Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں نظام تعلیم کو درپیش مسائل  تحریر:انجینئر محمد ابرار

    پاکستان میں نظام تعلیم کو درپیش مسائل تحریر:انجینئر محمد ابرار

    عنوان: پاکستان میں نظام تعلیم کو درپیش مسائل

    تحریر:انجینئر محمد ابرار

    غربت کسی بھی ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے.پاکستانی میں جہاں اشرافیہ مقیم ہے وہیں آدھے سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں. ان حالات میں بہت سے کم عمر بچے غربت کی وجہ سے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں UNICEF کی ایک رپورٹ کے مطابق17.6% پاکستانی بچے اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لئے تعلیم کی قربانی دیتے ہیں.ایسے حالات میں حکومت کا کردار اور تعاون ناگزیر ہے-

    پاکستان میں سیاست و حکومت جاگیرداروں کے زیر اثر نظر آتی ہے.جاگیردارانہ نظام خواندگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے.اسی نظام کی بدولت یہ وڈیرے سالہاسال سے مختلف علاقوں میں حکومت کرتے نظر آتے ہیں. مزاری، لغاری اور کئی خاندانوں کے سپوت بیروں ملک تعلیم میں مصروف ہیں جن کو ملک واپسی پر اس قوم کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا کام سونپ دیا جاتا ہے-

    جنوبی پنجاب کا ذاتی طور پر جائزہ لینے کے بعد کئی حقائق سامنے آئے ہیں جن میں سے ایک چونکا دینے والی چیز وڈیروں کا غریب عوام کو دومی سائل بنوانے سے روکنا اور اس کام میں ہر ممکن روڑے اٹکانا قابل ذکر ہے.اس کو کردینے پر معلوم ہوا کہ اعلی تعلیم کے خواہان افراد کو اس بیڑی سے جکڑا جاتا ہے تا کہ بعدازاں جاگیردار کے سامنے کھڑا ہونے کی جسارت نہ کر سکے۔ پاکستان ان 12 ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جہاں GDP کا% 2 سے بھی کم حصہ تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے-

    تعلیم نسواں پاکستان میں ایک سنگین صورت حال اختیار کرتا جا رہا ہے. تعلیم نسواں کی طرف عدم توجہ کی وجہ لڑکیوں کی کم عمر میں شادی، والدین کی ناخواندگی، مالی وسائل کی عدم دستیابی اور معاشرے میں جنسی ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے کیسز میں اضافہ شامل ہے. یہ ستم فقط صنفِ نازک پر ہی نہیں کیا جا رہا بلکہ لڑکے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں-

    بہت سے والدین کو جب میٹرک کے بعد لڑکوں کو تعلیم سے روکنے کی وجہ معلوم کی تو بیشتر نے مالی حالات کو عذر پیش کیا.جبکہ لڑکیوں میں میٹرک کے بعد تعلیم حاصل کرنے کے رججان میں کمی کی ایک وجہ والدین کا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ماحول کو قبول نہ کرنا ہے. کیا پاکستان جیسا ترقی پزیر ملک اس بے راہ روی اور ناخواندگی کا متحمل ہو سکتا ہے؟ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے مسلمانوں کا اقوام عالم سے پیچھے رہ جانا اور مغرب کا تسلط، مسلمانوں کی دین سے دوری اسکا سبب ہے-

    پاکستان میں بہت سے ادارے اپنی مدد آپ کے تحت دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دینے میں مصروف ہیں تاکہ وہاں سے فارغ التحصیل طلباء و طالبات اپنے دینی امور احسن انداز میں سرانجام دینے کے علاوہ دنیاوی کامون میں بھی حصہ ملاتے ہوئے فعال شہری بن سکیں. دینی و عصری تعلیم کو ایک ہی ادارے سے منسلک کرنے سے معاشرے کے مختلف حلقوں میں پائی جانے والی حجان کی صورت حاصل پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور پڑھے لکھے نوجوان دوران ملازمت اپنی فرائض سر انجام دیتے ہوئے اس کے دینی پہلو کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں گے-

    جہاں ہر شعبے میں کرپشن کا ناسور موجود ہے وہی تعلیمی نظام میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو بغیر پڑھے ڈگریاں ڈپلومے الاٹ کرتے ہیں تعلیمی نظام میں کرپشن کا خاتمہ بے حد ضروری ہے تا کہ میرٹ کی بنیاد پر صرف قابلیت رکھنے والے افراد کو آگے لایا جائے. جب یہ لوگ ملک کی باگ دوڑ سنبھالیں گے تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا-

    ضرورت اس امر ہی ہے کہ نظامِ تعلیم میں اصلاحات لاتے ہوئے یکساں نظام تعلیم قائم کیا جائے تا کہ امیر غریب کے فرق کے بغیر تعلیم کا حصول ممکن ہو اس سے شرح خواندگی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ہم ایک نئی پڑھی لکھی نسل تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو تحقیق و تالیف کے شعبوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرے گی پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرے گا ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا جس سے زرمبادلہ حاصل ہوگا اور مجموعی طور پر عام آدمی کو زندگی کی بنیادی سہولیات کا حصول ممکن ہوگا۔

  • چھ ماہ سے سسکتی مامتا اور قصور پولیس – شاہ بانو

    چھ ماہ سے سسکتی مامتا اور قصور پولیس – شاہ بانو

    چھ ماہ سے سسکتی مامتا اور قصور پولیس
    تحریر شاہ بانو

    "بچے” یہ ایسا خوبصورت لفظ ہے کہ یہ نام لیتے ہی آنکھوں میں تارے سے جلملانے لگتے ہیں پھولوں کا تصور آتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی حرکتیں اور شرارتوں کے سین سے لبوں پہ مسکراہٹ آ جاتی ہے ۔دنیا کا سنجیدہ سے سنجیدہ اور جابر سے جابر بھی ان کی ننھی حرکتوں کو دیکھ کر کھل جاتا ہے ۔
    اور عورت تو شادی کے بعد جوں ہی ماں بنتی ہے اس کی ساری دنیا ان بچوں تک محدود ہو جاتی ہے ۔ اسے لگتا ہے وہ انھیں بچوں کو دیکھ کر جیتی ہے اور یہی بچے اس کے لیے خوشیاں کا باعث ہی تو دکھوں کا مداوا ۔ وہ کتنے بھی درد میں ڈوبی ہو اپنے بچوں پہ نظر پڑتے ہی اس کے شکوہ کرتے لب ٹھہر جاتے ہیں۔اور وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت عورتوں میں شمار کرتی ہے ۔

    یہ ایک فطری سی بات ہے ہر ماں باپ شادی کے بعد اولاد کی خواہش کرتا ہے اور اس خواہش میں بیٹے کی خواہش زیادہ حاوی ہوتی ہے ۔
    بیٹا ایک ایسی نعمت ہے جس کی خواہش انبیا نے بھی کی اور قرآن پاک میں انبیا کی بیٹے کے لیے کی گئی دعائیں ملتی ہیں۔ اور ہمارے ہاں پہلی بار بیٹا ہو جائے تو خوشی سنبھالے نہیں سنبھلتی ۔بعض ماں باپ بیٹی کی بھی بہت خوشی مناتے ہیں لیکن بیٹے کی خواہش پھر بھی رہتی ہے
    میرا ذاتی تجربہ بھی یہی ہے اللہ رب العزت سے پہلی بار بیٹا مانگا لیکن بیٹی ہوئی تو پھر بھی خوش تھی لیکن بیٹے کی تڑپ پھر بھی تھی۔پھر ساڑھے چار سال بعد اللہ نے جب دوسری بھی بیٹی دے دی تو اللہ رب العزت کی طرف یہ رحمت بھی بہت اچھی لگی لیکن زچ ہے کہ
    بیٹے کی خواہش مزید بڑھ گئی تھی ۔ پھر شادی کے سات سال بعد اللہ نے بیٹے کی نعمت دی تو خوشی سے اپنی تکلیف بھول چکی تھی ۔اور جی چاہتا تھا وارڈ سے باہر بھاگ جاؤں اور ساری دنیا کو خوش خبری سناؤں کہ اللہ رب العزت نے بیٹا دیا ہے ۔
    ۔اور اگر بیٹے کے انتظار میں چودہ سال گزر جائیں تو سوچیں پھر ماں باپ کی تڑپ کہاں پہنچ جائے گی؟
    جی ہاں قصور کے رہائشی عبدالرحمن کے ہاں پہلی اولاد ایک بیٹی کے چودہ سال بعد اللہ رب العزت نے بیٹے کی نعمت سے نوازا تو اس ماں کی خوشی کا اندازہ لگائیے؟
    اس ماں نے آنکھوں میں کتنے سپنے سجا لیے ہوں گے ؟
    کیا کیا سوچا ہو گا؟
    کس طرح یہ خوشی منانی؟
    کیسے کیسے کپڑے پہناوں گی ؟
    کیسے شوز ہوں گے ؟ اس نے تو خیالوں میں کتنی بار سکول بھی بھیجا ہو گا۔
    دل خوشی سے قابو میں ہی نہ آتا ہوگا ۔
    کہ اچانک اس کے سپنے توڑ دئیے گئے اس کی خوشی لوٹ لی گئی اور اسے غم کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ۔
    جی ہاں قارئین! 30 اگست 2019 کو ملنے والی یہ خوشی 31 اگست 2019 کو اس وقت غم میں تبدیل ہو گئی جب بچے کو اس کی خالہ نے اٹھایا ہوا تھا کہ ایک ظالم عورت اس کے پاس آئی اور اس سے پوچھا کیا بچے کو پولیو کے قطرے پلادئیے ؟
    بچے کی خالہ نے جواب دیا "نہیں ” ۔
    اس پہ اس عورت نے کہا چلو لگواتے ہیں اور ڈی ایچ کیو ہسپتال کی وارڈ نمبر 24 کے پاس لے گئی اور وہاں اسے ایک پرچہ تھمائی اور کہا کہ یہ دوائی لے کر آؤ میں اسے اتنے میں انجیکشن لگواتی ہوں۔
    بچے کی خالہ جب دوائی لے کر واپس آئی تو وہ عورت وہاں سے غائب تھی ۔
    بچے کی خالہ کے اوسان خطا ہوگئے اور اسے ڈھونڈنے لگی لیکن وہ عورت وہاں سے غائب ہو چکی تھی۔
    سوچیں اس ماں کی کیفیت کا اندازہ لگانا بھی محال ہے ۔
    اس کے اوپر جو غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے کیسے جیتی ہوگی ٹوٹے خوابوں، کرچی دل ،ہر سانس غم میں ڈوبی وہ ماں۔
    ماں بچوں کے لیے دنیا کا سب سے زیادہ چاہنے والا رشتہ جو بچے کی ذرا سی تکلیف پہ تڑپ جاتی ہے اگر اس کا بچہ اللہ لے جائے تب بھی اس کی تکلیف ساری دنیا کے دکھوں سے بڑھ کر ہوتی ہے اور اگر خدانخواستہ گم ہوجائے یا اغواء تو پھر ایک ایک لمحہ سولی پہ گزرتا ہے۔
    ایک ویڈیو میں اسے تڑپتا ہوا سنا بھی جا سکتا ہے جب وہ روتے ہوئے کہتی ہے "جانے کس حال میں ہوگا میرا بچہ”۔تو کبھی وہ حکومت سے اپنے بچے کی بازیابی کے لیے فریاد کرتی نظر آتی ہے ۔
    بچہ اغواء کرنے والی عورت سی سی ٹی وی کیمرہ کی مدد سے پکڑی بھی جا چکی ہے لیکن وہ اصل حقیقت نہیں بتا رہی ۔
    وہ کبھی کہتی ہے کہ بچے کو نالے میں پھینک دیا تھا تو کبھی کہتی ہے بیچ دیا تھا ۔
    لیکن نالے میں پھینکے جانے والا بیان اس لیے بھی غلط ہے کہ سنا ہے نالہ ان دنوں خشک تھا دوسرا اس عورت کو یہ لوگ جانتے ہی نہیں تو جب جانتے نہیں پھر دشمنی کا بھی کوئی امکان نہیں، جب دشمنی نہیں تو بچے کو نالے میں پھینکنے کا ایک اجنبی عورت کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔
    البتہ بچے کس بیچنے والی بات قابل یقین ہے ۔
    ایسا ہی لگتا ہے کہ کسی بے اولاد جوڑے نے یا عورت نے اس سے بچے کی ڈیمانڈ کی ہوگی ۔
    یا یو سکتا ہے اس عورت کا تعلق بچوں کو آگے سیل کرنے والے کسی گروہ سے ہو ۔
    بہرحال حقیقت جو بھی ہو پولیس جو بڑے بڑے بدمعاشوں اور مجرموں سے سب اگلوا سکتی ہے تو ایک عورت سے آخر سچ اگلوانے میں ناکام کیوں؟
    کیا اس عورت کے ہاتھ قانون کے ہاتھ سے لمبے ہیں؟
    یا پھر قصہ کچھ اور ہے ۔
    جو بھی ہے ایک غریب خاندان ہونا بھی شاید جرم ہے جو پاکستان کے تھانوں میں اس ماں باپ کے لہولہان دل کو کوئی سکون پہنچانے کی کوشش نہیں ،کسی مسیحائی کی کوئی امید نہیں۔
    ہمارا حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ ہے کہ اس غریب ماں باپ کے جگر کے ٹکڑے کو فورا بازیاب کروایا جائے اور تڑپتی مامتا کے دل کا قرار لوٹایا جائے ۔
    اگر پولیس مجرم ملنے کے باوجود چھ ماہ سے بچے کو بازیاب نہیں کروا سکی تو تھانہ ایس ایچ کو معطل کیا جائے۔
    اور حقائق سامنے لائے جائیں۔
    آخر میں ہماری دعا ہے اللہ رب العزت ان ماں باپ کی مدد فرمائے اور ان کا بچہ ان کا سکون انھیں واپس لوٹا دے ۔آمین یا رب العالمین

  • “مار دھاڑ کی کرکٹ”T10 لیگ کاآغازکب سےہورہا ہے” شیڈول جاری کر دیا گیا

    “مار دھاڑ کی کرکٹ”T10 لیگ کاآغازکب سےہورہا ہے” شیڈول جاری کر دیا گیا

    تیار ہو جائیں !!!
    “مار دھاڑ کی کرکٹ”T10 لیگ کاآغازکل سےہورہا ہے” کرس گیل ، بین ڈنک، شاہد آفریدی ، محمد حفیظ ، شعیب ملک ،محمد عامر، شرجیل خان ، محمد نبی، کرس جورڈن، ڈیوڈ ویز، ایلیکس ہیلز، پولارڈ ، براووسمیت سپر سٹارز کی بہت بڑی تعداد ابوظہبی ٹی 10 لیگ کی آٹھ ٹیموں میں شامل ہے!!!

    پورا میچ ڈیڑھ گھنٹے میں ختم ، کرکٹ میں اس سے بہتر تفریح اور کیا ہو گی کہ 28 جنوری سے 6 فروری تک شیخ زید سٹیڈیم ابو ظہبی میں 8 فرنچائز ٹیمیں 29 میچز کھیلیں گی ۔ان آٹھ ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ہر ٹیم 31 جنوری تک اپنے گروپ میں دوسری ٹیموں سے ایک ایک میچ کھیلے گی ، یکم فروری سے چار فروری تک گروپ اے کی ٹیمیں گروپ بی کی تمام ٹیموں سے کراس ایک ایک میچ کھیلیں گی اور اس کے بعد پانچ اور چھ فروری کو پلے آف اور فائنل ہو گا ۔ یوں دس روز میں ٹورنامنٹ ختم ہو جائے گا ۔

    گروپ اے ، بنگلہ ٹائیگر ز، دلی بلز، مراتھا عریبین اور ناردرن واریئرز
    گروپ بی ، دکن گلیڈی ایٹرز، پونے ڈیولز، قلندرز اور ٹیم ابوظہبی

    ابوظہبی T10لیگ کے پہلے دن 28 جنوری کو تین میچز ہوں گے ، مراتھاعریبینز ، ناردرن واریئرز سے پاکستان کے وقت کے مطابق سہ پہر پانچ بجے کھیلے گی ، دکن گلیڈی ایٹرز کا پونے ڈیولز سے مقابلہ پاکستان کے وقت کے مطابق شام سوا سات بجے ہو گا ، تیسرے میچ میں قلندرز اور ٹیم ابوظہبی پاکستان کے وقت کے مطابق رات ساڑھے نو بجے آمنے سامنے آئیں گے – ابوظہبی ٹی 10 لیگ کا کونسا ایڈیشن ہے اور دفاعی چیمپئن ٹیم کون ہے اس سال ٹورنامنٹ کا چوتھا ایڈیشن ہے اور اس ایونٹ کی دفاعی چیمپئن ٹیم “ مراتھاعریبینز “ ہے۔پاکستان میں شائقین کرکٹ Ten سپورٹس پر، بھارت میں سونی سپورٹس ، بنگلہ دیش میں چینل 9 ، یو کے میں اے آر وائی فیملی اورکینیڈا ، امریکہ willow ٹی وی پر دیکھ سکتے ہیں ۔ ہر میچ کا دورانیہ صرف 90 منٹ ہے ، اس لئے ہفتہ کے دن چار اور باقی دنوں میں تین تین میچز کھیلے جائیں گے ۔

    مراتھا عریبینز کی ٹیم میں محمد حفیظ ، لاری ایوانز ، مصدق حسین، تسکین احمد ، پراوین تامبے، ایشان ملہوترا، سومپل کامی ، عبدالشکور ، معروف مر چنٹ، مختار علی
    آئیکون پلیئر : شعیب ملک شامل ہین ، قلندرز میں بین ڈنک ، سہیل تنویر ، آصف علی ، ٹام بینٹن ، کرس جورڈن، سمیت پٹیل ، فل سالٹ، سلطان احمد ، حسن علی ، سہیل اختر ، شرجیل خان
    آئیکون پلیئر : شاہد آفریدی شامل ہیں

    ٹیم ابو ظہبی میںکرس مورس ، ایلیکس ہیلز، لیونارڈو جولین ، نجیب اللہ زرد ان ، لیوک رائٹ ، آوشکا فرنینڈو، روہن مصطفی ، ہیدن والش جونیئر، بین کاکس، عثمان شنواری ، نوین الحق ، جو کلارک ، بین ڈکٹ بآئیکون پلیئر : کرس گیل شامل ہیں
    دکن گلیڈی ایٹرزمیں اعظم خان ، محمد شہزاد ، کیرون پولارڈ ،عمران طاہر ، ظہور خان ، کولن انگرام، بھانوکا راجہ پاسکا، پراشانت گپتا، ونندو ہسارنگا، روی رامپال، امتیاز احمد
    آئیکون پلیئر : سنیل نارائن شامل ہیں

    پونے ڈیولز میں محمد عامر ، سیم بلنگز ، اجنتھا مینڈس ، اردوس ولین ، چمیرا کاپوگیدیرا، ڈیوون تھامس، درویش رسولی، دنیش کمار ، کرن کے سی ، تھیسارا پریرا، چیڈوک والٹن
    آئیکون پلیئر : تھیسارا پریراشامل ہیں ، دلی بلز کی ٹیم میں روی بوپارا، محمد بنی ، وقاص مقصود، ایون لیوس، آویش خان،علی خان، دشمانتھا چمیرا، شرفین ردرفورڈ ، ایڈم لتھ ، داسن شناکا ، رحمان اللہ گرباز ، فائدل ایڈ ورڈ ز ، عماد بٹ ، ٹام ایبل ، شیراز احمد آئیکون پلیئر : ڈوین براوو شامل ہیں

    بنگلہ ٹائیگر ز میں جانسن چارلس ، مجیب الرحمان ، چراغ سوری ، ٹام مورز ، آندرے فلیچر ، قیس احمد ، ڈیوڈ ویز ، جارج گارٹن ، محمد عرفان ، مہدی حسن، نور احمد ، ایڈم ہوز، آریان لاکڑا ، عفیف حسینآئیکون پلیئر : ایسورو ُادانا شامل ہیں ، ناردرن واریئرز کے کھلاڑوں میں فیبیان ایلن ، وین پارنیل ، رومن پاؤل ، وہاب ریاض ، عامر یامین، ریاض ایمرت، نکولس پوران ، لینڈل سمنز، جنید صدیق ، انش تیندن، برینڈن کنگ آئیکون پلیئر : آندرے رسل شامل ہیں

    پہلے تین ایڈیشنز کے کامیاب انعقاد کے بعد چوتھا ایڈیشن کل سے شروع ہو رہاہے ، دس، دس اووروں کا یہ میچ مار دھار سے بھرپور ہوتا ہے اور شائقین کرکٹ بالکل بور نہیں ہوتے ہیں ۔ ہر سائیڈ کو 45 منٹ میں اپنے دس اوورز مکمل کرنا ہوتے ہیں اور 90 منٹ میں گیم ختم ہو جاتی ہے ۔ یوں اس فارمیٹ کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ابوظبی میں یہ میلہ 28 جنوری سے سجنے کو ہے۔ تمام ٹیموں کا اسکواڈ آپ کے سامنے ہے ۔

  • کراچی ٹیسٹ کا دوسرا روز ،  کھیل جاری، قومی ٹیم کےکتنے کھلاڑی پویلین لوٹ گئے ؟

    کراچی ٹیسٹ کا دوسرا روز ، کھیل جاری، قومی ٹیم کےکتنے کھلاڑی پویلین لوٹ گئے ؟

    کراچی ٹیسٹ کے دوسرے روز کا کھیل جاری ہے اور قومی ٹیم کے چار کھلاڑی پویلین لوٹ گئے ہیں۔

    پاکستان نے پہلی اننگز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 33 رنز پر دوسرے دن کے کھیل کا آغاز کیا۔ قومی ٹیم کی بیٹنگ کا آغاز اچھا نہ تھا اور اس کے دونوں اوپنر 15 کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ چکے تھے۔

    عمران بٹ9، عابدعلی4، بابر اعظم7 اور شاہین آفریدی صفر پر آؤٹ ہوئے۔ دوسرے دن کھیل کا آغاز اظہر علی اور فواد عالم نے کیا۔جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور پاکستانی بولرز مہمان ٹیم پرحاوی رہے اور صرف220 رنز ہی پوری ٹیم آؤٹ ہوگئی۔پہلی اننگز میں ڈین ایلگر 58 رنزکےساتھ نمایاں بلے باز رہے۔ جارج لائنڈ 35 اورکپتان کونٹن ڈی کوک 15 رنزبنا کرآؤٹ ہوئے۔ فف ڈوپلیسزنے اپنی ٹیم کے اسکور میں 23 رنزکا اضافہ کیا۔

    پاکستان کی جانب سے سپنر یاسر شاہ تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ شاہین آفریدی کے علاوہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے نعمان علی نے دو، دو وکٹیں لیں جبکہ ایک وکٹ حسن علی کو ملی۔اس میچ میں پاکستان کے دو کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کریئر کا آغاز ہوا ہے اور بلے باز عمران بٹ اور سپنر نعمان علی کو ٹیسٹ کیپ دی گئی ہیں۔

    کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں 14 سال کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم میچ کھیلنے کے لیے اتری ہے۔ جنوبی افریقہ نے 2007 میں جب پاکستان کا دورہ کیا تھا تو نیشنل اسٹیڈیم میں بھی ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔پاکستان کی ٹیم میں عابد علی، عمران بٹ، اظہر علی، بابر اعظم، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، تعمان علی، یاسر شاہ، اور شاہین آفریدی شامل ہیں۔

    جنوبی افریقہ کی ٹیم میں ڈین ایلگر، ایڈن مکرم، راس وین ڈاڈیوسن، فاف ڈو پلسی، ٹیمبا باوما، کوئنٹن ڈی کاک، جارج لد، کاوش ماہراج، کاگیسو ربادا، انریچ نورتہے، اور لونگی گندی شامل ہیں۔

  • پاکستان ہاکی فیڈریشن کے زیر اہتمام قومی کھلاڑیوں کے  تربیتی کیمپ کا آغاز

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے زیر اہتمام قومی کھلاڑیوں کے تربیتی کیمپ کا آغاز

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے زیر اہتمام نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں قومی کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ شروع ہوگیا.تفصیلات کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کے زیر اہتمام قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اولمپیئن خواجہ جنید کی زیر نگرانی نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں قومی کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ شروع ہوگیا.

    اس حوالے سے ہیڈ کوچ اولمپیئن خواجہ جنید نے بتایا کہ پی ایچ ایف صدر بریگیڈیئر ر خالد سجاد کھوکھر کی خصوصی ہدایات پر پی ایچ ایف سیکریٹری جنرل اولمپیئن آصف باجوہ کی زیر سرپرستی ایشیئن ہاکی چیمپیئنز ٹرافی ڈھاکہ 2021 کی تیاریوں کے سلسلے میں 30 رکنی قومی ہاکی کھلاڑیوں پر مشتمل کیمپ کا آغاز کیا ہے.ہم نے موجودہ کویڈ 19 کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے.

    تاکہ حکومتی ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کی بہتر انداز میں تربیت کرسکیں.پی ایچ ایف کی جانب سے کیمپ میں موجود کھلاڑیوں کی بھرپور سرپرستی کی جارہی ہے.چونکہ ایشیئن ہاکی چیمپیئنز ٹرافی کی تاریخیں آگے بڑھ گئیں ہم اس دوران کھلاڑیوں کو مزید تیکنیکی و فزیکل اعتبار سے مستحکم کریں گے.فزیکل فٹنس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں.امید ہے کیمپ کے اختتام پر قومی ہاکی ٹیم کو پرفارمنس کی بنیاد پر بہتر کھلاڑیوں کا اسکواڈ ملے گا

  • بلاول بھٹو زرداری کی بختاور اور آصفہ کے ہمراہ سیلفی کے چرچے

    بلاول بھٹو زرداری کی بختاور اور آصفہ کے ہمراہ سیلفی کے چرچے

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم شہید محترمہ بےنظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کے صاحبزادے کی اپنی دونوں ہمشیرہ بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو کے ہمراہ سیلفی انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز بختاور بھٹو زرداری نے اپنا 31واں یومِ پیدائش منایا تھا اور اس ضمن میں جہاں اُنہیں دُنیا بھر سے مختلف پیغامات موصول ہوئے تو وہیں اُن کے بھائی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اپنی بہن کے لیے سوشل میڈیا پر خصوصی پیغام جاری کیا۔

    بلاول بھٹو زرداری نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک خوبصورت سیلفی شیئر کی مذکورہ سیلفی میں بلاول بھٹو کے ہمراہ بختاور بھٹو، آصفہ بھٹو اور اُن کی خالہ صنم بھٹو کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔


    بلاول بھٹو زرداری نے اس خوبصورت سیلفی کے کیپشن میں اپنی بہن بختاور بھٹو کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔

    ٹوئٹر پر شیئر کی گئی اس سیلفی کو صارفین کی جانب سے خوب پسند کیا جا رہا ہے-

    واضح رہے کہ بختاور بھٹو زرداری 25 جنوری 1990 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، بختاور بھٹو زرداری نے انگریزی ادب میں ایم اے اور گریجویشن ایڈن برگ یونیورسٹی سے پاس کیا۔

    بختاور بھٹو زرداری کی شادی کی تقریبات کا آغاز بھی ہوگیا ہے بختاور بھٹو کے محمود چوہدری سے نکاح کی تقریب 29 جنوری کو منعقد کی جائے گی جبکہ ’بارات‘ کی تقریب 30 جنوری کو ہوگی۔

  • دنیا بھر میں جن خدشات کا ڈر تھا سامنے آنا شروع ہو گئے،ٹیلی گرام پرفیس بک کے 50 کروڑ موبائل فون نمبر فروخت کے لیے پیش

    دنیا بھر میں جن خدشات کا ڈر تھا سامنے آنا شروع ہو گئے،ٹیلی گرام پرفیس بک کے 50 کروڑ موبائل فون نمبر فروخت کے لیے پیش

    ٹیلی گرام بوٹ کے ذریعے فیس بک کے 50 کروڑ موبائل فون نمبر فروخت کے لیے پیش کردیئے گئے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیلی گرام پر بوٹ اکاؤنٹ سے فیس بک کے 50 کروڑ صارفین کے موبائل فون نمبر فروخت کے لیے سامنے آئے۔

    اس ڈیٹا سے متعلق فیس بک کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا اگست 2019 سے پہلے کا ہے اور اب اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے لیے مزید اقدامات اٹھالئے گئے تھے۔

    ٹیلی گرام پر بوٹ کے ذریعہ اس معاملے کو منظر عام پر لانے والے ایک شخص ریسرچر الون گال کا کہنا ہے کہ یہ پریشان کن ہے کہ اتنا بڑا ڈیٹابیس سائبر کرائم کمیونٹی میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی وجہ سے صارفین کی رازداری پر سمجھوتہ ہوسکتا ہے جبکہ جرائم پیشہ عناصر ان کی مدد سے فراڈ جیسی سرگرمیاں بھی انجام دے سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ٹیلی گرام بوٹ کی جانب سے دیا گیا یہ ڈیٹا چاہے 2019 کا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہم میں سے ہر شخص ایک سال کے اندر ہی اپنا نمبر اپڈیٹ کرلے لہٰذا جو معلومات فروخت کے لیے رکھی گئی ہے وہ کہیں نہ کہیں درست بھی ہوسکتی ہے۔

    دوسری جانب سیکیورٹی ریسرچرز کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے تقریباً 100 ممالک کے صارفین اس کی وجہ سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ مذکورہ ٹیلی گرام بوٹ اکاؤنٹ سے ایک فیس بک اکاؤنٹ یا نمبر کی معلومات کو 20 امریکی ڈالر میں فروخت کیا جارہا ہے۔

  • اننگز شروع ہوتے ہی کتنے کھلاڑی آؤٹ ہو گئے؟ تشویشناک خبر آ گئی

    اننگز شروع ہوتے ہی کتنے کھلاڑی آؤٹ ہو گئے؟ تشویشناک خبر آ گئی

    پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز کے 220 رنز کے جواب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری ہے جس نے دو وکٹوں کے نقصان پر 15 رنز بنا لئے ہیں۔
    تفصیلات کے مطابق نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے جا رہے میچ میں پاکستان کی جانب سے عابد علی اور ڈیبیو میچ کھیلنے والے عمران بٹ نے اننگز کا آغاز کیا تو صرف پانچ کے مجموعی سکور پر عابد علی چار رنز بنا کر کاگیسو ربادا کی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔ مجموعی سکور میں 10 رنز کے اضافے کے بعد ہی عمران بٹ کاگیسو ربادا ہی کی گیند پر کیغان پیٹرسن کے ہاتھوں کیچ ہو گئے، انہوں نے 25 گیندوں پر نو رنز بنائے۔

    قبل ازیں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو پاکستانی باﺅلرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پروٹیز کو پہلی اننگز میں 220 رنز پر آﺅٹ کر دیا۔ پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ نے سب سے زیادہ تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ ڈیبیو میچ کھیلنے والے نعمان علی نے دو شکار کئے۔

    جنوبی افریقہ کے ڈین ایلگر اور ایڈن مارکرم میدان میں آئے جنہوں نے 30 رنز کا آغاز فراہم کیا تاہم اس موقع پر قومی ٹیم کے نوجوان فاسٹ باﺅلر شاہین شاہ آفریدی نے پہلی کامیابی دلاتے ہوئے ایڈن مارکرم کو پویلین کی راہ دکھا دی، وہ 16 گیندوں پر 13 رنز بنا کر عمران بٹ کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ جنوبی افریقہ کی دوسری وکٹ 63 کے مجموعی سکور پر اس وقت گری جب ریسی وینڈرڈوسن نے فہیم اشرف کی گیند پر بھاگ پر رن لینے کی کوشش کی مگر دوسرے اینڈ پر موجود ڈین ایلگر نے ان کی کال کو مسترد کر دیا جس پر انہیں آدھی وکٹ سے واپس جانا پڑا تاہم اس سے پہلے ہی محمد رضوان نے بابراعظم کی زبردست تھرو پکڑتے ہوئے انہیں رن آﺅٹ کر دیا، وہ 30 گیندوں پر تین چوکوں کی مدد سے 17 رنز بنا سکے۔

    ڈین ایلگر اور فاف ڈوپلیسی نے چائے کے وقفے کے بعد 94 رنز سے اننگز کا آغاز کیا تو 108 کے مجموعی سکور پر لیگ سپنر یاسر شاہ نے قومی ٹیم کو تیسری اور اہم کامیابی دلاتے ہوئے فاف ڈوپلیسی کو محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ کروا دیا۔ وہ 46 گیندوں پر چار چوکوں کی مدد سے 23 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ ڈیبیو ٹیسٹ میچ کھیلنے والے نعمان علی نے بھی اپنی مہارت کے جوہر دکھائے اور 133 کے مجموعی سکور پر کپتان کوینٹن ڈی کوک کو پویلین کی راہ دکھائی اور پھر مجموعی سکور میں محض تین رنز کے اضافے کے بعد ہی ڈین ایلگر کو بھی آﺅٹ کر دیا، دونوں کھلاڑی بالترتیب 15 اور 58 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔ مہمان ٹیم کی چھٹی وکٹ 179 کے مجموعی سکور پر اس وقت گری جب ٹیمبا باووما 17 رنز بنا کر رن آﺅٹ ہو گئے۔

    چائے کے وقفے کے بعد پروٹیز کی جانب سے کیشو مہاراج اور جارج لینڈے نے اننگز کا آغاز کیا تو مجموعی سکور میں بغیر کسی اضافے کے یاسر شاہ نے کیشو مہاراج کو صفر کے انفرادی سکور پر کلین بولڈ کر دیا۔ 194 کے مجموعی سکور پر جارج لینڈے کی مزاحمت بھی جواب دے گئی جو 35 رنز بنا کر حسن علی کی گیند پر محمد نواز کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ جنوبی افریقہ کے آخری آﺅٹ ہونے والے کھلاڑی لونگی نگیڈی تھے جنہوں نے آٹھ رنز بنائے اور شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔

    پاکستان کی جانب سے تمام باﺅلرز نے ہی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے تاہم لیگ سپنر یاسر شاہ نے تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جبکہ ڈیبیو میچ کھیلنے والے نعمان علی اور شاہین شاہ آفریدی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں ، حسن علی ایک کھلاڑی کو آﺅٹ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

  • بھارتی یوم جمہوریہ پر دنیا بھر میں کشمیری  یوم سیاہ منا رہے ہیں

    بھارتی یوم جمہوریہ پر دنیا بھر میں کشمیری یوم سیاہ منا رہے ہیں

    بھارتی یوم جمہوریہ پر آج دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے، حریت رہنماؤں کی اپیل پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ہے، عالمی برادری کا مردہ ضمیر جھنجوڑنے کیلئے مظفر آباد، میر پور اور کوٹلی سمیت کئی شہروں میں ریلیوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

    بھارت 26 جنوری کو 1950 سے ہر سال یوم جمہوریہ کے طور پر مناتا چلا آرہا ہے، آج کے روز دلی میں جہاں نام نہاد جمہوریت کا بگل بجایا جاتا ہے تو غیر قانونی طور پر قبضہ کئے گئے جموں و کشمیر میں سات دہائیوں سے جمہوری حقوق پر قدغن کے خلاف اس روز کو کنٹرول لائن کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔

    کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ خود کو جمہوریت کا چیمپئن کہلانے والا بھارت غیر قانونی طور پر مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں فوجی قبضے کو دوام بخشنے کی خاطر سنگین غیر جمہوری اقدامات میں ملوث ہے۔

    یوم سیاہ کے موقع پر کشمیری عالمی برادری سے غصب کئے گئے مسلمہ جمہوری حقوق دلانے کے لئے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔

    بھارتی یوم جمہوریہ پر عالمی اداروں کی خاموشی بڑا سوالیہ نشان ہے، مردہ ضمیر کو جھنجوڑنے کیلئے مظفر آباد، میر پور اور کوٹلی سمیت کئی شہروں میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔

  • امن مشق کے ذریعے بحری افواج کا اشتراک: پاک بحریہ کی کامیابی ،  تحریر ثاقب لودھی

    امن مشق کے ذریعے بحری افواج کا اشتراک: پاک بحریہ کی کامیابی ، تحریر ثاقب لودھی

    امن مشق کے ذریعے بحری افواج کا اشتراک: پاک بحریہ کی کامیابی
    ثاقب لودھی

    پاک بحریہ کی کثیر القومی امن مشق 2021 فروری میں منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ مشق سال 2007سے ہر دو سال بعد منعقد کی جاتی ہے۔ پاک بحریہ کی اس کاوش کا مقصدہے کہ علاقائی اور دیگر بحری افواج کے مابین مشترکہ تعاون کو فروغ دیتے ہوئے متعدد صلاحیتوں کو نکھارا جائے۔ اس مشق میں کئی ممالک کی افواج ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوتی ہیں۔ مختلف ممالک کے جہازوں پر موجود عملہ اور مندوبین پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں سے میل جول کرتے ہیں۔ ایک کثیر القومی پلیٹ فارم کی حیثیت سے، امن مختلف بحری افواج کے مابین پیشہ ورانہ تعلقات کو بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور دیگر اقوام کے سامنے پاکستان کا مثبت امیج بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ مشق بحری سفارتکاری کی بہترین مثال ہے اور پاک بحریہ کے افراد کی پیشہ وارانہ قابلیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ ملک کے وقار کو بڑھانے کا باعث بھی ہے۔

    بحر ہنددنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگا ہ ہونے کی حیثیت سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ تیل کی عالمی ترسیل کا دو تہائی اور بلک کارگو ٹرانزٹ کا ایک تہائی بحر ہند کے راستے سے گزرتا ہے ۔چین کا تقریبا 80 فیصد ، جنوبی کوریا کا 90 فیصد اور جاپان کا 90 فیصد تیل بحر ہند سے گزرتا ہے ۔ مشق امن بحر ہند میں سمندری تحفظ کویقینی بنانے کے مشترکہ نظریے کو فروغ دیتی ہے ۔ اس مشق کو بحر ہند میں تجارت کو بغیر کسی رکاوٹ ، حفاظت اور سیکیورٹی کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔

    موجودہ مشق امن سیریزکی ساتویں مشق ہے جوپاک بحریہ گذشتہ دو دہائیوںسے لگاتارجاری رکھے ہوئے ہے۔ مشق امن "سمندروں کی آزادی” کے حوالے سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی توثیق کرتی ہے۔ اس طرح کی مشقوں سے پاک بحریہ بحر ہندمیںہر طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس سے بڑے پیمانے پر بحر ہند کی گزرگاہوں پر تجارت کے مستحکم بہاؤ کو جاری رکھنے میں مدد فراہم ہوگی۔اس مشق سے خطے میں کسی بھی قسم کی امدادی سرگرمی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

    مشق امن کی توجہ کا مرکز بحری قزاقی ، اسمگلنگ ، دہشت گردی ، قدرتی آفات وغیرہ جیسے غیر روایتی اور غیر روایتی خطرات کے خلاف موثر اقدامات کرنا ہے۔ حالیہ دنوں میں، پاکستان کے مفاد سے وابستہ سمندری علاقے میں سمندری جرائم کی شدت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یو این ایس سی آر کے قائم کردہ اتحاد کے تحت کیے جانے والے آپریشنز، آزاد گشت اور امن جیسی مشقوں کے انعقاد سے ایسے واقعات کی کمی میں پاک بحریہ کا اہم کردار ہے۔

    امن مشق کا آغاز ایک بین الاقوامی کانفرنس سے ہوتا ہے جس میں بحری امور کے نامور اسکالرز اور پیشہ ور ماہرین کو اکٹھا کیا جاتا ہے اور مباحثے منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان مباحثوں میں سمندری تحفظ سے متعلق مختلف چیلنجز اور ان کے اثرات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے حل تلاش کر کے ان کی افادیت کا اندازہ بھی لگا یا جاتا ہے۔ مشق کے سی فیزمیں بحری جہازوں، آبدوزوں اور ہوائی جہازوں سمیت میرین فورسزشریک ہوتی ہیں۔ اس دوران مختلف جہازوں پر بحری مندوبین بھی موجود ہوتے ہیں جو پہلے سے طے شدہ مشقوں کو سرانجام دیتے ہیں۔ اس سے ایک دوسرے کے پیشہ وارانہ طریقہ کار کو بہتر طور پر سمجھنے اور مطابقت پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    گزشتہ سال عالمی منظر نامہ اور بنی نوع انسان کی زندگی میں ایسی تبدیلی لایا جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اس سال نے لوگوں کے ذہنوں پر تاریک اور انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ امریکہ میں روزانہ کی بنیاد پر اموات کی شرح 9/11حملوں میں اموات سے زیادہ تھی۔ دسمبر 2020کے آغاز تک امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ 97 ہزار جب کہ دنیا بھر میں اموات کی تعداد 1.52ملین ریکارڈ ہو چکی تھی۔ دسمبر کے پہلے ہفتے تک ہندوستان میں 1لاکھ 39ہزار 7سو اموات ہوئیں۔ کرہ ارض پر انسانی زندگی کا ایک نیا ڈھنگ شروع ہو چکا ہے اور اس میں تبدیلیاں بھی جاری ہیں۔ویکسین ہویا نہیں ، ناول کورونا وائرس اب موجود رہے گا۔ آنے والے سالوں میں مزید وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ بھی موجودہے ۔ موسمیاتی تبدیلی ، ناقص ترقیاتی پلان اور آزاد سرمایہ دارانہ نظام کی لعنت سے بنی نوع انسان کو مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کرونانے اُس ماحول کا منظرنامہ پیش کیا جس میں مستقبل کی جنگ لڑی جائے گی۔ کسی بھی فوج کی جنگی صلاحیت اور تیاری اس کی افرادی قوت کے حوصلے اور جسمانی تندرستی سے براہ راست متناسب ہے ۔

    مستقبل کی فوجی قوتیں جنھیں جنگ کی بدلتی ہوئی ہئیت اور جدید ٹیکنالوجی کے سنگین اثرات سے نبردآزما ہونا ہے انھیں فوجوں میں وبائی امراض کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی تیار رہنا ہو گا۔ یہ مشکلات بحری افواج کے لیے زیادہ بڑھ جاتی ہیں ۔جنھیں تنگ جگہوں پر لمبے دورانیے کے لیے کام کرنا ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ترقی کی وجہ سے مشین انسانوں کی جگہ مکمل طور پر لے لے، پھر بھی یہ کہانی نئی نہیں ہے۔ 430قبل مسیح میں پیلو پنیسیائی جنگ کے دوران بھی قدیم یونان ایک تباہ کن طاعون کا شکار ہوا تھا۔ اپنے وقت کے دو طاقتور اتحادیوں، ایتھنز اور اسپارٹاکے مابین ہونے والی لڑائی میں ایتھنز کو طاعون کی وباءکا شدید جھٹکا لگا تھا۔ ایتھنز کی آبادی کا ایک سے دو تہائی کے درمیان آبادی اور ایک ممتاز جنرل بھی ہلاک ہوگئے تھے ۔ مؤخر الذکر کو بھی بیماری سے بچنے کے لئے اتھینیائی سرزمین (اٹیکا) پر اپنا حملہ ترک کرنا پڑاتھا۔

    بحر ہند آج کل دنیا میں سب سے زیادہ مسابقتی بحری رقبہ ہے رواں صدی میں طاقت کا زبردست مقابلہ یہاں جاری ہے ۔ گذشتہ دہائی میں ہندوستان اور امریکہ کے مابین اسٹریٹجک تعلقات میں زبردست چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے ۔ صرف 4 سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان تین اہم اسٹریٹجک معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں ۔ 2016 میں ہونے والے LEMOAاور 2018 میںہونے والے COMCASAکے بعد تازہ ترین مذاکرات کا نتیجہBECA رہا ۔ بنیادی تبادلہ اور تعاون کا معاہدہ(BECA)کے ذریعے دونوں فورسزکے مابین حساس، درجہ بند معلومات کے تبادلے کے ساتھ ساتھ ہر فریق کو درجہ بند ڈیٹا تک بلا روک ٹوک رسائی کی سہولت بھی میسر ہوگی۔ یہ معلومات امریکی سیٹلائٹ کے ذریعہ فراہم کی جائیں گی۔ یہ سب نیویگیشن اور فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ مختصراًیہ کہ اب خطے میں فوجی وسائل کی نگرانی بھارت اور امریکہ مشترکہ طور پر کریں گے ۔

    اس دوران دونوں ممالک کے مابین بحری مفادات کے تعاون میں بھی توسیع ہوئی ہے ۔ فوجی تعلقات میں امریکی اور بھارتی بحریہ کی مشترکہ مشقیں سب سے اہم حصہ ہیں۔ یہ واضح ہے کہ اس طرح کے تمام مشترکہ اقدامات چین اور پاکستان کے خلاف ہیں ، جو اسٹراٹیجک مفادات کو اکٹھا کرنے کے حتمی اہداف ہیں ۔ حتمی مقصد چین کو بحر ہند میں قدم جمانے سے روکنا اورسی پیک کو غیر فعال کرنا ہے ۔ پاکستان کے اندر ”را“ کی جانب سے کی جانے والی تخریبی سرگرمیوں کے ناقابل تردید ثبوتوں پر مشتمل حالیہ ڈوزئیر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا بدصورت چہرہ ہے جو کہ یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ وہ بین الاقوامی دہشت گردی کا مقابلہ کررہی ہے ۔ دنیا مودی کے ہندوستان کی اس طرح کی مکروہ سازشوں کونظرانداز نہ کرکے اپنے لیے خطرہ بڑھائے گی۔ بحر ہند اور جنوبی ایشیاءایک خطرناک حالت سے دو چارہیں۔ ایک چھوٹی لیکن مضبوط پاک بحریہ "سمندروں کی آزادی” کو برقرار رکھے ہوئے ہے لیکن اس کے لئے مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے ۔مشق امن اس سمت میں ایک انتہائی اہم اقدام ہے۔