Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اینٹی ریپ ویکسین لازم قرار دی جائے   ازقلم غنی محمود قصوری

    اینٹی ریپ ویکسین لازم قرار دی جائے ازقلم غنی محمود قصوری

    اینٹی ریپ ویکسین لازم قرار دی جائے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بچے کی اچھی جسمانی و روحانی پرورش ماں باپ اور مملکت کی اولین ذمہ داری ہے
    کیونکہ جب بچہ روحانی و جسمانی طاقت ور و توانا ہوگا تبھی وہ جرائم سے پاک ہو گا اور ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا
    بچوں کی پرورش بارے قرآن میں اللہ تعالی نے حضرت لقمان کی مثال یو بیان کی

    اے میرے پیارے بیٹے۔ تو نماز قائم رکھنا اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا ،برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آئے صبر کرنا ۔ کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے ۔
    سورہ لقمان آیت 17

    اسلام میں سات سال کے بچے کو نماز سکھانا فرض ہے اور دس سال کا ہو کر اگر وہ نا پڑھے تو اس پر سختی کرنا لازم ہے اور حاکم وقت پر لازم ہے کہ لوگوں کو نماز پڑھنے کا پابند بنائے اور حاکم پر فرض ہے کہ اپنی رعایا کی دینی و دنیاوی ضرورتوں کا خیال رکھے
    پوری دنیا میں اس وقت ریپ کیسز خصوصاً بچوں کے ساتھ ریپ کیسز بڑھ رہے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے
    ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اوسطاً 7 ریپ کیسز ہوتے ہیں جوکہ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے ہمارے منہ پر طمانچہ ہیں
    جسمانی بیماریوں سے بچاؤ گورنمنٹ پر فرض ہے اسی لئے بچے کی پیدائش کے فوری بعد مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں نیز 1988 کی خطرناک پولیو وائرس پھیلاؤ کے نتیجے میں دنیا میں تقریبا 350000 بچوں کی اموات ہوئی تھی جس پر پولیو ویکسین پلانا لازمی قرار دی گئی اور ملک پاکستان میں بھی پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو ویکسین پلانا لازمی ہے
    پچھلے سال گورنمنٹ آف پاکستان نے تقریبآ 5 ملین ڈالر خرچ کرکے 4 کروڑ سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی تاکہ یہ بچے پولیو جیسی مہلک بیماری سے بچ سکیں
    جب سے ریپ کیسز بڑھے ہیں تب سے سبھی اس فکر میں ہیں کہ ان کیسز کو کیسے روکا جائے
    اس پر مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے مختلف تجاویز و آراء پیش کی ہیں جبکہ گورنمنٹ نے بھی زینب الرٹ بل منظور کیا ہے

    2018 میں زینب الرٹ بل کی رو سے بچے کے اغواءیا اس سے جنسی زیادتی کی صورت میں پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ دو گھنٹے کے اندر اندر کاروائی شروع کی جائے بصورت دیگر متعلقہ پولیس آفیسر کے خلاف کاروائی ہو گی نیز مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر مقدمے کی سماعت مکمل کی جائے جبکہ ریپ کی سزا 10 سال سے بڑھا کر 14 سال کر دی گئی ہے اس بل کے پاس ہونے سے گمشدہ بچوں کی رپٹ درج ہوتے ہی پولیس کام شروع کر دیتی ہے جس سے بچوں کے اغواء کا سلسلہ کافی حد تک رک گیا ہے
    جیسے ہر بندے کی تجاویز و آراء ہیں ایسے راقم کی بھی ایک تجویز ہے کہ ریپ کیسز کو روکنے کیلئے بچوں کو سیلف ڈیفنس کورس کروایا جائے جس کے لئے بچے کی پیدائش کے اندراج کے بعد چار سال یا پانچ سال کا ہوتے ہی بچے کے والدین پر فرض کیا جائے کہ اس کو مسجد میں قرآن مجید کی تعلیم کے لئے بیجھا جائے جہاں تعلیم قرآن کیساتھ بچے کو سیلف ڈیفنس کورس کروایا جائے جس میں بچے کو اپنے جسمانی دفاع کیساتھ قرأن کی لازمی تعلیم حاصل کرکے روحانی دفاع کا بھی موقع ملے گا
    اس کے لئے علاقائی مساجد و مدارس کو رجسٹرڈ کرکے ماہر سیلف ڈیفنس حضرات کو تعینات کیا جائے اور بچوں کے والدین کی نگرانی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں تاکہ ان کی نگرانی میں کام ہو
    یقین جانئیے جیسے پولیو ویکسین لازم ہے ویسے ہی بچوں کے ساتھ بڑھتی جنسی زیادتی کو روکنے کیلئے یہ سیلف ڈیفنس اینٹی ریپ ویکسین لازم ہے اس کے بیش بہا فوائد ہیں جن میں بچہ دین کیساتھ جڑا رہا گا اپنے دفاع کیساتھ وہ بڑا ہو کر اپنے محلے و معاشرے کا دفاع بھی کر سکے گا
    اگر گورنمنٹ واقعتاً چائلڈ ریپ کیسز میں سنجیدہ ہے تو اس اینٹی ریپ ویکسین کو اپنائے بنا گزارہ نہیں

  • سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کے ایم سی کے مالی معاملات سے متعلق اجلاس

    سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کے ایم سی کے مالی معاملات سے متعلق اجلاس

    اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری بلدیات نجم شاہ، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی لئیق احمد اور دیگر حکام شریک ہوئے تھے

    کے ایم سی نومبر اور دسمبر میں سینئر افسران کو تنخواہ نہیں دے سکی تھی. وزیراعلیٰ سندھ نے کے ایم سی کو 170 ملین روپے دینے کی منظوری دے دی ہے. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ
    وہ کے ایم سی کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتے، وہ چاہتے ہیں کہ کے ایم سی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے. ان کا کہنا تھا کہ ہم کہتے ہیں کراچی پورے پاکستان کو چلاتا ہے لیکن کے ایم سی مالی مشکلات کا شکار ہے، یہ افسوس کی بات ہے.
    کے ایم سی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہم ماضی میں میونسپل یوٹیلٹی اینڈ کنزوینسی ٹیکس بل نہیں دے سکے تھے، شہر میں 14 لاکھ ملکیت ہیں جن سے ایم یو سی ٹی ٹیکس وصول ہونا تھا لیکن صرف 35000 پراپرٹیز سے ایم یو سی ٹی ٹیکس وصول ہوسکا ہے.

    ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کا کہنا تھا کہ
    یہ 35000 پراپرٹیز سے ایم یو سی ٹی ٹیکس کی رقم 280 ملین روپے بنتی ہے، ان حالات کی وجہ سے کے یم سی مالی مشکلات کا شکار ہے. وزیراعلیٰ سندھ نے کے ایم سی کو اپنے پارکس اور ہٹس کو پی پی پی کے تحت چلانے کی ہدایات دے دی ہے. ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی اپنے پیٹرول پمپس کو بہترین بڈرز کو دے اور کے ایم سی اپنے مالی مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کرے.

    وزیر بلدیات ناصر شاہ نے کہا کہ ایم یو سی ٹی کے 35 لاکھ سے بل پرنٹ کررہے ہیں. وزیراعلیٰ سندھ نے موبائل فونز کو ٹاورز کے ٹیکسز واپس کے ایم سی کو دینے کی ہدایات دے دی ہے.
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ
    اس وقت ایس بی سی اے ٹاورز کا ٹیکس لیتا ہے، کے ایم سی پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا خود بندوبست کرے.انہوں نے کہا کہ ڈی ایم سیز بھی بہترین کام کررہی ہیں، ڈی ایم سی جنوبی پہلے پارکنگ فی سے 9 ملین روپے وصول کرتا تھا، اب ڈی ایم سی جنوبی 750 ملین روپے پارکنگ سے وصول کررہا ہے.

    وزیراعلیٰ سندھ نے کے ایم سی کو مالی مشکلات سے نکالنے کیلئے تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے. کمیٹی میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری بلدیات نجم شاہ اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی لئیق احمد شامل ہیں. یہ کمیٹی ہر 15 دن میں اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی.وزیراعلیٰ سندھ ہر 14 دنوں میں کے ایم سی کمیٹی کی رپورٹ پر اجلاس کریں گے.

