکستانی عوام کے مفادات مشترک ہیں۔ اگر پاکستان خالصتان کی تحریک کو سفارتی، اخلاقی اور جہاں ممکن ہو، عملی حمایت دے تو یہ بھارت کو اندرونی طور پر کمزور کر دے گا۔ خالصتان کی تشکیل نہ صرف بھارت کی طاقت کو توڑے گی بلکہ مقبوضہ کشمیر پر اس کے غاصبانہ قبضے کو بھی ختم کر دے گی۔ خالصتان کی آزادی خطے میں امن کی بنیاد رکھے گی جبکہ اس سے پاکستان کے لیے نئے سفارتی، اقتصادی اور سماجی مواقع پیدا ہوں گے جو ترقی اور خوشحالی کا زینہ ثابت ہوں گے۔

    اس وقت تک ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں یا تو ہم بھارت کے زخم سہتے رہیں، یا پھرایک نئے ہمسائے کے ذریعے امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ اپنائیں۔ بھارت کے ساتھ پرامن ہمسائیگی ایک فریب ہے، جس نے ہمیں بارہا دھوکہ دیا۔ آج جب پاکستان کی قوم نے اپنی طاقت اور اتحاد کا لوہا منوایا ہے، وقت ہے کہ ہم خالصتان کو اپنا نیا ہمسایہ بنائیں۔ یہ ایک خواب نہیں، بلکہ ایک حقیقت بن سکتا ہے.ایک ایسی حقیقت جو کشمیر کے زخموں پر مرہم رکھے گی، سکھوں کو ان کا جائز حق دے گی اور پاکستان کو عزت، استحکام اور خوشحالی کی نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ اس لئے مؤقف ہے کہ ” ہمسایہ بدلو”کیونکہ یہ وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں جارحیت کے سائے سے نکال کر آزادی کے اجالے، امن کے ساحل اور ترقی کے افق تک پہنچائے گا۔ آئیے.. اس تاریخی فیصلے کے ساتھ ایک نئے دور کا آغاز کریں، جہاں کشمیر سمیت پاکستان اور خالصتان شانہ بشانہ خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں!

  • یہ گلشن سدا سلامت رہے .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    یہ گلشن سدا سلامت رہے .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    عمر گریزاں کا سفر بے شک تیزی سے گزررہا ہے لیکن اس کا دورانیہ کچھ بڑھ جائے یا زندگی کی چند سانسوں کی مزید مہلت مل جائے توخوشیاں مسرتیں محبتیں امن ،کرب تکلیفیں مصیبتیں ان کیفیات کا احساس بیدار ہونے لگتا ہے اور سمجھ بوجھ یعنی عقل سلیم عطا ہو تی ہے دینے والا وہ رب ذوالجلال ہے کچھ بھی دے سکتا ہے دکھ غم روگ تکلیفیں خوشیاں محبتیں امن سکون اس شہنشاہ کی اپنی مرضی،
    گزشتہ کچھ روزکربناک اور اعصاب شکن رہے یہ زندگی بس گزر جاتی ہے مقصد بڑا ہو تو یہ بڑی دلچسپ بھی ہو جاتی ہے بے مقصد زندگی تو ویسے ہی فضول سی گزرتی ہے ہم بھی اسی بے مقصد زندگی کا حصہ ہوئے دشوارگزار کٹھن اور ہاں کبھی کبھی کچھ لمحوں کی خوشیاں بھی نصیب ہوئیں یعنی کبھی خوشی کبھی غم۔۔۔۔ لیکن رواں دواں تھی خوب چل رہی تھی ہم سفر ہے کبھی ہنساتی ہے کبھی رلاتی ہے ساتھ تو چلنا ہے نا اسے جینا تو ہے لیکن اچانک سے گھٹیا دشمن اپنی طاقت کے زعم اور اپنی چوہدراہٹ دکھانے۔۔۔ امن کا دشمن بن گیا بدامنی کا خوف چھاگیا اور ایسا چھایا کہ بہت کچھ سکھا گیا ہمارا پڑوسی ملک بھارت گھٹیا ترین دشمن ۔۔۔وہی دشمن جو اپنے دیس کے انسانوں اور مسلمانوں کا بھی دشمن ہے
    اس نے امن کا ماحول تہس نہس کردیا اور ہم پر زبردستی جنگ تھوپ دی نجانے اس خطے کا بدمعاش بننے کا شوق کہاں سے چرا لایا پرامن بستیوں کو اجاڑنے کا خواب تو دیکھ لیا لیکن اس کی تعبیربھی نہ پاسکا کود پڑا ہمیں شکست دینے۔۔۔
    خیر اس نے اپنے دانت کھٹے کروانے اور لیٹ کر مارکھانے کے بعد اپنے آقا سے کہا کہ حضور اب ہمیں بچا لیجئے ہماری صلح کروا دیجئے یہ پاکستان ہمیں کھا جائے گا

    سو تادم تحریر جنگ بندی کا اعلان ہوچکا ہے سکون کی وہ گھڑیاں واپس لوٹ آئی ہیں اور سکھ کے سانس آنے جانے لگے ہیں ،اگر انسان گھر کی باتیں باہر چوک پر سنانے لگے تو وہ گھر تادیر سلامت نہیں رہتے ہاں گھر کے اندر بہت دفعہ جھگڑے ہوتے ہیں اور ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں لیکن اگر گھر کے دروازے پر کوئی دشمن آتشیں اسلحے سے لیس ہوکر سامنے کھڑا ہو اور اندر جھگڑے جاری ہوں تو تب امن سلامت نہیں رہتا دشمن موقع سے فائدہ اٹھاکرپورے گھرکو ختم کرسکتا ہے

    بہت سے لوگوں کو اپنی افواج سے اختلافات اور تحفظات ہوسکتے ہیں لیکن یہ افواج نہ ہوں تو سلامتی خطرے میں رہتی ہے اور گھر سلامت رہیں تو ہمیشہ کے یہ مسائل بعد میں بھی سلجھائے جاسکتے ہیں چونکہ میں یہ کالم گزرے تکلیف دہ اور اعصاب شکن ایام میں تحریر کررہا تھا جب ملک بھر میں دشمن اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ہم پر وار کررہا تھا اس تحریر کو مکمل نہ کرسکا کالم کا بقیہ حصہ آج مکمل کرنے کا وقت ملا تو ہماری فوج تب بھی دشمن کو للکاررہی تھی جب سرحدوں پر دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کررہی تھی اور آج بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے محاذ پر ڈٹی ہوئی ہے یہ ہمارے ہی بیٹے ہیں ہمارے ہی بھائی ہیں بھوک پیاس نیند کو بھلا کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ان کے ہوتے ہوئے ہم راتوں کو سکون کی نیند سوتے ہیں اور ہم سب نے گزشتہ دنوں یہ راتیں بھی سکون سے بے فکر ہوکر گزاری ہیں یہ سکون کی نیندیں انہی ماؤں کے بیٹوں کی بدولت ہیں جن پر ہمیں پوری امیدیں ہیں آج دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے پاگل ہوچکا ہے اور پاگل پن میں تو کچھ بھی کیا جاسکتا ہے اپنی پاک فوج کی ہمت بڑھائیں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں فوج ہے تو ملک ہے اور ملک ہے تو ہم ہیں امن سکون اورترقی کے لئے وطن کے بیٹوں کا حوصلہ بنیں سوشل میڈیا پر فوج مخالف پراپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں یہ دشمن کی وارداتیں ہیں اپنوں کا ساتھ دیں اپنے گھر کی سلامتی کو ترجیح دیں اپنے بچوں کی مسکراہٹوں کو بکھیرنے کا سبب بنیں نہ کہ چیخوں کی ۔۔۔۔

    جنگیں سفاک ہوتی ہیں بے رحم ہوتی ہیں ان کی راہوں میں جو کچھ آتا ہے مٹ جاتا ہے تباہی اور بربادی مقدر بن جاتی ہے ہم امن کے داعی ہیں دونوں طرف انسانیت ہے خون نہیں چاہتے لیکن گھٹیا دشمن ہمارے سر پر سوار ہے پاک فوج انشااللہ ہمیشہ اسے سبق سکھاتی رہے گی یہ فوج ہمارا فخر ہے ہمیں اپنےان جانبازوں پر مان ہے وقت کا تقاضا ہے اپنی فوج کا بھرپور ساتھ دیں دشمن کی کسی بھی سازش کا حصہ نہ بنیں اپنے پیارے وطن کے محافظوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہیں اللہ تعالی ہماری افواج کو سلامت رکھے اوریہ گلشن امن محبتوں اور خوشیوں کا مسکن رہے اور یوں ہی سدا مہکتا رہے
    پاکستان پائندہ باد
    فیڈبیک کے لئے قارئین واٹس ایپ پر رابطہ کرسکتے ہیں
    03004897576

  • بھارتی ڈرامے اور پاکستانی منہ توڑ جواب ،تجزیہ : شہزاد احمد قریشی

    بھارتی ڈرامے اور پاکستانی منہ توڑ جواب ،تجزیہ : شہزاد احمد قریشی

    پاکستان کی بری، فضائی، اور بحری افواج نے دنیا کی عسکری تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کروا دیا ، بھارت کو پہلگام میں دہشت گردی کے ڈرامے کو پاکستان کے سر تھوپ کر ، پاکستان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم پر اسے نہ صرف شکست فاش ہوئی بلکہ بین الاقوامی برادری نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ پاکستان بھارت جنگ اور باہمی تعلقات کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے ممالک میں تعینات سفراء پریس اور دیگر افسران کو بھی خواب خرگوش سے بیدار ہو کر جعفر ایکسپریس، ٹی ٹی پی کی دہشت گردانہ کارروائیوں، بی ایل اے کی بلوچستان میں کاروائیوں، کلبھوشن سے لیکر جعفر ایکسپریس میں بھارت کے پوشیدہ ہاتھوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اقوام عالم کو بتانا ہو گا بلاشبہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاک بھارت تنازعہ کے دوران شب و روز ہمہ تن مصروف رہے اور تمام دوست ممالک کی اعلی قیادت کیساتھ رابطے میں رہے بیرون ملک تعینات سفارت خانوں میں تعینات افسران کو پاکستان کیساتھ ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کا پرچار کرنا ہو گا (بلاشبہ ہماری عسکری قیادت سرحدوں کی حفاظت پر اپنی بھرپور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے) بھارتی وزیر اعظم کے ماضی سے ایک عالم گواہ ہے کہ وہ کن بھارتی شہر گجرات سمیت بہت سی کاروائیوں میں ملوث رہے اصل مسلہ پاکستان کو چین کے قریب ہونے اور سی پیک کی سزا مل رہی ہے بھارت نے پہلگام کروا تو دیا جسکے ثبوت اس کے پاس نہیں بھارت یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ چین بھارت کے راستے میں ایک دیوار بن کر حائل ہے .

    یاد رہے عالمی طاقتوں کے یہ بات نوٹس میں ہے کہ بھارت میں پہلے ہی کئی ریاستوں میں علیحدگی پسند تنظیمیں موجود ہیں، اصل میں بھارت پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کے لیے آئی ایم ایف سے بھی کہا کہ پاکستان کو قرض نہ دیا جائے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر نقصان ہو، پاکستان کی موجودہ ابھرتی ہوئی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، حکومت پاکستان کو معیشت کو مستحکم کرنے پر بھرپور توجہ دینی چاہیے بھارت پہلگام کی دہشت گردی پاکستان کے نام کرکے ترقی و حمایت کی راہیں محدود کرنے کی ناکام کوشش کی ہے مودی سرکار ابھی تک دنیا کو پہلگام واقعہ کے ثبوت فراہم نہ کر سکا پاکستان کی ابھرتی معاشی صورتحال کو رکاوٹوں سے دوچار کرنے کے لیے کشیدگیاں و تلخیاں مودی سرکار نگر نگر گھوم رہی ہے کہ کہیں ہندو توا کا تاج گر نہ جائے بلاشبہ امریکی صدر اور دیگر اقوام نے پاک بھارت جنگ میں مداخلت کرکے پورے خطے کو بچا لیا مودی سرکار کو روس اور چین کی بڑھتی ہوئی قربتیں اچھی نہیں لگ رہیں، عالمی ذرائع کے مطابق روس چین تعلقات کو ایک نئے عالمی نظام کے قیام میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے ، نام نہاد جمہوریت کے روپ میں عالمی دنیا اگر آمریت دیکھنا چاہتی ہے تو اسے بھارت کے اندرونی علیحدگی پسند تنظیموں کو دیکھنا ہو گا، مودی کا ماضی اور حال اور پہلگام کے خودساختہ خونی ڈرامے کی نمائش سامنے آجائے گی،

  • پاکستان کی تاریخی دفاعی فتح پر عالمی میڈیا حیران

    پاکستان کی تاریخی دفاعی فتح پر عالمی میڈیا حیران

    پاکستان کی تاریخی دفاعی فتح پر عالمی میڈیا حیران
    تحریر:سید ریاض جاذب
    پاکستان نے بھارتی جارحیت کا نہ صرف بروقت اور فیصلہ کن جواب دیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی عسکری حکمت عملی، دفاعی مہارت، اور تکنیکی برتری کو بھی منوایا۔ بین الاقوامی میڈیا، دفاعی تجزیہ کاروں اور عالمی مبصرین نے کھلے الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے جس پیشہ ورانہ انداز میں دشمن کے حملے کو ناکام بنایا وہ جدید جنگی تاریخ میں ایک شاندار مثال ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی، جب کہ پاکستان کی فضائیہ نے دشمن کو زبردست چیلنج دیا۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان نے نہ صرف اپنے دفاعی نظام کو بروقت متحرک کیا بلکہ بھارتی عزائم کو بھی مکمل طور پر خاک میں ملا دیا۔ اربوں ڈالر کی بھارتی عسکری سرمایہ کاری عملی میدان میں بے اثر دکھائی دی۔

