Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کراچی ،   جنوبی افریقہ کی ٹیم نے  پریکٹس کا آغاز کر دیا

    کراچی ، جنوبی افریقہ کی ٹیم نے پریکٹس کا آغاز کر دیا

    کراچی: کورونا ٹیسٹ کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم نے نیشنل اسٹیڈیم میں پریکٹس شروع کر دی ۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ 26 جنوری کو پہلے ٹیسٹ میچ میں مدمقابل ہوں گے۔پاکستان کے دورے پر آئی جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اور مینجمنٹ کی کورونا رپورٹس منفی آ گئیں۔

    جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے میڈیا مینجر نے بتایا کہ کراچی پہنچنے کے بعد جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں اور مینجمنٹ کے کورونا ٹیسٹ ہوئے تھے اور سب کی ہی رپورٹ منفی آئی ہے۔جنوبی افریقی کھلاڑیوں اور مینجمنٹ اسٹاف کا دوسراکورونا ٹیسٹ 20 جنوری کو ہو گا جبکہ جنوبی افریقہ کی مہمان ٹیم ہوٹل میں 5 روزہ قرنطینہ میں رہے گی اور دوران قرنطینہ ہوٹل سے متصل کراچی جیم خانہ گراؤنڈ پر پریکٹس کرے گی۔

    جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے لیے 20 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔جنوبی افریقا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کیا سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا تھا جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے لیے قومی ٹیم سے شاداب خان اور نسیم شاہ کو فٹنس مسائل کے باعث ڈارپ کیا گیا ہے

    جبکہ شان مسعود، حارث سہیل اور محمد عباس کو اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا سہیل خان پلان کا حصہ ہیں لیکن اس وقت ٹیم میں ان کی جگہ نہیں بن رہی جبکہ فاسٹ بولر حسن علی نے اچھا کم بیک کیا اور کارکردگی دکھائی اس لیے انہیں ٹیم میں شامل کیاگیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سعود شکیل ہر لیول پر پرفارمنس دیکر ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

  • گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بننے والا کراچی کا سب سے زائد العمرخاندان

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بننے والا کراچی کا سب سے زائد العمرخاندان

    ڈی کروز فیملی کے نام سے مشہور ایک خاندان کا نام ایک طویل العمرخاندان کے طور پراب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوچکا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ڈی کروز خاندان کے تمام 12اراکین کراچی میں پیدا ہوئے اور اب ان کی اکثریت مختلف ممالک میں آباد ہے۔ بہن بھائیوں کی اوسط عمر 75 سے 97 برس ہے اور اگر ان کی عمروں کو جمع کیا جائے تو وہ مجموعی طور پر 1042 برس اور 325 دن بنیں گی۔ اس لحاظ سے ان 12 افراد کو مجموعی طور پر سب سے زائد عمر والا خاندان کہا گیا ہے۔

    2018 میں پورا خاندان ایک جگہ جمع ہوا تو سب سے چھوٹی بہن 75 سالہ جینیا نے اپنے ایک بھانجے کی بات د ہرائی جس میں اس نے گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ سے رابطے کا مشورہ دیا تھا۔ اس وقت سب غیریقینی انداز میں ہنسے لیکن دو سال بعد 15 دسمبر 2020 کو خود گنیز نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں ایک سند سے نوازا۔

    جینیا کے مطابق یہ ایک خوشگوار لمحہ تھا اور تمام بہن بھائیوں کا شمار ملکر ایک ریکارڈ بن گیا ہے۔ ڈی کروز خاندان کے بہن بھائی سوئزرلینڈ، امریکہ ، کینیڈا اور لندن میں رہتے ہیں۔ لیکن اب بھی وہ سال میں تین مرتبہ ضرور ملتے ہیں۔

    تاہم 2020 میں عالمی وبا کے دوران انہوں نے زوم اورآن لائن ملاقاتیں ہی کیں۔ اب ہر روز وہ لند کے وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے زوم کانفرنس میں جمع ہوکر گفتگو کرتےہیں۔

    جینیا جب ڈیڑھ سال کی تھی تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اس طرح 22 برس میں 12 بچوں نے دنیا میں آنکھ کھولی جس کے بعد ان کی والدہ نے تمام بچوں کی پرورش کی اور انہیں پروان چڑھایا۔

    ڈی کروز خاندان کے افراد کی تفصیلات کچھ یوں ہے:

    ڈورین، 3 ستمبر 1923، پیٹرک 30 ستمبر 1925، جینی وی، 4 جولائی 1927، جوائس، 2 مارچ 1929، رونی، 24 اگست 1930، بیرِل، 26 اگست 1932، جو، یکم جون 1934، فرانسیسکا، 17 ستمبر 1936، التھیا، 24 جولائی 1938، ٹیریسا، 9 جون 1940، روزمیری، 30 مارچ 1943، یوجینیا، 24 اکتوبر 1945۔

