Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امریکا میں شئیرایٹ اور علی پے سمیت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد

    امریکا میں شئیرایٹ اور علی پے سمیت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز چین کے آٹھ سافٹ ویئر ایپلی کیشنز کے ساتھ ٹرانزیکشن پر پابندی عائد کرنے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ، جس میں علی پے، سمیت 7 اور دیگر ایپس شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے-ایگزیکٹیو آرڈر کا مقصد چینی حکومت کو امریکی صارفین کے ڈیٹا اکٹھا کرنے سے روکنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ عہدیدار نے وضاحت کی کہ اس ایگزیکٹیو آرڈر کا مقصد چینی حکومت کو امریکی صارفین کے ڈیٹا اکٹھا کرنے سے روکنا ہے۔

    اس دستاویز میں زور دیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے چینی سافٹ ویئر اپلیکشنز سے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جارحانہ اقدامات کیے جائیں اب یہ محکمہ تجارت کی جانب سے تعین کیا جائے گا کہ اس حکم نامے کے تحت 45 دن کے اندر کونسی ٹرانزیکشنز پر پابندی عائد ہوتی ہے۔

    چینی کمپنیوں علی پے، وی چیٹ پے، کیم اسکینر، شیئر ایٹ، ٹینسینٹ کیو کیو، وی میٹ اور ڈبلیو پی ایس آفیس ایپس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    دستاویز میں لکھا ہے ‘اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کرکے چینی اپلیکیشنز کو صارفین کے بہت زیادہ ڈیٹا تک رسائی مل جاتی ہے جس میں حساس معلومات بھی ہوتی ہے’۔

    دستاویز میں مزید کہا گیا کہ اس طرح ڈیٹا کو جمع کرنے سے چین کو امریکی وفاقی ملازمین اور کنٹریکٹرز کو ٹریک کرنے کا موقع مل سکتا ہے اور ان کی ذاتی تفصیلات کے دستاویزات بنائے جاسکتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ حکم نامہ ان کی صدارت کی مدت کے ختم ہونے 14 دن پہلے جاری کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بدھ کو معمول کی بریفننگ کے دوران کہا کہ چین کی جانب سے کمپنیوں کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

    ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا جارہا ہے اور بلاوجہ غیرملکی کمپنیوں کو دبایا جارہا ہے۔

    وزارت نے مزید کہا کہ اس سے چینی کمپنیوں اور ان کے صارفین کے مفادات کو بھی نقصان پہنچا ہے ، جن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہے ، جنہوں نے وبائی امراض کے دوران ایپلی کیشن کو بغیر رابطے کی ادائیگی کے اختیارات کے طور پر "وسیع پیمانے پر استعمال” کیا تھا۔

    کنگسافٹ نے چینی سرکاری میڈیا کے ذریعہ شائع کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ توقع نہیں کرتا کہ مختصر مدت میں ٹرمپ کے اس کمپنی کے کاروبار پر خاطر خواہ اثر انداز ہوں گے۔ جیو بائیڈن کی ٹرانزیکشن ٹیم اور SHAREit نے اس پر کوئی تبصرہ دہنے سے انکار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ علی پے علی بابا کی ذیلی کمپنی ہے اور اس کی جانب سے پابندی پر فی الحال کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔

     

    فیس بک کا نیا فیچر متعارف

    ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف

  • واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ

    واٹس ایپ میں 5 جنوری سے بہت بڑی تبدیلی کا آغاز-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ میں 5 جنوری سے بہت بڑی تبدیلی کا آغاز ہو گیا ہے جس کا حصہ نہ بننے والے افراد کے لیے اس ایپلیکشن تک رسائی بلاک کردی جائے گی۔

    واٹس ایپ نے ایپلیکشن کے استعمال کے لیے شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیاں لاتے ہوئے ایپ کے اندر نوٹیفکیشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

    واٹس ایپ کے نئے ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کا نفاذ 8 فروری 2021 سے ہوگا اور صارفین کو انہیں لازمی قبول کرنا ہوگا، دوسری صورت میں ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے جائیں گے۔

    کمپنی کی جانب سے بھیجے جانے والے نوٹیفکیشن میں لکھا ہے کہ واٹس ایپ اپنے شرائط و ضوابط اور پرائیوسی پالیسی کو اپ ڈیٹ کررہی ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں اہم اپ ڈیٹس کے بارے میں بتایا جارہا ہے جیسے صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور کاروباری ادارے فیس بک کی سروسز کو استعمال کرکے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور منیج کرسکیں گے۔

    فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ کو اپنی دیگر سروسز سے منسلک کیا جاسکے گا۔

    واٹس ایپ کی جانب سے ویب سائٹ کو اپ ڈیٹ کرکے وہاں پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے تمام تر تفصیلات دی گی ہیں۔

    ان تبدیلیوں میں سے ایک زیادہ نمایاں ہے جس کے تحت کمپنی جمع شدہ صارفین کی تفصیلات کو منظم کرسکے گی۔

    کمپنی نے لکھا جب کوئی صارف میڈیا فائل کسی میسج میں فارورڈ کرے گا، تو ہم اس فائل کو عارضی طور پر انکرپٹڈ فارم میں اپنے سرور پر محفوظ کرلیں گے تاکہ فارورڈز ڈیلیوری کو زیادہ موثر بنانے میں مدد مل سکے’۔کمپنی کی جانب سے صارف کے کنکشنز کی تفصیلات کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

    کمپنی کی جانب سے ٹرانزیکشن اینڈ پیمنٹس ڈیٹا کے الگ سیکشن کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔

    واٹس ایپ نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ کس طرح ڈیوائس ، کنکشن اور لوکیشن انفارمیشن کو پراسیس کرتی ہے۔

    کمپنی کے مطبق ہم ڈیوائس اور کنکشن سے متعلق تفصیلات اس وقت جمع کرتے ہیں جب آپ ہماری سروسز کو انسٹال، رسائی یا استعمال کرتے ہیں، ان تفصیلات میں ہارڈویئر ماڈل، آپریٹنگ سسٹم انفارمیشن، بیٹری لیول، سگنل کی مضبوط، ایپ ورژن، براؤزر انفارمیشن، موبائل نیٹ ورک کنکشن انفارمیشن، لینگوئج و ٹائم زون، آئی پی ایڈریس، ڈیوائس آپریٹنگ آپریشنز آپریشن کا ڈیٹا جمع کرتے ہیں’۔

    اسی طرح کمپنی کی جانب سے بتایا گیا کہ ڈیوائس کی لوکیشن کو بھی آپ کی اجازت کے ساتھ اس وقت اکٹھا کرتے ہیں، جب آپ ہمارے لوکیشن سے متعلق فیچرز کو استعمال کرتے ہیں-

    تاہم دوسری جانب ماہرین کی جانب سے کپمنی کی اس نئی پالیسی کو ڈیجیٹل ڈکیتی کہا جا رہا ہے سائبر ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں آپ اپنی فیس بک سے واٹس ایپ اور واٹس سے فیس بک پر میسجز وغیرہ کر پائیں یہ تو ایک طرح کا ہینڈ ٹو ہینڈ فیچر ہے-

    جب کہ اب یہاں یہ کہا جارہا ہے جو فیس بک واٹس پر آپ کا آئی پی ایڈیرس آپ کی ڈیوائس ڈیٹیل آپ کے نیٹ ورک کی تفصیل آپ کے سگنلز ،فرینڈز اور بہت سی تفصیلات جو کہ بتائی نہیں جا رہیں ان تک رسائی حاصل کرسکیں گے اور اس کو فیس بک ور اس ے منسلک کمپنیوں کے ساتھ شئیر کیا جائے گا-

    فیس بک کی ساری ڈیٹا پالیسی لاء انفورسمنٹ کو مدد کرنے کی وہ اب واٹس ایپ کے ڈیٹا پر بھی لاگو ہوں گی اگر صارف کسی بھی قسم کا ڈیٹا شئیر کرتے ہیں تو فیس بک کے پاس اس کو ریپبلش کرنے کے حقوق ہوں گے اس کا مطلب کہیں نہ کہیں ڈیٹا سٹور کیا جائے گا ڈیٹا سٹور کیا جائے گا اور جس طرح فیس بک ڈیٹا کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کو مونیٹائز کرنا ایجنسیز کو اور ایڈ وغیرہ کے لیا دینا یہ اب واٹس ایپ ڈیٹا کے ساتھ بھی ہو گا –

