Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چئیرمین لاہور قلندر اورعاقب جاوید پی ایس ایل  سکس میں مزید بہتر کارکردگی کیلئے کیا اقدمامات کرنے جا رہے ہیں؟

    چئیرمین لاہور قلندر اورعاقب جاوید پی ایس ایل سکس میں مزید بہتر کارکردگی کیلئے کیا اقدمامات کرنے جا رہے ہیں؟

    لاہور قلندرز کے سی ای او عاطف رانا اور سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید کی میٹ دی پریس

    باغی ٹی وی :عاطف رانا نے کہا کہ قلندرز نے پی ایس ایل فائیو نے عمدہ کارکردگی دکھائی ہم پی ایس ایل سکس میں مزید اچھی ٹیم بناکر کامیابی حاصل کریں گے۔

    عاطف رانا کا کہنا تھا کہ ٹی ٹین لیگ میں اس مرتبہ پاکستانی کھلاڑیوں کی موجودگی اچھی کارکردگی کا باعث بنے گی۔

    لاہور قلندر کے سی ای او کا کہنا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے این او سی ملنے سے ہماری ٹی ٹین ٹیم اچھی ہوگئی ہے۔

    اس موقع پر سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید نے کہا کہ شرجیل خان، سہیل تنویر، آصف علی کے آنے سے ہماری ٹی ٹین ٹیم اچھی ہوگئی ہے۔

    عقاب جاوید نے بتایا کہ پی ایس ایل سکس کے لئے کھلاڑیوں کی فہرست آگئی ہےاگلے دو تین دن ہمارے لیے بہت اہم ہیں ۔

    عاطف رانا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ گذشتہ پانچ چھ برس سے فرنچائز مالکان بقا کی جنگ لڑرہے ہیں قلندرز کی سوچ بھی وہی ہے جو شائقین کرکٹ کی سوچ ہے شائقین کرکٹ کے بغیر لیگ کا مزہ نہیں ہے ۔

    عاقب جاوید کا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ وقار یونس کوچ نہیں بلکہ کمنٹیٹر ہیں جب لوکل کوچ لگایا جاتا ہے وہ کوچ ہوتا نہیں ہم غیر ملکی کوچ لاتے ہیں تو وہ پہلے دوسال سسٹم کو سمجھنے میں لگادیتے ہیں ۔

    عاقب جاوید نے کہا کہ مجھے نہیں سمجھ آتی کہ مصباح الحق کہاں سے کوچ ہیں مصباح الحق نے ایک دن کوچنگ کئے بغیر پاکستان کے کوچ بن گئے-

    عاقب جاوید نے کہا کہ محمد حفیظ ، دلبر حسین ، شاہین شاہ آفریدی ، کے ساتھ ساتھ سہیل اختر نے اچھاپرفارم کیا ابھی ہم نے رٹینشن کا اعلان نہیں کیا اس سال ہمارے کافی زیادہ کھلاڑی پلاٹنیم بن گئے ہیں ۔

    عاقب جاوید نے کہا کہ ڈین جونز بہت تجربہ کارکوچ اور بہترین کرکٹر تھے ہرشل گبز بھی تجربہ کار اور اچھے کوچ ہیں دیکھنا ہوگا کہ گبز کس طرح کراچی کنگز کی ٹیم کو بناتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا کمبی نیشن بنانے میں دیر لگی ہے مگر کمبی نیشن اچھا بن گیا ہے محمد عامر کراچی کنگز کے ساتھ ہیں مجھے نہیں لگتا کہ وہ ریلیز کریں گے

    عاقب جاوید نے بتایا کہ میں نے پچھلے دنوں کہا تھا کہ ہاکی کو چارچیزوں نے ڈبویا ہے تو اب کرکٹ میں بھی وہ چار چیزیں کردی گئی ہیں سکول کالج ، کلب ، ڈسٹرکٹ اور ریجنل کرکٹ ختم ہوچکی ہے گراس روٹ کرکٹ ختم ہونے کے باعث ہماری کرکٹ کا معیار نیچے جارہا ہے ۔

    سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ موجودہ پاکستانی ٹیم میں بابر اعظم کے علاوہ کوئی سٹار نہیں ہے پاکستان کی تاریخ میں اس سے برا باولنگ اٹیک نہیں دیکھا پاکستان کرکٹ اس وقت تسلسل کے ساتھ نیچے جارہی ہے ۔

    عاطف رانا کا کہنا تھا کہ ایک طرف انضمام الحق چیف سلیکٹر تھے اور اب مصباح سے ہوتی ہوئی محمد وسیم تک بات پہنچ گئی ہے ہر جگہ چیلنجز ہوتے ہیں امید ہے کہ پی ایس ایل کے معاملات حل ہوجائیں گے ۔

  • صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے چین کی کمپنی اوریل سرامکس کے نمائندےووجیان بن کی ملاقات

    صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے چین کی کمپنی اوریل سرامکس کے نمائندےووجیان بن کی ملاقات

    صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے کمیٹی روم میں چین کی کمپنی اوریل سرامکس کے نمائندےووجیان بن کی ملاقات

