Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شہداء کشمیر کو سلام – عظمیٰ ربانی

    شہداء کشمیر کو سلام – عظمیٰ ربانی

    شہداء کشمیر کو سلام
    از قلم! عظمی ربانی

    کشمیر کے شہیدو! ہوتم پر سلام
    اپنی ملت کا روشن کیا تم نے نام

    تمہاری جر أت،دلیری پہ کیا کیا لکھوں
    تمہاری جانثاری کو میں کیا نام دوں

    تاریخ خود گنوائے گی وہ عظیم کام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    اپنی ماؤں کی عزت کے نگہباں تھے
    اپنی بہنوں کی حرمت کے پاسباں تھے

    ان رداؤں کی خاطر کی جان اپنی تمام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    نام سن کر دشمن تھرا ہی تو گئے
    مقابل جو آئے وہ گھبرا ہی تو گئے

    کانپ جاتے تھے دل سن کر تمہارا نام
    کشمیر کے شہیدو!ہو تم پر سلام

    یہ حسین وادی تمھارے خون سے سیراب ہے
    جو راہ دکھلائی تم نے وہ مثلِ ماہتاب ہے

    آزادی کے راہبروں میں ہے تمہارا مقام
    کشمیر کے شہیدو ! ہو تم پر سلام

    قربانی جسم و جاں کی ضائع نہ جاۓ گی
    آنے والی ہر نسل کہانی تمہاری سنائے گی

    فلک تک تمہاری عظمت کا ہو گا چرچا عام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    مولا تو سن لے مظلوموں کی آہ و بكا
    جگ میں کوئی نہیں ان کا تیرے سوا
    ہر روز جنازے اٹھیں، زندگی ہو گئی جام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

  • یہ تو سفر خون ہے – جویریہ بتول

    یہ تو سفر خون ہے – جویریہ بتول

    یہ تو سفرِ خون ہے…!!!
    ✍🏻:جویریہ بتول
    حقیقت ہے اک کھلی ہوئی یہ تو سفرِ خون ہے…
    ہمت کی یہ بازی ہے… یہ جذبۂ جنون ہے…
    رِستا ہوا ہر اِک زخم مرہم اب مانگے گا…
    طلوعِ صبحِ آزادی اب اِسی کی مرہون ہے…
    گرم جواں لہو سے جو سینچتے ہیں وہ لالہ زار…
    انہی کی جرأتوں کا لکھا ہوا ہر سو مضمون ہے…
    ماؤں نے لعل گنوائے،لُٹا دیے ہیں سہارے سب…
    گُل رنگ گلشن میں کوئی فاختہ نہ مامون ہے…
    کاغذ،قلم اور کتاب پر بھی جہاں پہرے ہیں…
    حقِ رائے آزادی پر لگا طویل لاک ڈاؤن ہے…
    ان نہتے سنگ بازوں کے فلک بوس عزائم سے…
    سہما ہوا انجام اپنے سے وقت کا فرعون ہے…
    اُس قوم کے بچے بچے پر حاوی یہ گہرا عزم ہے…
    ہم لے کر رہیں گے آزادی،یہ نعرہ جن کا سکون ہے…
    بُجھ جائے گا وہ چراغ کیوں کر ظلمتِ شب میں…
    جس کی لُو کو ملا خونِ جگر کا ستون ہے…
    صدیوں کے جاری سفر پر حوصلوں کا سہرا ہے…
    ظلمتوں کی تہہ میں وہ طلوعِ سَحر مدفون ہے…!

  • یوم یکجہتی کشمیر اور اہلیانِ کشمیر سے ہماری یکجہتی کی حقیقت – محمد نعیم شہزاد

    یوم یکجہتی کشمیر اور اہلیانِ کشمیر سے ہماری یکجہتی کی حقیقت – محمد نعیم شہزاد

    درد کی بھی ایک زبان ہوتی ہے جس کو سمجھنے کے لیے دل کی آنکھ درکار ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ بظاہر خوشحال اور پرسکون نظر آنے والے چہروں کے پیچھے کتنے کرب چھپے ہوتے ہیں۔ وقت کی تیزی اور گردشِ زمانہ نے انسان کو کس قدر بے حس بنا دیا ہے کہ دوسرے کا درد محسوس نہیں ہوتا۔ مگر جو درد میں ڈوبا ہو اس کی زندگی کس بھنور سے گزرتی ہے یہ وہی جانتا ہے۔ فیض کہتے ہیں

    زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
    ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

    قریب پون صدی کی غلامی کی زندگی، اذیت ناک صبحیں، درد بھری شامیں اور محرومیوں بھرے ماہ و سال، ایک لرزا دینے والا تصور پیدا کرتے ہیں۔ سال میں ایک دن اس بے بسی و بے نوائی کی گھٹن زدہ زندگی کے نام کر دینا اس کی محرومیوں کا مداوا نہیں کرتا مگر ذہن کے بند دریچوں پر ہلکی سی دستک ضرور دے جاتا ہے۔ پیلٹ گن سے بے نور آنکھیں، باپ کے سائے سے محروم یتیم بچے، اجڑے سہاگ والی دوشیزائیں، بے ردا ہوتی حیا و شرم والی خواتین اور نوجوانوں کے کٹے پھٹے لاشے عالمی مردہ ضمیر کو جھنجھوڑنے سے قاصر ہیں۔ جس باقاعدگی سے ہم یکجہتی کی رسمِ دنیا نبھا رہے ہیں اسی باقاعدگی سے نہتے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ سالہا سال کی مکرر یکجہتی اور ہمدردی اب کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتی اور وہ زبان حال سے کہنے پر مجبور ہیں

    مجھے چھوڑ دے میرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
    یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے

    ذرا چشم تصور میں اس معصوم بچے کو لائیے جس کی بینائی پیلٹ گن چھین لے گئی۔ درد کی اس تصویر کو دیکھتے ہی دل غم سے بھر جاتا ہے۔ آج بھی اسی غم نے مجبور کیا کہ اپنا ما فی الضمیر سپرد قلم کر دوں شاید کہ دل میں دہکنے والی آگ کچھ ٹھنڈی ہو اور سکون قلب نصیب ہو۔

    درد ہو دل میں تو دوا کیجے
    اور جو دل ہی نہ ہو تو کیا کیجے

    اس کے ساتھ ہی یہ سوچ ذہن کو پریشان کرتی ہے کہ عالمی امن کے ٹھیکیدار اور بڑے بڑے طاقتور ممالک کیوں ایسے محکوم لوگوں کے درد کا مداوا کیوں نہیں کرتے؟ کیا عالمی قوانین کا اطلاق صرف پاکستان جیسے امن پسند ملک کے لیے ہی ہے؟ کیا بھارت جیسی نجاست کو کوئی پوِتر اور پاک کرنے والا نہیں ہے؟ دو سال ہونے کو ہیں کہ بھارت نے کشمیر کی حیثیت کو زبردستی تبدیل کر دیا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے خطے میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی مکروہ سازش پر جتا ہوا ہے۔ دنیا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے اس کی کارستانیاں دیکھ رہی ہے ۔

    درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے
    زندگی بے مزا نہ ہو جائے

    عالمی برادری اور ادارو ں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور بھارت کے مکروہ عزائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا چاہیے۔ اس طرح اگر اہالیان کشمیر کو بھارت مظالم کا تختہ مشق بنائے رکھا تو ایشیا میں امن کی مخدوش صورتحال پوری دنیا پر اثر انداز ہو گی۔ بقول حفیظ جالندھری

    دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب
    میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

  • مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

    مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

    پاک بحریہ نے علاقائی بحری ہم آہنگی کو فروغ دینے اور دیگر معاملات میں مطابقت کو بڑھا نے کے لیے2007 میں بحری مشقوںکے سلسلے کی میزبانی کا آغاز کیا۔ لفظ ‘امن’ پاکستان کی قومی زبان اردو سے لیا گیا ہے۔ پاک بحریہ کی میزبانی میں اس مشق کے تحت 45 سے زائد ممالک کی بحری افواج کو ایک نعرے "امن کے لئے متحد” کے تحت مدعو کیا جاتا ہے جس کا مقصد کثیرالجہتی دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا اور سمندری اور بحری آپریشنزمیں باہمی تعاون اور ثقافتی روابط کا فروغ ہے۔

    بحر ہند کو مختلف سیکورٹی اور جیو اسٹریٹیجک تبدیلیوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ساحلی ریاستوں بشمول پاکستان کو بیشتر چلینجز کا سامنا ہے۔ ان تبدیلیوں سے علاقائی منظر نامے پر متعدد مسائل ابھر رہے ہیں جیساکہ عسکری علاقے (ops enduring freedom)، صومالیہ کے قریب بحری قزاقی، یمن تنازعہ، داعش کا اُبھرنا، ایران – مغربی ممالک اورسعودی عرب کے بدلتے تعلقات، عرب اسپرنگ اور لیوانت میں بد امنی جو علاقائی امن و استحکام کے لئے باعث تشویش ہیں۔ اس کے علاوہ ،غیر روایتی خطرات بحر ہند میں مزید پیچیدہ اور مشکل چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ غیر روایتی خطرات کا دائرہ وسیع اور روایتی خطرات سے وابستہ ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی، غیر قانونی ،غیر مرتب شدہ اور غیر منظم ماہی گیری (IUU)، غیر قانونی امیگریشن، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ، بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی شامل ہیں۔
    2007 میں پاک بحریہ کی جانب مشق امن کی میزبانی شروع کی گئی جس کے بعد ہر دو سال میں یہ مشق منعقد کی جاتی ہے۔ اس سلسلے کی ساتویںکثیر المکی مشق2021 میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے امن مشق کئی حصوں اور پروگرامز پر مشتمل ہے۔ سمندری فیر میں آپریشنل اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور اس مشق کے ذریعے روایتی اورغیر روایتی خطرات کے خلاف ردعمل ، حکمت عملی ، تکنیک اور طریقہ کار کی تخلیق کے مقاصدکے لیے وی بی ایس ایس(VBSS) ، نیول گن فائر ، بحری قزاقی کا مقابلہ ، اینٹی سب میرین مشق ، مواصلات ، آپریشنز ، یکجا بورڈنگ اور ایئر ڈیفنس کی مشقیں کی جاتی ہیں۔ مشق کے سی فیز میں ، جدید بحری مشقیں شامل ہوں گی جن میں کاو¿نٹر ٹیررازم آپریشنز ، میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز ، اینٹی پائریسی ، سطح آب سے فائرنگ کی مشقیں ، سرچ اینڈ ریسکیو مشقیں اور بین الاقوامی فلیٹ ریویوشامل ہیں۔

    ہاربر فیز میں بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس ، میری ٹائم ٹیرراِزم ڈیمو، پیشہ ورانہ امور پر ٹیبل ٹاپ ڈسکشن اور بندرگاہ میں متعدد ثقافتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دھماکہ خیز مواد کی آرڈیننس ڈسپوزل ٹیم، اسپیشل آپریشن فورسز اور دیگر سمندری یونٹس اس مشق میں جدید ہتھیاروں اور جدید تکنیکی سازوسامان کا ا ستعمال سیکھیں گے۔

    ‘مشق امن’ کے خیال نے متعدد سمندری ممالک کو اپنی طرف راغب کیا جو پرامن باہمی بقاءاور مشترکہ تعاون کے لئے دنیا کے سمندروں کے مشترکہ استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ مشق میں شریک ممالک کی تعداد پنتالیس سے زیادہ ہو گئی تھی جو کہ 2007 میں اٹھایئس ممالک سے شروع ہوئی تھی۔

    امن سیریز کی اب تک چھ مشقیں منعقد ہوچکی ہیں اور ساتویں مشق فروری، 2021 میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اس مشق نے نہ صرف پاکستان کے قومی وقار اور عزت میں اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس مشق میں اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت کا مطلب یہ ہے کہ عالمی برادری نے علاقائی امن و سلامتی کے لئے پاکستان کے اقدام کوسراہا ہے۔ مزید یہ کہ ،مشق امن کے شرکاءکی بڑھتی ہوئی تعدادخطے کے ممالک کی جانب سے بحر ہند میں ہم آہنگی اور تعاون کو بڑھانے کے لیے کی جانے والی پاکستان کی کاوشوں میں تعاون کا عندیہ بھی ہے۔

    مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

  • پاکستانیوں کا کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی،SignForKashmir ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    پاکستانیوں کا کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی،SignForKashmir ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے اور اس دن کشمیرمیں بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے-