    واٹس ایپ کو چھوڑنے کے باوجود بھی آپ کا ڈیٹا کمپنی کے پاس چلا جائے گا کیونکہ آپ واٹس ایپ گروپ کا حصہ بن چکے ہیں انسٹاگرام ، فیس بک اور واٹس ایپ پر اڑھائی ارب سے زیادہ یوزرز ہیں اور پورے سسٹم کو انہوں نے شکنجے میں لے لیا ہے یہ سوال صرف یوزرز کا نہیں بلکہ سارے سسٹم کا ہے سرکاری سسٹم کا ہے پبلک سیکٹرز اور بینک کا ہے –

  • فیس بک کا نیا فیچر متعارف

    فیس بک کا نیا فیچر متعارف

    معروف سوشل میڈیا ایپ فیس بک نے معروف و عوامی شخصیات اور برانڈز کے پیجز کو ’لائیک‘ کرنے کا آپشن ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز بدھ کو شائع ہونے والی کمپنی کی بلاگ پوسٹ کے مطابق فن کاروں ، عوامی سطح پر مقبول شخصیات اور برانڈز وغیرہ کے فیس بُک صفحات پر سے ’لائیک‘ کرنے کا آپشن ختم کیا جارہا ہے۔

    اس حوالے سے کمپنی کا کہنا ہے کہ پبلک پیجز کے نئے ڈیزائن کے مطابق اب یہ پیجز صرف فالوورز کو نظر آئیں گے اور مستقل نیوز فیڈ کے ذریعے صارفین ان پیجز پر دو طرفہ رابطہ کرسکیں گے اور اسی طرح شخصیات بھی اپنے فینز اور فالوورز سے رابطہ رکھ سکیں گی۔

    فیس بک نے اپنی بلاگ پوسٹ میں پیجز کے نئے ڈیزائن سے متعلق کہا ہے کہ ہم پبلک پیجز سے لائکس کا آپشن ختم کررہے ہیں اور فالوورز پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔

  • عظیم شخصیت ، از قلم طارق وڑائچ ایڈ ووکیٹ

    عظیم شخصیت ، از قلم طارق وڑائچ ایڈ ووکیٹ

    عظیم شخصیت
    بے نظیر بھٹو کا دور حکومت تھا اور میں پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم تھا منصور ہ میں میٹنگ کے حوالہ سے اطلا ع تھی ناظم جا معہ
    ثاقب علی خان کے ساتھ منصورہ
    پہنچے ناظم اعلی اسلامی جمیعت طلبہ پاکستان برادر محمّد اویس قاسم بھی تشریف فرما تھے محترم قاضی حسین احمد امیر جماعت اسلامی پاکستان تشریف لاۓ ہم نے احتراماً اٹھنے کی کوشش کی تو انہو ں نے منع کیا خود اپنے ہاتھو ں سے چاۓ بنا کر ہمیں پیش کی اور جب میں نے اپنا نام بتایا تو چاۓ دیتے ہوئے کہنے لگے تو پھر آپ ہوئے طارق وڑائچ ، الفاظ میں اتنی شیرینی تھی جو آج تک بھولنے سے بھی نہی بھول پایا طو یل نشست تھی لیکن اس وقت حیرانگی ہوئی جب محترم قاضی حسین احمد نے بتایا کے بینظیر بھٹو کی حکومت ختم ہو رہی ہے جب کے حالات نارمل چل رہے تھے لیکن بعد میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا ہوا اور آ خر کار فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی اس سے اندازہ ہوا کے پاکستان میں حکومتیں کیسے بنتی اور حتم ہوتی ہیں بلا شبہ قاضی حسین احمد ایک عظیم انسان اور سیاسی رہنما تھے اللّه تعالیٰ انکو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے امین
    تحریر ، طارق وڑائچ ایڈووکیٹ

  • کپتان قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم محمد رضوان کا میچ سیریز میں ناقص کارکردگی کا اعتراف

    کپتان قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم محمد رضوان کا میچ سیریز میں ناقص کارکردگی کا اعتراف

    کپتان قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم محمد رضوان نے میچ کے دوران دی گئی پرفارمنس پر اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا کہا مجھے جس طرح وکٹ کیپنگ میں پرفارم کرنا چاہیے تھا ویسا نہیں کر سکا-

    باغی ٹی وی : میچ میں پرفارمنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میں کپتان قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم محمد رضوان کا کہنا تھا کہ کپتان کی حیثیت سے تمام زمہ داری قبول کرتا ہوں مجھے جس طرح وکٹ کیپنگ میں پرفارم کرنا چاہیے تھا ویسا نہیں کر سکا-

    محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ہم نے میچ میں اچھی ‏فیلڈنگ نہیں کی ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے 20 وکٹیں درکار ہوتی ہیں اور یہاں فیلڈنگ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے-

    محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ‏ہم نے تینوں شعبوں میں اچھا کھیل پیش نہیں کیا یہ سیریز ہمارے لیے بہت بڑا سبق تھا، ہمیں تینوں شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے-

    کپتان قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم محمد رضوان نے مزید کہا کہ ہمیں فیلڈنگ کے شعبے میں سب سے زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے-

    محمد رضوان کے مطابق بیٹنگ میں بھی ہماری پرفارمنس مستقل نہیں ہمارے بیٹسمین باصلاحیت ہیں، آئندہ سیریز میں ان سے بہتر کارکردگی کی امید ہے-

    انہوں نے کہا کہ اس ٹیسٹ میچ میں ‏باؤلرز نے ہمارے لیے کئی مواقع پیدا کیےان کے جارحانہ انداز میں کمی نہیں ہے مگر کیچز چھوٹنے سے ان کا مورال گرا ‏ہم میچ کے اختتام میں ریلیکس ہوئے جس کا خمیازہ بھگتا-

    محمد رضوان کا کہنا تھا کہ‏ ہمارے پاس اتنی انرجی ہونی چاہیے کہ پہلے سیشن کی طرح تیسرے سیشن میں بھی اچھی باؤلنگ کرسکیں-

    محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ‏کین ولیمسن ورلڈ نمبر ون بیٹسمین ہیں، انہوں نے ہمیں مواقع دئیے لیکن ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا دونوں ٹیموں کے درمیان سب سے بڑا فرق کائل جیمیسن رہے، دراز قد کی وجہ سے انہیں بہت مدد ملی-

  • پاکستان شاہینزکا سکواڈ  آکلینڈ سے وطن واپس کب روانہ ہوگا؟

    پاکستان شاہینزکا سکواڈ آکلینڈ سے وطن واپس کب روانہ ہوگا؟

    پاکستان شاہینز کا اسکواڈ 7 جنوری کی شام کو آکلینڈ سے وطن واپس روانہ ہوگا-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق پاکستان شاہینز کا اسکواڈ 7 جنوری کی شام کو آکلینڈ سے وطن واپس روانہ ہوگا اسکواڈ بذریعہ دبئی 8 جنوری کی صبح 10:45 بجے لاہور پہنچے گا-

    ہیڈ کوچ اعجاز احمد سمیت اسکواڈ میں شامل 13 ارکان ای کے 624 کی پرواز سے لاہور پہنچیں گے جن میں وہاب ریاض، عثمان قادر، عماد بٹ، عبداللہ شفیق، ذیشان ملک، حسین طلعت اور عماد بٹ شامل ہیں-

    کپتان روحیل نذیر سمیت 5 ارکان ای کے 614 کی پرواز سے اسلام آباد پہنچیں گے جن میں موسیٰ خان، حیدر علی، افتخار احمد اور خوشدل شاہ شامل ہیں-

    دانش عزیز اور محمد حسنین ای کے 600 کی پرواز سے کراچی پہنچیں گے پاکستان کے کپتان بابراعظم اور شاداب خان بھی پاکستان شاہینز کے ہمراہ وطن واپس روانہ ہوجائیں گےدونوں کرکٹرز انجریز کے باعث نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کا حصہ نہیں تھے-

    بابراعظم 8 جنوری کی صبح 10:45 بجے ای کے 624 کی پرواز سے لاہور ایئرپورٹ پہنچیں گےشاداب خان 8 جنوری کی رات 11:20 بجے ای کے 614 کی پرواز سے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچیں گے-

  • میری سر زمین کا اعزاز ، تحریر ، عمیر ضیاء

    میری سر زمین کا اعزاز ، تحریر ، عمیر ضیاء

    میری سر زمین کا عزاز ، تحریر ، عمیر ضیاء

    موٹر وے پر لاہور کی جانب سے سفر کرتے ہوئے جب آپ دریائے چناب کا پل کراس کر کے سرگودھا کی حدود میں داخل ہوتے ہیں تو بڑا سا بورڈ دکھائی دیتا ہے جس پر مالٹوں کی تصویر بنی ہے اور لکھا ہے
    ” Entering the best citrus producing area "۔
    یہ بورڈ صرف بورڈ نہی بلکہ ایک اعزاز ہے جو میری سرزمین کو ملا ہے ، 1935 میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ترشادہ پھلوں کے تجربہ گاہ نے مالٹے کی ایک نئی قسم دریافت کی جو دو مختلف اقسام کے سٹرسز king اور willow leaf کے ملاپ سے بنی تھی

    اس لئے اس نئی قسم کو kinow کا نام دیا گیا
    اور دنیا کے مختلف حصوں میں تجرباتی کاشت کے لئے بھیجا گیا ۔1960 کے زمانے میں یونیورسٹی سے کنوں کے پودے پاکستان بھجے گئے
    جنھیں ملک کے مختلف حصوں میں کاشت کیا گیا لیکن سرگودھا کی زمین نے نا صرف بخوشی قبول کیا بلکہ ایسی مٹھاس بخشی کہ دنیا بھر میں سرگودھا کا کنوں اپنے منفرد ذائقے اور سائز کی وجہ سے مشہور ہے۔

    کیلیفورنیا اور سرگودھا کے اسی تعلق کی بنا پر سرگودھا کو کیلیفورنیا آف پاکستان کہا جاتا ہے۔
    دریائے چناب اور جہلم کے درمیان پھیلی کھٹے میٹھے ذائقوں والی اس سرسبز وادی میں آج بھی پرانے اور دیہی پنجاب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
    جہاں میلوں تک پھیلے باغات کے درمیان پرانے طرز کی بنی حویلیوں میں سردیوں کی شاموں میں لوگ آگ کا الاؤ جلا کر اردگرد بیٹھتے ہیں اور گڑ کی چائے اور گنے چوپنے کے دور چلتے ہیں
    جہاں ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹے جاتے ہیں اور سماجی مسائل پر گفتگو ہوتی ہے۔
    یہاں آج بھی صبح کا آغاز دیسی ککڑ کی بانگ سے ہوتا ہے ، اور لوگ رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنی صبح کا آغاز کرتے ہیں۔
    پنجاب کی یہ خوبصورت دھرتی آج بھی اپنی روایتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں
    جس میں آہستہ آہستہ جدیدیت ا رہی ہے
    اللہ پاک سے دعا ہے کہ آنے والے سالوں میں بھی ہماری یہ روایات برقرار رہیں ۔

  • کون بیرونی ایجنٹ :پیپلزپارٹی یا 9 اپوزیشن جماعتیں:قوم جان چکی:——چوہدری منور انجم

    کون بیرونی ایجنٹ :پیپلزپارٹی یا 9 اپوزیشن جماعتیں:قوم جان چکی:——چوہدری منور انجم

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر اس حوالے سے ہمیشہ سنہری حروف میں کیا جائے گا کہ پی پی پی وہ پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل ہونے کے بعد جب اپنی حکومت قائم کی تو یہ پہلی منتخب اور آئینی حکومت تھی جسے اپنے آئینی مدت اقتدار پوری کرنے کا موقع ملا اگر اس وقت کی 9 اپوزیشن جماعتیں حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے بیرونی اشاروں پر تحریک چلانے سے گریز کرتیں تو معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہوسکتاتھا اور جو عناصر ملک میںطویل ترین مارشل لاء نافذ کرنے کا بھی موقع نہ ملنا،

    لیکن ! افسوسں کہ ایسا نہ ہو سکا اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی حقیقت کا ادراک نہ کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی ملک کی مقبول ترین سیاسی قوت ہے۔ بھٹو شہید نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ایوب حکومت کے معاہدہ تاشقند پر اختلافات کی وجہ سے علیحدہ ہونے کے بعدرکھی، وزیر خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے قومی مفادات کا اس شاندار طریقے سے تحفظ کیا۔ عالمی اور علاقائی مسائل پر ایسی دوراندیشی اور سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا کہ مختصر عرصے میں وہ ملک کے ایک نامور سیاستدان بن گئے اور انہیں عالمی شہرت بھی حاصل تھی۔

    وہ عوامی مفادات کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے اور ان کے جذبے نے انہیں صیح معنوں میں ایک عوامی رہنما بنادیا تھا، چنانچہ جب انہوں نے لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی رکھی اوراپنے منشور میں روٹی کپڑا اور مکان کو سرفہرست رکھا تو دیکھتے ہی دیکھتے تمام مخالف سیاسی جماعتوں کی مقبولیت اور اکثریت ختم ہوگئی اور پیپلز پارٹی ملک کی سب سے مقبول عوامی سیاسی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی، چنانچہ جنرل یحییٰ خان کے دور میں ہونے والے انتخابات میں پی پی پی نے زبردست اکثریت حاصل کی۔ لوگ یہ کہتے سنے گئے کہ اگر بھٹو کی بجلی کے کھمے کوبھی پارٹی کاٹکٹ دے دیں تو وہ بڑے سے بڑے سیاست دان کا تختہ الٹ سکتا ہے چنانچہ پیپلز پارٹی کے معمولی کارکنوں کے مقابلے میں کئی سیاسی اجاره دار بری طرح شکست سے دوچار ہوئے۔

    یحییٰ خان کی غلطی کے نتیجہ میں سقوط مشرقی پاکستان کے بعد پیپلز پارٹی کو موجودہ پاکستان کا اقتدار سونپ دیا گیا اور بھٹو شہید وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔ بھٹو شہید نے اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد اپنے انتخابی منشورکوعملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ انہوں نے غریب عوام کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی پالیسی اختیار کی دولت کا ارتکاز اور چند ہاتھوں میں قومی وسائل کو جمع ہونےسے روکنے کے لیے انہوں نے بعض صنعتوں، بنکوں اور دوسرے اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا۔ انہوں نے معیار تعلیم بلند کرنے اور اساتذہ کی محرومیوں کا خاتمہ کرنے کےتعلیمی اداروں کو بھی قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا اس طرح ان اداروں میں جہاں ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہوئے، بے روزگاری میں کمی آئی، وہاں دولت چند خاندانوں میں سمیٹنے سے بچ گئی اور معاشرے میں مساوات کے تصور و تقویت ملی قومیائی گئی صنعتوں میں ہزاروں افراد کو ملازمت فراہم کی گئی۔

    بھٹو شہید کے اہم ترین کارتا سے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینا اور اسلامی جمہوری آئین کی تشکیل کھی، انکے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پاکستان کی سرزمین بے آئین کا نام دیا جاتا تھا اورپچاس سال گزر جانے کے باوجود ملک کا آئین بھی تشکیل نہ پاسکاتھاجوکسی بھی لیحاظ سے قومی وقار مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ بھٹو شہید نے قرارداد پاکستان کی روشنی میں اسلامی اور جمہوری آئین کی تشکیل کی اور یہ آئین قومی اسمبلی کے تمام ارکان کی طرف سے مکمل اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ۔یہی وجہ ہے کہ آج ہر سیاسی جماعت حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ 1973ء کا اسلامی اور جمہوری | آئین بحال کرے۔

    بھٹو شہید نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے ملک بھر کے غریب اور بے گھر خاندانوں کو سر چھپانے کے لیے جگہ دینے کا پروگرام شروع کیا اس طرح ملک کے لاکھوںبے گھر خاندان اپنے لیے مکان بنانے اور سر چھپانے میں کامیاب ہو گئے ۔ قومی اورملکی سلامتی اور دفاع کو مظبوط بنانے کے لیے انہوں نےایٹمی پروگرام کی بنیادی اس مقصد کے لیے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے پاکستان |سے پاکستان بلایا اور ہمیں اسی پروگرام کا انچارج مقرر کیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ پروگرام بھٹو نے ہی شروع کیا اور اس کی تکمیل اور آج پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کا کریڈٹ بھی بانی کی حیثیت میں بھٹو شہید ہی کو جاتا ہے۔

    ان کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان سٹیل ملز کا قیام تھا یہ منصوبہ اس وقت روس کے صنعتی اداروں کے تعاون سے شروع کیا گیا جب پوری دنیا کمیونسٹ بلاک اور سرمایہ دار بلاک میں بٹی ہوئی تھی روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خوشگوار بنانے اور روسی سفیر پر اعتماد کی فضا پیدا کرنے میں بھٹو شہید نے بنیادی کردار ادا کیا اس وقت کوئی بی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ کمیونسٹ بلاک کا سربراہ ملک پاکستان میں ایک اہم ترین دفاعی منصوبے میں فنی اور مالی تعاون فراہم کرسکتا ہے لیکن بھٹو شہید کی سیاسی بصیرت اور دوراندیشی نے یہ ممکن کر دکھایا۔ پاکستان کی تعمیرو ترقی اور خاص طور ایٹمی پروگرام بعض عالمی طاقتوں کی نگاہ میں کھٹک رہا تھا،