    ان نو بہنوں اور تین بھائیوں کے والد کا نام مائیکل اور والدہ کا نام سیسیلیا تھا۔

  • پی ٹی سی ایل کا  3G سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی سی ایل کا 3G سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پاکستان بھر میں آئی ٹی اور ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی PTCL نے انٹرنیٹ کی سپیڈ کو مزید تیز کرنے کے لئے ملک بھر میں جاری اپنی 3G سروسز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اپنے صارفین کو بہترین انٹر نیٹ کی سپیڈ فراہم یقینی بنانے کے لئے PTCL جنوری 2021 میں اپنے Charji 4G LTE نیٹ ورک کو اپ گریڈ کر رہا ہے جس کے نتیجے میں گوادر ، بنوں ، ڈی آئی خان، ہنگو ،ٹانک،کرک ،کوہاٹ ، اٹک ،راولپنڈی ،چکوال ، جہلم ،کوئٹہ ، مستونگ ، خضدار ،سبی ،اورالئی ،برکھا ، لسبیلہ ، ہری پور، پشین ، کوہلو ، واہ کینٹ اور گوجر خان میں پرانی 3G Evo سروسز 31 جنوری 2021 سے ختم کر دی جائیں گی-

    جبکہ اس کی جگہ پر فوجی بینڈ کو متعارف کرایا جائے گا جس سے صارفین کو ہائی سپیڈ انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی ہوسکے گی اس اقدام سے کمپنی گئے ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا اور صارفین کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا-

    علاوہ ازیں کمپنی کے مطابق PTCL کے 3G Evo صارفین کو شاندار اپ گریڈ آفر دی جائے گی جس کے تحت موجودہ 3G Evo صارفین تیز ترین Charji 4G LTE ڈیوائس پر اپ گریڈ کرنے پر پچاس فیصد سکاؤنٹ دیا جائے گا-

    3G سے 4G پر منتقل ہونے کا طریقہ:
    موجودہ 3G Evo صارفین اپنے اصل کمیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور پرانی 3G Evo ڈیوائس کے ساتھ قریبی PTCL یا یوفون سنٹر یا فرنچائز پر آ کر صرف ایک یزار دو سو پچاس روپے میں نئی charji Evo Cloud حاصل کر سکتے ہیں پرانی 3G Evo ڈیوائس میں موجودہ بیلنس یا والیم صارفین کی charji ڈیوائس میں منتقل ہو جائے گا-

    پی ٹی اے نے پی ٹی سی ایل کو مزید 25 سال کام کرنے کا لائسنس جاری کر ديا گیا

  • پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین ستائیسواں ٹیسٹ میچ کراچی میں کھیلا جائے گا

    پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین ستائیسواں ٹیسٹ میچ کراچی میں کھیلا جائے گا

    پاکستان اور جنوبی افریقہ کےمابین دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز چھبیس جنوری سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے تاریخی گراؤنڈ میں شروع ہوگی۔ یہ ستائیسواں موقع ہوگا کہ جب دونوں ممالک کی ٹیمیں طویل طرز کی کرکٹ میں مدمقابل آئیں گی۔

    دونوں ٹیمیں 19 جنوری 1995 کو پہلی مرتبہ ٹیسٹ میچ کھیلنے جوہانسبرگ کے میدان پر اتری تھیں۔جہاں فتح حاصل کرنے والی میزبان ٹیم کا پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ریکارڈ اب بھی بہترین ہے۔ اب تک کھیلے گئے چھبیس میں سے 4 مقابلوں میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی جبکہ 7 میچز ڈرا ہوئے۔ 15 میچوں میں جنوبی افریقہ نے فتح سمیٹی۔

    دونوں ٹیموں کے مابین آخری ٹیسٹ میچ جنوری 2019میں جنوبی افریقہ کے سپر اسپورٹس کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں فتح میزبان ٹیم کے حصے میں آئی۔

    اس سے قبل پاکستان اپنی سرزمین پر کُل سات ٹیسٹ میچوں میں جنوبی افریقہ کی میزبانی کرچکا ہے، جہاں ایک میں اسے فتح اور 2 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 4 میچ ڈرا ہوگئے۔ دونوں ٹیموں کے مابین نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں (2007 میں) کھیلا گیا واحد ٹیسٹ میچ جنوبی افریقہ نے جیتا تھا۔

    موجودہ ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل اظہر علی سب سے زیادہ مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ میں حریف ٹیم کا سامنا کرچکے ہیں۔ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف 10 ٹیسٹ میچوں میں 25.31 کی اوسط سے 481 رنز بناچکے ہیں تاہم کپتان بابراعظم اب تک تین ٹیسٹ میچوں میں حریف ٹیم کے خلاف ایکشن میں نظر آئے، جہاں انہوں نے 36.83 کی اوسط سے 221 رنز بنائے۔ جس میں 2 نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ فاسٹ باؤلنگ اٹیک کو لیڈ کرنے والے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی اب تک 2 ٹیسٹ میچوں میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایکشن میں آچکے ہیں۔ بائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر ان 2 ٹیسٹ میچوں کی تین اننگز میں 9 وکٹیں اپنے نام کرچکے ہیں۔ آلراؤنڈر فہیم اشرف صرف ایک مرتبہ حریف ٹیم کے مدمقابل آچکے، انہوں نےاس میچ میں 6 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔

    مہمان ٹیم کے کپتان کوئنٹن ڈی کوک کاپاکستان کے خلاف ریکارڈ موجودہ اسکواڈ میں شامل دیگر کھلاڑیوں میں سب سے بہتر ہے۔انہوں نے پاکستان کے خلاف اب تک کھیلے گئے 3 ٹیسٹ میچوں میں 62.75 کی اوسط سے 251 رنز بنارکھے ہیں۔ سابق کپتان فاف ڈوپلیسی میزبان ٹیم کے خلاف سات ٹیسٹ میچوں میں شرکت کرچکے ہیں، جہاں ان کے رنز بنانے کی کُل تعداد 246 ہے۔دونوں ممالک کے خلاف آخری سیریز میں کاگیسو رابادا نے 18.70 کی اوسط سے 17 وکٹیں اپنے نام کی تھیں۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں کبھی بھی آسان حریف نہیں رہی تاہم مہمان ٹیم تیرہ سال بعد پاکستان کےمیدانوں میں کرکٹ کھیلے گی ، جس کا ایڈوانٹیج پاکستان کو ہوگا۔ انہوں نےکہا کہ پاکستان کے پاس میزبان ٹیم کے خلاف اپنے ٹیسٹ ریکارڈ کو بہتر بنانے کایہ ایک سنہری موقع ہے۔

    ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم کا مزید کہنا تھا کہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل یہ دونوں ٹیسٹ میچز پاکستان کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں، ہم ان دونوں میچز میں شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کرکے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔

    مصباح الحق نے کہا کہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر کرکٹ کھیلنا ہمیشہ سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں نے سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف ہوم ٹیسٹ میچز میں بہترین کھیل کا مظاہرہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز اہم ہے، وہ پراعتماد ہیں کہ اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑی بہترین نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہٰذا انہیں امید ہے کہ سیریز کے نتائج بھی شاندار ہوں گے۔

    جنوبی افریقہ کے ہیڈ کوچ مارک باؤچر کاکہناہے کہ پاکستان آسان حریف نہیں، انہیں ہوم گراؤنڈ پر شکست دینے کے لیے بھرپور حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پچز بیٹنگ کے لیےسازگار ہوتی ہیں، لہٰذا انہیں اپنی بیٹنگ لائن اپ سے بہتر کھیل کی امید ہے، حال ہی میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچز میں لمبی اننگز کھیلنے سے بلے بازوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ۔

    مارک باؤچر نے مزید کہا کہ پاکستان کی باؤلنگ لائن اپ کو ہوم ایڈوانٹیج ہوگا، لہٰذا یہ سیریز ہمارے بلے بازوں کی تکنیکی صلاحیتوں کا امتحان ہوگی تاہم جو بیٹسمین زیادہ دیر کریز پر وقت گزارے گا اس کے لیے رنز بنانا آسان ہوتا چلا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمارے فاسٹ باؤلر زکو وکٹیں حاصل کرنے کے لیےمحنت کرنا ہوگی ہے۔مارک باؤچر نے کہا کہ ایک طویل عرصہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہوئی، لہٰذا انہوں نے تمام کھلاڑیوں کوپرعزم اور فوکس رہتے ہوئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی ہے، انہیں دونوں ٹیموں کے مابین کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔

  • جنوبی افریقہ کی ٹیم کا پاکستان پہنچنے پر شاندار استقبال ، تصاویر جاری

    جنوبی افریقہ کی ٹیم کا پاکستان پہنچنے پر شاندار استقبال ، تصاویر جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم آج پاکستان کے دورے پر پہنچ گئی ہے جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم تقریباً 14 سال کے بعد پاکستان کا دورہ کررہی ہے۔ ٰئرپورٹ اور ہوٹل تک پہنچنے کے مناظر باغی ٹی وی کو موصول ہو گئے

    کراچی پہنچنے والی جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم اپنے دورے میں پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ اور تین ٹی 20 میچز کھیلے گی۔جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کی قیادت کوئنٹن ڈی کاک کررہے ہیں۔ پاکستان کے دورے پر کراچی پہنچے والی ٹیم 21 رکنی ہے۔

    خصوصی فلائٹ سے پاکستان پہنچنے والی جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کا شہر قائد میں آمد کے بعد ایس او پیز کے تحت ایئرپورٹ پرکورونا ٹیسٹ کیا جائے گا جس کے بعد تمام کھلاڑی قرنطینہ میں رہیں گے۔
    شیڈول کے مطابق کورونا ٹیسٹ رپورٹس منفی آنے کے بعد مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں کو کراچی جیم خانہ میں ٹریننگ کی اجازت ہو گی۔جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی کراچی جیم خانہ میں ٹریننگ کے بعد 23 جنوری سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پریکٹس کریں گے۔طے شدہ شیڈول کے مطابق پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل بھی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کا ایک مرتبہ دوبارہ کورونا ٹیسٹ کیا جائے گا۔

    پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں 26 جنوری سے شروع ہو گا۔ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان میں 2007 کے دوران میچ کھیلا تھا جس کے بعد اب وہ دورے پر آئی ہے۔

    پاکستان کی جانب سے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے 20 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا گیا ہے ، شان مسعود، محمد عباس ، حارث سہیل سمیت دیگر کھلاڑیوں کو باہر جبکہ حسن علی اور حارث رؤف کو شامل کر لیا گیا ۔ جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں عابد علی، عمران بٹ، اظہر علی، فواد عالم، سرفراز احمد، فہیم اشرف، یاسر شاہ، شاہین شاہ آفریدی، عبداللہ شفیق، آغا سلمان، سعود شکیل، کامران غلام، محمد نواز، نعمان علی، ساجد خان، حسن علی اور تابش خان شامل ہیں۔

  • پاکستان کا قدیم ترین اور حیرت انگیزجانور جسے ماہرین نے وہیل کا جد امجد قرار دیا

    پاکستان کا قدیم ترین اور حیرت انگیزجانور جسے ماہرین نے وہیل کا جد امجد قرار دیا

    آج سے تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے جہاں اٹک و فتح جنگ شہر کے درمیان ”کالا چٹا پہاڑ“ نامی سلسلہ کوہ واقعہ ہے لاکھوں سال قبل ان میں سے بیشتر علاقے سمندر کا حصہ تھے اور یہیں یہ حیرت انگیز جانور گہرے پانیوں میں شکار کیا کرتا تھا۔

    باغی ٹی وی : وہیل کو عام طور پرمچھلی لکھ دیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے کیونکہ وہیل کا شمار دودھ پلانے والے جانوروں یعنی ممالیہ میں ہوتا ہے جبکہ وہیل کے ارتقائی آباؤ اجداد آج سے کروڑوں سال پہلے خشکی پر اُن علاقوں میں رہا کرتے تھے جو آج پاکستان کا حصہ ہیں۔

    آج سے کروڑوں سال پہلے، خشکی پر رہنے والے، وہیل کے یہ آبا و اجداد اپنی جسامت اور جسمانی ساخت کے اعتبار سے کتوں/ بھیڑیوں کی طرح دکھائی دیتے تھے جنہیں پاکی سیٹس Pakicetus کہا جاتا ہے-

    یہ ایک گوشت خور شکاری جانور تھا جو کہ لمبوترے جسم، لمبی تھوتھنی، مظبوط جبڑوں اور تیز دانتوں کے ساتھ ساتھ ایک لمبی دم رکھتا تھا۔ بنیادی طور پر یہ خشکی کا جانور تھا لیکن شکار کے لیے اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ پانی میں بھی گزارا کرتا تھا۔

    اس کے لمبے شکل کی جسامت اسے تیرنے اور غوطہ لگانے میں مدد دیتی تھی جیسے کچھ مچھلیاں لمبے جسم کی حامل ہوتی ہیں۔

    ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق پاکی سیٹس کی جسمانی لمبائی 7 فٹ تک ہوا کرتی تھی جبکہ اس کے وزن کا اندازہ 50 پاؤنڈ تک لگایا گیا ہے۔

    بنیادی طور پر اس کی خوراک مچھلی اور آبی جانوروں پر مشتمل ہوتی تھی تاہم اس کی خوراک میں کچھ زمینی جانور بھی شامل ہوسکتے تھے۔

    پاکی سیٹس کا پہلا ڈھانچہ سال1981 میں اٹک میں کالا چٹا پہاڑ سے برآمد ہوا تھا۔ یہ جانور ماہرین آثار قدیمہ کے لیے ایک معمہ تھا کیونکہ اس کا جسم زمینی جانوروں سے ملتا جلتا تھا جبکہ کھوپڑی کسی وہیل جیسی تھی اور اس کے گھٹنے کی ہڈیاں سبزی خور جانوروں سے مشابہہ تھیں۔

    سال2001 میں اس کے مزید ڈھانچے برآمد کیے گئے جو کہ کافی حد تک مکمل تھے۔ طویل تحقیقات کے بعد 2009میں اس جانور کو آج کی وہیل کا جد امجد قرار دیا گیا تاہم اس پر تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں-

    کہا جاتا ہے کہ پاکی سیٹس کی معدومی کا اندازہ 4 کروڑ 10 لاکھ سال قبل کا ہے معدومی کی کوئی کنفرم وجوہات کا اندازہ تو نہیں مگر غالب امکان یہی ہے کہ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں اس کی معدومی کا سبب بنی ہوں گی۔

  • واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی:صارفین کے رد عمل نے واٹس ایپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا

    واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی:صارفین کے رد عمل نے واٹس ایپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا

    سان فرانسسکو: معروف سماجی ایپ “واٹس ایپ” عوامی تنقید کے بعد یوٹرن لینے پر مجبور ہوگئی اور فیس بک سے ڈیٹا شیئرنگ اقدام تین ماہ کیلئے مؤخر کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق واٹس ایپ نے اپنی متنازعہ پرائیویسی پالیسی کے متعلق ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹاشیئرنگ پالیسی میں تبدیلی تین ماہ کے لیے مؤخر کردی گئی ہے۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر واٹس ایپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ہم سے رابطہ کرنے والے ہر فرد کا شکریہ۔ ہم واٹس ایپ صارفین سے براہِ راست رابطہ کرکے ’غلط فہمی‘ کا ازالہ کریں گےآٹھ فروری کو کسی کے بھی اکاؤنٹ ختم یا معطل نہیں کئے جائیں گے، مئی میں ہم اپنے کاروباری منصوبے کو دوبارہ پیش کریں گے۔


    ایک اور ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صارفین کو ہماری شرائط جاننے اور جائزہ لینے کا مناسب وقت مل جائے، ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم کوئی اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ واٹس ایپ کو حالیہ دنوں صارفین کی جانب سے پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا کیونکہ انتظامیہ نے واضح کیا کہ جو صارف اس پالیسی سے اتفاق نہیں کرے گا وہ 8 فروری کے بعد اس کا واٹس ایپ بلاک کردیا جائے گا۔

    پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    ‏واٹس ایپ پالیسی میں تبدیلی: ترکی نے موبائل مسیجنگ کی اپنی ایپ تیار کر لی

    ترک مسابقتی اتھارٹی کا فیس بک اور واٹس ایپ کے خلاف تحقیقات کا آغاز

  • قبلہ اول سنگین خطرے میں ، تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    قبلہ اول سنگین خطرے میں ، تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    قبلہ اول سنگین خطرے میں
    تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    مسجد اقصیٰ ایک ایسا مقام ہے کہ جو عالم اسلام کے لئے بیت اللہ اور مسجد نبوی کے بعد اہم ترین مقام کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ وہی مقام ہے کہ نبی کریم (ص) رخ فرما کر عبادت کرتے رہے ۔ یہ مقام ایسی مبارک اور مقدس سرزمین پر واقع ہے جس کو فلسطین کہتے ہیں اور فلسطین کو انبیاء و اسریٰ کی سرزمین کہا جاتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہے کہ جس کے بارے میں مسلمانوں کی آسمانی کتاب یعنی قرآن مجید میں ذکر ہو اہے جس کا مفہوم اس طرح سے ہے کہ، ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ‘‘ ۔ یعنی نبی کریم حضرت محمد مصطفی (ص) کو شب معراج اسی مقام پر لایا گیا تھا جہاں آپ نے انبیائے کرام کے ارواح مقدس کی جماعت کی امامت فرمائی ۔ اس مقام کو بیت المقدس بھی کہا جاتا ہے ۔

    اگر مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس کی فضیلت بیان کی جائے تو شاید ایک دو مقالوں سے کام نہیں بنے گا ۔ یہ ایک تفصیلی موضوع ہے ۔ ہمارے مقالہ کا مقصد یہ ہے کہ اس مقام کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے موجودہ حالات میں اس مقدس مقام پر ہونے والے حادثات کو بیان کیا جائے او ر نوجوان نسل کے لئے آگہی کا راستہ فراہم ہو ۔

    سرزمین فلسطین عام تاریخ کے اعتبار سے سنہ1948ء سے غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے شکنجہ میں ہے ۔ آج تک صہیونیوں نے جہاں فلسطینیوں کا قتل عام کیا ہے وہاں ساتھ ساتھ علاقہ کی دیگر اقوام اور ممالک کی حکومتوں کے خلاف بھی جارحیت کی ہے ۔ اسرائیل کے ظلم و ستم فقط انسانی جان تک محدود نہیں ہیں بلکہ فلسطین کی سرزمین پر موجود مقدس مقامات کہ جن کا تعلق اسلام، مسیحی مذہب اور خود یہودی مذہب سے بھی ہے سب کے سب مقدس مقامات صہیونیوں کی درندگی سے محفوظ نہیں ہیں ۔ قبلہ بیت المقدس فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام سے تاحال کسی نہ طرح صہیونیوں کی مذہبی جنونیت اور درندگی کا نشانہ بنتا رہاہے ۔

    مسجد اقصیٰ میں صہیونیوں کا جوتوں سمیت داخل ہونا، مسجد کے در ودیوار کو نقصان پہنچانا، نمازیوں کو مسجد جانے سے روکنا، لاءوڈ اسپیکر کو بند کرنا، نماز باجماعت اور جمعہ نماز کے اجتماعا ت پر پابندی لگانے سمیت مسجد میں فلسطین کے باسیوں کا داخلہ ممنوع قرار دینے جیسے ظلم و ستم عام ہو چکے ہیں اور روز مرہ کے واقعات شمار ہوتے ہیں ۔ البتہ صہیونیوں نے سنہ1969ء میں قبلہ اول بیت المقدس کو منہدم کرنے کے لئے نذر آتش بھی کیا تھا یہ 21اگست کا دن تھا ۔ اسی طرح کئی ایک مرتبہ صہیونی یہ کوشش کرچکے ہیں کہ قبلہ اول بیت المقدس کی نیچے زمین میں بنیادوں کو کھود دیا جائے تا کہ مسجد خود بخود منہدم ہو جائے اور ا سطرح سے فلسطینیوں کا اور عالم اسلام کا قبلہ اول بیت المقدس سے معاملہ ہی ختم ہو جائے ۔

    صہیونیوں کی جانب سے مذہبی مقدس مقامات کی توہین اور بے حرمتی کرنے کے لئے باقاعدہ پولیس سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے تا کہ صہیونیوں کے گروہ در گروہ مقدس مقامات کی توہین اور بے حرمتی کرتے رہیں اور ان کو کوئی روکنے والا نہ ہو ۔ سرزمین فلسطین پر جہاں قبلہ اول بیت المقدس صہیونی سازشوں کا نشانہ ہے وہاں ساتھ ساتھ مسیح مذہب کے مقدس مقامات کہ جن میں پیغمبر خدا جناب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش کا مقام کہ جہاں پر چرچ آف نیٹی ویٹی موجود ہے اس کو بھی صہیونیوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ ماضی قریب ہی کی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے عنوان سے کرسمس کے موقع پر اس چرچ میں صہیونیوں نے مسیحی فلسطینیوں کو داخلہ سے روک دیا تھا ۔ یہ بالکل اسی طرح سے ہے جیسا کہ مسلمان فلسطینیوں کو قبلہ اول بیت المقدس میں عباد ت گزاری سے روک دیا جاتا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ مسلمان اور مسیحی فلسطینیوں کے مقدس مقامات کو صہیونی دہشت گرد جب چاہتے ہیں توہین کا نشانہ بناتے ہیں ۔ یہاں تک کہ بیت اللحم شہر میں یہودی مقدس عبادت گاہیں بھی صہیونی شرپسندوں سے محفوظ نہیں رہی ہیں ۔ واضح رہے کہ یہودی قوم میں ایسے یہودی موجود ہیں جو فلسطین پر اسرائیل کی ریاست کے قیام کو ناجائز اور غاصبانہ تسلط تصور کرتے ہیں ۔

    حال ہی میں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صہیونیوں کی غاصب او ر جعلی ریاست اسرائیل نے قبلہ اول بیت المقدس کے خلاف اپنی سازشی سرگرمیوں کو مزید تیز کر دیا ہے اور اب کہا جا رہاہے کہ مسجد اقصیٰ کا باب الرحمۃ مقام منہدم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور اس کی جگہ پر صہیونیوں کی مقدس مقام کو تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے ۔ اسی ضمن میں گذشتہ دنوں موصول ہونے والی خبروں میں یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ سرکاری انجینئر نے مسجد اقصیٰ کا سروے کرنے کی کوشش کی جس پر مقامی فلسطینیوں نے شدید احتجاج کیا ہے اور اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے ایک ای انچ کی باقاعدہ حفاظت کی جائے گی اور صہیونیوں کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ فلسطینی عرب مقدس مقامات کی توہین کریں اور صہیونی عبادت گاہوں میں تبدیل کریں ۔

    ان تمام تر معاملات میں جو بات سب سے زیادہ غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ گذشتہ دو برس میں جب سے امریکی سرپرستی میں کچھ عرب ریاستوں نے اسرائیل کی قربت اختیار کرنا شروع کی ہے اس کے بعد سے ہی یہ بات مشاہدے میں آ رہی ہے کہ اسرائیل ایک طرف فلسطینی زمینوں پر صہیونیوں کی آباد کاری کے نئے نئے منصوبے شروع کر رہا ہے تو ساتھ ساتھ عالم اسلام کے قلب بیت المقدس کو یہودیانہ کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں ۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ عرب ریاستیں جو اسرائیل کو تسلیم کر چکی ہیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والوں بشمول متحدہ عرب امارات، بحرین، ترکی، مراکش اور دیگر کی جانب سے اسرائیل کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ جیسے چاہے فلسطین پر اپنا تسلط بڑھاتا رہے اور مقدس مقامات کو بھی نقصان پہنچائے ۔ مسجد اقصیٰ کے امام اور خطیب الشیخ ڈاکٹر اسماعیل نواھضہ نے کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو صہیونی ریاست کی غلیظ اور گھناءونی سازشوں کا سامنا ہے ۔ قبلہ اول کے خلاف اسرائیل کی نئی اور تازہ سازشوں میں مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی سروے انجینیرز کا مسجد اقصیٰ میں داخلہ اور مقدس مقام کی بے حرمتی ہے ۔ اسرائیل فلسطینیوں کو تو مسجد اقصیٰ میں نماز اور عبادت کی ادائیگی سے روک رہا ہے ۔ فلسطینی اراضی میں بلا توقفن یہودیوں کے لیے ہزاروں مکانات کی تعمیر کی منظوری دی جا رہی ہے ۔ مسجد اقصیٰ کو قابض دشمن کی جانب سے گھٹیا سازشی چالوں کا سامنا ہے ۔ صہیونی آباد کاروں کو قبلہ اول پردھاوا بولنے کے لیے فول پروف سیکیورٹی مہیا کی جاتی ہے ۔ بیت المقدس کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے ۔ حرم قدسی میں تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات کی ادا کی جاتی ہیں ۔ مسجد اقصیٰ کی زمانی اور مکانی تقسیم کے لیے روز مرہ کی بنیاد پر سازشیں جاری ہیں ۔ بزرگ، بچے اور مائیں بہنیں توہین آمیز ظلم کا سامنا کررہے ہیں ۔ فلسطینی بچوں کو بغیر کسی جرم کے جان سے مار دیا جاتا ہے ۔ شہریوں کو ایسی کال کوٹھڑیوں میں ڈالا جاتا جہاں انہیں بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ہیں ۔ اس ے برعکس عالمی برادری اور خاص طور سے عرب مسلم حکمران خاموش ہیں ۔ البتہ ا س تمام تر صورتحال میں بھی فلسطینیوں کے حوصلہ بلند ہیں اور ہمت جواں ہے ۔ وہ صہیونیوں کی تمام سازشوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں اور اس عزم کے ساتھ اپنی جد وجہد کو آگے بڑھا رہے ہیں کہ اب وقت قریب آن پہنچا ہے کہ جس کا خواب ان کے بزرگوں اور پہلے کی نسل نے دیکھا تھا یعنی فلسطین اور قبلہ او ل کی مکمل آزادی اور حریت ۔

