Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اپووا  اور چائنہ ونڈو،ثقافتی تبادلے اور باہمی تعاون کا نیا باب،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا اور چائنہ ونڈو،ثقافتی تبادلے اور باہمی تعاون کا نیا باب،رپورٹ:مدیحہ کنول

    پشاور: آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے وفد نے حال ہی میں پشاور میں قائم "چائنہ ونڈو” کا خصوصی دورہ کیا۔ یہ دورہ اپووا کی کے پی کے جنرل سیکرٹری اور چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ناز پروین کی خصوصی دعوت پر ترتیب دیا گیا۔

    چائنہ ونڈو، چین کی ثقافت، تاریخ اور طرز زندگی کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ایک اہم پروجیکٹ ہے۔ یہاں چینی ثقافت سے متعلق ہر چیز، بشمول ان کی کرنسی، روایتی لباس، اور دیگر اشیاء کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے تاکہ زائرین چین کے بارے میں جامع معلومات حاصل کر سکیں۔اس مرکز میں چینی زبان کی کلاسز بھی منعقد کی جاتی ہیں تاکہ مقامی افراد چینی زبان سیکھ سکیں۔ اس دورے کے دوران یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ اپووا کے تمام ممبران کو چائنہ ونڈو میں ساڑھے تین ماہ کا چینی زبان کا کورس بالکل مفت کروایا جائے گا۔

    اس کے علاوہ، چائنہ ونڈو میں اپووا کا ایک ضلعی آفس بھی قائم کیا گیا ہے، جو دونوں اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور ثقافتی تبادلے کو مزید فروغ دے گا۔ یہ اقدام اپووا کے ممبران کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گا اور پاکستان اور چین کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    ڈائریکٹر چائینہ ونڈو ناز پروین کی طرف سے اپووا وفد کے اعزاز میں پر تکلف لنچ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

  • سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار،کاروائی کیوں نہیں؟تحریر:ملک سلمان

    سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار،کاروائی کیوں نہیں؟تحریر:ملک سلمان

    پابندی کے باوجود سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار بن کر ویڈیو بناؤ مہم چلا رہے ہیں۔جیسے ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے ویسے ہی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کے شوق میں پاگل ہونے والے واحیات ٹائپ ٹک ٹاکر افسران کی اقلیت عزت و وقار کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی کی اکثریت کا ایمج بھی خراب کررہے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے کہ ارباب حکومت سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی لعنت پر واضح پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمت کی رہی سہی عزت بچا لیں۔ورنہ افسران اور گلی کے آوارہ لونڈے لپاڑے ایک جیسے نظر آنے لگیں گے۔
    خواتین افسران میں ٹک ٹاکر بننے کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران ذہنی بیمار ہیں۔سارے معاشرے کو ان کی جہالت اور پاگل پن نظر آرہا ہے لیکن سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والے افسران اپنی ذہنی غلامی اور غلاظت سے باز نہیں آرہے ہیں۔سیلف پروجیکشن کرنے والوں کی ذہنی پسماندگی پر ترس آتا ہے افسر تو بن گئے ہیں لیکن اپنے اندر کی غربت اور احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے عادت سے مجبور ہو کر شو آف کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔افسران کی حرکتیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ ان میں تھوڑی شرم یا افسری کا پاس باقی بچا ہے۔سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے کو محکمے کی مثبت ایمج سازی کا نام دینا ”ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری“ جیسی انتہائی مضحکہ خیز اور سراسر بکواس سٹیٹمنٹ ہے۔محکمے کی نیک نامی عوامی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ہوتی ہے اختیارات سے تجاوز اور ذاتی فائدے کیلئے کی جانی والی سیلف پروجیکشن سے نہیں۔تمہاری سیلف پروجیکشن محکمے کی عزت نہیں بدنامی اور شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔

    سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والو تمہاری ان بچگانہ اور تھڑی ہوئی حرکتوں نے سرکاری ملازمت کو گالی بنادیا ہے۔سرکاری ملازمت کے قوانین میں واضح لکھا ہے کہ آپ اپنی یونیفارم، عہدے، رینک، سرکاری گاڑی اور ڈیوٹی کو ذاتی فائدے کیلئے ہرگز استعمال نہیں کرسکتے۔شہری قتل ہو رہے ہیں، حوا کی بیٹیوں کی عزت لٹ رہی ہے، ڈکیٹیاں ہوتی ہیں اور دوسری طرف پولیس سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ٹک ٹاکر افسران ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری وسائل اور طاقت کا بے جا استعمال کررہے ہیں،شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض ٹائپ افسران دفتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں۔ ٹک ٹاکر افسران کی ان تھڑی ہوئی واحیات حرکتوں سے لوگوں کے دلوں سے افسران کا احترام ختم ہورہا ہے اور نفرت کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔

    ایسے افسران کو نہ صرف فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ سول سروس سے فارغ کرنا چاہئے کیوں کہ ان آفیسرز کا کام عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل ہے نہ کہ اپنی سیلف پروجیکشن کیلئے ان کی ویڈیوز بنا کر بےعزت کرنا۔ ہم آئے روز ڈرامہ دیکھتے ہیں کہ اسسٹنٹ کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا گیا۔ یہ سارا کچھ ڈرامے بازی اور جعل سازی کے سوا کچھ نہیں، سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کیلئے کی جانی والی فنکاریاں اور جعل سازیاں ہیں۔ڈی پی او اپنے ایس ایچ او کو جبکہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر تحصیلیدار اور پٹواری کو ایڈوانس ٹاسک دیتے ہیں کہ میرے آنے پر بہترین استقبال ہونا چاہئے اور پروفیشنل ویڈیو گرافرکو بلانا۔آپ غور کریے گا پھول پہنانے اور پتیاں پھینکنے والے سارے منشیات فروش،زمینوں پر قبضے کرنے والے اور دیگر ٹاؤٹ ہوتے ہیں ورنہ عام معزز شہری کو کیا مصیبت کہ ان جعل سازیوں کیلئے اپنا وقت برباد کرے۔او بے شرمو تمہیں ذرا سی بھی حیا اور شرم نہیں آتی کہ ایسی چول حرکتیں کرکے شرمندہ ہونے کی بجائے فخر محسوس کرتے ہو۔افسران کے استقبال کی نوسربازیاں بھی مکمل بند ہونی چاہئے۔

    گذشتہ دنوں ایک ایڈیشنل آئی جی ملنے آئے اور سوشل میڈیا کے ذکر پر انہوں نے اس بات کا اقرارکیا کہ فنکاریاں اور سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران نے ناصرف اپنے حلف سے روگردانی اور اختیارات سے تجاوز کیا بلکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بھی شرمسار کیا۔ان کا کہنا تھا سوشل میڈیا پر سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن میں سب سے زیادہ بدنامی اور عوامی نفرت پولیس ڈیپارٹمنٹ نے سمیٹی۔لیکن بہت سارے اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر سول افسران پولیس سے زیادہ بڑے اور گھٹیا ٹک ٹاک سٹار بن چکے ہیں۔انہوں نے اپنا موبائل میرے سامنے کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو دیکھ کر بتائیں کہ یہ اسسٹنٹ کمشنر ٹھیک ہے،ویڈیو دیکھ کر میں نے ان سے کہا کہ سر یہ ہرگز اسسٹنٹ کمشنر نہیں ہوسکتا۔کسی نے فیک اکاؤنٹ بنایا ہو گا ورنہ اسسٹنٹ کمشنر اس قدر واحیاتیاں کیوں کرے گا؟ کوئی بھی آفیسر اس قدر جاہل اور بے شرم تو ہونہیں سکتا، بیوروکریسی کا معیار اتنا بھی نہیں گر سکتا کہ ایسے گندے انڈے بھی آفیسر بن جائیں۔لیکن مجھے غلط ثابت ہونا پڑا کیونکہ یہ اسسٹنٹ کمشنر کا ذاتی اکاؤنٹ تھا۔ابھی میری حیرانی ختم نہیں ہوئی تھی انہوں نے ایک خاتون کی ویڈیو دکھائی تو میں نے کہا کہ خواتین پر تنقید مناسب نہیں ویسے بھی کوئی مجبور عورت ہوگی جو سوشل میڈیا کے زریعے پیسے کمانا چاہتی ہے یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سٹیج ایکٹریس نہیں بلکہ یہ بھی سرکاری ملازم ہے۔

    اگر سرکاری گاڑی اور پروٹوکول ساتھ نہ ہو تو سرکاری افسران سڑکوں اور چوراہوں پر جس طرح کی بیہودہ حرکتیں اور ایکٹنگ کی ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیں انکو لونڈا لپاڑا سمجھ کر کسی سپاہی نے پکڑ کر تشریف لال کر دینی ہے بعد میں بتاتا پھرے گا کہ میں مراثی نہیں افسر ہوں۔بقول سنئیر افسران سیلف پروجیکشن والے ذہنی مریض ہیں۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا

    سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا

    سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر: راحین راجپوت
    دنیا بھر میں تمباکو نوشی کو ایک مہلک عادت تسلیم کیا جاتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف صحت بلکہ معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں میں حکومتیں تمباکو مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگا کر اس کے استعمال کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    پاکستان جیسے ملک میں جہاں غربت کی شرح بلند ہے اور صحت کی سہولیات محدود ہیں، وہاں سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگانے کی حکومتی پالیسی نہ صرف صحت عامہ کے حوالے سے اہم ہے بلکہ یہ غریب طبقے کی مالی حالت پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی ایک عام عادت ہے، جو نوجوانوں سے لے کر بڑی عمر کے افراد تک میں پائی جاتی ہے۔ سگریٹ، نسوار، حقہ اور پان میں استعمال ہونے والا تمباکو روز مرہ کی زندگی میں بہت عام ہے۔ پاکستان میں ہر سال لاکھوں افراد تمباکو سے جڑی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، جن میں پھیپھڑوں کا سرطان، دل کی بیماریاں اور سانس کی تکالیف شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 160,000 سے زائد اموات تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

    جب حکومت سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس کے پیچھے دو بڑے مقاصد ہوتے ہیں:
    1۔ عوام کو تمباکو نوشی سے روکنا
    2۔ قومی خزانے کے لیے آمدنی اکٹھا کرنا

    جب کسی چیز پر ٹیکس لگایا جاتا ہے تو اقتصادی اصول کے مطابق جب کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کی مانگ کم ہو جاتی ہے۔ یہی تصور یہاں بھی کار فرما ہوتا ہے کہ سگریٹ مہنگی ہوگی تو لوگ کم خریدیں گے اور اس مہلک عادت سے باز آئیں گے۔

    تاہم پاکستان جیسے ملک میں جہاں سگریٹ نوشی کی عادت کئی دہائیوں سے جمی ہوئی ہے، وہاں صرف قیمتیں بڑھانا ہی کافی نہیں۔ جب سگریٹ پر ٹیکس لگتا ہے اور اس کی قیمت بڑھتی ہے، تو سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ غریب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ محدود آمدنی میں اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں، اس لئے اگر کوئی فرد تمباکو نوشی کا عادی ہے تو وہ اپنی دیگر ضروریات جیسے کھانا، تعلیم یا دوا پر خرچ کر کے بھی سگریٹ خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح ٹیکس سے تمباکو نوشی مکمل ختم تو نہیں ہوتی، لیکن غریب طبقے کی مالی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔

    یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کم آمدنی والے افراد سگریٹ کی جگہ نسوار یا دیگر سستی مگر زیادہ نقصان دہ یا اس کی متبادل اشیاء ڈھونڈ لیتے ہیں، جس پر ٹیکس کی شرح یا تو کم ہوتی ہے یا بالکل نہیں۔ نتیجتاً، ٹیکس کا مقصد یعنی صحت بہتر بنانا، مکمل طور پر حاصل نہیں ہو پاتا۔

    بین الاقوامی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس لگانے سے اس کے استعمال میں کمی واقع ہوتی ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق تمباکو پر ٹیکس میں 10 فیصد اضافہ، اس کی کھپت میں تقریباً 4 فیصد کمی کرتا ہے، اور کم آمدنی والے ملکوں میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

    پاکستان میں بھی اس پالیسی کے کچھ مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں، جیسے نوجوانوں میں سگریٹ شروع کرنے کی شرح میں معمولی کمی۔ تاہم مجموعی طور پر تمباکو نوشی کی شرح میں نمایاں کمی لانے کے لیے ٹیکس کے ساتھ ساتھ تعلیم، آگاہی اور صحت کی سہولیات بھی ضروری ہیں۔

    ٹیکس ایک مؤثر ہتھیار ہے لیکن اگر اس کے ساتھ دیگر اقدامات نہ کیئے جائیں تو یہ کافی نہیں ہوتا۔ حکومت کو چاہیے کہ سگریٹ اور تمباکو نوشی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کرے:

    * تمباکو نوشی کے نقصانات سے متعلق آگاہی مہم چلائی جائے۔
    * سکولوں اور کالجوں میں تمباکو مخالف تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
    * سگریٹ کی فروخت پر عمر کی حد کو سختی سے لاگو کیا جائے۔
    * علاج معالجے کی سہولیات جیسے کہ تمباکو چھوڑنے والے مراکز قائم کیئے جائیں۔
    * تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہو۔

    اگرچہ سگریٹ پر ٹیکس سے حکومت کو اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، لیکن ان فنڈز کا ایک حصہ صحت کے شعبے میں استعمال ہونا چاہیئے، خاص طور پر غریب طبقے کے لیے۔ حکومت اگر چاہے تو ان فنڈز کو عوامی ہسپتالوں میں صحت بہتر بنانے، تمباکو چھوڑنے کے پروگراموں اور بنیادی صحت کے مراکز کے قیام کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ اس طرح غریب عوام کو دو طرفہ فائدہ ہو سکتا ہے، ایک طرف صحت بہتر ہو اور دوسری طرف مالی بوجھ کم ہو۔

    سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس ایک اہم پالیسی اقدام ہے جو صحت عامہ کے فروغ کے لیے نا گزیر ہے، لیکن اس کا نفاذ اس انداز میں ہونا چاہیئے کہ غریب عوام پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔ محض قیمتیں بڑھا دینا کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی مہمات، صحت کی سہولیات اور سماجی تبدیلی کے اقدامات بھی ضروری ہیں۔

    اگر یہ سب عوامل ایک دوسرے کے ساتھ چلیں، تو نہ صرف تمباکو نوشی میں کمی آئے گی بلکہ ایک صحت مند، خوشحال اور با خبر معاشرہ تشکیل پائے گا۔

  • قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے،ہر طرف ہے آگ دامن کو بچائیں کیسے
    شہیدبھٹو اور نواز شریف نے دفاع ناقابل تسخیر بنایا،انکی بے توقیری کرنے والے معافی مانگیں
    آج جو بچے جنگوں میں جانیں گنوارہے یا معذور ہورہے ،ان کا کیا قصور ؟دنیا آدھا نہیں پوراسوچے
    اقوام عالم کب تک جنگیں سہتی رہیں گی،کوئی تو آگے آئے اور یہ سلسلہ بند کرائے،دنیا امن چاہتی ہے
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے،ہر طرف ہے آگ دامن کو بچائیں کیسے،کوئی نہیں جانتا ایران اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں آگے چل کر کیا صورت حال پیدا ہوگی، دنیا کی طاقتور قوتیں جو دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر مستحکم ہیں، دنیا بھر کے انسانوں پر رحم کریں، دنیا بھر کے انسان حالت جنگ میں رہنا پسند نہیں کرتے ،اگر دنیا بھر کے انسانوں سے سوال کیا جائے تو مجموعی طورپر عام شہری کی جنگ میں جانے کا انتخاب نہیں کرتے اُن کو جہاں وہ رہتے ہیں آزادی سے رہنے کا حق ہونا چاہیے، جنگوں میں عام انسان مارا جاتا ہے اُن کے بچے مارے جاتے ہیں،عام انسانوں کی پکار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، عام انسان اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتا ہے ،وہ آرام سے زندگی گزارنا چاہتا ہے ، ذرا نہیں پورا سوچیے جو بچے جنگی علاقوں میں پروان چڑھتے ہیں یا جابرانہ حکومتوں کی حکمرانی میں وہ بعد کی زندگی میں ہتھیار اٹھانے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں،جنگی ماحول میں کوئی ڈاکٹر، انجنیئر ، سائنس دان نہیں بنتا، دنیا بھر کی فیصلہ ساز قوتیں انسانی دوستی کا پرچم بلند کریں ، آخر عام انسانوں کی کون سی خطا ہے جس کی اُن کو سزا دی جا رہی ہے ،عالمی دنیا کے حکمران مسلم ممالک ہوں یا امریکہ یا مغربی ممالک اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی دیگر عالمی ادارے مذمتی بیانات سے باہر نکل کر سوچیں، غور کریں کہ مخلوق خدا کے ساتھ کون سا ظلم ہے جو نہیں ہو رہا، مشرق وسطیٰ کو جنگ کا میدان کیوں بنایا جا رہا ہے ؟ اور مشرقی وسطیٰ جنگ کا میدان کیوں بن رہا ہے ؟ مشرقی وسطیٰ کے حکمران سوچیں اور غور کریں، ماضی میں کئی جنگیں لڑی گئیں جن کی ضرورت نہیں تھی عالمی طاقتوں نے کمزور بہانے تراش کر چھوٹے ملکوں پر دانستہ جنگیں تھوپیں اور وسائل پر قبضہ کیا، ہر چند کے امن بہت اہم ہے ، انسان بہت مقدم ہے اور انسانیت بہت محترم ہے، مگر عالمی غنڈہ گردی سے نمٹنے کے لئے مضبوط دفاع لازم ہو گیا جو ہری طاقت کا حصول اہم ہو گیا آج عالمی غنڈہ گردی کو دیکھ کر ملک کی سیاسی لیڈر شپ یاد آتی ہے ،پاکستان کو عالمی غنڈہ گردی سے بچانے کے لئے ایک کردار بھٹو تھے ایک سیاسی لیڈر تھا جس نے پاکستان کے لئے جوہری قوت ضروری سمجھا جبکہ دوسرا نواز شریف جس نے ایٹمی دھماکے کئے، جنہوں نے بھٹو اور نواز شریف کی بے توقیری کی اُن کو آج ا پنے جرم کا اعتراف کرکے بھٹو کی مغفرت اور نواز شریف سے معافی کے ساتھ خراج تحسین پیش کرنا چاہیے

  •  اپووا وفد کا دورہ پشاور، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

     اپووا وفد کا دورہ پشاور، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

    جب سخن و قلم کے چراغ روشن ہوں، اور علم و عرفان کی مہک فضا میں گھل جائے، تو ایسے لمحات تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم ہو جایا کرتے ہیں۔ آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا ادبی قافلہ، جو ہمیشہ فکر و فن کے گلدستے لیے ملک بھر کے ادبی چمن کو معطر کرتا رہا ہے، حال ہی میں گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی کی خصوصی دعوت پر پشاور روانہ ہوا۔

    یہ مژدہ جانفزا بانی و صدراپووا ایم ایم علی کی پُرخلوص کال پر راقم کو ملا، اور بلا تامل اس فکری سفر میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ، لاہور سے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان کی زیرقیادت اس قافلے نے ادب و اخلاص کے ساز پر رواں دواں ہو کر بلکسر کی پرنور فضاؤں میں شب بسر کی،سحر ہوتے ہی منزلِ مقصود کی جانب روانگی ہوئی، اور گورنر ہاؤس پشاور کے درو دیوار نے اپووا کے کارواں کو والہانہ خوش آمدید کہا۔ منتظمین کی شائستگی اور تکریم نے اس علمی ملاقات کو مزید باوقار بنا دیا۔گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی ساعتِ سعید نصیب ہوئی۔ ملک یعقوب اعوان نے نہایت بلیغ انداز میں اپووا کا تعارف پیش کیا، جس کے بعد تمام معزز اراکین نے فرداً فرداً اپنا تعارف کروایا، ایک سے بڑھ کر ایک ادبی ستارہ، جس کی چمک سے گورنر ہاؤس جگمگا اٹھا۔

    اس روح پرور نشست میں بانی صدر ایم ایم علی اور نائب صدرحافظ محمد زاہد نے اپووا کی فکری خدمات، ادبی سرگرمیوں اور تنظیمی اہداف کو نہایت شائستہ اور مدلل لب و لہجے میں پیش کیا۔ گفتگو میں جو شفافیت اور خلوص تھا، اس نے گورنر کو متاثر کئے بغیر نہ چھوڑا،گورنر فیصل کریم کنڈی نے نہایت پرخلوص کلمات میں اپووا کے اس سنجیدہ ادبی مشن کو قومی یکجہتی، فکری بالیدگی اور ثقافتی تجدید کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادب دلوں کو جوڑتا ہے، اور اپووا اس جوڑنے کے عمل میں پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تمام شرکائے وفد کو تعریفی اسناد اور یادگاری سوینئرز سے نوازا۔ چائے کی ضیافت کے دوران گفتگو کا دائرہ مزید وسعت اختیار کر گیا۔ آخر میں اپووا کی جانب سے سالانہ ادبی تقریب میں شرکت کی دعوت پیش کی گئی، جسے گورنر خیبر پختونخوا نے نہایت خندہ پیشانی سے قبول کیا اور یقین دہانی کروائی کہ وہ ادب کے اس مقدس سفر میں اپووا کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

    یہ سفر، ملاقات محض ایک رسمی گفتگو نہ تھی بلکہ قومی ادب کی قدر دانی اور فکری ہم آہنگی کی ایک نادر مثال تھی، جہاں قلم کی حرمت کو منصب کی عظمت سے جوڑا گیا۔وفد میں ملک یعقوب اعوان، ایم ایم علی، حافظ محمد زاہد، سفیان علی فاروقی، محمد اسلم سیال، ممتاز اعوان، معاویہ ظفر، محمد بلال، ڈاکٹر عمر شہزاد، ڈاکٹر سعدیہ شہزاد، ناز پروین، بشریٰ فرخ، تابندہ فرخ، ثمینہ قادر، نیلوفر سمیع، رانی عندلیب شامل تھے،”دلاور” بھی ہمارے ہمراہ تھا ،دلاور کے گاڑی سے اترتے ہی گورنر ہاؤس انتظامیہ کی دوڑیں بھی دیکھنے والی تھیں………..

    یقیناً یہ ملاقات ادب کی توقیر، ادیب کی عزت اور فکر کی پذیرائی کا مظہر تھی، اپووا کا یہ اقدام آنے والے دنوں میں مزید فکری سنگ میل عبور کرنے کی نوید دے رہا ہے،اپووا…کی جانب سے مزید سرپرائزتیار ہیں.

    اپووا محض ایک تنظیم نہیں، بلکہ ادب کا مقدس قافلہ ہے ، ایسا قافلہ جو قلم کے چراغ اٹھائے، روشنی بانٹنے کے سفر پر گامزن ہے، اس قافلے کی ہر کڑی، ہر فرد اور ہر قدم علم، شعور، زبان، تہذیب اور فنِ تحریر کے احترام سے لبریز ہے، اپووانے معاشرے کے ان گوشوں میں روشنی پہنچائی ہے، جہاں جہالت کا اندھیرا اور فکری جمود برسوں سے براجمان تھا، اپووا کی ادبی کاوشیں معاشرتی نکھار، فکری ارتقاء اور قومی یگانگت کی ایک زندہ علامت بن چکی ہیں،اپووا نہ صرف شعرا و ادبا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے بلکہ نئے لکھنے والوں کی آبیاری کر کے انہیں فکر و فن کے باغ میں تناور درخت بننے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ان کی تقریبات میں ادب کے قدردان، لفظوں کے مسافر، اور فہمیدہ دل و دماغ یکجا ہوتے ہیں، جہاں صرف باتیں نہیں ہوتیں، بلکہ روحانی ارتعاش، فکری پرورش اور جمالیاتی آگہی بانٹی جاتی ہے،ایم ایم علی جیسے بصیرت افروز قائد، ملک یعقوب اعوان جیسے باوقار رہنما، حافظ محمد زاہد جیسے فکری معمار، اور درجنوں اہلِ قلم کی پرخلوص کوششوں نے اپووا کو پاکستان کی ادبی پیشانی کا جھومر بنا دیا ہے۔

    آج جب دنیا تشدد،نفرت، مادّہ پرستی اور زبان کی سطحیت کا شکار ہو رہی ہے، اپووا ایسے وقت میں دلوں کو جوڑنے، زبان کو نکھارنے اور قلم کو حرمت دینے کے لیے سینہ تان کر کھڑی ہے،ہم اپووا کے بانیان، کارکنان، اور تمام ادبی سپاہیوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراجِ عقیدت، تحسین اور محبت پیش کرتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ یہ قافلہ یوں ہی فکر کی مشعلیں لے کر اقبال کے خواب، فیض کی امید کو آگے بڑھاتا رہے۔

  • وزیر زراعت کے نام کھلا خط

    وزیر زراعت کے نام کھلا خط

    وزیر زراعت کے نام کھلا خط
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور پنجاب اس کا دل کہلاتا ہے، جہاں کی زرخیز زمینیں صدیوں سے دنیا بھر میں اپنی پیداوار کے لیے مشہور ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پنجاب کے دل میں واقع 23 فور۔ایل اور 22 فور۔ایل حلقہ پی پی 190، تحصیل اوکاڑہ آج بدترین پانی کے بحران کا شکار ہیں۔

    یہ علاقہ جو ماضی میں سرسبز کھیتوں، لہلہاتی فصلوں اور خوشحال کسانوں کی پہچان رکھتا تھا، آج پانی کی کمی اور حکومتی عدم دلچسپی کے باعث بربادی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ زیر زمین پانی کھارا ہو چکا ہے، نہری پانی آخری ٹیلوں تک پہنچتے پہنچتے کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر ہو کر رہ گئی ہے۔

    23 فور۔ ایل اور 22 فور۔ایل کے علاقے میں زیر زمین پانی کا کھارا پن ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ٹیوب ویل کے ذریعے نکالا جانے والا پانی زمین کی زرخیزی کو تباہ کر رہا ہے۔ کھیتوں میں نمکیات کی تہیں جم گئی ہیں اور محتاط اندازے کے مطابق 20/30ہزار نمکیات کا تناسب پانی میں شامل ہے جبکہ زرعی ماہرین کے مطابق 1000 کے لگ بھگ نمکیات کا تناسب نہری پانی میں مکس کرلیں تو گزارا چل جاتا ہے۔ مگر نمکیات زیادہ ہونے کی وجہ جس سے زمین اپنی پیداواری صلاحیتیں کھو رہی ہے۔ پینے کے پانی میں بھی نمکیات کی زیادتی نے انسانی صحت پر خطرناک اثرات ڈالنا شروع کر دیے ہیں۔

    یہ دونوں گاؤں نہر کے آخری ٹیلوں پر واقع ہیں جہاں پہلے ہی پانی کم مقدار میں پہنچتا ہے۔ مگر اب با اثر افراد اور محکمہ انہار کی ملی بھگت سے پانی کی چوری نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ آخری ٹیلوں کے کسانوں کو پانی کی بوند بوند کے لیے ترسنا پڑتا ہے۔ اور رات کو اکثر محکمانہ ملی بھگت سے پانی مزید کم ہو جاتا ہے۔ جبکہ یہاں پر ایک اندازے کے مطابق 25/30 منٹ فی ایکڑ پانی منظور شدہ ہے مگر 3 گھنٹوں میں بھی آخری کھیتوں کو سیراب کرنا مشکل ہے۔ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی کی کمی کے باعث خشک ہو جاتی ہیں، کسانوں کی سال بھر کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔

    جن کسانوں کے پاس آباؤ اجداد کی زمینیں ہیں، آج وہ بھی غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ فصلیں نہ اگنے کی وجہ سے کسان قرضوں میں ڈوب چکے ہیں۔ پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے اور جو تھوڑی بہت فصل بچتی ہے اس کی قیمت مڈل مین حضرات اپنی مرضی سے طے کرتے ہیں۔ یہ کسان جن کے خواب کبھی سرسبز کھیتوں کی صورت میں لہراتے تھے، آج غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    ان دونوں چکوک کے لوگ زراعت پیشہ چھوڑ کر بچوں کی روزی روٹی کمانے کے لیے شہروں میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ آج کئی خاندان اپنی زمینیں چھوڑ کر شہروں کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ دیہات خالی ہوتے جا رہے ہیں اور شہروں پر آبادی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر یہ لوگ کب تک شہروں میں سہارا ڈھونڈتے رہیں گے؟ کب تک اپنی زمینوں سے ہجرت کرتے رہیں گے؟

    پانی کے کھارے پن کی وجہ سے صرف فصلیں ہی تباہ نہیں ہو رہیں بلکہ انسانی صحت اور جانور بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ بچوں میں جلدی امراض، معدہ اور جگر کی بیماریاں، اور ہڈیوں کی کمزوری عام ہو چکی ہے۔ مویشی بھی متاثر ہو رہے ہیں، جس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار بھی گر رہی ہے۔

    علاقے کے کاشتکاروں نے وزیر زراعت پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنجیدہ مسئلے پر توجہ دیں۔ کسان مطالبہ کر رہے ہیں کہ:

    * سولر انرجی اسپیشل گرانٹ جاری کی جائے تاکہ سولر ٹیوب ویل کے ذریعے میٹھا پانی استعمال کیا جا سکے۔
    * محکمہ انہار میں پانی چوروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جن کی کئی ایک ایف آئی آر درج شدہ ہیں مگر کاروائی نہیں ہوسکی۔
    * زرعی اصلاحات کے تحت زیر زمین پانی کی مینجمنٹ کے منصوبے شروع کیے جائیں۔
    * بنجر ہونے والی زمینوں کو دوبارہ قابل کاشت بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے۔

    آج 23 فور ایل اور 22 فور۔ایل کے کسان حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ محض وعدے، اعلانات اور فوٹو سیشن سے کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حکومت اگر زراعت کو واقعی ترقی دینا چاہتی ہے تو اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ کسان کی ہجرت کا مطلب دیہی معیشت کا زوال ہے اور اس کا اثر مجموعی قومی معیشت پر بھی پڑے گا۔

    کب تک کسان اپنی زمینیں چھوڑتے رہیں گے؟
    کب تک زرخیز زمینیں بنجر ہوتی رہیں گی؟
    کیا حکومت صرف ترقیاتی دعوؤں میں مصروف رہے گی؟
    کیا عوامی نمائندے اس گاؤں کے مسائل کی ذمہ داری قبول کریں گے؟

    جی ہاں، اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور عوامی نمائندے کسان کی فریاد سنیں۔ اگر زراعت ختم ہوئی تو یہ ملک بھی شدید بحران کا شکار ہو جائے گا۔ پانی کی قلت کا یہ خطرناک الارم حکمرانوں کو جگانے کے لیے کافی ہے۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • ماسکو سے گوادر تک. نئی راہیں، نئے امکان

    ماسکو سے گوادر تک. نئی راہیں، نئے امکان

    ماسکو سے گوادر تک. نئی راہیں، نئے امکان
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    ایک خبر کے مطابق پاکستان اور روس نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق روس کے دورے پر گئے پاکستانی وفد کی سینٹ پیٹرزبرگ میں گیزپروم حکام سے ملاقات ہوئی، جس میں توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں اور شراکت داری پر غور کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور روس نے اقتصادی تعاون کے نئے مواقع کی تلاش پر زور دیا اور طے پایا کہ او جی ڈی سی ایل اور گیزپروم ممکنہ منصوبوں کی مل کر نشاندہی کریں گے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور اسٹریٹجک تعلقات کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہے۔

    اس تناظر میں اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو 1948ء میں سفارتی تعلقات کے قیام سے لے کر اب تک پاکستان اور روس (سابقہ سوویت یونین) کے تعلقات سرد جنگ کے دوران محدود اور بعض اوقات کشیدہ رہے لیکن 1970ء کی دہائی میں پاکستان سٹیل ملز کے قیام جیسے منصوبوں نے تعاون کی راہ ہموار کی۔ 21ویں صدی کے آغاز خاص طور پر 2010ء کے بعد توانائی، دفاع، تجارت اور تعلیم کے شعبوں میں متعدد معاہدوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کیا۔ 2024ء تک کم از کم 20 سے 30 اہم معاہدوں یا مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط ہو چکے ہیں، جن میں پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن، دفاعی تعاون اور بارٹر ٹریڈ شامل ہیں۔

    اسی تسلسل میں سینٹ پیٹرزبرگ کی حالیہ ملاقات توانائی کے شعبے میں تعاون کی ایک نئی مثال ہے، جہاں پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن، جس پر 2016ء میں اتفاق اور 2021ء میں توثیق ہوئی، 2.5 بلین ڈالر کے منصوبے کے طور پر نمایاں ہے۔ روس نے پاکستان کو LNG درآمد کے لیے 1500 کلومیٹر طویل پائپ لائن کی حمایت بھی کی ہے جو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور روس کے خطے میں اقتصادی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے اہم ہے۔

    یہی رجحان دفاعی شعبے میں بھی نظر آتا ہے، جہاں 2016ء میں مشترکہ فوجی مشقوں "دروجبا” اور چار ایم آئی۔35 ہیلی کاپٹروں کی فراہمی نے خطے میں جغرافیائی سیاسی توازن کو تقویت دی، خاص طور پر جب پاکستان روایتی اتحادیوں سے ہٹ کر نئے اسٹریٹجک شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔ تجارت و سرمایہ کاری میں بھی پیش رفت ہوئیہے، 2024ء میں ماسکو میں منعقدہ پہلے پاک روس تجارتی فورم میں بارٹر ٹریڈ معاہدے کے تحت پاکستان 20 ہزار ٹن چاول برآمد کرے گا جبکہ روس 20 ہزار ٹن چنے فراہم کرے گا۔

    اسی تسلسل میں دسمبر 2024ء کے 9ویں بین الحکومتی کمیشن اجلاس میں انسولین کی تیاری، تعلیمی تعاون اور دوطرفہ تجارت کے فروغ سمیت 8 معاہدوں پر دستخط ہوئے جو دوطرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔

    یہ تمام پیش رفتیں پاکستان اور روس کے تعلقات کو ایک وسیع تر جغرافیائی تناظر میں بھی اہم بناتی ہیں، خاص طور پر وسط ایشیائی ریاستوں کے حوالے سے، جہاں روس ایک کلیدی کھلاڑی ہے۔ پاکستان کی گوادر بندرگاہ وسط ایشیائی ممالک کے لیے تجارت کا اہم راستہ بن سکتی ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے فریم ورک کے تحت دونوں ممالک خطے میں استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور روس کی یوریشین اکنامک یونین (EAEU) کے درمیان ممکنہ تعاون خطے کے اقتصادی منظر نامے کو تبدیل کر سکتا ہے۔

    تاہم ان مثبت رجحانات کے باوجود موجودہ عالمی اور علاقائی حالات ان تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی جو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث ہے، پاک روس تعاون کو متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ روس ایران کا اتحادی ہے اور پاکستان ایران کے ساتھ سرحدی اور تاریخی تعلقات رکھتا ہے۔ اگرچہ پاکستان غیر جانبداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن مغربی دباؤ یا علاقائی عدم استحکام توانائی منصوبوں یا سرمایہ کاری میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔

    اسی طرح امریکہ کی علاقائی پالیسیاں خاص طور پر چین اور روس کے خلاف حکمت عملی، پاکستان کے لیے چیلنجز ہیں کیونکہ پاکستان امریکی مالیاتی اداروں پر انحصار کرتا ہے۔ امریکی پابندیوں کا خوف پاک روس معاہدوں کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، لیکن ایک امکان یہ بھی موجود ہے کہ پاکستان کی چین کے ساتھ شراکت اور SCO کے ذریعے تعاون اس دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔

    اسی ضمن میں بھارت کی پاکستان کے خلاف پراکسی وار، خاص طور پر افغانستان اور بلوچستان میں مبینہ مداخلت، ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ روس کے بھارت کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں۔ تاہم، روس نے پاکستان کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس کی مثال دفاعی معاہدے اور مشترکہ فوجوی مشقوں کی صورت میں موجود ہے۔ بھارت کی پراکسی سرگرمیاں اگرچہ علاقائی استحکام کو متاثر کرتی ہیں، لیکن پاک روس تعلقات پر براہ راست اثر کا امکان کم ہے کیونکہ دونوں ممالک اپنے مشترکہ مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    علاوہ ازیں دیگر چیلنجز جیسے کہ افغانستان کی صورتحال، دہشت گردی کے خطرات اور بیوروکریٹک رکاوٹیں، تعاون کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں، لیکن SCO اور CPEC جیسے پلیٹ فارمز ان سے نمٹنے کے لیے مضبوط فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔

    ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو خطے کی بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال پاکستان اور روس کو قریب لا رہی ہیں۔ امریکہ اور چین کی رقابت، افغانستان کے حالات اور بھارت کے روس کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ روس، جو مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، ایشیا میں نئے شراکت داروں کی تلاش میں ہے اور پاکستان اس تناظر میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    اس شراکت داری کی بنیاد اگرچہ ابھی محدود تجارت پر قائم ہے لیکن بارٹر ٹریڈ اور توانائی کے منصوبے اسے وسعت دے سکتے ہیں۔ روس کی تکنیکی مہارت اور پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن باہمی فائدے کی بنیاد ہے، جبکہ وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ طلبہ اورثقافتی تقریبات و وفود کے تبادلوں اور تعلیمی معاہدوں (جیسے نیوٹیک اور کامسیٹس کے MoUs) سے عوامی سطح پر تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں، جو طویل مدتی شراکت داری کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

    چنانچہ پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتی قربت خطے کے نئے دور کا عکاس ہے۔ اگرچہ ایران اسرائیل تنازعہ، امریکی مفادات اور بھارت کی پراکسی سرگرمیاں چیلنجز ہیں لیکن مشترکہ مفادات اور بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال اس شراکت داری کو مضبوط کر رہی ہیں۔ وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعاون اور SCO جیسے پلیٹ فارمز اسے مزید گہرا کر رہے ہیں۔

    مناسب پالیسی سازی اور معاہدوں پر عمل درآمد کے عزم کے ساتھ پاکستان اور روس نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے معمار بن سکتے ہیں۔ یہ شراکت داری محض ایک امکان نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو خطے کے مستقبل کو روشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جہاں ایک دوسرے کے تعاون سے تنازعات ختم ہوں گےاور مشترکہ ترقی سب کا مقدر بنے گی۔

    ماسکو سے گوادر تک ابھرتی ہوئی یہ نئی راہیں نہ صرف اقتصادی ترقی کا نیا نقشہ کھینچ رہی ہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی ازسرِنو متعین کر رہی ہیں۔ روس کے لیے پاکستان ایک بحری راستے کی شکل میں وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا دروازہ بن رہا ہے جبکہ پاکستان روس کی توانائی، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری سے اپنے معاشی ڈھانچے کو مستحکم کر سکتا ہے۔ بارٹر ٹریڈ سے لے کر اسٹریٹجک پائپ لائنز تک، دونوں ممالک ایسی بنیاد رکھ رہے ہیں جو آنے والے عشروں میں خطے کے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی منظرنامے کو بدل سکتے ہیں۔ اگر یہ شراکت داری درست سمت میں مستحکم رہی تو گوادر کا ساحل اور ماسکو کی فضائیں ایک دوسرے کی ہم آواز بن سکتی ہیں، جہاں نئی راہیں صرف سفر کی نہیں بلکہ باہمی اعتماد، ترقی اور خودمختاری کی ضمانت ہوں گی۔

  • وسطی ایشیائی ریاستیں، تجارتی تعلقات کی نئی راہیں

    وسطی ایشیائی ریاستیں، تجارتی تعلقات کی نئی راہیں

    وسطی ایشیائی ریاستیں، تجارتی تعلقات کی نئی راہیں
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    📧 ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    گزشتہ دنوں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ازبکستان، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ریلوے لائن فریم ورک کی جلد تکمیل پر اتفاق کیا گیا ہے۔ بلاشبہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ وسطی ایشیا قدرتی وسائل سے مالا مال اور پاکستان کے لیے بے پناہ اقتصادی مواقع کا حامل ہے۔ حالیہ اقدامات نہ صرف سفارتی تعلقات میں گرم جوشی لانے کا باعث بن رہے ہیں، بلکہ خطے میں معاشی اور تجارتی ربطوں کو بھی نئی سمت دے رہے ہیں۔

    ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کا مقصد ازبکستان اور پاکستان کے درمیان براہ راست ریلوے کے ذریعے رابطہ بنانا ہے، جو افغانستان سے گزرے گا۔ اس منصوبے کا مقصد 573 کلومیٹر طویل ریل رابطہ قائم کر کے تجارت کو بڑھانا ہے جو تاشقند، کابل اور پشاور کو جوڑے گا۔ منصوبے پر عمل درآمد سے پاکستان اور وسطی ایشیا کے مابین تجارتی تعلقات کو تقویت ملنے کی توقع ہے، جس کا مقصد ازبکستان اور پاکستان کے درمیان کارگو کی فراہمی کے اوقات کو تقریباً پانچ دن کی مسافت تک نمایاں طور پر کم کرنا ہے۔ یہ ریلوے روٹ افغانستان میں ترمذ، مزار شریف اور لوگر سے گزرے گا جب کہ پاکستان کے ضلع کرم میں خرلاچی بارڈر کراسنگ تک جائے گا۔ یہ منصوبہ مسافروں اور مال برداری کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، اس مقصد کے لیے ریلوے علاقائی تجارت کو فروغ دینے اور علاقے میں مجموعی اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔

    وسطی ایشیا قدرتی وسائل سے مالا مال اور پاکستان کے لیے بے پناہ اقتصادی مواقع کا حامل ہے۔ پاک بھارت کشیدگی سے سرخرو ہونے کے بعد حالیہ دنوں فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ حکام کا ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کا سرکاری دورہ انتہائی اہم حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں ایران نے خطے میں امن قائم کرنے کی غرض سے دو طرفہ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری بڑھانے کا اعادہ کیا ہے جبکہ پاکستان کو وسطی ایشیا سے تجارت کا گیٹ وے کہا جا سکتا ہے۔

    پاکستان کا محل وقوع ایسا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی آ کر ملتے ہیں جب کہ جنوب میں بحر ہند کا وسیع سمندر ہے جو چین اور مشرق بعید سے مشرق وسطی، افریقہ اور یورپ کے درمیان اہم تجارتی راستوں کی گزرگاہ ہے۔ بحر ہند کی سمندری گزرگاہوں سے توانائی سے مالا مال وسطی ایشیائی ریاستوں تک جانے کے لیے کوئی سمندری ساحل اور بندرگاہ نہیں ہے، واحد زمینی راستہ ایران کے علاوہ پاکستان سے گزر کر جاتا ہے۔ پاکستان سے گزرنے والا یہ راستہ زیادہ تر میدانی اور ہموار ہونے کے باعث آئیڈیل راستہ ہے جب کہ ایران سے جانے والا راستہ زیادہ تر پہاڑی اور ناہموار ہے۔ یہ جغرافیائی حقیقت پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ایک دلکش کنجی بنا دیتی ہے۔

    پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک چین، ایران اور افغانستان کے علاوہ دیگر ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بالعموم اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بالخصوص تجارتی و دفاعی اور عسکری شعبوں میں قابل ذکر تعاون بڑھا سکتا ہے۔ آذربائیجان کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے۔ آذربائیجان نے 31 دسمبر 2027 تک پاکستانی چاول پر عائد کردہ کسٹم ڈیوٹی کو استثنیٰ قرار دے رکھا ہے۔ یہ استثنیٰ پاکستان کے لیے بڑا ریلیف ہے، اگرچہ اس ٹیکس چھوٹ کے باوجود پاکستان کی چاول برآمدات آذربائیجان کی کل درآمدات کا محض 4 فیصد ہے۔

    قازقستان کی معیشت اس خطے کی بڑی معیشت ہے جہاں 370 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری سامنے آئی ہے۔ قازقستان کے معدنی وسائل میں شامل کوئلہ، کرومائیٹ اور زنک کا ذخیرہ دنیا کا دوسرا بڑا ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔ قازقستان قدرتی گیس سے بھی مالا مال ہے۔

    ایران سے ہم سستے داموں تیل، لوہا، اسٹیل، چمڑا، شیشہ، تازہ سبزیاں اور پھل درآمد کر سکتے ہیں جب کہ گندم اور چاول برآمد کر سکتے ہیں۔ گندم اور چاول کی مصنوعات ہم ترکیہ کو بھی برآمد کر سکتے ہیں۔

    جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے چوراہے پر پاکستان کا تزویراتی محل وقوع بلاشبہ اسے رابطے اور تجارتی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے اچھی پوزیشن میں رکھتا ہے، جو پاکستان اور خطے کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کے مرکز کے طور پر امکان پیش کرتا ہے۔

    اس کے علاوہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشییٹو کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے اور رابطوں میں اضافہ ہے جو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کو فروغ دے سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان، چین، کرغیز جمہوریہ اور قازقستان نے 9 مارچ 1995 کو چہار فریقی ٹریفک اور ٹرانزٹ معاہدے (کیو ٹی ٹی اے) دستخط کیے۔ یہ چین، پاکستان، کرغیزستان اور قازقستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریفک اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے ایک ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ہے۔ یہ وسطی ایشیا اور بحیرہ عرب میں پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے درمیان ایک مؤثر رابطہ نیٹ ورک فراہم کرتا ہے۔ چین نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا اور اس خطے کے ساتھ اس کی تجارت تقریباً 100 بلین امریکی ڈالر ہے۔

    اس کے بعد ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت (تاپی) گیس پائپ لائن منصوبہ ہے۔ تاپی منصوبے کا مقصد ترکمانستان میں کلکنیش گیس فیلڈ سے قدرتی گیس افغانستان کے راستے پاکستان اور بھارت لانا ہے۔ تاپی منصوبہ حکومت پاکستان کے انرجی سیکیورٹی پلان کا حصہ ہے۔

    پاکستان کی پوزیشن اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ جہاں مغرب، چین اور بھارت افغانستان کے وسیع معدنی وسائل کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں، پاکستان کی رسائی صرف چند ملین ڈالر کے اجناس کی تجارت تک محدود ہے۔ ایران کے ساتھ، پاکستان، ایران گیس پائپ لائن جو بہت ضروری ہے، دہائیوں سے التوا کا شکار ہے۔

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کا آغاز ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، اس سے پاکستان کو جنوبی خطے میں اپنی حیثیت مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

    پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے مابین سہ فریقی تزویراتی اتحاد کی بنیاد شنگھائی تعاون تنظیم نے فراہم کی تھی جس میں چین، قازقستان، کرغیزستان، روس، تاجکستان، بھارت، پاکستان، ایران، بیلا روس شامل ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سی پیک کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کر کے پاکستان کے لیے اقتصادی راہداری کو ایران اور ترکیہ کے تیل اور گیس کی فراہمی، بجلی پیداوار اور ترسیل، تجارتی نقل و حمل، بندرگاہوں اور جہاز رانی کے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کریں۔

    ایشیا کے دیگر ممالک جو پاکستان کی طرح بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی کا خطرہ محسوس کر سکتے ہیں، جیسے سری لنکا، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، میانمار کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو استوار کریں۔ باہمی تعاون اور اشتراک کے امکانات کو فروغ دیں۔

    قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغیزستان اور تاجکستان توانائی، زراعت اور معدنیات کے وسائل سے مالا مال ہیں اور پاکستان ان کے لیے ایک اہم تجارتی اور ٹرانزٹ مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

    سی پیک اور ٹرانس افغان ریلوے جیسے منصوبے بہتر رابطوں اور تجارت میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ وسطی ایشیا کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات کو فروغ دے کر پاکستان اپنے اقتصادی چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے، روایتی منڈیوں پر انحصار کم کر سکتا ہے اور ترقی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

  • پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    تفصیلات کے پنجاب بھر کی طرح ڈیرہ غازیخان میں بھی گرمی کی شدید لہر کے باوجود درجنوں پرائیویٹ اور پیف سکولز حکومتی احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے آج بھی کلاسز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وزیر تعلیم پنجاب کی جانب سے 20 مئی 2025 کو صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں 28 مئی سے موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا مگر متعدد نجی سکول مالکان نے اس نوٹیفکیشن کو نظرانداز کر کے تدریسی عمل جاری رکھا ہے۔

    شدید گرمی کے دوران ان سکولوں میں صبح 6:30 سے 10:00 بجے تک تدریسی سرگرمیاں جاری ہیں، جنہیں والدین نے "تندور جیسے کلاس رومز” قرار دیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ سکولوں میں نہ پنکھے چل رہے ہیں، نہ ہوا کا گزر ہے اور نہ ہی پینے کے ٹھنڈے پانی کی مناسب سہولیات موجود ہیں۔ ایسے میں بچوں کو پڑھنے پر مجبور کرنا کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    صوبہ پنجاب خاص طور ڈرہ غازیخان میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہےجو کہ 50 ڈگری تک محسوس کیا جارہا ہے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے ہیٹ ویو کی وارننگ جاری ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر وزیر تعلیم پنجاب نے 28 مئی سے سکولوں اور کالجوں میں تعطیلات کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بیشتر نجی سکولز مالکان نے اس فیصلے کو ہوا میں اڑا دیا۔ بچوں کو سکول بلانے کا مقصد صرف فیسیں وصول کرنا اور بزنس کو برقرار رکھنا بتایا جا رہا ہے۔

    والدین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ سمیت مختلف شہروں میں والدین نے سکولز کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے اور پرائیویٹ سکولز مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایک والد حبیب خان نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں مجبوراً بچوں کو بھیجنا پڑ رہا ہے کیونکہ فیسیں لی جا رہی ہیں اور غیر حاضری پر جرمانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سوال یہ کہ کیا حکومت صرف نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے ہے؟”

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب کالجز جن میں نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں 15 اگست تک بند کیے جا چکے ہیں تو پھر نازک عمر کے بچوں کے سکولز کھلے رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت کی خاموشی اور اداروں کی بے حسی نے والدین کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سکولز (سرکاری و نجی) 28 مئی سے بند ہوں گے اور 15 اگست 2025 کو دوبارہ کھلیں گے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ جو سکولز حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ سکولز کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے، بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور بچوں کی صحت سے کھیلنے والے اداروں کو نشان عبرت بنایا جائے۔

    والدین کا سوال واضح ہےکہ کیا حکومت اپنی رٹ بحال کر پائے گی یا یہ خاموشی پرائیویٹ سکولز مافیا کے لیے کھلی چھوٹ ثابت ہو گی؟

  • خلیج بنگال سے ہوتا ہوا اکھنڈ بھارت کا خواب، چاغی میں دفن

    خلیج بنگال سے ہوتا ہوا اکھنڈ بھارت کا خواب، چاغی میں دفن

    خلیج بنگال سے ہوتا ہوا اکھنڈ بھارت کا خواب، چاغی میں دفن
    تحریر: حاجی محمد اکرم آرائیں، واربرٹن
    1947 میں دو قومی نظریے کو جھٹلانے کا خواب لیے خلیج بنگال سے ابھرنے والا اکھنڈ بھارت کا فریب، بالآخر 1998 میں چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔

    قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہندو سامراج نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستان پر چار جنگیں مسلط کیں۔ 1948ء کی جنگ میں یہ خود اقوامِ متحدہ گیا، جہاں موجودہ آزاد کشمیر کو استصواب رائے کا حق تسلیم کیا، مگر بعد میں مُکر گیا۔ 1965ء کی جنگ میں ناکامی کے بعد روس میں شملہ معاہدہ کے تحت جنگی اصولوں سے انحراف کیا۔ 1971ء میں سازش کے ذریعے بنگلہ دیش کو پاکستان سے جدا کروایا اور پھر غرور و تکبر سے اکڑ کر کہا گیاکہ
    "ہم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔”

    مگر 5 اگست 2024ء کو وہی دو قومی نظریہ خلیج بنگال سے اس طاقت سے ابھرا کہ بھارت کو بنگلہ دیش سے دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ اس ساری کشمکش اور ہٹ دھرمی سے خطہ ہمیشہ تناؤ اور جنگوں کا شکار رہا۔

    13 مئی 1998ء کو بھارت نے 5 ایٹمی دھماکے کر دیے اور برملا اعلان کیا کہ وہ آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے جارہا ہے اوربرصغیر کا تھانیدار بننے کی کوشش کی۔ اکھنڈ بھارت کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نہ صرف جشن منایا گیا بلکہ عالمی طاقتوں کی خاموشی نے اسے شہ دی۔نہ اقوامِ متحدہ نے کوئی مذمت کی، نہ کسی بڑی ایٹمی طاقت نے کوئی نوٹس لیا۔

    لیکن پاکستان کی باہمت قیادت، خصوصاً وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف، صدر محمد رفیق تارڑ، آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر سائنس دانوں نے سر جوڑ لیے۔ پاکستان پہلے ہی ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا تھا، فیصلہ صرف اعلانِ جُرأت کا تھا۔

    جب دنیا نے ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کے لیے ڈالروں کی لالچ دی اور پھر دھمکیاں دیں، تو یہ لمحہِ آزمائش تھا۔ تب مجید نظامی مرحوم نے تاریخی جملے کہے:
    "میاں صاحب، ایٹمی دھماکہ کر دو ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی!”
    یہ بات دل میں لگی، حوصلہ بڑھا اور یوں 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے چاغی پہاڑ پر پاکستان نے 6 ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کے 5 دھماکوں کا جواب دے دیا۔

    چاغی کا پہاڑ زرد ہو گیا، پورا ملک "اللہ اکبر” کے نعروں سے گونج اُٹھا، پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک بن گیا۔ بھارت کا اکھنڈ بھارت کا خواب چاغی میں دفن ہو گیا۔

    پھر 7 مئی 2025ء کی رات بھارت نے دوبارہ حملہ کیالیکن اس بار پاک فوج اور فضائیہ نے بھارت کی غرور و تکبر بھری یلغار کو خاک میں ملا دیا۔ چند گھنٹوں میں پاکستان کے شاہینوں نے رافیل طیارے مار گرائے، اڈے تباہ کیے، اوڑی، اودھم پور، پٹھانکوٹ سمیت بجلی کی 70 فیصد سپلائی ختم کر دی۔

    بھارت نے گھٹنے ٹیک دیے، چوکیوں پر سفید پرچم لہرا دیے اور امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی کا اعلان ہوا۔

    اس فتح کے پیچھے پوری قوم کا اتحاد، سوشل میڈیا کی جنگی حکمت عملی، پاکستانی میڈیا کا جرأت مندانہ کردار اور سفارتی محاذ پر کامیابی شامل تھی۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں تینوں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ حکمت عملی نے نہ صرف دشمن کو حیران کیا بلکہ عالمی تجزیہ کار بھی دنگ رہ گئے۔

    یہ اسلام اور کفر کی نہ ختم ہونے والی جنگ ہے۔ ہمیں اندرونی سیاسی استحکام، قومی اتحاد اور عسکری دفاع پر مکمل اعتماد رکھنا ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ
    "ہنود، یہود و نصارٰی کبھی اسلام دوست نہیں ہو سکتے!”

    آج 56 اسلامی ممالک منتشر ہیں اور کفار متحد۔ اللہ تعالیٰ فلسطین، کشمیر اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی غیبی مدد فرمائے۔
    پاکستان زندہ باد! پاک فوج پائندہ باد!