Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بحرِ ہند کا جغرافیائی و سیاسی منظر نامہ اور مشق امن 21 کے تناظر میں پاکستان کا کردار   تحریر:ملیحہ زیبہ خان

    بحرِ ہند کا جغرافیائی و سیاسی منظر نامہ اور مشق امن 21 کے تناظر میں پاکستان کا کردار تحریر:ملیحہ زیبہ خان

    بحرِ ہند کا جغرافیائی و سیاسی منظر نامہ اور مشق امن 21 کے تناظر میں پاکستان کا کردار
    ملیحہ زیبہ خان

    سبز ہلالی پرچم تلے امن کی خواہش لیے 2007 سے ہر دو سال بعد منعقد ہونے والی کثیرالملکی بحری مشق امن خطے میں بین الاقوامی باہمی تعاون اورمشترکہ مفادات کی سمت اہم پیش رفت ہے۔ یہ امن کی خاطر اٹھایا گیا پاکستان کا وہ قدم ہے جس کے تحت سمندروں کو کسی بھی قسم کے خطرات سے آزاد اور بلا روک ٹوک بین الاقوامی آمدو رفت کے لیے محفوظ بنایا جا سکے گا۔ یہ مشق عالمی بحری قوتوں کوموثر انداز میں تحفظ کے ذرائع ،پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو پرکھنے،نقل و حرکت کی مہارت،مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف سمندروں میں روایتی اور غیرروایتی سیکورٹی کے خطرات سے نبرد آزما ہونے اور باہمی خیالات کے تبادلے جیسے مواقع فراہم کرتی ہے۔

    سیکورٹی کا لفظ پوری دنیا میں مختلف مطالب اور نقطہ ہائے نظر کے حوالے سے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ ہے۔ریاستوں کے لیے سلامتی کا نظریہ علاقائی حدود اربعہ کی بنا پرانتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ تاہم سلامتی کا تصور عام طور پر وسیع زمینی حقائق کے حوالے سے زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ ریاستیں اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ باہمی تعاون جیسے اقدامات کا قیام عمل میں لاتی ہیں. یہاں تک کہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی متعدد مقاصد کی تکمیل کے لئے ریاستوں کی باہمی افہام و تفہیم سے ترتیب دی جاتی ہیں۔ بعض اوقات ایسے انتظامات اور مشقوں کو علاقائی اور غیرعلاقائی ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ بھی سمجھ لیتی ہیں۔ خطرے کا یہ تاثر جغرافیائی وسیاسی ماحول میں غیر یقینی صورتحال بھی پیدا کر دیتا ہے اور ریاستیں داخلی طور پر عدم تحفظ کی بنا پر اختلافات اور تنازعات کا شکار ہو جاتی ہیں۔

    سمندری تحفظ کثیر الجہت مقاصد کا امتزاج ہوتا ہے جسے لا متناہی خطرات اور خدشات کا سامنا ہے۔ عام طور پر مختلف ریاستیں قومی سلامتی کے مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنی دفاعی ضروریات اور ترجیحات کو مقدم رکھتی ہیں اور مسلسل ان میں بہتری لانے کی تدابیر کو عملی شکل دیتی رہتی ہیں تا کہ وسیع تر حدود میں اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔ سمندری حدود میں مشترکہ مشقیں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔اس طرح خطرے کا تاثر یا پیغام دوسری قوتوں تک مو¿ثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے جس کے نتیجے کے طور پر جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔اس کی ایک مثال امریکہ ، جاپان ، ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان 2007 میں ہونے والے سلامتی کے چہار جہتی مذاکرات کی ناکامی ہے جو خلیج بنگال میں ہونے والی دوسری مالا باربحری مشق کے انعقاد کے فوراً بعد چائنہ اور اس کے اتحادیوں کی مداخلت کی بنا پر ناکامی سے دوچار ہو گئی۔ اسے چین اور اس کے اتحادیوں نے چین کی ایشیاءبحرا لکاہل حکمتِ عملی اور خطے میں اس کی عملداری سے تعبیر کیا جس نے طویل عرصے تک اس کے مقاصدکے حصول کو یقینی بنائے رکھا۔

    بحر ہند کا خطہ زمانہ قدیم سے ہی اپنی تجارت ، مہمات اورآبی گزرگاہوں کی وجہ سے بہت اہم رہا ہے۔سازگارموسموں، گرم مرطوب آب و ہوا، غلاموں کی دستیابی، کثیر وسائل اور دوسرے علاقائی عوامل نے خطے کو مزید پر کشش بنا دیا،جس کے باعث اس وقت کی عظیم طاقتوں اور سلطنتوں کی خطے سے متعلق دلچسپی نے اسے مطلوبہ حدف بنائے رکھا۔ بحرِ ہند دنیا کا تیسرا بڑا سمندر ہے جو تین اطراف سے آسٹریلیا ،ایشیاءاور افریقہ کی زمینی حدود میں گھرا ہوا ہے جبکہ چوتھی سمت میں بحرِ منجمد جنوبی واقع ہے۔ پاکستان مغربی بحرِ ہند میں تزویراتی طور پر مقامات کے انتہائی امتزاج اور دو اہم آبناو¿ں ہرمز اور باب المندب کی دہلیز پر واقع ہے۔بڑے تجارتی راستے جنہیں بین الاقوامی تجارت میں شہ رگ کی سی حیثیت حاصل ہے اسی خطے سے ہو کر گزرتے ہیں۔

    نئی صدی کے آغاز سے خطے میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ نائن الیون کے بعد متعدد ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے مختلف ممالک کے قومی مفادات کو زمین سے سمندر کی طرف منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور یوں حلیفوں اور حریفوں کے درمیان نئے اتحاد کاظہور ہوا۔جب دنیا نے کچھ معاملات میں اپنے نظریات سے آگے بڑھ کر سوچنا شروع کیا تو ان کا نقطہ نظر تیزی سے تبدیل ہونے لگا،تب سے یہ خطہ جغرافیائی سیاست کے مراحل سے گزر رہا ہے جس میں ریاستوں کے مابین ہر طرح کا تبادلہ خیال شامل ہے۔

    یہ وہ خطہ ہے جس میں کثیر الملکی قوتیں اپنے فوجی اور بحری انتظامات کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں جیسا کہ ڈیاگو گارسیا میں امریکہ کی موجودگی ،جہاں سے وہ خطے میں ہونے والی تجارتی ومواصلاتی نقل و حرکت اور مشرقی بحرِ ہند میں پیپلز لیبریشن آرمی ، نیوی کا بغور جائزہ لے رہا ہے جبکہ بحرین میں امریکہ کی موجودگی مغربی بحرِ ہند میں ہونے والی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اسی طرح کی سرگرمیوں اور حکمتِ عملی کی چالوں نے بحر ہند کے پانیوں پر تسلط کے نئے سانچے تشکیل دیے۔

    اس کے مطابق امریکہ کی ہند بحرالکاہل (Indo-pacific) سے متعلق حکمتِ عملی مشرقی بحرا لکاہل سے لے کر مغربی بحرہند تک دونوں سمندروں کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ ساگرمالا جیسے منصوبوں کی شکل میں بھارتی سمندری تعمیرات اور ہندوستان کی ہند بحر الکاہل کی حکمتِ عملی جس میں مغربی بحر الکاہل سے مغربی بحر ہند تک کے خطے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ چین کادو سمندروں سے متعلق نظریہ جو اسے بحر الکاہل اور بحرِ ہند کے پاردوسرے سمندروں تک بھی اپنے نقطہ نظر کو وسعت دینے کا جواز فراہم کرتا ہے۔اس کا اہم بیلٹ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی ) منصوبہ جس میں متعدد ریاستوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، معاشی و توانائی کے روابط اور دیگر امداد کے ذریعے اپنے نقطہ نظر سے متفق کرنا شامل ہے۔

    ستمبر 2019 میں جرمنی، یورپی یونین کے صدر اور یورپ کی سب سے بڑی معیشت نے بھارت کی طرف واضح جھکاو¿ کے ساتھ ہند بحر الکاہل میں چائنہ کی خارجہ پالیسی کے مقابلے میں اپنی حکمتِ عملی کے خدوخال واضح کیے۔ جسے ہند بحرالکاہل میں برلن کی رسائی سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور یہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

    ایسے ماحول میں ایسی سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے جو ریاستوں کے مابین ہم آہنگی، اعتماد اور خوشحالی کو فروغ دیتے ہوئے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر پائیدار امن کی حوصلہ افزائی کرسکیں۔ پاک بحریہ کی جانب سے بحری مشق امن 21 کا اہتمام اسی سلسلے کا تسلسل ہے۔ جس حفاظتی طریقہ کار کے تحت اس کا اہتمام کیا جا رہا ہے وہ باہمی تعاون سے ملنے والی سیکیورٹی ہے جو بین الاقوامی امن کے سلسلے میں مدد گار ثابت ہو گی۔اس مشق میں40 سے زائد ممالک قزاقی مخالف آپریشنز ، انسداد دہشت گردی کی مشقوں، پیشہ ورانہ صلاحیتوں، سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی ،معلومات کے تبادلے اور دیگر متعلقہ روایتی اور غیر روایتی سمندری خطرات کا جواب دینے جیسی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔

    اس مشق میں حصہ لینے کے لئے بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت اوربالخصوص روسی کی نمائندگی نے سلامتی سے متعلق باہمی تعاون کے خدو خال کو مزید واضح کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مفادات کے تصادم کے باوجود روس نیٹو ممالک کے ساتھ پاکستان کے پرچم تلے اس مشق میں حصہ لے رہا ہے جو مغربی بحرِ ہند میں سلامتی ، امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ایک اور یادگار اور بے مثال کارنامے کی عکاسی کرتا ہے۔

    اس مشق سے عالمی سطح پر اقوام عالم کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے ، پاکستان کے سمندری علاقوں میں سیکورٹی کو یقینی بنانے اور پر امن مستحکم سمندری ماحول کو فروغ دینے کے پختہ عزم کا اظہار ہوتا ہے۔ پاکستان بحریہ مشق کا انعقاد انتہائی منظم طریقے سے کر رہی ہے جو خطے میں اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے کے لیے ایک مو¿ثرقدم ہے۔اس طرح کے اقدامات ریاستوں کو ایک نقطہ نظر پر متفق کر کے مطلوبہ سطح تک صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کرنے اورمشترکہ اعتماد سازی سے فائدہ اٹھانے کے مواقعے بھی فراہم کرتے ہیں۔

    پاکستان نے بارہا ٹاسک فورس 150 ، ٹاسک فورس151 اور دوسرے علاقائی میری ٹائم سکیورٹی گشت جیسی مہمات کی قیادت کرتے ہوئے اپنی بھرپور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کاثبوت دیا ہے جو خطے کو درپیش مسائل سے نمٹنے کی حکمتِ عملی اور پاک بحریہ کی عمدہ کارکردگی کا منہ بولتاثبوت ہے۔ بحری دائرہ اختیار میں بہترین حکمت عملی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی توسیع میں مدد فراہم کر رہی ہے۔پاکستان ملتِ اسلامیہ کامضبوط حصار اور مشق امن 21 کا علمبردار ہونے کی حیثیت سے بین الاقوامی امن اور باہمی اتحاد کا شدت سے خواہاں ہے۔

  • اہل کشمیر کا آتش دان

    اہل کشمیر کا آتش دان

    آتش دان

    اگر آپ کے گھر کے آتش دان میں آگ جلانے کے لیے کوئی اور آئے تو یہ آگ آپ کے گھر اور آتش دان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے. گھر سے باہر کا کوئی دوست یا بھائی آپ کو ایندھن تو فراہم کر سکتا ہے لیکن آگ جلانے کے لیے اور مسلسل جلا کر رکھنے کے لیے آپ کو خود ہی کچھ کرنا ہو گا…! آپ کے آتش دان میں کسی اور کے ہاتھوں لگائی ہوئی آگ بجھ کر ٹھنڈی بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھڑک کر آپ کا گھر بھی جلا سکتی ہے.

    اس لیے آگ جلا کر ماحول گرم کرنا اور ماحول گرم رکھنا آپ کا اپنا کام ہے. البتہ ایندھن فراہم کرنے والے آپ کو ایندھن فراہم کرتے رہیں گے اور یہی آپ کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے.

    وہ ایندھن جو ہماری طرف سے پچھلی دو دہائیوں میں اہل کشمیر کو بھیجا گیا وہ ایک مظلوم و محکوم قوم کے برفیلے ٹھنڈے گھر میں آتش دان جلانے کے لیے تھا. اور الحمد للہ اس ایندھن کے انگاروں سے آتش دان میں آگ اب بھڑک اٹھی ہے اور بر ہان و سبزوار جیسے انگارے مزید ایندھن کو انگارہ بنا رہے ہیں. اور یہ آگ پورے گھر کو گرم کر رہی ہے…. گرم کر چکی ہے. اب یہ آتش دان والوں کی مرضی ہے چاہے تو آگ بجھا دیں… چاہے تو پٹرول ڈال ڈال کر پورا گھر جلا دیں یا پھر ایک تسلسل اور وقفے وقفے سے آتشدان میں ایندھن ڈال کر انگارے بناتے رہیں اور سرد موسم میں گھر کا ماحول گرم رکھیں.

  • پاکستان کے اولین سکھ کرکٹر میں سے ایک مہندر پال سنگھ پشاور زلمی کا حصہ بن گئے

    پاکستان کے اولین سکھ کرکٹر میں سے ایک مہندر پال سنگھ پشاور زلمی کا حصہ بن گئے

    پاکستان سپر لیگ سیزن 6 کے لیے مہندر پال سنگھ پشاور زلمی کے اسسٹنٹ منیجر مقرر

    پاکستان کے اولین سکھ کرکٹر میں سے ایک مہندر پال سنگھ پشاور زلمی کا حصہ بن گئے۔پاکستان سپر لیگ سیزن 6 کے لیے مہندر پال سنگھ کو پشاور زلمی کا اسسٹنٹ منیجر مقرر کردیا گیا۔ لاہور میں پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید آفریدی نے مہندر پال سنگھ سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ مہندر پال سنگھ کو زلمی فیملی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔
    مہندر پال سنگھ نے کہا کہ وہ زلمی فیملی کا حصہ بننے کی بہت خوشی ہے ۔

    مہندر پال سنگھ کا شمار پاکستان کے اولین سکھ کرکٹرز میں ہوتا ہے اور وہ پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ میں ان ایکشن رہ چکے ہیں۔

  • ایچ بی ایل پی ایس ایل 2021 کا آفیشل ترانہ ریلیز کردیا گیا،

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2021 کا آفیشل ترانہ ریلیز کردیا گیا،

    ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2021 کا آفیشل ترانہ "گروو میرا” ریلیز کردیا گیا ہے۔ یہ ترانہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوگا جبکہ پاکستان کے معروف ٹی وی چینلز بھی اس ترانے کو نشر کریں گے۔

    یہ ترانہ دنیا بھر میں موجود ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے مداحوں کی کھیل سے محبت اور لیگ سے قربت کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس ترانے میں کورونا وائرس کے بعد پیدا شدہ حالات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ جہاں اسٹیڈیم تو خالی ہیں مگر مداح اپنے گھروں میں ٹی وی اسکرینز کے سامنے بیٹھ کر میچ دیکھتے نظر آتے ہیں۔

    اس ترانے کی تیاری میں پاکستان کے فوک، پاپ اور ہپ ہاپ گلوکاروں نے شرکت کی ہے۔ فوک گلوکارہ نصیبو لعل، پاپ گلوکارہ آئمہ بیگ اور ہپ ہاپ سپر اسٹارز ینگ اسٹنرز نے ترانے میں اپنی آواز کا جادہ جگایا ہے۔

    اس ترانے کی ویڈیو کو فدا معین نے ڈائریکٹ کیا ہے جبکہ چھ معروف کرکٹرز بھی ترانے کی آفیشل ویڈیو میں جلوہ گر ہوئے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے شاداب خان، ملتان سلطانز کے شان مسعود، لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی، پشاور زلمی کے وہاب ریاض، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سرفراز احمد اور کراچی کنگز کے بابراعظم شامل ہیں۔

    ب

    ڈائریکٹر کمرشل پی سی بی بابر حامد کا کہنا ہے کہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کا بلاک بسٹر ترانہ ” گروو میرا” فینز کو لیگ سے جوڑنے میں مدد کرے گا، ہم نے اس ترانے کے معیارپر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، لہٰذا پر امید ہیں کہ اس ترانے کو ملک اور بیرون ملک موجود مداحوں کی جانب سے خوب سراہا جائے گا۔

    بابرحامد نے کہا کہ لیجنڈری نصیبو لعل اور پاپ اسٹار آئمہ بیگ کی ایک اپنی پہچان ہے، ان دونوں گلوکاروں سمیت نوجوان ہپ ہاپ اسٹارز ینگ اسٹنرز کی گائیگی نے ترانے کو چار چاند لگادیے ہیں۔

    انہوں نے کہا ہمیں امید ہے کہ ترانے کی ریلیز کے بعد اب اگلا مرحلہ شائقین کرکٹ کی نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور قذافی اسٹیڈیم لاہور آمد ہے کہ جہاں انہیں سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محدود تعداد میں اسٹیڈیم کا رخ کرنے والے تماشائی اب کراچی اور لاہور میں کرکٹ ایکشن اور گروو میرا دونوں سے محظوظ ہوں گے۔

    نصیبو لعل نے کہا کہ انہوں نے کبھی ایسا ترانہ نہیں گنگنایا، لہٰذا اس ترانے کی تیاری میں انہیں بہت لطف آیا ہے۔

    آئمہ بیگ نے کہا وہ بہت خوش ہیں کہ انہیں اس ترانے میں گائیگی کا موقع ملا، پرامید ہیں کہ یہ ترانہ فینز کو پسند آئے گا۔

    ینگ اسٹنرز، طلحٰہ یونس کا کہنا ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل سکس کے آفیشل ترانے میں گائیگی کا موقع ملنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے، یہ ترانہ ماضی کے ایڈیشنز سے ہٹ کر بنایا گیا ہے، امید ہے فینز کو پسند آئے گا۔

  • قائداعظم انٹر ڈویژن ہاکی چیمپئن شپ ، سنسنی خیز مقابلے، فائنل میں پہنچی کون سی ٹیمیں؟

    قائداعظم انٹر ڈویژن ہاکی چیمپئن شپ ، سنسنی خیز مقابلے، فائنل میں پہنچی کون سی ٹیمیں؟

    سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیراہتمام ہونے والی پہلی قائداعظم انٹر ڈویژن ہاکی چیمپئن شپ2021ء
    لاہور اور فیصل آباد ڈویژنز کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئیں، سیمی فائنلز میں سنسنی خیز مقابلے ہوئے

    پہلے سیمی فائنل میں فیصل آباد ڈویژن نے بہاولپور ڈویژن کو 3-2سے شکست دی، دوسرے ہاف میں بہاولپور ڈویژن نے جارحانہ کھیل کا مظاہر کیا مگر کامیابی حاصل نہ کرسکی

    ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ دوسرے سیمی فائنل میں لاہور ڈویژن نے انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد سرگودھا ڈویژن کو 6-5سے ہرایا، میچ کا فیصل سڈن ڈیتھ پر ہوا

    سیمی فائنلز میں سنسنی خیز مقابلے ہوئے جس سے ماضی کی یاد تازہ ہوگئی، تمام ٹیموں نے بہت محنت کی،فائنل یادگار ہوگا،

    لاہور (پ ر)6فروری2021ء۔سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیراہتمام ہونے والی پہلی قائداعظم انٹر ڈویژن ہاکی چیمپئن شپ2021ء کے سیمی فائنلز میں فیصل آباد ڈویژن اور لاہور ڈویژن کی ٹیمیں سنسنی خیز مقابلے جیت کر فائنل میں پہنچ گئی ہیں،

    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے کہا کہ سیمی فائنلز میں سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے جس سے ماضی کی یاد تازہ ہوگئی، تمام ٹیموں نے بہت محنت کی اور اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا،

    چیمپئن شپ میں ٹیلنٹڈ کھلاڑی سامنے آئے ہیں، یہ ٹیلنٹ قومی سرمایہ ہے جس کو ضائع نہیں جانے دیں گے، جن کو آگے لے کر جائیں گے تاکہ قومی ہاکی ٹیم مضبوط بنے،چیمپئن شپ سے ہاکی کو بہت فروغ ملا ہے، نئے کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی ہوئی ہے، فیصل آباد اور لاہور ڈویژنز کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئی ہیں،

    دونوں ٹیمیں بہت جاندار ہیں امید ہے کہ چیمپئن شپ کا فائنل یادگار ہوگا۔ چیف سلیکٹر پاکستان ہاکی ٹیم اوراولمپئن منظور جونیئر، اولمپئن توقیر ڈار، ہیڈ کوچ پاکستان ہاکی ٹیم خواجہ جنید، سینئر سپورٹس اینکر یحییٰ حسینی، صدر پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن خواجہ خاور، سیکرٹری لیفٹیننٹ کرنل (ر) آصف ناز کھوکھر، ڈائریکٹر سپورٹس محمد حفیظ بھٹی،ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس چاند پروین، ڈپٹی ڈائریکٹر رؤف باجوہ اور تمام ڈویژنل سپورٹس افسران بھی اس موقع پر موجود تھے،

    ہفتہ کے روز نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیراہتمام ہونیوالی پہلی قائداعظم انٹر ڈویژن ہاکی چیمپئن شپ کے سیمی فائنلز کھیلے گئے،پہلا سیمی فائنل فیصل آباد ڈویژن اور بہاولپور ڈویژن کے درمیان کھیلا گیا، میچ میں لاہور ڈویژن نے پہلے تین گول کرکے میچ پر اپنی پوزیشن مضبوط بنالی،دوسرے ہاف میں سنسنی خیز مقابلہ ہوا،

    بہاولپور ڈویژن نے فیصل آباد ڈویژن پر بھرپورتوڑ حملے کئے اور دو گول کرلئے مگر وہ تیسرا گول کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی اس طرح پہلا سیمی فائنل فیصل آباد ڈویژن نے 3-2سے جیت لیا اور فائنل تک رسائی حاصل کرلی، فیصل آباد ڈویژن کی جانب سے محمد ساجد نے 2اور معظم نے ایک گول کیا جبکہ بہاولپور ڈویژن کی جانب سے ابصار بن رؤف اور محمد عزیر نے گول کئے۔

    دوسرا سیمی فائنل لاہورڈویژن اور سرگودھا ڈویژن کے درمیان کھیلا گیا، دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور ایک دوسرے پر بھرپور حملے کئے، کھیل کے اختتام تک میچ ایک، ایک گول سے برابر رہا، میچ میں لاہور ڈویژن کی جانب سے کپتان حنان شاہد اور سرگودھا کی جانب سے ابرار ارشد نے گول کئے،جس کے بعد دونوں ٹیموں کو پنلٹی شوٹ آؤٹ دیئے گئے جس میں بھی مقابلہ 3،3گول سے برابررہا،لاہور کی جانب سے شاہزیب، محمد ربیعہ اورمحمد عمار جبکہ سرگودھا کی جانب سے شاہیر،افراہیم منگا اورابرار ارشد نے گول کئے، پنلٹی شوٹ آؤٹ برابر ہونے سے میچ مزید دلچسپ ہوگیا جس کے بعد میچ کا فیصلہ سڈن ڈیتھ(sudden death) پر ہوا جس میں لاہور ڈویژن نے سیمی فائنل 6-5سے جیت لیا

    ۔لاہور ڈویژن کی جانب سے عمار، کپتان حنان شاہد اور محمد ربیعہ نے گول کئے جبکہ افراہیم منگا اور ابرار ارشد نے گول کئے، شاہیر نے گیند نیٹ سے باہر پھینک دی۔

  • پاکستان میں اخبار اور رسائل زوال پذیر کیوں ؟اس صنعت کو بچانے کیلئے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں؟

    پاکستان میں اخبار اور رسائل زوال پذیر کیوں ؟اس صنعت کو بچانے کیلئے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں؟

    ایک زمانہ تھا جب پرنٹنگ پریس کا آغاز ہوا تو دنیا بھر میں اخبارات لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے لگے اخبارات رسائل اور جرائد کے ذریعے عوام کو حالات حاضرہ سے آگاہ رکھا جاتا تھا دنیا بھر میں مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات کروڑوں کی تعداد میں شائع ہوتے تھے-

    باغی ٹی وی : جب آہستہ آہستہ سوشل میڈیا نے اپنی جگہ بنائی تو اخبارات نے انٹرنیٹ پر پیپر کے نام پر جگہ بنالی جبکہ ابھی ای پیپر کا دور ختم ہونے کو جا رہا ہے اور سوشل میڈیا اپنی جگہ تیزی سے بنا رہا ہے لوگ سوشل میڈیا پر خبریں دینے کے علاوہ اپنے تجزیہ بیان کر رہے ہیں-

    اخبارات رسائل اور جرائد زوال پذیر ہو رہے ہیں ہزاروں سے سیکڑوں کی تعداد تک محدود ہو رہے ہیں پاکستان میں کچھ سال پہلے ہزاروں کی تعداد میں مختلف ناموں سے فیشن میگزین سمیت مختلف میگزین شائع ہوتے تھے اورزیادہ پرانی بات نہیں جب گھر میں اخبار یا کوئی رسالہ آتا تھاتو اسے ذو ق و شوق سے پڑھا جا تھا اور انمیں چھپی خبروں اور مضامین پر سیر حاصل بحث ہوتی تھی۔

    اخبار اور جرائد میں شائع ہونے والے معلوماتی مضامین علم میں اضافے کا باعث بنتے تھے ۔ یہ اضافی معلومات اسکو ل میں بڑی کام آتی تھیں اور اسکول میں ہونے والے غیر نصابی ، ادبی اور معلوماتی پروگرام میں آپ کی کامیابیوں کا سبب بنتی تھیں حقیقت میں اخبارات اور رسائل نے ہمارے کیریئر اور شخصیت کو پروان چڑھانے میں بڑا کام کیا ہے اور آج بھی کررہے ہیں لیکن بدقسمتی سےنئی نسل اخبارات و رسائل سے اتنی زیادہ بہرہ مند نظر نہیں آتی جتنا کہ اسے اس کی ضروت ہے-

    سائنس اور ٹیکنالوجی نے معاشرے کے نظام اقدار کو بدل کر رکھ دیا۔ نئے تعلیمی نظام اور زندگی میں در آنے والی ترغیبات اور نئی تفریحات نے اعلیٰ معیار کے ادب اور ادبی رسائل کو بے حیثیت کردیا ہے۔

    تعجب خیز بات یہ ہے کہ ادیب اور ادبی رسالوں کے مدیروں نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ جب معاشرہ اور اس کے تقاضے ہی بدل گئے تو ادبی رسالوں کو بھی ان کے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ہمارا پرانا معاشرہ “مواد” پر قانع تھا، نئے معاشرے میں “پیش کش” کی اہمیت بڑھ گئی۔ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت ابھی بھی ہے اور کچھ لوگ اخبارات یا میگزین کی صورت میں اس صنعت کو بچانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ادبی رسائل نے لائق اعتنا نہ سمجھا وہ “مارکیٹنگ” ہے اس سلسلے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے اب پاکستان میں ہر ماہ بزنس کی دنیا کا منفرد اور سب سے مشہور فلیر میگزین کی ای پیپر کاپی جاری کی جاتی ہے-

    اردو اور انگلش زبان میں شائع ہونے والا میگزین گزشتہ 17 سال سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پڑھا جاتا ہے میگزین میں پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری اور ٹیلی کام شعبے کی ترقی کے بارے میں بھی مضامین شائع کئے جاتے ہیں اور خاص طور موبائل فون کی دنیا کہ بارے میں بھی تفصیلی روشنی ڈالی جاتی ہے-

    اس میں خصوصاً رسالے کی اشاعت کے بعد قارئین کو خریدار بنانے کی ترغیب دینا، اس کے لیے اشتہار دینا اور پھر رسالے کی قارئین تک ترسیل کے لیے تیز رفتار نظام کو حرکت میں لانا، مثلاً معقول کمیشن پر رسالے کی تقسیم و ترسیل کا انتظام ہاکروں کے سپرد کرنا وغیرہ-

  • مکس مارشل آرٹس مقابلےکے فاتح احمد مجتبیٰ کا پاکستان کے لئے جذباتی پیغام

    مکس مارشل آرٹس مقابلےکے فاتح احمد مجتبیٰ کا پاکستان کے لئے جذباتی پیغام

    گزشتہ روز سنگا پور میں جاری مکس مارشل آرٹس مقابلے میں پاکستانی فائٹر احمد مجتبی نے بھارتی فائٹر کو ہرا دیا تھا تاہم اب انہوں نے پاکستان اور پاک فوج اور کشمیریوں کے لئے اہم پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی :یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستانی فائٹر نے مکس مارشل آرٹس مقابلے میں بھارت کو ہرادیا، سنگاپور میں جاری مکس مارشل آرٹس مقابلے کے دوران پاکستانی فائٹر احمد مجتبی نے بھارتی فائٹر راہول راجو کو شکست دیدی۔

    پاکستانی فائٹر احمد مجتبی نے آج کی فائٹ مقبوضہ جموں اور کشمیر کے عوام، پاک فوج اور پاکستان اور دنیا بھر میں موجود اپنے چاہنے والوں کے نام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے مقابلے ہمیشہ سے ہی دلچسپ رہے ہیں، میں محنت کررہا ہوں مقابلہ جیتنے کے لیے اور آج کی فائٹ پاکستانی اور کشمیری عوام کے نام کرتا ہوں۔

    فائٹر احمد مجتبیٰ نے کہا کہ انہوں نے یہ فائٹ جیتنے کا وعدہ کیا تھا اور اب انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے اور اسی طرح وہ کام کرتے رہیں گے اور اپنے ملک کا نام روشن کریں گے-

  • *کراچی باغی ٹی وی ٹیم کی آزادی کشمیر ریلی*

    *کراچی باغی ٹی وی ٹیم کی آزادی کشمیر ریلی*

    ہر پھول ہے فریادی آنکھوں میں لیے شبنم
    کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم​
    کراچی میں آج باغی ٹی ٹیم اور بنی پاکیزہ رضاکار کے باہمی تعاون سے اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار تکجہتی ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت بنی پاکیزہ چئیرمین ملک ضمیر الرکن صاحب نے کی،ریلی کے شراکا سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ آج جس طرح وزیراعظم عمران خان نے ہر فورم پر کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ہے مجھے پورا یقین ہے کشمیری عوام جلد آزادی کی اس جنگ میں فتح یاب ہوگی۔آج یہاں اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوکر ریلی نکالنے کا مقصد صرف دنیا کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرنا ہی نہیں بلکہ اپنی نوجوان نسل کو کشمیر کاذ کی اہمیت سمجھانا بھی ہے، اب ہمارا بس ایک ہی نعرہ ہے….کشمیر بنے گا پاکستان۔
    معزز مہانوں میں سر فیضان رضا،سر اسد احمد خان ،سر غنی اللہ اور میڈم ارم آصف نے اپنے سیکڑوں طلباء اور اساتذہ کے ساتھ مل کر پرجوش طریقے کشمیر کی آزادی حق میں آواز حق بلند کی۔ریلی کے اخیتام پر کشمیر کے شہدا کے لئے دعا اور باغی ٹی وی ٹیم انچارج جناب غنی اللہ اور خورشید بھٹو نے باغی ٹی وی ٹیم کے ساتھ آزادی کشمیر کی یاد میں پودے بھی لگائے۔

  • اقبا ل سے منسوب ایک نظم اور صورت ِ احوالِ واقعی

    اقبا ل سے منسوب ایک نظم اور صورت ِ احوالِ واقعی

    آج کل سوشل میڈیا پر ایک آڈیو ریکارڈنگ گردش کر رہی ہے جسے پوسٹ کر نے والے صاحب نے علامہ اقبال کی نایاب آڈیو ریکارڈنگ بتا یا ہے۔7دسمبر 2018 کو مجھے محترم بشارت علی سید نے یہ ریکارڈنگ وٹس ایپ کی تومجھے شبہ ہوا کہ یہ نظم اقبال کی نہیں۔سو میں نے تحقیق کی توپتا چلا کہ یہ ریکارڈنگ علامہ اقبال کی نہیں بلکہ بھارت میں مقیم شاعر عتیق احمد جاذب کی ہے جو اپنی نظم”ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے”پڑھ رہے ہیں.میں نے اس تحقیق کی روشنی میں اُسی دن یعنی 7دسمبر 2018 کوہی فیس بک پہ ایک پوسٹ لگا دی تاکہ شعر وادب بالخصوص اقبال کے شیدائی آگاہ ہوں اور اس جعلی ریکارڈنگ کو آ گے بڑھانے سے گریز کریں ۔میری پوسٹ کے کچھ دن بعد کسی دوست نے عتیق احمدجاذب کی وڈیو ریکارڈنگ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کردی مگر کیا کیا جائے کہ دنیا بغیر تتحقیق و تصدیق اس ریکارڈنگ کو آگے ہی آگے بڑھا ئے جاتی ہے۔ یہ معاملہ نیا نہیں ،ایسے کئی اشعار اور غزلیں موجود ہیں جن کے حقیقی شاعر کو کم لوگ جانتے ہیں۔کئی اشعار اقبال نہیں مگر اقبال کے نام سے منسوب کرکے آگے بڑھائے جا رہے ہیں ۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ کئی اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ اس کام میں مصروف ہیں۔یہاں وہ سارے اشعار درج کرنے کا تو مقام نہیں مگر صرف دو شعر قارئین کی نذر کرتا ہوں،جو اقبال کے نہیں مگر ان سے منسوب کر دیے گئے ہیں

    تندیِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

    (صادق حسین صادق)

    اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے
    اک ضربِ یداللہی اک سجدہء شبیری

    (وقارانبالوی)

    گزشتہ دنوں محترم ذہین احمد صاحب ،عزیزی ذیشان جنجوعہ اور کئی دیگر دوستوںنے یہ ریکارڈنگ مجھے مسینجر پر بھجوائی تو میں نے انھیں صورت حال سے آگاہ کر دیا۔پھر سوچا کیوں نہ اخبار کے قارئین کو بھی اس حقیقت سے آگاہ کردیا جائے۔سو قارئین محترم!یہ ریکارڈنگ اقبال کی نہیں ،عتیق احمد جاذب کی ہے اور اب ان کی وڈیو بھی سوشل میڈیا پر دستیاب ہے۔ عتیق جاذب صاحب کی کتابیں "ریختہ ڈاٹ کام "پر موجود ہیں اور ان کی کتاب "پیامِ حیات” اور "گلستان ِحیات” میں یہ حمدیہ نظم اولین صفحات پر درج ہے۔واقفان حال بتاتے ہیں کہ اقبال کی کوئی آڈیو یا وڈیو ریکارڈنگ موجود نہیں۔گزشتہ 78 سال سے محقیقین اس حوالے سے ریسرچ کر رہے ہیں لیکن انھیں تاحال کامیابی نہیں ہوئی۔ عتیق جاذب صاحب کی نظم درج ذیل ہے

    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

    سورج کے اجالوں سے، فضاؤں سے ، خلا سے

    چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے

    جنگل کی خموشی سے، پہاڑوں کی انا سے

    پرہول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے

    بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے

    مٹی کے خزانوں سے، اناجوں سے، غذا سے

    برسات سے، طوفان سے، پانی سے، ہوا سے

    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

    گلشن کی بہاروں سے، تو کلیوں کی حیا سے

    معصوم سی روتی ہوئی شبنم کی ادا سے

    لہراتی ہوئی باد سحر، باد صبا سے

    ہر رنگ کے ہر شان کے پھولوں کی قبا سے

    چڑیوں کے چہکنے سے تو بلبل کی نوا سے

    موتی کی نزاکت سے تو ہیرے کی جلا سے

    ہر شے کے جھلکتے ہوئے فن اور کلا سے

    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

    دنیا کے حوادث سے ، وفاؤں سے، جفا سے

    رنج و غم و آلام سے، دردوں سے، دوا سے

    خوشیوں سے، تبسم سے، مریضوں کی شفا سے

    بچوں کی شرارت سے تو ماؤں کی دعا سے

    نیکی سے، عبادات سے، لغزش سے، خطا سے

    خود اپنے ہی سینے کے دھڑکنے کی صدا سے

    رحمت تیری ہر گام پہ دیتی ہے دلاسے

    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

    ابلیس کے فتنوں سے تو آدم کی خطا سے

    اوصافِ براہیم ؑ سے، یوسف ؑ کی حیا سے

    اور حضرت ایوبؑ کی تسلیم و رضا سے

    عیسٰی ؑکی مسیحائی سے، موسیٰ ؑکے عصا سے

    نمرود کے، فرعون کے انجام فنا سے

    کعبہ کے تقدس سے تو مرویٰ و صفا سے

    تورات سے، انجیل سے، قرآں کی صدا سے

    یٰسین سے، طٰہٰ سے، مزمل سے ، نبا سے

    اک نور جو نکلا تھا کبھی غار حرا سے

    ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے.

  • مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی – عمران محمدی

    مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی – عمران محمدی

    مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی

    بقلم
    عمران محمدی
    عفا اللہ عنہ

    مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی کا حکمِ الہی

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر مقتولوں میں بدلہ لینا لکھ دیا گیا ہے
    البقرة : 178

    اور فرمایا
    وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا
    اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مدد گار بنا۔
    النساء : 75

    جب کوئی مظلوم پکارے تو اس کی پکار پر لبیک کہا جائے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ
    اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے
    الأنفال : 72

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ
    مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں
    (ان میں سے ایک ایک یہ ہے کہ)
    وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ
    اور جب وہ تمہیں پکارے تو اس کی پکار پر لبیک کہو

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مظلوم کی مدد کرنے کا حکم دیا

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ
    أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ
    وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ
    وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ
    وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوْ الْمُقْسِمِ
    وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ
    وَإِجَابَةِ الدَّاعِي
    وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ
    (مسلم ،كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ،بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ،5388)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مریض کی عیادت کرنے
    جنازے کے ساتھ شریک ہو نے
    چھنیک کا جواب دینے
    (اپنی) قسم یا قسم دینے والے (کی قسم پو ری کرنے
    مظلوم کی مددکرنے
    اور دعوت قبول کرنے کا حکم دیا

    انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ،بَابٌ: أَعِنْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا،2444)

    اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! ہم مظلوم کی تو مدد کرسکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔ ( یہی اس کی مدد ہے )

    تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
    مومن تو بھائی ہی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
    الحجرات : 10

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ بَابٌ: لاَ يَظْلِمُ المُسْلِمُ المُسْلِمَ وَلاَ يُسْلِمُهُ،2442)

    ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے

    مسلمان، اپنے مظلوم بھائیوں کو بے یارو مددگار نہ چھوڑیں

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [ اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ ]
    [ بخاري، المظالم، باب لا یظلم المسلم المسلم ولایسلمہ : ۲۴۴۲، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ]
    ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔‘‘

    دوسرے مسلمان کی حفاظت حفاظت اپنے جسم کی طرح کریں

    نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «تَرَى المُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، كَمَثَلِ الجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالحُمَّى»
    (بخاري ،كِتَابُ الأَدَبِ،بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالبَهَائِمِ،6011)

    تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت ومحبت کا معاملہ کرنے اورایک دوسرے کے ساتھ لطف ونرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤگے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے ، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ۔ ایسی کہ نینداڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔

    مسلمانوں کی یہی شان ہونی چاہیئے مگر آج یہ چیز بالکل نایاب ہے۔
    نہیں دستیاب اب دو ایسے مسلماں
    کہ ہو ایک کو دیکھ کر ایک شاداں

    مومن وہ ہے جو دوسرے مومن کو مضبوط کرے

    ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «إِنَّ المُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا» وَشَبَّكَ أَصَابِعَه
    (بخاري ،كِتَابُ الصَّلاَةِ،بَابُ تَشْبِيكِ الأَصَابِعِ فِي المَسْجِدِ وَغَيْرِهِ،481)

    ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا

    مسلمان بھائی کی تکلیف دور کرنے کا اجرو ثواب

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ بَابٌ: لاَ يَظْلِمُ المُسْلِمُ المُسْلِمَ وَلاَ يُسْلِمُهُ،2442)

    ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے کے عیب چھپائے گا

    موسی علیہ السلام کا ایک مظلوم قوم ایک مظلوم شخص اور دو عورتوں سے اظہار یکجہتی

    موسی علیہ السلام کی سیرت میں ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کا معاشرتی پہلو بخوبی نظر آتا ہے
    قبطی اور بنی اسرائیلی کے درمیان لڑائی ہوتے دیکھی تو کمزور اسرائیلی کی مدد کے لیے آگے بڑھے
    شائد کسی کے دل میں اعتراض پیدا ہو کہ اسرائیلی چونکہ موسی کی قوم سے تھا اس لیے مدد کرنا ضروری سمجھا
    لیکن ہم عرض کرتے ہیں کہ انبیاء کا کردار قومیت کی بجائے انسانیت کے گرد گھومتا ہے ورنہ مدین کی دو کمزور عورتیں نہ تو قوم موسی سے تعلق رکھتی تھیں اور نہ ہی دیگر چرواہوں کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت تھی مگر کلیم اللہ کو دیکھیں کہ بھوکا، تھکا، پردیسی مسافر، بے لوث ہوکر جانوروں کو پانی پلانے کی خاطر کنویں سے بھاری ڈول کھینچ لاتا ہے

    فرعون اور اس کے حواریوں کے سامنے پوری شدومد کے ساتھ اپنی قوم کا مقدمہ بھی لڑ رہے تھے
    موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے دربار میں (فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ
    تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے
    طه : 47)
    کہہ کر نہ صرف یہ کہ قوم کی آزادی کی جنگ لڑی بلکہ *وَلَا تُعَذِّبْهُمْ* کا جملہ بول کر فرعونیوں کے ظالمانہ چہرے کو بے نقاب بھی کیا

    اگر ایک طرف
    قوم کی زبوں حالی دیکھتے ہوئے انھیں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے اور صبر کرنے کی تلقین فرماتے رہتے تھے

    قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهِ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا‌
    موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو
    دوسری طرف
    فرعونی مظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں

    خضر علیہ السلام کا دو مسکینوں اور دو یتیموں سے اظہارِ یکجہتی

    خضر علیہ السلام اللہ کے نبی تھے
    معاشرے سے ربط، حالات پر نظر، عوام کے خیر خواہ اور ماحول سے ایسے باخبر کہ سمندر کی باتیں ملاحوں سے زیادہ معلوم تھیں
    کشتی پر سوار ہوئے تو یہ جانتے ہوئے کہ دوسری جانب کا حاکم غاصب ہے، کشتی میں سوراخ کر دیا تاکہ مساکین کا روزگار متاثر نہ ہو

    ایک بستی میں مقیم ہوئے تو باوجود اس کے کہ انہوں نے مانگے سے بھی کھانہ پانی تک نہیں دیا
    بھوکے بھی تھے پیاسے بھی تھے
    پردیسی بھی تھے اجنبی بھی تھے
    تھکے بھی تھے
    مگر حالت یہ تھی کہ مانند مزدور تعمیرِ دیوار میں مصروف ہوگئے فقط اس لیے کہ اُس کے نیچے یتیم بچوں کا خزانہ چھپا ہوا تھا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مظلوموں کی مدد

    میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
    بھوکوں کے لیے تگ ودو کرتے تھے کمزوروں کی مدد کرتے تھے یتیموں کا خیال رکھتے تھے مسکینوں پر دست شفقت رکھتے تھے

    آپ نے اعلان کر رکھا تھا اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ قرض ہو تو اس قرضے کی ادائیگی میں خود کروں گا لیکن اگر کوئی فوت ہو جائے اور ورثے میں جائیداد مال و متاع چھوڑ جائے تو میں اس سے کچھ بھی نہیں لوں گا

    نہ صرف یہ کہ نبوت کے بعد بلکہ نبوت کی زندگی سے پہلے بھی آپ کی یہی کیفیت تھی مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والے معروف معاہدے (حلف الفضول) سے کون ناواقف ہے

    میرے نبی مکہ مکرمہ میں چوری، ڈاکے، رہزنی اور بدامنی کے تدارک کے لیے سرگرداں نظر آتے ہیں
    نصرالمظلوم کے لیے کوشاں ہیں مکے کے ایک ایک سردار کے پاس جاکر ملاقاتیں کرتے ہیں اور آمادہ کرتے ہیں کہ مظلوم کی مدد کی جائے اور ظالم کو روکا جائے سب کو ایک حویلی میں اکٹھا کرتے ہیں مختلف معاہدوں پر دستخط لیتے ہیں تاریخ آج بھی اس معاہدے کو حلف الفضول کے نام سے یاد کرتی ہے
    قربان جاؤں کیسے بے لوث لیڈر تھے معاہدے کے اصل روحِ رواں خود تھے لیکن معاہدے کے نام کی جو تختی بنی، سجی،اور لکھی گئی وہ (حلف الفضول) یعنی سرداروں کے نام کی تھی تاکہ اور کچھ نہیں تو نام کی خاطر ہی میرے ساتھ وابستہ رہیں اور اسی بہانے یہ معاہدہ قائم و دائم رہے

    اماں خدیجہ رضی اللہ عنہ نے انہی اوصاف کی گواہی میں فرمایا تھا
    إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ
    وَتَحْمِلُ الكَلَّ
    وَتَكْسِبُ المَعْدُومَ
    وَتَقْرِي الضَّيْفَ
    وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ
    (بخاری ،كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ،3)
    آپ اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بے مثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔

    مولانا حالی کے بقول
    مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
    وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
    فقیروں کا ملجا غریبوں کا ماویٰ
    یتیموں کا والی غلاموں کا مولا

    *مظلوم کو حوصلہ دینا اور حوصلے والی بات کہنا بھی اس کی مدد ہے*

    حضرت عمار بن یاسرؓ بنو مخزوم کے غلام تھے۔ انہوں نے اور ان کے والدین نے اسلام قبول کیا تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مشرکین ، جن میں ابوجہل پیش پیش تھا۔ سخت دھوپ کے وقت پتھریلی زمین پرلے جاکر اس کی تپش سے سزا دیتے۔ ایک بار انہیں اسی طرح سزادی جارہی تھی کہ نبیﷺ کا گزر ہوا۔ آپ نے فرمایا : آل یاسر ! صبر کرنا۔ تمہارا ٹھکانہ جنت ہے
    (ابن ہشام ۱/۳۱۹ ، ۳۲۰ ، طبقات ابن سعد ۳/۲۴۸ بحوالہ الرحیق المختوم )

    *مظلوم مسلمانوں کے ساتھ دعاؤں میں یکجہتی*

    مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ”مستضعفين“ کے حق میں نام لے کر دعا فرمایا کرتے تھے جو مکہ مکرمہ میں کفار کی قید میں رہ رہے تھے :
    [ اَللّٰهُمَّ اَنْجِ الْوَلِيْدَ بْنَ الْوَلِيْدِ وَ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَ عَيَّاشَ بْنَ أَبِيْ رَبِيْعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ]
    ’’یا اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور (مکہ میں گھرے ہوئے) دوسرے بے بس مسلمانوں کو رہائی دلا۔‘‘
    [ بخاری، الأذان، باب یھوی بالتکبیر حین یسجد : ۸۰۴، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]

    *عثمان رضی اللہ عنہ سے صحابہ کی یکجہتی*

    سن 6 ہجری ذی قعدہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کو قریش کے پاس سفیر بن کر جانے کا حکم دیا
    حضرت عثمانؓ اپنی سفارت کی مہم پوری کر چکے تھے ، لیکن قریش نے انہیں اپنے پاس روک لیا۔ غالباً وہ چاہتے تھے کہ پیش آمدہ صورتِ حال پر باہم مشورہ کر کے کوئی قطعی فیصلہ کرلیں اور حضرت عثمانؓ کو ان کے لائے ہوئے پیغام کا جواب دے کر واپس کریں، مگر حضرت عثمانؓ کے دیر تک رُکے رہنے کی وجہ سے مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ انہیں قتل کردیا گیا ہے۔ جب رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا: ہم اس جگہ سے ٹل نہیں سکتے یہاں تک کہ لوگوں سے معرکہ آرائی کرلیں۔ پھر آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بیعت کی دعوت دی۔ صحابہ کرام ٹوٹ پڑے۔ اور اس پر بیعت کی کہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نہیں سکتے۔ ایک جماعت نے موت پر بیعت کی۔ یعنی مر جائیں گے مگر میدان ِ جنگ نہ چھوڑیں گے

    *عثمان رضی اللہ عنہ سے یکجہتی کرنے والے ان سب لوگوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہو گئے*

    فرمایا
    لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
    بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے راضی ہوگیا، جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، تو اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت نازل کر دی اور انھیں بدلے میں ایک قریب فتح عطا فرمائی۔
    الفتح : 18

    اور ایسی رضا حاصل ہوئی کہ ان سب پر جہنم حرام قرار دے دی گئی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ لَا يَدْخُلُ النَّارَ، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا تَحْتَهَا ]
    [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أصحاب الشجرۃ… : ۲۴۹۶ ]
    ’’ان شاء اللہ اس درخت والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہو گا جنھوں نے اس کے نیچے بیعت کی۔‘‘

    *قبیلہ بنو خزاعہ سے مسلمانوں کی یکجہتی*

    مکہ مکرمہ میں دو قبیلے بنو بکر اور بنو خزاعہ آباد تھے
    دونوں قبیلوں میں دورِ جاہلیت سے عداوت اور کشاکش چلی آرہی تھی
    چنانچہ شعبان ۸ ھ میں بنو بکر نے بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کردیا۔ اس وقت بنو خزاعہ وتیر نامی ایک چشمے پر خیمہ زن تھے۔ ان کے متعدد افراد مارے گئے۔ کچھ جھڑپ اور لڑائی بھی ہوئی۔ ادھر قریش نے اس حملے میں ہتھیاروں سے بنو بکر کی مدد کی۔ بلکہ ان کے کچھ آدمی بھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لڑائی میں شریک ہوئے۔ بہرحال حملہ آوروں نے بنوخزاعہ کو کھدیڑ کر حرم تک پہنچادیا۔
    بنو خزاعہ کے ایک آدمی عَمرو بن سالم خزاعی نے وہاں سے نکل کر فوراً مدینہ کا رُخ کیا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہنچ کر سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس وقت آپ مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرماتھے۔ عمرو بن سالم نے چند اشعار کہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ :
    آپ پُر زور مدد کیجیے اور اللہ کے بندوں کو پکاریے ، وہ مدد کو آئیں
    جن میں اللہ کے رسول ہوں ہتھیار پوش ، اور چڑھے ہوئے چودھویں کے چاند کی طرح گورے اور خوبصورت
    آپ ایک ایسے لشکرِ جرار کے اندر تشریف لائیں جو جھاگ بھرے سمندر کی طرح تلاطم خیز ہو یقینا قریش نے آپ کے عہد کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ کا پُختہ پیمان توڑدیا ہے۔
    انہوں نے وتیر پر رات میں حملہ کیا اور ہمیں رکوع وسجود کی حالت میں قتل کیا
    یہ سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا :
    اے عَمرو بن سالم ! تیری مدد کی گئی۔ اس کے بعد آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا دکھائی پڑا۔ آپ نے فرمایا: یہ بادل بنو کعب کی مدد کی بشارت سے دمک رہا ہے
    پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور آگے چل کر مظلوموں کی یہی حمایت فتح مکہ کا باعث بنی

    *ایک چھوٹی بچی پر ظلم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رد عمل*

    حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
    أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ أَقَتَلَكِ فُلَانٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ فَقَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجَرَيْنِ
    (بخاري، كِتَابُ الدِّيَاتِ، بابُ مَنْ أَقَادَ بِالحَجَرِ،6879)

    کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں مارڈالا تھا۔ اس نے لڑکی کو پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دوپتھروں میں کچل کر قتل کردیا۔

    *یہود کی طرف سے ایک مسلمان عورت کی بے عزتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی مدد کو جانا*

    ابن ہشام نے ابوعون سے روایت کی ہے کہ ایک عرب عورت بنوقینقاع کے بازار میں کچھ سامان لے کر آئی اور بیچ کر (کسی ضرورت کے لیے)ایک سنار کے پاس ، جو یہودی تھا، بیٹھ گئی۔ یہودیوں نے اس کا چہرہ کھلوانا چاہا مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس سنار نے چپکے سے اس کے کپڑے کا نچلا کنارا ایک طرف باندھ دیا اور اسے کچھ خبر نہ ہوئی۔ جب وہ اٹھی تو اس سے بے پردہ ہوگئی تو یہودیوں نے قہقہہ لگایا۔
    اس پر اس عورت نے چیخ پکار مچائی جسے سن کر ایک مسلمان نے اس سنار پر حملہ کیا اور اسے مارڈالا۔ جوابا یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کرکے اسے مارڈالا۔ اس کے بعد بھی مسلمان کے گھروالوں نے شور مچایا اور یہود کے خلاف مسلمانوں سے فریاد کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حک نے بنی قینقاع کے یہودیوں گھیرا کیا اور مظلوموں کا بدلہ لیا گیا
    (ابن ہشام 2/ 47 ، 48)
    بحوالہ الرحیق المختوم ص327

    *مظلوم بلال رضی اللہ عنہ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی یکجہتی*

    حضرت بلالؓ امیہ بن خلف جحمی کے غلام تھے۔ امیہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کے حوالے کردیتا اور وہ انہیں مکہ کے پہاڑوں میں گھماتے اور کھینچتے پھرتے۔ یہاں تک کہ گردن پر رسی کا نشان پڑ جاتا۔ پھر بھی أحد أحدکہتے رہتے۔ خود بھی انہیں باندھ کر ڈنڈے مارتا ، اور چلچلاتی دھوپ میں جبراً بٹھائے رکھتا۔ کھانا پانی بھی نہ دیتا
    بلکہ بھوکا پیاسا رکھتا اور ان سب سے بڑھ کر یہ ظلم کرتا کہ جب دوپہر کی گرمی شباب پر ہوتی تو مکہ کے پتھریلے کنکروں پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھوا دیتا۔ پھر کہتا : واللہ! تو اسی طرح پڑارہے گا یہا ں تک کہ مر جائے یا محمد کے ساتھ کفر کرے اور لات وعزیٰ کی پوجا کرے۔ حضرت بلالؓ اس حالت میں بھی کہتے : أحد ،أحد اور فرماتے : اگر مجھے کوئی ایسا کلمہ معلوم ہوتا جو تمہیں اس سے بھی زیادہ ناگوار ہوتا تو میں اسے کہتا۔ ایک روز یہی کاروائی جاری تھی کہ حضرت ابوبکرؓ کا گزر ہوا۔ انہوں نے حضرت بلالؓ کو ایک کالے غلام کے بدلے اور کہا جاتا ہے کہ دوسو درہم (۷۳۵ گرام چاندی) یا دوسو اسی درہم (ایک کلو سے زائد چاندی ) کے بدلے خرید کر آزاد کر دیا
    (ابن ہشام ۱/۳۱۷، ۳۱۸بحوالہ الرحیق المختوم)

    *ایک مسلمان کے ہاتھ اور پاؤں توڑے گئے تو امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ان کے ہاتھ پاؤں خیبر والو ں نے توڑ ڈالے تو عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کے یہ ودیوں سے ان کی جائداد کا معاملہ کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں قائم رکھے ہم بھی قائم رکھیں گے اور عبداللہ بن عمر وہاں اپنے اموال کے سلسلے میں گئے تو رات میں ان کے ساتھ مار پیٹ کا معاملہ کیا گیا جس سے ان کے پاؤں ٹو ٹ گئے ۔ خیبر میں ان کے سوا اور کوئی ہمارا دشمن نہیں ‘ وہی ہمارے دشمن ہیں اور انہیں پر ہمیں شبہ ہے اس لئے میں انہیں جلا وطن کر دینا ہی مناسب جانتا ہوں ۔
    جب عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنوابی حقیق ( ایک یہ ودی خاندان ) کاایک شخص تھا ’ آیا اور کہا یا امیرالمومنین کیا آپ ہمیں جلاوطن کردیں گے حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں باقی رکھا تھا اور ہم سے جائیداد کا ایک معاملہ بھی کیا تھا اور اس کی ہمیں خیبر میں رہنے دینے کی شرط بھی آپ نے لگائی تھی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھول گیا ہوں ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ تمھارا کیا حال ہوگا جب تم خیبر سے نکالے جاؤ گے اور تمھارے اونٹ تمہیں راتوں رات لئے پھریں گے ۔ اس نے کہا یہ ابو قاسم ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مذاق تھا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا کے دشمن ! تم نے جھوٹی بات کہی ۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں شہر بدر کردیا اور ان کے پھلوں کی کچھ نقد قیمت’ کچھ مال اور اونٹ اور دوسرے سامان یعنی کجاوے اور رسیوں کی صورت میں ادا کردی

    *محمد بن قاسم اور مظلوم مسلمانوں کی پکار*

    ولید بن عبدالملک کے زمانے میں راجہ داہر کے ڈاکوؤں نے مسلمانوں کے بحری جہاز لوٹ لیے۔ بچے اور عورتیں قیدی بنالیے۔ ایک مسلم خاتون کی زبان سے نکلا:
    ”ہائے حجاج! تیری اسلامی غیرت کہاں گئی؟“
    بس پھر کیا تھا؟ حجاج نے لشکر پہ لشکر بھیجے۔ تیسرے لشکر کا سالار اپنے نوعمر بھتیجے اور داماد محمد بن قاسم کو بنایا۔ اسے تقویٰ اختیار کرنے، نمازوں کی پابندی اور بلاوجہ کسی پر ظلم نہ کرنے کا حکم دے کر داہر اور اس کے رسہ گیروں کو سبق سکھانے بھیج دیا۔ ابن قاسم آیا اور اس نے کراچی سے ملتان تک کے علاقے کو اسلامی ملک بناکر رکھ دیا۔
    اور ڈاکوؤں کو پکڑ کر مظلوم لوگوں کی خوب داد رسی کی

    *معتصم باللہ اور ایک عورت کی مدد*

    عموریہ کا ایک بڑا قلعہ تھا۔ رومی عیسائی حکومت کے زیر اثر مسلمان بھی رہتے تھے۔ کسی مسلمان عورت کو کسی بات پر ایک عیسائی نے تھپڑ ماردیا اور کہا: ”کرلے جو کرنا ہے۔“ مسلمان عورت کے منہ سے نکلا: ”ہائے معتصم!“ عباسی بادشاہ کا نام معتصم تھا۔ عیسائی نے کہا: ”واہ! کہاں تو اور کہاں تیرا بادشاہ معتصم۔ ہماری حکومت ہے۔ ہم جو چاہیں کریں۔“ یہی بات ہوا کے کندھوں پر سوار بغداد میں عباسی خلیفہ تک پہنچی۔ ہوا ہی کے ہاتھ معتصم نے جواب بھیجا: ”میری بہن! فکر مت کر، میں ابھی پہنچا۔“ چند ہی دنوں میں مسلم افواج اپنے خلیفہ کی ہدایت پر عموریہ فتح کرچکی تھیں۔ مسلمان بہن کی تلاش کی گئی۔ اسے بادشاہ کا پیغام دیا گیا۔ وہ شکر اور فخر کے ملے جلے جذبات کے ساتھ حاضر ہوئی۔ دوسری طرف اس کے سامنے عیسائی زیادتی کرنے والا پابجولاں سر جھکائے کھڑا تھا۔ اس مغرور نصرانی نے مسلم سپاہ اور عموریہ کے عام لوگوں کے سامنے معافی مانگی۔ معتصم باللہ نے کہا: ”میری بہن! اپنا بدلے لے۔ تیرا بھائی، تیرا امیر، تیری ہی خاطر، تیری غیرت کا بدلہ لینے آیا ہے۔“ مسلم خاتون نے سربلند ہوکر امیر المومنین کا شکریہ ادا کیا۔ پھر ایک زہرناک نگاہ سے نصرانی کو دیکھا اور کہا: ”میں تجھ سے تھپڑ کا بدلہ تھپڑ مارکر لے سکتی ہوں۔ تو نے دیکھا لیا کہ میرا امیر مسلم غیرت سے خالی نہیں اور لے میں تجھے صرف اللہ کی رضا کے لیے معاف کرتی ہوں۔ آیندہ تمہارا کوئی غیرت سے عاری فرد ایسی جرات نہ کرے۔“

    *اے امت مسلمہ❗کشمیر اور دیگر علاقوں میں مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے اٹھو*

    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے
    خدا بھی اہل ہمت کو پر پرواز دیتا ہے

    اٹھو کشمیر کے سرو و سمن آواز دیتے ہیں
    تمہیں افغان کے کوہ و دمن آواز دیتے ہیں
    لہو میں تیرتے گھر و صحن آواز دیتے ہیں
    فلسطینوں کے لاشے بے کفن آواز دیتے ہیں
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    وہ دیکھو وادیِ کشمیر میں گلزار جلتے ہیں
    تڑپتے ہیں کہیں گُل پیرہن گھر بار جلتے ہیں
    ارم آباد کے وہ زعفرانِ زار جلتے ہیں
    وہ اپنی جنتِ ارضی کے سب آثار جلتے ہیں
    جِدھر اُٹھی نظر خونی الاؤ جلتے دیکھے ہیں
    کہاں چشم فلک نے ایسے گھاؤ جلتے دیکھے ہیں
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    بگوشے گوش سے نالے سنو معصوم بچوں کے
    ڈرے سہمے ہوئے چہرے کہیں مغموم بچوں کے
    جھپٹ کر ماؤں سے چھیدے گئے حلقوم بچوں کے
    اٹھا کر ماؤں نے پھر بھی لیے منہ چوم بچوں کے
    مرتب ہو رہی ہے جہدِ اسلامی کی تحریریں
    لہو دے کر بدلتی ہیں سدا قوموں کی تقدیریں
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    وہاں افغانیوں کے خون سے بہتے ہوئے دھارے
    اُبلتا ہے لہو سینوں سے یا چشموں کے فوارے
    کسی کے ہیں جگر گوشے کسی کے ہیں جگر پارے
    وہاں ماؤں نے وارے کیسے کیسے آنکھ کے تارے
    میرے الفاظ کیا ہر شعر کا مضمون جلتا ہے
    میں جس دم سوچنے لگتا ہوں میرا خون جلتا ہے
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    کچل ڈالو ہر اک فتنہ ستم کا، سربریت کا
    اٹھو اور توڑ ڈالو ہاتھ ہر اہلِ اذیت کا
    اگر کچھ حریت کا جوش ہے جذبہ حمیت کا
    رہے رب کی زمیں پر کیوں یہ غلبہ آمریت کا
    اٹھو تم دین فطرت کی حقیقت کا حوالہ ہو
    تمہارے نام سے اسلام کا پھر بول بالا ہو
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    جہاد فی سبیل اللہ ہے بس تیار ہو جاؤ
    اگر پہلے نہ تھے تیار اب تیار ہو جاؤ
    جو سچ پوچھو تو ہے یہ حکمِ رب تیار ہو جاؤ
    نہ اب پہنچو گے تو پہنچو گے کب؟ تیار ہو جاؤ
    اٹھو آگے بڑھو کفار نے پھر تم کو للکارا!
    تمہاری ٹھوکروں میں تھا کبھی تاج سرِ دارا
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے