Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یکجہتی فلسطین ایمان کا حصہ ہے   ازقلم غنی محمود قصوری

    یکجہتی فلسطین ایمان کا حصہ ہے ازقلم غنی محمود قصوری

    یکجہتی فلسطین ایمان کا حصہ ہے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    موجودہ دور میں ہم دیکھیں تو مسلمان مصائب میں گھرے ہوئے ہیں جہاں دیکھوں مظلوم مسلمان اور ظالم کافر ہیں
    مسلمانوں کو ہر طرح سے غلام بنا کر رکھا گیا ہے جس کی وجہ ہماری جہاد جیسے اہم دفاعی و مذہبی فریضے سے دوری ہے اسی لئے آقا علیہ السلام نے فرمایا

    موجودہ ذلت جہاد سے دوری کا نتیجہ ہے

    "جب تم سودی کاروبار شروع کر لو گے اور گائے کی دُمیں پکڑلوگے،کھیتی باڑی پر تکیہ لگا کر بیٹھو گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ذلت کو مسلط کر دے گا اور اُس وقت تک نہیں ہٹائے گا جب تک تم اپنے اصل دین یعنی جہاد کی طرف لوٹ نہیں آتے۔”
    (ابوداؤد۔کتاب الجہاد۔حدیث:2956)

    آج دیکھ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پوری دنیا کا
    مسلمان پستی اور زبوں حالی کا شکار ہے جس کی خالصتاً وجہ جہاد چھوڑنے کا انجام ہے کشمیر ہو یا فلسطین شام ہو یا افغانستان و عراق ہر جگہ ہی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہے
    مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں میں ایک علاقہ فلسطین بھی ہے جو کہ مسلمانوں کا پہلا قبلہ اول بھی ہے

    لبنان اور مصر کے درمیانی علاقے کو فلسطین کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیر ہونے والی مسجد بیت المقدس بھی اسی علاقے فلسطین میں ہے مکہ مکرمہ سے پہلے یہی مسجد مسلمانوں کا قبلہ اول تھا اور مسلمان اسی کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے
    عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش اور تبلیغ کا مرکز بھی یہی فلسطین ہے
    مکہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریبا 1300 کلومیٹر ہے
    1948 سے پہلے تک فلسطین ایک آزاد خودمختار مسلمان ریاست تھی اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا

    1947 میں اس وقت کی سپر پاور برطانیہ نے مسئلہ فلسطین کو الجھایا ور یہودیوں کو باقاعدہ فنڈنگ کرکے انہیں مضبوط کیا تاکہ یہودی فلسطینی علاقوں پر قابض ہوجائیں وقت کی سپر پاور کی شہہ پر یہودیوں نے 14 اور 15 مئی 1948 کی درمیانی شب تل ابیب میں اسرائیلی ریاست کا اعلان کر دیا جس پر عربوں اور اسرائیل کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گئے
    مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھایا گیا تو مختلف ممالک نے مختلف تجاویز دیں جو کہ ساری کی ساری اسرائیلیوں کے حق میں ہی تھیں
    29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس و امریکہ کی فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کو دو تہائی اکثریت سے قرار داد نمبر 181 کے تحت منظور کر لیا تاہم عربوں نے اس بات کا رد کیا جس کے نتیجے میں بعد میں عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم باقاعدہ جنگ میں بدل گئے تھے

    1967 میں ظالم یہودی نے اپنی غلام و لونڈی سلامتی کونسل کے غیر جانبدارانہ رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا

    کافروں کی لونڈی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین میں بھی اپنا کوئی کردار ادا نا کر سکی اور 29 نومبر 1977 کو عالمی یوم یکجہتی فلسطین منطور کر لیا گیا جیسا کہ یکجہتی کشمیر کے لئے 5 فروری
    واضع رہے کہ بیت المقدس عیسائیوں ،یہودیوں اور مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس حدیث سے لگاتے ہیں

    سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟
    کیا بات ہے؟
    میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگا اور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شام میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔ مسند احمد 13015

    اس حدیث سے ثابت ہوا دجال یہودیوں میں ظاہر ہو گا اور اس وقت یہودی اسرائیل یعنی سابقہ فلسطینی علاقوں میں رہ رہے ہیں اور مسیحیت کے پیشوا جناب عیسی علیہ السلام بھی شام و فلسطین کے علاقے لد میں آسمان سے نازل ہونگے اور امت محمدیہ کے پیروکار بن کر آئینگے جس سے موجودہ عیسائیت کی غلط بیانی کی قلعی کھلتی ہے اسی لئے برطانیہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اسرائیل کو فلسطین پر قابض کروایا تھا
    نیز مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن دجال کا خاتمہ بھی یہیں ہو گا ان شاءاللہ
    اس لئے یہودی و عیسائی ہر حال میں فلسطین پر قابض رہنا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے فلسطینی مجاہدین و عوام 7 دہائیوں سے یہودیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے جیسا کہ کشمیری ہندوں کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں
    سلامتی کونسل کی جانب سے مسئلہ کشمیر و فلسطین کو حل کرنے کی قطعاً کوشش نہیں کی جار ہی ہے اس لئے یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کا حوصلہ بڑھائے رکھے اور ان کی مدد کریں
    مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کو اپنے طور پر اسرائیل کا ناطقہ بند کرنا چاہئیے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو بتانا چاہئیے کہ اس وقت پوری دنیا میں اسرائیل کے برانڈ چل رہے ہیں جن میں کولا کولا،پیپسی ،سام سنگ ،ڈیل و دیگر مشہور ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جو ہمارے ہی مسلمان ممالک سے لیسہ کما کر ہمارے مسلمان کو غلام بنائے رکھنے میں صرف کرتی ہیں نیز اسرائیل کے برانڈز کے مقابلے میں ان تمام ممالک کو مشترکہ طور پر اپنے برانڈ لگانے چائیے اور اس کی بچت فلسطینیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنی چاہئیے
    آئیے جیسے 5 فروری کو پچھلے ہفتے کشمیریوں سے یکجہتی کی ایسے ہی اس ہفتے 14 فروری کو کو بطور یوم یکجہتی فلسطین منا کر فلسطینیوں کی ہمت بڑھائیں کیونکہ فلسطینیوں سے اسرائیل کو اس کی سوچ سے بڑھ کر جواب دیا ہے اور دے بھی رہے ہیں