    ناصر شاہ نے کہا کہ کورنگی ڈی ایم سی سے کچرا اٹھانے کے اخراجات 20 ملین روپے سے کم کرکے 8 ملین روپے کئے گئے ہیں

  • فارن فنڈنگ میں ملوث ہر پارٹی کالعدم ہونی چاہیے، آفاق احمد کی اظہارِ تشویش

    فارن فنڈنگ میں ملوث ہر پارٹی کالعدم ہونی چاہیے، آفاق احمد کی اظہارِ تشویش

    چیئرمین آفاق احمد نے قومی دھاروں کی سیاسی جماعتوں کی فارن فنڈنگ کے انکشافات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو فارن فنڈنگ کیسز پر فیصلوں میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، سیاسی جماعتوں کی فارن فنڈنگ ملکی سلامتی کیلئے خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ سے چلنے والی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ عوام کے مفادات اورملکی سلامتی کو پسِ پشت ڈال کر صرف ڈونرز کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے، اس لئے ایسی ہر جماعت کالعدم ہونی چاہیے۔

    آفاق احمد نے آئے دن اندرون سندھ ملک دشمن ریلیوں، جلسے جلوس اور نعروں پر تمام حکومتی اداروں کی طرف سے خاموشی کو معنی خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اندرون سندھ ملک دشمن سرگرمیوں پر ملکی سلامتی کے اداروں کا رویہ شہری سندھ کے عوام کو ٹھیک پیغام نہیں دے رہا ہے.

  • گلگت بلتستان کے ثقافتی وفد کا دورہ الحمراء، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے ملاقات

    گلگت بلتستان کے ثقافتی وفد کا دورہ الحمراء، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے ملاقات

    لاہور:- گلگت بلتستان کے ثقافتی وفد نے لاہور آرٹس کونسل الحمراء کا دورہ کیا ہے. تین رکنی وفد کی سربراہی محکمہ سیاحت کے اہم رکن سلیمان پارس کر رہے تھے۔ وفد نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء ثمن رائے سے ملاقات کی ہے ۔ملاقات میں مستقبل میں گلگت بلتستان کے ثقافتی رنگوں کو الحمراء کے پلیٹ فارم پر پیش کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے ہیں ۔اجلاس میں دوطرفہ ثقافتی وفوں کے تبادلہ پر بھی غور کیا گیا ہے ۔

    ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمراء ثمن رائے نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ملکی ہم آہنگی و یک جہتی کا باعث بنے گے، عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ تمام علاقائی ثقافتیں پاکستان کے مجموعی حسن میں نکھار پیدا کرتی ہیں، ملک بھر کے علاقوں کی اقدار کو فروغ دے رہے ہیں، گلگت بلتستان کی روایتی موسیقی بے حد دلکش اور منفرد ہیں، وفد کے دورہ سے ثقافتی رشتے مزید مضبوط ہونگے۔

    سربراہ وفد سلیمان پارس نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا اپنی روایات سے لگاؤ مثالی ہے، الحمراء جیسے فعال پلیٹ فارم پر پرفارمنس کے خواہاں ہیں۔اجلاس میں ڈائریکٹر آرٹس اینڈ کلچر ذوالفقار علی زلفی نے بھی خصوصی شرکت کی ہے۔ترجمان الحمراء نے اس موقع پر کہا کہ ملک بھر کے ثقافتی رنگوں کو زندہ دلانِ لاہور کے لئے پیش کرنے پر فخر ہے،ہمارا کلچر ایک دوسرے سے محبت سے عبارت ہے۔

    واضح رہے کہ گلگت کے معروف ستار نواز میر افضال کی الحمراء میں شاندار پرفارمنس کا مظارہ کیا گیا جسے لائیو نشر کیا گیا ہے ، اس پرفارمنس کو بڑی تعداد میں لوگوں نے دیکھا اور پسند بھی کیا ہے.

