Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سیندور کا بھارتی خواب، پاک فوج کا تباہ کن جواب

    سیندور کا بھارتی خواب، پاک فوج کا تباہ کن جواب

    سیندور کا بھارتی خواب، پاک فوج کا تباہ کن جواب
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    بھارت نے رات کی تاریکی میں جس بزدلی سے پاکستان پر حملے کا آغاز کیا، جسے اس بزدل نے اپنے روایتی ہندوانہ رجحان کے تحت "آپریشن سیندور” کا نام دیا۔ سیندور جو ہندو مذہب میں شادی شدہ عورت کی مانگ کا مقدس نشان سمجھا جاتا ہے، اس کی علامتی اہمیت کو بھارتی میڈیا نے حملے کے نام کے ساتھ جوڑ کر پاکستان کو بدنام کرنے اور اپنا سیاسی بیانیہ مضبوط کرنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن دشمن کو کیا خبر تھی کہ وہ جس علامت کو خوش بختی سمجھ رہا تھا، وہی نشان اس کے اپنے ماتھے پر خون کی لکیر بن کر ابھرے گا۔ پاک فوج نے نہ صرف اس جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ بھارت کی سرزمین پر ایسی تباہ کن جوابی کارروائی کی کہ دشمن کے خواب چکناچور ہو گئے۔

    بھارتی حملے کا آغاز احمد پور شرقیہ، مظفرآباد، کوٹلی، مریدکے، سیالکوٹ اور شکرگڑھ میں مساجد اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ایک بار پھر بزدلانہ روایت دہراتے ہوئے پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے جن کے نتیجے میں 26 معصوم پاکستانی شہید اور 46 زخمی ہوئے۔ احمدپور شرقیہ میں مسجد سبحان اللہ کو نشانہ بنایا گیا جہاں 13 افراد شہید ہوئے جن میں دو 3 سالہ بچیاں، سات خواتین اور چار مرد شامل ہیں جبکہ 31 شہری زخمی ہوئے اور 4 فیملی کوارٹرز کو نقصان پہنچا۔ مظفرآباد میں مسجد بلال پر بھارت کی جانب سے 7 حملے کیے گئے، جس میں 3 شہری شہید اور ایک بچی زخمی ہوئی، جبکہ مسجد مکمل تباہ ہو گئی۔ کوٹلی میں مسجد عباس کو نشانہ بنایا گیا جہاں پانچ حملوں میں 16 سالہ لڑکی اور 18 سالہ لڑکے سمیت دو افراد شہید ہوئے اور ایک ماں بیٹی زخمی ہوئیں۔

    مریدکے میں مسجد ام القریٰ پر 4 حملے کیے گئے، تین مرد شہید اور ایک زخمی ہوا جبکہ دو افراد لاپتا ہیں اور مسجد سمیت اردگرد کے کوارٹرز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ سیالکوٹ کے کوٹلی لوہاراں گاؤں میں دو حملے ہوئے تاہم ایک گولہ اوپن فیلڈ میں جاگرا اور کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ شکرگڑھ میں دو حملوں میں ایک ڈسپنسری کو نقصان پہنچا مگر کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی بلااشتعال گولہ باری سے پانچ معصوم شہری شہید ہوئے جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہے، یہ حملے جنگی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہیں۔یہ حملے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

    پاک فوج نے اس بزدلانہ جارحیت کا جواب نہ صرف دفاعی طور پر دیا بلکہ بھارت کی سرزمین پر براہ راست اور فیصلہ کن کارروائیاں کیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق پاک فوج نے دشمن کے حملہ آور ڈرونز اور میزائلوں کو ناکام بنایا اور بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر انہیں خاک میں ملا دیا۔ مصدقہ اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاک فوج کی کارروائیاں کی ہیں ان میں پاک فضائیہ نے بھارت کے 8 اہم مقامات سری نگر، اکھنور، کپواڑہ، بارہمولہ، پونچھ، راجوری، کارگل اور لیہہ پر جوابی حملے کیے۔ سری نگر میں ایئر بیس اور ملحقہ ہیڈکوارٹر تباہ کیا گیا جبکہ اکھنور میں ایک بھارتی طیارہ مار گرایا گیا۔ دودنیال سیکٹر میں ایک چیک پوسٹ مکمل طور پر تباہ کی گئی۔ کم از کم ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر (سری نگر یا دودنیال) اور متعدد فوجی چوکیاں نیست و نابود کی گئیں۔ایکس (سابقہ ٹویٹر) کی پوسٹس کے مطابق بھارت نے ایل او سی پر سفید جھنڈا لہرا کر شکست تسلیم کی۔

    پاک فضائیہ نے بھارتی فضائی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق 3 سے 6 بھارتی طیارے مار گرائے گئے، جن میں کم از کم 2 رافیل اور 1 سخوئی (Su-30MKI) شامل ہیں۔ غیر مصدقہ دعوؤں میں 5 سے 6 طیاروں کی تباہی کا ذکر ہے جن میں 3 رافیل، 1 مگ 29 اور 1 سخوئی شامل ہیں۔ یہ طیارے اکھنور، سری نگراور دیگر علاقوں میں گرائے گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، HQ-9 HIMADS میزائل سے اکھنور میں Su-30MKI اور رافیل کو نشانہ بنایا گیا۔

    بھارتی ڈرونز کے حوالے سے برنالہ سیکٹر میں 1 ڈرون اور کوٹلی میں ایک اور ڈرون مار گرایا گیا۔ کچھ ذرائع نے متعدد کواڈ کاپٹرز کی تباہی کا دعویٰ کیا جبکہ ایک ایکس (سابقہ ٹویٹر)کی پوسٹ کے مطابق 1 ڈرون قبضے میں لیا گیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ متعدد بھارتی فوجی قیدی بنائے گئے ہیں جن کی تعداد غیر واضح ہے۔ یہ کارروائیاں پاک فوج کی زمینی اور فضائی برتری کو ظاہر کرتی ہیں۔

