Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کفار کے ہاتھوں مسلمانوں کی شہادتیں اور نیو ائیر نائٹ   ازقلم :غنی محمود قصوری

    کفار کے ہاتھوں مسلمانوں کی شہادتیں اور نیو ائیر نائٹ ازقلم :غنی محمود قصوری

    کفار کے ہاتھوں مسلمانوں کی شہادتیں اور نیو ائیر نائٹ

    ازقلم غنی محمود قصوری

    آج عیسوی سال 2020 کا اختتام ہو رہا ہے جس کی خوشی میں دنیا بھر میں نیو ائیر نائٹ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور ہم پاکستانی بھی اسے منانے میں کسی سے کم نہیں نیو ائیر نائٹ منانا کفار کا طریقہ ہے مسلمانوں کا نہیں اگر نئے سال پر جشن منانا جائز ہوتا تو میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب محمد کریم ضرور مناتےمسلمانوں کے سال کا آغاز محرم سے ہوتا ہے اور رواں ماہ جمادی الاول ہے-

    یہ کفار سارا سال مسلمانوں پر کشمیر سے فلسطین ،شام سے افغانستان، عراق تک ظلم ہی ظلم کرتے رہے ہیں ہزاروں ماؤں کے لال،سہاگنوں کے سہاگ بزرگوں کے سہارے اور بچوں سے ان کے والدین چھین کر مسلمانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا جبکہ ہزاروں کو زندگی بھر کیلئے اپاہج کر دیا گیا –

    اس وقت پوری دنیا عالم اسلام پر ایسے ٹوٹ پڑی ہیں جیسے کوئی بھوکا کھانے پر ٹوٹتا ہے حالانکہ ان غنڈہ ممالک کے مذاہب ایک نہیں ان کے مسالک ایک نہیں مگر جب مسلمانوں کو یہ شہید کرتے ہیں اور ان کے علاقوں پر قبضے کرتے ہیں تو یہ ایک ہو جاتے ہیں ان کا کوئی مسلک کوئی مذہب نہیں ہوتا –
    یہ فرمان نبوی کے مطابق
    ، الکفر ملت واحدہ
    کافر ایک ملت ہیں،
    ایک ہو جاتے ہیں میرے رب کا وعدہ تو سچا ہے کہ یہ کافر لوگ تم سے ہرگز خوش نا ہون گے یہاں تک کہ تم دین اسلام چھوڑ کر ان کا مذہب اختیار نا کر لو اور یہ کافر تمہارے ہمدرد نہیں بلکہ اپنے کافروں کے ہمدرد ہیں اسی لئے میرے رب نے ان کفار سے دوستیاں لگانے سے منع فرمایا ہے-

    مگر افسوس آج ہمارے مسلمان حکمران اپنا کھانا تک ان کافروں کے بغیر نہیں کھاتے اور ان کے ساتھ کھانا کھانا باعث اعزاز سمجھتے ہیں
    اس نظام جمہوریت میں ہمارے حکمران پستی کی ہر حدیں کراس کر رہے ہیں حالانکہ مسلمان غالب ہونے کیلئے ہوتا ہے مغلوب ہونے کیلئے نہیں-

    سلام ان مغلوب مسلمان اقوام پر کہ جنہوں نے نا کل ان کفار کی غلامی کو قبول کیا تھا اور نا آج کیا ہے اور نا کل کرینگے کیونکہ ان کو فرمان الٰہی یاد ہے
    ،وجاھدو حق جہاد ،
    یہ مظلوم تو مار کھا کر سینوں پر گولیاں کھا کر ڈٹے ہیں مگر افسوس دولت اور دنیاوی آسائشوں کے لالچ میں مسلمان اندھے حکمرانوں نے کفار سے پینگیں بڑھانے کو ہی کامیابی جانا اور اخروی کامیابی کو بھول گئے اور ساتھ ہی عیاشی میں مبتلا آزاد مسلم ریاستوں کی عوام بھی کچھ پیچھے نہیں ان کفار کو خوش کرنے کیلئے آج ان کا دن نیو ائیر نائٹ منایا جائیگا حتی کہ سرکاری عمارتوں تک کو سرکاری سرپرستی میں سجایا جائے گا تاہم ہم عالم کفر کو اپنے روشن خیال ہونے کا عندیہ دیں اور ان کی امداد سے استفادہ حاصل کریں-

    آج نیو ائیر نائٹ پر ساری رات رقص و سرو کی محافل چلیں گیں کفار کے کلچر کو پروان چڑھایا جائیگا ہمسایوں کو ڈھول کی تھاپ پر تنگ کرکے مزہ لیا جائیگا موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر سڑکوں پر کارڈیک،انجائنہ،اینگزائتی کے مریضوں کر پریشان کیا جائے گا ہوائی فائرنگ کرکے لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کیساتھ ان کو موت کے منہ میں دھکیلا جائے گا اور خود بھی ون ویلنگ کرتے ہوئے کسی دوسرے سے ٹکڑا کر ہسپتال پہنچنے پر آخر دعائیں اللہ سے ہی مانگی جائیں گی کیونکہ ہم کو پتہ ہے کہ کفار کے تہوار اثر نہیں کرتے ان کی یاریاں کام نہیں آتیں اگر کام آتی ہیں تو اپنے مسلمان بھائیوں کی دعائیں اور رب رحیم کا فضل و کرم-

    یہاں میں اپنے ہمسایہ کافر ملک ہندوستان کا رواں سال 2020 میں ہونے والا ظلم بتاؤ تو 5 اگست 2019 سے ہندو نجس نے آرٹیکل 370 ختم کرکے پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو ایک جیل بنایا ہوا ہے جہاں زیادہ تر موبائل و انٹرنیٹ سروس بند رکھی جاتی ہے لوگوں کو ایک سے دوسری جگہ جانے کیلئے تھانے سے کرفیوں پاس لینا پڑتا ہے-

    صرف رواں سال 2020 میں ہندو دہشت گرد فوج کی طرف سے 225 آزادی پسند مجاھدین اور 70 عام شہریوں کو شہید اور 200 سے اوپر عام شہریوں کو زخمی کیا گیا ہے اس کے علاوہ سینکڑوں مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش اور ہزاروں کشمیری عورتوں کی عصمت دری کی گئی آئے روز انٹرنیٹ و موبائل فون سروس بند ہونے کے باعث اصل تعداد رقم سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے-

    انڈین فوج اس قدر ظالم ہے کہ رواں سال کئی کشمیریوں کو ناجائز شہید کیا گیا جس کی سب سے بڑی مثال کل یعنی 30 دسمبر کو ہونے والے جعلی مقابلے میں 3 کشمیری نوجوانوں کی شہادت ہے جنہیں سری نگر سے اغوا کیا گیا اور دھماکہ خیز مواد کیساتھ شہید کیا گیا یہ تینوں دوست پلوامہ سے سری نگر یونیورسٹی میں فارم بھرنے آئے تھے اور نہتے تھے-

    افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف تو یہ کافر ہمارے ہی مسلمان بھائیوں کو بے دردی سے شہید کریں اور پھر ہم انہی کفار کے تہوار نیو ائیر نائٹ منا کر ان مظلوم مسلمانوں کے سینوں پر مونگ دلنے کیساتھ ہوائی فائرنگ،شراب،رقص و سرو کی محافل اور ون ویلنگ سے اپنے ہی محلہ داروں،شہریوں،رشتہ داروں کو تننگ کریں-

    افسوس ہم بھول گئے یہ کافر ہمارے دوست نہیں ان کے تہوار منانا دین نہیں بلکہ دین کی نفی اور گناہ ہے-

  • آزمائشوں کا سال ہوا اختتام پذیر  تحریر:خنیس الرحمٰن

    آزمائشوں کا سال ہوا اختتام پذیر تحریر:خنیس الرحمٰن

    آزمائشوں کا سال ہوا اختتام پذیر… تحریر:خنیس الرحمٰن

    سال اپنے اختتام کو ہے, چند دن باقی ہیں پھر 20 کا ہندسہ 21 میں بدل جائے گا. 2020ء کا سال اقوام عالم کے لئے آزمائشوں سے بھرا سال تھا.2020ء کے آغاز میں چین سے ایک بیماری کا آغاز ہوا جس سے مجھ سمیت سب پاکستانی سنجیدہ نہیں سمجھ رہے تھے. کوئی کہہ رہا تھا کہ چائنہ والوں نے حرام اشیاء کا استعمال کیا اور کورونا نامی بیماری پھیل گئی.چین امریکہ کی سازش قرار دیتا رہا اور ٹرمپ اسے چائنہ وائرس کہتا رہا. ہر زبان پر مختلف آراء تھیں. لیکن اللہ دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ یہ کسی خاص ملک کا مذہب پر آزمائش نہیں یہ بیماری وسیع ہوتی چلی گئی اور مارچ کے مہینے میں پاکستان میں کیسز کا شور سنائی دینے لگا.

    لیکن اس کے باوجود ہم یہی سمجھتے رہے کہ بس افواہیں ہی ہیں. لیکن 14 مارچ کے دن جب تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اعلان کردیا گیا اور اس کے بعد لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا اس کے بعد آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا کہ واقعی کوئی بیماری ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی کیسز بڑھتے جارہے ہیں. ہسپتالوں میں ڈیسک قائم کردیے گئے. قرنطینہ سنٹرزقائم کردیا گئے کہ اس وائرس کا شکار لوگ اپنے آپ کو بند کمروں میں محصور کرلیں. ہم نے اپنے کئی قریبی لوگوں کو اس وائرس کا شکار ہوتے دیکھا. روزانہ کہیں نا کہیں سے اموات کی اطلاعات ملنے لگیں. کورونا سے فوت ہونے والوں کے کوئی قریب نہ جاتا تھا, جنازے میں کوئی شریک ہونے کے لیے تیار نہ تھا نہ ہی انہیں کوئی غسل دینے کو تیار تھا. یہاں میں لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف مذہبی اسکالر انجینئر ابتسام الٰہی ظہیر صاحب کو ضرور خراج تحسین پیش کروں گا جنہوں نے اعلان کیا کہ ہر شہر میں ہمارے لوگ کورونا سے فوت ہونے والوں کی تجہیزو تکفین کا اہتمام کریں گے.

    ہاں تو میں بتا رہا تھا اس وائرس نے انسان کو مجبور کردیا .کہیں بیٹا باپ کو اکیلا لحد میں اتار رہا تھا تو کہیں باپ بیٹے کو کوئی قریب ہونے کے لیے تیار نہ تھا. اس وائرس نے لوگوں کو اللہ کے گھروں میں جانے سے روک دیا مختلف ممالک میں پاکستان سمیت مساجد کو بند کردیا گیا ,مساجد میں اعلانات ہونے لگے کہ نمازیں گھروں میں ادا کی جائیں. نماز جمعہ کے اجتماعات کو روک دیا گیا. علماء نے حکومت کو قائل کیا کہ وہ مساجد کھولیں تاکہ لوگ مساجد میں جاکر اپنے اللہ کو راضی کریں کہ اللہ انہیں ان آزمائشوں سے نکالے,حکومت نے اجازت تو دی لیکن حفاظتی تدابیر کو اپناتے ہوئے. صدر مملکت عارف علوی خود مساجد میں ایس او پیز دیکھنے لئے جاتے رہے.نماز تراویح کو روک دیا گیا اور سعودیہ عرب نے عمرے جیسی عظیم عبادت کو وباء کی وجہ سے روک دیا. وہ اللہ کا گھر جہاں ہر وقت دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگ ملتزم کو پکڑ کر بیت اللہ کے سامنے بیٹھ کر اپنی التجائیں اللہ کے سامنے رکھتے تھے وہ خالی ہوگیا لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بند ہوگئیں. پھر حج کا مہینہ آیا تو مخصوص لوگوں کے علاوہ جو سینکڑوں میں تھے اللہ سے آزمائشوں سے نجات طلب کرنے لگے.

    سال 2020ء میں اس وباء سے کئی ہیرے متاثر ہوئے اور دنیا چھوڑ گئے. اس سال میں سب سے زیادہ علماء اپنے رب سے ملاقات کے لیے اس دنیا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے. اس وباء نے دنیا کی معیشت کو کمزور کردیا. تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچا. امتحانات کو ملتوی کردیا گیا ,طلباء کو پروموٹ کردیا گیا. مدارس دینیہ بند کردیے گئے.سب ممالک کے آپس میں فضائی تعلقات منقطع ہوگئے. ریستوران بند ہوگئے. تعلیم آن لائن ہوگئی اس وباء نے ہر شخص کو انٹرنیٹ سے نتھی کردیا سب کچھ آن لائن ہوگیا .بڑی بڑی کانفرنسز ویبینارز میں تبدیل ہوگئیں. دنیا کا سارا نظام ایک بار پلٹ گیا.

    آہستہ آہستہ وباء کا زور ٹوٹنے لگا. کاروبار اور تعلیمی ادارے کھول دیئے گئے اور سال 2020 ء بھی اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے لیکن اب وباء پھر سے زور پکڑ رہی ہے اب اس کی دوسری لہر سامنے آرہی ئے. کہا جارہا ہے کہ یہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہے اور اس کا اصل مرکز برطانیہ ہے. تعلیمی اداروں کو ایک بار پھر سے بند کردیا گیا ہے. مدارس کو بھی بند کا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے.ماسک پہننے پر زور دیا جارہا ہے. ایس او پیز کو اختیار کرنے کا کہا جارہا ہے دوسری طرف سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے جلسے جلوس زور و شور سے کررہے ہیں .حال ہی میں کئی سیاسی رہنماء کورونا کا شکار ہوئے لیکن جلسوں کو انہوں نے جاری رکھا. احتیاط کی ضرورت ہے. تدابیر کو اپنائیں اور اس وائرس کو پھیلنے سے بچانے میں ہم کردار ادا کریں. اس وباء میں ڈاکٹرز اور طبی عملے نے سب سے زیادہ کردار ادا کیا. کئی ڈاکٹرز اور طبی عملے سے تعلق رکھنے والے افراد اس وباء کا شکار ہوئے اور اس دنیا سے چلے گئے. سال 2021 ء ہم اپنے اللہ سے دعا کرتے ہیں ہمارے لئے آزمائشوں سے خالی ہو ہم خود بھی اپنا محاسبہ کریں اور اپنے اللہ کو راضی کریں شائد ہم سے کوئی خطاء ہوگئی ہو جس کے باعث یہ سال ہمارے لئے آزمائشوں کا سال ثابت ہوا. اپنا خیال رکھیں اور احتیاط کریں ….

  • آخری پانچ اوورز تک میچ کا جانا کس بات کی دلیل ہے. کپتان نے اہم بات کہہ دی

    آخری پانچ اوورز تک میچ کا جانا کس بات کی دلیل ہے. کپتان نے اہم بات کہہ دی

    آخری پانچ اوورز تک میچ کا جانا کس بات کی دلیل ہے. کپتان نے اہم بات کہہ دی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کپتان قومی ٹیسٹ ٹیم محمد رضوان نے کہا ہےکہ میچ کا آخری پانچ اوورز تک جانا دونوں ٹیموں کی محنت کا ثبوت ہے،میزبان ٹیم نے میچ کے پہلے دو دن مکمل کنٹرول رکھا، ہمارے کھلاڑیوں نے بیٹنگ اور باؤلنگ میں بہت اچھا کم بیک کیا،
    فواد عالم اور فہیم اشرف نے اچھا کھیل پیش کیا، آخری اوورز میں دونوں ڈریسنگ میں دباؤ تھا، ٹیسٹ میچ کی خوبصورتی بھی یہی ہے،
    ‏ میزبان ٹیم نے اچھا کھیل پیش کیا، کپتان کین ولیمسن نے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا، ‏ٹیسٹ میچ پریشر کا کھیل ہے،


    ایک وکٹ گرنے سے دباو پڑا اور ہم آوٹ ہو گئے، ہمارا ٹاپ آرڈر ماضی میں پرفارم کرتا آیا ہے اور امید ہے کہ وہ آئندہ بھی پرفارم کرے گا، نیوزی لینڈ میں ‏ٹاپ آرڈر کے لیے کنڈیشنز مشکل ہوتی ہیں،

    محمد رضوان کا کہنا تھا کہ یقین ہے کہ ہمارا ٹاپ آرڈر دوسرے میچ میں اچھا کھیلے گا، ‏ نیوزی لینڈ کی ٹیم اچھا کھیلی تو جیتی لیکن میں اپنے کھلاڑیوں کو بھی کریڈٹ دوں گا، ‏فواد عالم کو ریکارڈ وقت کریز پر گزارنے پر پر مبارکباد دیتا ہوں، فواد عالم اور میں نے صرف وکٹ پر ٹھہرنے کا پلان بنایا تھا، ‏نیل ویگنر فریکچر کے ساتھ کھیلے، ان کو کریڈٹ دینا چاہیئے، نیوزی لینڈ کو ان پر فخر ہوگا، محمد رضوان
    ‏ کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میچ جیت کر سیریز برابر کریں گے، جن کھلاڑیوں سے پہلے میچ میں پرفارم نہیں ہوا ان سے دوسرے میچ میں بہتر کھہل کی امید ہے،

  • آزاد کشمیر: میر پور ڈویژن میں ٹیلی نار کمپنی کے ٹاور کنٹرولرز سیل

    آزاد کشمیر: میر پور ڈویژن میں ٹیلی نار کمپنی کے ٹاور کنٹرولرز سیل

    آزاد کشمیر: میر پور ڈویژن میں ایک نجی سیلولر کمپنی کے ٹاور کنٹرولرز کو سیل کر دیا گیا-

    تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیرکے ضلع میر پورمیں ایک نجی سیلولر کمپنی کے ٹاور کنٹرولرز کو سیل کر دیا گیا میرپور ڈویژن بھر میں کمشنر انلینڈ ریونیو آزاد کشمیر کے جاری کردہ وارنٹ اور ڈپٹی کمشنر انلینڈ ریونیو آفس کے جاری شدہ ریکوری نوٹس کی روشنی میں سید انصر علی نے ڈپٹی کمشنر انلینڈ ریونیو کمپنیز سرکل سیلولر کمپنی کے ٹاور کنٹرولرز کو سیل کیا-

    فائل فوٹو:میر پور ڈویژن میں ایک نجی سیلولر کمپنی کے ٹاور کنٹرولرز کو سیل کر دیا گیا-

    واضح رہے کہ اس کمپنی کے خلاف آڈٹ کرنے کے بعد دو ارب پچاسی کروڑ روپے کا ٹیکس آرڈر بھی انہی نے کیا تھا تاہم اس کے بعد مورخہ 29 دسمبر 2020 کو میرپور ضلع میں ایک نجی سیلولر کمپنی کے ٹاور کنٹرولرز کو سیل کر دیا گیا اور میرپور بھر میں اس کمپنی کے سگنلز آف ہو گئے ہیں۔

    فائل فوٹو: سیل کیے جانے والے کنٹرولرز سے 200 سےزائد ٹاورز متاثر ہوئے ہیں-

    خبر ہے کہ سیل کیے جانے والے کنٹرولرز سے 200 سےزائد ٹاورز متاثر ہوئے ہیں ان متاثرہ علاقوں میں میرپور، ڈدیال، چکسواری، بھمبھر ،سماہنی اور کوٹلی کے کچھ علاقے شامل ہیں۔

    سید انصر علی نے ڈپٹی کمشنر انلینڈ ریونیو کمپنیز سرکل سیلولر کمپنی کے ٹاور کنٹرولرز کو سیل کیا-

    جبکہ دوسری جانب سول سوسائٹی اور سماجی و سیاسی شخصیات نے متعلقہ محکمہ کے اس اقدام کو انتہائی خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    کمپنی کو ٹیکس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سیل کیا گیا-

  • خطے کا امن اور خوشحالی ، تحریر ، خلیل احمد تھند

    خطے کا امن اور خوشحالی ، تحریر ، خلیل احمد تھند

    خطے کا امن اور خوشحالی

    ہندوستان اور پاکستان کبھی اپنے جھگڑے ختم کر کے روا داری ، امن ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل کر پائیں گے؟
    صدیوں سے مل کر رہنے والے ایک دوسرے کے دشمن کیسے بن گئے کیا دونوں ملکوں کے اہل اختیار اور دانشور اس سوال کا جواب تلاش کرسکیں گے ؟
    انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کے بعد لڑاو اور حکومت کرو کی حکمت عملی اختیار کر کے ماضی کے حکمران مسلمانوں کو ایک منصوبے کے تحت پسماندگی کی طرف دھکیل دیا رہی کسر مسلمانوں کے محدود تصور اور ویژن کے حامل مذہبی طبقے نے جدید علوم کی مخالفت کرکے نکال دی جس کے نتیجے میں ہندو اور دیگر غیر مسلم آبادی کو آگے بڑھنے کے مواقع مل گئے جبکہ مسلمان تعلیمی ، معاشی اور سیاسی میدان میں پسماندگی کا شکار ہوتے چلے گئے اس وجہ سے ان میں احساس محرومی بڑھتا گیا عدم توازن کے اس ماحول نے مسلمانوں اور ہندووں میں دوریاں پیدا کیں جو انگریزی استعمار کی بھی ضرورت تھی
    برصغیر دنیا میں موجود تمام بر اعظموں سے زیادہ وسائل رکھنے والا خطہ جسے ماضی میں بھی سونے کی چڑیا تصور کیا جاتا تھا دنیا کی ہر اہم غیر ملکی طاقت نے اس پر قابض ہونے یا اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کی کوشش کی آزادی و یکجہتی کی صورت میں اس خطے کے اندر سپر پاور بننے کے تمام تر لوازمات موجود تھے
    یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ برصغیر میں مسلم دور حکمرانی میں ہندو اور سکھ ، مسلم حکمرانی میں شریک اقتدار رہے ہیں اور انہیں بطور شہری وہ تمام حقوق حاصل رہے ہیں جو مسلمانوں کو حاصل تھے مسلمانوں نے حاکم اور طاقت ور ہونے کے باوجود غیر مسلم کمیونٹی پر کبھی اسلام قبول کرنے یا اسلامی معاشرت مسلط کرنے کے لئے طاقت اور جبر کا استعمال نہیں کیا جو رواداری کی خوبصورت مثال ہے۔
    دوسری حقیقت یہ ہے کہ انگریزی استعمار نے برصغیر پر طویل حکمرانی کے باوجود ناانصافی کا رویہ اختیار کرتے ہوئےخطے کے باسیوں کو برطانیہ کے اصل باشندوں کے برابر حقوق اور جدید سہولیات فراہم نہیں کیں نا ہی اس لیول کا انفراسٹرکچر قائم کیا جبکہ اپنے لئے اس نے برصغیر کے سرمائے سے بھرپور فائدہ اٹھایا لیکن اسے پسماندہ رکھ کر تیسری دنیا کے معیار سے دانستہ آگے نہیں بڑھنے دیا
    برطانوی استعمار نے مزید چال یہ چلی کہ برصغیر کی ذہین اور معاملات کو سمجھنے والی ویژنری قیادت کو ہر طرح سے پیچھے دھکیل کر ایسی قیادتوں کو پروان چڑھانے کی بھرپور کوشش کی جو دانستہ یا نادانستہ برطانوی استعمار کے ایجنڈے کی تکمیل کرتے رہیں
    برطانوی استعمار تاریخ کا بھر پور ادراک رکھتا تھا اسے معلوم تھا کہ برصغیر میں کسی بھی دور میں ہندووں کی ایک مرکزی حکومت نہیں رہی وہ ہمیشہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم اور آپس میں لڑتے رہے ہیں یہاں صرف مسلمانوں کے ادوار میں ایک مرکزی حکومت قائم تھی
    برطانوی استعمار کو اس بات کا پورا ادراک تھا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ہندوستان ہی وہ واحد مردم خیز خطہ ہے جو مستقبل میں انہیں چیلنج کر سکتا تھا دوسرے لفظوں میں انکو سب سے زیادہ خطرہ مسلمانوں سے ہی تھا
    بالفور ڈیکلئریشن جیسے تھنک ٹینک کے مشوروں پر برطانوی استعمار نے ہندوستان کی مسلم قوت کو تقسیم کرکے رکھ دیا تاکہ مستقبل میں انکو کسی مزاحمت کا سامنا نا کرنا پڑے لہذا مسلمانوں اور ہندووں میں مستقل جھگڑے کی بنیاد رکھ کر یہ سونے کی چڑیا تباہ کر دی گئی اس وقت سے آج تک اس خطہ کے عوام جنگ ، مفلسی اور معاشی پریشانیوں سے باہر نہیں نکل پائے
    برطانوی راج میں یہاں کے باشندوں کا بائیو ڈیٹا ٹرائبل ہسٹری کے نام پر جمع کرنے کے ساتھ ساتھ انگریزوں نے مسلمانوں ، ہندووں اور سکھوں کی جانب سے برپا کی گئی تحاریک آزادی میں خطے کے باشندوں کی بہادری اور قائدانہ صلاحیتوں کا پوری طرح اندازہ کر لیا تھا
    جب سلطنت برطانیہ کے لئے برصغیر میں اپنی حکومت قائم رکھنا مشکل ہوگیا تو اس نے ایک منصوبے کے تحت مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان نفرت کے عوامل پیدا کر کے انکو ہوا دینا شروع کردی تاکہ مسلمان اپنی محرومیوں اور غیر محفوظ مستقبل کے خدشات کو بنیاد بنا کر اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے برصغیر کی تقسیم کی طرف نکل جائیں
    خطے کی اکثریت کی حامل ہندو لیڈر شپ صورتحال کو سمجھنے کی بجائے انگریزی استعمار کی اس سازش کا ایندھن بنتی گئی اور مسلمانوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی حکمت عملی و روادارانہ ماحول ترتیب نا دے سکی جسکی ذمہ داری بھی اکثریت ہونے اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں فوقیت رکھنے کی بنیاد پر مسلمانوں سے زیادہ بہرحال انہی پر عائد ہوتی تھی
    ہندووں ، سکھوں ، بدھوں اور مسلمانوں کے مشترکہ برصغیر کی آزادی کے لئے انگریزوں کے خلاف جدوجہد آزادی میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے کے باوجود مسلمان مستقبل کے خدشات کا شکار تھے جس کا جواز فراہم کرنے سے ہندو لیڈرشپ کبھی بری الذمہ نہیں ہوسکتی لہذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ برصغیر کی تقسیم اور الگ وطن کے حصول کے لئے مسلمانوں کو مجبور کر دیا گیا تھا ایک بدقسمتی یہ رہی کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں اپنا مستقبل طے کرنےکے لئے اتفاق برقرار نا رہ سکا جسکا دشمن قوتوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا
    انگریزی استعمار نے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے دانستہ طور پر تقسیم کے وقت پرامن تبادلہ آبادی کا کوئی بندوبست نہیں کیا تھا بلکہ باہمی قتل و غارت کا تماشہ دیکھا دوسری طرف تقسیم کے فارمولے کے مطابق مسلم اکثریت کے علاقوں حیدرآباد ، جونا گڑھ اور بالخصوص ریاست کشمیر کو انڈیا میں شامل کر کے دونوں خطوں میں کشمکش کی بنیاد رکھ دی تھی انہیں معلوم تھا کہ اس سازش کے ذریعے خطے میں کبھی امن قائم نہیں ہوسکے گا خطے کے دونوں ممالک اپنے وسائل اور توانائیاں باہمی جنگ و جدل میں ضائع کرتے رہیں گے خطے کی آزادی اور تقسیم سے آج تک یہ حقیقیت کھل کر سامنے آچکی ہے
    خطے میں بدامنی اور باہمی جنگ و جدل میں پاکستان کی نسبت انڈین لیڈرشپ کے ویژن کا فیلئیر زیادہ ہے کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فیصلے کا پاکستانی مطالبہ نیت کے درست اور حق پر ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اس مطالبے کے بعد پاکستان دراصل آزاد کشمیر سے دست بردار ہوکر کشمیریوں کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا ہے جس میں مستقل بنیادوں پر کشمیر سے محرومی کے خدشات بھی موجود ہیں اس سے زیادہ کوئی ملک کیا رواداری اختیار کرسکتا ہے؟
    کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے انڈیا کی ہٹ دھرمی سے اندازہ ہوتا ہے کہ انڈین لیڈر شپ نے ابھی تک حقائق کا درست ادراک نہیں کیا نا ہی مستقبل میں سمجھنے کے کوئی امکانات نظر آرہے ہیں
    یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ کیا ترجیحا” انڈیا اور دوسرے درجے میں پاکستان بیرونی سازشوں اور اپنے اندرونی مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں کھلونا بن کر باہمی رواداری ، امن ، ترقی اور خوشحالی سے اسی طرح دور رہیں گے ؟
    یہ پہلو دونوں ملکوں کے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ خطے کے موجودہ حالات کو برقرار رکھ کر فائدہ کس کا ہورہا ہے اور نقصان کس کا ؟
    کیا اس پہلو پر دشمن کے مقام سے نیچے اتر کر بڑے بھائی کی حیثیت سے انڈیا اور اسکی جنتا کبھی غور کر پائیں گے ؟
    ( خلیل احمد تھند )

  • معروف شاعراور افسانہ نگار ایزد عزیزانتقال کرگئے

    معروف شاعراور افسانہ نگار ایزد عزیزانتقال کرگئے

    اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر اور افسانہ نگار ایزد عزیز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : ایزد عزیز صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں اگست 1954 میں پیدا ہوئے ان کے والد پولیس ملازم تھے جب کہ ان کے اہل خانہ کے دیگر افراد بھی ادب سے وابستہ رہے ہیں۔

    ایزد عزیز کا پیدائشی نام عثمان عزیز تھا تاہم ادبی دنیا میں انہوں نے ایزد کے نام سے الگ پہچان بنائی ایزد عزیز نے محض 17 برس کی عمر میں شاعری شروع کی تھی جب کہ ان کا پہلا شعری مجموعہ "غروب شب” 1989 میں شائع ہوا تھا۔

    ایزد عزیز کا شمار ملک کے ممتازشعرا اور افسانہ نگاروں میں ہوتا تھا، ان کی تصانیف میں پنجابی شعری مجموعہ ’کلے رُکھ دا وین‘، سلام و منقبت پر مشتمل مجموعہ ’تسلیم‘ اور افسانوں پرمشتمل مجموعہ ’عالم ارواح کے مال روڈ پر‘ شامل ہیں۔

    ایزد عزیز کی شادی ان کی تایا زاد کے ساتھ 1985 میں ہوئی ان کے دو بیٹے ابوذر عزیز، حمزہ عزیز اور ایک بیٹی زینب عزیز ہے۔

    انہوں نے بینک میں ملازمت کرنے سمیت ریڈیو پاکستان میں بھی ملازمت کی اور بیرون ملک بھی گئےایزد عزیز زندگی کے آخری ایام تک ادب سے وابستہ رہے اور چند ماہ قبل تک وہ ادبی سرگرمیوں میں فعال دکھائی دیے جبکہ ان کا ایک شعری مجموعہ ان دنوں اشاعت کے مرحلوں میں تھا

    ایزد عزیز کے انتتقال پر وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے بھی افسوس کا اظہار کیا جب کہ ادب سے وابستہ شخصیات نے ان کی موت کو ادبی دنیا کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیا۔

    ایزد عزیز کو ان کے آبائی ضلع ساہیوال کےماہی شاہ قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

    سارہ خان کا مرحوم والد کے لئے جذباتی پیغام

    سارہ خان کے والد انتقال کر گئے

  • بختاور بھٹو کا والدہ کو خراج تحسین

    بختاور بھٹو کا والدہ کو خراج تحسین

    دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم رہنے والی اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون سربراہ حکومت بے نظیر بھٹو کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو نے سوشل میڈیا پر والدہ کی یادگار تصویر شیئر کر دی۔

    باغی ٹی وی :شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 13ویں برسی کے موقع پر اُن کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی والدہ کی خوبصورت تصویر شئیر کر کے انُہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔


    ٹوئٹر پر شیئر کردہ شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کا خاکہ ایک فوٹو فریم میں نصب کر کے دیوار پر لگایا ہوا ہے۔

    بختاور بھٹو نے اپنی والدہ سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے کیپشن میں دل اور پھول والا ایموجی بنایا ہے۔

    خیال رہے کہ بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء میں پیدا ہوئیں وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔

    جلا وطنی کے بعد جب 18 اکتوبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو کراچی واپس آئیں تو ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تاہم حملے میں بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں لیکن 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے میں انہیں شہید کر دیا گیا۔

    بینظیربھٹوکی13ویں برسی پر آصف زرداری کا بیان آگیا

    ے نظیر بھٹو کی برسی پاکستان ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

  • ہردلعزیز شخصیت اور بے توقیری   تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    ہردلعزیز شخصیت اور بے توقیری تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    ہردلعزیز شخصیت اور بے توقیری
    تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    وطن عزیز "اسلامی جمہوریہ پاکستان” کے حقیقی محافظ، اندرونی اور بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے والے ،ہر انتشار کا بخوبی ادراک کر کے اس کا قلع قمع کرنے والے، ہردلعزیز شخصیت، ولی کامل، دین اسلام سے سچی محبت و گہرائی سے سمجھنے اور اس کا پرچار کرنے والے ،حافظ قرآن، بزرگ شہری اتفاق و اتحاد کے داعی پروفیسر حافظ محمد سعید اور ان کے رفقاء کو سزائیں ، پابندیاں اور جرمانے لگانا سمجھ سے بالاتر ہے ۔

    بلاشبہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ جنہوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کو مکمل کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ بغیر کسی لالچ و طمع کے نہ دن کی پرواہ کی نہ رات کی ، نہ سردی اور نہ گرمی کی، بلکہ ہمیشہ وطن عزیز کو مقدم سمجھتے ہوئے حب الوطنی کا حق ادا کر دیا۔ ہر مشکل وقت اور قدرتی آفات میں نہ رنگ و نسل کو دیکھا نہ مذہب کو بغیر تفریق کے انسانیت کی خدمت کی اور انسانیت کی خدمت کر کے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالی کہ "ہوتے ہیں وہی لوگ دنیا میں اچھے ، آتے ہیں جو کام دوسروں کے”۔

    چاہیے تو یہ تھا کہ ان لوگوں کو جذبہ حب الوطنی کے ایوارڈز سے نوازا جاتا،ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی……لیکن ہائے افسوس کہ جب سے وطن عزیز پاکستان معرض وجود میں آیا ہے اسے ایسے حکمران ہی نصیب نہ ہوئے جو اسلام اور وطن عزیز کا حقیقی معنوں میں تحفظ کریں۔

    ہمارا پیارا وطن کلمہ طیبہ "لاالہ الا اللہ” کی بنیاد پر بنا اور اسی کے تقاضے پورے کرنے اور اس کے پرچار کے لیے الگ ہوا۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ملک میں دین اسلام کا نام لینے والے اور اسلامی زندگی گزارنے والوں کو حوصلہ افزائی نہیں دی گئی۔

    بلکہ ان کے مقابلہ میں دین سے کوسوں دور ،بے حیائی کا ارتکاب اور پرچار کرنے والوں اور وطن عزیز کا تحفظ اور شہہ رگ پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے ایک لفظ تک نہ بولنے والوں کو قومی ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔ جو کہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ آج تک ہم نے یہ نہیں سوچا کہ ہم جن لوگوں کو وطن عزیز کی حکمرانی دیتے ہیں ان میں اسلام نام کی کوئی رتی بھی ہے یا نہیں…..

    اگر خدانخواستہ ہم عوام کی یہی صورت حال رہی کہ دینی قیادت کو آگے نہ لایا گیا تو یاد رکھنا! یہ بے دین حکمران آہستہ آہستہ ہم اور ہماری نسلوں کے دلوں سے جذبہ حب الوطنی اور دین اسلام ختم کر دیں گے۔ جس کے نتیجے میں باطل قوتیں ہم پر پوری طرح مسلط ہو جائیں گی پھر ہمیں دنیا میں بھی ذلت اٹھانا پڑے گی اور بروز محشر بھی۔

    اس لیے اب بھی وقت ہے کہ حق کا ساتھ دیں ، حق کے لیے آواز بلند کریں اور اپنے محسنین کی بے توقیری ہونے سے بچائیں ۔

  • پاکستان کے نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر میں شرکت کرنے والے پہلے غیر ملکی کھلاڑی کا نام سامنے آگیا

    پاکستان کے نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر میں شرکت کرنے والے پہلے غیر ملکی کھلاڑی کا نام سامنے آگیا

    آسٹریلیا کے 24 سالہ فاسٹ باؤلر ایرن سمرزوہ پہلے غیرملکی کھلاڑی ہوں گے جو پاکستان کے نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر میں شرکت کریں گے۔ وہ 8 جنوری سے کراچی میں شروع ہونے والے پاکستان کپ میں سدرن پنجاب کی نمائندگی کریں گے، پاکستان کرکٹ بورڈ ومیسٹک مقابلوں میں کسی بھی سائیڈ کی طرف سے ایک غیر ملکی کھلاڑی کو کھیلنے کی اجازت دیتا ہے اسکے لیے غیر ملکی کھلاڑی کو اپنے ملکی بورڈ کی طرف سےاین او سی(نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ)جمع کروانا لازم ہے۔

    تسمانیہ سے تعلق رکھنے والے فاسٹ باؤلر 28 دسمبر کو لاہور پہنچیں گے۔ وہ نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں اظہر محمود کی زیرنگرانی ایک ہفتہ ٹریننگ کرنے کے بعد5 جنوری کو سدرن پنجاب کے اسکواڈ کو کراچی میں جوائن کرلیں گے۔ ایرن سمرز کے علاوہ سدرن پنجاب کے کنٹریکٹ یافتہ کوچ اظہر محمود، رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ تیمور بھٹی کی بھی کوچنگ کریں گے۔

    ایرن سمرزایچ بی ایل پاکستان سپرلیگ سیزن 2019 میں کراچی کنگز اورآسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں ہوبارٹ ہوریکینزکی نمائندگی کرچکے ہیں۔ دسمبر 2017 میں ہوریکینز کی طرف سے اپنے پہلے میچ میں تیز ررفتار بالنگ کے حوالے سے جوفرا آرچراور ٹائمل ملز کو پیچھے چھوڑ دیا تھا اس طرح وہ آسٹریلین سرزمین پرخود کو ایک تیز رفتار بالر کے طور منوا چکے تھے۔

    ایرن سمرز کا کہنا ہے کہ وہ سدرن پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کنٹریکٹ پیش کیے جانے پر خوش ہیں، یہ ایسوسی ایشن جارحانہ کرکٹ کھیلتی ہے جوکہ ان کے لیے موزوں ہے، یقینی طور پر یہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کی ایک مضبوط سائیڈ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بہت سے فاسٹ باؤلرز پیدا کیے ہیں اور وہ یہاں آکر اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کپ میں اپنی ٹیم کو کامیابی دلانے کی کوشش بھی کریں گے۔ یہ ٹورنامنٹ ڈبل لیگ کی بنیاد پر کھیلا جا ئے گا اس میں میری فٹنس اور میعار کا بھی امتحان ہے۔

    ایرن سمرز نے کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر پاکستان میں جاری سیزن کو دیکھا ہے، لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جگہ ان کی صلاحیتیں نکھارنے میں بہت معاون ثابت ہوگی۔ میرا مقصد ایک بہترین پروفیشنل بننا ہے اور میرا خیال ہے کہ پاکستان مجھےاس ٹارگٹ کوحاصل کرنے میں میری مدد کر سکتا ہے۔

    ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا نیا ڈومیسٹک نظام معیاری ہے اور ایرن سمرز کی پاکستان آمد کی خبر ہمارے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔ ندیم خان نے کہا کہ ہم اپنے ڈومیسٹک نظام کو سخت اور مقابلے سے بھرپور بنانا چاہتے ہیں، ہم ایسا نظام چاہتے ہیں کہ جو کھلاڑیوں کے لیے مفید ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ غیرملکی کرکٹرز پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ لیں جس طرح ہمارے کرکٹرز آسڑیلیا اور برطانیہ کے ڈومیسٹک مقابلوں میں شریک ہو تے ہیں۔

    مجھے امید ہےایرن سمرز کی شرکت سے پاکستان کے ڈومیسٹک نظام کا پروفائل بڑھے گا اس کے علاوہ ہمارے مقامی کھلاڑیوں کو بھی ایک دوسرے ماحول کے کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملے گا۔

  • "کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ”   نفیرقلم: محمد راحیل معاویہ

    "کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ” نفیرقلم: محمد راحیل معاویہ

    "کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ”

    نفیرقلم
    محمد راحیل معاویہ
    حضرت علی رض کا قول ہے کہ دولت،منصب اور اقتدار ملنے کے بعد لوگ بدلتے نہیں بلکہ بے نقاب ہوجاتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان صاحب نے ملکی سیاست میں طویل جدوجہد کی۔ بلند و بانگ دعوے کیے۔ ملک میں خوشحالی،عدل و انصاف،مساوات اور تبدیلی کے منشور کے ساتھ اقتدار میں آئے۔ پاکستان کو مدینہ طرزکی ریاست بنانے کا وعدہ کیا۔

    1 کروڑ نوکری، پچاس لاکھ گھر اور ملک سے غربت و افلاس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی باتیں کرتے رہے۔ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن کو قرار دیا اور احتساب کے بیانیہ کے ساتھ ملک سے کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی باتیں کیں۔ ملک کے تمام مسائل کی دوسری وجہ سابق حکومتوں، ان کی پالیسیوں اور آئی ایم ایف سے قرض لینے کو قرار دیتے رہے۔ خان صاحب نے ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے مسئلے کا واحد حل نیا پاکستان بننے کو قرار دیا۔

    نیا پاکستان بننے کے بعد 100 دنوں میں ملک کی سمت درست کرنے کا پلان بنایا اور اپنا 100 روزہ پلان کتابی شکل میں بانٹتے رہے۔ 200 افراد پر مشتمل ماہر معاشیات کی ٹیم بالکل تیار ہونے کی نوید سنائی اور پاکستانی قوم کو بتایا کہ بس اقتدار ملنے کی دیر ہے پھر آپکو ہر سمت بدلی ہوئی نظر آئے گی۔ کیونکہ تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آگئی ہے۔

    پاکستانی عوام کو ہر مسئلہ کا حل خان صاحب کے تبدیلی کے نعرے میں پنہاں نظر آنے لگا۔ 2018 کے الیکشن میں عوام کے ووٹوں یا اپوزیشن کے الزام کے مطابق دھونس دھاندلی یا کسی بھی طرح خان صاحب اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اپنی حکومت بنالی۔ حکومت بنانے کے بعد وہی ہوا کہ خان صاحب بے نقاب ہونا شروع ہوگئے۔

    100 دن گزر گئے تو لوگوں نے کوئی سوال نہیں کیا کیوں کہ لوگ خود ہی سمجھتے تھے کہ نیا پاکستان کوئی بجلی کا سوئچ آن کردینے سے نہیں بن جائے گا۔ اس لیے لوگوں نے ایک سال تک بھی کسی قسم کی کوئی شکایت نا کی۔پھر یوں ہوا کہ خان صاحب کی حکومت کو پورے دو سال گزرگئے۔ ایک سنجیدہ طبقہ فکر کچھ غور و فکر کرنے پر آمادہ ہوا تو یہ معلوم ہوا کہ واقعی سب کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح 5 فیصد سے دوگنی ہوکر بھی کنٹرول نا ہوئی اور 12 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

    ڈالر نے بڑی اڑان بھری اور 160 روپے پر جا پہنچا تھا۔ پھر سوچا کہ شاید بیروزگار لوگوں کو روزگار دینے کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ہونگے۔ کیونکہ خان صاحب نے کہا تھا نا کہ میں وسائل کی تقسیم منصفانہ کروں گا۔ توان لوگوں کا بوجھ بھی تو دوسروں پر پڑنا تھا نا ۔میرے کپتان نے 1 کروڑ نوکری دینی تھی’ لوگوں نے روزگار حاصل کرنے کے لیے باہر کے ملکوں سے بھی آجانا تھا اس لیے بڑے عالمی اور تاریخی کارنامے سرانجام دینے کے لیے قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں۔

    اس لیے مہنگائی ہوگئی تو کیا ہوا؟ روپے کی قدر گر گئی تو کوئی بات نہیں ملک سے بیروزگاری تو ختم ہوئی ۔ لیکن یہ کیا؟ جب بے روزگاری کی تعداد پر نظر پڑی تو ہوش قائم نا رہا’ کیونکہ 2018 میں 35 لاکھ لوگ بیروزگار تھے’ اور آج 2020 میں 1 کروڑ 17 لاکھ لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں۔

    مارے حیرت کے میں انگشت بداں ہوگیا’پھر خیال آیا شاید خان صاحب نے 1 کروڑ نوکری دینے کا نہیں بلکہ لینے کا وعدہ کیا ہوگا۔ ہم ہی محرم کو مجرم پڑھتے رہے۔ ملک میں لوگوں کو خط غربت کی لکیر سے اوپر لانے کی خان صاحب کو بہت فکر تھی۔ وہ اپنے ہر جلسہ میں غربت کی لکیر سے نیچے لوگوں کی تعداد گن کر بتایا کرتے تھے۔

    ان کو غربت کی لکیر سے اوپر لانے کی خان صاحب کوسب سے زیادہ فکر تھی۔ اس لیے اور کسی طرف توجہ نہیں کرپائے ہونگے۔ کرتے بھی کیسے جب تک میرے ملک میں 1 بھی غریب باقی رہتا خان صاحب کسی اور فکر میں کیسے مبتلا ہوسکتے تھے۔ لیکن جب ان کے اعداد و شمار کو دیکھا تو چکر آگیا بمشکل خود کو سنبھالا’ کیوں کہ ملک میں مڈل کلاس لوگوں کی 2013 میں تعداد 62 لاکھ تھی ۔ ن لیگ کے 5 سالہ دور اقتدار میں تقریبا 1 کروڑ لوگ خط غربت کی لکیر سے اوپر آئے تھے۔

    اور 2018 میں ان کی تعداد 1 کروڑ 60 لاکھ ہوگئی تھی۔ مگر آج ان میں سے 1 کروڑ 4 لاکھ لوگ دوبارہ خط غربت کی لکیر سے نیچے گر گئے ہیں۔ اب ملک میں مڈل کلاس لوگوں کی تعداد 56 لاکھ رہ گئی ہے۔ مجھے اسی وقت سمجھ آگئی کہ ن لیگ کی یہ کوئی چال تھی۔ ن لیگ نے 1 کروڑ لوگوں کو مصنوعی طریقے سے خط غربت کی لکیر سے اوپر اٹھایا تھا۔ ن لیگ نے انہیں یقینا کسی کمزور سی ٹہنی پر بٹھا دیا ہوگا جو اب ٹوٹ جانے کی وجہ سے نیچے گر گئے ہیں۔

    اصل میں پچھلی حکومتوں نے قرض ہی اتنا لے لیا تھا کہ خان بیچارہ کیا کرتا۔ ن لیگ نے ملک کو آئی ایم ایف کے ہاں گروی رکھوادیا تھا۔ گروی رکھے ہوئے ملک کو ان کے قبضے سے چھڑانے کے لیے مشکلات تو آنی ہی تھیں نا۔ پھر ن لیگ کا لیا ہوا قرض بھی تو اتارنا تھا۔ 2 سال اسی لیے سب تہس نہس ہوگیا کہ خان صاحب قرضے اتارنے میں مصروف تھے۔ مگر یہاں بھی سخت مایوسی کا سامنا مجھے تب ہوا کہ خان صاحب بھی 6 ارب ڈالر لینے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جاپہنچے۔ مجھے یقین نا آیا میں نے سوچا کسی وزیر نے غلط کام کروادیا ہوگا کیونکہ خان صاحب تو آئی ایم ایف کے پاس جانے سے خودکشی کرلینے کو ترجیح دیتے مگر کبھی آئی ایم ایف کے پاس نا جاتے ۔

    مگر آئی ایم ایف کے پاس جانے یا نا جانے کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے دوران ملک میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی اور ملک سے بیرونی سرمایہ کاری واپس چلی گئی۔ کئی سرمایہ کاروں نے اس صورتحال سے پریشان ہوکر اپنا پیسہ کھینچ لیا اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائز میں اڑھائی ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ پھر اس تاخیر کو وزیراعظم صاحب نے اپنی غلطی قرار دیا اور آئی ایم ایف کے پاس دیر سے جانے کی غلطی تسلیم کرلی۔ مگر اس سے زیادہ حیرت تب ہوئی جب پتا چلا کہ ملکی قرضہ کم ہونے کی بجائے اور بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔

    جتنا قرض ن لیگ نے اپنے 5 سالہ دور اقتدار میں لیااتنا تو خان صاحب اپنے دو سالوں میں ہی لے چکے ہیں۔ ن لیگ نے 5 سالوں میں 13 ٹریلین روپے قرض لیا۔ اور خان صاحب اپنے پہلے دو سالوں میں ہی 13 ٹریلین روپے قرض لے چکے ہیں۔ پی پی نے روزانہ 5 ارب روپے ن لیگ نے روزانہ 7 ارب روپے قرض لیا جبکہ خان صاحب روزانہ 20 ارب روپے قرض لینے سے رفتار سے تمام ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔
    مجھے سمجھ آگئی کہ یہ سب کیوں ہوا ۔ ملکی معیشت کا ن لیگ نے بڑا کباڑہ کیا ہوا تھا۔ خان صاحب کو اس کی بڑی فکر تھی۔

    ن لیگ نے 5.8 فیصد پر ملکی ترقی کی شرح رکھی ہوئی تھی۔ میں سمجھ گیا کہ خان صاحب نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا ہے۔ یہ سب ملک کی معیشت کو پٹڑی پر چڑھاتے ہوئے ہوا ہے۔ اب ملک کی معیشت درست ہوجائے گی تو انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میں نے ملکی ترقی کی شرح دیکھی تو وہ منفی 0.50 سے بھی نیچے تھی۔ مجھے بڑی ہنسی آئی ۔ بیچارہ اکیلا خان کیا کیا کرے ۔ اب دیکھو نا نااہلی ان کی ہڈیوں میں بس چکی ہے۔ ملک کی ترقی کی شرح کو 1951 پر ہی روک لیا ہوا ہے۔ کیونکہ 1951 کے بعد ملک کی ترقی کی شرح تو کبھی منفی ہوئی نہیں۔

    ان نالائقوں نے اعداد و شمار ہی درست کرنے کی تکلیف نہیں کی۔ خان صاحب دن رات ملک کی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ اب انہوں نے خود آکر تو اعداد و شمار ٹھیک نہیں کرنے نا۔ میں آگے بڑھ کر اعداد و شمار ٹھیک کرنے لگا کہ کسی نے مجھے ہوش دلانے کے لیے ٹھنڈے پانی سے منہ دھلوادیا۔ اور بتایا کہ ہماری ملکی ترقی کی شرح اس وقت منفی ہی ہے اور آئیندہ کے لیے بھی ورلڈ بینک نے کہہ دیا کہ یہ 1 فیصد سے اوپر نہیں جاسکتی۔ مجھے یقین نہیں آیا میں نے اردگرد کے لوگوں سے پوچھنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے جب پوچھا تو ہر 5 میں سے 4 لوگوں نے ملک کی سمت کو غلط قرار دیدیا۔

    لیکن میں اتنا بھی پاگل نہیں کہ ان لوگوں پر یقین کرکے اپنے کپتان کی نیت پر شک کرتا۔ مجھے پتا ہے کہ میرا کپتان ایماندار ہے۔ اور یہ لوگ جو مرضی کہتے رہیں۔ میں اپنے کپتان سے پوچھتا ہوں۔ وہ مجھے سب سمجھا دیں گے۔ میں خان صاحب کے پاس پہنچا تو وہ کسی تقریب سے خطاب فرما رہے تھے۔ مجھے خان صاحب کی تقریر سن کر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے۔ آج تک لوگوں کو پرچیاں پکڑ کر تقریریں کرتے دیکھا تھا۔ مگر میرے کپتان جیسی تقریر کوئی نہیں کرسکتا ۔

    میں نے تقریر غور سے سننی شروع کی تو خان صاحب فرما رہے تھے کہ کسی کو بھی ملک میں اقتدار سنبھالنے سے پہلے سیکھنا چاہئے۔ بغیر سیکھے کسی کو بھی اقتدار نہیں سنبھالنا چاہئے۔

    ہم جو باہر سے دیکھتے تھے وہ اندر سے بالکل مختلف نکلا ہے۔ خان صاحب مشورہ دے رہے تھے کہ کسی کو بھی پاور میں آنے سے پہلے مکمل تیاری کرنی چاہئے۔ اپ کے پاس مکمل ایجنڈا ہونا چاہیے جس پر آپ عمل پیرا ہوسکیں۔ کیوں کہ ہمیں تو پاور سیکٹر کی ہی بالکل سمجھ نہیں آرہی تھی۔

    خان صاحب اپنی ناکامی کی وجہ اپنی ناتجربہ کاری کا قرار دے رہے تھےاس پر وہ ہر 5 میں سے 1 لوگ بغلیں بجا رہے تھے کہ خان صاحب کتنے اچھے لیڈر ہیں جو اپنی ناکامی کا کھلے دل سے اعتراف کررہے ہیں۔
    جبکہ مجھے ایک شعر یاد آگیا۔

    کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس ذود پشیماں کا پشیماں ہونا