Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جرمنی کے سفیر کو پشاور میں کونسا کھانا پسند آیا؟

    جرمنی کے سفیر کو پشاور میں کونسا کھانا پسند آیا؟

    جرمن سفیر برنارڈ اس وقت خیبر پختونخوا ( کے پی کے) کے شہر پشاور میں موجود ہیں اور وہاں کے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جس کا اظہار وہ اپنے سوشل میڈیا پر بھی کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : جرمن سفیر برنارڈ پاکستان کی سیرو سیاحت میں مصروف ہیں اور پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کر رہے ہیں اور اپنی تصاویر اور تاثرات سوشل میڈیا پر بھی شئیر کر رہے ہیں-

    جرمن سفیر نے حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی تصاویر شئیر کی جس میں وہ پشاور میں موجود ہیں اور وہاں کے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں-


    جرمن سفیر نے اپنی کھانا کھاتے ہوئے تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ میرے پشاور کے حالیہ دورے کا سب سے دلچسپ تجربہ وہاں کے چپلی کباب سے لطف اٹھانے کا تھا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ یہ کباب نہایت ہی مزیدار ہیں! اب میں پوری طرح سے سمجھ سکتا ہوں کہ یہ ڈش اتنی مشہور کیوں ہے.

    واضح رہے کہ اس سے قبل جرمن سفیر نے اسلام آباد سے کراچی تک کا 26 گھنٹے کا سفر بذریعہ ٹرین کیا تھا اور اپنے سفر کی ویڈیو ٹوئٹر پر بھی شئیر کی تھی اور لکھا تھا کہ انہیں ٹرین کی سواری بہت پسند ہے اور کسی ملک کو دریافت کرنے کا یہ عمدہ طریقہ ہے-

    سفر کے دوران وہ ایک اسٹیشن پر رُکے اور انہوں نے راستے میں ٹھیلے سے خریداری بھی کی اور وہاں سے بریانی بھی کھائی تھی-

  • شیر دلان گجرات  میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر

    شیر دلان گجرات میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر

    یہ گجرات کے ایک خاندان میں پیدا ہونے والے دو بہادر بھائیوں میاں اکبر اور میاں مسعود کی ولولہ انگیز داستان حیات ہے۔ ان کے والد محترم الحاج میاں برکت علی صاحب انتہائی وضع دار ایک نیک آدمی تھے اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار معتبر مدبر پنچایتی اور صلح جو مشہور تھے لوگ ان کی خوبیوں کے سبب ان کا بہت احترام کرتے تھے تما ذی شعور ان کی اعلیٰ انتظامی و سماجی صلاحیتوں کے معترف تھے انہیں خوبیوں کی بدولت 19ویں صدی کے شروع میں انہیں عوامی نمائندگی کے لئے آگے لایا گیا اور سن 1920 میں بھر پور عوامی پذیرائی سے میونسپل کمشنر گجرات منتخب ہوئے-

    یہ انگریز دور حکومت میں گجرات میں کسی بھی عوامی عہدہ کے لئے براہ راست انتخاب کے نتیجے میں یہ پہلی تقرری تھی بعد ازام میاں برکت علی پہلے منتخب وائس چئیرمین میونسپل کمیٹی بھی بنے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شہرت کی منزلیں طے کرتے رہے-

    الحاج میاں برکت
    الحاج میاں برکت علی کارواباری صلاحیتوں کی سوجھ بوجھ سے بھی مالا مال تھے اور ان کی کاروباری ترقی میں بھی عوامی فلاح و خدمت ان کا مطمع نظر آتا ہے اسی سوچ کے تحت انہوں نے ٹرانسپورٹ کاروبار کا آغاز کیا اور عوام کو معیاری سستی بس فراہم کی اس سے نہ صرف گجرات بلکہ پنجاب بھر کے عوام کو آمدو رفت میں بڑی آسانی حاصل ہو گئی-

    الحاج میاں برکت علی نے بحثیت چئیرمین گجرات پنجاب بس سروس کے معاملات کو بخوبی انجام دیا اور ضلع بھر کے ممتاز خاندانوں اور برادریوں کی بھی گجرات پنجاب بس سروس میں بطور ڈائریکٹر نمائندگی کی اور اپنی خدا ترس طبعیت کی بناء پر ملازمین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو ان کی غلطیوں کو نظرانداز کر کے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے-

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کاروبار تقسیم ہو گیا اور ان کے صاحبزادے میں محمد اکبر نے بحثیت چئیرمین پنجاب بس سروس گروپ بی ذمہداری سنبھالی اور کاروباری معاملات کا ادراک رکھنے کے ساتھ میاں محمد اکبر اپنے بزرگوں کی طرح عوامی خدمت کے جذبے سے بھی سرشار تھےاور سیاست ان کی گٹھی میں تھی اور الحاج میاں برکت کے دونوں صاحبزادے میاں محمد اکبر اور میں محمد مسعود اختر سیای معاملات مین والد کی معاونت بھی کرتے تھے-

    میاں محمد اکبر نے سن 1962 میں مغربی پاکستان ساز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا اس وقت قانون ساز اسمبلی ممبران کا انتخاب بی ڈی ممبران کیا کرتے تھے حلقہ انتخاب میں کُل باسٹھ پی ڈی مبران تھے جن مین سے پچپن نے میاں محمد اکبر کو ووٹ دیئے اور یوں میاں محمد اکبر نے ضلع بھر میں اپنی سیاسی بصیرت کی دھاک بٹھا دی-

    میاں محمد اکبر
    میاں محمد اکبر ایک غیر متزلزل آہنی عزم رکھنے والے بہادر اور نڈر انسان تھے وہ اپنے سیاسی حریفوں سے ببانگ دہل بال خوف و خطر ٹکرائے مگر کبھی بھی سیاسی اختلافات کو ذاتیات تک نہ لائے اور کبھی انا کا مسئلہ نہ بنایا وہ دوستوں کے دوست اور مخالفوں کے دل میں بھی اپنا احترام رکھتے تھے میاں محمد اکبر سھر انگیز شخصیت کے مالک تھے جو بھی ان سے ایک بار ملتا دوسری ملاقات کی بھی چاہ رکھتا اور پھر ہمیشہ کے لئے ان کا گرویدہ بن جاتا-

    میاں محمد اکبر کو تعلقات بنانے اوراور نبھانے میں ملکہ حاصل تھا سن 1962 کے انتخابات میں منتخب ہونے والے بی ڈی ممبران جنہیں آجکل ناظم چئیرمین کہا جاتا ہے میں 6 آزاد 3 چوہدری ظہور الہیٰ شہید کے حامی جبکہ باقی تمام 51 ممبران نے میاں محمد اکبر کے حق میں ووٹ دیا-

    میاں محمد اکبر سیاسی افق پر ایک روشن ستارہ بن کر اُبھرے اور بلا تفریق ذات پات برادری عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا یہی وہ خوبی تھی کہ غیر کاشتکار ہونے کے باوجود انہیں تمام برادریوں کی بھر پور حمایت حاصل تھی میاں محمد اکبر اکثر کہا کرتے تھے کہ حقیقی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے جبکہ تمام لوگ انسانی برادری ہیں یہ وہ وقت تھا جب نوابزادگان طویل عرصہ سے ضلوع گجرات کے سیاہ وسفید کے مالک چلے آ رہے تھے-

    پگانوالہ اور جوڑا خاندان بھی بھر پور اثرو رسوخ کے مالک تھے مگر تمام تر مخالفتوں کے باوجود میاں محمد اکبر اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر بھر پور کامیابی سے ہمکنار ہوئے یہ ان کے بے لوث خدمات کا عوامی اعتراف تھا میاں محمد اکبر سن 1962 میں مختصر اپوزیشن کا حصہ تھے حمزہ صاحب، تابش علوری، خواجہ محمد صفدر ان کے ساتھ اپوزیشن بینچوں پر تھے- خواجہ صفدر میاں ، محمد اکبر کے قریبی رفقاء میں رہے اور میاں محمد اکبر کی اچانک بے وقت رحلت کے بعد میاں اکبر فیملی کے سرپرست رہے-

    واقفان حال اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے زعماء کہتے ہیں کہ اگر گورنر پنجاب میر محمد خان ٹکٹ میاں محمد اکبر کو دے دیتے تو ضلع گجرات کی سیاست میں مزید بہتری آ سکتی تھی مگر ٹکٹ میاں محمد اختر پگانوالہ جو کراچی کے لئے دے دیا گیا اور انہوں نے میاں محمد اکبر کی نیک نامی کو استعمال کرتے ہوئے بلا مقابلہ کامیابی حاصل کی میاں محمد اکبر کے استفسار پر بتایا گیا کہ ٹکٹ آپ کے بھائی میاں اختر پگانوالہ کو دے دی گئی ہے یہی وہ مرحلہ تھا جب میاں محمد اکبر نے نوابزادگان کے ساتھ حکومتی بینچوں پر بیٹھنے کی بجائے اُٹھ کر چوہدری ظہور الہیٰ شہید کی طرف دست رفاقت بڑھایا اور مشترکہ انتخابی مہم کا آغاز کیا میاں محمد اکبر چوہدری ظہور الہیٰ گوجروں کے حلقہ میں لے گئے اور انہیں قریہ قریہ متعارف کرایا-

    چوہدری ظہور الہیٰ شہید بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے چوہدری ظہور الہیٰ شہید کے بعد ان کے بھتیجے چوہدری تجمل حسین ، صاحبزادے چوہدری وجاہت حسین پوتے چوہدری حسین الہیٰ کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں نوابزادگان کی بے رخی کے باوجود گوجر برادری میاں اکبر خاندان کے ساتھ بے پناہ انس و محبت رکھتی ہے جو آج بھی قائم ہے صد حیف کچھ نادیدہ قوتوں حاسدین کو ضکع کے عوام کی ترقی فلاح و بہبود اور رواداری کی سیات کا یہ چلن پسند نہ آیا اور پھر وہ دردناک المیہ رونما ہوا کہ جس سے انسانیت کانپ اُٹھی 25 اکتوبر 1970 کو میاں محمد اکبر کو ان کے بھائی میاں محمد مسعود اختر سُسر میجر محمد عبداللہ محافظ سکندر کے ہمراہ بےدردی سے اجتماعی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا-

    میاں صاحبان کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے لاکھوں لوگ شریک ہوئے اور اپنے محبوب قائدین کی بے وقت رحلت پر غم و حسرت کی تصویر بنے نظر آئے ایک ہفتہ تک شہر کے تمام بازار بند رہے میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر حقیقی معنوں میں یکجان دو قالب تھے انہوں نے یہ بھائی چارہ آخری دم تک خوب نبھایا-

    میاں محمد مسعود اختر
    میاں صاحبان کے اجتماعی قتل کا اندہناک سانحہ خاندان پر انتہائی قرب و مصائب کا سبب بنا سکول جاتے 6 معصوم بچوں نے اپنا وقت نہایت خوف کی کیفیت میں گزارا ان کے سامنے زندگی کے طویل کٹھن مراحل تھے اب غمناک شکستہخاندان کی باگ دوڑ تین پردیہ نشین خواتین اور کالج میں زیر تعلیم ایک ک عمر نوجوان کے کندھوں پر آن پڑی اور یہ نوجوان پُر عزم اور باہمت تھا مگر ابھی معاملات زندگانی اور سیایس اثرارو رموز سے واقف نہ تھا آفرین ہے اس باہمت نوجوان پر جس نے تمام تر غم و الم اور نامساعد حالات کے باوجود سیاسی محاز پر سے خلوص لگن کا اعلٰی مظاہرہ تھا-

    خاندانی علم تھامے رکھا اور تن تنہا اپہنے بزرگوں سے خلوص سے اپنے بزرگوں کے عوامی فلاحی مشن کو جاری رکھا غم میں ڈوبے ایل خان کے سامنے ایک طویل اور صبر آزما سفر تھا وہ دل کی اتھاہ گہرائیوں تک عظیم سدقے سے ہل چکے تھے نہ صرف میاں اکبر خاندان بلکہ تمام اہل علاقہ کے لئے یہ ناگہانی صدمہ ایک ناقابل تلافی نقصان تھا-بربریت کے اس شرمناک اور بزدلانہ فعال کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا جس مین 4 بے گناہ انسانون کو بڑی سفاکی سے دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہر آنے والا 25 اکتوبر کا دن 1970 کے اس قومی المیہ کی یاد لاتا رہے گا-جس کی قومی سطح پر بھر پور مزمت کی گئی آزمائش کی گھڑی میں میاں اکبر خاندان کے ساتھ وسیع حلقہ احباب ،دوستوں اتحادیوں اور خیرخوایوں نے بڑا ساتھ نبھایا-