    پاک فوج کی کامیابی کے پیچھے چند اہم عوامل ہیں۔ فوری ردعمل نے بھارتی حملے کو چند گھنٹوں میں ناکام بنا دیا۔ جدید ٹیکنالوجی، جیسے HQ-9 HIMADS میزائلوں نے بھارتی فضائی طاقت کو بے اثر کیا۔ اسٹریٹجک پلاننگ کے تحت سری نگر اور اکھنور جیسے حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی عوام کی یکجہتی نے فوج کے مورال کو بلند کیا۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ کشمیری عوام اور پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر "سیندور کا جواب” اور "لبیک پاک فوج” جیسے ہیش ٹیگز ٹاپ ٹرینڈ بنے، جو قومی اتحاد کی عکاسی کرتے ہیں۔

    بھارت نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈا شروع کیا۔ بابر اعظم کی جعلی انسٹاگرام پوسٹ، جس میں پاک فوج کی مذمت کا دعویٰ کیا گیا، ایکسپریس نیوز نے جھوٹی قرار دی۔ فرانسیسی میڈیا نے انکشاف کیا کہ پہلگام واقعے میں بھارت نے AI تصاویر شیئر کر کے حقائق چھپانے کی کوشش کی۔ بھارتی شہروں میں ہوائی اڈے سنسان، راجستھان اور پنجاب کے دیہات خالی اور دہلی کے سیکیورٹی اجلاسوں میں خوف کا عالم ہے۔

    یہ صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ قومی بیانیہ ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن کمزور نہیں۔ وفاقی وزیر عطا تارڑ نے کہا کہ کسی بھی جنگ کے تباہ کن نتائج کی ذمہ داری بھارت پر ہو گی۔ پاک فوج نے ثابت کیا کہ وہ دشمن کے گھر میں گھس کر اسے سبق سکھا سکتی ہے۔ سیندور جو بھارت کے لیے خوش بختی کی علامت تھا، پاک فوج کے ہاتھوں خون میں رنگ کر شکست کا نشان بن گیا۔

    پاکستان کا ہر بچہ فخر سے کہہ رہا ہے کہ ہماری فوج جاگ رہی ہے، ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور دشمن کا ہر خواب خاک میں مل جائے گا۔ یہ پیغام بھارت اور اس کے اتحادیوں کے لیے ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اس کی فوج پیشہ ور اور جذبے سے لبریز ہے اور اس کی قوم ہر مشکل میں سیسہ پلائی دیوار ہے۔ پاکستان سلامت ہے، رہے گا اور دشمن کے تمام عزائم پاک فوج ناکام بنانے کی بھرپورطاقت رکھتی ہے اور پاکستانی عوام اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملا کر کھڑی ہے۔
    پاک فوج زندہ باد!
    پاکستان پایندہ باد!

  • بھارتی "سندور آپریشن” ناکام، پاکستانی فورسز کا مؤثر جواب

    بھارتی "سندور آپریشن” ناکام، پاکستانی فورسز کا مؤثر جواب

    بھارتی "سندور آپریشن” ناکام، پاکستانی فورسز کا مؤثر جواب
    تحریر: نصیب شاہ شینواری
    بھارت نے پاکستان کے خلاف حالیہ فضائی حملے کو "سندور آپریشن” کا نام دیا، جو رات کی تاریکی میں کیا گیا ایک بزدلانہ حملہ تھا۔ اس کارروائی کا مقصد خطے میں کشیدگی کو بڑھانا اور عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف منفی تاثر اجاگر کرنا تھا۔

    ہندو روایات میں "سندور” کو شادی شدہ عورت کی خوش بختی اور وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ دیوی پاروتی اور ستی کی "شکتی” یعنی نسوانی توانائی کی نمائندگی کرتا ہے۔ روایت کے مطابق شوہر شادی کے روز اپنی بیوی کی مانگ میں پہلی بار سندور بھرتا ہے، جس کے بعد وہ روزانہ اسے لگاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سندور کی رسم پانچ ہزار سال پرانی ہے۔

    پاکستانی افواج نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے "سندور آپریشن” کو بھارتی حدود میں ہی ناکام بنا دیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق، پاکستان نے جوابی کارروائی میں دشمن کے طیاروں کو نشانہ بنایا اور کئی ٹھکانوں کو کامیابی سے تباہ کیا۔ یہ واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

    بھارت نے "سندور” جیسے مقدس تصور کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر کے خود اپنی ہی اقدار کی پامالی کی، اور پاکستان نے بروقت ردعمل کے ذریعے نہ صرف اس منصوبے کو ناکام بنایا بلکہ خطے میں امن کے دشمنوں کو واضح پیغام بھی دیا۔

  • شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    صبح جاگتے ہی جاب کے لیے دوڑ، دوپہر کو جلدی جلدی میں کچھ کھا لینا، اور رات کو باہر سے کچھ آرڈر کر لینا — یہ آج کی شہری زندگی کا معمول بن چکا ہے۔زندگی کی اس تیز رفتاری میں ہم اپنی صحت، کلچر اور اصل ذائقے کو بھولتے جا رہے ہیں۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ وہ دیسی کھانے جو آپ کے بڑوں کے دسترخوان کی شان ہوا کرتے تھے، اب بھی آپ کی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں؟آئیے جانتے ہیں کہ شہری زندگی کے ساتھ دیسی کھانوں کو کیسے اپنایا جا سکتا ہے — وہ بھی آسانی اور کم وقت میں!

    1. ہفتہ وار پلاننگ کریں
    ہفتے کے آخر میں تھوڑا وقت نکال کر دالیں، سبزیاں، شوربے یا سالن تیار کر لیں۔
    اس طرح ہفتے بھر میں آپ آسانی سے دیسی کھانے کھا سکیں گے — بغیر وقت ضائع کیے۔

    2. جلدی تیار ہونے والی دیسی ڈشز اپنائیں:
    مثلاً:

    پالک دال

    بھنڈی فرائی

    آلو کے پراٹھے

    دال چاول
    یہ کھانے نہ صرف آسان ہیں بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی۔

    3. دیسی ناشتہ واپس لائیں
    آج کل کا ناشتہ صرف چائے اور بسکٹ؟
    اس کی جگہ انڈہ پراٹھا، دہی یا ستّو کا شربت شامل کریں — صحت مند بھی اور سستا بھی۔

    4. دیسی گھی اور مصالحوں کا درست استعمال:
    اعتدال میں دیسی گھی، ہلدی، زیرہ، ادرک، لہسن کا استعمال کریں — یہ کھانوں کو ذائقہ اور صحت دونوں دیتے ہیں۔

    5. باہر کے بجائے گھر کا "Quick Lunch” اپنائیں:
    دفتر کے لیے 10 منٹ میں تیار ہونے والے کھانے جیسے:

    ابلے انڈے

    دال چاول

    سبزی والے رول

    یہ بہترین اور practical آپشنز ہیں۔

    6. فریزر فرینڈلی دیسی کھانے:
    کچھ سالن یا قیمہ فریز کر لیں تاکہ مصروف دنوں میں صرف گرم کرنا پڑے۔

    شہری زندگی اور دیسی کھانے — توازن ممکن ہے!
    اگر ہم تھوڑی سی پلاننگ، اعتدال اور شعور سے کام لیں تو نہ صرف اپنی ثقافت اور جڑوں سے جڑے رہ سکتے ہیں بلکہ صحت مند بھی رہ سکتے ہیں۔
    یاد رکھیں،دیسی کھانے محض خوراک نہیں، اپنی پہچان سے جڑنے کا ذریعہ بھی ہیں۔

    خوش رہیں ، خوشیاں بانٹیں

  • نیویارک ٹائمز کا انکشاف، کیا واقعی پاک فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ایک ہے؟

    نیویارک ٹائمز کا انکشاف، کیا واقعی پاک فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ایک ہے؟

    نیویارک ٹائمز کا انکشاف، کیا واقعی پاک فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ایک ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی فوج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور نظم و ضبط کی بدولت عالمی سطح پر ایک مضبوط مقام رکھتی ہے۔ پاک فوج نے ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فوجی اور سفارتی میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر احمد شاہ کی قیادت نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران جنرل سید عاصم منیر کے کردار کی تعریف کی ہے۔

    پاکستان کی فوج 1947ء میں قیامِ پاکستان کے ساتھ وجود میں آئی اور اس نے متعدد چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ 1948ء، 1965ء، اور 1971ء کی جنگوں میں بھارت کے ساتھ مقابلہ کیا جبکہ آپریشن جبرالٹر اور کارگل تنازع میں اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آپریشن ضربِ عضب اور راہِ نجات نے شمال مغربی علاقوں میں امن کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاک فوج کا سخت نظم و ضبط اور تربیت کا نظام اس کی پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق پاک فوج 560,000 فعال فوجیوں کے ساتھ دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں بھی اس نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) نے ملکی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کیا اور جنرل سید عاصم منیر نے بطور ڈائریکٹر جنرل ISI اس کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا۔

    جنرل سید عاصم منیر نومبر 2022ء سے پاک فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف ہیں۔ انہوں نے 1986ء میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی 23ویں بٹالین سے کیریئر شروع کیا اور منگلا کے آفیسرز ٹریننگ اسکول میں "اعزازی تلوار” حاصل کی۔ ملٹری انٹیلی جنس اور ISI کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں اور گوجرانوالہ میں XXX کور کی کمان سنبھالی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق پاک بھارت کشیدگی خاص طور پر پہلگام میں مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے بعد جنرل سید عاصم منیرنے فوجی تیاری کو مضبوط کیا اور قومی بیانیہ تشکیل دیا۔ انہوں نے فوجی مشق کے دوران ٹینک پر کھڑے ہو کر خطاب کیا، جس میں بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کے خلاف فیصلہ کن جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اپریل 2025ء میں پہلگام حملے کو بھارتی میڈیا نے پاکستان پر الزام لگا کر پیش کیا جبکہ پاکستانی حکام نے اسے فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔ جنرل سید عاصم منیر نے فوجی تیاریوں کے ساتھ سفارتی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو واضح کیا۔ نیویارک ٹائمز نے ان کی سیاسی بصیرت اور عسکری حکمتِ عملی کی تعریف کی۔ انہوں نے کشمیر کو پاکستان کی "شہ رگ” قرار دیتے ہوئے قومی جذبے کو زندہ رکھا جو داخلی چیلنجز کے باوجود قومی یکجہتی کی علامت بنا۔

    جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے جدید ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک تربیت پر زور دیا۔ فوجی مشقوں میں جدید ہتھیاروں اور دفاعی نظاموں کا استعمال پاک فوج کی تیاری کی عکاسی کرتا ہے۔ جنرل سید عاصم منیر نے بین الاقوامی سفارتکاری میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ نیویارک ٹائمز نے ان کے ISI کے تجربے کو علاقائی خطرات سے نمٹنے کی سمجھ کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری کی توجہ پاکستان کے مؤقف کی طرف مبذول کرائی۔

    پاکستان کی فوج نے تاریخی پیشہ ورانہ کارکردگی کے ذریعے قومی سلامتی کو یقینی بنایا۔ جنرل سید عاصم منیر کی قیادت نے اس روایت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ ان کی جرات مندانہ قیادت اور اسٹریٹجک بصیرت کی گواہی دیتی ہے۔ ان کی قیادت میں پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن اور عالمی سطح پر ایک طاقتور آواز ہے۔ یہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قومی عزم کا روشن باب ہے جو تاریخ کا حصہ بنے گا۔

  • اپووا، قلمکاروں کی آواز، ایم ایم علی کی کاوش

    اپووا، قلمکاروں کی آواز، ایم ایم علی کی کاوش

    ادب کسی بھی قوم کی روح ہوتا ہے اور اہل قلم وہ چراغ ہیں جو اس روح کو روشنی بخشتے ہیں۔ پاکستان میں اگر ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی فلاح و بہبود کی بات کی جائے تو ایک نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے،آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن،یہ تنظیم کسی معمولی کاوش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے، جو ایم ایم علی جیسے ادب دوست شخصیت نے دیکھا اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ایم ایم علی کا شمار پاکستان کے ادبی و فلاحی میدان کے چند نمایاں اور پُرجوش افراد میں ہوتا ہے۔ انہوں نے محض قلمکاروں کے لیے آواز بلند نہیں کی، بلکہ عملی طور پر ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جو آج پورے پاکستان میں لکھاریوں کا مرکز بن چکا ہے۔ وہ خود ایک تجربہ کار ادیب اور منتظم ہیں، جن کے دل میں ادیبوں کے احترام اور ان کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے،ایم ایم علی نے اپووا کی بنیاد ایک وژن کے تحت رکھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کے بیشتر لکھاری تنہائی کا شکار ہیں، انہیں نہ تو پذیرائی ملتی ہے، نہ پلیٹ فارم اور نہ ہی کوئی منظم ادارہ، اس احساس نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ایک ایسا ادارہ قائم کریں جو ان تمام محرومیوں کا ازالہ کر سکے۔آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد ایسے وقت میں رکھی گئی جب ادبی تنظیمیں محض مخصوص طبقات تک محدود تھیں۔ اپووا نے اس روایت کو توڑا اور ملک گیر سطح پر ادیبوں کو یکجا کیا۔

    اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے جب یہ پودا لگایا تو شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہ تناور درخت بن کر پورے پاکستان کے ادیبوں، شاعروں اور لکھنے والوں کے لیے سایہ دار پناہ گاہ بن جائے گا۔ ایم ایم علی نے نہ صرف ایک تنظیم کی بنیاد رکھی بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جو آج ملک بھر کے ادیبوں کی آواز بن چکا ہے۔اپووا محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک ادبی تحریک ہے۔ اس تنظیم کا مقصد صرف تقریبات منعقد کرنا نہیں بلکہ لکھاریوں کو وہ مقام دینا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپووا نے نہایت فعال کردار ادا کیا ہے۔ اپووا نے ملک کے مختلف شہروں میں درجنوں تقریبات کا انعقاد کیا، جن میں مشاعرے، نثری نشستیں، اور کتابوں کی رونمائی شامل ہے۔قابلِ قدر لکھاریوں اور شاعروں کو ایوارڈز سے نوازا گیا تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔اپووا کی کاوشوں سے ادیبوں کو ملک کی نامور شخصیات سے ملنے کا موقع ملا، جس سے ان کے ادبی سفر کو نئی جہت ملی۔اپووا نے نئے لکھنے والوں کے لیے تربیتی سیشنز اور رہنمائی کا اہتمام کیا تاکہ ادب کی نئی نسل آگے بڑھے۔


    اپووا کا دائرہ کار اب صرف ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں رہا۔ یہ تنظیم آج پاکستان کے تمام صوبوں میں اپنے نمائندے اور اراکین رکھتی ہے۔ اس کا نیٹ ورک ہزاروں لکھنے والوں پر مشتمل ہے جو مختلف زبانوں اور اصناف میں کام کر رہے ہیں۔اپووا نے جہاں ایک منظم ادبی پلیٹ فارم فراہم کیا، وہیں اس نے قومی سطح پر اپنی پہچان بھی بنائی۔ پاکستان کے ادبی حلقے اب اپووا کو ایک معتبر اور فعال تنظیم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ایم ایم علی کی انتھک محنت، خلوص، اور وژن کی بدولت اپووا آج ادب کے افق پر ایک روشن ستارہ ہے۔آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت نیک ہو اور منزل کا تعین واضح ہو تو کامیابی قدم چومتی ہے۔

    ضلع چکوال کے شہر بلکسر کے باسی ایم ایم علی کی قیادت میں اپووا نے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی ہیں۔ ادب سے محبت رکھنے والا ہر فرد اپووا کو ایک ادبی انقلاب کے طور پر دیکھتا ہے، اور اس انقلاب کا علمبردار ہے ایم ایم علی۔

    apwwa

  • ہماری دل جوئی کرنے والے دنیا سے چلے گئے

    ہماری دل جوئی کرنے والے دنیا سے چلے گئے

    ہماری دل جوئی کرنے والے دنیا سے چلے گئے
    تحریر: قاری عبدالرحیم کلیم
    ایک دن سعودی عرب کے شہر ریاض میں دارالسلام کا سالانہ جلسہ تھا۔ اس کے مہمان خصوصی علامہ پروفیسر حافظ ساجد میر صاحب تھے۔ ان کے ہمراہ ڈاکٹر لقمان، مفسر قرآن رحمہ اللہ، عبدالمالک مجاہد، اور مولانا صفی الرحمن مبارک پوری سٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ میر صاحب جیسے ہی آئے، عوام کی کرسیوں میں مجھے دیکھا اور کہنے لگے، "میں بھول رہا ہوں یا یہ قاری عبدالرحیم کلیم، ہماری جماعت کے خطیب ہیں؟” انہوں نے اس انداز میں بات کی کہ مولانا عبدالمالک مجاہد صاحب نے اپنے ساتھیوں سے کہا، "قاری صاحب کو سٹیج پر لے آؤ۔” میر صاحب کے بیان کے بعد میرا بیان کرایا گیا اور انہوں نے مجھے اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا۔ خیر و خیریت رہی۔

    اسی طرح جماعت کے تنظیمی دورہ جات میں ڈاکٹر علی محمد ابو تراب، قائم مقام امیر مرکزیہ پاکستان نے بلوچستان کے دورے کی جماعت کو دعوت دی۔ اس میں میر صاحب کی قیادت میں بندہ ناچیز مکران، خاران، پنجگور اور کراچی کے کئی دنوں کے تنظیمی دورے پر علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب کے ساتھ رہا۔ وہ عظیم انسان تھے، اکثر قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کا میرے ساتھ پیار اس وقت سے تھا جب علامہ صاحب 35 نمبر کوٹھی اچھرا لاہور میں تھے اور ہم ان کی تنظیم میں ورکر، کارکن اور یوتھ فورس کے رکن تھے۔ اس وقت سے میر صاحب کے ساتھ تعلق بنا۔

    وہ بھی کیا وقت تھا جب جماعت کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔ استاد محترم قاری عبدالوکیل صدیقی، علامہ پروفیسر ساجد میر، علامہ خالد محمود ندیم ملتان، عوامی سواریوں میں مرکز التوحید کے سالانہ اجتماع میں تشریف لاتے تھے۔ اس کے بعد دو مرتبہ ڈیرہ غازی خان ایئرپورٹ پر بھرپور استقبال ہوتا رہا۔ تنظیمی وسعت اور تنظیم ہمارے علاقے کی جماعت میں اس وقت آئی جب ملتان میں آل پاکستان کانفرنس کرائی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم صاحب نے 100 بسوں کا قافلہ ڈیرہ غازی خان سے اپنے خرچے پر ملتان روانہ کیا۔ اس کی سواریاں ہم جیسے کارکن بسیں بھرنے میں مصروف تھے۔ الحمدللہ! پوری کامیابی سے ایک سو بسوں کا قافلہ ہم لے گئے۔ اس کے بعد میاں جمیل صاحب اور میر صاحب بہت خوش ہوئے۔ حافظ عبدالکریم صاحب اور فضیلہ شیخ محمد شریف خان کو جماعت میں دعوت دی گئی۔

    الحمدللہ، آج ڈیرہ غازی خان ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں مرکزی جمعیت ایک قوت، ایک تحریک اور پیغام ٹی وی کی صورت میں ایک بلند آواز ہےحق کی آواز۔ اللہ ہمارے امیر محترم علامہ پروفیسر ساجد میر جو پوری امت کے لیڈر تھے، مدبر، زیرک، شہادتوں کے بعد معاملہ فہم، کثیر الوقت، جماعت کو سنبھالا۔ دور دور تک ان جیسا بندہ نظر نہیں آتا۔ اللہ پوری جماعت کو اور خاص کر لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہماری جماعت کو نعم البدل عطا فرمائے۔ اللہ ہمارے قائدین کی کوششوں، کاوشوں، محنتوں اور محبتوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین

  • دفاع، عزم اور طاقت کا نشان، پاکستان

    دفاع، عزم اور طاقت کا نشان، پاکستان

    دفاع، عزم اور طاقت کا نشان، پاکستان
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    جب بات پاک وطن کی ہو تو سینوں میں جذبہ اور آنکھوں میں عزم جاگ اٹھتا ہے۔ پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جو نہ صرف اپنی جغرافیائی خوبصورتی کے باعث منفرد مقام رکھتی ہے بلکہ اپنی ناقابلِ تسخیر دفاعی صلاحیت اور قوم کے پختہ عزم کی بدولت بھی دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔ اگر پاکستان کی افواج جدید اسلحے سے لیس نہ ہوتیں، ہمارا ایٹمی پروگرام عالمی دباؤ کے آگے جھک گیا ہوتا اور قیادت و عوام میں اتحاد کا فقدان ہوتا تو دشمن کب کا شب خون مار چکا ہوتا۔ لیکن پاکستان ایک زندہ، بیدار اور باشعور قوم کا ملک ہے جو اپنے دفاع کے لیے ہر لمحہ چوکنا اور ہمہ وقت تیار ہے۔

    پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنے فضائی دفاع کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں ان میں سب سے اہم پیش رفت چین سے حاصل کیے گئے جدید J-10C فائٹر جیٹس کی شمولیت ہے۔ یہ فورتھ جنریشن پلس طیارے نہ صرف رفتار، فضا میں چستی اور ریڈار سے بچاؤ کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ یہ جدید ترین PL-15 اور PL-10 میزائلوں سے بھی لیس ہیں جو 220 کلومیٹر تک فضائی اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    J-10C طیارے پاکستان کی فضائیہ کے لیے گیم چینجر ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کی موجودگی دشمن کی کسی بھی فضائی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط دفاعی حصار ہے۔ بھارت کی فضائی برتری کے خواب اب چکنا چور ہو چکے ہیں کیونکہ پاکستان کے پاس نہ صرف JF-17 تھنڈر جیسے اپنے تیارکردہ طیارے ہیں بلکہ چین کی طرف سے جدید جے-10 سی جیسے لڑاکا طیارے بھی مل چکے ہیں جو ہر محاذ پر دشمن کا سامنا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

    ابھی حالیہ دنوں میں پاکستان نے ’’ابدالی میزائل‘‘ کا کامیاب تجربہ کر کے دنیا کو ایک بار پھر خبردار کر دیا کہ ہم امن ضرور چاہتے ہیں لیکن کمزور ہرگز نہیں ہیں۔ یہ میزائل صرف ایک ہتھیار نہیں بلکہ اُس قوم کے عزم، استقلال اور خودی کا استعارہ ہے جو دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا ہنر جانتی ہے۔

    بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کا جھوٹا الزام ہو، سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکیاں ہوں یا ویزے منسوخ کرنے جیسی حرکات ، یہ سب دراصل اُس خوف اور بوکھلاہٹ کا اظہار ہے جو پاکستان کی دفاعی تیاریوں اور قومی اتحاد کو دیکھ کر دشمن کے دل میں بیٹھ چکا ہے۔

    ادھر سمندر میں ہماری بے خوف بحریہ ہے جو بحر ہند کی بے رحم موجوں میں سینہ تان کر کھڑی ہے، خلیج کی ہر نبض پر اس کی نظریں ہیں اور دشمن کے ہر ممکنہ اقدام پر اس کی گرفت ہے۔ یہ ہماری مستعد انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں جو دشمن کی سازشوں کو اس سے پہلے ہی دفن کر دیتی ہیں کہ وہ پروان چڑھ سکیں۔ اور یہ ہماری شاہین صفت فضائیہ ہے جو J-10C جیسے جدید ترین لڑاکا طیاروں، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور ہدف شکن میزائلوں سے لیس ہو کر دشمن کی فضا میں پرواز کے خواب کو بھی خاک میں ملا دیتی ہے۔ یہ صرف دفاعی ادارے نہیں بلکہ پاکستان کے غیرت مند وجود کا ناقابلِ تسخیر حصار ہیں۔

    اگر پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو دشمن کب کا اپنے ناپاک عزائم پر عمل کر چکا ہوتا لیکن پاکستان کی طاقت صرف ایٹمی ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ایک مضبوط نظریے، عزم اور خودداری میں چھپی ہوئی ہے جو دشمن کی ہر چال کو ناکام بنا دیتی ہے۔ ہمیں اپنی عسکری قیادت، سائنسدانوں اور ہر اُس شخص پر فخر ہے جس نے ہمارے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔آج جب دنیا پاکستان اور بھارت جیسے دو ایٹمی ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، ایسے میں پاکستان نہ صرف اپنی خودمختاری پر قائم ہے بلکہ سفارتی محاذ پر دشمن کو مؤثر انداز میں بے نقاب بھی کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مؤقف، قومی سلامتی کمیٹی کے جرات مندانہ فیصلے اور اندرونی اتحاد نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک باوقار، مضبوط اور زندہ قوم کا ملک ہے جو اپنی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے۔

    سچ یہی ہے کہ پاکستان کا دفاع صرف افواجِ پاکستان کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ قومی فریضہ ہے۔ دشمن آج صرف ہماری سرحدوں پر نہیں بلکہ ہماری سوچ، ہمارے میڈیا، تعلیمی نظام اور معیشت کو نشانہ بنا کر ہمیں اندر سے کمزور کرنے اور ہمارے اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ ایسے نازک وقت میں ہر محبِ وطن پاکستانی پر لازم ہے کہ وہ ہوشیاری، شعور، اتحاد اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرے، دشمن کی چالوں پر گہری نظر رکھے اور کسی منفی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اداروں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ، کندھے سے کندھا ملا کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں۔

    آئیے! ہم سب متحد و یکجان ہو کر یہ عہد کریں کہ پاکستان نہ کبھی ماضی میں کسی کے سامنے جھکا، نہ آج جھکا ہے اور نہ آئندہ کبھی جھکے گا۔ یہی ہمارا عزم ہے، یہی ہماری پہچان ہے، یہی ہمارا فخر ہےاور یہی ہمارا پاکستان ہے۔

    پاکستان زندہ باد!
    افواجِ پاکستان پائندہ باد!

  • ابدالی میزائل: پاکستان کی خودداری، سائنسی برتری اور دفاعی عزم کا استعارہ

    ابدالی میزائل: پاکستان کی خودداری، سائنسی برتری اور دفاعی عزم کا استعارہ

    ابدالی میزائل: پاکستان کی خودداری، سائنسی برتری اور دفاعی عزم کا استعارہ
    تحریر: سیدریاض جاذب

    ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کی زندہ و پائندہ قوم کا ایک واضح دفاعی پیغام ہے۔ جب دشمن جارحیت پر اتر آئے اور سازشوں کا جال بُننے لگے، تب پاکستان خاموش نہیں رہتا بلکہ اپنے عزم، اتحاد اور ہتھیاروں کی طاقت سے جواب دیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے دنیا کو بتا دیا کہ ہم امن کے خواہاں ہیں لیکن کمزور ہرگز نہیں۔

    450 کلومیٹر کی رینج کے حامل اس جدید میزائل نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔ یہ نہ صرف ایک عسکری کامیابی ہے بلکہ دشمن عناصر کے لیے ایک ناقابلِ تسخیر پیغام بھی ہے جو پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابدالی میزائل صرف ایک ہتھیار نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے عزم، خودداری اور نظریاتی قوت کا عکاس ہے۔

    بھارت کی جانب سے ایک بار پھر جھوٹے الزامات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلگام حملے کا بے بنیاد الزام، سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی اور پاکستانیوں کے ویزوں کی منسوخی اس بوکھلائے ہوئے دشمن کی ناکام چالیں ہیں۔ بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پانی کی بندش کو پاکستان جنگ کے مترادف سمجھے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کے خلاف جارحیت کی گئی، اس نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔

    پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے جرات مندانہ فیصلوں کے ذریعے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے۔ سفارتی محاذ پر جوابی حکمت عملی نے بھارت کو مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے پُرزور مؤقف نے ایک خوددار ریاست کے وقار کو اجاگر کیا۔ دنیا کو اس کشیدگی پر تشویش ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تناؤ کسی بڑے المیے کا سبب نہ بن جائے، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی بدستور جاری ہے۔

    ہمیں اپنی افواج، سائنسدانوں اور قیادت پر فخر ہے۔ ابدالی میزائل صرف ایک ہتھیار نہیں، بلکہ ہماری خودی، غیرت اور آزادی کا محافظ ہے۔ یہ تجربہ قوم کے ہر فرد کی جیت ہے۔ یہ پیغام ان سب کے لیے ہے جو پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستان جاگ رہا ہے۔ پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دشمن کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ پاکستان متحد، مستحکم اور اپنے دفاع کے لیے ہر دم تیار ہے۔ آئیے، متحد ہو کر دنیا کو دکھائیں کہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا کیونکہ پاکستان کا مطلب ہے… لا إله إلا الله!

    پاکستان زندہ باد!
    افواجِ پاکستان پائندہ باد!

  • صحافت واقعی آزاد ہے؟ تحریر:نور فاطمہ

    صحافت واقعی آزاد ہے؟ تحریر:نور فاطمہ

    آزادی صحافت کا عالمی دن ہر سال 3 مئی کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں صحافیوں کے حقوق کی حفاظت اور صحافت کی آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوامی معلومات تک رسائی کی اہمیت کو سمجھانا اور صحافیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، تاکہ وہ بلا خوف و خطر سچائی کا پتہ چلا سکیں اور آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔

    آزادی صحافت کی اہمیت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا ہے کیونکہ یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ صحافت، جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف حکومتوں کی نگرانی کرتا ہے بلکہ عوام کو معلومات فراہم کرتا ہے اور معاشرتی تبدیلیوں کو سامنے لاتا ہے۔ آزادی صحافت کا عالمی دن ہر سال اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا میں مختلف جگہوں پر صحافیوں کو خطرات، ہراسانی اور تشویش کا سامنا ہے۔یہ دن اقوام متحدہ کے تحت منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد صحافت کے لئے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دینا ہے تاکہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو آزادانہ طور پر پورا کر سکیں۔

    پاکستان میں صحافت کی آزادی ایک پیچیدہ اور مشکل سفر رہا ہے۔ پاکستان میں آزادی صحافت کے لئے ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اگرچہ آئین میں صحافت کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، مگر حقیقت میں صحافیوں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان میں صحافیوں کو سیاسی دباؤ، معاشی مشکلات، اور بعض اوقات تشویش یا تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر وہ صحافی جو سچائی بیان کرتے ہیں، انہیں دھمکیاں، تشدد، یاپھر جان بھی لے لی جاتی ہے،

    صحافیوں نے ہمیشہ عوامی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا ہے۔ پاکستان کے اندر ہونے والی سیاسی کشمکش، اور دیگر مسائل پر صحافیوں کا کردار اہم رہا ہے۔ تاہم، انہیں مسلسل خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے، جس میں خود مختاری کی کمی، معلومات کی آزادی پر قدغن، اور میڈیا کی آزادی کو دبانے کی کوششیں شامل ہیں،صحافیوں کو پاکستان میں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے، اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ صحافیوں کو بروقت تنخواہیں بھی دیں، سب کی خبر دینے والے صحافی اپنی تنخواہ نہ ملنے کی خبر کسی کو نہیں دے سکتے، صحافیوں کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ ان کا معاشی استحصال نہ کیا جائے،

    دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک اہم موقع ہے۔ کئی ممالک میں صحافیوں کے لئے حالات بہتر ہو رہے ہیں، لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ عالمی سطح پر حکومتوں کو اس بات کا پابند بنایا جانا چاہیے کہ وہ صحافیوں کی آزادی کی حفاظت کریں اور صحافتی اداروں کو اپنا کام آزادانہ طور پر کرنے کی اجازت دیں۔دنیا کے مختلف حصوں میں، خاص طور پر وہ ممالک جہاں آزادی صحافت محدود ہے، صحافیوں کی جدوجہد اور قربانیاں کسی نہ کسی طریقے سے جمہوریت کے استحکام کی طرف ایک قدم ہیں۔ صحافیوں کو حقائق کی تلاش اور معلومات کی ترسیل میں آزاد ہونے کا حق حاصل ہونا چاہئے تاکہ وہ عوام کو صحیح اور غیر متنازعہ معلومات فراہم کر سکیں۔

    آزادی صحافت کا عالمی دن ایک یاد دہانی ہے کہ صحافت ایک طاقتور ہتھیار ہے جس کا مقصد معاشرتی تبدیلی، انصاف اور سچائی کی تلاش ہے۔ پاکستان میں صحافت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ صحافی بغیر کسی خوف کے اپنے فرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا کر سکیں۔ یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ صحافت کی آزادی نہ صرف صحافیوں کے حقوق کا مسئلہ ہے بلکہ یہ جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کی بنیادی حقوق کی ضمانت ہے۔

  • ” غلامی سے غلامی تک ". تحریر :عائشہ اسحاق

    ” غلامی سے غلامی تک ". تحریر :عائشہ اسحاق

    ہمارے آباؤ اجداد نے گوروں سے آزادی کی خاطر کون سی ایسی قربانی ہے جو نہ دی ہو اس داستان کو اگر تفصیل میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو نہ جانے کتنے صفحات لکھنے کے بعد بھی مکمل بیان کرنا مشکل ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ سینکڑوں قربانیاں دینے ،اذیتیں اور درد اٹھانے کے بعد حاصل ہونے والی آزادی میں کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ پاکستان کی موجودہ صورتحال دیکھنے کے بعد تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا سفر محض غلامی سے غلامی تک کا ہی ہے۔ 1947 میں جو آزادی انگریز راج سے حاصل کی گئی تھی وہ اب ان کے پیروکاروں کی غلامی میں بدل چکی ہے۔ تاریخ کس طرح سے اپنا دہرا رہی ہے اس کا اندازہ قیام پاکستان سے پہلے جلیانوالہ باغ امرتسر پنجاب میں ہونے والے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہوا کچھ اس طرح سے تھا کہ اپریل 1919 کو جلیانوالہ باغ امرتسر میں سکھوں کا مذہبی تہوار بیساکھی منانے اور حصول آزادی کی خاطر جلسہ منعقد کیا گیا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس وقت برٹش آرمی کے موجودہ جنرل ڈائر نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ان پر گولیاں برسانے کا حکم دیا۔ جنرل ڈائر کے حکم پر پر تا بڑ توڑ گولیاں برسائی گئیں اور ایک ہجوم کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ہر وہ آواز دبا دی گئی جو اس ظلم کے خلاف اٹھی لوگوں کی عزتیں اتارنا شروع کر دی گئیں ایسا خوف و ہراس پھیلایا گیا اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ایسی سفا کانہ سزائیں دی گئیں جن کا الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

    انگریز بھی بات تو برابری کی ہی کرتا تھا مگر جب بھی کوئی حقوق کے حصول کے لیے آواز اٹھاتا تو جوابی رد عمل انتہائی سنگین ہوتا پاکستان میں بھی اس وقت کوئی انسانی حقوق کسی کو حاصل نہیں ہے ذرا سی تنقید برداشت نہیں ہوتی، اسلامی جمہوریہ پاکستان جہاں عوام کی رائے کا احترام کرنا تو دور کی بات ہے بولنے پر بھی پابندی ہے۔ آوازیں دبا دی جاتی ہیں،
    ہمارا عروج یہ تھا کہ خلیفہ وقت سے بھی سوال ہوا تھا کہ اضافی چادر کہاں سے آئی؟
    زوال یہ ہے کہ سوال اٹھاؤ گے تو اٹھا لیے جاؤ گے۔
    اس ظلم و جبر کے تانے بانے آج بھی انگریز راج سے جڑے ہوئے ہیں۔ نظام تعلیم پر اگر نظر ڈالیں تو پاکستانی نظام تعلیم آج بھی برٹش ایجوکیشن ایکٹ 1835 کو فالو کر رہی ہے۔ جہاں نمبرز کو اہمیت دی جاتی تھی اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپ اپنی قابلیت سے ٹاپ کر رہے ہیں یا رٹا لگا کر کرتے ہیں۔ یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے یونیورسٹیز اور کالجز کے سٹوڈنٹس کو کنسپٹ سمجھنے کے لیے گھر جا کر یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھنا پڑتی ہیں جہاں یہ سٹوڈنٹس اپنا کنسپٹ کلیئر کر رہے ہوتے ہیں وہ تمام تر ویڈیوز 90 فیصد انڈین کی ہوتی ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم بزنس اورینٹ تو دور جاب اورینٹ بھی نہیں ہے کیونکہ یونیورسٹیز اور کالجز میں کوئی ٹیکنیکل یا پریکٹیکل نالج نہیں دی جاتی ہے ۔ ٹیکنیکل نالج کے لیے سٹوڈنٹس کو یا تو کوئی تین چار مہینے کا کورس کرنا پڑتا ہے یا ان پیڈ انٹر ن شپ کرنی پڑتی ہے۔ اس کے برعکس تمام کامیاب ممالک میں جدید طرز سے سٹوڈنٹس کو پریکٹیکل اور ٹیکنیکل طریقہ کار سے تعلیم دی جا رہی ہے۔ مگر ہمارے نوجوان اسٹوڈنٹس آج بھی برٹش ایجوکیشن ایکٹ 1835 میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سب کے علاوہ وہی پرانا ڈبل سٹینڈرڈ طرز زندگی جس طرح انگریز پر آسائش زندگی گزارا کرتے اور باقی عام عوام نہایت پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے آج بھی پوش علاقوں میں جا کر دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی یورپی ملک میں آگئے ہوں،دوسری طرف عام عوام کے علاقے دیکھ لیں جہاں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، جگہ جگہ کھڈ ے، تنگ گلیاں ان میں ابلتے ہوئے گٹر چھوٹے چھوٹے گھر بنیادی سہولیات سے محروم غریب عوام کی پسماندگی کو چیخ چیخ کر ظاہر کرتے ہیں۔ پوش علاقوں میں اور پسماندہ علاقوں میں زمین آسمان کا فرق ایک غیر منصفانہ نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں مخصوص طبقہ عوام کے تمام تر حقوق اور وسائل پر قابض ہے۔ جن کی نظر میں انگریزوں کی طرح پاکستانی محض غلاموں سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1947 میں حاصل کی گئی آزادی کے بعد بھی عام عوام آزادی کا اصل مزہ لینے سے محروم ہے اور آزادی کس چڑیا کا نام ہے اس بات سے مکمل طور پر لا علم ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہ تو جمہوریت ہے نہ اسلامی قوانین کی کوئی پاسداری ہے۔ ایک غیر منصفانہ جبری نظام رائج ہے۔ اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ ایک بار پھر عوام کو متحد ہو کر اپنے حقوق چھیننا ہوں گے اور اصل آزادی حاصل کرنا پڑے گی جس کے لیے عوام کا ایک ہونا بہت ضروری ہے۔ یاد رکھیں قران پاک میں اللہ تعالی نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ انسان کو وہی حاصل ہوتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے اگر اپ عوام اپنی آزادی کے لیے اپنے حقوق کے لیے کوشش نہیں کریں گے تو کوئی آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ جو کرنا ہے آپ نے خود کرنا ہے یہی سبق ایک معروف شاعر کے اس شعر سے بھی ملتا ہے۔
    جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
    اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو
    ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے
    مٹ جاؤ یا قصر پامال کرو
    ( حبیب جالب)۔