  • ویلنٹائن ڈے کا آغاز کیسے ہوا  ایک تحقیق   از قلم غنی محمود قصوری

    ویلنٹائن ڈے کا آغاز کیسے ہوا ایک تحقیق از قلم غنی محمود قصوری

    ویلنٹائن ڈے کا آغاز کیسے ہوا
    ایک تحقیق

    از قلم غنی محمود قصوری

    گلوبلائزیشن سے انکار نہیں مگر اس فوائد کیساتھ نقصانات بھی ہوئے ہیں جیسے کہ کافروں کو اپنا کر اپنا ایمان خراب کر بیٹھنا
    ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہماری پوری زندگی اسلام طرز زندگی کی محتاج ہے ہمیں ہر کام کرنے سے پہلے تحقیق کرنے کی عادت ہونی چاہیں تاکہ ہم جان سکیں کہ جو کام ہر کرنے جا رہے ہیں وہ اسلامی ہے کہ غیر اسلامی تاکہ آخرت میں ہم اللہ کے حضور جواب دہ ہو سکیں
    ہمیں ہر برے کام سے منع کیا گیا ہے

    اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں

    کہ دو کہ اللہ تعالی بے حیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا ۔۔الاعراف 28
    آج ہمارے اندر ایک انتہائی برا کام جنم لے چکا ہے جس کا نام ویلنٹائن ڈے ہے جو کہ خالصتاً کفریہ کام ہے اس کا آغاز کیسے ہوا کس کی وجہ سے شروع ہوا اور کتنا عرصہ قبل شروع ہوا یہ جانتے ہیں
    تہوار ویلنٹائن ڈے جسے
    Saint Valentine’s Day
    بھی کہا جاتا ہمارے اس ارض پاک پر بھی لبرلز کی طرف سے منایا جاتا ہے
    اس دن شادی شدہ و غیر شادی شدہ بے راہ روی اور دین سے دوری کا شکار لڑے لڑکیاں ایک دوسرے کو پھول دے کر اظہار محبت کرتے ہیں اسی بابت اسے Lover,s Festival
    بھی کہا جاتا ہے
    اس دن کے حوالے سے کوئی مستند روایات تاریخ میں موجود نہیں ہیں کہا جاتا ہے کہ 1700 عیسوی میں روم میں ایک سینٹ ویلنٹائن نامی راہب تھا جسے ایک (Nun) نن نامی راہبہ سے عشق ہو گیا تھا
    واضع رہے کہ مسیحیت میں کسی راہب یا راہبہ کا نکاح کرنا و جنسی تعلقات رکھنا سخت ممنوع ہیں مگر ہوس کے پجاری راہب سینٹ ویلنٹائن نے نن راہبہ سے جنسی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی جسے راہبہ نے ٹھکرا دیا
    ویلنٹائن پر جنون سوار تھا اور وہ ہر قیمت پر جنسی ہوس پوری کرنا چاہتا تھا اس نے نن کو سو افسانوی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ اگر ہم 14 فروری کو جنسی تعلقات قائم کرلیں تو ہم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا
    ویلنٹائن کی یہ چال کارگر رہی اور نن نامی رائںہ مان گئی
    اور یوں دونوں مذہب کے رکھوالے مذہب کی بے حرمتی چرچ میں ہی کرگئے جس کا علم کلیسا کو ہو گیا
    یہ واقعہ کلیسا کی روایات کے سخت خلاف تھا اس لئے ان دونوں کو پکڑا گیا اور تحقیقات کی گئیں اور جرم ثابت ہونے پر انہیں فوری قتل کر دیا گیا
    یوں اپنے دین سے بیزار اور خدا کے گھر چرچ میں بدفعلی کرنے والے خود ساختہ عاشقوں کی کہانی اس وقت کے جوان بے راہ روی پر مبنی جوڑوں تک پہنچی تو انہوں نے اس پریم کہانی کو زندہ کرنے کیلئے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانا شروع کر دیا حالانکہ خود مسیحیت میں بھی اس دن کو برا سمجھا جاتا ہے
    مگر پھر بھی ہمارے ملک میں اس دن کو بڑے جوش کیساتھ منایا جاتا ہے اور ہر آنے والے سال اس میں تیزی آ رہی ہے جس کی وجہ اس دور کے مذہبی غداروں کو آج کے مذہبی غداروں کی خود ساختہ حمایت حاصل ہے
    مگر ہم بھول گئے کہ شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے جو کہ ہر مذہب میں گناہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور ہم تو آخری نبی کے امتی ہیں کہ جنکی شان و شوکت دوسری امتوں سے زیادہ ہے اسی لئے حدیث میں نبی ذیشان نے فرمایا ہے کہ

    جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔صحیح بخاری 3329

    حدیث کی رو سے کفار کی مشہابت اختیار کرنے والوں کا دین اسلام اور جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں وہ کفار کیساتھ روز قیامت اٹھائے جائینگے اب فیصلہ ہم پر ہے کہ ہم شادی کرکے اپنی زوجہ سے پیار کریں کہ جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے یا پھر مذہب کے بھگوڑے جوڑے کی یاد میں ایک بے ہودہ دن منا کر کہ جسے کوئی بھی مذہب اچھا نہیں سمجھتا خدارا پیار کیجئے مگر اپنی بہنوں بیٹیوں کی عزت کا خیال کرکے اگر آپ بھی ایسی راہ پر چلیں گے تو یقیناً آپ کی دیکھا دیکھی آپ کی بہنیں ،بیٹیاں بھی اسی راہ پر چلیں گیں
    اسی لئے ویلنٹائن ڈے نہیں شرعی نکاح کیجئے اور ساری زندگی وہ سچا پیار اپنی ازواج سے کیجئے کہ جس کے کرنے سے اللہ راضی ہوتا ہے اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور معاشرہ امن کا گہوارہ بنتا ہے