    پھر دنیا سنے اس خاندان کو نہایت باوقار طریقہ سے گھمبیر صورتحال سے نکلتے دیکھا یہ بدرجہ اتم پختہ ایمان اعتماد اور مشن اور نامساعد حالات کے باوجود سیاسی محاذ پر سے پر خلوص لگن کا اعلیٰ مظاہرہ تھا اولیٰ تربیت کا اثر ان کی اولاد مین دیکھا جا سکتا ہے انہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر سب کا بھلا کیا کسی کا بپرا نہیں چاہا اور نہ کبھی عیدے و اختیار کا غلط استعمال کیا بلکہ حکومت و سماجی پوزیشن کو خاندانی روایات کے مطابق فلاح عامہ کا ذریعہ بنایا آج خاندان سیاسی و سماجی خدمت کے 100 سال پورے کر چکا ہے جس مین میاں محمد اکبر اور میان محمد مسعود اختر کا سانحہ ارتحال کے بعد اس نصف صدی میں شامل ہے-

    یہ فیصلہ کرنے کے لئے دنیا ایک مشکل اسکریننگ سنٹر ہے کہ انہوں نے اس سفر کو کیسے آگے بڑھایا۔ میاں برکت خاندان کی جانشین نسلوں کو سلام۔ ہم صحیح ، غلط یا اس دور تک پہنچے ہیں ، اب یہ نوجوان نسل پر منحصر ہے۔ انہیں اپنے بڑوں کے انہیں اپنے بڑوں کے مشن کو آگے کیسے بڑھانا ہے ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔

    میاں ہارون مسعود اور گجرات کے میاں عمران مسعود اس خاندان کے سپوت ہین جو اپنے فلاحی منصوبوں اور سیاسی کیریئر کے لئے جانا جاتا ہے۔

    میاں ہارون مسعود


    میاں عمران مسعود

    تحریر: چودھری مقصود انور

  • اداکارہ کنگنا رناوت کے بعد ایک اور بھارتی اداکار کی بیٹی کو ریپ کی دھمکی

    اداکارہ کنگنا رناوت کے بعد ایک اور بھارتی اداکار کی بیٹی کو ریپ کی دھمکی

    بھارتی اداکار وجے سیتھوپتی کو سری لنکا کے لیجنڈری کھلاڑی متھایا مرلی دھرن کی بائیو پک کے لیے حامی بھرنے پر اُن کی بیٹی کا ریپ کرنے کی دھمکی مل گئی۔

    باغی ٹی وی :سری لنکا کے عظیم بولر متھایا مرلی دھرن کی زندگی پر بھارت میں تامل زبان میں فلم بنانے کی خبریں زیر گردش ہیں جس کا ایک پوسٹر بھی جاری کیا گیا تھا ابتدا میں اداکار وجے سیتھوپتی نے فلم میں مرلی دھرن کا کردار ادا کرنے کی حامی بھری تھی لیکن بھارت میں تنازع کھڑا ہونے پر وہ فلم سے علیحدہ ہوگئے تھے۔

    بھارت میں خواتین کو ریپ کی دھمکیوں سے خوفزدہ کرنے کا کلچر عام ہوتا جارہا ہے تاہم اب اسکی لپیٹ میں اداکار اور معرف شخصیات بھی ہیں-

    اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وجے سیتھوپتی کی بیٹی کو ریپ کی دھمکیاں ملنے لگی ہیں۔

    بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چنئی پولیس نے ٹوئٹر پر ریپ کی دھمکی ملنے کا مقدمہ درج کیا ہے چنئی پولیس کمشنر وجے سیتھوپتی کا نام لیے بغیر اور اس دھمکی کی مزید تفصیلات دیے بغیر بتایا کہ ایک سیلیبرٹی کے خلاف سوشل میڈیا میں آنے والے کمنٹس پر تشویش ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایک شخص نے وجے سیتھوپتی کو تامل قوم کا غدار قرار دیا اور ایک گرافکس شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے ساتھ جب ایسا ہوگا تو انھیں سری لنکا میں بسے تامل کو درپیش مشکلات کا احساس ہوگا۔

    واضح رہے کہ سری لنکن حکومت کی جانب سے تامل باغیوں کو مارنے کی حمایت کے بیان پر بھارت میں موجود تامل لوگ مرلی دھرن کو اپنا غدار سمجھتے ہیں۔

    اپنے بیان سے متعلق مرلی دھرن مے سضاحت بھی دی تھی کہ میں تیس سالہ طویل اس خانہ جنگی کے دوران ہی پلا بڑھا ہوں میں جنگ کے درد کو محسوس کر سکتا ہوں جب میں 7 سال کا تھا تو میرے والد کو مارا گیا ہم نے بڑا وقت سڑکوں پر گزارا ہے سری لنکا کی خانہ جنگی کے اختتام سے متعلق میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ معاملات زیادہ خراب ہوجانے پر مرلی دھرن نے اداکار سیتھوپتی سے درخواست کی تھی وہ اس فلم سے علیحدہ ہوجائیں۔

    مرلی دھرن نے کہا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ سیتھوپتی کچھ لوگوں کی جانب سے دباؤ برداشت کر رہے ہیں میں نہیں چاہتا کہ وجے سیتھوپتی جیسے اسٹار ان لوگوں کی وجہ سے مصیبت میں آئیں جو میرے متعلق غلط فہمی کا شکار ہیں۔

    مرلی دھرن کے اس بیان کو وجے سیتھوپتی نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور لیجنڈری کرکٹر کا شکریہ بھی ادا کیا بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وجے سیتھوپتی کے مینیجر نے کہا ہے کہ اداکار اب یہ فلم نہیں کریں گے۔

    خیال رہے کہ مسٹر سیتھوپتی کی بیٹی حالیہ دنوں میں اس طرح کے مضحکہ خیز خطرات کا شکار صرف ایک اعلی شخصیت نہیں ہے۔ رواں ماہ کے شروع میں کرکٹر ایم ایس دھونی کی بیٹی کو اسی طرح کے دھمکی دی گئی تھی جب اس کے والد – جو جاریہ آئی پی ایل میں چنئی سپر کنگز کی طرف سے کھیلتے ہیں – ایک میچ ہار گئے علاوہ ازیں بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت کو بھی ریپ کی دھمکیاں دی گئیں-

    کنگنا گزشتہ دو ماہ سے بھارت میں مختلف موضوعات پر آواز اٹھاتی رہی ہیں جبکہ انھوں نے سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات سے متعلق بھی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔

    بالی وڈ میں اقرباء پروری کے خلاف آواز بلند کرنے اور وزیراعلیٰ مہاراشٹرا کے خلاف کھڑے ہونے سمیت مخلتف معاملات میں آج کل کنگنا رناوت خبروں میں ہیں۔

    میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں انھیں ریاست اوڑیسہ کے ایک وکیل کی جانب سے ریپ کی دھمکیاں ملی ہیں۔

    جبکہ دھمکی دینے والے شخص نے کہا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوچکا ہے اور کنگنا کو دھمکی انھوں نے نہیں دی۔

    اس شخص کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے خواتین یا پھر کسی بھی قوم سے متعلق ان کے ایسے نظریات نہیں ہیں، میں صدمے میں ہوں اور معافی مانگنا چاہتا ہوں۔

    کنگنا رناوت کو ریپ کی دھمکیاں

  • آپ کیا سیکھیں گے  بقلم:عمر یوسف

    آپ کیا سیکھیں گے بقلم:عمر یوسف

    آپ کیا سیکھیں گے ۔

    عمر یوسف۔۔۔

    عربوں کی شاعری پڑھنے کے بعد آپ کو احساس ہوگا کہ یہ عربی شعراء انسان کو اپنی باتوں میں جکڑنے کا ایسا فن رکھتے تھے کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی ان کے جال میں پھنس جاتے ۔۔۔۔ حتی کے انہیں اپنا قریبی بنا لیتے ۔۔۔ درہم و دینار ۔۔۔ اور مال و دولت سے نوازتے ۔۔۔ اپنے دربار میں انہیں خاص مقام عطا کرتے ۔۔۔

    تو شعراء خوب فائدے اٹھاتے ۔۔۔ اور زندگی کی تمام نعمتیں حاصل کرتے ۔۔

    جبکہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو آپ پڑھیں گے تو یہ پائیں گے کہ آپ ص بھی ایک بادشاہ کی تعریف و تمجید میں اپنا وقت گزارتے تھے ۔۔ وہ بادشاہ ان تمام بادشاہوں کا بادشاہ اللہ رب العزت ہے ۔۔۔

    آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں نے عارضی بادشاہوں کی خوشامد میں اپنی زندگیاں گزاریں ان کو عارضی فائدے ملے ۔۔۔ لیکن جس نبی ص نے خدائے لازوال کی تعریف و تمجید میں وقت گزارا اس نبی کو اللہ نے دنیا میں بھی سرخرو کیا اور آخرت کے حقیقی اور دائمی فائدوں کا بھی مالک بنایا ۔۔۔

    آپ نے فن سیکھنا ہے تو یا تو آپ عربوں کی شاعری سے لوگوں کو راضی کرنے کا فن سیکھ لیں یا آپ نبی ص کی سیرت پڑھ کے ملک الملک رب ذوالجلال کو راضی کرنے کا فن سیکھ لیں اور دائمی فائدے حاصل کرلیں ۔۔۔

    نوٹ
    یہاں پر عربوں کی شاعری پر تنقید ہرگز مقصود نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ اس شاعری کی بات کی جائے تو یہ ایک بہترین شاعری ہے ۔۔۔
    یہاں پر زہد و ورع کو اپنانے کی ترغیب دینا مقصود ہے کہ دنیا کو راضی نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔ ہاں لیکن اللہ کو راضی کیا جاسکتا ہے اور دونوں جہاں کی عزتیں صرف اس اللہ کی رضا سے حاصل ہوں گی ۔

  • سری لنکن پریمئیر لیگ:سلمان خان کی فیملی کی خریدی گئی فرنچائز کینڈی ٹسکرز  میں وہاب ریاض شامل

    سری لنکن پریمئیر لیگ:سلمان خان کی فیملی کی خریدی گئی فرنچائز کینڈی ٹسکرز میں وہاب ریاض شامل

    سری لنکن پریمیئرلیگ میں پاکستانی پیسر وہاب ریاض بھی بھارتی فلم سٹارز کی فرنچائز کینڈی ٹسکرز کی جانب سے ایکشن میں ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی ویب سائٹ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بالی وڈ سُپر اسٹار سلمان خان کے اہل خانہ نے لنکا پریمیر لیگ (ایل پی ایل) میں ، کینڈی ٹسکرز فرنچائز خریدی ہے ، یہ ٹورنامنٹ ہے جس میں اس کے پلیئر ڈرافٹ کو پچھلے دو دنوں میں منعقد کیا گیا تھا اور یہ 21 نومبر یعنی آج کو شروع ہونا ہے۔

    سلمان خان کے چھوٹے بھائی سہیل اور والد ، مشہور اسکرپٹ رائٹر سلیم خان ، کنسورشیم کا ایک حصہ ہیں یہ ٹیم سلمان کے بھائی کے نام سے رجسٹرڈ کمپنی سہیل خان انٹرنیشنل نے خریدی ہے –

    سلمان خان کے بھائی سہیل خان نے ٹی او آئی کو بتایا ہماری ٹیم میں عام طور پر لیگ ، اور شائقین کا جذبہ جو کسی سے پیچھے نہیں ہے ، کو دیکھتے ہوئے ہمیں بہت ساری صلاحیتیں نظر آتی ہیں۔

    خان فیملی کے تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے ارباز اور سلمان بڑے ہونے کی وجہ سے سلمان کینڈی کے تمام میچوں میں شرکت کریں گے۔

    سہیل خان کی ٹیم میں پاکستانی پیسر وہاب ریاض بھی بھارتی فلم سٹارز کی فرنچائز کینڈی ٹسکرز کی جانب سے ایکشن میں ہوں گے، ٹورنامنٹ آئندہ ماہ شروع ہوگا۔

    وہاب ریاض کے علاوہ کینڈی ٹسکرز ٹیم میں کوسال پریرا ، کرس گیل ، لیام پلنکٹ ، اور کوسال مینڈس شامل ہیں۔

    لنکا پریمیر لیگ کے افتتاحی ایڈیشن میں پانچ ٹیمیں ہیں- کولمبو کنگز ، ڈمبولا ہاکس ، گیل گلیڈی ایٹرز ، جا فنا اسٹالینز اور کینڈی ٹسکرز۔
    کسی بھی چیز سے زیادہ سہیل سب سے زیادہ پرجوش دکھائی دیتے ہیں کہ کرس گیل اب ان کی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ایل پی ایل پلیئر ڈرافٹ گذشتہ 48 گھنٹوں میں بنایا گیا تھا اور کھلاڑیوں کی دستیابی اور ان کے مقررہ اصولوں پر تمام الجھنوں کے باوجود خان کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کے ساتھ خوش ہیں جس نے انہیں اکٹھا کیا ہے۔

    سہیل خان کا کہنا ہے کہ سری لنکن پریمیئر لیگ میں کئی اسٹار کرکٹرزموجود ہوں گے، شائقین بڑی بے تابی سے سنسنی میچز کے منتظرہیں، کینڈی ٹسکرز کا اسکواڈ متوازن ہے، کرس گیل کو کرکٹ کا باس کہا جاتا ہے،کوشل پریرا جیسے سری لنکن اسٹار کیساتھ میچ ونرز وہاب ریاض اورلیام پلنکٹ بھی موجود ہیں، کوشل مینڈس اورنوآن پرادیپ بھی تہلکہ خیز کارکردگی دکھا سکتے ہیں، اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے سلمان خان ہرمیچ میں نظرآئیں گے-

    ایل پی ایل میں گیل فرنچائز اسی کنسورشیم کی ملکیت ہے جو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز چلاتی ہے۔ تاہم ، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ دیگر ٹیموں کا مالک کون ہے۔

    ٹائمز آف انڈیا کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ ایل پی ایل کے پاس ہندوستان میں مقیم دو دیگر کنسورشیم ہیں اور ایک سری لنکا سے مقیم ہے جس نے ٹیموں کو منتخب کیا ہے۔ سری لنکا کے سابق آل راؤنڈر اور کمنٹیٹر رسل آرنولڈ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ سری لنکا میں مقیم کنسورشیم سے وابستہ ہیں۔

    دبئی میں قائم انوویٹیو پروڈکشن گروپ (آئی پی جی) کو رواں سال اگست میں ایل پی ایل کو مارکیٹنگ اور تنظیم کے حقوق سے نوازا گیا تھا ، اس ٹورنامنٹ کا پہلا ستمبر میں انعقاد ہونا تھا۔ تاہم ، وبائی بیماری کےباعث، ٹورنامنٹ ملتوی کرنا پڑا۔ ریکارڈ کے مطابق ، آئی پی جی کی سربراہی انیل موہن کر رہے ہیں ، جو متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی ہیں۔

    موہن نے بھی ایل پی ایل میں سلیم خان کے کنبہ کی شرکت کی تصدیق کی اور کہا "انہوں نے نہ صرف پورے ایونٹ میں گلیمر کا اضافہ کیا بلکہ وہ کھیل کے لئے پرعزم بھی ہیں”۔

    لنکا پریمیر لیگ 21 نومبر سے 13 دسمبر 2020 تک شیڈول ہے۔

    2020 لنکا پریمیر لیگ کا حصہ بننے والے کچھ اور بڑے نام شعیب ملک (جافنا اسٹالینز) ، ڈیوڈ ملر اور کارلوس برتھویٹ (ڈمبولا ہاکس) ، آندرے روس-ل ، فاف ڈو پلیسیس ، انجیلو میتھیوز (کولمبو کنگز) ، میں شامل ہیں۔ جبکہ ملنگا ، شاہد آفریدی ، کولن انگرام اور محمد عامر (گیل گلیڈی ایٹرز) میں شامل ہیں-

    سلمان خان کی نئی فلم رادھے کی شوٹنگ مکمل ،فلم کب ریلیز کی جائے گی؟

    سوشل میڈیا صارفین کا فہد مصطفیٰ کا چلبل پانڈے اور سمبا سے موازنہ کیوں؟

  • وہ کام جو انرجی اور طاقت فراہم کرتے ہیں   بقلم: عمر یوسف

    وہ کام جو انرجی اور طاقت فراہم کرتے ہیں بقلم: عمر یوسف

    عمر یوسف

    بچپن میں جب ہم رسالے پڑھتے تھے تو کئی طرح کے رسالے ہمیں ملتے تھے ان میں سے کچھ ہفتہ وار ہوتے تھے کچھ پندرہ دنوں بعد آتے تھے اور کچھ مہینے بعد آتے تھے ۔۔۔
    جب بھی رسالے ملنے کا دن آتا ہماری خوشی دیدنی ہوتی تھی ۔۔۔ عجیب سی خوشی و مسرت لیے ہم جھومتے رہتے تھے ۔۔۔ اور جب رسالہ ہاتھ میں آجاتا تو ہم جذباتی انداز میں یہ فیصلہ نہ کرپاتے تھے کہ کونسی کہانی پہلے شروع کی جائے ۔۔۔ سارے رسالے کے اوراق پہلے اچھی طرح دیکھتے پھر ان میں سے ایک کہانی منتخب کرکے پڑھنا شروع کردیتے ۔۔۔

    تصورات کی گاڑی میں سوار ہم تخیلاتی دنیا کے رنگا رنگ سفر کرتے ۔۔۔

    کبھی مزاح کی دنیا میں خوب ہنستے اور کبھی دکھوں کے شہر میں آنسو بہاتے ۔۔۔ کہانی ختم ہوتی تو ہم ایک نیا سبق لیے اٹھتے ۔۔۔

    مکمل کہانیاں جہاں تفریح فراہم کرتیں وہیں قسط وار کہانیوں تجسس پیدا کردیتی اور آئندہ کے رسالے کے لیے مزید بے چین کردیتیں ۔۔۔

    رسالہ ہمیں ایسی انرجی فراہم کرتا کہ اس کے بعد سارے کام آسان لگتے تھے ۔۔۔ اور کام کا بوجھ ہی محسوس نہ ہوتا تھا ۔۔۔

    جب کبھی اتوار کو دوستوں کے ساتھ کھیلنے جانا ہوتا تو ہر ہفتے کی یہ خوشی بھی دیدنی ہوتی تھی ۔۔۔ جس کے انتظار میں سارا ہفتہ خیالوں میں ہی گزرتا تھا ۔۔۔

    ٹی وی پر بچوں کے سیریل لگتے تو جس دن سیریل لگنا ہوتا اس دن بھی خوشی کا عجیب سماں ہوتا تھا ۔۔۔

    غرض ہمارے جتنے بھی پسندیدہ کام تھے اس کے انتظار میں بھی ایک طرح کی انرجی ہوتی اور اس کے حصول میں بھی بلا کا لطف اور فرح کا سامان ہوتا ۔۔ جس کے بعد میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ۔۔۔ نئی امنگ لیے نئے میدانوں میں بلا خوف و خطر کود جاتے ۔۔۔

    زندگی کے ایام گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان اپنے ان انرجی فراہم کرنے والے کاموں کو نظر انداز کرنا شروع کردیتا ہے ۔۔۔ صرف اور صرف مخصوص اور بیزار کن چیزوں پر توجہ دینا شروع کردیتا یے ۔۔۔ اکتاہٹ اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی ۔۔۔ صلاحیتیں ماند پڑنا شروع ہوجاتی ہیں ۔۔۔ اور قوائے دلی مر جاتے ہیں ۔۔۔

    زندگی میں انسان کو کوئی نا کوئی ایسا کام ضرور رکھنا چاہیے جسے کرنے کے بعد اسے انرجی ملے ۔۔۔ اسے تفریح حاصل ہو ۔۔۔ اور کشادگی محسوس کرے ۔۔۔

    اگر آپ اپنے دلچسپ کاموں کو چھوڑ کر صرف ذمہ داریوں پر فوکس کیے ہوئے ہیں تو یقین جانیے ذمہ داری بھی احسن طریقے سے ادا نہ ہوگی ۔۔۔ بیسٹ رزلٹ دینے لیے کام میں دل لگی شرط ہے اور دل لگی تب میسر ہوتی ہے جب دل کو اس کی دلچسپیوں کی خوراک فراہم کی جائے ۔۔

    انسان کو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ اسے وہ ایک کام دے دے جو اسے طاقت اور انرجی فراہم کرے ۔۔۔

  • نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم    بقلم: محمد نعیم شہزاد

    نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بقلم: محمد نعیم شہزاد

    نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
    محمد نعیم شہزاد

    درود اس پر (یہ) بزمِ ہستی سجائی جس نے
    یادِ باری قلبِ غافل میں بسائی جس نے

    راہ دکھلا کر بھٹکے ہوئے عدم کے راہی کو
    زندگی کیا ہے؟ کٹے کیسے؟ یہ بات سکھائی جس نے

    بے مثل وصف ہیں جس کے وہ ذات گرامی اس کی
    امت وسط کی ہر (اک) شان بڑھائی جس نے

    خُلق قرآں کا مجسم، صدق و صفا کا پیکر
    حسن دنیا کی وہ تمثیل دکھائی جس نے

    پر تبسم ہی رہے جھیل کے ہر ظلم و جفا
    وہ سراپائے رحمت کہ دعا دی جس نے

    ان کی الفت ہی ایماں کا پیمانہ ٹھہری
    زندگی مرضئ مالک پہ بیتائی جس نے

    کیوں نہ خائف ہو ابلیس اس کے چرچے پر
    اس کی تلبیس سے بچنے کی راہ سجھائی جس نے

    عین لازم ہے توقیر اس کی ہر کس و نا کس پر
    بندہ و آقا کی تفریق مٹائی جس نے

    اس کی ناموس پہ اک حرف نہ آنے دیں گےنہ
    بھلایا کسی بھی حال میں ہم کو جس نے

    امتی اس پہ فدا ہوں دل و جاں سے نعیم
    دہر سے نام مٹا دیں گے کی جسارت جس نے

  • حفیظ سینٹر لاہور میں لگنے والی آگ، اربوں کے نقصان اور آگ جلدی نہ بجھنے کے ذمہ دار

    حفیظ سینٹر لاہور میں لگنے والی آگ، اربوں کے نقصان اور آگ جلدی نہ بجھنے کے ذمہ دار

    کمپیوٹر اور لیپ ٹاپس کے حوالے سے پنجاب کی سب سے بڑی مارکیٹ حفیظ سینٹر کا جہاں بیشتر حصہ جل گیا اور اربوں کا نقصان ہوا وہیں ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کی کمزوریاں اور کوتاہیاں بھی کھل کر سامنےآئیں صبح پونے پانچ لگنے والی آگ رات میں کہیں جاکر بجھائی جاسکی.
    فائر برگیڈ کی اکثر گاڑیوں میں پانی ہی نہیں تھا ، اگر پانی تھا تو پائپ پھٹے ہوئے جس سے پانی کا پریشر ہی نہیں بن پا رہا تھا بیشتر گاڑیاں بےکار میں کھڑی تھیں اور ایک دو گاڑیاں آگے بجھانے میں مصروف تھیں.
    سب سے اہم چیز جو ٹیکنیکل غلطی تھی جو فائر فائٹنگ کے بنیادی اصولوں میں ہے کہ الیکٹرانک کی اشیا اور مارکیٹ کو لگی آگ کو پانی سے بجھایا جا رہا تھا. پہلی بات تو یہ کہ الیکٹرانکس کی اشیاء کو لگنے والی آگ کو پانی سے بجھانا ہی بےوقوفی ہے کیونکہ اس سے آگ بجھتی نہیں اور بڑھک اٹھتی ہے چیز مکمل بےکار ہوجاتی ہے.دوسری بات جو چیزیں آگے کی حد سے باہر ہیں پانی کی بوچھاڑ میں وہ سب بھی بےکار ہوگئیں.
    ہماری سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چیزوں اور اداروں کو اپڈیٹ کرنا ناممکن ہے یہاں پر البتہ کریڈٹ لینا سب کا من پسند مشغلہ ہے. گزشتہ دنوں میں موٹروے حادثہ میں بھی بجائے اس کے جائے وقوعہ پر پیٹرولنگ پولیس، ٹریفک پولیس کی عدم دستیابی پر بات ہوتی کریڈٹ لیا گیا کہ موٹروے ہم نے بنائی یہ وہ.
    ایسے ہی حفیظ سینٹر کے تقریباً مکمل جل جانے کے بعد بجھنے والی آگ پر مبارکبادیں دی جارہی ہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ ادارہ ہم نے بنایا …حالانکہ بات اس پر ہونی چاہیے کہ فائر برگیڈ کے پاس آگ بجھانے کے دیگر ذرائع کیوں نہیں ہیں، گاڑیوں میں پانی کیوں نہیں ہے، گاڑیوں کے پائپ کیوں پھٹے ہوئے ہیں. الیکٹرانکس کی اشیاء کو لگنے والی آگ کو بجھانے کے متبادل ذرائع اور آلات کیوں نہیں ہیں.
    ہم نے وہاں کے دوکانداروں کو حفیظ سینٹر میں لگی آگ پر روتے دیکھا اور رونا بنتا بھی تھا کہ سالوں کی محنت آگ میں جل رہی تھی اور وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے لیکن اگر یہ یہ رونا حادثے سے قبل رو لیا جاتا تو نقصان اتنا نہ ہوتا. جن لوگوں نے حفیظ سینٹر کو وزٹ کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہاں پر تاروں کے بچھے جال کس کیفیت میں، بجلی چوری کی داستانیں بھی زبان زد عام ہیں اور اس کے لیے لگائی گئی "کنڈیاں” بھی نظر آتی ہیں.
    سب سے بڑھ کر اتنے بڑے پلازے میں، فائر الارمنگ سسٹم، فائر اسٹنگشورز اور فائر فائٹنگ کے آلات بھی نصب نہیں ہیں اور اگر فائر اسٹنگشورز ہیں تو ان کی ری فلنگ کیے ہوئے برس ہا برس بیت چکے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ آپ کھیل تو سکتے مگر آگ پر قابو نہیں پاسکتے. یہ انجمن تاجران حفیظ سینٹرز اور مالکان حفیظ سینٹرز کے کرنے کے کام تھے.
    یہاں پر محکمہ تعمیرات اور بلڈنگز کی کاردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھتا ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے کیا کر رہے ہیں.اتنے بڑے بڑے پلازوں میں حفاظتی اقدامات پر کیوں توجہ نہیں دی جاتی.

  • ایمان کی طاقت:جہاں آپ کا رزق لکھا ہو کو مل کر ہی رہے گا   بقلم:عمر یوسف

    ایمان کی طاقت:جہاں آپ کا رزق لکھا ہو کو مل کر ہی رہے گا بقلم:عمر یوسف

    ایمان کی طاقت

    عمر یوسف

    وہ میرے سامنا بیٹھا تھا ۔۔۔ ادارے میں اسے نکالے جانے کی چہ مگوئیاں ہورہی تھیں ۔۔۔ اسے وقتا فوقتا اس کے دوست بتاتے ۔۔۔ کہ آج تمہارے بارے میں یہ بات ہوئی ۔۔۔ آج یہ ہوا ۔۔۔ مختلف باتیں سن سن کر اسے یقین ہوگیا کہ وہ زیادہ دیر یہاں نہیں ٹھہرنے والا ۔۔۔ جاب چلی جانے کا غم ۔۔۔ عموما انسان کو اذیت و کرب میں مبتلاء کردیتا ہے ۔۔۔ اور انسان نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتا ۔۔۔ سوچ منتشر ہوجاتی ہے ۔۔۔ اور مستقبل کے خدشے آگھیرتے ہیں ۔۔۔ نئی جاب کیسے حاصل کی جائے یہ فکر بھی دامن گیر ہوتی ہے ۔۔۔ مختلف وسوسے جنم لیتے ہیں اور انسان کے چہرے سے رونق غائب ہوجاتی ہے ۔۔۔ اس کی کیفیت بھی ایسے ہی بنی ہوئی تھی ۔۔۔ میں خود پریشان تھا ۔۔۔ اور دعا گو تھا کہ معاملات زیادہ نہ بگڑیں ۔۔۔ وہ مجھ سے مخاطب ہوا ۔۔۔ اور پرعزم آواز کے ساتھ بولا ۔۔۔

    عمر صاحب ۔۔۔ میرا ایمان ہے کہ جہاں آپ کا رزق لکھا ہوا ۔۔۔ وہ آپ کو مل کر ہی رہے گا ۔۔۔ کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا ۔۔۔ اور جہاں سے نہیں ملنا وہاں سے کبھی نہیں ملے گا ۔۔ کسی کا باپ بھی نہیں لے کے دے سکتا ۔۔۔

    یہ الفاظ ادا کرنے کے بعد وہ پرسکون دکھائی دیا ۔۔۔ جیسے ہی اس کے ضمیر نے اس کے اندر موجود ایمانی طاقت کے ہونے کا احساس دلایا ۔۔۔ اس کے وساوس جاتے رہے ۔۔۔ ذہنی انتشار تھم گیا ۔۔۔ مستقبل کے خدشے اور فکریں دم توڑ گئیں ۔۔۔ خدا کے ہونے کے احساس نے اسے فرحت بخشی ۔۔۔ اللہ پر توکل نے اس چہرے کو ترو تازہ کردیا ۔۔۔

    بعد میں جو بھی حالات پیش آئے میرے سامنے تھے ۔۔۔ اس کے معاملات بگڑتے گئے اور بالآخر اسے مستعفی ہونا پڑا ۔۔۔ اپنے استعفی کو روکنے کے لیے اس نے کافی ہاتھ پاوں مارے لیکن بے سود تھے ۔۔۔ وہاں اس کا رزق نہیں تھا ۔۔۔ تو بڑے بڑے باپوں کی سفارش نہیں چلی ۔۔۔ لیکن چند ہی ہفتوں کے بعد اسے معمولی تگ و دو کے بعد پہلے سے بہتر جاب ملی ۔۔۔ اور تنگی کے بعد آسانی آگئی ۔۔۔

    یہ سب کچھ سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بگڑے ہوئے معاملات تو بعد میں درست ہو ہی جاتے ہیں لیکن خدا پر عدم توکل کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو شروع میں بھی کافی ذہنی صدمے کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔۔۔ جو بلا شبہ انتہائی کربناک دورانیہ ہے ۔۔۔ لیکن خدا پر یقین کامل انسان کو اس ابتدائی صدمے سے بچاتے ہوئے حیات جاوداں بخشتا ہے ۔۔۔

    ایمان کی طاقت بقلم: عمر یوس

  • ایمان کی طاقت  بقلم: عمر یوسف

    ایمان کی طاقت بقلم: عمر یوسف

    ایمان کی طاقت
    عمر یوسف

    وہ زارو قطار آنسو بہاتے ہوئے اپنی داستان غم سنا رہی تھی ۔۔۔ اس کے الفاظ میں اتنا دکھ بھرا تھا کہ اردگرد کا سارا ماحول بھی غم میں ڈوب گیا ۔۔۔ پاس بیٹھے تمام لوگوں کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔۔۔۔
    ماضی کی یادوں میں کھوئے ہوئے اس نے اپنے بھائی کو خوب یاد کیا ۔۔۔ اور یاد ماضی میں کھوئے ہوئے اس نے دل کی کیفیت بیان کرنا شروع کی ۔۔۔

    اس کا بھائی کالج میں پڑھنے والا طالب علم تھا ۔۔۔ ایک دن اچانک کمر میں درد شروع ہوئی تو معمولی درد سمجھتے ہوئے اس پر توجہ نہ دی گئی ۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ جب دکھ بڑھنا شروع ہوا تو چیک اپ کے لیے ہاسپٹل لے جایا گیا ۔۔۔ رپورٹ آئی تو سب کے اوسان خطا ہوگئے ۔۔۔ ان سب کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی یہ جان کر کہ اس نوجوان کو بلڈ کینسر تھا ۔۔۔ ڈاکٹرز نے کینسر کے سپیشل ہاسپٹل میں رہفر کیا ۔۔۔ دن بدن کمزوری بڑھتی گئی ۔۔۔ کینسر اس کے جسم کو یوں کھا رہا تھا جیسے سوکھی لکڑی کو آگ کھاتی ہے ۔۔۔

    ماں روز اپنے لعل کو دیکھ کر آنسو بہاتی اور اس کے ساتھ بندھی ہوئی امیدوں کو یاد کرکے روتی ۔۔۔۔ وہ تو اس کی شادی کے اپنے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ تو اس مان میں تھی کہ کب اپنے لعل کی منگنی کروں اس کی دلہن کے لہے کپڑے خریدوں ۔۔۔۔

    گھر کے صحن میں جواں سالہ بیٹے کو چلتے دیکھ کر باپ کا سینا فخر سے چوڑا ہوجاتا ۔۔۔ بہنیں اپنے گھبرو جوان بھائی کو دیکھتی تو یوں محسوس کرتیں کہ اس کے ہوتے ہوئے ہمارا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ۔۔۔

    پھر آزمائش آئی اور مرض بڑھتا چلا گیا ۔۔۔ اور وہ وقت بھی آیا جب کینسر نے اپنا آخری حملہ کیا ۔۔۔ پہلے اس کے گردے فیل ہوئے ۔۔۔ پھر جگر نے کام کرنا شروع کیا ۔۔۔ آہستہ آہستہ حملہ دل کی طرف منتقل ہوا اور پھر دل نے دھڑکنا بند کردیا ۔۔۔ ایک کے بعد ایک ۔۔۔ جسم کے تمام اعضاء کام کرنا چھوڑ گئے ۔۔

    اور پھر ماں کی آنکھوں کا تارا غروب ہوگیا ۔۔۔ باپ کے آنکھوں کی ٹھنڈک ختم ہوگئی اور جلن نے ڈھیرے ڈال دیے ۔۔۔ بہنیں جیسے بے یارو مددگار ہوگئیں ۔۔۔

    ماں دنیا و ما فیھا سے بے خبر بے سدھ پڑی صدمے کی حالت میں چلی گئی ۔۔۔ باپ کی کمر ٹوٹی اور چارپائی سے دوستی ہوگئی ۔۔۔ بہنیں دیواروں کے ساتھ لگی اپنے بھائی کے کیے گئے وعدے یاد کرتیں اور یوں لگتا جیسے دل ڈوب سا گیا ہے ۔۔۔

    اس دن میرے سامنے بیٹھے ہوئے اس نے کہا کہ جی کرتا ہے زور زور سے چلاوں دھارے مار مار کر بھائی کو واپس بلاوں ۔۔۔ اس کے جانے کے بعد اب بھی جب اسے یاد کرتی ہوں تو پھر غم اسی شدت سے حملہ آور ہوتا ہے ۔۔۔
    اس کے کالج کے سامنے سے گزروں تو بے ہوش ہوجاتی ہوں ۔۔۔ مجبورا وہ شہر چھوڑنا پڑا ۔۔۔

    اب بھی جب غم کی شدت ہوجائے ۔۔۔ دل بے قابو ہوجائے ۔۔۔ اوسان خطا ہوجائیں ۔۔۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جائے ۔۔۔ تو پھر وہ اللہ یاد آتا ہے ۔۔۔ جسے یاد کرنے سے غم کی شدت ہلکی ہوجاتی ہے ۔۔۔ بے قابو دل قابو میں آجاتا ہے ۔۔۔ دل کو چین اور روح کو تسلی ملتی ہے ۔۔۔ آنکھوں کے سامنے چھایا اندھیرا روشنی میں بدلنا شروع ہوجاتا ۔۔۔

    پھر میں یہی کہتی ہوں کہ جو میرے اللہ کو منظور تھا وہی ہونا تھا ۔۔۔ اور یقینا ہم اس کی حکمتوں سے بے خبر ہیں ۔۔۔ وہ جو بھی ہمارے لیے کرتا ہے ۔۔۔ ہمارے فائدے کے لیے ہوتا ہے ۔۔۔ اے اللہ میں تجھ پہ راضی ہوئی ۔۔۔

    قارئین ایمان کی طاقت جتنا بندے کو سکون عطا کرتی ہے اتنا دنیا کے کسی بھی ماہر نفسیات کے پاس نہیں ۔۔۔
    اگر یہی مسئلہ کسی غیر مسلم کے ساتھ پیش آتا تو یقینا وہ کسی ماہر نفسیات کے کلینک کی زینت ہوتی ہے ۔۔۔

    اگر تم مسلمان ہو ۔۔۔ مومن ہو ۔۔۔ تو تم دنیا کی سب سے عظیم نعمت رکھتے ہو ۔۔۔

    اس نعمت کے حاصل ہونے پر لازم ہے کہ تم کہو الحمد للہ