Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی ٹی اے نے پی ٹی سی ایل کو مزید 25 سال کام کرنے کا لائسنس جاری کر ديا گیا

    پی ٹی اے نے پی ٹی سی ایل کو مزید 25 سال کام کرنے کا لائسنس جاری کر ديا گیا

    اسلام آباد:پاکستان میں آئی ٹی اور ٹیلی کام سروسز کا آغاز کرنے سرکاری کمپنی پی ٹی سی ایل کا لائسنس مزید 25 سال کے لیے جاری کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پی ٹی سی ایل کے لائسنس کی تجدید کر دی لائسنس کی تجدید کے تحت پی ٹی سی ایل کو پاکستان میں مزید 25 سال کام کرنے کا لائسنس جاری کر ديا گیا۔

    پی ٹی سی ایل کا 25 سالہ لائسنس31 دسمبر 2020 کو ختم ہوگیا تھا۔ لائسنس کی تجدید کے بارے میں اسٹاک ایکسچینج اور شیئر ہولڈرز کو آگاہ کر دیا ہے نئے لائسنس کا اطلاق یکم جنوری 2021 سے ہوگیا ہے۔

    پی ٹی سی ایل کے ترجمان نے بتایا کہ پی ٹی اے کو 2018 میں لائسنس میں توسیع کی درخواست بھیجی گئی تھی لیکن اتھارٹی نے جواب دیا تھا کہ جب لائسنس کی میعاد ختم ہو جائے گی تب اس وقت حکومت کی پالیسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

    تاہم اب آئی ٹی اور ٹیلی کام سروسز کا آغاز کرنے کے لئے سرکاری کمپنی پی ٹی سی ایل کا لائسنس مزید 25 سال کے لیے جاری کردیا گیا ہے-ٹیلی کام اور آئی ٹ یسروسز کا فروغ کے لیے پاکستان میں سروس فراہم کر سکے گی

    نئے لائسنس کا اطلاق یکم جنوری 2021 سے ہوگیا ہے-

    اس سے نوٹس میں کہا گیا کہ پی ٹی سی ایل ، ملک کے باہمی رابطوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، پاکستان کے عوام کو بلا تعطل اور بہتر معیار کی خدمات فراہم کرنے میں اہم پیش رفت ہے۔

    کہا گیا کہ پی ٹی سی ایل کے ذریعہ فراہم کردہ ہموار اور قابل اعتماد رابطہ ملک میں معاشی اور معاشرتی بہتری لانے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ ایک ڈیجیٹل پاکستان کے لئے وزیر اعظم کے ساتھ مل کر پورے پاکستان میں فائبر نیٹ ورک کو فروغ دینے کے لئے ایک اسٹریٹجک اپ گریڈ کر رہا ہے . یہ نہ صرف کاروباری برادری کی حمایت کرے گا بلکہ لامحدود تیز رفتار انٹرنیٹ کے ذریعے صارفین کے لئے آسانی کو بھی یقینی بنائے گا۔

  • احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی  سینیٹر شبلی فراز

    احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی سینیٹر شبلی فراز

    اسلام آباد: احمد فراز قومی ادبی سیمینار میں سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ احمد فراز کو اپنی مٹی سے والہانہ محبت تھی چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ احمد فراز نے اپنی شاعری سے دلوں کو جوڑنے کا کام لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی،ا ن خیالات کااظہارسینیٹر شبلی فراز،وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام احمد فراز ٹرسٹ کے اشتراک سے اردو کے عہد سازشاعر احمد فراز کی 90ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ”احمد فراز قومی ادبی سیمینار“ میں کیا۔

    شبلی فراز اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ مجلس صدارت میں پروفیسر فتح محمد ملک اور محمد اظہار الحق شامل تھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے ابتدائیہ پیش کیا۔ محمد حمید شاہد، خواجہ نجم الحسن، اختر عثمان، عائشہ مسعود، ڈاکٹر عابد سیال، ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹر حمیر ا اشفاق نے اظہار خیال کیا۔

    حسن عباس رضانے منظوم خراج پیش کیا۔ عدنان رضا ، بانو رحمت اور زاہد علی خان کلامِ فراز ساز و آواز کے ساتھ پیش کیا۔ نظامت محبوب ظفر نے کی۔

    سینیٹر شبلی فراز،وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات ، نے کہاکہ احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی۔

    انھوں نے کہاکہ احمد فرازایک بااُصول انسان تھے، وہ کبھی اپنے نظریات اور آدرش سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ انھوں نے مظلوم کشمیریوں، فلسطینیوں اور افریقہ کے محکوم اقوام کے لیے شاعری کی صورت میں جدوجہدکی ۔ وہ محبت اور انسانیت کے شاعر تھے ۔ وہ پاکستان کی طرف سے محبت اور دوستی کے سفیر تھے۔

    شبلی فراز نے کہا کہ احمد فرازنے کمزور اور پسے ہوئے طبقات کے لیے نہ صرف شاعری کے ذریعے جدوجہد کی بلکہ عملی طور پر بھی شریک رہے۔دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی اردو سمجھی اور بولی جاتی ہے ،احمد فرازکانام عزت اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

    ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ،اکادمی ادبیات پاکستان نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند تحریک کے نامور شعراءمیں شامل احمد فراز کی نظم اس فکر واحساس سے ترتیب پاتی ہے، جو ہمارے ماضی اور حال سے جُڑا ہوا ہے۔احمد فراز کی غزلیہ شاعری کا کمال یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی شاعری سے دلوں کو جوڑنے کاکام لیا۔

    احمدفراز زمانے کی پیدا کردہ ناہمواریوں کے خلاف اورقیام امن کے لیے مستقل لکھتے رہے۔احمد فراز اپنی غزلوں میں خیالات اور الفاظ کو ایک دوسرے کی طاقت بنا کر سامعین و قارئین کے دلوں کے اندر اُترنے کا فن جانتے تھے۔ یہ اُن کی شاعری کا کرشمہ ہے کہ وہ آج بھی عوام اور خواص دونوں سطح کے لوگوں میں یکساں مقبول ہیں۔ بلاشبہ اُن کی شاعری رومان اور مزاحمت کا حسین امتزاج ہے ۔

    پروفیسر فتح محمد ملک نے صدارتی خطاب میں کہا کہ احمد فرازکو اپنی مٹی سے والہانہ محبت تھی، اُنہوں نے بہت سے ملی ترانے لکھے، جو مٹی کی خوشبوں اور وطن کی محبت سے مملو ہیں۔ وہ جس شدت سے محبت کرتے، اُسی شدت سے لکھتے تھے۔ وہ سچے اور کھرے انسان تھے وہ ادب اور شاعری کو سچائی کا محور سمجھتے تھے۔

    لہٰذا اُنہوں نے ہمیشہ محبت اور انسانیت کی بات کی، اور ظلم وجبر کے خلاف زبردست مزاحمت کی، رومان اور مزاحمت دونوں صورتوں کی شاعری میںاحمد فراز نے کمال مہارت سے ندرت اور انفرادیت قائم کی ۔ جواُنہی کا خاصا ہے ، احمد فراز اپنی مثالی شاعری کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے ہیں۔

    محمد اظہار الحق نےا اپنے خطاب میں خصوصیت کے ساتھ فراز صاحب کے ابتدائی مجموعوں اور درد آشوب کا ذکر کیا، جب ملکی سیاست میں انخطاط کا زمانہ تھا، اور علمِ احتجاج بلند کرنے والا کوئی نہ تھا، فرازصاحب نے اُس زمانے میں اُردو کو ایسے کمال اشعار عطا کیے جو انہی کا حصہ ہیں۔

    محمد حمید شاہدنے کہا کہ احمد فراز نے اپنا مقام کسی بھی سیاسی یا عہدے کے سہارے کے بغیر اپنا مقام پیدا کیا –

    خواجہ نجم الحسن نے کہا کہ میڈم نور جہاں ، سلمی آغا اور دیگر فنکار احمد فراز سے دلی محبت و ان کا احترام کرتے تھے-

