Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مجسمہ اقبال اور افکار اقبال  تحریر: طلحہ عبدالرحمٰن

    مجسمہ اقبال اور افکار اقبال تحریر: طلحہ عبدالرحمٰن

    مجسمہ اقبال اور افکار اقبال
    طلحہ عبدالرحمٰن

    مَحکوم کے حَق مِیں ہے یہی تربِیَت اچھی
     مَوسِیقی و صُورت گری و عِلمِ نَباتات!
    اقبالؒ

    دِل نشین سُریلی آوازوں اور دِل کش باوقار تصاویر کے عاشقوں کے لئے دَسْت بَسْتَہ ایک
    "تَوَجُّہ”

    خدارا۔۔۔سوچئے۔۔سمجھۓ۔۔۔
    اگر نبی پاکﷺ نے کسی شے کو ممنوع کر دیا تو آپ کے لئے اس حد بندی میں حکمت ہی حکمت ہے!
    احادیث کی بلند درجہ کتب میں تصویر کی حرمت پہ روایات ہی نہیں بلکہ پورے پورے ابواب ہیں

    دورِ غلامی میں ان احادیثِ مقدسہ کے ساتھ "تأویلات” و "توضیحات” کے نام پہ بہت کھلواڑ کیا گیا ہے۔۔۔

    بہر حال مجھ خاکسار کی ناقص رائے میں یہ تمام توضیحات اصلاً تماشہ اور کل تأویلات جھانسے بازی ہی ہیں۔۔۔اور ان کا وجود محض حیلۂِ شرعی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔۔۔

    اگر رسولِ خاتمﷺ نے ایک حکم دے دیا ہے تو کسی کی یہ حیثیت نہیں کہ وہ ایک حرف بھی بکے۔
    القرآن – الحشر۔۔۔آیت 7

    ۔۔۔ وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‌ۘ ۞

    ترجمہ:
    ۔۔۔اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم لوگوں کو دے دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جائو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
    ۔۔۔

    پُر لطف بات تو یہ ہے کہ شرعیتِ اسلامیہ کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ناہنجاروں کے احوال یہ ہیں کہ جس مغرب سے مرعوب ہو کر یہ شریعتِ اسلامیہ میں نقب زنی کرتے پھر رہے ہیں

    اس ہی مغرب سے پیدا ہوتا جدید علمِ نفسیات اور اسکی رو سے صورت گری و مصوری کے مغلظات پہ آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔تصویر سازی کا تمام فضلہ اب تو اظہر من الشمس ہے۔۔۔لاکن یہاں خامشی ہی خامشی ہے۔

    ایک طُرفہ تماشہ ہے جو غلام لگاتے ہیں اور دنیا کو اپنی بےمائگی پہ قہقہہ لگانے اور طعنہ زن ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں

    البتہ سب سے بڑا اشکال جو آج پرخلوص اسلامیان کو لاحِق ہے اور تذبذب میں لے جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے بہر حال شہادتِ حق تو ادا کرنا ہی ہے۔۔۔
    اور "کٹر مولویت” کی رو سے جدید ذرائع ابلاغ پہ "الحرام الحرام” کا تمغا سجا ہوا ہے۔

    جو سچ کہیں۔۔۔تو ناچیز بھی ان اشکالات کا ایک زمانہ تلک شکار رہا ہے۔۔۔کیونکہ بہر حال جدید ذرائع ابلاغ سے اسلام تو ہم نے بھی سیکھا ہے۔۔۔خصوصا الاستاذ داکتر اسرا احمد علیہ رحمہ۔۔۔شیخ عمر ابراھیم والیدو حفظہ اللہ ، پیس ٹی وی، نوا سٹوڈیوز وغیرہ سے اسلام کے اسرار اور رموزِ ایمان سمجھے ہیں۔۔۔

    ۔۔۔
    سو بظاہر ایک تناقض و تضاد نظرآتا ہے۔۔۔
    اس اشکال سے کافی عرصہ ہم بھی پریشان رہے ہیں، تنگ آ کر جدید علومِ ابلاغ کا مطالعہ شروع کیا اور تصویر سازی پہ بھی شرعی مؤقف کی تحقیق کا آغاز کیا۔

    حیران کن طور پہ جدید علومِ ابلاغ سے یہ گھتی کھلی کہ ویدیو دروس اور لیکچرز سے کہیں زیادہ حوالاجات و ترواشوں اور انیمیشن پہ مبنی داکومنتریز دل دوز اور پر تأثیر ہیں
    ۔۔۔

    اور شرعیتِ اسلامیہ کی رو سے ذی نفس ،جان دار حضرات کی تصویر سازی تو حرام و ہے
    (صحیح بخاری ، باب :سود کا بیان، ٢٠٨٦ اور ٢٢٣٨)

    البتہ بےجان اشیاء کی مصوری حلال ہے(صحیح بخاری ، باب :بےجان اشیاء کی تصاویر، ٢٢٢٥)

    سو جیسا کہ حکمِ باری ہے
    اُدۡعُ اِلٰى سَبِيۡلِ رَبِّكَ بِالۡحِكۡمَةِ وَالۡمَوۡعِظَةِ الۡحَسَنَةِ‌ وَجَادِلۡهُمۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ؕ۔۔۔ انحل ١٢٥
    ترجمہ:
    آپ دعوت دیجیے اپنے رب کے راستے کی طرف دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ اور ان سے بحث کیجیے بہت اچھے طریقے سے

    الغرض حضورﷺ کی دعوت پہنچانے، شہادت علی الناس ادا کرنے کا بہترین، ذیرک ترین، با شعور، بابصر، حاذق اور کامل الفن طریق بہر حال وہ ہی ہے جو حضورﷺ کی قائم کردہ پر حکمت حد بدیوں کے اندر رہتے ہوئے داعیانِ ایمان اپنائں۔۔۔ بس ضرورت ہے تو دل جمعی کے ساتھ از حد محنت کی۔

    ڈاکومنتریز بنانا۔۔۔اینیمیشن تیار کرنا اور پرزنٹیشنز پیش کرنا بہر کیف ایک نہایت دقت آمیز کام ہے۔۔۔

    لاکن فرض کی احسن طریق سے ادائگی بہر حال ہم پہ لازم ہے۔۔۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اس دورِ غلامی میں ، حریتِ اسلام کا پاسبان بنائے۔۔۔ آمین

  • علی ظفر کی پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کرنے کی تردید

    علی ظفر کی پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کرنے کی تردید

    اس بار پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 6 کی افتتاحی تقریب استنبول میں ریکارڈ کی جائے گی جسے 20 فروری کو نشر کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : پی ایس ایل 6 کی افتتاحی تقریب میں گلوکار عاطف اسلم، ریپر عمران خان، اداکارہ و ماڈل حمائمہ ملک، نصیبو لعل، آئمہ بیگ، طلحہ انجم اور طلحہٰ یونس پرفارم کریں گے سوشل میڈیا پر خبریں زیر گردش تھیں کہ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں گلوکار علی ظفر بھی پرفارم کریں گے-


    تاہم اب گلوکار علی ظفر نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 6 کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کرنے کی تردید کی ہے۔

    علی ظفر نے پی ایس ایل 6 کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کرنے کے حوالے سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کی۔

    انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں پرفارم نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے سیزن کی افتتاحی تقریب ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں ہوگی ذرائع کا بتانا ہے کہ پی ایس ایل 6 کا آفیشل سونگ گانے والے فنکار ترکی پہنچ گئے ہیں-

  • اردو فارسی کے ممتاز و عظیم شاعر” مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ صاحب“ کا 152واں یوم وفات

    اردو فارسی کے ممتاز و عظیم شاعر” مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ صاحب“ کا 152واں یوم وفات

    اردو کے سب سے مشہور شاعر، زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار، استدلالی اندازِ بیاں، تشکک پسندی، رمز و ایمائیت، جدت ادا اور اردو فارسی کے ممتاز و عظیم شاعر” مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ صاحب“ کا 152واں یومِ وفات منایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی :نام مرزا اسد اللہ خاں، تخلّص غالبؔ ، 27؍دسمبر 1797ء کو پیدا ہوئے ۔ غالبؔ کی اولین خصوصیت طرفگئی ادا اور جدت اسلوب بیان ہے لیکن طرفگی سے اپنے خیالتا ، جذبات یا مواد کو وہی خوش نمائی اور طرح طرح کی موزوں صورت میں پیش کرسکتا ہے جو اپنے مواد کی ماہیت سے تمام تر آگاہی اور واقفیت رکھتا ہو۔

    میرؔ کے دور میں شاعری عبارت تھی محض روحانی اور قلبی احساسات و جذبات کو بعینہ ادا کردینے سے گویا شاعر خود مجبور تھا کہ اپنی تسکین روح کی خاطر روح اور قلب کا یہ بوجھ ہلکا کردے ۔ ایک طرح کی سپردگی تھی جس میں شاعر کا کمال محض یہ رہ جاتا ہے کہ جذبے کی گہرائی اور روحانی تڑپ کو اپنے تمام عمن اور اثر کے ساتھ ادا کرسکے ۔

    اس لیے بے حد حساس دل کا مالک ہونا اول شرط ہے اور شدت احساس کے وہ سپردگی اور بے چارگی نہیں ہے یہ شدت اور کرب کو محض بیان کردینے سے روح کو ہلکا کرنا نہیں چاہتے بلکہ ان کا دماغ اس پر قابو پاجاتا ہے اور اپنے جذبات اور احساسات سے بلند ہوکر ان میں ایک لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں یا یوں کہئے کہ تڑپ اٹھنے کے بعد پھر اپنے جذبات سے کھیل کر اپنی روح کے سکون کے لیے ایک فلسفیانہ بے حسی یا بے پروائی پیدا کرلیتے ہیں ۔

    اگر میرؔ نے چر کے سہتے سہتے اپنی حالت یہ بنائی تھی کہ مزا جو ں میں یاس آگئی ہے ہمارے نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی تو غالب ؔ اپنے دل و دماغ کو یوں تسکین دیتے ہیں کہ غالب کی شاعری میں غالبؔ کے مزاج اور ان کے عقائد فکری کو بھی بہت دخل ہے طبیعتاً وہ آزاد مشرب مزاج پسند ہر حال میں خوش رہنے والے رند منش تھے لیکن نگاہ صوفیوں کی رکھتے تھے باوجود اس کے کہ زمانے نے جتنی چاہئے ان کی قدر نہ کی اور جس کا انہیں افسوس بھی تھا پھر بھی ان کے صوفیانہ اور فلسفیانہ طریق تفکر نے انہیں ہر قسم کے ترددات سے بچالیا۔(الخ) اور اسی لیے اس شب و روز کے تماشے کو محض بازیچۂ اطفال سمجھتے تھے۔

    دین و دنیا، جنت و دوزخ ، دیر و حرم سب کو وہ داماندگئ شوق کی پناہیں سمجھتے ہیں۔(الخ) جذبات اور احساسات کے ساتھ ایسے فلسفیانہ بے ہمہ دبا ہمہ تعلقات رکھنے کے باعث ہی غالبؔ اپنی شدت احساس پر قابو پاسکے اور اسی واسطے طرفگئی ادا کے فن میں کامیاب ہوسکے اور میرؔ کی یک رنگی کے مقابلے میں گلہائے رنگ رنگ کھلا سکے۔

    ’’لوح سے تمت تک سو صفحے ہیں لیکن کیا ہے جو یہاں حاضر نہیں کون سا نغمہ ہے جو اس زندگی کے تاروں میں بیدار یاخوابیدہ موجود نہیں۔‘‘ لیکن غالبؔ کو اپنا فن پختہ کرنے اور اپنی راہ نکالنے میں کئی تجربات کرنے پڑے۔ اول اول تو بیدلؔ کا رنگ اختیار کیا لیکن اس میں انہیں کیامیابی نہ ہوئی سخیوں کہ اردو زبان فارسی کی طرح دریا کو کوزے میں بند نہیں کرسکتی تھی مجبوراً انہیں اپنے جوش تخیئل کو دیگر متاخرین شعرائے اردو اور فارسی کے ڈھنگ پر لانا پڑا۔

    صائبؔ کی تمثیل نگاری ان کے مذاق کے مطابق نہ ٹھہری میرؔ کی سادگی انہیں راس نہ آئی آخر کار عرفیؔ و نظیری کا ڈھنگ انہیں پسند آیا اس میں نہ بیدلؔ کا سا اغلاق تھا نہ میرؔ کی سی سادگی ۔ اسی لیے اسی متوازن انداز میں ان کا اپنا رنگ نکھر سکا اور اب غیب سے خیال میں آتے ہوئے مضامین کو مناسب اور ہم آہنگ نشست میں غالب نے ایک ماہر فن کار کی طرح طرفہ دل کش اور مترنم انداز میں پیش کرنا شروع کردیا ۔

    عاشقانہ مضامین کے اظہار میں بھی غالبؔ نے اپنا راستہ نیا نکالا شدت احساس نے ان کے تخیئل کی باریک تر مضامین کی طرف رہ نمائی کی گہرے واردات قلبیہ کا یہ پر لطف نفسیاتی تجزیہ اردو شاعری میں اس وقت تک (سوائے مومنؔ کے ) کس نے نہیں برتا تھا ۔ اس لیے لطیف احساسات رکھنے والے دل اور دماغوں کو اس میں ایک طرفہ لذت نظر آئی ۔

    ولیؔ ، میرؔ و سوداؔ سے لے کر اب تک دل کی وارداتیں سیدھی سادی طرح بیان ہوتی تھیں۔ غالبؔ نے متاخرین شعرائے فارسی کی رہ نمائی میں اس پر لطف طریقے سے کام لے کر انہیں معاملات کو اس باریک بینی سے برتا کہ لذت کام و دہن کے ناز تر پہلو نکل آئے ۔

    غرض کہ ایسا بلند فکر گیرائی گہرائی رکھنے والا وسیع مشرب، جامع اور بلیغ رومانی شاعر ہندوستان کی شاید ہی کسی زبان کو نصیب ہوا ہو موضوع اور مطالب کے لحاظ سے الفاظ کا انتخاب (مثلاً جوش کے موقع پر فارسی کا استعمال اور درد و غم کے موقع پر میرؔ کی سی سادگی کا ) بندش اور طرز ادا کا لحاظ رکھنا غالب ؔ کا اپنا ایسا فن ہے جس پر وہ جتنا ناز کریں کم ہے اسی لیے تو لکھا ہے ۔
    15؍فروری 1869 کو غالبؔ انتقال کر گئے۔

    ممتاز عظیم شاعر غالبؔ صاحب کے یومِ وفات پر موصوف کے اشعار جس کی تعداد کافی زیادہ ہے ان میں سے چند اشعار بطورِ خراجِ عقیدت…

    آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
    ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

    آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک
    کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

    اس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے غالبؔ
    ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
    کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

    پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
    پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے

    ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق
    لرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر

    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
    خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

    دردِ منّتِ کش دوا نہ ہوا
    میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

    ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

    کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ
    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
    یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

    نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
    ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

    رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
    جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

    ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
    وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

    دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
    آخر اس درد کی دوا کیا ہے

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

    قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
    میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

    ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
    نوحہ غم ہی سہی نغمئہ شادی نہ سہی

    بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
    یہ جو اک لذت ہماری سعی لاحاصل میں ہے

    موت کا ایک دن معیّن ہے
    نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

    جوئے خون آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراق
    مین يہ سمجھوں گا کہ شمعين دو فروزاں ہو گئیں

    یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور

    (مرزا غالبؔ)

  • اولاد اللہ کی نعمت ہے،اسے قتل نا کریں

    اولاد اللہ کی نعمت ہے،اسے قتل نا کریں

    اولاد اللہ کی نعمت ہے،اسے قتل نہ کریں،چھیپا کے جھولے میں ڈالیں،بے اولادوں کی گود بھریں، خادِم اِنسانیت محمد رمضان چھیپاکی اپیل۔۔

    آج کراچی میں ایک نومولود بچے کی نعش ملنے پر خادِم اِنسانیت محمد رمضان چھیپا کااظہار تشویش۔۔۔

    بلدیہ مواچھ گوٹھ پل کے پاس کچھرا کنڈی سے ایک نومولود بچے کی نعش ملنا انسانیت سوز فعل ہے،۔۔۔رمضان چھیپا

    خداکے واسطے،معصوم بچوں کوقتل نہ کریں، نالے اور کچرا کنڈیوں میں پھینک کرانہیں خونخوار درندوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں،۔۔۔رمضان چھیپا

    نومولود بچوں کوکچرا کنڈی اور نالوں میں پھینکنے کے بجائے، انہیں چھیپا سینٹرز پر نصب چھیپا جْھولے میں ڈال دیں،۔۔۔رمضان چھیپا کی اپیل

  • ویلنٹائن ڈے پر جب عادل احمد نے سرپرائز دیا تھا    ازقلم غنی محمود قصوری

    ویلنٹائن ڈے پر جب عادل احمد نے سرپرائز دیا تھا ازقلم غنی محمود قصوری

    ویلنٹائن ڈے پر جب عادل احمد نے سرپرائز دیا تھا

    ازقلم غنی محمود قصوری

    14 فروری 2019 کو پوری دنیا کا میڈیا اس وقت حیران رہ گیا جب مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے اونتی پورہ کے گاؤں لیتھیپورہ میں انڈین سی آر پی ایف (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے کانوائے پر 22 سالہ مقامی کشمیری عادل احمد ڈار نے اپنی بارود سے بھری گاڑی ٹکڑا دی جس کے نتیجے میں 46 فوجی جانبحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے تھے
    عادل احمد ڈار کا تعلق جہادی جماعت جیش محمد سے تھا اور اس کے فدائی مشن کے فوری بعد اس کی ریکارڈ شدہ ویڈیو بھی چلائی گئی تھی جس میں وہ مقبوضہ کشمیر میں ہندو فوج کی طرف سے کشمیریوں پر ظلم کی داستان سنا رہا تھا مذید تحقیقات سے پتہ چلا کہ عادل احمد ڈار اور اس کے دوستوں کو سکول سے واپسی پر انڈین فوج نے تضحیک کا نشانہ بنایا تھا جس پر وہ سخت رنجیدہ تھا اور فوج سے انتقام لینا چاہتا تھا اسی لئے وہ مسلح تحریک آزادی کشمیر کی جہادی تنظیم جیش محمد کا رکن بن گیا اور وہ مارچ 2018 سے اپنے گھر سے روپوش تھا
    پلوامہ حملے سے قبل بھی انڈین فوج پر بہت بڑے بڑے حملے ہو چکے تھے جن میں اڑی بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملہ اس پامپور میں سابقہ خود کش حملہ مگر تحریک آزادی کشمیر کی مسلح تحریک 1989 سے ابتک یہ سب سے بڑا حملہ تصور کیا جاتا ہے جس میں ایک دم سے اتنے فوجی مارے گئے جن کے جسموں کے اعضاء دور دور تک بکھرے پڑے تھے اور انڈین فوج کے افسران و جوان چیخ چیخ کر مدد کے لئے بلا رہے تھے
    مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت سرکار کی طرف سے بتائی گئی تعداد غلط ہے کیونکہ گزرنے والا کانوائے بہت بڑا تھا اور عادل احمد ڈار نے اپنی گاڑی میں 3 سو کلو بارودی مواد لگا رکھا تھا
    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے فوجیوں کی تعدا 1 سو سے اوپر ہے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 3 سو سے اوپر ہے
    بھارت نے ایک بار پھر ہٹ دھرمی کرتے ہوئے الزام پاکستان پر لگا دیا اور پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی حالانکہ ساری دنیا نے تصدیق کی کہ خودکش حملہ آور مقامی کشمیری تھا مگر انڈیا نے 26 جنوری 2019 کو ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنا طیارہ رات کی تاریکی میں پاکستانی حدود میں داخل کیا اور پاکستانی ائیر فورس کے متحرک ہوتے ہی اپنا پے لوڈ گرا دیا اور بھاگ جانے میں ہی عافیت جانی
    تاہم گرایا جانے والا پے لوڈ ایل او سی کے قریب بالاکوٹ نامی قصبے پر گرا جس سے دھماکے کی آواز سنی گئی مگر درختوں کے علاوہ کسی چیز کا کوئی نقصان نا ہوا
    کشمیری مجاھدین کے پے درپے حملوں کے بعد انڈیا نے اپنے فوجیوں اور عوام کا بھرم رکھنے کیلئے دعویٰ کر دیا کہ سرحد پار پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں جیش محمد کا ٹریننگ کیمپ تباہ کیا گیا ہے اور سینکڑوں مجاھدین کو شہید کیا گیا ہے
    بھارت کی اس حماقت پر پاکستانی ائیر فورس نے اگلے دن کے اجالے میں ایل او سی کراس کی اور راجوڑی میں دو انڈین طیاروں کو نشانہ بنایا گیا جن میں سے ایک طیارہ پاکستانی حدود میں گرا اور اس کے پائلٹ ابھی نندن کو زندہ گرفتار کر لیا گیا
    14 فروری سانحہ پلوامہ کے دن سے اب تک انڈین فوج اس دن بلیک ڈے مناتی ہے اور اپنے مرنے والے جوانوں کو یاد کرتی ہے مگر وہ بھول گئے کہ انہوں نے ابتک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو انہی کی دھرتی پر شہید کیا ہے جن کے لواحقین ان کو پل پل یاد کرکے روتے ہیں اور انتقام لینے کی قسمیں کھاتے ہیں اور عملاً انتقام لیتے بھی ہیں جبکہ اس کے برعکس جب بھی انڈین فوج پر کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے فوری فوجی جوانوں و افسران کی چھٹیوں کی درخواستیں موصول ہوتی ہیں جبکہ مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندو فوج کی خودکشیوں کی تعداد خطرناک حدتک بڑھ چکی ہے جس سے انڈین فوج کے مورال کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے

  • خصلتِ اسلام ہے حیا   تحریر :جویریہ بتول

    خصلتِ اسلام ہے حیا تحریر :جویریہ بتول

    حیا…!!!
    (:جویریہ بتول).
    ہے راحتِ روح،یہ راحتِ جہاں اِسے راہ کا سامان رکھنا…
    خصلتِ اسلام ہے حیا، یہی اپنی اک پہچان رکھنا…
    آنکھوں کی چمک سےجھلکے،لبوں کی جنبش سے ٹپکے…
    جلوت و خلوت میں بس خیال یہ ہر آن رکھنا…
    زندگی کی راہ میں چڑھو فراز کہ نشیب میں اُترو…
    حیا کو ہر گام سنبھال کر،بلند اپنی پہچان رکھنا…
    پیامِ رفعت ہے زادِ جنت، اسی کی خاطر سبھی محنت…
    اِسی پہ چلنا،اِسی پہ رُکنا،دُور خود سے شیطان رکھنا…
    حیا ہے خیر ساری کی ساری،اس کی جزا ہے بہت پیاری…
    نسلوں کی پہچان ہے یہ،مقام اپنا ذی شان رکھنا…
    یہ اخلاق کی تشکیل ہے ،یہ ایمان کی تکمیل ہے…
    حیا کی جانب رواں دواں،بھاری اپنی میزان رکھنا…
    پھول لگا ہو جب ٹہنی سے تو رہتی ہے تازگی باقی…
    توڑ کر خود کو خوشبو سے خود کو نہ نیلام کرنا…
    گناہ بنیں نہ اپنے بھاری،یوں گزرے نہ زندگی ساری…
    بچا کر خود کو آگ سے، راہِ جنت آسان رکھنا…
    حیا ہی ہو راہ کی روشنی،نہیں اس کا کوئی ثانی…
    دے حدود سے آگہی،کردار رفعت کا آسمان رکھنا…!!!

  • یوم یکجہتیِ فلسطین      بقلم: حیات عبداللہ

    یوم یکجہتیِ فلسطین بقلم: حیات عبداللہ

    یوم یکجہتیِ فلسطین
    بقلم: حیات عبداللہ

    صدیاں بِیت چلیں اس کرّہ ء ارض پر یہودی حشر سامانیاں اور فتنہ سازیاں نہ صرف امن و آشتی کو غارت کیے ہوئے ہیں بلکہ مسلمانوں کے عین جگر میں خنجر گھونپ کر ایک ناجائز یہودی ریاست کو بھی قائم کر دیا گیا۔

    وہ بھی ایک یہودن تھی جس نے بکری کے گوشت میں زہر ملا کر نبیؐ کو بہ طور ہدیہ دیا تھا۔نبیؐ نے گوشت کا ٹکڑا منہ میں ڈالا اور فوراً ہی نکال کر پھینک دیا اور فرمایا کہ مجھے یہ ہڈّی بتا رہی ہے کہ اس میں زہر کی ملاوٹ ہے۔اس کے بعد اس یہودن کو بلایا گیا تو اس نے اعترافِ جرم کر لیا۔

    آج اگر ساری دنیا کے یہودیوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو کراچی شہر سے بھی کم جگہ میں سما سکتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کی چالبازیوں نے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے لے کر اقوامِ متحدہ تک پنجے اتنی مضبوطی سے گاڑ رکھے ہیں کہ خفیف سی صعوبتیں بھی یہودی مفادات میں اپنے دانت گاڑنے لگیں تو عیسائیت کا دَم نکلنے کو ہو جاتا ہے۔امریکا کا کوئی بھی صدر ہو، یہودیوں کے تحفّظ کے لیے زمزمہ سنج ہونا اس کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔

    سابق امریکی صدر باراک اوباما بھی اپنی پہلی صدارتی تقریر میں یوں نواسنج ہُوا تھا کہ ”اسرائیل، امریکا کی ذمہ داری ہے اور امریکا اپنی ذمہ داری خوب نبھائے گا۔“ ایک امریکی ایلچی جوزف بائیڈن بھی مقبوضہ بیت المقدس میں یوں ڈھنڈورچی بن کر ڈھنڈورا پِیٹ چکا ہے کہ ”امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کو سب سے بڑی فوجی طاقت دیکھنا چاہتا ہے۔“ اس نقارچی نے ایک اسرائیلی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کو یقین دلایا تھا کہ ایران سے کسی بھی تصادم کی صورت میں امریکا بھرپور طور پر اسرائیل کی مدد کرے گا۔

    1880ء میں یہودی خاندان فلسطین جا کر آباد ہونے لگے اور پھر بہت جلد 1897ء میں صہیونی تحریک کی بنیاد رکھ دی گئی جس کا سب سے پہلا مقصد فلسطین پر قبضہ تھا۔1917ء فلسطین میں یہودیوں کی تعداد صرف 25 ہزار تھی مگر اگلے پانچ سال میں ان کی تعداد 38 ہزار تک پہنچا دی گئی۔ 1922ء تا 1939ء یہودیوں کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی اور پھر 14 مئی 1948ء کی تلخ وترش ساعتیں آ گئیں جب اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔فرطِ جذبات میں اسرائیل کے سامنے سب سے پہلے زانوئے تلمّذ تہ کرنے والے امریکا اور روس تھے۔ پھر یہودی سفاکیت اور فلسطینی مظلومیت بڑھتی ہی جانے لگیں۔اسرائیلی حکومت نے 1967ء میں غزہ کی پٹّی پر قبضے کے بعد اس علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے سیکڑوں منصوبے بنا کر ان پر عمل کیا مگر اقوامِ متحدہ آج تک گونگے کا گُڑ کھا کر چُپ سادھے بیٹھی اس سارے سفاکانہ کھیل سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔

    1956ء میں اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کیا جس سے 3 ہزار لوگ ہلاک ہو گئے۔1967ء میں اسرائیلی حیوانیت پھر پھنکار اٹھی، جب اسرائیل نے حملہ کیا تو چھے روزہ جنگ میں 20 ہزار عرب مسلمان شہید ہو گئے۔اسرائیل کے منہ کو مسلمانوں کا خون ایسا لگا کہ پھر 1973ء میں اس نے شام اور مصر کے 18 ہزار مسلمانوں کو ہلاک کر ڈالا۔ آج تک 60 ہزار سے زائد فلسطینی مسلمان اسرائیل کے سفاک منہ کا نوالا بن چکے ہیں۔

    آج فلسطین کے بچّے، بوڑھے اور جوانوں کو سکون کا سانس لینے کا حق تک حاصل نہیں، ان کی زندگیوں میں ایسے درد جھونک دیے گئے ہیں جو موت سے بھی بدتر ہیں۔آج ان کا انگ انگ فریاد کناں ہے۔انسانی حقوق کا خوبصورت اور جاذبِ نظر غلاف پہن کر یہودونصاریٰ کے حقوق کی ترجمانی اور حفاظت پر مامور اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی ظلم وستم کے خلاف سیکڑوں قراردادیں پاس ہو چکیں مگر اقوامِ متحدہ نے کبھی مسلمانوں پر ظلم و ستم کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔آج تک اقوامِ متحدہ نے اپنی سیاہ زلفوں میں سے مکھڑا نکال کر پلکیں اٹھا کر بھی یہ تک دیکھنے کی جسارت نہ کی کہ یہودوہنود امّتِ مسلمہ پر کیسے کیسے بھیانک انداز میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، البتہ اگر کسی بھی یہودی یا عیسائی جذبات واحساسات میں کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اسے فوراً ہی انسان بھی یاد آ جاتے ہیں اور انسانوں کے حقوق بھی تڑپانے لگتے ہیں۔

    عالمی امن کے لیے سوہانِ روح بن جانے والی داعش کو یہودی پادری بڑے دھڑلے سے ہدیہ ء الٰہی سے تعبیر کرتے رہے ہیں اس لیے کہ داعش کا ہدف صرف اور صرف مسلمان ہیں۔فلسطین میں کچھ عرصہ قبل جب 34 مسلمان شہید کر دیے گئے تھے تو مجھے تو کچھ اخبارات پر بڑی حیرت ہوئی کہ انھوں نے خبر لگائی کہ ”یہودیوں کا مقدس مقام نذرِ آتش، غرب اردن میں کشیدگی“ یہ یہودیوں کا مقدّس مقام کیسے ہو گیا؟ یہ تو مسلمانوں کے مقامات ہیں یہودی تو قابض ہیں۔

    دنیا جانتی ہے کہ اسرائیلی حکام نے 40 سال سے کم عمر فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے لیے قدغنیں تک عائد کی ہیں۔خون آشام ظلم دیکھیے کہ ایک طرف پتھروں سے مقابلہ کرنے والے فلسطینی ہیں جب کہ دوسری جانب ہر طرح کے اسلحہ و بارود سے مسلح یہودی۔دنیا کا وہ کون سا ظلم ہے جو اہل فلسطین کے جسم و جاں میں نہیں گاڑا جا رہا مگر درد والم سے لدے کئی عشرے بیت جانے کے باوجود ان کے جذبوں کا بانکپن آج بھی دیدنی ہے۔ اہلِ عرب اور اہلِ اسلام کی جانب سے مایوسیوں کے زرد موسموں کے باوجود ان کے حوصلے چٹخے نہیں۔

    معلوم نہیں کب من حیث المجموع امّتِ مسلمہ کی رگوں میں وہ حمیّت دوڑے گی جو اہلِ فلسطین کے لیے آزادیوں سے مزیّن نوید اور مسرّت لے آئے گی؟ میری گزارش فقط اتنی ہے کہ 14 فروری کے دن دلوں میں عشق ومحبت کا جو خبط امڈ آتا ہے اس کا رخ کسی کی بہن بیٹی کی طرف موڑنے کی بجائے یہ مثبت رنگ دیجیے کہ محبتوں کے اس جنون کو اپنے فلسطینی بھائیوں کی طرف موڑ دیجیے اور جب تک فلسطین کے مقہور و مظلوم مسلمان یہودی فتنہ سازوں اور صہیونی ظالموں سے آزاد نہیں ہوتے تب تک 14 فروری کو درد سے کُرلاتے اہلِ فلسطین سے منسوب کر دیجیے!

    یہ نوید افزا شعر اختر شیرانی کا ہے۔

    انھی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا
    اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی ہو گی

  • ویلنٹائن حرام محبت کا موجب    از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ویلنٹائن حرام محبت کا موجب از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ویلنٹائن ۔۔۔۔۔۔۔حرام محبت کا موجب
    از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    . . پوری قوم. ۔۔۔۔۔۔۔ بالخصوص نوجوان لڑکے اور لڑکیاں loveکے جذبے سے سرشار…… بازاروں …..سڑکوں…… چوراہوں پر نکلے ہوئے ہیں……..”ایک ہلچل مچی ہے سارے بازار”
    ہر چیز سرخ رنگ میں نہائی ہوئی ہے. سرخ بار……. سرخ پھول۔۔۔۔۔ سرخ لباس
    میں محبتوں کے د عوے ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی جارہی ہیں۔ آج کے دن سب وعدے وفا کرنے ہیں

    جی ہاں !
    یہ اہتمام یلنٹائن ڈے کے موقع پر ہورہا ہے۔
    گویا کہ یہ کوئی مذہبی اور دینی فریضہ ہے۔
    حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہمارے مذ ہب میں ایک دن کی محبت اور وہ بھی نا جائز ذرائع سے حاصل کی گئ محبت کی کوئی گنجائش نہیں ۔
    غیروں کے پیچھے لگ کر اوچھی حرکتیں کرنا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتیں غیر مسلموں کو وہ محبتیں کرنی ہیں جنہیں ان کا مذہب اجازت دیتا ہے اور ہم نے وہ محبتیں بانٹنی ہیں جن کا حکم ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے

    ویلنٹائن ڈے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ُ

    کرسمس کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ یہ تہوار منایا جاتا ہے اسے محبت کرنے والوں کا عالمی دن بھی کہا جاتا ہے۔
    میڈیا کی بہت زیادہ تشہیر کے سبب پاکستان میں بھی اس کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔
    یہ دن ایک عیسائی پادری کی ناکام محبت کی یاد میں منایا جاتا ہے
    جس کا نام سینٹ ویلنٹائن تھا ا سے کسی جرم کی بنا پر قید کردیا گیا اور قید کے دوران اس کی ملاقات حاکم وقت ‘کلوڈیس’ کی بیٹی” جولیا "سے ہوئی وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔
    ‘ جولیا ‘روز ایک گلاب کا سرخ پھول لے کر اس کے پاس آتی جب اس کی خبر کلوڈیا کو ہوئی تو اس نے ویلنٹائن کو 14 فروری کو سرعام پھانسی دے دی ۔
    اس نے پھانسی دیے جانے سے قبل جولیا کے نام خط لکھا جس کے الفاظ پہ تھے
    From your valentine
    اس وجہ سے یہ دن ۔۔۔۔۔۔۔۔ویلنٹائن ڈے کے نام سے مشہور ہو گیا ۔
    جسے بارہویں صدی میں فروغ ملا۔
    کافروں عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ ان کے نزدیک بدکاری و بے حیائی کا تصور کچھ خاص حیثیت نہیں رکھتا انہوں نے نعوذ باللہ حضرت مریم جن کو یہ اپنا خدا مانتے ہیں یوسف نامی آدمی کے ساتھ بدکاری میں ملوث کردیا تھا ۔
    ( نعوذباللہ)
    بات تو مسلمانوں کے غور و فکر کی ہے کہ یہ کس مقصد کے تحت اس کو مناتے ہیں ؟؟؟ جبکہ ہمارا قرأن غیر مرد اور عورت کا أپس میں ناجائز تعلق رکھنے والے کو ۔۔۔۔۔۔ 100کوڑوں۔۔۔۔۔ ملک بدری اور رجم ( پتھر مار مار کر ہلاک کر دینا) کی سزا سناتا ہے
    دیکھنے والے چاہے اس امر کو ظلم ۔۔۔۔۔زیادتی ۔۔۔۔۔یا دہشت گردی کا نام دیں لیکن اسلام کی نظر میں یہ پر حکمت ہے۔ بدکاری کرنے والے مرد اور عورت کو اگر سرعام سنگسار کر دیا جائے تو دعوے سے کہا جاسکتا ہے کہ ہزاروں لوگ ڈر کے مارے ہی اس فعل قبیح سے باز آ جائیں اور معاشرہ زناکاری و بدکاری حرام محبت سے پاک ہو جائے
    اور بنت حوا کی عزت لٹنے کی بجاۓ محفوظ ہو جائیں۔ کیونکہ اسلام ہمیں ایک پاکباز ماحول اور پاکیزہ معاشرہ دینا چاہتا ہے اور شرم و حیا اور عفت و عصمت کی پاسداری ہمارے معاشرے کو دوسرے مذاہب میں ممتاز کرتی ہے ۔ کیونکہ جتنا زور ہمارے مذہب نے اس پر دیا کسی اور مذہب نے نہیں دیا
    ویلنٹائن ڈے حرام محبت کو فروغ دیتی ہے۔
    محبت کرنے کے دو طریقے ہیں حلال یا حرام
    ہمارے پاس حلال محبت کے وسیع ذرائع ہیں جیسا کہ
    اللہ سے محبت
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت
    والدین سے محبت
    بہن بھائیوں سے
    دوست احباب سے
    رشتے داروں سے
    اچھے تعلقات استوار کرنا
    اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا
    والدین کی اطاعت و فرمانبرداری
    ان محبتوں میں سے کس کس کی پاسداری کی جاتی ہے؟ ؟؟کس کی اطاعت کی جاتی ہے؟ ؟؟
    سارا دن گھر میں لڑائی جھگڑا کرنے ۔۔۔۔۔۔ بدتمیزی سے پیش آنے والا ۔۔۔۔۔۔۔ اور بے حس انسان ۔۔۔۔۔۔ پھولوں کا گلدستہ لے کر گلی کے چوراہے پر کھڑا ہو جاتا ہے اور کسی انجان حسینہ کے سامنے دنیا کا نمبر ون شریف النفس بن کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔
    ہزاروں جائز محبتوں کو ایک حرام محبت کی خاطر میں پشت ڈال دیتا ہے ۔
    ایک حرام محبت کی خاطر ساری دنیا سے لڑائی مول لے لیتا ہے ۔
    انسان کی فطرت ہے کہ وہ ممنوع اشیاء کی طرف دوڑ کر جاتا ہے بابا آدم اور اماں حوا کو اللہ تعالی نے جنت کی رنگینی عطا کی تھی ۔
    ہم جنت کا تصور کریں تو دل خوش ہو جاتا ہے جب کہ آدم علیہ السلام نے قریب سے جنت کو دیکھا اور انہیں کھلی اجازت دی گئی کہ” کلو واشربو ھنیا مریا”
    اور ایک چیز کے قریب جانے پر پابندی لگا دی
    لیکن ہمارے مائی باپ سے رہا نہ گیا اور وہ ہزاروں حلال نعمتوں کو ایک طرف کرکے شجر ممنوعہ کا پھل کھا بیٹھے نتیجتا جنت سے خارج کر دیے گئے اس واقعے سے بنی نوع انسان کو یہ پیغام دینا مقصود تھا اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء رب کائنات کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے اور جو ان سے اپنا آپ بچا لیتا ہے وہ اللہ کے ہا ں سرخرو ہو جاتا ہے اور اللہ پاک اس کو مزید رحمتوں اور برکتوں سے نوازتا ہے ۔
    انسان خطا کا پتلا ہے ۔
    اسی لئے آدم اور حوا علیہماالسلام انجانے میں غلطی کر بیٹھے حقیقتاً تو وہ معصوم عن الخطاء تھے ۔
    لیکن ہم میں سے اکثر جان بوجھ کر گناہ کرتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں بالکل اسی طرح سب جانتے ہیں کہ شادی سے پہلے کا love یا عشق گناہ ہے اصل محبت تو شادی کے بعد شروع ہوتی ہے جسے نبھانا ہمارے معاشرے میں "جوئے شیر لانے ” کے مترادف بن چکا ہے ۔
    خدارا !
    اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا لیجئے ۔۔۔۔۔ اپنے رب سے محبت کیجئے۔۔۔۔۔۔ جس نے آپ کو اشرف المخلوقات بنایا۔۔۔۔۔۔۔ حقیقی رشتوں کو پہچانیئے ۔۔۔۔۔۔۔ان کا خیال کیجئے۔۔۔۔ُ ان سے محبت کیجئے۔۔۔۔۔۔ اپنے جیون ساتھی سے مودت کا رشتہ قائم کر یں۔۔۔۔۔۔۔ ادھر ادھر منہ مارنے کی بجائے غیر قوموں کی تقلید میں اپنے حقیقی اور خونی رشتوں کو اگنور مت کر یں ۔۔۔۔۔
    أپ انہیں محبت دیں گے تو وہ بھی آپ کا خیال رکھیں گے اس طرح خاندان تو کیا پورا معاشرہ امن و سلامتی اور پیار و محبت کا گہوارہ بن جائے گا یاد رکھیے یوم محبت ایک دن پر محیط نہیں بلکہ پوری زندگی پر محیط ہے جس سے ہمیں ہر روز منانا ہے-

  • "محبّت” اور صرف ایک دن؟    بقلم:مریم چوہدری

    "محبّت” اور صرف ایک دن؟ بقلم:مریم چوہدری

    "محبّت”……اور صرف ایک دن….؟؟؟
    (بقلم:مریم چوہدری)
    اسلام پاکیزہ و جاذب نظر تعلیمات سے سجا خوبصورت مذہب ہے….جہاں قدم قدم پر محبّتوں کا درس اور نفرتوں کی حوصلہ شکنی ہے…..جہاں رشتوں کا تقدس شرطِ اولین ہے اور اس سے آگے بڑھنا ممنوعات میں داخل ہے جہاں ماں باپ کی قدر و منزلت کا درس ہے….جہاں بہن،بھائی جیسے بے مثال رشتے کا اپنا مقام ہے….جہاں میاں،بیوی کے درمیان پیار و محبّت کا درس قدم قدم پر ملتا ہے….جہاں محرم و غیر محرم کی حد بتا کر ہر رشتے کو معزز و محترم ٹھہرایا گیا….مگر آج کے اس پرفتن دور میں جہاں مسلمان بہت سی غلط روایات کو اپنی زندگی کا حصہ ٹھہرا چکے ہیں وہیں اغیار کی اندھی تقلید بھی ان کا اوڑھنا بچھونا بن چکی ہے….بات اسلام پر عمل کی آئے تو مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے اور پلنے والے ہی اپنی انگلیاں دانتوں تلے داب لیتے ہیں لیکن اگر کسی بھی بات پر اغیار کی رسوم و روایات کا لیبل لگا ہو تو نہ صرف اس کو کھلے دلوں قبول کر لیا جاتا ہے بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے بھی خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کیا جاتا ہے حالانکہ یہ ذہنی غلامی و پستی کی انتہا ہے….آج انہی لوگوں کی روایات کو بصد خوشی اپنایا اور منایا جاتا ہے جنہوں نے ماں جیسے عظیم رشتے کی اہمیت کو ایک دن میں قید کر دیا…..باپ جیسی مشفق ہستی کے لئے جنہوں نے ایک دن مقرر کر دیا…..تو وہیں محبّت جیسے وسیع مفہوم رکھنے والے جذبے کو بھی نام نہاد محبّت کا خول دے کر اور جھوٹی و ناجائز محبّت کا ڈھونگ رچا کر ایک دن میں مقید کر دیا گیا….اور ہم ہیں کہ اس ریلے میں بہتے چلے جا رہے ہیں آج فروری کا مہینہ آئے تو ذہن میں ویلنٹائن ڈے کا آنا کچھ زیادہ عجیب نہیں لگتا کہ جب حدود و قیود کو کچل کر نوجوان لڑکے و لڑکیاں ایک دوسرے کو پھول،چاکلیٹس اور نہ جانے کیا کچھ پیش کرتے نظر آتے ہیں اور اسی سہ پہر کو کئی منچلے لڑکیوں کے باپ،بھائیوں سے پٹتے دکھائی دیتے ہیں اور تو اور بہت سے عقل کے کورے سال بھر شادی کی تاریخ مختص کرنے کے لئے 14فروری کا انتظار کرتے ہیں گویا ان کے نزدیک 14 فروری کی تاریخ نہ جانے کس خیرو برکت کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے…؟؟؟
    اقوام کو غلام بنانے کا یہ سب سے بہترین طریقہ ہے کہ ان پر اپنی روایات کا خول چڑھا دیا جائے اور یہی کچھ مغربی میڈیا اور ان کے کارپرداز بڑی شد و مد سے کرتے رہے اور کر رہے ہیں…..لارڈ میکالے نے کہا تھا:”سیاسی غلامی سے جب چاہے آزادی مل سکتی ہے اس لئے اگر اقوام کو ذہنی غلامی میں مبتلا کر دیا جائے اور انہیں احساسِ کمتری کا شکار کر دیا جائے تو وہ سیاسی آزادی کے باوجود ہمیشہ نسل در نسل غلام بننا قبول کر سکتے ہیں”.
    آج اگر دیکھا جائے تو مسلمان ظاہری طور پر آزاد ہیں مگر ذہنی غلامی کا مظاہرہ جس طرح آج کے مسلمانوں کر رہے ہیں وہ ایک المیہ ہے….آج اسلام کی روایات کو اپنانا اور بچانا ایک خواب نظر آتا ہے مگر دوسری طرف نام نہاد تہذیب کے رنگ و روپ ہر گھر کی چوکھٹ پر دستک دیتے دکھائی دیتے ہیں….اللّٰہم الرحم علی احوالنا….آج آگے بڑھنے کے لئے ان روایات پر عمل کا سہارا لیا جاتا ہے جن کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں حالانکہ یہ بات تاریخی طور پر طے ہے کہ اسلام کی روایات کو اپنا کر تو ہر دور میں آگے بڑھا گیا چاہے وہ اپنانے والے غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں مگر اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکا چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں…..اپنی روایات کو کھو کر اور دوسروں کی روایات کو اپنا کر آگے بڑھنے کا خواب وہ خواب ہے جو کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا بلکہ قدم قدم پر اخلاقی المیے ضرور جنم لے سکتے ہیں کیونکہ آزاد قومیں اپنی روایات بیچ کر دوسروں کی روایات خریدا نہیں کرتیں بلکہ اپنی الگ پہچان اور تشخص کو لیکر آگے بڑھتی ہیں جو قدموں کی بہت بڑی طاقت ہے اور جس سے اقوام کی دنیا میں ایک الگ پہچان منوانا بھی ممکن ہے اور یہی اسلام کا خاصہ ہے:
    اپنی ملت پر قیام اقوامِ مغرب سے نہ کر….
    خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ!!!
    ہمیں اسلام کی خوبصورت اور باوقار تعلیمیات کو اپنا کر آگے بڑھنے کا کام کرنا ہے نہ کہ ظاہری چکا چوند سے سجی مگر اندر سے کھوکھلی و غیر اخلاقی اقدار کو اپنا کر اپنے قدموں میں ضعف پیدا کرنا ہے کہ ان غیر مہذب روایات کے زہر کا تریاق اسلام کی تعلیمات کو سینے سے لگا کر ہی کیا جا سکتا ہے اور ان غیر مہذب روایات کے بارے میں تو کسی نے کیا خوب کہا:
    حسین سانپ کے نقش و نگار خوب سہی….
    نگاہ زہر پہ رکھ خوش نما بدن پر نہ جا….!!!
    جو قومیں طاقتور ہوں وہ اپنی روایات بانٹتی ہیں کسی کی روایات مستعار نہیں لیتی بلکہ اپنی روایات بیچ کر دوسروں کی روایات اپناناتو کمزوری اور بزدلی کی علامت سمجھی جاتی ہے…..ہٹلر نے کہا تھا:”اپنے آپ کو کمزور اور محتاج سمجھنے والی اقوام اپنی سیرت کا خاتمہ کر کے غیر اقوام کے غلبہ کو دعوت دیتی ہیں”.
    اور ایک مسلمان کو تو اپنے ایمان و عمل کی پونجی بچانے کے لئے صرف ایک حدیثِ مبارکہ ہی کافی ہے کہ اگر اسے دل و جاں سے مان لیا جائے تو سبھی غیر اخلاقی اور غیر مناسب روایات خود بخود دم توڑ جائیں……”جس نے کسی قوم سے مشابہت کی وہ اسی قوم میں شمار کیا جائے گا”.(ابوداؤد)
    اسلام میں فقط ایک دن نہیں بلکہ زندگی کا ہر لمحہ ہی محبّت اور سراسر محبّت ہے مگر اس محبّت میں ناجائز اور جھوٹی محبّت کی سرانڈ کا شائبہ تک نہیں کیونکہ اس کے گردا گرد حدود و قیود کا خوبصورت حصار ہے…..!!!
    اللّٰــــہ تعالٰی ہمیں اسلام کا عامل اور داعی بنائے….وباللّٰــــہ تعالٰی علی التوفیق.

  • فیض احمد فیض کا 110 واں یوم پیدائش

    فیض احمد فیض کا 110 واں یوم پیدائش

    معروف اور عالمی شہرت یافتہ شاعر فیض احمد فیض کا آج 110 واں یوم پیدائش منایا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے انہوں نے تعلیم آبائی شہراورلاہورمیں مکمل کی، اپنے خیالات کی بنیاد پر1936 میں ادبا کی ترقی پسند تحریک میں شامل ہوئے۔

    بعد ازاں درس و تدریس چھوڑ کردوسری جنگ عظیم میں انہوں نے برطانوی فوج میں شمولیت اختیارکی لیکن بعد میں ایک بار پھرعلم کی روشنی پھیلانے لگے جوزندگی کے آخری روزتک جاری رہی۔

    فیض احمد فیض کی شاعری کے انگریزی، جرمن، روسی، فرنچ سمیت مختلف زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں ان کے مجموعہ کلام میں ’نسخہ ہائے وفا، نقش وفا، دست صبا، سر وادی سینا، زنداں نامہ‘ اور دیگر قابل ذکر ہیں۔

    فیض احمد فیض وہ واحد ایشیائی شاعر تھے جنہیں 1963 میں لینن پیس ایوارڈ سے نوازا گیا -فیض کی شاعری مجازی مسائل پر ہی محیط نہیں بلکہ انہوں نے حقیقی مسائل کو بھی موضوع بنایا۔

    فیض کا کلام محمد رفیع، ملکہ ترنم نور جہاں، مہدی حسن، آشا بھوسلے اورجگجیت سنگھ جیسے گلوکاروں کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا جبکہ انہوں نے درجنوں فلموں کے لئے غزلیں، گیت اورمکالمے بھی لکھے –

    تاہم انقلابی شاعر 20 نومبر 1984 کو 73 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