    باغی ٹی وی : ووجیان بن کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی کی بھلوال انڈسٹریل اسٹیٹ میں ٹائل سازی کی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عندیہ حکومت اضافی بجلی اور گیس فراہم کرے تو ہمارے صنعتی یونٹ کی پیداواری صلاحیت بڑہ سکتی ہے-

    صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی اوریل سرامکس کا نیا صنعتی یونٹ لگانے کے لئے 50ایکڑ زمین کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا-

    صوبے میں نئی سرمایہ کاری لانا حکومت کی سرفہرست ترجیح ہے بہت سی چینی کمپنیوں نے پنجاب میں بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے
    سازگار ماحول کے باعث بیرونی سرمایہ کار سرمایہ کاری کے لئے پنجاب کا رخ کررہے ہیں-

    ان کا کہنا تھا کہ اوریل سرامکس کی پنجاب میں نئی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں چینی کمپنی اوریل سرامکس کو صوبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے ہرممکن سہولت دیں گے-

    میاں اسلم اقبال نےصوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو چینی کمپنی کو نیاصنعتی یونٹ لگانے ہرممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی-

    ان کا کہنا تھا کہ اندرونی و بیرونی سرمایہ کاروں کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں سرمایہ کاری کو فروغ دے کر غربت اور بے روزگاری مسائل پر قابو پائیں گےپنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل سلیم بھی ملاقات میں موجود تھے-

  • فاسٹ باؤلر کی حیثیت سے کوئی معذرت  پیش نہیں کروں گا   نسیم شاہ

    فاسٹ باؤلر کی حیثیت سے کوئی معذرت پیش نہیں کروں گا نسیم شاہ

    پاکستانی فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ ایک فاسٹ باؤلر کی حیثیت سے کوئی معذرت پیش نہیں کروں گا، یہ وکٹ اچھی تھی-

    باغی ٹی وی : ‏ پاکستانی فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ ایک فاسٹ باؤلر کی حیثیت سے کوئی معذرت پیش نہیں کروں گا، یہ وکٹ اچھی تھی- میں نے غلطیاں کیں اور ان سے بہت سیکھا-


    نسیم شاہ کا کہنا تھا کہ ‏ٹیسٹ کرکٹ آسان نہیں ہے، یہاں مسلسل ایک ہی جگہ پر باؤلنگ کرنی ہوتی ہےنیوزی لینڈ کی ٹیم میں ورلڈ کلاس کھلاڑی ہیں ان کے خلاف غلطی گنجائش نہیں تھی-


    فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کا کہنا تھا کہ ‏نو بالز ہونے سے اعتماد میں کمی آتی ہے، زیادہ زور لگانے کی وجہ سے بھی نو بالز ہوئیں،
    ‏پریکٹس میچز میں نو بال نہیں ہوئے نوبالز سے سے نقصان بہت ہوا، دو آوٹ اسی کی نظر ہوئے کوشش ہو گی کہ آئندہ نوبالز پر قابو پائیں-

    ظفر گوہر کا کہنا تھا کہ ‏بیٹنگ لائن اپ اس قابل ہے کہ ہم ایک لمبا ٹوٹل کرسکتے ہیں ‏ہمیں صرف ایک لمبی اننگز اور اس کے ساتھ کچھ پارٹنر شپ کی ضرورت ہے‏دو دن ہم نے بیٹنگ کرنا ہے کوشش ہے کہ جتنا وقت کریز پر گزارسکیں-

    ‏ظفر گوہر کا کہنا تھا کہ میرا کردار ایک آلراؤنڈر کا ہے، وہی ادا کرنے کی کوشش کررہا ‏کرکٹ میں کیچز ڈراپ بھی ہوتے ہیں اور اچھے کیچز پکڑے بھی جاتے ہیں‏ ٹریننگ پوائنٹ وہی تھا جب ہنری نکلس نو بال پر کیچ ہوئے ‏فاسٹ بولرز نے بہت محنت کی ہے، ڈراپ کیچز مہنگے پڑے ہیں ۔

  • یہ بدبو آخر کب ختم ہو گی؟ از قلم غنی محمود قصوری

    یہ بدبو آخر کب ختم ہو گی؟ از قلم غنی محمود قصوری

    یہ بدبو آخر کب ختم ہو گی؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    پرانے زمانے کی بات ہے ایک شہر میں نازک سی مگر زبان کی تیز طراز لڑکی رہتی تھی جسے گوبر سے سخت نفرت تھی
    وہ ہمیشہ اپنی ماں سے کہا کرتی تھی میں شادی وہاں کراؤ گی جس گھر میں گوبر کے اپلوں کی بجائے لکڑی جلائی جاتی ہوں
    وقت گزرتا گیا اور اس کے لئے رشتے آتے رہے مگر جہیز کی ڈیمانڈ پورا نا کر سکنے پر رشتے والے جواب دیتے گئے آخر کار ایک دن ایک دور دراز گاؤں سے رشتہ آیا جو جہیز نا لینے پر بھی راضی تھے سو اس لڑکی کے والدین نے اس کا رشتہ پکہ کر دیا جس کا اس لڑکی کو سخت دکھ ہوا کیونکہ وہ گاؤں کی بجائے شہر میں شادی کروانا چاہتی تھی کیونکہ شہر میں زیادہ تر لکڑی جلائی جاتی تھی
    وقت گزرا اور اس کی شادی ہو گئی بیاہ کر وہ اپنے شوہر کے گھر آ گئی جو کہ غریب تھے
    اس کی ساس کسی چوہدری کے گھر جا کر اپلے بناتی اور گھر کا چولہا جلاتی
    چند دن گزرنے کے بعد اس کی ساس نے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ چلو اور چل کر اپلے بناؤ تاکہ میری اپلے بنانے میں مدد ہو سکے جس پر اس بدبو سے نفرت کرنے والی لڑکی نے فوری انکار کرتے ہوئے بدبو سے طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کیا
    ساس سمجھدار تھی معاملے کی نزاکت کو سمجھتی تھی اور گھر کا ماحول بھی خراب نہیں کرنا چاہتی تھی آخر اس نے بھی اپلے نا بنانے کا تہیہ کرلیا جب تک کہ بہو ساتھ نا چلے
    اس کی ساس نے اسے اس دن روٹی نا دی سو بھوک سے نڈھال بیچاری اگلے دن اپلے بنانے چلی گئی اور ناک پر کپڑا رکھ کر بولی کہ کتنی گندی بدبو ہے اس بدبو سے مجھے الٹی آتی ہے میں اس بدبو سے بیمار ہو جاؤنگی غرضیکہ اس نے سو طرح کے بہانے کئے میں اس کی ایک نا چلی اسے آخر کار اپلے بنانے ہی پڑے
    وہ روز اپنی ساس کیساتھ اپلے بنانے جاتی اور سو نخرے کرتی
    رفتہ رفتہ اس کے نخرے کم ہونے لگی اور ایک دن اپنی ساس سے کہنے لگی دیکھا جب سے میں آئی ہوں یہاں اپلے بنانے تب سے گوبر میں سے بدبو آنا ختم ہو گئی ہے کیونکہ میں اپلے اچھے بناتی ہوں
    اس کی اس بات پر اس کی ساس تھوڑا ہنسی اور بولی تمہارے آنے سے گوبر کی بدبو نہیں گئی بلکہ تمہیں اس کی بدبو سونگنے کی عادت ہو گئی ہے اب تمہیں اس بدبو کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ اب تم اس بدبو کو قبول کر چکی ہو یہ بدںو ختم نہیں ہوئی بلکہ تمہاری اپنی بدبو مر چکی ہے
    اسی لڑکی جیسا حال ہمارے عمران خان صاحب کا بھی ہے جو بطور اپوزیشن لیڈر مہنگائی،بے روزگاری،امن و امان کی ابتر صورتحال،ذخیرہ اندوزی اور دیگر معاشرتی برائیوں کا رونا رویا کرتے تھے اور لوگوں کو سٹیج پر کہا کرتے تھے کہ میں اس بدبو کو ختم کرونگا مگر اب اس لڑکی کی طرح اپنی بدںو کو مار بیٹھے اور اپوزیشن و عوام کو سبق دے رہے ہیں کہ میرے آنے سے یہ بدبو مر گئی حالانکہ خود خان صاحب اس بدبو کا حصہ بن چکے ہیں اور اس مہنگائی،بے روزگاری کی بدبو کو سونگھنے سے قاصر ہو چکے ہیں
    افسوس کہ اس سے قبل بھی سارے لیڈر اس بدبو کو ختم کرنے کا کہہ کر اس بدبو کا حصہ بن گئے اور اپوزیشن میں جاتے ہی انہیں پھر وہی بدبو آنے لگتی ہے
    ان سیاستدانوں کے وعدوں کی بدبو پر عوام پوچھتی ہے کہ یہ بدبو آخر کب ختم ہو گی؟

  • نوازشریف نے آوازیں کس طرح ہائی جیک کیں ؟اہم خبرآگئی

    نوازشریف نے آوازیں کس طرح ہائی جیک کیں ؟اہم خبرآگئی

    پاکستان بھر میں حکومت کے زیر سایہ چلنے والے درجنوں ریڈیو نیٹ ورکس کو اپوزیشن حکومت کے خلاف ہی استعمال کرنے لگی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان بھر میں حکومت کے زیر سایہ چلنے والے درجنوں ریڈیو نیٹ ورک کی مارکیٹنگ مسلم لیگ نون کے صادر نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور ںواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے ترجمان اور سابق گورنر سندھ زبیر کے پاس ہے-

    سابق گورنر سندھ زبیر نے نواز شریف کے دور حکومت میں آئی ایس پی آر کے ریڈیو نیٹ ورک ورک سنو ایف ایم 89.6 کے مارکیٹنگ کے رائٹس اپنے نجی کمپنی کے نام پر لے لیے تھے اور کمپنی گذشتہ کئی سالوں سے مارکیٹنگ کے نام پر کروڑوں روپے کما رہی ہے-

    کمپنی نہ صرف گذشتہ کئی سالوں سے مارکیٹنگ کے نام پر کروڑوں روپے کما رہی ہے بلکہ موجودہ حکومت کے خلاف کمپنی مہم بھی چلا رہی ہے-

    نجی کمپنی سنو ایف ایم ریڈیو نیٹ ورک کے پیسوں سے موجودہ حکومت ختم کرنے کے لیے مہم چلا رہے ہیں-

    روشن میڈیا نیٹ ورک کراچی ملک بھر سے ویڈیو نیٹ ورک کیلئے اشتہارات اکٹھے کرتے ہیں اور اس میں سے تیس فیصد رقم کمیشن کے نام پر وصول کرتے ہیں ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ کمپنی کو خلاف قانون کنٹریکٹ دیا گیا ہے اور کئی سالوں سے کنٹریکٹ کی مدت بھی نہیں بڑھائی گئی ہے-

  • میچ میں مایوسی کیوں ہوتی ہے باؤلر محمد عباس نے بتا دیا

    میچ میں مایوسی کیوں ہوتی ہے باؤلر محمد عباس نے بتا دیا

    باؤلر محمد عباس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کیچز ڈراپ ہونا ہمارے لیے بہت مہنگا ثابت ہوا ہے، میچ میں کیچز ڈراپ ہونے سے بہت مایوسی ہوتی ہے،بطور باؤلر اگر وکٹ ملے اور نو بال ہو جائے تو بھی بہت مایوسی ہوتی ہے، کین ولیمسن‏ ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں،

    باؤلرمحمد عباس نے مزید کہا کہ کسی بھی ورلڈ کلاس بیٹسمین کا کیچ چھوڑتے ہیں تو وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے، ‏ہم نے پہلے سیشن میں بہت محنت کی اور اچھی پوزیشن میں رہے، دوسرا سیشن بھی ٹھیک رہا لیکن تیسرے سیشن میں ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ‏‏کوشش کریں گے کہ کل آتے ہی نیوزی لینڈ پر دباؤ ڈالیں،

    ‏باؤلر محمد عباس نے مزید کہا کہ پہلی کوشش یہی ہے کہ جلد از جلد نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں کو آؤٹ کریں، رنز روکنے کی بھی کوشش کریں گے، ‏ پچ پہلے دن کی نسبت تھوڑی تبدیل ہوئی ہے، ٹیسٹ میچ ہر چیز کا ٹیسٹ ہوتا ہے، اگر وکٹیں نہ ملیں تو رنز روکنے کی کوشش کرتا ہوں،

  • صوبائی وزیراقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹن کی ننکانہ صاحب کے نواحی گاﺅں ینگسن آباد آمد

    صوبائی وزیراقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹن کی ننکانہ صاحب کے نواحی گاﺅں ینگسن آباد آمد

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی کاوشوں سے بہت جلد مسیحی برادری کے دونوں دیہاتوں میں ترقیاتی منصوبوں کا آغار کردیا جائے گا،انسانی حقوق کے متعلق تمام مسائل کے حل کے لیے ضلعی سطح پرخصوصی مہم چلائی جائے گی،کھیلوں کی سرگرمیوں سے نوجوان طبقہ منشیات جیسی برائیوں سے بچ سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہارصوبائی وزیراقلیتی امور و انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹن نے ننکانہ صاحب کے نواحی گاﺅں ینگسن آباد میں یوتھ ویلفئیرایسوسی ایشن ینگسن آباد کے زیر اہتمام سالانہ کرسمس فٹبال ٹورنامنٹ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کیا ۔ مسیحی برادری کی یوتھ ویلفئیر ایسوسی ایشن ینگسن آبادکے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ کرسمس فٹبال ٹورنامنٹ کے موقع پرڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد ،اسسٹنٹ کمشنر ننکانہ صولت حیات وٹو،مسیحی برادری کے دیگر عہدیداران ،پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نمائندگان سمیت شائقین فٹبال کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔اس موقع پر صوبائی وزیربرائے اقلیتی امور و انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹن نے کہا کہ نوجوان نسل میںتعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے کھیلوں کی سرگرمیاںنہایت ضروری ہیں۔صوبائی وزیراقلیتی امور و انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹن ،ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے مسیحی برادری کی یوتھ ویلفئیرایسوسی ایشن ینگسن آباد کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ کرسمس فٹبال ٹورمنٹ کے اختتام پر بہترین کارکردگی اور جیتنے والی ٹیموں کے کھلاڑیوں میں انعامات اور شیلڈز بھی تقسیم کیں۔

  • گرل فرینڈ بوائے فرینڈ ٹرینڈ اور اس کا عذاب۔

    گرل فرینڈ بوائے فرینڈ ٹرینڈ اور اس کا عذاب۔

    تحریر بائے
    عبدالرحمان یوسف
    زنا اور اسکی ہولناکیاں
    مسلم علما زنا کی تعریف کے بارے میں مختلف سطحوں کا نظریہ پیش کرتے ہیں اور اس لحاظ سے کوئی بھی ایسا فعل جس میں جنسی تسکین اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے خلاف حاصل ہو وہ زنا میں شمار ہو جاتا ہے؛ ان افعال میں بوسہ، مخالف جنس کو چھونا، جنس دہن حتٰی کے مخالف جنس کی جانب دیکھنا یا جنسی خیالات رکھتے ہوئے اس کے قریب ہونا بھی زنا میں شمار کیا جاتا ہے۔ علما کے مطابق کچھ زنا ایسے ہیں جن پر کوئی سزا (عام حالات میں) نہیں دی جاتی جبکہ وہ زنا جس پر سزا نافذ ہوتی ہے اس کی قانونی تعریف وہی ہے جو اس مضمون کے ابتدایئے میں درج کی گئی ہے یعنی عورت اور مرد کے جنسی اعضاء کا ایک دوسرے میں داخل ہونا، اس قسم کے زنا کے علاوہ دیگر اقسام کے زنا پر اگر فحاشی یا حرام کاری کی سزا ہو بھی تو وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے نا کہ سو کوڑوں یا رجم کی سزا۔

    گرل فرینڈ بوائے فرینڈ ٹرینڈ اور اس کا عذاب..

    ✍️ صحیح بخاری کی حدیث سے شروع کرتے ہیں کہ..
    صحیح بخاری میں زنا کے گناہ کے بیان کا ایک چیپٹر ہے جس میں انٹرنیشنل نمبرنگ کے مطابق 6809 نمبر حدیث ہے…
    *”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:*
    *بندہ اس وقت مومن نہیں رہتا جس وقت وہ زنا کر رہا ہوتا ہے.
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔
    شادی شدہ مرد اور عورت زناکریں تو دونوں کو سنگسار کردو یہ اللہ کی طرف سے سزا ہے۔
    زانی ایمان کی حالت میں زنا نہیں کرتا ( یعنی جب وہ زنا کرتا ہے تو ایمان سے خالی ہوجاتا ہے)۔
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا توآپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ ’’ ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرنا
    اس حدیث کے بعد زنا کے بارے میں دو تین باتیں جو کرنا چاہتا ہوں وہ کچھ یہ ہیں..
    کہ..
    جب بندہ زنا کر رہا ہوتا ہے تو اس کا ایمان اس کے جسم سے نکل کر الگ ہو جاتا ہے..
    گویا جتنا وقت زنا میں گزرا وہ وقت کفر کی حالت میں گزر گیا…
    یہ میں خود سے نہیں کہہ رہا الحمدللہ پورے حوالہ اور مکمل طور پر سمجھ بوجھ کے ساتھ شریعت کے مطابق لکھ رہا ہوں..
    اب ذرا عورتیں سوچیں کہ جب کسی غیر محرم نے ان کے جسم کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگایا…. وہ سارا وقت ان کا کفر میں گزرا۔یہ اتنی دیر تک کفر کی حالت میں رہی ہیں.
    اب کہنے کو تو مسلمان بنی پھرتی ہیں،لیکن کل کو نامہ اعمال جب کھولا جائے گا تو یہی لکھا ہو گا کہ اتنا وقت کفر کی حالت میں گزرا..
    یار آپ خود سوچیں کہ ایسا گناہ جس کی وجہ سے ایمان ہی بندے سے گم ہو جائے….
    اللہ اکبر کبیرہ….……………
    سوچتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ محض چند لمحوں کی لذت کے لیے اپنی آخرت ہی بربادکر دی جائے..
    اور اگر اللہ نا کرے کسی کو اس دوران موت نے آ پکڑا تو میرے بھائی وہ توکفر میں مر گیا ….استغفراللہ….
    اللہ تعالٰی ہمیں ایسے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین…
    ✍️ ایسا شخص جو زنا کرتے کرتے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا تو حدیث پاک میں آتا ہے کہ کل قیامت کے دن اللہ رب العزت اسے نہیں دیکھے گا…
    اور ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اس پر لعنت برسائیں گے…
    ✍️ *….دوسری بات …………*
    ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ: *اگر کوئی زنا پر مقیم ہوتا ہے وہ بُت پرست ہوتا ہے..*
    چونکہ یہاں بہت قابل احترام لوگ تحریر پڑھ رہے ہوں گے اس لیے میں انتہائی مودبانہ الفاظ استعمال کروں گا کہ ہم لوگ صرف اس چیز کو زنا سمجھتے ہیں کہ اگر دو غیر محرم جنسی تعلقات قائم کریں تو یہ زنا کہلائے گا…
    لیکن جو ابن عساکر رحمہ اللہ کی حدیث میں نے نقل کی ہے اس کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں کہ :
    *اگر کسی عورت کا کسی غیر محرم کے ساتھ دو سال افئیر رہا…(آج کی زبان میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا تعلق) تو اللہ کے ہاں یہ دو سال تک دونوں بُت پرست رہے…*
    *اس کا نام مومنوں کی فہرست میں نہیں ہو گا بلکہ بُت پرستوں میں ہو گا.*
    اسی طرح اگر کسی مرد کا عورت سے غلط تعلق رہا تو گویا وہ بت پرست لکھا جا رہا ہے۔۔
    آج سوچیے کہ ہم بُت پرستوں کی باتیں پڑھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ ایمان سے محروم تھے…
    کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم کلمہ پڑھتے ہوئے بھی بُت پرست لکھے جا رہے ہوں..
    اس لیے عرض کروں گا اپنے بھائیوں سے… اپنی بہنوں سے کہ اس پوائنٹ کو خوب اچھی طرح سمجھیں کہ یہ زنا کا گناہ ایمان سے محروم کر دے گا اور انسان کو اللہ کے دفتر سے محروم کر دے گا.
    یہ جو ہوتا ہے نا کہ کسی کو محبت سے چاہنا، ہر وقت اس کا ذکر زبان پر رہنا…
    تو پھر اللہ تعالیٰ بندے کا نام ایمانداروں کی لسٹ سے نکال دیتا ہے کہ جب میرے بندے نے اپنا دین ایمان ہی اسے سمجھ لیا ہے جو اس کے لیے کچھ رشتہ ہی نہیں تو اللہ کو کیا ضرورت ہے تمہیں اپنے شمار میں لکھنے کی..
    تو کتنی عجیب بات ہے کہ جس عورت کا کسی مرد کے ساتھ پانچ سال غلط تعلق رہا..
    چار سال رہا دو سال رہا..
    وہ پانچ چار یا دو سال اللہ کے کاغذوں میں وہ مشرکہ لکھی گئی… وہ مومنہ نہیں رہی….اور یہ مرد بھی پانچ چار یا دو سال مشرک لکھا جاتا رہا…. یہ پانچ سال کے اعمال نامہ میں کفر لکھواتے رہے دونوں .
    سوچیے یہ کتنا بڑا گناہ ہے..
    اور پھر اس کی سزا جو آخرت میں ملے گی وہ پڑھ کر بندہ کانپ جاتا ہے.
    ان میں سے ایک سزا یہ ہے کہ جو زانیہ عورت ہو گی اور بغیر توبہ کے مر جائے گی..
    تو جہنم میں فرشتے اس کو ایک غار کی طرف لے جائیں گے..
    اس غار کے اندر دھکا دے کر اس کے منہ پر چٹان رکھ دیں گے.. تاکہ وہ عورت نہیں نکل سکے…
    اس غار کے اندر اتنے بچھو ہوں گے اور وہ اس طرح سے اس عورت کے جسم پر چمٹیں گے۔۔۔ جیسے شہد کی مکھیاں شہد کے چھتے پر ہوتی ہیں…
    اور اتنے بچھو ایک وقت میں اسے ڈنگ ماریں گے اس کو تکلیف ہوگی…..
    اور اس وقت اسے آواز آئے گی کہ تو نے وہ گناہ کیا جس کی وجہ سے تیرے جسم نے مزے لیے تھے…
    آج تیرے جسم کے انگ انگ میں زہر جائے گا…
    اور اس جسم کو تکلیف پہنچائے گا…
    اب ذرا سوچیے کہ اکیلا جسم… اکیلا انسان… ایک غار….. منہ بند…. گھپ اندھیرا…شہد کی مکھیوں کے چھتے سے زیادہ بچھو… جسم پر چمٹے ہوئے…
    وہ کاٹیں گے اور ایک وقت میں کاٹیں گے….
    میرے بھائی آج دنیا کی مکھی اگر کاٹ لے تو آپ تو برداشت نہیں ہوتا…
    میری بہن آج دنیا میں ایک چھپکلی کمرے میں آ جائے تو آپ ڈر جاتے ہو….
    اس منظر سے ڈرو جب کوئی آپ کا مدد کرنے والا نہیں ہو گا….
    محض دنیا کے چند لمحوں کی لذت کے لیے اپنے جسم کو ہمیشہ کی تکلیف سے بچائیں…
    چند لمحوں کی لذت کے لیے اللہ کی بارگاہ میں بندہ دھتکار دیا جائے…. میرے بھائی… میری بہن… اس سے بڑی حماقت اور بدبختی بھلا کیا ہو گی…
    میں ایک لڑکا ہو کر آپ سے کہہ رہا ہوں کہ ساری ساری رات آپ سے فون پر باتیں کرنے والے کو آپ سے کوئی ہمدردی نہیں ہے وہ صرف آپ کے حسن کا اور اپنی ہوس کا بھوکا ہے…
    خدارا آپ چاہو تو اپنی بھی اور اُس کی بھی آخرت کو سنوار سکتی ہو..
    اور بالفرض اگر اسے محبت ہے بھی تو وہ جس نے تمہیں ستر ماؤں سے زیادہ پیار کیا اس کی محبت کے سامنے تو اس شخص کی محبت آٹے میں نمک کا ہزارواں حصہ بھی نہیں ہے…
    اور اس کے برعکس اگر کوئی شادی شدہ ہو کر بھی اس گناہ میں مبتلا رہا تو بتائیے کہ اس کے پاس کیا جواز ہو گا..
    کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تمہاری نظر کسی غیر محرم پر پڑے تو فوراً نظر جھکا لو…
    اور علماء حدیث کے مفہوم میں لکھتے ہیں کہ: *”جب تمہارا کسی عورت کی طرف دل مائل ہو تو اپنی بیوی کی طرف رجوع کرو کہ وہ بھی تمہارے لیے بنائی گئی ہے…”*
    ایک شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو میں سوچتا ہوں کہ ہو سکتا ہے وہ کل قیامت کے دن کہہ سکے کہ یا اللہ! والدین نے شادی نہیں کی تھی یا میرے اتنے وسائل نہیں بنائے تو نے..
    لیکن ایک شخص شادی شدہ ہونے کے باوجود اس گند میں پڑا ہوا ہے تو اس سے تو گندا انسان اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بیوی جیسی نعمت سے نوازا ہے دو دو تین تین بچے ہیں اور یہ ہے کہ باہر گند پر بیٹھا ہوا اپنی زندگی تباہ کر رہا ہے…
    سچی توبہ بہت بڑی شے ہے آج کے دن میں ایسے تمام گناہوں سے توبہ کر کے ہر بہن، بیٹی اور مرد مومن کی آخرت کو سنوارنے کی کوشش کیجئے..
    میں نے بہت پہلے ایک بات لکھی تھی کہ اگر واقعی کوئی تمہارا اپنا ہے تو اس تعلق کی جانچ یہ ہے کہ اسے تمہاری آخرت کی کتنی فکر ہے..
    اور یقین جانیے کہ یہ فطرتی امر ہے۔ بے شک آپ کی بیوی کو معلوم بھی نا ہو یا آپ کے شوہر کو معلوم بھی نا ہو کہ آپ کا کسی غیر محرم سے تعلق ہے میں پورے وثوق سے کہتا ہوں واللہ آپ میاں بیوی کے رشتے میں برکت ختم ہو جائے گی..
    خود بخود بےتکی باتوں پر جھگڑا گھر میں ہر وقت چک چک ،لڑائی جھگڑا، بے برکتی، بے رونقی سی ہو جائے گی..
    اور اگر بالفرض پتا چل گیا تو اس سے بڑی گندگی آپ کے لیے کیا ہو سکتی ہے…
    حدیث کے مفہوم میں ہے: کہ *”جو لوگ فحش باتیں سنتے ہیں قیامت کے دن ان کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا..”*
    تو یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو بس موبائل کی حد تک ہیں میرے بھائی یہ موبائل تک نہیں بت پرستی اور کانوں میں سیسہ ڈلنے کی حد تک کی بات ہے…
    آپ کیا سمجھتے ہیں کہ فون پر آپ دین کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں..
    بھلا ایک غیر محرم لڑکی کسی غیر محرم سے رات کے دس بجے سے تین تین بجے تک کون سی خاص باتیں کر رہی ہوتی ہے جو دن کے اجالے میں نہیں ہوتی ہیں…
    یہاں بہت معزز لوگ تحریر پڑھ رہے ہوتے ہیں اس لیے میں نے محتاط الفاظوں میں بات کرنے کی کوشش ہے..
    اپنی اور دوسروں کی آخرت کی فکر کریں
    اس تحریر کو کاپی کر کے اس امت کے ہر نوجوان بھائی ہر نوجوان بہن تک پہنچائیں اگر کسی ایک کو بھی اللہ نے آپ کی وجہ سے ہدایت دے دی تو شاید آپ کی اور میری آخرت کی کامیابی کا سبب یہی بات بن جائے..
    خدارا اپنی :”. سنو!!!
    اے بنت حوا… اے ابن آدم…… خدارا…
    اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو حق بات کہی اللّٰہ تعالٰی ہمارے دلوں میں راسخ فرمائے ہمیں قرآن و سنت پر عمل کر کے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین.
    اگر جذ بات میں مجھ سے کچھ سخت الفاظ لکھے گئے ہوں تو آپ سب سے بھی معذرت چاہوں گا اور اللّٰہ تعالیٰ بھی مجھے معاف فرمائے آمین.

    *وَ اٰخِرُ دَعۡوٰىہُمۡ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ.*

  • صوبائی وزیر برائے سپورٹس پنجاب رائے تیمور بھٹی کا دورہ ننکانہ۔

    صوبائی وزیر برائے سپورٹس پنجاب رائے تیمور بھٹی کا دورہ ننکانہ۔

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت اور سکھ کمیونٹی کی جانب سے سپورٹس فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ کھیلوں کی ترقی اورکھلاڑیوں کو اپنے ٹیلنٹ کے اظہار کا بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے، کھیلوں کی سرگرمیوں سے نوجوان طبقہ منشیات جیسی برائیوں سے بچ سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر برائے سپورٹس پنجاب رائے تیمور بھٹی نے ننکانہ صاحب کی سکھ کمیونٹی کے زیر اہتمام گوردوارہ تنبوصاحب میں کبڈی اور کرکٹ کے میچوں میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کیا ۔ سکھ کمیونٹی کے زیر اہتمام گوردوارہ تنبو صاحب میں منعقدہ سالانہ سپورٹس گالا کے دوران ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اسماعیل الرحمن کھاڑک،اقلیتی ایم پی اے سردار مہندرپال سنگھ ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد عثمان خالد،اسسٹنٹ کمشنر ننکانہ صولت حیات وٹو،ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر مقبول احمد، سکھ کمیونٹی کے دیگر عہدیداران ،پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نمائندگان سمیت سکھ کمیونٹی کے مردو خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔اس موقع پر صوبائی وزیر برائے سپورٹس پنجاب رائے تیمور بھٹی نے کہا کہ نوجوان نسل میںتعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے کھیلوں کی سرگرمیاں نہایت ضروری ہیں،ضلعی انتظامیہ ، ضلعی محکمہ سپورٹس اورننکانہ صاحب کی سکھ کمیونٹی کی اچھی کاوشوںکی بدولت طلباءاور کھلاڑیوں میں صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا ہے۔صوبائی وزیر سپورٹس پنجاب رائے تیمور بھٹی ،ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد اوراقلیتی ایم پی اے مہندرپال سنگھ نے سکھ کمیونٹی کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ سپورٹس فیسٹیول کے اختتام پر بہترین کارکردگی اور جیتنے والی ٹیموں کے کھلاڑیوں میں ٹرافیاں اور نقد انعامات تقسیم کیے۔

  • سال 2021 اور ہماری دعائیں ، تحریر کشور منشاء

    سال 2021 اور ہماری دعائیں ، تحریر کشور منشاء

    سال 2021 اور ہماری دعائیں

    ہر سال کی طرح اس سال بھی ہم امن و سلامتی اور خوشحالی کی دعائوں کے ساتھ نئے سال کو جوش و جزبے کے ساتھ خوش آمدید کہیں گے لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ جو دعائیں ہم ہر سال کرتے انہیں شرف قبولیت عطا کیوں نہیں ہوتا؟ جس پروردگار سے ہم دعائوں کے طلبگار کیا ہمارے اعمال بھی اس کے رضا کے مطابق ہیں یا نہیں؟

    یا کبھی ہم نے سوچا ہو کہ ہماری دعائیں قبولیت کا درجہ بھی رکھتی یا نہیں؟

    تھوڑا غور کریں تو یقینا جواب نہیں میں ملے گا تو کیا ہم صرف رسم دعا نبھانی ہے یا اسکی قبولیت کے لیے کوئ عملی قدم بھی اٹھانا ہے؟

    ہمیں دیکھنا ہو گا جس ذات کریم سے ہم دعا کے طلبگار ہیں اس نے قبولیت کا پیمانہ کیا رکھا ہے؟کیا ہم اس پہ پورا بھی اترتے یا نہیں؟

    قرآن پاک میں جو ہمارے لیےدستور حیات ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں۔

    ” اور اللہ ان لوگوں کی دعائیں سنتا ہے جو ایمان لائے اور جنھوں نے اعمال صالح کیے اور زیادہ دیتا ہے انکو اپنے فضل سے اور جو کفر کرتے ہیں انکے لیے عذاب شدید ہے ”
    سورہ الشوری آیت 26

    اگر اس آیت میں قبولیت کی معیار کو دیکھا جائے تو ہم کن لوگوں میں شمار ہوتے ہیں؟
    ہم ایمان والوں کے تقاضوں پر پورا اترتے ہیں یا ہم اعمال صالح کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں؟فیصلہ آپ خود کییجیے گا

    میرے اعمال بھی آپ جیسے ہیں کیونکہ میں بھی اسی معا شرے کا حصہ ہوں تو ائیے مل کر اسی دستور حیات کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں اسی طریقے سی جیسے رب ذوالجلال نے کتاب مبین میں بیان فرمایا ہے۔

    ” تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑ گڑا کر بھی اور چپکے چپکے بھی بیشک اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا”
    سورہ اعراف آیت 55

    تو آئیے اس سال دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں ایمان والوں اور عمل صالح کرنے والوں میں شامل کرے نہ کہ جو کفر کرتے ہیں اور حد سے گزرنے والے ہیں۔

    اور دعاوں کے ساتھ اعمال پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی کیونکہ جیسے دوا کے ساتھ پرہیز لازمی ہوتا دعا کے ساتھ بھی پرہیزگاری لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے ک اللہ اپنے محبوب بندوں نبیوں پیغمبروں کی دعاوں کو قبول کرتا کہ وہ پرہیزگاری میں افضل ترین درجے پر فائز ہوتے ہیں۔
    ہمیں بھی اپنی دعاوں کی قبولیت کے لیے زندگی کے ہر معاملے میں قرآن پاک اور آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی ہو گی اسی سے دو جہانوں میں ہم سب کی نجات ہے۔ اللہ ہم سب کے لیے آسانیاں فرمائے۔

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    تحریر : کشور منشاء