Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت سے مذاکرات، فتح پر سمجھوتہ؟ ہرگز نہیں!

    بھارت سے مذاکرات، فتح پر سمجھوتہ؟ ہرگز نہیں!

    بھارت سے مذاکرات، فتح پر سمجھوتہ؟ ہرگز نہیں!
    قوم کی نظریں قیادت پر، میدان کی جیت کو میز پر ہارنے نہ دیا جائے!
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰبڈانی
    اس کالم کا مقصد پاکستانی قوم اور اس کے اداروں کو خبردار کرنا ہے کہ مذاکرات کی میز پر کوئی ایسی کمزوری نہ دکھائی جائے جو میدان جنگ میں حاصل کی گئی فتح کو سیاسی شکست میں بدل دے۔ پاکستانی عوام اپنی فوج اور حکومت سے اس وقت غیر معمولی توقعات رکھتے ہیں اور کوئی غلطی ناقابل معافی ہوگی۔

    بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ محدود جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سیز فائر نے خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس کے نظریاتی بازو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس کے ہمنوا "گودی میڈیا” کی جانب سے اس شکست کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بھارت اپنی عسکری ناکامیوں کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی یہی کوشش جاری ہے۔ بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ماضی میں متعدد بار اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پروپیگنڈے اور سفارتی چالوں کا سہارا لیا ہے۔ 1965 کی جنگ میں بھارت نے اسے اپنی فتح کے طور پر پیش کیا حالانکہ پاکستانی افواج نے لاہور اور سیالکوٹ کے محاذوں پر بھارتی پیش قدمی کو روک دیا تھا۔ جنگ کے بعد بھارتی میڈیا نے اپنی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ بھارت نے پاکستان کو سبق سکھایا جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت پاک فوج نے بھارت کو شکست دوچارکیا تھا۔ اسی طرح 1999 کی کارگل جنگ میں پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی تھی لیکن بھارت نے عالمی دباؤ اور سفارتی چالوں کے ذریعے اسے اپنی فتح کے طور پر پیش کیا۔ بھارتی میڈیا نے اسے "آپریشن وجے” کے نام سے پروموٹ کیا حالانکہ پاکستانی فوج نے بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود اپنی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔

    2019 کے پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے بالاکوٹ میں "سرجیکل سٹرائیک” کا دعویٰ کیا لیکن پاکستانی فضائیہ نے 27 فروری 2019 کو بھارتی طیاروں کو مار گرا کر اور ایک پائلٹ ابھینندن ورتھمان کو گرفتار کر کے بھارت کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ اس کے باوجود بی جے پی نے اس واقعے کو الیکشن مہم میں استعمال کر کے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کی۔ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت اپنی عسکری ناکامیوں کو میڈیا پروپیگنڈے اور سفارتی چالوں کے ذریعے سیاسی فائدے میں بدلنے کی مہارت رکھتا ہے۔ موجودہ سیز فائر کے بعد بھی یہی کوشش متوقع ہے، خاص طور پر جب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بہار کے الیکشن میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور الیکشن کیلئے ہی پہلگام فالزفیلگ اپریشن کیا اور اسی کا بہانا بنا پاکستان پر شب خون مارا ،جس میں مساجد اور معصوم بچے ،خواتین اور بزرگ شہید ہوئے۔

    بھارت کی حالیہ عسکری ناکامی کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب سے کئی چالوں کا امکان ہے۔ بھارت یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ سیز فائر اس کی سفارتی کامیابی ہے اور پاکستان نے دباؤ میں آ کر اسے قبول کیا۔ گودی میڈیا اس بیانیے کو تقویت دینے کے لیے جھوٹے دعوؤں اور گمراہ کن رپورٹس کا سہارا لے رہا ہے، جیسا کہ حالیہ سوشل میڈیا میں بھارتی صحافیوں کے پروپیگنڈے کے دعوؤں سے ظاہر ہوتا ہے۔ بھارت مذاکرات سے پہلے یا دوران پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا کر عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے، جیسا کہ 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد دیکھا گیا۔ بی جے پی بہار کے الیکشن میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس سیز فائر کو "مودی کی قیادت میں بھارت کی طاقت” کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔ ماضی میں بی جے پی نے ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح جیسے واقعات کو الیکشن میں سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا تھا حالانکہ وہ حلقہ 2024 کے الیکشن میں ہار گئی۔ مذاکرات کی میز پر بھارت غیر حقیقت پسندانہ مطالبات پیش کر سکتا ہے جیسے کہ کشمیر کے معاملے پر یک طرفہ رعایت یا پاکستانی سرزمین سے مبینہ دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ۔ یہ مطالبات مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور پاکستان کو کمزور پوزیشن میں دکھانے کے لیے ہوں گے۔

    پاکستانی قوم اس وقت اپنی فوج اور حکومت سے غیر معمولی توقعات رکھتی ہے۔ حالیہ آپریشن "بنیان مرصوص” میں پاکستانی فضائیہ اور مسلح افواج نے بھارت کے عسکری دعوؤں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ عوام میں پاک فوج اور حکومت کی مقبولیت عروج پر ہے اور یہ مقبولیت ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ لیکن یہ سرمایہ مذاکرات کی میز پر ایک غلط فیصلے سے ضائع ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عوام یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ وہ میدان جنگ میں جیتی ہوئی فتح کو سیاسی طور پر ہارنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر پاکستانی قیادت نے بھارت کے دباؤ میں آ کر کوئی کمزوری دکھائی، جیسے کہ غیر ضروری رعایت دینا یا بھارت کے پروپیگنڈے کا مقابلہ نہ کرنا تو عوام اسے ہرگز معاف نہیں کریں گے۔ سوشل میڈیا خاص طورایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پاکستانی صارفین کے تبصروں سے واضح ہے کہ عوام اپنی فوج کی کارکردگی پر فخر کرتے ہیں اور بھارت کی ناکامی کو اپنی فتح سمجھتے ہیں۔ کوئی بھی فیصلہ جو اس فتح کو کمزور کرے، عوامی غم و غصے کو دعوت دے گا۔

    پاکستان کو مذاکرات کی میز پر مضبوط پوزیشن کے ساتھ بیٹھنا ہوگا۔ پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے واضح کرنا ہوگا کہ سیز فائر بھارت کی عسکری ناکامی کا نتیجہ ہے۔ عالمی میڈیا اور اقوام متحدہ جیسے فورمز پر اس بیانیے کو تقویت دی جائے۔ پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا ٹیموں کو بھارتی گودی میڈیا کے جھوٹے دعوؤں کا فوری اور ٹھوس جواب دینا ہوگا۔ بھارت کے دعوؤں کی آزاد تصدیق کے لیے انٹرنیشل میڈیا کو دعوت دی جائے۔ پاکستان کو کشمیر سمیت تمام اہم ایشوز پر اپنے اصولی موقف پر ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ بھارت کے غیر حقیقت پسندانہ مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کو مثبت سمت میں رکھا جائے۔ پاکستانی قیادت کو عوام کو اعتماد میں لے کر ہر فیصلے کی شفافیت یقینی بنانی ہوگی۔ عوام کی حمایت پاکستانی پوزیشن کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اسے کسی بھی قیمت پر کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔

    بھارت کی حالیہ عسکری ناکامی اور سیز فائر اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی عسکری طاقت اور قومی عزم بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ لیکن یہ فتح اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک مذاکرات کی میز پر اسے سیاسی کامیابی میں تبدیل نہ کیا جائے۔ بھارت کی تاریخی چالیں اور موجودہ پروپیگنڈا حکمت عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے ہر حربہ آزمائے گا۔ پاکستانی قیادت اور اداروں کو اس حقیقت سے آگاہ رہنا ہوگا کہ عوام کی نظریں ان پر ہیں اور کوئی غلطی ناقابل معافی ہوگی۔ پاکستانی قوم اپنی فتح پر فخر کرتی ہے اور وہ اس فتح کو کسی بھی قیمت پر ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔

  • آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    آغوشِ ماں.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اک مدت سے مری آنکھوں میں خواب نہیں اترے
    اپنی آغوش کی پھر پناه دے مجھ کو ماں

    کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جب ماں کی گود کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی ہوتی ہے۔ کہ جہاں دنیا کے ہر غم سے ہمیشہ کے لیے چھپا جا سکے۔ اور جہاں دنیا کا ہر سکون دستیاب ہو۔ جہاں انسان پھر سے معصوم بچہ بن جائے۔ اور جہاں ماں کا لمس ہی زندگی کی ہر تلخی سے بچا کے جیسے اپنے حصار میں لے لیتا ہو۔

    ماں دنیا میں اللہ رب العزت کی خاص نعمت ہے۔ جس کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔

    اللہ رب العزت نے والدین میں اولاد سے بے لوث محبت کا جذبہ رکھا ہے۔ جب دنیا آپ کو اپنے مفادات کے تناظر میں تول رہی ہوتی ہے۔ تو والدین ہی ہوتے ہیں جن کا دامن اپنی اولاد کے لیے کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ یہ والدین ہی تو ہوتے ہیں۔ جو اپنے ادھورے خواب اپنی اولاد میں پورے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور پھر ماں کی محبت تو ایک الگ ہی نظیرِ وفا ہے۔ دنیا طاقت ور سے محبت رکھتی ہے۔ اور ماں اپنی اولاد میں سے سب سے کمزور بچے سے سب سے زیادہ محبت رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ بن بچے کے کچھ کہے اس کی تکلیف کو محسوس کر لیتی ہے۔ اپنی بہترین چیز اپنی اولاد کو دے کر خوش ہوتی ہے۔ خود اپنا لقمہ اپنی اولاد کے منہ میں ڈال کے اپنی بھوک بھول جاتی ہے ۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے۔ جو اپنی مامتا کا حق اس وقت سے ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ ابھی اس کی اولاد اس کائنات میں آئی بھی نہیں ہوتی ۔ ماں کی تو ایک رات کی نیند کا بھی حق اولاد ادا نہیں کر سکتی ۔

    یہ حقیقت ہے کہ جب کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے۔ تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو تلاش کرتا ہے ۔ اس کی گود ہی اس کی ہر تکلیف کی دوا ہوتی ہے۔ مامتا کی حرارت ہی ایسی ہے۔ کہ جو اسے ہر تکلیف سے آزاد کر دیتی ہے۔ انسان بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر چوٹ لگنے اور تکلیف ملنے کا سلسلہ تو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کہ عروج و زوال ، ٹوٹنا اور پھر سے جڑنا زندگی کا حصہ ہیں۔

    احساسِ درد سے کر دیتا ہے آزاد
    ماں کا لمس آبِ شفا ہو جیسے

    مگر جن کی مائیں نہیں ہوتیں ان کے پاس وہ گود بھی میسر نہیں ہوتی ۔جس کی حرارت انہیں زندگی کے تند و تیز تھپیڑوں سے بچا سکے ۔ جس کے پاس انسان کی ہر تکلیف اور ہر درد کی دواء ہو۔ جہاں آپ کے ہر نقصان کا مداوا موجود ہو۔ جہاں ہر مسئلے کا حل موجود ہو۔ اور جہاں ہر چوٹ بس ” چیونٹی کا آٹا گرنے” کے برابر ہو۔ تکلیف سے بڑھ کے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جب آپ بکھریں تو سمیٹنے والا کوئی نہ ہو۔

    باپ ہو تو سجتی ہے عید بھی عنبرؔ
    ماں ہو تو تہوار بھی اچھا لگتا ہے

    جنت کے حصول کے لیے عبادات بھی کریں مگر جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی محبت کا کچھ نہ کچھ حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔

    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
    (سورة الإسراء)
    ترجمہ : ” اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔”
    آمین

  • بنیان مرصوص،الفتح،پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا مان گئی.تحریر:نور فاطمہ

    بنیان مرصوص،الفتح،پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا مان گئی.تحریر:نور فاطمہ

    پاکستان کی دفاعی تاریخ میں جب بھی ذکر ہوتا ہے، وہ کچھ نہ کچھ خاص لمحے ہوتے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کی طاقت اور عزم کا لوہا منوایا۔ ان لمحوں میں سے ایک وہ وقت،دس مئی، بعد نماز فجر،جب پاکستان نے اپنے دشمن بھارت کو ایک زبردست فوجی جواب دیا۔ اس آپریشن کا نام تھا "بنیان مرصوص”، اور اس میں استعمال ہونے والے میزائل کا نام تھا "الفتح”۔

    "الفتح” عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "فتح” یا "کامیابی”۔ یہ نام اس میزائل کو دیا گیا کیونکہ اس کا مقصد دشمن کو شکست دینے اور کامیابی حاصل کرنے کا تھا۔ "الفتح” ایک جدید اور انتہائی طاقتور میزائل تھا، جو کسی بھی دشمن کی دفاعی لائن کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس میزائل کا مقصد نہ صرف فوجی طاقت کو ظاہر کرنا تھا بلکہ دشمن کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان ہر صورت میں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرے گا۔پاکستان کے اس فوجی آپریشن کا نام "بنیان مرصوص” رکھا گیا، جو کہ قرآن مجید کی ایک آیت سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کے اتحاد اور مضبوطی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ "بنیان مرصوص” کا لغوی معنی ہے "ایک مضبوط دیوار” یا "ایک مضبوط قلعہ”۔ اس آپریشن کا مقصد دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرنا اور اپنی سرحدوں کی مکمل حفاظت کرنا تھا۔ آپریشن کی کامیابی کی وجہ سے اس کا نام "بنیان مرصوص” بہت مناسب ثابت ہوا۔

    آپریشن کا وقت بھی ایک خاص روحانیت اور تاریخ سے جڑا ہوا تھا۔ اس آپریشن کا آغاز ایک حدیث سے متاثر ہو کر کیا گیا۔ حدیث میں آتا ہے،”جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہو، تو تمہاری کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔”یہ حدیث مسلمانوں کے عزم و حوصلے کو بڑھاتی ہے، اور اس آپریشن کی کامیابی میں اس کا بڑا عمل دخل تھا۔ آپریشن کی کامیابی اور طاقت کے پیچھے ایک عظیم ایمان اور عزم کا راز تھا۔

    پاکستانی فوج کے ہر آپریشن کی طرح اس آپریشن کی ابتداء بھی "بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم” سے کی گئی۔ یہ نہ صرف ایک روحانی آغاز تھا بلکہ اس سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اس آپریشن میں اللہ کی مدد شامل ہے۔ فوجی افسران اور جوانوں نے اس کلمے کے ذریعے اپنے دلوں میں عزم پیدا کیا اور دشمن کے خلاف جنگ میں کامیابی کی دعائیں کیں۔جب آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی کو حاصل کیا گیا، تو اس کا اختتام بھی ایک روحانی انداز میں کیا گیا۔ اس کا اختتام "الحمدللہ رب العالمین” سے کیا گیا، یعنی "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔” یہ اس بات کا اظہار تھا کہ اس عظیم کامیابی کا سارا کریڈٹ اللہ کی ذات کو جاتا ہے۔ اس اختتام سے یہ پیغام دیا گیا کہ جب انسان اپنی محنت اور ایمانداری کے ساتھ کام کرتا ہے تو کامیابی خود بخود ملتی ہے۔

    آپریشن "بنیان مرصوص” نے بھارت کو ایک ایسا جواب دیا جس نے اس کی فوج کو ہلا کر رکھ دیا۔ بھارت کی دفاعی حکمت عملی اور طاقت کے باوجود، پاکستان نے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس سے بھارت کو شدید دھچکا لگا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں بھارت کی تباہی کا منظر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پاکستان کی فوج کی طاقت اور حکمت عملی نے عالمی سطح پر بھارت کی چالاکیوں کو بے نقاب کر دیا۔پاکستان کے اس کامیاب آپریشن کے بعد، بھارت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے مدد مانگی۔ اس میں بھارت کی شکست اور پاکستان کی کامیابی کا واضح پیغام تھا۔یہ تمام واقعات نہ صرف پاکستان کے لیے فخر کا باعث بنے، بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ پاکستان ہر حال میں اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔ "الفتح” میزائل اور "بنیان مرصوص” آپریشن کی کامیابی نے دنیا بھر میں پاکستان کی فوجی طاقت اور عزم کا لوہا منوایا۔

  • شاہینوں نے بھارت کو جھکنے پر مجبور کر دیا پاک بھارت جنگ بندی کا فیصلہ

    شاہینوں نے بھارت کو جھکنے پر مجبور کر دیا پاک بھارت جنگ بندی کا فیصلہ

    شاہینوں نے بھارت کو جھکنے پر مجبور کر دیا پاک بھارت جنگ بندی کا فیصلہ
    تحریر :سید ریاض جاذب
    جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگی بالآخر کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان 12 مئی کو اہم بات چیت طے پا چکی ہے، جس سے خطے میں امن کی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جنگ بندی کا اطلاق 12 مئی دوپہر تک ہوگا۔ مزید برآں، دونوں ممالک اس بات پر بھی متفق ہیں کہ وہ کسی غیر جانبدار مقام پر وسیع تر تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی مؤثر، بروقت اور مربوط جوابی حکمت عملی نے بھارت کو بھاری نقصان سے دوچار کیا۔ خاص طور پر آپریشن "بنیان مرصوص” کے بعد، بھارت نے سفارتی سطح پر اپنے قریبی اتحادیوں کے ذریعے جنگ بندی کی کوششیں شروع کیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار جنگ میں روایتی قوت سے زیادہ ٹیکنالوجی اور فضائی حکمت عملی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
    پاک فضائیہ نے نہ صرف بھارت کے جدید ترین دفاعی نظام کو غیر مؤثر بنایا بلکہ کم وقت میں دشمن کے اہم مراکز کو نشانہ بنا کر بھارتی افواج کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ اس کامیابی کو خطے کے دیگر ممالک اور عالمی مبصرین نے بھی تسلیم کیا ہے۔

    پاک فضائیہ کی جانب سے جدید ڈرون سسٹمز، ریڈار جامنگ ٹیکنالوجی اور لڑاکا طیاروں کی منظم حکمت عملی نے نہ صرف فضائی برتری کو یقینی بنایا بلکہ دشمن کی منصوبہ بندی کو بھی تہس نہس کر دیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان صرف دفاع ہی نہیں، بلکہ مؤثر حملے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

    قوم میں اس کامیابی کے بعد ایک نئی توانائی اور جوش دیکھنے میں آیا۔ پورے ملک میں پاک فوج اور فضائیہ کے حق میں مہمات چلیں، جبکہ عوامی حلقوں میں قومی فخر اور اعتماد کی فضا قائم ہوئی۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں حب الوطنی کے جذبات نے ایک نئی روح پھونکی۔

    اس عسکری برتری کے ساتھ ساتھ پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی نہایت متوازن اور پختہ رویہ اپنایا۔ جنگ بندی کے پیغام کو نہ صرف کھلے دل سے قبول کیا گیا بلکہ دنیا کو واضح طور پر باور کرایا گیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ، اسلامی ممالک، چین، روس اور امریکہ سمیت عالمی قوتوں نے پاکستان کی پالیسی کو سراہا ہے۔

    پاک فوج، بالخصوص فضائیہ نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ بھارتی قیادت کو بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ اگر جنگ کا سلسلہ مزید آگے بڑھتا، تو اسے ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑتا، شاید ایسا نقصان جس سے دوبارہ سنبھلنا ممکن نہ ہوتا۔

    پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ امن کا داعی ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ ملکی قیادت کا پیغام واضح ہے: پاکستان امن چاہتا ہے، مگر ہر جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دے گا۔

    پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے متحد ہو کر قوم کو ایک پیج پر رکھا اور دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا۔ اس ہم آہنگی نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر باور کرایا کہ پاکستان داخلی استحکام اور قومی وحدت کی قوت سے لیس ہے۔

    ہفتے کی صبح سویرے شروع ہونے والے آپریشن کے بعد خطے میں یہ تاثر عام ہوا کہ اگر جنگ جاری رہتی تو بھارت کی شکست یقینی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے جنگ بندی کی راہ اپنائی۔

    اس ساری صورت حال نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ پاکستان صرف عسکری اعتبار سے ہی نہیں، بلکہ سیاسی، سفارتی اور قومی سطح پر بھی مکمل طور پر متحد اور تیار ہے۔ اگر بھارت سنجیدگی اور نیک نیتی سے مذاکرات کرے تو 12 مئی کی بات چیت خطے میں دیرپا امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔

  • آپریشن بنیان مرصوص،پاکستانی شاہینوں نے دشمن کے پرخچے اُڑا دیئے

    آپریشن بنیان مرصوص،پاکستانی شاہینوں نے دشمن کے پرخچے اُڑا دیئے

    آپریشن بنیان مرصوص،پاکستانی شاہینوں نے دشمن کے پرخچے اُڑا دیئے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آپریشن بنیان مرصوص کا نام قرآن پاک کی سورۃ الصف آیت (61:4) سے ماخوذ ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ”
    ترجمہ: "بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔”
    یہ آیت مومنین کی استقامت، اتحاد اور اللہ کی راہ میں جہاد کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستانی فوج نے اس آپریشن کا نام "بنیان مرصوص” رکھ کر اس قرآنی پیغام کو اپنایا کہ پاکستانی قوم اور اس کی فوج ایک مضبوط، ناقابل تسخیر دیوار کی مانند ہے جو دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے۔ یہ نام نہ صرف عسکری عزم کی علامت ہے بلکہ پاکستانی قوم کے ایمان، اتحاد اور قربانی کے جذبے کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔

    گذشتہ رات بھارت نے پاکستان پر بڑا حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے پاکستان کی تین اہم ایئر بیسز نورخان، مرید ائیربیس چکوال اور شورکوٹ پر میزائل داغے۔ لیکن پاکستانی فوج کے چوکس ایئر ڈیفنس سسٹم اور افواج نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔ بھارت کی یہ جارحیت پاکستان کے لیے ایک چیلنج تھی لیکن پاک فوج نے اس کا جواب آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے دیا۔ اس آپریشن میں پاکستانی شاہینوں نے بھارت کے فوجی اڈوں، اسلحہ ڈپوؤں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا اور بھارت کو بھاری نقصان پہنچایا۔

    پاکستانی فوج نے آپریشن بنیان مرصوص کے تحت بھارت کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا۔ پاکستانی فتح ون میزائلوں نے ادھم پور ایئر بیس اور پٹھان کوٹ ایئر فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ یہ میزائل 120 کلومیٹر تک درست نشانہ لگا سکتے ہیں اور جدید نیویگیشن سسٹم سے لیس ہیں۔ ان میزائلوں کو شہید پاکستانی بچوں کے ناموں سے منسوب کیا گیا جو پاکستانی قوم کے جذبے کی علامت ہیں۔ بیاس اور نگروٹا میں بھارتی براہموس میزائلوں کے اسٹوریج ڈپو بھی تباہ کر دیے گئے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی چیک پوسٹس جیسے ربتانوالی، ڈنہ، خواجہ بھیک کمپلیکس اور رنگ کنٹوئر مکمل طور پر نیست و نابود کر دیئے گئے۔ اس کے علاوہ سرسا ایئر فیلڈ، سورت ایئر فیلڈ، چنڈی گڑھ ویپن ڈپو، بھٹنڈا ایئر فیلڈ، اکھنور ایوی ایشن بیس، برنالہ ایئر فیلڈ، بھوج ایئر بیس، نعل ایئر بیس، اترلائی ایئر بیس اور فلودی ملٹری بیس کو بھی پاکستانی فوج نے تباہ کر دیا۔ پاکستانی میڈیا نے ان مقامات کی تباہی کی فوٹیج دکھائی جو پاکستانی شاہینوں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہیں۔

    پاک فضائیہ نے بھارتی جنگی طیاروں اور ڈرونز کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق، 3 رافیل، ایک سوخوئی، ایک مگ29 اور تقریباَََ80 اسرائیلی ساختہ ہروپ ڈرونز مار گرائے گئے۔ امریکی میڈیا نے فرانسیسی انٹیلی جنس کے حوالے سے ایک رافیل کی تباہی کی تصدیق کی۔ پاکستانی ڈرونز نے نئی دہلی کی فضائی حدود میں پروازیں کیں، جس سے بھارتی ایئر ڈیفنس سسٹم کی ناکامی واضح ہوئی۔ اس کے علاوہ پاک فوج نے بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹرز جیسے بھمبر گلی اور بھارتی فوج کے جی ٹاپ کو بھی تباہ کر دیا۔ پاکستانی JF-17 تھنڈر طیاروں نے ادھم پور میں بھارت کے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو نشانہ بناکر تباہ کردیا، جس کی مالیت 1.5 بلین ڈالر تھی۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ان کا S-400 سسٹم کامیاب رہا لیکن پاکستانی حملوں کی کامیابی نے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا۔

    آپریشن بنیان مرصوص میں پاک فوج نے سائبر جنگ کے میدان میں بھی بھارت کو بھاری نقصان پہنچایا۔ پاکستانی سائبر حملوں نے بھارت کے 70 فیصد بجلی کے گرڈ اسٹیشنزکو ناکارہ کر دیا۔ بھارتی ملٹری سیٹلائٹ کو جام کیا گیا اور 2500 سرویلنس کیمرے ہیک کر لیے گئے۔ بھارتی دفاعی اور معاشی ویب سائٹس کو بھی پاکستانی سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ دہرنگیارہ آرٹلری گن پوزیشن اور سری نگر ایئر بیس کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ یہ کارروائیاں پاکستانی فوج کی جدید ٹیکنالوجی اور بہترحکمت عملی کاواضح ثبوت ہیں۔

    اس آپریشن کی کامیابی میں پاکستانی قوم، سول اور عسکری قیادت کی یکجہتی نے اہم کردار ادا کیا۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے نماز فجر کے بعد سورۃ الصف کی تلاوت کی اور قوم سے دعاؤں کی اپیل کی، جس سے قومی جذبہ بلند ہوا۔ پاکستانی سیاسی رہنماؤں جن میں وزیراعظم بھی شامل ہیں نے فوج کی مکمل حمایت کی اور بھارتی جارحیت کی مذمت کی۔ پاکستانی عوام نے سوشل میڈیا پر اپنی فوج کی حمایت میں پوسٹس کیں اور بھارت کے خلاف آواز اٹھائی۔ پاکستانی میڈیا نے آپریشن کی کامیابیوں کو خوب اجاگر کیا، جس سے قوم کا مورال مزیدبلند ہوا۔

    دوسری طرف بھارت میں حالات بالکل مختلف تھے۔ پاکستانی حملوں کے بعد بھارت کے بڑے شہروں نئی دہلی، ممبئی اور کولکتہ میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے مودی اور امیت شاہ کو گالیاں دیں اور ان کی پالیسیوں کو ناکام قرار دیا۔ X(سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹس کے مطابق بھارتی عوام نے مودی کی خارجہ پالیسی کو "غرور پر مبنی” اور "تباہ کن” کہا۔ یہ مظاہرے بھارتی فوج کی ناکامی اور پاکستانی حملوں کے باعث نفسیاتی اثرات کا نتیجہ تھے۔ بھارتی قیادت پر عوام کا اعتماد کمزور ہوا اور اندرونی سیاسی دباؤ بڑھ گیا۔

    پاکستان اور بھارت کے حالات کا تقابل کریں تو فرق واضح ہے۔ پاکستان میں قوم اور فوج ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد رہے جبکہ بھارت میں عوام اپنی قیادت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ پاکستانی فوج کی کامیابی کے ثبوت پاکستانی میڈیا کی رپورٹس، عالمی میڈیا کی کوریج، اور بھارتی میڈیا کی جزوی تصدیق سے ملتے ہیں۔ پاکستانی صارفین نے سوشل میڈیا پر فتح ون میزائلوں اور JF-17 طیاروں کی کارروائیوں کی ویڈیوز شیئر کیں جو قومی فخر کا باعث بنیں۔

    آپریشن بنیان مرصوص نہ صرف پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے بلکہ یہ قومی اتحاد، ایمان اور قربانی کے جذبے کی روشن علامت بھی ہے۔ قرآن کے پیغام پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی قوم اور اس کی فوج نے دشمن کے خلاف ایک ناقابل تسخیر دیوار بن کر کھڑے ہو جانے کا عملی مظاہرہ کیا۔ یہ آپریشن اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جب قوم، قیادت اور ادارے ایک صف میں کھڑے ہو جائیں تو کوئی دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ آج کا پاکستان دفاعی طور پر مضبوط، تکنیکی طور پر جدید اور نظریاتی طور پر واضح ہے اور یہ سب کچھ اس قرآنی تصور "بنیان مرصوص” کے عملی اظہار سے ممکن ہوا۔

    پاکستان زندہ باد!
    پاک فوج پائندہ باد!

  • "بھارتی جارحیت اور پاکستانی رد عمل” .تحریر :عائشہ اسحاق

    "بھارتی جارحیت اور پاکستانی رد عمل” .تحریر :عائشہ اسحاق

    6 مئی 2025 کو بھارت کی جانب سے بزدلانہ وار کیا گیا اور رات کی تاریکی میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں بیک وقت مزائل حملے کیے گئے جن میں سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا بقول ڈی جی آئی ایس پی ار احمد شریف کے بھارت نے مریدکے ، بہاولپور، مظفرباد، کوٹلی، شکرگڑھ اور دیگر مقامات پر میزائل حملے کیے۔ جن کی وجہ سے مساجد اور نہتے بے گناہ عام پاکستانی شہید ہوئے۔یہ خالصتا سویلین آبادی پر حملہ ہے اور بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ۔بھارت نے نہ صرف بین الا قوامی قوانین کی سرحد پار کی بلکہ پاکستان کی جغرافیائی حدود اور خود مختاری کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔ ہماری مسجدیں، مدرسے، بچے ،خواتین اور نہتے شہری شہید ہوئے بھارتی میزائل ہمارے گھروں تک آگئے ہیں۔ یہ بھارت کی ننگی جارحیت کا واضح ثبوت ہے۔

    حملے کے تمام اہداف خفیہ نہیں تھے بھارتی سوشل میڈیا صارفین پہلے ہی بتا چکے تھے کہ وہ کن جگہوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ اس کے باوجود ہم اتنے غیر تیار کیوں رہے؟ بہرحال افواج پاکستان کا دفاعی رد عمل بلا شعبہ قابل تعریف رہا ۔ پاکستانی ایئر فورسز کی جانب سے گرایا جانے والا بھاری رقم کے عوض فرانس سے خریدا گیا زبردست جنگی طیارہ رافیل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے لیے باعثِ ندا مت بنا۔بھارتی کھلی جارحیت کے بعد 7 مئی 2025 کو رانا ثنا اللہ کی جانب سے بیان دیا جاتا ہے کہ "افواج نے کاروائی کی ہے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جا چکا ہے اگر بھارت مزید کوئی کاروائی نہیں کرے گا تو ہم بھی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کاروائی نہیں کریں گے” دشمن پہلے ہی گھر میں گھس کر ہمارے لوگوں کو شہید کر چکا ہے اس پر ایسا غیر سنجیدہ اور احمقانہ بیان پاکستان کو ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے بھی نہایت کمزور دکھا رہا ہے اور پھر ہوتا کیا ہے کہ بھارت اپنی مزید جارحیت کو جاری رکھتے ہوئے ایک ہی روز میں پاکستان کے مختلف شہروں لاہور، کراچی، پنڈی، گوجرانوالہ سمیت دیگر شہروں میں تقریبا 77 ڈرون اٹیکز کرتا ہے۔ یہ انتہا ہے کہاں کہاں سے ڈرونز گر رہے ہیں، بھارت مسلسل جارحیت کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ بھارت نے ڈرونز کے ذریعے جاسوسی کر کے جو معلومات حاصل کرنا تھی وہ کر چکا ہے یہ ڈرونز فرا دینا محض دفاعی رد عمل ہے،

    قابل غور بات ہے کہ اگر بھارت واقعی اس معاملے کو بڑھانا چاہے تو اس کے پاس تمام معلومات دستیاب ہیں جن کی بنا پر وہ پاکستان کو بہت بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ دفاع کرنے اور جواب دینے میں کافی فرق ہے۔ جیسا کہ بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا اور پاکستان کے 35 لوگ جن میں بچے بزرگ اور خواتین بھی شامل ہیں شہید کر دیے اور پھر پاکستان اسی حملے کے دفاع میں بھارتی طیارے اور ڈرونز گراتا ہے بھارت کو نقصان پہنچاتا ہے تو یہ صرف دفاع ہے جواب نہیں۔ دفاع کا مطلب ہوتا ہے اپنے نقصان کو روکنا، اپنی حفاظت کرنا، دشمن کی طرف سے کیے گئے وار کو ناکام بنانا، انہیں روکنا جبکہ جواب کا مطلب ہوتا ہے دشمن کو یہ احساس دلانا کہ جو نقصان تم نے ہمیں پہنچایا ہے اس کی قیمت تمہیں چکانی پڑے گی تاکہ آئندہ دشمن ایسا حملہ اور ایسی حماقت کرنے کی جرات نہ کر سکے .

    بھارت جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے پاکستان کے شہروں کے اندر اآکر نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ جبکہ موجودہ حکومت کے وزیر دفاع خواجہ اصف کی طرف سے بیان آتا ہے کہ” ہم بھارتی شہریوں کو کبھی نشانہ نہیں بنائیں گے” بطور پاکستانی ہمارا مطالبہ ہے کہ جو جرات بھارت نے دکھائی ہے اس کا جواب دندان شکن ہونا چاہیے۔ اگر بھارتیوں کو نشانہ نہیں بھی بنانا تو مقبوضہ کشمیر سے پاکستان کی طرف آے والے دریاؤں پر بنائے گئے تمام چھوٹے بڑے ڈیمز آپریشن تجاوزات کی طرح گرانا بے حد ضروری ہیں ۔موجودہ حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلی مریم نواز کی بھارتی جارحیت پر خاموشی قابل افسوس ہے اس پر عطا تاڑ کا بزدلانا بیان” بھارت نے پاکستانی سرزمین پر جارحیت کی عالمی برادری نوٹس لے” نہایت شرمناک ہے۔

    ایک آزاد ملک کے آزاد شہریوں کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ دشمن کی طرف سے کی جانے والی ہر جارحیت کے بعد ہم صرف جوابی کاروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، کیا ہم یہ کہنے کے لیے ہی رہ گئے ہیں کہ بھارت ہمارے گھر تک آگیا اور ہم نے ان کے جہاز گرا دیے یا سلامتی کونسل کے ذریعے بھارت کے اس عمل کی مذمت کی جائے۔ پاکستانی عوام کو یہ کہہ کر مطمئن نہ کیا جائے بلکہ بھارت کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ بھارت کو آئندہ ایسی ننگی جارحیت کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا پڑے۔ قوم پاکستان، افواج پاکستان کی طرف سے دفاعی رد عمل کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھرپور منہ توڑ جواب دینے کی منتظر ہے ایسا جواب جب پوری دنیا میں پاکستان کی طاقت کا لوہا منوا سکے۔ پاکستان زندہ باد

  • ریاست سب سے پہلے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    ریاست سب سے پہلے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    زمینی جنگ شروع ہونے سے پہلے، ایک جنگ اندر شروع ہو جاتی ہے۔دل اور دماغ کی جنگ۔ دلیل اور جذبات کی جنگ۔ قلم اور تلوار کی جنگ۔ اور جب بیرونی سرحدوں پر توپوں کا شور گونجتا ہے، تب یہ اندرونی جنگ انجام تک پہنچتی ہے۔ ایک طرف حب الوطنی کے جذبات کا طوفان ہوتا ہے، اور دوسری طرف روشن خیالی کے نام پر شکوک و شبہات کی طغیانی۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب دشمن کی توپوں کا منہ ہماری دھرتی کی طرف ہوجائے ، جب وطن کی مٹی کی مہک بارود میں گم ہونے لگے، جب گھر سے دور، بیمار پڑی ماں کے دکھ، ہسپتال میں زندگی اور موت کی آخری جنگ لڑتی بیوی کو چھوڑ کر سپاہی سرحد پر کھڑا ہو۔ تو اُس وقت ریاستی بیانیے پر تنقید کر کے کیا ہم سچ بول رہے ہوتے ہیں، یا دشمن کے جھوٹ کا ترجمہ کر رہے ہوتے ہیں؟
    یہ وقت نہیں کہ ہم اپنی فوج کی کارکردگی پر سوالات اٹھائیں، یہ وقت ہے کہ ہم اپنے مکار دشمن کی حقیقت کو پہچانیں اور اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائے۔ گزشتہ رات ہونے والے حملوں کا مجھ سمیت 90 فی صد پاکستانیوں کو صبح جاگ کر پتہ چلا۔ اگر فوج نہ ہوتی تو ابھی تک ہمارا بھی شاید پتہ نہ ہوتا۔

    بھارت نے اس بار بھی اپنے روایتی چالاک اور بزدل طریقوں کو دوبارہ آزمایاہے۔ اور اس بار وہ ہماری سول سوسائٹی پر حملہ آور ہوا۔ رات کی تاریکی ہمارے مقدس مقامات، مساجد اور مدارس کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔کم ظرف دشمن نے ہمارے شہریوں، عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، اور ان معصوم جانوں کا خون ہماری سرزمین پر بہایا۔یاد رکھیں، ان حملوں کا مقصد سرحدی علاقوں کو متاثر کرنا نہیں تھا، بلکہ پوری قوم کی روح پر ضرب لگانا تھا۔ جب دشمن ہمارے ثقافتی ورثے، ہماری مساجد اور مدارس پر حملہ کرتا ہے، تو وہ صرف ہماری فوجی طاقت کو نہیں، ہماری روایات، ایمان اور تاریخ کو چیلنج کرتا ہے۔ہم اس وقت صرف بھارت سے نہیں لڑ رہے، اس لڑائی کے پیچھے وہی پرانا منصوبہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر بیرونی حملے کو صرف ’ردعمل‘ کے طور پر پیش کرنا۔ اس بار بھی وہی پرانا منظرنامہ ہے، اداکار بھی وہی ہیں پرانے ہیں،مگر سکرپٹ رائٹر زیادہ چالاک ہے۔ اب میز پر بھارت کے ساتھ اسرائیل بھی بیٹھا ہے، اور ان کے سامنے صرف ایک ہدف ہے،پاکستان کو غیر مستحکم کرنا۔

    ایسے میں، اگر کوئی اندر سے اپنے ہی محافظ پر شک کرے، تو وہ شک نہیں، شراکت داری کہلائے گی۔ اس وقت میرا وہی بیانہ ہے، جو میری ریاست کا بیانیہ ہے۔
    ریاست کی بقا کسی ایک ادارے کی نہیں، پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ اختلاف کا وقت امن ہوتا ہے، جنگ میں صرف اتحاد ہوتا ہے۔ جیسے محاذ پر ایک سپاہی اپنی جان کی پروا کیے بغیر مورچے میں بیٹھا ہے، ویسے ہی ہمیں اپنی رائے کی آزادی کو تھوڑی دیر کے لیے ملک کے وقار کے تابع کرنا ہوگا۔ کیونکہ جب توپ کا منہ کھلتا ہے، تب بڑی سے بڑی دلیلوں کا منہ بند ہوجاتا ہے۔

  • افواجِ پاکستان کی جرات مندی اور قومی یکجہتی، دشمن کو منہ توڑ جواب

    افواجِ پاکستان کی جرات مندی اور قومی یکجہتی، دشمن کو منہ توڑ جواب

    افواجِ پاکستان کی جرات مندی اور قومی یکجہتی، دشمن کو منہ توڑ جواب
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک پرامن ملک ہے بلکہ دفاعِ وطن کے لیے ہر لمحہ تیار اور چوکس بھی ہے۔ حالیہ بھارتی جارحیت کے خلاف جس مؤثر اور بروقت ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا، اس نے نہ صرف دشمن کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ پوری قوم کو افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ لاکھڑا کیا۔

    بھارت جو کہ اپنے جنگی جنون اور ہٹ دھرمی کے باعث خطے کے امن و استحکام کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے، نے ایک بار پھر شرانگیزی کی کوشش کی۔ مگر پاکستان نے نہایت ذمہ داری، پیشہ ورانہ مہارت اور تدبر کے ساتھ نہ صرف دفاع کیا بلکہ دشمن کو ایسا کرارا جواب دیا کہ اسے اپنی جارحیت پر پچھتانا پڑا۔

    پاکستانی قوم کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی وطن کو خطرات لاحق ہوئے، قوم نے افواجِ پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ آج بھی یہی جذبہ دیکھنے میں آیا۔ پوری قوم، سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور ہر طبقۂ فکر، تمام تر اختلافات کے باوجود، افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    افواجِ پاکستان کا مورال بلند ہے۔ ہمارے جوان سرحدوں پر پوری تیاری کے ساتھ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے مستعد ہیں۔ بھارت، جو یہ سمجھ رہا تھا کہ پاکستان کو کمزور کر کے اپنی چودھراہٹ جما لے گا، اس کی یہ خوش فہمی خاک میں مل چکی ہے۔ پاکستانی سپاہ نے جس جرات، حوصلے اور مہارت سے دشمن کو جواب دیا، وہ تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا۔

    اس صورتحال میں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان نے ہر قدم پر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ملحوظِ خاطر رکھا۔ پاکستان نے نہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا بلکہ شہریوں کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دی، جو ایک مہذب اور ذمہ دار ریاست کا شیوہ ہے۔ اس کے برعکس، بھارت کی جانب سے شہری آبادی، مساجد، اور مدارس پر حملے واضح طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

    افواجِ پاکستان نے دشمن کو عسکری، سفارتی اور نفسیاتی سطح پر مکمل شکست دی۔ بھارت کو اپنے اقدامات کی بدولت سفارتی محاذ پر بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے خطے میں کشیدگی پر تشویش ظاہر کی اور بھارت کو تحمل سے کام لینے کی تلقین کی۔

    عسکری محاذ پر نقصان کے ساتھ ساتھ بھارت کی داخلی سیاست اور معیشت بھی اس مہم جوئی کا شکار ہو گئی۔ جنگی جنون نے بھارتی عوام کو مہنگائی، خوف، اور عدم تحفظ کے گہرے سائے میں دھکیل دیا ہے۔ متعدد شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں جہاں عوام حکومت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

    پاکستان میں اس صورتحال نے ایک نیا قومی شعور بیدار کیا ہے۔ نوجوان نسل، جو سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ باخبر اور متحرک ہے، بڑھ چڑھ کر دفاعِ وطن کے بیانیے کی حمایت کر رہی ہے۔ ادبی، ثقافتی اور میڈیا کے حلقے بھی قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبات کو فروغ دے رہے ہیں۔ شاعری، ترانے، اور وی لاگز کے ذریعے نوجوان نسل جذبہ حب الوطنی کو نئی جہت دے رہی ہے۔

    یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ اس نازک مرحلے پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں باہم متحد نظر آئیں۔ قومی سلامتی اور خودمختاری کے معاملات پر مکمل اتفاق رائے سامنے آیا، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ قوم اپنے نظریاتی اختلافات کے باوجود وطن عزیز کے دفاع پر یک زبان ہے۔

    پاکستان کا پیغام واضح اور دوٹوک ہے: ہم امن کے خواہاں ہیں، مگر اپنی خودداری اور عزت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اگر دشمن نے دوبارہ کوئی مہم جوئی کی تو وہ پہلے سے زیادہ تباہ کن نتائج کے لیے تیار رہے۔

    قوم اور افواجِ پاکستان کا رشتہ بے مثال ہے۔ یہی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے، جو دشمن کی ہر چال، ہر پروپیگنڈے اور ہر سازش کو ناکام بناتا رہے گا۔

    پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد!

  • جنگ کا میدان اور پاکستان کا ماسٹرسٹروک

    جنگ کا میدان اور پاکستان کا ماسٹرسٹروک

    جنگ کا میدان اور پاکستان کا ماسٹرسٹروک
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    جنوبی ایشیا کے خطے میں دو ایٹمی طاقتیں برسوں سے ایک دوسرے کے خلاف مدمقابل ہیں،یہ خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ پاک بھارت تنازعہ اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے۔ بھارت کی حالیہ جارحیت نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا بلکہ پاکستان کی جانب سے ملنے والے منہ توڑ جواب نے عالمی مبصرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ یہ صرف ایک عسکری مقابلہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسی نفسیاتی، سفارتی اور حکمت عملی کی جنگ ہے جس میں پاکستان نے اپنے مدمقابل کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ آئیے اس تنازعہ کے پس منظر، تازہ ترین مصدقہ و غیر مصدقہ خبروں اور پاکستان کی شاندار جوابی کارروائیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں کہ کیسے پاکستان نے اپنا ماسٹرسٹروک کھیلا اور جنگی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوا لیا۔

    6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب، بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان کی سرزمین پر بزدلانہ حملے کیے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارت نے اپنی فضائی حدود سے بہاولپور، کوٹلی، مظفرآباد، باغ، اور مریدکے میں میزائل داغے، جن کا ہدف معصوم سویلین آبادی تھی۔ ان حملوں میں 31 پاکستانی شہری شہید اور 71 زخمی ہوئے، جن میں خواتین، بچے اور بوڑھے شامل تھے۔ بہاولپور کی مسجد سبحان اللہ، کوٹلی کی مسجد عباس اور مریدکے کی مسجد ام القرا سمیت عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا جو بھارت کی سفاکی اور غیر انسانی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے اسے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسے "بزدلانہ اور شرمناک” حملہ کہا۔

    لیکن بھارت کی یہ جارحیت اس کے لیے الٹی پڑ گئی۔ پاکستان نے سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کی بجائے بھارتی فوجی اہداف پر فوری اور فیصلہ کن جوابی وار کیا۔ پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہی جھٹکے میں بھارت کے پانچ لڑاکا طیاروں کو ان کے اپنے گھر میں مار گرایا۔ ان میں تین جدید رافیل طیارے، ایک مگ 29 اور ایک سخوئی 30 شامل تھے جو بھٹنڈا، جموں، ایوانتی پورہ، اکھنور اور سری نگر میں تباہ ہوئے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور ایک فرانسیسی انٹیلی جنس اہلکار نے ایک رافیل طیارے کے تباہ ہونے کی تصدیق کی جبکہ بھارتی حکام نے بھی تین طیاروں کے گرنے کا اعتراف کیا اگرچہ وہ تفصیلات دینے سے گریزاں ہیں۔ پاک فضائیہ نے نہ صرف بھارتی فضائی برتری کے دعوؤں کو خاک میں ملایا بلکہ رافیل طیاروں کی فرانسیسی کمپنی کے عالمی مارکیٹ میں شیئرز کو بھی گرا دیا۔

    اگلے دن یعنی 7 مئی کو بھارت نے اپنی بوکھلاہٹ میں اسرائیلی ساختہ Heron MK 2 ڈرونز کے ذریعے پاکستان پر حملوں کی کوشش کی۔ یہ ڈرونز جو 35 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے ہیں اور برطانوی کمپنی UAV Engines LTD کے بنائے ہوئے انجنوں سے لیس ہیں، سٹیلتھ ٹیکنالوجی کی وجہ سے روایتی انٹی ایئرکرافٹ گن سے ٹارگٹ کرنا مشکل ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے مضبوط ایئر ڈیفنس سسٹم نے دنیا کو حیران کر دیا۔ پاک فوج نے تقریباََ77 زائد اسرائیلی ساختہ ڈرونز کو مار گرایا، جن میں سے کچھ کو جام کرکے اور کچھ کو ہٹ کرکے تباہ کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ Heron MK 2 جیسا جدید ڈرون کسی جنگ میں مار گرایا گیا جو پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم کی غیر معمولی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ ایکس(سابقہ ٹویٹر) پر گردش کرنے والی پوسٹس کے مطابق پاکستان نے اب تک 12 سے 25 ہیراپ ڈرونز کا ملبہ جمع کر لیا ہے جو بھارت کی ناکامی کی داستان رقم کر رہا ہے۔

    پاکستان کی جوابی کارروائی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس میں دودنیال، منڈل اور کوٹ کٹھیرا سیکٹرز میں بھارتی پوسٹس، ایک انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر اور 6 مہار بٹالین ہیڈکوارٹر تباہ کر دیے گئے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ ایل او سی پر 40 سے 50 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا کر شکست تسلیم کی گئی۔ یہ وہی بھارت ہے جو رافیل طیاروں اور اسرائیلی ڈرونز پر ناز کرتا تھا لیکن پاکستان نے اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔

    اس تنازع میں پاکستان کی سفارتی کامیابی بھی قابل ذکر ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی اور پاک فوج کو مکمل اختیار دیا کہ وہ دشمن کو منہ توڑ جواب دے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور آبی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی، جسے عالمی برادری نے سنجیدگی سے لیا۔ چین نے پاکستان کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور بھارت کو خبردار کیا کہ وہ پاکستان کی سالمیت کو چیلنج نہ کرے۔ آذربائیجان نے بھی کھل کر پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا اور بھارت کی جارحیت کی شدید مذمت کی، یہ کہتے ہوئے کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ اس کی مکمل یکجہتی ہے۔ ترکی نے بھی بھارت کے حملوں کو "شرمناک” قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت تنازع میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا، دونوں ممالک سے مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کی اپیل کی۔ ان سفارتی کامیابیوں نے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مضبوط کیا جبکہ بھارت کو تنہائی کا سامنا ہے۔

    سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبروں نے بھی اس تنازع کو ایک نیا رنگ دیا۔ ایکس(سابقہ ٹویٹر) پر کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی ٹینک بھارتی حدود میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ دیگر نے بھارتی چیک پوسٹس کی تباہی کی ویڈیوز شیئر کیں۔ اگرچہ یہ دعوے غیر مصدقہ ہیں لیکن انہوں نے بھارت کے اندر خوف کی فضا کو تقویت دی اور پاکستانی عوام کا مورال بلند کیا۔ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے میمز کے ذریعے بھارت کے "کاغذی شیر” ہونے کا مذاق اڑایا اور مودی کو نیتن یاہو کا "نالائق شاگرد” قرار دیا۔ یہ نفسیاتی جنگ پاکستان کے حق میں گئی کیونکہ بھارتی سوشل میڈیا دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیا۔

    بھارت کی حکمت عملی اس وقت ناکام ہو چکی ہے۔ مودی حکومت جو نیتن یاہو کے مشوروں پر چل رہی ہے، اپنی جارحانہ پالیسیوں کے جال میں پھنس گئی ہے۔ بھارت نے نہ صرف کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کیا بلکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ جیسے اہم ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچایا جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لیکن پاکستان نے اس کا جواب عسکری، سفارتی، اور نفسیاتی سطح پر دیا۔ پاک فضائیہ کے جے-10 سی اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں اور ایچ کیو-9 میزائلوں نے بھارتی فضائی برتری کو چیلنج کیا جبکہ پاکستانی قیادت نے عالمی فورمز پر بھارت کو بے نقاب کیا۔

    اس تنازعہ کا انسانی پہلو سب سے زیادہ دل خراش ہے۔ بھارت کے حملوں میں شہید ہونے والوں میں دو تین سال کی بچیاں، خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں۔ مریدکے میں ایک سرکاری سکول اور ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا جو بھارت کی غیر انسانی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے اپنی جوابی کارروائیوں میں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جو اس کی اخلاقی برتری کا ثبوت ہے۔ لیکن یہ جنگ صرف فوجی یا سفارتی نہیں بلکہ ایک ایسی نسل کی بقا کی جنگ ہے جو امن، تعلیم اور ترقی کے خواب دیکھتی ہے۔

    پاکستان کا ماسٹرسٹروک اس کی عسکری تیاری، سفارتی چالاکی اور نفسیاتی جنگ کا ایک شاندار امتزاج ہے۔ پاک فضائیہ نے بھارتی رافیل طیاروں کو مار گرا کر ثابت کیا کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی پاکستانی عزم کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔ پاک فوج نے اسرائیلی Heron MK 2 ڈرونز کو تباہ کر کے دنیا کو بتا دیا کہ اس کا ایئر ڈیفنس سسٹم ناقابل تسخیر ہے اور پاکستانی قیادت نے چین، آذربائیجان اور ترکی جیسے اتحادیوں کی حمایت حاصل کر کے عالمی سطح پر اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔

    یہ جنگی تاریخ کا وہ سنہری لمحہ ہے جہاں پاکستان نے نہ صرف اپنے مدمقابل کو شکست دی بلکہ عالمی برادری کو اپنی حکمت عملی اور جرات سے متاثر کیا۔ جس طرح پاکستانی فوج نے ایک کے بعد ایک ماسٹرسٹروک کھیل کر بھارت کے غرور کو چکنا چور کیا، اس نے پاکستانی عوام کے دلوں میں ایک نیا جوش اور اعتماد بھر دیا ہے۔ پاکستانی قوم کو اپنی بہادر فوج اور دور اندیش قیادت پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں بھی کوئی ایسی چال نہیں چلیں گے جو اس قوم کے سر کو جھکنے پر مجبور کرے۔

    یہ قوم جانتی ہے کہ اس کے محافظ نہ صرف سرحدوں پر چوکنا ہیں بلکہ ہر محاذ پر دشمن کو عبرتناک سبق سکھانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پاکستان کا وقت ہے اور یہ ماسٹرسٹروک صرف ایک چال نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنے گی۔

  • ہندوستان نے پھر غلطی دُہرائی لیکن پاکستان نے منہ توڑ جواب دے دیا

    ہندوستان نے پھر غلطی دُہرائی لیکن پاکستان نے منہ توڑ جواب دے دیا

    ہندوستان نے پھر غلطی دُہرائی لیکن پاکستان نے منہ توڑ جواب دے دیا
    خصوصی مضمون،تحریر:سید ریاض جاذب

    ہندوستان نے ایک بار پھر پاکستان کی صلاحیتوں اور عزم کو غلط اندازہ لگایا۔ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی کا سہارا لے کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ ایک بار پھر بے گناہ شہری، خواتین اور بچے دشمن کی جارحیت کا نشانہ بنے۔
    لیکن اس بار پاکستان خاموش نہیں رہا۔ پاکستان نے فیصلہ کن دفاع اور پاک فضائیہ کی برتری کا عملی ثبوت دیا ہے۔ جوابی کارروائی میں پاک افواج، بالخصوص پاک فضائیہ نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف تیار ہے بلکہ ہر سطح پر مؤثر اور جدید دفاعی نظام رکھتا ہے۔

    پاکستانی فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے، شجاعت اور مہارت کے ساتھ بھارتی فضائیہ کے کئی جہاز تباہ کیے، جن میں رافیل جیسے جدید طیارے بھی شامل تھے۔ یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فضائیہ، بھارتی فضائیہ سے ہر لحاظ سے بہتر اور برتر ہے۔

    دشمن کی دوہری جارحیت جاری ہے۔ پانی اور بارود سے حملے ایک ساتھ جاری ہیں۔ ہندوستان کی حالیہ چالوں میں صرف فضائی حملے ہی شامل نہیں، بلکہ وہ آبی جارحیت کا بھی ارتکاب کر رہا ہے، جس سے پاکستان کی زراعت اور توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    لیکن پاکستان نے بھی دشمن کو اس کی زبان میں جواب دیا، اور ایسا جواب دیا جس سے بھارت کو بھاری جانی اور فوجی نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستان کی جوابی کارروائی نہ صرف مؤثر تھی بلکہ منہ توڑ بھی۔
    بھارت، جو بڑے بڑے دعوے کرتا تھا، اب جنگ کے دائرے کو بڑھنے سے روکنے کی التجائیں کر رہا ہے۔ کیونکہ اب نہ صرف بھارت کی فوج کی صلاحیت دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئی ہے، بلکہ اس کی سیاسی قیادت بھی بوکھلا چکی ہے۔

    افواجِ پاکستان کو مکمل اختیار اور بھی قوم کے اعتماد کے ساتھ بھی حاصل ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ افواج پاکستان کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا، کسی بھی وقت اور کسی بھی انداز میں جواب دیں۔
    یہ اختیار صرف فوجی فیصلہ نہیں، یہ قوم کے اعتماد، حوصلے اور اتحاد کا عکاس ہے۔

    ہماری لائن واضح ہے: امن چاہتے ہیں، مگر کمزوری نہیں دکھائیں گے۔ پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں، مگر اپنی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں کی حفاظت پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    دشمن کو اب اچھی طرح سمجھ آ جانا چاہیے کہ پاکستان ایک پُرامن مگر باوقار اور طاقتور ریاست ہے، جو چپ رہنا جانتی ہے، لیکن جواب دینا بھی جانتی ہے۔

    قومی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس کے بعد قومی اسمبلی میں بھی اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا ہےجو کہ دشمن کو دو ٹوک پیغام تھا۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی بزدلانہ کارروائی پر دو ٹوک مؤقف اختیار کیا۔
    وزیر اعظم کا خطاب نہ صرف ایک پالیسی بیان تھا بلکہ ایک واضح للکار تھی، جس میں دشمن کو بتایا گیا کہ پاکستان اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    قومی اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں تمام پارلیمانی پارٹیوں نے متحد ہو کر دشمن کی اس بزدلانہ حرکت کی شدید مذمت کی، اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت ملکی دفاع، خودمختاری اور سلامتی کے معاملے پر ایک پیج پر ہے۔
    یہ قومی یکجہتی کا ایک نادر اور مؤثر اظہار تھا۔

    اس متفقہ موقف نے پوری قوم کو یہ حوصلہ دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر جب بات پاکستان کے دفاع کی آتی ہے تو پوری قیادت، تمام جماعتیں اور عوام ایک صف میں کھڑے ہیں، اپنی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں۔

    یہ پیغام نہ صرف پاکستانی عوام کے لیے ایک تسلی بخش علامت ہے، بلکہ دشمن کے لیے بھی ایک وارننگ ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے، اور اس کی قوم متحد ہے۔