Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سنہری یادیں   تحریر:اختر نعیم مانسہرہ

    سنہری یادیں تحریر:اختر نعیم مانسہرہ

    سنہری یادیں

    ادبی تقاریب میں اب وہ پہلے جیسی چاشنی نہیں رہی، وجوہات کیا ہیں اس پر ہم کبھی تفصیل سے لکھیں گے کہ قصور کس کا ہے ؟
    ہزارہ ڈویژن میں 1980 کی دہائی میں مینگل ادبی تقاریب کا عروج تھا، ہری پور، ایبٹ آباد، حویلیاں، بفہ، شنکیاری اور مانسہرہ کے مشاعروں میں شاعروں کے ساتھ ساتھ ادب نواز احباب بھی بھرپور شرکت کیا کرتے تھے۔ ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے لالہ یعقوب اعوان ایک صحافی تھے شاعر تو نہ تھے لیکن شاعروں کو داد دینے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا ان کے داد دینے کا انداز شاعر کو حوصلہ دیتا اور سامعین بھی ان کے داد دینے کے انداز سے بہت محظوظ ہوا کرتے تھے، میں اس پر بھی آئندہ تفصیلی بات کروں گا۔
    ہمارے بہت ہی مہربان اور مزاح نگار شاعر نیاز سواتی مرحوم جن کا نام برصغیر پاک و ہند میں کسی تعارف کا محتاج نہ تھا یہاں بھی محفلوں کی جان ہوا کرتے تھے جب ان کا نام سٹیج سے پکارا جاتا تو سامعین ہمہ تن گوش ہوجایا کرتے تھے۔
    ایبٹ آباد میں ایک طرحی مشاعرہ تھا، مصرع یوں تھا۔
    شاعر ہوں میں شاعر کی نوا ڈھونڈ رہا ہوں۔
    اس نیاز سواتی مرحوم نے یوں گرہ لگائی۔
    ملتان میں مری کی ہوا ڈھونڈ رہا ہوں
    شاعر ہوں میں شاعر کی نوا ڈھونڈ رہا ہوں
    محفل تو بس ان کی پوری غزل سے جھوم اٹھی تھی۔
    ایبٹ آباد کے ہمارے بزرگ شاعر شعلہ بجنوری صاحب تھے جن کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں۔
    ایک مشاعرہ میں نیاز سواتی سٹیج پر آئے سامنے شعلہ بجنوری صاحب بھی بیٹھے تھے، نیاز سواتی نے شعلہ صاحب سے پہلے بہت ہی معذرت کی اور اپنی غزل کا آغاز کیا جس کا ایک شعر کچھ یوں تھا
    مونچھوں کا کل مقابلہ ہے مال روڈ پر
    ساتھ اپنے ایک آدھ مچھندر بھی لے چلیں
    محفل تو لوٹ پوٹ ہوگئی اور نیاز سواتی مرحوم بار بار شعلہ بجنوری سے معذرت کرتے رہے۔

    ان تمام شعراء کے بارے میں بہت سی باتیں میری زیر ترتیب کتاب میں ہیں لیکن گاہے بگاہے کچھ باتیں یہاں بھی شئیر کرتا رہونگا۔
    اختر نعیم مانسہرہ

  • کیا بے بسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ؟   ازقلم غنی محمود قصوری

    کیا بے بسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ؟ ازقلم غنی محمود قصوری

    کیا بے بسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    کسی کے سامنے اس کے خلاف کام ہو اور وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نا کر سکے تو اسے بے بس کہا جاتا ہے
    اس دنیا میں بے بس ہونا بھی ایک الگ ہی مقام رکھتا ہے بے بسی کا عالم ایک بے بس ہی جان سکتا ہے
    میں تحریر زیادہ لمبی کرنے کی بجائے ایک مجبور و بے بس والدین کی دکھ بھری سچی داستان سناتا ہوں

