ا صل خوب صورتی…!!!
(جویریہ بتول).
پردہ کی اہمیت مسلمہ ہے… وہ غلطیوں کا ہو…رازوں کا ہو… قیمتی اشیاء یا پھر روح و بدن کا ہو…جب پردہ کا حصار ان چیزوں سے اُٹھ جائے تو سب ہلکا ہو جاتا ہے…وزن اور معیار گرنے لگتا ہے…ہم کوئی بھی چیز جب کسی مارکیٹ یا سپر سٹور سے خریدنے جاتے ہیں تو بہترین پیکنگ میں چیز خریدتے ہیں لیکن جب وہی چیز ہم کھول کر گرد سے اَٹی واپس کرنے جائیں تو دکان دار واپس کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ نہیں جناب یہ تو استعمال ہو چکی ہے،اس کی زینت و آرائش مدہم کر دی گئی ہے…
اللّٰہ تعالٰی نے بنی آدم کے لیے دیگر نعمتوں کے ساتھ ساتھ لباس کی نعمت بھی نازل کی جس کا ذکر اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کیا ہے…
لباس کا مقصد جسم کو بے پردگی سے بچانا…اُس کا تحفظ اور موسم کے گرم و سرد سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے…
اللّٰہ تعالٰی نے جہاں لباس کو موجبِ زینت قرار دیا وہیں تقویٰ کے لباس کی وضاحت بھی فرما دی…
اس تقویٰ والے لباس کی مفسرین نے مختلف تفاسیر بیان کی ہیں…یعنی ایسا لباس جو سادگی و عاجزی پر مشتمل ہو…لباس غرور و تکبر کے اظہار کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور اسلامی آداب و ہدایات کے مطابق لباس زیب تن کرنا وغیرہ…
حضرت داؤد علیہ السلام کو اللّٰہ تعالٰی نے زرہ جنگی لباس جو لوہے سے تیار کیا جاتا ہے کی صنعت گری سکھائی:
و علمنہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم فھل انتم شٰکرون¤
"ہم نے اُسے تمہارے لیے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ لڑائی کے ضرر سے تمہارا بچاؤ ہو،کیا تم شکر گزار بنو گے…”(الانبیاء).
مسلمان خواتین کا لباس ایک انتہائی نازک اور حساس معاملہ ہے کہ جب وہ لباس کے آداب سے تہی دست ہو کر گھروں سے نکل کر دفاتر،اداروں،تعلیمی اداروں اور پبلک مقامات پر گھومتی نظر آتی ہیں تو یہ چیز بدنگاہی اور بدکاری کے فتنہ کو ہوا دینے کی واضح وجہ بنتی ہے…
لباس کا مقصد چوں کہ ستر پوشی ہے نہ کہ پہننے کے باوجود عریانی کا اظہار…
مسلمان عورتوں کو تو حکم ملا تھا:
"اپنی اوڑھنیاں اوڑھے رکھیں…”
اُن سے کبھی غافل نہ رہیں…نبیﷺ آپ اپنی مبارک زبان سے اعلان کر دیں…اپنی ازواج کے لیے،بیٹیوں کے لیے اور مسلمانوں کی عورتوں کے لیے…!!!
مذید فرمایا:
"اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرتی پھرو…(الاحزاب).
یعنی گھروں سے بوقت ضرورت نکلنے کے آداب سکھائے جا رہے ہیں کہ اس انداز میں بناؤ سنگھار کر کے نہ نکلو کہ فتنوں کے دروازے کھلتے چلے جائیں…تمہارا چہرہ،بازو،سینہ لوگوں کو دعوتِ نظارہ دے یہ تبرج ہے اور یہ زمانہ جاہلیت کی ایک رسم ہے…
اے مسلمان عورتو…!
تم ماڈرن ہو…اسلام جدید، آفاقی،ابدی اور ہدایت کی تعلیمات کا سرچشمہ ہے…!!!
اور اس تبرج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے چاہے اس کا نام کتنا ہی خوش نما اورپُرفریب رکھ لیا جائے…جس چیز کو اللّٰہ اور اُس کا رسول فتنہ قرار دے دیں ہم لاکھوں دلیلوں اور حجتوں کے ذریعے اُسے قطعًا درست ثابت نہیں کر سکتے…
اسی بے پردگی اور اختلاط مرد و زن نے ہر فورم اور ہر جگہ پر کیا کیا گُل نہیں کھلا رکھے…لیکن ہم سر سے گزرتے پانی سے بالکل غافل رہتے ہیں…
فطرت سے جنگ کر کے فتح یاب ہونا چاہتے ہیں جو کبھی ممکن ہی نہیں…!!!
ایک دوست بتا رہی تھیں جو صحت کے شعبہ میں جاب کرتی ہیں کہ میں نے جب سے نوکری شروع کی ہے آج تک با پردہ گئی ہوں…دورانِ ملازمت اور میٹنگز میں حجاب و نقاب میں رہتی ہوں اور میرے اس گھِسے عبایا کی وجہ سے مرد حضرات میری طرف زیادہ توجہ ہی نہیں دیتے…احترامًا کام کی بات سرسری انداز میں نمٹا دیتے ہیں…جب کہ مجھ سے بڑی ایج کی خواتین جو کہ ننگے چہروں پر فل میک اپ…تنگ و نمائش کرتے لباس،ہاتھوں میں تھامے بیگ اور سیل فون انہیں ہمیشہ مردوں کے لیے باعثِ کشش رکھتے ہیں…
وہ اُن سے بات کرتے ہوئے جان بوجھ کر بات کو طول دیتے اور ہنسی مذاق تک بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں…تو اس وقت مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ تحفظ اسلام دیتا ہے یا دورِ جاہلیت کی رسمیں…؟
اُن کے بقول یہی چیز اُن کے اطمینان کی وجہ بنتی ہے…!!!