    اختر عثمان نے احمد فراز کو ہر دور کے شاعر قرار دیا –

    عائشہ مسعود نے کہا احمد فراز سچے شاعروں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان سے شفقت کا رویہ رکھتے تھے-

    ڈاکٹر عابد سیال نے کہا کہ احمد فراز مشہور ہونے کے ساتھ مقبول شاعر بھی تھے-

    ڈاکٹر روش ندیم نے کہا احمد فراز اپنے ہمعصر کے ساتھ نوجوان شعرا کے لیے راہ نما شاعر ہیں اور رہیں گے اور ڈاکٹر حمیر ا اشفاق نے احمد فراز کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فراز کی شاعری اپنی خوبصورتی اور سچائی سے لوگوں کے دلوں کو گرماتی رہی گیاحمد فراز اپنی لاجواب شاعری کیوجہ سے رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

    پروگرام کے آخر میں فراز کی شاعری کو گلوکاروں نے گا کر نشست کو گل رنگ کر دیا ۔

  • پاکستان، انگلینڈ کرکٹ سیریز ، کرونا کے باوجود شائقین کی گہری دلچسپی

    پاکستان، انگلینڈ کرکٹ سیریز ، کرونا کے باوجود شائقین کی گہری دلچسپی

    پاکستان اور انگلینڈ کے مابین ہونے والے سیریز میں شائقین کی بڑی تعداد آن لائن ٹکٹوں کی خریداری میں گہری دلچسپی، برمنگھم ایجبسٹن میں 13 جولائی کو ہونے والے ایک روزہ میچ کی تمام ٹکٹیں فروخت ہو گئیں

    پاکستان اور انگلینڈ کے مابین 18 جولائی کو ہینڈلے میں ہونے والے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی ہاؤس فل ہو گیا ، میچز کی منسوخی یا ردوبدل کی صورت میں شائقین کو ٹکٹوں کی رقم ریفنڈ کی جائے گی ۔ انگلش بورڈ کی یقین دہانی

    کرونا وائرس کے خوف کے باوجود شائقین کرکٹ ٹکٹیں خریدنے میں مصروف ہیں ، پاکستان اور میزبان انگلینڈ کے مابین تین ایک روزہ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز جولائی میں کھیلی جائے گی

    دونوں ٹیموں کے مابین پہلا ون ڈے انٹرنیشنل 8 جولائی کو کارڈف میں کھیلا جائے گا ، پاکستان اور میزبان ٹیم دوسرے ون ڈے میں 10 جولائی کو لارڈز میں مد مقابل ہوں گی

    سیریز کا آخری میچ 13 جولائی کو برمنگھم کے گراؤنڈ ایجبسٹن میں ہوگا ، پاکستان اور انگلینڈ کے مابین ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز 16 جولائ کو ٹرینٹ بریج سے ہو گا

    دونوں ٹیموں کے مابین دوسرا میچ 18 جولائی کو ہینڈلے میں کھیلا جائے گا، تیسرے اور آخری میچ میں پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں 20 جولائی کو مانچسٹر کے گراؤنڈ اولڈ ٹریفورڈ میں آمنے سامنے ہوں گی۔

  • سپر ہاکی لیگ ،لاہور ڈولفنز اور لاہور لائینز کی ٹیموں نے اپنے اپنے میچز جیت لیے

    سپر ہاکی لیگ ،لاہور ڈولفنز اور لاہور لائینز کی ٹیموں نے اپنے اپنے میچز جیت لیے

    لاہور، رانا ظہیر ہاکی اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے دوسری نائن اے سائیڈ سپر ہاکی لیگ میں مزید دو میچوں کا فیصلہ ہو گیا۔ لاہور ڈولفنز اور لاہور لائینز کی ٹیموں نے اپنے اپنے میچز جیت لیے۔ نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں منعقدہ لیگ کے دوسرے روز پہلا میچ لاہور لائینز اور لاہور پینتھرز کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا۔ جس میں لاہور لائینز نے ایک کے مقابلے چار گول سے کامیابی اپنے نام کی۔

    فاتح ٹیم کی جانب سے کپتان رانا سہیل ریاض نے تین اور علی مرتضٰی نے ایک گول سکور کیا۔ لاہور پینتھرز کی جانب سے واحد گول کپتان احمد ندیم نے کیا۔ دوسرے میچ میں لاہور ڈولفنز اور لاہور ٹائیگرز کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ مقررہ وقت تک میچ ایک ایک گول سے برابر ہونے کی وجہ سے فیصلہ پنلٹی شوٹ آوٹ پر ہوا جس میں لاہور ڈولفنز نے تین کے مقابلے چار گول سے کامیابی اپنے نام کی۔ لیگ کے دوسرے روز ہونے والی میچز میں ڈی جی سپورٹس واپڈا ثقلین ظہور راجہ، سجاد رسول ڈائریکٹر جونیئر سکول ایچ سن کالج اور ڈائریکٹر ایڈمن میجر (ر) جاوید منج تھے۔

  • پی سی بی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس ، اہم فیصلے کر لئے گئے

    پی سی بی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس ، اہم فیصلے کر لئے گئے

    پی سی بی کرکٹ کمیٹی کے اجلاس کی کاروائی

    کرکٹ کمیٹی جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کے بعد ایک بار پھر قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لے گی،جہاں دوسری پوزیشن پر آنے کا کوئی پوائنٹ نہیں ، سلیم یوسف، سربراہ کرکٹ کمیٹی، عالمی وباء کے باعث صرف پاکستان کرکٹ ٹیم کو ہی نہیں بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے والے دیگر ممالک کی ٹیموں کو بھی کوویڈ 19 کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، کمیٹی کا ماننا ہے کہ ٹیم کے انتخاب اور فائنل الیون کے لیے کھلاڑیوں کے چناؤ میں بہتری ہونی چاہیےتھی، مشکل صورتحال سے نمٹنے کےلیے کھلاڑیوں کی تیاری میں سائنس اور ڈیٹا بیس سے مددلینے پر زور دیا گیا ، ڈومیسٹک کرکٹ اور ویمنز کرکٹ کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا

    سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر سلیم یوسف کی سربراہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس پی سی بی ہیڈ کوارٹرز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوا۔ سابق فاسٹ باؤلرز وسیم اکرم اور عمر گل نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی جبکہ عروج ممتاز نے قذافی اسٹیڈیم پہنچ کر اجلاس میں شرکت کی۔ چیف ایگزیکٹو وسیم خان اور ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان نے بطور غیرفعال رکن اجلاس میں شریک تھے۔

    اجلاس کی کاروائی کے حوالے سے تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

    اجلاس میں کرکٹ کمیٹی کے معزز ارکان نے قومی کرکٹ ٹیم کی گزشتہ 16 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔اس دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے 10 ٹیسٹ میچز کھیلے، جہاں 2 میں اسے کامیابی اور 5 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک روزہ انٹرنیشنل فارمیٹ میں پاکستان نے 5 میچز کھیلے، جن میں سے چار میں اسے کامیابی ملی۔ اس دوران پاکستان نے 17 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے، جس میں سے 7 میں اسے کامیابی اور 8 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اورباؤلنگ کوچ وقار یونس نےخصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی ۔دونوں کوچز نے اجلاس میں ٹیم کی کارکردگی سے متعلق اپنا فیڈ بیک دیا۔دونوں کی آمد سے قبل چیف سلیکٹر محمد وسیم نے بھی کرکٹ کمیٹی کو اپنی سلیکشن پالیسی سے متعلق بریفنگ دی۔

    کرکٹ کمیٹی نے جہاں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تو وہیں انہوں نے اس حقیقت کوبھی تسلیم کیا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم نے کوویڈ 19 کی وباء کے باعث مشکلات اور کچھ تجربہ کار کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کا سامنا کیا جو کہ مجموعی طور پر ٹیم کی کارکردگی پر اثرانداز ہوئے۔

    پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی نے متفقہ طور پر واضح کیا ہے کہ ٹیم منیجمنٹ کو قومی کرکٹ ٹیم سے متعلق اپنی حکمت عملی اور اہداف سے متعلق مکمل وضاحت دینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ اجلاس میں ان کا جائز ہ لیا جاسکے۔

    کرکٹ کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ پی سی بی کو ٹیم منیجمنٹ کو اسپورٹ کرنے کی حمایت کی ہے جبکہ انہوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کے بعد منیجمنٹ کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کے سربراہ سلیم یوسف کا کہنا ہے کہ کرکٹ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی گزشتہ 16 ماہ کی کارکردگی کا مکمل جائزہ لیا، اس دوران کمیٹی نے حقائق اور حالات کو پیش نظر رکھا۔ سلیم یوسف نے کہا کہ اس حقیقت سے کوئی انکاری نہیں کہ ہم سب اپنی ٹیم کو عالمی رینکنگ کی دو سے تین بہترین ٹیموں میں دیکھنا چاہتے ہیں اور ہماری ٹیم کی حالیہ کارکردگی نہ تو ہماری توقعات کے مطابق ہے اور نہ ہی ہمارے پاس موجود ٹیلنٹ کے ساتھ انصاف کرتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بہرحال ہمیں کئی پہلوؤں کو بھی زیرغور رکھنا ہوتا ہے اور کمیٹی کا ماننا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کی اس کارکردگی میں کوویڈ 19 کی عالمی وباء کا ایک اہم کردار ہے۔، پاکستان کرکٹ ٹیم نے ان غیرمعمولی حالات میں بائیو سیکیور ببل میں رہتے ہوئے کرکٹ کھیلی اور دیگر ممالک کے کوچز اور کھلاڑی بھی اس ببل کے ٹیموں کی کارکردگی پر اثرانداز ہونے کے خدشات کاا ظہار کرچکے ہیں۔

    سربراہ کرکٹ کمیٹی نے کہا کہ تمام کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو بہترین کارکردگی مظاہرہ کرنے کے لیے ایک ایسا ماحول درکار ہوتا ہے کہ جہاں وہ انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے اپنی تیاری کرسکیں مگر آخری دو ٹورز پر ایسا ممکن نہیں ہوسکا اور خصوصی طور پر آخری ٹورپر کہ جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے ہمارے کھلاڑیوں کو 2 ہفتوں تک اپنے کمروں تک محدود رہنا پڑا۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں بابراعظم اور امام الحق کے علاوہ شاداب خان ٹیسٹ میچز کے لیے دستیاب نہیں تھے، فخرزمان کاٹیم کے ہمراہ سفر نہ کرنے کا فیصلہ بھی روانگی سے کچھ دیر قبل ہوا، ان کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کی وجہ پاکستان کی ایک ایسی ٹیم کے خلاف کہ جو گزشتہ اڑھائی سال سے اپنی سرزمین پر ناقابل شکست ہے مجموعی کارکردگی پراثرات مرتب ہوئے۔

    سلیم یوسف نے کہا کہ کمیٹی کا ماننا ہے کہ ٹیم کے انتخاب اور فائنل الیون کے لیے کھلاڑیوں کے چناؤ میں بہتری ہونی چاہیےتھی، مشکل صورتحال سے نمٹنے کےلیے کھلاڑیوں کی تیاری میں سائنس اور ڈیٹا بیس سے مددلینے پر زور دیا گیا ہے۔

    سربراہ کرکٹ کمیٹی نے کہاکہ جنوبی افریقہ کے خلاف اہم ہوم سیریز اب صرف دو ہفتے دور ہے ، سیریز کے اختتام پر پی سی بی کرکٹ کمیٹی ایک بار پھر قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لے گی تاہم ٹیم منیجمنٹ کو واضح کردیا گیا ہے کہ اب دوسری پوزیشن پر آنے کا کوئی پوائنٹ نہیں ۔

    ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی ذاکر خان نےقومی کرکٹ ٹیم کی رواں سال کی تمام مصروفیات سے متعلق کرکٹ کمیٹی کو بریفنگ دی۔ ذاکر خان نے کرکٹ کمیٹی کو واضح کیا ہے کہ کوویڈ 19 کی وباء کے باوجود سیریز کے کامیاب انعقاد کے لیے بائیو سیکیور ماحول کے لیے تمام اقدامات کو حتمی شکل دی جاچکی ہے۔ کمیٹی کو واضح کردیا گیا ہےکہ حکومتی پابندیوں کی وجہ سے فینز کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کے علاوہ سال 2021 میں پاکستان کو جنوبی افریقہ، زمبابوے، انگلینڈ، ویسٹ انڈیزاور افغانستان کے خلاف اوے سیریز کھیلنی ہے جبکہ پاکستان کو نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز بھی اسی سال کھیلنی ہے۔ رواں سال پاکستان کو ایشیاکپ ٹی ٹونٹی اور آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں بھی شرکت کرنی ہے۔

    پی سی بی کرکٹ کمیٹی نے جنوبی افریقہ اور انگلینڈکی خواتین کرکٹ ٹیموں کے ساتھ سیریز منعقد کرنے پر ویمن ونگ کی کاوش کو سراہا ہے۔ کرکٹ کمیٹی نے نیشنل ٹرائنگولر ٹی ٹونٹی ویمنز کرکٹ چیمپئن شپ کی ٹرافی جیتنے پر بسمہ معروف کی ٹیم کو مبارکباد بھی پیش کی۔

    کرکٹ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے نتائج جو بھی ہوں پی سی بی کو ویمنز کرکٹ سے اپنی توجہ نہیں ہٹانی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ خواتین کرکٹرز کو تمام میسر وسائل میں بہترین سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم ویمنز ورلڈکپ کوالیفائر کی بھرپور تیاری کرسکے۔
    پی سی بی ڈومیسٹک 21-2020:

    جنرل منیجرپی سی بی ڈومیسٹک کرکٹ جنید ضیاء نے اجلاس میں کرکٹ کمیٹی کو نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر اور پی سی بی کے ڈومیسٹک سیزن 21-2020پر ایک مکمل پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے پینل کو آگاہ کیا کہ 30 ستمبر 2020 سے لے کر 5 جنوری 2021 کے تک مجموعی طور پر آٹھ ایونٹس کے دوران کُل 185 میچوں میں 255 کھلاڑیوں نے شرکت کی جبکہ اس وقت پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ کراچی میں جاری ہے۔

    پی سی بی کرکٹ کمیٹی نے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے 50 انٹرنیشنل کرکٹر کی نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹرمیں مختلف کوچنگ رولز پر تقرریوں پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نےاس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ یہ کوچ نہ صرف باصلاحیت کرکٹرز کی شناخت کرنے میں مدد کریں گے بلکہ یہ کوچز موجودہ کھلاڑیوں کے ساتھ ان کی تکنیک میں بہتری لانے میں بھی کام کریں گے۔

    پی سی بی کرکٹ کمیٹی نے اعتراف کیا کہ نیشنل ہائی پرفارمنس کی کاوش اور محنت کی وجہ سے پاکستان کوویڈ 19 کی صورتحال کے باوجود بہترین انتظامات کرکے اپنی ڈومیسٹک کرکٹ کروانے میں بھی کامیاب رہا۔پی سی بی فی الحال جاری سیزن کے دوران اب تک کھلاڑیوں، میچ آفیشلز سمیت تمام شرکاء کے کُل 3750 کوویڈ 19 ٹیسٹ کرچکا ہے۔

    کرکٹ کمیٹی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیل کے معیار پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر کو ڈومیسٹک سیزن کے دوران امپائرنگ، پچزاور کھیل سے متعلق دیگر سہولیات میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔کمیٹی نےیہ بھی کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں فرسٹ اور سیکنڈ الیون سمیت ہر سطح پر ایک ہی قسم کے گیند کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے درمیان فرق کو کم سے کم کیا جاسکے۔

  • رشتوں کی آس، زندگی میں مٹھاس – جویریہ بتول

    رشتوں کی آس، زندگی میں مٹھاس – جویریہ بتول

    انسان کی اس دنیا میں آمد ہی رشتوں کے توسط سے ہوتی ہے…انسان پیدا ہوتے ہی مختلف رشتوں کے حسین بندھن میں بندھا ہوتا ہے…ماں باپ،بہن بھائی،ددھیال،ننھیال پھر زندگی کے مدارج طے کرتے ہوئے سسرال،میکہ غرض یہ سارے رشتے زندگی کا حُسن ہیں…
    ہمارے دین اسلام نے ان کی قدر،ہر حال میں جوڑنے اور حقوق کی ادائیگی کی بڑی تاکید کی ہے…
    اللّٰہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں:
    "اللّٰہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو…!!!”(النسآء:1).
    ارحامٌ رَحِمٌ کی جمع ہے مراد رشتے داریاں ہیں…
    رشتہ داروں سے حُسنِ سلوک یعنی اچھے اخلاق،مالی اعانت،ضروریات کا خیال،ہمدردی و خیر خواہی کو صلہ رحمی کہا گیا ہے…
    اور پھر صلہ رحمی کی بھی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صلہ رحمی بدلے کا نام نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی وہ ہے کہ جب تمہیں کاٹا جائے اور تم اُسے جوڑو…
    سوشل دور میں جیتے ہوئے ہم جہاں دیگر برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں وہی ایک بڑی خرابی رشتہ داری کی اہمیت کی کمی بھی دکھائی دیتی ہے…
    آج ہم روابط،تعلقات اور معاملات میں مشاورت کے لیئے غیر رشتہ داروں کو اہمیت دیتے نظر آتے ہیں اور رشتہ داروں سے دوریاں اور حقوق سے غفلت ہمارا معاشرتی رویہ بنتا جا رہا ہے…
    ہم دور کے امیر دوستوں سے تعلقات کے قلابے ملانا فخر سمجھتے ہیں جبکہ قریب کے غریب رشتہ داروں کو پوچھتے تک نہیں…
    یہی ذہنی پستی کی عکاسی ہے…
    اللّٰہ تعالٰی قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
    "رشتے ناتے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں اللّٰہ کے حکم میں…”(الانفال 75).
    رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
    "قیامت سے پہلے رشتہ داری ٹوٹ سی جائے،جھوٹی گواہی عام اور سچی گواہی نایاب سی ہو جائے گی…”
    (مسند احمد).
    ہمارے رشتے دار ہر لحاظ ہماری توجہ اور ذمہ داری کے پہلے حقدار ہیں…یہاں عقائد و نظریات کا اختلاف بھی معنی نہیں رکھتا…اور اُن کی دنیاوی معاملات میں مدد اور خیال و عزت والا معاملہ ضرور کرنا چاہیئے…
    حضرت اسماء رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں آئی ہے میں اس کے ساتھ کچھ سلوک کر سکتی ہوں؟
    آپﷺ نے فرمایا:
    صلی امک…!!! ہاں تو اپنی ماں سے صلہ رحمی کر…(صحیح بخاری)…
    جہاں ہمیں اسراف سے بچنے کا حکم ملا وہیں پہلے فرمایا:
    ‘اور رشتہ داروں کا،مسکینوں کا اور مسافروں کا حق اَدا کرتے رہوہ…(بنی اسرائیل:26).
    رشتہ داری کا حق ہم یوں بھی اَدا کر سکتے ہیں کہ اپنے سے کم تر رشتہ داروں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کر دیں…روزگار کاروبار میں مدد کر دیں اور پھر احسان نہ رکھیں…ذہنی اذیت نہ پہنچائیں…
    بڑی بڑی تقاریب منعقد کرتے وقت وہ دینی ہوں یا دنیاوی پہلے حقدار رشتہ دار ہی ہیں…
    چاہے وہ ہم سے متفق ہوں یا نہیں لیکن بالاولٰی وہ مستحق ہیں…
    رسول اللّٰہ ﷺ کو کھلے عام دعوت اور انذار و تبشیر کا حکم ملا تو اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا دیں…”(الشعرآء:216).
    یعنی رشتہ داروں کی آخرت کی فکر بھی ہماری پہلی ذمہ داری ہے تاکہ وہ اصلاح کر کے حُسنِ عمل اختیار کریں اور ہم سب جنتوں میں بھی قربتوں کے حقدار بنیں…
    آج صورت حال یہ ہے کہ شادی بیاہ کا موقع آ جائے تو انوائیٹنگ لسٹ میں خاندان کے متعدد گھرانے بلیک لسٹ ہوتے ہیں…جبکہ دور کہیں گلی میں سے گزرتے ہوئے صرف سلام ہو جانے کو بھی اہمیت دی جاتی ہے…
    ہم کوئی چیز خرید لیتے ہیں تو رشتہ داروں سے چھپاتے ہیں کہ وہ حسد کرتے ہیں…
    جبکہ سوشل میڈیا پر اس کی تشہیری مہم چلاتے ہیں…؟
    کئی ایسے واقعات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں کہ لوگ اپنے رشتہ داروں کو برابری پر آتے دیکھنا پسند نہیں کرتے،انہیں سادہ مزاج اور کم تر سمجھتے ہیں…انہیں کچھ راز و امور نہیں بتاتے اور دور کہیں بہت متاثر کن شخصیت بنے ہوتے ہیں…
    اپنوں کو دھوکہ دیتے ہیں…مالی حق تلفیاں کرتے ہیں اور باہر کی دنیا میں امین بنے ہوتے ہیں…
    تو اصل میں یہی چیزیں معاشرتی بگاڑ کی وجہ بنتی رہتی ہیں…
    اور ہم ایک دوسرے کی قدر و اہمیت اور حقوق و فرائض سمجھنے سے محروم رہ جاتے ہیں…!!!
    خاندان میں کوئی اچھا کمانے یا پہننے لگ جائے تو غلط توجیہات جبکہ باقی لوگوں کے لیئے نرم گوشہ…
    کوئی خوشی غمی کا مرحلہ آ گیا تو رشتہ داروں سے چھپاتے ہیں اور سکرین پر سات سمندر پار بھی ہمدرد نظر آ جاتے ہیں…
    یہاں مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم دوستوں اور دوستی کو خیر باد کہہ دیں،ہر گز نہیں…!!!
    لیکن ہر حق کی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے…
    تبدیلی تبھی نہیں آتی جب ہم ایک دوسرے کو قربت،اپنائیت اور احساس دلائیں گے تو کوئی حسد بھی نہیں کرے گا…
    وہ کامیابی پر خوش اور دکھ پر غم ناک ہو گا…آپ کے قریب رہنا اور بیٹھنا پسند کرے گا…
    مسائل تب جنم لیتے ہیں جب ہم خود ساختہ وجوہات کے کانٹے دار درخت کو ہوا اور پانی کی فراہمی شروع کر دیتے ہیں تو پھر غلط فہمیوں کے سلسلے تھمتے نہیں…
    بغض و حسد کے طوفان اُمڈتے چلے آتے ہیں اور پھر کسی کا دُکھ ہماری خوشی بننے لگتا ہے یہی انسانیت کی پستی کا عالم ہے…!!!
    لیکن یہ ساری بات سمجھ وہی سکتا ہے جسے اللّٰہ تعالٰی کے احکامات کی سمجھ آئے گی…
    پھر وہ اپنے پاس سے شمع جلانا شروع کرے گا…
    وہ موٹیویشنل بن کر دھواں دار انداز میں سات سمندر پار روشنیاں پھیلانے میں جذباتی نہیں ہو گا…
    بلکہ پہلے گھر،خاندان،ملک،اور پھر دنیا تک اپنا پیغام اور عمل پہنچائے گا…!!!
    اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم مخلص ہو کر زندگی میں توازن کی اہمیت کو سمجھ لیں گے…انسانیت کے تقاضوں سے آگہی حاصل کریں گے…
    اپنے گھر،آس پاس تقریب و مجلس میں ہر ایک کا حق اور دلجوئی کا راز سمجھ پائیں گے…
    تب ہم ایک کامیاب اور اثر انگیز شخصیت کے طور پر نکھر سکتے ہیں…ورنہ خرابیاں یونہی پیدا نہیں ہوتیں…شکوے عبث نہیں جنم لیتے…اور دوریاں بے وجہ نہیں ہوا کرتیں…
    بلکہ وہ اکثر اوقات چند الفاظ،ایک احساس،اپنے ازلی حق اور بے لوث محبّت کے متقاضی ہوتے ہیں…!!!
    لا ریب رشتوں میں قربت اور مٹھاس اس سفرِ زندگی میں ایک آس ہے اور اِسی لیئے ہمیں اس خوب صورت سرکل میں جوڑا گیا ہے تاکہ احساس کی زندگی باقی رہے…
    لیکن اگر یہاں ہی احساس دَم توڑ دے تو یہ زندگی پھیکی،ادھوری اور بوجھ و تنہائی کا شکار کرنے لگتی ہے اور یہ چیزیں صرف یکطرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں…!!!
    ہمیشہ اپنی قسمت پر راضی رہتے ہوئے کسی رشتے دار سے موازنہ بھی نہ کریں،تبھی حسد اور انتقام جیسی بیماری سے بچا جا سکتا ہے…خود کو ملی نعمتوں کی قدر اور شکر اَدا کریں کیوں کہ آپ اُن کے مکلف اور جوابدہ ہیں…دوسروں کی نعمتوں یا غلطیوں کی باز پرس ہم سے نہیں ہونے والی،تو ہم کیوں خود کو فضول میں جلائیں؟
    اور کیوں نہ ایک اچھے اور احساس رکھنے والے ذمہ دار رشتے کا کردار اَدا کریں…!!!
    اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنے احکامات کو سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کی توفیق دے تاکہ کل ہم اُس کے سامنے سرخرو ہو سکیں…آمین.

    جویریہ بتول اردو نظم و نثر لکھنے میں یگانہ روزگار ہیں ۔ ان کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • ماڈل ٹاؤن الیکشن : صاحبزادہ سیف الرحمن کی گزشتہ 8 سالہ رپورٹ منظر عام پر

    ماڈل ٹاؤن الیکشن : صاحبزادہ سیف الرحمن کی گزشتہ 8 سالہ رپورٹ منظر عام پر

    صاحب زادہ سیف الرحمن خان نے پہلی مرتبہ مارچ 2012 میں میں بطور صدر ماڈل ٹاؤن سوسائٹی لاہور کا چارج سنبھالا اس وقت ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے مالی حالات سازگار نہ تھے حکومت پنجاب نے پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کر رکھی تھی جو اب تک بند ہے جبکہ بورڈ آف ریونیو کی طرف سے نیلام کرتا پلاٹ نمبر 82 ایچ کی رقم تقریبا ساڑھے آٹھ کروڑ پہ سوسائٹی کو ابھی تک نہ ملی بارات گھر کو مکمل کرنے کے لئے سرمایہ کی ضرورت تھی قصر نور نے پچاس لاکھ روپے کیش اور ڈیڑھ کروڑ روپے کی بینک گارنٹی دینی تھی انتظامیہ نے قصر نور سے گفت و شنید کی اور قصر نور سے بینک گارنٹی کی بجائے یہ رقم کیش کی صورت میں وصول کی-

    میٹرو کیش اینڈ کیری سٹور سوسائٹی کو ٹیکس نہیں دے رہا تھا انتظامیہ نے فیصلہ کیا اس کی اس کی بجلی کاٹ دی جائے اگلے ہی دن میٹرو کیش اینڈ کیری نے تیس لاکھ روپے ادا کر دیے نئے چناچی میٹرو انتظامیہ کی مدد سے سرکلر روڈ پر سوسائٹی ایل ای ڈی سٹریٹ لائٹس نصب کرائی جس سے سٹریٹ لائٹس کی مد میں 90 فیصد بجلی کی بچت ہوئی اور سوسائٹی کے مالی بوجھ میں خاطرخواہ کمی واقع ہوئی-

    بارات گھر میں نصب کرنے کے لئے سوسائٹی نے ہائر کمپنی سے اے سی پلانٹس خریدے ہائیر کمپنی کو تین کروڑ روپے سوسائٹی نے ادا کرنے تھے سوسائٹی نے ہائرکمپنی والوں سے بات کی اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا کمپنی سوسائٹی سے یہ رقم آسان اقساط میں وصول کرے بارات گھر میں شادی فنکشن کا انعقاد کیا جس سے سوسائٹی کی آمدن شروع ہوئی اور ممبر کی اپنی بیٹی بیٹے پوتی پوتے کی شادی پر چارج سے مستثنیٰ قرار دیا-

    2012میں صاحب زادہ سیف الرحمن خان نے سوسائٹی کا چارج سنبھالا تو بجلی کی مد میں صارفین کی ذمہ تقریبا دس کروڑ روپے واجب الادا تھے اور اس رقم کو حکمت عملی کے تحت وصول کیا گیا واپڈا کے لائن لوسز 20 سے 30 فیصد تک جا پہنچے تھے انہیں کم کرکے 10 سے 15 فیصد تک لایا گیا-

    2102 میں لوڈشیڈنگ اپنے عروج پر تھی تھی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پانی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا تھا سوسائٹی نے دو ٹیوب ویلوں کو عارضی طور پر جنریٹر پر چلا کے دیکھا جس پر بہت زیادہ خرچہ آ رہا تھا چنانچہ سوسائٹی کے واٹر سپلائی سسٹم کے لیے پہلے سے نصب شدہ چھ ٹیوب ویل کے لیے بجلی کے ڈبل کنکشن لگا ئے 2012 میں کل 16 ٹیوب ویل چلتے تھے اب بہتر منصوبہ بندی سے10 ٹیوب ویل وہی کام سرانجام دے رہے ہیں جس سے سوسائٹی کو چھ ٹیوب ویل کے بجلی کے بل کی مد میں تقریبا 4 کروڑ روپے سالانہ کی بچت ہوئی تنخواہوں اور مشینری کی مرمت کی مد میں الگ سے بہت کی جاتی ہے –

    جے اور سی بلاک میں سیوریج کا مسئلہ :جے اور سی بلاک میں اکثر سیوریج لائن بند رہتی تھی جس کی وجہ سے بلاک میں سیوریج کا پانی سڑکوں پر گھر آتا تھا اسی سلسلے میں باقاعدہ سروے کروا کر سیوریج کے دیرینہ مسئلہ کو حل کروایا –

    بینک سکوائر مارکیٹ میں تقریبا سولہ شیشہ کیفے موجود تھے جہاں یقیناً منشیات بھی میسر تھی جس سے ہماری نوجوان نسل متاثر ہو رہی تھی مارکیٹ میں شریف فیملی کا آنا حال ہو چکا تھا نوجوان نسل کو شیشہ کیفے جیسی لعنت سے چھٹکارا دلانے کے لئے تمام تر مخالفت کے باوجود ماڈل ٹاؤن میں شریف کو بند کروایا گیا اس کے بعد لاہور اور پھر پورے پنجاب میں بھی کیسے بند ہوئے-

    ماڈل ٹاؤن میں مختلف جگہوں پر پھل کی ریڑھیاں اور کھوکھے لگے ہوئے تھے جو ماڈل ٹاؤن کے حسن کو ماند کر رہے تھے اور بیجا ٹریفک جام کا باعث بنتے تھے انہیں ٹاؤن سے ختم کیا گیا اور قانونی کمرشلائزیشن انتظامیہ نے ہی غیر قانونی کمرشلائزیشن کے خاتمے کو اپنا ولین مشن بنایا اور غیر قانونی کمرشلائزیشن سرگرمیوں میں ملوث افراد کی حوصلہ شکنی کی اور بارہ سی می سرگودھا یونیورسٹی کی برانچ کھلی تو انتظامیہ نے ان کی بجلی و پانی کو منقطع کیا یا کیا جس پر سکیورٹی اہلکاروں کو زدوکوب کیا گیا بجلی بند ہونے پر یونیورسٹی والوں نے جنریٹر پر کام جاری رکھنے کی کوشش کی غیرقانونی کمرشلائزیشن کے خلاف سوسائٹی کے سخت رویہ کے باعث سرگودھا یونیورسٹی کی برانچ کو کام بند کرنے پر مجبور کر دیا اسی طرح 2-کے میں کیڈٹ سکول کھلا تو اسے بند کروایا 116 میں اے آر وائے نیوز چینل 103 -جی میں میڈیا کا دفتر 73-جی میں نیوز 1 ٹی وی وی ،11 -ایف ٹی وی چینل اور اس کے علاوہ بے شمار غیر قانونی کمرشل دفاتر کو بند کروایا ہم نے غیر قانونی کمشن پر سخت موقف اختیار کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے غیر قانونی کمرشلائزیشن کرنے والا اور لینڈ مافیا سے ایک مستقل قانونی جنگ لڑ رہا ہے –

    سیکورٹی مانیٹرنگ کے لئے کیمرے لگائے گئے پیٹرولنگ کے لئے نئی مہران پانچ کاریں شامل کی گئی ہیں جو دن رات گشت کرتی ہیں جس سے جرائم کے روک تھام میں کافی بہتری آئی ہے چالیس عدد ہونڈا 125 موٹر سائیکل اور13 عدد سی ڈی سیونٹی سکواڈ میں شامل کی گئی اور ان کے اندر ہر بلاک میں انٹری پوائنٹس اور حساس لائنوں میں گارڈز کے لیے نئی چیک پوسٹس لگائی گئی تا کہ موسم کی خرابی کے دوران گارڈ اس لین میں موجود رہیں اور ڈیوٹی میں خلل پیدا نہ ہو-

    ٹاؤن سے کچرا اٹھانے والی پٹھان ، پکھی واس ، ریڑھی بان ،خانہ بدوش ، اور فقیروں و گدا گروں کا داخلہ بند کر دیا گیا سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے وائرلیس سسٹم کے لیے پرائیویٹ کمپنی کو سالانہ دس لاکھ روپے ادا کرنے پڑتےہیں سوسائٹی انتظامی- کی کوششوں سے اب پی ٹی اے کو صرف چالیس ہزار روپے سالانہ دا کیے جاتے ہیں-

    2008 میں ممبران کو کو پندرہ ہزار روپے نقد ادائیگی بذریعہ چیک کر لیا گیا تھا جن میں ممبران کو کسی وجہ سے نہ مل سکا تھا انھیں ریلیف دیا گیا بجلی کی فی یونٹ قیمت واپڈا اور لیسکو کی طرف سے وصول کی جانے والی بجلی کی فی یونٹ قیمت سے کم رکھی گئی-

    ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپورٹس فیسٹیول منعقد کروائے جس میں معزز ممبران اور ان کی فیملی کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لئے بہترین ماحول فراہم کیا ان فیسٹیول کو نہ صرف اپنوں نے بلکہ مخالفین نے بھی بے حد سراہا-

    جائیداد کی خریدوفروخت ٹرانسفر کے سلسلے میں بائیومیٹرک نظام متعارف کروایا –

    سینٹرل پارک میں ممبران کی فیملی کا داخلہ فری کیا گیا اور اب ماڈل ٹاون کے رہائشیوں کو بھی پارک میں مختلف داخلہ کی سہولت دے دی گئی ہے ہے علاوہ ازیں ٹریک پر سلرسسٹم نصب کیا اب خواتین بلا خوف و خطر شام رات کے وقت ٹریک پر واک کر سکتی ہیں نئے باتھ روم کی تعمیر کی گئی ا سینٹرل پارک میں جھیل کی توسیع کی گئی اور اس پر پل کی تعمیر کی گئی چلنے والے راستے پر ٹف ٹائلز لگوائی گئیں-

    لیڈیز ایکسرسائز ایریا کی تعمیر اور خواتین کے لیے یوگا انسٹرکٹر کی تعیناتی کی گئی جذبہ حب الوطنی کے پیش نظر سینٹر پارک کے پیش نظر سینٹرل پارک میں م مین انٹرس پر ایک سو دس فٹ اونچائی پر نیشنل فلیگ نصب کیا گیا ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے سوسائٹی کے رہائشیوں کی سہولت کے لیے ماڈل ٹاؤن لنک روڈ پر ش بس سروس کا آغاز کیا گیا مڈل ٹاؤن کی ہوا کو بہتر رکھنے کے لئے لیے چنگ چی رکشوں کا داخلہ بند کیا گیا جس سے آب و ہوا بہتر ہوئی –

    سوسائٹی روزانہ چالیس سے پچاس ٹن کوڑا ماڈل ٹاؤن سے باہرٹھکانے لگاتی ہے صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئےسوسائٹی نے اپنے ممبران رہائشیوں کو انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کے ڈسٹ بن مفت فراہم کیے-

    ڈینگی کی روک تھام 2012 میں ماڈل ٹاؤن میں ڈینگی کے بہت سے کیسز سامنے آئے تھے اور ٹاؤن میں بہت سے لوگ ڈینگی کا شکار ہوئے ہوئے اینٹی ڈینگی مہم کو اس جگہ لاروا کو تلف کرنے کے لیے کئی بار ٹاؤن میں سپرے کروایا گیا جن ممبران کے گھر لاروا پایا گیا انہیں بذریعہ یہ خط و کتابت فون احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہا ڈینگی کی روک تھام کے لئے کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب سے مل کر ڈینگی آگاہی اور سیمینار شعر کا انعقاد کروایا –

    ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کا نہری پانی کا کھال بوجہ تعمیر کلمہ چوک انڈر پاس اس کافی عرصہ سے رکا ہوا تھا جس کو سوسائٹی کے پارکس اور ہارٹیکلچر ڈپارٹمنٹ کی کاوش اور تگ و دو سے مکمل کروایا اور اس کی تعمیر کے لیے ایف سی کالج ج سنچری ٹاور اور پی ٹی سی ایل ایل واسا ایریگیشن ٹیپا ایل ڈی اے اور دیگر ڈیپارٹمنٹس سہ رابطہ کیا گیا اور نہری پانی کے کھال کو مختلف جگہوں سے پختہ کروا کر بحال کروایا –

    الیکٹریکل مکینیکل ورکشاپ : سو سا ئٹی بجلی کے خراب ٹرانسفارمرز جس کو بازار سے مرمت کروا دی تھی جس پر کروڑوں روپے کے اخراجات آتے تھے ہم نے الیکٹریکل اور مکینکل ورکشاپ کو اپ گریڈ کیا اور خراب ہونے والے ٹرانسفارمر کو واپڈا لیسکو کی سپیسیفیکیشن کے مطابق ٹرانس فارمرز کو مرمت اوورہال کروایا جس سے سوسائٹی کو کروڑوں روپے کی بچت ہوئی-

    ادارہ ہذا کے کم وسائل ہونے کے باوجود بڑی بڑی ادائیگیوں اور وصولیوں میں توازن پیدا کیا خصوصاً بجلی کے بلوں میں کی مد میں بھاری بھرکم ادائیگیوں ،ملازمین کی تنخواہ پنشن کی بروقت ادائیگی اور روزمرہ کے اخراجات میں توازن صدر ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی بہترین حکمت عملی کا نمونہ ہے-

    مارچ 2012 میں سوسائٹی کا چارج سنبھالنے کے بعد جہاں دوسرے امور زیر بحث لائے وہی ماڈل ٹاؤن کے مکینوں کو پینے کے پانی کو ارزاں نرخوں پر سپلائی کی طرف بھی خاص توجہ دی-

    ماڈل ٹاؤن موڑ پر سوسائٹی کی کم وبیش دس ارب مالیت کی 55 کنال لال کمرشل زمین جو 40 سال سے لوگوں کے قبضہ میں تھی واگزار کروائیں ماڈل ٹاؤن کلب کی کم و بیش4 ارب مالیت کی 37 کنال زمین سابقہ کلب انتظامیہ کے چنگل سے واگزار کروائیں-

    ماڈل ٹاؤن ہسپتال کم و بیش 40 سال ساڑھے چار ارب عرب مالیت 38 کنال زمین پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے واپس لیں جو اس کو چھوڑنے کو تیار نہ تھا دھوبی گھاٹ کی کم و بیش کے تین ارب مالیت تیس کنال کمرشل زمین جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے قبضہ کیا ہوا تھا اس کو خالی کروایا لنک روڈ ماڈل ٹاؤن پ چار کنال کمرشل زمین شیل کمپنی سے واپس لیں اور اس میں 18 کنال 12 مرلے زمین شامل کر کے بائیس کنال 12 مرلے پلاٹ کا کمرشل پلاٹ بنایا سٹور ایریا مارکیٹ کے بلاگ سے ملحقہ پٹرول پمپ کی لیزختم ہونے کے بعد پی ایس او سے ایک کنال کی کمرشل زمین واگزار کروائیں آئی کے بلاک مڑھیاں پمپ کی لیز ختم ہونے کے بعد پی ایس او سے ایک کنال چودہ مرلے کمرشل زمین واگزار کروائیں –

    ماڈل ٹاؤن ہسپتال پر عرصہ دراز تک ک پنجاب ہیلتھ رہا ہم نے بڑی مشکل سے یہ جگہ خالی کروائیں اس میں دس روپے کی پرچی کے عوض او پی ڈی میں مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے اور پی ٹی آئی کے علاوہ او بی ایس اور گائنی آؤٹ ڈور میں مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اس کے علاوہ ویکسینیشن سینٹر فیملی پلاننگ سینٹر صدر کلینک فرسٹ ایڈ آئی سینٹر سر اور ڈائگنوسٹک بینک کی سہولیات کی مد میں ایکسرے الٹرا ساؤنڈ اور لیبارٹری کی سہولت موجود ہے-

    بارات گھر کی بیسمنٹ کا کام مکمل کروایا اس میں فنکشن کا انعقاد کروایا جس سے سوسائٹی کے آمدن میں اضافہ ہوا کمرشل یریا کا رقبہ تیس کنال 3مرلے بنتا ہے اس پر سوسائٹی نے تین جدید طرز کے شادی ہال کی تعمیر فروری 2016 میں شروع کی جس کو 20 ماہ کی قلیل مدت میں میں مکمل کیا گیا –

    سینٹر کمرشل مارکیٹ میں کار پارکنگ کا دیرینہ مسئلہ تھا جس کو وسیع کارپارکنگ کی تعمیر کروا کر حل کیا گیا ما ڈل ٹاون موڑ تا سینٹرل پارک ایل ای ڈی لائٹس لگوائیں آئی ایم ماڈل ٹاؤن کے ممبران کے بچوں کی کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے فٹ بال اور کرکٹ اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا گیا ان کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے 55 کلومیٹر تک پورے ٹاؤن کی سڑک کو ری کارپٹ کیا گیا دو عدد سکوائش کورٹس پر مشتمل بلڈنگ تعمیر کے آخری مراحل میں ہے تین عدد ٹینس کورٹ پر مشتمل ایریا کی تکمیل آخری مراحل میں ہیں سوئمنگ پول بلڈنگ میں خواتین اور حضرات کے لیے لیے سوئمنگ پول اور بچے اور بچیوں کے لئے بھی علیحدہ علیحدہ سوئمنگ پول شامل ہیں جن میں ٹھنڈے گرم پانی کی سہولت میسر ہوگی

    جمنازیم بلڈنگ میں خواتین اور مرد کے لئے علیحدہ علیحدہ جم ایریا خواتین کے لئے جدید طرز کا بیوٹی پارلر وغیرہ کی سہولیات شامل ہیں ماڈل ٹاون کلب کی تکمیل بھی آخری مراحل میں ہے ر ماڈل ٹاؤن ہسپتال کے ساتھ ملحقہ نو کنال زمین پر سوسائٹی نے دو عدد سینما ہالز پر مشتمل ایک جدید طرز کی بلڈنگ بنانے کا ارادہ کیا ہے ہے امید کرتے ہیں کہ اس سال کے آخر تک یہ سینما بھی صارفین کے لیے کھول دیا جائے گا-

    آمدن میں اضافہ اور دیگر سیلولر کمپنی سے سوسائٹی کوسالانہ تقریبا ساڑھے چار کروڑ روپے آمدن تھی تھی ہم نے ان کمپنیوں سے گفت و شنید کی کی جس کے نتیجے میں سوسائٹی کے سالانہ انکم ساڑھے چار کروڑ سے بڑھ کرچھ کروڑ سے زائد ہوگئی سیل کمپنی سے سے دو پٹرول پمپس ایک کو ماہانہ سات لاکھ بیس ہزار روپے آمدن تھی شیل کمپنی سے بینک روڈ پر واقع پٹرول پمپ کی زمین واپس لی اور اب صرف 15 سے سوسائٹی کو ماہانہ 22 لاکھ روپے آمدن ہوتی ہے-

    کرونا وائرس کے خلاف انتظامات: موجودہ کرونا وائرس کے دوران سوسائٹی کی تمام سڑکوں بشمول مارکیٹس س مساجد وغیرہ کو کلورین واٹر سے دھویا گیا اس کے ساتھ ساتھ ساتھ ڈینگی کے خلاف بھی سوسائٹی کی ٹیم نے اپنا کام جاری رکھا-

    نیٹ میٹرنگ پاکستان بھر میں ماڈل ٹاؤن سوسائٹی نے سب سے پہلے نیٹ میٹرنگ کو متعارف کروایا ہے جس سے ماحول میں بہتری کے ساتھ ساتھ ممبران اپنے گھروں کی پیداکردہ سولر بجلی کو سوسائٹی گریڈ میں شامل کرکے فروخت کر سکتے ہیں ہیں جس سے ان کے ماہانہ بجلی کا بل کم آنے کے ساتھ ماحول دوست بجلی کو پیداوار کو فروغ ملے گا-

  • ترک مسابقتی اتھارٹی کا فیس بک اور واٹس ایپ کے خلاف تحقیقات کا آغاز

    ترک مسابقتی اتھارٹی کا فیس بک اور واٹس ایپ کے خلاف تحقیقات کا آغاز

    واٹس ایپ کی جانب سے پرائیوسی پالیسی میں تبدیلی کے بعد دنیا بھر میں صارفین تشویش کا شکار ہیں اسی حوالے سے ترکی نے واٹس ایپ اور اس ہی کی پیرنٹ کمپنی فیس بک کے نئے ڈیٹا شیئرنگ رولز کو معطل کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ترک خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترک مسابقتی اتھارٹی نے فیس بک اور واٹس ایپ کے خلاف تحقیقات کا بھی آغاز کردیا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے واٹس ایپ نے اپنے پرائیوسی رولز میں تبدیلی کی تھی کہ صارفین جب تک اس نئے رول کو قبول نہیں کرتے وہ واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے جس کے تحت اب واٹس ایپ صارفین کی معلومات فیس بک اور اس کے دیگر کمپنیوں کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

    اب ترک مسابقتی کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر صارف نئے قواعد کو قبول کر بھی لیں تو ان کی جانب سے ڈیٹا شیئرنگ معطل کردی گئی ہے۔ اتھارٹی نے فیس بک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی ڈیٹا شیئرنگ کو معطل کرے۔

    اس سے قبل واٹس ایپ کی جانب سے نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کرائے جانے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان کے میڈیا آفس نے واٹس ایپ کا استعمال ترک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی، ترک صدر پھر مسلم حکمرانوں پر بازی لے گئے

    ترکی کا کہناہے کہ ڈیٹا پرائیویسی کے معاملے میں یورپی یونین کے ممالک اور دیگر ممالک میں تفریق ناقابل قبول ہے۔

    واٹس ایپ کے جاری کردہ وضاحتی بیانات کے بعد ترک صدارتی دفتر نے کہا کہ ان کا میڈیا آفس آج سے صحافیوں کو بی آئی پی ایپ کے ذریعے بریفنگ دے گا، جو ترکش کمیونیکیشن کمپنی ترک سیل کا یونٹ ہے۔

    ترک ریاستی میڈیا نے ترک سیل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف 24 گھنٹے میں بی آئی پی کے صارفین میں 11 لاکھ 20 ہزار صارفین کا اضافہ ہوا جبکہ دنیا بھر میں اس کے 5 کروڑ 30 لاکھ صارفین ہیں۔

    واضح رہےکہ واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی کے بعد دنیا بھر میں لوگوں کا واٹس ایپ پر اعتماد اٹھ رہا ہے.

    پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    WhatsAppPrivacyPolicy ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ

  • ‏واٹس ایپ پالیسی میں تبدیلی: ترکی نے موبائل مسیجنگ کی اپنی ایپ تیار کر لی

    ‏واٹس ایپ پالیسی میں تبدیلی: ترکی نے موبائل مسیجنگ کی اپنی ایپ تیار کر لی

    پیغام رسانی، ویڈیو اور وائس کالنگ کی مقبول ترین ایپ واٹس ایپ نے حال ہی میں اپنی پرائیوسی پالیسی میں نئی تبدیلیاں کی ہیں جسے صارفین اگر قبول نہیں کریں گے تو ان کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: جیسے ہی واٹس ایپ نے نئی پرائیوسی پالیسی متعارف کرائی ویسے ہی صارفین کی جانب سے ایپ کی اس پالیسی پر تنقید کی جانے لگی۔جب کہ صارفین گہری تشویش میں مبتلا ہیں کہ کیا اب یہ ایپ پیغامات اور رابطے کے لیے محفوظ ہے بھی یا نہیں؟

    واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے مطابق صارف اپنا نام، موبائل نمبر، تصویر، اسٹیٹس، فون ماڈل، آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ ڈیوائس کی انفارمیشن، آئی پی ایڈریس، موبائل نیٹ ورک اور لوکیشن بھی واٹس ایپ اور اس سے منسلک دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو مہیا کرے گا۔

    واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی کو اگر پڑھیں تو پیغامات کی ‘اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن’ کو ختم کرنے کی بات موجود نہیں ہے اور یہ درج ہے کہ دو افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو واٹس ایپ سمیت کوئی تیسرا فرد یاادارہ نہیں دیکھ سکتا۔

    پالیسی کے مطابق واٹس ایپ پر بھیجے جانے والے پیغامات ، ویڈیو یا تصاویر انکرپٹڈ ہونے کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ کے سروسز پر محفوظ نہیں رہتی ہیں اور جیسے ہی یہ دوسرے صارف کو موصول ہوتی ہیں تو وہ واٹس ایپ کے سرور سے ڈیلیٹ ہو جاتے ہیں۔تاہم اب واٹس ایپ صارفین ٹرانزیکشن اور پیمنٹ کے اپنے نئے فیچر کی انفارمیشن بھی اپنے پاس رکھےگا۔

    اس والے سے واٹس ایپ کاکہنا ہے کہ جب صارفین ان سے منسلک تھرڈ پارٹی کی خدمات یا فیس بک کمپنی کی دوسری پراڈکٹس پر انحصارکرتے ہیں، تو تھرڈ پارٹی وہ معلومات حاصل کر سکتی ہے، جو آپ یا دوسرے لوگ ان کے ساتھ شیئرکرتے ہیں۔

    واٹس ایپ کی نئی پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ کاروباری ادارے کس طرح فیس بک کی سروسز کو استعمال کر کے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور مینج کر سکتے ہیں۔

    واٹس ایپ کے مطابق صارفین کا ڈیٹا اسٹور کرنے کے لیے فیس بک کا عالمی انفراسٹرکچر استعمال کیا جارہا ہے۔

    صارفین کی جانب سے واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی پر خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے اور واٹس ایپ کے علاوہ دیگر کالنگ اور میسجنگ سروسز کو ڈاؤن لوڈ کرنے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    تاہم اب ترکی کی موبائل نیٹ ورک کمپنی "ترک سیل” نے بِپ (BiP) کے نام سے ایک مسیجنگ ایپ بنا لی-

    اس ایپ کو صرف ایک دن میں ترکی میں ایپ کے صارفین کی تعداد 11 لاکھ جبکہ دنیا بھر میں اس کے سبسکرائبرز 5 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر گئے-

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    WhatsAppPrivacyPolicy ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ

    پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

  • پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

    پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

    صارفین جو واٹس ایپ کی نئی پرائیوسی پالیسی کی وجہ سے پریشان ہیں انہیں اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ واٹس ایپ کے دو بہترین متبادل ایپس بھی موجود ہیں-

    باغی ٹی وی : پیغام رسانی، ویڈیو اور وائس کالنگ کی مقبول ترین ایپ واٹس ایپ نے حال ہی میں اپنی پرائیوسی پالیسی میں نئی تبدیلیاں کی ہیں جسے صارفین اگر قبول نہیں کریں گے تو ان کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ جیسے ہی واٹس ایپ نے نئی پرائیوسی پالیسی متعارف کرائی ویسے ہی صارفین کی جانب سے ایپ کی اس پالیسی پر تنقید کی جانے لگی۔

    صارفین واٹس ایپ کی اس نئے پالیس پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ اس پالیسی کے تحت واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا نہ صرف استعمال کرے گا بلکہ اسے تھرڈ پارٹی بالخصوص فیس بک کے ساتھ شیئر بھی کرے گا۔

    ایسے صارفین جو واٹس ایپ کی نئی پرائیوسی پالیسی کی وجہ سے پریشان ہیں انہیں اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ واٹس ایپ کے دو بہترین متبادل ایپس بھی موجود ہیں-

    1۔ سگنل:
    ‘انکرپٹڈ کمیونیکیشن’ کی وجہ سے سگنل ایپ کے استعمال میں گزشتہ چند سالوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں واٹس ایپ جیسی تمام تر خصوصیات موجود ہیں اور یہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

    ٹیکنالوجی ویب سائٹ 9 تو 5 میک کے مطابق سگنل ایپ اپنی پرائیوسی پالیسی کے حوالے سے بلکل واضح ہے، اس ایپ پر کی جانے والی چیٹ کے صارفین اسکرین شاٹ بھی نہیں لے سکتے جبکہ یہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا جمع نہیں کرتی۔

    2۔ ٹیلی گرام:
    واٹس ایپ کے بہترین دوسری متبادل ایپ کی جو کہ ٹیلی گرام ہے، یہ ایپ بھی صارفین کو واٹس ایپ کی ہی طرح اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ساتھ ہی فیچرز فراہم کرتی ہےٹیلی گرام صارفین اس ایپ کے ذریعہ انکرپٹڈ ڈیٹا، تصاویر، ویڈیوز، سیلف ڈسٹرکٹنگ پیغامات اور ہر طرح کی دستاویزوں کا تبادلہ کر سکتے ہیں پلیٹ فارم کا دعوی ہے کہ یہ واٹس ایپ سے زیادہ محفوظ ہے کیونکہ یہ ‘ایم ٹی پیروٹو’ پروٹوکول پر انحصار کرتا ہے۔

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    WhatsAppPrivacyPolicy ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