  • پیار کیا ہے؟ والدین، اولاد، رشتے داروں سے محبت یا پھر دنیاوی عشق و معشوقی؟     بقلم: عاشق علی بخاری

    پیار کیا ہے؟ والدین، اولاد، رشتے داروں سے محبت یا پھر دنیاوی عشق و معشوقی؟ بقلم: عاشق علی بخاری

    آؤ پیار کریں
    بقلم: عاشق علی بخاری

    لفظِ پیار جتنا زیادہ میٹھا ہے اتنا ہی زیادہ اپنے اندر وسیع مفہوم بھی رکھتا ہے. جب ہم یہ لفظ بولتے ہیں تو سوچیے!
    ہمارے ذہن میں کیا آتا ہے؟ والدین سے محبت، اولاد سے محبت، رشتے داروں سے محبت یا پھر دنیاوی عشق و معشوقی؟

    یقیناً جو آپ سوچ رہے ہیں وہی جواب بالکل ٹھیک ہے. اس لیے کہ ہمارا ذہن فطری محبت کے بجائے منفی (Negative) سوچنے کا عادی ہوچکا ہے. ہمارے ذہن کی کیفیت اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ مثبت (Positive) اور سنجیدہ باتیں بھی منفی محسوس ہوتی ہیں اگر آپ میری بات سے متفق نہیں تو پھر ذرا تجربہ کرکے دیکھ لیں.وجہ یہ ہے کہ ہم اس گروہ کا حصہ بن چکے ہیں جو ہمیشہ منفی سوچتا ہے.
    پھر محبت ہے کیا، کس بلا کا نام ہے؟

    دراصل محبت "رحم کے ان جذبات و احساسات کا نام ہے جو انسان دوسروں کے لیے اپنے دل میں محسوس کرتا ہے”
    وہ احساس جو والدین، بہن بھائیوں، رشتے داروں کے لیے پیدا ہوتے ہیں. کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کسی مظلوم، مسکین و غریب کو دیکھ کر ہمارا دل نرم کیوں ہوجاتا ہے؟ کیوں ہماری آنکھیں آنسو بہانا شروع کردیتی ہیں؟ حقیقت میں یہی محبت ہے.

    پتہ ہے اللہ تعالیٰ بھی ہم سے محبت کرتا ہے؟ اسے بھی ہماری حالت پہ رحم آتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہم سے محبت کرتے ہیں. کیوں؟

    وہ نہیں چاہتے کہ ہمارے ماننے والے جہنم میں جائیں، انہیں تکلیفیں پہنچیں، ہم مشکلات کا شکار ہوجائیں. وہ چاہتے ہیں کہ ہم ان سے محبت کریں، ان کی اطاعت میں زندگی کو لگادیں.

    ہمارے والدین، بہن بھائی، رشتے دار، اساتذہ یہ سب لوگ ہم سے محبت کرتے ہیں، یہ سب ہمیں چاہتے ہیں، ان سب کو ہم سے پیار ہے ایسا پیار جس میں کسی قسم کی دو نمبری نہیں ہے. آپ بھی ذرا ان سے محبت کرکے دیکھیں، والدین کا ماتھا چومیں، بہن بھائیوں، رشتے داروں کے لیے اپنا جگر نرم کریں، اساتذہ کا احترام کریں، سب سے بڑھ کر خود اپنے آپ سے محبت کریں.

    بقول شاعر:
    اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
    تُو اگر میرا نہیں بنتا تو نہ بن اپنا تو بن

    تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہم کسی لڑکی کو اپنا دوست بنانا اس کے ساتھ، دن رات گزارنے کو حقیقی محبت سمجھتے ہیں. اس کے علاوہ کونسی محبت، کونسے تعلقات، کونسی رشتے داریاں سب بیکار اور کم تر نظر آتی ہیں. آج کل کی نوجوان نسل اور آزاد خیال لوگوں کے نزدیک محبت کا مفہوم بس یہی ہے.

    لڑکا چار چار لڑکیوں سے افیئر کرے، بیوی غیر مردوں سے تعلقات جوڑے اس کی مرضی ہے، محبت کرنا اس کا بھی حق ہے. حقیقت میں یہ نوجوان بھول جاتا ہے کہ جب کوئی نہ تھا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے والدین اس سے محبت کرنے والے موجود تھے. جب یہ لڑکی اس کی زندگی میں نہیں آئی تو اساتذہ نے سکھایا تھا، رشتے داروں نے سہارا دیا تھا لیکن اس کے ذہن پر ایسا نشہ سوار ہوتا ہے کہ اس کی زندگی میں آنے والی ایک اجنبی لڑکی اس کی کُل دنیا بن جاتی ہے.

    یہ حقیقی پیار اور محبت کو بھول کر ایک ناپائیدار محبت کے لیے جان تک قربان کردیتا ہے لیکن اگر کچھ کر نہیں سکتا تو ایک گلاس پانی والدین کو نہیں دے سکتا، اپنے رب کے لیے جھک نہیں سکتا تو پھر کیسے مان لیا جائے کہ تیرے اندر بھی محبت کے جذبات موجود ہیں؟ اگر تجھے محبت ہے تو سب کے لیے ہوتی، اگر تُو پریشان ہوجاتا ہے تو سب کے لیے ہوتا، اگر تجھے نیند نہیں آتی تو سب کے لیے نہیں آنی چاہیے تھی.

    محبت کوئی بچوں کا کھیل تو نہیں کہ جب دل چاہا کھیل لیا اور جب دل بھر گیا تو کہیں بھی پھینک دیا. یہ بچپن میں بنایا ریت کا گھر نہیں کہ سورج ڈھلتے ہی ٹھوکر سے گرادیا. جس لڑکی سے آپ محبت کا دم بھرتے ہو وہ تو جذبات سے بھرا ایک جیتا جاگتا انسان ہے نہ وہ کھلونا ہے اور نہ ریت کا گھر کہ جب دل کیا اٹھایا اور جب دل چاہا نیا بنالیا. محبتیں تو دائمی ہوتی ہیں جہاں گھر بنالیں تو وہ ٹھکانہ نہیں چھوڑتیں. یہ کوئی سائیبیرین پرندہ نہیں کہ جب موسم تبدیل ہونے لگے تو اپنا علاقہ ہی چھوڑ دے.

    محبت کیجیے اور ضرور کیجیے لیکن ایسی محبت کہ دنیا میں بھی فائدہ دے اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب نہ ہو. ایسی محبت کریں جو خاندانوں کو ملانے کا سبب بنے، وہ محبت رشتوں کو جوڑدے، نفرتوں کے بیج نکال دے، جس پر آپ فخر کرسکیں.

    وہ محبت ہی کیا جو اپنوں سے بیگانہ کردے، جو تنہائیوں کی وجہ بنے، جو اپنے شہر سے نکل جانے اور خون کے آنسو رلادے. محبت تو ایک ایسا درخت ہے اگر بنجر سے بنجر زمین میں بھی لگے تو وہاں بھی ہرا بھرا رہتا ہے. محبت ایک ایسا سبق ہے جسے بار بار دہرانے اور یاد کرتے رہنے کی ضرورت ہے.

  • ضمیر کی قید     تحریر: جویریہ بتول

    ضمیر کی قید تحریر: جویریہ بتول

    ضمیر کی قید…!!!
    (جویریہ بتول).
    اُلجھتی رہی لہریں بھی،طوفان بھی اُٹھتا رہا…
    آتی رہی رکاوٹیں،راہِ در بھی مگر کُھلتا رہا…
    قدم قدم کی ٹھوکروں نے بارہا کی گِرانے کی جستجو…
    یقین تھا ایسا مگر جو گِر گِر کر سنبھلتا رہا…
    شدت کے لمحات میں کہیں آنسو بھی چمک پڑے…
    حوصلوں کی آغوش میں پھر دل یہ مچلتا رہا…
    خطاؤں کے غبار تھے،کہیں بھول کے انبار تھے…
    ہٹی نظر نہ رحیم کی،ابرِ رحمت سدا برستا رہا…
    دنیا کی رنگینیوں نے کہیں حصار میں جو لے لیا…
    ضمیر کا قیدی ضرب سے مسلسل ہی پلٹتا رہا…
    جمی رہیں نظریں یہ امتحاں کے سود و زیاں پر…
    ناکامی کا خوف تھا،جو اندر ہی اندر بڑھتا رہا…
    نہیں ہو گی کچھ ناقدری ہر ایک اچھے عمل کی…
    پڑھتا رہا پیغام یہ نفس،اور اُمید میں ڈھلتا رہا…!

  • تحریک لبیک کے بیانیے کی فتح از قلم: انجینئر محمد ابرار

    تحریک لبیک کے بیانیے کی فتح از قلم: انجینئر محمد ابرار

    عنوان: تحریک لبیک کے بیانیے کی فتح
    از قلم: انجینئر محمد ابرار
    اللہ تعالی نے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا ہے.آپ کی ذات رحمت للعالمین ہے اور زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ یے. آپ کی زندگی میں گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انجام قتل کے واقعات بھی ملتے ہیں. دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں فتح مکہ والے دن رسول اللہ نے تمام لوگوں کی عام معافی کا اعلان فرمایا مگر گستاخ شخص کعبہ کے غلاف میں بھی لپٹا ہوا نہ بچ سکا. حضرت علی سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جس نے کسی نبی جو گالی دی اسے قتل کیا جائے گا” حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص لایا گیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا تھا تو آپ نے فرمایا "جس نے اللہ کو یا انبیائے اکرام میں سے کسی جو گالی دی تو اسے قتل کر دیا جائے”. امام مالک کا فرمان ہے "اگر رسول اللہ کی شان میں گستاخی ہو اور امت اس کا بدلہ نہ لے سکے تو ساری امت مر جائے”. چند ماہ قبل فرانس کی عمارت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے دکھائے گئے.

    یہ واقع اس وقت پیش آیا جب فرانس کے ایک سکول میں سیموئل پارٹی نامی ہسٹری کے استاد نے اپنی ایک کلاس میں آزادی اظہارِ رائے پر طلباء کو لیکچر دیتے ہوئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون معاذ اللہ پروجیکٹر پر دکھائے. سیموئل کو ایک طالب علم نے واصل جہنم کیا جس کے بعد فرانس کے صدر نے سرکاری عمارت پر ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے آویزاں کئے. ایک خاکے میں ٹوائلٹ پیپر کے تین رول دکھا کر ان کو بالترتیب بائبل، قرآن اور زبور کا نام دیا گیا. اس واقعہ کے بعد پورے عالم اسلام میں غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی اور کئی اسلامی ممالک میں عوام نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے محبت کا ثبوت دیا. سلطلنت عثمانیہ کے دور میں اگر کسی جگہ مسلمانوں کے عقائد و نظریات پر حملہ ہوتا تو وہ حملہ پورے عالم اسلام پر تصور کرتے ہوئے سلطنت عثمانیہ اس کا جواب دیتی تھی سلطنت کے ختم ہونے کے بعد یورپ نے پھر پرانی روش پر چلتے ہوئے گستاخی کی ناپاک جسارت کی ہے.ترک صدر رجب طیب اردگان نے فرانسیسی صدر کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ یہ دماغی مریض ہے اسے دماغی علاج کی ضرورت ہے. اس بیان کے بعد فرانسیسی صدر نے رد عمل دیتے ہوئے ترکی میں موجود سفیر کو واپس طلب کر لیا. کویت سمیت کئی ممالک نے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا اور اپنے سپر سٹورز سے فرانس کی تیار کردہ مصنوعات ہٹا دیں. دنیا کے واحد ایٹمی ملک پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے فقط فرانس کے صدر کو لوگوں کو تقسیم نہ کرنے اور انتہاپسندی کو ہوا نہ دینے کا کہہ کر نیلسن منڈیلا کی مثال دے کر اسی پر اکتفا کیا.

    وزیر اعظم کا یہ بیان پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین منافی تھا اور لوگوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے. وزیر اعظم صاحب اپنے سیاسی مخالفین کو تو منہ ہر ہاتھ پھیر پھیر کر واپس لانے اور احستاب کی دھمکیاں دیتے رہے مگر وجہ تخلیق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی پر ایک مردانہ بیان نہ دے سکے جو ان کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر اب بھی موصوف ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں. وزیر اعظم کی شان میں توہین پر تو ایکشن لیا جاتا ہے مگر عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کے وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد فوراً جلد صحتیابی کی دعائیں دیتے تو نظر آتے ہیں مگر گستاخی کے رد عمل میں تین دن گزر جانے کے بعد اتنا مصلحت پسندانہ رد عمل کیوں دیتے ہیں؟ پالیمنٹ کا اجلاس اس معاملے پر طلب کیا جاتا ہے جس میں بھی مقتدر ارکان و اپوزیشن سیاست کرتی نظر آتی ہے جس کے نتیجے میں ڈپٹی سپیکر کو اجلاس 10 منٹ کے لئے موخر کرنا پڑتا یے بعد ازاں فقط ایک قرار داد منظور کر لی جاتی ہے جس کی یورپ کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں.کیا ہماری غیرت ایمانی ختم ہو چکی یے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے حساس مسئلہ پر بھی ہمارے حکمران ایک پیج پر نظر نہیں آتے. بجائے عالم کفر کو للکارنے کے وہ فقط اپنے آقاؤں کو خوش کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں. اس ساری صورت حال میں علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے فرمایاتھا کہ ایٹم بم باہر نکالیں دشمن کو للکاریں یہ کس لئے ہم نے رکھا ہوا یے.

    ساتھ ہی انہوں نے حکومت وقت کو وارننگ دیتے ہوئے مجلس شورہ کا اجلاس بلوا پر فرانس کے مسئلہ پر اگلا لاحہ عمل طے کرتے ہوئے لیاقت باغ تا فیض آباد مارچ کا فیصلہ کیا. حکومتی مشینری حرکت میں آئی اور ناموس رسالت کے پروانوں پر لیاقت باغ سے فیض جاتے ہوئے آنسو گیس کے ہزاروں شیل برسائے گئے. نومبر کی سخت سردی اور بارش بھی ناموس رسالت کے پروانوں کے حوصلے پست نہ کر سکی. ساری رات آپریشن اور شیلنگ کی جاتی رہی بعدازاں حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت تین ماہ کے عرصہ میں حکومت نے فرانیسی سفیر کو ملک بدر کرنا تھا.حکومت نے ہمیشہ کی طرح ہٹ دھرمی سے کام لیا اور معاہدہ پر کسی قسم کا عمل نہ کیا. نو منتخب امیر علامہ سعد حسین رضوی نے رضوی صاحب کے چہلم پر حکومت وقت کو واضح پیغام دیا کہ ہم 16 فروری تک اپنے معاہدے کے پابند ہیں اسکے بعد ہم ہر صورت لائحہ عمل تیار کر کہ معاہدہ فیض آباد پر عمل کروائیں گے. جوں جوں 16 فروری نزدیک آتی گئی حکومتی ایوانوں میں بے چینی بڑھتی گئی اور ایک مزاکراتی ٹیم نے تحریک لبیک سے مزاکرات شروع کئے. پہلے پہل حکومتی لوگ تحریک لبیک کو معاہدہ سے پیچھے ہٹانے کی بھرپور کوشش کرتے رہے مگر جب ہر بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو آخر کار انہوں نے تحریک لبیک کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے تاریخ میں توسیع کی استدعا کی اور مزید وقت مانگا.

    کسی کو NRO نہیں دوں گا کہنے والے وزیر اعظم کے وزیر یہاں خود NRO مانگتے نظر آئے. تحریکی قائدین کی جانب سے یہ شرط رکھی گئی کہ اگر وزیراعظم اس کا خود اعلان کرے تو ہم اس بات پر راضی ہیں.لہذا معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے اور وزیر اعظم نے گزشتہ روز اپنے انٹرویو میں اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جو کہ تحریک لبیک کے بیانیے کی واضح فتح کی دلیل ہے. نئے معاہدے کے تحت 20 اپریل تک حکومت یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے جا کر اسکی منظوری لے گی. یوں پالیمنٹ کی وہ کالی بھیڑیں جو ووٹ مسلمانوں سے بٹورتی ہیں اور مغربی آقاؤں کو خوش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی وہ بے نقاب ہوں گی. وہاں سے سب کو معلوم ہو جائے گا کہ کون محافظ ناموس رسالت ہے اور کون غدار ناموس رسالت ہے. PDM کے افراد بھی 17 فروری کا انتظار کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ حکومت و تحریک لبیک کے مابین معاہدہ فیض آباد کو لے کر معاملات خراب ہوں. حکومت کریک ڈاؤن یا اس قسم کا کوئی ایکشن لے تو ہم سانحہ مچھ کی طرح یہاں بھی اپنی سیاست چمکائیں.کچھ عناصر سوشل میڈیا پر تحریک لبیک کے نوجوانوں کو نئے معاہدہ کی تاریخ اجراء 11 جنوری کو لے کر مشتعل کرتے نظر آئے جس کی وضاحت علامہ شفیق امینی نے نیشنل میڈیا پر آ کر دی کہ یہ ٹائپنگ کی غلطی ہے معاہدہ 11 فروری کو طے پایا یے. نومنتخت امیر علامہ سعد حسین رضوی نے عظیم فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف وزیراعظم کو معاہدہ میں ڈائریکٹ شامل کرتے ہوئے ان سے اعلان کروایا ہے بلکہ ان عناصر کو بھی شکست دی ہے جو خون خرابہ اور ذاتی سیاست چمکانے کے خواہاں تھے .یوں تحریک لبیک کے ناموس رسالت کاز کے بیانیے کو ایک بار پھر فتح نصیب ہوئی.

  • واٹس ایپ چیٹ کو محفوظ بنانے کے چار طریقے

    واٹس ایپ چیٹ کو محفوظ بنانے کے چار طریقے

    معروف میسجنگ موبائل ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے اپنی چیٹ کو محفوظ بنانے کے لیے چار طریقے بتائے ہیں۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں صارفین کو اپنی چیٹ محفوظ بنانے کے لیے چار طریقوں سے آگاہی فراہم کی ہے جن کی مدد سے واٹس ایپ صارفین اپنی چیٹ کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔


    1: ویڈیو میں پلیٹ فارم نے پہلا آپشن ٹواسٹیپ ویری فکیشن بتایا ہے جس کی موجودگی میں کوئی غیرمتعلقہ شخص واٹس ایپ صارف کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔


    یہ فیچر استعمال کرنے کے لیے صارفین کو واٹس ایپ کی سیٹنگ میں جاکر اکاؤنٹ کا انتخاب کرکے 6 ہندسوں کا کوڈ ڈالنا ہوگا جس کے بعد یہ آپشن فعال ہو جائے گا۔

    اگر کوئی صارف سیکیورٹی کوڈ بھول جائے تو اسے ای میل کے ذریعے تبدیل کرا سکے گا۔


    2:اگر کوئی ایسا شخص جو آپ کے کانٹیکٹ لسٹ میں شامل نہ ہونے کے باوجود آپ کو میسیج بھیج رہا ہے یا پھر اگر کوئی میسیج آپ کو مشکوک محسوس ہو رہا ہے تو آپ اس کی اطلا فوری طور پر واٹس ایپ کو دے سکتے ہیں۔


    اس نمبر سے بھیجے گئے میسیج پر جب آپ کلک کریں گے تو آپ کی موبائل اسکرین پر تین آپشن نمودار ہوں گے، آپ ان میں رپورٹ کا آپشن منتخب کرکے واٹس ایپ کو اطلاع کر سکتے ہیں۔

    اس طریقہ کار میں واٹس ایپ نے صارفین کو واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے طریقے کار سے متعلق بھی آگاہ کیا ہے۔


    3:واٹس ایپ انتظامیہ آپ کو پرسنل پروفائل کانٹیکٹ میں شامل شامل ہر فرد یا پھر کسی کے ساتھ بھی شیئر نہ کرنے کا آپشن فراہم کرتا ہے، اس آپشن کے ذریعے آپ اپنی خواہش کے تحت کوئی بھی آپشن منتخب کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی پروفائل فوٹو کو تمام کانٹیکٹس یا پھر کسی کے ساتھ بھی شیئر نہ کریں یہ آپ کی مرضی ہے۔


    4: اس طریقہ کار میں واٹس ایپ کی جانب سے ایک بار پھر صارفین کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ کوئی بھی آپ کے پیغامات نہیں پڑھ سکتا۔

    واٹس ایپ کے مطابق صارفین کی چیٹ مکمل طور پر ذاتی ہے،کوئی بھی شخص انہیں نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ پڑھ سکتا ہے، یہاں تک کہ پلیٹ فارم بھی نہیں۔

  • انوکھے اور دلچسپ انداز میں سجائی گئی کار کے سوشل میڈیا پر چرچے

    انوکھے اور دلچسپ انداز میں سجائی گئی کار کے سوشل میڈیا پر چرچے

    سوشل میڈیا پر انوکھے انداز میں سجائی گئی کار کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جو اپنی دلچسپ سجاوٹ کے باعث صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی :مشہور کہاوت ہے کہ شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی تاہم اس بات کی سچائی اور حقیقت کا اندازہ سوشل میڈیا پر وائرل انوکھے طریقے سے سجائی گئی گاڑی کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے-


    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی کو ایک چھوٹے سے فارم ہاؤس میں تبدیل کیا گیا ہے اس کو نہ صرف رنگ برنگے پرندوں مختلگ رنگوں کے اسٹیکرز سے سجائی گئی ہے بلکہ اس کے فرنٹ پر پاکستان کا جھنڈا ، کینو ،گائے میزائلز اور انڈوں پر بیٹھی ہوئی مرغی اور دیگر چیزوں کے ڈھانچے بھی آویزاں کئے گئے ہیں-

    جبکہ کار کے ٹائروں کو بھی خوبصورتی کے ساتھ سجایاگیا ہے-

    کار کے مالک کا کہنا ہے کہ ابھی ان کا آدھا شوق پورا ہے اور اس پر 4 لاکھ روپے کا خرچہ آ چکا ہے اور ابھی 4 لاکھ س کے اوپر اور لگے گا تب اس کی سجاوٹ پوری ہو گی-

    کار کے مالک کا مزید کہنا تھا کہ ابھی لوگ اس کی گاڑی کو جاتے جاتے دیکھتے ہیں جب پوری تیار ہو جائے گی تو لوگ کھڑے ہو کر دیکھیں گی-

  • اسرابلجیک نے پی ایس ایل 6 میں پشاور زلمی کی نمائندگی کی تصدیق کردی؟

    اسرابلجیک نے پی ایس ایل 6 میں پشاور زلمی کی نمائندگی کی تصدیق کردی؟

    سلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ میں حلیمہ سلطان کا مرکزی کردار ادا کرنے والی تُرک اداکارہ اسرا بلجیک نے پاکستان سُپر لیگ کے چھٹے سیزن میں پشاور زلمی کی نمائندگی کرنے کی تصدیق کردی۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے اسرا بلجیک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹوئٹ میں جاری کیے گئے پیغام میں لکھا ’نئی شروعات۔‘
    https://twitter.com/esbilgic/status/1359574689643921409?s=20
    اسرا بلجیک نے اپنے ٹوئٹ میں پی ایس ایل کی فرنچائز پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی اور پشاور زلمی کے آفیشل اکاؤنٹ کو بھی ٹیگ کیا۔


    دوسری جانب جاوید آفریدی نے بھی اسرا بلجیک کو ٹیگ کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں ’نئی شروعات‘ لکھا۔

    اسرا بلجیک اور جاوید آفریدی کے ٹوئٹس دیکھنے کے بعد اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تُرک اداکارہ پی ایس ایل سیزن 6 میں پشاور زلمی کی نمائندگی کرنے والی ہیں۔
    https://twitter.com/divorched_/status/1359581266539143172?s=20
    جبکہ ایک صارف نے جاوید آفریدی کی ٹوئٹ کو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ کہیں نئی زندگی کی شروعات تو نہیں؟

    واضح رہے کہ گزشتہ سال پی ایس ایل کی فرنچائز پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے اسرا بلجیک کو فرنچائز کا برانڈ ایمبیسڈر بنانے کے حوالے سے صارفین سے مشورہ مانگا تھا جس پر سوشل میڈیا صارفین نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے جاوید آفریدی کے اس فیصلے پر بےحد خوشی کا اظہار کیا تھا۔

  • کمیونیکیشن مارکیٹ میں ٹیکنالوجی اورکارکردگی کے بغیربرقراررہنا ممکن نہیں   وفاقی وزیرآئی ٹی سید امین الحق

    کمیونیکیشن مارکیٹ میں ٹیکنالوجی اورکارکردگی کے بغیربرقراررہنا ممکن نہیں وفاقی وزیرآئی ٹی سید امین الحق

    وفاقی وزیرآئی ٹی سید امین الحق سےقائم مقام چیف ایگزیکٹیو آفیسر پی ٹی سی ایل ندیم خان سے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیرآئی ٹی سید امین الحق سےقائم مقام چیف ایگزیکٹیو آفیسر پی ٹی سی ایل ندیم خان سے ملاقات کی ملاقات میں وفاقی وزیر کو پی ٹی سی ایل کے مستقبل کے منصوبوں پربریفنگ دی گئی –

    وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق نے فائیوجی ٹیکنالوجی کی آزمائش،کمیونیکیشن انفراسٹرکچر منصوبوں کی تعریف کی –

    اس حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی ضرورت ،آگے بڑھنے کا درست راستہ ہےعوامی رابطوں کیلئے پی ٹی سی ایل اور صارفین کے مابین دیرینہ رشتہ ہے-

    سید امین الحق کا کہنا تھا کہ کارکردگی جتنی بہتر ہوگی یہ رشتہ اتنا ہی مضبوط ہوگا کمیونیکیشن مارکیٹ میں ٹیکنالوجی اورکارکردگی کے بغیربرقراررہنا ممکن نہیں-

    وفاقی وزیر امین الحق کا کہنا تھا کہ وزارت آئی ٹی پی ٹی سی ایل کو مکمل سپورٹ فراہم کرے گی-

    واضح رہے کہ اس سے قبل PTCL نے انٹرنیٹ کی سپیڈ کو مزید تیز کرنے کے لئے ملک بھر میں جاری اپنی 3G سروسز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا پی ٹی سی ایل کمپنی کا کہنا تھا کہ اپنے صارفین کو بہترین انٹر نیٹ کی سپیڈ فراہم یقینی بنانے کے لئے PTCL جنوری 2021 میں اپنے Charji 4G LTE نیٹ ورک کو اپ گریڈ کر رہا ہے جس کے نتیجے میں گوادر ، بنوں ، ڈی آئی خان، ہنگو ،ٹانک،کرک ،کوہاٹ ، اٹک ،راولپنڈی ،چکوال ، جہلم ،کوئٹہ ، مستونگ ، خضدار ،سبی ،اورالئی ،برکھا ، لسبیلہ ، ہری پور، پشین ، کوہلو ، واہ کینٹ اور گوجر خان میں پرانی 3G Evo سروسز 31 جنوری 2021 سے ختم کر دی جائیں گی-

    پی ٹی سی ایل کا 3G سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی اے نے پی ٹی سی ایل کو مزید 25 سال کام کرنے کا لائسنس جاری کر ديا گیا

     

  • ا صل خوب صورتی   تحریر:جویریہ بتول

    ا صل خوب صورتی تحریر:جویریہ بتول

    ا صل خوب صورتی…!!!
    (جویریہ بتول).
    پردہ کی اہمیت مسلمہ ہے… وہ غلطیوں کا ہو…رازوں کا ہو… قیمتی اشیاء یا پھر روح و بدن کا ہو…جب پردہ کا حصار ان چیزوں سے اُٹھ جائے تو سب ہلکا ہو جاتا ہے…وزن اور معیار گرنے لگتا ہے…ہم کوئی بھی چیز جب کسی مارکیٹ یا سپر سٹور سے خریدنے جاتے ہیں تو بہترین پیکنگ میں چیز خریدتے ہیں لیکن جب وہی چیز ہم کھول کر گرد سے اَٹی واپس کرنے جائیں تو دکان دار واپس کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ نہیں جناب یہ تو استعمال ہو چکی ہے،اس کی زینت و آرائش مدہم کر دی گئی ہے…
    اللّٰہ تعالٰی نے بنی آدم کے لیے دیگر نعمتوں کے ساتھ ساتھ لباس کی نعمت بھی نازل کی جس کا ذکر اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کیا ہے…
    لباس کا مقصد جسم کو بے پردگی سے بچانا…اُس کا تحفظ اور موسم کے گرم و سرد سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے…
    اللّٰہ تعالٰی نے جہاں لباس کو موجبِ زینت قرار دیا وہیں تقویٰ کے لباس کی وضاحت بھی فرما دی…
    اس تقویٰ والے لباس کی مفسرین نے مختلف تفاسیر بیان کی ہیں…یعنی ایسا لباس جو سادگی و عاجزی پر مشتمل ہو…لباس غرور و تکبر کے اظہار کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور اسلامی آداب و ہدایات کے مطابق لباس زیب تن کرنا وغیرہ…
    حضرت داؤد علیہ السلام کو اللّٰہ تعالٰی نے زرہ جنگی لباس جو لوہے سے تیار کیا جاتا ہے کی صنعت گری سکھائی:
    و علمنہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم فھل انتم شٰکرون¤
    "ہم نے اُسے تمہارے لیے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ لڑائی کے ضرر سے تمہارا بچاؤ ہو،کیا تم شکر گزار بنو گے…”(الانبیاء).
    مسلمان خواتین کا لباس ایک انتہائی نازک اور حساس معاملہ ہے کہ جب وہ لباس کے آداب سے تہی دست ہو کر گھروں سے نکل کر دفاتر،اداروں،تعلیمی اداروں اور پبلک مقامات پر گھومتی نظر آتی ہیں تو یہ چیز بدنگاہی اور بدکاری کے فتنہ کو ہوا دینے کی واضح وجہ بنتی ہے…
    لباس کا مقصد چوں کہ ستر پوشی ہے نہ کہ پہننے کے باوجود عریانی کا اظہار…
    مسلمان عورتوں کو تو حکم ملا تھا:
    "اپنی اوڑھنیاں اوڑھے رکھیں…”
    اُن سے کبھی غافل نہ رہیں…نبیﷺ آپ اپنی مبارک زبان سے اعلان کر دیں…اپنی ازواج کے لیے،بیٹیوں کے لیے اور مسلمانوں کی عورتوں کے لیے…!!!
    مذید فرمایا:
    "اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرتی پھرو…(الاحزاب).
    یعنی گھروں سے بوقت ضرورت نکلنے کے آداب سکھائے جا رہے ہیں کہ اس انداز میں بناؤ سنگھار کر کے نہ نکلو کہ فتنوں کے دروازے کھلتے چلے جائیں…تمہارا چہرہ،بازو،سینہ لوگوں کو دعوتِ نظارہ دے یہ تبرج ہے اور یہ زمانہ جاہلیت کی ایک رسم ہے…
    اے مسلمان عورتو…!
    تم ماڈرن ہو…اسلام جدید، آفاقی،ابدی اور ہدایت کی تعلیمات کا سرچشمہ ہے…!!!
    اور اس تبرج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے چاہے اس کا نام کتنا ہی خوش نما اورپُرفریب رکھ لیا جائے…جس چیز کو اللّٰہ اور اُس کا رسول فتنہ قرار دے دیں ہم لاکھوں دلیلوں اور حجتوں کے ذریعے اُسے قطعًا درست ثابت نہیں کر سکتے…
    اسی بے پردگی اور اختلاط مرد و زن نے ہر فورم اور ہر جگہ پر کیا کیا گُل نہیں کھلا رکھے…لیکن ہم سر سے گزرتے پانی سے بالکل غافل رہتے ہیں…
    فطرت سے جنگ کر کے فتح یاب ہونا چاہتے ہیں جو کبھی ممکن ہی نہیں…!!!
    ایک دوست بتا رہی تھیں جو صحت کے شعبہ میں جاب کرتی ہیں کہ میں نے جب سے نوکری شروع کی ہے آج تک با پردہ گئی ہوں…دورانِ ملازمت اور میٹنگز میں حجاب و نقاب میں رہتی ہوں اور میرے اس گھِسے عبایا کی وجہ سے مرد حضرات میری طرف زیادہ توجہ ہی نہیں دیتے…احترامًا کام کی بات سرسری انداز میں نمٹا دیتے ہیں…جب کہ مجھ سے بڑی ایج کی خواتین جو کہ ننگے چہروں پر فل میک اپ…تنگ و نمائش کرتے لباس،ہاتھوں میں تھامے بیگ اور سیل فون انہیں ہمیشہ مردوں کے لیے باعثِ کشش رکھتے ہیں…
    وہ اُن سے بات کرتے ہوئے جان بوجھ کر بات کو طول دیتے اور ہنسی مذاق تک بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں…تو اس وقت مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ تحفظ اسلام دیتا ہے یا دورِ جاہلیت کی رسمیں…؟
    اُن کے بقول یہی چیز اُن کے اطمینان کی وجہ بنتی ہے…!!!
    عورت جب خود کو بے وقعت کر دینے پر آ جاتی ہے تو وہ ہر نوع کی سوچ اور نظر کی تسکین کا باعث بن جاتی ہے…معیار سے گِر جاتی ہے…بے وزن ہو جاتی ہے…
    یہی وجہ ہے کہ کامل و اکمل دین نے حفاظت و حصار کے جو خوب صورت نظام اور طریقے ہمیں فراہم کیے ہیں…انہی میں روحانی و جسمانی سکون کا راز پوشیدہ ہے…
    ہم سب راز ہیں…انمول ہیں…اور مسلمان خواتین کو پردہ کا یہ حکم ذہنی،قلبی اور معاشرتی راحت کے لیے دیا گیا ہے…تاکہ معاشرے سے خرابیوں کا تدارک کیا جائے اور اخلاقی بیماریوں کو پنپنے سے روکا جا سکے اور ہر کوئی اپنے اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے مذہبی و ملی…قومی و سماجی…کردار اَدا کر کے معاشرے کی اصلاح میں ممد و معاون ثابت ہو…
    لیکن ماحول کی خرابی اختلافات کو جنم دے کر شبہات کو فروغ دیتی ہے…اِسی لیے اسلام نے ہمیں سسٹم کی اصلاح کے لیے قوانین اور اطلاق کا طریقۂ کار سکھا دیا ہے لیکن اُس سب کو پسِ پشت ڈال کر ہم اخلاقی و تعمیری مدارج طے کرنے کے سفر پر ہیں…؟؟؟
    یہ بیج کیا فصل اُگائے گا…؟کس منزل کا راہی بنائے گا…؟اخلاقیات کی تعمیر کیسے ہمالیہ کو چھوئے گی…؟اور کردار کتنے مضبوط بن کر اُبھریں گے…؟یہ سوال ہنوز اپنی جگہ موجود ہے…!!!
    ایسے سسٹم کے پروردہ معاشروں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں…!!!
    یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ پردہ ایک مسلمان عورت کے لیے اللّٰہ اور رسولﷺ کا حکم اور ایمان کی تکمیل کا راستہ ہے… یہ حُبِّ الٰہی اور حُبِّ رسول کا سوال ہے…!!!
    مسلمان عورت کی اصل خوب صورتی کا سفر اور بد صورت رسم اور جاہلیت سے نجات و اعراض ہے…!!!
    =================================