عورت جب خود کو بے وقعت کر دینے پر آ جاتی ہے تو وہ ہر نوع کی سوچ اور نظر کی تسکین کا باعث بن جاتی ہے…معیار سے گِر جاتی ہے…بے وزن ہو جاتی ہے…
یہی وجہ ہے کہ کامل و اکمل دین نے حفاظت و حصار کے جو خوب صورت نظام اور طریقے ہمیں فراہم کیے ہیں…انہی میں روحانی و جسمانی سکون کا راز پوشیدہ ہے…
ہم سب راز ہیں…انمول ہیں…اور مسلمان خواتین کو پردہ کا یہ حکم ذہنی،قلبی اور معاشرتی راحت کے لیے دیا گیا ہے…تاکہ معاشرے سے خرابیوں کا تدارک کیا جائے اور اخلاقی بیماریوں کو پنپنے سے روکا جا سکے اور ہر کوئی اپنے اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے مذہبی و ملی…قومی و سماجی…کردار اَدا کر کے معاشرے کی اصلاح میں ممد و معاون ثابت ہو…
لیکن ماحول کی خرابی اختلافات کو جنم دے کر شبہات کو فروغ دیتی ہے…اِسی لیے اسلام نے ہمیں سسٹم کی اصلاح کے لیے قوانین اور اطلاق کا طریقۂ کار سکھا دیا ہے لیکن اُس سب کو پسِ پشت ڈال کر ہم اخلاقی و تعمیری مدارج طے کرنے کے سفر پر ہیں…؟؟؟
یہ بیج کیا فصل اُگائے گا…؟کس منزل کا راہی بنائے گا…؟اخلاقیات کی تعمیر کیسے ہمالیہ کو چھوئے گی…؟اور کردار کتنے مضبوط بن کر اُبھریں گے…؟یہ سوال ہنوز اپنی جگہ موجود ہے…!!!
ایسے سسٹم کے پروردہ معاشروں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں…!!!
یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ پردہ ایک مسلمان عورت کے لیے اللّٰہ اور رسولﷺ کا حکم اور ایمان کی تکمیل کا راستہ ہے… یہ حُبِّ الٰہی اور حُبِّ رسول کا سوال ہے…!!!
مسلمان عورت کی اصل خوب صورتی کا سفر اور بد صورت رسم اور جاہلیت سے نجات و اعراض ہے…!!!
=================================
Category: بلاگ
-

ا صل خوب صورتی تحریر:جویریہ بتول
-

بحرِ ہند کا جغرافیائی و سیاسی منظر نامہ اور مشق امن 21 کے تناظر میں پاکستان کا کردار تحریر:ملیحہ زیبہ خان
بحرِ ہند کا جغرافیائی و سیاسی منظر نامہ اور مشق امن 21 کے تناظر میں پاکستان کا کردار
ملیحہ زیبہ خانسبز ہلالی پرچم تلے امن کی خواہش لیے 2007 سے ہر دو سال بعد منعقد ہونے والی کثیرالملکی بحری مشق امن خطے میں بین الاقوامی باہمی تعاون اورمشترکہ مفادات کی سمت اہم پیش رفت ہے۔ یہ امن کی خاطر اٹھایا گیا پاکستان کا وہ قدم ہے جس کے تحت سمندروں کو کسی بھی قسم کے خطرات سے آزاد اور بلا روک ٹوک بین الاقوامی آمدو رفت کے لیے محفوظ بنایا جا سکے گا۔ یہ مشق عالمی بحری قوتوں کوموثر انداز میں تحفظ کے ذرائع ،پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو پرکھنے،نقل و حرکت کی مہارت،مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف سمندروں میں روایتی اور غیرروایتی سیکورٹی کے خطرات سے نبرد آزما ہونے اور باہمی خیالات کے تبادلے جیسے مواقع فراہم کرتی ہے۔
سیکورٹی کا لفظ پوری دنیا میں مختلف مطالب اور نقطہ ہائے نظر کے حوالے سے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ ہے۔ریاستوں کے لیے سلامتی کا نظریہ علاقائی حدود اربعہ کی بنا پرانتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ تاہم سلامتی کا تصور عام طور پر وسیع زمینی حقائق کے حوالے سے زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ ریاستیں اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ باہمی تعاون جیسے اقدامات کا قیام عمل میں لاتی ہیں. یہاں تک کہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی متعدد مقاصد کی تکمیل کے لئے ریاستوں کی باہمی افہام و تفہیم سے ترتیب دی جاتی ہیں۔ بعض اوقات ایسے انتظامات اور مشقوں کو علاقائی اور غیرعلاقائی ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ بھی سمجھ لیتی ہیں۔ خطرے کا یہ تاثر جغرافیائی وسیاسی ماحول میں غیر یقینی صورتحال بھی پیدا کر دیتا ہے اور ریاستیں داخلی طور پر عدم تحفظ کی بنا پر اختلافات اور تنازعات کا شکار ہو جاتی ہیں۔
سمندری تحفظ کثیر الجہت مقاصد کا امتزاج ہوتا ہے جسے لا متناہی خطرات اور خدشات کا سامنا ہے۔ عام طور پر مختلف ریاستیں قومی سلامتی کے مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنی دفاعی ضروریات اور ترجیحات کو مقدم رکھتی ہیں اور مسلسل ان میں بہتری لانے کی تدابیر کو عملی شکل دیتی رہتی ہیں تا کہ وسیع تر حدود میں اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔ سمندری حدود میں مشترکہ مشقیں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔اس طرح خطرے کا تاثر یا پیغام دوسری قوتوں تک مو¿ثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے جس کے نتیجے کے طور پر جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔اس کی ایک مثال امریکہ ، جاپان ، ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان 2007 میں ہونے والے سلامتی کے چہار جہتی مذاکرات کی ناکامی ہے جو خلیج بنگال میں ہونے والی دوسری مالا باربحری مشق کے انعقاد کے فوراً بعد چائنہ اور اس کے اتحادیوں کی مداخلت کی بنا پر ناکامی سے دوچار ہو گئی۔ اسے چین اور اس کے اتحادیوں نے چین کی ایشیاءبحرا لکاہل حکمتِ عملی اور خطے میں اس کی عملداری سے تعبیر کیا جس نے طویل عرصے تک اس کے مقاصدکے حصول کو یقینی بنائے رکھا۔
بحر ہند کا خطہ زمانہ قدیم سے ہی اپنی تجارت ، مہمات اورآبی گزرگاہوں کی وجہ سے بہت اہم رہا ہے۔سازگارموسموں، گرم مرطوب آب و ہوا، غلاموں کی دستیابی، کثیر وسائل اور دوسرے علاقائی عوامل نے خطے کو مزید پر کشش بنا دیا،جس کے باعث اس وقت کی عظیم طاقتوں اور سلطنتوں کی خطے سے متعلق دلچسپی نے اسے مطلوبہ حدف بنائے رکھا۔ بحرِ ہند دنیا کا تیسرا بڑا سمندر ہے جو تین اطراف سے آسٹریلیا ،ایشیاءاور افریقہ کی زمینی حدود میں گھرا ہوا ہے جبکہ چوتھی سمت میں بحرِ منجمد جنوبی واقع ہے۔ پاکستان مغربی بحرِ ہند میں تزویراتی طور پر مقامات کے انتہائی امتزاج اور دو اہم آبناو¿ں ہرمز اور باب المندب کی دہلیز پر واقع ہے۔بڑے تجارتی راستے جنہیں بین الاقوامی تجارت میں شہ رگ کی سی حیثیت حاصل ہے اسی خطے سے ہو کر گزرتے ہیں۔
نئی صدی کے آغاز سے خطے میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ نائن الیون کے بعد متعدد ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے مختلف ممالک کے قومی مفادات کو زمین سے سمندر کی طرف منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور یوں حلیفوں اور حریفوں کے درمیان نئے اتحاد کاظہور ہوا۔جب دنیا نے کچھ معاملات میں اپنے نظریات سے آگے بڑھ کر سوچنا شروع کیا تو ان کا نقطہ نظر تیزی سے تبدیل ہونے لگا،تب سے یہ خطہ جغرافیائی سیاست کے مراحل سے گزر رہا ہے جس میں ریاستوں کے مابین ہر طرح کا تبادلہ خیال شامل ہے۔
یہ وہ خطہ ہے جس میں کثیر الملکی قوتیں اپنے فوجی اور بحری انتظامات کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں جیسا کہ ڈیاگو گارسیا میں امریکہ کی موجودگی ،جہاں سے وہ خطے میں ہونے والی تجارتی ومواصلاتی نقل و حرکت اور مشرقی بحرِ ہند میں پیپلز لیبریشن آرمی ، نیوی کا بغور جائزہ لے رہا ہے جبکہ بحرین میں امریکہ کی موجودگی مغربی بحرِ ہند میں ہونے والی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اسی طرح کی سرگرمیوں اور حکمتِ عملی کی چالوں نے بحر ہند کے پانیوں پر تسلط کے نئے سانچے تشکیل دیے۔
اس کے مطابق امریکہ کی ہند بحرالکاہل (Indo-pacific) سے متعلق حکمتِ عملی مشرقی بحرا لکاہل سے لے کر مغربی بحرہند تک دونوں سمندروں کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ ساگرمالا جیسے منصوبوں کی شکل میں بھارتی سمندری تعمیرات اور ہندوستان کی ہند بحر الکاہل کی حکمتِ عملی جس میں مغربی بحر الکاہل سے مغربی بحر ہند تک کے خطے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ چین کادو سمندروں سے متعلق نظریہ جو اسے بحر الکاہل اور بحرِ ہند کے پاردوسرے سمندروں تک بھی اپنے نقطہ نظر کو وسعت دینے کا جواز فراہم کرتا ہے۔اس کا اہم بیلٹ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی ) منصوبہ جس میں متعدد ریاستوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، معاشی و توانائی کے روابط اور دیگر امداد کے ذریعے اپنے نقطہ نظر سے متفق کرنا شامل ہے۔
ستمبر 2019 میں جرمنی، یورپی یونین کے صدر اور یورپ کی سب سے بڑی معیشت نے بھارت کی طرف واضح جھکاو¿ کے ساتھ ہند بحر الکاہل میں چائنہ کی خارجہ پالیسی کے مقابلے میں اپنی حکمتِ عملی کے خدوخال واضح کیے۔ جسے ہند بحرالکاہل میں برلن کی رسائی سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور یہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
ایسے ماحول میں ایسی سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے جو ریاستوں کے مابین ہم آہنگی، اعتماد اور خوشحالی کو فروغ دیتے ہوئے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر پائیدار امن کی حوصلہ افزائی کرسکیں۔ پاک بحریہ کی جانب سے بحری مشق امن 21 کا اہتمام اسی سلسلے کا تسلسل ہے۔ جس حفاظتی طریقہ کار کے تحت اس کا اہتمام کیا جا رہا ہے وہ باہمی تعاون سے ملنے والی سیکیورٹی ہے جو بین الاقوامی امن کے سلسلے میں مدد گار ثابت ہو گی۔اس مشق میں40 سے زائد ممالک قزاقی مخالف آپریشنز ، انسداد دہشت گردی کی مشقوں، پیشہ ورانہ صلاحیتوں، سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی ،معلومات کے تبادلے اور دیگر متعلقہ روایتی اور غیر روایتی سمندری خطرات کا جواب دینے جیسی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔
اس مشق میں حصہ لینے کے لئے بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت اوربالخصوص روسی کی نمائندگی نے سلامتی سے متعلق باہمی تعاون کے خدو خال کو مزید واضح کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مفادات کے تصادم کے باوجود روس نیٹو ممالک کے ساتھ پاکستان کے پرچم تلے اس مشق میں حصہ لے رہا ہے جو مغربی بحرِ ہند میں سلامتی ، امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ایک اور یادگار اور بے مثال کارنامے کی عکاسی کرتا ہے۔
اس مشق سے عالمی سطح پر اقوام عالم کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے ، پاکستان کے سمندری علاقوں میں سیکورٹی کو یقینی بنانے اور پر امن مستحکم سمندری ماحول کو فروغ دینے کے پختہ عزم کا اظہار ہوتا ہے۔ پاکستان بحریہ مشق کا انعقاد انتہائی منظم طریقے سے کر رہی ہے جو خطے میں اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے کے لیے ایک مو¿ثرقدم ہے۔اس طرح کے اقدامات ریاستوں کو ایک نقطہ نظر پر متفق کر کے مطلوبہ سطح تک صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کرنے اورمشترکہ اعتماد سازی سے فائدہ اٹھانے کے مواقعے بھی فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان نے بارہا ٹاسک فورس 150 ، ٹاسک فورس151 اور دوسرے علاقائی میری ٹائم سکیورٹی گشت جیسی مہمات کی قیادت کرتے ہوئے اپنی بھرپور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کاثبوت دیا ہے جو خطے کو درپیش مسائل سے نمٹنے کی حکمتِ عملی اور پاک بحریہ کی عمدہ کارکردگی کا منہ بولتاثبوت ہے۔ بحری دائرہ اختیار میں بہترین حکمت عملی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی توسیع میں مدد فراہم کر رہی ہے۔پاکستان ملتِ اسلامیہ کامضبوط حصار اور مشق امن 21 کا علمبردار ہونے کی حیثیت سے بین الاقوامی امن اور باہمی اتحاد کا شدت سے خواہاں ہے۔
-

اہل کشمیر کا آتش دان
آتش دان
اگر آپ کے گھر کے آتش دان میں آگ جلانے کے لیے کوئی اور آئے تو یہ آگ آپ کے گھر اور آتش دان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے. گھر سے باہر کا کوئی دوست یا بھائی آپ کو ایندھن تو فراہم کر سکتا ہے لیکن آگ جلانے کے لیے اور مسلسل جلا کر رکھنے کے لیے آپ کو خود ہی کچھ کرنا ہو گا…! آپ کے آتش دان میں کسی اور کے ہاتھوں لگائی ہوئی آگ بجھ کر ٹھنڈی بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھڑک کر آپ کا گھر بھی جلا سکتی ہے.
اس لیے آگ جلا کر ماحول گرم کرنا اور ماحول گرم رکھنا آپ کا اپنا کام ہے. البتہ ایندھن فراہم کرنے والے آپ کو ایندھن فراہم کرتے رہیں گے اور یہی آپ کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے.
وہ ایندھن جو ہماری طرف سے پچھلی دو دہائیوں میں اہل کشمیر کو بھیجا گیا وہ ایک مظلوم و محکوم قوم کے برفیلے ٹھنڈے گھر میں آتش دان جلانے کے لیے تھا. اور الحمد للہ اس ایندھن کے انگاروں سے آتش دان میں آگ اب بھڑک اٹھی ہے اور بر ہان و سبزوار جیسے انگارے مزید ایندھن کو انگارہ بنا رہے ہیں. اور یہ آگ پورے گھر کو گرم کر رہی ہے…. گرم کر چکی ہے. اب یہ آتش دان والوں کی مرضی ہے چاہے تو آگ بجھا دیں… چاہے تو پٹرول ڈال ڈال کر پورا گھر جلا دیں یا پھر ایک تسلسل اور وقفے وقفے سے آتشدان میں ایندھن ڈال کر انگارے بناتے رہیں اور سرد موسم میں گھر کا ماحول گرم رکھیں.
-

پاکستان کے اولین سکھ کرکٹر میں سے ایک مہندر پال سنگھ پشاور زلمی کا حصہ بن گئے
پاکستان سپر لیگ سیزن 6 کے لیے مہندر پال سنگھ پشاور زلمی کے اسسٹنٹ منیجر مقرر
پاکستان کے اولین سکھ کرکٹر میں سے ایک مہندر پال سنگھ پشاور زلمی کا حصہ بن گئے۔پاکستان سپر لیگ سیزن 6 کے لیے مہندر پال سنگھ کو پشاور زلمی کا اسسٹنٹ منیجر مقرر کردیا گیا۔ لاہور میں پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید آفریدی نے مہندر پال سنگھ سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ مہندر پال سنگھ کو زلمی فیملی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔
مہندر پال سنگھ نے کہا کہ وہ زلمی فیملی کا حصہ بننے کی بہت خوشی ہے ۔مہندر پال سنگھ کا شمار پاکستان کے اولین سکھ کرکٹرز میں ہوتا ہے اور وہ پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ میں ان ایکشن رہ چکے ہیں۔





-

ایچ بی ایل پی ایس ایل 2021 کا آفیشل ترانہ ریلیز کردیا گیا،
ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2021 کا آفیشل ترانہ "گروو میرا” ریلیز کردیا گیا ہے۔ یہ ترانہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوگا جبکہ پاکستان کے معروف ٹی وی چینلز بھی اس ترانے کو نشر کریں گے۔
یہ ترانہ دنیا بھر میں موجود ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے مداحوں کی کھیل سے محبت اور لیگ سے قربت کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس ترانے میں کورونا وائرس کے بعد پیدا شدہ حالات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ جہاں اسٹیڈیم تو خالی ہیں مگر مداح اپنے گھروں میں ٹی وی اسکرینز کے سامنے بیٹھ کر میچ دیکھتے نظر آتے ہیں۔
اس ترانے کی تیاری میں پاکستان کے فوک، پاپ اور ہپ ہاپ گلوکاروں نے شرکت کی ہے۔ فوک گلوکارہ نصیبو لعل، پاپ گلوکارہ آئمہ بیگ اور ہپ ہاپ سپر اسٹارز ینگ اسٹنرز نے ترانے میں اپنی آواز کا جادہ جگایا ہے۔
اس ترانے کی ویڈیو کو فدا معین نے ڈائریکٹ کیا ہے جبکہ چھ معروف کرکٹرز بھی ترانے کی آفیشل ویڈیو میں جلوہ گر ہوئے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے شاداب خان، ملتان سلطانز کے شان مسعود، لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی، پشاور زلمی کے وہاب ریاض، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سرفراز احمد اور کراچی کنگز کے بابراعظم شامل ہیں۔
ب
ڈائریکٹر کمرشل پی سی بی بابر حامد کا کہنا ہے کہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کا بلاک بسٹر ترانہ ” گروو میرا” فینز کو لیگ سے جوڑنے میں مدد کرے گا، ہم نے اس ترانے کے معیارپر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، لہٰذا پر امید ہیں کہ اس ترانے کو ملک اور بیرون ملک موجود مداحوں کی جانب سے خوب سراہا جائے گا۔
بابرحامد نے کہا کہ لیجنڈری نصیبو لعل اور پاپ اسٹار آئمہ بیگ کی ایک اپنی پہچان ہے، ان دونوں گلوکاروں سمیت نوجوان ہپ ہاپ اسٹارز ینگ اسٹنرز کی گائیگی نے ترانے کو چار چاند لگادیے ہیں۔
انہوں نے کہا ہمیں امید ہے کہ ترانے کی ریلیز کے بعد اب اگلا مرحلہ شائقین کرکٹ کی نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور قذافی اسٹیڈیم لاہور آمد ہے کہ جہاں انہیں سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محدود تعداد میں اسٹیڈیم کا رخ کرنے والے تماشائی اب کراچی اور لاہور میں کرکٹ ایکشن اور گروو میرا دونوں سے محظوظ ہوں گے۔
نصیبو لعل نے کہا کہ انہوں نے کبھی ایسا ترانہ نہیں گنگنایا، لہٰذا اس ترانے کی تیاری میں انہیں بہت لطف آیا ہے۔
آئمہ بیگ نے کہا وہ بہت خوش ہیں کہ انہیں اس ترانے میں گائیگی کا موقع ملا، پرامید ہیں کہ یہ ترانہ فینز کو پسند آئے گا۔
ینگ اسٹنرز، طلحٰہ یونس کا کہنا ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل سکس کے آفیشل ترانے میں گائیگی کا موقع ملنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے، یہ ترانہ ماضی کے ایڈیشنز سے ہٹ کر بنایا گیا ہے، امید ہے فینز کو پسند آئے گا۔
-

قائداعظم انٹر ڈویژن ہاکی چیمپئن شپ ، سنسنی خیز مقابلے، فائنل میں پہنچی کون سی ٹیمیں؟
سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیراہتمام ہونے والی پہلی قائداعظم انٹر ڈویژن ہاکی چیمپئن شپ2021ء
لاہور اور فیصل آباد ڈویژنز کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئیں، سیمی فائنلز میں سنسنی خیز مقابلے ہوئےپہلے سیمی فائنل میں فیصل آباد ڈویژن نے بہاولپور ڈویژن کو 3-2سے شکست دی، دوسرے ہاف میں بہاولپور ڈویژن نے جارحانہ کھیل کا مظاہر کیا مگر کامیابی حاصل نہ کرسکی
ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ دوسرے سیمی فائنل میں لاہور ڈویژن نے انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد سرگودھا ڈویژن کو 6-5سے ہرایا، میچ کا فیصل سڈن ڈیتھ پر ہوا
سیمی فائنلز میں سنسنی خیز مقابلے ہوئے جس سے ماضی کی یاد تازہ ہوگئی، تمام ٹیموں نے بہت محنت کی،فائنل یادگار ہوگا،
لاہور (پ ر)6فروری2021ء۔سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیراہتمام ہونے والی پہلی قائداعظم انٹر ڈویژن ہاکی چیمپئن شپ2021ء کے سیمی فائنلز میں فیصل آباد ڈویژن اور لاہور ڈویژن کی ٹیمیں سنسنی خیز مقابلے جیت کر فائنل میں پہنچ گئی ہیں،
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے کہا کہ سیمی فائنلز میں سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے جس سے ماضی کی یاد تازہ ہوگئی، تمام ٹیموں نے بہت محنت کی اور اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا،
چیمپئن شپ میں ٹیلنٹڈ کھلاڑی سامنے آئے ہیں، یہ ٹیلنٹ قومی سرمایہ ہے جس کو ضائع نہیں جانے دیں گے، جن کو آگے لے کر جائیں گے تاکہ قومی ہاکی ٹیم مضبوط بنے،چیمپئن شپ سے ہاکی کو بہت فروغ ملا ہے، نئے کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی ہوئی ہے، فیصل آباد اور لاہور ڈویژنز کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئی ہیں،
دونوں ٹیمیں بہت جاندار ہیں امید ہے کہ چیمپئن شپ کا فائنل یادگار ہوگا۔ چیف سلیکٹر پاکستان ہاکی ٹیم اوراولمپئن منظور جونیئر، اولمپئن توقیر ڈار، ہیڈ کوچ پاکستان ہاکی ٹیم خواجہ جنید، سینئر سپورٹس اینکر یحییٰ حسینی، صدر پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن خواجہ خاور، سیکرٹری لیفٹیننٹ کرنل (ر) آصف ناز کھوکھر، ڈائریکٹر سپورٹس محمد حفیظ بھٹی،ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس چاند پروین، ڈپٹی ڈائریکٹر رؤف باجوہ اور تمام ڈویژنل سپورٹس افسران بھی اس موقع پر موجود تھے،
ہفتہ کے روز نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیراہتمام ہونیوالی پہلی قائداعظم انٹر ڈویژن ہاکی چیمپئن شپ کے سیمی فائنلز کھیلے گئے،پہلا سیمی فائنل فیصل آباد ڈویژن اور بہاولپور ڈویژن کے درمیان کھیلا گیا، میچ میں لاہور ڈویژن نے پہلے تین گول کرکے میچ پر اپنی پوزیشن مضبوط بنالی،دوسرے ہاف میں سنسنی خیز مقابلہ ہوا،
بہاولپور ڈویژن نے فیصل آباد ڈویژن پر بھرپورتوڑ حملے کئے اور دو گول کرلئے مگر وہ تیسرا گول کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی اس طرح پہلا سیمی فائنل فیصل آباد ڈویژن نے 3-2سے جیت لیا اور فائنل تک رسائی حاصل کرلی، فیصل آباد ڈویژن کی جانب سے محمد ساجد نے 2اور معظم نے ایک گول کیا جبکہ بہاولپور ڈویژن کی جانب سے ابصار بن رؤف اور محمد عزیر نے گول کئے۔
دوسرا سیمی فائنل لاہورڈویژن اور سرگودھا ڈویژن کے درمیان کھیلا گیا، دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور ایک دوسرے پر بھرپور حملے کئے، کھیل کے اختتام تک میچ ایک، ایک گول سے برابر رہا، میچ میں لاہور ڈویژن کی جانب سے کپتان حنان شاہد اور سرگودھا کی جانب سے ابرار ارشد نے گول کئے،جس کے بعد دونوں ٹیموں کو پنلٹی شوٹ آؤٹ دیئے گئے جس میں بھی مقابلہ 3،3گول سے برابررہا،لاہور کی جانب سے شاہزیب، محمد ربیعہ اورمحمد عمار جبکہ سرگودھا کی جانب سے شاہیر،افراہیم منگا اورابرار ارشد نے گول کئے، پنلٹی شوٹ آؤٹ برابر ہونے سے میچ مزید دلچسپ ہوگیا جس کے بعد میچ کا فیصلہ سڈن ڈیتھ(sudden death) پر ہوا جس میں لاہور ڈویژن نے سیمی فائنل 6-5سے جیت لیا
۔لاہور ڈویژن کی جانب سے عمار، کپتان حنان شاہد اور محمد ربیعہ نے گول کئے جبکہ افراہیم منگا اور ابرار ارشد نے گول کئے، شاہیر نے گیند نیٹ سے باہر پھینک دی۔
-

پاکستان میں اخبار اور رسائل زوال پذیر کیوں ؟اس صنعت کو بچانے کیلئے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں؟
ایک زمانہ تھا جب پرنٹنگ پریس کا آغاز ہوا تو دنیا بھر میں اخبارات لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے لگے اخبارات رسائل اور جرائد کے ذریعے عوام کو حالات حاضرہ سے آگاہ رکھا جاتا تھا دنیا بھر میں مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات کروڑوں کی تعداد میں شائع ہوتے تھے-
باغی ٹی وی : جب آہستہ آہستہ سوشل میڈیا نے اپنی جگہ بنائی تو اخبارات نے انٹرنیٹ پر پیپر کے نام پر جگہ بنالی جبکہ ابھی ای پیپر کا دور ختم ہونے کو جا رہا ہے اور سوشل میڈیا اپنی جگہ تیزی سے بنا رہا ہے لوگ سوشل میڈیا پر خبریں دینے کے علاوہ اپنے تجزیہ بیان کر رہے ہیں-
اخبارات رسائل اور جرائد زوال پذیر ہو رہے ہیں ہزاروں سے سیکڑوں کی تعداد تک محدود ہو رہے ہیں پاکستان میں کچھ سال پہلے ہزاروں کی تعداد میں مختلف ناموں سے فیشن میگزین سمیت مختلف میگزین شائع ہوتے تھے اورزیادہ پرانی بات نہیں جب گھر میں اخبار یا کوئی رسالہ آتا تھاتو اسے ذو ق و شوق سے پڑھا جا تھا اور انمیں چھپی خبروں اور مضامین پر سیر حاصل بحث ہوتی تھی۔
اخبار اور جرائد میں شائع ہونے والے معلوماتی مضامین علم میں اضافے کا باعث بنتے تھے ۔ یہ اضافی معلومات اسکو ل میں بڑی کام آتی تھیں اور اسکول میں ہونے والے غیر نصابی ، ادبی اور معلوماتی پروگرام میں آپ کی کامیابیوں کا سبب بنتی تھیں حقیقت میں اخبارات اور رسائل نے ہمارے کیریئر اور شخصیت کو پروان چڑھانے میں بڑا کام کیا ہے اور آج بھی کررہے ہیں لیکن بدقسمتی سےنئی نسل اخبارات و رسائل سے اتنی زیادہ بہرہ مند نظر نہیں آتی جتنا کہ اسے اس کی ضروت ہے-
سائنس اور ٹیکنالوجی نے معاشرے کے نظام اقدار کو بدل کر رکھ دیا۔ نئے تعلیمی نظام اور زندگی میں در آنے والی ترغیبات اور نئی تفریحات نے اعلیٰ معیار کے ادب اور ادبی رسائل کو بے حیثیت کردیا ہے۔
تعجب خیز بات یہ ہے کہ ادیب اور ادبی رسالوں کے مدیروں نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ جب معاشرہ اور اس کے تقاضے ہی بدل گئے تو ادبی رسالوں کو بھی ان کے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ہمارا پرانا معاشرہ “مواد” پر قانع تھا، نئے معاشرے میں “پیش کش” کی اہمیت بڑھ گئی۔ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت ابھی بھی ہے اور کچھ لوگ اخبارات یا میگزین کی صورت میں اس صنعت کو بچانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ادبی رسائل نے لائق اعتنا نہ سمجھا وہ “مارکیٹنگ” ہے اس سلسلے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے اب پاکستان میں ہر ماہ بزنس کی دنیا کا منفرد اور سب سے مشہور فلیر میگزین کی ای پیپر کاپی جاری کی جاتی ہے-
اردو اور انگلش زبان میں شائع ہونے والا میگزین گزشتہ 17 سال سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پڑھا جاتا ہے میگزین میں پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری اور ٹیلی کام شعبے کی ترقی کے بارے میں بھی مضامین شائع کئے جاتے ہیں اور خاص طور موبائل فون کی دنیا کہ بارے میں بھی تفصیلی روشنی ڈالی جاتی ہے-
اس میں خصوصاً رسالے کی اشاعت کے بعد قارئین کو خریدار بنانے کی ترغیب دینا، اس کے لیے اشتہار دینا اور پھر رسالے کی قارئین تک ترسیل کے لیے تیز رفتار نظام کو حرکت میں لانا، مثلاً معقول کمیشن پر رسالے کی تقسیم و ترسیل کا انتظام ہاکروں کے سپرد کرنا وغیرہ-
-

مکس مارشل آرٹس مقابلےکے فاتح احمد مجتبیٰ کا پاکستان کے لئے جذباتی پیغام
گزشتہ روز سنگا پور میں جاری مکس مارشل آرٹس مقابلے میں پاکستانی فائٹر احمد مجتبی نے بھارتی فائٹر کو ہرا دیا تھا تاہم اب انہوں نے پاکستان اور پاک فوج اور کشمیریوں کے لئے اہم پیغام جاری کیا ہے-
باغی ٹی وی :یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستانی فائٹر نے مکس مارشل آرٹس مقابلے میں بھارت کو ہرادیا، سنگاپور میں جاری مکس مارشل آرٹس مقابلے کے دوران پاکستانی فائٹر احمد مجتبی نے بھارتی فائٹر راہول راجو کو شکست دیدی۔
پاکستانی فائٹر احمد مجتبی نے آج کی فائٹ مقبوضہ جموں اور کشمیر کے عوام، پاک فوج اور پاکستان اور دنیا بھر میں موجود اپنے چاہنے والوں کے نام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے مقابلے ہمیشہ سے ہی دلچسپ رہے ہیں، میں محنت کررہا ہوں مقابلہ جیتنے کے لیے اور آج کی فائٹ پاکستانی اور کشمیری عوام کے نام کرتا ہوں۔
فائٹر احمد مجتبیٰ نے کہا کہ انہوں نے یہ فائٹ جیتنے کا وعدہ کیا تھا اور اب انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے اور اسی طرح وہ کام کرتے رہیں گے اور اپنے ملک کا نام روشن کریں گے-
-

*کراچی باغی ٹی وی ٹیم کی آزادی کشمیر ریلی*
ہر پھول ہے فریادی آنکھوں میں لیے شبنم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
کراچی میں آج باغی ٹی ٹیم اور بنی پاکیزہ رضاکار کے باہمی تعاون سے اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار تکجہتی ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت بنی پاکیزہ چئیرمین ملک ضمیر الرکن صاحب نے کی،ریلی کے شراکا سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ آج جس طرح وزیراعظم عمران خان نے ہر فورم پر کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ہے مجھے پورا یقین ہے کشمیری عوام جلد آزادی کی اس جنگ میں فتح یاب ہوگی۔آج یہاں اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوکر ریلی نکالنے کا مقصد صرف دنیا کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرنا ہی نہیں بلکہ اپنی نوجوان نسل کو کشمیر کاذ کی اہمیت سمجھانا بھی ہے، اب ہمارا بس ایک ہی نعرہ ہے….کشمیر بنے گا پاکستان۔
معزز مہانوں میں سر فیضان رضا،سر اسد احمد خان ،سر غنی اللہ اور میڈم ارم آصف نے اپنے سیکڑوں طلباء اور اساتذہ کے ساتھ مل کر پرجوش طریقے کشمیر کی آزادی حق میں آواز حق بلند کی۔ریلی کے اخیتام پر کشمیر کے شہدا کے لئے دعا اور باغی ٹی وی ٹیم انچارج جناب غنی اللہ اور خورشید بھٹو نے باغی ٹی وی ٹیم کے ساتھ آزادی کشمیر کی یاد میں پودے بھی لگائے۔ -

اقبا ل سے منسوب ایک نظم اور صورت ِ احوالِ واقعی
آج کل سوشل میڈیا پر ایک آڈیو ریکارڈنگ گردش کر رہی ہے جسے پوسٹ کر نے والے صاحب نے علامہ اقبال کی نایاب آڈیو ریکارڈنگ بتا یا ہے۔7دسمبر 2018 کو مجھے محترم بشارت علی سید نے یہ ریکارڈنگ وٹس ایپ کی تومجھے شبہ ہوا کہ یہ نظم اقبال کی نہیں۔سو میں نے تحقیق کی توپتا چلا کہ یہ ریکارڈنگ علامہ اقبال کی نہیں بلکہ بھارت میں مقیم شاعر عتیق احمد جاذب کی ہے جو اپنی نظم”ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے”پڑھ رہے ہیں.میں نے اس تحقیق کی روشنی میں اُسی دن یعنی 7دسمبر 2018 کوہی فیس بک پہ ایک پوسٹ لگا دی تاکہ شعر وادب بالخصوص اقبال کے شیدائی آگاہ ہوں اور اس جعلی ریکارڈنگ کو آ گے بڑھانے سے گریز کریں ۔میری پوسٹ کے کچھ دن بعد کسی دوست نے عتیق احمدجاذب کی وڈیو ریکارڈنگ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کردی مگر کیا کیا جائے کہ دنیا بغیر تتحقیق و تصدیق اس ریکارڈنگ کو آگے ہی آگے بڑھا ئے جاتی ہے۔ یہ معاملہ نیا نہیں ،ایسے کئی اشعار اور غزلیں موجود ہیں جن کے حقیقی شاعر کو کم لوگ جانتے ہیں۔کئی اشعار اقبال نہیں مگر اقبال کے نام سے منسوب کرکے آگے بڑھائے جا رہے ہیں ۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ کئی اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ اس کام میں مصروف ہیں۔یہاں وہ سارے اشعار درج کرنے کا تو مقام نہیں مگر صرف دو شعر قارئین کی نذر کرتا ہوں،جو اقبال کے نہیں مگر ان سے منسوب کر دیے گئے ہیں
تندیِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
(صادق حسین صادق)
اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے
اک ضربِ یداللہی اک سجدہء شبیری(وقارانبالوی)
گزشتہ دنوں محترم ذہین احمد صاحب ،عزیزی ذیشان جنجوعہ اور کئی دیگر دوستوںنے یہ ریکارڈنگ مجھے مسینجر پر بھجوائی تو میں نے انھیں صورت حال سے آگاہ کر دیا۔پھر سوچا کیوں نہ اخبار کے قارئین کو بھی اس حقیقت سے آگاہ کردیا جائے۔سو قارئین محترم!یہ ریکارڈنگ اقبال کی نہیں ،عتیق احمد جاذب کی ہے اور اب ان کی وڈیو بھی سوشل میڈیا پر دستیاب ہے۔ عتیق جاذب صاحب کی کتابیں "ریختہ ڈاٹ کام "پر موجود ہیں اور ان کی کتاب "پیامِ حیات” اور "گلستان ِحیات” میں یہ حمدیہ نظم اولین صفحات پر درج ہے۔واقفان حال بتاتے ہیں کہ اقبال کی کوئی آڈیو یا وڈیو ریکارڈنگ موجود نہیں۔گزشتہ 78 سال سے محقیقین اس حوالے سے ریسرچ کر رہے ہیں لیکن انھیں تاحال کامیابی نہیں ہوئی۔ عتیق جاذب صاحب کی نظم درج ذیل ہے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
سورج کے اجالوں سے، فضاؤں سے ، خلا سے
چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے
جنگل کی خموشی سے، پہاڑوں کی انا سے
پرہول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے
بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے
مٹی کے خزانوں سے، اناجوں سے، غذا سے
برسات سے، طوفان سے، پانی سے، ہوا سے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
گلشن کی بہاروں سے، تو کلیوں کی حیا سے
معصوم سی روتی ہوئی شبنم کی ادا سے
لہراتی ہوئی باد سحر، باد صبا سے
ہر رنگ کے ہر شان کے پھولوں کی قبا سے
چڑیوں کے چہکنے سے تو بلبل کی نوا سے
موتی کی نزاکت سے تو ہیرے کی جلا سے
ہر شے کے جھلکتے ہوئے فن اور کلا سے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
دنیا کے حوادث سے ، وفاؤں سے، جفا سے
رنج و غم و آلام سے، دردوں سے، دوا سے
خوشیوں سے، تبسم سے، مریضوں کی شفا سے
بچوں کی شرارت سے تو ماؤں کی دعا سے
نیکی سے، عبادات سے، لغزش سے، خطا سے
خود اپنے ہی سینے کے دھڑکنے کی صدا سے
رحمت تیری ہر گام پہ دیتی ہے دلاسے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
ابلیس کے فتنوں سے تو آدم کی خطا سے
اوصافِ براہیم ؑ سے، یوسف ؑ کی حیا سے
اور حضرت ایوبؑ کی تسلیم و رضا سے
عیسٰی ؑکی مسیحائی سے، موسیٰ ؑکے عصا سے
نمرود کے، فرعون کے انجام فنا سے
کعبہ کے تقدس سے تو مرویٰ و صفا سے
تورات سے، انجیل سے، قرآں کی صدا سے
یٰسین سے، طٰہٰ سے، مزمل سے ، نبا سے
اک نور جو نکلا تھا کبھی غار حرا سے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے.