Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    تفصیلات کے پنجاب بھر کی طرح ڈیرہ غازیخان میں بھی گرمی کی شدید لہر کے باوجود درجنوں پرائیویٹ اور پیف سکولز حکومتی احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے آج بھی کلاسز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وزیر تعلیم پنجاب کی جانب سے 20 مئی 2025 کو صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں 28 مئی سے موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا مگر متعدد نجی سکول مالکان نے اس نوٹیفکیشن کو نظرانداز کر کے تدریسی عمل جاری رکھا ہے۔

    شدید گرمی کے دوران ان سکولوں میں صبح 6:30 سے 10:00 بجے تک تدریسی سرگرمیاں جاری ہیں، جنہیں والدین نے "تندور جیسے کلاس رومز” قرار دیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ سکولوں میں نہ پنکھے چل رہے ہیں، نہ ہوا کا گزر ہے اور نہ ہی پینے کے ٹھنڈے پانی کی مناسب سہولیات موجود ہیں۔ ایسے میں بچوں کو پڑھنے پر مجبور کرنا کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    صوبہ پنجاب خاص طور ڈرہ غازیخان میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہےجو کہ 50 ڈگری تک محسوس کیا جارہا ہے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے ہیٹ ویو کی وارننگ جاری ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر وزیر تعلیم پنجاب نے 28 مئی سے سکولوں اور کالجوں میں تعطیلات کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بیشتر نجی سکولز مالکان نے اس فیصلے کو ہوا میں اڑا دیا۔ بچوں کو سکول بلانے کا مقصد صرف فیسیں وصول کرنا اور بزنس کو برقرار رکھنا بتایا جا رہا ہے۔

    والدین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ سمیت مختلف شہروں میں والدین نے سکولز کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے اور پرائیویٹ سکولز مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایک والد حبیب خان نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں مجبوراً بچوں کو بھیجنا پڑ رہا ہے کیونکہ فیسیں لی جا رہی ہیں اور غیر حاضری پر جرمانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سوال یہ کہ کیا حکومت صرف نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے ہے؟”

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب کالجز جن میں نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں 15 اگست تک بند کیے جا چکے ہیں تو پھر نازک عمر کے بچوں کے سکولز کھلے رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت کی خاموشی اور اداروں کی بے حسی نے والدین کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سکولز (سرکاری و نجی) 28 مئی سے بند ہوں گے اور 15 اگست 2025 کو دوبارہ کھلیں گے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ جو سکولز حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ سکولز کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے، بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور بچوں کی صحت سے کھیلنے والے اداروں کو نشان عبرت بنایا جائے۔

    والدین کا سوال واضح ہےکہ کیا حکومت اپنی رٹ بحال کر پائے گی یا یہ خاموشی پرائیویٹ سکولز مافیا کے لیے کھلی چھوٹ ثابت ہو گی؟

  • خلیج بنگال سے ہوتا ہوا اکھنڈ بھارت کا خواب، چاغی میں دفن

    خلیج بنگال سے ہوتا ہوا اکھنڈ بھارت کا خواب، چاغی میں دفن

    خلیج بنگال سے ہوتا ہوا اکھنڈ بھارت کا خواب، چاغی میں دفن
    تحریر: حاجی محمد اکرم آرائیں، واربرٹن
    1947 میں دو قومی نظریے کو جھٹلانے کا خواب لیے خلیج بنگال سے ابھرنے والا اکھنڈ بھارت کا فریب، بالآخر 1998 میں چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔

    قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہندو سامراج نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستان پر چار جنگیں مسلط کیں۔ 1948ء کی جنگ میں یہ خود اقوامِ متحدہ گیا، جہاں موجودہ آزاد کشمیر کو استصواب رائے کا حق تسلیم کیا، مگر بعد میں مُکر گیا۔ 1965ء کی جنگ میں ناکامی کے بعد روس میں شملہ معاہدہ کے تحت جنگی اصولوں سے انحراف کیا۔ 1971ء میں سازش کے ذریعے بنگلہ دیش کو پاکستان سے جدا کروایا اور پھر غرور و تکبر سے اکڑ کر کہا گیاکہ
    "ہم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔”

    مگر 5 اگست 2024ء کو وہی دو قومی نظریہ خلیج بنگال سے اس طاقت سے ابھرا کہ بھارت کو بنگلہ دیش سے دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ اس ساری کشمکش اور ہٹ دھرمی سے خطہ ہمیشہ تناؤ اور جنگوں کا شکار رہا۔

    13 مئی 1998ء کو بھارت نے 5 ایٹمی دھماکے کر دیے اور برملا اعلان کیا کہ وہ آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے جارہا ہے اوربرصغیر کا تھانیدار بننے کی کوشش کی۔ اکھنڈ بھارت کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نہ صرف جشن منایا گیا بلکہ عالمی طاقتوں کی خاموشی نے اسے شہ دی۔نہ اقوامِ متحدہ نے کوئی مذمت کی، نہ کسی بڑی ایٹمی طاقت نے کوئی نوٹس لیا۔

    لیکن پاکستان کی باہمت قیادت، خصوصاً وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف، صدر محمد رفیق تارڑ، آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر سائنس دانوں نے سر جوڑ لیے۔ پاکستان پہلے ہی ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا تھا، فیصلہ صرف اعلانِ جُرأت کا تھا۔

    جب دنیا نے ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کے لیے ڈالروں کی لالچ دی اور پھر دھمکیاں دیں، تو یہ لمحہِ آزمائش تھا۔ تب مجید نظامی مرحوم نے تاریخی جملے کہے:
    "میاں صاحب، ایٹمی دھماکہ کر دو ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی!”
    یہ بات دل میں لگی، حوصلہ بڑھا اور یوں 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے چاغی پہاڑ پر پاکستان نے 6 ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کے 5 دھماکوں کا جواب دے دیا۔

    چاغی کا پہاڑ زرد ہو گیا، پورا ملک "اللہ اکبر” کے نعروں سے گونج اُٹھا، پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک بن گیا۔ بھارت کا اکھنڈ بھارت کا خواب چاغی میں دفن ہو گیا۔

    پھر 7 مئی 2025ء کی رات بھارت نے دوبارہ حملہ کیالیکن اس بار پاک فوج اور فضائیہ نے بھارت کی غرور و تکبر بھری یلغار کو خاک میں ملا دیا۔ چند گھنٹوں میں پاکستان کے شاہینوں نے رافیل طیارے مار گرائے، اڈے تباہ کیے، اوڑی، اودھم پور، پٹھانکوٹ سمیت بجلی کی 70 فیصد سپلائی ختم کر دی۔

    بھارت نے گھٹنے ٹیک دیے، چوکیوں پر سفید پرچم لہرا دیے اور امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی کا اعلان ہوا۔

    اس فتح کے پیچھے پوری قوم کا اتحاد، سوشل میڈیا کی جنگی حکمت عملی، پاکستانی میڈیا کا جرأت مندانہ کردار اور سفارتی محاذ پر کامیابی شامل تھی۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں تینوں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ حکمت عملی نے نہ صرف دشمن کو حیران کیا بلکہ عالمی تجزیہ کار بھی دنگ رہ گئے۔

    یہ اسلام اور کفر کی نہ ختم ہونے والی جنگ ہے۔ ہمیں اندرونی سیاسی استحکام، قومی اتحاد اور عسکری دفاع پر مکمل اعتماد رکھنا ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ
    "ہنود، یہود و نصارٰی کبھی اسلام دوست نہیں ہو سکتے!”

    آج 56 اسلامی ممالک منتشر ہیں اور کفار متحد۔ اللہ تعالیٰ فلسطین، کشمیر اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی غیبی مدد فرمائے۔
    پاکستان زندہ باد! پاک فوج پائندہ باد!

  • اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کا قیام

    اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کا قیام

    اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کا قیام
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    اوکاڑہ کے باسیوں کے دلوں پر راج کرنے والے میں برسوں سے ایک خواب پل رہا تھا کہ ان کے شہر میں بھی ایک مکمل میڈیکل کالج ہو، جہاں ان کے بچے میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ آخرکار یہ خواب پورا ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی دلچسپی اور چوہدری ریاض الحق جج ایم این اے اوکاڑہ کی انتھک کاوشوں سے یہ سنگ میل عبور ہوا اور 16 ارب روپے کی خطیر رقم سے اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    یہ محض ایک کالج نہیں بلکہ اوکاڑہ کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ ہے۔ برسوں سے اوکاڑہ کے نوجوان میڈیکل کی تعلیم کے لیے لاہور، فیصل آباد اور ملتان جیسے بڑے شہروں کی خاک چھانتے رہے۔ کئی باصلاحیت طلباء و طالبات محض مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنا خواب پورا نہ کر سکے۔ اب اُن کے خوابوں کو پَر لگ چکے ہیں۔ اپنے ہی شہر میں انہیں وہ تمام جدید تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی جو کسی بڑے شہر کے میڈیکل کالج میں ہوتی ہیں۔

    اس میڈیکل کالج کی تعمیر کے ساتھ ایک مکمل تدریسی ہسپتال بھی قائم ہوگا جو جدید مشینری، تجربہ کار ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف سے مزین ہوگا۔ اس اسپتال سے نہ صرف اوکاڑہ بلکہ گرد و نواح کے لاکھوں افراد مستفید ہوں گے۔ جہاں پہلے معمولی امراض کے علاج کے لیے بھی مریضوں کو لاہور لے جایا جاتا تھا، اب انہی بیماریوں کا علاج اپنے شہر میں میسر ہوگا۔

    یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ اس خواب کو حقیقت بنانے میں چوہدری ریاض الحق جج کا کردار کلیدی رہا۔ انہوں نے ہر فورم پر اوکاڑہ کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے میڈیکل کالج کے قیام کی آواز بلند کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں حکومت نے اس وعدے کو عملی جامہ پہنایا اور عوام کے دل جیت لیے۔

    16 ارب روپے کی اس سرمایہ کاری سے نہ صرف تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلاب آئے گا بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، کاروباری سرگرمیوں میں وسعت آئے گی اور اوکاڑہ ایک تعلیمی و طبی مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔

    آج اوکاڑہ کے نوجوانوں کے چہروں پر خوشی کی چمک ہے، والدین کے دلوں میں اطمینان ہے اور شہر کے باسیوں میں ایک نئی امید جاگ چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور چوہدری ریاض الحق جج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور قیادت مخلص ہو تو خواب شرمندہ تعبیر ہو جاتے ہیں۔

    یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے اپنا بچپن یاد آ رہا ہے جب میڈیکل کے خواب دیکھنے والے کئی ہونہار بچے محض سہولیات کی کمی کی وجہ سے اپنا راستہ بدلنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ آج کا اوکاڑہ اُن کے خوابوں کی تعبیر بن چکا ہے۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس منصوبے کی حفاظت کریں، اسے سیاست کی نذر نہ ہونے دیں اور اپنے بچوں کا مستقبل روشن بنائیں۔

    مگر اس موقع پر مرحوم راؤ سکندر اقبال سابقہ وزیر دفاع کا ذکر نہ کرنا اور ان کو اوکاڑہ کی ترقی کے حوالہ سے خراج تحسین پیش نہ کرنا سب سے بڑی زیادتی ہوگی۔ راؤ سکندر اقبال مرحوم کی خدمات اوکاڑہ کا ایک سنہری باب ہیں جن کی انتھک کوششوں سے اوکاڑہ کو چار چاند لگے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، آمین۔

  • ایران کے بعد پاکستان؟ اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف

    ایران کے بعد پاکستان؟ اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف

    ایران کے بعد پاکستان؟ اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    پاکستان کی سینیٹ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی حالیہ تقریر نے ایک بار پھر پاکستان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے تاریخی بیانیے کو زندہ کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا حوالہ دیا، جس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 2011 میں کہا تھا کہ "ایران کے بعد پاکستان ہماری نظر میں ہوگا۔” یہ بیان اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان کی جوہری طاقت اسرائیل کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والا وہ اقتباس ہے جو اسرائیل کے بانی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے دیا تھا جو مبینہ طور پر 1967 میں The Jewish Chronicle (UK) میں شائع ہوا تھاکہ "عرب ہمارے دشمن نہیں ہیں کیونکہ ہم ان کو جانتے ہیں اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی ہمارے پاس ہے۔ ہمارا اصل دشمن پاکستان ہے کیونکہ پاکستان اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔” موجودہ ایران اسرائیل کشیدگی اور پاک بھارت تنازعات میں اسرائیلی کردار نے اس دشمنی کو نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

    1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اس کے عرب ممالک کے ساتھ تنازعات عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ تاہم پاکستان کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کبھی سفارتی سطح پر استوار نہ ہوئے۔ پاکستان نے فلسطینی کاز کی غیر متزلزل حمایت کی اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے پلیٹ فارم سے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں جب اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کے خلاف فتح حاصل کی تو پاکستان نے براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا لیکن سفارتی طور پر عرب ممالک کی بھرپور حمایت کی۔ صدر ایوب خان کی قیادت میں پاکستان نے OIC کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا جو عرب اسرائیل تنازعے کے تناظر میں اسلامی ممالک کے اتحاد کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بنا۔

    1973 کی عرب اسرائیل جنگ نے اس اتحاد کو مزید مستحکم کیا۔ OPEC کے رکن ممالک خاص طور پر سعودی عرب نے اسرائیل کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کے خلاف تیل کی پابندی عائد کی جسے "تیل کا ہتھیار” کہا گیا۔ اس اقدام نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا اور پاکستان نے اس کی سیاسی حمایت کی، جو اس کے فلسطینی کاز اور اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کے نظریاتی موقف کا عکاس تھا۔ پاکستانی فضائیہ کے افسران نے اردن اور شام میں اسرائیلی طیاروں کے خلاف شجاعت سے لڑائی لڑی، جو پاکستان کی عرب کاز سے وابستگی کا ثبوت ہے۔ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس نے اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اقوامِ متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی وکالت کی۔

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام جو 1974 میں بھارت کے جوہری دھماکے کے بعد تیزی سے ترقی کرتا چلا گیا، نہ صرف بھارت بلکہ اسرائیل کے لیے بھی تشویش کا باعث بنا۔ 1980 کی دہائی میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور بھارتی ایجنسی را (RAW) کے درمیان تعاون کی خبریں سامنے آئیں، جن کا مقصد مبینہ طور پر پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو سبوتاژ کرنا تھا۔ 1984 میں اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے ایک انٹرویو میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو "خطرہ” قرار دیا اور 1998 میں جب پاکستان نے ایٹمی تجربات کیے تو یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے۔ بھارتی صحافیوں اور مغربی مبصرین نے "Project Blue Star II” نامی ایک مبینہ منصوبے کی تفصیلات شائع کیں، جس کے تحت را اور موساد نے پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔پاکستان کی چوکس ہونے کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہوا، لیکن اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اسرائیل پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے کتناخوفزہ اور مخالف ہے.

    حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران اسرائیل کھل کرپاکستان دشمنی میں سامنےآیا۔ مئی 2025 میں بھارت نے اسرائیلی ساختہ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کیے، جن میں لاہور، کراچی اور بہاولپور جیسے کئی شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پاکستانی فورسز نے ان حملوں کو ناکام بنایا لیکن اسرائیلی سفیر رووین آزار کی جانب سے بھارت کے "دفاعی حق” کی حمایت نے اس دشمنی کو مزید عیاں کر دیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں را اور موساد ملوث ہیں، جن میں کراچی میں چینی انجینئرز پر حملے اور گوادر میں سرمایہ کاری کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔اس کے علاوہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی تعاون اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ بھارت 2004 سے اسرائیلی فالکن کنٹرول سسٹم سمیت جدید ہتھیار حاصل کر رہا ہے اور اسرائیلی ٹیکنالوجی اب بھارتی عسکری مشن کا اہم جزو بن چکی ہے۔

    موجودہ ایران اسرائیل کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو ایک غیر مستحکم خطے میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور ایران پر حملوں کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔اور رواں ہفتے اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا.جنگ میں تبدیل ہوتا یہ منظر نامہ ،اس کے علاوہ پاکستان جو جغرافیائی طور پر ایران کے قریب ہے، اس سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ ایران کے بعد پاکستان کو اسرائیلی ایجنڈے کا ہدف بنانا، جیسا کہ اسحاق ڈار نے نیتن یاہو کی وائرل ویڈیو کے حوالے سے خبردار کیا، پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اس کی دفاعی حکمت عملی کا مرکزی ستون ہے اور اسے ہدف بنانے کی کوئی بھی کوشش خطے میں ایک بڑے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے۔

    پاکستان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی جڑیں نظریاتی اختلافات، فلسطینی کاز کی حمایت اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیت سے متعلق اسرائیلی خدشات میں پیوست ہیں۔ بن گوریان کا بیان تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور اس دشمنی کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں اسرائیلی ڈرونز اور فوجی تعاون واضح دکھائی دیا، نیز ایران اسرائیل تنازعے کی بڑھتی ہوئی شدت، پاکستان کے لیے نئے چیلنجز پیش کرتی ہے۔

    پاکستان کو اس بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت کی حفاظت شامل ہے بلکہ سفارتی سطح پر OIC اور دیگر عالمی فورمز کے ذریعے اپنے موقف کو مضبوط کرنا بھی ضروری ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے مبینہ گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہوگا اور خطے میں اپنے اتحادیوں، خاص طور پر سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنا ہوگا۔

    ایران کے بعد پاکستان اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف ہو سکتا ہے، جیسا کہ نیتن یاہو کی وائرل ویڈیو اور اسحاق ڈار کے بیان سے عیاں ہے۔ یہ کوئی واہمہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو عشروں سے جاری جغرافیائی سیاسی چالوں اور بین الاقوامی سازشوں سے جڑی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے پاکستان کی جوہری طاقت کو مسلسل خطرہ سمجھا جاتا رہا ہے اور بھارت اس ایجنڈے کا علاقائی شراکت دار بنا ہوا ہے۔ آج جب مشرق وسطیٰ ایک نئی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے تو پاکستان کو اپنی جوہری صلاحیت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو نئے عالمی تناظر میں ترتیب دینا ہوگا۔ یہ "ایشیا پیسیفک کولڈ وار” کا دور ہے، جہاں دشمن نہ صرف سرحدوں پر ہے بلکہ عالمی سازشوں کے جال میں بھی موجود ہے۔ پاکستان کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہوگابلکہ عالمی برادری میں اپنی آواز کو زیادہ موثر انداز میں اٹھانا ہوگا تاکہ وہ اس نظریاتی جنگ میں اپنی بقا اور خودمختاری کو یقینی بنا سکے۔

  • معاشرے میں بداعتمادی کا خاتمہ ضروری

    معاشرے میں بداعتمادی کا خاتمہ ضروری

    ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں خبروں، باتوں اور افواہوں کی رفتار بجلی سے بھی تیز ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا، موبائل ایپلیکیشنز اور دیگر ذرائع کی بدولت ہر شخص کی زندگی دوسروں کے سامنے ایک کھلی کتاب بنتی جا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق سچ مان لیں؟ اور کیا کسی کے بارے میں محض سنی سنائی بات پر تعلقات ختم کر دینا یا ان کی عزت اچھالنا درست ہے؟ہر گز نہیں،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے،”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ”(سورۃ الحجرات، آیت 6)

    یہ آیت ہمیں ایک واضح ہدایت دیتی ہے کہ کسی کی بات پر آنکھ بند کر کے یقین کر لینا دانشمندی نہیں بلکہ جہالت ہے۔ تحقیق کے بغیر کسی پر الزام لگانا، اس کی شخصیت کو بدنام کرنا یا اس سے تعلق ختم کر لینا ایک نہایت غیر اسلامی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔

    ہم اکثر دوسروں کے بارے میں سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر رائے قائم کر لیتے ہیں، چاہے وہ بات جھوٹ ہو یا سچ کا فقط ایک پہلو۔ یہ عمل نہ صرف ہمارے تعلقات کو خراب کرتا ہے بلکہ معاشرے میں بداعتمادی، دوری اور منافقت کو فروغ دیتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا”گمان سے بچو، کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے”(صحیح بخاری)الزام تراشی کا انجام یہ ہوتا ہے کہ سچ سامنے آنے پر انسان شرمندگی کا شکار ہوتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو آخرت میں بھی حساب دینا ہوگا۔

    اسلام کا پیغام یہ ہے کہ اگر ہمیں کسی کی خامی یا کوتاہی معلوم ہو بھی جائے، تب بھی ہمیں اس کا پردہ رکھنا چاہئے، نہ کہ دوسروں کے سامنے اس کی تشہیر کریں یا مزاق بنائیں۔رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے،”جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا”(صحیح مسلم)،یہ عمل صرف نیکی ہی نہیں بلکہ انسانیت کا بھی تقاضا ہے۔ جب ہم دوسروں کی عزت کا خیال رکھیں گے تو ہماری اپنی عزت بھی محفوظ رہے گی۔

    کسی دوست، رشتہ دار یا عزیز کے بارے میں ایک الزام سن کر فوری طور پر قطع تعلقی کرنا دراصل جذباتی کمزوری کی علامت ہے۔ عقل مندی یہ ہے کہ ہم بات کی حقیقت جانیں، فریقین کا موقف سنیں اور اس کے بعد ہی کسی رائے یا فیصلے پر پہنچیں۔بغیر تصدیق تعلق ختم کرنا نہ صرف دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے بلکہ خود ہمارے لیے بھی پچھتاوے کا باعث بن سکتا ہے۔ کئی بار سچائی سامنے آنے پر وقت گزر چکا ہوتا ہے اور تعلقات واپس جوڑنا ممکن نہیں رہتا۔یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اور مہذب انسان اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر بات پر فوراً یقین نہ کریں۔دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔عیب پوشی کریں، نہ کہ عیب جوئی۔تحقیق اور انصاف کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے کہ ہم کسی کی زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ بنیں، بگاڑنے کا نہیں۔

    تحریر:نور فاطمہ

  • اسرائیلی جارحیت اور ایرانی سرخ پرچم.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسرائیلی جارحیت اور ایرانی سرخ پرچم.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اللہ رب العالمین نے قرآن الکریم میں فرمایا ہے ؛
    ترجمہ: ” ان (کافروں) سے لڑو، اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا، اور ان پر تمہیں فتح دے گا، اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا۔”
    (سورۃ التوبہ – آیت 14)

    مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل عرصے سے اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست کا کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ جس سے ناصرف غزہ بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک بھی محفوظ نہیں رہے۔ اسرائیل 2023ء سے لے کر 2025ء تک فلسطینی حمایتی تنظیموں حماس اور حزب اللہ کے کئی اہم ترین رہنماؤں اور اعلی قیادت کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا آیا ہے۔ بلکہ لبنان، شام ،یمن،اردن اور ایران کی خودمختاری پہ بھی با رہا حملوں سے باز نہیں آیا ۔ جس میں اعلی قیادت و معصوم شہریوں کو بھی بربریت کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

    13 جون جمعہ کی علی الصبح بھی اپنی مجرمانہ فطرت سے مجبور دہشت گرد غیر قانونی ریاست اسرائیل نے ایران کی خودمختاری پہ حملہ کیا۔ جس میں 200 اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت شیراز، تبریز اور شمال مغربی ایران میں اہم جوہری و فوجی تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ جس میں ایران کے 9 اہم سائنس دانوں، اعلی فوجی قیادت جن میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی ، ایرانی آرمی چیف جنرل علی باقری، ایران کے معظم ء اعلی سید علی خامنہ ای کے مشیر اور کئی اہم کمانڈرز سمیت کئی معصوم بچوں اور شہریوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔ اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً حملوں میں ایرانی آئل ریفائنریز اور دنیا کی سب سے بڑی گیس ریفائنری پہ بھی حملہ کیا گیا۔

    اسرائیل کے اس دہشت گردانہ فعل پہ تمام مسلم اُمہ سمیت پوری دنیا بالخصوص پاکستان میں غم و غصہ کی شیدید لہر ڈور گئی۔ پاکستان نے اسرائیلی دہشت گردی کو ایران کی خودمختاری و خطے کی سلامتی و سالمیت پہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ۔ اور بھرپور انداز میں ایران کی حمایت کا اعلان کیا۔ قومی اسمبلی میں ایران کی حمایت اور مشکل وقت میں ساتھ دینے کی باقاعدہ قرارداد بھی پیش کی گئی۔

    مسلم دنیا میں ایران واحد اسلامی ریاست ہے۔ جو غزہ میں جاری اسرائیلی بیہمانہ جارحیت پہ نظریاتی و عملی طور پہ مسلسل علمِ حق بلند کرتی نظر آتی ہے۔ اور اس پہ اپنا ایک واضح و اٹل موقف اور دلیرانہ مزاحمتی جہدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے۔ کہ ایران نے کبھی امریکی و اسرائیلی گھٹ جوڑ کے دباؤ کو اقتصادی و تجارتی پابندیوں کی صورت جھیلا ۔ تو کبھی اپنے اہم رہنماؤں کی شہادتیں دیکھیں۔ مگر ایرانی استقامت و عزمِ حریت میں کبھی کوئی لغزش نہ آ سکی ۔ یہی وجہ ہے۔ کہ مسلم اُمہ میں ایران اور ایرانی سپریم لیڈر محترم سید علی خامنہ ای کو قدر و محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

    اگر ہم حالات و واقعات کا بغور جائز لیں۔ تو واضح نظر آتا ہے۔ کہ غیر قانونی صیہونی ریاست کو شہ کس کی حاصل ہے۔”نو وار” (کوئی جنگ نہیں) کے سلوگن سے اقتدار پہ براجمان ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کے سامنے بظاہر پر امن ہونے کا لبادہ اوڑھا۔ اور پچھلے دنوں مشرقِ وسطیٰ کا کچھ مبہم سا دورہ بھی کیا۔ طویل عرصہ سے خطے کے دہشت گرد ملک اسرائیل کی جارحیت کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کی آزادی کی بات بھی کی ۔ مگر صرف "بات” ہی کی۔ ورنہ تو فلسطین میں جاری اسرائیلی بربریت کی بندش کے لئیے اقوامِ متحدہ میں پیش ہونے والی کسی بھی قرارداد کو امریکہ ہی پاس نہیں ہونے دیتا۔ دوسری طرف ٹرمپ نے پرامن ہونے کا ناٹک کرتے ہوئے ۔ ایران کو بھی مذکرات کی پیشکش کی ۔ جسے ایران نے قبول بھی کر لیا۔

    انہی مذاکرات کا سلسلہ پیر سے عمان میں شروع ہونا تھا۔ اب اگر مذاکرات شروع ہو چکے تھے۔ تو اسرائیل کے کے پاس حملوں کا کیا جواز بنتا تھا۔ یعنی آپ ایک ہی وقت میں وقت و مقام طے کر کے مذاکرات بھی کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی حملے بھی کر رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے ۔ کہ کفار کا پلان تیار تھا۔ اور محض مذاکرات کا جھانسا دے کر اپنے پلان پہ عمل کیا گیا۔

    یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے ۔ کہ امریکہ نےاسرائیلی جارحیت سے دو دن قبل سے ہی مشرقِ وسطی سے اپنے شہریوں اور اہلکاروں کو انخلاء کی ہدایات جاری کی تھیں۔ امریکہ نے بظاہر ایران پہ حملے سے لاتعلقی کا اظہار تو کیا۔ مگر ساتھ ہی اسرائیل کا ناصرف ساتھ دینے کا واضح عندیہ دے دیا ۔ بلکہ ایران پہ دھمکیوں کی بوچھاڑ بھی کر دی گئی۔ کہ اس سے پہلے کچھ نہ بچے ایران اسرائیل سے معاہدہ کرلے ۔ ورنہ مستقبل میں ہونے والے حملے اور بھی وحشیانہ ہوں گے۔ یعنی کفار کے گھٹ جوڑ نے حالات و واقعات ایسے بنا دیئے ۔ کہ ایران مذکرات سے ہاتھ اٹھا لے۔

    اگر اس پورے منظر نامے کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ تو صاف نظر آتا ہے۔ کہ ایران کے خلاف کفار کا یہ شیطانی اتحاد محض اس لیے قائم ہے۔ کہ ایران نے مسلم اُمّہ کے ضمیر کی ترجمانی کرتے ہوئے ہمیشہ ایک واضح اسلامی و دینی عقیدے کی بنیاد پر صیہونی جارحیت کے خلاف علمِ مزاحمت بلند کیا، اور باطل کی تمام تر دھمکیوں، سازشوں اور اتحادوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے فلسطین کے مظلوموں کا ساتھ دیا ہے۔

    ایران پہ صہیونی جارحیت کے بعد ایرانی شہر قم کی مسجدِ جمکران (Jamkaran Mosque) کے گنبد پر سرخ پرچم لہرا دیا گیا۔ جسے انتقامی پرچم یا "علامتِ انتقام” قرار دیا جاتا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مردِ آہن محترم سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل نے اپنے لئیے تکلیف دہ قسمت کا انتخاب کیا ہے ۔ اور بدلہ لینے کا واضح عندیہ دیا۔ جس کی توقع ناصرف ایرانی بلکہ ہر مسلمان کر رہا تھا۔
    سپریم لیڈر کی ہدایت کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے "وعدہِ صادق 3″( الوعد الصادق-3) کے نام سے اسرائیل پہ آپریشن آغاز کیا ہے۔ ایرانی بلیسٹک میزائلوں نے تل ابیب کو روشنیاں گل کرنے پہ مجبور کر دیا ہے۔
    ایران نے اپنے دفاع میں جو قدم اٹھایا ہے۔ بلکل درست اٹھایا ہے۔ ہر خودمختار ملک کو اپنے دفاع اور اپنی خود مختاری کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔ اسرائیل مسلم ممالک کی خود مختاری میں مسلسل دخل اندازی کرتا آیا ہے۔ خود دہشت گرد صہیونی قابض ریاست ، موساد کی ایران میں موجودگی کا اعتراف کر چکی ہے۔ ایسی دہشت گرد ریاست اور اس کے دہشت گرد حکمرانوں کی بربریت کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔ صہیونی صدر نتین یاہو کا ذہن جنگی جنون میں مفلوج ہو چکا ہے۔ جو مکمل امریکی پشت پناہی میں اقوامِ متحدہ کے قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس وقت مسلم اُمہ کو کفار کے اس گھٹ جوڑ کے خلاف متحد ہونے اور ایک متفقہ موقف اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
    اور آخر میں جنرل باقری آپ کی شہادت کا دلی دکھ ہوا۔۔۔۔۔
    بطور مسلم و پاکستانی ہم ہر طرح سے ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ رب العزت تمام ایرانی شہداء کے درجات بلند فرمائیں۔ اور ایران کو کفار کے خلاف فتح یاب فرمائیں۔
    اللّٰهُمَّ انصُرِ الإسلامَ والمسلمينَ۔
    آمین اللھم آمین

    یہ درس کربلا کا ہے
    کہ خوف بس خدا کا ہے

  • جلتی انسانیت اور حکمرانوں کی خاموشی،مفادات. تجزیہ: شہزاد قریشی

    جلتی انسانیت اور حکمرانوں کی خاموشی،مفادات. تجزیہ: شہزاد قریشی

    مفادات کا معاملہ بڑا عجیب و غریب ہے۔ کتنے دن گذر گئے ایران اسرائیل جنگ کو عالمی قوتیں اور دیگر ممالک خاموش ہیں۔ انسانوں کو آگ کے شعلوں میں جلتا دیکھ کر بھی عالمی قوتوں اور دیگر عالمی حکمرانوں کی خاموشی کے پیچھے مفادات ہی تو ہیں۔ اس سے قبل غزہ ، روس،یوکرائن ، کشمیر اوردیگر دنیا کے وہ ممالک جہاں انسانوں کو آگ کے شعلوں کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ یاد رکھیئے یہ زمین خدا پاک کی ملکیت ہے، انسانوں کے بسنے کے لئے یہ زمین خدا پاک نے بنائی۔ انسانوں پر کسی طاقتو رکا ظلم اللہ تعالیٰ کو گوارہ نہیں ، و ہ پاک ذات انسانوں پرظلم برداشت نہیں کرتی۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی سے دونو ں جانب ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس سے قبل یمن ،لبنان ، شام و انسانوں کے قتل عام سے عالمی قوتیں آگاہ ہیں۔ اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی دیگر عالمی ادارے کس کام کے ؟ امریکہ ، چین ، روس اور دیگر عالمی قوتیں کس کام کی ؟ ان کو بے گناہ انسانوں جن میں بچے بوڑھے ، عورتیں شامل ہیں ، ان کی چیخیں کیوں نہیں سنائی دیتی ؟ مشرق وسطی کو موت ، تباہی سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران اسرائیل کی جنگ میں کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ٹرمپ دونوں کو میز پر بٹھا سکتا ہے مذاکرات کروا سکتا ہے ۔دونوں کی چابیاں ٹرمپ کے پاس موجود ہیں۔ ٹرمپ ایران کو اسرائیلی حملوں سے بچا سکتا ہے۔ اُمید ہے امریکی صدر انسانی ہمدردی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔ بقول( ساحر لدھیانوی)؎
    خون اپنا ہویا پرایا ہو نسل آدم کا خون ہے آخر
    جنگ مشرقی میں ہو یا مغرب میں امن عالم کا خون ہے آخر

    عالمی قوتیں امریکہ ہویا چین دیگرممالک اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر تیسری عالمی جنگ سے محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ یورپی طاقتوں کو ایران اسرائیل جنگ بندی کے لیے زورد ینا چاہیئے۔ آج دنیا کوتباہ کن انسانی ،سیاسی ،اقتصادی اور ماحولیاتی نتائج کے ساتھ خطرناک تصادم میں لپیٹنے کا خطرہ ہے۔ اقوام عالم اپنا کردارا دا کرے ۔ مسلم ممالک جذباتی نعروں سے نکل کر علم اور عمل کے راستوں کا انتخاب کریں۔

  • من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے۔ اگر ہم اس معاشرے کے پرانے دور کو دیکھیں تو وہ بہت سادہ تھا۔ اس معاشرے میں شرم و حیا تھی۔ لڑکیاں اپنے سروں سے دوپٹے اُتارتے ہوئے شرماتی تھیں، اگر کوئی لڑکی اپنے سر سے دوپٹہ اتار بھی لیتی تو اس کی والدہ ہی سب سے پہلے اس کو ڈانٹیں۔ أس دور میں بچوں کی تربیت ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق کی جاتی تھی۔ أس دور میں تربیت ماں باپ مل کر کرتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں تربیت موبائل فون کرتا ہے، بہت ہی کم والدین ہیں جو آج کے دور میں اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں وہ بھی اسلامی اصولوں کے مطابق۔ کہنے کو ہم ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں، ہمارا ملک کی بنیاد بھی لا الہ الااللہ ہے لیکن جو بھی آج اس معاشرے میں ہو رہا ہے وہ کہیں سے بھی اسلامی ریاست کا طریقہ نہیں ہے، آج اسلامی معاشرے میں ایسے ڈرامے بن رہے ہیں، جو کہیں سے بھی اسلامی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے۔

    من مست ملنگ جیسے جہاں ایک استاد کو بعد میں شاگرد سے محبت کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں پرسنل لائف کو سرےعام دیکھایا جاتا ہے، جہاں ایک غیر مرد ایک غیر عورت کے ساتھ رومانس کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں غیر مرد ایک عورت کو کپل ڈانس کرتے ہوئے گاڑی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ کیا یہ سب اسلامی معاشرے میں ہوتا ہے؟ کیا یہ اسلامی معاشرے کی پہچان ہے؟ ان انگریزوں نے ہمیں اس حد تک اپنا ذہنی غلام بنایا ہوا ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل کو غلط اور صحیح کا ہی نہیں پتا۔ ہماری آج کی نوجوان نسل جن کے ہاتھوں میں "تلوار” ہونی چاہیے۔ جو اسلام کے علمبردار ہونے چاہیے۔ وہ سر سے دوپٹہ اتارنے کو فیشن کہتی ہے، وہ شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے کو فیشن کہتی ہے، اور لڑکیاں شلوار کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کو فیشن کہتی ہے، وہ غیر محرم عورتوں کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کو فیشن کہتی ہے۔ ہماری نوجوان نسل لڑکیوں، لڑکوں کا ایک ساتھ ڈانس کرنے کو فیشن کہتی ہے۔ یعنی جو سبق ہم کو اسلام نے دیا ہے أس کے خلاف ہر کام کرنے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے، ہماری نوجوان نسل ان ناچنے گانے والوں کو اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح بھی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بیٹیوں کو بے قصور مار دیا جاتا ہے، ان کا ریپ کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ آج کل کے دور کے کہتے ہیں کہ ان ڈراموں سے پہلے بھی جرائم ہوتے تھے، لڑکیوں کے ساتھ یہ سلوک پہلے بھی ہوتا تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ بالکل ہوتا تھا، لیکن اتنا نہیں ہوتا تھا جتنا آج ہوتا ہے، تب کہیں مہینوں، سالوں بعد جا کر ایسی کوئی ایک آدھی خبر سننے کو ملتی تھی، لیکن آج تو ہفتوں بعد نہیں بلکہ روز آئے دن ایسی خبر سننے کو ملتی ہے۔ آئے دن کسی نا کسی لڑکی یا لڑکے کو مار دیا جاتا ہے۔ آج کے جرائم کی شرح تب کے جرائم کی شرح سے بہت زیادہ ہے۔ یہ سب اسی ڈراموں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ آج جو بھی ہمارے معاشرے میں بے حیائی پھیلی ہوئی ہے یہ اسی ڈراموں کی وجہ سے ہوا ہے۔ غیر مسلموں نے کوئی بھی کام کرنا ہو تو پہلے ان کو ڈراموں میں دیکھایا جاتا ہے، پھر بعد میں اصل زندگی میں اس کو معاشرے کا حصے بناتے ہیں۔ پہلے وہ ڈراموں میں یہ چیز بار بار دیکھا کر عوام کا رد عمل چیک کرتے ہیں۔ پھر جب ایک چیز کو بار بار دیکھایا جاتا ہے تو عوام مانوس ہو جاتی ہے، پھر بعد میں اس کو معاشرے میں لایا جاتا ہے۔ اگر آپ لوگ اس بات کا ثبوت مانگو کے تو آپ لوگ دیکھو کہ پری زاد ڈرامے میں لڑکی کو لڑکا دیکھایا جاتا ہے، یعنی وہ لڑکی ہو کر لڑکے والے کام کرتی ہے "ببلی بدمعاش” نام رکھتی ہے وہ لڑکوں والے کھیل کھیلتی ہے، لڑکوں کے ساتھ لڑائی کرتی ہے، اس بات کا دوسرا ثبوت بخت دوار ڈرامہ ہے، جس میں ہیروئن کو ہی لڑکا دیکھایا جاتا ہے۔ اس کا ہیئر اسٹائل بھی لڑکوں والا ہوتا ہے۔ پھر بعد میں "ایل جی پی ٹی کیو” کو اس معاشرے میں لایا گیا۔ کتنے ہی لڑکی لڑکوں نے اپنی جنس تبدیل کی ہے۔ یہ کس وجہ سے ہوا کہ پہلے ہی عوام کو یہ چیز عام سی معمولی کرکے دیکھ دی تھی۔

    اگر ہم چاہتے کہ ہماری نوجوان نسل اس سب سے محفوظ رہے وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں تو ہم کو ان ڈراموں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ ان ڈراموں کے خلاف عوام میں آگاہی پھیلانی ہوگی۔ ان ڈراموں کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔آپ لوگ ایسے ڈراموں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور ہمارا ساتھ دیں اس نیک کام میں، اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ آپ لوگوں کے سامنے ایسے ڈراموں کے شاٹ کلپ بھی آئیں تو ان کو اگنور کریں۔ پلیز ایسے ڈراموں کو سرچ کرنے سے گریز کریں ان کے ویوز بڑھانے سے گریز کریں جتنا ایسے ڈراموں کو ریچ ملتی ہے اتنے ہی ہمارے معاشرے میں ایسے ڈرامے بنتے ہیں۔ اتنے ہی ایسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں دیکھائے جائیں گے۔

  • سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک حقیقت بن چکا ہے۔ یہ معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے، دور بیٹھے لوگوں کو قریب لاتا ہے اور مثبت استعمال کی صورت میں سیکھنے اور سکھانے کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مگر کیا ہم واقعی اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں؟

    اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال وقت ضائع کرنے، بے مقصد بحث و مباحثے، افواہیں پھیلانے اور دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے تک محدود ہو چکا ہے۔ ہم دن کا بیشتر حصہ اسکرین پر گزار دیتے ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ہمارے تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے، دوست ایک ہی محفل میں بیٹھے ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کٹے کٹے نظر آتے ہیں، اور حقیقی رشتے ناتوں کی جگہ "آن لائن کنکشنز” نے لے لی ہے۔

    سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کا طوفان
    سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر چیز کو بغیر تحقیق کے سچ مان لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی جھوٹی خبر یا افواہ چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے، اور لوگ بغیر تصدیق کیے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں، جس سے بسا اوقات معاشرے میں بے چینی اور بدگمانی پیدا ہو جاتی ہے۔ قرآن میں واضح حکم ہے "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔” (الحجرات: 6)مگر ہم تحقیق سے زیادہ شیئر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نتیجتاً، کئی بار لوگوں کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں، قوم میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور بے بنیاد خبریں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔

    کیا ہم سوشل میڈیا کے غلام بن چکے ہیں؟
    سوشل میڈیا کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ اس نے لوگوں کو عملی زندگی سے کاٹ کر ایک "ڈیجیٹل دنیا” میں قید کر دیا ہے۔ ہم گھنٹوں موبائل اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہیں، مگر حقیقی دنیا میں ہمارے رویے سرد مہری کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک ماں اپنے بچے کو کھلانے کے بجائے فون اس کے ہاتھ میں دے دیتی ہے، نوجوان کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا پر وقت گزار رہے ہیں، اور لوگ فطری حسن کو دیکھنے کے بجائے کیمروں کے ذریعے اسے قید کرنے میں مصروف ہیں۔

    مثبت استعمال: فیصلہ آپ کا!
    سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا اچھا ہے یا برا، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کر رہے ہیں؟ اگر ہم اس کا مثبت استعمال کریں، تعلیمی مواد دیکھیں، اچھے اخلاق کو فروغ دیں، وقت کا درست استعمال کریں اور تحقیق کے بغیر کوئی خبر آگے نہ بڑھائیں، تو یہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن اگر ہم اس میں کھو کر اپنا قیمتی وقت اور توانائیاں ضائع کرتے رہیں، تو یہ ہمارے تعلقات، ذہنی سکون اور زندگی کی اصل خوبصورتی کو ہم سے چھین لے گا۔

    سوچیں! کیا ہم سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟آئیے، آج سے ہم یہ عہد کریں کہ ہم سوشل میڈیا کو ایک مثبت ذریعہ بنائیں گے، جھوٹی خبروں اور فضول بحثوں سے دور رہیں گے، اور اپنی حقیقی زندگی کو زیادہ اہمیت دیں گے

    یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: اقصیٰ جبار

  • معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ

    معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ

    معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہر دورِ حکومت اپنے ماضی کو بھول کر جانے والی حکومت پر سارا ملبہ ڈال کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ عوامی شعور میں کمی اور زبان بندی کے ساتھ انصاف کرنے والے اداروں کی خاموشی ہے۔ عوام الناس کے مسائل پر آئیں، آج بات کرتے ہیں بجٹ کے حوالے سے، جو عوام پچھلے 76 سالوں سے ایک ہی سرکاری سطح کے قصیدہ کی صورت سنتی آ رہی ہے۔

    ہر سال کی طرح جب حکومتیں بجٹ پیش کرتی ہیں، تو ایک بار پھر عوام کو یہ سننے کو ملتا ہے کہ معیشت مشکل دور سے گزر رہی ہے، وسائل محدود ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہیں، اور "قوم کو قربانی دینی ہو گی”۔ لیکن قوم کب تک قربانی دیتی رہے گی؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ قربانی واقعی قوم دے رہی ہے یا صرف غریب اور متوسط طبقہ؟ کیا اشرافیہ، وزرا، بیوروکریٹس اور سیاسی اشرافیہ کسی قربانی میں شریک ہیں؟ جی ہاں، ہماری موجودہ آبادی کے ساتھ ساتھ وہ بھی قصور وار ہیں جو ابھی اس دنیا میں نہیں آئے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ کیا وہ بھی بڑھتے ہوئے ٹیکس، مہنگائی اور بیروزگاری کی بھٹی میں جل رہے ہیں؟ جواب نہایت تلخ اور سادہ ہے: "نہیں”۔

    پاکستان کی معیشت آج جس نہج پر کھڑی ہے، وہ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومتی دور کی وجہ سے نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری بدعنوانی، ناقص منصوبہ بندی، اقربا پروری، کرپشن اور بیوروکریسی کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ سب کو سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے، مگر کب تک؟ جو بھی حکومت آئی، اس نے اپنے مفادات کے گرد پالیسی گھمائی۔ ہر حکومت کا نعرہ "معاشی بہتری” تھا، لیکن نتیجہ "مزید قرض، کمزور روپیہ، بڑھتی مہنگائی” نکلا۔

    ملکی سیاست میں ہم اکثر سیاست دانوں کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی اصل اقتدار کی روح رواں تھی اور رہے گی، جب تک انصاف کا نظام پاکستان میں رائج نہیں ہوتا۔ فائل کو روکنا، منصوبے کو دبانا، منظورِ نظر ٹھیکیدار کو نوازنا، اور قانون کی تشریح اپنے فائدے کے مطابق کرنا — یہ سب اُس بدعنوان نظام کا حصہ ہے جو کئی دہائیوں سے عوام کی امیدوں کو نگل رہا ہے، اور دور تک اس کے بارے میں کوئی واضح تبدیلی آتی نظر نہیں آ رہی۔

    اربوں روپے کے فنڈز صرف کاغذوں میں استعمال ہوتے ہیں، حقیقت میں سڑکیں، سکول، ہسپتال، ڈرینج، ٹیکنالوجی، سب کچھ خالی خول رہ جاتا ہے۔

    2024 کے سروے کے مطابق پاکستان ہر سال تقریباً 7 سے 10 ارب ڈالر کرپشن کی نذر کر دیتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا ذمّہ دار کون ہے؟ شاید اس کا جواب آپ کو بھی معلوم نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر سال اپنی معیشت کو اتنا نقصان خود اپنے ہاتھوں سے پہنچاتے ہیں، جتنا کوئی بیرونی دشمن بھی نہ دے سکے۔

    کرپشن صرف نوٹ کھانے کا نام نہیں، یہ نااہل افراد کو بھرتی کرنا، یہ پاکستان کے تمام اداروں میں ہے۔ کوئی بھی سرکاری بلکہ نیم سرکاری ادارے بھی اس ترقی میں شامل ہیں۔ غیر شفاف ٹینڈرز، سیاسی وفاداری پر تقرریاں اور اپنے لوگوں کو نوازنے کا مجموعہ ہے۔ بدقسمتی سے یہ سب کچھ ایک معمول بن چکا ہے۔

    جب عوام کو آٹا، چینی، دوائی اور روزگار کے لیے لائنوں میں کھڑا ہونا پڑے اور ان کے "خادمِ اعلیٰ” بیس گاڑیوں کے پروٹوکول میں گزر رہے ہوں، تو یہ صرف معاشی عدم توازن نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن بھی ہے۔

    اربوں روپے ہر سال وزیروں، مشیروں، سفیروں، کمشنروں، سیکریٹریز اور اعلیٰ عہدے داران کے پروٹوکول، گاڑیوں، دفاتر، غیر ملکی دوروں اور تقریبات پر خرچ کیے جاتے ہیں ، یہ وہ پیسہ ہے جو صحت، تعلیم اور عوامی فلاح پر لگنا چاہیے۔

    ہر بار معاشی بحران آئے تو پہلا ہدف عوام بنتی ہے:

    بجلی مہنگی، ماہرِ اقتصادیات ایسا فارمولا بنا دیتے ہیں کہ آپ کی عقل دنگ رہ جاتی ہے، جیسے 200 یونٹ اور 201 یونٹ کا فارمولا شاید دنیا میں پہلی بار استعمال کیا گیا ہو۔گیس پر سبسڈی ختم،پیٹرول پر لیوی،اشیائے خور و نوش پر ٹیکس،ادویات مہنگی،تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ، مگر تنخواہیں معمول کے مطابق جبکہ مہنگائی کا تناسب عوام کی سوچ سمجھ سے بالاتر۔

    عوام کو بتایا جاتا ہے کہ "یہ سب ملکی بقاء کے لیے ہے” لیکن اشرافیہ کے لیے بقاء کا کوئی بحران نہیں، ان کے لیے تو یہ سارا نظام ایک محفوظ جنت ہے۔
    یہ سب باتیں تنقید نہیں بلکہ زمینی حقیقتیں ہیں۔ حل بھی موجود ہیں، اس پر آنے والے کالم میں بات کریں گے۔