  • پاکستان کے بدنام زمانہ ٹھگ پی ڈی ایم کی چھتری تلے جمع ہیں، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی کڑی تنقید

    پاکستان کے بدنام زمانہ ٹھگ پی ڈی ایم کی چھتری تلے جمع ہیں، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی کڑی تنقید

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کی ہے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان کے بدنام زمانہ ٹھگ پی ڈی ایم کی چھتری تلے جمع ہیں. یہ ٹھگ ایک بار پھر پاکستان کو نوچنے کیلئے اقتدار کے لئے بے قرار ہیں. انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ہوتے ہوئے ان ٹھگوں کی دال نہیں گلے گی. ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اڑھائی برس کے دوران کرپشن کا ایک بھی اسکینڈل سامنے نہیں آیا ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا کریڈٹ ہے.

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے شفافیت کی نئی مثال قائم کی ہے، وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ہوتے ہوئے اب کوئی قومی وسائل میں خیانت کی جرات نہیں کرسکتا ہے. انہوں نے کہا کہ راجکماری اور شہزادہ وہ دن یاد کریں جب ان کے ابا جان کے ادوار میں کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے گئے تھے،ان کے اباجان کے ادوار میں کمیشن کھائے گئے تھے، ماضی میں کرپشن کے مینار کھڑے کرکے اربوں کی لوٹ مار کی گئی تھی،ماضی میں ہر روزکرپشن کا نیا اسکینڈل سامنے آتا تھا.

    ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا نے بھی اس وقت کی بہتی گنگا میں آشنا کیا ہے.حکومت کے دور میں کرپٹ افراد کو نکیل ڈالی گئی ہے. انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی دیانتدار قیادت میں ملک ترقی کررہا ہے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد بحال ہوا ہے.

  • پی ایس ایل سکس ،  بورڈ اور فرنچائز میں معاملات طے پا گئے

    پی ایس ایل سکس ، بورڈ اور فرنچائز میں معاملات طے پا گئے

    ،
    پی ایس ایل سکس، /بورڈ اور فرنچائز میں معاملات طے ، پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائزز کے درمیان فنانشنل ماڈل پر معاملات طے پاگئے، پی سی بی نے تمام فرنچائزز کے خلاف قانونی نوٹس واپس لے لیا ، فرنچائزز نے گارنٹی منی جمع کروانے کی یقین دہانی کروادی ، گارنٹی منی جمع ہونے کے بعد فرنچائزز کی تجاویز پر نئے فنانشنل ماڈل پر عمل درآمد کا آغاز ہوجائے گا۔کچھ فرنچائزز نے باہم رضا مندی سے کچھ روز بعد کے چیک جمع کروائے ہیں

    پاکستان سپر لیگ سکس میں کون سے کھلاڑی کس ٹیم کا حصہ بنیں گےا۔ ٹیموں نے ریٹین پلئرز سے پردہ اٹھادیا۔ 5 فرنچائزز نے 8، 8 کھلاڑی برقرار رکھے جبکہ پشاور زلمی نے صرف 5 کا انتخاب کیا اور فاسٹ بولر حسن علی کو اسکواڈ سے باہر کردیا۔

    کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ میں واحد ٹریڈ ہوئی، ایلکس ہیلز اسلام آباد چلے گئے جبکہ کولن انگرم کراچی میں آگئے۔ لاہور قلندرز نے فخر زمان کو برانڈ ایمبیسڈر بناکر ٹیم میں رکھا۔عماد وسیم اور شان مسعود کی کیٹگری کو گرا دیا گیا، ملتان سلطانز نے شان اور کراچی نے عماد وسیم کو گولڈ کیٹگری میں رکھا۔
    واضح رہے کہ پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن کا میلا 20 فروری سے 22 مارچ تک سجے گا۔

  • ہمیں خود میدان میں اترنا ہوگا۔  اک اہم اور ضروری پیغام  بقلم:عبدالحفیظ چنیوٹی

    ہمیں خود میدان میں اترنا ہوگا۔ اک اہم اور ضروری پیغام بقلم:عبدالحفیظ چنیوٹی

    ہمیں خود میدان میں اترنا ہوگا۔

    اک اہم اور ضروری پیغام

    بقلم:عبدالحفیظ چنیوٹی

    اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جو سراپا خیر و رحمت ہے حسن سلوک خیر خواہی سے عبارت ہے دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور مخلوق خدا کی خدمت اس کا طرۂ امتیاز ہے یہی وجہ ہے کہ اس دین کو رحمت اس کے خدا کو رحمن ورحیم اور اس دین کے نبی کو رحمۃ اللعالمین کہا گیا ہے

    اسلام میں احترام انسانیت اور خلق خدا کے ساتھ ہمدردی وغمخواری کوبڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے کلام اللہ اور احادیث مبارکہ میں جگہ جگہ خدمت انسانیت کو بہترین اخلاق اور عظیم عبادت قرار دیا ہے چناں چہ قرآن کریم میں خدمت خلق پر ابھارتے ہوئے بہترین انداز میں کہا گیا ہے کہ "لیس البر ان تولو وجوه‍كم قبل الشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملئكة والكتاب والنبيین وآتي المال على حبه ذوي القربي واليتمي والمسكين وابن السبيل والسائلين وفي الرقاب  الخ۔ (البقرہ۔ ١٧٧)

    (ترجمہ)سارا کمال اسی میں نہیں ہے کہ تم اپنا رخ مشرق کی جانب کرو یا مغرب کی جانب لیکن اصلی کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتب سماویہ پر اور پیغمبروں پر اور وہ شخص مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں اپنے حاجتمند رشتہ داروں کو اور نادار یتیموں کو اور دوسرے غریب محتاجوں کو بھی اور بے خرچ مسافروں کو اور لاچاری میں سوال کرنے والوں کو اور قیدی اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں بھی مال خرچ کرتا ہو ۔

    کم ہمتی سے کیوں نہ ہو توہینِ زندگی

    انسان کا وقار تو عزمِ جہاں میں ہے

    ہمیں دوسروں کیلئے آسانی پیدا کرنے کا سوچنا ہوگا اور عملی کام کیلئے میدان میں اترنا ہوگا۔
    جب ہم گلیوں بازاروں میں چلتے ہیں تو ہماری گلیاں، محلے، بازار اور ہمارے شہر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں اور ان ٹوٹ پھوٹ کی شکار گلیاں بازار ہمارے لوگوں کیلئے تکلیف کا باعث اور بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہیں اور اسی طرح ہمارے شہر کی گلیاں بازار اور شہر کا تقریبا کافی حصہ اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے،
    ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہماری غیر ذمہ داری ہمارے محلے، بازار اور شہر کو حادثوں کا مرکز اور خوبصورتی کو ختم کرنے کا اور اندھیرے میں غرق کر دینے کا باعث بنتا ہے۔
    اب ہمارے کرنے والے کام کیا ہیں؟
    1 ہمیں چاہئیے ہم اپنی گلی محلے میں پڑے کھڈے درست کریں،
    2 محلے میں موجود گھروں اور مساجد کو صاف ستھرا رکھیں،
    3 محلے کی مین اور ضرورت کی جگہ پر روشنی کا انتظام کریں،

    اور اگر یہ کام ممکن نہیں تو کم از کم ہر فرد کو چاہئیے کہ اپنے گھر، دکان، دفتر، کالج، سکول، فیکٹری و عبادت گاہ، ایسی وہ جگہیں جہاں ان کا روز بیٹھنا یا کام کرنا مقصود ہوتا ہے وہاں پر انسانیت کی بھلائی خدمت انسانیت کہ یہ ابتدائی اقدامات لازمی طور پر اختیار کریں۔

  • قومی خواتین کرکٹ ٹیم بدھ سے انٹرنیشنل کرکٹ کا دوبارہ آغاز کرے گی

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم بدھ سے انٹرنیشنل کرکٹ کا دوبارہ آغاز کرے گی

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم دس ماہ کی بریک کے بعدبدھ سے دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کرے گی۔ ڈربن میں موجود قومی خواتین کرکٹ ٹیم 20 جنوری سے شروع ہونے والی ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں میزبان جنوبی افریقہ کے مدمقابل آئے گی۔

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے اس سے قبل اپنا آخری انٹرنیشنل میچ آسٹریلیا میں کھیلے گئے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ 2020 میں کھیلا تھا،جس کے بعد کورونا وائرس کی وجہ سےخواتین کرکٹ کی سرگرمیاں معطل ہوگئی تھیں۔