    چنانچہ اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے بھٹوشہیدکواس پروگرام کے حوالے سے نمونہ عبرت بنانے کی جو دھمکی دی تھی وہ ضیاء الحق کے ہاتھوں مارشل لاء کے نفاز اور بھٹوکو شہید کرنے کی صورت میں پوری ہوئی، لیکن بھٹو آج پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے اورقوموں کے احسانات کبھی نہیں اتار سکے گی۔ آج ایک بار پھر ملک انتہائی مشکلات سے گزر رہا ہے، پی پی پی اپنی عوام کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گی۔

    ٓآئیں ٓاج ذولفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر عہد کریں کہ ہم چاروں صوبوں کی مضبوطی کے لیے آئین کی بالادستی کے لئے، اٹھارویں ترمیم کو بچانے کے لیے، قانون کی حکمرانی کے لیے، جمہوریت کی مکمل بہالی کے لئے، صاف اور شفاف انتخابات کے لئے، غریب کی غربت ختم کرنے کے لئے، بیروزگار کو روزگار دینے کے لئے، اداروں کے درمیان تصادم کو بچانے کے لئے، پارٹی قیادت اور کارکن اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور سیلیکٹد وزیراعظم کا بھرپور مقابلہ کریں گے ۔ پی پی پی کا ورکر، کارکن، لیڈر، چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں متحد ہیں۔ ہماری قیادت کے خلاف سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمات کا ڈٹ کے مقابلہ کریں گے۔

    کون بیرونی ایجنٹ :پیپلزپارٹی یا 9 اپوزیشن جماعتیں:قوم جان چکی:——چوہدری منور انجم

  • تاریخ میں پہلی دفعہ قائد اعظم ٹرافی میں فاتح کا ٹائٹل دو ٹیموں کو دیا گیا

    تاریخ میں پہلی دفعہ قائد اعظم ٹرافی میں فاتح کا ٹائٹل دو ٹیموں کو دیا گیا

    قائد اعظم ٹرافی فائنل میچ ٹائی خیبر پختونخواہ اور سنٹرل پنجاب مشترکہ طور پر فاتح قرار

    • تاریخ میں پہلی دفعہ قائد اعظم ٹرافی میں فاتح کا ٹائٹل دو ٹیموں کو دیا گیا
    • حسن علی کی شاندار بیٹنگ پرفارمنس نے جیت خیبر پختونخواہ کے ہاتھوں سے چھین لی-

    قائد اعظم ٹرافی فرسٹ الیون ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کا فائنل میچ سنسنی خیز مقابلے کے بعدٹائی ہوگیا خیبرپختونخواہ اور سنٹرل پنجاب کو مشترکہ طور فاتح قرار دے دیا گیا۔سنٹرل پنجاب کو میچ جیتنے کے آخری روز 216 رنز درکار تھے اور انکی آٹھ وکٹیں باقی تھیں،سنٹرل پنجاب نے 140 رنز دوکھلاڑی آؤٹ سے آخری روز دوسری اننگز کا آغاز کیا۔

    عثمان صلاح الدین 51 رنز اورمحمد سعد 27 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ محمد سعد بغیر کسی اضافے کے 27 رنز پر ارشد اقبال کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہو گئے،عثمان صلاح الدین بھی 67 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے انکی اننگز میں چار چوکے شامل تھے،سنٹرل پنجاب کی ٹیم مشکلات کاشکار ہو گئی تھی ایک موقعہ پر انکی 202 رنز پر سات کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ سعد نسیم 5،قاسم اکرم30،علی شان11،بلاول اقبال محض سات رنز بنا سکے۔

    حسن علی کی شاندار بیٹنگ پرفارمنس نے جیت خیبر پختونخواہ کے ہاتھوں سے چھین لی-

    حسن علی نے اپنی بیٹنگ لائن کو سہارا دیا 61 گیندوں پر 10 چوکوں اور سات چھکوں کی مدد سے 106 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو مکمل شکست سے بچانے میں کامیاب رہے۔احمد صفی نے 35 اور وقاص مقصود نے چار رنز بنائے۔سنٹرل پنجاب کی پوری ٹیم 117.3 اوورز میں 355 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

    خیبر پختونخواہ کی طرف سےساجد خان نے 86 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیاارشد اقبال نے 3 ،عرفان اللہ شاہ نے 2 اور ثمین گل نے ایک وکٹ حاصل کی۔

    اس سے قبل خیبر پختونخواہ نے اپنی پہلی اننگز میں 300رنز بنائے اور سنٹرل پنجاب نے اپنی پہلی اننگز 257 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلئیر کر دی تھی۔خیبر پختونخواہ نے اپنی دوسری اننگز میں 312 پر رنز بنائے تھے اسطرح انہوں نے سنٹرل پنجاب کو جیت کے لیے 356 رنز کا ہدف دیا تھا۔سنٹرل پنجاب کے وقاص مقصود نے میچ میں سات کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور خیبرپختونخواہ کے عرفان اللہ شاہ نے چھ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

    خیبر پختونخواہ کے کامران غلام کو سیزن 21-2020 میں بہترین بلے باز کا اعزاز دیا گیا،ساجد خان نےبیسٹ بالر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کیا۔ریحان آفریدی کوبہترین وکٹ کیپر کا اعزازدیا گیا۔پلئیر آف دی فائنل اور پلئیر آف دی ٹورنامنٹ حسن علی کو قرار دیا گیا۔

  • جنوبی افریقہ سیریز سے قبل قومی کھلاڑیوں کو  کوویڈ 19 پروٹوکولز پر بریفنگ

    جنوبی افریقہ سیریز سے قبل قومی کھلاڑیوں کو کوویڈ 19 پروٹوکولز پر بریفنگ

    جنوبی افریقہ سیریز سے قبل قومی کھلاڑیوں کو کوویڈ 19 پروٹوکولز پر بریفنگ

    باغی ٹی وی :پاکستان کرکٹ بورڈ کی میڈیکل ایڈوائزری کمیٹی نے جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز سے قبل کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کو کوویڈ 19 کے مقررہ پروٹوکولز کے حوالے سے بریفنگ دینے کا آغاز کردیا ہے۔ سیریز سے قبل قومی کرکٹ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کی متعدد مرتبہ کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کی جائے گی۔

    جنوبی افریقہ سیریز سے قبل قومی کھلاڑیوں کو کوویڈ 19 پروٹوکولز پر بریفنگ

    اس حوالے سے قومی کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کی پہلی کوویڈ 19 ٹیسٹنگ 13 جنوری کو ان کے اپنے گھروں میں کی جائے گی۔ ان ہی کے گھروں میں دوسری ٹیسٹنگ 16 جنوری کو ہوگی۔ قومی اسکواڈ جوائن کرنے پر کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف میں شامل ارکان کی ہوٹل پہنچنے پرپہلی کوویڈ 19 ٹیسٹنگ 19 جنوری کو ہوگی۔

    یہ پروٹوکولز پی سی بی میڈیکل ایڈوائزری کمیٹی کے سربراہ اور پی سی بی میڈیکل اینڈ اسپورٹس سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر سہیل سلیم نےتیار کیے ہیں، جنہوں نےاس حوالے سے نیوزی لینڈ میں موجود پاکستان شاہینز کے اسکواڈ کو مکمل طور پر آگاہ کردیا ہے جبکہ اس سلسلے میں قومی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کی بریفنگ کرائسٹ چرچ کے ہیگلے اوول میں جاری ٹیسٹ میچ کے اختتام پر ہوگی۔

    جاری کردہ پروٹوکولز کے مطابق ان تمام ارکان کی مانیٹرنگ کا سلسلہ نیوزی لینڈ سے وطن واپسی کی پرواز میں بیٹھتے ہی شروع ہوجائے گا۔ان تمام ارکان کو پرواز کے دوران اپنے چہرے مکمل طور پر ماسک سے ڈھانپنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کسی بھی بیماری کی صورت میں وہاں موجود ٹیم ڈاکٹر سے رابطے کی درخواست کی گئی ہے۔

    ایڈوائزری کے مطابق سفر کے دوران کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کو اپنے ہاتھوں کو کم از کم بیس سیکنڈز تک سینٹائز کرنے کی ہدایت کی گئی، پروٹوکولز کے مطابق سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اورکوئی بھی علامت ظاہر ہونے یا نہ ہونے کے باوجود پی سی بی کی مخصوص ہیلتھ چیک اپ ایپ پر اپنی صحت کے حوالے سےتمام تر اپ ڈیٹ مسلسل جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    کوویڈ 19 کے لیے مقررہ ایڈوائزری کے مطابق کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کو غیرضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کرنے اورقریبی فیملی کے علاوہ کسی فرد سے ہاتھ ملانے یا گلے لگنے سے گریزکرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