    یہ واقعہ ہے شہر قصور کا جہاں اندرون کوٹ فتح دین کے رہائشی عبدالرحمن بن قاری حفیظ اللہ کی شادی سنہ 2000 میں ہوتی ہے مگر اللہ کی مرضی سے اولاد نہیں ہوتی کافی دعا و دوا و علاج معالجہ کے بعد 2015 کو اس کے ہاں اللہ کے فضل سے ایک بیٹی جنم لیتی ہے جس کا نام سندس رکھا جاتا ہے وقت گزرتا چلا جاتا ہے اور سندس بولنا شروع کرتی ہے تو ماں باپ کہنے کے ساتھ بھائی بھائی کہنا بھی شروع ہو جاتی ہے
    اس چھوٹی سی معصوم سندس کی فریاد کو اللہ رب العزت قبول کرتے ہوئے اسے 30 اگست 2020 کو ایک پیارا سا بھائی عطا کرتا ہے
    سندس کی والدہ کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں بڑا آپریشن ہوا ہوتا ہے سو وہ نیم بے ہوشی میں ہوتی ہے کہ سندس کی خالہ سندس کو اس کا بھائی دکھاتی ہے تو سندس کی خوشی دیدنی ہوتی ہے مگر سندس کی خوشی زیادہ دیر نہیں رہتی کیونکہ اس کے بھائی کی پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ہی ایک اغواء کار عورت لیڈی ڈاکٹر کے بہروپ میں ہسپتال کی گائنی وارڈ سے اس کے بھائی کو اغواء کر لیتی ہے

    اس نومولود کے اغواء کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے قصور میں پھیل جاتی ہے
    پولیس جائے وقوعہ پر پہنچتی ہے اور بذریعہ سی سی ٹی وی فوٹیج کاروائی کا آغاز کرتی ہے اغواء کار عورت بڑی دیدہ دلیری سے بچہ اغواء کرکے مختلف سواریوں سے دربار بابا بلہے شاہ،بہادر پورہ سے ہوتی ہوئی لاہور چونگی امرسدھو سے غائب ہو جاتی ہے
    پولیس کی بروقت کاروائی سے بذریعہ سی سی ٹی وی فوٹیج سراغ لگانے سے عورت کی فوٹیج پھیلا دی جاتی ہے اور آخر کار پورے ایک ہفتے بعد گھر والوں اور پولیس کی مشترکہ محنت سے ملزمہ کو قصور کے نواحی گاؤں سے گرفتار کر لیا جاتا ہے
    ملزمہ انکوائری آفیسر کو بیان دیتی ہے کہ میں نے بچہ قبرستان شہداء مصطفیٰ آباد میں پھینک دیا تھا تو کبھی کہتی ہے میں نے دو عورتوں کو بیچ دیا یہاں تک کہتی ہے کہ میں نے مصطفیٰ آباد للیانی نہر میں بچہ پھینک دیا تھا مگر پولیس ہر جگہ تفتیش کرتی ہے بچے کا کوئی سراغ نہیں ملتا

    بچے کے والدین ملزمہ کی منت سماجت کرتے ہیں کہ اللہ کے واسطے ہمارا بچہ دے دو ہم قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں تمہیں چھڑوا دینگے کیونکہ ہمیں تو ہمارا بچہ چاہئیے مگر ملزمہ ہر آنے والے دن اپنا بیان بدل جاتی ہے سو ریمانڈ ختم ہوتے ہی ملزمہ کو دفعہ 363 اے تعزیرات پاکستان لگا کر مقامی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے مگر یہ کیا عدالت اس کو جوڈیشنل کسٹڈی کے تحت جیل بیجھنے کے بجذئے عبوری ضمانت دے دیتی ہے اور ایسا پانچ بار ہوتا ہے
    ملزمہ پولیس کی جانب سے درست دفعات نا لگائے جانے کے باعث عبوری ضمانت پر باہر گھوم رہی ہے جس کی وجہ پولیس کی جانب سے ملزمہ کو رعایت دیتے ہوئے دفعہ 363 لگانا ہے حالانکہ ملزمہ پر 364 اے اور 780 اے لگنی تھیں جس کی رو سے ملزمہ نان بیل ایبل تھی اور سزائے موت کی حقدار تھی مگر ایک بے بس ماں اور باپ کی بے بسی کو کچل کر پولیس نے ملزمہ کا ساتھ دیا اور اسی باعث ملزمہ 5 مرتبہ ضمانت کروا کر 23 جنوری 2028 کو قصور کے جج عمران شیخ کی عدالت پہنچی جہاں جج نے ملزمہ کی ضمانت کینسل کر کے اس کو جیل بیجھنے کے آرڈر جاری کئے مگر یہ کیا ابھی جج آرڈر لکھ رہا تھا کہ بے بس باپ کے سامنے ہی ملزمہ کمرہ عدالت سے فرار ہو گئی

    ملزمہ کو فرار ہوتے دیکھ کر بے بس باپ مذید بے بس ہو گیا اور رونے لگا گھر پہنچا اہلیہ کو صورتحال بتائی تو ممتا تڑپ کر رب سے فریاد کرنے لگی الہیٰ کیا ہمارا غریب ہونا ہی ہماری بے بسی کا سبب بنا
    وقت گزر رہا ہے ملزمہ شاہدہ بی بی زوجہ خان محمد حالیہ مقیم سکنہ دفتوہ قصور جو کہ سابقہ ضلع جھنگ کی رہائشی ہے دوبارہ لاہور ہائیکورٹ پہنچی اور ایک بار پھر 4 فروری 2021 تک اپنی عبوری ضمانت کروا لی
    واضع رہے کہ ملزمہ 7 نومبر 2019 کو پہلے بھی بچہ اغواء کرتی پکڑی گئی تھی اور اس وقت چلڈرن ہسپتال لاہور میں نجی کمپنی کی طرف سے سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت کر رہی ہے جبکہ پولیس بیانات میں ملزمہ اقرار جرم کر چکی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی اس کی شناخت واضع ہے

    مگر دنیا کے اس کرب سے بے خبر ننھی سندس روز اپنی ماں سے اپنی توتلی زبان میں پوچھتی ہے مما بھائی کب آئے گا؟ بے بس ممتا اتنا ہی کہہ پاتی ہے بھائی آ رہا ہے

    ایک دکھیاری ماں بے بسی کے عالم میں ارباب اختیار سے پوچھ رہی ہے کیا بے بسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ؟

  • *ڈی آئی جی سندھ کا محبت بھرا پیغام اپنے جوانوں کے نام*

    *ڈی آئی جی سندھ کا محبت بھرا پیغام اپنے جوانوں کے نام*

    پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے دوران پولیس اہلکاروں کی جانب سے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ ،ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈایمرجنسی سروسزڈویژن مقصوداحمد کی جانب سے اہلکاروں کی تعریف اور شاباش ،اہلکاروں کی پرخلوص فرض شناسی اورمستعدی کی وجہ سے ٹیسٹ میچ کا انعقاد پر امن طریقے سے ممکن ہوا،عوام کی سہولت اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے فقط مرکزی شاہراہ کو میچ ٹائمنگ کے دوران بند کیا گیاکمانڈوز نے فول پروف سیکیورٹی اقدامات اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیشہ اپنی بہترین خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے،کمانڈوز اسی جوش و جذبے کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہیں گے،

    5000 سے زائد پولیس اہلکاربشمول سیکیورٹی ڈویژن کے2500 اہلکاروں نے فرائض انجام دیے،
    1050ایس ایس کمانڈوز نے بھی سیکیورٹی فرائض انجام دئیے سیکیورٹی ڈویژن کے اہلکاروں نے ٹریفک پولیس، ریپڈ رسپانس فورس، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہمراہ اپنے فرائض انجام دیے۔

    اہلکاروں کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی، کراچی ایئرپورٹ، روٹ، پریکٹس گراؤنڈز، ہوٹلزاور دیگر مقامات پرتعینات کیا گیا تھا

  • واٹس ایپ سے ٹیلی گرام پر اپنی چیٹ باآسانی منتقل کرنے کا طریقہ

    واٹس ایپ سے ٹیلی گرام پر اپنی چیٹ باآسانی منتقل کرنے کا طریقہ

    واٹس ایپ کی جانب سے پرائیویٹ پالیسی میں تبدیلی کے اعلان کے بعد ٹیلی گرام انتظامیہ نے ایپ کی مقبولیت کو مزید فروغ دینے کے لیے واٹس ایپ صارفین کو چیٹ ہسٹری واٹس ایپ سے ٹیلی گرام پر منتقل کرنے کا آپشن دیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے اعلان کے بعد واٹس ایپ صارفین متبادل ایپس کی تلاش میں ہیں اور ان ہی بہترین متبادل ایپس میں سے ایک ایپ ٹیلی گرام ہے جو صارفین کو واٹس ایپ کی ہی طرح اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ساتھ فیچرز فراہم کرتی ہے۔

    اب ٹیلی گرام انتظامیہ نے ایپ کی مقبولیت کو مزید فروغ دینے کے لیے واٹس ایپ صارفین کو چیٹ ہسٹری واٹس ایپ سے ٹیلی گرام پر منتقل کرنے کا آپشن دیا ہے اس سے قبل یہ آپشن صرف IOS صارفین کے لیے دستیاب تھا تاہم اب ایپ انتطامیہ نے اینڈرائیڈ صارفین کو بھی اس آپشن کی سہولت فراہم کر دی ہے۔

    ٹیلی گرام نے گزشتہ روز اپنے IOS ایپ پر ’نیو میسج ہسٹری امپورٹ ٹول ‘متعارف کرایا ہے۔ جو ایپ کے 7.4 ورژن کے ساتھ ہے۔

    ٹیلی گرام نے حالیہ ورژن نمبر 7.4.1 کے ساتھ ایک اور اپ ڈیٹ جاری کی ہے جس میں منتقل آلہ (migration tool’s)کو حذف کر دیا گیا ہے جس کے بعد صارفین واٹس ایپ چیٹ کو ٹیلی گرام پر منتقل کر سکیں گے لیکن صارف کو واٹس ایپ چیٹ ہسٹری منتقل کرنے کے لیے دونوں ایپس کے تازہ ترین ورژن کی ضرورت ہوگی۔

    واٹس ایپ سے ٹیلی گرام پر اپنی چیٹ ہسٹری باآسانی منتقل کرنے کا طریقہ:

    واٹس ایپ اوپن کرنے کے بعد اس چیٹ کو ٹیپ کریں جسے آپ ٹیلی گرام پر منتقل کرنا چاہتے ہیں پھر اب کانٹیکٹ انفو مینو میں جائیں اور’’ ایکسپورٹ چیٹ‘‘ کا آپشن منتخب کریں۔

    آپشن منتخب کرنے کے بعد آپ کو’’ Attach Media ‘‘اور ’’ “Without Media ‘‘ کا آپشن نظر آئے گا اب آپ ا پنی مرضی کا آپشن منتخب کریں۔

    پھر شیئرنگ مینو سے ٹیلی گرام کا انتخاب کریں اور جس کانٹیکٹ پر آپ درآمد شدہ چیٹ منتقل کرنا چاہتے ہیں اسے منتخب کریں اب آپ کو چیٹ منتقلی کے لیے امپورٹ کا آپشن نظر آئے گا لہٰذا "امپورٹ” کو منتخب کریں-

    فیس بُک کو روزانہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کتنی ہے؟ فیس بُک نے ڈیٹا جاری کر دیا

    این ایبلرز کے وفد کی صدر عارف علوی سے ملاقات، ای کامرس کے امور پر تبادلہ خیال

  • واٹس ایپ نے اپنے اینڈرائیڈ ورژن کیلئے نئی ویب اپ ڈیٹ متعارف کروادی

    واٹس ایپ نے اپنے اینڈرائیڈ ورژن کیلئے نئی ویب اپ ڈیٹ متعارف کروادی

    گزشتہ دنوں اپنی نئی پرائیویسی پالیسی کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہنے والی معروف میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے اینڈرائیڈ ورژن کے لیے ایک نئی ویب اپ ڈیٹ متعارف کروادی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلا ت کے مطابق واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والے سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق پچھلے بیٹا ورژن میں جو نقائص تھے ان سب کو دور کر دیا گیا ہے اور اسے پلے اسٹور پر بھی ڈال دیا گیا ہے۔

    ویب بیٹا انفو کے مطابق اگر صارفین بیٹا ٹیسٹر نہیں ہیں تو ہم اس ورژن کو اپ ڈیٹ کرنے کی تجویز کرتے ہیں اگر آپ بیٹا ٹیسٹر ہیں تو آپ کو 2.21.2.19 کو اپ ڈیٹ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اسے تمام عام صارفین کے لیے متعارف کروایا گیا ہے۔

    ویب بیٹا انفو کے مطابق نان بیٹا صارف بھی اینڈرائڈ پیج پر جا کر 2.21.2.19 اپ میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق جان سکتے ہیں ۔

    تاہم یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے اگراس فیچر کو پچھلے بیٹا ورژن کے لیے متعارف کروایا گیا ہے تو ، یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی ہے اپ ڈیٹ 2.21.2.19 ہر ایک کے لیے دستیاب ہوگی یا نہیں۔

    دنیا بھر میں جن خدشات کا ڈر تھا سامنے آنا شروع ہو گئے،ٹیلی گرام پرفیس بک کے 50 کروڑ موبائل فون نمبر…

    واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی:صارفین کے رد عمل نے واٹس ایپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر…

    ترک مسابقتی اتھارٹی کا فیس بک اور واٹس ایپ کے خلاف تحقیقات کا آغاز

    پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

  • فیس بُک کو روزانہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کتنی ہے؟  فیس بُک نے ڈیٹا جاری کر دیا

    فیس بُک کو روزانہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کتنی ہے؟ فیس بُک نے ڈیٹا جاری کر دیا

    سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بُک کی جانب سے 2020 کے چوتھے سہ ماہی کے اعداد وشمار جاری کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق فیس بُک کی جانب جاری اعداد وشمار کے مطابق فیس بک کا کہنا ہے کہ چوتھے سہ ماہی میں سوشل نیٹ ورک کی آمدنی 28 ارب ڈالر ہوگئی ہے جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے جب کہ منافع مجموعی طور پر 11 ارب ڈالرز سے زائد رہا جوکہ گزشتہ برس کے مقابلے53 فیصد زیادہ ہے ۔

    فیس بک کے اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ برس کے دوران مختلف تنازعات اور عالمی وبا سامنے آنے کے باوجود فیس بک سال کے آخری چوتھے سہ ماہی نئے صارفین کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

    کمپنی کے مطابق روزانہ فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد چوتھے سہ ماہی میں 1.84 بلین(ایک ارب 84 کروڑ) جبکہ 2.8 بلین(2 ارب 80 کروڑ) ماہانہ رہی جو سال بھر کے دوران بالترتیب 11 فیصد اور 12فیصدزیادہ ہے۔

    رپورٹس کے مطابق فیس بک کی زیر ملکیت ایپس ( جس میں انسٹاگرام ، واٹس ایپ اور میسنجر شامل ہیں)بھی چوتھے سہ ماہی کے دوران ایک نیا ریکارڈ بنانے میں کامیاب رہیں جن میں مہینے میں کم از کم ایک باراستعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 3 ارب 30 کروڑ رہی۔

    کمپنی کے مطابق ان میں سے تقریباً 2.6 بلین(2 ارب 6 کروڑ) روزانہ فیس بک کی ایک ایپ استعمال کرتے ہیں۔

  • کارواں ہمارا   تحریر: سفیر اقبال

    کارواں ہمارا تحریر: سفیر اقبال

    کارواں_ہمارا

    ترجیحات بدل گئیں
    انداز بدل گئے
    طریقہ کار بدل گیا
    چالیں بدل گئیں…

    سب کچھ بدل گیا… تبدیلی آ گئی…!
    لیکن اسلام نہیں بدلا.

    خلفائے راشدین سے لیکر آج تک ہر موقع پر اسلام کا قافلہ چلتا رہا…! سپہ سالار، شہسوار اور پیادے اپنی اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق ساتھ چلتے رہے. اپنا وقت ختم ہونے پر ساتھ چھوڑتے رہے لیکن قافلہ مسلسل چلتا رہا. تاریخ رقم ہوتی رہی… شکست اور فتوحات لکھی جاتی رہیں. شہدا کو اچھے طریقے سے اور غداروں کو بطور عبرت یاد کیا جاتا رہا.

    قافلے کے سفر میں سفر کی زمین بدلتی رہی… کبھی صحرا…کبھی پہاڑ… کبھی دریا… کبھی سبزہ زار…! کبھی گھوڑے سے اتر کر پیدل چلنا مناسب ہوتا کبھی سبک رفتاری سے گھوڑا دوڑانے میں عافیت ہوتی. کبھی چھوٹے قافلے کو کسی پر امن علاقے یا شہر میں پہنچنے کے لئے بڑے قافلے کا ساتھ دینا پڑتا یعنی "اپنا جھنڈا” لپیٹا پڑتا … اور کبھی دشمن سے خود کو محفوظ کرنے کے لئے کسی گھاٹی میں پناہ لینی پڑتی… اتنے دن تک اور اس وقت تک… جب تک دشمن کو یقین نہ ہو جائے کہ یہ اسلامی قافلہ صفحہِ ہستی سے مٹ چکا ہے.

    کبھی قافلے والوں میں امید پیدا کرنے کے لیے اور دشمن کو خوفزدہ کرنے کے لیے فتح و نصرت کے ترانے گائے جاتے… اور کبھی قافلے سے غداروں کو سامنے لانے اور قافلے سے نکالنے کے لیے اپنی بہت ساری سرگرمیاں ترک کرنی پڑتیں.

    قافلے چلتے رہے…. وقت بدلتا رہا. دشمن کی چالیں بدلتی رہیں… دشمن کے ہتھیار بدلتے رہے. اور اسی حساب سے قافلے والوں کی ضروریات بدلتی رہیں… ضروریات بدلنے سے ترجیحات بدلتی رہیں….!

    ہر موقع پر جب بھی کسی نے کہا کہ میں گھوڑے پر ہوں تو پیدل نہیں چل سکتا یا میں پیدل ہوں تو گھوڑا نہیں چلا سکتا… وہ قافلے سے پیچھے رہ گیا. جس نے بھی کہا کہ مجھے تیر چلانا تو آتا ہے لیکن میں بارود والی بندوق چلانا نہیں سیکھوں گا یا نیزہ چلانا آتا ہے لیکن منجنیق نہیں چلا سکتا وہ بھی پیچھے رہ گیا. مقصد منزل اسلام کو پانا تھا… منزل مقصود جنت تھی اس لیے منزل کی طرف رخ کر کے، جنت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے باقی ہر چیز بدلتی رہی. قرآن وہی رہا ،رسول کے فرمان وہی رہے… البتہ پڑھنے والے پڑھانے والے … سننے والے سنانے والے بدلتے رہے…!

    اس قافلہ کے راستوں میں جو شہید ہو گئے وہ ایسے مقام پر پہنچ گئے کہ انہیں اور کسی چیز کی طلب نہیں رہی اور جو بچ گئے اور اپنی حالتِ ایمان کو قائم رکھتے ہوئے وہ اپنا اجر اللہ کے ہاں لکھوا چکے اور کوئی ان سے ان کا اجر نہیں چھین سکتا.

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر موقع پر قافلے کا نام بدلتا رہا لیکن اہل قافلہ کے دلوں میں اپنے سابقہ سپاہ سالار کی محبت کم نہیں ہوئی. اسلام کے لیے نور الدین زنگی کی اپنی خدمات تھیں جو اس کے ساتھ منسوب ہیں اور صلاح الدین ایوبی کی اپنی فتوحات جو اس کے ساتھ منسلک ہیں. محمد بن قاسم کی فتوحات محمد بن قاسم کی ہیں لیکن محمود عزنوی کے حملے محمود عزنوی کے نام سے ہی رقم ہیں. سب اسلام کے لیے کوشش کرتے رہے لیکن اپنے اپنے وقت پر. پہلے سپہ سالار کے جانے سے دوسرے کو فرق نہ پڑا اور نہ پڑنا چاہیے اور دوسرے کے آنے سے پہلے کی عزت و تکریم میں کمی نہیں ہوئی اور نہ ہونی چاہیے. ہر ایک نے اپنے اپنے موقع پر اسلام کے لیے اپنی اپنی خدمات سرانجام دیں.

    کبھی ایسا بھی ہوا کہ شاہ اسماعیل شہید اور مجاہدین بالاکوٹ کی طرح سارے کا سارا قافلہ مٹ گیا (بظاہر ) لیکن اسلام پھر بھی زندہ رہا… ان لوگوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں ہوئی. وہ آج بھی اللہ رب العزت کے پاس اور تاریخ کے صفحات میں زندہ ہیں ان شا اللہ.

    فکری اور تبلیغی معاملے کو دیکھیں تو محدثین کرام اور ائمہ عظام نے اپنے اپنے وقت میں، اپنی اپنی علمی قابلیت اور فقاہت سے دین اسلام کو عوام الناس تک پہنچانے کے لیے کوششیں کی اور اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اگر شیخ عبدالقادر جیلانی صاحب کی غنیتہ الطالبین، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حجتہ اللہ البالغۃ ، اور اسی طرح مولانا مودودی صاحب، ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تعلیمات و افکار کا جائزہ لیا جائے تو یہی بات سمجھ آتی ہے کہ سب کی کوشش غلبہ اسلام تھی اور اپنی طرف سے بھرپور کوشش تھی. ہم ان کی خوبیوں کو سراہتے ہیں اور انسان ہونے کے ناطے ان سے ہونے والی غلطیوں کو اس لیے یاد رکھتے ہیں تا کہ وہ دوبارہ ہم سے نہ ہوں.

    لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی کوشش غلبہ اسلام کے لیے نہیں تھی یا ان کی وجہ سے آج ہمیں کوئی فائدہ نہیں ملا. وہ ہمارے قافلے کے اسلاف تھےاور اپنی جزا اللہ کے ہاں لازمی پائیں گے … ہمارے دل میں ان سب کی توقیر ہونی چاہیے اور یہ لازم سمجھنا چاہیے کہ پورا دین نہیں تو دین کا کچھ نہ کچھ حصہ یا کافی حصہ ہمارے پاس ان کے ذریعے پہنچا اس لیے وہ بھی ہمارے اجر میں لازمی شامل ہیں. اور ہم ان کے احسانات کا بدلہ کبھی نہیں چکا سکتے.

    یہ قافلے یونہی چلتے رہیں گے. لوگ، مسافر، بدلتے رہیں گے لیکن اسلام وہی رہے گا. تحریکوں کے نام جماعتوں کے نام بدلتے رہیں گے. ہر بندہ رب العزت کی مرضی کے تحت اپنا وقت گزار کر اپنا کام پورا کرے گا. کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ساری زندگی ایک ہی قافلے میں رہے… کچھ ایسے ہوں گے جو ایک زندگی میں دو قافلوں میں سفر کرتے رہے ہوں گے اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے فتنوں کے دور میں آنکھ کھولی ہو گی… سابقہ قافلے کی فتوحات سنی ہوں گی لیکن اگلے قافلے کو ترتیب دیتے دیتے، مستقبل میں اگلے آنے والے قافلوں میں شامل ہونے اور ان کی عظمتیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی حسرت لیے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے.

    لیکن سب سے زیادہ افسوس ان لوگوں پر ہے جو پرانے قافلے پر نکتہ چینی تو کرتے ہیں اور اس کے "ختم ہونے” کی مختلف وجوہات تو بیان کرتے ہیں لیکن نئے قافلے کو ترتیب دینے کی کوشش یا اس کے ساتھ قدم ملانے کی جرات نہیں کرتے.

    عین ممکن ہے کہ کچھ احباب کو قافلوں کی ترتیب و تخریب کے حوالے سے میری "حوصلہ افزا باتیں ” انتہائی تلخ اور حیران کن محسوس ہوں لیکن یقین کریں آنسو چھپا کر مسکرانے اور حوصلہ دینے والے کی مسکراہٹ بھی اتنی ہی حیران کن ہوتی ہے اور اس موقع پر ہر انسان اسی انداز میں اللہ سے ڈر اور امید کے درمیان موجود ہوتا ہے.

    رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ.(آل عمران :08)
    ترجمہ: اے ہمارے رب، ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مت ڈال اور ہمیں اپنی طرف سے خاص رحمت عطا فرما۔ بےشک تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔

    تحریر :سفیر اقبال #رنگِ_سفیر

  • لاہور: پی ایس ایل 6 پشاور زلمی اور ائیرلنک کمیونی کیشنز لمیٹڈ کے درمیان معاہدے پر دستخط ہو گئے

    لاہور: پی ایس ایل 6 پشاور زلمی اور ائیرلنک کمیونی کیشنز لمیٹڈ کے درمیان معاہدے پر دستخط ہو گئے

    لاہور: پی ایس ایل 6 سے قبل پشاور زلمی اور ائیرلنک کمیونی کیشنز لمیٹڈ کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہو گئے

    ائیرلنک پی ایس ایل 6 کے لئے پشاور زلمی کا آفیشل اسمارٹ ڈیوائس پارٹنر بن گیا، میڈیا اور برانڈ ویلیو کے لحاظ سے پاکستان سپر لیگ کی نمبرون فرنچائز ، پشاور زلمی کا 20 فروری 2021 سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ کے چھٹے ایڈیشن کے لئے ائیرلنک کمیونی کیشنز لمیٹڈ کے ساتھ اسپانسرشپ معاہدہ طے پاگیا۔

    چیئرمین پشاور زلمی جاوید آفریدی اور
    ، سی ای او ائیرلنک کمیونی کیشنز لمیٹڈ مظفر حیات پراچا نے ایئر لنک کمیونی کیشنز لمیٹڈ ، قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ ، لاہور میں اسپانسرشپ کے معاہدے پر دستخط کیے۔

    اس موقع پر پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید آفریدی نے ائیرلنک کمیونی کیشنز لمیٹڈ کے ساتھ اسپانسرشپ کے معاہدے کی تجدید پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ پشاور زلمی کی ائیرلنک کمیونی کیشنز لمیٹڈ کے ساتھ شراکت کا دوسرا سال ہے۔ میں ایرلنک کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید ہے کہ یہ وننگ پارٹنرشپ مستقبل میں بھی جاری رہے گی

  • سلو اوور ریٹ کے باعث سندھ پرجرمانہ عائد کردیا گیا

    سلو اوور ریٹ کے باعث سندھ پرجرمانہ عائد کردیا گیا

    جمعے کواسٹیٹ بنک اسٹیڈیم کراچی میں سنٹرل پنجاب کے خلاف میچ میں سلو اوور ریٹ کے باعث سندھ پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا گیا ۔

    پاکستان کپ کے پہلے سیمی فائنل کے دوران سندھ نے مقررہ وقت سے دو اوورز کم کیئے لہٰذا پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ برائے کھلاڑی اور اسپورٹ اسٹاف کی شق 2.22 کے تحت سندھ پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    آن فیلڈامپائرز ولید یعقوب اور فیصل آفریدی نے سلو اوور ریٹ پر سندھ کو چارج کیا، سندھ کے کپتان اسد شفیق کی جانب سے اعتراف کرنے پرمیچ ریفری اقبال شیخ پر جرمانہ عائد کیا۔

  • پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین دوسرے ٹیسٹ کرکٹ کا شیڈول جاری کر دیا گیا

    پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین دوسرے ٹیسٹ کرکٹ کا شیڈول جاری کر دیا گیا

    قومی ٹیسٹ اسکواڈ 31 جنوری بروز اتوار کو کراچی سے راولپنڈی روانہ ہوگا۔ بیس رکنی اسکواڈ یکم فروری بروز پیر سے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں اپنی ٹریننگ کا آغاز کرے گا۔پاکستان اورجنوبی افریقہ کے مابین دوسرا ٹیسٹ میچ 4 فروری سے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں شروع ہوگا۔نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں میزبان ٹیم نے 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

    پیر،یکم فروری دوپہر دس بجے: قومی کرکٹ ٹیم کے ٹریننگ سیشن کا آغازہو گا ایکرڈیشن رکھنے والے فوٹوگرافرز اور ٹی وی نیوز کیمرہ پرسنز کو اپنے مخصوص مقامات سے ٹریننگ سیشن کے اختتام پر ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم مصباح الحق ورچوئل پریس کانفرنس سیشن میں شرکت کریں گے۔ صرف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے ایکرڈیدوپہر دس بجے: قومی کرکٹ ٹیم کے ٹریننگ سیشن کا آغاز
    ایکرڈیشن رکھنے والے فوٹوگرافرز اور ٹی وی نیوز کیمرہ پرسنز کو اپنے مخصوص مقامات سے ٹریننگ کی کوریج کی اجازت ہوگی
    ٹریننگ سیشن کے اختتام پرقومی کرکٹ ٹیم کے آلراؤنڈر فہیم اشرف ورچوئل پریس کانفرنس سیشن میں شرکت کریں گے۔ صرف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے ایکرڈیشن رکھنے والے صحافیوں کو ہی اس ورچوئل سیشن میں شرکت کی اجازت ہوگی۔

    بدھ، 3 فروری دوپہر دس بجے: قومی کرکٹ ٹیم کے ٹریننگ سیشن کا آغاز ہو گا ایکرڈیشن رکھنے والے فوٹوگرافرز اور ٹی وی نیوز کیمرہ پرسنز کو اپنے مخصوص مقامات سے ٹریننگ کی کوریج کی اجازت ہوگیٹریننگ سیشن کے اختتام پرقومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم ورچوئل پریس کانفرنس سیشن میں شرکت کریں گے۔ صرف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے ایکرڈیشن رکھنے والے صحافیوں کو ہی اس ورچوئل سیشن میں شرکت کی اجازت ہوگی۔

    4 تا 8 فروری، دونوں ٹیموں کے مابین دوسرا ٹیسٹ میچ کھیلا جائےگا ، ٹاس: صبح ساڑھے نو بجے ہو گیا ، کھیل کا آغاز صبح دس بجے ہو گا
    پہلا سیشن: صبح دس سے دوپہر 12 بجے تک (صرف جمعےکے روزپہلا سیشن صبح 10 سے دوپہر 12:30 بجے تک)
    دوسرا سیشن: دوپہر 12:40 سے دوپہر 2:40 تک ( صرف جمعے کے روز دوسرا سیشن دوپہر 1:30 سے سہ پہر 3:15 بجے تک)
    تیسرا سیشن: سہ پہر 3 سے شام 5 بجے تک ( صرف جمعے کے روز تیسرا سیشن سہ پہر 3:35 سے شام 5:20 بجے تک)
    میچ کے دوران ہر روز کے اختتام پردونوں ٹیموں کے بہترین پرفارمرز ورچوئل پریس کانفرنس سیشنز میں شرکت کریں گے، جس کا زوم لنک دوسرا ٹیسٹ میچ کوور کرنے والے صحافیوں سے شیئر کردیا جائے گا۔