  • سپر ہاکی لیگ لاہور لائنز نے میدان مار لیا

    سپر ہاکی لیگ لاہور لائنز نے میدان مار لیا

    رانا ظہیر ہاکی اکیڈمی کے زیراہتمام نائن اے سائیڈ سپر ہاکی لیگ کے فائنل میں لاہور لائنز نے لاہور ڈولفنز کو 1-2 سے شکست دی۔
    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سکریٹری جنرل اولمپین آصف باجوہ فائنل کے مہمان خصوصی تھے۔

    اس موقع پر ان کے ہمراہ چیئرمین سلیکشن کمیٹی اولمپیئن منظور حسین جونیئر ، ممبر سلیکشن کمیٹی اولمپیئن خالد حمید ، نیشنل ٹیم کے ہیڈ کوچ اولمپین خواجہ جنید ، پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن کے سکریٹری کرنل آر آصف ناز کھوکھر ، اولمپیئن محمد ٹھکیلین ، جونیئر ہاکی ٹیم کے کوچ رانا ظہیر اور دیگر موجود تھے۔ .

    ۔ نائن اے سائیڈ سپر ہاکی لیگ فائنل جو نیشنل ہاکی اسٹیڈیم ، لاہور میں کھیلا گیا۔ فائنل میں لاہور لائنز نے لاہور ڈولفنز کو 1-2 سے شکست دی ، لاہور لائنز کے لئے احتشام اسلم اور رانا سہیل نے ایک ایک گول اسکور کیا جبکہ لاہور ڈولفنز کے لئے محمد ابراہیم نے واحد گول کیا۔ خصوصی پی ایچ ایف سکریٹری اولمپین آصف باجوہ نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔

  • فرسٹ جنریش وار سے ففتھ جنریشن وار کا سفر  ازقلم غنی محمود قصوری

    فرسٹ جنریش وار سے ففتھ جنریشن وار کا سفر ازقلم غنی محمود قصوری

    فرسٹ جنریش وار سے ففتھ جنریشن وار کا سفر

    ازقلم غنی محمود قصوری

    لفظ جنگ سنتے ہی ذہن میں لڑائی مقابلے کا ذہن میں خیال آتا ہے
    دو یا اس سے زیادہ افراد،ملک،قوم و گروہوں کے مابین مقابلے کو جنگ کہا جاتا ہے
    مختلف ادوار میں جنگیں مختلف طریقوں سے لڑی جاتی تھیں جیسے جیسے وقت بدلتا گیا اسی طرح ان جنگوں میں بھی جدت آتی گئی پہلے زمانے میں لوگ پتھروں تیروں تلواروں سے لڑتے رہے اب جدید اسلحہ نے جگہ سنںھال لی ہے
    جنگوں کی اقسام بارے دیکھتے ہیں کہ یہ کتنی قسم کی ہیں اور کس طریقے سے لڑی جاتی ہیں
    1۔ فرسٹ جنریشن وار
    یہ پرانے زمانے کی جنگیں ہیں جس میں انسان نے پتھر و ڈانگ سوٹے سے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور پھر تیر وغیرہ ان جنگوں کی زینت بنے ان جنگوں میں وہی جیتا جس کے پاس افراد زیادہ اور اس کے سپاہی دشمن کے سپاہیوں سے زیادہ طاقتور تھے
    ان جنگوں کو فری انڈسٹریل وارز کا نام دیا گیا ہے

    2 سیکنڈ جنریشن وار
    یہ جنگیں لڑی تو تیر و تلوار سے گئیں مگر ان میں ایک اور جدت یہ آئی کہ دشمن سے زیادہ مایہ ناز اسلحہ بنایا گیا جیسے تیر و تلوار کے مقابلے میں منجنیق بنائی گئی تاکہ ایک ہی وقت میں کئی کئی سپاہیوں کا مقابلہ کیا جائے یعنی دشمن سے اپنے اسلحے کو زیادہ طاقتور کر گیا چاہے کمک کم ہی سہی مگر اسلحہ دشمن سے زیادہ اچھا اور کارگر ہونا چائیے
    ان جنگوں کو ٹیکنالوجی وارز کا نام دیا گیا ہے

    3۔ تھرڈ جنریشن وار
    اس طریقے میں دشمن پر اچانک اس طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے جس سے دشمن کو سنبھلنے کا موقع نا ملے جیسے ایک تیر بردار پر کلاشنکوف سے حملہ کر دیا جائے اور لڑاکا طیاروں سے پورے علاقے کو تہنس کر دیا جائے اس کا ایک مشہور طریقہ یہ بھی ہے کہ جب ہٹلر نے اپنے مخالفین کو اس وقت حیران کرکے سنبھلنے کا موقع نا دیا کہ جب ہٹلر کے طیاروں نے ساحل پر لینڈنگ کی اور دشمن کے وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ مخصوص اڈوں کے بغیر ساحل پر بحری بیڑے کھڑے کر کے ان پر لینڈنگ کی جا سکتی ہے
    ان جنگوں کو آئیڈیاز وارز کا نام دیا گیا

    4۔ فورتھ جنریشن وار
    اس طریقہ جنگ میں دشمن پر اس قدر زور دار حملہ کیا جاتا ہے کہ وہ سنھبل نہیں پاتا جیسے کہ امریکہ نے افغانستان پر ڈیزی کٹر بموں سے حملہ کیا اور ساتھ ہی زمینی حملے کیلئے اپنے دشمن کے دشمن کو ساتھ ملا لیا یعنی طالبان کے مقابل امریکہ نے شمالی اتحاد کو ساتھ ملا کر زمینی کاروائی کی جس سے طالبان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی جدید ایٹمی ہتھیار بھی اسی طریقہ جنگ میں شامل ہیں

    5۔ ففٹھ جنریشن وار
    یہ پانچویں نسل کی انتہائی خطرناک جنگ ہے اس میں دشمن اپنے دشمن کی عوام میں پروپیگنڈا کرکے اسی کے خلاف کر دیتا ہے اور وہ کام جو ہتھیاروں سے لیا جاتا تھا وہی کام دشمن کے لوگوں سے لیا جاتا ہے یعنی ملک دشمن کا ،کمپیوٹر لیپ ٹاپ دشمن کا انہیں چلانے والا فرد دشمن کا مگر اس فرد پر قبضہ کرکے اس سے اسے کے ملک کے خلاف کام لیا جانا اس کی بہترین اصلاح ہے
    اسے سائبر وار فئیر کا نام دیا گیا ہے اس میں اپنے دشمن کے رازوں تک رسائی کے لئے کمپیوٹر،لیپ ٹاپ کو ہیک کرکے ڈیٹا اکھٹا کیا جاتا ہے یہ انتہائی پیچیدہ جنگ ہے جو کہ عوام کے بل بوتے پر جیتی جاتی ہے
    نائن الیون کے بعد امریکہ نے اپنی مظلومیت کا رونا رو کر افغانیوں کے خلاف یہ جنگ لڑی اور افغانستان کی عوام کو بڑی حد تک اپنے ساتھ ملانے اور طالبان کے خلاف کرنے میں کامیاب بھی رہا
    اس جنگ کا مرکز عالم کفر کی طرف سے پاکستان کو بنایا جا رہا ہے جیسے فرقہ واریت کے نام پر فسادات،صوبائیت لسانیت کے نام پر بلوچوں ،سندھیوں کو اپنی ہی افواج کے خلاف کرکے قتل و غذرت گری کا بازار گرم کرنا
    یہ ایک ایسا وار فیئر ہے جس میں افواج سے زیادہ عوام کا کردار ہوتا ہے
    چونکہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے ہر بندے کی سوشل میڈیا تک عام رسائی ہے اس لئے دشمن سوشل میڈیا کے ذریعے اس جنگ کو جیتنا چاہتا ہے اس لئے ہم پاکستانیوں کو انتہائی محتاط ہونا ہوگا اور اپنے بیگانے کی تمیز کرنی ہوگی مثلا آپ سندھ و بلوچستان کے مسلح لوگوں کو دیکھ لیجئے جو افواج پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے کھڑے ہیں ان کو پہلے والے سندھ و بلوچستان بھی یاد ہیں جب بنیادی سہولیات نا تھیں مگر لوگ پھر بھی امن و سکون سے رہتے تھے مگر اب جب ان علاقوں میں تھوڑی ترقی ہوئی تو دشمن نے ان علاقوں سے بندے خرید کر ان کو پاکستان کے خلاف کرکے دہشت گردی کا بازار گرم کر دیا
    اگر دیکھا جائے تو 1971 میں بھی انڈیا نے اسی قسم کی جنگ کرتے ہوئے بنگالیوں کو مغربی پاکستان کے خلاف کیا تھا اور ان کی تنظیم مکتی باہنی کو مسلح کیا اور فوج پر حملے کروائے اور الٹا خود کو ہی مظلوم ظاہر کیا
    آج بدقسمتی سے یہ سائبر وار پاکستان پر مسلط کی گئی ہے جسے ہم سب نے مل کر لڑنا ہے اور دشمن کو ناکام بنانا اس کے لئے ہمیں سوشل میڈیا پر اپنے ملک ، فوج اور اداروں کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کو نظر انداز کرنا ہوگا اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا کیونکہ پاکستان کی بقاء میں ہی ہماری بقاء ہے ورنہ شام ،افغانستان عراق ،لیبیا کا حال ہمارے سامنے ہے