    باغی ٹی وی : 1846 میں تقسیم ہند کے بعد فیصلہ ہو چکا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو دیئے جائینگے مگر 26 اکتوبر 1947 کو اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمان جموں و کشمیر اور معائدہ تقسیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف الحاق بھارت کا اعلان کیا جسے غیور کشمیریوں نے ناقبول کیا مسلمانان جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہو گئے کیونکہ وہ شروع سے ہی نعرہ لگاتے آئے تھے کشمیر بنے گا پاکستان اور قیام پاکستان کیلئے غیور کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں جو کہ تاریخ میں سنہری حروف کیساتھ رقم ہیں-

    مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر کا مہاراجہ کے فیصلے کے خلاف غصہ بڑھتا گیا اور انہوں نے فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور اپنی آزادی کیلئے پاکستان کے مسلمانوں کو پکارا اور یوں پاکستان و ہندوستان کے مابین پہلی جنگ قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑی گئی اکتوبر 1947 سے 1 جنوری 1949 تک کی اس جنگ میں بھارت کو پاکستانی قبائلیوں اور فوج کے علاوہ غیور کشمیریوں سے منہ کی کھانی پڑنی اور اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا آج جس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے جہاں اس کی اپنی آزاد سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہے ان کا اپنا علیحدہ صدر و وزیراعظم ہے-

    عنقریب تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہونے والی یہ جنگ پورے بھارت کو اپنی لپٹ میں لے لیتی اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں جاکر منت سماجت کی کہ جنگ بندی کروائی جائے کیونکہ نہرو جان چکا تھا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے بعد اب یہ جنگ نہیں رکنے والی اور یہ جنگ پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کروا کے بھارت تک پہنچ جائے گی اسی لئے نہرو سلامتی کونسل پہنچا جس کے باعث سلامتی کونسل میں بیٹھے انسان نما جانوروں سے ساز باز کرکے جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور اس کیساتھ نہرو و سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا کہ ریفرنڈم کروایا جائیگا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا کہ آزاد خود مختار کشمیر-

    اب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کل 18 قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر ہر بار بھارت انکاری رہا مگر افسوس کہ سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں-

    سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کرواتے ہوئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے مگر بھارت و تمام عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے و ظلم و جبر میں رہتے ہوئے کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہزاروں ماءوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہونے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں
    ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں و گھروں میں لہراتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں
    جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا-

    اسی حوالے سے پاکستان ٹوئٹر پینل پر #SignForKashmir ٹوئٹر فہرست میں ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں پاکستانیوں سمیت دنیا بھر سے مسلمان حصہ لیتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں –


    کشمیری ٹوئٹر نامی ٹوئٹر ہینڈلر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ سییکڑوں اور ہزاروں بے گناہ کشمیریوں نے اپنے کشمیری شناخت کے تحفظ کے لئے حتمی قربانی ادا کی ہے۔ آئیے اپنی آواز بلند کریں اور لاکھوں کی تعداد میں شامل ہوکر کشمیریوں کی آزادی اور حقوق کے لئے آواز بُلند کریں-
    https://twitter.com/Arslan_Sadiq/status/1357220129734594561?s=20
    https://twitter.com/faujkashaheen/status/1357294872806440960?s=20
    اویس نامی صارف نے لکھا کہ کشمیریوں کے حق کے لئے آواز بُلند کرو-


    عزیزالرحمن نامی صارف نے حافظ محمد سیعد کے الفاظ لکھے کہ کشمیریوں کو آزادی دی جانی چاہئے ، انہیں فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہئے اور اگر آج بھی بھارت ماننے کو تیار نہیں ہے تو پھر پاکستانی اور کشمیری ایک ہیں قوم میں آزادی کی راہ شہادت ہے-


    https://twitter.com/AhsanAliButtPTI/status/1357283483467599873?s=20


    ایک صارف نے کہا کہ کشمیر ہمارے لئے ہمارے جسم کے ایک حصے کی طرح ہے اور ہم کشمیر کے لئے آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑیں گے-

  • امریکی گلوکارہ ریحانہ پشاور زلمی کے لئے ترانہ گائیں گی؟

    امریکی گلوکارہ ریحانہ پشاور زلمی کے لئے ترانہ گائیں گی؟

    گزشتہ روز سے جہاں شہرہ آفاق پاپ گلوکارہ ریحانہ بھارتی کسانوں کی حق میں آواز اٹھانے کی وجہ سے خبروں کی زینت بنی ہیں وہیں پشاور زلمی فرنچائز کے چئیرمین جاوید آفریدی کی جانب سے ایک ٹوئٹ سامنے آئی ہے جس نے صارفین کو کشمکش میں ڈال دیا ہے-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں امریکی گلوکارہ کو بھارتی کسانوں کی حمایت کرنے پر بھارتیوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا بھارتی ٹوئٹر صارفین ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں زبردستی پاکستان کو درمیان میں لے آئے ہیں۔ یہاں تک کہ گلوکارہ ریحانہ کو پاکستانی اور آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے یہ الزام تک لگادیا کہ ریحانہ نے کسانوں کے حق میں ٹوئٹ کرنے کے لیے پاکستان سے پیسے لیے ہیں۔

    جبکہ بھارت نے ریحانہ سمیت متعدد غیر ملکی افراد پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملک میں کسانوں کے احتجاج پر سنسنی پھیلارہے ہیں۔ جب کہ متعدد بالی ووڈ اداکاروں نے بھی ڈھکے چھپے الفاظوں میں کہا ہے کہ غیر ملکی فنکاروں کو بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔


    بھارتی صارف نے گلوکارہ کے ٹوئٹ کے جواب میں اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے براہ راست ریحانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی نے تمہیں یہ ٹوئٹ کرنے کے لیے کتنے پیسے دئیے ہیں؟
    https://twitter.com/theFalgunshah/status/1356674807627214853?s=20
    کچھ بھارتی صارفین نے ریحانہ کی پاکستانی معاون خصوصی زلفی بخاری کے ساتھ ایک پرانی تصویر نجانے کہاں سے ڈھونڈھ لائے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ریحانہ کو اس ٹوئٹ کے لیے آئی ایس آئی نے پیسے دئیے ہیں۔


    کچھ بھارتیوں نے تو ریحانہ کو پاکستانی ثابت کرنے کی کوشش میں ان کی پاکستانی جھنڈے کے ساتھ تصویر فوٹوشاپ کرکے شیئر کرادی۔

    تاہم ان سب ٹوئٹس اور تنازع کے بعد پشاور زلمی کے چئیرمین جاوید آفریدی کا ایک ٹوئٹ سامنے آیا جس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا-

    جاوید آفریدی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک سوالیہ انداز میں ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پشاور زلمی کا ترانہ ریحانہ گائیں گی؟

    جاوید آفریدی کے اس ٹوئٹ کے پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اپنے ملک میں کافی اچھے ٹیلنٹڈ گلوکار ہیں جنھیں عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے لہذا براہ کرم اپنے ملک سے باہر کے کسی کو بھی یہ اعزاز دینے کے بجائے یہاں دیکھیں۔
    https://twitter.com/hinnaYousafxaii/status/1357008801493381124?s=20
    حنا نامی خاتون صارف نے جاوید آفریدی کی ٹوئٹ کو رد کرتے ہوئے لکھا کہ نہیں ، اور آپ ہمیشہ زلمی کے لئے کالے لوگوں کا ہی انتخاب کیوں کرتے ہیں-


    ایک صارف نے لکھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں RIHANNA کیا عمران خان کی حکومت چاہے تو سنی لیون کو بھی بلا سکتی ہے۔ اتنی دور جانا بھی نہیں پڑے گا۔ اللہ نے پیسے کہ چکر میں ان سے انکی عقل ہی چھین لی ہے۔ عمران خان نے دھرنوں میں عورتیں نچوائیں یہ سٹیڈیم میں پوری میڈیا پے دکھانا چاہتے ہیں۔ استغفراللہ


    ایک صارف نے لکھا کہ اس ملک میں اپ جیسے نو دولتیوں سے یہی توقع کی جاسکتی ہے ملک میں اپنے میراثی گلوکار مر گئے ہیں جو اس حبشن کو لے رہے ہو اور اگر اس دفعہ ڈھول باجوں کی جگہ کوئی صوفیانہ کلام شامل کر لو تو کیا مضائقہ ہے-


    ہارون خان نامی صارف نے لکھا کہ بہت سارے ڈالر پاکستان سے باہر جارہے ہیں ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں پاکستان آنے والے ڈالر کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ ہم نے بہت زیادہ غیر ضروری درآمدات کو ختم کردیا ہے پاکستانی بنیں ، پاکستانی خریدیں –
    https://twitter.com/Usama4745/status/1357230222114979840?s=20
    اسامہ نامی صارف نے لکھا کہ بھائی بلاواسطہ پاکستان ہی آئیں گے جب ریحانہ کے ذریعے پاکستان کی پروموشن ہو گی اور پاکستان میں سیاحت کو فروگ ملے گا-

  • مکمل طور پر نئے آئین کی ضرورت ،تحریر:حیدر مہدی

    مکمل طور پر نئے آئین کی ضرورت ،تحریر:حیدر مہدی

    مکمل طور پر نئے آئین کی ضرورت ،تحریر:حیدر مہدی

    یہ ممکن ہے کہ اردگان اپنی حکمرانی میں توسیع کے لئے یہ کام کر رہے ہوں لیکن تُرکی کے آئین کو "دوبارہ” لکھنے کا یہ نمونہ, ہمارے لئے پاکستان میں بہت ضروری اور اہم ہے, اگر ہمیں اپنی صلاحیتوں کو ممکنہ استعداد کے ساتھ اُجاگر کرنا ہے ، اور ہم جس طرح کی ترقی کے قابل ہیں۔

    ہمیں خود کو 1935 کے فرسودہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے چُنگل سے آزاد کرنا چاہئے ، جہاں سے پاکستان کے ہر آئین نے اپنی الہامی تحریک تیار کی ہے ، جس میں 1973 کا آئین بھی شامل ہے ، جو اب تسلیم سے بالاتر اور مسخ شدہ ہے۔

    ابتدائی مقصد کے لحاظ سے ہی یہ ایک جامع دستاویز نہیں تھی ، جس کا مُصنّف ایک ایسا شخص تھا جو ہمیشہ کے لئے حُکمرانی اور من مانی کرنا چاہتا تھا !

    1973 کی یہ دستاویز مقصدیت کی حصول میں مکمل طور پر ناکام اور حکومتی کُرسیوں کے ادل بدل” کھیل تماشے” کے مصداق رہی،جس کے نتیجے میں بالائے آئین فوجی بغاوتیں ہوئیں جو عملاً فوج کے حق میں رہیں، نتیجتاً, زبردست ادارہ جاتی عدم توازن ہوا، سویلین ادارے کمزور ہوئے، اور شہری حکومتوں کی سربراہی غیر مہذب ،جَنونی، فرعونیت پسند شیطانی ٹولے کرتے رہے۔ سیاستدان ، صرف اور صرف ریاستی اداروں کو تباہ کرنے پر مرکوز رہے تاکہ وہ اپنی مرضی سے لوٹ مار اور بندر بانٹ کرسکیں!

    ہمیں اپنے آئین کی مکمل اصلاح کی ضرورت ہے۔ بلکہ حقیقت میں ہمیں ایک مکمل طور پر نئے آئین کی ضرورت ہے!

    خاص طور پر ہمارے لئے مندرجہ ذیل امور کی مکمل جرّاحی اور تجدید کرنی ہے،

    1. انتخابی نظام
    2. گورننس کا ڈھانچہ۔
    3. قانون سازی۔
    4. اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدالتیں
    6. قانون نافذ کرنا۔
    7. سول ملٹری توازن۔

    وزیر اعظم کو آرٹیکل 48 (6) اور 48 (7) کے تحت مذکورہ بالا اُمور پر رائے شماری لینا چاہئے۔جو کہتا ہے کہ،

    * [(6) اگر کسی بھی وقت وزیر اعظم قومی اہمیت کے حامل کسی بھی معاملے پر ریفرنڈم کروانا ضروری سمجھتے ہیں تو وہ اس معاملے کو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے مشترکہ اجلاس میں بھیج سکتے ہیں اور اگر مشترکہ اجلاس میں اس کی منظوری دی جاتی ہے تو ، وزیر اعظم اس طرح کے معاملے کو ایک سوال کی شکل میں ریفرنڈم کے حوالے کرنے کا سبب بن سکتے ہیں جس کا جواب "ہاں” یا "نہیں”میں ہو۔] *

    * ( 7) مجلس شوریٰ کا ایک ایکٹ (پارلیمنٹ) ریفرنڈم کے انعقاد اور ریفرنڈم کے نتائج کی تالیف اور استحکام کے لئے طریقہ کار وضع کرسکتا ہے۔] *

    سینیٹ انتخابات کے بعد اس میں اہم پیش رفت کی گنجائش ہے۔

    * *ورنہ یہ عمل وہی پُرانے کچرا دان میں کوڑا ڈالنے،نکالنے کے مترادف ہو گا**

    سلام اور دعائیں
    حیدر مہدی

  • سونامی پراجیکٹ

    سونامی پراجیکٹ

    سونامی پراجیکٹ

    سونامی ٹری پراجیکٹ کے حوالے سے منفی و مثبت بہت سی باتیں زبان زد عام ہیں، تنقید کرنے والوں کی بات میں کچھ حقیقت بھی ہے لیکن اس وقت ہم اسی پراجیکٹ کو ایک دوسرے زاویہ سے دیکھتے ہیں۔

    اس پراجیکٹ پر مبینہ طور پر اربوں روپئے خرچ ہوئے اور اس کا حاصل کتنا ہوا ہم اس بحث میں نہیں پڑتےہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکومت اگر اس پراجیکٹ کا ایک چوتھائی بھی چائے کی کاشت کے لئے مختص کرتی تو اس کے بہت مثبت نتائج سامنے آتے۔

    محکمہ جنگلات اپنی ہی نرسریوں میں چائے کی پنیری تیار کرتا اور اگلے ہی سال اس نرسری کو جنگلات کے رقبہ پر لگا دیتا یا این ٹی آر آئی سے چائے کی تیار نرسری لگاتا اور پہاڑی جنگلات پر بلاک پلانٹیشن کرتا تو اس وقت یہ پودے تھوڑی بہت چنائی کے قابل ہوجاتے جسے محکمہ جنگلات این ٹی آر آئی کو فروخت کرتا تو اسے آمدن بھی ہوجاتی، بہرحال اب بھی وقت وقت ہے آج کل شجر کاری کا موسم ہے این ٹی آر آئی سے نرسری حاصل کرکے اسے فوری لگایا جائے اور این ٹی آر آئی سے اگلی شجر کاری کے لئے معاہدہ کیا جائے جو اسی سال جولائی میں ہوگی۔

    چائے کے پودے کو جانور بھی زیادہ نقصان نہیں دیتے جبکہ دیگر پودوں کو جانور زیادہ نقصان دیتے ہیں۔ چائے ایک جھاڑی ہے درخت نہیں۔ ویسے بھی دنیا بھر میں اسے جنگلات اور پہاڑی ڈھلوانوں پر ہی لگایا جاتا ہے جس سے زرعی زمین بھی متاثر نہیں ہوتی اور بنجر زمینیں بھی آباد ہوجاتی ہیں۔

    ایگری ٹورزم والے اس منصوبہ کو سیاحتی نقطہ نظر کے ساتھ آمدنی کا ذریعہ بھی بنا سکتے ہیں کیونکہ جب پہاڑوں پر یہ پودے لگیں گے تو خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ سیاح اس جانب توجہ مبذول کریں گے تو آمدن بھی ہوگی اور مقامی لوگوں کی معاشی حالت بھی بہتر ہوگی۔

    یہ منصوبہ آسانی سے کیسے پروان چڑھے گا اس پر کسی اور وقت بات کریں۔ سر دست اتنا ہی آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اس میں دلچسپی لی اس مہم میں ہمارا ساتھ دیجئے۔ملک اور قوم کی خوشحالی کے لئے۔

  • خوابوں کی تعبیر

    خوابوں کی تعبیر

    مرے ہوئے سانپ

    ساجد : کاہنہ نو لاہور

    خواب :میں اور میری ہونے والی بیوی کھیتوں کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے میں نے وہاں پر نالے میں بیت سارے سانپ دیکھے جو مر چکے تھے لیکن مگرمچھ وغیرہ ہم سے ڈر کر بھاگ گئے ہیں-

    تعبیر:آپ کے خواب کی تعبیر اچھی ہے ان کے اوپر کچھ جادو کے اثرات تھے جو نماز یا ذکر و اذکار کی وجہ سے اور جب ان کی شادی ہوئی اس وجہ سے وہ تمام اثرات زائل ہو گئے جو شیاطین تھے چھوٹے چھوٹے وہ مر گئے یا بھاگ گئے اور مگر مچھ وہ بڑا شیطان تھا جو انہیں اس ان کی طرف لا رہا تھا یہ ان لوگوں سے خلاصی پائیں گے جو ان کو اذیت دینا چاہ رہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس سے نجات دے دی ہے-

    پُرانا گھر دیکھنا

    شعیب مسعود:لاہور

    خواب: میں نے دیکھا ہے کہ میں رات کے وقت پرانے گھر میں جاتا ہوں اور ساتھ تمام پرانی چیزوں اور پرانی جگہوں کو دیکھتا ہوں-

    تعبیر: یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے حالات بدتر ہو سکتے ہیں ان پر مصیبتیں آ سکتی ہیں اور پرانے گھر سے مراد قبرستان بھی ہے موت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے پرانے گھر سے ویران گھر بھی مراد ہے حالات کا بگڑ جانا اور خستہ حالی افسردہ حالی اور روزانہ کی بنیاد پر مصیبیتیں آنا شروع ہو جانا مراد ہے کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار ہونا پڑے گااس کے برعکس اگر نیا گھر دیکھیں تو اس کا مطلب اچھے حالات کی طرف اشارہ ہوگا-

    خواب کی تعبیر جاننے کے لئے اپنا خواب اپنے نام اور شہر کے نام کے ساتھ 03030204604 پر واٹس ایپ کریں-

  • مصر:سنہری زبانوں والی دو ہزار سال پُرانی حنوط شدہ لاشیں دریافت

    مصر:سنہری زبانوں والی دو ہزار سال پُرانی حنوط شدہ لاشیں دریافت

    مصر کی وزارت آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ ماہرین نے ملک کے شمالی حصے میں دو ہزار سال پرانی ایسی حنوط شدہ لاشیں دریافت کی ہیں جن کے جبڑوں کے درمیان سنہری زبان رکھی ہوئی تھیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق مصر اور ڈومینک رپبلک کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم نے اسکندریہ کے شہر کے قریب تاپوسیریس میگنا کے مندر میں سولہ ایسے مقبرے دریافت کئے ہیں جو پتھر کی چٹانیں کاٹ کر بنائے گئے تھے۔

    اس طرح کے مقبرے یونانیوں اور رومیوں کے دورے میں بنائے جاتے تھے ان مقبروں میں سے ایسی مخروط شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جنھیں محفوظ بنانے میں احتیاط نہیں برتی گئی تھی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ مرنے والوں کی زبانوں کی جگہ سونے کا ملمع چڑھا زبان کی شکل کا تعویذ رکھ دیا جاتا تھا تاکہ وہ بعد از مرگ اپنے دیوتا اوسائرس کی عدالت میں بول سکیں قدیم مصر میں اوسائرس مُردوں کو انصاف دینے والا اور زمین کے اندر کا دیوتا تصور کیا جاتا تھا۔

    سانتو ڈیمنگو یونیورسٹی کے رکن اورمذکورہ مقبرے دریافت کرنے والے ماہرین کی ٹیم کے سربراہ کیتھلین مارٹنیز نے بتایا کہ اس دیوتا کا عکس ایک ڈبے پر بھی بنا ہوا تھا جس میں ایک مخروط شدہ لاش رکھی گئی تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ اس مخروط شدہ لاش کا سر اس ڈبے میں رکھا ہوا تھا جس پر ایک تاج، سینگھ اور کوبرا سانپ کے عکس بھی بنے ہوئے تھےتابوت کے اوپر بنے نقش و نگار میں ایک ہار کی تصویر بھی شامل تھی جس میں ایک باز یا شاہین کا سر لٹکا ہوا تھا جو کہ دیوتا ہورس کی علامت ہے۔

    اسکندریہ کے آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل خالد ابو الحمد نے کہا کہ تاپوسیریس مگنا میں آثار قدیمہ کی کھدائی میں انھیں ایک خاتون کے جنازوں پر پہنے جانے والے نقاب، آٹھ طلائی پھولوں کی چادر کی سونے کی پتیاں اور سنگ مرمر کی سلیں بھی ملیں جو یونانی اور رومی دور کی ہیں۔

    آثار قدیمہ کی وزارت کا کہنا ہے کہ اس ہی مقبرے سے ایسے سکے بھی ملے تھے جن پر ملکہ کلوپطرہ ہفتم کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

    کلوپطرہ ہفتم یونانی زبان بولنے والی پطلیموسی سطلنت کی آخری ملکہ تھیں جو مصر میں 51 قبل از مسیحی سے 30 قبل از مسیح تک قائم رہی۔ کلوپطرہ کی موت کے بعد مصر روم کے دائر اختیار میں چلا گیا۔