    برطانوی جریدہ "ٹیلی گراف” نے پاکستان کی دفاعی کامیابی کو "تضحیک آمیز شکست” کے طور پر بیان کیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان نے جدید میزائل ٹیکنالوجی کی مدد سے بھارتی فضائیہ کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے، جن میں جدید ترین رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ ٹیلی گراف نے اسے "ٹیکنالوجی کے مقابلے میں مہارت اور حکمت عملی کی فتح” قرار دیا۔

    الجزیرہ نے اس واقعے کو جنگی تاریخ میں رافیل طیاروں کی پہلی شکست قرار دیتے ہوئے اسے عالمی منظرنامے پر ایک غیر متوقع لمحہ کہا۔ رپورٹ کے مطابق ایک محدود وسائل رکھنے والے ملک نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک بڑی طاقت کو جس انداز میں زیر کیا، وہ دنیا بھر کے لیے حیرت کا باعث بنا۔

    روسی دفاعی تجزیہ کار سرگئی کارلوف نے چینل "روسیا ٹوڈے” پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کو ایک "اسٹریٹیجک پیغام” قرار دیا۔ ان کے بقول

    یہ محض ایک دفاعی کامیابی نہیں بلکہ ایک واضح اعلان تھا کہ پاکستان صرف اپنی سرحدوں کا دفاع ہی نہیں کر سکتا بلکہ کسی بھی جارحیت کو مؤثر انداز میں ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔”

    فرانسیسی روزنامہ "لوموند” نے بھارتی عسکری ناکامی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ بھارتی قیادت کو اب اپنی جنگی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اخبار کے مطابق پاکستان نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ وہ امن کا داعی ضرور ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے میں ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہایت درست نشانے پر وار کرتے ہوئے بھارتی ایئر بیسز، ریڈار اسٹیشنز اور زمینی تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچایا، جس کے بعد بھارت نے فوری طور پر سفارتی مدد کے لیے امریکہ اور دیگر اتحادیوں سے رجوع کیا۔ یہ قدم بھارت کی کمزور دفاعی تیاریوں کو عالمی برادری کے سامنے آشکار کرنے کا باعث بنا۔

    پاکستان کی یہ کامیابی نہ صرف عسکری میدان میں ایک فیصلہ کن لمحہ ہے بلکہ اس کے قومی دفاع، خودمختاری اور پرامن پالیسیوں کے تسلسل کا بھی ثبوت ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو باور کرا دیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ضرور ہے مگر اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔

    اس کامیابی نے نہ صرف پاک فوج کے جدید تربیتی نظام اور اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا بلکہ اس بات کو بھی ثابت کر دیا کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی محض ردِعمل نہیں بلکہ مکمل تیاری، بروقت فیصلہ سازی اور قومی جذبے پر مبنی ایک جامع حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اندرونی سطح پر قوم کا اتحاد، عوام کا اعتماد اور سیاسی و عسکری قیادت کی یکجہتی اس کامیابی کی اصل بنیاد بنے۔

  • مال کی حوس فتنہ اور اسی فتنے کانام دنیا ہے،تحریر:ظفر اقبال ظفر

    مال کی حوس فتنہ اور اسی فتنے کانام دنیا ہے،تحریر:ظفر اقبال ظفر

    دنیا کی بناوٹ کو اس کے وجود کے اعتبار سے دیکھتا ہوں تو زمین پر ہوئی ساری کی ساری تخلیق قدرت کی مصوری کا پتا دیتی ہے اور خدا کو جاننے کے تناظر میں یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ خدا کاسب سے پسندیدہ مشغلہ تخلیق ہی رہا ہے اور ہر تخلیق اپنی ابتدا سے ہی اپنے حسن پر برقرار کھڑی ہے اور زمین کا سارا انتظام انسانی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا ہوا ہے تو یہ جو پانی پہ زمین کا تخت انسان کے لیے سجایا گیا ہے اس پہ دنیا نام کی کیا حقیقت ہے جس کو اس کے بنانے والے نے بھی برائیوں فتنوں خرابیوں حقیر اور ناجانے کیا کیا ناپسندیدہ القاب سے پکارا بتایا سمجھایا ہے تبھی تو خدا کے محبوب بندوں نے دنیا کبھی دنیا بنانے والے سے بھی نہیں مانگی۔ میں بہت غور و فکر اور ذاتی زندگی کے تجربے سے جس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دنیا نام کی ساری خرابیوں کو جمع کرکے اسے کوئی نام دیا جائے تو وہ مال و دولت ہی ہوگا جس سے دنیا کے سارے فتنے رونما ہوتے ہیں ویسے تو ایمان والوں کے لیے دولت کے علاوہ بھی کئی صورتوں کو فتنے کا نام دیا گیا ہے مگر جس نے سب سے زیادہ سکون انسانی برباد کیا وہ مال ہی ہے جسکی غیرموجودگی نے اچھوں کو برا کر دیکھایا اورموجودگی نے بروں کو اچھا بنا کر پیش کیا۔ اصل میں دنیا ہی ہے مال کا نام جس کی حوس ایمان ہی کیا پورے کے پورے انسان کو ہی کھا جاتی ہے تبھی یہ انسان نگلنے والی بلا سے نفرت کے تناظر میں خدا اور خدا کے بندوں کے سخت اقوال خوب وضاحت کرتے ہیں حدیث مبارکہ ہے کہ دنیا مردار ہے اور اس کا طالب کتا ہے قول علی ؓہے کہ دنیا میرے نزدیک ایسے ہے جیسے سور کی انتڑیاں جو کوڑھے کے ہاتھوں میں ہو۔

    جس انسان کی جائز ضرورتوں کو اس کے لیے آسان رکھ کر اسے مال کی حوس سے آزاد کردیا گیا اُس کی غربت بھی بادشاہی کا اک روپ ہے اور جیسے ضرورتوں سے زیادہ ما ل دے کرمزید مال کی حوس میں جکڑ دیا گیا اس شخض کی اپنی قیمت بھی ختم ہو جاتی ہے میں نے لاکھوں کرڑوں کے ایسے کئی مالک دیکھے ہیں جن کے پاس مال تو ہے مگر خود دوکوڑی کے بھی نہیں ہوتے ان بے قیمت لوگوں کو پا کر میں سوچتا تھا دنیا جتنی خود گری ہوئی ہے اس کا انتخاب خود سے زیادہ گرے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں یعنی دنیا اُنہی کے پاس جاتی ہے جو دنیا کے مزاج کے ہوتے ہیں خوش قسمت ہیں وہ روحیں جنہیں دنیا راس ہی نہیں آتی اور وہ دنیاوی نظام کو ٹھکرا کر آسمانی دنیا کے دھیان میں رہتے ہیں جنہیں لوگوں نے غربت کی نفرت میں ددھکار دیا وہی لوگ آسمان والے کے لاڈلے ٹھہرے ہیں۔ دنیا کی مشکلیں صبر کرنے والوں کے لیے اگلے جہان کی آسانیاں ہیں مگر میں ایمان و انسان کے سارے رشتے کھا جانے والی دولت نامی بلا کی اتنی اہمیت کیوں بنائی پر مبنی سوال بارگاہ خداوندی میں کرتا تو جواب آتاکہ ایمان صورت حسینی میں جتنی نایاب و پاکیزہ دولت ہے اسے آزمانے کے لیے یزیدی دنیا ہی درکار تھی اپنے اردگرد کی دنیا دیکھئے مال کے چکر میں ایمان کی بدصورتی کی نمائش لگا کر بیٹھی ہے دولت دنیا نے انسان کے ہاتھوں ہی انسان کو بے قیمت بنا کر رکھا دیا انسانیت کی جگہ کثرت مال دیکھ کر عزت و اہمیت دی جاتی ہے جبکہ یہ عزت و اہمیت دولت کی طرح جھوٹ کی وہ تصویر ہے جیسے مفاد کی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے۔

    کثرت زر کی حوس میں ڈوبی بدبودار رُوحیں حقوق کی زمین پہ فساد کی جڑ ہیں ان کی زندگی کا واحد اصول۔ پیسا ہو چاہے جیسا ہو۔ یہ قدرت کی طرف سے رکھا گیا حلال بھی اپنی حوس زدہ سوچ سے حرام بنا کر برکت کی توہین کے گنگار لوگ ہیں اسلامی معاشرے کا سب سے بھیانک چہرہ اُن لوگوں کا ہے جواسلامی حیلے میں دنیا جمع کرنے کے لیے اخلاقی شرعی قانون کی حرمت پامال کرتے ہیں مذہب کا لبادہ اُوڑھ کر شرافت کا ڈھونگ کرتے ہیں جبکہ ان کی شرافت شر اور آفت کا مجموعہ ہوتی ہے میں نے پانچ وقت کے حرام خور نمازی بھی دیکھے ہیں جو نہ نماز چھوڑتے ہیں نہ حرام چھوڑتے ہیں ان کی عبادت عبادت نہیں عادت ہے جو ان کی اندر کی حرام حوس کو مارنے پربے اثر رہتی ہے ان پر بات کی جائے تو یہ اپنے بدکردار کی نشاندہی کوتوہین مذہب سے جوڑ کر اللہ کے بدمعاش بن جاتے ہیں دنیا کے عاشق دنیا کے حیلے میں ہی کماؤ دین کا لبادہ اُوڑھنا ہے تو دین کوکردار میں اپناؤ خریدا ہوا مال واپس اور تبدیل کرنے کے ساتھ شرعی منافع رکھوکیا یہ غرض مال دنیا کی منافقت نہیں کہ خریدتے وقت عیب نکالیں جائیں اور وہی چیز فروخت کرتے ہوئے تعریفیں بیان کی جائیں

    اپنی دکانوں کے باہر لوگوں کا راستہ کرایے پر دینے والوں کو اس حدیث پر ایمان کیوں نہیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے راستے کی جگہ پہ تو نمازتک نہیں ہوتی جب سب سے افضل عبادت جائز نہیں ہوتی تو روزی کیسے جائز ہو سکتی ہے اس عمل سے منسلک دونوں افراد حرام کا شکار ہیں طالب دنیا کے پھیلائے فتنوں پہ جتنی بھی بات کرو یہ پھیلتی ہی چلی جائے گئی آپ کے اپنے زہن میں بھی بے شمار حوالے آ رہے ہوں گے جو روزمرہ کی زندگی میں اپنے معاشرے کے طرزعمل سے سب کو نظر آتے ہیں ان ساری خرابیوں پر بات کرنے کی سمجھداری تو سبھی رکھتے ہیں مگراصل ضرورت اس بات کی ہے جس سے اصلاح کا ایسا نظام کیسے بنایا جاسکے جس سے انسان انسان کو حوس دنیا میں ڈسنا بند کر دیں اس کے لیے پہلے تو دنیا کی اُس نفرت کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو خدا اور خدا کے محبوب بندوں میں پائی جاتی ہے۔یہ کیامسلمانیت کی بدقسمتی ہے کہ آسمانی معیار کی سوچ کو چھوڑ کر زمینی خرابیوں کو اصول زندگی بنا لیا جائے مصنوعی مہنگائی اور زمینی بے روزگاری کے طوفان کے آگے پل باندھنے کی بجائے اس کے نئے راستے اُس جانب کھولے جائیں جہاں مجبور بے بس انسان بستے ہیں اخلاقی قدروں کو تباہ کرنے والے حالاتوں سے سمجھوتہ کرکے اوپر کے ظلم نیچے والوں پہ تقسیم کرنے کی بجائے ظالم کو اصلاح پہ مجبور کیا جائے ریاست کی ترقی کے لیے انسانیت کے اخلاقی کردار کو مسخ کرنے والے صاحب اختیار لوگوں کی جگہ صاحب ضمیر لوگوں کو بیٹھایا جائے غربت اگر اتنی ہی بری ہوتی تو خدا اپنے ہرمحبوب بندے کو یہ تحفے میں نہ دیتا بدکردار دولت مندی کی بجائے باکردار غربت پہ فخر کرنا شیوہ پیغمبری ہے حلال و جائز زرائع سے روزی کمانا عین عبادت ہے اور اس عبادت کو قضا کرنے والے کی خدائی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی دین کے نام پر لوگوں کی آخرت کی فکر کرنے کی بجائے لوگوں کی دنیا دین کے مطابق بنانا دین سے سب سے بڑی خدمت ہے دنیاوی نظام کو دینی نظام میں ڈھالنا ہی آخرت کی تیاری ہے دنیاوی زندگی میں آسانی ہے۔ بندہ کسی بندے کا گنہگار نہ نکلا تو بخش دیا جائے گا مگرکسی بندے کا گنہگار نکلاتوہمیشہ ہمیشہ کی زلتوں میں جکڑ دیا جائے گا

  • بھارت سے مذاکرات، فتح پر سمجھوتہ؟ ہرگز نہیں!

    بھارت سے مذاکرات، فتح پر سمجھوتہ؟ ہرگز نہیں!

    بھارت سے مذاکرات، فتح پر سمجھوتہ؟ ہرگز نہیں!
    قوم کی نظریں قیادت پر، میدان کی جیت کو میز پر ہارنے نہ دیا جائے!
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰبڈانی
    اس کالم کا مقصد پاکستانی قوم اور اس کے اداروں کو خبردار کرنا ہے کہ مذاکرات کی میز پر کوئی ایسی کمزوری نہ دکھائی جائے جو میدان جنگ میں حاصل کی گئی فتح کو سیاسی شکست میں بدل دے۔ پاکستانی عوام اپنی فوج اور حکومت سے اس وقت غیر معمولی توقعات رکھتے ہیں اور کوئی غلطی ناقابل معافی ہوگی۔

    بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ محدود جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سیز فائر نے خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس کے نظریاتی بازو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس کے ہمنوا "گودی میڈیا” کی جانب سے اس شکست کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بھارت اپنی عسکری ناکامیوں کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی یہی کوشش جاری ہے۔ بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ماضی میں متعدد بار اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پروپیگنڈے اور سفارتی چالوں کا سہارا لیا ہے۔ 1965 کی جنگ میں بھارت نے اسے اپنی فتح کے طور پر پیش کیا حالانکہ پاکستانی افواج نے لاہور اور سیالکوٹ کے محاذوں پر بھارتی پیش قدمی کو روک دیا تھا۔ جنگ کے بعد بھارتی میڈیا نے اپنی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ بھارت نے پاکستان کو سبق سکھایا جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت پاک فوج نے بھارت کو شکست دوچارکیا تھا۔ اسی طرح 1999 کی کارگل جنگ میں پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی تھی لیکن بھارت نے عالمی دباؤ اور سفارتی چالوں کے ذریعے اسے اپنی فتح کے طور پر پیش کیا۔ بھارتی میڈیا نے اسے "آپریشن وجے” کے نام سے پروموٹ کیا حالانکہ پاکستانی فوج نے بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود اپنی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔

    2019 کے پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے بالاکوٹ میں "سرجیکل سٹرائیک” کا دعویٰ کیا لیکن پاکستانی فضائیہ نے 27 فروری 2019 کو بھارتی طیاروں کو مار گرا کر اور ایک پائلٹ ابھینندن ورتھمان کو گرفتار کر کے بھارت کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ اس کے باوجود بی جے پی نے اس واقعے کو الیکشن مہم میں استعمال کر کے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کی۔ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت اپنی عسکری ناکامیوں کو میڈیا پروپیگنڈے اور سفارتی چالوں کے ذریعے سیاسی فائدے میں بدلنے کی مہارت رکھتا ہے۔ موجودہ سیز فائر کے بعد بھی یہی کوشش متوقع ہے، خاص طور پر جب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بہار کے الیکشن میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور الیکشن کیلئے ہی پہلگام فالزفیلگ اپریشن کیا اور اسی کا بہانا بنا پاکستان پر شب خون مارا ،جس میں مساجد اور معصوم بچے ،خواتین اور بزرگ شہید ہوئے۔

    بھارت کی حالیہ عسکری ناکامی کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب سے کئی چالوں کا امکان ہے۔ بھارت یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ سیز فائر اس کی سفارتی کامیابی ہے اور پاکستان نے دباؤ میں آ کر اسے قبول کیا۔ گودی میڈیا اس بیانیے کو تقویت دینے کے لیے جھوٹے دعوؤں اور گمراہ کن رپورٹس کا سہارا لے رہا ہے، جیسا کہ حالیہ سوشل میڈیا میں بھارتی صحافیوں کے پروپیگنڈے کے دعوؤں سے ظاہر ہوتا ہے۔ بھارت مذاکرات سے پہلے یا دوران پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا کر عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے، جیسا کہ 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد دیکھا گیا۔ بی جے پی بہار کے الیکشن میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس سیز فائر کو "مودی کی قیادت میں بھارت کی طاقت” کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔ ماضی میں بی جے پی نے ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح جیسے واقعات کو الیکشن میں سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا تھا حالانکہ وہ حلقہ 2024 کے الیکشن میں ہار گئی۔ مذاکرات کی میز پر بھارت غیر حقیقت پسندانہ مطالبات پیش کر سکتا ہے جیسے کہ کشمیر کے معاملے پر یک طرفہ رعایت یا پاکستانی سرزمین سے مبینہ دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ۔ یہ مطالبات مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور پاکستان کو کمزور پوزیشن میں دکھانے کے لیے ہوں گے۔

    پاکستانی قوم اس وقت اپنی فوج اور حکومت سے غیر معمولی توقعات رکھتی ہے۔ حالیہ آپریشن "بنیان مرصوص” میں پاکستانی فضائیہ اور مسلح افواج نے بھارت کے عسکری دعوؤں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ عوام میں پاک فوج اور حکومت کی مقبولیت عروج پر ہے اور یہ مقبولیت ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ لیکن یہ سرمایہ مذاکرات کی میز پر ایک غلط فیصلے سے ضائع ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عوام یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ وہ میدان جنگ میں جیتی ہوئی فتح کو سیاسی طور پر ہارنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر پاکستانی قیادت نے بھارت کے دباؤ میں آ کر کوئی کمزوری دکھائی، جیسے کہ غیر ضروری رعایت دینا یا بھارت کے پروپیگنڈے کا مقابلہ نہ کرنا تو عوام اسے ہرگز معاف نہیں کریں گے۔ سوشل میڈیا خاص طورایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پاکستانی صارفین کے تبصروں سے واضح ہے کہ عوام اپنی فوج کی کارکردگی پر فخر کرتے ہیں اور بھارت کی ناکامی کو اپنی فتح سمجھتے ہیں۔ کوئی بھی فیصلہ جو اس فتح کو کمزور کرے، عوامی غم و غصے کو دعوت دے گا۔

    پاکستان کو مذاکرات کی میز پر مضبوط پوزیشن کے ساتھ بیٹھنا ہوگا۔ پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے واضح کرنا ہوگا کہ سیز فائر بھارت کی عسکری ناکامی کا نتیجہ ہے۔ عالمی میڈیا اور اقوام متحدہ جیسے فورمز پر اس بیانیے کو تقویت دی جائے۔ پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا ٹیموں کو بھارتی گودی میڈیا کے جھوٹے دعوؤں کا فوری اور ٹھوس جواب دینا ہوگا۔ بھارت کے دعوؤں کی آزاد تصدیق کے لیے انٹرنیشل میڈیا کو دعوت دی جائے۔ پاکستان کو کشمیر سمیت تمام اہم ایشوز پر اپنے اصولی موقف پر ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ بھارت کے غیر حقیقت پسندانہ مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کو مثبت سمت میں رکھا جائے۔ پاکستانی قیادت کو عوام کو اعتماد میں لے کر ہر فیصلے کی شفافیت یقینی بنانی ہوگی۔ عوام کی حمایت پاکستانی پوزیشن کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اسے کسی بھی قیمت پر کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔

    بھارت کی حالیہ عسکری ناکامی اور سیز فائر اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی عسکری طاقت اور قومی عزم بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ لیکن یہ فتح اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک مذاکرات کی میز پر اسے سیاسی کامیابی میں تبدیل نہ کیا جائے۔ بھارت کی تاریخی چالیں اور موجودہ پروپیگنڈا حکمت عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے ہر حربہ آزمائے گا۔ پاکستانی قیادت اور اداروں کو اس حقیقت سے آگاہ رہنا ہوگا کہ عوام کی نظریں ان پر ہیں اور کوئی غلطی ناقابل معافی ہوگی۔ پاکستانی قوم اپنی فتح پر فخر کرتی ہے اور وہ اس فتح کو کسی بھی قیمت پر ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔

  • آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اک مدت سے مری آنکھوں میں خواب نہیں اترے
    اپنی آغوش کی پھر پناه دے مجھ کو ماں

    کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جب ماں کی گود کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی ہوتی ہے۔ کہ جہاں دنیا کے ہر غم سے ہمیشہ کے لیے چھپا جا سکے۔ اور جہاں دنیا کا ہر سکون دستیاب ہو۔ جہاں انسان پھر سے معصوم بچہ بن جائے۔ اور جہاں ماں کا لمس ہی زندگی کی ہر تلخی سے بچا کے جیسے اپنے حصار میں لے لیتا ہو۔

    ماں دنیا میں اللہ رب العزت کی خاص نعمت ہے۔ جس کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔

    اللہ رب العزت نے والدین میں اولاد سے بے لوث محبت کا جذبہ رکھا ہے۔ جب دنیا آپ کو اپنے مفادات کے تناظر میں تول رہی ہوتی ہے۔ تو والدین ہی ہوتے ہیں جن کا دامن اپنی اولاد کے لیے کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ یہ والدین ہی تو ہوتے ہیں۔ جو اپنے ادھورے خواب اپنی اولاد میں پورے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور پھر ماں کی محبت تو ایک الگ ہی نظیرِ وفا ہے۔ دنیا طاقت ور سے محبت رکھتی ہے۔ اور ماں اپنی اولاد میں سے سب سے کمزور بچے سے سب سے زیادہ محبت رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ بن بچے کے کچھ کہے اس کی تکلیف کو محسوس کر لیتی ہے۔ اپنی بہترین چیز اپنی اولاد کو دے کر خوش ہوتی ہے۔ خود اپنا لقمہ اپنی اولاد کے منہ میں ڈال کے اپنی بھوک بھول جاتی ہے ۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے۔ جو اپنی مامتا کا حق اس وقت سے ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ ابھی اس کی اولاد اس کائنات میں آئی بھی نہیں ہوتی ۔ ماں کی تو ایک رات کی نیند کا بھی حق اولاد ادا نہیں کر سکتی ۔

    یہ حقیقت ہے کہ جب کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے۔ تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو تلاش کرتا ہے ۔ اس کی گود ہی اس کی ہر تکلیف کی دوا ہوتی ہے۔ مامتا کی حرارت ہی ایسی ہے۔ کہ جو اسے ہر تکلیف سے آزاد کر دیتی ہے۔ انسان بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر چوٹ لگنے اور تکلیف ملنے کا سلسلہ تو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کہ عروج و زوال ، ٹوٹنا اور پھر سے جڑنا زندگی کا حصہ ہیں۔

    احساسِ درد سے کر دیتا ہے آزاد
    ماں کا لمس آبِ شفا ہو جیسے

    مگر جن کی مائیں نہیں ہوتیں ان کے پاس وہ گود بھی میسر نہیں ہوتی ۔جس کی حرارت انہیں زندگی کے تند و تیز تھپیڑوں سے بچا سکے ۔ جس کے پاس انسان کی ہر تکلیف اور ہر درد کی دواء ہو۔ جہاں آپ کے ہر نقصان کا مداوا موجود ہو۔ جہاں ہر مسئلے کا حل موجود ہو۔ اور جہاں ہر چوٹ بس ” چیونٹی کا آٹا گرنے” کے برابر ہو۔ تکلیف سے بڑھ کے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جب آپ بکھریں تو سمیٹنے والا کوئی نہ ہو۔

    باپ ہو تو سجتی ہے عید بھی عنبرؔ
    ماں ہو تو تہوار بھی اچھا لگتا ہے

    جنت کے حصول کے لیے عبادات بھی کریں مگر جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی محبت کا کچھ نہ کچھ حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔

    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
    (سورة الإسراء)
    ترجمہ : ” اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔”
    آمین

  • بنیان مرصوص،الفتح،پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا مان گئی.تحریر:نور فاطمہ

    بنیان مرصوص،الفتح،پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا مان گئی.تحریر:نور فاطمہ

    پاکستان کی دفاعی تاریخ میں جب بھی ذکر ہوتا ہے، وہ کچھ نہ کچھ خاص لمحے ہوتے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کی طاقت اور عزم کا لوہا منوایا۔ ان لمحوں میں سے ایک وہ وقت،دس مئی، بعد نماز فجر،جب پاکستان نے اپنے دشمن بھارت کو ایک زبردست فوجی جواب دیا۔ اس آپریشن کا نام تھا "بنیان مرصوص”، اور اس میں استعمال ہونے والے میزائل کا نام تھا "الفتح”۔

    "الفتح” عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "فتح” یا "کامیابی”۔ یہ نام اس میزائل کو دیا گیا کیونکہ اس کا مقصد دشمن کو شکست دینے اور کامیابی حاصل کرنے کا تھا۔ "الفتح” ایک جدید اور انتہائی طاقتور میزائل تھا، جو کسی بھی دشمن کی دفاعی لائن کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس میزائل کا مقصد نہ صرف فوجی طاقت کو ظاہر کرنا تھا بلکہ دشمن کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان ہر صورت میں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرے گا۔پاکستان کے اس فوجی آپریشن کا نام "بنیان مرصوص” رکھا گیا، جو کہ قرآن مجید کی ایک آیت سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کے اتحاد اور مضبوطی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ "بنیان مرصوص” کا لغوی معنی ہے "ایک مضبوط دیوار” یا "ایک مضبوط قلعہ”۔ اس آپریشن کا مقصد دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرنا اور اپنی سرحدوں کی مکمل حفاظت کرنا تھا۔ آپریشن کی کامیابی کی وجہ سے اس کا نام "بنیان مرصوص” بہت مناسب ثابت ہوا۔

    آپریشن کا وقت بھی ایک خاص روحانیت اور تاریخ سے جڑا ہوا تھا۔ اس آپریشن کا آغاز ایک حدیث سے متاثر ہو کر کیا گیا۔ حدیث میں آتا ہے،”جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہو، تو تمہاری کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔”یہ حدیث مسلمانوں کے عزم و حوصلے کو بڑھاتی ہے، اور اس آپریشن کی کامیابی میں اس کا بڑا عمل دخل تھا۔ آپریشن کی کامیابی اور طاقت کے پیچھے ایک عظیم ایمان اور عزم کا راز تھا۔

    پاکستانی فوج کے ہر آپریشن کی طرح اس آپریشن کی ابتداء بھی "بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم” سے کی گئی۔ یہ نہ صرف ایک روحانی آغاز تھا بلکہ اس سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اس آپریشن میں اللہ کی مدد شامل ہے۔ فوجی افسران اور جوانوں نے اس کلمے کے ذریعے اپنے دلوں میں عزم پیدا کیا اور دشمن کے خلاف جنگ میں کامیابی کی دعائیں کیں۔جب آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی کو حاصل کیا گیا، تو اس کا اختتام بھی ایک روحانی انداز میں کیا گیا۔ اس کا اختتام "الحمدللہ رب العالمین” سے کیا گیا، یعنی "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔” یہ اس بات کا اظہار تھا کہ اس عظیم کامیابی کا سارا کریڈٹ اللہ کی ذات کو جاتا ہے۔ اس اختتام سے یہ پیغام دیا گیا کہ جب انسان اپنی محنت اور ایمانداری کے ساتھ کام کرتا ہے تو کامیابی خود بخود ملتی ہے۔

    آپریشن "بنیان مرصوص” نے بھارت کو ایک ایسا جواب دیا جس نے اس کی فوج کو ہلا کر رکھ دیا۔ بھارت کی دفاعی حکمت عملی اور طاقت کے باوجود، پاکستان نے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس سے بھارت کو شدید دھچکا لگا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں بھارت کی تباہی کا منظر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پاکستان کی فوج کی طاقت اور حکمت عملی نے عالمی سطح پر بھارت کی چالاکیوں کو بے نقاب کر دیا۔پاکستان کے اس کامیاب آپریشن کے بعد، بھارت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے مدد مانگی۔ اس میں بھارت کی شکست اور پاکستان کی کامیابی کا واضح پیغام تھا۔یہ تمام واقعات نہ صرف پاکستان کے لیے فخر کا باعث بنے، بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ پاکستان ہر حال میں اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔ "الفتح” میزائل اور "بنیان مرصوص” آپریشن کی کامیابی نے دنیا بھر میں پاکستان کی فوجی طاقت اور عزم کا لوہا منوایا۔

  • شاہینوں نے بھارت کو جھکنے پر مجبور کر دیا پاک بھارت جنگ بندی کا فیصلہ

    شاہینوں نے بھارت کو جھکنے پر مجبور کر دیا پاک بھارت جنگ بندی کا فیصلہ

    شاہینوں نے بھارت کو جھکنے پر مجبور کر دیا پاک بھارت جنگ بندی کا فیصلہ
    تحریر :سید ریاض جاذب
    جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگی بالآخر کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان 12 مئی کو اہم بات چیت طے پا چکی ہے، جس سے خطے میں امن کی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جنگ بندی کا اطلاق 12 مئی دوپہر تک ہوگا۔ مزید برآں، دونوں ممالک اس بات پر بھی متفق ہیں کہ وہ کسی غیر جانبدار مقام پر وسیع تر تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی مؤثر، بروقت اور مربوط جوابی حکمت عملی نے بھارت کو بھاری نقصان سے دوچار کیا۔ خاص طور پر آپریشن "بنیان مرصوص” کے بعد، بھارت نے سفارتی سطح پر اپنے قریبی اتحادیوں کے ذریعے جنگ بندی کی کوششیں شروع کیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار جنگ میں روایتی قوت سے زیادہ ٹیکنالوجی اور فضائی حکمت عملی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
    پاک فضائیہ نے نہ صرف بھارت کے جدید ترین دفاعی نظام کو غیر مؤثر بنایا بلکہ کم وقت میں دشمن کے اہم مراکز کو نشانہ بنا کر بھارتی افواج کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ اس کامیابی کو خطے کے دیگر ممالک اور عالمی مبصرین نے بھی تسلیم کیا ہے۔

    پاک فضائیہ کی جانب سے جدید ڈرون سسٹمز، ریڈار جامنگ ٹیکنالوجی اور لڑاکا طیاروں کی منظم حکمت عملی نے نہ صرف فضائی برتری کو یقینی بنایا بلکہ دشمن کی منصوبہ بندی کو بھی تہس نہس کر دیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان صرف دفاع ہی نہیں، بلکہ مؤثر حملے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

    قوم میں اس کامیابی کے بعد ایک نئی توانائی اور جوش دیکھنے میں آیا۔ پورے ملک میں پاک فوج اور فضائیہ کے حق میں مہمات چلیں، جبکہ عوامی حلقوں میں قومی فخر اور اعتماد کی فضا قائم ہوئی۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں حب الوطنی کے جذبات نے ایک نئی روح پھونکی۔

    اس عسکری برتری کے ساتھ ساتھ پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی نہایت متوازن اور پختہ رویہ اپنایا۔ جنگ بندی کے پیغام کو نہ صرف کھلے دل سے قبول کیا گیا بلکہ دنیا کو واضح طور پر باور کرایا گیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ، اسلامی ممالک، چین، روس اور امریکہ سمیت عالمی قوتوں نے پاکستان کی پالیسی کو سراہا ہے۔

    پاک فوج، بالخصوص فضائیہ نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ بھارتی قیادت کو بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ اگر جنگ کا سلسلہ مزید آگے بڑھتا، تو اسے ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑتا، شاید ایسا نقصان جس سے دوبارہ سنبھلنا ممکن نہ ہوتا۔

    پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ امن کا داعی ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ ملکی قیادت کا پیغام واضح ہے: پاکستان امن چاہتا ہے، مگر ہر جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دے گا۔

    پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے متحد ہو کر قوم کو ایک پیج پر رکھا اور دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا۔ اس ہم آہنگی نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر باور کرایا کہ پاکستان داخلی استحکام اور قومی وحدت کی قوت سے لیس ہے۔

    ہفتے کی صبح سویرے شروع ہونے والے آپریشن کے بعد خطے میں یہ تاثر عام ہوا کہ اگر جنگ جاری رہتی تو بھارت کی شکست یقینی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے جنگ بندی کی راہ اپنائی۔

    اس ساری صورت حال نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ پاکستان صرف عسکری اعتبار سے ہی نہیں، بلکہ سیاسی، سفارتی اور قومی سطح پر بھی مکمل طور پر متحد اور تیار ہے۔ اگر بھارت سنجیدگی اور نیک نیتی سے مذاکرات کرے تو 12 مئی کی بات چیت خطے میں دیرپا امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔

  • آپریشن بنیان مرصوص،پاکستانی شاہینوں نے دشمن کے پرخچے اُڑا دیئے

    آپریشن بنیان مرصوص،پاکستانی شاہینوں نے دشمن کے پرخچے اُڑا دیئے

    آپریشن بنیان مرصوص،پاکستانی شاہینوں نے دشمن کے پرخچے اُڑا دیئے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آپریشن بنیان مرصوص کا نام قرآن پاک کی سورۃ الصف آیت (61:4) سے ماخوذ ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ”
    ترجمہ: "بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔”
    یہ آیت مومنین کی استقامت، اتحاد اور اللہ کی راہ میں جہاد کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستانی فوج نے اس آپریشن کا نام "بنیان مرصوص” رکھ کر اس قرآنی پیغام کو اپنایا کہ پاکستانی قوم اور اس کی فوج ایک مضبوط، ناقابل تسخیر دیوار کی مانند ہے جو دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے۔ یہ نام نہ صرف عسکری عزم کی علامت ہے بلکہ پاکستانی قوم کے ایمان، اتحاد اور قربانی کے جذبے کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔

    گذشتہ رات بھارت نے پاکستان پر بڑا حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے پاکستان کی تین اہم ایئر بیسز نورخان، مرید ائیربیس چکوال اور شورکوٹ پر میزائل داغے۔ لیکن پاکستانی فوج کے چوکس ایئر ڈیفنس سسٹم اور افواج نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔ بھارت کی یہ جارحیت پاکستان کے لیے ایک چیلنج تھی لیکن پاک فوج نے اس کا جواب آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے دیا۔ اس آپریشن میں پاکستانی شاہینوں نے بھارت کے فوجی اڈوں، اسلحہ ڈپوؤں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا اور بھارت کو بھاری نقصان پہنچایا۔

    پاکستانی فوج نے آپریشن بنیان مرصوص کے تحت بھارت کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا۔ پاکستانی فتح ون میزائلوں نے ادھم پور ایئر بیس اور پٹھان کوٹ ایئر فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ یہ میزائل 120 کلومیٹر تک درست نشانہ لگا سکتے ہیں اور جدید نیویگیشن سسٹم سے لیس ہیں۔ ان میزائلوں کو شہید پاکستانی بچوں کے ناموں سے منسوب کیا گیا جو پاکستانی قوم کے جذبے کی علامت ہیں۔ بیاس اور نگروٹا میں بھارتی براہموس میزائلوں کے اسٹوریج ڈپو بھی تباہ کر دیے گئے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی چیک پوسٹس جیسے ربتانوالی، ڈنہ، خواجہ بھیک کمپلیکس اور رنگ کنٹوئر مکمل طور پر نیست و نابود کر دیئے گئے۔ اس کے علاوہ سرسا ایئر فیلڈ، سورت ایئر فیلڈ، چنڈی گڑھ ویپن ڈپو، بھٹنڈا ایئر فیلڈ، اکھنور ایوی ایشن بیس، برنالہ ایئر فیلڈ، بھوج ایئر بیس، نعل ایئر بیس، اترلائی ایئر بیس اور فلودی ملٹری بیس کو بھی پاکستانی فوج نے تباہ کر دیا۔ پاکستانی میڈیا نے ان مقامات کی تباہی کی فوٹیج دکھائی جو پاکستانی شاہینوں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہیں۔

    پاک فضائیہ نے بھارتی جنگی طیاروں اور ڈرونز کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق، 3 رافیل، ایک سوخوئی، ایک مگ29 اور تقریباَََ80 اسرائیلی ساختہ ہروپ ڈرونز مار گرائے گئے۔ امریکی میڈیا نے فرانسیسی انٹیلی جنس کے حوالے سے ایک رافیل کی تباہی کی تصدیق کی۔ پاکستانی ڈرونز نے نئی دہلی کی فضائی حدود میں پروازیں کیں، جس سے بھارتی ایئر ڈیفنس سسٹم کی ناکامی واضح ہوئی۔ اس کے علاوہ پاک فوج نے بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹرز جیسے بھمبر گلی اور بھارتی فوج کے جی ٹاپ کو بھی تباہ کر دیا۔ پاکستانی JF-17 تھنڈر طیاروں نے ادھم پور میں بھارت کے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو نشانہ بناکر تباہ کردیا، جس کی مالیت 1.5 بلین ڈالر تھی۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ان کا S-400 سسٹم کامیاب رہا لیکن پاکستانی حملوں کی کامیابی نے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا۔

    آپریشن بنیان مرصوص میں پاک فوج نے سائبر جنگ کے میدان میں بھی بھارت کو بھاری نقصان پہنچایا۔ پاکستانی سائبر حملوں نے بھارت کے 70 فیصد بجلی کے گرڈ اسٹیشنزکو ناکارہ کر دیا۔ بھارتی ملٹری سیٹلائٹ کو جام کیا گیا اور 2500 سرویلنس کیمرے ہیک کر لیے گئے۔ بھارتی دفاعی اور معاشی ویب سائٹس کو بھی پاکستانی سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ دہرنگیارہ آرٹلری گن پوزیشن اور سری نگر ایئر بیس کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ یہ کارروائیاں پاکستانی فوج کی جدید ٹیکنالوجی اور بہترحکمت عملی کاواضح ثبوت ہیں۔

    اس آپریشن کی کامیابی میں پاکستانی قوم، سول اور عسکری قیادت کی یکجہتی نے اہم کردار ادا کیا۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے نماز فجر کے بعد سورۃ الصف کی تلاوت کی اور قوم سے دعاؤں کی اپیل کی، جس سے قومی جذبہ بلند ہوا۔ پاکستانی سیاسی رہنماؤں جن میں وزیراعظم بھی شامل ہیں نے فوج کی مکمل حمایت کی اور بھارتی جارحیت کی مذمت کی۔ پاکستانی عوام نے سوشل میڈیا پر اپنی فوج کی حمایت میں پوسٹس کیں اور بھارت کے خلاف آواز اٹھائی۔ پاکستانی میڈیا نے آپریشن کی کامیابیوں کو خوب اجاگر کیا، جس سے قوم کا مورال مزیدبلند ہوا۔

    دوسری طرف بھارت میں حالات بالکل مختلف تھے۔ پاکستانی حملوں کے بعد بھارت کے بڑے شہروں نئی دہلی، ممبئی اور کولکتہ میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے مودی اور امیت شاہ کو گالیاں دیں اور ان کی پالیسیوں کو ناکام قرار دیا۔ X(سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹس کے مطابق بھارتی عوام نے مودی کی خارجہ پالیسی کو "غرور پر مبنی” اور "تباہ کن” کہا۔ یہ مظاہرے بھارتی فوج کی ناکامی اور پاکستانی حملوں کے باعث نفسیاتی اثرات کا نتیجہ تھے۔ بھارتی قیادت پر عوام کا اعتماد کمزور ہوا اور اندرونی سیاسی دباؤ بڑھ گیا۔

    پاکستان اور بھارت کے حالات کا تقابل کریں تو فرق واضح ہے۔ پاکستان میں قوم اور فوج ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد رہے جبکہ بھارت میں عوام اپنی قیادت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ پاکستانی فوج کی کامیابی کے ثبوت پاکستانی میڈیا کی رپورٹس، عالمی میڈیا کی کوریج، اور بھارتی میڈیا کی جزوی تصدیق سے ملتے ہیں۔ پاکستانی صارفین نے سوشل میڈیا پر فتح ون میزائلوں اور JF-17 طیاروں کی کارروائیوں کی ویڈیوز شیئر کیں جو قومی فخر کا باعث بنیں۔

    آپریشن بنیان مرصوص نہ صرف پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے بلکہ یہ قومی اتحاد، ایمان اور قربانی کے جذبے کی روشن علامت بھی ہے۔ قرآن کے پیغام پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی قوم اور اس کی فوج نے دشمن کے خلاف ایک ناقابل تسخیر دیوار بن کر کھڑے ہو جانے کا عملی مظاہرہ کیا۔ یہ آپریشن اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جب قوم، قیادت اور ادارے ایک صف میں کھڑے ہو جائیں تو کوئی دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ آج کا پاکستان دفاعی طور پر مضبوط، تکنیکی طور پر جدید اور نظریاتی طور پر واضح ہے اور یہ سب کچھ اس قرآنی تصور "بنیان مرصوص” کے عملی اظہار سے ممکن ہوا۔

    پاکستان زندہ باد!
    پاک فوج پائندہ باد!