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی قیادت جویریہ خان کررہی ہیں۔ وہ اب تک جنوبی افریقہ کے خلاف 14 ون ڈے میچوں میں 377 رنز بناچکی ہیں۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ میں 37.85کی اوسط سے رنزبنارکھے ہیں۔ اس فہرست میں پہلے نمبر پر عالیہ ریاض ہیں، جن کی جنوبی افریقہ میں رنز بنانے کی اوسط 44 ہے۔

    باؤلنگ کے شعبے میں آلراؤنڈر ندا ڈار سب سے نمایاں ہیں۔ جنوبی افریقہ میں وہ 18 کی اوسط اور 3.07 کے اکانومی ریٹ سے باؤلنگ کرچکی ہیں۔

    دونوں ٹیموں کے مابین آخری ایک روزہ سیریزمئی 2019 میں کھیلی گئی تھی جو کہ 1-1 سے برابر رہی۔

    رواں سال دونوں ٹیموں کے مابین تین ایک روزہ اور تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کی سیریز کنگز میڈ کرکٹ اسٹیڈیم ڈربن میں کھیلی جائے گی۔

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان جویریہ خان کا کہنا ہے کہ وہ دس ماہ بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی پر بہت خوش ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ سیریز پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس سیریز نہ صرف انہیں اپنے سے بہتر رینک کی ٹیم سے کھیلنے کا موقع مل رہا ہے بلکہ یہ سیریز آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ کوالیفائرز کی تیاریوں میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

    کپتان قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا کہناہے کہ تمام کھلاڑی کوویڈ 19 کی وباء کے بعد گراؤنڈ میں واپسی کے حوالے سے بہت پرجوش ہیں اور تمام کرکٹرز اسپورٹ اسٹاف کی معاونت سے جنوبی افریقہ میں سخت ٹریننگ کررہی ہیں۔

    پاکستان اور جنوبی افریقہ کی خواتین ٹیمیں اس سے قبل 21 ایک روزہ میچوں میں مدمقابل آچکی ہیں، جہاں چار میں پاکستان جبکہ 15 میں جنوبی افریقہ نے کامیابی حاصل کی۔

  • سنسنی خیز مقابلہ ، بھارت عا لمی رینکنگ میں کونسے نمبر پر آگیا

    سنسنی خیز مقابلہ ، بھارت عا لمی رینکنگ میں کونسے نمبر پر آگیا

    بھارت نے آسٹریلیا کو چوتھے ٹیسٹ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-2 سے جیت لی۔اس کامیابی کے بعد بھارت ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔

    گابا ٹیسٹ کے آخری روز بھارت کو جیت کے لیے 328 رنز درکار تھے ۔ بھارت کے 23 سالہ وکٹ کیپر بیٹسمین ریشابھ پانٹ نے ٹی 20 کرکٹ کی طرز سے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کو کامیابی دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    ریشابھ پانٹ نے 138 گیندوں پر 89 رنز کی اننگز کھیلی جس کی وجہ سے بھارت نے کھیل ختم ہونے سے 18 گیندیں قبل ہی ہدف حاصل کر لیا، بھارت 1988 کے بعد پہلی ٹیم ہے جس نے آسٹریلیا کو برسبن کے مقام پر ٹیسٹ میچ میں شکست دی۔ آخری مرتبہ 1988 میں ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کو یہاں شکست دی تھی۔

  • پاک بحریہ کی بحری مشق امن21-   تحریر: فیاض عباسی

    پاک بحریہ کی بحری مشق امن21- تحریر: فیاض عباسی

    پاک بحریہ کی بحری مشق امن21-
    تحریر: فیاض عباسی

    دنیا بھر کے سمند رقدرت کی بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہیں جو تقریباً 360ملین مربع کلو میٹر پر محیط ہیں اور زمین کی کم و بیش 70فیصد سطح پر پھیلے ہوئے ہیں۔ سمندر میں پائے جانے والے قیمتی وسائل میں گیس، تانبا، لوہا، کوبالٹ، مختلف قسم کی دھاتیں اور خام تیل قابل ذکر ہیں۔قدرتی نعمتوں سے مالا مال سمندر دنیا کے مختلف خطوں کو ملانے کا سستا اور بہترین ذریعہ بھی ہیں۔

    سمندروں کی افادیت کے پیش نظر جب نوعِ انسانی نے سمندروں سے مستفید ہونے کی طرف توجہ دی تو ان وسائل کے ساتھ ساتھ انہیں بحری سفر کے بارے میں بھی آگہی حاصل ہوئی اور یوں سمندروں میں سفر کے ابتدائی خدوخال تشکیل پائے۔ ابتداء میں بحری سفر اور بحری وسائل سے آگہی محدود نوعیت کی تھی جس نے تجارتی بحری سفر اور بحری تحقیق کی ترقی کا طویل سفر طے کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دو ہزار سال قبل بحری تجارت کی ابتدائی شکل وجود میں آئی۔ بحری آمدورفت کے آغاز کے ساتھ ہی سمندروں میں لوٹ مار کے واقعات رونما ہونا شروع ہو گئے۔

    جیسے جیسے بحری تجارت نے ترقی کی منازل طے کیں اور بحری وسائل کی دریافت میں پیش رفت نے قدم آگے بڑھائے ویسے ویسے سمندروں میں خطرات نے جنم لینا شروع کیا۔بحری امن کے دشمنوں نے بحری قزاقی، بحری دہشت گردی اور سمندروں میں غیر قانونی نقل و حمل جیسی منفی سر گرمیوں کو اپنا ہتھکنڈہ بنایا۔ سماج دشمن عناصر دنیا میں تیزی کے ساتھ پھیلتے گئے اور خود کو اس قدر منظم کر لیا کہ بحری امن کے لئے ایک مستقل خطرہ بن گئے۔ آج کے دور میں کئی بحری آماجگاہیں ان قزاقوں کا مسکن ہیں جن میں خلیج عدن، صومالیہ اور نائیجریا کے ساحلی خطے، آبنائے ملاکا اور بحرِ ہند شامل ہیں۔

    مندرجہ بالا منظر نامے اور موجودہ جدیدٹائم چیلنجز کے پیش نظر کئی اقوام اپنی تہی کاوشیں کر چکی ہیں کہ بحری قزاقی کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے لیکن ان کوششوں کے نتیجے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ انفرادی حیثیت میں کی جانے والی کوششوں کی ناکامی کے بعداقوام عالم میں یہ احساس بیدار ہو چکا ہے کہ کوئی بھی قوم بحری قزاقی، سمندری دہشت گردی اور سمندری راستوں کے ذریعے ہونے والی اسمگلنگ کو اکیلے نہیں روک سکتی۔

    عالمی معاشی نظام کو بحری خطرات سے محفوظ بنانے اورقومی بحری وسائل کے تحفظ کے لئے سمندروں کے حامل ممالک ایک سوچ اور متفقہ لائحہ عمل کو وجود میں لانے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہورہے ہیں اور بحری فوج ہونے کے ناطے بحری امن و استحکام کو یقینی بنانے کے سلسلے میں عالمی بحری افواج پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

    پاک بحریہ بحرِہند خصوصاً بحیرہ عرب کی اقتصادی اور جغرافیائی اہمیت کا مکمل ادراک رکھتی ہے۔ خطے کے اور عالمی بحری امن و استحکام کو یقینی بنانے کے سلسلے میں پاک بحریہ نہ صرف علاقائی بحری افواج کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کئے ہوئے ہے بلکہ بحری سکیورٹی کے قیام کے لئے کی جانے والی عالمی کوششوں میں بھی بھر پور کردار کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں دو طرفہ، سہ فریقی اور کثیر الملکی بحری مشقوں کا انعقاد پاک بحریہ کا خاصا ہے۔موجودہ مختلف النوع بحری چیلنجز سے نمٹنے کے لئے یکجاحکمت عملی کی تشکیل،متفقہ سوچ کی نمواورمشترکہ آپریشنز کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے سلسلے میں پاک بحریہ کی جانب سے ہر دو سال بعد منعقد کی جانے والی بحری مشق ”امن“نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

    پاک بحریہ نے سال 2007میں ایک لائق تحسین قدم اٹھایا جسے بحری مشق ”امن“ کا نام دیا گیا۔ امن مشقوں کے سلسلے کی پہلی مشق مارچ 2007میں منعقد کی گئی جس میں دنیا بھر سے 28 ممالک کی بحری افواج نے بحری جہازوں، ایئر کرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز، دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیموں اور مبصرین کے ساتھ حصہ لیا۔پہلی امن مشق میں عالمی افواج کی حوصلہ افزاء شرکت کے نتیجے میں پاک بحریہ نے مشق کے اس سلسلےکو ہر دو سال بعد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اوراسطرح بحیرعرب سال2013,2011,2009، 2017اور2019 میں بالترتیب دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں اورچھٹی امن مشق کا انعقاد کیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر مشق میں شریک بحری افواج کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا گیا اور پاک بحریہ کے اس اقدام کو عالمی سطح پر خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔

    پاک بحریہ کی چھٹی امن مشق 8تا 12فروری2019 بحیرہ عرب میں منعقدہوئی جس میں 6 4 ممالک نے اپنے جہازوں، ایئر کرافٹ، ہیلی کاپٹرز، اسپیشل آپریشنز فورسز میرینز،دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیموں اور مبصرین سمیت شرکت کی۔اس سلسلے کی ساتویں کڑی امن 2021 فروری 21 میں منعقد کی جا رہی ہے جس میں چا لیس سے زا ئد ممالک کی شرکت متوقع ہے۔

    بحری مشق ”امن2021“ دو مرحلوں ہاربراور سی فیز پر مشتمل ہو گی۔ ہار برفیز کے دوران مشق میں شریک بحری افواج کو ایک دوسرے کے ساتھ میل جول بڑھانے کے بھر پور مواقع فراہم کئے جائیں گے تا کہ یہ افواج سی فیز کے دوران اپنی صلاحیتوں اور مشترکہ آپریشنز کا بھر پور مظاہرہ کر سکیں۔ ہاربرفیز کے دوران منعقدہ سر گرمیوں میں مختلف ممالک کے بحری جہازوں کے دورے اورمیرینز ٹیموں کی جانب سے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مظاہرے شامل ہوں گے۔

    انٹر نیشنل میری ٹائم کانفر نس کا انعقاد بھی مشق کی اہم سرگرمیوں میں شامل ہے۔ مشق کا اہم ترین مرحلہ مشق کا سی فیزہے جس میں عالمی بحری افواج کے جہاز بحیرہ عرب میں آہنی دیوار بنا کر انسانیت کے دشمن کو یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ انسانیت کے مشترکہ ورثے ”سمندر“ میں قیام امن کے لئے ہم بلا تفریق رنگ نسل متحد اور یکجا ہیں۔

    چالیس سے زائد ممالک کی بحری افواج کے آفیسرز و جوانوں، جہازوں، ایئر کرافٹ، ہیلی کاپٹرز، اسپیشل آپریشنز فورسز، دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیموں اور عالمی مبصرین کی میزبانی اور اس قدر بڑی بحری مشق کا انعقاد اورایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔دنیا بھر کی مختلف ثقافتوں اور روایات کے حامل افراد کی روایتی میزبانی پاکستان کے حقیقی تشخص کو اُجاگرکرنے اور اس مشق کے دوران قائم ہونے والی اعتماد سازی یقینا عالمی بحری امن خصوصاً بحرِہند میں امن و سلامتی کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب کرے گی۔

    بحری مشق امن کے مسلسل انعقاد سے جہاں بحری امن و استحکام کے حصول کے لئے متفقہ سوچ اور عالمی کاوشوں کو یکجا کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا ہوگا وہاں پاکستان کے حقیقی تشخص کو اُجاگر کرنے میں یہ مشقیں مدد گار ثابت ہوں گی۔ ان مشقوں میں عالمی افواج کی بھر پور شرکت اس امر کی بھی دلیل ہے کہ دنیا کی جدید، باصلاحیت اور طاقتور ممالک خطے میں قیام امن کے سلسلے میں کی جانے والی پاک بحریہ کی کاوشوں کوثمر آور مانتے ہیں اور بحری امن و استحکام کے لئے پاک بحریہ کی ان کاوشوں کا بھر پور ساتھ دینے کو تیار ہیں۔